جون ۲۰۱۹

فہرست مضامین

بھارتی سیکولرزم بے نقاب ہورہا ہے!

ظہور احمد نیازی | جون ۲۰۱۹ | اخبار اُمت

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران نام نہاد بھارتی سیکولرزم بُری طرح بے نقاب ہوچکا۔ بھارت کی ۷۲ سالہ تاریخ اقلیتوں کے ساتھ بدترین تشدد، خون ریز فسادات اور پڑوسی ملکوں کے اندر دہشت گردی کرانے کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اگست ۱۹۴۷ء میں کانگریس کی حکومت قائم ہوتے ہی پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے سیکولرزم کا جو نقاب چہرے پر سجا لیا تھا، نریندر مودی کی قیادت میں وہ نقاب اُتر چکا ہے، پڑوسی ملکوں کو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس عمل نے خود بھارت کا اصلی تنگ نظر برہمن چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ اس ایجنڈے پر بھارت ایک عرصے سے کام کر رہا ہے، جہاں تشدد پسند ہندوتنظیمیں عدم برداشت کو ہوا دے کر غیر ہندوئوں کے خلاف نفرت کی فضا کو الائو بناچکی ہیں۔ بہرحال بھارت کے سبھی لوگ نفرت کی آگ میں نہیں جل رہے، ان میں معتدل اور انصاف پسند لوگ بھی ہیں۔ 
انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی کو چھپانے کے لیے بی جے پی نے ملک کے اندر اور سرحدوں پر جارحانہ پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ ایودھیا کو رام کی جنم بھومی قرار دے کر تشددپسند ہندو قیادت نے ۲دسمبر ۱۹۹۲ء کو ۱۶ویں صدی کی تعمیرشدہ تاریخی بابری مسجد، ہندو بلوائیوں کے ذریعے شہید کرادی اور پھر ہندوئوں نے چُن چُن کر ملک بھر میں مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ ان فسادات میں کم از کم دو ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں بھاری اکثریت مسلمانوں ہی کی تھی۔
بی جے پی، پونے تین ایکڑ اراضی پر رام مندرکی تعمیر شروع کر کے زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹ حاصل کرنے کی خواہش مند اور دو تہائی اکثریت سے بھارت کا آئین تبدیل کرکے اسے ہندو ریاست قرار دینا چاہتی ہے۔ مگر عدالتی کارروائیوں کی بنا پر یہ تعمیر شروع نہ ہوسکی۔ رام مندر تعمیر شروع ہونے کی صورت میں بی جے پی کے ووٹوں میں بہت زیادہ اضافہ متوقع تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بابری مسجد کا مقدمہ زیر التوا ہونے کی صورت میں نریندر مودی پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے؟ تو ہمارا جواب ’نہیں‘ میں ہوگا۔ اس مقدمے کی طوالت کا فائدہ بھی بی جے پی ہی کو پہنچ رہا ہے۔ نئی دہلی کے ایک تھنک ٹینک ’آبزرور ریسرچ فائونڈیشن‘ (ORF)کے سینیر فیلو نرنجن ساہوکا کہنا ہے کہ: ’جب تک یہ مسئلہ زندہ ہے، بی جے پی اس سے فائدہ اُٹھاتی رہے گی‘۔
بی جے پی بھارت کے اندر میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے جو جنگی جنون پیدا کرچکی ہے، اس کی بناپر سیاسی پنڈتوں کو یقین تھا کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ ایک محدود جنگ میں کامیابی حاصل کرلیتی تو دوتہائی ووٹ بآسانی ان کی جھولی میں آپڑتے۔ رات کی تاریکی میں ایک نام نہاد اسٹرے ٹیجک اسٹرائک میں مبینہ طور پر جیش محمد کے تربیتی مرکز پر حملہ کرکے، بالاکوٹ میں ۳۵۰’دہشت گرد‘مارنے کا دعویٰ کیا گیا۔ صبح کے وقت میڈیا جب اتنی بڑی خبرکی تصدیق کے لیے وہاں پہنچا تو انھیں ٹوٹے ہوئے چار درخت اور ایک کوے کی لاش ملی۔ حملے کی جگہ پر نہ کوئی عمارت تھی، نہ تربیتی مرکز۔ بعدازاں فضائی لڑائی میں پاک فضائیہ نے دو بھارتی جیٹ گرا کر نریندر مودی کے جنگی جنون کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ جس کے نتیجے میں مودی پارٹی کو فائدے کے بجاے نقصان ہوا ۔بھارتی حکومتوں اور میڈیا نے اپنے ملک کے اندر پاکستان کے خلاف اتنی نفرت پیدا کر رکھی ہے کہ آج ہرسیاسی پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اگر وہ خود کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ثابت کردے تو اسے زیادہ ووٹ ملیں گے۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی مضبوط دفاعی اسٹرے ٹیجی کی بناپر بھارتی حکومت کو بّری فوج کے مختلف علاقوں میں عالمی سرحد کو پار کرکے پاکستان میں گھس جانے اور میزائلوں کے حملے کا منصوبہ بھی ترک کرنا پڑا۔ اس بارے میں پاکستانی میڈیا میں تفصیل سے خبریں آچکی ہیں، لہٰذا ہم یہاں بابری مسجد کے تنازعے کے ان پہلوئوں کو اُجاگر کریں گے، جو پاکستانی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوئے۔ اس سلسلے میں ان ہڈیوں کا کیا قصہ ہے جو بابری مسجد کی جگہ پر کھدائی سے نکل آئیں؟ یہ ہڈیاں کس کی ہیں؟ کیا برہمن اور مندروں کے باسی پہلے گوشت خور ہوتے تھے؟ پھر سوال یہ ہے کہ کس اُمید پر یہ کھدائی کرائی گئی تھی؟ کیا ثابت کرنا مقصود تھا؟ کھدائی سے ثابت کیا ہوا؟ اور اب بابری مسجد کی جگہ پہلے مندر ہونے کو ثابت کرنے کے لیے کیا کیا جھوٹ گھڑا جا رہا ہے؟
بابری مسجد پر ہندوئوں نے جو تنازع اُٹھایا تھا، اس پر الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ۲۰۱۰ء میں فیصلہ دیا تھا کہ: ’ایک تہائی زمین سُنّی وقف بورڈ کو دے دی جائے اور بقیہ دوگروپوں، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا کے حوالے کر دی جائے۔ بھارت کے مشہور قانون دان اور دانش ور جناب اے جی نورانی نے دوجلدوں میں اپنی فاضلانہ کتاب The Babri Masjid Question (مطبوعہ ۲۰۰۳ء) میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے بابری مسجد پر فیصلے کا نہایت گہرائی سے تجزیہ کرکے ہندوانتہا پسندوں کے دعوے کے تاروپود بکھیر دیے ہیں اور فیصلے کی کج روی کو آشکارا کیا ہے۔ 
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ۱۴؍اپیلیں داخل کی گئیں۔ جن پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی دستوری بنچ نے ۸مارچ ۲۰۱۹ء کو ایک سہ رکنی پینل تشکیل دیا کہ: ’وہ فریقین میں مصالحت کرانے کی کوشش کرے‘۔ پینل کو اپنی رپورٹ داخل کرنے کے لیے آٹھ ہفتے کا وقت دیا گیا۔ ایودھیا کے ایک قریبی قصبے فیض آباد میں بند کمرے میں۱۳مارچ کو پینل کا پہلا اجلاس ہوا۔ اس میں تمام فریقوں کے قانونی مشیروں سمیت ۵۰ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد تین اجلاس مزید ہوئے۔ بعدازاں مسلم نمایندوں نے معذرت کرلی کہ رمضان کے مہینے کے دوران وہ اجلاسوں میں شریک نہیں ہوسکیں گے۔
تازہ ترین صورتِ احوال یہ ہے کہ سہ رکنی کمیٹی نے اپنی عارضی سربمہر رپورٹ سپریم کورٹ کو جمعرات ۹مئی ۲۰۱۹ء کو پیش کردی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگئی کا کہنا تھا کہ: ’’ہم آپ کو نہیں بتا سکتے کہ کتنی پیش رفت ہوئی ہے؟ یہ ابھی صیغۂ راز میں رہے گی‘‘۔ مصالحتی کمیٹی کی مدت ۱۳مئی کو ختم ہورہی تھی۔ سپریم کورٹ نے جمعہ ۱۰مئی کو، ۱۵؍اگست کی آیندہ سماعت تک کمیٹی کو مزید تین مہینے کا وقت دے دیا۔ پانچ رکنی بنچ کا کہنا تھا کہ: ’’اگر مصالحت کار بہتر نتائج کے بارے میں پُرامید ہیں اور وہ مزید کچھ وقت چاہتے ہیں تو انھیں یہ وقت دینے میں کیا حرج ہے؟‘‘ پانچ رکنی بنچ میں ایک مسلم جج ایس عبدالنذیر شامل ہیں۔ اس موقعے پر عدالت نے تمام فریقوں کو اجازت دی کہ: ’وہ زیادہ سے زیادہ ۳۰جون تک اپنے اعتراضات داخل کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد کسی کو مصالحتی کوشش میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔دو انتہاپسند کٹر ہندو تنظیموں کے سوا مقدمے کے تمام ہی فریقوں نے ۱۵؍اگست تک توسیع کی حمایت کی ہے۔
مسلمانوں کی جانب سے ایک درخواست گزار مفتی حزب اللہ بادشاہ، جو جمعیۃ العلما ہند کے حاجی محمودصاحب کی جگہ اس مقدمے میں فریق ہیں، ان کا کہنا تھا: ’ہم سپریم کورٹ سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ اگر عدالت مثبت نتیجے کے بارے میں پُراُمید ہے تو ہم توسیع کی حمایت کرتے ہیں‘۔ ہندوئوں کی جانب سے اصل درخواست گزار نرموہی اکھاڑے کے مہنت دھرما داس نے کہا کہ: ’صدیوں پرانے تنازعے‘پر مصالحت کے لیے وقت کی توسیع کی مَیں حمایت کرتا ہوں‘۔ مسلمانوں کی جانب سے پہلے درخواست گزار اقبال انصاری کہتے ہیں کہ:’ پینل ۷۰سال پرانے کیس کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، تو ہم چند ماہ مزید انتظار کرسکتے ہیں‘۔ ہندوئوں کی جانب سے ایک اور درخواست گزار ہندو مہاسبھا کے صدر اچاریا چکرپانی نے بھی توسیع کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ: ’میں تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول حل نکل آنے کی اُمید کررہا ہوں۔ یہ ملک میں ہندو مسلم بھائی چارہ قائم کرنے کے لیے زبردست قدم ہوگا‘۔
ہندو درخواست گزاروں میں سے ایک تنظیم رام جنم بھومی نیاس نے توسیع کی مخالفت کی ہے۔ مہنت گوپال داس کا کہنا ہے کہ: ’کیس کی سماعت ہرلحاظ سے مکمل ہوچکی ہے۔ اب سپریم کورٹ اپنا فیصلہ دے‘۔ دوسری تنظیم جو توسیع کی مخالفت کر رہی تھی وہ ’وشواہندو پریشد‘ (VHP) ہے۔   اس کے ترجمان شرادشرما کا کہنا تھا: ’ہم توسیع نہیں، بس اب آخری فیصلہ چاہتے ہیں‘۔ اس تنظیم کا مرکز ایودھیا میں کارسیوک پورم میں ہے۔ بابری مسجد کوشہید کرنے میں بڑی تعداد میں یہی کارسیوک بھی شامل تھے۔ دونوں ہندو تنظیمیں نریندر مودی کا ووٹ بنک بڑھانا چاہتی تھیں۔
یہ صورتِ حال مسلمانوں کے لیے کتنی حوصلہ افزا ہے؟ ’آبزرور ریسرچ فائونڈیشن‘ کے سینیر فیلو نرنجن ساہو، جن کا ذکر اُوپر گزر چکا ہے، اس بارے میں قطعی پُراُمید نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’مصالحتی کوشش ناکام رہے گی اور بالآخر عدالت ِ عظمیٰ یہ کہہ دے گی کہ: ’’مسئلے کے قانونی حل کے تمام امکانات ختم ہوچکے ہیں، اس لیے اب پارلیمنٹ ہی اس معاملے کو نمٹانے کے لیے قانون سازی کرے‘‘۔ بنیادی طور پر یہ مقدمہ زمین کی ملکیت سے شروع ہوا، لیکن ہندو انتہاپسند اسے مذہبی رنگ دینے میں کامیاب ہوگئے۔ عدلیہ جانتی ہے کہ سیاسی طور پر انتہائی حساس مذہبی معاملے کا وہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔ چنانچہ اس نے مصالحت کرانے کی راہ اپنائی۔ اس میں ناکامی ہوئی تو وہ کہہ دے گی کہ اسے سیاسی طور پر حل کیا جائے‘‘۔
سہ رکنی مصالحتی پینل کے سربراہ سپریم کورٹ کے ایک سابق مسلم جج، جسٹس ایف ایم خلیفۃ اللہ ہیں۔ ان کے بارے میں عام راے یہ ہے کہ ’’وہ بس نام کے ہی مسلمان ہیں‘‘۔ کمیٹی کے ایک رکن ہندوئوں کے روحانی گرو اور آرٹ آف لیونگ فائونڈیشن کے بانی سری سری روی شنکر اور دوسرے رکن سینیر ایڈووکیٹ سری رام پنچھو ہیں۔ سری سری روی شنکر کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا پارلیمانی بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ: ’دونوں فریقوں کے وقار کا لحاظ رکھتے ہوئے انصاف کیا جائے‘، جب کہ جمعیۃ العلما ہند کے رہنما مولانا محمود مدنی کہتے ہیں کہ: ’سری سری کمیٹی سے ہم کسی مثبت اور خوش گوار رویے کی توقع نہیں رکھتے‘۔
بابری مسجد کے انہدام کی بنیاد ’رامائن‘ کے عنوان سے بننے والے ایک ٹی وی شو نے رکھی۔ جس نے ۱۹ویں صدی میں گھڑے جانے والے اس جھوٹ کو پُرکشش کہانی کے انداز میں پیش کیاکہ: ’’یہ رام دیوتا کی جنم بھومی ہے اور یہاں ان کا مندر ہوتا تھا، جسے شہنشاہ ظہیرالدین بابر کے جنرل میرباقی نے منہدم کر کے یہاں مسجد بنوا دی‘‘۔ اسے بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنالیا، بالآخر مسجد شہید کر دی گئی۔ الیکشن جیتنے کے بعد بی جے پی نے اپنی مقامی مخلوط صوبائی حکومت کے تعاون سے رام مندر کی تعمیر کا بیڑا اُٹھایا۔ ہندوئوں کی ایک بڑی تعداد کو پورا یقین ہوگیا تھاکہ مندر کی جگہ مسجد بنائی گئی تھی۔ اس ناٹک کے ذریعے ہندو انتہا پسند پارٹی حکومت میں آئی اور اس مشن پر گامزن چلی آرہی ہے کہ یہاں مندر بنوا کر وہ کئی اَدوار تک حکومت کرتی رہے گی۔ 
بات عدالت تک پہنچی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سہ رکنی بنچ میں دو ہندو اور ایک مسلمان جج تھے۔ مسلمان جج ایس یوخان کے خیال میں: ’’آثارِ قدیمہ کے شواہد کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ سیدھا سادا ملکیت کا کیس تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پہلے یہاں کون رہتا تھا‘‘۔  جن ماہرین آثارِ قدیمہ کو مسلمانوں کی جانب سے آبزرور کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ: ’’ملکیت کے ایک مقدمے میں ججوں کو تاریخ اور آثارِ قدیمہ کو درمیان میں نہیں لانا چاہیے تھا‘‘۔ لیکن ان دو ججوں نے جی پی آر (Ground Penetrating Radar)کرایا، جس سے اندازہ ہوا کہ نیچے کوئی ڈھانچا یا اس کے کچھ آثارموجود ہیں۔ عدالت نے ’آثارِ قدیمہ سروے آف انڈیا‘(ASI) کو کھدائی کی ہدایت کردی۔
یہاں سے ان ہڈیوں کی کہانی شروع ہوتی ہے جو بابری مسجد کے نیچے کھدائی پر ہر صدی کی سطح سے مل رہی تھیں۔ یہ گائے، بیل اور بکریوں کی پکی ہوئی اور کھائی ہوئی ہڈیاں تھیں۔ اس کے علاوہ انسانی ڈھانچے تھے۔ ان ہڈیوں کا ملنا، محکمہ آثارِ قدیمہ کے کھدائی کرنے والے ماہرین کے لیے دردِ سر بن گیا۔ ان ہڈیوں کو اگر وہ ریکارڈ کرنا شروع کر دیتے تو مندر کا ڈھانچا کیسے کھڑا کرپاتے؟ سوال پیدا ہوتا کہ: ’’کیا رام کے مندر کے برہمن پجاری اپنی گائوماتا کو کاٹ کر کھا جایا کرتے تھے اور مندر کے دوسرے باسی بھی گوشت کھایا کرتے تھے؟‘‘ چنانچہ حکمِ حاکم ملتے ہی تمام مزدور بالٹیاں بھر بھر کر کھدائی میں ملنے والی تمام ہڈیاں پھینکتے رہے۔
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سنٹر آف ایڈوانس اسٹڈیزکے چیئرمین اور ہندستان کے قرونِ وسطیٰ کے اَدوار کی تاریخ کے پروفیسر سیّد علی ندیم رضوی کہتے ہیں کہ: ’’اے ایس آئی افسران ہڈیوں کے ملنے سے سخت پریشان تھے۔ وہ اس ثبوت کو ضائع کرنا چاہتے تھے۔ ہماری آنکھوں دیکھتے وہ ساری ہڈیاں چُن چُن کر بالٹیوں میں بھربھر کر پھینکتے جارہے تھے۔ گائے، بکریوں اور بیلوں کی ان پکی ہوئی ہڈیوں سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی بلکہ یہ کبھی مندر رہا ہی نہیں تھا‘‘۔ پروفیسر رضوی کہتے ہیں کہ: ’’ہمارے اصرار کے باوجود اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں ان پکی ہوئی ہڈیوں کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔ وہ تو کسی کے کہنے پر مندر کا ثبوت لانا چاہتے تھے۔ رام کے نام پر بنے ہوئے وشنومندر سے جانوروں کی پکی اور کھائی ہوئی ہڈیاں کیسے مل سکتی تھیں؟‘‘
جسٹس سدھیر اگروال نے اپنے فیصلے میں اے ایس آئی کی رپورٹ کو شان دار، ہرلحاظ سے مکمل اور درست قرار دیتے ہوئے لکھا کہ: ’’اے ایس آئی مذمت کے بجاے تعریف کی مستحق ہے‘‘۔ انھوں نے آزاد ماہرین آثارِقدیمہ کے اس اعتراض کو مسترد کر دیا کہ: ’’خود عدالت نے کھدائی میں ملنے والی ہڈیوں کی تعداد اور جہاں ممکن ہو، ان کا سائز، نیز جتنے چکنے برتنوں کے ٹکڑے ملیں، ان کو ریکارڈ کیا جائے‘‘۔لیکن اب جسٹس اگروال نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ: ’’ یہ ہڈیاں گڑھے اور کوڑے کے ڈھیر سے ملی تھیں، لہٰذا ان کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں ہے ‘‘۔ کیا خوب، جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے۔پروفیسر علی ندیم رضوی کا اصرار ہے کہ: ’’اُوپر نیچے ہرصدی کی جو سطح بنتی ہے، ان سب سے ہڈیاں ملی ہیں۔ یہ اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ گذشتہ صدیوں میں یہاں پر جو لوگ بھی رہے ہیں، وہ سب گوشت خور تھے اور یہ بھی طے شدہ حقیقت ہے کہ مندروں میں رہنے والے گوشت نہیں کھاتے‘‘۔ اس نکتے کے جواب میں جسٹس اگروال کی نکتہ آفرینی سامنے آئی کہ: ’’بعض مندروں میں جانوروں کی قربانی ہوتی ہے اور ان کا گوشت پرساد کے طور پر کھایا جاتا ہے اور ہڈیاں فرش کے نیچے دبا دی جاتی ہیں‘‘۔ اس نکتے کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ: ’’بعض دیوی دیوتائوں، مثلاً کالی ماتا، یاما اور شیوا پر جانور قربان کیے جاتے ہیں، مگر وشنو کے چرنوں پر کبھی قربانی نہیں کی جاتی۔ اور ہندو تو یہاں رام کے مندر کا دعویٰ کر رہے ہیں اور ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وشنو دوسرے جنم میں رام بن کر آیا ہے۔ چلیں اگر قربانی مان بھی لی جائے تو جانوروں کے پوری ڈھانچے ملنے چاہییں تھے۔ اِدھر اُدھر پڑی ہوئی چھٹی چھوٹی ہڈیاں نہیں‘‘۔ اپنے فیصلے میں جسٹس اگروال نے ایک اور مضحکہ خیز نکتہ یہ اُٹھایا کہ: ’’اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بابری مسجد جس جگہ بنائی گئی ہے، وہاں پہلے بھی مسجدیں ہوتی تھیں اور مندر نہیں تھا، تو اسلامی صحیفے تو یہ کہتے ہیں کہ عبادت گاہوں کو رہایش، کھانے پینے اور سونے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
اس نکتے کے جواب میں پروفیسر علی ندیم رضوی کا کہنا تھا کہ: ’’مجھے نہیں معلوم جسٹس اگروال نے یہ بات کہاں سے نکالی ہے؟ مسجدوں میں تو گوشت کھایا جاسکتا ہے۔ خودپیغمبر  حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں سوئے ہیں۔ ہاں، البتہ مندروں میں گوشت نہیں کھایا جاسکتا‘‘۔
چنانچہ رپورٹ کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں میں الفاظ کی جنگ آج تک جاری ہے۔ ۲۰۱۰ء میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد تنازعے نے مزید شدت اختیار کرلی۔ آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ: ’’اے ایس آئی کو مندر کی موجودگی نکالنے کی جو ’ذمہ داری‘ سونپی گئی تھی، وہ اس نے پوری کردی‘‘۔ رپورٹ کی حمایت کرنے والے مخالفین پر الزام لگاتے ہیں کہ: ’’وہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں‘‘۔ پروفیسر رضوی اس پر کہتے ہیں کہ: ’’میں سُنّی وقف بورڈ کا مداح ہوں اور نہ وہ میرے مداح ہیں۔ میں نہ تو مسلمان ہوں اور نہ سُنّی، بلکہ کمیونسٹ ہوں، جس سے یہ[بورڈ والے] لوگ نفرت کرتے ہیں‘‘۔
سُنّی وقف بورڈ نے دو ہندو ماہرین آثارِ قدیمہ کی خدمات حاصل کی تھیں کہ وہ اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ  اے ایس آئی کا عملہ کھدائی کے دوران ضابطے کی پابندی کرتا رہے۔ ان میں ایک سپریاور ماتھے، جو جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی میں آثارِ قدیمہ کے پروفیسر ہیں، دوسرے جے مینن جوشیونادر یونی ورسٹی میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کھدائی کے نگراں بی آر مانی کے خلاف عدالت میں شکایت جمع کرائی تھی کہ وہ قواعد و ضوابط کا پاس و لحاظ نہیں رکھ رہے، جس پر ہائی کورٹ نے بی آر مانی کو سربراہی سے ہٹانے کا حکم جاری کیا، مگر وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ آخر تک سربراہی کرتے رہے۔ بعدازاں مودی حکومت نے مانی کو ۲۰۱۶ء میں نیشنل میوزیم کا ڈائرکٹر جنرل مقرر کر دیا۔
سُنّی وقف بورڈ کے آبزرور پروفیسر ورما کہتے ہیں کہ: ’’کھدائی کے دوران سرے سے کوئی ایک ثبوت بھی نہیں ملا کہ بابری مسجد کی جگہ کبھی کسی صدی میں بھی یہاں مندر رہا تھا۔ البتہ یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ماضی میں اس جگہ پر صدیوں پہلے بھی مساجد رہی ہیں‘‘۔ ۴۷۵صفحات پر پھیلی رپورٹ میں جتنے بھی ابواب ہیں، ان میں ایک بھی باب کھدائی میں ملنے والی ہڈیوں پر نہیں ہے۔ 
’’اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں مندر کی موجودگی کے لیے تین ثبوت پیش کیے ہیں: ۱- مغربی دیوار ۲- ۵۰ستونوں کی بنیادیں اور ۳- چند عمارتی ٹکڑے جو کسی طور پر بھی مندر کے نہیں ہیں۔ 
’’جہاں تک مغربی دیوار کی موجودگی کا تعلق ہے، تو وہ تو واضح طور پر مسجد ہونے کا ثبوت ہے کیوںکہ برصغیر کے ملکوں میں مسلمانوں کا قبلہ مغرب کی طرف ہے اور نمازوں میں ان کا رُخ مغربی دیوار کی طرف ہوتا ہے، جب کہ مندروں کا تعمیراتی پلان مختلف ہوتا ہے۔مندروں میں مغربی دیوار کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اب جہاں تک دوسرے ثبوت کا تعلق ہے، تو جن ۵۰ ستونوں کی دریافت کا اے ایس آئی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے، وہ دراصل ٹوٹی ہوئی اینٹیں ہیں جن کے نیچے کیچڑ ہے۔ کیا کوئی ذی عقل یہ کہہ سکتا ہے کہ کیچڑ پر ستون کھڑے کیے جاسکتے ہیں؟ اے ایس آئی نے دراصل اُوپر والوں کے کہنے پر ستونوں کی بنیاد کی کہانی بنائی ہے۔ جہاں تک تیسرے ثبوت کا تعلق ہے تو اے ایس آئی نے جو چار پانچ سو عمارتی ٹکڑے اکٹھے کیے ہیں، ان میں سے صرف دو اہم ہیں۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ ان میں کوئی ایک بھی اس کھدائی کے دوران نہیں ملا۔ یہ سب بابری مسجد کے انہدام کے بعد اس کے ملبے سے اُٹھائے گئے ہیں۔ ان میں ایک آدھا ٹوٹا ہوا ٹکڑا ایسا ہے جو انسانی مجسمے کی طرح لگتا ہے، اسے مرد اور عورت کا دیومالائی مجسمہ قرار دے دیا گیا۔ اس ٹکڑے کے بارے میں ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کس دور کا ہے؟ وہ کہیں سے بھی آسکتا ہے۔ اگر یہاں کبھی مندر ہوتا تو اس کی عمارت پتھر کی ہوتی اور ملبے سے بے شمار مجسمے ملنے چاہییں تھے۔  ان  نام نہاد ’ثبوتوں‘ کی بنیاد پر مندرکی موجودگی کا دعویٰ کرنا بہت بڑا اختراع اور جعل سازی ہے۔
پروفیسر ورما نے ایک دل چسپ انکشاف یہ بھی کیا کہ: ’’اے ایس آئی کی رپورٹ کے ہرباب پر لکھنے والے کا نام درج ہے اور پوری رپورٹ کے کسی باب میں بھی مندر کا ذکر نہیں ہے، مگر رپورٹ کے آخر میں جہاں نتائج اخذ کیے گئے ہیں وہاں کسی کا نام نہیں ہے، اور تین مذکورہ بالا ثبوتوں کا ذکر کرکے کہا گیا ہے کہ ان سے پتا چلتا ہے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے یہاں مندر تھا، حالاں کہ ان ثبوتوں سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہاں گذشتہ صدیوں میں مساجد ہوتی تھیں‘‘۔