جوزیف مسعد


زیرنظر مطالعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغربی فکر و عالمی اداراتی یلغار، مسلم اورعرب دنیا کی کن خطوط پر نقشہ گری کرنا چاہتی ہے۔ان معلومات کا مقصد معاشرتی تخریب پر نظر رکھنا اور تعمیروتہذیب کو فروغ دینے کے لیے فرضِ منصبی ادا کرنا ہے۔ یہ مقالہ ڈیوک یونی ورسٹی کے تحقیقی مجلّے Public Culture میں شائع ہوا ہے۔ ادارہ

ہم جنسیت زدوں کی کوکھ سے کوئی جنم لے یا نہ لے ،لیکن پچھلے دو عشروں میں ان کی تحریک سے جن اہم مباحث اور سماجی معرکوں نے جنم لیا ہے، وہ ہے ’ہم جنسیت زدگان کے حقوق‘ کے لیے بلند آہنگ۔ اس تحریک اور پروجیکٹ نے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ’امریکی حقوق انسانی کے نعروں‘ کو خاص طور پر استعمال کیا ہے۔پھر سفید فام مغربی خواتین کی تحریک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ایسا مشنری کردار اپنایا اور ایسی صورتِ حال پیدا کر دی، جس سے دنیا بھر میں متضاد خیالات پر بحث مباحثے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

سفید فام مغربی خواتین کی تحریک نے جوں ہی غیر مغربی دنیا کی خواتین کی تحریکوں پر اپنا ’نو آبادیاتی نسائیت‘ (Colonial Feminism) پر مبنی نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کا آغاز کیا ، تو اپنے اہداف و مطالبات کو عالم گیر بنانے کے لیے یہی حربے استعمال کیے تھے۔اس سلسلے میں سفید فام مردوں کی تنظیمیں مثلاً ’ہم جنس زدہ مردوزن کی عالمی تنظیم‘ ،’الگا‘(International Lesbian and Gay Association ILGA)، ہم جنس پسند مردوزن کے شہری حقوق کا کمیشن ’اگلہرچ‘ (International Gay and Lesbian Human Rights Commission) بھی ان تحریکوں سے پیچھے نہیں ہے، اور ’ہم جنسی حقوق‘ کی وکالت کے لیے ہر جگہ موجود ہیں۔

تنظیم’الگا‘ ، ۱۹۷۸ء میں، امریکی صدر جمی کارٹر کےدورِحکومت میں قائم کی گئی تھی، تاکہ اشتراکی ریاستوں اور تیسری دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزوں کا ڈھنڈورا پیٹا جا سکے۔   اس تنظیم کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ’ہم جنس زدہ مردوں، عورتوں، اور خواجہ سراؤں‘ کی شناخت اور آزادی کے لیے، کانفرنسوں کے ذریعے پرچار اور تحفظ کرنا ہے۔

جہاں تک ’اگلہرچ‘ کا تعلق ہے، اس کا قیام ۱۹۹۱ء میں عمل میں آیا، اور اس کا مشن ’جنسی رجحان، صنفی شناخت، اور ’ایڈز‘ کی بنیاد پر پائے جانے والے تعصب اور بدسلوکی کے رجحانات کو کنٹرول کرنا اور اس حوالے سے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

پس، یہ ادارے، تنظیمیں اور ان کے اہداف، منصوبے اور لائحہ عمل اور موقف سب مل کر ایک ایسے خیالی اور موہوم انسانی گروہ کو حقیقت کا رنگ دے کر پیش کرتے ہیں، جسے ان کی زبان میں ’عالمی ہم جنس تحریک‘ (Gay International ) کہا جا تاہے۔

امریکی سرزمین پر انسانی حقوق کے بڑے ادارے( ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل)، اور بہت سی سفید فام مغربی حقوق نسواں کی تنظیموں، اور عالمی ہم جنس پسندوں نے اپنے اس موقف اور ایجنڈے کی وکالت کے لیے مسلم دنیا میں ایک خاص مقام اور جگہ کا حصول طے کر رکھا ہے، جو اپنی اصل میں ’مستشرقین‘ کا تسلسل ہے۔ اس کے لیے امریکا اور یورپ میں مقیم، مسلم دنیا کے پڑھے لکھے اذہان کو چُنا جا رہا ہے، تاکہ وہ مغرب میں مقیم مسلمانوں کو خاص طور پر اور غیر مغرب میں مقیم مسلمانوں کو عام طور پر ’انسانی حقوق کے جدیدفلسفے‘ کی تعلیم و تفہیم کراسکیں۔

اس سارے عمل میں ’عالمی ہم جنس تحریک‘ قدرے دیر سے شامل ہوئی۔ اس لیے دوسری تنظیموں کے قدم کے ساتھ قدم ملانے کے لیے اس تنظیم کے مشنری کاموں کے حامیوں نے مسلم دنیا کو متاثر کرنے کے لیے دوطرح کا لٹریچر تیار کیا ہے۔ ایک تو امریکن یا یورپین سفید فام ہم جنس پسند مرد دانش وروں (Gay Scholars) کا لکھا ہوا ہے، جو زیادہ تر نصابی، تاریخی، ادبی اور  سماجی نظریات پر مشتمل فکری لوازمہ ہے۔ یہ گروہ عرب اور مسلم دنیا کے ماضی اور حال میں ’ہم جنس پسندی‘ کے واقعات اور مثالیں تلاش کرکے لاتا ہے۔ مسلم دنیا کے موجود ہم جنس پسندوں کی زندگی کے احوال صحافتی رپورٹوں اور تحقیق کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے، اور پھر ہم جنس پسندی کو مزید آگے بڑھانے کی تاکید بھی کسی نہ کسی انداز سے کی جاتی ہے۔ اس لٹریچر کا ایک اور مقصد مغرب کے ہم جنسیت پسند سفید فام سیاحوں کو اس امر سے آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ مسلم اور عرب دنیا میں سیر کے دوران کہاں کہاں انھیں یہ ذرائع اور مواقع دستیاب ہیں۔

مسلم دنیا کے حوالے سے اس تنظیم کا ایک اور مشن یہ بھی ہے کہ عرب ا ور مسلم دنیا میں ’مرد و زن ہم جنسیت پسندوں‘ کی الگ شناخت اور حیثیت کو تسلیم کروایا جائے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ الگ شناخت تسلیم نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حقوق محفوظ نہیں ہیں اور وہ جبر کا شکار ہیں، نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو مرد یا عورت ظاہر کرنا پڑتا ہے___ حالانکہ یہ اپنے آپ کو ان دونوں مسلّمہ اصناف سے الگ رکھتے ہوئے ایک تیسری صنف کے طور پر رہنا چاہتے ہیں۔ ILGA کی شریک سیکرٹری لزاپاور کا کہنا ہے کہ ’’بیش تر مسلم ممالک کی ثقافتیں ہم جنس زدگان کے منظم گروہوں کو سماجی اور قانونی طور پر تسلیم نہیں کرتیں، اس لیے یہاں ہم جنسیت پسندوں کے منظم ہونے سے یہ لوگ بہت گھبراتے ہیں ،حالانکہ ان ممالک کی ثقافتوں میں مردانہ ہم جنس پسندی کی جڑیں بہت گہری ہیں‘‘۔

’نیشنل گے اینڈ لیزبین ٹاسک فورس‘ (NGLTF)کے انفارمیشن ڈائریکٹر اور تنظیم ’الگا‘ (ILGA ) کے ایک افسر رابرٹ بَرے کے مطابق: ’’ثقافتی اختلافات، لوگوں میں ہم جنس زدگی کے مختلف تعارفوں اور اقسام کی وجہ بنتے ہیں، لیکن اصل سوال تو جنسی آزادی کا ہے اور جنسی آزادی وہ منہ زور جذبہ ہے، جو فتی بندشوں سے بالاتر ہے‘‘۔ مراکش اور جنوبی اسپین میں، ہم جنس پروری کے حوالے سے موصوف نے لکھا ہے کہ ’’کم سے کم ایک لڑکے نے ہم جنس پسندی کی کھلے عام خواہش کا اظہار کیا تھا اور کسی متعین جنس (مرد، عورت) کے زمرے میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ مجھ جیسے اور لوگ بھی یہی چاہتے ہیں‘‘۔ اس طرح ایک فرد کی گفتگو پر انحصار کرتے ہوئے رابرٹ بَرے نے ایک قطرے میں دجلہ دیکھتے ہوئے اعلان کیاکہ ’’یہ آرزو آفاقی اور عالمی ہے‘‘۔

ہم جنس پسندوں کو الگ شناخت دلانے کے، ’عالمی ہم جنس پسندوں‘ کے دعوؤں کے برعکس میری راے یہ ہے کہ دراصل ہم جنس پسند مردوزن کے پروپیگنڈا لٹریچر کی پیداوار ہیں کیونکہ جہاں جہاں اس موقف یا ان تنظیموں کا وجود نہیں ہے، وہاں ایسے لوگوں کا نہ ہونے کے برابر وجود بھی  عام مردم شماری میں ضم رہتا ہے۔ ہم یہ بتائیں گے کہ کس طرح یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ باور کرانا پیش نظر ہے کہ ہم جنس پسند مردوزن، جو دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں، انھیں بطور  ’ہم جنس پسند‘ الگ صنف کے تمام حقوق ملنے چاہییں، اور دوسری اصناف کے برابر عزت نفس ملنی چاہیے۔تاہم، اس حوالے سے ’ہم جنسوں کی عالمی تنظیم‘ کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد کا اثر مسلم ممالک میں ویسا اثرانگیز نہیں ہے، جیساکہ ’آزادی کی جدوجہد‘ کے دوران تھا۔

ہم جنس پسندوں کی عالمی تنظیم نے ۱۹۹۴ء میں اسٹون وال بغاوت کی بیسویں برسی کے موقع پر ، اپنی ایک تنظیم ’الگا‘ کے توسط سے ایک نئی جارحانہ عالم گیر مہم کا آغاز کیا ۔۱۹۹۳ء میں ’الگا‘ کو اقوام متحدہ میں ’سرکاری این جی او کا درجہ ملنے کے بعد (جو بعد میں واپس لے لیا گیا) اس کی بین الاقوامی سرگرمیوں میں شدت آگئی، جن میں ’ایران میں ہم جنس پسندوں کو لگنے والی پھانسیوں‘ کو روکنے کی مہم بھی شامل تھی۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے سامنے ’ہم جنس پسندوں‘ کے حقوق کے لیے مارچ کا انعقاد، ۱۹۹۹ءکے سال کو ’ہم جنس پسندوں کا سال‘ کے طور پر منانے کا مطالبہ اور ’انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ‘ کا ہم جنس پسندوںپر اطلاق کا مطالبہ بھی اس مہم میں شامل تھا۔

عرب دنیا اور ایران میں ’ہم جنسیت‘ پر تحقیقی مقالے کا مصنف ریکس ووکنر، اس وقت حیرت کے مارے سر پکڑ کر بیٹھ گیا، جب اسے معلوم ہوا کہ ایرانی اور عرب نسل کے بدن فروش مرد، اپنی صنف اور مخالف صنف سے جنسی تعلقات رکھنے میں تو کوئی عار محسوس نہیں کرتے، لیکن انھوں نے مغربی ہم جنس پسندوں کی طرح پر الگ شناخت سے بالکل انکار کر دیا۔   ریکس ووکنر شدید حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات میں تلملا کر کہتا ہے کہ ’’یہ منافقت ہے یا کوئی الگ دنیا کا معاملہ ہے کہ چار پیسے کمانے کے لیے تو ہم جنسی پر راضی ہوجانے والے یہ مرد بھی اندر سے پکے مرد کے بچے ہیں، جو روزگار کی خاطر ہم جنسیت پر تیار ہیں، لیکن اپنی شناخت بدلنے کو قطعاً تیار نہیں۔ کیا انسان فطری طور پر ہی ہر دو جنسوں کی طرف مائل ہوتا ہے یا یہ چکّر چلانا صرف ایرانی اور عرب مردوں کو آتا ہے اور مغرب کے لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں؟‘‘

 عرب اور مسلم دنیا کے ایسے مردوں کی جنسی کج روی میں پائے جانے والے اس بنیادی فرق سے ہم جنسیت پسندوں کی عالمی تنظیم کوسخت تشویش لاحق ہے۔ کیونکہ مغرب میں پائے جانے والے کثیر الجہتی اور کثیر الاشکال ہم جنس پسند ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کو تیار ہیں، لیکن عرب اور مسلم دنیا میں پائے جانے والے ایسے مرد و زن اس فعلِ بد کے لیے تیار ہونے کے باوجود ان کے جھنڈے تلے ایک عالمی ریوڑ کی شناخت اپنانے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لیے ہم جنس پسندوں کے عالمی مشن کا مطالبہ ہے کہ عرب اور مسلم دنیا میں پائی جانےوالے اس مزاحمتی کردار کو کسی نہ کسی طرح تعلیم و تربیت سے مغربیایا جائے اور روشن خیالی کی طرف مائل کرتے ہوئے استشراقِ نو کی خواہش کے مطابق ڈھالا جائے۔

مسلم دنیا اور عرب دنیا میں ہم جنسیت کے فروغ کے پیچھے وہ مالی مفادات بھی کارفرما ہیں، جو مغربی ہم جنسیت پسندوں کو یہ امور سرانجام دینے کے لیے ملتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک محقق جیفری ویکس کا کہنا ہے کہ ان وظائف کا حق دار بننے کے لیے ’’اب بہت سے مغربی ہم جنسیت پسندوں نے، ایک عرصے سے مسلم دنیا کا سفر و سیاحت اس توقع کے ساتھ شروع کر رکھا ہے کہ وہ یہاں بھی ’جنس کدوں‘ کو تلاش کر سکیں‘‘۔

جیفری ویکس نے مسلم دنیا میں آنے والی حالیہ تبدیلیوں کا گہرا مطالعہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ ثقافت سیکولر مغربی ماڈل کو اپنائے گی یا تیزی سے مذہبی عسکریت پسندی کے زیراثر آجائے گی؟‘‘۔ ایک محقق ایوریٹ روسن اور ایڈورڈ لاسی عربوں کے نویں صدی سے گیارھویں صدی کے درمیان لکھے لٹریچر کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ ’’اسلام مجموعی طور پر دیگر الہامی مذاہب کی نسبت زیادہ روادار، زیادہ آزادیاں دینے والا ،زیادہ اجازتیں اور زیادہ معاف کرنے والا مذہب ہے‘‘۔

لبنانی نژاد امریکی ابو خلیل عربی کتابوں سے ہم جنس پسندوں کے بارے میں اشعار اور قصّے کہانیاں کو پیش کرتا ہے، جن کا اسلامی تہذیب سے دُور دُور کا بھی واسطہ نہیں۔

مغرب میں عام طور پر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ دانستہ طور پر اسلامی تہذیب سے غلط سیاق و سباق کی مثالیں نکال کر من مانی تشریحات پیش کرتے ہیں۔ مثلاً قرون وسطیٰ میں جب مغرب میں غلاموں اور خواجہ سراؤں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا اور اس وقت بعض غلام اور خواجہ سرا، مسلم ممالک میں رُتبوں پر فائز تھے۔ اس مثال کو ہم جنس پسندی کی دلیل کے طور پر پیش کرنا کہاں کی علمی دیانت ہے اور انصاف ہے۔

عرب اور مسلم دنیا میں ’جدیدیت‘ یورپی سامراجیت کے ان معاشروں پر سیاسی غلبے سے شروع ہوئی۔ نوآبادیات میں بسنے والے بھولے اور سیدھے سادے مسلمانوں نے مانع حمل اور اسقاطِ حمل کی مصنوعات اور تشہیر کو بہت عمومی انداز میں تصور کیا ۔انیسویں صدی کے وسط میں  فقہ اسلامی کے کچھ مکاتب فکر نے، اسقاط حمل (اور بعدازاں خاندانی منصوبہ بندی) کے حوالے سے تقریباً وہی موقف اپنایا جو مغرب میں جڑپکڑ رہا تھا۔

اگرچہ عرب دنیا میں نوآبادیاتی تسلط نے، پھر ماضی قریب میں عرب ممالک اور مغربی حکومتوں کے درمیان من مانی شرائط پر قائم تعلقات نے، عرب دنیا کی روزمرہ زندگی کے بیش تر تہذیبی اور ثقافتی پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ مغرب میں پائی جانے والی جنسی آزاد روی سے متاثر ہوکر سفیدفام عورتوں کے اسیر بننے والوں میں ابھی تک عربوں کے صرف امیر طبقات شامل ہیں۔ ہم جنسیت پسندوں کی عالمی تنظیم نے ان دولت مند طبقات کے اندر اپنے بہت سے ہم پیالہ اور  ہم نوالہ دلال تلاش کر لیے ہیں، جن میں سے ایک چھوٹی سی اقلیت ان امیر زادوں کی ہے جو ہم جنس تعلقات میں بھی مشغول ہیں۔تاہم وہ نہ تو ہم جنس پسندانہ شناخت کے متمنی ہیں اور نہ اس مسئلے پر ہم جنس پسندوں کے لیے کسی قسم کے مطالبات کے خواہاں ہیں۔ یہی بات ’ہم جنس پسندوں کی عالمی تنظیم‘ کے لیے تشویش کا باعث ہے کہ وہ اپنے لٹریچر میں جس دجلہ کو مسلسل دکھا رہے ہیں، اس کا نشان قاہرہ اور بیروت جیسے میٹرو پولیٹن شہروں کے اندر موجود ہم جنسیت پسندوں کے چھوٹے موٹے گروہوں کے اندر بھی کہیں نمایاں ہوتا نظر نہیں آتا۔

واشنگٹن ،ڈی سی میں کچھ عربوں نے ایک تنظیم ضرور بنا دی ہے، جس کا نام ہے: ’گے اینڈلزبین عریبک سوسائٹی‘ (GLAS: ’گلاس‘) ۔ تاکہ عرب دنیا میں ہم جنسیت کو مقبول بنانے کی خواہش اور شناخت کو کسی نہ کسی شکل میں ضرور دکھایا جا سکے۔ اس کے بانی اور ڈائریکٹر رمزی زکریا کے مطابق: ’’عرب دنیا میں کسی ہم جنس کے ساتھ تعلقات کا مطلب: ’ہم جنسیت کا فروغ‘ نہیں لیا جاتا بلکہ اس کا مطلب محض اپنے ہم جنس سے عارضی جنسی تعلقات لیا جاتا ہے۔ یہ سرگرمی ہم جنس پسندی اس وقت کہلا تی ہے جب یہ تعلقات اس سے آگے بڑھ کر محبت وغیرہ میں تبدیل ہو جائیں، اور وہ ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہوں‘‘۔’گلاس‘ کو اُمید ہے کہ عرب دنیا میں آنے والی تبدیلی وہی رُخ اختیار کرے گی، جو اس ضمن میں یورپ اور امریکا میں روزافزوں ہے۔ اس لیے عرب ہم جنس زدگان کی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ’’اگرچہ عرب مرد ہم جنس پسندی کی واضح شناخت کے متمنی نہیں ہیں، لیکن کسی نہ کسی شکل میں اس خواہش کا اظہار تو ہو رہا ہے۔ اس لیے ’گلاس‘ ان کی نمایندگی کا دعویٰ رکھتی ہے‘‘۔

ہم جنسیت پسندوں کی عالمی تنظیم کو ،عالمی سطح پر دو اور حوالوں سے تعاون حاصل ہے: پہلا یہ کہ ’دنیا بھر میں ایڈز کے پھیلاؤ کا مسئلہ‘ اور دوسرا عرب اور مسلم دنیا میں ریڈیکل اسلامک عناصر کے پھیلاؤ کا مسئلہ۔ ایڈز کے مرض کو عام طور پر چونکہ ہم جنسیت سے جوڑا جاتا ہے اس لیے مذکورہ عالمی تنظیم اس مسئلے کو اپنے حق میں استعمال کرتی، اور مغربی سیاسی و سماجی اداروں کی حمایت حاصل کرتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے بیس برسوں میں مغرب میں عرب اور مسلم دنیا میں ریڈیکل تنظیموں کے حوالے سے ، اس قدر خوف پھیلایا گیا ہے کہ عام لوگ اس کی روک تھام کے کسی بھی قدم کی حمایت کو تیار ہوجاتے ہیں اور یوں ہم جنس زدگان کی عالمی تنظیم مغرب میں یہ تاثر دیتی آرہی ہے کہ وہ کم از کم عرب امیر زادوں کو ’اس راستے‘ پر ڈال کر عرب دنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ روک رہی ہے۔

امریکا میں مقیم ایک پاکستانی فیصل عالم ’ہم جنس زدہ ٹاسک فورس‘ کا ایک اہم کارندہ ہے۔ اس نے ۱۹۹۷ء میں ’الفاتحہ فاؤنڈیشن‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جو مسلمان ’ہم جنس پسندوں‘ کی ’نمایندگی‘ کی دعوے دار ہے۔ موصوف کے بقول: ’’ہم جنسیت پسندی کے معاملات پر پیش رفت میں’اسلام’، ’عیسائیت‘ سے دو سو سال پیچھے ہے‘‘۔ یہ کوئی حیرت ناک بیان نہیں ہے کیونکہ ہم جنسیت پسندی کے فروغ پر مسلمانوں کی نمایندگی کا دعویٰ کرنا اس وقت مغرب میں ایک بڑا منافع بخش کاروبار ہے۔ ایسی بیان بازی کے بعد راتوں رات جس قسم کی مراعات اور سہولتیں میسر آجاتی ہیں، وہ عام حالات میں حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔

مراکش کے ایک ماہرسماجیات خالد دورن نے اور ہی سمت تبصرہ لڑھکا دیا ہے کہ ’’اس طرح کے لوگوں (ہم جنس پسندوں) کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے یہ بات پھیلائی جاتی ہے کہ مسلمان بڑے روادار ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے مراکش ہم جنس پسندوں کے کھیل کا میدان  بن چکا ہے، لیکن روایتی مذہبی حلقے ان غیر ملکی سیاحوں کے ہاتھوں بڑھتی ہوئی مردانہ جسم فروشی پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں‘‘۔ پھر چونکہ گورے ایک عرصے تک افریقی ممالک پر قابض رہے اور افریقی عوام ان کے لیے سخت نفرت کے جذبات رکھتے ہیں، اس لیے جب کسی افریقی مرد کو کوئی  گورا پیشکش کرتا ہے تو وہ فوراً تیار ہوجاتا ہے تاکہ ماضی کی زیادتوں کا بدلہ لے اور ساتھ ہی معقول معاوضہ بھی حاصل کرے‘‘۔ ابو خلیل کا خیال ہے کہ عرب اور مسلم دنیا میں پائی جانے والی ہم جنس پسندی کی نوعیت مغرب سے بالکل الگ نوعیت کی ہے‘‘۔

۱۹۹۴ء میں قاہرہ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’آبادی اور ترقی‘ سے متعلق ہونے والی کانفرنس‘اور۱۹۹۵ء میں بیجنگ میں ہونے والی ’خواتین کی عالمی کانفرنس‘ میں ہم جنسیت پسندوں کی عالمی تنظیم کے ایجنڈے کو زبردستی فروغ دیا گیا اور بہت سے عرب کالم نگاروں نے بھی اس پر بڑھ چڑھ کر لکھا۔ تاہم، ۲۰۰۰ء کے عشرے میں، مصری حکام نے قاہرہ کے ان اڈوں کو توڑنا شروع کردیا ہے، جہاں مصری ہم جنس پسند اور ان کے یورپی اور امریکی سیاحوں ہم جولی جمع ہوتے تھے۔۱۱ مئی ۲۰۰۱ء کو پولیس نے دریاے نیل میں گھومنے والی ایک کشتی پر چھاپہ مار کر ۵۵؍افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا، لیکن جب پتا چلا کہ ان میں چند نوجوان بااثر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے تو انھیں چھوڑ کر معاملہ دبا دیا گیا۔ مگر جب عوامی دباؤ بہت بڑھا تو ان لوگوں پر بدکاری اور اسلام دشمنی کی دفعات لگوائیں۔ جن لوگوں پر بدکاری کے واضح ثبوت مہیا ہو گئے ، ان کو صرف ایک سال قید کی سزا سنائی گئی،کیونکہ مصری حکومت عالمی مقتدر حلقوں کے ہاتھوں مزید مشکلات بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔ اس کریک ڈاؤن میں مغربی قاہرہ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ اور متوسط طبقے کے مصری مرد بے نقاب ہوئے جو یورپی اور امریکی سیاحوں کے ساتھ ہم جنسی تعلقات رکھتے تھے یا ان کے سہولت کار تھے ۔پولیس ان لوگوں کے انٹرنیٹ پر تمام رابطوں اور نیٹ ورک کا تعاقب کرنے میں کامیاب رہی ۔

مصری پولیس اگر ان میں سے کسی کو گرفتار کرتی بھی ہے تو ہم جنس پسندوں کی عالمی تنظیم، ’اگلہرچ‘ ہیومن رائٹس واچ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مقامی ایجنٹوں کے ذریعے میڈیا میں حکومت کے خلاف مذمتی بیانات کی بوچھاڑ اور مظاہرے کرواتی ہے۔اور مصری حکومت کو دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ اگر ان لوگوں کو رہا نہ کیا گیا تو امریکی امداد بند کروا دی جائے گی۔ اس طرح حکومت دہری مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے، یعنی ان لوگوں یا ان کے حمایتیوں کو گرفتار کرتی ہے تو امریکا اور مغرب سے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر ان کے ساتھ نرمی برتتی ہے تو ملک کے اسلام پسند عناصر دباؤ ڈالتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیش تر عرب اور مسلم ممالک میں ہم جنسی تعلقات کے خلاف مدون قوانین کا فقدان ہے،جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم جنس پسندوں کی عالمی تنظیم جب عرب اور مسلم دنیامیں موجود اپنے ہم نوالہ ایجنٹوں کو ہم جنس پسندی کے لیے اُکساتی ہے تو یہاں کی پولیس  ان کے خلاف کوئی باقاعدہ کاروائی کرنے کے بجائے انھیں صرف ڈراتی، دھمکاتی یا ان سے بھاری رشوت اینٹھتی ہے ۔

اس پس منظر میں مسلم دنیا اور عرب ممالک، زیربحث جنسی کج روی کے فروغ اور قانونی تحفظ کے دباؤ میں ہیں۔ اگرچہ دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں یہاں پر مزاحمت زیادہ پائی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود، ’الگا‘، ’اگلہرچ‘ اور ’گلاس‘ کا ایجنڈا آگے بڑھ رہا ہے۔