جولائی ۲۰۱۴

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| جولائی ۲۰۱۴ | مدیر کے نام

محمد بلال ، عبدالرحمٰن ، دیپال پور

’مصر: انتخابی ڈراما‘ (جون ۲۰۱۴ء) میں عبدالغفار عزیز صاحب نے مصر کے حالیہ صدارتی انتخابات کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔ سیسی آمریت نے جس طرح اخوان کی اعلیٰ قیادت کو سزائیں سنائیں، بڑی تعداد میں کارکنوں کو جیل میں ڈالا، ہزاروں کو شہید کیا اور جس سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امریکا نواز مصری فوجی قیادت نے اخوان کی منتخب حکومت پر شب خون مارا، ایسی سفاکیت کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پھر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے انتخابات کا ڈھونگ رچایا۔ اس سب کے باوجود اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ انھوں نے اللہ کے بھروسے پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا کہ باطل تو مٹنے ہی کے لیے ہے اور حق کو بالآخر غالب آکر رہنا ہے۔


حافظ ساجد انور ،  لاہور

’رسائل و مسائل‘ (جون ۲۰۱۴ء) میں ایک بہن نے اپنے شوہر کی دوسری شادی کے حوالے سے سوال اُٹھایا تھا، جس کے جواب کی تفصیل سے یہ بات مترشح ہورہی ہے کہ گویا اسلام یک زوجگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اس حوالے سے قرآن کی آیت اور اصول لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا(البقرہ ۲:۲۸۶)سے استدلال بھی درست نہیں ہے، اس لیے کہ انسانی مزاج مختلف ہیں اور کسی شخص کے لیے تکلیف بما لایطاق کا فیصلہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ جواب میں لکھا گیا ہے: ’’اس پس منظر میں سوال کے پہلے پہلو پر غور کیا جائے تو یوں نظر آتا ہے کہ سورئہ نساء میں چار کی حد تک اجازت کا سیاق و سباق عموم کا نہیں بلکہ حالت ِ اضطرار کے قریب تر ہے۔   چنانچہ اصلاً زور اس بات پر ہے کہ ایک کے ساتھ نکاح ہو اور اس کے ساتھ عدل کا رویہ اختیار کیا جائے۔ یہ عدل محض مادی معاملات میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں نفسیاتی، دینی اور روحانی تعلق کے ساتھ تمام معاشرتی پہلوئوں سے عدل شامل ہے‘‘۔ (ص ۹۹)

جس آیت میں نکاح کے لیے آغاز مَثْنٰی سے کیا جا رہا ہے اس سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ چار کی اجازت حالت ِ اضطرار کے قریب تر ہے، یا پھر ’’اصلاً سارا زور اس پر ہے کہ ایک کے ساتھ نکاح ہو‘‘، یہ استدلال محل نظر ہے۔ درست بات یہ ہے کہ اسلام نہ تو یک زوجگی پر اصرار کرتا ہے اور نہ ایک سے زیادہ شادیوں ہی پر اصرار کرتا ہے بلکہ اسے مختلف مزاج، طبیعتوں اور عدل کرسکنے کی صورت پر چھوڑ دیا ہے۔


پروفیسر اعجاز عالم ، بے نظیر آباد، سندھ

’اسلامی نظام: سیاسی ذرائع سے قیام ممکن ہے؟‘ (اپریل ، مئی ۲۰۱۴ء) بہت اہم ہے۔ یہ مضمون اُن لوگوں کی اُلجھنوں کو صاف کردے گا جو ملک میں ہونے والے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد جماعت اسلامی کی اِس میدان میں کوششوںسے مایوس ہوکر نئے نئے طریقۂ انقلابات پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے باطل ہونے کا پروپیگنڈا کرتے ہیں، لیکن جمہوریت سے ہٹ کر اس سے بہتر نظام کو مدلل طریقے سے پیش نہیں کرپاتے۔ یہ مضمون غوروفکر کا متقاضی ہے، نیز اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔


ڈاکٹر عنایت اللّٰہ کامران ،  میانوالی

ماہِ جون کا شمارہ بہت پسند آیا۔ ’اشارات‘ ، ’عمرانی علوم: حقیقت ِ حال اور مستقبل‘، ’مغرب میں مسلم آبادی: اضافہ اور اثرات‘ اور اخباراُمت کے تحت ’مصر: انتخابی ڈراما‘___ تمام ہی مضامین بہت اچھے ہیں۔ تجویز ہے کہ ’رسائل و مسائل‘ کو کتابی شکل میں شائع کرنے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے۔


نسیم احمد ،اسلام آباد

’اسلامی نظام: سیاسی ذرائع سے قیام ممکن ہے؟‘ (اپریل ، مئی ۲۰۱۴ء)  کے تحت اہم نکات کو زیربحث لایا گیا ہے۔ تاہم سوال یہ رہ جاتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ (جو مجلس شوریٰ کا مقام رکھتی ہے) میں ایسے افراد کیسے لائے جائیں جو اہل، امانت دار اور دین کا علم رکھنے والے ہوں؟ اس سلسلے میں دستور کی دفعات ۶۲-۶۳ کچھ حدود قائم کرتی ہیں لیکن ان کو بروے عمل لانے کے لیے جو قواعد و ضوابط ہونے چاہییں وہ منظرعام پر نہیں آئے۔ دستور کی ہردفعہ کے تحت تفصیلی ہدایات، قواعد و ضوابط نافذ ہوتے ہیں۔ ان قواعد و ضوابط کے نفاذ اور عام کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اہلِ علم و دانش اور ارباب اقتدار کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ پاکستان کو واقعتا اسلامی جمہوری ریاست کا عملی نمونہ بنایا جاسکے۔