جولائی ۲۰۲۰

فہرست مضامین

آفات و مصائب میں مومن کا رویہ

ڈاکٹراختر حسین عزمی | جولائی ۲۰۲۰ | تزکیہ و تربیت

آفاتِ سماوی، وبائیں ، سیلاب، طوفان ، زلزلے یہ سب عذاب ہیں، آزمایش ہیں، تنبیہ وعبرت یا یہ محض ایک کائناتی اور فطری عوامل کے تحت رونما ہونے والے واقعات وحوادث؟ منکرینِ مذہب ان حادثات کی محض واقعاتی توجیہہ کو اہمیت دیتے ہیں لیکن ایک بندۂ مومن کا نقطۂ نظر اس سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔ وہ حوادث کے واقعاتی عوامل کے ساتھ ان کے پس منظر میں اللہ کی مرضی کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کو جب بیماری لاحق ہوتی ہے اور پھر اللہ اسے صحت یاب کر دیتا ہے تو اس کی بیماری اس کے پچھلے گناہوں کے لیے کفارہ اور آیندہ کے لیے نصیحت بن جاتی ہے، جب کہ منافق جب بیمار پڑتا ہے اور صحت یاب ہوتا ہے تو اس کی حالت اس اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے نہیں معلوم کہ اس کے مالک نے اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا؟ (ابو داؤد:۳۰۸۹)۔

حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مومن کی مثال گندم کی بال (خوشے) کی طرح ہے کہ ہوا چلنے سے کبھی نیچے ہوتی ہے تو کبھی سیدھی ، جب کہ کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی ہے، جو ہمیشہ اکڑا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے اور اسے اس کا شعور بھی نہیں ہوتا‘‘۔ (مسنداحمد)

بخاری ومسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال کھیتی کے نرم پودے کی طرح ہے۔ ہوا چلتی ہے تو اسے ایک جانب جھکا دیتی ہے ، ہوا رُکتی ہے تو وہ سیدھا ہو جاتا ہے، یعنی بلا سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اور فاسق وبدکار کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے جو اکڑ کر سیدھا کھڑا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اللہ چاہتا ہے ، اسے بیخ و بُن سے اکھیڑ پھینک دیتا ہے (بخاری :۵۶۴۴)

قرآن کے مطابق انسان کے لیے اس کی ناگوار چیزیں ہی نہیں پسندیدہ چیزیں بھی ذریعۂ آزمایش ہیں:

كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۝۰ۭ وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّـرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَۃً۝۰ۭ وَاِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ۝۳۵ (الانبیاء ۲۱:۳۵) ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمایش کر رہے ہیں۔ اور آخر کار تمھیں ہماری طرف لوٹنا ہے۔

مراد یہ کہ جب انسان کو موت کے بعد ہماری طرف پلٹنا ہی ہے تو خیر وشر کی اس آزمایش میں دورانِ زندگی ہی رب کی طرف رجوع کیوں نہیں کر لیتے۔دوسرے مقام پر فرمایا :

وَبَلَوْنٰہُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّـيِّاٰتِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۱۶۸ (الاعراف ۷:۱۶۸)اورہم آسایشوں اور تکلیفوں سے ان کی آزمایش کرتے رہے تاکہ وہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

آسایش وآرام کی آزمایش ہو یا تکلیف اور مصیبت کی، سب کا مقصد بندوں کو ان کے رب کی طرف پلٹنے اور رجوع کرنے پر آمادہ وتیار کرنا ہے ۔ اللہ کی طرف رجوع کا اظہار یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں حسنِ عمل اختیار کر لے:

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَيُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۝۷ (الکھف ۱۸:۷)زمین میں جو کچھ بھی سروسامان ہے، اسے ہم نے زمین کی زینت بنا یا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔

آزمایش :اللہ کی طرف پلٹنے کا موقع

یہ خوب صورت سرزمین، جسے اللہ نے ندی نالوں ، دریاؤں، آبشاروں، پہاڑوں، میدانوں، سمندروں، شجروحجر اور چرند پرند سے زینت بخشی تھی، انسان کی ملک گیری کی ہوس اور سرمایہ پرستی نے اس کی فطری زینت کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے ۔ سرمایہ پرستی کے زیرتسلط سائنسی ترقی نے جنگلی حیات برباد کردی ، آبی جانوروں کی ہلاکت کا سامان کر دیا۔ ہوا اور فضا کو اس قدر آلودہ کر دیا کہ تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔ حُب ِعاجلہ اور جلد ملنے والے نفع کے لالچ میں کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس کا اخراج اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے صاف ہوا کا حصول بھی شاید سرمایہ داروں کے رحم وکرم پر ہو گا۔ زمینی پانی کے سوتے خشک ہوتے جا رہے ہیں اور جو پانی باقی بچا ہے وہ زہر آلود ہوتا جا رہا ہے ۔ قرآن حکیم کے مطابق یہ تمام فساد انسانی ہاتھوں کی کمائی ہے لیکن اس کے نتیجے میں انسان جو کچھ بھگت رہا ہے ،اس میں رجوع الی اللہ کا بھی امکان موجود ہے:

ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۴۱ (الروم۳۰:۴۱) خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تا کہ مزا چکھائے اُن کو اِن کے بعض اعمال کا ، شاید کہ وہ باز آجائیں۔

انسان پر جتنی آفتیں وباؤں ، امراض، طوفانوں اور زلزلوں کی صورت میں آتی ہیں، وہ بڑے عذاب کے مقابلے میں بہت چھوٹی سزائیں ہیں کیونکہ ان سزاؤں کا مقصود تو انسان کو رجوع الی اللہ کی طرف متوجہ کرنا ہے اور اگر وہ ایسا کرے تو آنے والے بڑے عذاب سے بچ سکتا ہے:

وَلَنُذِيْـقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۲۱ (السجدہ ۳۲:۲۱) اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انھیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش)سے باز آجائیں۔

قوم فرعون کو بھی بڑی تباہی سے پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں کا شکار کیا گیا۔ کبھی کھٹمل کا عذاب، کبھی خون کا اور دیگر عذاب، تا کہ وہ پلٹ آئیں :

وَمَا نُرِيْہِمْ مِّنْ اٰيَۃٍ اِلَّا ہِىَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِہَا۝۰ۡوَاَخَذْنٰہُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۴۸  (الزخرف ۴۳:۴۸) ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے ان کو عذاب میں دھر لیا کہ وہ اپنی روش سے باز آئیں۔

لیکن جو قومیں رب کی طرف پلٹنے کی بات کو نشانۂ تضحیک بنائیں ، ان کے نفس کا غرور اور تکبر انھیں وہیں پہنچا دیتا ہے جہاں فرعون اور اس کے لشکر پہنچ گئے:

وَاسْـتَكْبَرَ ہُوَ وَجُنُوْدُہٗ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ۝۳۹ فَاَخَذْنٰہُ وَجُنُوْدَہٗ  فَنَبَذْنٰہُمْ فِي الْيَمِّ۝۰ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِــمِيْنَ۝۴۰ (القصص ۲۸:۳۹-۴۰) اس [فرعون] نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انھیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے۔آخرکار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔ اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔

تباہ شدہ اقوام کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے رجوع کے مواقع کو گنوا دیا:

وَلَقَدْ اَہْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۲۷ (الاحقاف  ۴۶:۲۷) تمھارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ۔ ہم نے اپنی نشانیاں بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا، شاید کہ وہ باز آجائیں۔

اللہ کی گرفت کا قانون

وہ عذاب کہ جس کے نتیجے میں پوری کی پوری سرکش قومیں صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں اور اہل ایمان کو ان میں سے چھانٹ کر مامون ومحفوظ نکال لیا گیا ، انبیا ؑ کی مخاطب اقوام پر واقع ہوا۔ اس لیے کہ وہ اپنی قوم پر نہ صرف دعوت وتبلیغ اور اپنے عمل کی شہادت سے ان پر اتمام حجت کر چکے ہوتے ہیں بلکہ وہ عقل کو اپیل کرنے والے دلائل کے ساتھ ساتھ عقل کو عاجز کرنے والے معجزات  اور کھلی کھلی نشانیاں دکھا کر بھی حق کا حق ہونا اور اپنے نبی ہونے کو واضح کر چکے ہوتے ہیں ۔ اس لیے قوم نوح ہو یا عادوثمود ، قوم مدین ہو یا آلِ فرعون ، ان میں سے اہل حق کو نکال کر اہل باطل کو نیست ونابود کر دیا گیا ،یا اہلِ حق کو باطل پر فتح دے دی گئی۔ انبیاؑ کے علاوہ اہلِ حق چونکہ انبیاؑ کی طرح دعوتِ دین کے ابلاغ کا حق ادا نہیں کر سکتے، اس لیے ان کی مخاطب اقوام پر اللہ بھی وہ سخت فیصلہ نافذ نہیں کرتا کہ پوری کی پوری قوم صفحۂ ہستی سے مٹا دی جائے، البتہ انسانیت کی رہنمائی اور بالا دستی سے متعلق استبدال قوم اور قوموں کے عروج و زوال کا عمل جاری رہتا ہے۔ کوئی قوم یا فرد  ظلم و سرکشی اور تکبر میں حد سے بڑھ جائے تو اللہ اس پر گرفت ضرور کرتا ہے، البتہ ایک ایک جرم پر سزا دینا سنت الٰہی نہیں ہے:

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللہُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَہْرِہَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۝۰ۚ (فاطر ۳۵:۴۵) اگر کہیں وہ لوگوں کو ان کے کیےکرتوتوں پر پکڑتا تو زمین پر کسی متفنس کو جیتا نہ چھوڑتا۔ مگر وہ انھیں ایک مقرر وقت تک کے لیے مہلت دے رہا ہے۔

اللہ انسان کو غلطی پر سنبھلنے کا موقع دیتا ہے ۔ اگر ایک ایک عمل پر فوری سزا ملتی تو انسان کی آزمایش بھی ممکن نہیں تھی۔ آزمایش ہی یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کی گرفت کو دیکھے بغیر مانتا ہے کہ نہیں؟

رجوع الی اللہ کا مفہوم اور تقاضے

یہ معلوم ہونے کے بعد کہ اللہ کی طرف سے جتنی سختیاں آتی ہیں، وہ درحقیقت رجوع الی اللہ کی طرف مائل ومتوجہ کرنے کے لیے ہیں، یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ رجوع الی اللہ کس رویے کا نام ہے ؟کیا محض اللہ اللہ کرنے ، دعائیں مانگنے اور کانوں کو ہاتھ لگانے کا یا کہ اس سے کچھ زیادہ؟

l توبہ و استغفار: رجوع الی اللہ کی اہم صورت ظالمانہ رویے سے استغفار ہے ۔ارشادِ الٰہی ہے :

وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا۝۶۴ (النساء ۴:۶۴) جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمھارے پاس آ جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسولؐ بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقینا اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔

کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر اسے کسی دوسری جگہ رکھنا ظلم کہلاتا ہے ، وضع شی فی غیر محلّہ ۔ عبادت اللہ کا حق ہے۔ اس کی بجائے کسی اور کے لیے مراسم عبودیت ادا کرنا شرک اور اللہ نے اسے ظلم عظیم قرار دیا ہے۔ اِنَّ الشِّـرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۝۱۳  (لقمان ۳۱:۱۳) ’’حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘۔

نماز ،روزہ ، زکوٰۃ اور حج کو اللہ نے بندوں پر فرض کیا ہے۔، اللہ کے اس حق کو ادا نہ کرنا ظلم ہے۔ اسی طرح اللہ نے والدین اور اولاد کے ، میاں بیوی اور رشتہ داروں کے ،پڑوسی ،استاد، شاگرد، حاکم ورعایا کے حقوق مقرر کیے ہیں۔حکومت اور معاشرے نے انسانوں کے انسانوں پر کچھ حقوق وفرائض مقرر کیے ہیں۔ اب جو ان حقوق کو پامال کرتا ہے،وہ ظالم ہے ۔ حتیٰ کہ غیبت، طعنہ زنی ،عیبوں کی ٹوہ لگانا ، بدگمانی کرنا، نام بگاڑنا ، ان سب کو اللہ نے ظلم قرار دیا ہے اور ان سے توبہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۱۱(الحجرات ۴۹:۱۱) ’’جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں‘‘۔ ہمارے ہاں قتل ، چوری، ڈاکا زنی ، بدکاری کو تو ظلم سمجھا جاتا ہے لیکن مذکورہ معاشرتی برائیوں کو ظلم سمجھا ہی نہیں جاتا کہ جن سے بڑے بڑے فتنے برپا ہوتے ہیں ، اور جب انھیں ظلم سمجھا نہیں جائے گا تو ان سے توبہ کرنے کا خیال کیسے آئے گا؟ کسی بھی قوم کی تباہی کا بڑا سبب اس کا ظالمانہ رویہ ہے:

وَمَا كُنَّا مُہْلِــكِي الْقُرٰٓى اِلَّا وَاَہْلُہَا ظٰلِمُوْنَ۝۵۹ (القصص۲۸:۵۹)اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے۔

ایک روایت کے مطابق حضرت عمر ؓ کے دور میں زلزلہ آیا تو انھوں نے زمین پر پاؤں مارا اور فرمایا:’’ اے زمین تو کیوں ہلتی ہے ؟کیا عمر نے تیرے اوپر انصاف سے حکومت نہیں کی ‘‘؟

انسان ظلم کر بیٹھے تو استغفار کا حکم ہے ، یعنی غلطی کی اصلاح کرنا ، غلط راے ، غلط تدبیر،  غلط فیصلے پر نظرثانی کرنا ۔ افراد بھی استغفار کریں اور قوم بھی ۔ تمام گناہوں اور زیادتیوں سے احساسِ ندامت کے ساتھ توبہ کرنا ۔آیندہ ظلم نہ کرنے کا عزم ، جس سے زیادتی کی ہے، اس سے معافی چاہنا ، جس کا حق دبایا ہے اس کا حق ادا کرنا ___ یہ ہے استغفار ۔ اگر ہم ایسا کر لیں تو آفات ومصائب کا ٹلنا یقینی ہے:

وَمَا كَانَ اللہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۝۳۳ (الانفال ۸:۳۳)اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے۔

انسان سے غلطی کا ہونا اتنی بڑی غلط بات نہیں جتنا کہ غلطی پر اڑ جانا غلط ہے۔ افراد سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں اور تنظیموں ، اداروں اور حکومتوں سے بھی۔ ان پر نظر ثانی کرتے رہنا بھی استغفار کی ایک شکل ہے۔ یہ استغفار زبان سے بھی ہوگا اور عمل سے بھی ۔ اللہ کے رسولؐ دن میں سوسو مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو عذاب سے بچنے کے لیے یہی دعوت دی تھی:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ غَفَّارًا۝۱۰ۙ (نوح ۷۱:۱۰)میں نے کہا: ’’اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ‘‘۔

l شکرگزاری: عذاب ٹلنے کا یقینی ذریعہ شکر گزاری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

مَا يَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ شَاكِرًا عَلِــيْمًا۝۱۴۷ (النساء ۴:۱۴۷) آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمھیں خواہ مخواہ سزا دے ،اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو ۔ اللہ بڑا قدر دان اور سب کے حال سے واقف ہے۔

ایسا جانور جو تھوڑا چارہ کھا کر موٹا تازہ نظر آئے اور دودھ بھی زیادہ دے عربی میں اسے دَابۃً  شَکورًا کہتے ہیں ۔گویا انسان کا اللہ کی چھوٹی سی نعمت پر بھی احسان مند ہونا، ملی ہوئی نعمت کی قدر کرنا شکر ہے۔ انسان پر اللہ کی نعمتیں تھوڑی نہیں بلکہ اتنی زیادہ ہیں کہ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللہِ   لَا تُحْصُوْہَا۝۰ۭ (النحل ۱۶:۱۸) ’’اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنے لگو تو نہ کر سکو گے ‘‘۔ لیکن انسان دوسرے کے مقابلے میں خود کو ملی ہوئی نعمتوں کو حقیر سمجھتا ہے اور یہ ناشکری ہے ۔ قرآن نے قومِ سبا کی خوش حالی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوْا لَہٗ۝۰ۭ (السباء ۳۴:۱۵) کھاؤ اپنے رب کا رزق اور شکر بجا لاؤ اُس کا ۔

لیکن انھوں نے اس ہدایت سے منہ موڑا تو بند توڑ سیلاب کے نتیجے میں ان کے باغات جھاڑ جھنکار بن کر رہ گئے اور اللہ نے اس کی وجہ یہ بتائی:

ذٰلِكَ جَزَيْنٰہُمْ بِمَا كَفَرُوْا۝۰ۭ وَہَلْ نُجٰزِيْٓ اِلَّا الْكَفُوْرَ۝۱۷  (السبا۳۴:۱۷) یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا، اور نا شکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے۔

 آج زرعی ومعدنی وسائل اور موسموں کی ساز گار ی کے اعتبار سے اسلامی ممالک جتنی نعمتوں سے مالا مال ہیں، شاید ہی کوئی دوسری قوم اتنی خوش قسمت ہو لیکن یہ نا شکری کا رویہ ہے کہ ذات سے لے کر خاندان تک ، معاشرے سے لے کر بین الاقوامی ایوانوں تک، ہم اپنے وسائل کو ضائع کر رہے ہیں۔ یہ بھی نعمتوں کی ناشکری ہے۔ دوسری طرف حقوق اور ترقی کی جنگ کے مغربی تصور نے بحیثیت مجموعی انسانی مزاج میں ناشکر گزاری کی پرداخت کی ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں پوری انسانیت زرعی اور معدنی وسائل اور خوراک کے وافر ذخائر ہونے کے باوجود بھوک اور خوف کا شکار ہے۔ قرآن کے مطابق یہ سزا ہے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی:

وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا قَرْيَۃً كَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَىِٕنَّۃً يَّاْتِيْہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللہِ فَاَذَاقَہَا اللہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ۝۱۱۲ (النحل ۱۶:۱۱۲) اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے۔ وہ امن واطمینان کی زندگی بسر کررہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بافراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر ان شروع کر دیا۔ تب اللہ نے اس کے باشندوں کو ان کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھا یا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں ۔

شکر گزاری کے جذبات دل میں بھی موجزن ہوں اور حاصل شدہ نعمتوں کا اعتراف زبان پر بھی آنا چاہیے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی:وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۝۱۱ۧ (الضحٰی ۹۳:۱۱) ’’اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو‘‘۔ اس آیت کی رُو سے نعمتوں کا صحیح استعمال اپنی ذات پر بھی ہو اور اس میں محروم لوگوں کو بھی شامل کیا جائے کہ ملی ہوئی نعمتوں میں سائل اور محروم کا ایک متعین حق ہے: وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۝۲۴۠ۙ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ۝۲۵ (المعارج ۷۰:۲۴-۲۵)۔شکرگزاری نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ بنتی ہے، جب کہ ناشکری اللہ کے عذاب کا باعث بنتی ہے: لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۝۷ (ابراہیم ۱۴:۷) ’’اگر شکرگزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے‘‘۔

l تجدیدِ ایمان:عذاب سے بچنے کے لیے تجدید ایمان کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ سورئہ نساء میں نجات کے لیے شکرگزاری کے ساتھ ساتھ ایمان کی روش کو نجات کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے:

مَا يَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ شَاكِرًا عَلِــيْمًا۝۱۴۷ (النساء ۴:۱۴۷) آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمھیں خواہ مخواہ سزا دے ،اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو ۔ اللہ بڑا قدر دان اور سب کے حال سے واقف ہے۔

لہٰذا جو ایمان نہیں لائے، وہ ایمان لائیں جیسے حضرت یونس ؑ کی قوم عذاب کو دیکھ کر بحیثیت قوم ایمان لے آئی اور عذاب ان سے ٹل گیا، اور جو پہلے سے مومن ہوں، وہ اپنے ایمان کی تجدید کریں۔ آثار صحابہؓ کے مطابق صحابہؓ ایک دوسرے کو تجدید ایمان کی یاد دہانی کروایا کرتے تھے۔

مغربی تہذیب نے نفوسِ انسانی میں کہیں سائنس کی خدائی کا سکّہ جما دیا ہے تو کہیں قومیت کو خدائی کے مقام پر بٹھا دیا ہے۔ انسانیت پرستی (Humanism)کے نام پر انسانی خواہش نفس کو ’الٰہ ‘ کا درجہ دے دیا ہے۔ معیشت وسرمایہ کے دیوتا کی پرستش بھی اس تہذیب کا خاصّہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی فطرت خدا کے بغیر گزارا نہیں کر سکتی۔ جب اصل خدا کو معاشرت ومعیشت اور تمدن و سیاست سے بے دخل کر دیا گیا تو کسی کو تو ’خدا‘ کے مقام پر بٹھا نا تھا، سو مغرب نے کئی طرح کے بت تراشے لیکن افسوس کہ مسلمانوں کے ماہر ین معیشت وسیاست کی اکثریت بھی انھی بتوں کے سامنے سجدہ ریز دکھائی دیتی ہے ۔

l اصلاحِ معاشرہ کے لیے جدوجہد:عذابِ الٰہی سے بچنے کا ناگزیر تقاضا یہ ہے کہ معاشرے میں اصلاح کی کوشش کرنے والے افراد، مؤثر طورپر موجود ہوں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُہْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا مُصْلِحُوْنَ۝۱۱۷  (ھود ۱۱:۱۱۷) تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کردے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔

قوموں کا بگاڑ جب بگاڑ اور سرکشی چاہنے والوں کی وجہ سے بڑھتا ہے تو ان کے مقابلے میں خیروصلاح چاہنے والوں کا سرگرم ہونا بھی ضروری ہے:

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّۃٍ يَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا (ھود ۱۱:۱۱۶)  پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ایسے اہلِ خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم۔

ان دونوں آیات کی تفسیر میں سیّد مودودی لکھتے ہیں:’’پچھلی انسانی تاریخ میں جتنی قومیں بھی تباہ ہوئی ہیں، ان سب کو جس چیز نے گرایا، وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو خوش حالی کے نشے میں مست ہوکر زمین میں فساد برپا کرنے لگیں اور ان کا اجتماعی ضمیر اس درجہ بگڑ گیا کہ یا تو ان کے اندر ایسے نیک لوگ باقی رہے ہی نہیں جو ان کو بُرائیوں سے روکتے، یا اگر کچھ لوگ ایسے نکلے بھی تو وہ اتنے کم تھے اور ان کی آواز اتنی کمزور تھی کہ ان کے روکنے سے فساد نہ رُک سکا۔یہی چیز ہے جس کی بدولت آخرکار یہ قومیں اللہ تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہوئیں، ورنہ اللہ کو اپنے بندوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ وہ تو بھلے کام کر رہے ہوں اور اللہ ان کو خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کردے۔ اس ارشاد سے یہاں تین باتیں ذہن نشین کرنی مقصود ہیں:

’’ایک یہ کہ ہراجتماعی نظام میں ایسے نیک لوگوں کا موجود رہنا ضروری ہے جو خیر کی دعوت دینے والے اور شر سے روکنے والے ہوں۔ اس لیے کہ خیر ہی وہ چیز ہے جو اصل میں اللہ کو مطلوب ہے، اور لوگوں کے شرور کو اگر اللہ برداشت کرتا بھی ہے تو اس خیر کی خاطر کرتا ہے جو ان کے اندر موجود ہو، اور اُسی وقت تک کرتا ہے جب تک ان کے اندر خیر کا کچھ امکان باقی رہے۔ مگر جب کوئی انسانی گروہ اہلِ خیر سے خالی ہوجائے اور اس میں صرف شریر لوگ ہی باقی رہ جائیں، یااہلِ خیر موجود ہوں بھی توکوئی ان کی سن کر نہ دے اور پوری قوم کی قوم اخلاقی فساد کی راہ پر بڑھتی چلی جائے، تو پھر خدا کا عذاب اس کے سر پر اس طرح منڈلانے لگتا ہے جیسے پورے دنوں کی حاملہ کہ کچھ نہیں کہہ سکتے کب اس کا وضع حمل ہوجائے۔

’’دوسرے یہ کہ جو قوم اپنے درمیان سب کچھ برداشت کرتی ہو مگر صرف اُنھی چند گنے چُنے لوگوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو جو اُسے بُرائیوں سے روکتے اور بھلائیوں کی دعوت دیتے ہوں، تو سمجھ لو کہ اس کے بُرے دن قریب آگئے ہیں، کیونکہ اب وہ خود ہی اپنی جان کی دشمن ہوگئی ہے۔ اسے وہ سب چیزیں تو محبوب ہیں جو اس کی ہلاکت کی موجب ہیں اور صرف وہی ایک چیز گوارا نہیں ہے جو اس کی زندگی کی ضامن ہے۔

’’تیسرے یہ کہ ایک قوم کے مبتلاے عذاب ہونے یا نہ ہونے کا آخری فیصلہ جس چیز پر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں دعوتِ خیر پرلبیک کہنےوالے عناصر کس حد تک موجود ہیں۔ اگر اس کے اندر ایسے افراد اتنی تعداد میں نکل آئیں جوفساد کو مٹانے اور نظامِ صالح کو قائم کرنے کے لیے کافی ہو تو اس پر عذابِ عام نہیں بھیجا جاتا بلکہ ان صالح عناصر کو اصلاحِ حال کا موقع دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر پیہم سعی و جہد کے باوجود اس میں سے اتنے آدمی نہیں نکلتے جو اصلاح کے لیےکافی ہوسکیں، اور وہ قوم اپنی گود سے چند ہیرے پھینک دینے کے بعد اپنے طرزِعمل سے ثابت کردیتی ہے کہ اب اس کے پاس کوئلے ہی کوئلے باقی رہ گئے ہیں، تو پھر کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی کہ وہ بھٹی سلگا دجاتی ہے جوان کوئلوں کو پھونک کر رکھ دے‘‘۔ (تفہیم القرآن، جلد۲،ص ۳۷۲-۳۷۳)

رجوع الی اللہ کی فکر کیجیے!

آزمایش کی اس گھڑی میں اسوئہ رسول ؐ کی روشنی میں رجوع الی اللہ وقت کا تقاضا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ اللہ کی بندگی اختیار کریں۔ نافرمانی اور غفلت اور دورنگی اور منافقت کی روش کو ترک کر دیں۔اللہ کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ لیں اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔ دوسری طرف حکومتِ وقت کا فرض ہے کہ وہ اسلامی نظامِ حکومت کو قائم کرے اور اللہ سے بغاوت کی روش کو ترک کردے۔ رجوع الی اللہ کے نتیجے میں ہی ہم اللہ کی رحمت کے حق دار ٹھیر سکیں گے اور اس وبا اور آزمایش سے بچ سکیں گے:

وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْہِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَـنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ۝۰ۭ (ھود ۱۱:۳) اور تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدتِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحب ِ فضل کو اُس کا فضل عطا کرے گا۔