جون ۲۰۱۹

فہرست مضامین

تکفیر کے شرعی اصولوں پر نظر

ڈاکٹر عصمت اللہ | جون ۲۰۱۹ | فقہ و اجتہاد

اس وقت امت مسلمہ میں بالعموم اور ہمارے ملک و معاشرے میں بالخصوص اسلام کے چاہنے،ماننے والوں اور لادین طبقے کے درمیان ایک کش مکش برپا ہے۔ سیکولر طبقات مسلمانوں کی عمومی زندگی سے ہی نہیں بلکہ ریاست اور اس کے اداروں سے بھی اسلام ، دینی علامات اورشعائر کو مٹانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام اوراُمت مسلمہ کی محترم و مقدس شخصیات کو نشانہ بنایا اور ان کی توہین وتضحيک کی جا رہی ہے۔ اس کام میں بڑی چالاکی سے سادہ لوح مسلمانوں کو لادین عناصر استعمال کررہے ہیں۔ اس لیے ایمان و کفرکی حدود سے لا علم حضرات کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
دوسری طرف خود اسلام کے ماننے والوں کے درمیان بھی کوئی قابلِ رشک اتحاد و اتفاق نہیں پایا جاتا۔ فرقہ واریت کا زہر امت کے جسدِ واحد کوکھوکھلا کر رہا ہے ، ایک دوسرے کے خلاف تکفیر، تفسیق اور تضلیل کے فتاویٰ صادر ہو رہے ہیں اور فتنہ کی سی صورتِ حال واضح نظر آرہی ہے۔
اس فتنۂ تکفیر کی جڑیں قدیم ہیں، تاریخی لحاظ سے اُمت مسلمہ میں سب سے پہلا اور خطرناک ترین فتنہ تکفیر ہی کا تھا۔ قرنِ اوّل میں خوارج نے تکفیر و تفسیق میں غلو سے کام لیا، حتیٰ کہ انھوں نے حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ، حضرت عمرو ؓبن عاص کو بھی دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا، اور قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنانے کے لیے امن اور حُرمت کے شہر مکہ میں بیٹھ کر سازش تیار کی، اور منصوبے کے مطابق:

  • خلیفۂ راشد حضرت علیؓ کو ایک خارجی عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی نے مسجدکوفہ میں فجر کی نماز کے لیے آتے ہوئے قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا۔
  • حضرت معاویہؓ کو برک بن عبداللہ نے فجر کے وقت نماز کے لیے آتے ہوئے قتل کرنے کی کوشش میں زخمی کر دیا اور حضرت معاویہؓ نے اس کو قتل کروا دیا۔
  • حضرت عمرو بن العاصؓ کو نمازِ فجر میں حملہ کرکے، عمرو بن بکر تمیمی نے، منصوبے کے مطابق قتل کرنا تھا، لیکن اس روز وہ پیٹ میں تکلیف کے باعث نمازِفجر کے لیے مسجد میں نہیں آسکے۔ انھوں نے اپنے پولیس چیف خارجہ بن ابی حبیب کو اقامت کا حکم دیا، جن کو عمرو تمیمی نے حضرت معاویہؓ کے شبہے میں قتل کردیا۔{ FR 763 }

خوارج کے اس فتنہ تکفیر کے نتیجے میں اُمت مسلمہ تقسیم ہوئی، قتل و غارت اور ناحق خوںریزی سے ہزاروں بے گناہ لوگ اپنی جان و مال سے محروم ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ خوارج کا وجود ختم ہوگیا، لیکن ان کی ’تکفیری فکر‘ آج تک ختم نہیں ہوئی۔ اسی ’تکفیری فکر‘ کی وجہ سے آج عالمِ اسلام کے کئی ممالک میں فساد اور خانہ جنگی اور ہیجان کی کیفیت برپا ہے۔ کفار و مشرکین نے مشکل وقت میں اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لیے جن مسلمان ’حریت پسندوں‘ اور ’جاں بازوں‘ کی مدد کی تھی،وقت گزرنے اور اپنا ہدف پانے کے بعد انھی کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا اور آج   ان کو ہرقسم کے ظلم و تعذیب اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ جواباً انھوں نے بھی دہشت گردی کی اس جنگ میں جارح مغربی ممالک کا ساتھ دینے والے مسلم حکمرانوں اور ان کے اداروں اور فورسز کے خلاف کھلی یا چھپی جنگ شروع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ: ’’ہم یہ مسلح جدوجہد ان لوگوں کے خلاف کر رہے ہیں،جو مختلف وجوہ کی بناپر، مرتد ہوکر دائرۂ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں‘‘۔
اس صورتِ حال میں عوام الناس ہی نہیں بلکہ تعلیم یافتہ طبقہ اور نیم خواندہ علما بھی واضح شرعی موقف کے معاملے میں پریشان فکری کا شکار ہیں۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ دین اسلام کی رہنمائی کو زیادہ واضح کیا جائے، کہ: کفر کیا ہے؟ اور تکفیر کے بنیادی اصول و ضوابط کیا ہیں؟ اور تکفیر کا حق کس کو حاصل ہے؟ انھی سوالات کا جواب اس تحریر میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مختصر طور پر ان بنیادی اصول و قواعد کو بیان کیا گیا ہے، جن کو کسی مسلمان شخص کے ایمان اور کفروارتداد کے متعلق راے قائم کرتے وقت ملحوظ رکھنا شرعاً ضروری ہے۔

تکفیر میں جلدبازی اور بـے احتیاطی کی ممانعت

اوّلین قاعدہ یہ ہے کہ کسی شخص کے کفروایمان کا فیصلہ کرنے کا اختیاربھی شارع کا حق ہے۔ کسی مسلمان کے عقیدہ، ایمان و کفر کا فیصلہ، کسی صورت میں کسی کی ذاتی خواہش، سوے ظن،    غلط فہمی، تعصب یا دشمنی کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح کسی مسلمان کی تکفیر یا اس کو مشرک، بدعتی یا فاسق و فاجر قرار دینے یا کسی کے کفر و ایمان کا فیصلہ کرنے کا حق و اختیار عوام الناس ، دین سے ناواقف لوگوں،یا میڈیا کو نہیں دیا گیا، بلکہ صرف راسخ اہلِ علم اور افتا کے منصب پر فائز افراد بھی مضبوط شرعی دلائل کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں:

  •   اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ جس شخص کو شارع اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نام کی تعیین و تحدید کے ساتھ (جیسے ابلیس و فرعون ، ابولہب)، یا کسی گروہ کا نام لے کر اجتماعی طور پر (جیسے گروہِ یہود و نصاریٰ یا مجوس وغیرہ)، یا کسی وصف و فعل کے ساتھ متصف ہونے (جیسے اللہ تعالیٰ،اس کے کسی پیغمبر، قرآن مجید، دین اسلام یا اس کے شعائر کی توہین) کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہو، اس کے کافر ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
  •  دوسری بات یہ ہے کہ کسی قول یا فعل یا تصرف کو اگر صراحت کے ساتھ شرعی نصوص میں کفر قرار دیا گیا ہو، تب بھی ضروری نہیں کہ اس کے مرتکبین دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائیں، جیساکہ امام ابوحنیفہؒ تارکِ نماز کے بارے میں یہ راے رکھتے ہیں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا، حالاں کہ احادیث میں ترکِ صلوٰۃ کو کفر قرار دیا گیا ہے۔

اُمت مسلمہ کے اسلاف میں تکفیر و تفسیق کا طریقہ نہیں تھا۔ وہ اس ضمن میں ان ارشاداتِ نبویؐ کی وجہ سے بہت احتیاط سے کام لیتے تھے، جن میں کسی کی تکفیر میں جلدبازی اور بے احتیاطی کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کئی صحابہ کرامؓ سے روایات آئی ہیں، جن میں حضرت انس بن مالکؓ{ FR 764 }  حضرت ابوذر غفاریؓ { FR 766 }حضرت ثابت بن ضحاکؓ{ FR 767 }  حضرت ابوہریرہؓ{ FR 768 }  حضرت عبداللہ بن عمرؓ { FR 769 }، حضرت ابوسعید خدریؓ شامل ہیں۔{ FR 771 }
امام ابن الوزیر صنعانی، محمد بن ابراہیم بن علی (م:۸۴۰ھ) مسلمانوں کی تکفیر سے ممانعت والی احادیث کو ’متواتر‘ قرار دیتے ہیں۔{ FR 772 }
حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ: میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا: لَا یَرْمِی رَجُلٌ  رَجُلًا  بِالْفُسُوْقِ وَلَا  یَرْمِیْہِ بِالْکُفْرِ  اِلَّا ارْتَدَّتْ  عَلَیْہِ  اِنْ یَکُنْ  صَاحِبُہُ کَذٰلِکَ { FR 773 } ’’جس شخص نے بھی کسی کو فسق و فجور اور کفر کا الزام دیا ، اگر وہ اس طرح نہ ہو تو یہ بات خود کہنے والے پر لوٹ آئے گی‘‘۔

اصولاً ، ہر انسان مسلم ، اور اس کا دین اسلام ہـے

دوسرا اہم قاعدہ یہ ہےکہ ہر انسان فطرتاً اور پیدایشی طور پر مسلمان ہے۔ اس کے جدامجد حضرت آدم ؑ، اللہ رب العالمین کے فرماں بردار مسلم تھے۔ نوعِ انسانی کی جانب، اللہ تعالیٰ کے اوّلین پیغمبر تھے۔ ان کی اولاد بھی اصلاً مسلم ہی تھی۔ بعد میں کفر وشرک اور معصیت میں مبتلا ہوکر لوگ اللہ تعالیٰ کے دین سے دُور ہوتے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا۝۰ۭ وَلَوْلَا كَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَھُمْ فِيْمَا فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ۝۱۹(یونس ۱۰:۱۹) سب انسان ایک ہی اُمت تھے، پھر ان میں اختلافات پیدا ہوئے، اور اگر تمھارے ربّ کا فیصلہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو ان لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ یہیں پر کردیا جاتا۔

حضرت آدمؑ زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث سب سے پہلے پیغمبر اور خلیفہ تھے:

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً۝۰ۭ قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِيْہَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْہَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ۝۰ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ۝۰ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۳۰(البقرہ ۲:۳۰) پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمھارے ربّ نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ’’مَیں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘۔ انھوں نے عرض کیا: ’’کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خون ریزیاں کرے گا؟ آپ کی حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں‘‘۔ فرمایا: ’’میں جانتا ہوں، جو کچھ تم نہیں جانتے‘‘۔

قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ منصب ِ خلافت الٰہی، حضرت آدم ؑ کی اولاد کو بھی حاصل ہے، چنانچہ سورئہ انعام میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ۝۰ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ۝۰ۡۖ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۱۶۵ (انعام ۶:۱۶۵، نیز ملاحظہ ہو قرآنی آیات: یونس۱۰:۱۴، النمل ۲۷: ۶۲، فاطر۳۵:۳۹) وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔ بے شک تمھارا ربّ سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔

مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ (م:۱۹۷۹ء) اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

اس آیت میں تین حقیقتیں بیان کی گئی ہیں:

ایک یہ کہ تمام انسان زمین میں خدا کے خلیفہ ہیں، اس معنی میں کہ خدا نے اپنی مملوکات میں بہت سی چیزیں ان کی امانت میں دی ہیں اور ان پر تصرف کے اختیارات بخشے ہیں۔
دوسرے یہ کہ ان خلیفوں میں مراتب کا فرق بھی خدا ہی نے رکھا ہے۔ کسی کی امانت کا دائرہ وسیع ہے اور کسی کا محدود، کسی کو زیادہ چیزوں پر تصرف کے اختیارات دیے ہیں اور کسی کو کم چیزوں پر، کسی کو زیادہ قوت کارکردگی دی ہے اور کسی کو کم، اور بعض انسان بھی بعض انسانوں کی امانت میں ہیں۔
تیسرے یہ کہ یہ سب کچھ دراصل امتحان کا سامان ہے۔ پوری زندگی ایک امتحان گاہ ہے، اور جس کو جو کچھ بھی خدا نے دیا ہے، اسی میں اس کا امتحان ہے کہ اس نے کس طرح خدا کی امانت میں تصرف کیا؟ کہاں تک امانت کی ذمہ داری کو سمجھا اور اس کا حق ادا کیا؟ اور کس حد تک اپنی قابلیت یا ناقابلیت کا ثبوت دیا؟ اسی امتحان کے نتیجے پر زندگی کے دوسرے مرحلے میں انسان کے درجے کا تعین منحصر ہے۔{ FR 774 }
اور اس خلافت ِ الٰہی سے مقصود انسان کی تکریم و اعزاز ہے جیساکہ سورئہ بنی اسرائیل میں فرمایا:  وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ (۱۷:۷۰)’’ہم نے آدم ؑ کی اولاد کو ایک تکریم و اعزاز بخشا ہے‘‘ کے علاوہ زمین کی آبادکاری و ترقی(جیساکہ سورئہ ہود ۱۱:۶۱ میں فرمایا: ہُوَاَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيْہَا ) اور اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کی تنفیذ و تعمیل ہے۔
حضرت آدم ؑ کے بارے میں قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلم اور نبی تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے علم کے ساتھ اپنی خلافت سے نوازا۔ حضرت آدم ؑ کی اولاد نے اپنے والد سے وراثت میں ایمان کے ساتھ والد کی خلافت بمعنی جانشینی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خلافت بمعنی نیابت پائی۔
ایک حدیث قدسی حضرت عیاض بن حمار مجاشعیؓ کی روایت سے بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز خطبہ دیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اِنِّیْ  خَلَقْتُ  عِبَادِی  حُنَفَاءَ  کُلَّھُمْ  ، وَ  اِنَّھُمْ أَتَتْھُمُ  الشَّیَاطِیْنُ  فَاجْتَالَتْھُمْ  عَنْ  دِیْنِھِمْ  وَحَرَّمَتْ  عَلَیْھِمْ  مَا   أَحْلَلْتُ  لَھُمْ  وَأَمَرَتْھُمْ  اَنْ یُشْرِکُوا  بِیْ  مَا لَمْ  اُنْزِلْ  بِہِ  سُلْطَانًـا { FR 784 }میں نے اپنے بندوں کو توحید پر یکسو اور مسلم پیدا کیا، اب شیاطین (جِنّ و انس) نے آکر ان کو ان کے اصل دین سے پھیر دیا، اور میرے حلال کردہ کو ان پر حرام کیا، اور ان کو میرے ساتھ ایسے شریک اور حصہ دار ٹھیرانے پر آمادہ کیا جن کے لیے مَیں کوئی سند (اتھارٹی) نازل نہیں کی تھی۔

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہربچہ اسلامی فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں، جس طرح جانور صحیح سالم عضووالا بچہ جنتا ہے، کیا تم اس میں سے کوئی عضو کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر حضرت ابوہریرہؓ نے یہ آیت آخر تک تلاوت کی: فَاَقِـمْ وَجْہَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا۝۰ۭ فِطْرَتَ اللہِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْہَا۝۰ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللہِ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ۝۰ۤۙ (الروم ۳۰:۳۰)’’پس اے قرآنِ مجید کے خطاب کو سننے والے یک سُو ہوکر اپنا رُخ اس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہوجائو اس فطرت پر، جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔{ FR 775 }
مولانا امین احسن اصلاحیؒ (م:۱۹۹۷ء) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:’ الدین‘سے مراد اللہ کا حقیقی دین اسلام ہے جس کی دعوت اس کے تمام نبیوںؑ اور رسولوں ؑ نے دی اور جس کی تکمیل نبی اُمی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہوئی۔ یہی دین اللہ تعالیٰ کا اصلی دین ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: اِنَّ الدِّیْنَ  عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ (اٰل عمرٰن ۳:۱۹)’’اصلی دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے‘‘۔ فِطْرَۃَ اللہِ  الَّتِیْ  فَطَرَ النَّاسَ  عَلَیْھَا (الروم ۳۰:۳۰)یعنی ’’ہر طرف سے کٹ کر اس دین فطرت کی پیروی کرو، جس پر فاطر فطرت نے لوگوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔ یہ اس الدین کی صحت و صداقت کی دلیل بیان ہوئی ہے جس کی طرف یکسو ہونے کی اُوپر والے ٹکڑے میں ہدایت فرمائی گئی ہے، کہ یہ دین کوئی خارج کی چیز نہیں ہے جو تم پر اُوپر سے لادی جارہی ہو، بلکہ یہ عین تمھاری فطرت کا بروز اور تمھارے اپنے باطن کا خزانہ ہے، جو تمھارے دامن میں ڈالا جارہا ہے۔
اس سے واضح ہوا کہ جو فلسفی یہ کہتے ہیں کہ:انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک صفحہ سادہ اور تمام تر اپنے ماحول کی پیداوار اور الف و عادت کی مخلوق ہے، ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہترین ساخت اور بہترین فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اس کو خیروشر اور حق و باطل کی معرفت عطا فرمائی ہے اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کا جذبہ بھی اس کے اندر ودیعت فرمایا ہے، لیکن اس کی یہ فطرت حیوانات کی جبلت کی طرح نہیں ہے کہ وہ اس سے انحراف نہ اختیار کرسکے بلکہ وہ اپنے اندر اختیار بھی رکھتا ہے، اس وجہ سے بسااوقات وہ اس دنیا کی محبت اور اپنی خواہشوں کی پیروی میں اس طرح اندھا ہوجاتا ہے کہ حق و باطل کا شعور رکھتے ہوئے نہ صرف باطل کی پیروی کرتا ہے بلکہ باطل کی حمایت میں فلسفے بھی ایجاد کرڈالتا ہے۔{ FR 776 }

دین و ایمان کی حفاظت شریعت کا اوّلین  مقصد

اسلامی شریعت کو انسان کا دین و عقیدہ بہت عزیز ہے۔ اسی کی بنیاد پر اس کا حساب کتاب ہوگا۔ اسی لیے ایمان اور عقیدے کی حفاظت کو مقصود قرار دے کر بے شمار نصوص میں اس کی تاکید آئی ہے اور مقاصد ِ شریعت میں اس کو اوّلیت اور سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے، گویا سب سے پہلے دین و ایمان ہے کہ: جس کی خاطر انسان کی جان، مال، عقل اور عزت و آبرو بھی قربان۔ 
دین و ایمان کی طرف دعوت کی خاطر انبیاے کرام ؑ کو مبعوث فرمایا:

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۚ وَالرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِيْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝۸ (الحدید ۵۷:۸)تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسولؐ تمھیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کفار و مشرکین کی ہدایت اور ایمان لانے کو بہت اہمیت دیتے، اور ہرممکن کوشش کرتے تھے، حتیٰ کہ اس بارے میں فکروسوچ اور محنت سے اپنے آپ کو گھلائے دے رہے تھے کہ ربِ کریم نے خود اس فکرمندی کو اپنی کتاب میں ثبت فرما دیا:

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا۝۶ (الکہف ۱۸:۶) اے پیغمبرؐ! اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم ان کے پیچھے رنج و فکر کرکر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے؟

اور دین و ایمان کی دعوت تو انبیاء کرام، اولیا اور صلحاے اُمت کا طریقہ اور نقش قدم ہے:

قُلْ ہٰذِہٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللہِ۝۰ۣؔ عَلٰي بَصِيْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ۝۰ۭ وَسُبْحٰنَ اللہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝۱۰۸ (یوسف۱۲:۱۰۸) کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے کہ مَیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں (ازروئے یقین و بُرہان) سمجھ بوجھ کر۔ میں بھی (لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور اللہ پاک ہے اور مَیں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

ان سب آیات و احادیث سے ثابت ہوا کہ ہرنومولود بچہ جو کسی انسان کے ہاں پیدا ہوا، اور بالخصوص اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والا ہر بچہ شریعت کی نظر میں فطرتاً مسلم ہے۔ جب ہرانسانی نومولود کا ایمان و اسلام یقینی طور پر ثابت ہوگیا تو اب ہم کہتے ہیں کہ شرعی قاعدہ یہ ہے:

ایمان کا یقین  ، کفر و ارتداد کے شک سے ختم نہیں ہوسکتا

فقہ کے مشہور پانچ بنیادی اور کُلی قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ ہے کہ: الْیَقِیْنُ لَا یَزُوْلُ بِالشَّکِ ، جس کا مفہوم یہ ہےکہ جب کوئی معاملہ یقینی طور پر منفی یا مثبت طور پر معلوم ہوجائے تو بعد میں آنے والے کسی بھی شک و تردّد سے وہ یقین ختم نہیں ہوگا۔{ FR 777 }
یہ قاعدہ فقہی مسائل (فقہ اصغر) کے علاوہ ایمانی و کلامی مسائل (فقہ اکبر) کو بھی محیط ہے۔ بالخصوص ہر وہ مسئلہ کہ جس میں شک و یقین کی دونوں جہتیں پائی جائیں تو شک کو چھوڑ کر یقین والی جہت کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ الشَّکُ  اَضْعَفُ  مِنَ الْیَقِیْنِ  فَلَا  یُعَارِضُہُ  ثُبُوْتًا  وَّعَدَمًا { FR 778 }  ’’شک یقین سے بہرحال کمزور ہے، اس لیے ثبوت و عدم ثبوت دونوں میں اس کے مقابلے میں نہیں آسکتا‘‘۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا ہے: اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ۝۰ۚ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا۝۲۸ۚ (النجم۵۳:۲۸)’’یہ لوگ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا‘‘۔
اس آیت میں یقینی طور پر ثابت شدہ چیز یعنی ’حق‘ کو چھوڑ کر، ظن و تخمین کے پیچھے چلنے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ چوں کہ تکفیر کے نتیجے میں متاثر شخص کی زندگی ہی نہیں بلکہ اس کے خاندان اور معاشرے پر بہت ہی دُور رس اثرات اور بڑے پیمانے پر نتائج مترتب ہوتے ہیں، اس لیے صرف شک و شبہہ یا ظن کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر درست نہیں۔ شریعت نے ادنیٰ شبہے کی بنیاد پر حدود کی سزائوں کو ساقط کر دیا، حالاں کہ حدود کی تنفیذ کے نتیجے میں انسان کی جان جاتی ہے، جب کہ کسی بھی شخص کا ایمان، اس کی زندگی اور جان کے مقابلے میں زیادہ قیمتی، مقدم اور افضل واولیٰ ہے۔ اس لیے محض شکوک و شبہات کی وجہ سے کسی مسلمان کی تکفیر کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
اسی قاعدہ کا ایک ذیلی قاعدہ یہ ہے: مَا ثَبَتَ  بِیَقِیْنٍ  لَا یَرْتَفْعُ   اِلَّا بِیَقِیْنٍ { FR 779 } ’’جو بات یقینی طور پر ثابت ہو، وہ صرف یقین سے ہی ختم ہوسکتی ہے‘‘۔
اس لیے جس شخص کا مسلمان ہونا یقین کے ساتھ ثابت ہو، اس پر کفروارتداد کا حکم لگانے کے لیے یقینی اور پختہ دلیل کی ضرورت ہوگی۔ اسی لیے محقق اہلِ علم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ: ’’کسی کے کفروارتداد کے سو میں سے ننانوے احتمالات موجود ہوں، تب بھی شرعی نصوص کا تقاضا   یہ ہےکہ صرف ایک احتمال کو ترجیح دے کر اس کو مسلمان شمار کیا جائے‘‘۔

۵- ظاہر حالت سے قطع نظر ، پوشیدہ ایمانِ قلب مقبول ہے

شریعت کی نظر میں کسی بھی شخص کا ایمان و اسلام بہت اہم ، مطلوب و مقصود اور مقبول ہے ، خواہ وہ دل میں پوشیدہ ہی کیوں نہ ہو، جس پر کوئی انسان مطلع نہیں ہوسکتا۔ اس کی واضح دلیل حضرت عمار یاسرؓ کا واقعہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ذکر فرمایا:

مَنْ كَفَرَ بِاللہِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْہِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللہِ۝۰ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝۱۰۶ (النحل ۱۶:۱۰۶) جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اُس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس چیز نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کرلیا اُس پر اللہ کا عذاب ہے۔

 حضرت عمارؓ بیان فرماتے ہیں کہ: وہ مشرکین کے ہتھے چڑھ گئے اور اس وقت تک انھیں نہیں چھوڑا گیا، جب تک انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا بھلا کہہ کر ان کے باطل معبودوں کی تعریف نہیں کردی۔ جب نرغے سے نکل پائے تو روتے ہوئے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے، تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمارؓ! کیا بات ہے؟ آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مشرکوں نے پکڑ لیا تھا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے آپ کی شان میں گستاخانہ کلمات نہیں کہہ دیے اور ان کے جھوٹے معبودوں کا ذکر خیر نہیں کر دیا۔ تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کہو، دل کی کیفیت کیا ہے؟ تو عرض کیا: دل ایمان پر مطمئن ہے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اگردوبارہ ایسی حالت میں گرفتار ہوجائو تو اسی طرح کرو۔{ FR 780 }
اس کی دوسری مثال شدت مسرت و فرحت میں، بغیر قصدو ارادے کے، کلماتِ کفر کا زبان پر جاری ہوجانا ہے، جیسے حضرات انس بن مالک، عبداللہ بن مسعود، نعمان بن بشیر، براء بن عازب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَـلّٰہُ  اَشَدُّ  فَرَحًا  بِتَوْبَۃِ  عَبْدِہِ  حِیْنَ  یَتُوبُ  اِلَیْہِ  مِنْ  اَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ بِاَرْضِ  فَلَاۃٍ  فَانْفَلَتَتْ  مِنْہُ  وَعَلَیْھَا  طَعَامُہُ  وَشَرَابُہُ  فَأَیِسَ  مِنْھَا  فَأَتَی شَجَرَۃً  فَاضْطَجَعَ  فِی ظِلِّھَا  قَدْ  أَیِسَ  مِنْ  رَاحِلَتِہِ  فَبَیْنَا  ھُوَ  کَذٰلِکَ  اِذَا  ھُوَا  بِھَا قَائِمَۃً  عِنْدَہُ  فَأَخَذَ  بِخِطَامِھَا  ثُمَّ  قَالَ  مِنْ شِدَّۃِ  الْفَرَحِ  : اَللّٰھُمَّ  اَنْتَ  عَبْدِی  وَاَنَا  رَبُّکَ   أَخْطَأَ  مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ { FR 781 }

حضرت حارث بن سویدؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوا ۔ وہ بیمار تھے تو انھوں نے ہمیں دو حدیثیں بیان کیں۔ انھوں نے کہا: میں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتا ہے، جو ایک سنسان اور ہلاکت خیز میدان میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، جس پر اس کا کھانا پینا ہو، پھر وہ سو جائے، [لیکن] جب بیدار ہو تو دیکھے کہ اس کی سواری جاچکی ہے۔ وہ اس کی تلاش میں نکلے ،یہاں تک کہ اسے سخت پیاس لگے۔ پھر وہ کہے: میں اپنی جگہ پر سوجائوں یہاں تک کہ مرجائوں، پس اس نے اپنے سر کو اپنی کلائی پرمرنے کے لیے رکھا [لیکن جب]پھر بیدار ہوا تواس کی سواری اس کے پاس ہی کھڑی ہو اور اس پر اس کا زادِراہ اورکھانا پینا ہو۔ پھر زیادہ خوشی کی وجہ سے وہ یہ غلط کلمات کہہ دے: ’’اے اللہ! تو میرا بندہ اور مَیں تیرا رب ہوں‘‘ تو اللہ تعالیٰ مومن بندے کی توبہ پر اس آدمی کی سواری اور زادِ راہ ملنے کی خوشی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص ایسے کفریہ کلمات دہشت، ذہول و نسیان کی کیفیت میں، یا کسی علمی یا شرعی فائدے کی خاطر ذکر کرے تو اس پر کوئی گرفت نہیں۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس شخص کے کلمات کا ذکر کیا۔{ FR 782 }
توہینِ رسالت کے حوالے سے ظاہر حال کو ترک کرکے، دلی کیفیت اور قلبی نیت کو قبول کرنے کی ایک واضح مثال حضرت موسٰی کا قصہ ہے، جس کو خود قرآنِ مجید نے نقل کیا ہے: 
اور موسٰی جب غصے اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ آتے ہی انھوں نے کہا: ’’بہت بُری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کرلیتے؟‘‘ اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون ؑ) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ ہارون ؑ نے کہا: ’’اے میری ماں کے بیٹے! اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مارڈالتے، پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر۔ تب موسٰی نے کہا: اے ربّ، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے‘‘۔(الاعراف ۷:۱۵۰، ۱۵۱) …[پھر فرمایا:] ’’پھر جب موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اُٹھا لیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے، جو اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں‘‘۔(الاعراف ۷:۱۵۴)
دونوں آیات سے معلوم ہوا کہ: lموسٰی نے کوہِ طور سے ملنے والی، اللہ کے کلام کی اَلواح [تختیوں] کو نیچے پھینک دیا۔ وہ مقدس اَلواح گرنے کے بعد ٹوٹ گئیں۔ اس واقعہ کی تفصیل حدیث میں آئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:

قَالَ رَسُوْلُ اللہِ : لَیْسَ  الْخَبَرُ کَالْمُعَایَنَۃِ  ، اِنَّ اللہَ  عَزَّوَجَلَّ  أَخْبَرَ  مُوسٰی  بِمَا  صَنَعَ  قَوْمُہُ  فِی الْعِجْلِ  ، فَلَمْ یُلْقِ  الْالْوَاحَ  ، فَلَمَّا  عَایَنَ  مَا صَنَعُوا  ، أَلْقَی  الْالْوَاحَ  فَانْکَسَرتْ { FR 783 }

  • اپنے بڑے بھائی کی داڑھی اور سر کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور اپنی طرف کھینچا۔ 
  • اللہ تعالیٰ کے نبی ہارون ؑ کی داڑھی اور سر کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور اپنی طرف کھینچ کر ان کو اذیت پہنچائی۔ یہ تینوں باتیں نہ صرف یہ کہ گناہ ہیں بلکہ ان کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اس کے باوجود حضرت موسٰی کا ذکرِ خیر ہی کیا ہے، اور کہیں ان باتوں کی وجہ سے ان پر نکیر یا ناراضی کا اظہار نہیں کیا۔ اگرچہ یہ ساری باتیں، توہین مقدسات میں شمار ہوتی ہیں اور انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کرتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی پر کوئی ناراضی یا نکیر ذکر نہیں فرمائی۔ (جاری)