جنوری ۲۰۱۶

فہرست مضامین

اسوئہ رسولؐ اور اُمت مسلمہ کی آزمایش

حافظ محمد ادریس | جنوری ۲۰۱۶ | اسوۂ حسنہ

قرآن وسنت کے مطابق ایمان اور آزمایش آپس میں لازم وملزوم ہیں۔ بندۂ مومن کو خوشی اور غمی ہر حال میں اجر ملتا ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مومن کے لیے ہرحال میں خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے خوشی ملے اور وہ شکر کرے تو یہ اس کے لیے خیر ہے، اور اگر غم سے دوچار ہو اور اس پر صبر کرے تو یہ بھی اس کے لیے باعث خیر ہے۔ اللہ سے عافیت مانگنی چاہیے  لیکن اگر آزمایش آجائے تو اللہ سے ہمت واستقامت کی دعا کرنی چاہیے۔ آج پوری امت کسی نہ کسی صورت میں ابتلا کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور حیاتِ طیبہ بڑا سہارا فراہم کرتی ہیں۔

نبیِ رحمتؐ کو اللہ نے اپنی ساری مخلوق میں سب سے نمایاں اور اعلیٰ ترین مقام عطا فرمایا۔جس قدر آپؐ کا مقام ومرتبہ بلند ہے،اسی قدر آپؐ  پر شدید آزمایشیں بھی ڈالی گئیں۔بعض اوقات ایک انسان پریشان ہو جاتا ہے کہ اس پر مشکلات کی یلغار کیوں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص حضورِ پاکؐ کی تعلیمات سے واقف ہو وہ ان مشکلات ومصائب کے ہجوم میں بھی اللہ سے رشتہ استوار رکھے گا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے گا۔ حضور اکرم ؐ کا ارشاد ہے:

اِنَّ اَشَدَّ النَّاسِ بَلَائً اَلْاَنْبِیَائُ ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ ’’بلاشبہہ تمام انسانوں میں سے سب سے زیادہ آزمایشوں سے انبیاء کو سابقہ پیش آتا ہے،پھر جو لوگ (مقام و مرتبہ میں) ان سے قریب تر ہوتے ہیں،ان کو آزمایا جاتا ہے‘‘۔(تفسیرقرطبی المجلد السابع تفسیر آیت ۳، سورئہ عنکبوت روایت حضرت ابوسعید خدریؓ بحوالہ سنن ابن ماجہ)

اسی حدیث میں آپ کا ارشاد ہے: یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلیٰ قَدْرِ دِیْنِہٖ ،’’ہر شخص کو اس کی دین کے ساتھ وابستگی کے مطابق ابتلا میں ڈالا جاتا ہے۔‘‘(ترمذی، ابواب الزہد، باب ماجاء فی الصبر علی البلائ)

اللہ کے تمام انبیا ؑکی زندگیاں اس حقیقت کو مکمل طور پر واشگاف کرتی ہیں کہ وہ بہت زیادہ آزمایشوں سے گزرے۔حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال راہِ حق میں ماریں کھائیں، زخمی ہوئے،ستائے گئے اور استہزا کا نشانہ بنتے رہے۔سیدنا ابراہیم ؑ خلیل اللہ کو آگ میں ڈالا گیا، گھربار سے نکالا گیا،بیٹے کی قربانی کے امتحان سے آزمایا گیا اور اس سے بھی قبل نوجوان بیوی  سیدہ ہاجرہؑ اور آنکھوںکے تارے، شیر خوار بیٹے اسماعیلؑ کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں تن تنہا چھوڑنے کا حکم ملا جس کی بلا چون و چراا طاعت کی گئی۔ سیدنا یعقوب ؑ ویوسف ؑ کی زندگیوں میں بھی سخت آزمایشوں کا طویل دور قرآن کے صفحات کی زینت ہے۔ اللہ کے صابر نبی حضرت ایوبؑ کی آزمایشیں ہمہ جہت وہمہ پہلو تھیں۔ جسمانی امراض وتکالیف سے لے کر اہل وعیال کی جدائی وفراق اور نہ معلوم کیا کچھ برداشت کرنا پڑا۔ حضرت موسٰی ؑ، حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ کے احوال پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنکھیں بے ساختہ بھیگ جاتی ہیں۔وقت کے ظالم حکمرانوں نے ان کو بدترین مظالم کا نشانہ بنایا مگر ان عظیم ہستیوں کی عزیمت قابل داد وتحسین ہے کہ اللہ کے در سے ذرہ برابر ادھر ادھر نہ ہوئے۔

حضرت یحییٰ (یوحنا) علیہ السلام نے جب (بنی اسرائیل کی) ان بد اخلاقیوں کے خلاف آواز اٹھائی جو یہودیہ کے فرماں روا ہیرو دیس کے دربار میں کھلم کھلا ہو رہی تھیں، تو پہلے وہ قید کیے گئے، پھر بادشاہ نے اپنی معشوقہ کی فرمایش پر قوم کے اس صالح ترین آدمی کا سر قلم کرکے ایک تھال میں رکھ کر اس کی نذر کر دیا (مرقس، باب ۶، آیت ۱۷-۲۹)۔ حضرت عیسیٰ ؑ پر بنی اسرائیل کے    علما اور سردارانِ قوم کا غصہ بھڑکا، کیوںکہ وہ انھیں ان کے گناہوں اور ان کی ریاکاریوں پر ٹوکتے تھے اور ایمان و راستی کی تلقین کرتے تھے۔ اس قصور پر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ تیار کیا گیا، رومی عدالت سے ان کے قتل کا فیصلہ حاصل کیا گیا اور جب رومی حاکم پیلاطس نے یہود سے کہا کہ  آج عید کے روز میں تمھاری خاطر یسوع اور برابّا ڈاکو، دونوں میں سے کس کو رہا کروں، تو ان کے پورے مجمع نے بالاتفاق پکار کر کہا کہ برابّا کو چھوڑ دے اور یسوع کو پھانسی پر لٹکا۔ (متی، باب ۲۷۔ آیت ۲۰تا ۲۶) (بحوالہ تفہیم القرآن، جلداول، ص ۸۱-۸۲)

حضور اکرم ؐ پر تو اول تا آخر آزمایشوں کی یلغار اور غم و اندوہ کی بھرمار نظر آتی ہے۔ آپؐ  کے ہر امتی کو مشکل گھڑی میں اپنے نبیِ مہربانؐ کی حیات طیبہ پر نظر ڈالنی چاہیے۔آپؐ  رحمِ مادر میںتھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ نہ باپ نے اپنے عظیم بیٹے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،نہ عظیم بیٹے نے باپ کی آغوشِ شفقت کا لطف اٹھایا۔ماں نے مامتا کی مثالی محبت دی اور اس درّ یتیم کو بڑی توجہ اور پیار سے پالا پوسا۔ بیچ میں شیر خوارگی اور ابتدائی بچپن کا دور حضرت حلیمہ سعدیہ کے گھر بنو سعد میں گزرا۔ واپس آتے تو ماں کی آنکھوں کا یہ نور، جوانی میں بیوہ ہوجانے والی سیدہ آمنہ کے  غم زدہ دل پر مرہم رکھ دیتا۔ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ مدینہ ومکہ کے درمیان مقام ابواپر حالت سفر میں محبوبِ کبریاؐ، ماں کی مامتا کی نعمت ِعظمیٰ سے بھی محروم ہوگئے۔یہ مالک ارض وسما کی مشیت تھی۔ غم کی ان گھڑیوں میں آپؐ  کی خادمہ امّ ِایمن نے ننھے درّیتیم کو مامتاکا بدل عطا کیا جو خود ان کے لیے ایک عظیم ترین تاریخی اعزاز اور اللہ کے ہاں بے مثال درجات کا ذریعہ بنا۔

سردار قریش،بزرگ سردارِ قبیلہ، عبدالمطلب جو اپنے پوتے کی سانس کے ساتھ سانس لیتے تھے، محبوب بیٹے کے بعد پیاری بہو کے اچانک وفات پاجانے پر اس دُہرے غم سے دوچار ہوئے تو لختِ جگر محمد و احمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو اور بھی اپنے سے قریب کر لیا۔ بوڑھا سردار مجلسوں کی صدارت بھی کرتا،قومی و قبائلی امور ومعاملات میں فرائضِ منصبی پر بھی توجہ دیتا مگر ہر چیز سے زیادہ اب اس کے نزدیک یہ گلِ نو بہارؐ عزیز تر تھا۔ اس کی صبحیں بھی اسی کے دم قدم سے روشن تھیں اور اس کی راتوں کا سکون بھی اسی روشن چراغؐ سے وابستہ تھا۔ دوسال یوں بیتے کہ دادا نے اپنے بے مثل پوتے کو شفقتِ پدری بھی دی اور ماں کی مامتا کی کمی بھی محسوس نہ ہونے دی۔دوسال کا وقت جیسے پلک جھپکنے میں بیت گیا۔ اللہ نے اب دونوں پیاروں کے درمیان پھر سے جدائی کا فیصلہ کر لیا۔ آٹھ سا ل کی عمر میں یہ شجر سایہ دا ر بھی سر سے اُٹھ گیا۔ غم کے پہاڑ تھے اور صدمات کے  ریگ زار مگر جسے خالق نے سید الانبیا وقائدِ انسانیت بنانے کا روزِ اول ہی سے فیصلہ فرمادیا تھا،اس کا قلب ِ نازک ان بھاری صدمات کو بھی سہ گیا۔عبد المطلب کی وفات کے بعد ان کے بیٹے اور محمد بن عبد اللہ کے شفیق چچااپنے خانوادے کے اس درّ نایابؐ کی دل جوئی میں لگ گئے۔ سبھی چچا    غم گسار تھے مگر زبیراور ابو طالب نے تو تاریخ میں وہ مثال قائم کردی جس کی نظیر نہ اس سے قبل انسانی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ اس کو بعد کی تاریخ میں دہرانا کسی کے بس میں ہے۔یوں بچپن جوانی میں ڈھل گیا،پاکیزہ جوانی،طیب وتقدس مآب شب وروز،ہر آلایش سے پاک،ہر خوبی سے مزین! خزف ریزوں کے درمیان چمکتا ہوا ہیرا، ہر شخص کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا قیمتی موتی!محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم!!

جوانی میں اللہ نے قدرے سکون و خوش حالی بخشی۔ تجارت خوب چمکی۔مکہ کی سب سے معزز، زیرک اور مال دار خاتون حضرت خدیجہ بنت خویلد کے ساتھ تجارتی کاروبار میں شراکت کا تجربہ طرفین کے لیے انتہائی خوش گوار ثابت ہوا۔ اس منفرد تجربے نے اس عظیم خاتون کو اتنا متاثر کیا کہ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ مکہ کا یہ انمول ہیرا اس کے نصیب میں آجائے۔ خود  محسنِ کائناتؐ نے بھی حضرت خدیجہ کی بے پناہ خوبیوں کو قریب سے دیکھ لیا تھا۔ یوں اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ مثالی جوڑا ترتیب دے دیا۔ مکہ کی مال دار بیوہ،زندگی کے ۴۰ سال گزار چکی تھیں، جب کہ آفتابِ رشدو ہدایتؐ ۲۵ بہاریں دیکھ چکے تھے۔یہ مثالی جوڑا تھا جس کی مثال تاریخ انسانی میں سب سے ارفع واعلیٰ ہے۔ اللہ نے دو بیٹے اور چار بیٹیاں عطا فرمائیں۔ یہ اس کا عظیم عطیہ تھا۔ دونوں بیٹے قاسم اور عبد اللہ المعروف طیّب اور طاہر یکے بعد دیگرے بالکل ابتدائی عمر ہی میں    اللہ نے واپس لے لیے۔ حضرت قاسم ہی کی نسبت سے آپؐ  کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ اللہ نے انھیںجنت میں اپنے گل دستے کی زینت بنالیا اور اپنے محبوب کو پھر درد وفراق کی مشکل گھاٹی سے گزارا۔ وہ حکیم ہے،وہ قادرِ مطلق ہے۔ اس کے برگزیدہ بندے نے صبر ورضا کے ساتھ سر تسلیم  خم کردیا کہ یہی اس کے شایانِ شان تھا۔

قاسم اور عبد اللہ تو جوانی کاپھل تھے۔بڑھاپے میں اللہ نے ایک اور میٹھا میوہ عطا فرمایا۔ چاند سا بیٹا، جدّ امجد کے اسم گرامی پر ’ابراہیم‘ نام رکھا۔دودھ پیتا ابراہیم سید کونین کی آنکھوں کا تارا،دل کا قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک تھا۔ اچانک بیماری نے آلیا۔ جنت کا پھول اپنے بے بدل باپ کی آغوش میں ہے،فرشتۂ اجل اپنا فرض ادا کرنے کے لیے آگیا ہے۔وہ بے چارا تو حکم کا پابند ہے ! ابراہیم آخری سانس لیتا ہے ،اس کائنات کا سب سے بڑا انسان ا س لمحے غم کے پہاڑ کے سامنے کھڑا ہے۔تقاضاے فطرت ہے کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ہیں۔ سعد بن عبادہؓ (سردار خزرج) دیکھ کر عرض کرتے ہیں: ’’ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ بھی رو رہے ہیں؟‘‘فرمایا: کہ دل زخمی ہے،آنکھیں اشک بار ہیں مگر ہم اپنے رب کی رضا پہ راضی ہیں۔ ہماری زبان سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکلے گا جو ربّ کائنات کو نا پسند ہو، اناللّٰہ وانا الیہ رٰجعون۔

چاروںبیٹیوں میں سے رقیہؓ، ام کلثومؓ اور زینبؓ بناتِ محمد ؐ ایک ایک کرکے آپؐ  کی زندگی ہی میں آخر ت کو سدھار گئیں۔صرف فاطمۃؓ الزہرا بعد تک زندہ رہیں۔ ان کے متعلق بھی      سیدہ عائشہؓ صدیقہ کی ایک روایت ہے کہ مرض الموت میں فاطمہؓ آنحضور ؐ کے پاس بیٹھی تھیں،میں گھر کے کام کاج میں مصروف تھی۔میں نے دیکھا کہ فاطمہؓ بے ساختہ زاروقطار رو نے لگی ہیں۔  پھر تھوڑی دیر بعد ،میں نے دیکھا کہ فاطمہؓ مسکرا رہی ہیں۔میں نے بعد میں فاطمہؓ سے اس صورت حال کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ ’’امی جان ! بابا جان نے مجھ سے فرمایا کہ   ان کے کوچ کا وقت آگیا ہے تو میں فرطِ غم سے رونے لگی، مگر اس کے بعد انھوں نے فرمایا: ’’لختِ جگر! میرے اہلِ بیت میں سے تم ہی سب سے پہلے مجھ سے آکر ملو گی‘‘۔ تو میں خوشی سے  مسکرا دی‘‘۔ (امام البیہقی، دلائل النبوۃ ،ج ۷، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، ص ۱۲۱-۱۲۲)

سیدۂ خواتینِ جنت آںحضور ؐ کے وصال کے بعد چھے ماہ زندہ رہیں اور پھر اپنے عظیم والد کے پاس جنت الفردوس میں چلی گئیں۔یہ ہے حاصلِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی زندگی اور عائلی احوال کی ایک جھلک۔ہمارے لیے یہ اسوئہ حسنہ ہے۔غم کے پہاڑ آجائیں تو اس عظیم شخصیت اور قائد انسانیت کی طرف دیکھیے۔ دل کو قرار مل جائے گا۔ صبر کیجیے، اللہ نعمتوں سے نوازے گا۔ وہی غموں کا مداوا کرسکتا ہے۔

حضور نبی پاکؐ کی بے شمار دعائیں ہیں جو غموں کے ہجوم سے نجات کے لیے آپؐ  نے سکھائیں۔ یہاں حدیث پاک سے ایک مسنون دعا نقل کی جاتی ہے جو آپؐ  نے اپنے صحابی حضرت ابو امامہ انصاریؓ کو سکھائی تھی اور اللہ نے ان کو غموں اورمصیبتوں سے نجات عطا فرمادی۔ ہمارے لیے بھی یہ دعا نسخۂ شفا اور دواے مرض ہے بشرطیکہ ہم پورے یقین کے ساتھ اللہ سے    ان الفاظ میں طلب کریں۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک انصاری صحابی کو (جن کا نام ابوامامہؓ تھا) آپ نے مسجد میں بیٹھے دیکھا۔ آپؐ نے ان سے دریافت فرمایا: کیا بات ہے کہ تم اس وقت، جب کہ کسی نماز کا وقت نہیں ہے مسجد میں بیٹھے ہو؟ انھوں نے عرض کیا: حضرتؐ! مجھ پر بہت سے قرضوں کا بوجھ ہے اور فکروں نے مجھے گھیر رکھا ہے۔ آپؐ  نے فرمایا: میں تمھیں ایسا دعائیہ کلمہ نہ بتا دوں جس کے ذریعہ دعا کرنے سے اللہ تعالیٰ تمھیں ساری فکروں سے نجات دے دے اور تمھارے قرضے بھی ادا کرادے؟ (ابوامامہ نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! ضرور بتادیں۔آپؐ  نے ارشاد فرمایا کہ: تم صبح و شام اللہ کے حضور میں عرض کیا کرو: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحَزَنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَقَہْرِ الرِّجَالِ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر اور غم سے اور بے کسی سے، اور سستی و کاہلی سے، اور بزدلی و کنجوسی سے، اور پناہ مانگتا ہوں قرضے کے بار کے غالب آجانے سے اور لوگوں کے دبائو سے)۔ ابو امامہ نے بیان کیا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت پر عمل کیا (اور اس دعا کو اپنا صبح و شام کا معمول بنالیا) تو خدا کے فضل سے میری ساری فکریں ختم ہوگئیں اور میرا قرض بھی ادا ہوگیا۔(سنن ابوداؤد)

یہ مجرّب اور آزمودہ نسخے ہیں، تیر بہدف ہیں مگر جس رسول رحمت ؐنے ہمیں یہ بتائے  اس سے حقیقی محبت اور اس پر پختہ ایمان اور جس ذات سبحانہ و تعالیٰ سے ہم طلب کرتے ہیں اس کی مکمل بندگی اور وفاداری کا اہتمام شرطِ قبولیت ہے۔ آئیے آج سچے دل سے عہد کریں کہ باری تعالیٰ اور اس کے رسولِ برحقؐ کے ہر حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کریں گے اور ان کی قائم کردہ تمام حدوں کا ہرحال میں احترام کریں گے۔ اللہ رب العزت ہر مشکل کو آسان بنادے گا اور ہر ابتلا کو اُخروی کامیابی کا ذریعہ بنا دے گا۔