مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۲۶

 

۱۲فروری ۲۰۲۶ء کو بنگلہ دیش میں منعقدہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی ایک بڑا سنگ ِ میل ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے ڈالے گئے ووٹوں میں سے ۳۱ء۷۶ فی صد (۲ کروڑ ۴۲ لاکھ) ووٹ حاصل کیے۔جماعت اسلامی کے یہ ووٹ ایک غیرمعمولی پیش رفت کا ثبوت ہیں۔ خاص طور پر ان حالات میں، جب کہ پندرہ سولہ سال مسلسل ان کے خلاف ظلم و جبر اور سفاکیت کی انتہا کردی گئی۔ جماعت کی پوری مرکزی قیادت شہید کردی گئی، ان کو پھانسیاںدے دی گئیں۔ پھر دوسری صف کی قیادت کو قید کردیا گیا۔ جماعت سے وابستہ خواتین کو بھی ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کیا گیا۔ اسلامی جمعیت طالبات کی کارکنان کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ طلبہ کی تنظیم اسلامی چھاتروشبر کو بُری طرح ظلم، تشدد، قتل و غارت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند اور داخلے منسوخ کیے گئے۔ ایک بڑی تعداد کو ڈگریوں سے محروم کیا گیا۔ 

صرف اسی پر بس نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے تعلیمی، رفاعی، طبّی اور معاشی اداروں تک کو تباہ کردیا گیا، یا ان پر ناجائز قبضہ جمایا گیا۔ ساتھ ہی عام عوام خصوصاً نوجوان نسل کی ذہن سازی کے لیے ہرجبری اور ابلاغی ذریعہ استعمال کیا۔ نصاب میں ایسی چیزیں شامل کیںجو جماعت اسلامی کے خلاف پراپیگنڈے پر مشتمل تھیں۔ ان کو یہ تک کہا گیا کہ یہ وہ غدار ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف لڑائی کی، یوں لفظ ’رضاکار‘ کو ایک گالی بنادیا گیا۔ یونی ورسٹیوں میں ٹاپ پوزیشن پر جو پروفیسر تھے یا ایڈمنسٹریشن کے بیشتر افسران اور اکثراہل کار عوامی لیگ کے تھے یا پھر جماعت اسلامی سے سخت نفرت کے جذبات پالنے کی شہرت رکھتے تھے۔ بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ صرف عوامی لیگ کے نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی صورتوں میں انڈین لابی کے نمائندے بھی تھے۔ ایسے استاد، شاعر،  ادیب اور صحافی انھیں بڑے پیمانے پر غدار قرار دے رہے تھے۔  

ظلم و جبر کی اس طویل کالی رات میں زندگی کا ثبوت دیتے ہوئے، ایک ڈیڑھ سال میں یوں جماعت اسلامی کا قومی سطح پر اُبھر کر آنا ایک کرشمۂ قدرت کے سوا کچھ نہیں۔ اس فضا میں جماعت اسلامی نے نظریے کو اور اپنی وابستگی کو برقرار رکھا۔پابندیوں اور زیادتیوں کے باوجود وہ عوام اور نوجوانوں کے ساتھ جڑے رہے۔ خواتین میں بڑے پیمانے پر دعوت،تنظیم اور تربیت کا کام پھیلایا ۔ جب ۵؍اگست ۲۰۲۴ء کو عوامی لیگ کا اقتدار ختم ہوا تو اس کے چند مہینوں میں ہی انھوں نے ایک بڑی زبردست اور ہمہ گیر انتخابی مہم کھڑی کر دی۔ یہ طاقت ہے ایک نظریاتی پارٹی کی، ایسی پارٹی جو کسی شخصیت کے بجائے نظریے پر، ڈسپلن پر اور تنظیم پر یقین رکھتی ہے۔ 

ہم ایسی کئی مثالیں پاکستان اور پاکستان سے باہر دیکھتے ہیں، جس میں سیاست افراد کے گردگھومتی ہے۔ بعض اوقات افراد مسائل سے دوچار ہوتے ہیں تو پارٹی ختم ہوجاتی ہے یا پھر سکڑ کر رہ جاتی ہے اور کئی کئی گروپوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کون قیادت کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا؟ لیکن بنگلہ دیش جماعت اسلامی وہ پارٹی ہے کہ جس کے امیر، نائب امیر، سیکرٹری جنرل اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل تک کو پھانسی کی سزا دی گئی اور جس کے سابق امیر کا جنازہ بھی جیل سے اُٹھا۔ ان کے ٹاپ کے لوگوں کے ساتھ نہ ختم ہونے والا بہیمانہ سلوک برتا گیا، مگر انھوں نے دوبارہ سے اپنے آپ کو کھڑا کرلیا، الحمدللہ! یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ 

 اس کامیابی میں بہت اہم پہلو نوجوانوں کا کردار ہے۔ یہ منظر ہم نے بنگلہ دیش میں دیکھا ہے کہ کس طرح نئی نسل، جنریشن زی نے دیوانہ وار جماعت اسلامی کا ساتھ دیا ہے۔  

لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ جماعت اسلامی کو اپنا نام بدل لینا چاہیے۔لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ انھیں تنظیم سے ’اسلام‘ کا نام ہٹا دینا چاہیے۔ ہمیں ایسے ناصحین کے تجزیے بھی یاد ہیں، جو کہتے تھے کہ تحریکوں کی ایک عمر ہوتی ہے، اور ۷۰، ۷۵ سال بعد تحریکیں ختم یا تحلیل ہوجاتی ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اخوان المسلمون کو دیکھیے کہ تحلیل ہوکر رہ گئی ہے لیکن اللہ کا کرنا دیکھیے کہ حالات تبدیل ہوئے۔ ’عرب بہار‘ آئی اور پھر اس کے بعد اخوان المسلمون نے مصر میں ایک سال کے دوران پانچ مرتبہ عوام کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کی: ریفرنڈم میں، پارلیمانی انتخابات میں، صدارتی انتخاب میں ، رن آف الیکشن میں اور سینیٹ میں۔ اس طرح اخوان المسلمون نے عوامی رائے کے اعتبار سے بھی اپنے آپ کو مستحکم جماعت ثابت کر دکھایا۔ 

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو اب جو کامیابی ملی ہے، یہ درحقیقت سیّدابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے اُس وژن کی عملی صورت ہے، جسے انھوں نے قرآن و سنت سے اخذکیا ہے اور جو اصل اسلامی فکر ہے، اور یہ سب اسی فکر کی کامیابی ہے۔ بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ عالمِ عرب ہو، مشرق بعید ہو یا افریقا، جہاں جہاں بھی آپ جائیں گے، اسی فکر پر مبنی تحریکیں عوام میں جڑیں گہری کر رہی ہیں اور کامیابی کی سمت بڑھ رہی ہیں۔ 

سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا مودودی کا وژن اور فکر درحقیقت ہے کیا؟  

سادہ لفظوں میں یہ اسلام کی دعوت ہے اور اسلام کا بھی وہ تصور جو اصل اسلام ہے کہ جس میں فروعیات، ظاہر پرستی اور مقامی روایات کو اسلام قرار دینا شامل نہیں ہے۔ اس تصور میں مسلک پرستی، فرقہ پرستی جیسے معاملات سے کہیں بلند ہوکر اسلام کی بات کی جاتی ہے۔ آج کل بعض لوگ کج فکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ’پولیٹیکل اسلام‘ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مغربی نظریہ ساز من پسند اصطلاحات سازی کرکے اپنے مذموم مقاصد کی آبیاری کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنی اصل میں جہاں فرد اور معاشرے کی روحانی اور اخلاقی تعمیر کرتا ہے، وہیں پر سماجی اور اخلاقی میدان میں بھی راہ نمائی کرتا ہے۔ اسلام معیشت کو بھی پیش کرتا ہے، اسلام عدالت کا نظام بھی سامنے رکھتا ہے۔ اسلام تو پورا ایک نظامِ حیات اور پوری تہذیب ہے۔ وہ ریاست کو ، حکومت کو، خاندان کو اور سوسائٹی کو بھی مخاطب کرتا ہے اور اپنے آپ کو محض عبادات تک محدود نہیں رکھتا۔ 

اسلامی تحریکیں اصل میں وہی ہیں جو اسلام کی اس مکمل دعوت کو پیش کریں۔ مقامی مسائل اور معاملات سے لے کر بین الاقوامی حالات تک پر نظر رکھیں، اور اپنے ممالک کے حالات کے مطابق حکمت عملی بنائیں ۔ فرقوں،علاقوں، نسلوں، مسلکوں اور گروہوں کی تنگنائیوں سے باہر نکل کر بلندتر مقاصد کے لیے کام کریں۔ اسلامی تحریکیں آفاقی اور عالمی منظر میں سوچتی ہیں، جب کہ مقامی سطح پر عمل کی راہیں کشادہ کرتی ہیں۔ یہی کارنامہ بنگلہ دیش جماعت نے بحسن و خوبی سرانجام دیا۔ 

یہ وہ پیغام ہے جس کو مولانا مودودی نے سمجھانے اور پھیلانے کے ساتھ اجتماعیت قائم کی ہے اور ایک جماعت بھی منظم کی ہے۔ یہ شعور دینے کے ساتھ انھوں نے بار بار ذہن نشین کرایا ہے کہ آپ کے لیے حتمی راہ نمائی کا ذریعہ صرف قرآن و سنت ہیں۔ 

استعماریت، آمریت، اباحیت، لادینیت، مادہ پرستی، نسل پرستی اور سرمایہ داری کے گلے سڑے نظام سے انسانیت بے زار ہے۔ اس منظرنامے میں انسانیت ایک نئے نظام کی پیاس واضح طور پر محسوس کرتی ہے، اور اس پیاس کو بجھانے کا واحد ذریعہ اسلام ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ سامراجی طاقتوں اوراُن کے پٹھو حکمرانوں کی سازشوں سے پیدا شدہ فساد کے اس ماحول میں اسلام ایک طاقت،  ایک نظریے، ایک تحریک اور ایک نظام کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے گا، ان شاء اللہ! ان حالات میں جس طرح سے جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں انتخابات کے بعد جمہوریت کے استحکام، عدل و انصاف کے قیام اور اصولی سیاست کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ قدم اسلامی نظام کے احیا اور اسلامی تحریک کے فروغ کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ 

ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے، اس پیغام کو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ اس کے لیے تن، من، دھن اور ذہن کی قوتوں کو کھپادیں۔خصوصاً اس دور میں جب پوری نسل ذرائع ابلاغ خصوصاً سوشل میڈیا کے زیراثر پروان چڑھ رہی ہے، اسلامی تحریکوں کی کوئی کامیابی خلا میں نہیں ہوسکتی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ فلسطین، عالمِ عرب اور بنگلہ دیش میں تو نوجوان اِن تحریکوں کو قبول کرلیں،اس کے لیے قربانیاں دیں، اپنی توانائیاں لگائیں اور پاکستان میں ایسا نہ ہو۔ 

لہٰذا، یہ ناگزیر ہے کہ تحریک اسلامی کا عوام بالخصوص نوجوان نسل (جنریشن زی) سے رابطہ اور تعلق بڑھے۔ انھیں احساسِ شراکت ملے۔ خواتین، تحریک سے اجنبیت محسوس نہ کریں اور وسیع تر تناظر میں انھیں ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت حاصل کریں، تو ان شاء اللہ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی غیرمعمولی نتائج حاصل کرسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے سب کو ایمانی قوت و بصیرت اور عملی جدوجہد سے وابستہ ہونا ہوگا۔ 

عَنْ سَلْمَان الْفَارِسِیِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  قَالَ: خَطَبَنَا  رَسُوْلُ اللہِ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم  فِی اٰخِرِ یَوْمٍ مِّنْ  شَعْبَانَ فَقَالَ:  یَااَیُّھَا النَّاسُ قَدْ اَظَلَّکُمْ شَھْرٌ عَظِیْمٌ شَھْرٌ مُبَارَکٌ شَھْرٌ فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ  اَلْفِ شَھْرٍ جَعَلَ اللّٰہُ صیَامَہٗ فَرِیْضَۃً وَ قِیَامَ لَیْلِہٖ تَطَوُّعًا مَنْ تَقَرَّبَ فِیْہِ  بِخَصْلَۃٍ مِّنَ الْخَیْرِ کَانَ کَمَنْ اَدّٰی فَرِیْضَۃً فِیْمَا سِوَاہٗ وَمَنْ اَدّٰی فَرِیْضَۃً فِیْہِ کَانَ کَمَنْ اَدّٰی سَبْعِیْنَ فَرِیْضَۃً فِیْمَا سِوَاہٗ وَھُوَ شَھْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْرُ ثَوَابُہُ الْجَنَّۃُ وَ شَھْرُ الْمُوَاسَاۃِ وَ شَھْرٌ یُزَادُ فِیْہِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ مَنْ فَطَّرَ فِیْہِ صَائِمًا کَانَ لَہٗ مَغْفِرَۃً لِذُنُوْبِہٖ وَعِتْقَ رَقَـبَتِہِ مِنَ النَّارِ وَ کَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ اَجْرِہٖ شَیءٌ قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَیْسَ کُلُّنَا نَجِدُ مَا نُفَطِّرُ بِہِ الصَّائِمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْطِی اللّٰہُ ھَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰی مَذْقَۃِ لَـبَنٍ اَوْ تَمْرَۃٍ اَوْ شَرْبَۃٍ مِّنْ مَاءٍ وَمَنْ اَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاہُ اللّٰہ ُ مِنْ حَوْضِیْ شَرْبَۃً لَا یَظْمَأُ حَتّٰی یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ وَھُوَ شَہْرٌ اَوَّلُہٗ رَحْمَۃٌ وَ اَوْسَطُہٗ مَغْفِرَۃٌ وَّ اٰخِرُہٗ عِتْقٌ مِّنَ النَّارِ وَ مَنْ خَفَّفَ عَنْ  مَّـمْلُوْکِہٖ فِیْہِ غَفَرَ اللّٰہُ لَہٗ وَ اَعْتَقَہٗ مِنَ النَّارِ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)  

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا: ’’اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت والا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے اللہ نے فرض فرمائے ہیں اور اس کی راتوں میں (اللہ کی بارگاہ میں) کھڑا ہونے کو نفل مقرر کیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں کوئی خیر کا کام اللہ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کے لیے کرے گا تو وہ ایسا ہوگا جیسے اس مہینے کے سوا دوسرے مہینے میں اس نے فرض ادا کیا ہو اور جو اس مہینہ میں فرض ادا کرےگا وہ ایسا ہوگا جیسے اس نے ستّر فرض ادا کیے ہوں۔ اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے۔ اور یہ ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے۔ اور اس مہینہ میں ایمان والوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس کسی نے اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو [یہ عمل] اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور (جہنم کی) آگ سے آزادی کا سبب ہوگااور اسے اس روزہ دارکے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ 

ہم نے کہا: اے اللہ کے رسولؐ! ہم میں ہر ایک کو سامان میسر نہیں ہوتا جس سے وہ کسی روزہ دار کوافطار کراسکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسّی یا کھجور یا پانی کے ایک گھونٹ سے ہی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے۔اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے گا، اللہ اسے میرے حوض سے ایسا سیراب کرے گا کہ اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنّت میں داخل ہوجائے گا۔ یہ (رمضان) وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت، اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔ اور جو شخص اس مہینہ میں اپنے مملوک (غلام یا خادم) کے کام میں تخفیف کردے گا ، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا اور اسے آگ سے آزادی دے دے گا۔ 

عظمت اور برکت والے مہینہ سے مراد رمضان المبارک کامبارک مہینہ ہے۔ رمضان المبارک کی فضیلت اور خصوصیت کے کئی پہلو اس حدیث میں آپؐ نے بیان فرمائے۔ آپؐ نے شب قدر کے بارے میں فرمایا کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، قرآن کریم اسی مبارک رات سے اُترنا شروع ہوا۔ اس رات کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ وہ رات ہے جس میں ان باتوں کا فیصلہ ہوتا ہے جو علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہیں اور جن میں دنیا کی فلاح اور بھلائی ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام معاملات کا فیصلہ اسی رات میں ہوتا ہے، جس رات میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا وہ کوئی معمولی رات نہیں ہوسکتی۔ یہ رات تو ہزاروں مہینوں سے بہتر ہے۔ کبھی ہزار مہینوں میں بھی انسانوں کی فلاح کے لیے وہ کام نہیں ہوتا جو اس ایک رات میں ہوا۔اس رات کی ایک خاصیت یہ ہے کہ: تَنَـزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَـۃُ وَالرُّوْحُ فِيْہَا بِـاِذْنِ رَبِّہِمْ۝۰ۚ  ’’اس رات فرشتے اور روح الامین اپنے ربّ کے حکم سے اُترتے ہیں‘‘۔ (سورۃ القدر اور سورۃ الدخان: ۳-۵) 

رمضان میں دن کو روزہ رکھنا فرض ہے اور رات کوتراویح پڑھنا اور زیادہ سے زیادہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونا اگرچہ فرض تو نہیں ہے، لیکن یہ عمل اللہ کو بے حد پسند ہے۔ 

رمضان المبارک کا مہینہ روزہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس مبارک مہینے میں تمام مسلمان مل کر روزہ رکھتے ہیں۔ اس طرح انفرادی عبادت ایک اجتماعی عبادت بن جاتی ہے۔ لوگوں کے الگ الگ روزہ رکھنے سے جو روحانی واخلاقی فائدے ہوسکتے تھے، سب کے مل کر روزہ رکھنے سے وہ فائدے بے حدو حساب بڑھ جاتے ہیں۔ یہ اجتماعی عمل رمضان المبارک کے مہینہ کی پوری فضا کو نیکی اور پرہیزگاری کی روح سے بھر دیتا ہے۔ روزہ دار کو روزہ رکھ کر گناہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ لوگوں میں نیکی کی رغبت بڑھ جاتی ہے اور ان کے دلوں میں یہ خواہش اُبھرتی ہےکہ وہ غریبوں اور محتاجوں کے کام آئیں اور نیک کاموں میں حصہ لیں۔ نیکیوں کی تاثیر اور برکت بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے اللہ کے یہاں ان کے اجر میں بھی بے انتہا اضافہ ہوجاتاہے۔ 

اس مبارک مہینے میں آدمی بھوک پیاس کی تکلیف اُٹھا کر اپنی خواہشات پر قابو پانے اور اپنے آپ کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے احکام کا پابند بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے اندر ایسی صلاحیت اور قوت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے وہ اللہ کے راستے میں صبرواستقامت کے ساتھ آگے بڑھ سکے اور ان تکالیف و مصائب کا جو اسے راہِ حق میں پیش آئیں ، پامردی کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔ 

روزے میں اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ شدت کے ساتھ پیدا ہونا چاہیے۔ بھوک پیاس میں مبتلا ہوکر آدمی اس بات کو اچھی طرح محسوس کرسکتاہے کہ مفلسی اور تنگ دستی میں آدمی پر کیا کچھ گزرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے انتہا رحیم و شفیق تھے، مگر رمضان المبارک میں آپؐ کے تیز ہوا کی مانند ہوجانے والے جودوسخا سے کوئی محروم نہیں رہتا تھا۔کوئی سائل دروازے سے خالی نہیں جاتا تھا اور نہ کوئی قیدی قید میں رہتا تھا۔ ظاہری اور باطنی ہرطرح کی برکات اس مہینہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ 

یہ مبارک مہینہ نیکیوں کی بہار لے کر آتا ہے۔ اہلِ ایمان اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی اطاعت اور بندگی میں لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں پر اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی خاص رحمت اور عنایت ہوتی ہے یہاں تک کہ رمضان المبارک کا ابتدائی حصہ گزرنے کے بعد اہلِ ایمان اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندوں کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  ان کی پچھلی غلطیوں اور گناہوں سے درگزر فرماتے ہوئے ان کی خطائوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اس مبارک مہینے کے آخری حصے تک پہنچتے پہنچتے اس مبارک مہینہ سے فائدہ اُٹھانے کی مخلصانہ کوشش کرنے والوں کی زندگیوں میں اتنی پاکیزگی آجاتی ہے اور اس درجہ کا تقویٰ اور خدا ترسی کا جذبہ ان کے اندر پیدا ہوجاتاہے کہ وہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی طرف سے نجات یافتہ قرار دیے جانے کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اللہ سبحانہٗ تعالیٰ دوزخ سے ان کی رہائی اور آزادی کا فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ 

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ  : کُلُّ عَـمَلِ ابْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ ، الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِہَا اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ  ضِعْفٍ ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّہٗ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ ، یَدَعْ شَہْوَتَہٗ وَطَعَامَہٗ مِنْ اَجْلِیْ ،  لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ:  فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَآءِ رَبِّہٖ ، وَلَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ ، وَالصِّیَامُ جُنَّــۃٌ ، وَ اِذَا  کَانَ  یَوْمُ  صَوْمِ اَحَدِکُمْ ، فَلَا یَرْفَثْ  وَلَا یَصْخَبْ  ، فَاِنْ  سَابَّہٗ  اَحَدٌ  اَوْ قَاتَلَہٗ  فَلْیَقُلْ  اِنِّیْ  اِمْرُءٌ   صَائِمٌ (بخاری ، مسلم) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہرعمل کا ثواب ۱۰ گنا سے ۷۰۰ گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور مَیں ہی اس کا (جتنا چاہوں گا) بدلہ دوں گا۔ [کیونکہ] انسان اپنی شہوتِ نفس اور اپنا کھانا میری ہی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں: ایک مسرت افطار کے وقت اور دوسری اپنے ربّ کی ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ فحش باتیں کرے اور نہ شورو شغب اور دنگا فساد کرے اور اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں (میں تمھارے اس مشغلے میں حصہ نہیں لے سکتا)۔ 

اس حدیث میں کئی اہم اور بنیادی باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمالِ صالحہ کا اجر ان کی نیتوں اور خلوص کے اعتبار سے ۱۰ گنا سے ۷۰۰ تک دیتا ہے لیکن روزے کا معاملہ اس عام قانون سے مختلف ہے۔ کیونکہ روزہ خالصتاً اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے۔ دوسرے اعمالِ صالحہ کسی نہ کسی ظاہری صورت میں کیے جاتے ہیں۔ اس لیے دوسرے لوگوں سے چھپانا بے حدمشکل ہوتا ہے لیکن روزہ ایسا خاموش اور غیرمرئی عمل ہے جس کو روزہ دار اور اللہ کے سوا دوسرا کوئی نہیں جان سکتا۔ اس لیے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ اس کا اجر بھی بے حدوحساب عطا فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک میں نیکی اور تقویٰ کا عام ماحول میسر آتا ہے جس میں خیر اور صلاح کے پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ آدمی جتنی زیادہ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ اس مہینے میں عمل کرے گا اور جتنا زیادہ رمضان المبارک کی برکتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گا اور سال کے باقی گیارہ مہینوں میں رمضان کے اثرات کو باقی رکھے گا اتنا ہی زیادہ اس کے نیک اعمال پھلتے پھولتے رہیں گے۔ جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ یہ خصوصیت دیگر اعمال کو حاصل نہیں ہے۔ 

بندہ روزے میں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی رضا کے لیے نہ اپنی جنسی خواہش پوری کرتا ہے اور نہ کھاتا پیتا ہے تو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  بھی ان ظاہری نعمتوں سے بڑھ کر اسے نعمتیں عطا فرماتے ہیں۔ 

روزے دار کے لیے دو مسرتیں ہیں: ایک مسرت اور خوشی اسے دنیا ہی میں افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ دن بھر بھوکا پیاسا رہنے کے بعد جب وہ شام کو افطار کرتا ہے تو اسے جو لذت اور راحت حاصل ہوتی ہے وہ عام حالات میں کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس کی بھوک پیاس بھی دُور ہوجاتی ہے اور اسے یہ روحانی خوشی بھی حاصل ہوتی ہے کہ اس کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی توفیق ملی۔ روزِ محشر اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  سے ملاقات کے وقت جو خوشی روزہ دار کو حاصل ہوگی اس کا تو کہنا ہی کیا۔ اس خوشی کا مقابلہ تو کوئی بھی خوشی نہیں کرسکتی۔ 

روزے کی حالت میں منہ کی بُو خراب ہوجاتی ہے (اس لیے بار بار مسواک کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے) لیکن اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی نگاہ میں وہ مشک کی خوشبو سے کہیں زیادہ قابلِ قدر ہے۔ اس لیے کہ یہ بُو اس بھوک اور پیاس کی وجہ سے ہے جس کے پیچھے اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا کی طلب کے سوا کوئی اور جذبہ کام نہیں کر رہا ہوتا۔ روزے کی حیثیت ڈھال کی ہوتی ہے۔ جس طرح ڈھال کے ذریعے آدمی دشمن کے وار سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اسی طرح روزہ شیطان اور نفس کے حملوں سے بچنے کے لیے ڈھال ہے۔ روزہ کے آداب کا آدمی اگر لحاظ رکھے تو وہ روزہ کی وجہ سے بہت سے گناہوں سے محفوظ رہ سکتا ہے اور آخرت میں آتش دوزخ سے نجات پاسکتا ہے۔ 

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ  : مَنْ صَامَ  رَمَضَانَ  اِیْمَانًا  وَّاحْتِسَابًا  غُفِرَ  لَہٗ  مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ  ، وَمَنْ   قَامَ  رَمَضَانَ  اِیْمَانًا  وَّاحْتِسَابًا  غُفِرَ  لَہٗ  مَا  تَقَدَّمَ  مِنْ ذَنْبِہٖ  ، وَمَنْ قَامَ  لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا  وَّاحْتِسَابًا  غُفِرَ  لَہٗ  مَا  تَقَدَّمَ  مِنْ ذَنْبِہٖ (بخاری ، مسلم) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان المبارک کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے سب پچھلے گناہ معاف کردیے گئے۔ (اسی طرح) جو رمضان میں ایمان اور احتساب کے ساتھ (راتوں میں) کھڑا ہوا اس کے بھی سب پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور (اسی طرح) جس نے شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا اس کے بھی سب پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے۔ 

ایمان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور آخرت کا جو عقیدہ اسلام نے دیا ہے وہ اس کے ذہن میں تازہ ہو اور احتساب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی رضا کا طالب ہو۔ ہروقت اپنے خیالات اور اعمال پر نظررکھے کہ کہیں وہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی رضا کے خلاف تو نہیں جارہے۔ اس کے اعمال و افکار کے پیچھے کوئی دوسرا جذبہ ہرگز نہ ہو۔ ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ رکھنے سے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو بخش دیں گے۔ اس لیے کہ وہ کبھی اگر اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا نافرمان تھا بھی تو اب وہ نافرمانی سے باز آگیا ہے اور اس نے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ 

وَعَنِ  ابْنِ   عُمَر  اَنَّ  رَسُوْلَ اللہِ  : سَمِعَ  رَجُلًا  یَتَجَشَّاءُ فَقَالَ: اَقْصِرْ  مِنْ جُشَاءِکَ  فَاِنَّ اَطْوَلَ  النَّاسِ  جُوْعًا  یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ  اَطْولُھُمْ  شَبِعًا فِی الدُّنْیَا(شرح السنہ، ترمذی) ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ڈکار لیتے سنا تو فرمایا: اپنی ڈکار کو کم کر، اس لیے کہ قیامت کے دن سب سے بڑھ کر بھوکا وہ شخص ہوگا جو دنیا میں خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے۔ 

مراد یہ ہے کہ آخرت میں آسودگی اور چین و راحت تو اس شخص کے لیے ہے جس کو آخرت کی فکر نے دنیا میں آسودہ ہونے کا موقع نہ دیا۔ اتنا زیادہ کھانا کہ آدمی لمبی لمبی ڈکاریں لیتا پھرے، آدمی کو کسل مند و غفلت شعار یعنی کاہل اور غافل بنا دیتا ہے۔ غافل شخص اپنے دل کو تاریکی سے بچا نہیں سکتا۔ دل کی تاریکی سب سے بڑی محرومی ہے۔ روزہ آدمی کو اس بات کا سبق دیتا ہے کہ وہ شکم پروری کو حیات کا اصل مقصود نہ سمجھے۔ زندگی کی قدروقیمت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ 

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: 

مَا  مَلَأَ آدَمِیٌّ  وِعَآءً  شَرًّا  مِّنْ بَطْنِ  ، حَسَبُ ابْنِ  اٰدَمَ  اُکُلَاتٌ  یُقِمْنَ  صُلْبَہٗ  ، فَاَنَ  کَانَ  لَا مَحَالَۃَ  ، فَثُلُثٌ  لِطَعَامِہِ  وَثُلْثٌ  لِشَـرَابِہٖ وَثُلْثٌ  لِّنَفَسِہٖ(ترمذی، ابن ماجہ) کسی آدمی نے کوئی برتن پیٹ سے بدتر نہیں بھرا (جب کہ پیٹ کو اس طرح بھرا جائے کہ آدمی محض چرنے چگنے والا جانور بن کر رہ جائے اور دین کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہی رہے)۔ ابن آدم کے لیے تو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھی رکھ سکیں اور اگر پیٹ بھرنا ضروری ہو تو پیٹ کے تین حصے کرے۔ ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک پینے کے لیے اور ایک حصہ اپنے لیے (یعنی سانس وغیرہ لینے کے لیے)۔ 

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ : لِکُلِّ  شَیْ ءٍ  زَکٰوۃٌ  وَزَکٰوۃُ  الْجَسَدِ الصَّوْمُ(ابن ماجہ) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرچیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔ 

ہم رمضان کے دنوں اور قرآن کی تلاوت کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہر اس چیز کا اختتام ناگزیر ہے جس کا آغاز ہوا ہو۔ جس کی ابتدا ہو اس کی انتہا بھی ہوتی ہے، البتہ پاک ہے وہ ذاتِ اول جس سے پہلے کچھ نہیں، اور وہ ذاتِ آخر جس کے بعد کچھ نہیں، اور وہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ 

دن بادلوں کی طرح کتنی تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ بادلوں کی طرح ہی نہیں بجلی جیسی تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں، اور یہ تمام دن ہماری عمر کا حصہ ہیں، ہماری کتابِ زندگی کے صفحات ہیں جو پلٹتے جاتے ہیں اور اختتام قریب آتا جاتا ہے۔  

حسن بصری نے جیساکہ فرمایا: اے ابن آدم، تو حقیقت میں ایام کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر گیا تو تیرا ایک حصہ بھی کھو گیا۔ 

لہٰذا یہ دن جو گزر رہے ہیں وہ ہمارا حصہ ہیں، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے یہ دن اور راتیں اس کی نیکیوں کے ترازو میں ہوں، اس کی برائیوں کے ترازو میں نہ ہوں۔ ہم میں سے خوش نصیب وہ ہے جس کے حق میں رمضان گواہ بن جائے، اس کے خلاف گواہی نہ دے، اس کے حق میں شفاعت کرنے والا ہو، اس کی شکایت کرنے والا نہ ہو۔  

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب، میں نے اسے دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا (یعنی قیام اللیل کی وجہ سے)، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما‘‘۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چنانچہ دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی‘‘ (حاکم،۱/۵۵۴ مسلم کی شرط پر صحیح)۔ لہٰذا خوشخبری ہے اس کے لیے قرآن اور رمضان جس کی شفاعت کرنے والے ہوں گے۔  

کچھ لوگ پورا ماہِ رمضان اپنا تعلق اللہ سے جوڑے رکھتے ہیں، لیکن رمضان ختم ہوتے ہی وہ اپنے اور اللہ کے درمیان اس تعلق کو توڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے ہم ہمیشہ کہتے ہیں: جو شخص رمضان کی عبادت کرتا تھا تو رمضان مر چکا ہے، یا مرنے کے قریب ہے، اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ زندہ و قائم ہے اسے موت نہیں۔ سلف کہا کرتے تھے: بُرے لوگ ہیں وہ جو اللہ کو صرف رمضان میں پہچانتے ہیں، لہٰذا ربانی بنو رمضانی نہ بنو، موسمی فرماں بردار نہ بنو کہ سال کے ایک مہینے میں اللہ کو پہچانو، اور باقی سارا سال اس کو بُھولے رہو۔ 

قبولیتِ رمضان المبارک کی علامت یہ ہے کہ نیکیوں پر استقامت اختیار کی جائے اور اطاعت و فرماں برداری کو مستقل شعار بنا لیا جائے۔ اللہ نے رمضان صرف اس لیے واجب کیا کہ ہم اس سے دلوں کی بیٹریاں چارج کر لیں، کیونکہ بیٹریاں خالی ہو جاتی ہیں، اور انھیں دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ رمضان اس لیے آتا ہے کہ ہم روزے، قیام، ذکر، تلاوتِ قرآن، اجتماعی دروس قرآن اور دروسِ رمضان سے اپنی بیٹریاں چارج کر لیں۔رمضان میں چارج شدہ بیٹری ہمیں اگلے گیارہ مہینوں تک فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔ لہٰذا اگر رمضان گزر جائے اور ہماری بیٹری خالی ہو، تو اس صورت میں رمضان ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ 

اُمت مسلمہ کی منفرد خصوصیات 

یہ اللہ کی طرف سے اس امت کی عزت افزائی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہمیں بطور امت مسلمہ ایسی چیزوں سے نوازا گیا ہے جو کسی اور امت کو عطا نہیں ہوئیں:  

lہمیں پانچ نمازوں، اور ان نمازوں میں جماعت، اور قبلہ کی وحدت سے نوازا گیا ہے۔ 

ایک فرانسیسی مصنف نے اپنی ایک کتاب میں کہا ہے: میں روئے زمین پر مسلمانوں کو کعبہ کے گرد دائرہ بنائے خیال کرتا ہوں۔ اگر کوئی آسمان سے تصویر کھینچے، تو وہ تصور کرے گا کہ ان دائروں نے پوری زمین کو بھر رکھا ہے۔ یہ کعبہ کے انتہائی قریب شروع ہونے والے چھوٹے دائروں کے بعد بڑے اور پھر ان کے بعد ان سے بڑے دائرے بنتے جاتے اور زمین کو بھرتے جاتے ہیں۔ آپ ان دائروں میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کو پائیں گے۔ 

 جاپانیوں کا ایک گروہ قطر آیا تھا اور ستائیسویں رات کو ہمارے ساتھ یہاں نمازِ باجماعت کی تصویریں لے رہے تھے۔ وہ حیران اور متاثر تھے۔اس کے بعد میرے گھر آئے، اور میرے ساتھ طویل بات چیت ہوئی۔ اور بتایا کہ ہم بہت دیر سے پہنچے،اس نماز کو مکمل طور پر نہ دیکھ سکے۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں اس کی کچھ سمجھ نہیں آئی، لیکن جس گرمجوشی سے نماز ادا کی گئی، اور دعا اور مسلمانوں کا اتحاد، صفیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی جیسے ایک جسم ہو، اس نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ 

 میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید یہ ان کی اسلام کی طرف ہدایت کا سبب بنے۔ میں نے انھیں بتایا کہ یہ دوحہ میں واحد مسجد نہیں ہے، قطر میں درجنوں مساجد ہیں جہاں یہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں، اور اسلامی دنیا میں ہزاروں اور لاکھوں مساجد ہیں جہاں نمازیں ایسے ہی ادا کی جاتی ہیں، خاص طور پر مکہ اور مدینہ میں۔ رمضان کی ستائیسویں رات کو مسجد الحرام میں تقریباً ۲۰ لاکھ لوگوں نے نماز ادا کی۔ کوئی بھی امت ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت کرتی ہو، جیسی امت مسلمہ کرتی ہے۔ 

اس صدی کے اوائل میں ایک برطانوی لارڈ نے اسلام قبول کیا جس کا نام لارڈ ہیدری تھا۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام مغرب کو اسلام کے ذریعے بیدار کرنا رکھا۔ اس کتاب میں اس نے کہا: میں نے اسلام کے علاوہ کوئی ایسا دین نہیں دیکھا جو لوگوں کو اللہ سے جوڑتا ہو، اور انھیں ہر روز پانچ بار اس کے ساتھ ملاقات کا وقت دیتا ہو۔ 

آپ جانتے ہیں کہ عیسائیت ایک عیسائی سے جو تقاضا کرتی ہے، وہ ہر اتوار کو چرچ کا دورہ ہے، اور اس میں اتنی سختی نہیں ہے جتنی اسلام ادائیگی ٔنماز کے لیے کرتا ہے، جس نے اسے مسلمان اور کافر کے درمیان فیصلہ کن بنا دیا ہے:  

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝۱۱ (التوبہ۹:۱۱) پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں۔ 

اسلام مسلمان کو پانچ بار اُس کے رب سے جوڑتا ہے، اور اسی لیے ان نمازوں کو ایک نہر سے تشبیہ دی گئی ہے جس میں مسلمان ہر روز پانچ بار نہاتا ہے، چنانچہ جب مسلمان گناہوں کی آگ میں جلتا ہے، تو یہ نماز اس آگ کو بجھاتی ہے اور ان گناہوں کے زخموں کو مندمل کرتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز روزانہ کا غسل ہے، اور جمعہ کی نماز ہفتہ وار غسل ہے، رمضان کے روزے اور قیام سالانہ غسل ہے اور حج زندگی بھر کا غسل ہے۔ 

  • اللہ نے ہمیں قرآن کریم سے بھی نوازا ہے، یہ وہ کتاب ہے:  

لَّا يَاْتِيْہِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ۝۰ۭ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ۝۴۲  (حم السجدہ۴۱: ۴۲)باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔ 

 كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۝۱ۙ ٍ(ھود۱۱:۱)یہ کتاب ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔ 

اور جب اس کی آیات ہمارے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ہمارا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ یہ قرآن کسی بھی امت کے پاس نہیں ہے۔ 

ہم امت مسلمہ کے پاس طاقت کے ایسے عوامل اور ایسی خصوصیات ہیں جو کسی دوسری امت کے پاس نہیں ہیں، لیکن افسوس کہ ہم اس روحانی قوت اور اس توانائی کو بروئے کار نہیں لائے جو کسی دوسری امت کے پاس نہیں پائی جاتی۔ افسوس کہ امت مسلمہ نے اپنی ان صلاحیتوں، قابلیتوں اور قوتوں کو استعمال نہیں کیا جو اللہ نے اسے عطا کی ہیں۔ 

یہودی دندناتے پھرتے ہیں، فساد مچاتے ہیں، خون بہاتے ہیں، گھروں کو جلاتے ہیں، اور مکانات کو تباہ کرتے ہیں اور امت مسلمہ قبروں کی طرح خاموش ہے۔ کیا یہ ایک زندہ امت ہے؟ اس کی زندگی کی علامت کہاں ہے؟ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے، وہ مسجد جس کے اردگرد اللہ نے برکت دی، اور جس کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا، اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تین عظیم مساجد میں سے تیسری مسجد قرار دیا، بلکہ اللہ نے قرآن میں اس کا ذکر مسجدنبوی کی تعمیر سے پہلے کیا، کیونکہ سورۂ بنی اسرائیل رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے اور مسجد نبویؐ بنانے سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ فرمایا: 

سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِہٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِيَہٗ مِنْ اٰيٰتِنَا۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۝۱ (بنی اسرائیل ۱۷:۱) پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا۔ 

قرآن نے اس کا ذکر بے مقصد کیا ہے یا امت کے دلوں کو اس مسجد سے جوڑنے کے لیے؟ اُمت  غفلت سے دوچار ہے کیونکہ ہمیں کوئی ایسی قیادت دکھائی نہیں دیتی جو امت کی رہنمائی کرے۔ 

سیاسی اتحاد 

اسلام نے اس امت کو متحد کرنے پر زور دیا،کہ وہ ایک قیادت کے تحت ایک سیاسی وحدت ہو جو امت کی رہنمائی کرے۔ اس کی ایک خلیفہ کے ذریعے ایک متحدہ قیادت ہو جو اس کی رہنمائی کرے اور اس کے امور سنبھالے، اور بحرانوں کے وقت مسلمانوں کو پکارے، تو مسلمان اُٹھ کھڑے ہوں۔ 

لیکن مکار اور خبیث صہیونیت نے، اپنے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے اس اسلامی ادارے کو ختم کر دیا، اور اس روایتی اور اسلامی قلعے (خلافت اسلامیہ) کو مسمار کر دیا، تاکہ وہ عرب اور مسلم ممالک کے دل میں اپنی ریاست کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے، اور اس اُمت کے سینے میں پیوست زہریلا خنجر بن جائے۔ خلافت ختم ہوگئی، تو ہم نے سیاسی اتحاد کھو دیا۔ 

جذبات و شعائر کا اتحاد 

اسلام نے اس امت کو متحد کیا، اس کے جذبات، احساسات، روایات اور افکار کو متحد کیا۔ پوری امت رمضان میں تراویح پڑھتی ہے، ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرتی ہے، اور اس مبارک مہینے میں اللہ سے دعا کرتی ہے۔ پوری امت روزے رکھتی ہے اور غروب آفتاب کے وقت افطار کرتی ہے۔ پوری امت سحری کرتی ہے اور فجر کی نماز پڑھتی ہے، اور پوری امت زکوٰۃ دیتی ہے، عمرہ کرتی ہے اور بیت اللہ کا حج کرتی ہے۔ 

یہ امت جس طرح شعائر میں متحد ہے، اسی طرح یہ احساسات میں بھی متحد ہے۔ اللہ کی قسم! میں جہاں بھی گیا، میں نے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے لیے پریشان اور بے چین پایا، افغانستان کے لیے بے چین پایا، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے بے چین دیکھا، چیچنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے بے چین پایا۔ چنانچہ تمام مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکتے ہوئے اور یکساں پایا۔  

روایات اور آداب کا اتحاد: چنانچہ آپ جہاں بھی کسی مسلمان سے ملیں گے، آپ اسے السلام علیکم کہیں گے تو وہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہہ کر جواب دے گا۔ آپ اسے دائیں ہاتھ سے کھاتے، کھانا بسم اللہ سے شروع کرتے اور الحمد للہ پر ختم کرتے ہوئے پائیں گے۔ یہ تصورات میں اتحاد ہے۔ 

وحدتِ امت کو قائم کرنا 

اُمت احساسات، شعائر، تصورات، روایات اور آداب میں متحد ہے، لیکن وہ سیاست اور پالیسیوں میں متحد نہیں ہے، جب کہ اسلام نے اس اتحاد کو قائم کرنے کے لیے کچھ چیزیں مقرر کی ہیں: 

  • مرجع اور مآخذ قانون کا اتحاد:اسلامی امت کا مرجع اور مرکز،اسلامی شریعت ہے خواہ افرادِ امت مشرق میں ہوں یا مغرب میں، شمال میں ہوں یا جنوب میں۔ چنانچہ اگر امت اس مرجعیت پر متفق ہو جائے، اور تفصیلات میں اختلاف بھی ہو، تو کوئی حرج نہیں، اہم یہ ہے کہ وہ اس سیدھے راستے پر جمع ہو جائے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: 

وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْـمًا فَاتَّبِعُوْہُ۝۰ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّـبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِہٖ۝۰ۭ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۵۳ (الانعام۶:۱۵۳) اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمھیں پراگندہ کر دیں گے۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمھارے ربّ نے تمھیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو۔ 

اللہ کا راستہ صراط مستقیم ہے، وہ ربانی قرآنی منہج ہے، جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے اور اس پر زندگی گزاری: 

اِنَّكَ لَـــتَہْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝۵۲ۙ صِرَاطِ اللہِ الَّذِيْ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ اَلَآ اِلَى اللہِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ۝۵۳ (الشوریٰ۴۲:۵۲-۵۳)یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔ خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔  

اگر امت شریعت پر جمع ہو جاتی تو اس کی بات بھی ایک ہوتی، اس کا شیرازہ بھی جمع ہوتا، اور اس کی صفیں بھی متحد ہوتیں، لیکن اس نے مشرق اور مغرب سے، دائیں اور بائیں سے درآمد شدہ راستوں اور مذاہب کی پیروی کی، اور ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ دائیں بازو کا، اور ایک گروہ بائیں بازو کا، اور دائیں بازو کی اپنی اقسام ہیں اور بائیں بازو کی اپنی۔ اگر امت نے اپنے بنیادی مرجع یعنی اپنی شریعت کو چھوڑ دیا جس کا اللہ نے اسے پابند کیا ہے، تو اُمت کبھی متحد نہیں ہوسکتی: 

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْہَا وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۱۸ اِنَّہُمْ لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللہِ شَيْـــــًٔا۝۰ۭ وَاِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۚ وَاللہُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ۝۱۹ (الجاثيہ۴۵:۱۸-۱۹)اس کے بعد اب اے نبیؐ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمھارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔ 

  • وحدتِ دار(علاقوں اور ممالک کا اتحاد): فقہاء اسلامی ممالک کو ’دیارِ اسلام‘ کے بجائے ’دار الاسلام‘ کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ متعدد علاقے ہوں، لیکن وہ ایک ہی دار (گھر) ہیں، دار الاسلام۔ اور اس کا ایک گھر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے بعض دوسروں کے ساتھ معاشی، عسکری، سائنسی، ادبی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر باہمی تعاون اور یکجہتی کے پابند ہیں۔ چنانچہ یہ باہمی تعاون کرنے والی ایک امت ہے، جیسے ایک جسم کے کچھ حصوں کو تکلیف ہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے، ایک امت جیسے ایک مضبوط عمارت کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے، امت ایسے ہی تھی اور ایسی ہی ہونی چاہیے۔ 

جب معتصم کو معلوم ہوا کہ رومیوں کے ملک میں ایک مسلمان عورت کے چہرے پر ایک رومی نے تھپڑ مارا ہے اور اس نے وامعتصماه (اے معتصم میری مدد کو پہنچو) کہہ کر فریاد کی ہے،تو اس عورت اور معتصم کے درمیان سمندر اور صحرا حائل تھے۔ لیکن جب یہ بات اس تک پہنچی تو اس نے کہا: لبیک اختاہ (میری بہن میں حاضر ہوں!) 

پھر اس نے لشکر تیار کیے اور رومیوں سے لڑنے کے لیے کمربستہ ہوگیا۔ نجومیوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک ستاروں کے حساب سے، لڑائی کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے، لہٰذا انجیر اور انگور پکنے کا انتظار کرو۔ اس نے ان کی بات نہیں سنی اور اپنے لشکروں کو لے کر چل پڑا۔ رومیوں سے مشہور تاریخی جنگ عموریہ میں مقابلہ کیا، اور فتح یاب ہوا، یہ ایک فیصلہ کن اور واضح فتح تھی۔ 

آج ہم اگروامعتصماه پکاریں تو ہمارے حکمرانوں میں سے کون سنے گا یا جواب دے گا؟ ہم کس کو پکاریں؟ اور مسلم خواتین میں سے کسی کو بالوں سے گھسیٹا جا رہا ہے، کسی کے چہرے پر تھپڑ مارے جا رہے ہیں، کسی کو بے عزت اور بے آبرو کیا جارہا ہے، اور کسی کے بچوں اور شوہر کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا جا رہا ہے۔ اب فلسطین میں، اگر یہ عورت پکارے تو کون اس کی پکار سنے گا؟ 

امت کے پاس کوئی معتصم نہیں ! 

موجودہ حکمرانوں نے ان لوگوں کی پکار سنی جو یہاں اور وہاں چیخ رہے تھے، لیکن ان میں کوئی معتصم نہیں۔ معتصم کہاں ہے، اس کی غیرت کہاں ہے، اس کی بہادری کہاں ہے جس نے ایک عورت کی مدد کے لیے لشکر تیار کیے اور دشمن سے جنگ کی تھی ؟ 

ایک امت جس کی ناک خاک میں رگڑی گئی، دہشت گردی کے نام پر اس سے جنگ لڑی گئی۔اب معاملہ ایک عورت کے چہرے پر تھپڑ مارنے کا نہیں ہے، بلکہ ایک امت کا ہے جس کی ناک خاک میں رگڑی گئی ہے، ایک ذلیل اور حقیر سمجھی جانے والی امت، اور اس سے دشمن قوتیں مختلف عنوانات کے تحت لڑ رہی ہیں، جن میں آخری عنوان دہشت گردی کا ہے، اور یہ ایک جھوٹا عنوان ہے، کیونکہ مقصود دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ اسلام اور امت اسلامیہ نشانہ ہے۔ 

ورنہ اس کا کیا مطلب ہے کہ اسلامی مزاحمتی تحریک کی نمائندگی کرنے والی اسلامی جماعت حماس، اور اسلامی جہاد کی جماعت، اور فلسطین میں مزاحمتی دھڑے، جو اپنی زمین، اپنی عزت، اپنی حرمتوں اور اپنے مقدس مقامات کا دفاع کر رہے ہیں، یہ کیسے دہشت گرد ہو گئے؟ 

کشمیر میں کشمیری جہاد کی تحریک، اور خیراتی انجمنیں جو مسلمانوں کو امداد دیتی ہیں اور ان کی مدد کرتی ہیں۔ کیا یہ دہشت گردانہ کارروائیاں ہیں، اور کیا یہ لوگ دہشت گرد ہیں؟ وہ اسلامی دعوت اور اسلامی تحریک کو روکنا چاہتے ہیں۔ اسلامی بیداری، اور اسلامی طاقت کو کمزور کرنا، اور اسے ’دہشت گردی‘ کے عنوان سے منتشر کرنا چاہتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ، ہم اپنی قوم، اپنے رہنماؤں، اور اپنے لیڈروں میں ایسے لوگوں کو پاتے ہیں جو اس دشمن کے قافلے میں چلتے ہیں، اور ان کی دہلیزپر جھکتے ہیں، اور ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہمیں کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جو بآوازِ بلند ’نہیں‘ کہہ سکے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے وہ آدمی پسند ہے جس پر ذلت مسلط کی جائے، تو وہ پورے زور سے’نہیں‘ کہے۔ 

عوام میں بہت خیر ہے، انھیں بس دُور اندیش اور جراءت مند قیادت کی ضرورت ہے۔ امت قیادت سے محروم ہے، لیکن عوام میں بہت بھلائی ہے، اور وہ بہت کچھ پیش کر سکتے ہیں، لیکن انھیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو طاقت کو سمجھے، اسے منظم کرے، اسے بہتر بنائے، اس کی صفیں سیدھی کرے، اور اسے دشمن کے سامنے کھڑا کرے، انھیں قیادت کی ضرورت ہے۔ 

ہم سے خلافت کھو جانے سے سیاسی قیادت کھو گئی، اور ہم نے دینی قیادت بھی کھو دی، حالانکہ اسلام میں دین اور سیاست کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے۔ خلافت صرف ایک مذہبی تنظیم نہیں تھی، بلکہ جیسا کہ علما نے خلیفہ کی تعریف میں کہا کہ وہ دین کی حفاظت کے معاملے میں رسولؐ اللہ کا نائب ہوتا ہے ، اور اس کے ذریعے دنیا کی حفاظت کرتا ہے۔ 

علمائے دین ہی مردانِ ریاست و سیاست 

 مسلمانوں کے علما صرف دین کے عالم نہیں ہوتے بلکہ ریاست و سیاست اور دعوت و تبلیغ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں اگر وہ صرف دین میں دلچسپی کی بنا پر سیاست میں دلچسپی سے پیچھے رہ جاتے، تو یہ بہتر ہوتا، لیکن افسوس کہ یہاں یہ بھی نہ ہوسکا۔ 

قدیم زمانے میں مسلمان ایک شخص کو’شیخ الاسلام‘ کہتے تھے جہاں لوگ اس کی طرف رجوع کرتے تھے، لیکن اب کوئی شیخ الاسلام نہیں ہے، کیونکہ بہت سے شیوخ حکمرانوں کے قافلے میں شامل ہوگئے ہیں، چنانچہ انھوں نے عوام کے نزدیک اپنی ساکھ کھو دی ہے، اور یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ 

اسی لیے میں بعض مسلمانوں سے مذاق میں، کہتا ہوں: عیسائیوں کا ایک پوپ ہے، لیکن ہم مسلمانوں کا کوئی پوپ نہیں، ہم نے اپنی ہر طرح کی قیادت کھو دی ہے۔ لہٰذا عزیزو! اسلامی امت ایک قابل رحم حالت میں ہے، اور اس حالت کو اسی طرح نہیں رہنا چاہیے۔ 

عید اور اُمت کی حالتِ زار 

ہم عید کا انتظار کرتے ہیں، ہم عید پر خوش ہونا چاہتے ہیں، عید پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں، لیکن ہم عید کیسے منائیں گے، جب کہ ہماری امت اس حال میں ہے کہ ہمارے بھائیوں کو قتل کیا جا رہا ہے، ذبح کیا جا رہا ہے، اور ان پر یہ ہلاکتیں گزر رہی ہیں، اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم کچھ نہیں جانتے، کیونکہ ٹیلی وژن ہمیں روزانہ یہ مناظر لمحہ بہ لمحہ دکھاتا ہے، چنانچہ ہم ان مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ مصیبتیں جھیل رہے ہیں، ہم زندگی سے کیسے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، ہم کیسے ہنس سکتے اور قہقہے لگاسکتے ہیں؟ ہم کیسے آرام کی نیند سو سکتے ہیں، یا پیٹ بھر کر کھا سکتے ہیں، یا اپنے اہل و عیال، رشتہ داروں اور بھائیوں کے درمیان خوش باش زندگی گزار سکتے ہیں ؟ جب کہ ہمارے بھائیوں پر جو گزر رہی ہے وہ گزر رہی ہے۔ 

امت کو چاہیے کہ وہ اپنے اوپر روئے، یہاں تک کہ اپنے حقوق واپس حاصل کرے، اپنی صفیں درست کرے، اور اسلام کی دشمن قوتوں کے خلاف بڑے معرکے میں کھڑے ہونے کے لیے اپنے بیٹوں کو تیار کرے، تاکہ وہ اسلام پر اس طرح جی سکیں جیسا کہ اللہ نے چاہا اور پسند کیا ہے۔ 

مستقبل اس امت کا ہـے! 

ہم اس امت کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ مستقبل اس دین کا ہے، مستقبل اس امت کا ہے۔ ہمارے پاس قرآن کریم اور سنت نبوی سے، اور شاندار تاریخ سے، اور موجودہ حقیقت سے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے قوانین سے بہت سی بشارتیں ہیں، جو ہمیں اس بات کا یقین دلاتی ہیں کہ یہ صورتِ حال برقرار نہیں رہے گی، اور اس حالت کا ہمیشہ رہنا محال ہے۔ اب غالب آنے کی باری ہماری ہے نہ کہ ہمارے دشمن کی۔ کیونکہ تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ’’یہ دن ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں‘‘۔ 

ان شاء اللہ فتح قریب ہے، لیکن اللہ کا قانون جاری ہے کہ فتح صرف حقيقي مؤمنوں کے ذریعے ہی مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْـبَكَ اللہُ۝۰ۭ ہُوَالَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ۝۶۲ۙ  وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ۝۰ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰكِنَّ اللہَ اَلَّفَ بَيْنَہُمْ۝۰ۭ اِنَّہٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۶۳ (الانفال۸: ۶۲-۶۳) وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے، مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ 

میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس مہینے کو ہماری مغفرت کا ذریعہ بنادے، اور اس میں رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کو ہمارا حصہ بنائے، اور ہمارے پیش کردہ اعمال پر ہمیں اجر دے، اور ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے، اور ہمارے آج کو ہمارے کل سے بہتر بنائے، اور ہمارے آنے والے کل کو ہمارے آج سے بہتر بنائے، اور اسلام اور مسلمانوں کو فتح دے، اور اس دین کے دشمنوں کو ذلیل کرے، اور ہمارے مجاہد بھائیوں کی مدد کرے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔ 

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِيْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۝۱۴۷ (ال عمرٰن ۳: ۱۴۷) اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کردے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔ 

أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِينَ! 

اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری اور مالک و ربِّ کائنات سے بغاوت میں فرق کرنے والا الہامی اصول اگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف توحید ہے۔یہ وہ پیمانہ ہے جو ایک فرد اور معاشرے کو معروضی طور پر آئینہ دکھلاتے ہوئے اس کے حُسن یا بدصورتی کو بلاکسی مبالغے کے اس کے سامنے رکھ دیتا ہے۔لیکن صدیوں کی سیاسی اور فکری غلامانہ ذہنیت اور مناظرانہ بحثوں نے توحید کو ایک کلامی مسئلہ بنا دیا۔ اس طرح اس کی جامعیت اور سیرت سازی اور معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت پردۂ نسیاں میں رو پوش کر دی گئی اور اس کی لغوی وضاحت کو کافی سمجھتے ہوئے توحید اور تثلیث یا توحید اور کثیر خداؤں کے تقابلی مطالعہ کو علمی گفتگو کا موضوع بنائے رکھا گیا۔ 

مشرکین مکہ اور داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وجہ نزاع یہ نہیں تھی کہ اللہ خالق کائنات نہیں ہے۔ وہ جب سمندری اسفار میں کسی طوفان میں گھر جاتے تھے تو خالق کائنات ہی کو پکارتے تھے۔مزید یہ کہ جن لوگوں نے حرم مکہ میں ۳۰۰ سے اوپر خداؤں کی ’اقوام متحدہ‘ قائم کررکھی تھی، اس میں ایک بڑے خدا کا اضافہ کوئی مشکل کام نہ تھا۔ وہ ایک بڑے خدا کو اپنے خداؤں سے بلند مقام پر بٹھا دیتے تو تنازع ختم ہو جاتا۔ 

لیکن مسئلہ عددی قوت کا نہیں تھا بلکہ توحیدکے معنوی اور عملی مضمرات کا تھا۔وہ جو عربی ادب کے اسرار اور رُموز جاننے کا دعویٰ کرتے تھے ،انھوں نے نور اور ہدایت کے لیے اپنے شعور کے دریچے بند کر رکھے تھے، روایات کی اندھی پیروی ان کا شیوہ تھا۔ اس سب کے باوجود وہ جانتے تھے کہ توحید یا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کو ربّ اور حاکم ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام چراغ جو دوسروں کے اُجالے سے روشن ہیں گل ہو جائیں گے اور صرف ایک نور ہدایت رہنمائی کا ذریعہ قرار پائے گا۔ 

توحید کا تقاضا 

قبولِ اسلام کے لیے جن دو کلمات پر مبنی شہادت اور عہد کو لازمی قرار دیا گیا، اس کا مفہوم بھی یہی تھا کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے سوا تمام مصنوعی اور غیر حقیقی خداؤں کو اس مقام سے ہٹا دیا جائے۔ لیکن یہ ایک ایسا اقدام تھا جس سے عربوں کی معاشی فوقیت، سیاسی اور عسکری قیادت، مذہبی چودھراہٹ پر براہِ راست زد پڑتی تھی۔ یہ سیاسی اور مذہبی مفاہمت، رواداری اور اشتراک کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ان کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی وجود کا براہِ راست تعلق اس ایک کلمہ کے انکار سے تھا۔ توحید کا واضح مطلب یہ تھا کہ خدائی میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ رب ِکعبہ حدودِ حرم میں تو حاکم و مالک ہو، لیکن سو قدم فاصلے پر سودی کاروبار گرم ہو اور مزید تھوڑے فاصلہ پر کسی معصوم بچی کو زندہ دفنایا جا رہا ہو کہ لڑکی کی پیدائش باعث فخر نہیں اور نہ اس سے قبائلی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔گویا توحید کو ماننے کا تقاضا معاشرت، معیشت ،عبادات، سیاسی تعلقات ہر شعبۂ حیات میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرنا تھا جو مشرکین مکہ کے لیے آسان کام نہیں تھا۔  

دانشِ عصر حاضر  

جس بات کو عرب جاہلیہ کے دانش ور ایک لمحہ میں سمجھ گئے تھے اور جو اسلام اور روایتی عرب مذہبیت کے درمیان وجہ نزا ع تھی۔ اس معمولی سی بات کو گذشتہ تین صدی سے زیادہ عرصے میں مغرب اور مشرق کے حکماء اور فلاسفہ اپنی تمام تر ذہانت اور دور جدید میں وجود میں آنے والی مصنوعی ذہانت کے باوجود سمجھنے سے قاصر رہے ہیں یا سمجھنے پر آمادہ نہیں ہوسکے ہیں۔ وہ یہی راگ الاپتے رہے ہیں کہ معاشی، سیاسی، ثقافتی، معاشرتی اور انتظامی خداؤں کے ایک متضاد نظام میں اگر ایک خدا کو مزید شامل کر لیا جائے جس کا کام روحانیت،مذہبیت اور عبادت کی رسوم کا ہو تو ایک بہترین متوازن، روادار، مساویانہ معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ بلکہ ایسا نظام یورپ اور دیگر ممالک میں سکون کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے مسلم ممالک میں بھی اس ’روشن خیال‘فکر کو رواج ملنا چاہیے۔  

یہ سوچ محض تصور تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے گذشتہ تین صدیوں میں تعلیم، تجارت، انتظامیہ، عدلیہ اور سیاسی اداروں اور ابلاغِ عامہ کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عقل سے عاری مسلم حکمرانوں، سیاست کاروں، دانش وروں، درس گاہوں، ایوان ہائے تجارت، غرض تمام شعبوں میں ایک سامراجی نظام کی شکل میں نافذ کر دیا گیا۔ اور مسلم عوام و خواص کو دنیا اور ’مذہب‘ میں یگانگت اور ’توازن‘ کا اتنا عادی بنا دیا گیا ہے کہ یہ فکر ان کی سوچ کا زاویہ بن گئی ہے۔ ایک جانب حج اور عمرہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، دوسری جانب ترقی اور جدیدیت کے نام پر مخلوط معاشرہ، سود، مغربی ثقافت اور مصنوعات کا فروغ سرکاری سرپرستی میں عام کیا جارہا ہے۔ 

نمودِ سحر  

اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے اگر وہ عرب جاہلیہ کے معاشرہ میں سے ہی ایک گوہرِنایاب کو منتخب کر کے ان تمام مانگے کے اجالے رکھنے والے چراغوں کو گل کر کے اسلام کے نور کو غالب ہونے کا موقع دے سکتا ہے، تو بعد کے اَدوار میں ایسا کرنا اس کے لیے کیوں ممکن نہیں ہوسکتا۔ خود برصغیر کی تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ گمراہی کے دور میں کسی اللہ کے بندے نے حق و صداقت کا علَم بلند کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے حق لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔بر صغیر میں مجدد الفؒ ثانی، شاہ ولیؒ اللہ دہلوی، علّامہ اقبالؒ اور سیّد مودودی ؒنے اسلام کے ’محدودمذہبی تصور‘ کی جگہ اسلام کا جامع اور متحرک پہلو اُجاگر کیا۔ قرآن و سنت پر مبنی یہ وہ تصور ہے جو فرد کی متوازن شخصی تعمیر اور معاشرے کی عادلانہ تشکیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  

انقلابیتِ توحید  

توحید اسلام کا وہ انقلابی اصول ہے جو اپنی صداقت، جامعیت ،عالم گیریت اور عملیت کی بنا پر تاریخ انسانی میں منفرد مقام رکھتا ہے۔اس ایک کلمہ نےانسانی تاریخ کے ہر دور میں، دورِابراہیمیؑ سے لے کر دورِ نبویؐ تک انسانوں کی تعمیرِ شخصیت اور تہذیب معاشرہ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔توحید اسلام کا سنگ بنیاد ہے۔ ایک باشعور مسلمان کی زندگی کا انفرادی پہلو ہو یا اجتماعی، معاشرتی ہو یا سیاسی، یہ وہ رنگ ہے جو ہر سرگرمی پر حاوی نظر آتا ہے۔جس نے اپنے آپ کو اس رنگ میں رنگ لیا، وہ کامیاب ہو گیا۔ یہ رنگ بندگی میں ظاہر ہوتا ہے ،یعنی ایک انسان کس کا بندہ ہے ؟ کیا وہ مال کا بندہ ہے یاشہرت و اقتدار کا ؟ 

مسلم دنیا کا المیہ یہ ہے کہ مغرب کی مرعوبیت نے مسلم سربراہان کے دل و دماغ میں صرف ایک خیال کو جاگزیں کر دیا ہے کہ وہ مغربی سامراج کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کر کے ترقی اور عروج حاصل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے وسائل مغربی ممالک کے حوالے کر دیے ہیں کہ وہ جس طرح چاہیں ان کا استعمال کریں۔ نہ صرف مادی وسائل بلکہ ان کا نظام تعلیم ، نظام معاشرت ، نظام حکومت و معیشت ہر چیز مغربی سیاست کاروں کے اختیار میں دے دی گئی ہے۔ وہی ان کا ملکی دفاع دیکھتے ہیں ،وہی معیشت اور ثقافت کے بھی رکھوالے ہیں۔ اس صورتِ حال میں تحریکات اسلامی کی ذمہ داری میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ اسلام کے جامع تصورِ دین کو کسی لگی لپٹی کے بغیر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے حکمت کے ساتھ پیش کریں۔ حکمتِ دعوت کا تقاضاہے کہ تحریک اسلامی نہ صرف اپنے نصب العین بلکہ اپنے دعوتی طریقِ کار کے امتیاز کو برقرار رکھے اور ان ذرائع سے اجتناب کرے جو اس کے دینی تشخص اور تحریکی پہچان کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 

تحریکی تشخص  

توحید سادہ الفاظ میں ان تمام خداؤں کا انکار کرنے کا نام ہے ،جنھیں ہم شخصی قبولیت کی مرکزیت کا نام دیتے ہیں۔ عوامی تحریکات کی کامیابی کا انحصار قیادت کے کرشماتی ہونے کے ساتھ اس کا ہر معاملہ پر حاوی ہونا اور ہر معاملہ میں حرفِ آخر ہونا ہے اور اس کی دانش کے بغیر کسی کام کا نہ ہونا عوامی تحریک کی پہچان ہوتا ہے۔ ایک ہی لیڈر خود تحریک ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی تحریک کو شورائی مزاج عطا فرمایا اور مسلسل مشورہ کے ذریعے آراء کو وحدت اور حکمت عملی کو متحدہ رُخ عطا کیا۔ 

تحریک اسلامی مقصد حیات اور دعوت کو مرکزیت دیتی ہے۔ جب غزوۂ احد کے دوران یہ افواہ اڑی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے وہی بات کہی جو بعدازاں آپؐ کے وصال پر دُہرائی کہ اگر رسولؐ مر جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ زندہ و قائم ہے۔ اس لیے قائد کے نہ ہونے سے دعوت کی جدوجہد میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے۔ اس واقعے سے نہ صرف حضرت ابوبکر ؓکے دینی فہم کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ اصول بھی نکلتا ہے کہ اقامت دین میں صرف مقصد کو مرکزیت حاصل ہے۔ 

توحید بلا شرکت غیرے حاکمیت الٰہی کا نام ہے۔  اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ ۝۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ  (یوسف۱۲:۴۰) ’’فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے‘‘۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی حاکمیت مسجد میں رب کریم کو اعلیٰ، اکبر، اعظم کہنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ نشست و برخاست، کھانے پینے، پہننے، اُوڑھنے اور خاموشی و گفتگو میں اللہ و رسولؐ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے۔ اجتماعی معاملات میں اپنی رائے کو حتمی نہ سمجھنا اور اپنی ذاتی رائے کے باوجود دوسروں کی تجویز کو ترجیح دینا اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کا تحفظ و دفاع کرنا حاکمیت الٰہیہ ہی کے اثرات ہیں۔ اگر دنیا کے تمام سیاسی حکمت عملی کے ماہرین یہ کہتے ہوں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نمائشِ ذات وہ ذریعہ ہے جس سے ایک اخلاقی انقلاب لایا جا سکتا ہے، تو ان تمام دانش وَرانہ باتوں کو رَد کرنے کا نام توحید ہے۔ کیونکہ استعانت، سعادت، فتح اور سربلندی کی کلید اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے تعلق میں پختگی ،اس کے حضور ہمہ وقت حاضری، مسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام، اپنی ذات کو پس پشت ڈالنا اوررب کے احکامات کو جیسے کہ وہ ہیں ماننا، اور نافذ کرنا توحید کا تقاضا ہے۔ 

شخصیت کے اندر توحیدی روح کا مطلب اپنے تمام معاملات کو ربّ کریم کی اطاعت میں دے کر اپنی تمام صلاحیتوں کو خلوصِ نیت کے ساتھ کردار اور تعمیر سیرت میں لگا دینا ہے۔ یہ کام محنت طلب اور صبر آزما ہے۔جس جماعت کو مدینہ میں اسلامی نظام عدل قائم کرنا تھا وہ مکہ کے تیرہ برسوں کی آزمائش اور مدینہ کے ۱۰ سالہ دور میں مشقت سے گزرنے کے بعد اس قابل ہوئی کہ آئندہ نصف صدی وہ نظام جوں کا توں برقرار رہ سکا۔ 

ایسی شخصیت سکون اور عاجزی کے ساتھ قرآن کریم اور سیرت پاک سے گہرے تعلق اور ان کے اوامر و نواہی کو جوں کا توں عملاً نافذ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی ایک کارکن ہو یا قائد جائزہ لے کر دیکھا جائےکہ وہ روزانہ قرآن سے کتنا استفادہ کر رہا ہے؟ سیرت پاک سے کیا رہنمائی حاصل کر رہا ہے ؟کیا وہ ہرروز اپنا احتساب کر رہا ہے؟ کیا انفرادی اور اجتماعی انقلاب سیرت کے قرآنی اور نبوی اصولوں کو اختیار کر رہا ہے یا غیرمحسوس طریقے سے زمانے کے رجحان اور چلن کو اختیار کر رہا ہے ؟ 

توحیدی روح کی حامل شخصیت کی تعمیر  

توحیدی روح کی حامل شخصیت کی تعمیر صرف اور صرف سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل کو اختیار کر کے ہی ہو سکتی ہے۔ ایک توحیدی معاشرہ کی تعمیر اسی وقت ہو سکتی ہے جب بے غرض توحیدی شخصیت تیار ہوجائے جو اپنا سب کچھ صرف اللہ کے لیےلگا دے۔جب تک توحیدی شخصیت کی تعمیر کے قرآنی اور نبویؐ طریقۂ کار کو اختیار نہیں کیا جائے گا، کوئی با معنی تبدیلی پیدا نہیں ہوسکے گی۔ صرف اخلاص، جہدمسلسل، قرآنی اور نبوی ہدایات کی شدت کے ساتھ پیروی کی ضرورت ہے۔ 

توحیدی معاشرہ کی تعمیر اس وقت ہو سکتی ہے جب فرد اپنی زندگی سے تضادات کو ختم کرلے۔ ایمان اور عمل کے تعلق کو مضبوط بنائے ،اور ایمان کا مکمل اظہار تحریکی افراد کے ہر عمل میں نظر آئے۔ جب ہم اقامت دین کی دعوت دے رہے ہیں تو ہر نماز کے موقع پر ہمیں پہلی صف میں اقامتِ صلوٰۃ کے وقت موجود ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں مقبولیت کے لیے کسی جگہ پر ہم لوگوں نے پہلے تھوڑی اور پھر بہت زیادہ گنجائشیں پیدا کرلی ہیں، کہ جو اسلامی فکروعمل سے مناسبت نہیں رکھتیں، تو  یہ انحراف دلیل نہیں بن سکتا۔ 

 جس طریقے کو اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے اقامت دین کے لیے متعین فرمایا ہے اسی میں کامیابی ہے،چاہے اس جدوجہد میں کتنی مدت لگ جائے اور تحریک کے مخالفین تحریک کو قدامت پرست، بنیاد پرست، روایت پرست کہتے رہیں۔ دین مومن مردوں اور مومن عورتوں دونوں کو اقامتِ دین کے لیے ذمہ دار ٹھیراتا ہے۔ لیکن دونوں کے دائرۂ کار اور طریقِ ابلاغ میں واضح فرق بھی تجویز کرتا ہے جسے سامنے رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ 

قرآن حکیم میں تخلیقِ آدمؑ کا واقعہ مختلف مقامات پر بیان ہوا ہے۔ سورۂ اعراف میں قصۂ تخلیق آدم تفصیل سے ملتا ہے۔ اس واقعہ کے مناظر کا تصور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے تین کردار سامنے آتے ہیں:فرشتے ، آدمؑ اورشیطان ۔انسانی زندگی کی تعمیر و تخریب کے سارے راز انھی کرداروں میں مضمر ہیں۔  

فرشتے اللہ تعالیٰ کی بندگی و اطاعت اور تسبیح و تہلیل میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اور انھیں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ آدمؑ کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا نائب اور علمی برتری کی بناپر فرشتوں سے سجدہ کروایا گیا اور انھیں صاحب ِ اختیار بنایا گیا۔ شیطان نے اپنے ارادہ و اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے آدمؑ کے مقابلے میں خود کو برتر جانا اور تکبر کیا اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ٹھیرا ۔شیطان نے آدمؑ سے حسد کیا اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے مقابلے پہ آیا، اور انسان کو اپنا دشمن سمجھا کہ اسی کی وجہ سے اُسے ذلت اٹھانا پڑی ہے: 

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَہُمْ فِي الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّہُمْ اَجْمَعِيْنَ۝۳۹ (الحجر ۱۵:۳۹)شیطان بولا ’’میرے رب، جس طرح تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں زمین میں ان کے لیے دل فریبیاں پیدا کرکے ان سب کوبہکا دوں گا‘‘۔ 

آدمؑ نے خطا ہو جانے پہ فوری ردعمل، ندامت کی صورت میں ظاہر کیا، اپنی غلطی تسلیم کرلی۔ اپنی جان پہ خود ظلم کرلینے کا احساس ان کے ہر احساس پہ غالب آجاتا ہے اور اللہ کی طرف توبہ و انابت کی تڑپ ان کے جسم و جاں کو بے قرار رکھتی ہے، تو پکار اُٹھتے ہیں: 

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا  ۝۰۫  وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۲۳ (الاعراف۷:۲۳)(آدم و حوا) دونوں بول اٹھے ’’اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے اُوپر ستم کرلیا۔ اب اگر آپ نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘۔ 

ارادہ و اختیار کی آزادی 

کچھ خصوصیات اولادِ آدم اور فرشتوں میں مشترک ہیں: 

  • اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ، تسبیح و تہلیل کثرت سے کرنا ۔
  • اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری میں کمی یا کوتاہی کے خیال سے لرزاں و ترساں رہنا اور اپنی لاعلمی اور غلطی کا اعتراف کرتے رہنا۔ 
  • احکام الٰہی پہ سرتسلیم خم کرنا۔  

فرشتوں اوراولاد آدمؑ میں جو چیز مختلف ہے وہ ’ارادہ و اختیار‘ کا ہونا ہے۔ سب فرشتے اپنی اپنی عبادت (ڈیوٹی) میں مشغول ہیں۔ ہر فرشتے کا جو کام ہے اس کو وہی کرنا ہے اور اس کے علاوہ اُسے کوئی اختیار نہیں، اس کا اپنا کوئی ارادہ نہیں۔ اس لیے فرشتوں کے درمیان حقوق و فرائض کی باہمی کش مکش نہیں ہے۔ اولادِ آدمؑ کو ’ارادہ و اختیار‘ کے ساتھ ایک بڑے امتحان میں ڈالا گیا ہے۔ ’ارادہ و اختیار‘ وہ عظیم منصب ہے جس مسند عظمیٰ پہ بیٹھ کر وہ اپنے ’نفس‘ کو جنت یا دوزخ کا مستحق ٹھیراتا ہے اور باہم انسانوں کے درمیان حقوق و فرائض کی کش مکش ہی حقیقت میں اصل معرکہ ہے۔ اللہ کو اپنی اطاعت کے لیے تو فرشتے ہی کافی تھے۔ انسان کو دل دیا تو ساتھ ارادہ و اختیار دیا اور باہم دردِ دل کے لیے پیدا کیا۔ 

ارادہ و اختیار کے ساتھ انتخاب کے لیے تنوع کا ہونا لازمی امر ہے۔ ’اختیار‘ کے ساتھ انتخاب کی آزادی لازم و ملزوم ہے۔ اگر انتخاب کرنے کے لیے متعدد راستے اور چیزیں نہ ہوں تو انتخاب کی آزادی بے معنی ہو جاتی ہے اور آزادی کے ساتھ اپنے ارادہ اور مرضی سے انتخاب کرنے میں غلطی کا احتمال بھی لازمی ہوتا ہے۔ ’آزادیٔ انتخاب‘ دراصل ایک بہت بڑا منصب ہے، ایک امتحان ہے عقل و شعور کا، عزم و ارادے اور ایمان و یقین کا ۔ انسان اپنے ارادے اور مرضی سے اپنے لیے کسی راستے کی ذمہ داری اٹھانے اور اسے نبھانے کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی منصب و ذمہ داری کے بارے میں ربّ العزت فرماتے ہیں: 

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا۝۷۲ (الاحزاب۳۳:۷۲) ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں اور زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ۔ وہ بڑا ہی ظالم اور سخت جاہل ہے ۔ 

انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اختیار و ارادہ کی آزادی موجود تھی۔ اسی لیے وہ اس بارِ امانت کو اٹھانے پہ تیار ہوگیا۔ ’عہد اطاعت‘ کا امین ٹھیرا ۔ مجبور و مقہور مخلوق سے عہد لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا سے مراد یہ ہے کہ انسان میں دو متضاد داعیے یا خواہش و ارادہ موجود ہیں اور کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی کشا کش ہی انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کشاکش کے بعد اپنے عزم و ارادہ سے کسی کام یا راستے کو اختیار کرتا ہے۔  

’ظلم‘ عدل و انصاف کا متضاد ہے۔ ’جہل‘، ’علم‘ اور ’حلم‘ کا متضاد ہے۔ عدل و انصاف کا شعور رکھتے ہوئے جو ظلم کا مرتکب ہو وہ ’ظلوم ہے‘، اور جو ’علم و حلم‘ کی صلاحیت اور اتمامِ حجت کے باوجود اپنے نفس کے جذبات سے مغلوب ہو جائے وہ ’جہول‘ ہے۔ اسی طرح انسانی عقل ماحول سے متاثر ہوکر یا مفادات کی اسیر ہو کر انسان کو ظَلُوْمًا جَہُوْلًا کا مصداق بنا سکتی ہے۔ خیر و شر کے دوراستوں میں سے خیر کا انتخاب کرلینا ہی انسانی شرف کی بنیاد ہے۔ اس ’شرف‘ کو قائم رکھنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنے والا انسان بھی کبھی غلطی سے مبرا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ انسان کی سرشت میں بھول جانے کا مادہ ہے اور اسی بناء پر وہ اپنے عزم میں پختہ نہیں رہتا: 

وَلَقَدْ عَہِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا۝۱۱۵ۧ  (طٰہٰ۲۰:۱۱۵)ہم نے آدم کو تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس کو عزم میں پختہ نہ پایا۔ 

بھول چوک اور خطا کا پہلو 

بھول جانا انسانی سرشت میں شامل ہے۔ شریعت نے اس کی کوئی سزا مقرر نہیں کی۔  یہ حقیقت متعدد احادیث سے معلوم ہوتی ہے، مثلاً بھول کر اگر روزے میں پیٹ بھر کر بھی کھانا کھالیا گیا ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن جان بوجھ کر ایک دانہ یا ایک گھونٹ بھی پیٹ میں ڈالا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی نہ صرف قضا بلکہ کفّارہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی کوتاہی بھول کر ہو گئی ہو یا کسی نے مجبور کیا ہو تو اس کا معاملہ اپنی خواہش، ارادے، منصوبے سے کیے گئے عمل سے مختلف ہوتا ہے۔ کسی پر ’شرعی حدود‘ کے نفاذ میں بھی اس امر کا خیال رکھا جاتا ہے۔  

اسی طرح خطا کا معاملہ ہے۔ خطا اشتباہ کی بناء پر بھی ہو جاتی ہے،جیسے دو چیزوں کا ایک جیساہونا اور ان میں سے اپنی چیز سمجھ کر غلطی سے دوسرے کی اٹھا لینا۔  

انسانوں کی ذہنی، علمی اور معاشرتی افتاد اور استعداد کے مختلف ہو جانے کی بنا پر اس طرح کی خطائیں بھی سرزد ہوسکتی ہیں، مثلاً کسی کے بارے میں حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر کوئی رائے بناتے اور مشورہ دیتے ہوئے خطا کا سرزد ہونا۔ اسی طرح قاضی اپنی پوری تحقیق کے بعد کسی مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے دو رائے میں سے کسی ایک رائے کا انتخاب کرنے میں بھی خطا کرسکتا ہے۔  

خطا میں نیت کی خرابی اور فتور شامل نہیں ہوتا۔ حُسنِ نیت سے کوئی رائے بنانا، فیصلہ کرنا، کسی مشتبہ چیز کے بارے میں اسے اپنی ملکیت سمجھ لینا، مگر غلطی کا احتمال ہونے کایقین رکھنا انسان کو انسانی شرف سے نہیں گراتا۔  

انسان کو ہر چیز میں اعلیٰ معیار کی چاہت پہ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے مگر بھول جانے کی سرشت اسے کبھی دوسری طرف متوجہ کردیتی ہے۔ انسان کی توجہ اور دل کا میلان بھی ایک وقت میں ایک چیز پہ ہی مرتکز رہ سکتا ہے، مثلاً آدم کو ابدی زندگی اور لازوال سلطنت کے تصورنے درخت کے پاس نہ جانے کا حکم بھلا دیا۔ وقتی طور پر یہ حکم پس پردہ چلا گیا اور ابدی و لازوال سلطنت کا مالک ہونے کا احسا س غالب آگیا: 

فَوَسْوَسَ اِلَيْہِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰٓاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّكَ عَلٰي شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى۝۱۲۰ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۰ ) شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہنے لگا :’’آدم میں تمھیں بتائوں وہ درخت جس (کا پھل کھا کر) ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے‘‘۔ 

آدم و حوا نے اسی ’بہترین‘ کی اُمید پہ ممنوعہ پھل کھا لیا۔ یہی حربہ شیطان اولادِ آدم پہ استعمال کرتا ہے۔ عارضی دنیا کی عارضی نعمتوں کو ابدی اور لازوال بنانے کا جنون خطائوں میں مبتلا کرتا ہے اور خطائیں بتدریج گناہوں میں تبدیل ہوتی جاتی ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنے مومن بندوں کو سلیقہ سکھایا کہ وہ اپنی زندگی کو پاک و صاف رکھنے کی نیت اور کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ دعا بھی مانگا کریں۔ سورۃ البقرہ کی آخری آیت میں یہ دُعا سکھائی گئی ہے: رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۝۰ۚ (البقرہ ۲:۲۸۶)’’اے ہمارے رب! ہم سے کوئی خطا ہوجائے یا بھول چوک ہو جائے تو ہمارا مواخذہ نہ کیجیو‘‘۔  

خطائیں انسان سے ’ظلوم‘ اور ’جہول‘ کی بنا پر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان بشری کمزوریوں کی وجہ سے اپنی رحمت کو اپنے غضب پہ غالب رکھا ہے، جس کے عملی اظہار کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی ‘ بھول چوک اور جو مجبور کر دیا گیا ہو معاف کر دیا ہے۔ (ابن ماجہ)  

توبہ اور رجوع الی اللہ 

اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت واسعہ کا معاملہ اور پھر مہلتِ توبہ اور اصلاح عمل کی کوشش انسان کو مایوس ہونے سے بچاتی ہے۔ اللہ کی طرف سے اعلانِ عام ہے : 

قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝۵۳(الزمر۳۹:۵۳ ) کہہ دو اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کرلیا ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جائو۔  اللہ تعالیٰ یقینا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ بے شک وہ غفور و رحیم ہے۔  

 احادیث نبویؐ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان توبہ و ندامت اور استغفار سے اپنے رب کو راضی کرسکتا ہے۔ اللہ رب العزت کو اپنے بندوں کا نادم ہونا، اس کی طرف رجوع کرنا، استغفار کرنا بے حد پسند ہے۔ بندے زمین و آسمان کے برابر بھی گناہ اور خطائیں کر گزریں مگر پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرلیں، تو وہ اپنے بندوں کی طرف مہربانی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے قصور کا اعتراف کرنا ہی آدم کو شیطان سے ممتاز کرتا ہے۔ جو لوگ انسانیت کے اوصاف سے متصف ہوتے ہیں وہ اپنی غلطی مان لیتے ہیں، قصور کا اعتراف کرتے اور اپنی اصلاح کرلیتے ہیں۔ مومن کی شان اس سے بھی بالاوبرتر ہوتی ہے کہ وہ انسانوں کے سامنے اپنی غلطی کو تسلیم کرنے، ان کو ان کا حق دینے اور اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رب کی رضا کو بھی مدنظر رکھتے ہیں، اور ان کو خطا اور گناہ میں فرق بھی معلوم ہوتا ہے۔  

خطا میں نیت، ارادہ و منصوبہ نہیں ہوتا جیسے کہ انسان کسی جگہ پر پھسل جاتا ہے۔ اس میں ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ چوٹ کھائے اور تکلیف اٹھائے۔ بے شک اس کو پھسل جانے کی خطا پہ تکلیف ضرور اٹھانی پڑتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی نافرمانی کرنے والا خود کو بے چین و مضطرب پاتا ہے۔ اَن جانے میں خطا ہو جانے کے باوجود اس کی روح بے قرار ہو جاتی ہے۔ یہ بے قراری جو رب کے سامنے نافرمانی وغلطی ہو جانے سے ہوتی ہے، یہی تو اللہ کو محبوب ہے اور یہ وہ نعمت ہے جو اللہ نے ’ضمیر‘ کی شکل میں انسان کے اندر رکھ دی ہے۔ غلطی یا خطا میں مومن کا اپنا عمل دخل ہے یا نہیں، اس سے غلطی کسی دوسرے نے کروا دی یا حالات و واقعات نے اس کو کمزور کر دیا___ معاملہ کوئی بھی ہو، خطاہو جانے کے بعد جو دل کی بے قرار کیفیت ہے وہ اللہ کی نظر میں قابلِ قدر ہے۔ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ آدم ؑ سے خطا سرزد ہوجانے پر بے قراری کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے اُن پر نظر کرم فرمائی: ثُمَّ اجْتَبٰىہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَيْہِ وَہَدٰى۝۱۲۲  (طٰہٰ ۲۰:۱۲۲) ’’پھر اس کے ربّ نے اسے برگزیدہ کیا اس کی توبہ قبول کرلی اور اسے ہدایت بخشی‘‘۔خطائوں کے بعد توبہ اور اصلاح سے ہی اولادِ آدم اللہ کی نظر میں برگزیدہ ہوسکتی ہے اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہوسکتی ہے۔  

خطا سے ندامت نہ ہو تو پھر گناہوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔ خطا بغیر ارادے کے ہوسکتی ہے، مگر گناہ اس عمل کا نام ہے جب انسان اپنے ضمیر کی آواز کو مسلسل دباتے ہوئے گناہ کی آخری شکل تک پہنچ کر اسے کر گزرتا ہے، مثلاً ایک چور، ڈاکو، قاتل اور زانی و بدکار ایک تدریج کے ساتھ گناہ کے آخری مرحلے تک پہنچتا ہے۔ آخری مرحلے تک پہنچنے سے پہلے کسی بھی مقام پہ اگر ضمیر کا کہنا مان کر انسان جرم سے باز آجائے تو اس کے لیے پلٹ آنے کے سارے راستے کھلے ہیں، اور اگر گناہ کرلینے کے بعد بھی وہ نادم ہو، توبہ کرے اور آئندہ کے لیے اصلاح کرلے، تو وہ رب کو غفور اور رحیم پائے گا ۔ اصلاح کی شرط لازمی ہے۔ توبہ کے ساتھ اگر اصلاح نہ ہو تو بھی انابت الی اللہ نامکمل ہے۔ گناہ روح کی بیماری ہے، ضمیر اس بیماری کی نشاندہی کرنے والا خیر خواہ ہے جیسے تکلیف جسمانی ہو تو درد محسوس ہوتا ہے، بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو بیماری بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح ضمیر کی آواز پہ کان نہ دھرے جائیں اور گناہ پہ نادم نہ ہوا جائے، تو بہ و اصلاح نہ کی جائے، تو روح کی بیماری بڑھتی جاتی ہے۔  

انسانوں کے درجات کے مطابق ان کا احساسِ ندامت ہوتا ہے ۔انبیا علیہم السلام اپنے مشن میں معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔ ان کے دل پہ غبار بھی ان کو دن میں ۱۰۰ مرتبہ استغفار کی طرف مائل کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’امور حیات میں مشغولیت کی وجہ سے میرے دل پہ ایک پردہ سا آجاتا ہے۔ اس لیے میں دن میں اللہ سے سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں‘‘۔ (سنن ابی داؤد، حدیث:۱۵۱۱) 

 صدیقین و صالحین کو اپنی ذرا سی غفلت پہ پشیمانی و فکر مندی کا احساس ہر احساس پہ غالب آجاتاہے۔ صحابہ کرامؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اور گھر میں اپنی مختلف قلبی کیفیات کا سوچ کر فکر مند ہو کر روتے بلکتے اپنے محبوب کے پاس پہنچتے ہیں کہ شاید یہ قلبی کیفیات کا تفاوت ان کو منافق بنا رہا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو مومنوں کے درجات متعین کرتا ہے ۔ صحابہ کرامؓ جن کو دنیا میں جنت کی بشارت سنا دی گئی تھی وہ معمولی خطائوں پر بھی ندامت کا اظہار کرتے رہتے اور مسلسل استغفار ان کا معمول تھا۔  

اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کا احساس رکھنے والے اپنی خطا پہ فوراً متنبہ ہو جاتے ہیں اور اپنے قصور پہ معافی مانگتے اور آئندہ کے لیے محتاط ہو جاتے ہیں تو اللہ علیم و حکیم انھیں معاف فرما دیتے ہیں:  

اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَي اللہِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰۗىِٕكَ يَتُوْبُ اللہُ عَلَيْھِمْ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًـا۝۱۷(النساء۴:۱۷) اللہ انھی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی برائی کرلیں تو پھر فوراً ہی ا س سے باز آجائیں اور توبہ کرلیں تو اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جاتاہے۔ اللہ بہت علم والا اور حکمت والا ہے۔ 

گناہ ہو جائے تو معافی اور فرماں برداری میں جلدی اور شدتِ احساس ہی آئندہ کے لیے گناہ سے بچاسکتا ہے۔ جب انسان قصوروار ہوتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو بندے اور اللہ کے درمیان ایک حجاب حائل ہو جاتا ہے۔ جتنی جلدی کوئی توبہ کرکے اصلاح کرلے تو یہ حجاب دُور ہوجاتا ہے۔ جب خطا کار یہ حجاب دُور نہیں کرتا تو اس کا دل حجاب در حجاب میں چھپتا چلا جاتا ہے اور یہ حجاب دل کی بیماریوں کا سبب و بیج بن جاتا ہے۔اگر وہ بندہ گناہ چھو ڑکر اللہ سے معافی مانگتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ کا اعادہ کرے تو سیاہ نشان کا اضافہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ سارا دل (سیاہ نشان سے) ڈھک جاتا ہے ۔ (ترمذی، حدیث: ۳۳۳۴) 

خیروشر کا منبع دل 

 یہی ’ران‘ ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے: 

كَلَّا بَلْ ۝۰۫  رَانَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝۱۴(المطففین۸۳ :۱۴) ہرگز نہیں بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پہ ان کے بُرے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے جسم کے ہر عضو کی کوئی خاصیت اور اس کا کام مقرر فرمایا ہے۔ ہاتھ، پائوں، زبان، آنکھ اور کان کا اپنا کام ہے۔ اسی طرح دل کا اصل کام ربّ العزت کی خشیت طاری رکھنا ہے اور دل جسم میں سب سے اعلیٰ اور افضل عضو ہے۔ اس کی یہ فضیلت ربّ العزت کی محبت سے مامور ہونے کی بنا پر ہے۔ دل کا کام حقیقت میں اپنی اصل فطرت کے لحاظ سے ہدایت کو قبول کرنا ہے۔ دل کا اللہ کے ذکر سے مامور رہنا ہی اس کی زندگی اور اطمینان ہے : اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۝۲۸ۭ۔ طبعی خواہشات اور شہوات کی پیروی کی بنا پر دل پر غفلت طاری ہوجاتی ہے۔  

دل کی نگری میں فرشتوں اور شیطان کی ہر وقت کش مکش جاری رہتی ہے۔ جب تک کوئی ایک دوسرے پہ غالب نہ آجائے، یہ اُتار چڑھائو ہروقت جاری رہتا ہے۔ قلب کے معنی ہی متحرک اور ہرآن انقلابی کیفیت طاری رہنے کے ہیں۔ اس انقلابِ خیر و شر پہ ہی انسان کا عمل موقوف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے یہ ٹھیک ہو تو سارا جسم ٹھیک ہوتا ہے۔ اس میں بگاڑ ہو تو سارے جسم میں بگاڑ پید اہو جاتا ہے۔ سنو وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث:۸۶۴) 

نیکی و بھلائی پہ ثابت قدم رہنے یا انکار کرنے میں دل تین طرح کے ہوتے ہیں:  

  • تقویٰ سے آباد دل: ایسے دل میں پاک و صاف خیالات آتے ہیں اور فرشتہ ایسے دل کی ہر لمحہ راہنمائی کرتا ہے۔ ایسے دل اللہ کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں اور اپنے محبوبِ حقیقی کی رضا پر راضی و خوش رہتے ہیں۔ یہ انبیاؑ، صدیقین، شہدا اور صالحین کے دل ہوتے ہیں:  

اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۝۳۰ نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۝۰ۚ (حٰم سجدہ۴۱:۳۰-۳۱)جن لوگوں نے کہا اللہ ہی ہمارا ربّ ہے اور اس پہ ثابت قدم رہے یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، نہ غم کھائو اور خوش ہو جائو، کہ تمھارے لیے اس جنت کی بشارت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں آپ کے دوست و مددگار ہیں۔ 

انھی لوگوں پہ شیطان کے وار کامیاب نہیں ہوتے، ان سے شیطان مایوس ہو چکا ہوتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے کہ ’’تیرے مخلص بندوں پر میرا زور نہیں چلے گا۔‘‘ (الحجر ۱۵:۴۰)  

  • نفاق پر مبنی دل: یہ دوسری قسم کے دل شیطان کے قابو میں ہیں، اس لیے وہ ان سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔ یہ مشرک، ملحد، فاسق اور منافق لوگوں کے دل ہیں۔ یہ شیطان کے کارندے اور شیطان ان کا مددگار ہے۔ یہ نفسانی خواہشات سے بھرے رہتے ہیں۔ بُرے، ناپاک خیالات کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔ شیطانی افکار کی یلغار ان کو نیکی کے قرب سے بھی دُور رکھتی ہے۔ شیطان ان کو گمراہی کی وادیوں میں بھٹکائے پھرتا ہے۔ یہی وہ دل ہیں جن پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ مہر لگنے کا مطلب ہے کہ وہ مکمل طور پر شیطان کے گروہ میں شامل ہو چکے ہیں۔ 
  • نیکی اور بدی کی کش مکش پر مبنی دل: تیسری طرح کے دل وہ ہیں جن کی کیفیات ملی جلی رہتی ہیں۔ ان میں نیکی اور بدی کی کش مکش جاری رہتی ہے۔ کبھی شیطان عقلی دلائل سے برائی میں کشش پیدا کرتا ہے اور کبھی دل اپنی اصلی فطرت کے ساتھ برائی سے منع کرتا اور نیکی میں کشش پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح نفس امارہ اور نفس لوامہ میں کش مکش جاری رہتی ہے۔ حتیٰ کہ سلیم الفطرت انسان نیکی پہ ثابت قدم ہو جاتا ہے اور برائی کی طرف جھکنے والا برے کام پر ڈٹ جاتا ہے۔ نیکی پہ قائم رہنے کی مسلسل کوشش اور جدوجہد سے کبھی نہ کبھی یہ دل ان خالص بندوں میں شامل ہو جاتا ہے جن کو کامیابی کی نوید سنائی جاتی ہے ،اور کمزور ایمان والا مسلسل بُرائی کرنے اور اپنے ضمیر کو سلا دینے کی بنا پر شیطان کے کارندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’(انجام کار) ان میں سے کوئی نیک بخت ہوگا کوئی بدبخت‘‘۔ (ھود۱۱:۱۰۵) 

شیطان کے اصل ہدف وہ دل ہیں جو ہر لمحہ اور ہروقت برسرِپیکار ہیں۔ ’کھینچے ہے مجھے کفر تو روکے ہے مجھے ایماں‘ کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کی اکثریت اسی گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ شیطان کی طرف سے خواہشاتِ نفس، دنیا کی محبت اور اس کی دل فریبیوں میں مگن ہوجانے کے لیے پھیلائے ہوئے خوب صورت جال، اور اللہ رب العزت کی طرف سے دل میں ڈالا گیا نیکی کا جذبہ و خیال، دونوں میں ایسی مسلسل کش مکش ہے کہ جس سے کسی کو مفر نہیں۔  

اللہ کے محبوب بندے 

اللہ تعالیٰ نے ’ضمیر‘ کی شکل میں انسان کو ایسا خیر خواہ عطا فرمایا ہے جو نیکی کی طرف اسے متوجہ ایسے کرتا ہے جیسے خوشبو کا جھونکا۔ اگر اس لمحے کو کھو دیا تو پھر شیطان اس نیکی کے خیال کو وسوسے کی نذر کر دے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ اور بندے کے درمیان حجاب آجائے گا۔ اس کا علاج یہ ہے:  

وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ۝۰ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝۲۰۰ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ۝۲۰۱ (الاعراف۷:۲۰۰-۲۰۱) اور اگر کبھی شیطان وسوسہ ڈال کر اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سب کچھ جاننے اور سننے والا ہے۔ حقیقت میں تقویٰ والے یہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں کہ کبھی شیطان کے اثر سے بُرا خیال ان کو چھو کر بھی گزرے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے؟ 

 شیطانی وساوس سے ہوشیار اور چوکنا رہنا، برائی کرنے سے باز آجانا یا برائی کرلینے کے بعد توبہ کرلینا‘ حتیٰ کہ نزع کے عالم سے پہلے پہلے ہی توبہ کی توفیق مل جانا بھی انسان کی کامیابی ہے۔ البتہ کامیاب لوگوں کے درجات ضرور مختلف ہوسکتے ہیں۔ بُرائی کا احساس چھو لینے پہ ہی دل توبہ کی طرف مائل ہو جائے تو یہ دراصل عظیم لوگوں کی نشانی ہے۔ ان لوگو ں کو غلطی یا گناہ کے چھوٹے ہونے کی بجائے اس اللہ ربّ العزت کے عظیم ترین مرتبے کا علم ہوتا ہے جس کی نافرمانی ہورہی ہوتی ہے۔ اسی لیے گناہ کا خیال آجانا بھی ان کے لیے باعثِ ندامت ہوتا ہے اور اس کے لیے بھی وہ اپنے ربّ سے معافی کے خواستگار رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ اپنے شایانِ شان جن سے محبت کرتا ہے۔ کسی سے گناہ سرزد ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ بندہ وہ ہے جو اپنے ربّ کے حضور فوراً معافی کی درخواست پیش کردے۔ وہ غفور و رحیم ہے۔ وہ اپنے بندوں کے گناہ معاف کرنے پر ہر لمحہ تیار ہے اور منتظر ہے کہ گنہگار اس کی طرف پلٹ آئیں: 

وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللہَ يَجِدِ اللہَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝۱۱۰ (النساء ۴:۱۱۰ ) جو شخص برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے تو اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔  

وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ۝۰۠ وَمَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۣ۠ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ۝۱۳۵  

(اٰل عمرٰن ۳:۱۳۵) جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا گناہ کربیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے اور اللہ سے استغفار کرتے ہیں۔ فی الواقع اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرسکتا ہے۔ (اور ان کی خوبی یہ ہے کہ ) اپنے برے کام پہ اصرار نہیں کرتے، اور جانتے بوجھتے بُرے کام کو کرنے پر ہٹ دھرمی اختیار نہیں کرتے۔  

گویا کہ اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ بندوں کی یہ نشانی ہے کہ وہ شیطانی طرز عمل اختیار کرتے ہیں، یعنی اپنے قصور کو نہ ماننا، شرمندہ نہ ہونا، اپنی غلطی کو درست قرار دینے کے لیے بے سروپا دلائل دینا، گناہ اور غلطی پہ استغفار نہ کرنا، بندوں سے معذرت کرنے کو حقیر جاننا، بدلحاظ و بے مروت ہوجانا، جانتے بوجھتے اپنی غلطی‘ نافرمانی اور گناہ پر اَڑ جانا۔ اس کے علاوہ شیطانی طرز عمل یہ بھی ہے کہ اپنی کمزوریوں، گناہوں اور جرائم کو افشا ہوتے دیکھ کر زخمی اَنا کے غرورِ نفس میں مبتلا ہو کر ظالمانہ رویہ اختیار کرلینا۔ ایسا خطرناک ہوجانا جیسا کہ زخمی سانپ خطرناک ترین ہو جاتا ہے۔ تکبر و غرور کے غبارے میں جب ہوا بھرجاتی ہے تو متکبرین میں شیطانی روح بدرجۂ اَتم بیدار ہو جاتی ہے ۔ حسد، بغض و عناد، انتقام، کینہ اسی تکبر کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ ان روحانی بیماریوں کے نتیجے میں انسان ذہنی امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ ذہنی ونفسیاتی بیماری بالآخر جسمانی آزار میں تبدیل ہو جاتی ہے۔  

قصۂ آدم و ابلیس میں انسانی زندگی کی تعمیر و تخریب کا یہی رازہے کہ اگر اولادِ آدم اپنے والدین (آدم و حوا) کے نقش قدم پر چلے گی، یعنی اللہ کی نافرمانی اور حقوق العباد میں کوتاہی ہو جانے کے بعد توبہ و انابت کا طرزِعمل اختیار کرے گی اور اپنی اصلاح کرلے گی، تو جنّت میں ان کے ساتھ رہے گی اور ان کے لیے مغفرت طلب کرنے والے فرشتے سلام و مرحبا کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے ۔اگر شیطان کا متکبرانہ طرزِ عمل اختیار کرے گی تو شیطان کے ساتھ جہنم کو اپنا ٹھکانہ پائے گی، کیونکہ ’’ہر شخص اپنے ہی کیے ہوئے اعمال کے بدلے گروی ہے‘‘۔ (المدثر ۴۷:۳۸) 

عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنّم بھی 
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے 

قسط اوّل کا خلاصہ: گذشتہ قسط میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اسلامی معاشیات سرمایہ دارانہ نظام کی محض اصلاح شدہ صورت نہیں، بلکہ ایک اصولی اور تہذیبی متبادل ہے۔ مغربی معاشی فکر کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ وہ مخصوص یورپی حوادث کی پیداوار ہے، نہ کہ کوئی ماورائے تاریخ آفاقی سائنس۔ نیز یہ کہ اسلامی معاشیات کا ظہور نوآبادیاتی دور کے بعد ایک زندہ اجتہادی ضرورت کے طور پرہوا، اور اس کی فکری تشکیل مختلف مراحل یا نسلوں سے گزرتی رہی ہے۔(مقدمہ:گذشتہ سے پیوستہ)  

۱- مغربی فکر کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ 

سردست یہ بات غیرضروری ___ بلکہ بعض کے نزدیک گمراہانہ ہوسکتی ہے کہ مسلمان مغربی سماجی نظریات کا مطالعہ کریں۔ اگر اسلامی تعلیمات زندگی کے تمام پہلوئوں پر جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اور اگر مغربی فلسفے اُن لادینی اُصولوں پر مبنی ہیں جو عموماً اسلامی اقدار سے متصادم ہیں، تو پھر ایسی فکری روایت کا مطالعہ کرنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے جس کی خامیاں پہلے سے واضح ہیں؟ 

یہ اعتراض اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، لیکن ایک نہایت اہم حقیقت کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ مغربی فکر صرف ایک عقلی نظریاتی نظام نہیں، بلکہ جدید دنیا کا معمار ہے۔ وہ ادارے، قوانین، معاشی ڈھانچے اور تعلیمی نظام جن کے ہاتھوں میں آج مسلم دنیا کی لگام ہے، ان سب کی بنیاد ان افکار پر ہے جو یورپ کے تاریخی تجربات کی کوکھ سے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا، کسی حقیقی اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ ان نظریات کو سمجھا جائے۔اس ضرورت کی کم از کم چار بنیادی وجوہ ہیں: 

الف: عالمِ اسلام میں نوآبادیاتی اداروں کی گہری بنیادیں  

یورپی نوآبادیات نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا، بلکہ مسلم معاشروں کے ادارہ جاتی ڈھانچوں کو اَزسرِ نو تشکیل دیا۔قانونی اصول و ضوابط بدلے گئے، تعلیمی نظام نئے سانچوں میں ڈھالے گئے، بیوروکریسی کے نئے طریقے متعین کیے گئے، اور معاشی پالیسیوں کو ازسرِ نو مرتب کیا گیا۔ اور یہ سب مغربی معیارات کے مطابق تشکیل دیا گیا۔آزادی کے بعد بھی یہ ادارے جوں کے توں برقرار رہے۔ ان کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھنے کی طرف ذرّہ برابر توجہ نہیں کی گئی۔  

اصل بات یہ ہے کہ ادارے کسی معاشرے کے اجتماعی مقاصد کو عملی صورت دیتے ہیں، اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ اختیار کس کے پاس ہو، وسائل کس سمت کا رخ کریں، اور نظم کس کے مفاد میں قائم رہے؟ نوآبادیاتی دور میں جو ادارے یہاں قائم کیے گئے، ان کا بنیادی مقصد ’وسائل اور محاصل کا اخراج‘ تھا یعنی ایسا انتظام جس کے ذریعے پیداوار، زمین اور محنت کے ثمرات نوآبادیاتی حکمرانوں تک منتقل ہوں۔ آزادی کے بعد ان اداروں کا رخ کم و بیش وہی رہا۔ اب محاصل اور وسائل کا بہاؤ بیرونی حکمرانوں کے بجائے اندرونی اشرافیہ (خصوصاً وہ طبقہ جو انھی اداروں کے اندر تربیت پاتا اور انھی کے ذریعے اقتدار پاتا ہے) کی طرف ہوگیا۔ ان اداروں کے مقاصد سے آگاہ ہوئے بغیر جب تک انھی کے سانچوں میں رہتے ہوئے ’اصلاح‘ کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، اسلامی اہداف کا حصول محدود یا بے معنی رہے گا۔ حقیقی اصلاح کا آغاز تو درست تشخیص سے ہوتا ہے۔ 

ب: سماجی نظریات اور اداروں کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت 

سماجی نظریات کا کام فقط تفہیمِ عصر حاضر میں معاونت کرنا نہیں ہے۔ وہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ ترقی کا معیار کیا ہے، کون سے نتائج مطلوب ہیں، اور کن ذرائع کو جائز سمجھا جائے گا؟ مثال کے طور پر مغربی معاشیات میں اکثر اوقات بنیادی مقصد ’تکثیرِ افادہ‘ یا ’شرحِ نمو‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ تصور ایسے ادارے پیدا کرتا ہے، جو انھی اہداف کی خدمت کرتے ہیں، جیسے بینک اور اسٹاک مارکیٹیں وغیرہ۔ جب یہ ادارے عوام کی رگ و پے میں سرایت کر جاتے ہیں، تو رفتہ رفتہ رویّے، توقعات اور اقدار بھی انھی کے مطابق ڈھلنے لگتی ہیں۔ 

اسلامی اقدار کا رخ بالکل مختلف ہے۔ اسلام میں دولت امانت ہے، ملکیت نہیں۔ معاشی سرگرمی کا مقصد عدل، باہمی منفعت اور سماجی فلاح ہونا چاہیے۔ اسلامی تہذیب کے ادارے زکوٰۃ، وقف، اخلاقی تجارت انھی اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہداف ان اداروں کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتے، جو سیکولر اور انفرادی مفادات کے حصول کے لیے بنے ہوں۔ 

آج کل کی غالب معاشی پالیسیوں میں کامیابی کا معیار عموماً مجموعی پیداوار اور دولت کے حجم میں اضافے کو سمجھا جاتا ہے ،جب کہ دولت کی منصفانہ تقسیم، بنیادی ضروریات کی فراہمی، اور کمزور و محروم طبقات کے حالات پس منظر میں رہتے ہیں۔اس کے برعکس اسلام میں معاشرہ اپنے ہر فرد کی کفالت کا اجتماعی طور پر ذمہ دار ہے، اور کسی نظام کی جانچ اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ کتنے لوگ بھوک، محرومی اور عدمِ تحفظ کا شکار رہے، اور یہ کہ وسائل عدل کے ساتھ پھیلے یا چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئے۔ 

اس رُخ کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ موجودہ معاشی نظام کن نظریات، معیارات اور ادارہ جاتی طریقوں کے ذریعے ہمارے اجتماعی شعور اور عملی فیصلوں کو ایک خاص سمت میں دھکیل رہا ہے۔ مغربی معاشیات اور اس سے وابستہ اداروں کا مطالعہ اسی تشخیص کے لیے ضروری ہے تاکہ اصلاح کی کوششیں محض نیک نیتی کا اظہار نہ رہیں، بلکہ درست ہدف کا رُخ کریں۔  

ج:منزل کے شعور سے حکمتِ عملی تـک: پہلا عملی قدم  

عصرِ حاضر کی اسلامی تحریکوں میں عموماً منزلِ مقصود کی تعیین و تو ضیح کی جاتی ہے۔ یعنی اس بات کے اظہار پر زور دیا جاتا ہےکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ کیسا ہونا چاہیے؟ اس کے اصول، خدوخال اور ثمرات کیا ہوں گے؟ یہ زور بجا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے مقصد کا واضح ہونا ناگزیر ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی برابر اہم ہے: ہم موجودہ حالات سے اُس منزل کی طرف پہلا قابلِ عمل قدم کیسے اٹھائیں؟ محض نقشۂ منزل کافی نہیں، راستے کی عملی ترتیب اور ابتدا کی سمت بھی متعین ہونی چاہیے۔  

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے خلافت کی بحالی کی دعوت ایک عمدہ مثال ہے۔ اس کے حامیان اس کی شرعی بنیادوں اور تاریخی افادیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ پہلو اپنی جگہ اہم ہے، مگر آج کی دُنیا میں اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں اس سمت بڑھنے کے ابتدائی عملی اقدامات کیا ہوسکتے ہیں؟ آج امت سیاسی سرحدوں، ریاستی مفادات، اور قومیت کے سانچوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس منتشر صورتِ حال کو نظرانداز کر کے وحدت کی کوئی بھی عملی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ وحدت کا راستہ تبھی نکل سکتا ہے جب ہم رکاوٹوں کو دُور کرنے کے لیے تدریجی اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں۔ 

اس تناظر میں سب سے بڑی رکاوٹ جدید قومی ریاست کا وہ تصور ہے، جو موجودہ عالمی نظام کی بنیاد بن چکا ہے اور جس نے مسلمانوں کے اجتماعی شعور اور سیاسی امکانات کو سرحدوں کے اندر محصور کر دیا ہے۔ اس لیے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم ایسی فکری اور ادارہ جاتی صورتیں تلاش کریں، جو ان حد بندیوں سے بلند ہو کر امت کے باہمی ربط اور تعاون کو مضبوط کریں، مثلاً علمی مکالمہ، مشترکہ عوامی شعور کی تشکیل، باہمی تعاون کے سلسلے، اور مشترکہ مقاصد پر عملی اشتراک۔ عويمر انجم کی اُمّاتکس جیسی کاوشیں اسی سمت اشارہ کرتی ہیں کہ آج وحدت کا سوال نئے فکری سانچوں اور نئے عملی راستوں کا متقاضی ہے۔ 

یہاں اصلاح کے باب میں ایک بنیادی امتیاز کو سمجھنا ضروری ہے، اور وہ ہے منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا فرق۔ منصوبہ بندی میں منزل متعین کر کے وہاں تک پہنچنے کے مراحل ترتیب دیے جاتے ہیں، مگر حکمت عملی اس وقت ناگزیر ہو جاتی ہے جب راستے میں فعال مزاحمت موجود ہو، یعنی ایسے مفادات، ادارے اور طاقت کے مراکز جو تبدیلی کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف ردِ عمل دکھائیں۔ یہ شطرنج کی بساط کی مانند ہے، اپنی چال سوچنا کافی نہیں، بلکہ مخالف کی ممکنہ چالوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔اسی لیے حقیقی اصلاح کا آغاز صرف اس سوال سے نہیں ہوتا کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں، طاقت کے مراکز کہاں ہیں، اور موجودہ نظام کن فکری مفروضات اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کے ذریعے خود کو قائم رکھے ہوئے ہے؟ جب تک جدید بندوبست بالخصوص ریاست، معیشت اور علم کے مغربی سانچوں کی قوت و کمزوری کی درست تشخیص نہ کی جائے، نہ کوئی مؤثر منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ قابلِ عمل حکمت عملی۔ اسی لیے مغربی فکر اور موجودہ نظام کا مطالعہ محض نظری مشغلہ نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی اور ناگزیر ضرورت ہے۔ 

د: تعلیم کے تقاضے اور حکمتِ عملی 

جدید تعلیمی نظام عموماً اس نہج پر استوار ہے کہ وہ مغربی سماجی علوم کو ’معروضی‘، ’قدر سے ماورا‘ اور ’آفاقی حقیقت‘ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس عمل میں طلبہ صرف چند نظریات یا اصطلاحات نہیں سیکھتے، بلکہ رفتہ رفتہ ایک خاص تصورِ علم بھی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ ایسا تصور جس کے تحت اجتماعی زندگی کی تشکیل مذہبی و اخلاقی رہنمائی کے بجائے ایک نام نہاد غیرمذہبی ’عقل‘، تکنیکی مہارت اور پالیسی ساز اداروں کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ اسی ذہنی سانچے میں اسلامی متبادل اکثر یا تو محض ایک جذباتی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے، یا مغربی اداروں پر ایک سطحی سا ’اسلامی ملمّع‘ چڑھا دینے کی کوشش۔ 

اس فکری گرفت سے نکلنے یعنی حقیقی فکری آزادی اور تخلیقی متبادل کی صلاحیت پیدا کرنے کا ایک مؤثر راستہ یہ ہے کہ مغربی نظریات کو ان کے تاریخی پس منظر میں سمجھا جائے۔ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ یورپ میں یہ تصورات کن حالات میں ابھرے (مذہبی تنازعات، کلیسائی اقتدار، ریاستی تشکیل، سرمایہ داری کا فروغ، اور ایک ’سیکولر‘ اجتماعی نظم کی جستجو) تو ’آفاقیت‘ کا طلسم خود بخود ٹوٹنے لگتا ہے۔ نظریات ’ہمیشہ کے لیے سچ‘ نظر آنے کے بجائے اپنے عہد کے مخصوص سوالات کے جوابات بن کر سامنے آتے ہیں۔ اسی تاریخی شعور سے یہ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ بہت سے مغربی حل ہماری اجتماعی صورتِ حال پر جوں کے توں لاگو نہیں ہو سکتے، کیونکہ ہمارے ہاں علم اور وحی کے درمیان وہ تصادم کبھی اسی صورت میں موجود نہیں رہا جس کی وجہ سے یورپ میں ’لادینی نظمِ اجتماع‘ ناگزیر شکل اختیار کر گیا۔  

اسی لیے تعلیم کا بنیادی فریضہ یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ کو تربیت دی جائے کہ وہ نظریات کو تاریخی تناظر میں پرکھ سکیں، ان کے اخلاقی اور سیاسی مفروضات کو پہچانیں، اور یہ سمجھ سکیں کہ وہ کن اداروں اور کن عملی نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی نصاب سازی اور نئے علمی بیانیوں کی ضرورت بھی ناگزیر ہے۔ ایسے بیانیے جو اسلامی نقطۂ نظر کو محض ردِّ عمل یا تقلید کے طور پر نہیں، بلکہ ایک خود مختار، اصولی اور ہمہ گیر فکری نظام کے طور پر پیش کریں، اور اسی بنیاد پر ادارہ سازی کی راہیں ہموار کریں۔ 

سیاسی اور سماجی حکمتِ عملی بھی اسی فکری پختگی پر قائم ہوتی ہے۔ پائیدار اصلاح نہ محض خواہش سے جنم لیتی ہے اور نہ محض مذمت سے۔ اس کے لیے درست تشخیص، تدریجی پیش رفت، اور صبر آزما ادارہ جاتی عمل درکار ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسے ادارے کیسے تشکیل دیں جو اسلامی مقاصد یعنی عدل، کفالت، امانت اور فلاحِ عامہ وغیرہ کو جدید دنیا کی پیچیدگیوں میں بھی مؤثر صورت دے سکیں؟ 

اسی زاویۂ نظر سے کتاب کے آئندہ ابواب میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ مسلمان مفکرین نے مختلف ادوار میں کس طرح ایک ایسی اسلامی معیشت کی تشکیل کی کوشش کی، جو شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور عصرِ حاضر کے عملی تقاضوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ یہ فکری سفر تین بڑے مراحل یا نسلوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک نے اپنے تاریخی سیاق میں اسلامی معاشیات کی تعمیر میں حصہ ڈالا اور مستقبل کے لیے اہم اسباق چھوڑے۔ 

۷- مخاطَب کی تبدیلی اور فکری تناظر کی توضیح (اسلام اور مغربی روایت) 

جیساکہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ اس تحریر کے اوّلین مخاطب سیکولر افراد اور انگریزی خواں طبقے تھے، بالخصوص وہ لوگ جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ اس کا مقصد اسلام کا وہ مثبت اور متوازن تصور پیش کرنا تھا، جو اسلامی فکر، انسانی سماج کی تنظیم کے معروف مغربی طریقوں کے مقابل ایک مربوط اور اصولی متبادل فراہم کرتا ہے۔ اسی غرض سے یہ بھی واضح کیا کہ اسلامی معیشت اخلاقی بنیادوں پر قائم اُن مغربی روایتوں سے بھی ہم آہنگ ہےجو، روشن خیالی کی لادینی فکری لہر سے قبل، انسانی زندگی کے روحانی و اخلاقی پہلوؤں کو اجتماعی فلاح کا حصہ سمجھتی تھیں۔ یوں اس کتاب نے مغربی قارئین کو یہ دعوت دی کہ اسلام کو اجنبی نہ سمجھیں، بلکہ انسانیت کی اُس مشترکہ جستجو کے شریک کے طور پر دیکھیں جو عدل، امن اور صداقت کی تلاش میں مصروف ہے۔ 

البتہ اس اردو ترجمے کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے، یعنی وہ مسلمان جو اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ عصرِ حاضر کے سنگین معاشرتی اور معاشی مسائل میں اسلامی اصول کس طرح راہنمائی کر سکتے ہیں؟ 

اس حلقۂ قارئین کے لیے اسلام کی معنویت پر از سرِ نو دلیل قائم کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ تاہم، ان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ موجودہ حالات کی تنگنائیوں میں رہتے ہوئے ایک عادلانہ اور اخلاقی معاشی نظام کی تشکیل میں اسلامی اصول و قوانین کیسے ہمارے ہادی بن سکتے ہیں؟ اس طرح یہ کتاب مسلمان مخاطبین کی معاونت کرے گی اور انھیں بتلائے گی کہ خود ان کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ وہ مغربی فکر کو سمجھیں اور یہ جان سکیں کہ وہ انسانی فطرت سے کب اور کیوں جدا ہوئی؟ 

اس مطالعے کے ذریعے یورپ کے مذہب سے بیزاری کے سفر اور اس کے نتیجے میں سیکولر نظریات کے ظہور سے واقف ہونے پر، مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ مغربی معیشت کوئی آفاقی سائنس نہیں، بلکہ یورپ کے مخصوص بحرانوں کا ایک مقامی ردِعمل ہے۔ یہ ادراک مسلمانوں کے اندر اپنے فکری ورثے پر اعتماد کی نئی راہیں کھولے گا، اور انھیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ اسلامی معیشت دراصل ایک خودمختار اور جداگانہ روایت ہے، نہ کہ مغربی نظام کی کوئی شاخ یا ذیلی شکل۔ 

دونوں نظاموں کے مابین تفاوت اصولی درجے کا ہے۔ اس اختلاف کی گہرائی کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: جب یورپ نے مذہب اور خدا کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر دیاتو وہاں کے اہلِ نظر کے حلقوں میں یہ رجحان مضبوط ہوگیا کہ ’’انسانی کامیابی کا معیار دنیاوی منفعت، لذت اور خواہشات کی تکمیل ہے‘‘۔ یہی مفروضہ مغربی معیشت کے قلب میں پیوست ہے، اور اسی نے انسانی رویّے اور معاشرتی ترقی سے متعلق تمام مغربی نظریات کو تشکیل دیا ہے۔ 

اس کے برعکس قرآن لذت کی طلب کو ’نفس پرستی‘ کہہ کر رَد کرتا ہے، اور انسان کو بلند تر مقاصد یعنی ’’عدل، جذبۂ رحم، روحانی بلندی اور بندگیِ خدا کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ یہی بنیادی اختلاف اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ’اسلامی معیشت‘ اور ’سرمایہ دارانہ معیشت‘ محض ایک ہی نظام کے دو رُخ نہیں، بلکہ ایک دوسرے سے براہِ راست متضاد تصورات ہیں۔ 

اس پورے مباحثے میں یہ کلیدی نکتہ ذہن سے محو نہیں ہونا چاہیے کہ افکار کو تاریخی تناظر میں سمجھنا ناگزیر ہے۔ جس طرح مغربی نظریات یورپ کے اپنے داخلی بحرانوں کا جواب تھے، اسی طرح اسلامی اقتصادیات جدید دور میں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایک خالص اسلامی متبادل کی گنجائش نہ صرف واضح بلکہ ممکن اور ناگزیر دکھائی دینے لگتی ہے۔ 

۸-اسلامی اقتصادیات: تعریف، ماخذ اور تاریخی ظہور 

’اسلامی معاشیات‘ سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت کی دائمی ہدایات (عدل، امانت، تعاون، اور ظلم کی ممانعت) کو عصرِ حاضر کے نئے معاشی حالات میں کس طرح نافذ کیا جائے کہ دولت کی پیداوار اور تقسیم انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ’اسلامی معاشیات‘ محض ’جدید مغربی معیشت‘ کی کوئی ’اسلامی شکل‘ نہیں، اس کے اصول قدیم اور ابدی ہیں، مگر ان اصولوں کو جدید مالیاتی اداروں، کرنسی، بنکاری اور عالمی منڈی کے ماحول میں برتنے کے لیے اجتہادی بصیرت درکار ہے۔ اس پس منظر میں یہ اصطلاح جدید ضرور ہے، لیکن اس کی روح اسلام کے آغاز ہی سے موجود ہے۔ 

’اسلامی معاشیات‘ کا ظہور اچانک یا حادثاتی طور پر بھی نہیں ہوا ہے، بلکہ ماضیِ قریب میں کچھ ایسے حالات پیش آئے جن سے نپٹنے کے لیے دھیرے دھیرے اس کی صورت گری ہوتی رہی۔ ماضی قریب میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ امت کی عظیم اکثریت نوآبادیاتی تسلط کے زیرِ نگیں آگئی، اور وہ معاشی و سماجی ادارے شکست و ریخت کا شکار ہوگئے، جو صدیوں سے اسلامی معاشرے کے مقاصد اور اقدار کو مجسم کیے ہوئے تھے۔ نوآبادیاتی استعمار سے آزادی کے حصول کے بعد اس امر پر غور و فکر کرنے کا داعیہ پیدا ہواکہ معیشت کا نظم کس بنیاد پر استوار کیا جائے؟یہی وہ لمحہ تھا جب ’اسلامی معاشیات‘ ایک بامعنی اور منظم سوال کی صورت میں ابھری: جدید ریاست، کرنسی، بنکاری، عالمی منڈی اور نوآبادیاتی ورثے کے درمیان ہوتے ہوئے اسلامی اصولوں کے مطابق معاشی نظام کیسے تشکیل دیا جائے؟ 

یہی وہ کام تھا جس کا بیڑا ’اسلامی معاشیات‘ کی پہلی نسل نے اٹھایا یعنی اسلامی معاشرے کے معاشی خدوخال اور اس کی سمت کا تعین کرنا۔ مگر اس راستے میں جو رکاوٹیں اور پیچیدگیاں سامنے آئیں وہ اتنی نئی اور گنجلک تھیں کہ ماضی کا ذخیرۂ علم جوں کا توں کافی نہ رہا، اور نئے اجتہادی سوالات ناگزیر ہو گئے۔ 

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری خاکہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی رہنمائی سے جنم لینے والی ایک زندہ و آزمودہ تہذیبی روایت ہے،جس نے صدیوں تک مسلم معاشروں کی اجتماعی تنظیم کی۔ زکوٰۃ، صدقات، حقوقِ قرابت، بیت المال، بازار کی نگرانی، اور بالخصوص اوقاف جیسے ادارے اسی رہنمائی کی عملی صورتیں تھے۔ انھی کے ذریعے کمزور طبقات (غریبوں، یتیموں، بیواؤں، مسافروں) کی کفالت معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ تعلیم، علاج، پانی، اور دیگربنیادی سماجی خدمات بڑے پیمانے پر خیراتی اور وقف نظام کے تحت فراہم کی جاتیں۔ عثمانی دور میں سرکاری کھاتوں میں درج اراضی کا ایک تہائی حصہ وقف تھا، اور انھی اوقاف کے سہارے مدارس، شفاخانوں، لنگر خانوں، مسافر خانوں اور رفاہی اداروں کا ایک وسیع جال قائم رہا۔ اس تاریخی تجربے کی روشنی میں اسلامی معاشیات کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ دولت محض ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ ایک امانت ہے، جس کے ذریعے معاشرے میں عدل اور کفالت کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ 

اس کے برعکس جدید مغربی معاشیات کی فکری بنیاد اس تاریخی مرحلے میں پڑی جب یورپ نے اجتماعی زندگی کی تنظیم کے لیے مذہبی ہدایت کو خیرباد کہہ کر نام نہاد ’قدر سے ماورا عقل‘ کو رہنما بنالیا۔ جب خدا، آخرت اور یومِ حساب کو اجتماعی نظمِ حیات سے خارج کر دیا گیا، تو دنیاوی کامیابی (منفعت، لذت اور اقتدار) رفتہ رفتہ مقصدِ حیات بنتی چلی گئی، اور یہی ترجیحات جدید معاشی نظریے کے بنیادی مفروضات میں سرایت کر گئیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ ’معاشرے‘ کا تصور بھی بدل گیا۔اسلامی روایت میں اہلِ ایمان کو ایک جسم کی مانند سمجھا جاتا ہے، جہاں ایک عضو کی تکلیف پورے بدن کی تکلیف شمار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید مغربی تصور میں سماج ایسے افراد کا مجموعہ ہے جو کسی مشترک اخلاقی مقصد پر متفق نہیں ہوتا، وہ محض ایک معاہدے کے تحت یہ طے کرتا ہے کہ باہم رہتے ہوئے کن قانونی قواعد کی پابندی کی جائے۔ 

اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی معاشیات اور سرمایہ دارانہ معاشیات کا اختلاف محض چند مالی احکام یا تکنیکی تفصیلات تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کی ساخت، اجتماعی ذمہ داری اور مقصدِ زندگی کے بارے میں دو بنیادی اور متضاد تصورات پر قائم ہے۔ ایک تصور وہ ہے جو تعاون، کفالتِ عامہ اور اجتماعی خیر کے لیے ذاتی مفاد کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور دوسرا تصور وہ ہے جو مسابقت، انفرادیت، اور دنیاوی منفعت و لذت کو پورے نظام کی محرک قوت بنا دیتا ہے۔ 

۹- اسلامی معاشیات کی علَم بردار تین نسلیں 

سیاسی آزادی کے بعد مسلم دنیا کو ایک نیا مسئلہ درپیش ہوا۔ اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجتماعی زندگی کے بڑے ادارے (ریاست، قانون، عدلیہ) معیشت اور تعلیم کئی نسلوں تک غیر اسلامی سانچوں میں ڈھل چکے تھے، اور یہی سانچے اب’معمول‘ بن کر ذہنوں میں بھی بیٹھ گئے تھے۔ آزادی کے بعد مسلمان مفکرین کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا: اسلامی معاشرہ دوبارہ کیسے قائم کیا جائے؟ 

اسی سوال کے جواب میں پچھلے چند عشروں میں اسلامی معاشیات کی فکری و عملی کاوشیں مختلف صورتوں میں سامنے آئیں۔حالات بدلتے رہے، تجربات کے نتائج ظاہر ہوتے گئے، اور اسی کے ساتھ مختلف مناہج بھی ارتقا پذیر رہے۔ سہولت کے لیے ان کاوشوں کو ہم تین نمایاں فکری مراحل یا ’تین نسلوں‘ میں تقسیم کر سکتے ہیں: پہلی نسل نے ایک اصولی اور انقلابی متبادل پیش کیا، دوسری نے موجودہ نظام کے اندر رہ کر تدریجی اصلاح کا راستہ اپنایا، اور تیسری نے دوبارہ بنیادوں کی طرف رجوع کرتے ہوئے نیچے سے ادارہ سازی کے ذریعے متبادل تعمیر پر زور دیا۔ 

پہلی نسل  (۱۹۵۰ء- ۱۹۷۵ء ) 

دو عظیم عالمی جنگوں نے یورپ کے لاکھوں نوجوانوں کو نگل لیا، اور نوآبادیاتی طاقتوں کو عسکری و معاشی لحاظ سے مضمحل کر کے رکھ دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب ایشیا اور افریقہ میں آزادی کی تحریکوں کو کامیابی کا راستہ ملا، اور بعد کے عشروں میں متعدد مسلم معاشرے اپنی خودمختاری واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 

اس مرحلے پر اسلامی معیشت کے علَم بردار اہلِ دانش کی پہلی نسل سامنے آئی، اور انھوں نے سرمایہ داری، اشتراکیت اور کمیونزم کے مقابل اسلامی معیشت کو ایک انقلابی متبادل کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے مغربی معاشرتی و معاشی نظاموں پر بصیرت افروز تنقید کی، اور قرآن، سنت اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں عہدِ حاضر کے لیے ایک عادلانہ اور منصفانہ خاکہ پیش کیا، جس کے ذریعے نوآبادیاتی مظالم اور معاشی استحصال سے نجات کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔ 

لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سیاسی آزادی تو حاصل ہو گئی ، مگر اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب پھر بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ نوآبادیاتی راج اپنے پیچھے ایک ایسا مضبوط طبقہ چھوڑ گیا جو مقامی ضرور تھا، مگر ذہناً اور عملاً استعماری مفادات کا خادم تھا۔ یہ وہ سامراج نواز طبقہ تھا، جو اقتدار، دولت اور مفادات کی لالچ میں استعمار کی فکری و اخلاقی وفاداری کا دم بھرتا تھا۔ آزادی کے بعد بھی یہی طبقہ سیاست، بیوروکریسی، فوج اور معیشت کے کلیدی مناصب پر قابض رہا۔ ان کی وفاداری اپنی قوم سے نہیں بلکہ مغرب کی اقدار و معیارات سے تھی۔ اسی لیے اسلامی متبادل کے قیام کی ہرکوشش کے آگے بند باندھے گئے۔ اس حقیقت نے یہ واضح کر دیا کہ محض فکری برتری یا اخلاقی اپیل سے نظام تبدیل نہیں ہوتا، اس کے لیے سیاسی اور ادارہ جاتی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ یوں جدوجہد کا رخ اقتدار کے حصول کی طرف مڑا، مگر طاقت کے ناہموار توازن اور اندرونی و بیرونی مفادات کی مزاحمت نے ان کوششوں کو بڑی حد تک ناکام یا محدود کر دیا۔ 

چنانچہ پہلی نسل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے اسلامی معیشت کے اصولی خدوخال واضح کیے اور ایک واضح متبادل کا فکری نقشہ پیش کیا۔ مگر یہی مرحلہ اس ادراک پر بھی منتج ہوا کہ طاقت کے موجودہ توازن میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی ممکن نہیں اور یہیں سے دوسری نسل کی تمہید بندھی۔ 

دوسری نسل (۱۹۷۵ء- ۲۰۰۸ء) 

جب عمل کے میدان میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی کی راہ مسدود نظر آئی تو بہت سے اہلِ علم اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے بتدریج اصلاح کی جائے۔اس منہج کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ’اسلامی معاشیات‘ کو ’سرمایہ دارانہ معاشیات‘ کی ایک ’اصلاحی صورت‘ میں ڈھالا جاسکتا ہے: lجو اجزا اسلام سے ہم آہنگ ہوں انھیں قبول کر لیا جائےl جو جزوی تعارض رکھتے ہوں ان میں مناسب ترمیم کی جائے، اور l جو صریحاً خلافِ شریعت ہوں انھیں ترک کر دیا جائے۔ یہ راستہ بظاہر اس لیے بھی قابلِ عمل دکھائی دیتا تھا کہ جدید معاشیات نے صدیوں کی ریاضت سے بہت سا علمی و فنی مواد، تجزیاتی آلات، ادارہ جاتی تجربات اور فنی مہارتوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔ چنانچہ ’اَزسرِ نو تعمیر‘ کے بجائے ’اصلاح و تطبیق‘ کو زیادہ حقیقت پسندانہ حکمت عملی سمجھا گیا۔ اسی دور میں اسلامی بنکاری اور مالیاتی اداروں کی متعدد صورتیں سامنے آئیں۔ 

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ اس منہج کی حدود بھی نمایاں ہونے لگیں۔ جدید معاشیات کے بعض بنیادی مگر دقیق مفروضات مثلاً منفعت کو مرکزی محرک ماننا، فرد کو بنیادی اکائی سمجھنا، اور اداروں کو منافع کے تابع رکھنا اکثر صورتوں میں جوں کے توں برقرار رہے۔ نتیجتاً کئی اصلاحات ظاہری صورت سے آگے نہ بڑھ سکیں اور اصل روح پوری طرح منتقل نہ ہو سکی۔دوسری طرف خود سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی بحران بالخصوص ۰۸-۲۰۰۷ء کے عالمی مالیاتی بحران نے یہ حقیقت پوری شدت سے آشکار کر دی کہ ’’مسئلہ محض جزوی اصلاحات کا نہیں، بلکہ نظام کی ساخت اور بنیادوں سے جڑا ہوا ہے‘‘۔ 

تیسری نسل (۲۰۰۸ء - تاحال)  

ان تجربات کے بعد مفکرین کی ایک نئی لہر سامنے آئی، جس نے سوال کو ایک بار پھر بنیاد سے اٹھایا: اگر بنیاد ہی درست نہ ہو تو عمارت میں جزوی ترمیم کیسے کافی ہو سکتی ہے؟ چنانچہ تیسری نسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ ’’اسلامی معاشیات کو سرمایہ دارانہ نظام کی کسی شاخ یا ترمیم کے طور پر نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے اخلاقی اور سماجی اصولوں کی بنیاد پر ازسرِ نو تعمیر کرنا ہوگا‘‘۔ 

البتہ اس بار منہج قدرے مختلف ہے۔ ریاستی طاقت کے زور پر اوپر سے تبدیلی نافذ کرنے کے بجائے، توجہ نیچے سے (برادریوں، مقامی اداروں، اور عملی نمونوں کی) تعمیر پر ہو، تاکہ ایک متبادل نظم بتدریج پروان چڑھے اور وقت کے ساتھ وسیع تر سطح پر اثر انداز ہو۔ اس نسل کے نزدیک ’’اسلامی معاشیات، سرمایہ داری کی پیوندکاری یا محض ایک نظری منصوبہ نہیں، بلکہ اصولی طور پر سرمایہ داری سے مختلف ایک جامع نظمِ حیات، کامل نظامِ فکر اور ادارہ سازی کا ایک زندہ عملی نمونہ ہے، جس کی بنیاد عدل، تعاون، کفالتِ عامہ اور اللہ کے حضور جواب دہی جیسے تصورات پر ہے‘‘۔  

اس طرح یہ کتاب فکری اعتبار سے دوسری اور تیسری نسل کے درمیان ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اُس دور میں لکھی گئی جب اصلاحی منہج غالب تھا، مگر اس نے اسی تناظر میں ’جزوی اصلاح‘ کی حدود واضح کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اسلام اور سرمایہ داری کا اختلاف محض چند احکام کا نہیں بلکہ بنیادوں کا ہے۔ یہی ادراک بعد ازاں تیسری نسل کی فکری سمت کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ 

اختتامی کلمات اور دعوتِ مطالعہ 

اس تمہیدی مقالے میں چند بنیادی نکات واضح کیے گئے ہیں:  

  • اوّل یہ کہ جدید مغربی معاشیات اگرچہ اپنے آپ کو ایک ’آفاقی علم‘ کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر اس کی فکری جڑیں یورپ کے مخصوص تاریخی تجربات اور مخصوص مقاصدِ حیات میں پیوست ہیں۔  
  • دوم یہ کہ اسلامی معاشیات محض چند مالی احکام یا تکنیکی ضوابط کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی روایت ہے، جس نے صدیوں تک مسلم معاشروں میں اجتماعی ذمہ داری، کفالتِ عامہ اور عدل کے اداروں کو عملی صورت دی۔ اور،  
  • سوم یہ کہ نوآبادیاتی تسلط اور ادارہ جاتی انہدام کے بعد، جدید دور میں اسلامی بنیادوں پر معاشرتی و معاشی تعمیرِ نو ایک ناگزیر سوال بن کر سامنے آیا اور اسلامی معاشیات کی فکر اسی سوال کے جواب میں مختلف مرحلوں سے گزرتی ہوئی تشکیل پاتی رہی۔ 

اس مفصل مقدمے کے بعد اب اصل متن کا آغاز ہوگا۔ آئندہ اقساط میں یہ کتاب بتدریج اس بنیادی سوال کے گرد گردش کرے گی کہ بدلتے ہوئے معاشی حالات میں قرآن و سنت کی ہدایات کو عملاً کیسے برتا جائے، یعنی ایسے ادارے اور ایسے پیمانے کیسے قائم ہوں جو دولت کو مقصد نہیں بلکہ امانت سمجھیں، جو معیشت کو محض پیداوار کا نظام نہیں بلکہ اخلاقی نظمِ حیات کا حصہ مانیں، اور جن کی کامیابی کا معیار یہ ہو کہ معاشرے میں کتنے لوگ محرومی سے بچے، کمزور کس حد تک محفوظ ہوئے، اور عدل کہاں تک قائم ہو سکا۔ 

ہر قسط کے ساتھ تشریحی حواشی بھی شامل کیے جائیں گے، تاکہ قاری اس بحث کے تاریخی پس منظر، فکری حوالوں اور عصرِ حاضر سے اس کے ربط کو واضح طور پر دیکھ سکے۔ یوں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری مشق نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ بندوبست کی درست تشخیص کے بغیر نہ درست راستہ متعین ہوتا ہے، نہ مؤثر حکمت عملی وجود میں آتی ہے۔ 

ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ اس سلسلے کو توجہ اور غور کے ساتھ پڑھیں، سوالات اٹھائیں، اور اپنے علمی و فکری حلقوں میں اس پر گفتگو کریں، تاکہ اسلامی معاشیات محض ایک اصطلاح نہ رہے، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور اور ادارہ سازی کے عمل میں زندہ اور رہنما قوت بن سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے جس کی روشنی میں ہمیں حق ہمیشہ حق اور باطل ہمیشہ باطل نظر آئے اور ہمیں حق کی پیروی اور باطل سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین ! 

ہر قسم کی بڑائی اور فخر صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جو زمین و آسمان کا مالک، جن و انس، نباتات و جمادات، حیوانات و حشرات کا خالق، یومِ جزا کا منصف اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔ وہ ذات جو ہر شے پر قادر، ہر دل کے بھید سے واقف اور ہر عمل کا حساب لینے والی ہے۔ جب انسان کو خالق نے مٹی سے بنایا، وہ مٹی میں لوٹ جائے گا اور اسی مٹی سے دوبارہ اٹھایا جائے گا، تو اسے کس بات کا گھمنڈ؟  مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْہَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً اُخْرٰى۝۵۵ (طٰہٰ۲۰: ۵۵) ’’ہم نے تمھیں اسی زمین سے پیدا کیا، اسی میں تمھیں واپس کریں گے اور اسی سے تمھیں دوبارہ نکالیں گے‘‘۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۝۲۳ (النحل۱۶:۲۳) ’ ’وہ ہرگز ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو تکبر اور غرور میں مبتلا ہوں‘‘۔  

 یہ زمین کئی متکبروں کے انجامِ بد کی گواہ ہے، جن کو اللہ نے رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا دیا۔ وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ۝۰ۣ وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مُّوْسٰي بِالْبَيِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانُوْا سٰبِقِيْنَ۝۳۹ۚۖ (العنکبوت۲۹:۳۹) ’’اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسٰی اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انھوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے‘‘۔ 

 اللہ رب العزت نے اپنے صالح بندوں کے لیے حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت کے انداز میں ارشاد فرمایا: وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ۝۱۸ۚ وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ۝۰ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ۝۱۹ۧ (لقمان۳۱: ۱۸-۱۹)’’اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے‘‘۔ 

 اسی طرح سورۂ فرقان میں ارشاد ہے: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا  (الفرقان۲۵:۶۳) ’’رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور انکساری سے چلتے ہیں‘‘۔ تکبر کی جڑ ایمان کی کمزوری اور دل سے اللہ کی عظمت کا شعور ختم ہونا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو، اور وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ: ۴۱۷۳)  

تکبر کی صورتیں 

  • علم کا غرور: علم کا غرور انسان کو اس فریب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ کامل ہو گیا ہے۔ حالانکہ علم کی حفاظت کرنے والا دماغ خود اس کی صحت کی ضمانت نہیں رکھتا۔ چند کتابوں کا مطالعہ کرلینے سے بعض افراد دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ علم سے حقیقی طور پر فیض یاب نہیں ہوئے۔ سچا علم تو وہی ہے جو انسان کو عاجزی سکھائے اور اسے اللہ کی بندگی کی طرف راغب کرے۔ جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’علم عاجزی پیدا کرتا ہے، اور جہالت تکبر‘‘۔ 
  • عبادت کا غرور: یہ غرور بڑے بڑوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ جب کوئی شخص خود کو عظیم عابد سمجھنے لگتا ہے، تو اس کی شخصیت اور عبادت کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ وہ عبادت جو فخر جتانے کے لیے کی جائے، اللہ کے حضور مقبول نہیں ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تین چیزیں ہلاکت کا باعث ہیں: چھپی ہوئی خواہش، حرص کی پیروی اور اپنی ذات پر فخر‘‘۔ (شعب الإيمان: ۵۵۳۹)  

عبادت کا مقصد صرف قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ (الانعام۶: ۱۶۲) ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے‘‘ ہونا چاہیے۔ ایسی عبادت سے معاشرے پر رحمت نازل ہوتی ہے، ورنہ عبادت کے غرور میں مبتلا شخص سے نحوست ٹپکتی ہے۔ مال و دولت، عہدہ و منصب، حُسن و جمال، یہ سب عارضی نعمتیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ چیزیں کسی کے پاس مستقل نہیں رہتیں۔ خلفائے راشدین سے لے کر یزید اور حجاج تک، سخی و منصف سے لے کر ظالم و جابر تک، اقتدار ہر طرح کے لوگوں کے ہاتھ آیا، مگر نہ کوئی ہمیشہ قائم رہا اور نہ ہمیشہ اقتدار ان کے پاس رہا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۝۱۸۵ (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵) ’’رہی یہ دُنیا تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے‘‘۔ جو چیز فانی ہے، اس پر غرور صرف نادان ہی کر سکتا ہے۔  

  •  حسب و نسب کا غرور: حسب و نسب پر فخر کرنا بے معنی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ جن کا شجرہ امراء و رؤسا سے ملتا تھا، مگر وہ وقت کی ستم ظریفی یا ظلم کی وجہ سے نیست و نابود ہوگئے۔ آج کئی شہزادوں اور شہزادیوں کے شجرے مغلیہ سلاطین سے ملتے ہیں، مگر وہ بنگال کی کچی بستیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔حسب و نسب کی بڑائی پر غرور بے معنی عمل ہے۔  
  •  صلاحیتوں کا غرور: عصرِ حاضر میں بعض لوگ اپنے خیالات اور تصوّرات کو کلیدی سمجھ کر فخر کرتے ہیں۔ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے مشورے کے بغیر کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ مرض بڑی کمپنیوں سے لے کر چھوٹے بازاروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی طرح بعض واعظ اپنی خطابت کو ہی محراب و منبر کی روح سمجھتے ہیں۔ صلاحیتوں پر غرور بھی نقصان دہ ہے۔ ہماری صلاحیتیں اللہ کی امانت ہیں، جنھیں اخلاص اور ریاکاری سے پاک ہو کر ادا کرنا ضروری ہے۔  
  • معاشرتی رجحانات میں تکبر: آج کے دور میں سوشل میڈیا اور معاشرتی دباؤ نے تکبر کی نئی صورتیں جنم دی ہیں۔ لوگ اپنی ظاہری شخصیت، لباس، طرزِ زندگی اور سماجی حیثیت کو نمایاں کر کے دوسروں پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رجحانات انسان کو اپنی اصل حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى۝۶ۙ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى۝۷ۭ( العلق۹۶: ۶-۷)’’ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے اس بناپر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے‘‘۔ یہ گمانِ بے نیازی ہی انسان کو تکبر کی طرف لے جاتا ہے۔ 
  • تکبر کا نفسیاتی اور معاشرتی نقصان:تکبر نہ صرف روحانی زوال کا باعث ہے بلکہ نفسیاتی اور معاشرتی نقصانات کا بھی پیش خیمہ ہے۔ متکبر شخص اپنی خود ساختہ برتری کے خول میں بند ہو کر دوسروں سے دُوری اختیار کر لیتا ہے، جس سے اس کے رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔ وہ اپنی رائے کو حتمی سمجھتا ہے اور دوسروں کی بات سننے کا روادار نہیں ہوتا ہے۔ یہ چیز اس کی شخصیت کو تنہائی اور خود پسندی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ تکبر معاشرے میں نفرت اور دشمنی کو جنم دیتا ہے، کیونکہ لوگ اس شخص سے دوری اختیار کرتے ہیں جو اپنی بڑائی کا گرویدہ ہو۔  

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’متکبر شخص اسی طرح ذلیل ہوتا ہے جیسے پانی کے نیچے دبائی گئی چیز اوپر آنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ناکام رہتی ہے‘‘۔ (مسند احمد:۱۲۳۴۵) اس لیے ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو تکبر سے پاک رکھے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی اور روحانی سکون میسر رہے۔  

  •  تواضع کے ذریعے روحانی ترقی:تواضع صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں، بلکہ روحانی ترقی کا زینہ ہے۔ جب انسان اپنی کمزوریوں اور اللہ کی عظمت کا شعور رکھتا ہے، تو اس کا دل اللہ کی طرف جھکتا ہے۔ تواضع انسان کو دوسروں کے دُکھ درد کو سمجھنے اور ان کی مدد کرنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اس کی روشن مثال ہے کہ آپ ؐنے غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھایا اور اپنے جوتوں کی مرمت خود کی۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کے لیے عاجزی کرتا ہے، اللہ اسے اسی قدر بلند کرتا ہے‘‘۔ (صحیح ابن حبان: ۵۹۴)  

تواضع کے ذریعے انسان نہ صرف اللہ کے نزدیک محبوب بنتا ہے، بلکہ معاشرے میں بھی عزّت و مقام پاتا ہے۔ یہ خوبی انسان کو اپنی اصلیت سے جوڑتی ہے اور اسے اللہ کی رحمت کا مستحق بناتی ہے۔  

غرور، گھمنڈ اور تکبر کی متضاد کیفیت تواضع و انکساری ہے، جو اللہ ربّ العزت کو بہت پسند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ تواضع کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ ؐسادہ لباس پہنتے، زمین پر بیٹھتے، اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور کبھی اپنی عظمت کو نمایاں نہ کرتے۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کا حکم دیا، تاکہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے‘‘۔ (مسنداحمد: ۱۷۱۴۴)  

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں عاجزی و انکساری کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ آپ ؐدعا فرماتے: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے، اس دل سے جو تیری بارگاہ میں عاجزی نہ کرے، اس دعا سے جو قبول نہ ہو، اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور اس بھوک سے جو بدترین ساتھی ہے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، بڑھاپے سے، اور اس عمر سے جو انسان کو بے توقیر کر دے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں دجال کے فتنے، قبر کے عذاب اور حیات و موت کے ہر فتنے سے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایسی دعا مانگتے ہیں جو تیرے حضور رجوع کرنے والی ہو، اور ایسے اعمال مانگتے ہیں جو تیری مغفرت کا سبب اور عذاب سے نجات کا ذریعہ ہوں۔ ہم ہر گناہ سے حفاظت اور ہر نیکی کی توفیق مانگتے ہیں جو جنت تک لے جائے اور جہنم سے نجات دلائے‘‘۔’’جو رضائے الٰہی کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم: ۲۵۸۸)  

  • تکبر سے بچنے کا راستہ: تکبر سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی عظمت کا شعور اور اپنی حقیقت کا ادراک ہے۔ انسان کو ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ مٹی سے بنا اور مٹی میں لوٹ جائے گا۔ اس کی ہر نعمت، خواہ وہ علم ہو، مال ہو، حسن ہو یا منصب، اللہ کی عطا کردہ امانت ہے۔ اسے اس امانت کو شکر اور اخلاص کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے بھائی کے سامنے عاجزی کرتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے، اور جو تکبر کرتا ہے، اللہ اسے ذلیل کرتا ہے‘‘ (ابن ماجہ: ۴۱۷۴)۔ ہمیں ہر قسم کے تکبر سے بچنا چاہیے، خواہ وہ علم، مال،حُسن، صلاحیت یا منصب سے متعلق ہو۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، عجز و انکساری اپنانا، اخلاص کے ساتھ عمل کرنا اور تکبر سے بچنے کی دعائیں مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تواضع کی دولت سے نوازے اور تکبر کے شر سے محفوظ رکھے، آمین!    

غزہ آج محض ایک جغرافیائی پٹی نہیں رہا، یہ عالمی سیاست کا آئینہ بن چکا ہے۔ یہاں گرنے والا ہر بم صرف کسی عمارت کو مسمار نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی اقدار اور سفارتی توازن کو بھی کسوٹی پر رکھ دیتا ہے۔ یہاں طاقت کے بے دریغ استعمال اور مزاحمت کے عزم کے درمیان ایک کش مکش جاری ہے۔ایسی کش مکش جس کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیوں، عدالتوں اور سفارتی میزوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ 

  • غزہ کا انسانی منظرنامہ: بمباری اور ناکہ بندی بدستور جاری ہیں۔ اسرائیل کے اندر امدادی ٹرکوں کے سامنے دھرنے دینا ایک معمول کی سیاسی سرگرمی بنتی جا رہی ہے۔ ۲ فروری سے شدت پسند عناصر ’کیریم شالوم کراسنگ‘ پر انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کو روک رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ’یسرائیل بیتینو پارٹی‘ کا رہنما ایویگڈور لیبرمین ، جو خود کو لبرل اور سیکولر قرار دیتا ہے  اپنی جماعت کے کنیسٹ ارکان یولیا مالینووسکی اور شیرون نیر کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ لیبرمین نے کہا کہ یہ ٹرک ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے غزہ کو بجلی، پانی اور دیگر سامان فراہم کر رہے ہیں، اور جب تک مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، امداد کی بحالی اسرائیلی عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ یہ منظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی ذمہ داری صرف مذہبی شدت پسندوں تک محدود نہیں، اسرائیلی سیاست کے لبرل اور سیکولر حلقے بھی سخت گیر پالیسیوں کے حامی ہیں۔ 
  • طاقت کی سیاست اور بیانیے کی جنگ:مغربی حمایت پر مبنی اعتماد نے اسرائیلی قیادت کو رسمی احتیاط برتنے سے بھی بے نیاز کر دیا ہے۔ چند روز قبل اسرائیل کی وزارتِ قومی سلامتی نے جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ تشدد اور بدسلوکی کی تصاویر جاری کیں، جسے ناقدین نفسیاتی جنگ کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ سرکاری ذرائع یہ خبر بھی پھیلا رہے ہیں کہ نئی قانون سازی کے تحت قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے، اور اس مقصد کے لیے جلادوں کی تربیت جلد شروع کی جائے گی۔ 
  • زندہ، معصوم بچّے جو بخارات میں بدل گئے:دوسری جانب ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ نے ہر صاحبِ ضمیر انسان کو لرزا دیا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں امریکا ساختہ تھرمل (Thermal) اور تھرمو بارک (Thermobaric) ہتھیار استعمال کیے۔ ایسے ہتھیار جو شدید حرارت اور دباؤ پیدا کرتے ہیں اور درجہ حرارت کو تقریباً ۳۵۰۰ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس غیر معمولی حرارت کے نتیجے میں بعض مقامات پر زندہ انسانی جسم بخارات میں تبدیل ہو گئے اور ان کے قابلِ شناخت آثار تک باقی نہ رہے۔ 

غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق فرانزک سائنسی شواہد کی بنیاد پر تیار کردہ دستاویزات کم از کم ۲ہزار ۸سو۴۲  افراد کی نشاندہی کرتی ہیں،جنھیں ’بخارات بن جانے والے‘ قرار دیا جاسکتا ہے،یعنی تباہ شدہ مقامات سے ان کے جسموں کی کوئی قابلِ شناخت باقیات برآمد نہ ہوسکیں۔ ان دعوؤں کی آزاد اور بین الاقوامی سطح پر تصدیق پیچیدہ اور متنازع ہے۔ تاہم، اگر شہری آبادی کے خلاف ایسے ہتھیاروں کے استعمال کا ثبوت مل جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ٹھہرایا جائے گا —اور سزا کون بھگتے گا؟ 

  • عسکری دباؤ اور سیاسی نتائج کا امکان:ہولناک ہتھیاروں کے بے رحمانہ استعمال، جیلوں میں تشدد کی کھلی نمائش، اور امریکی صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے باوجود کہ اگر مزاحمتی جنگجو غیر مسلح نہ ہوئے تو وہ غزہ پر ’’جہنم کے دروازے کھول دیں گے‘‘، مزاحمت کاروں میں ہتھیار ڈالنے کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی۔ 

’بورڈ آف پیس‘ کے نام سے شروع کیے گئے ایک المیہ ڈرامے میں بڑے دعوے کے ساتھ غزہ کے لیے ۱۲ رکنی نیشنل کمیٹی (NCAG) کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد غزہ جا کر انتظامی کنٹرول سنبھالنا تھا۔ مگر شیر کے منہ میں قدم رکھنا آسان نہیں۔امریکا اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کر دینا بذاتِ خود امن قائم نہیں کر سکتا۔ 

  • غیر مسلح کرنے کے مطالبے سے پسپائی:مظلوموں کی ثابت قدمی اور متکبروں کی جزوی پسپائی کے آثار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے ایک ایسے فارمولے پر غور کیا، جس کے تحت مزاحمتی قوتوں کو محدود ہلکے ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جب کہ بھاری ہتھیار مرحلہ وار ختم کیے جائیں گے۔ 

غیر مسلح کرنے کے منصوبے میں یہ مبینہ ترمیم امریکی اور اسرائیلی تکبر میں دراڑ کی علامت ہے —اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف بھی کہ سفاک عسکری کارروائیاں، منظم نسل کشی، اور بھوک و موسمی حالات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی غزہ کے عوام کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ یا یوں کہیے کہ غزہ کے لوگوں کے پُرعزم صبر نے ظلم کو اپنا مؤقف نرم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 

  • بین الاقوامی مداخلت اور ISF پر بحث:فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے غزہ میں غیرملکی افواج کی تعیناتی کو مشروط طور پر قبول کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ نیوزویک کے مطابق ان کے ترجمان باسم نعیم نے کہا کہ اگر بین الاقوامی افواج دونوں جانب کی سرحد کے درمیان بفر زون کے طور پر کام کریں اور فلسطینی شہری، عسکری، سیکیورٹی، سیاسی یا انتظامی معاملات میں مداخلت نہ کریں تو انھیں غزہ میں ان کی آمد پر کوئی اعتراض نہیں۔ 

بیان میں خبردار کیا گیا: اگر بین الاقوامی افواج اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گی تو فلسطینی انھیں ’قبضے کا متبادل‘ سمجھ سکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق انڈونیشیا نے اصولی طور پر ISF میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ 

  • مغربی کنارے کی صورتِ حال اور علاقائی ردعمل: مغربی کنارے میں، مسلم دُنیا، یورپی یونین اور حتیٰ کہ امریکا کی جانب سے ’تشویش‘ کے اظہار کے باوجود، اسرائیلی فیصلوں کے بعد اراضی ملکیت اور منتقلی کے قوانین میں ترمیم کے تحت الحاق کے منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ مغربی الخلیل میں فوج نے رہائشیوں کو بجلی کے نظام کے خاتمے کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ جب بجلی اور پانی منقطع کر دیے جائیں، تو رہائشیوں کے پاس اپنے گھروں کو خالی کرنے کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ 
  • عدالتی محاذ اور اظہارِ رائے کی حدود:جیسے امریکا میں، ویسے ہی برطانیہ میں بھی فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات جاری ہیں۔ تاہم ۱۳فروری کو ہائی کورٹ نے فلسطین ایکشن پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔ قانونی ماہرین جسٹس وکٹوریہ شارپ کے اس فیصلے کو اظہارِ رائے کی آزادی کے میدان میں ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔ 
  • اسرائیل کے اندر مذہبی اور سیکولر کشیدگیاں:اسرائیل کے داخلی منظرنامے میں بھی تناؤ برقرار ہے۔ ۱۱ فروری کو ربی ڈو لاندو—جو حریدی جماعت یونائیٹڈ توراہ یہودیت کے اہم دھڑے (دیگل ہاتوراہ،’توراہ کا پرچم‘) کے روحانی رہنما ہیں، نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ایک بھی یشیوا کا طالبِ علم فوج میں شامل نہیں ہوگا۔ ان کے بقول توراہ کے علما کی جگہ میدانِ جنگ نہیں بلکہ یشیوا اور کولیل (مذہبی درسگاہیں) ہیں۔یہ کش مکش اسرائیلی معاشرے کے سیکولر اور مذہبی طبقات کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ 
  • قیادت، کردار اور سیاسی اخلاقیات :قدامت پسند حلقوں کے دباؤ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی قیادت کو ایپسٹین فائلز سے متعلق انکشافات پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل رپورٹس سامنے آئیں کہ سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود باراک نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کی قدرتی افزائش اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ اس تناظر میں بعض تجزیہ کار غزہ میں جاری نسل کشی اور مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے کو دیکھنے لگے ہیں۔ایک حالیہ بیان میں باراک نے جیفری ایپسٹین سے اپنی ملاقاتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ افسوس کس بات پر؟ خود ان ملاقاتوں پریا اس بات پر کہ وہ ملاقاتیں منظرعام پر آ گئیں؟ 

غزہ کا بحران محض ایک جنگ نہیں، یہ طاقت اور ثابت قدمی، بیانیے اور حقیقت، خوف اور اعتماد کے درمیان ایک طویل کش مکش ہے۔ عسکری قوت وقتی غلبہ تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام کے لیے سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جراءت درکار ہوتی ہے۔ اگر مکالمے کے راستے مسدود رہے تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو شکل دے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عارضی طور پر غالب کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ پائیدار امن کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ کس کے پاس ہے؟ 

بھارتی مقبوضہ کشمیر (IOK) کا تنازعہ برطانوی انڈیا کی ۱۹۴۷ء کی تقسیم سے پیدا ہونے والا ایک طویل مدتی قضیہ ہے، جو انڈین حکمرانی کے خلاف حقِ خود ارادیت کی جدوجہد، پاکستان کے ساتھ بار بار جنگوں، اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رکھتا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں انڈیا کی طرف سے آرٹیکل۳۷۰ اور ۳۵-اے کے منسوخ ہونے سے اس علاقے کی رہی سہی، واجبی سی خودمختاری بھی ختم ہوگئی، جس نے مقامی سطح پر بے گانگی کو مزید شدید کر دیا، آبادی میں تبدیلیاں کیں اور بحران کو گہرا کر دیا۔ 

یہ مسئلہ ۱۹۴۷ء میں شروع ہوا جب مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے حکمران ہری سنگھ نے اکثریتی آبادی کی خواہشات کے برعکس انڈیا کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، حالانکہ اکثریت پاکستان سے وابستگی یا الگ وجود برقرار رکھنے کی طرف مائل تھی۔ اس سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کئی جنگوں میں سے پہلی جنگ چھڑ گئی۔ اقوام متحدہ نے قراردادوں کے ذریعے عوام کی مرضی جانچنے کے لیے ’استصواب رائے‘ (براہ راست ووٹ) کا فیصلہ کیا، جو اب تک نافذ نہیں ہوا۔ رپورٹوں میں اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد شامل ہیں۔ مقامی مزاحمت عشروں سے جاری ہے۔ وادی میں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ماورائے عدالت قتل اور جعلی انکاؤنٹرز ان لوگوں کے لیے معمول بن چکے ہیں، جو ریاستی انتظامی درندگی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اس وقت پوری وادی ایک جیل بن چکی ہے، ’زمین پر سب سے بڑی انسانی جیل‘ ناقابلِ بیان پابندیوں کے ساتھ۔ کشمیریوں کی نئی نسل، جنھوں نے اپنے پیاروں کو جعلی انکاؤنٹرز اور جعلی کورڈن اینڈ سرچ آپریشنز میں شہید ہوتے دیکھا ہے، نے خود ارادیت کے اپنے حق کے طور پر مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ 

انڈیا اپنے بے مثال ریاستی جبروبہیمیت کو چھپانے کی ناپاک کوششیں کرتا چلا آرہا ہے۔ بنیادی طور پر ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۷ء کے درمیان منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی قراردادیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت آزاد، منصفانہ اور غیر جانب دار ’استصواب رائے‘ کے ذریعے اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کلیدی قراردادیں (۴۷، ۵۱، ۸۰، ۹۱، ۱۲۲) نے سیز فائر قائم کیا، غیر فوجی کاری کا حکم دیا، اور خود ارادیت کے حق کو تسلیم کیا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں موجودہ تحریک لوگوں کی خود ارادیت کے حق کی جدوجہد پر مبنی ہے۔ آزادی کے نعرے لگانے والی پُرامن ریلیوں پر انڈین فوج اور پولیس کی فائرنگ ایک معمول رہا ہے۔ ہزاروں مرد، خواتین اور بچے مارے یا زخمی ہو چکے ہیں۔ نئی دہلی کا یہ الزام کہ کشمیری عوام کو پاکستان کی طرف سے مدد مل رہی ہے، بے بنیاد ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی معروضی رپورٹس گواہی دیتی ہیں کہ کشمیر کی تحریک مقامی ہے۔ 

اگرچہ یہ قراردادیں چالیس کے عشرے کے آخر اور پچاس کے عشرے کے شروع میں منظور ہوئی تھیں، لیکن آزادی کی بڑی تحریک ۱۹۹۰ء تک شروع نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کشمیریوں کی اکثریت کو یقین تھا کہ بین الاقوامی برادری کی مرضی غالب آئے گی اور ان کے مقدمے میں انصاف ہو گا۔ البتہ انڈیا نے بدنیتی سے ایک طرف بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا ڈھونگ رچایا اور پاکستان کے ساتھ طویل بات چیت میں مصروف رہا۔ تاہم، پردے کے پیچھے اس نے علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ریاست کی خودمختاری کو کم کرنے کے لیے کئی دُور رس اقدامات کیے، جن میں وفاقی قوانین کو علاقے میں توسیع دینا شامل تھا۔ ایک واضح مثال علاقے کو بھارتی سپریم کورٹ کے دائرۂ کار میں لانا تھی۔  

وقت گزرنے کے ساتھ، بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بجائے اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کیا۔ ان اقدامات اور زہریلی تقاریر نے کشمیری نوجوانوں کے جذبات کو مشتعل کیا، جنھوں نے انڈین خیانت کاری اور توہین آمیزی کے جواب میں آزادی کی جدوجہد شروع کردی۔ کشمیری عوام کی اکثریت نے اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی جو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی۔ اس سے انڈین حکومت گھبرا گئی اور اس نے اس جدوجہد کا مقابلہ کرنے کے لیے دہشت گردی کا دور شروع کردیا۔ ۱۹۹۰ء سے ۲۰۱۱ء تک کی بے مثال سفاکیت میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار سے زائد نوجوان شہیدکیے گئے، گیارہ ہزار ۳سو خواتین کو گینگ ریپ کیا گیا، ہزاروں کشمیری لاپتہ ہیں اور آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈین مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دانش وروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اجتماعی قبروں کی دریافت کی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شروع کی گئی ان کوششوں کو انڈین حکومت نے روک دیا۔ 

اگست ۲۰۱۹ء میں، انڈین حکومت نے آرٹیکل ۳۷۰ منسوخ کر دیا، جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت ختم کرتے ہوئے اور علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں بڑا اضافہ کردیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر نگرانی کرنے والے اداروں نے نوٹ کیا کہ اظہار رائے، اجتماع اور نقل و حرکت پر پہلے سے موجود پابندیاں اس کے بعد شدید ہو گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ l خود ارادیت کے مطالبے کی حمایت کرنے والی آوازوں کو دبانا l جتنا ممکن ہوسکے نوجوانوں کو ختم کرنا lقانونی باشندوں کی زمین اور جائیداد ضبط کرنا l مسلح ہندو نسل پرستوں کو علاقے میں داخل کرنا اور ان کی آبادکاری کو آسان بنانا l مسلمان افسروں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانا اور ان کی جگہ نسل پرستانہ ذہنیت رکھنے والے ہندوؤں کو بھرتی کرنا l مجموعی طور پر، کشمیر پر براہِ راست نئی دہلی سے حکمرانی کرنا، ایسے اقدامات کو وسعت دینا جو مقامی آبادی کو مکمل طور پر مطیع کریں اور انھیں ذہنی، سماجی اور معاشی طور پر غلام بنا دیں۔ 

انڈین حکومت ۵؍اگست۲۰۱۹ء کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی لانے کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے، اس کی بڑی حکمت عملی ’سیٹلرکالونیلزم‘ (Settler Colonialism)ہے۔ یہ علاقائی حصول اور آبادیاتی ڈھانچا سازی کا عمل ہے، جس میں انڈیا نے جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختاری منسوخ کرتے ہوئے تیز رفتاری سے قدم اٹھایا۔ مقامی زمین کی ملکیت اور رہائشی حقوق کی حفاظت کرنے والے قوانین کو ختم کر کے، انڈین غیر کشمیریوں کی آبادکاری کو ممکن بنا یا ہے، جس کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی آبادی کو تبدیل کرنا، مقامی باشندوں کو بے دخل کرنا، اور علاقے کو ہندو قوم پرست فریم ورک میں ضم کرنا ہے۔ 

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سیٹلر کالونیلزم کے کلیدی پہلو یہ ہیں: 

۱- آبادیاتی انجینئرنگ: آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی منسوخی نے غیر رہائشیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی اجازت دے دی، جس سے ایک ’سیٹلر کلاس‘ کو علاقے میں منتقل ہونے کا موقع ملا۔ 

۲- زمین کی بے دخلی: نئے زمینی قوانین بیرونی لوگوں کو زمین کی منتقلی کی اجازت دیتے ہیں، سابقہ ’زمین کسان کی ‘ اصلاحات کو الٹتے ہوئے اور کشمیری کسانوں کی روزی روٹی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 

۳- ثقافتی اور سیاسی مٹاؤ: انڈین پالیسیوں میں کشمیری شناخت کو کمزور کرنے، مقامی سیاسی موقف کو دبانے، اور انھیں ’زمین کی بازیافت‘ کا ہدف سامنے رکھا گیا ہے۔ 

۴- فوجی قبضہ: تقریباً ۹ لاکھ فوجیوں اور ’آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ‘ (AFSPA) کی حمایت سے، جو سیکیورٹی فورسز کو قانونی استثنیٰ فراہم کرتا ہے، ریاست اس تبدیلی کو شدید نگرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذریعے نافذ کرتی ہے۔ 

۵- معاشی استحصال: وسائل، بشمول ممکنہ لیتھیم کے ذخائر اور جنگلات کی زمین، ریاست کے کنٹرول سے نکالے جا رہے ہیں، مقامی ماحولیاتی خدشات کو نظرانداز کرتے ہوئے۔ 

مقبوضہ کشمیر میں مظالم اکثر غیر رپورٹ شدہ رہتے ہیں یا بین الاقوامی توجہ کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ انڈین حکام کی طرف سے پروپیگنڈا مشینری کا ایک ہمہ گیر اور مربوط عمل ہے، جو حقائق کو مسخ کرتا ہے۔ اس شیطانی عمل میں شامل ہیں: 

۱-مواصلاتی بلیک آؤٹس اور میڈیا پابندیاں: انڈین حکام نے تاریخی طور پر مواصلاتی بلیک آؤٹس کا استعمال کیا ہے، جس میں انٹرنیٹ سروسز کو دبانا شامل ہے، تاکہ علاقے سے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کرنے پر معمول کی ہراسانی، قید اور ’دہشت گردی‘ کے الزامات کا سامنا کرتے ہیں، جس سے خوف اور خود سنسرشپ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ 

۲- سیکیورٹی فورسز کو استثنیٰ: آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) انڈین سیکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں ان کے اقدامات پر قانونی استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ یہ جواب دہی کی کمی پیدا کرتا ہے اور مزید خلاف ورزیوں کو فروغ دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل PSA کو ’قانون کے بغیر قانون‘ کہتا ہے۔ 

۳-حکومت کا انکار: انڈین حکومت اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کو اپنا ایک اندرونی تنازع کا حصہ قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے، زمینی حقائق سے انکار کرتی ہے اور بیرونی جانچ کو محدود کرتی ہے۔ 

۴- جیو پولیٹیکل اور معاشی مفادات: بہت سی قومیں اس مسئلے پر خاموش رہتی ہیں، ’جیوپولیٹیکل احتیاط‘ اور انڈیا کے ساتھ بڑے معاشی و تجارتی مفادات کی وجہ سے۔ خاص طور پر مغربی طاقتیں اکثر انسانی حقوق کے خدشات سے زیادہ چین کے علاقائی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ اپنے اسٹرے ٹیجک تعلقات کو ترجیح دیتی ہیں۔ 

۵- بین الاقوامی مبصرین کی رسائی کی کمی: انڈیا کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بار بار زور دیا گیا ہے کہ وہ آزاد تحقیقات کی اجازت دے اور اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹرز، آزاد صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بلا رکاوٹ رسائی دے، لیکن ان درخواستوں کو زیادہ تر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ 

ان چیلنجوں کے باوجود، انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی رپورٹس نے سنگین الزامات کی وسیع دستاویزات تیار کی ہیں، جن میں جبری گمشدگیاں، تشدد، جنسی تشدد اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔ ان رپورٹس نے بین الاقوامی سطح پر آگاہی پیدا کی ہے اور انڈین حکومت کو جواب دہ ٹھیرانے کے مطالبات کیے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے حالیہ مہینوں میں علاقے میں خلاف ورزیوں کے بارے میں سرکاری طور پر سنگین خدشات پر آواز اُٹھائی ہے۔ ۲۲؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو پہلگام حملے کے بعد، جہاں ۲۶ ؍افراد، زیادہ تر عام سیاح فالس فلیگ آپریشن، میں مارے گئے، تو انڈین فوج کی کارروائیاں پورے کشمیر میں شدید ہو گئیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے دہشت گردی کی مذمت کی، لیکن زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے ہونے چاہییں۔ انھوں نے متعدد اضلاع میں تقریباً۲۸۰۰ ؍ افراد کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور حراستوں کو رپورٹ کیا، جن میں طلبہ، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد کو اکثر سخت قوانین جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور ’ان لاء فل ایکٹیویٹیز (پریونشن) ایکٹ‘ (UAPA) کے تحت رکھا جاتا ہے، جو بغیر الزام یا بروقت مقدمے کے طویل حراست کی اجازت دیتے ہیں ، جو حقوق کے ماہرین کی طرف سے خاص طور پر تنقید کا نشانہ ہے۔ 

آزاد رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی دستاویزات تیار کی ہیں: 

  • من مانی گرفتاریاں اور حراستیں: کشمیر کی حقیقی قیادت، عام شہریوں، طلبہ، صحافیوں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر حراستیں، اکثر واضح الزامات یا مقدمات کے بغیر طویل مدت تک۔ مقدمات جیسے خرم پرویز، جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کے کارکن ہیں، طویل حراست بغیر مقدمے کے لیے شدید مذمت کا باعث بنے ہیں۔ 
  • مکانات کی مسماری اور جبری بے دخلی: گھروں اور جائیدادوں کو مبینہ طور پر بغیر مناسب نوٹس، مناسب طریقہ کار یا معاوضے کے مسمار یا ضبط کر دیا گیا ہے، جس سے نقل مکانی اور مقامی لوگوں کے روزگار کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ 
  • اظہار رائے اور اجتماع پر پابندی: مواصلاتی بلیک آؤٹس، احتجاج اور عوامی مظاہروں پر پابندیاں، اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنا، رپورٹ کیا گیا ہے۔ 
  • تشدد اور تحویل میں بدسلوکی کے الزامات: تشدد، تحویل میں اموات اور شدید تفتیش کے طریقوں کی رپورٹس مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی کولیشنز سے سامنے آئی ہیں، جس سے حراست کے طریقہ کار اور قیدیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ 
  • میڈیا اور سول سوسائٹی پر دباؤ: انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ پریس کی آزادی اور سول سوسائٹی کی شمولیت پر شدید پابندیاں ہیں۔ کچھ صحافیوں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا یا ان کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے۔ قانونی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مناسب طریقہ کار، غیرامتیازی سلوک اور من مانی حراست یا تشدد سے تحفظ پر زور دیتی ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ماہرین اور سول رائٹس کی تنظیمیں بار بار حکام پر زور دے چکی ہیں کہ وہ سیکیورٹی چیلنجوں سے نمٹتے ہوئے ان معیاروں کو برقرار رکھیں۔ ان کلیدی خدشات میں شامل ہیں: 

۱- بروقت مقدمے کے بغیر من مانی حراست، ۲-انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال طویل حراست کے لیے، ۳-گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی، ۴-اظہار رائے اور اجتماع پر پابندیاں، ۵- تشدد، خواتین کی توہین و بے حُرمتی، تحویل میں اموات، اور سول سوسائٹی کے دبانے کے بڑے پیمانے پر مقدمات۔ 

ان تمام مسائل کو اقوام متحدہ کے ماہرین، بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں، اور آزاد رپورٹس نے اٹھایا ہے ،اور یہ علاقے میں انسانی حقوق پر جاری مباحث کا حصہ ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے ایک گروپ نے عوامی طور پر علاقے میں ’سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں‘ قرار دے کر مذمت کی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کی تاکید کی ہے۔ اس کے علاوہ، کئی حکومتوں اور این جی اوز نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور آزاد تحقیقات، جواب دہی کے طریقہ کار، اور بنیادی آزادیوں کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال انتہائی متنازع اور حساس ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، آزاد مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے من مانی حراست، آزادیوں کو محدود کرنے، جبری بے دخلی، مواصلاتی کنٹرولز، اور سول سوسائٹی کے دبانے کے نمونوں کی دستاویزات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شدید تشویش پیدا کر رہی ہیں۔ لیکن یہ تمام خدشات بہرے کانوں پر پڑ رہے ہیں، اور انڈین حکومت نہ صرف انھیں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ کشمیری آبادی کو ختم کرنے اور اسے ایک ایسے علاقے میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے پروگرام تیز کر رہی ہے جہاں ہندو مذہب/طرزِ زندگی غالب ہو یا غالب رہے۔  

مئی ۲۰۲۵ء میں سرحدی جھڑپ کے دوران انڈیا اور پاکستان کے درمیان صورتِ حال اس درجہ بھڑک اُٹھی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان جوہری جنگ چھڑنے کا خوفناک خدشہ حقیقت بن کر سامنے آگیا تھا۔ ایسی خوفناک صورتِ حال سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ مسئلۂ کشمیر کو حل کیا جائے، کہ مسئلہ کشمیر ایک بارود کا ڈھیر ہے اور جو کسی بھی وقت تباہی و بربادی کا محرک بن سکتا ہے۔  

نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ (پیدائش: یکم اکتوبر ۱۹۳۰ء / وفات:۲۵ فروری ۲۰۲۰ء) بے لوث خادمِ انسانیت تھے، جنھوں نے ۲۰۰۱ءسے ۲۰۰۵ء تک کراچی کی میئر شپ کے زمانے میں ۷۰ سال کی عمر میں بھی صبح و شام شہریوں کی بے مثال خدمت کر کے نوجوانوں کو بھی پیچھے  چھوڑ دیا تھا۔ انھوں نے عدل و انصاف،خدمت اور دیانت کی ایسی مثالیں قائم کی تھیں کہ اپنے تو کیا بد ترین دشمن بھی اس کی گواہی دیتے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی اللہ کی رضا کی خاطر، اسلام کی بالادستی اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔وہ ایمان داری، دیانت اور انسانیت کی خدمت کا اعلیٰ نمونہ تھے جس کا اعتراف ایک دنیا کرتی ہے۔ یہاں صرف دومثالیں پیش ہیں: 

  • مخالفین کی گواہی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سیّد منور حسن نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں خاتون اینکر کے اس سوال کہ ’کیا وجہ ہے،جماعت اسلامی کراچی پر اس طرح سے فوکس نہیں کر پائی جس طرح کرنا چاہیے تھا؟‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا: ’بات تو بہت صاف ہے، لیکن شاید میں نہ کہوں، اگر بیان کر بھی دوں تو آپ نشر نہیں کریں گی‘۔ لیکن اینکر نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، آپ ضرور کہیں وہ نشر کریں گے‘۔ 

اس پر منور بھائی نے کہا ’’نعمت اللہ صاحب کراچی کے میئر تھے۔ ان کی پہلی مدت ختم ہوئی اور دوسری مدت شروع ہونی چاہیے تھی اور میئر شپ کے امیدوار بھی تھے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کے لوگوں نے دفتر کے چکر لگانا شروع کر دیئے اور یہ ’ہمدردانہ مشورے‘ دینے شروع کیے کہ آپ کہاں دوبارہ زحمت کریں گے‘‘۔ پھر اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف بھی کراچی آئے تو انھوں نے طے کیا کہ وہ بھی ان سے بات کریں گے۔ وہ کسی جگہ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور کہا کہ وہ گاڑی میں بات کریں گے۔ یوں نعمت اللہ خان صاحب سے انھوں نے یہ بات کہی کہ ’’آپ بہت دیانت دار آدمی ہیں۔ میں نے آپ کے بارے میں تمام ایجنسیوں کی رپورٹس دیکھ لی ہیں۔ آپ اچھے ایڈ منسٹریٹر ہیں، پاکستان سے محبت کرتے ہیں، مذہبی آدمی ہیں، چارسال میں آپ نے اچھے کام کیے ہیں لیکن آپ کی ایک کمزوری یہ ہے کہ آپ کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ اگر آپ اس کا کوئی علاج کریں تو ہم تیار ہیں کہ آپ ہی اگلے میئر بنیں‘‘۔ 

نعمت اللہ صاحب نے کہا کہ میرا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، اور ان شاءاللہ رہے گا، لیکن آپ مجھے بتائیں کہ میں نے جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کی بنا پر کو ن سی گڑ بڑ کی ہے؟ کون سے میرٹ کو ڈی میرٹ یا ڈی میرٹ کو میرٹ کیا ہے؟ یا کون سے کام مجھے جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے نہیں کرنے چاہئیں تھے؟ یا کون سے کام ہیں جو میں نے جماعت اسلامی کے فائدے کےلیے کیے ہیں؟ میں اس کی وضاحت کرتا ہوں اور اگر شکایت نہیں ہے تو میرا جماعت سے تعلق ہونا جرم نہیں ہو سکتا‘‘۔ اس پر بات ختم ہوگئی اور وہ اگلے میئر نہیں بنے۔ 

اس سے زیادہ نعمت اللہ خان کی خدمت اور دیانت کی گواہی اورکیا ہو سکتی ہے کہ میدانِ سیاست میں ان کے شدید مخالف بھی ان کی دیانت اور امانت داری پر پختہ بھروسا اور یقین رکھیں۔ 

خان صاحب الخدمت کے سربراہ تھے کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما اورکلفٹن میرج بیورو کی چیئرپرسن ممتاز قریشی نے جو اتفاق سے ہماری کلاس فیلو بھی ہیں، ایک بار ہم سے فون پر پوچھا: ’’نعمت اللہ خان صاحب تک ایک امانت کیسے پہنچائی جا سکتی ہے؟‘‘ ہم نے ان کو ان کا رابطہ فون دیا اور پوچھا کہ ’’وہ کیا امانت ہے جو وہ ان کے سپرد کرنا چاہتی ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے غریب اور بے سہارا بیواؤں اور یتیموں کے لیے کچھ فنڈ جمع کیا ہے اور چاہتی ہوں کہ وہ اس شخص کے حوالے کروں جن کی دیانت داری پر مجھے پورا اعتماد ہو، اور وہ اس رقم کی پائی پائی کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرے،جس کے لیے دی جارہی ہے۔ اور میرے نزدیک وہ شخص نعمت اللہ خان ہیں۔ اس لیے وہ یہ رقم ان تک پہنچانا چاہتی ہیں‘‘۔انھوں نے یہ رقم،جو لاکھوں میں تھی، خان صاحب کے دفتر پہنچا کر ہمیں اس کی باقاعدہ اطلاع بھی دی۔اس کے بعد بھی ایک بار انھوں نے کچھ رقم ہمارے حوالے کی جو ہم نے خود نعمت اللہ خان صاحب کو پہنچائی اور اس کی رسید ممتاز قریشی صاحبہ کو دی۔ 

  • تحریکِ پاکستان سے وابستگی: نعمت اللہ خان صاحب اپنے حُسن سلوک اور باغ و بہار طبیعت کی وجہ سے سب حلقوں میں مقبول تھے۔ ان کی پوری زندگی محنت، پاکستان سے محبت، بے سہارا افراد، غریبوں کی خدمت، اسلام کے فروغ اور اُس کی اطاعت شعاری کی دلچسپ اور سبق آموز داستان سے عبارت ہے، جو نئی نسل کے لیے امید اور حوصلے کا سبب بن سکتی ہے۔  

وہ یکم اکتوبر ۱۹۳۰ء کو ہندستان کے مشہور شہر اجمیر کے ایک تعلیم یافتہ متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریلوے میں کلرک تھے۔ اُن کے والدین کا آبائی وطن تو شاہ جہاں پور تھا، لیکن والد عبدالشکور خان ملازمت کی وجہ سے اجمیر میں رہتے تھے۔ ۱۹۴۰ء میں اُن کا انتقال ہوا تونعمت اللہ خان کی عمر محض دس سال تھی۔ ان کے نانا، ان کی والدہ اور ان کے بہن بھائیوں کو شاہ جہاںپور لے آئے، جہاں ان کی نگرانی اور سرپرستی میں خان صاحب کی ابتدائی تعلیم دوبارہ شروع ہوئی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے گزربسر کے لیے ایک پرائمری اسکول میں تیس روپے ماہانہ کی ملازمت اختیار کر لی۔ 

‎ہندستان میں ۱۹۴۶ء کے انتخابات کا اعلان ہوا تو اُن کی عمر پندرہ سولہ سال تھی۔ اُن کے علاقے سے مسلم لیگ کے ایک امیدوار کریم الرضا تھے۔ نعمت اللہ خان نے اُن کی انتخابی مہم کے دوران میں جلسوں اور جلوسوں میں شرکت شروع کردی۔ اِس طرح وہ عملی طور پر تحریک پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ وہ ان جلسوں میں بڑے جوش وخروش کے ساتھ نظمیں اور ترانے پڑھتے تھے۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے شان دار کامیابی حاصل کی۔اُن کے حلقے کے مسلم لیگی امیدوار بھی کامیاب ہوگئے تھے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد قائداعظم نے کامیاب ہونے والے مسلم لیگی ارکان کا ایک اجلاس دہلی میں طلب کیا تو کریم الرضا کو بھی دعوت ملی۔ وہ اپنے نوجوان اور سرگرم انتخابی کارکن نعمت اللہ خان کو بھی اپنے ساتھ دہلی لے گئے جہاں اُنھیں ’مسلم لیگ نیشنل گارڈ‘ کا رکن بنا دیا گیا، وہ سب سے کم عمر رکن تھے۔ ان کو اس اجلاس میں قائداعظم اور تحریک پاکستان کے دوسرے اکابرین کو بہت قریب سے دیکھنے اور اُن کی تقریریں سننے کا موقع ملا۔ جس کی وجہ سے اُن کے دل میں پاکستان سے نہ ختم ہونے والی محبت پیدا ہوئی۔  

وہ کہا کرتے تھے کہ ان اکابرین کی تقریروں کا لب لباب اور نچوڑ یہی ہوتا تھا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد اِسی طرح کی ایک اسلامی، فلاحی ریاست کا قیام تھا، جس کی بنیاد آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں رکھی تھی۔ اسی نعرے، وعدے اور مقصد کے لیے ہندستان کے مسلمان قائداعظم کی قیادت میں پاکستان بنانے کی خاطر جمع ہوئے تھے۔ نعمت اللہ خان ابھی میٹرک میں تھے کہ انھیں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا ۔ اِس طرح وہ کم عمری ہی میں تحریک پاکستان کا لازمی حصہ بن گئے۔ 

  • پاکستان ہجرت اور مفلوک الحالی:‎اُن کی ہندستان سے پاکستان ہجرت کی کہانی بھی نئے وطن سے لازوال محبت کو ظاہر کرتی ہے۔وہ بتاتے تھے کہ مَیں ۱۹۴۶ء میں میٹرک کر چکا تھا۔ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو مسلمانوں میں زبردست جوش وخروش تھا، لیکن تقسیم کی وجہ سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھی عروج پر تھی۔ ۱۵؍اگست کو ہندستان کی آزادی کا اعلان ہوا تو اجمیر ریلوے اسٹیشن کے قریبی علاقے کے ہندوئوں نے اعلان کیا کہ ’’اب ہم آزاد ہوگئے ہیں، اِس لیے مسجد کے ساتھ والے مندر میں نماز کے دوران میں گھنٹیاں بجائیں گے اور اس کی پروا نہیں کریں گے کہ مسجد میں عبادت ہو رہی ہے‘‘۔ اِس اعلان سے محلے کے مسلمان نوجوانوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی، جن میں وہ خود بھی شامل تھے، اور اِس اقدام کے مقابلے کا منصوبہ بنایا کہ اگر وہ گھنٹیاں بجا کر ہماری نماز میں خلل ڈالیں گے اور ہمارے دین کی بے حرمتی کریں گے تو ہم اُنھیں بھرپور جواب دیں گے اور سگریٹ کی خالی ڈبیوں کے کریکر بناکر دھماکوں کی آواز پیدا کریں گے۔پولیس کو اطلاع ملی تو اُس نے ہندوؤ ں کو گھنٹیاں بجانے سے روک دیا۔ 

دو چار دن کے بعد ہی سی آئی ڈی نے دھماکوں کے لیے کریکر بنانے کی تفتیش شروع کردی اور اس سلسلے میں کچھ اہل کار اُن کے گھر بھی آگئے۔ اُن کے تایا کو پتا چلا تو بہت ناراض ہوئے۔ وہ پاکستان آنے کا ارادہ تو پہلے ہی کرچکے تھے، اِس واقعے نے جلدی آنے پر مجبور کردیا اور وہ تن تنہا ہی ٹرین کے ذریعے اجمیر سے کراچی کے لیے روانہ ہوگئے۔ جب ۲۸؍اگست کو کراچی پہنچے تو رات ہو چکی تھی۔ اُنھوں نے سٹی اسٹیشن کے قریب ہی ایک بلڈنگ کے ساتھ بنے فٹ پاتھ پر رات بسر کی اور دوسرے دن والد کے ایک دوست کی تلاش شروع کردی۔ وہ مل گئے اور بڑی محبت سے اپنے گھر لے گئے۔ چند دنوں کے بعد نعمت اللہ خان اجمیر واپس گئے اور اپنے چھوٹے بھائی علیم اللہ خان کو ساتھ لے کر کراچی آگئے۔ یہاںاسٹیشن کے ساتھ واقع ایک ہوٹل میں دونوں بھائی رہنے لگے۔ اُنھوں نے اجمیر میں شارٹ ہینڈ اور ٹیلی گرافی کا کورس کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے جلد ملازمت مل گئی۔ کلرکی کی یہ پہلی ملازمت ایک فوجی ادارے میں تھی۔ کچھ عرصے کے بعد اُن کا تبادلہ ایئرفورس ہیڈکوارٹرز، ماڑی پور میں ہوگیا، جہاں صبح ساڑھے سات بجے سے دن ڈیڑھ بجے تک کام کرتے۔ اس کے بعد تین سے پانچ بجے اور پانچ سے دس بجے تک دو جگہ پارٹ ٹائم جاب کرتے۔ 

جب کچھ آمدنی شروع ہوگئی تو لیاری کے علاقے میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر دونوں بھائی رہنے لگے۔ پھر اپنا گھر بنانے کا سوچا۔ اُس وقت مزار ِقائد کا علاقہ خالی تھا اور ہجرت کر کے آنے والے وہاں جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ اس علاقے کا نام ’قائدآباد‘ تھا۔ اس نام کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ اس جگہ کو مزار ِ قائداعظم کے لیے مختص کر دیا گیا تھا۔ خان صاحب نے وہیں ایک جھونپڑی بنالی اور اُس میں منتقل ہوگئے۔ علیم خان نے والدہ کو خط لکھا کہ کراچی میں بھائی کو ملازمت مل گئی ہے اور ذاتی مکان بھی بن گیا ہے، اب آپ بھی آجائیں۔ والدہ کے لیے یہ بڑی خوشی کی بات تھی، چنانچہ وہ بھی بڑی بیٹی کے ساتھ کراچی پہنچ گئیں۔ وہ بڑی خوش خوش آئی تھیں کہ اپنا ذاتی مکان ہے، لیکن جب یہاں آکر مکان کے بجائے جھونپڑی دیکھی تو بڑا دھچکا لگا۔ تاہم، جب اُنھیں حالات کا علم ہوا تو مطمئن ہو گئیں۔ اُس جھونپڑی میں اِس حال میں دن رات بسر ہوتے کہ بارش کے دنوں میں چولہا چارپائی پر رکھ کر کھانا پکانا پڑتا تھا۔ لیکن سب خوش تھے کہ نئے وطن پاکستان میں ہیں۔ 

‎نعمت اللہ خان کی داستانِ زندگی قائد آباد کی جھونپڑی میں ایک اور موڑ مڑتی ہے۔اب اُن کے پاس ملازمت ہے، ذاتی مکان ہے اور سب سے بڑی بات، ماں کی دعائیں ہیں۔ بہن بھائی اور ایک بھانجا بھی ہے۔ اطمینان کی یہ دولت پا کر بھی خان صاحب کی نظریں شان دار مستقبل اور اعلیٰ تعلیم کے حصول پر رہیں۔ اس طرح ایک مستقل اور دو جز وقتی ملازمتوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا کہ آگے بڑھنے کے لیے تعلیم ہی بنیادی زینہ ہے۔ یہاں تک کہ ایم اے، ایل ایل بی اور صحافت میں ڈپلوما بھی کرلیا۔ وکالت کا امتحان پاس کیا تو جزوقتی ملازمت بھی ایک بڑے اور نامور وکیل، بیرسٹر اصغر علی کے دفتر میں اختیار کرلی۔ 

یہ وکیل صاحب، خان صاحب کی محنت کے ساتھ کام اور قانونی سوجھ بوجھ سے بہت متاثر ہوئے۔ ایک دن اُنھوں نے خان صاحب کو اپنے چیمبر میں بلا کے کہا کہ آپ نے قانون کی ڈگری لے رکھی ہے۔ آپ قانون کی لیاقت اور معاملات کو قانونی طور پر دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اب آپ کو پریکٹس شروع کر دینی چاہیے۔ خان صاحب خاموشی سے سنتے رہے تو وکیل صاحب نے پوچھا کہ ’’آپ کے پریکٹس نہ کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ خان صاحب نے جواب دیا، وکیل صاحب! میرا ایک مستقل اور دو جزوقتی ملازمتیں کرنے کے باوجود ماں، ایک بھائی، بہن اور بھانجے پر مشتمل خاندان کا گزارا نہیں ہوتا تو پریکٹس کیسے کر سکتا ہوں؟ اس کے جمنے کے لیے تو ایک عرصہ چاہیے۔مَیں اپنی یہ ملازمتیں چھوڑ کر پورے گھرانے کے خرچ کا بوجھ کیسے برداشت کر سکتا ہوں؟ اس پر وکیل صاحب نے کہا: ’’اللہ تعالیٰ ہر انسان کو زندگی میں ایک بار ضرور اپنی قسمت بدلنے کا موقع دیتا ہے۔ آپ کے لیے اب وہ موقع ہے اور یہ آپ پر ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا ضائع کر دیتے ہیں‘‘۔ 

تب نعمت اللہ صاحب نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کر لیا کہ وہ اس موقعے سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔ چنانچہ انھوں نے دونوں جزوقتی کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرکے وکالت کی پریکٹس شروع کردی۔ آغاز میں کچھ مشکل کا سامنا ہوا لیکن پھر کام چل نکلا۔ جب کچھ آمدنی شروع ہوگئی تو جھونپڑی کو چھوڑ کر ناظم آباد نمبر دو میں ایک مکان کرائے پر لے لیا۔ اس طرح ایک دو اور مکان بھی بدلنے پڑے۔ جب ۱۹۶۷ء تک پریکٹس کا کام پوری طرح جم گیا تو اپنا پلاٹ خرید کر اس پر مکان بنانے کا فیصلہ کیا اور نارتھ ناظم آباد میں لب ِ شاہراہ ۱۸۰۰ مربع گز کا پلاٹ ۱۹ہزار روپے میں خریدا اور اس پر مکان بنوا لیا، جو سارے بہن بھائیوں کا مشترکہ گھر تھا۔ 

نعمت اللہ خان صاحب کے جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے بعد یہ گھر جماعت کے بڑے کام آیا اور کئی عشرے تک اس کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ دَوروں پر آنے والے جماعت کے قائدین کی قیام گاہوں کے لیے بھی یہی بنگلہ استعمال ہوتا رہا۔ خان صاحب ان مہمانوں کی میزبانی کو اپنے لیے اعزاز اور خوش قسمتی سمجھتے تھے۔ سیّد منور حَسن صاحب کی ۱۹۷۴ء میں شادی ہوئی تو وہ بھی کافی عرصے تک اسی گھر کی بالائی منزل کے دو کمروں میں قیام پذیر رہے۔ جماعت کے کارکنوں کے اجلاس اور سیاسی رہنماؤں کے اعزاز میں ناشتے، ظہرانے اور عشائیے بھی اسی بنگلے میں ہوتے رہے۔ خان صاحب نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل اس بنگلے کو فروخت کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم شریعت کے مطابق اپنے ورثا میں تقسیم کر دی تھی اور اپنے بیٹے ندیم اقبال کے ڈیفنس کے بنگلے میں منتقل ہوگئے تھے۔ انھوں نے زندگی کے آخری سال اسی بنگلے میں گزارے۔ 

  • جماعت اسلامی میں شمولیت:‎نعمت اللہ خان جماعت اسلامی میں کیسے اور کب شامل ہوئے اور مسلم لیگ کے کارکن اور نیشنل گارڈ سے جماعت تک ان کا سفر کیسے طے ہوا؟ یہ تفصیل دلچسپ ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں جماعت اسلامی کے کارکن کسی کو جماعت میں لانے کے لیے کتنی مستقل مزاجی اور صبر وتحمل سے کام کرتے تھے۔ اس کہانی کا آغاز قائدآباد کی جھونپڑیوں پر مشتمل بستی سے ہوتا ہے۔ اُس وقت وہاں بڑی تعداد میں ہندستان سے ہجرت کر کے آنے والے پاکستانیوں کے خاندان رہتے تھے۔ اُن میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کارکن بھی تھے، جن میں سابق رکن سندھ اسمبلی افتخار احمد، رجب علی شیخ، اعظم ترکستانی اور ندیم اللہ حُسینی نمایاں تھے۔ اُس وقت جماعت اسلامی، سندھ اور کراچی کا حلقہ ایک تھا اور چودھری غلام محمدصاحب اُس کے امیر تھے۔ اُس بستی کے کارکنوں نے جماعت کا نظم بھی بنا لیا تھا اور اُن مہاجرین میں جماعت کی دعوت، اُس کی کتب اور کتابچے دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ 

خان صاحب نے ایک بار یہ تفصیل خود بیان کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھ سے جماعت کے جس کارکن نے سب سے پہلے رابطہ کیا، جماعت کے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی اور پڑھنے کے لیے مولانا مودودیؒ کے کتابچے اور کتب دیں، وہ افتخار احمد تھے۔ وہ اِس قدر نفیس انسان اور مستقل مزاج کارکن تھے کہ وقت لے کر آتے تھے اور جماعت کا تعارف کراتے پھر ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے کو کہتے۔ پہلے تو مَیں نے اُنھیں ٹالنے کی بڑی کوشش کی، لیکن وہ برابر آتے رہے۔ میں شروع میں لٹریچر لینے سے بھی کنّی کتراتا رہا، لیکن جب بار بار اصرار ہوتا تو لے کر رکھ لیتا تھا اور پھر پڑھے بغیر کچھ دن بعد واپس کر دیتا۔ لیکن افتخار بھائی نے بھی ہمت نہیں ہاری اور مجھ سے رابطہ اور تعلق برابر جاری رکھا۔ یہ صورت حال کافی عرصے تک جاری رہی۔ 

میری اِنکم ٹیکس پریکٹس مرحلہ وار کامیاب ہو رہی تھی۔ ایک دن وقفے میں بار ایسوسی ایشن کے دفتر گیا تو دیکھا کہ ایک وکیل صاحب بڑے انہماک کے ساتھ ایک کتاب پڑھ رہے ہیں، جو قانون کی نہیں لگ رہی تھی۔ مجھے تجسس ہوا، اُن سے پوچھوں کہ یہ کون سی کتاب ہے؟ ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے، اس لیے ان سے کتاب کے بارے میں پوچھ لیا۔ انھوں نے کہا: ’’خان صاحب! یہ مولانا مودودیؒ کی کتاب ہے، جو عام کتابوں سے بڑی مختلف ہے۔ اس کے مصنف کی باتیں اپنی آسان، رواں اردو اور دلیل سے قاری کو متاثر کرتی جاتی ہیں۔ تم بھی اسے پڑھو، تمھیں یہ کتاب اور ان کی دوسری کتابیں فریئر روڈ پر ماڈرن فوٹو شاپ سے مل جائیں گی۔ یہ شاپ ایک پروفیشنل فوٹوگرافر کی ہے لیکن سا تھ ہی وہ مولانا مودودیؒ کی کتابیں اور ان کا ماہ نامہ ترجمان القرآن بھی رکھتے ہیں۔ تم ان کے یہاں بیٹھ کر پڑھو یا چاہو تو خرید بھی سکتے ہو‘‘۔  

مَیں اُس وقت بھی یہ سوچ کر اُن وکیل صاحب کی باتوں میں نہ آیا کہ یہ بھی افتخار صاحب کی طرح مجھے جماعت میں لانا چاہتے ہیں۔ ذہن مسلم لیگی تھا اور ملک میں جاری جماعت اسلامی کے خلاف پروپیگنڈے سے تھوڑا بہت متاثر بھی تھا۔ تاہم،میرے دل میں ایک کش مکش کی سی کیفیت ضرور پیدا ہوگئی تھی جو کافی عرصہ جاری رہی۔ پھر معلوم نہیں کیوں ایک دن نہ چاہتے ہوئے بھی میں اُس فوٹو شاپ پر چلا گیا، وہ کتاب خریدی اور پڑھی۔ اُس نے مجھے متاثر تو کیا لیکن اس کے باوجود مَیں جماعت میں شامل نہ ہوا۔ 

نارتھ ناظم آباد کا گھر بن گیا تھا اور ہم وہاں منتقل ہوئے تو معلوم ہوا، جماعت اسلامی کے لوگ یہاں بھی ہیں اور خدمت خلق کا کام بھی کرتے ہیں۔ یہ جذبہ میرے اندر بچپن سے تھا۔ مَیں نے وہاں کے ناظم سے ملاقات کی، جن کا نام ڈاکٹر محمد اطہر قریشی تھا۔ ان سے بات کی تو اُن میں بھی مجھے افتخار احمد جیسا خلوص اور جماعت سے محبت نظر آئی۔ مَیں اُن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں نے انھیں غریب اور بے سہارا بچیوں کی امداد اور اُن کی شادیوں میں جہیز دینے کا منصوبہ پیش کیا اور بتایا کہ مَیں نے اپنے بعض کلائنٹس سے بات بھی کر لی ہے، وہ بھی اس نیک منصوبے میں مالی مدد کریں گے۔ آپ ایسی بچیوں کے گھرانوں کا پتا کریں، مَیں اُن کی تفتیش کر لیا کروں گا، اِس طرح شادی کے لیے جہیز اور دوسرا ضروری سامان فراہم کر دیا کریں گے۔ اُنھوں نے اس منصوبے کو پسند کیا اور اُن کے تعاون سے اِس پر کام شروع کردیا۔ مجھے ڈاکٹر اطہر قریشی صاحب کی سادگی، خدمت کے جذبے، دین سے گہرے تعلق اور ہر کسی سے دوستی قائم کرنے اور بھائی چارے کے رویے نے بڑا متاثر کیا۔ اُن سے رابطہ بڑھتا رہا اور مَیں جماعت کے قریب آتا گیا۔ 

اسی دوران مارچ ۱۹۶۹ء میں جنرل یحییٰ خان نے مارشل لا نافذ کردیا، اور کچھ ماہ گزرنے کے بعد نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔ شہر میں انتخابی مہم کا آغاز ہوا تو جماعت اسلامی نے بھی اپنے امیدوار محموداعظم فاروقی کے لیے علاقے میں مہم شروع کی۔ ڈاکٹر اطہر قریشی صاحب سے دوستی اور قربت کی وجہ سے مَیں بھی اس مہم کا حصہ بن گیا۔ اس مہم کے دوران میں جماعت اسلامی کے لیڈروں اور کارکنوں سے روابط بڑھے، اُنھیں دیکھنے اور جاننے کا اتفاق ہوا۔ مَیں ان لیڈروں اور کارکنوں کے اخلاص، دین کی سربلندی کے لیے تڑپ، ایمان داری اور دیانت داری سے بہت متاثر ہوا۔ آخرکار ۱۹۷۰ءمیں ایک کارکن کی حیثیت سے جماعت اسلامی میں شامل ہوگیا۔ مولانا مودودیؒ کی ساری کتابیں اور دوسرا اسلامی لٹریچر پڑھ لیا اور جماعت کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا۔ غریب اور بے سہارا بچیوں کی شادیاں کرانے کا منصوبہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا، اِس کی وجہ سے مجھے جماعت کے خدمت خلق کے شعبے کا انچارج بنا دیا گیا۔ اُس وقت اُس کا نام یہی تھا۔ اُس کے تحت پورے شہر میں میّت گاڑیاں چلتی تھیں اور خدمت ِ خلق کے دوسرے کام ہوتے تھے۔ میں نے جماعت میں ایک کارکن کی حیثیت سے کئی برس کام کیا اور جماعت اسلامی کے مقصد و طریقِ کار کو اچھی طرح سمجھ بھی لیا لیکن ابھی رکن نہیں بنا تھا۔ 

آخرکار میں نے ۱۹۷۴ء میں رکن بننے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت پروفیسر عبدالغفور احمد جماعت اسلامی، کراچی کے امیر تھے۔ یہ حُسنِ اتفاق تھا کہ اُسی سال میں حج کے لیے جا رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پروفیسر غفور صاحب بھی حج پر گئے ہوئے ہیں اور وہاں حج کے علاوہ بھی اُن کی کچھ مصروفیات ہیں۔ مکۃ المکرمہ پہنچ کر پروفیسر غفورصاحب سے میری ملاقات خانہ کعبہ میں رکن یمانی کے سامنے مؤذن کے کمرے کے نیچے والی جگہ پر ہوگئی۔ یہ جگہ عرصے تک جماعت سے وابستہ لوگوں میں جمعے کی نماز کے بعد باہمی ملاقات کے لیے معروف تھی۔ اُس وقت روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر محمد صلاح الدین صاحب کے علاوہ بھی کچھ لوگ موجود تھے، جن کا تعلق جماعت سے تھا۔ پروفیسرغفور صاحب نے اُن کی موجودگی میں کہا کہ ’’میں تم سے خانہ کعبہ میں حلف لوں گا‘‘۔ یہ میرے لیے بڑے شرف وسعادت کی بات تھی۔ میں بڑا خوش ہوا۔ وہ یہ بات کہہ کر چلے گئے۔ دوسرے دن جب میں حلف لینے کے ارادے سے خانہ کعبہ پہنچا اور اُن کا پوچھا تو پتا چلا کہ وہ تو مدینے چلے گئے ہیں۔ لیکن صلاح الدین بھائی نے کہا کہ حلف تو کوئی دوسرا رکن بھی لے سکتا ہے۔ اُس وقت وہاں رحیم یار خان کے امیر موجود تھے، وہ حلف لینے پر تیار ہوگئے، چنانچہ اُنھوں نے مجھ سے اُسی وقت خانہ کعبہ کے عین سامنے رکنیت کا حلف لے لیا اور یوں میں رکنِ جماعت بن گیا۔ 

کچھ دنوں بعد میں بھی مدینہ منورہ گیا۔ ایک دن اپنے ہوٹل سے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جا رہا تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے سکریٹری نشر واشاعت، صفدر علی چودھری مل گئے۔ میں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ پروفیسر غفورصاحب سے ملنے جا رہے ہیں جو ساتھ والے ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔ میں بھی اُن کے ساتھ ہو لیا۔ پروفیسر غفورصاحب مجھ سے  مل کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تم سے خانہ کعبہ میں رکنیت کا حلف لینا تھا لیکن اچانک یہاں آنا پڑا، خیر مَیں اب تم سے کل مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حلف لوں گا۔ میں نے اُنھیں خانہ کعبہ میں لیے گئے حلف کا نہیں بتایا، چناں چہ دوسرے دن پروفیسر صاحب نے دوبارہ مجھ سے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رکنیت کا حلف لیا۔ اِس طرح مجھے خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، دونوں جگہ رکنیت کا حلف لینے کا شرف ملا۔ کراچی واپس آکر حلف کی رسمی کارروائی بھی مکمل ہوگئی‘‘۔ 

  • خدمتِ خلق اور سیاسی جدوجہد:‎خانہ کعبہ اور مسجدِ نبویؐ، جیسے مقامات ِ مقدسہ میں حلف لینے کے بعد نعمت اللہ خان نے اپنی پوری زندگی کا ایک ایک لمحہ جماعت اسلامی کے لیے وقف کردیا۔ اب اُن کی ساری تگ ودو اور جِدوجُہد اسلام کی بالادستی اور ہر شعبے میں اسلام کے نظام ِ عدل وانصاف کے نفاذ کے لیے وقف تھی۔ خدمت ِ خلق کے شعبے کے انچارج وہ پہلے ہی تھے، کراچی کی شوریٰ اور جماعت اسلامی وسطی کے امیر منتخب ہوئے۔ ۱۹۸۵ء میں جنرل ضیاءالحق کے دَور میں غیر جماعتی انتخابات کے دوران سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور جماعت کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر بنے، جب کہ ڈاکٹر اطہر قریشی پارلیمانی لیڈر تھے۔اِس دوران میں اُنھو ں نے اپنے گروپ کے ساتھ سیّد غوث علی شاہ کی وزارت ِ اعلیٰ کے دَور میں حزب ِ اختلاف کا بھرپور کردار ادا کیا اور کراچی کے عوامی حقوق اور ترقی کے لیے بھرپور آواز بلند کی۔ اُس زمانے میں کراچی کے میئر، جماعت اسلامی کے محترم عبدالستّار افغانی تھے، جو ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۳ء اور دوبارہ ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۷ء تک اس منصب پر فائز رہے اور محدود بجٹ میں کراچی کی ترقی کے لیے ایمان داری و دیانت داری کے ساتھ عوام کی خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ 

اُسی دَور میں سیّد غوث علی شاہ کی حکومت اور عبدالستار افغانی کی سربراہی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی میں موٹر گاڑیوں اور پراپرٹی پر ٹیکس وصول کرنے کے اختیارات پر اختلافات ہوئے۔ یہ ٹیکس صوبائی حکومت وصول کر رہی تھی، جب کہ بلدیہ عظمیٰ کا موقف تھا کہ کراچی کے موٹر وہیکل اور پراپرٹی ٹیکس پر اُس کا حق ہے اور اِسے کراچی کی سڑکوں اور دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونا چاہیے۔ اِس مسئلے سمیت دوسرے امور پر جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی میں آٹھ ارکان کی اپوزیشن نے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا اور سندھ اسمبلی اور میئر افغانی کی میئرشپ میں بلدیہ عظمیٰ کے ایوانوں میں تاریخی جدوجہد کی، جس کا خمیازہ انھیں بلدیہ کی تحلیل کی شکل میں بھگتنا پڑا۔ 

صدر جنرل محمد ضیاءالحق اور وزیراعلیٰ صوبہ سندھ غوث علی شاہ نے جماعت کی کراچی کے حقوق کے لیے اس جدوجہد کو اپنے خلاف محسوس کیا اور جماعت کی مخالفت پر اُتر آئے۔ نتیجہ یہ کہ جماعت اسلامی کے سیاسی کردار کو غیرمؤثر بنانے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) جیسی لسانی جماعت کی سرپرستی شروع کردی۔ اِس طرح کراچی میں جماعت اسلامی کے سیاسی اثرورسوخ کو ۱۹۸۰ء کے عشرے کے بعد ایم کیو ایم کے سفاک ہتھیار سے شدید نقصان پہنچایا۔ جس نے کراچی کے امن اور ترقی اور کلچر کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ 

 خان صاحب ساڑھے تین سال تک سندھ اسمبلی کے رکن رہے، لیکن اس کی تنخواہ کی ایک پائی بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کی۔وہ یہ رقم بینک میں جمع کرواتے رہے اور جب اُن کی اسمبلی  کی رکنیت ختم ہوئی تو تمام تنخواہوں کا چیک جماعت اسلامی کے شعبہ خدمت ِ خلق کی نذر کر دیا۔ 

‎خان صاحب، جماعت کی مرکزی شوریٰ اور عاملہ کے برسوں رکن رہے۔ ۱۹۹۱ء میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر منتخب ہوئے اور مسلسل دس سال تک اسی ذمہ داری کے لیے منتخب ہوکر کام کرتے رہے۔ اپنی امارت کے دَور ہی میں اُنھوں نے جماعت کے شعبہ خدمتِ خلق کو مزید آگے بڑھایا، اُس کا نام’الخدمت ویلفیئر سوسائٹی‘رکھا اور اُسے باقاعدہ رجسٹر بھی کرا لیا۔ کراچی کی امارت کی یہ طویل مدت جماعت کے ساتھ اُن کے اخلاص، قائدانہ صلاحیتوں اور ارکان و کارکنوں کے اُن پر اعتماد کا بڑا ثبوت ہے۔ اسی دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے جماعت کے شعبہ خدمت ِ خلق کو پورے پاکستان کی بنیاد پر منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ الخدمت فاؤنڈیشن کے نام سے ادارہ رجسٹر کرایا اور خان صاحب کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔ قاضی صاحب نے ان سے کہا کہ اب کراچی میں الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کی ضرورت نہیں رہی۔ لہٰذا، اِسے ختم کرکے ’الخدمت فاؤنڈیشن‘ کے تحت ہی کام کریں تاکہ ملک بھر میں یکسانیت برقرار رہے اور خدمت ِ خلق کا کام الخدمت فاو نڈیشن کے نام ہی سے کیا جا سکے۔ خان صاحب کے لیے یہ بات اتنی آسان نہ تھی کیوں کہ اِس سوسائٹی کو اُنھوں نے خود منظم کیا تھا اور ایک توسیعی منصوبے کے تحت رجسٹر بھی کرایا تھا، یوں ایک طرح سے وہ اِس کے بانی بھی تھے۔ اُنھوں نے قاضی صاحب کو قائل کرلیا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ ساتھ اِس سوسائٹی کو بھی کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ اب تک الخدمت فاؤ نڈیشن کے ساتھ یہ سوسائٹی بھی بہت اچھے طریقے سے کام کر رہی ہے۔ 

  • تھرپارکر میں پانی کی فراہمی کے لیے خدمات:مولانا جان محمد عباسی جب امیر جماعت اسلامی، سندھ تھے تو خان صاحب جماعت اسلامی، سندھ کے نائب امیر مقرر ہوئے۔ اُس زمانے میں اُنھیں سندھ کے مختلف علاقوں، خاص طور پر ضلع تھرپارکر، کے کئی بار دَورے کرنا پڑے، جس کے دوران اُنھیں اس علاقے کے لوگوں کی غربت اور بے چارگی کا اندازہ ہوا۔ اُنھوں نے دیکھا کہ دُور دُور تک پینے کا صاف پانی میسّر نہیں اور وہاں کی عورتیں میلوں دُور سے گھڑوں اور دوسرے برتنوں میں پانی بھر کر لاتی ہیں۔انھیں اِس ضلع میں خدمت خلق کا کام کرنے کی ترغیب بھی اسی دَور میں ملی اور اس کا آغاز ۷۵ ہزار روپے کی رقم سے کیا، جو اُس زمانے میں بڑی خطیر رقم تھی۔ 

انھوں نے ایک بار یہ واقعہ بیان کیا کہ ’’ایک دن، مَیں صوبے کے دفتر میں مولانا جان محمد عباسی سے تھر کی خستہ حالی کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ عباسی صاحب کو اچانک کچھ خیال آیا اور کہا کہ مجھے ایک صاحب ۷۵ ہزار روپے کی رقم دے گئے ہیں ۔ میں یہ رقم آپ کو دے رہا ہوں۔ آپ جہاں مناسب سمجھیں، اللہ کی رضا کے لیے خرچ کر دیں۔ مَیں نے اُن سے وہ رقم لی اور اُسے تھرپارکر میں صاف پانی کا ایک کنواں کھودنے کے کام میں صرف کرنے کا فیصلہ کیا‘‘۔ یہ تھر میں صاف پانی کی فراہمی کے کام کا آغاز تھا۔ اللہ نے اِس کام میں اتنی برکت دی کہ اب تک تھر کے مختلف علاقوں اور گوٹھوں میں صاف اور میٹھے پانی کے ۵۵۰ کنویں کھودے جا چکے ہیں۔ اِسی طرح بچوں کی تعلیم کے لیے ۴۵؍اسکول بھی قائم کیےجاچکے ہیں، جن میں ذہین بچوں کو مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیے وظائف دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔  

  • کراچی کے میئر کی حیثیت سے مثالی خدمات:صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں شہری حکومتوں کا بلدیاتی نظام قائم کیا اور ۲۰۰۱ء میں اس کے لیے انتخابات ہوئے تو کراچی جماعت نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔خان صاحب کی خدمت خلق کے کام کے تجربے کی بنیاد پر انھیں سٹی ناظم [میئر] کے عہدے کےلیے نامزد کیا گیا۔  وہ اس منصب پر ۲۰۰۵ء تک فائز رہے۔اس چار سالہ دور میں انھوں نے کراچی شہر کی ترقی اور شہریوں کی خدمت کے جو کام کیے، ان سے دنیا واقف ہے لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ انھوں نے ان چار برسوں میں شہر کی  بے لوث خدمت کی اور اس منصب سے فائدہ اٹھانا تو کجا سٹی ناظم کی حیثیت سے ملنے والی تنخواہ کا حسب سابق ایک روپیہ بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا۔ان کو ماہانہ تنخواہ اور کرایہ مکان کی جو رقم ملتی تھی، وہ یہ رقم بلدیہ میں ایک بنک کے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیا کرتے تھے۔ یہ رقم ابھی بنک ہی میں جمع تھی کہ ۲۰۰۵ء میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں زلزلے نے بڑی تباہی مچا دی،جس سے اسلام آباد، باغ، مظفر آباد اور بالا کوٹ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں مکانات اور عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ خان صاحب کو ڈیساسٹر مینجمنٹ بورڈ کا چیف کوآرڈینیٹر بنایا گیا تو انھوں نے ساڑھے تین سال کی پوری تنخواہ ۱۵ لاکھ ۷۵ ہزار روپے کا چیک ان زلزلہ زدگان کے فنڈ میں دے دیا۔عوام کی بے لوث خدمت اور اس عوامی عہدے کے دوران ملنے والے جائز مشاہرے کی ایک پائی بھی اپنی ذات پر خرچ نہ کی اور اس پوری مدت کی مجموعی تنخواہ دُکھی انسانیت کے لیے فنڈ میں دے دی۔ 

۲۰۰۱ء میں جب خان صاحب کراچی کے میئر منتخب ہوئے تو انھوں نے شہر کی حالت کو بدلنے کے لیے خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کردی۔ضعیف العمری کے باوجود چند گھنٹے سونے اور آرام کے علاوہ وہ دن رات کا بیش تر وقت کراچی کی ترقی اور شہریوں کی خدمت میں صرف کرتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے جوان تھک جایا کرتے، لیکن خان صاحب ایک تروتازہ جوان کی طرح ہمت نہ ہارتے۔ انھوں نے اپنے چار سالہ دور میں کراچی شہر میں پختہ اور چوڑی سڑکوں، کئی کئی گھنٹوں کے ٹریفک جام کے عذاب سے جان چھڑانے کے لیے انڈر پاسز اور فلائی اوورز کا جال بچھا دیا۔شاہراؤں، چوراہوں اور گلیوں میں روشنی کی فراہمی کا انتظام کیا اور تاریکی میں ڈوبے شہر کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنا دیا۔ 

شہریوں اور ان کے بچوں کےلیے جگہ جگہ پارک تعمیر کیے، جن کی تعداد تین سو ہے اور پارکوں پر مافیا کے قبضوں کو ختم کرایا اور اس کےلیے سپریم کورٹ تک مقدمہ لڑا۔ شہر کے ۱۸ٹاؤنز میں سے ہر ٹاؤن کےلیے ایک ایک ماڈل پارک بنایا۔ عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کیا۔ اس کےلیےاربن ٹرانسپورٹ اسکیم کا آغاز کیا اور ۵۰۰ نئی ایئر کنڈیشنر بسیں فراہم کیں اور بسوں کو پہلی بار سی این جی پر چلایا تا کہ شہر کو فضائی آلودگی سے پاک کیا جائے۔ 

تعلیم کو عام کرنے پر خاص توجہ دی۔ اس کے لیے بجٹ میں ۳۱ فی صد اضافہ کیا۔ اسکولوں کی مرمت،ان میں پانی،غسل خانے اور فرنیچر کی فراہمی،نئے اسکولوں کے قیام اور تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے۔شہر میں ۳۲ نئے کالج قائم کر کے ان کی تعداد ۱۲۰ تک بڑھا دی۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دی، جس کے مثبت نتائج نکلے۔ اس کا اندازہ صرف اس ایک بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے سٹی ناظم بننے سے پہلے اے اور اے ون گریڈ لینے والوں کی تعداد ۲۰۰ تھی جو ان کے دور کے آخر تک بڑھ کر ۲ ہزار سے بڑھ گئی۔ 

صحت کے شعبہ میں ان کا بڑا کارنامہ فیڈرل بی ایریا میں کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ڈیزیزز ہے۔اس کے علاوہ نیو کراچی اور کورنگی میں کڈنی ڈائلائسز سنٹر، ملیر میں ہسپتال اور شہر میں ڈائگنوسٹک سنٹر کا قیام بھی ان کے دور کی یاد گار ہے۔ شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی کو ترجیح دی اور کے تھری واٹر سپلائی پروجیکٹ شروع کیا۔جس سے شہریوں کو ۱۰ لاکھ گیلن اضافی پانی فراہم ہوا۔ سیوریج کے نظام کو بہتر کیا،پرانی پائپ لائنوں کو تبدیل کرایا اور نئے پمپس لگوائے۔ کچرا اٹھانے کے لیے ۵۰۰ سالڈ ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشن تعمیر کرائے۔خان صاحب کا ایک اور یاد گار کارنامہ فیڈرل بی ایریا میں المرکز الاسلامی کے منصوبے کی تکمیل تھا۔ جس میں ایک بڑی لائبریری،آڈیٹوریم،مسجد اور فنونِ لطیفہ کی آرٹ گیلری شامل تھی، لیکن افسوس کہ اس مرکز کو ایم کیو ایم نے ختم کردیا ہے۔ 

سٹی گیمز کے انعقاد کو بھی ان کا ایک کارنامہ شمار کیا جاتا ہے۔ان کے دور میں ان کی ایمان داری اور دیانت داری کی وجہ سے شہر کو کروڑوں روپے کا فائدہ ہوا جس کا اندازہ دو تین مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔شاہراہ فیصل فلائی اوور کی تکمیل کا تخمینہ ۲۶ کروڑ ۳۱ لاکھ لگایا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کو اپنی کڑی نگرانی میں صرف ۱۸ کروڑ میں مکمل کرایا۔اسی طرح ایک اور منصوبے کا ابتدائی تخمینہ ۲۵ کروڑ تھا۔ انھوں نے اس کا اَزسرنو ٹینڈر کرایا تو اس کا تخمینہ ۶ کروڑ آیا اور وہ اسی رقم میں مکمل ہوا۔پیٹرول اور ڈیزل میں ۸ کروڑ کی کرپشن کا خاتمہ کیا۔ انھوں نے اپنی کوششوں سے کراچی کا بجٹ ۶؍ارب سے ۴۳؍ارب کرایا اور ۲۹؍ارب روپے کا ’تعمیر کراچی‘ پروگرام شروع کیا۔ہفتے میں ایک دن عوام کی شکایات اور مسائل سننے کے لیے مختص کیا۔ اس طرح انھوں نے عوام سے رابطہ رکھا اور ان کی ہزاروں شکایات کا براہِ راست ازالہ کیا۔ 

یہ مثالیں نعمت اللہ خان کے اس مومنا نہ کردار کو ظاہر کرتی ہیں، جو اسلام اپنے سنہری اصولوں پر عمل کرنے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ سیّد مودودی کی قیادت اور تربیت کے ذریعے جماعت اسلامی میں نعمت اللہ خان جیسے کردار ہزاروں میں ہیں۔ جماعت اسلامی کا یہ ایک کارنامہ ایسا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے، مگر جماعت اسلامی میں آپ کو ایسے درویش ہزاروں کی تعداد میں ملیں گے۔ایسے ہی ایک فقیر منش درویش عبد الستار افغانی بھی تھے جنھوں نے ان سے پہلے سادگی، درویشی،امانت، دیانت، خدمت اور ایثار کی سیکڑوں مثالیں قائم کیں اور جن کی گواہی ان کے سخت سے سخت مخالف بھی دیتے تھے۔  

خان صاحب کی ان خدمات کا اعتراف پاکستان بھر کے علاوہ دنیا بھر میں بھی کیا گیا اور انھیں ایشیا کا بہترین میئر قرار دیا گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خان صاحب کی انسانیت کے لیے خدمات قبول ہوں گی اور جنّت الفردوس میں ان کو بلند درجات ملیں گے۔ 

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence - AI) آج کل ہماری گفتگو کا ایک اہم موضوع ہوتا ہے۔ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات اکثر زیر بحث آتے ہیں۔ گھریلو محفل ہو یا دفتری ماحول یا معاشرتی روابط کی دیگر سرگرمیاں، یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ’اے آئی‘ ٹکنالوجی کے اثرات کو ہم لوگ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ہماری زندگی پر ’مصنوعی ذہانت‘ کے اثر کا ایک فطری رد عمل ہے۔ کیونکہ جس انداز میں یہ ٹکنالوجی ہماری زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس کے اثر سے خالی نہ رہے گا۔ ’اے آئی‘ کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے اور اب نجی زندگی سے لے کر بین الاقوامی معاملات تک میں اس کا عمل دخل یقینی ہو گیا ہے۔ اب ہم اپنے گھر کے کمروں کی آرائش کے لیے بھی ’اے آئی‘ سے مدد لیتے ہیں اور ملکوں کے درمیان جنگیں بھی اس کی مدد سے لڑی جا رہی ہیں۔ 

انٹرنیٹ نے برقی مواصلاتی نظام کی ترقی کے ساتھ مل کر ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ پھر موبائل فون کے سمارٹ ہو جانے سے اس انقلاب میں اور شدت آگئی۔ اس انقلاب کی زد میں شہری اوردیہی، گویا ساری دنیا آگئی۔ 

مصنوعی ذہانت یا ’اے آئی‘ کے بارے میں ہم میں سے بہت سوں کے لیے یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ اس ٹکنالوجی کے فروغ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا، انسانوں کی جگہ روبوٹ اور کمپیوٹر کام کریں گے۔ دراصل انسانی ترقی و تمدن کے سفر میں اکثر یہ ہوا ہے کہ کئی لوگ جدید دریافتوں کو اور ان کے استعمال کو ابتدا میں نقصان دہ، غیر فطری، غیر انسانی اور یہاں تک کہ غیر شرعی بھی سمجھتے رہے ہیں۔  

یہ بھی ہوتا آیا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر بہت سے لوگ مستقبل میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں نہ صرف فکر مند ہوتے رہے، بلکہ انسانیت کے لیے بھیانک مستقبل کی پیش گوئیاں بھی سامنے لاتے رہے ہیں۔ تاہم، ایسی پیش گوئیاں اکثرغلط ثابت ہوئی ہیں۔  

 ہمارا خیال ہے کہ ’اے آئی‘ کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش کا بھی کچھ یہی انجام ہو گا۔ انسان اپنے لیے کچھ اور مشاغل دھونڈ نکالیں گے، ایک نئی دنیا بسا لیں گے، جس کو چلانے میں انسان کے عمل دخل کی ضرورت رہے گی۔ 

مصنوعی ذہانت: منفی پہلو اور نقصانات 

’ اے آئی‘ کے پھیلاؤ سے کسی خوف کی ضرورت نہیں۔ تاہم، جیسا کہ ہر ٹکنالوجی کے اچھے اور برے استعمالات ہو سکتے ہیں، انٹرنیٹ اور ’اے آئی‘ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم، اس ٹکنالوجی کے بعض ایسے نقصانات ہو سکتے ہیں جو ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے، ان کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہم ان کا کچھ ذکر کرتے ہیں: 

  • یہ تو سب جانتے ہیں کہ ’اے آئی‘ کا ایک نہایت غلط استعمال اس کے ذریعے کسی شخص کی آواز اور شکل کو استعمال کرتے ہوئے اس سے ایسے بیانات یا ایسی حرکات کو منسوب کر دینا ممکن ہوگیا ہے، جو نہ تو اس کے اپنے الفاظ و افکار ہوں اور نہ اس کی اپنی حرکات وسکنات ہوں۔ اس کے ایسے ہی استعمال کو ایڈوانس امیجنگ کے ذریعے ترقی دی جارہی ہے، اور اس میں ’میٹا اے آئی‘ سر فہرست ہے۔ یہ کسی انسان کی شکل کے تاثرات کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہے، جس کی بنا پر دیکھنے والے کی اصل شخصیت کا کوئی پہلو چھپا دینا اور کوئی دوسرا پہلو اُبھار دینا یا کوئی اور پہلو شامل کر دینا ممکن ہو جاتا ہے۔ مثلاً، مارک زیکربرگ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’میری مسکراہٹ بہت زیادہ جاذب نظر نہیں، لیکن ’میٹا اے آئی‘ کی مدد سے میں اسے ابھار کر جاذبِ نظر بناسکتا ہوں۔ اس طرح کی ٹکنالوجی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے لوگوں کو کسی شخصیت کے بارے میں  اصل حقائق سے اندھیرے میں رکھا جاسکے گا۔  
  • انٹرنیٹ پر، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیرمعیاری اور گمراہ کن مواد کی بہتات ہوگئی ہے اوراب یہ پہچاننے کے لیے خاصی مہارت درکار ہوتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟   
  • ’اے آئی‘ اب اس دھوکا دہی کو مزید بلندی پر لے جا رہا ہے۔ اس شعبےکے ایک ماہر ڈاکٹر زاہد محسن نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ عین ممکن ہے، کہ کسی معروف شخصیت کی شکل اور آواز میں ’اے آئی‘ کی تیار کردہ جعلی شخصیت کو استعمال کر کے ایسا مواد انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنا شروع کر دیا جائے جس میں اس کی فکر کو ہی نہیں بلکہ تعلیمات ہی کو مسخ کر کے گمراہی کا ایک ذریعہ بنا دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں اس شخصیت سے عقیدت و احترام کا رشتہ رکھنے والے اس سب کچھ کو اسی کی آواز اور اسی کا پیغام سمجھ کر گمراہ ہوتے رہیں گے۔ 
  • انٹرنیٹ پر اسلام دشمن حلقوں نے قرآن کے تحریف شدہ نسخے جاری کیے، جن کی خاصی حد تک کامیابی سے نشاندہی کر لی گئی۔ تاہم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے گھڑی ہوئی روایات کواحادیث کے طور پر عام کرنے کے کام کو مکمل طور پر روکا نہ جا سکا اور اچھے خاصے صاحبِ علم لوگ بھی ایسے من گھڑت اقوال کو حدیث سمجھ کر بلا تحقیق ان کا پرچار کرتے اور آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔ ’اے آئی‘ کے دستیاب ہو جانے سے یہ جنگ اب اور مشکل ہوجائے گی اوراسی لحاظ سے حقائق کی مدافعت کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ 
  • مدافعت کی ایک صورت تو مسلسل انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے مواد پر نظر رکھنے کی صورت ہے اور اس سلسلے میں ہمارے اداروں کو مستعدی سے کام کرنا ہوگا۔ حکومتی سطح پر جہاں ملک مخالف اور فوج مخالف سرگرمیوں اور مواد کی نشاندہی اور اس کے سدباب کے لیے کام کیا جارہا ہے، وہاں دین کے بارے میں گمراہ کن اور اخلاقی طور پر مضر مواد کی روک تھام کے لیے بھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ 
  • بعض اندازوں کے مطابق سائنس میں تحقیق کا حال یہ ہے کہ سات میں سے ایک اشاعت میں ڈیٹا جعلی ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعےہونے والی اس کرپشن کو کیسے ختم کیا جائے؟ اس موضوع پر امریکا میں نارتھ ویسٹرن یونی ورسٹی آف الینوائے میں ایک تحقیق ہوئی۔ جس کے بارے میں درج ذیل بیان ڈی ڈبلیو نیوز (ایجیئس میتھیو وارڈ) سے ماخوذ ہے۔ 

سائنسی پبلشنگ گروپس بھی اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور جعلی تحقیق کی نشاندہی کرنے اور اسے واپس لینے کے لیے نئے طریقے بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ایک بڑے پبلشر، اسپرنگر نیچر نے ۲۰۲۴ء میں اپنی اشاعتوں سے ۲ہزار ۹سو مضامین کو واپس لے لیا تھا۔ لیکن ان جعلی دستاویزات کو واپس لینے کا مطلب یہ ہے کہ اسی دوران غیرمعیاری سائنسی مضامین کی اشاعت ہو چکی ہے۔ 

ابالکینا اور رچرڈسن جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل بالآخر اس بات سے آتے ہیں کہ سائنسی تحقیق کی قدر کیسے کی جاتی ہے؟ سائنسی ملازمتیں اور فنڈنگ سائنسی اشاعت پر منحصر ہیں۔ 

رچرڈسن نے کہا: ’’وسائل کی (کمی) کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جب آپ پر سائنسی (اشاعتوں) کو شائع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، تو آپ کے پاس حقیقت میں دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو آپ سائنسی فریب سے کام لیتے ہیں، یا پھر سائنس پر کام ترک کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں دسیوں ہزار سائنس دان مبتلا ہیں‘‘۔ اسی لیے رچرڈسن نے کہا کہ ’’فریب پر مبنی ایسی اشاعتوں کی روک تھام کا بہترین حل یہ ہے کہ اشاعتوں کی تعداد اور اس طرح کے حوالہ جات جیسے تحقیقی تشخیص کے تمام پیمانوں (میٹرکس) کو ختم کر دیا جائے‘‘۔ 

  • اس صورتِ حال سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ تصورسازی (پرسیپشن مینجمنٹ) جس نے پہلے ہی ہماری سوچ اور فکر کو جدید طریقوں کے ذریعے محدود و مقید کر دیا ہے، ’اے آئی‘ کے اس قسم کے استعمالات سے ہماری فکرمزید پا بہ زنجیر ہو جائے گی۔ اس سے ’تخلیقی سوچ‘ متاثر ہوگی۔ یہ بھی ’برین راٹ‘  (Brainrot)کے عمل کا ایک جز ہے۔ ’برین راٹ‘ پچھلے برس کے دوران سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے اور ۲۰۲۵ءمیں اسے اوکسفرڈ ڈکشنری میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ’برین راٹ‘ ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے، جس کا بالواسطہ ایک گہرا تعلق ’اے آئی‘ کے استعمال میں اضافے سے ہے۔ ’اے آئی‘ معلومات کا ایک خزانہ پیش کرتا ہے، جو آپ سے چند کلک کے فاصلے پر موجود ہے، تاہم معلومات سے علم تک پہنچنے کے سفر میں ’اے آئی‘ آپ کا معاون ہو سکتا ہے بشرطیکہ آپ ذہانت کی اس سطح پر ہوں، جہاں آپ ’اے آئی ٹولز‘، مثلاً چیٹ جی پی ٹی یا ڈیپ سیک کو استعمال کر سکتے ہوں۔ ورنہ ’اے آئی ٹول‘ دراصل اپنے علم میں اضافے کے لیے آپ کو استعمال کریں گے اور آپ کے لیے کم ہی مفید ثابت ہوں گے۔ 

 ہمارا اندازہ ہے کہ ’جنریشن زی‘ کے مقابلے میں ’جنریشن وائی‘ علم کی وسعت، گہرائی اور آئی کیو میں زیادہ بہتر سطح پرہیں۔ غالباً، ’جنریشن ایکس‘ اور کسی حد تک بے بی بومر جنریشن بھی ایک بہتر مقام پر ہیں۔ کیونکہ ان نسلوں نے علم کے دیگر ذرائع سے بھی استفادہ کیا اور دورِ حاضر کی سائبرسپیس اور ’اے آئی‘ سے بھی مستفید ہوئے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پچھلی صدی تک آئی کیو کی سطح ہرنسل میں دو سے تین پوائنٹ بڑھتی رہی، جب کہ پچھلے تقریباً بیس برسوں سے آئی کیو کا بڑھاؤ یا تواپنی سطح مرتفع پر پہنچ کر رُک گیا ہے یا کئی ممالک میں اس نسبت سے تنزلی آئی ہے، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں۔ اس تحقیق کے روح رواں فلین کے نام پراسے ’فلین ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔ 

 مصنوعی ذہانت: مفید استعمال کے لیے تجاویز 

  • علم سے آگے اس کا مفید استعمال ہے جو حکمت کا مرہونِ منت ہے۔ علم سے حکمت تک کا سفر تو آپ کو اپنے بل بوتے پر ہی طے کرنا ہے۔ اس سفر میں دیگر ذرائع سے حاصل کردہ علم کام آئے گا جو آپ کے اپنے ذہن کے میموری سسٹم میں محفوظ ہے۔ ’اے آئی‘ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی اس دنیا میں، ہم میں سے اکثر اور بالخصوص نئی نسل کی ایک بہت بڑی اکثریت نے دیگر ذرائع سے علم حاصل کرنے کو غیر ضروری سمجھ لیا ہے، جو کہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے۔ اس رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس میں بہتری لانے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ دیگر ذرائع علم کو بھی اسی انداز میں مہیا کر دیا جائے جس کے ہم عادی ہوتے جا رہے ہیں، اور بالخصوص نئی نسل اس تساہل پسندی میں زیادہ آگے نکل گئی ہے۔ وہ نسلیں جن کا جس حد تک بھی تعلق متفرق ذرائع علم سے رہا ہے، وہ ’اے آئی‘ کے مفید استعمال میں اتنی ہی زیادہ آگے رہیں گی۔ مزید یہ کہ ایسے ہی لوگوں میں ’اے آئی ٹولز‘ کی غلطیاں اور جھکاؤ کو پہچان لینے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوگی۔ 
  • اسلامی تعلیمات کو ’اے آئی‘ کے پیرائے میں مہیا کرنا آج کے دور کی نہایت اہم ضرورت ہے۔ ’چیٹ بوٹس‘ کی صورت میں یہ تعلیمات فوری طور پردستیاب ہوں، تو ان سے آج کے دور میں زیادہ استفادہ کیا جائے گا۔ قرآن وحدیث سے لے کر کلاسیکی لٹریچر اور دور جدید کی تحقیق وتصنیف اسی اندازسے مہیا کی جائیں۔ جماعت اسلامی نے اس صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئےاس سلسلےمیں ایک پروجیکٹ پر کام شروع کیا ہے، اور اس طرح کے بعض چیٹ بوٹس پر کام مکمل بھی ہوچکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بڑے کام کو سرانجام دینے کے لیے مزید افراد اور ادارے آگے آئیں اور اس کام کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں، تاکہ کام کی تکرار سے بھی بچا جا سکے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکے۔  
  • دورِ حاضر میں جہاں حصول علم کے انداز بدل گئے ہیں، وہاں تنقیدی سوچ بچار (کریٹیکل تھنکنگ) بھی متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیادہ زور معلومات پر، ان کے حصول میں تیزی اور مستعدی پر ہے، جب کہ تنقیدی فکر ایک مربوط ذہنی ورزش کی متقاضی ہے اور اس بناپر وقت طلب عمل ہے۔ اس مسئلے کو فکری میدان میں باہمی تعاون کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی، یہ قابل عمل طریقہ ہو سکتا ہے کہ کئی لوگ اپنے پاس موجود علم کو جو بہت وسیع و عمیق نہ بھی ہو، مشترکہ طور پر علم کے ایک وسیع ذخیرے کی شکل دے دیں اور اس کی بنیاد پر تنقیدی سوچ بچار کو بھی ایک مشترکہ صورت میں فروغ دیا جائے۔ اس صورتِ حال کے تناظر میں ’اے آئی ٹکنالوجی‘ ’فکری تعاون‘ (کلیبریٹیو تھنکنگ) کے لیے ایک اچھی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کارپوریٹ دنیا میں بھی ’کلیبریٹیو لیڈرشپ‘ کا ماڈل مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ اسے زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی رائج کیا جانا چاہیے۔ تعلیمی اور تحقیقی ادارے بھی اس ماڈل کو اپنا سکتے ہیں۔  
  • سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول کے ایک اچھے ذریعے کی حیثیت سے اڑان بھری تھی، لیکن اب یہ مخاصمت اور اپنے زاویۂ نظرکے مقابلے میں کسی بھی دوسری رائے کوسرنگوں کرنے کی کوششوں کا ایک مرکز بن گیا ہے۔ اوپر تجویز کردہ ’فکری تعاون‘ کو فروغ دے کر سوشل میڈیا کی افادیت کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ گو کہ بہت سے پروفیشنل فورمز پر بہت اعلیٰ درجے کی بحث اور تبادلۂ خیال دیکھنے کو ملتا ہے، تاہم عام طور پر لا حاصل بحثوں اور اپنے اپنے مورچوں میں بند افراد کا شور زیادہ ہے۔ یہ رجحان بھی عام ہے کہ ایسی پوسٹ جس کے ’لائک‘ زیادہ ہوں اسے ہم مفید یا اہم سمجھتے ہیں، اور اسی پس منظر میں بہت سے کاروباری ادارے اور سیاسی قوتیں رجحان سازی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ فکر کو ایک خاص انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے، جب کہ انفرادی فکر جلا نہیں پا رہی۔ یقیناً ’اے آئی‘ کے ٹولز اس میں مدد گار ہو رہے ہیں اور ان کا مقابلہ انھی کے میدان میں کرنے کی ضرورت ہے۔  
  • اس سلسلے میں متعلقہ میدان کے صاحب الرائے افراد کے فورم تشکیل دیے جائیں، جو نئے دور کے تقاضوں کا جائزہ لیتے رہیں اور حسب ضرورت مناسب راہِ عمل تجویز کرتے رہیں۔  اسی طرح ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ادارے کمربستہ ہوں اور مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔

کاغذی کرنسی اور تجارتی سامان کا نصابِ زکوٰۃ 

سوال :  مجھے کاغذی کرنسی، تجارتی سامان، کمپنی کے حصص، اور اسی طرح کی چیزوں کے لیے سونے کو نصاب سمجھنے کے بارے میں کئی استفسارات اور سوالات موصول ہوئے ہیں کہ کیا اب بھی سونے کا نصاب قابل اعتبار ہے ،جب کہ سونے کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں؟ اور کیا چاندی کو یا اس جیسی کسی اور چیز کو نصاب بنایا جا سکتا ہے؟  

جواب : اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے دو عظیم اور جامع مقاصد مقرر کیے ہیں: 

پہلا مقصد: اللہ تعالیٰ کے لیے خالص عبادت کا حصول۔ اور وہ اس طرح کہ مالداروں کے دلوں کو لالچ اور حرص سے پاک کیا جائے، اور غریبوں کے دلوں کو حسد اور سماجی بغض سے صاف کیا جائے، تاکہ باہمی کفالت کی ضامن اسلامی اخوت حاصل ہو سکے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝۱۱  (التوبہ ۹:۱۱) پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں۔ 

دوسرا مقصد: حاجت مندوں، مسکینوں اور غریبوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کو ترقی دینا، انھیں شدید غربت سے نکالنا، پھر وہاں سے کفایت اور مکمل کفایت کی طرف لانا، اور اس سماجی پہلو میں وہ سب کچھ شامل ہے جو دعوت الی اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ سے متعلق ہے۔ 

ان دونوں مقاصد کا ذکر قرآن کریم نے اپنے اس فرمان میں کیا ہے: 

خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ۝۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝۱۰۳(التوبہ ۹:۱۰۳) اے نبیؐ، تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انھیں بڑھاؤ، اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمھاری دعا ان کے لیے وجۂ تسکین ہو گی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔  

اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کوئی ٹیکس نہیں ہے جو ریاست کی طرف سے یا طاقت وروں کی طرف سے ان کے اپنے فائدے کے لیے لگایا جاتا ہے، بلکہ زکوٰۃ ایک مکمل باہمی مالی کفالت کا نظام ہے، جس میں امیروں کے حقوق کے ساتھ حاجت مندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، اور یہ دنیا اور آخرت میں سب کے مفاد میں ہے، اسی طرح یہ معاشرے اور ریاست کے فائدے میں بھی ہے۔ 

واضح رہے کہ زکوٰۃ کے اکثر اموال کا نصاب ثابت شدہ احادیث سے متعین ہے، جیسے زرعی اور حیوانی دولت کا نصاب، اور خود سونا اور چاندی کا نصاب، جب کہ ہماری گفتگو تجارتی سامان، اور اس دور کے نئے مسائل جیسے کاغذی کرنسی وغیرہ کے بارے میں ہے۔ 

تجارتی سامان میں زکوٰۃ واجب ہونے پر اتفاق ہے، بلکہ اس پر سلف کا اجماع ہے۔ 

ابن المنذر کہتے ہیں: ’’اہل علم کا اجماع ہے کہ تجارتی سامان میں زکوٰۃ ہے، جب اس پر ایک سال گزر جائے‘‘۔اس بنیاد پر ہم تجارتی سامان کے نصاب کے بارے میں فقہاء کی آراء ذکر کرتے ہیں، کہ کیا ان کا نصاب سونا کے نصاب کی بنیاد پر طے کیا جائے گا یا چاندی کے نصاب کی بنیاد پر یا کسی اور چیز کے نصاب کو بنیاد بنا کر اسے مقرر کیا جائے گا؟ 

اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں:تجارتی سامان کی قیمت کا اندازہ سال پورا ہونے کے دن کیا جائے گا، اور اس پر اتفاق ہے، البتہ اختلاف اس میں ہے کہ:اس کی قیمت سونا سے طے کی جائے یا چاندی سے یا کسی اور چیز سے ؟ اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے اور یہ اختلاف کئی آراء پر مشتمل ہے جن میں مشہور ترین یہ ہیں: 

  • پہلی رائے: اس کا نصاب سونے یا چاندی میں سے اس چیز کے نصاب کی بنیاد پر مقرر کیا جائے، جس چیز کی قیمت فقرا ءکے لیے زیادہ نفع بخش ہو، چاہے وہ سونا ہو یا چاندی یا کوئی اور چیز، اور یہ امام ابو حنیفہؒ سے ایک قوی روایت ہے۔ التجريد للقدوري (ت ۴۲۸ھ) میں آیا ہے: ’’کیونکہ ہم سامان کا نصاب اس چیز کی بنیاد پر مقرر کرتے ہیں جو مساکین کے لیے زیادہ نفع بخش ہو، اور بعض اوقات نفع بخش چیز خود مال بھی ہو سکتی ہے‘‘___اور المرغینانی نے اس کی تائید اس قول سے کی ہے: ’’تجارتی سامان میں زکوٰۃ واجب ہے اگر اس کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے___ اس کا نصاب اُس چیز کی قیمت سے طے کیا جائے، جو چیز مساکین کے لیے زیادہ نفع بخش ہو، فقراء کے حق میں احتیاط کرتے ہوئے۔ یہ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک ہے‘‘۔ اور حنابلہ کی رائے بھی رہے، کہ فقرا ءکے لیے زیادہ فائدہ مند چیز کو اس کا نصاب بنایا جائے گا چاہے وہ سونا ہو یا چاندی۔ 
  • دوسری رائے: ہر حال میں ملک میں رائج کرنسی سے اس کی قیمت لگائی جائے، اور یہ امام محمد (امام ابو حنیفہ کے شاگرد) رحمہم اللہ کی رائے ہے اور شافعیہ کا بھی ایک قول ہے، اور یہی ابواسحاق کا قول ہے۔ 
  • تیسری رائے: اس کی قیمت اس چیز سے لگائی جائے جس سے اسے نقد خریدا گیا تھا، ورنہ ملک میں رائج کرنسی سے اس کی قیمت لگائی جائے، اور یہ امام ابو یوسفؒ کی رائے ہے۔ 
  • چوتھی رائے: اس کی قیمت مُطلقاً اس نقد چیز [وہ چیز جس کے بدلے یا عوض میں خریدوفروخت ہوتی ہو] سے لگائی جائے جس سے اسے خریدا گیا ہو، چاہے وہ ملک کا غالب نقد ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور نقد، اور یہ امام شافعیؒ کا مذہب ہے۔ 
  • پانچویں رائے: اعتبار فروخت کا ہے، قرافی نے کہا:’’جب ہم قیمت لگانے کے قائل ہیں تو جو چیز غالباً سونے کے بدلے بیچی جاتی ہے اس کی قیمت سونے سے لگائی جائے، اور جو غالباً چاندی کے بدلے بیچی جاتی ہے اس کی قیمت چاندی سے لگائی جائے، کیونکہ یہ استعمال کی قیمت ہے، پس جب وہ دونوں کے بدلے بیچی جاتی ہو، اور وہ زکوٰۃ کے اعتبار سے برابر ہوں تو اختیار دیا جائے گا، ورنہ وہ ذمہ دار ہوگا‘‘۔ انھوں (یعنی ابن القاسم) نے کہا: ’’زکوٰۃ میں چاندی اصل ہے، اسی سے قیمت لگائی جائے، اور اگر ہم کہیں کہ وہ دونوں اصل ہیں، تو ابو حنیفہؒ اور ابن حنبلؒ نے کہا: مساکین کے لیے جو افضل ہو اس کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ قیمت ان کے حق کی خاطر لگائی جاتی ہے۔ 
  • مضبوط ترجیحی رائے: میزان کا تقاضا یہ قول ہے کہ تجارتی سامان کا نصاب، اور اسی طرح ہماری کاغذی کرنسی کا نصاب اس چیز سے طےکیا جائے، جو فقراء کے لیے زیادہ فائدہ مند، زیادہ بہتر اور زیادہ نفع بخش ہو۔ لیکن اس میں ایک شرط کو ملحوظ رکھنا ہوگا، اور وہ یہ کہ یہ نصاب شریعت کے نصاب مقرر کرنے کے مقصد سے خارج نہ ہو، کیونکہ اس کا مقصد ’فقیرمحتاج‘ اور اس شخص کے درمیان فرق کرنا ہے جو حاجت کے دائرے سے نکل کر غِنٰی کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔ اور یہ شرط اغنیاء اور فقراء کے لیے اسلام میں عدلِ کامل کے حصول کے لیے ہے، اور چھوٹے اموال کو زکوٰۃ جیسے مالی بوجھ اٹھانے سے بچانے کے لیے ہے، تاکہ وہ بڑے ہوں، اور نصاب کی حد تک پہنچ جائیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ہر جنس میں نصاب کے واجب ہونے کی حکمت پر شاندار کلام ذکر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سال تک نصاب کا مالک رہنا فقر کی حد سے نکل جانے کا باعث بنتا ہے، اور اسے تقریباً ایک سال تک خود کفیل بنا دیتا ہے۔ 

بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ واضح کیا اور فرمایا: ’’صدقہ صرف زائد مال پر ہوتا ہے:’’ اور صدقہ سے مراد وہ صدقہ ہے جو زکوٰۃ اور اس کے علاوہ کو شامل ہے۔ امام بخاریؒ نے اسی عنوان سے باب قائم کیا ہے: باب لَاصَدَقَةَ إلَّا عَنْ ظَہرِ غِنًی پھر اپنی سند سے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو زائد مال پر ہو‘‘… اور مرفوعاً بھی جزم کے صیغے کے ساتھ معلقاً بلفظ لَاصَدَقَةَ إلَّا عَنْ ظَہرِ غِنًیروایت کیا۔ 

یہ احادیث بوضاحت دلالت کرتی ہیں کہ واجب صدقہ (زکوٰۃ) غِنی (تونگری) کے ساتھ شروع ہوتا ہے، اور جو شخص پورے ایک سال تک نصاب کا مالک رہا وہ اس دائرے میں داخل ہوچکا ہے۔اور اس بنیاد پر، جمہور معاصر علماء نے سونے کے نصاب پر اعتماد کیا ہے جو ۲۰مثقال (دینار) ہے اور یہ عصری اوزان کے مطابق ۸۵ گرام خالص سونے یعنی ۲۴ کیرٹ یعنی ۹۹۹ فی صد سونے کے برابر ہے۔ 

فقہاء نے اس چیز کو پیش نظر رکھا کہ ۱۹۹۹ء کے آغاز میں (۸۵) گرام خالص سونے کی قیمت تقریباً ۲ہزار ڈالر تھی، پھر ۲۰۰۰ء-۲۰۲۳ء کے آغاز میں ۳ہزار ڈالر سے ۵ہزار، یا ۶ہزارڈالر کے درمیان رہی تو یہ معاملہ بہت معقول ہے، اور اس میں فقرا اور اغنیاء کے حق میں عدل ہے۔ 

یہ معلوم ہے کہ چاندی کا نصاب (۲۰۰) درہم ہے جو (۵۹۵) گرام خالص چاندی کے برابر ہے۔ ۱۹۸۹ء سے ۲۰۲۲ء تک چاندی کی قیمت ۵ء۵۰  ڈالر سے۶ء۰ امریکی ڈالر فی اونس کے درمیان رہی، یعنی خالص چاندی کے ایک گرام کی قیمت ۱۸ سے ۱۹ امریکی سینٹ کے درمیان رہی۔ اگر ہم چاندی کے نصاب(۵۹۵) گرام کو ۱۹ سینٹ سے ضرب دیں تو نتیجہ ۰۵ٌٌء۱۱۳ یعنی ۱۱۳ ؍ڈالر اور پانچ سینٹ ہوگا، جو کہ ایک بہت معمولی رقم ہے جس سے نہ تو غنی ہوا جا سکتا ہے اور نہ یہ فقر اور تونگری کے درمیان حد فاصل بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اس دور میں تجارتی سامان اور کاغذی کرنسی میں چاندی کے نصاب پر انحصار نہیں کیا گیا۔ 

اس موقف کو اختیار کرنے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاندی کی قیمت سونے کی قیمت کا تقریباً دسواں حصہ تھی۔ اسی لیے سونے کا نصاب ۲۰ مثقال (دینار) اور چاندی کا نصاب (۲۰۰) درہم تھا، یعنی ہر دس درہم ایک دینار کے برابر تھے۔ یہ مساوات بہت گہری تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دیت ایک ہزار دینار (سونے کے) اور دس ہزار درہم (چاندی کے) تھی۔ ہاں، ایک مدت میں اس میں ۲۰ فی صد کا اضافہ ہوا تو یہ (۱۲ہزار) درہم تک پہنچ گئی اور اسی تناسب سے کمی بھی ہوئی تو (۸ ہزار) درہم رہ گئی، اور یہ معقول اور قابلِ برداشت تناسب تھے۔ لیکن جب ان کے درمیان فرق کئی گنا بڑھ جائے تو چاندی معیار اور مساوات سے خارج ہو جاتی ہے، اسی لیے حالیہ عشروں میں اس کے نصاب پر انحصار نہیں کیا گیا۔ 

آج ۲۸ جنوری ۲۰۲۶ء کو خالص چاندی کے ایک گرام کی قیمت ۲ء۵۷  ڈالر تھی، اگر ہم اسے (۵۹۵) گرام سے ضرب دیں تو (۱۵۲۹) ڈالر بنتے ہیں جو (۵۵۸۰) قطری ریال کے برابر ہے۔ یہ رقم اونٹوں میں نصاب کی قیمت سے کم ہے (پانچ اونٹ جن کی قیمت تقریباً  ۲۰ہزار ریال ہے) اور (۴۰) بکریوں کی قیمت (تقریباً ۴۰ ہزار ریال) سے بھی کم ہے اور (۳۰) گایوں کی قیمت (تقریباً  ایک لاکھ ۸۰ ہزار ریال) سے بھی کم ہے ۔ لیکن خوش قسمتی سے یہ گندم کے نصاب کی قیمت سے زیادہ ہے جو کہ اکثر مسلم ممالک بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں غالب (خوراک) ہے۔ ہم نے ۲۰۲۵ء کے دوران قطر میں ۶۷۰ کلو گندم کی اوسط قیمت کا حساب لگایا جو صرف (۲ہزار) ریال بنتی ہے، اور یہ چاندی کے نصاب کی قیمت سے کم ہے، اور یہ چیز چاندی کے نصاب کی طرف رجحان کی حمایت کرتی ہے۔ 

اسی لیے ہم اس تفصیلی بحث کے ذریعے دیکھتے ہیں کہ اس ہجری سال (۱۴۴۷ھ) اور اس کے بعد سے قابلِ اعتماد نصاب چاندی کا نصاب۵ہزار ۵سو۸۰ قطری ریال اور اس کے مساوی۱۵۲۹؍ امریکی ڈالر ہے۔ 

فقہ میں یہ معلوم ہے کہ تجارتی اشیاء کی زکوٰۃ کا حساب درج ذیل اقدامات سے شروع ہوتا ہے: 

  • اوّل: تمام نقدی، سونا اور چاندی کا ان کی قدر کے مطابق اس دن حساب لگایا جائے جس دن سال مکمل ہو۔ ابن قدامہ نے فرمایا: ’’سونا اور چاندی ایک دوسرے میں ضم کر دیے جائیں گے، اور اس سے نصاب پورا کیا جائے گا‘‘۔ 
  • ثانیاً: فروخت کے لیے پیش کردہ تمام اشیاء کا ان کی بازاری قیمت پر حساب لگایا جائے، اگر وہ ہول سیل میں بیچی جاتی ہیں تو ہول سیل قیمت، ورنہ ریٹیل قیمت۔ 
  • ثالثا ً: تاجر کو امید کے ساتھ ادا کیے جانے والے تمام قرضوں کا حساب کتاب۔ 
  • رابعاً: تجارتی اشیاء سے متعلق تمام خاص قرضوں کو منہا کرنا۔ 

پھر باقی ماندہ رقم اگر نصاب ۵ہزار ۵سو۸۰ ریال یا ایک ہزار ۵سو۲۹ ڈالر تک پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں۲ء۵ فی زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔پس تجارتی اشیاء اور کاغذی کرنسی کا نصاب وہ ہے جو ۵ہزار ۵سو۸۰ ریال یا ایک ہزار ۵سو۲۹ ؍ امریکی ڈالر کے برابر ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ حساب کتاب چاندی کی آج کی قیمت پر مبنی ہے، اگر اس کی قیمت تبدیل ہو جائے تو اس تبدیلی کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔ 

(ڈاکٹر علی محی الدین القرۃ داغی /  مترجم: ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن) 


 

عُذر کی وجہ سے نماز میں کوتاہی کا تدارک 

سوال :  میں پرائمری اسکول میں ٹیچر تھا۔ ریٹائر ہوگیا ہوں۔ زندگی بھر تحریک اسلامی سے وابستہ رہا ہوں۔ رفاہی اداروں میں حسب توفیق مالی امداد کرتا رہا ہوں۔ میرے چھ لڑکے ہیں۔ میرے پاس کچھ زمین تھی وہ میں نے ان میں تقسیم کردی ہے۔ اب میرے پاس کچھ باقی نہیں بچا ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے میری دائیں ٹانگ کا آپریشن ہوا۔ اسٹیل کا گولا ڈالا گیا۔ لیکن چند ماہ کے بعد دوبارہ معائنہ ہوا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے گھٹنے ناکارہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مصنوعی گھٹنے بھی کام نہیں دے سکتے۔ جون ۲۰۲۵ء سے میں چارپائی پر پڑا ہوں۔ پیشاب ، پاخانہ بھی بستر پر لیٹے ہوئے کرتا ہوں۔ خود سے اُٹھ کر پانی بھی نہیں پی سکتا۔ میرے پوتے سارا کام کرتے ہیں، وضو بھی نہیں کرسکتا۔ نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔ 

ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ فی نماز دوکلو گندم مرنے کے بعد صدقہ کرنا پڑے گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ میرے مرنے کے بعد کیا میرے بیٹے اتنا صدقہ کرسکیں گے؟ مجھے اُمید نہیں، میں نے نہ کبھی روزہ چھوڑا نہ نمازِ تہجد کا ناغہ کیا۔ غریبوں کی مدد اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اب میری ایسی حالت ہوگئی ہے۔ براہِ کرم میری راہنمائی فرمائیں میں کیا کروں؟ 

جواب : اس دُنیا میں ہرانسان آزمائش کی حالت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھانسانوں کو دے کر آزماتا ہے اور کچھ کو محروم کرکے۔ کچھ کو مال و دولت سے نوازتا ہے تو کچھ کو غریب رکھتا ہے۔ کچھ کو صحت مند رکھتا ہے تو کچھ کو امراض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ نعمتیں پاکر وہ شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں اور مال و دولت اور صحت سے محروم ہونے پر وہ صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ کامیاب انسان وہ ہیں جو کوئی نعمت پاکر شکر بجا لائیں اور کسی پریشانی کا شکار ہوں تو صبر کریں۔ کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکے تو ایک روزے کا فدیہ دو وقت کا کھانا کھلانا، یا اس کے برابر رقم صدقہ کرنا ہے۔ تاہم بعض افراد نے یہی ہر نماز کا فدیہ بھی قرار دیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ 

جب تک انسان زندہ اور ہوش و حواس میں ہے، نماز معاف نہیں۔جس طرح بھی ممکن ہو، نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وضو نہ کرسکتے ہوں تو مٹی کا ڈلا اپنے پاس رکھیں، اس سے تیمّم کرلیا کریں۔ اُٹھ بیٹھ نہ سکتے ہوں تو لیٹے لیٹے نماز ادا کرلیا کریں، کم از کم فرض نماز ضرور ادا کریں، توفیق اذکار و اوراد کا اہتمام کریں۔ جتنا قرآن یاد ہو جب بھی موقع ملے دُہراتے رہیں۔ 

آپ نے پوری زندگی دین داری کے ساتھ گزاری ہے۔ عبادات کا اہتمام کیا ہے۔ صدقہ و خیرات کرتے رہے ہیں۔ اب عُذر کی وجہ سے نہیں کرپا رہے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ حدیث میں ہے کہ عام حالات میں بندہ جو نیک اعمال کرتا رہا ہے، اگر عُذر کی وجہ سے انھیں نہ کرسکے تب بھی اللہ تعالیٰ اسے اجر دیتا رہے گا۔(محمد رضی الاسلام ندوی) 

اسلام کے نزدیک معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی نظام کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ یہ بالکل ویسا ہی تعلق ہے جیسا جڑ سے تنے کا، اور تنے سے شاخوں کا اور شاخوں سے پتوں کا ہوتا ہے۔ ایک ہی نظام ہے جو خدا کی توحید اور رسولوں ؑ کی رسالت پر ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی سے اخلاقی نظام بنتا ہے۔ اسی سے عبادات کا نظام بنتا ہے، جس کو آپ مذہبی نظام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی سے معاشرتی نظام نکلتاہے۔ اسی سے معاشی نظام نکلتا ہے۔اسی سے سیاسی نظام نکلتا ہے۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ خدا اور اس کے رسولؐ پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں تو آپ کو لامحالہ وہی اخلاقی اصول اختیار کرنے پڑیں گے جو اسلام نے سکھائے ہیں، اور وہی سیاسی اصول اختیار کرنے پڑیں گے جو اسلام نے آپ کو دیئے ہیں۔ اسی کے اصولوں پر آپ کو اپنی معاشرت کی تشکیل کرنی ہوگی اور اسی کے اصولوں پر اپنی معیشت کا سارا کاروبار چلانا ہوگا۔ جس عقیدے کی بنا پرآپ نماز پڑھتے ہیں، اسی عقیدے کی بناپر آپ کو تجارت کرنی پڑے گی۔ جس دین کا ضابطہ آپ کے روزے اور حج کو منضبط کرتا ہے، اسی دین کے ضابطے کی پابندی آپ کو اپنی عدالت میں بھی کرنی ہوگی اور اپنی منڈی میں بھی۔  

اسلام میں مذہبی نظام، سیاسی نظام، معاشی نظام اور معاشرتی نظام الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی نظام کے مختلف شعبے اور اجزا ہیں، جو ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ بھی ہیں اور ایک دوسرے سے طاقت بھی حاصل کرتے ہیں۔ اگر توحید و رسالت کا عقیدہ موجود نہ ہو اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاق موجود نہ ہوں، تو اسلام کا معاشی نظام کبھی قائم نہیں ہوسکتا اور قائم کیا بھی جائے تو چل نہیں سکتا۔ اسی طرح اسلام کا سیاسی نظام بھی نہ قائم ہوسکتا ہے، نہ چل سکتا ہے اگر خدا اور رسولؐ پر عقیدہ اور قرآن پر ایمان نہ ہو، کیونکہ اسلام جو سیاسی نظام دیتا ہے اس کی بناہی اس عقیدے پر رکھی گئی ہے کہ خدا حاکمِ اعلیٰ ہے۔ رسولؐ اس کا نمائندہ ہے اور قرآن اس کا واجب الاطاعت فرمان ہے۔ پس یہ خیال کرنا ہی سرے سے غلط ہے کہ اسلام میں کوئی سیاسی یا معاشی نظام، مذہبی اور اخلاقی نظام سے الگ اور بے تعلق بھی ہوسکتا ہے۔(’اسلامی نظم معیشت کے اصول اور مقاصد‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۵، عدد۱، مارچ ۱۹۶۶ء،ص۴۵-۴۶)