مضامین کی فہرست


فروری ۲۰۲۶

اسلامی زندگی کی عمارت کو قائم ہونے اور قائم رہنے کے لیے جن سہاروں کی ضرورت ہے، ان میں سب سے مقدم سہارا یہ ہے کہ مسلمانوں کے افراد میں فرداً فرداً اور ان کی جماعت میں بحیثیت مجموعی وہ اوصاف پیدا ہوں جو خدا کی بندگی کا حق ادا کرنے اور دنیا میں خلافت ِ الٰہی کا بار سنبھالنے کے لیے ضروری ہیں۔ 

وہ غیب پر سچا اور زندہ ایمان رکھنے والے ہوں۔ وہ اللہ کو اپنا واحد فرماں روا تسلیم کریں اور اس کے فرض شناس اور اطاعت کیش بندے ہوں۔ اسلام کا نظامِ فکرونظریۂ حیات ان کی رَگ رَگ میں ایسا پیوستہ ہوجائے کہ اسی کی بنیاد پر اُن میں ایک پختہ سیرت پیدا ہو، اور ان کا عملی کردار اسی کے مطابق ڈھل جائے۔ اپنی جسمانی اور نفسانی قوتوں پر وہ اتنے قابو یافتہ ہوں کہ اپنے ایمان واعتقاد کے مطابق ان سے کام لے سکیں۔ ان کے اندر منافقین کی جماعت اگر پیدا ہوگئی ہو یا باہر سے گھس آئی ہو تو وہ اہلِ ایمان سے الگ ہوجائے۔ ان کی جماعت کا نظام اسلام کے اجتماعی اصولوں پر قائم ہو، اور ایک مشین کی طرح پیہم متحرک رہے۔ ان میں اجتماعی ذہنیت کارفرما ہو۔ ان کے درمیان محبت ہو، ہمدردی ہو، تعاون ہو، مساوات ہو، وحدتِ روح اور وحدتِ عمل ہو۔ وہ قیادت اور اقتدار کے حدود کو جانتے اور سمجھتے ہوں اور پورے نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ یہ تمام مقاصد چونکہ نماز کی اقامت سے حاصل ہوتے ہیں، لہٰذا اس کو دین اسلام کا ستون قرار دیا گیا۔ یہ ستون اگر منہدم ہوجائے تو مسلمانوں کی انفرادی سیرت اور اجتماعی ہیئت دونوں مسخ ہوکر رہ جائیں اور وہ اس مقصد ِعظیم کے لیے کام کرنے کے اہل ہی نہ رہیں جس کی خاطر جماعت وجود میں آئی ہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا کہ نماز عماد الدین ہے، یعنی دین کا سہارا ہے جس نے اس کو گرایا اس نے دین کو گرا دیا۔ 

ان مقاصد کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ ان کو حاصل کرنے کے لیے صرف نماز کو کافی نہ سمجھا گیا بلکہ اس رکن کو مزید تقویت پہنچانے کے لیے ایک دوسرے رکن روزے کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ نماز کی طرح یہ روزہ بھی قدیم ترین زمانے سے اسلام کا رُکن رہا ہے۔ اگرچہ تفصیلی احکام کے لحاظ سے اس کی شکلیں مختلف رہی ہیں مگر جہاں تک نفسِ روزے کا تعلق ہے وہ ہمیشہ الٰہی شریعتوں کا جزولاینفک ہی رہا۔ تمام انبیا علیہم السلام کے مذہب میں یہ فرض کی حیثیت سے شامل تھا۔ جیساکہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:  

کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (البقرہ ۲:۱۸۳) تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑکے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔  

اس سے یہ بات خودبخود مترشح ہوتی ہے کہ اسلام کی فطرت کے ساتھ اس طریقِ تربیت کو ضرور کوئی مناسبت ہے۔ 

زکوٰۃ اور حج کی طرح روزہ ایک مستقل جداگانہ نوعیت رکھنے والا رُکن نہیں ہے بلکہ دراصل اس کا مزاج قریب قریب وہی ہے جو رکنِ صلوٰۃ کا ہے اور اسے رکنِ صلوٰۃ کے مددگار اور معاون ہی کی حیثیت سے لگایا گیا ہے۔ اس کا کام انھی اثرات کو زیادہ تیز اور زیادہ مستحکم کرنا ہے جو نماز سے انسانی زندگی پر مترتب ہوتے ہیں۔ نماز روزمرہ کا معمولی نظامِ تربیت ہے جو روز پانچ وقت تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے آدمی کو اپنے اثر میں لیتا ہے اور تعلیم و تربیت کی ہلکی ہلکی خوراکیں دے کر چھوڑ دیتا ہے، اور روزہ سال بھر میں ایک مہینے کا غیرمعمولی نظامِ تربیت (special training course) ہے جو آدمی کو تقریباً ۷۲۰ گھنٹے تک مسلسل اپنے مضبوط ڈسپلن کے شکنجے میں کَسے رکھتا ہے تاکہ روزانہ کی معمولی تربیت میں جو اثرات خفیف تھے وہ شدید ہوجائیں۔ یہ غیرمعمولی نظامِ تربیت کس طرح اپنا کام کرتا ہے، اور کس کس ڈھنگ سے نفسِ انسانی پر مطلوب اثر ڈالتا ہے ، اس کا تفصیلی جائزہ ہم ان صفحات میں لینا چاہتے ہیں۔ 

روزے کے اثرات 

روزے کا قانون یہ ہے کہ آخر شب طلوعِ سحر کی پہلی علامات ظاہر ہوتے ہی آدمی پر یکایک کھانا پینا اور مباشرت کرنا حرام ہوجاتا ہے اور غروبِ آفتاب تک پورے دن حرام رہتا ہے۔ اس دوران میں پانی کا ایک قطرہ اور خوراک کا ایک ریزہ تک قصداً حلق سے اُتارنے کی اجازت نہیں ہوتی اور زوجین کے لیے ایک دوسرے سے قضائے شہوت کرنا بھی حرام ہوتا ہے۔ پھر شام کو ایک خاص وقت آتے ہی اچانک حُرمت کا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ سب چیزیں جو ایک لمحے پہلے تک حرام تھیں یکایک حلال ہوجاتی ہیں اور رات بھر حلال رہتی ہیں، یہاں تک کہ دوسرے روز کی مقررہ ساعت آتے ہی پھر حُرمت کا قفل لگ جاتا ہے۔ ماہِ رمضان کی پہلی تاریخ سے یہ عمل شروع ہوتا ہے اور ایک مہینے تک مسلسل اس کی تکرار جاری رہتی ہے۔ گویا پورے ۳۰دن آدمی ایک شدید ڈسپلن کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔ مقرر وقت تک سحری کرے، مقرر وقت پر افطار کرے، جب تک اجازت ہے، اپنی خواہشاتِ نفس پوری کرتا رہے اور جب اجازت سلب کرلی جائے تو ہر اس چیز سے رُک جائے جس سے منع کیا گیا ہے۔ 

احساسِ بندگی 

اس نظامِ تربیت پر غور کرنے سے جو بات سب سے پہلے نظر میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اس طریقے سے انسان کے شعور میں اللہ کی حاکمیت کے اقرار و اعتراف کو مستحکم کرنا چاہتا ہے، اور اس شعور کو اتنا طاقت ور بنادینا چاہتا ہے کہ انسان اپنی آزادی اور خودمختاری کو اللہ کے آگے بالفعل تسلیم (surrender) کردے۔ یہ اعتراف و تسلیم ہی اسلام کی جاں ہے، اور اسی پر آدمی کے مسلم ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے۔ 

دین اسلام کا مطالبہ انسان سے صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ بس وہ خداوندعالم کے وجود کو مان لے، یا محض ایک مابعد الطبیعی نظریے کی حیثیت سے اس بات کا اعتراف کرلے کہ اس کائنات کے نظام کو بنانے اور چلانے والا صرف اللہ واحد قہار ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی اس امرواقعی کو ماننے کے ساتھ ہی اس کے منطقی اور فطری نتیجے کو بھی قبول کرے۔ یعنی جب وہ یہ مانتا ہے کہ اس کا اور تمام دنیا کا خالق، پروردگار، قیام بخش اور مدبرِ امر صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور جب وہ تسلیم کرتا ہے کہ نہ تخلیق میں کوئی اللہ کا شریک ہے، نہ پرورش میں، نہ قیام بخش میں اور نہ تدبیر امر میں، تو اس تسلیم و اعتراف کے ساتھ ہی اسے اللہ کی حاکمیت و فرماں روائی کے آگے سپرڈال دینی چاہیے۔ اپنی آزادی و خودمختاری کے غلط اِدعا سے خیال اور عمل دونوں میں دست بردار ہوجانا چاہیے، اور اللہ کے مقابلے میں وہی رویّہ اختیار کرلینا چاہیے جو ایک بندے کا اپنے مالک کے مقابلے میں ہونا لازم ہے۔  

یہی چیز دراصل کفر اور اسلام کے درمیان فارق ہے۔ کفر کی حالت اس کے سوا کچھ نہیں کہ آدمی اپنے آپ کو اللہ کے مقابلے میں خودمختار اور غیرجواب دہ سمجھے اور یہی سمجھ کر اپنے لیے زندگی کا راستہ اختیار کرے، اور اسلام کی حالت اس کے سوا کسی اور چیز کا نام نہیں کہ انسان اپنے آپ کو  اللہ کا بندہ اور اس کے سامنے جواب دہ سمجھے اور اسی احساسِ بندگی و ذمہ داری کے ساتھ دُنیا میں زندگی بسر کرے۔ پس حالت ِ کفر سے نکل کر حالت ِ اسلام میں آنے کے لیے جس طرح اللہ کی حاکمیت کا سچا اور قلبی اقرار ضروری ہے، اسی طرح اسلام میں رہنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کے دل میں بندگی کا احساس و شعور ہردم تازہ، ہروقت زندہ اور ہر آن کارفرما رہے ۔ کیونکہ اس احساسِ شعور کے دل سے دُور ہوتے ہی خود مختاری و غیرذمہ داری کا رویّہ عود کرآتا ہے، اور  کفر کی وہ حالت پیدا ہوجاتی ہے جس میں آدمی یہ سمجھتے ہوئے کام کرتا ہے کہ نہ اللہ اس کا حاکم ہے اور نہ اسے اللہ کو اپنے عمل کا حساب دینا ہے۔ 

جیساکہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے، نماز کا اوّلیں مقصد انسان کے اندر ’اسلام‘ کی اسی حالت کو پے درپے تازہ کرتے رہنا ہے ، اور یہی روزے کا مقصد بھی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ نماز روزانہ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے اس کو تازہ کرتی ہے، اور رمضان کے روزے سال بھر میں ایک مرتبہ پورے ۷۲۰گھنٹوں تک پیہم اس حالت کو آدمی پر طاری رکھتے ہیں، تاکہ وہ پوری قوت کے ساتھ دل و دماغ میں بیٹھ جائے اور سال کے باقی ۱۱مہینوں تک اس کے اثرات قائم رہیں۔ اول تو روزے کے سخت ضابطے کو اپنے اُوپر نافذ کرنے کے لیے کوئی شخص اس وقت تک آمادہ ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ کو اپنا حاکم اعلیٰ نہ سمجھتا ہو اور اس کے مقابلے میں اپنی آزادی و خودمختاری سے دست بردار نہ ہوچکا ہو۔ پھر جب وہ دن کے وقت مسلسل ۱۲،۱۲؍۱۳،۱۳گھنٹے کھانے پینے اور مباشرت کرنے سے رُکا رہتا ہے، اور جب سحری کا وقت ختم ہوتے ہی نفس کے مطالبات سے یکایک ہاتھ کھینچ لیتا ہے، اور جب افطار کا وقت آتے ہی نفس کے مطلوبات کی طرف اس طرح لپکتا ہے کہ گویا فی الواقع اس کے ہاتھوں اور اس کے منہ اور حلق پر کسی اور کی حکومت ہے، جس کے بند کرنے سے وہ بند ہوتے اور جس کے کھولنے سے وہ کھلتے ہیں، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس دوران میں اللہ کی حاکمیت اور اپنی بندگی کا احساس اس پر ہروقت طاری ہے۔ اس پورے ایک مہینے کی طویل مدت میں یہ احساس اس شعور یا تحت الشعور سے ایک لمحے کے لیے بھی غائب نہیں ہوا۔ کیونکہ اگر غائب ہوجاتا تو ممکن ہی نہ تھا کہ وہ ضابطے کو توڑنے سے باز رہ جاتا۔ 

اطاعتِ امر 

احساسِ بندگی کے ساتھ خود بخود جو چیز لازمی نتیجے کے طور پر پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جس کا بندہ سمجھ رہا ہے اس کے حکم کی اطاعت کرے۔  

ان دونوں چیزوں میں ایسا فطری اور منطقی تعلق ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتے، نہ ان کے درمیان کبھی تناقض (inconsistency) کے لیے گنجایش نکل سکتی ہے۔ اس لیے کہ اطاعت دراصل نتیجہ ہی اعترافِ خداوندی کا ہے۔ آپ کسی کی اطاعت کر ہی نہیں سکتے جب تک کہ اس کی خداوندی نہ مان لیں، اور جب حقیقت میں کسی کی خداوندی آپ مان چکے ہیں، تو اس کی بندگی و اطاعت سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتے۔ انسان نہ اتنا احمق ہے کہ خواہ مخواہ کسی کا حکم مانتا چلا جائے درآں حالیکہ اس کے حقِ حکمرانی کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ اور نہ انسان میں اتنی جرأت موجود ہے کہ وہ فی الواقع اپنے قلب و روح میں جسے حاکمِ ذی اقتدار سمجھتا ہو، اور جسے نافع و ضار اور پروردگار مانتا ہو، اس کی اطاعت سے منہ موڑ جائے۔ بس درحقیقت خداوندی کے اعتراف اور بندگی و طاعت کے عمل میں لازم و ملزوم کا تعلق ہے، اور یہ عین عقل و منطق کا تقاضا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ہر پہلو سے کامل توافق ہو۔ 

آقائی و خداوندی میں توحید لامحالہ بندگی و طاعت میں توحید پر منتج ہوگی، اور آقائی و خداوندی میں شرک کا نتیجہ لازماً بندگی و اطاعت میں شرک ہوگا۔ آپ ایک کو خدا سمجھیں گے تو ایک ہی کی بندگی بھی کریں گے۔ دس کی خداوندی تسلیم کریں گے تو بندگی و طاعت کا رُخ بھی ان دسوں کی طرف پھرے گا۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ آپ خداوندی دس کی تسلیم کر رہے ہوں اور اطاعت ایک کی کریں۔ 

ذاتِ خداوندی کا تعین لامحالہ سمت ِ بندگی کے تعین پر منتج ہوگا۔ آپ جس کی خداوندی کا اعتراف کریں گے لازماً اطاعت بھی اسی کی کریں گے۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ خداوند ایک کومانیں اور اطاعت دوسرے کی کریں۔ تعارض کا امکان زبانی اعتراف اور واقعی بندگی میں تو ضرور ممکن ہے، مگر قلب و روح کے حقیقی احساس و شعور اور جوارح کے عمل میں ہرگز ممکن نہیں۔ کوئی عقل اس چیز کا تصور نہیں کرسکتی کہ آپ فی الحقیقت اپنے آپ کو جس کا بندہ سمجھ رہے ہیں اس کے بجائے آپ کی بندگی کا رُخ کسی ایسی ہستی کی طرف پھر سکتا ہے جس کا بندہ آپ فی الحقیقت اپنے آپ کو نہ سمجھتے ہوں۔ بخلاف اس کے عقل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ جس طرف بھی آپ کی بندگی کا رُخ پھر رہا ہے اُسی کی خداوندی کا نقش دراصل آپ کے ذہن پر مرتسم ہے، خواہ زبان سے آپ اس کے سوا کسی اورکی خداوندی کا اظہار کررہے ہوں۔ 

خداوندی کے اعتراف اور بندگی کے احساس میں کمی بیشی لازماً اطاعت ِامر کی کمی بیشی پر منتج ہوگی۔ کسی کے خدا ہونے اور اپنے بندہ ہونے کا احساس آپ کے دل میں جتنا زیادہ شدید ہوگا اسی قدر زیادہ شدت کے ساتھ آپ اس کی اطاعت کریں گے، اور اس احساس میں جتنی کمزوری ہوگی اتنی اطاعت میں کمی واقع ہوجائے گی، حتیٰ کہ اگر یہ احساس بالکل نہ ہو تو اطاعت بھی بالکل نہ ہوگی۔ 

ان مقدمات کو ذہن نشین کرنے کے بعد یہ بات بالکل صاف، واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کا مدّعا اللہ کی خداوندی کا اقرار کرانے اور اس کے سوا ہر ایک کی خداوندی کا انکار کرا دینے سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بندگی و اطاعت نہ کرے۔ جب وہ اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ط [آگاہ رہو اللہ ہی کے لیے ہے اطاعت ِ خالص۔الزمر۳۹:۳] کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اطاعت خالصاً و مخلصاً صرف اللہ کے لیے ہے، کسی دوسری مستقل بالذات اطاعت کی آمیزش کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ جب وہ کہتا ہے: 

وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۙ (البینہ۹۸:۵) اور نہیں حکم دیے گئے سوائے اس کے کہ اللہ کی بندگی کریں خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین۔ 

تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صرف اللہ ہی کی بندگی کرنے پر انسان مامور ہے اور اس کی بندگی کرنے کی شرط یہ ہے کہ انسان اس کی اطاعت کے ساتھ کسی دوسرے کی اطاعت مخلوط نہ کرے۔ جب وہ کہتا ہے: 

وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج (الانفال ۸:۳۹) لڑتے رہو اُن سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے۔ 

تو اس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسلمان کی اطاعت پوری کی پوری اللہ ہی کے لیے وقف ہے اور ہر اس طاقت سے مسلمان کی جنگ ہے جو اس اطاعت میں حصہ بٹانا چاہتی ہو۔ جس کا مطالبہ یہ ہو کہ مسلمان خداوندعالم کے ساتھ اس کی اطاعت بھی کرے، یا خداوندعالم کے بجائے صرف اسی کی اطاعت کرے۔ پھر جب وہ کہتا ہے: 

ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط (الفتح ۴۸: ۲۸) وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ غالب کردے اسے سارے دین پر۔ 

تو اس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی اطاعت تمام اطاعتوں پر غالب ہو، اطاعت اور بندگی کا پورا نظام اپنے تمام شعبوں اور سارے پہلوئوں کے ساتھ اطاعت ِ الٰہی کے نیچے آجائے، جس کی فرماں برداری بھی ہو، خداوندعالم کی اجازت کے تحت ہو، اور جس فرماں برداری کے لیے وہاں سے حکم یا سند ِ جواز نہ ملے اس کا بند کاٹ ڈالا جائے، یہ اس دین حق اور اس ہدایت کا تقاضا ہے جو اللہ اپنے رسولؐ کے ذریعے سے بھیجتا ہے۔ 

اس تقاضے کے مطابق خواہ انسان کے ماں باپ ہوں، خواہ خاندان اور سوسائٹی ہو، خواہ قوم اور حکومت ہو، خواہ امیر یا لیڈر ہو، خواہ علما اور مشائخ ہوں، خواہ وہ شخص یا ادارہ ہو جس کی انسان ملازمت کرکے پیٹ پالتا ہے، اور خواہ انسان کا اپنا نفس اور اس کی خواہشات ہوں، کسی کی اطاعت بھی خداوندعالم کی اصلی اور بنیای اطاعت کی قید سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتی۔ اصل مطاع اللہ تعالیٰ ہے۔ جو اس کی خداوندی کا اقرار کرچکا اور جس نے اس کے لیے اپنی زندگی کو خالص کرلیا، وہ جس کی اطاعت بھی کرے گا، اللہ ہی کی اطاعت کے تحت رہ کر کرے گا۔ جس حد تک جس کی بات ماننے کی وہاں سے اجازت ہوگی اسی حد تک مانے گا، اور جہاں اجازت کی حد ختم ہوجائے گی وہاں وہ ہرایک کا باغی اور صرف اللہ کا فرماں بردار نکلے گا۔ 

روزہ کا مقصد 

روزے کا مقصد آدمی کو اسی اطاعت کی تربیت دینا ہے۔ وہ مہینے بھر تک روزانہ کئی کئی گھنٹے آدمی کو اس حالت میں رکھتا ہے کہ اپنی بالکل ابتدائی (elementary) ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی اس کو خداوندعالم کے اذن و اجازت کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ غذا کا ایک لقمہ اور پانی کا ایک قطرہ تک وہ حلق سے گزار نہیں سکتا جب تک کہ وہاں سے اجازت نہ ملے۔ ایک ایک چیز کے استعمال کے لیے وہ شریعت ِ خداوندی کی طرف دیکھتا ہے۔ جو کچھ وہاں حلال ہے وہ اس کے لیے حلال ہے، خواہ تمام دنیا اُسے حرام کرنے پر متفق ہوجائے ، اور جو کچھ وہاں حرام ہے وہ اس کے لیے حرام ہے، خواہ ساری دنیا مل کر اُسے حلال کردے۔ اس حالت میں خدائے واحد کے سوا کسی کا اذن اس کے لیے اذن نہیں، کسی کا حکم اس کے لیے حکم نہیں، اور کسی کی نہی اس کے لیے نہی نہیں۔ خود اپنے نفس کی خواہش سے لے کر دنیا کے ہرانسان اور ہر ادارے تک کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جس کے حکم سے مسلمان رمضان میں روزہ چھوڑ سکتا ہو یا توڑسکتا ہو۔ اس معاملے میں نہ بیٹے پر باپ کی اطاعت ہے، نہ بیوی پر شوہر کی، نہ ملازم پر آقا کی، نہ رعیّت پر حکومت کی، نہ پیرو پر لیڈر یا امام کی۔ بالفاظِ دیگر اللہ کی بڑی اور اصلی اطاعت تمام اطاعتوں کو کھاجاتی ہے اور ۷۲۰گھنٹے کی طویل مشق و تمرین سے روزے دار کے دل پر کالنقش فی الحجر یہ سکّہ بیٹھ جاتا ہے کہ ایک ہی مالک کا وہ بندہ ہے ، ایک ہی قانون کا وہ پیرو ہے، اور ایک ہی اطاعت کا حلقہ اس کی گردن میں پڑا ہے۔ 

اس طرح یہ روزہ انسان کی فرماں برداریوں اور اطاعتوں کو ہر طرف سے سمیٹ کر ایک مرکزی اقتدار کی جانب پھیر دیتا ہے اور ۳۰ دن تک روزانہ ۱۲،۱۲؍ ۱۴،۱۴ گھنٹے تک اسی سمت میں جمائے رکھتا ہے، تاکہ اپنی بندگی کے مرجع اور اپنی اطاعت کے مرکز کو وہ اچھی طرح متحقق کرے اور رمضان کے بعد جب اس ڈسپلن کے بند کھول دیے جائیں تو اس کی اطاعتیں اور فرماں برداریاں بکھر کر مختلف مرجعوں کی طرف بھٹک نہ جائیں۔  

اطاعت ِ امر کی اس تربیت کے لیے بظاہر انسان کی صرف دو خواہشوں (یعنی غذا لینے کی خواہش اور صنفی خواہش) کو چھانٹ لیا گیا ہے اور ڈسپلن کی ساری پابندیاں صرف انھی دو پر لگائی گئی ہیں۔ لیکن روزے کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی پر اس حالت میں خدا کی خداوندی اور بندگی و غلامی کا احساس پوری طرح طاری ہوجائے اور وہ ایسا مطیع امر ہوکر یہ ساعتیں گزارے کہ ہراُس چیز سے رُکے جس سے خدا نے روکا ہے، اور ہراُس کام کی طرف دوڑے جس کا حکم خدا نے دیا ہے۔ روزے کی فرضیت کا اصل مقصد اسی کیفیت کو پیدا کرنا اور نشوونما دینا ہے نہ کہ محض کھانے پینے اور مباشرت سے روکنا۔ یہ کیفیت جتنی زیادہ ہو، روزہ اتنا ہی مکمل ہے، اور جتنی اس میں کمی ہو اتنا ہی وہ ناقص ہے۔ اگر کسی آدمی نے اس احمقانہ طریقے سے روزہ رکھا کہ جن جن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا ہے ، ان سے تو پرہیز کرتا رہا اور باقی تمام ان افعال کا ارتکاب کیے چلاگیا جنھیں خدا نے حرام کیا ہے، تو اس کے روزے کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک مُردہ لاش کہ اس میں اعضا تو سب کے سب موجود ہیں، جن سے صورتِ انسانی بنتی ہے مگر جان نہیں ہے جس کی وجہ سے انسان انسان ہے۔ جس طرح اس بے جان لاش کو کوئی شخص انسان نہیں کہہ سکتا اسی طرح اس بے روح روزے کو بھی کوئی روزہ نہیں کہہ سکتا۔ یہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی: 

مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِی اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ (بخاری، کتاب الصوم) جس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو خدا کو اس کی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ 

جھوٹ بولنے کے ساتھ ’جھوٹ پر عمل کرنے‘کا جو ارشاد فرمایا گیا ہے یہ بڑا ہی معنی خیز ہے۔ دراصل یہ لفظ تمام نافرمانیوں کا جامع ہے۔ جو شخص خدا کو خدا کہتا ہے اورپھر اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ حقیقت میں خود اپنے اقرار کی تکذیب کرتا ہے۔ روزے کا اصل مقصد تو عمل سے اقرار کی تصدیق ہی کرنا تھا، مگر جب وہ روزے کے دوران میں اس کی تکذیب کرتا رہا تو پھر روزے میں بھوک پیاس کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ حالانکہ خدا کو اس کے خلوئے معدہ کی کوئی حاجت نہ تھی۔ اسی بات کو دوسرے انداز میں حضوؐر نے اس طرح بیان فرمایا ہے: 

کَمْ مِنْ  صَائِمٍ  لَیْسَ  لَہٗ  مِنْ  صِیَامِہٖ  اِلَّا الظَّمَاُوَکَمْ مِنْ قَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ  اِلَّا السَّھَرُ (سنن الدارمی) کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا، اور کتنے ہی راتوں کو کھڑے رہنے والے ایسے ہیں جنھیں اس قیام سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ 

حقیقت ِ تقویٰ 

یہی بات ہے جس کو قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح تر الفاظ میں ظاہر فرما دیا کہ: 

کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo (البقرہ۲:۱۸۳) تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔ توقع ہے کہ اس ذریعے سے تم تقویٰ کرنے لگو گے۔ 

یعنی روزے فرض کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو۔ تقویٰ کے اصل معنی حذر اور خوف کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد خدا سے ڈرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہے۔ اس لفظ کی بہترین تفسیر جو میری نظر سے گزری ہے، وہ ہے جو حضرت ابی ابن کعبؓ نے بیان کی۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا: تقویٰ کسے کہتے ہیں؟ انھوں نے عرض کیا: امیرالمومنینؓ! آپؓ کو کبھی کسی ایسے رستے سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے جس کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں ہوں اور راستہ تنگ ہو؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: بارہا۔ انھوں نے پوچھا: تو ایسے موقعے پر آپ کیا کرتے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں دامن سمیٹ لیتا ہوں اور بچتا ہوا چلتا ہوں کہ دامن کانٹوں میں نہ اُلجھ جائے۔ حضرت ابی ؓ نے کہا: بس اسی کا نام تقویٰ ہے۔ 

زندگی کا یہ راستہ جس پر انسان سفر کر رہا ہے، دونوں طرف افراط و تفریط ، خواہشات اور میلاناتِ نفس، وساوس اور ترغیبات (temptations) ، گمراہیوں اور نافرمانیوں کی خاردار جھاڑیوں سے گھِرا ہوا ہے۔ اس راستے پر کانٹوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے چلنا اور اطاعت ِ حق کی راہ سے ہٹ کر بداندیشی و بدکرداری کی جھاڑیوں میں نہ اُلجھنا، یہی تقویٰ ہے، اور یہی تقویٰ پیدا کرنے کے لیے اللہ نے روزے فرض کیے ہیں۔ یہ ایک مقوّی دوا ہے جس کے اندر خداترسی و راست رَوی کو قوت بخشنے کی خاصیت ہے، مگر فی الواقع اس سے یہ قوت حاصل کرنا انسان کی اپنی استعداد پر موقوف ہے۔  

اگر آدمی روزے کے مقصد کو سمجھے ، اور جو قوت روزہ دیتا ہے اس کو لینے کے لیے تیار ہو، اور روزے کی مدد سے اپنے اندر خوفِ خدا اور اطاعت ِ امر کی صفت کو نشوونما دینے کی کوشش کرے، تو یہ چیز اس میں اتنا تقویٰ پیدا کرسکتی ہے کہ صرف رمضان ہی میں نہیں بلکہ اس کے بعد بھی سال کے باقی ۱۱مہینوں میں وہ زندگی کی سیدھی شاہراہ پر دونوں طرف کی خاردار جھاڑیوں سے دامن بچائے ہوئے چل سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کے لیے روزے کے نتائج، ثواب اور منافع (اجر) کی کوئی حد نہیں۔ لیکن اگر وہ اصل مقصد سے غافل ہوکر محض روزہ نہ توڑنے ہی کو روزہ رکھنا سمجھے اور تقویٰ کی صفت حاصل کرنے کی طرف توجہ ہی نہ کرے، تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے نامۂ اعمال میں بھوک پیاس اور رت جگے کے سوا اور کچھ نہیں پاسکتا۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

کُلُّ عَمَلِ اِبْنِ اٰدَمَ یُضَاعِفُ ، الْـحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّہٗ  لِی وَاَنَـا اَجْزِیْ بِہٖ (متفق علیہ) آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہے۔ ایک نیکی ۱۰ گنی سے ۷۰۰ گنی تک پھلتی پھولتی ہے۔ مگر اللہ فرماتا ہے کہ روزہ مستثنیٰ ہے، وہ میری مرضی پر موقوف ہے، جتنا چاہوں اس کا بدلہ دوں۔ 

یعنی روزے کے معاملے میں بالیدگی و افزونی کا امکان بے حد و حساب ہے۔ آدمی اُس سے تقویٰ حاصل کرنے کی جتنی کوشش کرے اتنا ہی وہ بڑھ سکتا ہے۔ صفر کے درجے سے لے کر اُوپر لاکھوں، کروڑوں، اربوں گنے تک وہ جاسکتا ہے بلکہ بلانہایت ترقی کرسکتا ہے۔ پس یہ معاملہ چونکہ آدمی کی اپنی استعدادِ اخذ وقبول پر منحصر ہے کہ روزے سے تقویٰ حاصل کرے یا نہ کرے، اور کرے تو کس حد تک کرے۔ اس وجہ سے آیت مذکورہ بالا میں یہ نہیں فرمایا کہ روزے رکھنے سے تم یقینا متقی ہوجائو گے، بلکہ لَعَلَّکُمْ کا لفظ فرمایا جس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ توقع کی جاتی ہے، یا ممکن ہے کہ اس ذریعے سے تم تقویٰ کرنے لگو گے۔ 

تعمیرِسیرت 

یہ تقویٰ ہی دراصل اسلامی سیرت کی جان ہے۔ جس نوعیت کا کیرکٹر اسلام ہرمسلمان فرد میں پیدا کرنا چاہتا ہے اس کا اسلامی تصور اس تقویٰ کے لفظ میں پوشیدہ ہے۔ افسوس ہے کہ آج کل اس لفظ کا مفہوم بہت محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک خاص طرز کی شکل و وضع بنالینا، چند مشہور و نمایاں گناہوں سے بچنا اور بعض ایسے مکروہات سے پرہیز کرنا جنھوں نے عوام کی نگاہ میں بہت اہمیت اختیار کرلی ہے، بس اسی کا نام تقویٰ ہے۔ حالانکہ دراصل یہ ایک نہایت وسیع اصطلاح ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔  

قرآنِ مجید انسانی طرزِخیال و طرزِعمل کو اصولی حیثیت سے دو بڑی قسموں پر تقسیم کرتا ہے: 

ایک قسم وہ ہے جس میں انسان: 

۱- دنیوی طاقتوں کے ماسوا کسی بالاتر اقتدار کو اپنے اُوپر نگران نہیں سمجھتا، اور یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہے کہ اسے کسی فوق البشر حاکم کے سامنے جواب دہی نہیں کرنی ہے۔ 

۲- دنیوی زندگی ہی کو زندگی، دنیوی فائدے ہی کو فائدہ اور دنیوی نقصان ہی کو نقصان سمجھتا ہے اور اس بنا پر کسی طریقے کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صرف دنیوی فائدے اور نقصان ہی کے لحاظ سے کرتا ہے۔ 

۳- مادی فائدوں کے مقابلے میں اخلاقی و روحانی فضائل کو بے وقعت سمجھتا ہے، اور مادی نقصانات کے مقابلے میں اخلاقی و روحانی نقصانات کو ہلکا خیال کرتا ہے۔ 

۴- کسی مستقل اخلاقی دستور کی پابندی نہیں کرتا، بلکہ موقع و محل کے لحاظ سے خود ہی اخلاقی اصول وضع کرتا ہے اور دوسرے موقعے پر خود ہی ان کو بدل دیتا ہے۔ 

دوسری قسم وہ ہے جس میں انسان: 

۱- اپنے آپ کو ایک ایسے بالاتر حکمران کا تابع اور اس کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے جو   عالم الغیب والشہادت ہے، اور یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہے کہ اسے ایک روز اپنی دنیوی زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دینا ہوگا۔ 

۲- دُنیوی زندگی کو اصل حیاتِ انسانی کا صرف ایک ابتدائی مرحلہ سمجھتا ہے اور ان فوائد و نقصانات کو جو اس مرحلے میں ظاہر ہوتے ہیں عارضی اور دھوکا دینے والے نتائج خیال کرتا ہے، اور اپنے طرزِ عمل کا فیصلہ ان مستقل فائدوں اور نقصانات کی بنیاد پر کرتا ہے جو آخرت کی پائیدار زندگی میں ظاہر ہوں گے۔ 

۳- مادی فائدوں کے مقابلے میں اخلاقی و روحانی فضائل کو زیادہ قیمتی سمجھتا ہے، اور مادی نقصانات کی بہ نسبت اخلاقی و روحانی نقصانات کو شدید تر خیال کرتا ہے۔ 

۴- ایک ایسے مستقل اخلاقی دستور کی پابندی کرتا ہے جس میں اپنی اغراض و مصالح کے لحاظ سے اس کو ترمیم و تنسیخ کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ 

ان میں سے پہلی قسم کے طرزِخیال و طرزِعمل کا جامع نام قرآن نے فجور رکھا ہے، اور دوسرے طرزِ خیال و عمل کو وہ تقویٰ{ FR 2438 }  کے نام سے یاد کرتا ہے۔ یہ دراصل زندگی کے دو مختلف راستے ہیں جو بالکل ایک دوسرے کی ضد واقع ہوئے ہیں اور اپنے نقطۂ آغاز سے لے کر نقطۂ انجام تک کہیں ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ فجور کے راستے کو اختیار کرکے آدمی کی پوری زندگی اپنے تمام اجزا اور تمام شعبوں کے ساتھ ایک خاص ڈھنگ پر لگ جاتی ہے جس میں تقویٰ کی ظاہری اشکال تو کہیں نظر آسکتی ہیں مگر تقویٰ کی اسپرٹ کا شائبہ تک نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ فجور کے تمام فکری اجزا ایک دوسرے کے ساتھ منطقی ربط رکھتے ہیں اور تقویٰ کے فکری اجزا میں سے کسی جُز کو بھی ان کے مربوط نظام میں راہ نہیں مل سکتی۔ برعکس اس کے تقویٰ کا راستہ اختیار کرکے انسان کی پوری زندگی کا ڈھنگ کچھ اور ہوتا ہے، وہ ایک دوسرے ہی طرز پر سوچتا ہے۔ دنیا کے ہرمعاملے اور ہرمسئلے کو ایک دوسری ہی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور ہرموقع و محل پر ایک دوسرا ہی طرز اختیار کرتا ہے۔ 

ان دونوں راستوں کا فرق صرف انفرادی زندگی ہی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اجتماعی زندگی سے بھی اس کا اتنا ہی تعلق ہے۔ جو جماعت فاجر افراد پر مشتمل ہوگی یا جس میں فاجرین کی اکثریت ہوگی اور اہلِ فجور کے ہاتھ میں جس کی قیادت ہوگی، اس کا پورا تمدن فاجرانہ ہوگا۔ اس کی معاشرت میں، اس کے اخلاقیات میں، اس کے معاشیات میں، اس کے نظامِ تعلیم و تربیت میں، اس کی سیاست میں، اس کے بین الاقوامی رویے میں، غرض اس کی ہرچیز میں فجور کی روح کارفرما ہوگی۔ یہ بہت ممکن ہے کہ اس کے اکثر یا بعض افراد ذاتی خود غرضیوں اور منفعت پرستیوں سے بالاتر    نظر آئیں، مگر زیادہ سے زیادہ جس بلندی پر وہ چڑھ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کو اس قوم کے مفاد میں گم کردیں۔ جس کی ترقی سے ان کی اپنی ترقی اور جس کے تنزل سے ان کا اپنا تنزل وابستہ ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخصی سیرت میں فجور کا رنگ کم بھی ہو تو اس سے کوئی فرق واقع نہ ہوگا۔ قومی رویہ بہرحال افادیت، ابن الوقتی، مصلحت پرستی اور مادہ پرستی ہی کے اصولوں پرچلے گا۔ 

روزہ کا اجتماعی پہلو 

اسی طرح تقویٰ بھی محض انفرادی چیز نہیں ہے۔ جب کوئی جماعت متقین پر مشتمل ہوتی ہے یا اس میں اہلِ تقویٰ کی کثرت ہوتی ہے، اور متقی ہی اس کے رہنما ہوتے ہیں، تو اس کے پورے اجتماعی رویے میں ہرحیثیت سے خدا ترسی کا رنگ ہوتا ہے۔ وہ وقتی اور ہنگامی مصلحتوں کے لحاظ سے اپنا طرزِعمل مقرر نہیں کرتی بلکہ ایک مستقل دستور کی پیروی کرتی ہے اور ایک اٹل نصب العین کے لیے اپنی تمام مساعی وقف کردیتی ہے، قطع نظر اس سے کہ دنیوی لحاظ سے قوم کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے یا کیا نقصان پہنچتا ہے۔ وہ مادی فائدوں کے پیچھے نہیں دوڑتی بلکہ پائیدار اخلاقی و روحانی منافع کو اپنا مطمح نظر بناتی ہے۔ وہ مواقع کے لحاظ سے اصول توڑتی اور بناتی نہیں ہے بلکہ ہرحال میں اصولِ حق کا اتباع کرتی ہے۔ کیونکہ اسے اس کی پروا نہیں ہوتی کہ اس کی مدِّمقابل قوموں کی طاقت کم ہے یا زیادہ، بلکہ اُوپر جو خدا موجود ہے و ہ اس سے ڈرتی ہے اور اس کے سامنے کھڑے ہوکر جواب دہی کرنے کا جو وقت بہرحال آنا ہے اس کی فکر اسے کھائے جاتی ہے۔ 

اسلام کے نزدیک دنیا میں فساد کی جڑ اور انسانیت کی تباہی و بربادی کا اصلی سبب ’فجور‘ ہے۔ وہ اس فجور کے سانپ کو ہلاک کردینا چاہتا ہے یا کم سے کم اس کے زہریلے دانت توڑ دینا چاہتا ہے، تاکہ اگر یہ سانپ جیتا رہے تب بھی انسانیت کو ڈسنے کی طاقت اس میں باقی نہ رہے۔  اس کام کے لیے وہ نوعِ انسانی میں سے ان لوگوں کو چُن چُن کر نکالنا اور اپنی پارٹی میں بھرتی کرنا چاہتا ہے جو متقیانہ رجحانِ طبع رکھتے ہوں۔ فجور کی جانب ذہنی رجحان (Bent of Mind) رکھنے والے لوگ اس کے کسی کام کے نہیں، خواہ وہ اتفاق سے مسلمانوں کے گھر میں پیدا کیے گئے ہوں اور مسلم قوم کے درد میں کتنے ہی تڑپتے ہوں۔ 

اسے دراصل ضرورت ان لوگوںکی ہے جن میں خود اپنی ذمہ داری کا احساس ہو، جو آپ اپنا حساب لینے والے ہوں، جو خود اپنے دل کی نیتوں اور ارادوں پر نظر رکھیں، جن کو قانون کی پابندی کے لیے کسی خارجی دبائو کی حاجت نہ ہو بلکہ خود اُن کے اپنے باطن میں ایک محاسب اور آمر بیٹھا ہو جو انھیں اندر سے قانون کا پابند بناتا ہو اور ایسی قانون شکنی پر بھی ٹوکتا ہو جس کا علم کسی پولیس، کسی عدالت اور کسی رائے عام کو نہیں ہوسکتا۔ وہ ایسے افراد چاہتا ہے جنھیں یقین ہو کہ ایک آنکھ ہرحال میںا نھیں دیکھ رہی ہے، جنھیں خوف ہو کہ ایک عدالت کے سامنے بہرحال انھیں جانا ہے، جو دنیوی منافع کے بندے، ہنگامی مصالح کے غلام اور شخصی یا قومی اغراض کے پرستار نہ ہوں۔ جن کی نظر آخرت کے اصلی و حقیقی نتائج پر جمی ہوئی ہو، جن کو دنیا کے بڑے سے بڑے فائدے کا لالچ یا سخت سے سخت نقصان کا خوف بھی خداوندعالم کے دیے ہوئے نصب العین اور اس کے بتائے ہوئے اصولِ اخلاق سے نہ ہٹا سکتا ہو، جن کی تمام سعی و کوشش صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، جنھیں اس امر کا پختہ یقین ہو کہ پایانِ کار بندگیِ حق ہی کا نتیجہ بہتر اور بندگیِ باطل ہی کا انجام بُرا ہوگا، چاہے اس دنیا میں معاملہ برعکس ہو۔ 

پھر اس کو جن آدمیوں کی تلاش ہے وہ ایسے آدمی ہیں جن کے اندر اتنا صبر موجود ہو کہ ایک صحیح اور بلند نصب العین کے لیے برسوں بلکہ ساری عمر لگاتار سعیِ بے حاصل کرسکتے ہوں، جن میں اتنی ثابت قدمی ہو کہ غلط راستوں کی آسانیاں، فائدے اور لطف و لذت کوئی چیز بھی ان کو اپنی طرف نہ کھینچ سکتی ہو، جن میں اتنا تحمل ہو کہ حق کے راستے پر چلنے میں خواہ کس قدر ناکامیوں، مشکلات، خطرات، مصائب اور شدائد کا سامنا ہو، ان کا قدم نہ ڈگمگائے، جن میں اتنی یکسوئی ہو کہ ہرقسم کی عارضی اور ہنگامی مصلحتوں سے نگاہ پھیر کر اپنے نصب العین کی طرف بڑھے چلے جائیں، جن میں اتنا توکّل موجود ہو کہ حق پرستی و حق کوشی کے زیرطلب اور دُور رس نتائج کے لیے خداوندعالم پر بھروسا کرسکیں، خواہ دنیا کی زندگی میں اس کام کے نتائج سرے سے برآمد ہوتے نظر ہی نہ آئیں۔ ایسے ہی لوگوں کی سیرت پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ، اور جو کام اسلام اپنی پارٹی سے لینا چاہتا ہے    اس کے لیے ایسے ہی قابلِ اعتماد کارکنوں کی ضرورت ہے۔ 

تقویٰ کی اس صفت کا ہیولیٰ (ابتدائی جوہر) جن لوگوں میں موجود ہو ان کے اندر اس صفت کو نشوونما دینے اور اسے مستحکم کرنے کے لیے روزے سے زیادہ طاقت ور اور کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ روزے کے ضابطے پر ایک نگاہ ڈالیے، آپ پر خود منکشف ہونے لگے گا کہ یہ چیز کس مکمل طریقے سے ان صفات کو بالیدگی اور پائیداری بخشتی ہے۔ ایک شخص سے کہا جاتا ہے کہ روزہ خدا نے تم پر فرض کیا ہے۔ صبح سے شام تک کچھ نہ کھائوپیو۔ کوئی چیز حلق سے اُتارو گے تو تمھارا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ لوگوں کے سامنے کھانے پینے سے اگر تم نے پرہیز کیا اور درپردہ کھاتے پیتے رہے، تو خواہ لوگوں کے نزدیک تمھارا شمار روزہ داروں میں ہو، مگر خدا کے نزدیک نہ ہوگا۔ تمھارا روزہ صحیح اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ خدا کے لیے رکھو، ورنہ دوسری کسی غرض، مثلاً صحت کی درستی یا نیک نامی کے لیے رکھو گے تو خدا کی نگاہ میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ خدا کے لیے اپنا روزہ پورا کرو گے تو اس دنیا میں کوئی انعام نہ ملے گا اور توڑو گے یا نہ رکھو گے تو یہاں کوئی سزا نہ دی جائے گی۔ مرنے کے بعد جب خدا کے سامنے پیش ہو گے اسی وقت انعام بھی ملے گا اور اسی وقت سزا بھی دی جائے گی۔ یہ چند ہدایات دے کر آدمی کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کوئی سپاہی، کوئی ہرکارہ، کوئی سی آئی ڈی کا آدمی اس پر مقرر نہیں کیا جاتا کہ ہروقت اس کی نگرانی کرے۔ زیادہ سے زیادہ رائے عام اپنے دبائو سے اس کو اس حد تک مجبور کرسکتی ہے کہ دوسروں کے سامنے کچھ نہ کھائے پیے، مگر چوری چھپے کھانے پینے سے اس کو روکنے والا کوئی نہیں، اور اس بات کا حساب لینا تو کسی رائے عام، یا کسی حکومت کے بس ہی میں نہیں کہ وہ رضائے الٰہی کی نیت سے روزہ رکھ رہا ہے یا کسی اور نیت سے۔ 

تزکیۂ نفس 

ایسی حالت میں جو شخص روزے کی تمام شرائط پوری کرتا ہے، غور کیجیے کہ اس کے نفس میں کس قسم کی کیفیات اُبھرتی ہیں: 

۱- اس کو خداوندعالم کی ہستی کا، اس کے عالم الغیب ہونے کا، اس کے قادرمطلق ہونے کا، اور اس کے سامنے اپنے محکوم اور جواب دہ ہونے کا کامل یقین ہے، اور اس پوری مدت میں، جب کہ وہ روزے سے رہا ہے اس کے یقین میں ذرا تزلزل نہیں آیا۔ 

۲- اس کو آخرت پر، اس کے حساب کتاب پر اور اس کی جزا اور سزا پر پورا یقین ہے۔ اور یہ یقین بھی کم از کم ان ۱۲،۱۴ گھنٹوں میں برابر غیرمتزلزل رہا ہے، جب کہ وہ اپنے روزے کی شرائط پر قائم رہا۔ 

۳- اس کے اندر خود اپنے فرض کا احساس ہے۔ وہ آپ اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے۔ وہ اپنی نیت کا خود محتسب ہے، اپنے دل کے حال پر خود نگرانی کرتا ہے۔ خارج میں قانون شکنی یا گناہ کا صدور ہونے سے پہلے جب نفس کی اندرونی تہوں میں اس کی خواہش پیدا ہوتی ہے اسی وقت وہ اپنی قوتِ ارادی سے اس کا استیصال کردیتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ  پابندیِ قانون کے لیے خارج میں کسی دبائو کا وہ محتاج نہیں ہے۔ 

۴- مادیت اور اخلاق و روحانیت کے درمیان انتخاب کا جب اسے موقع دیا گیا تو اس نے اخلاق و روحانیت کو انتخاب کیا۔ دنیا اور آخرت کے درمیان ترجیح کا سوال جب اس کے سامنے آیا تو اس نے آخرت کو ترجیح دی۔ اس کے اندر اتنی طاقت تھی کہ اخلاقی فائدے کی خاطر مادی نقصان و تکلیف کو اس نے گوارا کیا، اور آخرت کے نفعے کی خاطر دنیوی مضرت کو قبول کرلیا۔ 

۵- وہ اپنے آپ کو اس معاملے میں آزاد نہیں سمجھتا کہ اپنی سہولت دیکھ کر اچھے موسم، مناسب وقت اور فرصت کے زمانے میں روزہ رکھے، بلکہ جو وقت قانون میں مقرر کردیا گیا ہے اسی وقت روزہ رکھنے پر وہ اپنے آپ کو مجبور سمجھتا ہے خواہ موسم کیسا ہی سخت ہو، حالات کیسے ہی ناسازگار ہوں اور اس کی ذاتی مصلحتوں کے لحاظ سے اس وقت روزہ رکھنا کتنا ہی نقصان دہ ہو۔ 

۶- اس میں صبر، استقامت، تحمل، یکسوئی، توکّل اور دنیوی ترغیبات و تحریصات کے مقابلے کی طاقت کم از کم اس حد تک موجود ہے کہ رضائے الٰہی کے بلند نصب العین کی خاطر وہ ایک ایسا کام کرتا ہے جس کا نتیجہ مرنے کے بعد دوسری زندگی پر ملتوی کیا گیا ہے۔ اس کام کے دوران میں وہ رضاکارانہ اپنی خواہشاتِ نفس کو روکتا ہے۔ سخت گرمی کی حالت میں پیاس سے حلق چٹخا جا رہا ہے، برفاب سامنے موجود ہے، آسانی سے پی سکتا ہے، مگر نہیں پیتا۔ بھوک کے مارے جان پر بن رہی ہے، کھانا حاضر ہے، چاہے تو کھا سکتا ہے، مگر     نہیں کھاتا۔ جوان میاں بیوی ہیں، خواہشِ نفس زور کرتی ہے، چاہیں تو اس طرح  قضائے شہوت کرسکتے ہیں کہ کسی کو پتا نہ چلے، مگر نہیں کرتے۔ ممکن الحصول فائدوں سے یہ صرفِ نظر، اور ممکن الاحتراز نقصانات کی یہ پذیرائی اور خود اپنے منتخب کیے ہوئے  طریقِ حق پر ثابت قدمی کسی ایسے نفعے کی اُمید پر نہیں ہے جو اس دنیا کی زندگی میں حاصل ہونے والا ہو، بلکہ ایسے مقصد کے لیے ہے جس کے متعلق پہلے ہی نوٹس دے دیا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے اس کے حاصل ہونے کی اُمید ہی نہ رکھو۔ 

یہ کیفیات ہیں جو پہلے روزے کا ارادہ کرتے ہی انسان کے نفس میں اُبھرنی شروع ہوتی ہیں۔ جب وہ عملاً روزہ رکھتا ہے تو یہ بالفعل ایک طاقت بن جاتی ہیں۔ جب ۳۰دن تک مسلسل وہ اسی فعل کی تکرار کرتا ہے تو یہ طاقت راسخ ہوتی چلی جاتی ہے، اور بالغ ہونے کے بعد سے مرتے دم تک تمام عمر ایسے ہی ۳۰،۳۰ روزے ہرسال رکھنے سے وہ آدمی کی جبلّت میں پیوست ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے نہیں ہے کہ یہ صفات صرف روزے ہی رکھنے میں اور صرف رمضان ہی کے مہینے میں کام آئیں، بلکہ اس لیے ہے کہ انھی اجزا سے انسان کی سیرت کا خمیر بنے۔ وہ فجور سے یکسر خالی ہو اور اس کی ساری زندگی تقویٰ کے راستے پڑجائے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس مقصد کے لیے روزے سے بہتر کوئی طریقِ تربیت ممکن ہے؟ کیا اس کے بجائے اسلامی طرز کی سیرت بنانے کے لیے کوئی دوسرا کورس تجویز کیا جاسکتا ہے؟(اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، ص۶۴-۹۲) 

معاشرتی زندگی میں وہ افراد ہمیشہ احترام کے مستحق ہوتے ہیں، جو اپنے علم، کردار اور خدمات کے ذریعے ماحول پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اہلِ طب کا طبقہ اسی محترم گروہ سےتعلق رکھتا ہے۔ ان کی زندگی انسانیت کی خدمت اور دکھی دلوں کے لیے مرہم فراہم کرنے میں گزرتی ہے۔ اہلِ طب کے ساتھ قرآنِ کریم کا تعلق محض ظاہری یا رسمی نہیں بلکہ یہ رشتہ ایک نہایت گہرا اور فکری ہے۔ قرآنِ مجید کتابِ ہدایت ہونے کے ساتھ ساتھ شِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ۝۰ۥۙ  (یونس ۱۰:۵۷) بھی ہے۔یہ نہ صرف روحانی، فکری اور اخلاقی بیماریوں کی شفاہےبلکہ اس میں جسمانی بیماریوں سے شفا کے لیے رہنمائی اور ہدایات بھی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَشِفَاۗءٌ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۲)۔ قرآن کریم کی یہی صفت اسے انسانی زندگی کے ہرمعاملہ اور ہر مرحلے میں روشنی و ہدایت فراہم کرنے کا منبع بناتی ہے۔ 

جسمانی بیماریوں سے شفا کے بارے میں عبداللہ ا بن عباسؓ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرامؓ کا ایک قافلہ سفر کے دوران ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا، جس کا سردار شدید تکلیف میں مبتلا تھا، اسے کسی زہریلے جانور نے ڈس لیا تھا۔ انھوں نےقافلے والوں کو دیکھا تو ان سے درخواست کی کہ آپ میں سے کوئی ہمارےسردار کا علاج کردے تو ہم آپ کو اتنا معاوضہ دیں گے۔ ایک صحابیؓ نےاس شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا تو اس کی تکلیف فوراً دُور ہوگئی اور وہ ایسے اُٹھ کھڑا ہوا جیسے کسی اونٹ کی باندھی رسی کھول دی جائے اور وہ فوراً کھڑا ہوجائے۔ بعد میں جب اہل قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیاتو آپؐ نے فرمایا تم نے درست کیا اوراہل قافلہ کو ملے ہوئے معاوضے میں سے اپنا حصہ بھی قبول فرمایا‘‘(صحیح البخاری)۔ سورۃ الفاتحہ کا دَم کرنے والے صحابیؓ کی طرف سے یہ محض الفاظ کی قرأ ت نہیں تھی بلکہ ایک یقین، توکّل اور ایمان سے لبریز عمل تھا۔ اسی پس منظر میں سورۃ الفاتحہ کو ’سورۃ الشفاء‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ طب اور قرآنِ کریم کے باہمی رشتے پر واضح دلیل ہے،یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس میں جسمانی علاج اور روحانی شفا ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ تعلیم کے اعلیٰ اداروں میں قرآنِ کریم کی تعلیم کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ وہ کون سے اصول ہیں، جن کی روشنی میں جدید ذہنوں اور پیشہ ورانہ ماحول میں قرآنِ کریم کی تدریس کو مؤثر بنایا جاسکتاہے؟ اور کس طرح قرآن کریم کا پیغام نہ صرف ہر طالب علم کے ذہن کوجلا بخشے بلکہ کردار کو بھی نکھار دے؟___  یہ محض تعلیمی سوالات نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق ہماری بنیادی فکر، علمی سوچ، معاشرت، ریاست اور مستقبل کی سمت کے تعین سے ہے۔ 

  • تجوید کی اہمیت اور ضرورت: قرآنِ کریم کو سمجھنے اور اس کی تفسیر پڑھنے کا پہلا اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے حروف کو درست طریقے سے ادا کرنا سیکھے۔ تجوید کی تعلیم اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کو اسی انداز میں پڑھا جائے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے نازل فرمایا۔صحیح مخارج اور درست قراءت کا شعور طالب علم کے دل میں بٹھانا قرآن فہمی کا اوّلین مرحلہ ہے، جس کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ جب تک قراءت درست نہ ہو، قرآن کے معنی، مفہوم،  تفسیر اور اِتباع و عمل جیسے مراحل تک رسائی اَدھوری رہتی ہے۔اس لیے کہ اگر کوئی شخص تجوید سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور پھر بھی غلط مخارج کے ساتھ قرآن پڑھے تو یہ گناہِ کبیرہ ہے۔ کیونکہ یہ قرآن کی سخت بے ادبی ہے، جس سے بسا اوقات آیات کے معنی ہی بدل جاتے ہیں اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔اس لیے سب سے پہلے قراءت کی درستی ضروری ہے، اور پھر فہم و تدبر اور اِتباع و عمل کے مراحل آتے ہیں۔  

مثال کے طور پر ’ر‘ کے موٹا یا باریک پڑھنے کے مخصوص قواعد ہیں۔ مثلاً جب ’ر‘ پر سکونِ اصلی ہو اور اس سے پہلے کسرہ (زیر)بھی اصلی ہو تو اسے باریک پڑھا جاتا ہے، جیسے لفظ’فِرْعَوْنَ‘ میں ’ر‘باریک پڑھنے سے اس کے حقیقی مفہوم کا اظہار ہوتا ہے اور اس کی لطافت بھی برقرار رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لفظ کی صوتی ساخت میں بھی اس کی اصل حقیقت کی طرف اشارہ رکھا ہےکہ فرعون حقیقت میں ایک کمزور اور حقیر انسان تھا، اگرچہ اس نے بہت بڑا دعویٰ کیا تھا کہ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى (النزعٰت ۷۹: ۲۴)’’میں تمھارا سب سے بڑا ربّ ہوں‘‘، لیکن اگر کوئی اسے موٹا پڑھ کر فَرْعَوْنَ کہے تو اس سے معنی بگڑ جاتے ہیں اور اس طرح فرعون کی بڑائی ظاہر ہوگی، جو درست نہیں۔ یہی مثال ثابت کرتی ہے کہ تجوید کے قواعد محض صوتیات نہیں بلکہ اس کا قرآن کریم کے ادب، معنی اور صحیح تلفظ و قراءت سے گہرا تعلق ہے۔ قرآن کریم میں ایسی بہت سی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں۔ اسی لیے بعض اداروں میں اس اہمیت کے پیش نظر حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ تجوید کی تعلیم کو بھی لازم قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ تجوید سیکھے بغیر قرآن کو اس کے شایانِ شان پڑھنا ممکن نہیں۔ 

 فہم سے اعجاز تک کا سفر 

قرآنِ کریم انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں متعدد مقامات پر تفکر، تدبر، تعقل اور تفقہ جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جو اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ قرآن کے پیغام تک رسائی محض تلاوت سے نہیں بلکہ سمجھ بوجھ اور گہری بصیرت سے ہوتی ہے: 

  • فہمِ قرآن اوّلین مرحلہ: تدبر سے پہلے فہم کا مرحلہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ انسان قرآنِ کریم کے الفاظ اور ان کے معانی سے واقف ہو۔ہر لفظ کا معنی، ہرجملے کا مفہوم اور ہر آیت کا پس منظرواضح ہو تاکہ قرآن کے حقیقی پیغام تک رسائی ممکن ہو۔ 
  • تفقہ اور استخراجِ احکام:اس کے بعد دوسرا اہم درجہ ’تفقہ‘ کا ہے۔ قرآن کریم کے ہرلفظ، جملے اور آیت کا گہرا فہم حاصل کرنے کے بعد اہلِ علم قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ سے شرعی احکام اخذ کرتے ہیں جسے ’فقہ‘ کہتے ہیں۔ احکامِ الٰہی کا صحیح استنباط اسی وقت ممکن ہے، جب فہمِ قرآن مضبوط بنیادوں پر قائم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ کو فہم کا اعلیٰ اور عملی درجہ قرار دیا جاتا ہے۔ 
  • تدبر کا مرحلہ: تدبر وہ مقام ہے جہاں انسان الفاظ اور احکام سے آگے بڑھ کر قرآن کے معانی اور اس کی گہرائیوں میں غور و فکر کرتا ہے۔ تدبر کے لیے ذہنی پختگی، علمی قابلیت اور باقاعدہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تدبّر کے لیےتفسیر کے ایسے استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو خود اس فن میں مہارت حاصل کرچکا ہو۔ تدبّر بہت بڑا مرتبہ ہے۔ اس درجہ کو حاصل کرنے کے لیے قرآن کے ساتھ ایک مخصوص منہج اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔  کیونکہ قرآن کریم ربّ العالمین کا کلام ہے۔ تمام انسان اور جنات مل کر بھی ایسا کلام لانے سے عاجز ہیں۔ (بنی اسرائیل۱۷:۸۸) 

موجودہ زمانے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ قرآن کا صحیح فہم حاصل کیے بغیر اس کی تشریح اور اس سےاحکام کے استخراج کا دعویٰ شروع کر دیتے ہیں۔ فہم میں کمی یا اصولِ تفسیر سے لاعلمی کی بنیاد پر استدلال اور نتائج بسا اوقات غلط رُخ اختیار کر سکتے ہیں،نتیجتاً نہ صرف غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں بلکہ صراطِ مستقیم سے بھٹکنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ قرآن کی غلط تفسیر یا غلط استنباط، تفسر بالرائے کی ایک نہایت خطرناک شکل ہے، جس سے ہر شعوری مسلمان اور سنجیدہ اہلِ ایمان کو لازماً بچنا چاہیے۔ 

  • اعجازِ قرآن: جب انسان فہم، فقہ اور تدبر کے مراحل طے کر لے تو اس کے بعد اعجاز کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں اس پر قرآن کی عظیم حقیقتیں منکشف ہوتی ہیں۔ قرآن کی فصاحت، بلاغت، حکمت اور اسلوب  کا مکمل ادراک انسان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ یہ ربِّ کائنات کا معجزانہ کلام ہے، جو ہر دور میں اپنی مثال آپ ہے۔بہرحال جب انسان فہمِ قرآن کی کچھ اہلیت پیدا کر لیتا ہے، تو قرآن اس کی رگ و پے میں اس قدر سرایت کر جاتا ہے کہ قرآن اس کی سوچ اوردل و دماغ پر چھاجاتا ہے۔ 

 قرآن کا جمالیاتی و معنوی پہلو 

قرآنِ مجید کا اسلوب محض فصاحت و بلاغت کا حسین امتزاج نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا ادبی معجزہ ہے جس میں لفظوں کا انتخاب محض زبان کی روانی کے لیے نہیں بلکہ معانی کی گیرائی و گہرائی اور حقائقِ مطلقہ کی ترسیل کے لیے ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں قرآن کریم نے متعدد مقامات پر ایسے الفاظ بھی استعمال فرمائے ہیں، جو عربوں کی روزمرہ لغت میں کم رائج تھے یا اپنے معنوی باطن میں قدرے دقیق اور نادر تھے۔ ان الفاظ کا استعمال اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم کا اعجاز صرف اس کے اسلوب، موسیقیت یا حسنِ ترکیب میں نہیں بلکہ اس کے لفظی انتخاب میں بھی جلوہ گر ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ کا انتخاب ایسا بہترین ہےکہ الفاظِ قرآن کریم کا فہم رکھنے والا ہر انسان اس سے محظوظ ہوتا ہے اور اس سے راحت محسوس کرتا ہے۔  

اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے الفاظ بھی متعدد مقامات پر استعمال فرمائے ہیں، جو اس وقت کلام عرب میں رائج نہ تھے یا بہت کم استعمال ہوتےتھے، مثلاً ضِيْزٰى، کُبْکِبُو فِیْھَا، کُبَّتْ وُجُوْھُھْم۔ یہ نامانوس الفاظ خاص موقعوں پر استعمال ہوئے ہیں۔ ایک نمایاں مثال آیتِ کریمہ تِلْکَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِیزٰی (النجم ۵۳:۲۲)ہے۔ ضِیزٰی  ایسا لفظ ہے جو فصحائے عرب کی عمومی لغت میں معروف نہیں تھا۔ قرآن نے اسے نہایت حکیمانہ انداز میں اس ذہنی اور اعتقادی بے اعتدالی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا، جو مشرکین کی سوچ میں رچ بس گئی تھی۔ وہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتےتھے اور اللہ کے لیے بیٹیاں۔ یہ ایسی تقسیم تھی جو ظلم، بے انصافی اور فکری کجی پر مبنی تھی اور فطری توازن کے بالکل منافی تھی۔اس طرح لفظ  ضِیزٰی اپنی پوری معنوی تعبیراور مفہوم کی گہرائی کے ساتھ آیت کے اندر چھپی باطنی معنویت کوبھی اجاگر کر دیتا ہے۔ یہی اعجازِکلام ہے کہ نامانوس لفظ عبارت کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اس کے پیغام کو اور زیادہ گہرا کرکے سمجھا دیتا ہے۔ 

اسی طرح سورۂ محمد کی آیت: اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۝۲۴ (۴۷:۲۴) ’’کیا یہ لوگ قرآن کریم پر غوروفکر اور تدبر نہیں کرتے، یا اُن کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘میں ایک تنبیہی اسلوب ہے۔ یہ سوال دراصل ڈانٹ اور سخت تنبیہ کے انداز میں کیا گیا ہے۔ گویا قرآن اپنے مخاطَب کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر پوچھتا ہے: کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ایسے قفل چڑھ گئے ہیں، جو نُورِ ہدایت کو اپنے اندر سرایت نہیں کرنے دیتے؟ یہاں اَقْفَالُهَا کا لفظ دل کی سختی اور معنوی جمود کا ایسا پُراثر استعارہ ہے، جس کے ذریعے قرآن انسانی غفلت کے پورے منظر نامے کو ایک لفظ میں سمو دیتا ہے۔ 

یوں قرآن کریم کے غریب یا کم معروف الفاظ بھی اس کے اعجازِ بیان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف معنی کو گہرائی بخشتے ہیں بلکہ سامع کے ذہن میں ایک ایسا تاثر قائم کرتے ہیں، جو صرف لغوی معنی سے نہیں بلکہ پورے لسانی سیاق، نفسیاتی کیفیت اور روحانی اثر سے تشکیل پاتا ہے۔ یہی وہ مقامات ہیں، جہاں قرآن کریم اپنی زبان کی بلندی اور اپنے پیغام کی ابدیت کے ساتھ ایک زندہ معجزہ بن کر سامنے آتا ہے، اور یہی وہ چیلنج ہے جو سورۂ بنی اسرائیل میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِيْرًا۝۸۸ (۱۷:۸۸)’’ کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے بھرپور مددگار ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔  

 قرآن کی مختلف قراءتیں 

قرآنِ حکیم کی قراءتوں کا تنوّع، اس فہم و تفسیر قرآن کا نہایت ظریف اور گہرا باب ہے۔ ان قراءتوں کے باہمی تفاوت سے عموماً آیت کے معنی میں نئی وسعت پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات کوئی ایسا نکتہ روشن ہو جاتا ہے، جو محض ایک ہی قراءت سے پوری طرح منکشف نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قراءتوں کا علم تین پہلوؤں سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے: اوّل، آیت کے ظاہر و واضح معنی مضبوط ہو کر سامنے آتے ہیں۔ دوم، ایک قراءت دوسری قراءت کے معنی کی توضیح کرتی ہے، اور سوم، اختلافِ قراءت سے وہ لطائف اور معانی سامنے آ جاتے ہیں، جو محض ایک قراءت کا علم رکھنے والے پر واضح نہیں ہوتے۔  

اس کی خوب صورت مثال سورۃ البقرۃ کی آیت ہے: فَتَلَـقّٰٓي اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْہِ۝۰ۭ (۲:۳۷)’’پھر آدمؑ نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی‘‘۔ اس کی معروف قراءت آدَمُ میں آدم علیہ السلام فاعل ہیں، یعنی آدمؑ نے خود یہ کلمات سیکھے۔ مگر دوسری قراءت آدَمَ میں آدم علیہ السلام مفعول بہ ہیں، جس سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ وہ کلمات آدمؑ پر القا ہوئے اور ان کلمات نے انھیں اپنے حصار میں لے لیا اور یوں ان پر توبہ کی راہ کھل گئی۔ اس طرح ایک ہی مقام پر دونوں پہلو روشن ہو جاتے ہیں: ایک قراءت سے آدمؑ کی جستجو نمایاں ہے، اور دوسری قراءت سے ربّ، رحمٰن و رحیم کی عنایت کا جلوہ عیاں ہوتا ہے۔ 

قرآن کی مختلف قراءتوں میں بے شمار معانی پوشیدہ ہیں، جو نہ صرف تفسیر کو گہرائی بخشتے ہیں بلکہ قرآن کے اعجاز کو بھی اور زیادہ نمایاں کرتے ہیں۔ غزہ کی یونی ورسٹیوں میں تفسیرُ القرآن بالقراءات العشر  پڑھائی جاتی ہے، جس کا مقصد یہی ہے کہ ہر قراءت کے دریچے سے آیت کو دیکھا جائے، تاکہ اس کے مفاہیم میں نہ صرف وضاحت پیدا ہو بلکہ معانی کی نئی وسعتیں بھی کھلتی چلی جائیں۔  

تفسیرِ قرآن: مبادیات اور علمی لوازمات 

تفسیرِ قرآن کا علم ہمیشہ سے اسلامی علوم میں مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ قرآنِ کریم جو خالقِ کائنات کا کلام ہے،اس کے الفاظ اور آیات سے اللہ تعالیٰ کی مراد کو انسانی فہم کی حد تک سمجھنے کی کوشش کا نام تفسیر ہے۔ گویا تفسیرِقرآن محض لغوی معانی تک محدود نہیں، بلکہ اللہ کے پیغام تک رسائی کا ایک ذمہ دارانہ اور دقیق علمی عمل ہے۔ مفسرین نے مختلف اسالیب میں قرآنِ کریم کے معانی اور اس کے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھی اسالیب میں دو بنیادی اقسام زیادہ معروف ہیں، یعنی تفسیرِ تحلیلی اور تفسیرِ موضوعی۔ 

  • تفسیرِ تحلیلی اور اس کے لوازمات: تفسیرِ تحلیلی وہ طرزِ تفسیر ہے، جس میں قرآن کی آیات کو ترتیب کے ساتھ، لغت، نحو، اسبابِ نزول، احکام اور روایات کی مدد سے گہرائی میں سمجھایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تفسیر قرطبی اوراحکام القرآن للجصاص میں ایک آیت سے ۳۰مسائل کا استنباط کیا گیا۔مفسر قرآن کے لیے ضروری ہے کہ وہ:
    • الفاظ کے معانی (علم المعانی) پر عبور رکھتا ہو
    • الفاظ کی ترکیب اور جملوں کی ساخت (یعنی علمِ نحو) سے واقف ہو
    • آیت کے مکمل مفہوم کو اس کے سیاق و سباق میں دیکھ سکے
    • اور ہر سورۃ کے مجموعی مقصد کو سامنے رکھ کر آیات کی تشریح کرسکے۔ 

ہر سورۃ کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں، اور ان اہداف کو جانے بغیر اس کی آیات کی صحیح تفہیم ممکن نہیں۔ اسی بنا پر مفسر کے لیے ناگزیر ہے کہ عربی زبان کی گہری بصیرت کے لیے صرف، نحو، معانی، بیان، بلاغت وغیرہ پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ مقاصد وحی کو بھی اچھی طرح جانتا ہو کہ جن کے بغیر قرآن کریم کی حقیقی تعبیر ممکن نہیں ہوتی۔ 

  • ناسخ و منسوخ اور جمع و تطبیق:علم تفسیر کے اہم ترین مبادیات میں سے ایک ناسخ و منسوخ کا علم ہے۔ نزول قرآنِ کریم کے بعض احکام ابتدائی مرحلے میں نازل ہوئے مگر بعد میں اُن کی جگہ نئے احکام نے لے لی۔ بعض مقامات پر تو الفاظ و حکم دونوں منسوخ ہوگئے مگر بعض مقامات پر تلاوت الفاظ تو برقرار رہی مگر حکم منسوخ کر دیا گیا۔ مفسرکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سا حکم باقی ہے اور کون سا منسوخ؟ ورنہ وہ منسوخ احکام کو جاری سمجھ کر غلط نتائج تک پہنچ سکتا ہے۔ بعض آیات میں بظاہر تعارض ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر جمع و تطبیق کے اصول کام آتے ہیں، جن کے ذریعے بظاہر مختلف دکھائی دینے والی نصوص میں ہم آہنگی واضح کی جاتی ہے۔ یہ بھی ایک مستقل علمی میدان ہے۔ 
  • محکم اور متشابہ آیات: قرآنِ کریم میں آیات دو قسم کی ہیں: محکم اور متشابہ: 

وہ [اللہ]وہی ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہ بھی۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں صرف متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اس [کتاب]پر ایمان لائے ہیں، یہ سب [کا سب محکم اور متشابہ آیات] ہمارے ربّ ہی کی طرف سے ہے، اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانش مند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں‘‘۔ (الِ عمرٰن ۳:۷) 

محکم آیات وہ ہیں جن کا مفہوم واضح ،قطعی اور عمل کے اعتبار سے بلاشک و تردّد ہو، جب کہ متشابہ آیات وہ ہیں، جن کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ علم میں پختگی رکھنے والے ان آیات کے ظاہر پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے حقیقی معنی و مراد کو اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ متشابہات میں وہ آیات ہیں جو انسانی عقل سے ماورا ہیں، جیسے عرش کی حقیقت، ’اللہ کی کرسی‘ یا برزخ کا تصور وغیرہ۔ متشابہ آیات کی نشاندہی نہ تو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ علمائے کرام نے اپنے فہم اور زمانے کے مروجہّ علوم کی روشنی میں انھیں آیاتِ متشابہات میں شمار کیا ہے ، اسی لیے ان کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے ۔

  • شانِ نزول اور اسبابِ نزول: قرآن کی بعض آیات کا ترجمہ تو عام فہم ہوتا ہے، لیکن وہ کس موقع پر نازل ہوئیں، اس کا محرک کیا تھا، اور اُس کے پیچھے کون سا تاریخی پس منظر کارفرما تھا؟ یہ جاننے کے لیے شانِ نزول اور اسبابِ نزول کی معرفت ضروری ہے۔ یہ علم نہ صرف آیت کے صحیح مفہوم کو واضح کرتا ہے بلکہ اس کی حکمت کو بھی منکشف کر دیتا ہے۔کسی آیت کا شانِ نزول محض ایک مخصوص واقعہ پر ہونا ضروری نہیں بلکہ بعض اوقات ایک آیت کا اطلاق متعدد واقعات پربھی ہوسکتا ہے۔ 

ایسے تمام مباحث مجموعی طور پر تفسیرِ تحلیلی کے دائرے میں آتے ہیں، جو قرآن فہمی کا سب سے قدیم، مستند اور جامع طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے مفسر ہر آیت کے لفظ، معنی، پس منظر، مقصد اور احکام کو منضبط علمی اصولوں کے ساتھ بیان کرتا ہےتاکہ پڑھنے والا قرآن کریم کا گہرا فہم حاصل کرکے اپنی سوچ، فکر اور عملی زندگی اس کے مطابق ڈھال سکے۔ 

تفسیر موضوعی 

 تفسیرِ موضوعی قرآن فہمی کا وہ طریق ہے کہ جس میں کسی ایک سورۃ کے مرکزی مضامین کو سلیقے سے کھولا جاتا ہے۔ بعض سورتیں ایک ہی بڑے موضوع کے گرد گھومتی ہیں، جب کہ بعض میں کئی جہتیں اور مختلف فکری زاویے بیک وقت جلوہ گر ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر سورۃ الفاتحہ میں الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہود اور الضَّآلِّينَ سے مراد نصاریٰ ہیں۔ لیکن اس اشارے کی تفصیل سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کے مطالعہ سے کھلتی ہے۔ سورۃ البقرہ میں یہود کی سرکشی، ان کی تاریخ، اُن کے رویوں اور ان کے انحرافات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے، جب کہ سورۃ آلِ عمران میں نصاریٰ کے باطل عقائد کی تردید اور ان کے فکری انحرافات کا بیان ملتا ہے۔ اس طرح سورۃ الفاتحہ کے مختصر مگر پُراثرکلمات الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور الضَّآلِّينَ کی شرح دو عظیم سورتوں میں کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ 

اسی طرح سورۃ البقرہ میں جہاد کا اجمالی حکم اور حکمت مذکور ہے:  

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَكُرْہٌ لَّكُمْ۝۰ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَشَرٌّ لَّكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝۲۱۶ (۲:۲۱۶) تمھیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمھیں ناگوار ہے، اور [ایسا بھی] ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں ناگوار ہو اور وہی تمھارے لیے بہتر ہو اور [یہ بھی]ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہی تمھارے لیے بری ہو، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ 

 یہاں قتال کی فرضیت کے حکم کے ساتھ انسان کی فطری امن پسندی کی کمزوری کو بھی بیان کردیا گیا ہے اور یہ تنبیہ بھی کرد ی گئی ہے کہ ایسے تمام احکام جو بظاہر بعض انسانی طبائع پر ناگوار گزرتے ہیں ان میں کوئی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے، اور اللہ ہی اسےجانتا ہے، انسان نہیں جانتا، پس تمھیں جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔پھر جہاد کے تفصیلی احکام سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ میں بیان ہوئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہؓ کے زمانہ میں جب کوئی لشکر جہاد کے لیے روانہ کیا جاتا، تو اس کے سامنے ان دو سورتوں کی تلاوت کی جاتی تھی، تاکہ ان کے دلوں میں ثابت قدمی، بصیرت اور شجاعت پیدا ہو۔ اسی تناظر میں آج غزہ کے مجاہدین کو دیکھیں،وہ انھی آیات سے حوصلہ، قوت اور یقین حاصل کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنی سرزمین، اپنے حق اور مسجد ِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے جدوجہدکرنا نہ صرف فرض ہے بلکہ اس راہ میں شہادت عزت و شرف کی علامت بھی ہے۔  

اسی طرح عقیدۂ توحید کی عظمت بیان کرنے کے لیے سورۃ الانعام نازل ہوئی، جس کے نزول کے وقت ستر ہزار فرشتے اس کےہمراہ اُترےاوریہ اس سورت کے مقام و مرتبے کی گواہی ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل میں مسجد ِ اقصیٰ، بنی اسرائیل کی تاریخ اور آخر ی زمانے کے بڑے واقعات کا نہایت بلیغ نقشہ پیش کیا گیا ہے، حتیٰ کہ اس ارضِ مقدس میں یہودیوں کے انجام کا ذکربھی ملتا ہے۔ 

یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ تفسیرِ موضوعی محض ایک علمی طریقہ نہیں، بلکہ قرآن کریم کو سمجھنے کا وہ زاویہ ہے جو انسان کے سامنے معانی کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ اس سے نہ صرف بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بہت سے عقدے بھی کھلتے چلے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کی معنوی وسعت اس اندازِ مطالعہ میں اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ 

جب کوئی قرآن کریم کی تفسیر یا تشریح کرے تو یہ اہم حقیقت ہمیشہ اس کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآن کریم اللہ خالقِ کائنات نے جبرئیل امینؑ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل فرمایا، اور مفسر دراصل اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے عظیم اور مقدس کلام کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوتا ہے۔لہٰذا اس کے دل میں ہرلمحہ یہ خوف بیدار رہنا چاہیے کہ وہ جو معنی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی طرف منسوب کررہا ہے شاید اللہ کی مراد وہ نہ ہو۔ یہی پاکیزہ خوف اسے بے جا قیاس، گمان اور مذموم تفسیر بالرائے سے روکنے کے لیے ایک مضبوط حصار کا کام دیتا ہے۔ 

  • اعلٰی تعلیمی اداروں میں تعلیم و تفہیمِ قرآن کی اہمیت: اعلیٰ تعلیم کے ادارے صرف ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا میڈیا کے ماہرین تیار کرنے کی فیکٹریاں نہیں ہوتے، یہ دراصل قوموں کے مستقبل کا سانچہ تراشنے والے مراکز ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ،اسلامی ممالک میں ان اداروں کی ذمہ داری صرف پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعلیم تک محدود نہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنے طلبہ کے ذہن اور دل میں قرآنی فکر ، اسلامی تعلیم اورایمانی بصیرت کی روشنی بھی پیدا کرنے کی کوشش کریں، تاکہ جب یہ نوجوان آگے چل کر ریاست کے اساتذہ، حکمران، جرنیل، سائنس دان یا پالیسی ساز بنیں،تو ان کے فیصلوں میں قرآن کا نور، سنت کی حکمت اور ایمان کا وزن شامل ہو۔اگر ذہن اسلامی فکر سے خالی ہو اور دل میں ایمان کا چراغ بجھا ہوا ہو تو محض پیشہ ورانہ قابلیت دنیا میں شہرت تو دے سکتی ہے، لیکن دُنیا و آخرت میں حصولِ فلاح کے حوالے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہی اصول ہتھیاروں، فوجوں، ٹکنالوجی، ایٹم بم اور میزائلوں پر بھی صادق آتا ہے۔ جب تک ان کا استعمال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے تابع نہ ہو، یہ طاقت نہیں بلکہ خسارے کا سودا بن جاتا ہے، یہ ایسی آگ ہوسکتی ہےجو انھیں چلانے والے کو بھی جلا ڈالتی ہے۔ 

اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے غزہ کے تعلیمی اداروں نے ایک عظیم الشان مثال قائم کی ہے، وہاں عصری علوم، طب، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت، جہاد، صبر، توکّل اور شجاعت کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی تعلیم نے انھیں کم وسائل کے باوجود طاقت ور قوموں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا دیا ہے۔ ان کا حوصلہ، ان کا عزم کسی فوجی اکیڈمی کی نہیں، قرآنی نور کی پیداوار ہے ۔ غزہ میں لاکھوں لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ گھر، مساجد، مدار س، یونی ورسٹیاں اور ہسپتال ملبے کاڈھیر بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر شہید ہو گئے، دوائیں ختم ہو گئیں، علاج کا سامان باقی نہیں رہا،یہاں دل د ہلا دینے والے مناظرہیں۔ماؤں کے چہروں پر آنسو تو ہیں مگر شکوہ نہیں۔ ملبے کے ڈھیر پربھی حفظ اور تعلیم و تعلّمِ قرآن کے حلقے جاری ہیں۔اہلِ غزہ کا حوصلہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ انھیں پختہ یقین ہے کہ کفرسے حقوق مانگےنہیں جاتےبلکہ یہ جہاد وقتال سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور جب تک مسجد اقصیٰ آزاد نہیں ہوتی، تب تک جہاد وقتال جاری رہے گا۔اہلِ فلسطین شہادتیں دیتے رہیں گے، انھیں قرآن کے اس اعلان پر کامل یقین ہے : 

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَمْوَاتًا۝۰ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ۝۱۶۹ۙ فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ۝۰ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۱۷۰ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۹-۱۷۰)جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے ربّ کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اس پر خوش وخرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔  

وہ جانتے ہیں کہ ان کا سہارا نہ ٹینک ہیں نہ طیارے،بلکہ وہ کلام ہے جس نے انھیں ٹوٹنے نہیں دیا۔ ان کے چہروں پر صبر کی روشنی ہے، ان کی دعاؤں میں یقین کی حرارت ہے۔ دل میں ایک درد ضرور ہے،مگر زبان پر شکوہ نہیں۔ بس وہ یہ کہتے ہیں کہ اُمت مسلمہ غفلت سے دوچار ہے۔ جب دل روحِ قرآن سے خالی ہو جائیں، جب روح اسلام کے نور سے محروم ہو جائے، پھر جسم تو زندہ رہتا ہے مگردل مرجاتےہیں۔اس لیے اُمت مسلمہ کو جگانے، اس کی روح میں زندگی کی حرارت دوبارہ بھرنے، اور اس کے مُردہ جسم میں جان ڈالنے کا واحد علاج یہی ہے کہ امت پوری قوت کے ساتھ دوبارہ رجوع الی القرآن کرے۔ خالق کائنات نے  قوموں کے عروج و زوال کو ان کے تعلق بالقرآن سے منسلک کر رکھا ہے۔ اس حقیقت کی خبر اس رحمٰن و رحیم خالق نے اپنے آخری رسول مخبر صادق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ان الفاظ میں دی ہے:  اِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِھٰذا الْکِتٰبِ اَقْوَامًا  وَیَضَعُ بِہٖ آخِرِیْنَ   (صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن) اس قانونِ الٰہی کے مطابق تعلق بالقرآن کا نُور ہی اُمت مسلمہ کو خاک سے اٹھا کر اپنے حقیقی منصب پر فائز کرکے دُنیا کا پیشوا اور انسانیت کا رہنمابنا سکتا ہے۔  

میرے ذہن میں ماہِ رمضان کی دو تصویریں گردش کر رہی ہیں:  

ایک تصویر وہ کہ جس میں رمضان ایک بوجھ محسوس ہوتا تھا جو اپنے ساتھ بھوک پیاس کی آزمائش لے کر آیا تھا۔ کھانا آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ آپ کے ہاتھ اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ بھوک سے بُرا حال ہے۔ لیکن آپ اسے کھا نہیں سکتے، اِس لیے کہ اجازت نہیں ۔ شدتِ پیاس ہے۔ پانی آپ کے سامنے رکھا ہوا ہے لیکن اسے اٹھا کر پینے کا اذن نہیں ۔ آپ بڑی میٹھی نیند میں سوئے ہیں کہ ماہِ رمضان آپ کو رات کے آخری حصے میں اٹھا کر کھڑا کر دیتا ہے کہ اٹھو اور کچھ کھالو، حالانکہ آپ کا حال یہ ہے کہ دنیا کے ہر کھانے کو نیند کے اس لمحے پر قربان کرنے کو تیار ہوجائیں۔ اگر آپ سگریٹ نوشی کا بھی شوق رکھتے ہیں تو آپ کو اس سے بھی روک دیتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ مہینہ مشقت ، بھوک اور پیاس کا مہینہ ہے۔ 

دوسری تصویر وہ کہ جس میں رمضان شیریں اور خوب صورت مہینے کی طرح جلوہ گر ہے۔ اس ماہ کے آتے ہی رات کے تیسرے پہر، جب کہ رات پر سکون کی چادر تنی ہوتی ہے، لوگ قیام اللیل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ آسمان گدازہو جاتا ہے، تارے جھلملانے لگتے ہیں اور کائنات پر شفافیت چھا جاتی ہے ۔ خالق کائنات بندوں پر اپنے فضل و کرم کے خزانے لٹانے شروع کر دیتا ہے۔ ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس وقت اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے: ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفَرُ لَہٗ  ھَلْ  مِنْ تَائِبٍ فَأَتُوْبُ عَلَیْہِ ھَلْ مِنْ  سَائِلٍ فَأَعْطِیْہِ  ’’ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اُس کی توبہ قبول کر لوں، ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اسے نواز دوں؟‘‘ (صحیحین)۔ دُعا کرنے والا اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے تو وہ اُس کی دعا سنتا ہے۔ گناہوں کو معاف کر تا ہے، مانگنے والے کو عطا و بخشش سے نواز تا ہے، اور توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ بندوں کے دل اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے جڑ جاتے ہیں۔ دل کے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے جڑ جانے سے بندہ وہ لذت محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔اس کے بعد مؤذن کی آواز اس کے کانوں میں آتی ہے۔ دل خوشی سے جھومنے لگتے ہیں۔ مؤذن اَلصَّلَاۃُ خَیْرُ مِنَ النَّوْمِ کی صدا بلند کرتا ہے اور لوگ اس ہستی کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ساری کائنات جس کی مٹھی میں ہے۔ مولائے رحمٰن و رحیم سے مناجات میں مشغول ہو جاتے ہیں۔گھر گھر میں ایمان کی روح سرایت کرنے لگتی ہے، ہر زبان اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی حمد و تسبیح میں مصروف ہوجاتی ہے، اور ہر طرف اس کی رحمت کا نزول ہونے لگتا ہے۔ 

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں لوگ اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ سب کا رُخ اس کے گھر کی طرف ہو جاتا ہے۔ مسجدیں مسلمانوں سے آباد ہو جاتی ہیں۔ مسجد میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے والے اور سو کر وقت گزارنے والے غائب ہوجاتے ہیں۔ عالم اسلام کے ہر ملک میں مسجدیں آباد ہو جاتی ہیں۔ کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی جس میں نماز پڑھنے والے اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے  نہ ہوں۔ مسجد کا کوئی ستون ایسا نہیں ہوتا ہے جس سے ٹیک لگا کر کوئی بندہ قرآن کی تلاوت نہ کر رہا ہو۔ کوئی اجتماع ایسا نظر نہیں آتا جس میں مدرس اور واعظ درس و تدریس اور تذکیر نہ کر رہے ہوں۔ 

سب لوگ اپنے دلوں کو گناہ ومعصیت سے پاک کرنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔ کینہ و حسد اور حرص و ہوس کی گٹھریاںاتار کر دلوں کو عبادت و بندگی کے لیے خالص کرنے کی کوشش کر تے ہیں، خیر کے حصول کو منزل مقصود بنا کر مسجدو ںمیں داخل ہوتے ہیں۔عالم ظاہری سے ناطہ توڑ کر عالم سماء سے رشتہ استوار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ملکوں اور شہروں کی سرحدیں گرچہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کیے رہتی ہیں لیکن ایمان کی طاقت انھیں یکجا و متحد کیے رہتی ہے۔ وہ قبلہ جس کی طرف مومن نماز و سجود میں اپنا رُخ کرتے ہیں ، انھیں ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے۔ مسلمان خواہ ان کے دیار الگ الگ ہوں،خواہ ان کا تعلق دُور دراز کے ممالک سے ہو، وہ ایک امت ہیں۔ ایک دائرے کی طرح جس کا محیط یہ پوری زمین ہے اور جس کا مرکز و محور بیت اللہ الحرام یعنی خانہ کعبہ ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : قَدْ جَاءَکُمْ رَمَضَانٌ شَھْرٌ  مُبَارَکٌ (مسنداحمد) ’’تمھارے پاس [ماہِ] رمضان آیا ہے، یہ مبارک مہینہ ہے‘‘کے مطابق رمضان برکت والا مہینہ ہے ۔رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ میں رمضان المبارک کے بابرکت لمحات جیسے خوب صورت لمحات سے فیض یاب ہونا ناممکن ہے۔ زندگی ایک سفر ہے۔ عمر کی گاڑی پر سوار ہم اس سفر کو طے کررہے ہیں۔وقت کی یہ گاڑی ہمیں شاہراہ زندگی کے اس خوبصور ت ترین مرحلے سے لے کر گزرتی ہے، نُور کی ندیاں رواں ہوتی ہیں، دنیا پاکیزگی کا مرقع بنتی ہے۔ کائنات پر سکون طاری ہوتا ہے۔ رمضان کے علاوہ وقتِ سحر، ہم نیند کی آغوش میں ہوتے ہیں۔ آنکھوں کو کھولنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اس لیے اس بابرکت وقت کی سحر انگیزیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ 

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں انسانیت کے معانی سے پردہ اٹھتا ہے۔ انسانو ںکے درمیان مساوات قائم ہو جاتی ہے۔ نہ کوئی بھوکا رہتا ہے اور نہ کوئی اس حال کو پہنچتا کہ کھا کھا کر اسے بدہضمی نے آ لیا ہو۔ بھوک اور شکم سیری میں سب شریک رہتے ہیں۔ روزے میں مال دار بھی بھوکا رہتا ہے ، غریب بھی۔ مال دار بھوک کی تکلیف محسوس کرتا ہے تاکہ بعد میں کوئی اس کے پاس آکر یہ کہے کہ میں بھوکا ہوں، تو اسے یاد رہے کہ بھوک کیا ہوتی ہے۔دوسری طرف غریب اور فقیرمال دار شخص کو دیکھتا ہے کہ مال دار ہونے کے باوجود اسے بھی روٹی کے ایک ٹکڑے کی آرزو ہے، اور پانی کے ایک گلاس کی طلب ہے۔ یہ دیکھ کر اسے اللہ کی نعمت کی قدر ہوتی ہے۔ پھر جب امیر و غریب سب دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو بھوک ان کا فرق مٹا دیتی ہے۔ کھانے کے اچھا اور بُرا ہونے کا فیصلہ بھوک کر تی ہے جو کہ کھانے کی خواہش کو بیدار کیے رہتی ہے۔ صحتِ معدہ اس کا فیصلہ کرتی ہے کیوں کہ اسی کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔اگر بھوک اور معدہ کی صحت برقرار ہو تو سستا اور سادہ کھانا بھی شاہی دسترخوانو ںسے زیادہ پُرلطف اور لذیذ ہوجاتا ہے۔ 

رمضان آتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے سب لوگ ایک ہی خاندان کے فرد ہیں، یا سب ایک ہاسٹل میں رہنے والے ساتھی ہیں۔ سب ایک وقت پر افطار کرتے ہیں اور ایک ہی وقت پر کھانا پینا ترک کرتے ہیں۔ شام ہوتے ہی سب تیز تیز قدموں سے اپنے گھروں کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔کوئی اپنے گھر کی بالکنی میں کھڑا نظر آتا ہے تو کوئی گھر کے دروازے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ سب کی نگاہیں اپنی گھڑیوں پر اور کان اذان کی آواز پر لگے ہوتے ہیں۔ آنکھیں مسجد کے مینار کو تک رہی ہوتی ہیں اور کان سائرن اور گولے کی آواز سماعت سے ٹکرانے کے منتظر رہتے ہیں۔ جیسے ہی سائرن کی آواز آئی ، یا مسجد کے مینار پر روشنی دکھائی دی، یا مؤذن کی آواز کانوں میں پڑی، کیا چھوٹے کیا بڑے سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ افطار کے وقت خوشی کی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا: لِلْصَّائِمِ فَرحَتَانِ ، فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہِ وَفَرْحَۃٌ  عِنْدَ لِقَاءِ  رَبِّہٖ (صحیح مسلم)’’روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کےوقت اور ایک خوشی اپنے ربّ سے ملاقات کے وقت‘‘۔ جہاں بڑوں کے چہرے کھلکھلا اٹھتے ہیں، وہاں بچّے ایک آواز میں شور مچانے لگتے ہیں کہ ’اذان ہو گئی ، اذان ہوگئی‘۔لوگ پرندوں کی مانند اپنے گھروں کی طرف پرواز کرنے لگتے ہیں۔ہر شخص کو جو کچھ کھانے کو میسر آتا ہے، اس پر رضامند اور خوش رہتاہے۔ اللہ کی اس نعمت پر شکرگزاری کے جذبے سے لبریز رہتاہے۔ بھوک نے انھیں اس بات پر راضی کر دیا ہے کہ جیسا بھی کھانا ملے ، وہ اسے کھالیں۔ اس وقت جو بھی کھانا میسر ہو وہ ان کے ذوق کے مطابق بھی ہوجاتا ہے اور لذیذ ترین بھی۔ 

کھانے سے فارغ ہوئے تو مسجد کی طرف رخ ہوگیا۔ اپنے ربّ [ خالق و رزاق واِلٰہ] کے حضورایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔قدم سے قدم ملائے ہوئے، کندھے سے کندھا جوڑ کر سب نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے۔مال دار، غریب، بڑا چھوٹا، نادار و صاحب مال، سب کے سب اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حضور اپنی عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ بندوں کے اس اظہار عاجزی کے بدلے میں انھیں عزت و سربلندی سے نواز دیتا ہے۔ یہ حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی: وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ  ، اِلَّا رَفَعَہُ اللہُ ’’اور جو کوئی اللہ کے لیے تواضع (انکساری) اختیار کرتا ہے اللہ اسے ضرور بلندی عطا فرماتا ہے‘‘۔ پس  جس نے بھی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حضور ذلت و عاجزی قبول کر لی اسے وہ عزّت و سربلندی عطا کر دیتا ہے۔ یعنی جو دنیا میں اللہ کا بندہ اور غلام بن کر رہتا ہے اللہ تعالی اسے دنیا کی سرداری بخش دیتا ہے۔ جواللہ کی شریعت کی پیروی کرتا ہے، اس کے امر و نہی پر قائم رہتا ہے، فرائض کو انجام دیتا ہے، جو چیزیں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے حرام کردی ہیں ، ان سے باز رہتا ہے، اللہ سبحانہٗ تعالیٰ اپنی مدد ونصرت کے ذریعے اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اپنی توفیق اور عفو و درگذر سے اسے نوازتا رہتا ہے۔ یہی چیزیں تھیں جن کی بدولت ہمارے آبا و اجداد نے دُنیا کی قیادت کی تھی، مشرق سے لے کر مغرب تک پورے خطۂ زمین کو فتح کر ڈالا تھا۔ دنیا کے ہر کونے میں بلندی و رفعت ان کے حصے میں آگئی تھی اور انھوں نے زمین پر ایک ایسی حکومت قائم کر دی تھی کہ تاریخ نے اس سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ شاندار، اس سے زیادہ انصاف اور عدل پر مبنی حکومت کا نظام کبھی دیکھا ہی نہیں۔ 

رمضان وہ مہینہ ہے جو روزہ دار کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی صحت لے کر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ نفس انسانی کو عظمت اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی سے بھی نوازتا ہے۔ روزہ کھیل اور ورزش کا اہتمام کرنے والوں کے لیے بھی معنویتِ رکھتا ہے۔ کھیل اور ورزش کے مقاصد سے متعلقہ کتابوں کے مطالعہ سے یہ معنویت بہت عیاں ہوکر سامنے آتی ہے۔ میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں، لیکن میں نے خود اپنے اوپر تجربہ کیا ہے، اور کبھی کبھی تجربہ کار شخص اپنے بارے میں ڈاکٹر سے بہتر جانتا ہے۔میں روماٹزم (جوڑوں کے درد) کی مار کھایا ہوا شخص ہوں۔ گردے کی پتھریو ںکا مریض ہوں۔ چھتیس برس تک ان بیماریو ںکا علاج کرنے کے لیے ڈاکٹروں کے چکر کاٹتا رہا۔ واللہ [اللہ کی قسم!] میں نے ہر علاج آزما کر دیکھ لیا۔ لیکن ان بیماریوں کے علاج کے لیے روزے سے اچھا کوئی علاج مجھے نہیں ملا۔ روزہ جسم کی صفائی کر دیتا ہے، جسم کے زہریلے مادوں کو ختم کر دیتا ہے، گندگیوں کو جسم سےنکال باہر کرتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے پاک اور محفوظ کر دیتا ہے۔ 

یہ ہے رمضان کی پیاری اور خوبصورت تصویر۔ کیا اس تصویر کے ساتھ پہلی تصویر کی شدت بھی شیرینی میں تبدیل نہیں ہو جاتی؟یہ روزہ تو دوا ہے۔ اور عقل مند لوگ دوا کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے، کیو ںکہ انھیں امید ہوتی ہے کہ اس دوا کے ذریعے شفایابی کی لذت سے ہم کنار ہونا ہے۔ 

یہ ہے رمضان! اگر آپ واقعی روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو اس ماہ میں اپنی زبان کو بھی لغو اور بے ہودہ کلامی سے محفوظ رکھیے۔ اپنی نگاہوں، کانوں، سوچ اور چاہتوں کو حرام سے بچا کر رکھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متنبہ فرمایا: مَنْ لَمْ یَدَعْ  قَوْل الزُورِ  وَالْعَمْلَ بِہٖ  وَالْجَھْلَ ، فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃً اَنْ یَدَعْ  طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ  (صحیح البخاری)’’جو شخص [روزہ رکھ کر بھی] جھوٹ، جھوٹ پر عمل کرنا اور جہالت کو نہیں چھوڑتا تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ صرف کھانا پینا چھوڑ دے‘‘۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا ہے کہ رُبَّ صَائِمٍ حَظُّہٗ مِنْ صَیَامِہٖ  الجُوعُ  وَالْعَطَشْ (سنن ابن ماجہ)’’بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزہ سے ان کو بھوک و پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘۔ بعض روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جن کے روزوں کا حاصل بھوک اور پیاس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ایک روزہ دار کھانے پینے کا تو روزہ رکھ لیتا ہے لیکن غیبت کر کے اپنے مُردہ بھائیوں کا گوشت کھاتا پھرتا ہے [اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْہِ مَيْتًا ،الحجرات۴۹:۱۲]۔شراب کو ترک کر دیتا ہے لیکن نہ تو جھوٹ بولنا چھوڑتا ہے، نہ دھوکے بازی کرنے سے باز آتا ہے اور نہ ہی لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا بند کرتا ہے ۔ 

 ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے پوچھا: مفلس کون ہے؟ سب نے عرض کیا: ہمارے یہاں تو مفلس اسے کہاجاتا ہے جس کے پاس نہ مال و متاع ہو، نہ درہم و دینار ہو۔ آپؐ نے فرمایا: ’’مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور نیکیاں اپنے ساتھ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا مال ہڑپ کیا ہوگا۔اس کی ساری نیکیاں اس سے ضبط کرکے ان لوگوں میں تقسیم کردی جائیں گی جن کے ساتھ اس نے زیادتی کی ہوگی ۔یہاں تک کہ اس کے پاس اپنی ایک بھی نیکی بچی نہیں رہے گی‘‘۔ (سنن ترمذی) 

سب سے گھنائونا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔ جھوٹ زبان سے بھی بولا جاتا ہے اور عمل سے بھی۔عمل سے جھوٹ بولنا یہ ہے کہ ایک شخص نیک اور صالح لوگوں کا سا لباس اختیار کر لے، متقیوں کی سی اپنی پہچان بنا لے، لیکن حقیقت میں دکھاوا کر رہا ہو، لوگوںکو بے وقوف بنا رہا ہو۔اُس کا مقصد دین کی آڑ میں دنیا کمانا ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا مومن چوری کرسکتا ہے؟ کیا وہ فلاں فلاں گناہ بھی انجام دے سکتا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ کبھی وہ ان گناہو ںمیں ملوث ہو جائے، لیکن وہ توبہ کر لے۔ پھر دریافت کیا گیا کہ کیا مومن جھوٹ بول سکتا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا: ’’نہیں ، جھوٹ گھڑنا تو ان کا کام ہے جواپنے دل میں ایمان نہیں رکھتے‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات واضح فرما دی:مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا ،’’جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔آج روزہ دارو ںکا جائزہ لیا جائے تو کیا ان میں ایسے لوگ موجود نہیں جو جھوٹ بولتے ہیں؟ کیا ایسے لوگ موجود نہیں جو دھوکا دیتے ہیں؟ کیا ایسے لوگ نہیں جو وعدہ خلافی کرتے ہیں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وعدہ خلافی نفاق کی تین علامتوں میں سے ایک ہے(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔ ان لوگوں کو یہ اُمید کس بنیاد پر رہتی ہے کہ انھیں روزہ کا اجروثواب مل جائے گا؟ جب کہ انھوں نے صرف حلال کھانے کا تو روزہ رکھ لیا لیکن حرام کاموں کو نہیں چھوڑا! 

دین اسلام زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی معاملات کو درست کرنے کا نام ہے۔ ایک شخص امیرالمومنین عمر بن الخطابؓ کے سامنے ایک دوسرے شخص کی تعریف کرنے لگا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: کبھی تم نے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔حضرت عمرؓ نے پوچھا: کبھی تم نے اس کے ساتھ سفرکیا ہے؟ اس نے کہا : نہیں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیا کبھی تو نے کوئی چیز امانت کے طور پر اس کے پاس رکھی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا: پھر تم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ میرا خیال ہے تم نے اسے صرف مسجد میں سراُٹھاتے اور جھکاتے (رکوع و سجدہ کرتے) دیکھا ہے یا زبان سے تسبیح کرتے دیکھا ہے‘‘۔ (الحکیم الترمذی: ادب النفس، ابن قتیبہ: عیون الاخبار، امام الطحاوی: مشکل الآثار) 

رمضان محبت اور تعلقات میں مضبوطی لانے والا مہینہ (شَھْرُ مُواسَاۃِ ، سنن الترمذیو صحیح ابن خزیمۃ)ہے۔ اس ماہ میں اپنے سینہ و دل کو وسیع و کشادہ رکھیے، زبان میں شیرینی و چاشنی لائیے، لڑائی جھگڑوں سے خود کو دُور رکھیے۔ رمضان کے اس ماہِ مبارک میں آپ کی بیوی سے کوئی لغزش ہو جائے تو اسے برداشت کر لیجیے۔ بھائیوں کی جانب سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس پر صبر کر لیجیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روزہ دار کو نصیحت یاد رکھیے: فَاِنْ سَابَّہٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتَلُہٗ فَلْیَقُلٌ  اِنِّی امْرُوٌ صَائِمٌ (صحیح البخاری)’’ کوئی آپ سے لڑائی کرنے میں پہل کرے تو آپ بھی لڑنے کے لیے تیار نہ ہو جائیں ، بلکہ اس سے کہہ دیں کہ ’میں روزے سے ہوں‘‘۔ 

جب آپ بھوک سے بے حال ہوں تو اس لمحے اس غریب کو یاد کیجیے جس کو حالت مجبوری میں بھوک کے تھپیڑے کھانے پڑ رہے ہیں ۔ آپ کے رب نے آپ کو جن نعمتوں سے نواز رکھا ہے، ان پر ربّ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے۔ شکر محض یہ نہیں ہے کہ آپ ہزار مرتبہ زبان سے الحمد للہ کا ورد کردیں۔ بلکہ مال دار کا شکر یہ ہے کہ وہ غریبوں پر مال خرچ کرے اور قوی وطاقت ور کا شکر یہ ہے کہ وہ کمزوروں کی مدد کرے۔ 

جس طرح سے آپ اپنے مال میں سے دوسروں کو نوازتے ہیں، اسی طرح حُسن اخلاق سے بھی نوازئیے ۔ کچھ دینے کے ساتھ مسکراہٹ سائل کو وہ خوشی دیتی ہے جو عطا و بخشش سے ملنے والی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ پڑوسی کو ایک اچھی بات کہہ دینا نیکی ہے۔ بسا اوقات ضرورت مندسے خندہ پیشانی کے ساتھ معذرت اس سے بہتر ہے کہ گھمنڈ کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کی جائے۔ 

ماہِ رمضان میں آپ کی جسمانی صحت کا جو سامان ہے اسے بھی حاصل کرنے کی کوشش کیجیے اور ماہِ رمضان میں روحانی بلندی اور حصولِ تقویٰ کا جو انتظام ہے اس پر اپنی توجہ مرکوز رکھیے، تاکہ آپ کے نفس کی عظمت، قوت و رفعت کا جو سامان ہے اسے پاسکیں۔ انفاق، بذل و عطا اور احسان کو اختیار کرلیجیے۔ اس ماہ کی برکات سے سال بھر کے لیے ذخیرہ کر لیجیے تاکہ یہ مہینہ آپ کے لیے واقعی ذخیرہ بن جائے۔ 

ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں خیر کی نہریں بہنے لگتی ہیں، محبت اور تعلق کی فضا عام ہو جاتی ہے۔ لہٰذا درگذر سے کام لیجیے اور نا مناسب باتوںکا جواب بہترین انداز میں دیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ قرآن کریم میں بیان کردہ ربّ العالمین کے اصول: لَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۝۳۴ (حم السجدہ ۴۱:۳۴) کے مطابق جن کے درمیان عداوت اور دشمنی تھی وہ بھی جگری دوست بن گئے ہیں۔ 

جب سے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے آدم و حوا علیہما السلام کو دنیا میں بھیجا ہے ،کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں ترقی کی کچھ نہ کچھ منزلیں طے نہ کی جارہی ہوں۔ قرآن کریم میں دیے گئے قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ فرعون، قومِ نمرود وغیرہ کے قصے محض قصے اور کہانیاں نہیں ہیں ، بلکہ ان کے ذریعے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی بے پایاں حکمتوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ ایک حکمت یہ بھی رہی ہے کہ ہر آنے والا انسان گذشتہ قوموں کے اَدوار میں کی گئی ترقی کے سفر کے مختلف پہلوئوں سے آگاہ رہ سکے اور ان کی طرح ترقی کے متنوع پہلوئوں کی چکاچوند میں کھوکر زمانے کی رو میں بہہ جانے کے سبب عذابِ الٰہی کا حقدار نہ بن بیٹھے۔ درحقیقت ترقی کے اس سفر میں اساسی چیز انسان کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتیں ہیں، ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان نے ایسی ایسی ایجادات کیں جن سے خود انسان کی عقل بھی حیران و پریشان رہ جاتی ہے۔ موجودہ دور کو ٹکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے اور بقول شخصے کرۂ ارض پر جو تبدیلیاں گذشتہ ۲۰ برسوں میں رُونما ہوئی ہیں، ماضی میں اس طرح کی فعال (Dynamic) تبدیلیاں کہیں صدیوں کے بعد جا کر ہوا کرتی تھیں۔ آج ہر طرف روزافزوں نئی نئی ٹکنالوجی کا استعمال انسانی عقل کو حیرت میں ڈال رہا ہے۔   

 رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہ عبادت، تزکیۂ نفس اور اللہ سے قرب حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں رحمتوں کی برسات ہوتی ہے ، جس کے اَبرِ باراں سے ہر نفس اپنے اپنے ظرف کے مطابق اللہ کی رحمتیں سمیٹتا ہے۔ جدید ٹکنالوجی کے اس دور نے جہاں انسانی فطرت سے بہت سی چیزیں دُور کردی ہیں، وہیں مسلم معاشرے میں رمضان کا حُسن اور تقدس بھی اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکا۔ گو کہ جدید ٹکنالوجی بذاتِ خود اچھی یا بُری چیز نہیں بلکہ اس کا استعمال اس کے کردار کا تعین کرتا ہے۔ جس طرح اسلامی مقاصد، قواعد و ضوابط اور حدود و قیود سے بہرہ مند ہوئے بغیر آج ہم جدید ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہیں ، اس طرح یہ رمضان المبارک کی روح کو کمزور کر دیتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر اس کا درست استعمال اسلامی مقاصد، نیت، قواعد و ضوابط اور حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے تو یہ عبادت، علم اور اصلاحِ نفس کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ 

ذیل میں ہم اس بات کا جائزہ لینے کوشش کریں گے کہ رمضان المبارک میں کس طرح جدید ٹکنالوجی کے مضر اثرات سے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو بچا سکتے ہیں، اور کس طرح اس سے مستفید ہوتے ہوئے اسے اللہ کے قرب کا ذریعہ بناسکتے ہیں؟ 

۱- وقت کا ضیاع:رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس کی طلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ سے شروع فرمادیتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد رمضان کی آمد سے تقریباً چھے ماہ پیشتر اس کی آمد کا انتظار کیا کرتی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر جانے اَن جانے میں کی گئی غیرضروری اسکرولنگ ایک مسلمان کو تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور اللہ کی یاد سے دُور رکھتی ہے۔ نمازوں کو ان کے اوقات میں اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادائیگی میں مانع ہوتی ہے، جہاں سوچوں کے دھارے یکسوئی کے ساتھ اللہ ربّ العزت کا قرب اور تقویٰ حاصل کرنے میں موڑے جانے چاہئیں وہا ں فکر و ذہن میں طرح طرح کی لایعنی سوچیں اپنا مسکن بنالیتی ہیں۔ شاید اسی جانب نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے کہ ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں، ایک صحت اور دوسری فارغ وقت ‘‘۔ (بخاری: ۶۴۱۲) 

لہٰذا، بہتر ہوگا کہ رمضان المبارک کے ایک ایک لمحہ کو قیمتی بنانے کےلیے موبائل فون کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب برتیں ، اس کے استعمال کے اوقات مقرر کریں۔ بہتر ہوگا کہ سحر و افطار کے اوقات میں اپنے موبائلز کو قطعی طور پر بند رکھیں۔ نماز کے اوقات میں، تلاوتِ قرآن کے وقت، ذکر و اذکار کرتے وقت موبائل کو خود سے دُور رکھیں۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا لیپ ٹاپ کی اسکرین کو بند کردیں اور اپنی سوچ و فکر کو قربِ الٰہی کے حصول کے لیے قرآن کریم کی آیات اور ذکر و اذکار میں غوروتدبر میں لگاتے ہوئے زبان کا ہم رکاب بنائیں۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ موبائل اور ٹکنالوجی آپ کی خادم ہے حاکم نہیں، اور رمضان آپ کی ذہنی و جسمانی تفریح کا نہیں بلکہ تربیت کا مہینہ ہے۔ 

۲- تعلق باللّٰہ کے حصول میں یکسوئی کی کمی:موبائل نوٹیفیکیشنز بظاہر ایک موبائل صارف کےلیے معمولی چیز ہیں، لیکن حقیقت میں یہ روحانی، ذہنی اور عملی طور پر کئی نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر اگر ان پر مکمل ضبط (control) نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کی ایک ایک گھڑی بہت زیادہ قیمتی اور بابرکت ہوتی ہے، ایسے میں موبائل نوٹیفیکیشنز تعلق باللہ کے لیے کیے جانے والے اعمالِ صالحہ مثلاً تعلیم و تعلّم، نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر و فکر اور تزکیۂ نفس کے ضروری غوروخوض اور انابت الی اللہ میں خشوع و خضوع برقرار نہیں رہنے دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں ادا کیے گئے ایک فرض کا اجر ۷۰ فرائض کے برابر ،جب کہ ایک نفل کا اجر ایک فرض کے برابر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا فرض نمازوں، نمازِ تراویح اور تلاوتِ قرآن کے وقت ہی نہیں بلکہ رمضان المبارک میں نہایت ضروری کاروباری یا دفتری معاملات سے متعلقہ اوقات کے علاوہ اس کی نوٹیفیکیشن ٹونز کو خاموش (silent) رکھا جائے اور اس کے ارتعاش (vibration) کو بھی ساکت کردیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت حصولِ تقویٰ کے مذکورہ اعمال میں خشوع و خضوع کے ساتھ لگ سکے اور دھیان اِدھر اُدھر نہ بھٹکنے پائے۔ 

۳- گناہوں تک آسان رسائی:سوشل میڈیا بظاہر فائدہ مند اور باہمی رابطے کا ذریعہ ہے لیکن اس میں گناہوں تک رسائی کے دروازے خطرناک حد تک کھلے ہوئے ہیں۔ اس پر ایک کلک سے ناپسندیدہ ویڈیوز، تصاویر اور ریل نمودار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی نوعیت کی ویڈیو یا تصویر پر ارادتاً یا بلاارادہ انگلی مَس ہوجائے تو پھر اس کے بعد ان ناپسندیدہ ویڈیوز اور تصاویر کا نہ رکنے والا ایک تانتا سا بندھ جاتا ہے، یعنی الگورتھم (Algorithm) خود بخود مزید کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنی تعلیم ہے کہ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ (النور۲۴:۳۰ )’’ اے نبیؐ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں‘‘۔ 

 سوشل میڈیا پر نظر کی حفاظت ایک ناممکن سا عمل ہے، کیونکہ اس پر بے پردہ عورتیں، نامناسب مناظر بار بار سامنے آتے رہتے ہیں جس سے نفس کی کمزوری مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ گناہ ، گناہ نہیں لگتا۔ اسی طرح کسی نہ کسی ویڈیو اور آڈیو میں میوزک بے اختیار آجاتا ہے اور انسانی ذہن اس کے سحر میں گرفتار ہوکر اسے سننے لگ جاتا ہے۔ مختلف وی لاگرز کے غیر تحقیق شدہ تبصروں کی ویڈیوز اور آڈیوز عام ہیں جن میں سے ہر کوئی اپنی اپنی پسند کی شخصیات اور سیاسی و دینی جماعتوں کی شان میں قصیدے پڑھتا اور مخالفین پر کیچڑ اُچھالتا نظر آتا ہے۔ اس طرح ارادتاً بھی اور غیر ارادی طور پر بھی آپ غیبت، تہمت، جھوٹ وغیرہ سننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گویا کہ سماعتوں کی حفاظت بھی ناممکن ہوجاتی ہے۔ اس طرح مسلسل لغویات کے شکنجے میں جکڑے رہنے سے گناہ معمول بن جاتے ہیں اور ندامت و شرمندگی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً دل توبہ سے دُور ہوتے چلے جاتے ہیں۔  

ضروری ہے کہ گناہوں تک آسان رسائی سے بچنے کے لیے ہم عملی، قابلِ عمل اور عام فہم تدابیر کو اختیار کریں۔ ان میں سب سے پہلے ہمیں گناہوں سے بچنے کا ارادہ کرنا ہوگا اور صدقِ دل سے نیت کرنا ہوگی کہ میں سوشل میڈیا کو رمضان کی عبادت میں رکاوٹ نہ بننے دوں گا۔ اس کےلیے عملی طور پر کرنے کا کام یہ ہے کہ موبائل ہاتھ میں اُٹھاتے وقت خود سے سوال کریں کہ یہ موبائل اللہ کو راضی کرے گا یا ناراض؟ اگر جواب دوسرا ہو تو اس موبائل کو ہرگز ہاتھ نہ لگائیں۔ دوسرا کام یہ کریں کہ اس کے نوٹیفیکیشن کو ضروری کاروباری یا دفتری معاملات کے لیے دفتری و کاروباری اوقات کے علاوہ بند رکھیں۔ لایعنی گروپس اور چیٹنگ سے سختی کے ساتھ پرہیز کریں۔  

۴- قیام لیل ، سحری و فجر کا متاثر ہونا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے (بخاری: ۱۹۲۳)۔ تاہم سحری جب ہی کھائی جاسکتی ہے جب وقت پر اُٹھا جائے، جب کہ موبائل اور سوشل میڈیا ایک نشے کی مانند ہے جو شخص اسے ایک بار کھول لے یہ نشے کی طرح چمٹ جاتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اکثر لوگ رات سوتے سوتے بھی اس سے تعلق ختم نہیں کرپاتے اور اس طرح رات تاخیر سے سوتے ہیں اور قیام اللیل کےلیے یا سحری میں اُٹھنا تو کجا فجر بھی قضا کر بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا سحری کی برکتیں سمیٹنے کے لیے پہلا کام تو بستر پر لیٹ کر یہ کریں کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ وہ وقت پر آپ کو اُٹھا دے۔ سوشل میڈیا کو اپنے سونے کے اوقات سے کم از کم ایک یا پھر آدھا گھنٹہ پہلے تو لازماً وائی فائی اور ڈیٹا بند کردیں۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ فون ہی کو بند کردیں، تاکہ سوشل میڈیا سے مکمل رابطہ ختم ہوجائے، اس کے علاوہ اپنے موبائل میں دو سے تین الارم لگائیں جو وقفہ وقفہ سے بجیں۔ موبائل کو اپنے سونے کی جگہ سے کچھ فاصلہ پر رکھیں تاکہ شدید نیند کی حالت میں آپ کا ہاتھ موبائل تک نہ پہنچ سکے۔ آپ نیند سے بیدار ہوئے بغیر الارم کو بند نہ کرسکیں اور وقت پر بیدار ہو کر سحری کی برکتیں سمیٹ سکیں اور فجر کی نماز بھی بروقت ادا کرسکیں ۔ 

۵- غیبت اور لاحاصل بحث:ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے؟تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ اور اللہ کی نافرمانی سے بچو ،بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے‘‘ (الحجرات۴۹: ۱۲)۔ دوسری طرف دیکھیں تو سوشل میڈیا پر جھوٹ، بہتان، طنز، لعن طعن، ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنا چاہے انفرادی سطح پر ہو یا پارٹی سطح پر، عام ہے۔ اس قسم کی کیفیت سے بچنے کےلیے لایعنی گروپس سے کنارہ کشی اختیار کرلیں اور ایسا نہیں کرسکتے تو رمضان المبارک میں انھیں Mute  ضرور کردیں۔ اس طرح پیغامات کم ہوں گے تو ردِّ عمل بھی کم ہوگا اور غیبت و بہتان تراشی سے چھٹکارا بھی حاصل کیا جاسکے گا۔  

دوسری چیز Screen time/Digital Wellbeing آن کرلیں اور سوشل میڈیا کےلیے روزانہ کی بنیاد پر حد مقرر کرلیں۔ اس طرح کم وقت کے استعمال میں لغزشیں ہونے کے امکانات بھی کم ہوجائیں گے۔ تیسرا کام یہ کریں کہ رمضان المبارک کے آنے سے قبل ہی غیر ضروری پیجز، چینلزکو Unfollow کردیں، جن سائٹس سے افواہی اور فتنہ انگیز مواد زیادہ آتا ہو انھیں بلاک کریں۔ اس طرح جو نظر نہیں آئے گا وہ آپ کی زبان پر بھی نہیں ہوگا اور یوں غیبت اور لغویات سے پرہیز با آسانی کیا جاسکے گا۔ کوئی پیغام تحریر کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لیں کہ کیا یہ پیغام ضروری ہے، اس سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوگی، اس میں کوئی غیبت ، بہتان یا لعن طعن کا پہلو تو پوشیدہ نہیں؟ اس طرح کی احتیاطوں سے غیبت، بہتان، لعن طعن اور بہت سی لغویات سے بچا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی رمضان المبارک میں روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص جھوٹ اور بُرے کام نہ چھوڑے، اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی ضرورت نہیں‘‘۔ (بخاری) 

۶- ٹیلی وژن کی تباہ کاریاں:ایک وقت تھا جب وطن عزیز میں ریڈیو اور ٹیلی وژن رمضان کے تقدس کو برقرار رکھتے تھے اور ان پر اسلامی تربیتی مباحثے، تقاریر، فیچرز دیکھے اور سنے جاسکتے تھے لیکن جوں جوں حضرت انسان کے بقول وہ ترقی کی سیڑھیاں عبور کرتا گیا، توں توں اپنے منصب سے گرتا چلا گیا۔ آج کیفیت یہ ہے کہ ٹیلی وژن پر بے حیائی پر مبنی اشتہارات کی بھرمار ہے، دوسری طرف منفی خبروں اور مباحثوں کی تکرار نظر آتی ہے اور سب سے بڑھ کر مختلف پروگرامات میں اینکرز، اداکار، گلوکار وغیرہ اسلام سکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں (الامان الحفیظ)۔ اس سے ایک طرف تو نئی نسل کے ذہنوں میں اسلام کی غلط تصویر بنتی ہے تو دوسری طرف جان بوجھ کر مختلف تفریحی پروگرامات افطار و سحر کے وقت سحر و افطار کی خصوصی نشریات کے عنوان سے پیش کیے جاتے ہیں۔ ان نشریات سے بیش بہا نعمتوں سے بھرے لمحات بغیر دعا و مناجات اور توبہ و استغفار کے محض لغویات میں گزر جاتے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ رمضان کی آمد ہوتے ہی گھر کے ٹیلی وژن کو بھی روزہ رکھوا دیا جائے تاکہ اُس کے ذریعے حملہ آور ہونے والا شیطان آپ کے دلوں میں جگہ نہ بنانے پائے۔ یہ کام گھر کے سربراہان کا ہے۔ یاد رکھیے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو وہ صیامِ رمضان جس کے لیے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں فرمایا ہے:’’ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑ کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی‘‘(البقرۃ۲:۱۸۳)، اس سے دلوں میں تقویٰ کے بجائے نافرمانی گھر کرلے گی۔ 

۷- ٹکنالوجی کا درست استعمال :بہتر ہوگا کہ درج ذیل نکات کی کاپی کرکے اپنے لاؤنج یا بیٹھک میں لگا لیں، تاکہ ہر آنے جانے والا فرد تذکیرکے عمل سے گزرتا رہے: 

  • رمضان میں روزہ رکھ کر جس طرح ۱۲ سے ۱۴ گھنٹے ہم اللہ کی خوشنودی کےلیے کھانے پینے، اور جنسی خواہشات سے دُور رہے اور روزہ دار کہلائے۔ بالکل اسی طرح ڈیجیٹل روزہ بھی رکھیں اور روزانہ چند گھنٹے موبائل کو مکمل طور پر بند کردیں، گویا کہ اس کا آپ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یاد رکھیے روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں ہے بلکہ دراصل روزہ اپنی خواہشاتِ نفس کو ربّ العزت کے احکام کے تابع کرنے کی تربیت و جدوجہد کا نام ہے۔ 
  • ضرورت پڑنے پر موبائل کا استعمال صرف مخصوص اوقات میں کریں۔ سحری، افطار اور نمازوں کے اوقات میں قطعاً اس کے قریب نہیں جائیں، یا اس کو اپنے قریب نہ لائیں۔ 
  • ٹیلی وژن کا پورے رمضان روزہ رکھوائیں اور مکمل طور پر بند رکھیں اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم افطار سے تراویح ختم ہونے تک اور پھر سحر میں قطعی نہ کھولیں۔ اس طرح گناہوں کے آگے روزہ جیسی ڈھال معصیت کے سوراخ ہونے سے بچ سکے گی۔ 
  • اپنے موبائل کو آپ اللہ کے دین کے فروغ کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں جس میں معروف کا حکم ہو اور نواہی سے روک ہو۔ 
  • موبائل میں قرآن کی تفاسیر اور احادیث کے مجموعوں کی ایپس ڈاؤن لوڈ کرلیجیے اور ان سے استفادہ کی کوشش کیجیے۔ 
  • موبائل پر آن لائن دروس سننے کا اہتمام کریں اور خصوصاً تراویح کے خلاصہ کی کوئی آن لائن کلاس جوائن کرلیں یا کم از کم یو ٹیوب پر موجود کسی بھی عالم دین یا مقرر کے خلاصہ تراویح کو دیکھنے اور سننے کا اہتمام کریں۔ بہتر ہو کہ اس پروگرام میں تمام گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر شرکت کریں۔ اس طرح رمضان المبارک میں مکمل قرآن کا پیغام سمجھ سکیں گے۔ اور جب بات سمجھ آجائے تو عمل آسان ہوجاتا ہے۔ 
  • تصحیحِ تلاوت کے لیے کسی منتخب قاری کی ترتیل کے ساتھ تلاوت سنیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دُہرائیں۔ اس طرح آپ کے قرآن پڑھنے کے تلفظ کی درستی ہوسکے گی۔ 
  • مختصر احادیثِ مبارکہ اور قرآنی و مسنون دُعاؤں اور ان کے ترجمہ و مفہوم سے متعلق کوئی ایپ اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرلیں اور جب بھی موقع ملے اس میں سے دیکھ کر اس حدیث اور دُعا کو چلتے پھرتے حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح رمضان المبارک کے اختتام پر احادیث اور قرآنی و مسنون دُعاؤں کی بڑی تعداد آپ کو یاد ہوجائے گی جو آپ کو تزکیۂ نفس اور اصولِ تقویٰ میں ممد و معاون ہوں گی۔ 
  • ایسی معتبر اسلامی ویب سائٹس وزٹ کریں جن پر اسلامی سوال و جواب کے پروگرامات پیش کیے جاتے ہوں۔ ا س سے آپ کے دینی علم میں اضافہ ہوگا اور کئی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھیں گی، جو اطمینانِ قلب کا سبب بنے گا۔ چند مفید ایپس درج ذیل ہیں: ۱- Read Maududi، ۲- Islam360، ۳- Quranurdu.com ، ۴- Tafheem Ul Quran ، ۵- Sanad ، ۶- Tarjuman ul quran 

سالانہ تربیتی کورس :رمضان المبارک ہمارے روز و شب کو سنوارنے آرہا ہے۔ یہ مسلم اُمہ کے لیے ایک ماہ کا تربیتی کورس لا رہا ہے اور تربیت ہوتی اس لیے ہے کہ تربیت حاصل کرکے مستقبل میں اُس کے مطابق کام کیا جائے۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ ایک مسلمان کو اس عملی سالانہ تربیتی کورس سے اس لیے گزارتا ہے تاکہ مستقبل کے گیارہ مہینے اللہ کی فرماں برداری میں گزارنا آسان ہوجائیں۔ اس لیے ڈیجیٹل دُنیا اور جدید ٹکنالوجی کے فوائد و نقصانات پر جو مختصر گزارشات پیش کی گئی ہیں، گو کہ وہ رمضان کے حوالے سے ہیں ، مگر حقیقتاً ایک مسلمان سال کے بارہ مہینے، مہینے کے چارہفتے، ہفتے کے سات دن، اور دن کے ۲۴ گھنٹے مسلمان ہی ہوتا ہے۔ اور ایک مسلم یا مسلمان کے معنی ہی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حکم کے آگے اپنا سر تسلیم خم کردینا ہے۔ لہٰذا یہ کام سال کے بارہ مہینہ ہمیں يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً   (البقرہ ۲: ۲۰۸)کی چلتی پھرتی تصویر بنا دینے کےلیے کافی ہوجانا چاہیے۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوسکا تو سمجھیں رمضان میں رحمتوں کی برسات ہمارے لیے رائیگاں گئی اور ہم اس کی سیرابی سے محروم رہ گئے ۔ اس کی بہترین مثال سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۴ میں دی گئی ہے جو اگرچہ کسی پر احسان کرکے جتانے کے حوالے سے ہے مگر موقع کی مناسبت سے یہ آیت ایسے لوگوں پر بھی ثبت ہوتی نظر آرہی ہے جو رمضان المبارک میں برستی رحمتوں کی برسات میں اُس کے فیوض و برکات سے سیراب ہونے سے محروم رہ گئے: 

فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا    ۭ لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ط  (البقرۃ۲: ۲۶۴) اس کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی، اس پر جب زور کامینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئی اورصرف چٹان کی چٹان رہ گئی ۔ اور انھیں کچھ بھی صلہ حاصل نہیں ہوتا اپنی کمائی کا۔ 

ترجمانُ القرآن کے قارئین کے لیے ہم اسلامی اقتصادیات کے جدید مباحث پر مبنی ایک اہم علمی سلسلہ پیش کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں ممتاز ماہر معاشیات اور معروف مصنف ڈاکٹر اسعد زمان کی کاوش پیش کی جارہی ہے۔ انھوں نے امریکا کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کی، ۲۲ برس کی عمر میں پی ایچ ڈی مکمل کی، اور پندرہ برس تک وہاں اعلیٰ سطح پر تدریس و تحقیق سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنا علمی رُخ اسلامی دنیا کی طرف موڑا۔ ابتدا میں ترکیہ میں خدمات انجام دیں۔ ۲۰۰۲ء میں بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد سے وابستگی کے بعد ان کی علمی کاوشیں بالخصوص اسلامی معاشیات کے میدان میں نمایاں طور پر سامنے آئیں۔ ان کی تصانیف و مقالات وسیع پیمانے پر شائع ہو چکے ہیں، اور دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں اسلامی معاشیات کے نصابی مطالعہ اور علمی مباحث میں ان کے کام سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ مؤلف کی کتاب: Islamic Economics: The Polar Opposite of Capitalist Economics اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے اسلامی معاشیات کی سمت طے کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اسلامی معاشیات کو محض چند مالی احکام یا بنکاری کے چند ظاہری تبدیلیوں تک محدود نہیں کرتی، بلکہ اسے انسان، معاشرہ، مقصدِ زندگی، اجتماعی ذمہ داری اور ادارہ سازی کے بڑے سوالات کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہی زاویہ آج اُردو دان قارئین کے لیے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معیشت کے غالب ادارے، تعلیمی سانچے، اور پالیسی کے پیمانے زیادہ تر غیر اسلامی فکری بنیادوں پر استوار ہیں۔ ایسے میں اصلاح کی کوئی سنجیدہ کوشش اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جب وہ موجودہ بندوبست کو سمجھتے ہوئے متبادل راستہ دکھائے۔ 

زیر نظر کتاب ترکی، بنگالی اور انڈونیشی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہے اور مختلف ملکوں میں وسیع حلقوں تک پہنچ چکی ہے۔ اردو ترجمہ اسی عالمی تسلسل کی اگلی کڑی ہے تاکہ وہ قارئین بھی براہِ راست اس بحث میں شریک ہو سکیں، جن کی علمی و فکری زبان اردو ہے اور جن کے سامنے جدید معاشی چیلنج روز بروز زیادہ شدت سے آ رہے ہیں۔ 

ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ نہ صرف قاری کو اسلامی معاشیات کے بنیادی مباحث سے روشناس کرائے گا، بلکہ سنجیدہ فکری مکالمے کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ خصوصاً اس پہلو سے کہ جدید مغربی معاشی فکر کن تاریخی ضروریات کے تحت بنی، اور اسلامی روایت اس کے مقابل کس نوع کی متبادل راہیں پیش کرتی ہے؟ [مدیر] 


مقدمہ 

۱- اسلامی اقتصادیات : دو مخمصے  

’اسلامی اقتصادیات‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سادہ سے سوال نے پریشان کن حد تک مختلف اور متنوع جوابات کو جنم دیا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق مختلف اہلِ علم نے اس کی ۳۰سے زائد تعریفات پیش کی ہیں۔ جب ہم اس میدان کے عملی مظاہر، یعنی نصابی کتابوں، یونی ورسٹیوں کے نصابات، علمی کانفرنسوں اور ادارہ جاتی پالیسیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو تشویش اور ابہام مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان تمام تعریفات میں اگر کوئی قدرِ مشترک ہے تو وہ یہ مفروضہ ہے کہ اسلامی معاشیات کی ابتدا مغربی معاشی نظام کے قائم کردہ مناہج و معیارات سے ہونی چاہیے، اور اس کے بعد کچھ اسلامی اصولوں، اصطلاحات یا مقاصد کے انضمام اور کچھ مغربی اصطلاحات کی قطع و برید کے بعد اسی نظام کو ’مشرف بہ اسلام‘ کر دیا جائے۔ 

یہ کتاب اسی عمومی مفروضے کو کلیتاً رَد کرتی ہے۔ کتاب کا عنوان: اقتصادیاتِ اسلام: سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی نقیض اس مقدمے کا خلاصہ ہے کہ اسلام اور سرمایہ داری انسانی مقصدِ حیات، عدلِ اجتماعی اور معاشی زندگی کے اخلاقی اصولوں کے بارے میں ایک دوسرے سے بالکل متناقض تصورات رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب تک سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی معاشیات کی توضیح کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، تب تک اس کا نتیجہ تضادات، سمجھوتوں اور فکری انتشار کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ اس بات سے یہ بھی سمجھ آ جانا چاہیے کہ : 

اتنی متضاد تعریفات کیوں پائی جاتی ہیں اور کیوں ابھی تک کسی حتمی تعریف تک نہیں پہنچا جاسکا؟ 

دوسرا حل طلب معما یہ ہے کہ ’اسلامی‘ معاشیات کا آغاز آخر ہوا کیسے؟ ایک ایسا علم جو بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ سامنے آیا، اور جس کی اسلامی روایت میں کوئی مثال نہیں ملتی اسے ’اسلامی‘ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ فقہ، تفسیر اور کلام جیسے روایتی علوم طویل اور مسلسل ارتقائی تاریخ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس دورِ جدید میں اسلامی معاشیات کا ظہور، نوآبادیاتی پس منظر اور مغرب کی معاشی بالادستی کے ردعمل میں ہوا۔ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اصل میں صرف ایک جدید علمی ایجاد یا تخلیق ہے، جسے مذہبی لبادہ پہنا دیا گیا ہے؟ یا کوئی ایسی گہری علت موجود ہے جس کی بنا پر اسے ’اسلامی‘ کہنا درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ 

یہ انھی دونوں گتھیوں کو سلجھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ مرکزی استدلال یہ ہے کہ اسلامی معاشیات، سرمایہ دارانہ نظام کی کوئی ترمیم شدہ صورت نہیں، بلکہ بالکل جداگانہ معاشی تصور کی تشکیل کا نام ہے، ایک ایسا تصور جو شریعت کے ابدی اصولوں پر بھی قائم ہواور عصرِ حاضر کی ضروریات کے مطابق اجتہادی بصیرت سے بھی مزین ہو۔نیز کتاب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اسلامی معاشیات کا بیسویں صدی ہی میں منظرِ عام پر آنا کوئی نقص نہیں بلکہ اسلام کی ابدی صلاحیتِ اجتہاد کا بیّن ثبوت ہے۔ وہ صلاحیت جس کے ذریعے وحی کی رہنمائی ہرزمانے کے بدلتے حالات میں قابلِ اطلاق رہتی ہے۔ زیرِ نظر تمہید کے بقیہ حصے میں اسی مدعا کو معقول دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ 

۲- غیر متبدل اصول اور زمانی و مکانی حقائق، اسلامی تناظر میں  

اپنے ابتدائی دنوں ہی میں اسلام نے یہ عظیم اصول بتلا دیا تھا کہ ’الٰہی ہدایت ابدی ہے، مگر اس کا اطلاق ہمیشہ بدلتے ہوئے زمان و مکان کے مطابق ہوگا‘۔ قرآن و سنت عدل، امانت، رحمت اور مساوات جیسے غیر متبدل اصول فراہم کرتے ہیں، مگر ان اصولوں پر عمل درآمد کی صورتیں ہمیشہ معاشرتی حالات، تکنیکی کیفیات اور تاریخی سیاق و سباق کے مطابق بدلتی رہی ہیں۔ 

مثال کے طور پر مسلم معاشرے کے دفاع کے مسئلہ کو دیکھیے ۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا مطلب گھڑ سواری، تیراکی اور تیراندازی جیسے فنون میں مہارت تھا۔ بعد کے ادوار میں اسی ذمہ داری کا تقاضا آتشیں اسلحے اور بحری طاقت میں مہارت ہوگیا۔ آج کے دور میں اس کے ذیل میں سائبر سکیورٹی، خلائی انجینئرنگ، معاشی استحکام اور بین الاقوامی قانون جیسے شعبے داخل ہو چکے ہیں۔ اصول (دفاع کی ذمہ داری) ایک ہی رہا، مگر صورتیں بدلتی رہیں۔ غیر متبدل اقدار اور متبدل حالات کے اسی تعلق نے اجتہاد کو اسلامی روایت کا نہ صرف جائز بلکہ لازمی جزو بنادیا۔ 

یہ اصول معاشی زندگی پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ شریعت نے معاشی عدل کے بہت واضح معیارات قائم کیے ہیں: سود کی حرمت، زکوٰۃ کی فرضیت، عقود کی پاسداری، دولت کی مسؤلیت اور محنت و مزدوری کا احترام۔ لیکن ان اصولوں کے عملی اطلاقات (ادارے، قوانین، پالیسیاں) ہمیشہ ہر دور کے معاشرتی، سیاسی اور تکنیکی حالات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ 

اسلامی تاریخ ایسے اجتہادی ارتقا سے بھری پڑی ہے۔دورِ خلافت کی متنوع مالیاتی پالیسیاں، اوقاف کی ترقی یافتہ صورتیں، منڈیاں اور حکومتی محاصل کے ضابطے، یہ سب اس امر کی زندہ مثالیں ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ابدی اصولوں کو اپنے زمانے کے نئے تقاضوں اور حالات کے مطابق برتا۔فقہاء اس اصول کی تعبیر یوں کرتے ہیں : تتغیر الفتویٰ بتغیر الزمان والمکان،یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے فتویٰ بدل جاتا ہے ۔ چنانچہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو روحِ عصر کے ساتھ سمجھا اور برتا جائے۔ 

یہی علمی و عملی شعور ہمارے مرکزی استدلال کی اساس ہے۔ عہدِ حاضر میں مسلمان ایسے معاشی مسائل کا شکار ہیں جن کی نوعیت نہایت گنجلک، ہمہ گیر اور ماضی سے یکسر مختلف ہے: ریاستیں اور خاندان قرض کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں، مہنگائی میں اضافے اور کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے ، بنکاری نظام قرض کی بنیاد پر پیسے کی تخلیق کے ذریعے معیشت کو غیر فطری سمت میں دھکیل رہا ہے، اور عالمی مالیاتی اداروں کی عائد کردہ شرائط کے تحت قومی پالیسیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ اجارہ داریوں کا پھیلاؤ، میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے خواہشات کی صنعت کا فروغ، اور محنت کش انسان کی قدر و منزلت کی پامالی نئی اور زیادہ پیچیدہ صورتوں میں سامنے آ رہی ہے۔ ان مسائل کا جواب مروجہ جدید نظاموں کی اندھی تقلید میں ہے، نہ ماضی کے کسی جامد تصور کی ہوبہو نقالی میں۔ صائب راستہ یہی ہے کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی معیارات پر از سرِ نو غور و فکر کیا جائے اور پھر ان کی بنیاد پر ادارے اور پالیسیاں وضع کی جائیں۔اسلامی معاشیات کی ذمہ داری اسی کارِ خیر کو انجام دینا ہے ۔ 

۳-  تاریخی تجربات اور معاشرتی نظریات کی تشکیل 

خیالات کبھی خلا میں جنم نہیں لیتے۔ معاشرتی نظریات خواہ ان کا تعلق معاشیات سے ہو، سیاست سے یا قانون سے زمان و مکان سے بے نیاز مجرد صداقتیں نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی تاریخی مسئلے کے جواب کے طور پر سامنے آتے ہیں، جنھیں مفکرین اپنے عہد کے فکری، سماجی اور اخلاقی بحرانوں سے نبرد آزما ہو کر وضع کرتے ہیں۔ کسی نظریے کو اس کے شانِ نزول سے کاٹ کر سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے سوال سنے بغیر ہی جواب سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ 

جس طرح اسلامی روایت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم ابدی اصولوں کو اجتہاد کے ذریعے بدلتے حالات پر منطبق کریں، بالکل اسی طرح دیگر فکری روایات کو بھی ان کے تاریخی پس منظر کے ساتھ سمجھنا ناگزیر ہے۔ جب کسی نظریے کے نتائج کو ماورائے تاریخ ’آفاقی صداقت‘ سمجھ لیا جائے، گویا وہ کسی تاریخی تجربے کے بجائے عقلِ محض سے مستنبط ہوں، تو نہ صرف اس نظریے کی تفہیم مسخ ہوجاتی ہے بلکہ خود وہ مسئلہ اور وہ زمانہ بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے، جس کے جواب میں وہ نظریہ وجود میں آیا تھا۔  

اسی اصول کا اطلاق جدید مغربی معاشی فکر پر بھی ہوتا ہے۔یہ فکر کسی ماورائے زمان و مکان ’عقلِ محض‘ کی ریاضت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ یورپ کی مخصوص مذہبی کشاکش اور اس کے بعد ’تحریکِ تنویر‘ (Enlightenment Movement)کے فکری ماحول میں بتدریج تشکیل پائی۔ اس دور میں یہ رجحان مضبوط ہوتا چلا گیا کہ ’مذہب کو محض ایک نجی معاملہ قرار دے کر‘ اجتماعی اور معاشی نظمِ حیات سے الگ کر دیا جائے۔ اسی تاریخی تناظر میں، جیسا کہ آر ایچ ٹاؤنی جیسے مؤرخ نے اپنی کتاب  Religion and the Rise of Capitalismمیں واضح کیا ہے ’’معاشی سرگرمیوں کے اخلاقی پیمانے بدلنے لگے: نفع، سود اور دولت کی اندھی دوڑ کو رفتہ رفتہ ’جواز‘ فراہم کیا گیا، اور اُخروی جواب دہی کے تصورات عملی زندگی سے دور ہوتے چلے گئے‘‘۔ 

کارل پولانی کی کتاب The Great Transformation:Economic and Political Origins of Our Times کے مطابق، جب معیشت کو معاشرت سے کاٹ کر ایک خودمختار منڈی کے سانچے میں ڈھالا گیا، تو انسان اور سماج کے مقاصد بھی عملاً محض دنیاوی کامیابی تک محدود ہوگئے، یعنی طاقت، دولت اور خواہشات کی تسکین۔ اگر اس پورے تاریخی پس منظر کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہی عارضی اور مخصوص مفروضے ’آفاقی سچائیوں‘ کے رُوپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ مغربی معاشی فکر کی درست تفہیم میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے،اور اس کے متبادل نظریات کی تشکیل کے راستے میں بھی ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ 

بدقسمتی سے یہ تاریخی بے بصیرتی آج مغرب اور مسلم دنیا دونوں میں عام ہو چکی ہے ۔ البتہ اس کے اسباب دونوں جگہ مختلف ہیں۔ مغرب میں ’تحریکِ تنویر‘ کے فکری رہنمائوں نے علم کو شعوری طور پر الٰہیات سے کاٹنے کی کوشش کی۔عقل کو خودمختار، غیر جانب دار اور تمام تاریخی و مذہبی قیود سے بالاتر قرار دیا گیا۔ اسی دعوے نے ’سماجی علوم کی معروضیت‘ کے نئے تصور کو جنم دیا۔ ’آفاقیت پرستی‘ کے نظریے کی ترویج سے جدید مغربی تعقل کو ایسی بالادستی حاصل ہوگئی کہ مغربی نظریات اب محض نظریات نہ رہے، بلکہ ایسی آفاقی صداقتوں کے قالب میں پیش کیے جانے لگے جو ہر عہد کے ہرشخص پر یکساں لاگو ہوں۔ 

اسلامی تعلیمات کی آفاقیت اپنی جگہ مسلّم ہے، مگر اس آفاقیت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم ہردور میں ان تعلیمات کے عملی نفاذ کے وسائل سے بخوبی آگاہ ہوں۔ مثال کے طور پر قرآن و سنت بار بار بھوکوں کو کھانا کھلانے اور محتاجوں کی کفالت کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ حکم ابدی ہے، لیکن آج اس کو مؤثر طور پر پورا کرنے کے لیے زراعت، آبپاشی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، طلب اور رسد، اور جدید پیداواری تکنیکوں کا فہم ضروری ہے، ورنہ نیک نیتی کے باوجود غربت و افلاس کا مسئلہ برقرار ر ہے گا۔ اسی طرح سود، زکوٰۃ، اور مالی معاملات سے متعلق شرعی اصول بھی ابدی ہیں،مگر ان کے اطلاق کے لیے جدید کرنسی، بنکاری اور مالیاتی نظام کی ساخت کو سمجھے بغیر کوئی بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔شرعی اصولوں کی آفاقیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کی جزئیات کو من و عن حال پر چسپاں کیا جانے لگے ، وگرنہ تصورِ اجتہاد ایک بے معنی شے بن کر رہ جائے گا۔  

خلاصہ یہ کہ آفاقیت کا غلط تصور جہاں جدید علوم کے فہم میں خرابی کا باعث بنتا ہے ، وہیں اسلامی علوم کے ناقص یا غیر صائب اطلاق کا سبب بھی بن سکتاہے ۔ اسی لیےعلوم کے تاریخی ارتقا سے واقفیت اَزبس ضروری ہے ۔  

دینی اور دُنیاوی تعلیم کی تقسیم: ایک رکاوٹ 

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں آ کر ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی ایک گہرا اور عملی خلا پیدا کرتا ہے۔ مسلم دنیا میں تعلیم کی تقسیم نے دینی مدارس اور یونی ورسٹیوں کو دو متوازی بلکہ بالکل منقطع راستوں پر ڈال دیا ہے، جس کا سب سے گہرا اثر اسلامی معاشیات جیسے بین العلومی (interdisciplinary) میدان پر پڑتا ہے۔مدارس کے طلبہ کو شرعی اصولوں، فقہی قواعد اور اخلاقی تصورات سے واقفیت کے بھرپور مواقع میسر آتے ہیں، مگر جدید معاشی نظام، اس کی ادارہ جاتی ساخت اور بنیادی مفروضات ان کے سامنے اکثر مبہم رہتے ہیں۔جدید نظامِ زر و بنکاری کی حقیقت سے بھی وہ زیادہ آگاہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ان میں وہ صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ علم معاشیات کی آفاقیت کے دعوے کو علمی طور پر پرکھ سکیں اور اس کے تاریخی و اخلاقی پس منظر کوجانچ سکیں ۔  

دوسری طرف جدید یونی ورسٹیوں کے طلبہ جدید معاشیات کی تکنیکی تربیت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگرشرعی علوم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔مزید برآں یونی ورسٹیوں میں مغربی سماجی علوم ، بالخصوص معاشیات ، جس اسلوب میں پڑھائے جاتے ہیں،وہ مسئلے کو اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سماجی علوم بشمول علم معاشیات چونکہ طبیعی سائنس کی ہیبت و ہیئت میں پروان چڑھے ہیں، اس لیے ان کے دعوؤں کو بھی اکثر طبیعیات کی طرح چند غیر متبدل قوانین کے قالب میں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ طلب و رسد جیسے اصول بھی اس انداز میں پڑھائے جاتے ہیں گویا وہ کششِ ثقل کے قانون کی طرح ہرحال میں یکساں ہوں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قواعد، مخصوص سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت سے وابستہ ہیں۔ جہاں منڈی کی جگہ منصوبہ بندی، یا سرکاری نرخ آ جائیں، وہاں یہ ’قوانین‘ اپنی وہ شکل برقرار نہیں رکھ پاتے، جو کتابوں میں بطور آفاقی حقیقت پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ تعلیم کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبہ اس علم کے مفروضات کو غیر متبدل اور اٹل حقائق سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ سو ان پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔  

یوں دونوں تعلیمی دھاروں میں الگ الگ مگر عمیق فکری خسارے جنم لیتے ہیں۔ مدارس میں جدید معاشی علم کی تاریخی اور ادارہ جاتی تفہیم کمزور رہتی ہے، اور یونی ورسٹیوں میں اخلاقی و شرعی بنیادوں سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ دوہری بصیرت جو جدید اسلامی معاشیات کی تفہیم اور تشکیل کے لیے ناگزیر ہے، شاذ ہی پیدا ہوتی ہے۔ 

 اسلامی معاشیات کی ضرورت اسی مقام پر پوری شدت سے سامنے آتی ہے۔ یہ جدید معاشی علم کو سمجھ کر اس کے آفاقیت کے دعووں کی حدیں متعین کرتی ہے، ان کے تاریخی اور اخلاقی پس منظر کو بے نقاب کرتی ہے، اور پھر قرآن و سنت کی روشنی میں وہ اصولی اور عملی سوالات اٹھاتی ہے، جن کے بغیر ’جدید اسلامی معیشت‘ کی صورت گری ممکن نہیں۔ یوں اسلامی معاشیات محض ایک اضافی مضمون نہیں، بلکہ ایک ناگزیر فکری پل ہے، جو ابدی اسلامی اصولوں اور بدلتے ہوئے معاشی حقائق کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔ 

۴-مغرب کا تصورِ آفاقیت اور اس کی تاریخی بنیادیں 

یہ سوال اہم ہے کہ مغربی فکر نے اپنے سماجی نظریات کو آفاقی صداقتوں کے طور پر کیوں اور کیسے پیش کرنا شروع کردیا؟ ان نظریات کے اندر ایسی کیا خصوصیت تھی کہ انھیں سب انسانوں کے لیے ہر زمانے میں قابلِ اطلاق سمجھ لیا گیا؟ اس کا جواب نظریات کے مواد میں نہیں بلکہ ان تاریخی حوادث میں پوشیدہ ہے، جن کے جواب میں یہ فکر پیدا ہوئی۔ 

یورپ میں صدیوں پر محیط مذہبی تنازعات کے بعد، اہلِ تنویر نے یہ جستجو شروع کردی کہ علم، اخلاق اور سیاسی اقتدار کی بنیاد وحیِ الٰہی کے سوا کسی اور چیز پر استوار کی جائے۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کی بے مہار جنگیں، کلیسائی ادارۂ تفتیش و تعزیر (Inquisition) کا ظلم و عدوان، اور فرقہ وارانہ سیاست کا انتشار اُس مہیب اور تاریک تجربے کا حصہ تھے، جس نے یورپی اذہان پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ان حالات میں یورپ کے دانشوروں نے یہ حل تجویز کیا کہ معرفت، اخلاق اور اقتدار کی بنیاد وحی کے بجائے عقل پر رکھی جائے، ایسی عقل جو ’عالم گیر‘ ہو، ’معروضی‘ ہو، اور مذہب سے مکمل طور پر آزاد ہو۔یہ کوئی غیر جانب دار دریافت نہیں تھی، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی کہ مذہب، جو اجتماعی زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہوا کرتا تھا، اسے بے دخل کر کے ایک ایسے علم کو منصبِ امامت پر فائز کر دیا جائے جو بظاہر غیر جانب دار اور عالم گیر ہو۔ 

ڈیکارٹ کو جدید مغربی فلسفے کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کے افکار ایک مخصوص تاریخی بحران کا جواب تھے۔ اُس دور میں یورپ میں اسلامی تہذیب سے آنے والی علمی و سائنسی میراث نے طبیعی سائنس کو نئی سمتیں عطا کیں، مگر کلیسا کی کڑی نگرانی اور بے جا احتساب کی وجہ سے اہلِ علم کی فکری آزادی تب بھی خطرے میں تھی۔ اس خطرے سے مستقل طور پر خلاصی کے لیے ڈیکارٹ نے یہ راستہ نکالا کہ ’یقینی علم‘ کی بنیاد وحی یا روایت پر نہیں بلکہ ’عقلِ عام‘ (Common Sense) پر رکھی جائے تاکہ فرد تنِ تنہا اپنی دلیل سے آفاقی سچائی تک پہنچ سکے، اور علم کو کلیسا کی گرفت سے ایک محفوظ دائرہ مل جائے۔ وقت کے ساتھ اسی تصور نے اس تقسیم کو مضبوط کر دیا کہ ایک طرف ’دینی علم‘ ہے جس کا تعلق بس ایمان اور عبادات کے ساتھ ہے، اور دوسری طرف ’دُنیوی علم‘ ہے، جس کا دائرہ سیاست، معیشت اور سائنس پر محیط ہے۔دنیوی علم عقلِ انسانی کا خود مختار میدان قرار پایا۔ یہی دوئی(dichotomy) آگے چل کر سیکولر فکر کی بنیاد بنی، جہاں اجتماعی زندگی کے بڑے فیصلے مذہبی رہنمائی کے بجائے ’غیرمذہبی‘ عقل اور تجربے کے حوالے کر دیے گئے۔ 

اس طرح وہ نظریہ جو محض یورپ کے اپنے داخلی انتشار کے حل کے طور پر سامنے آیا تھا، تدریجاً اسے ’آفاقیت‘ کی سند مل گئی، یعنی جو مسئلہ یورپی تھا، وہ ’انسانی‘ بن گیا۔مغربی تعلیم اور پالیسی ساز اداروں کی ساکھ ہی اس تصور پر استوار ہوگئی کہ علم، خاص کر سماجی علوم، ’قدر سے عاری‘ اور ’معروضی‘ ہونے چاہییں۔ نوآبادیاتی استعمار نے پھر اس نظریے کی ترویج کی، اور مغربی تعلیمی نظام کے ذریعے دنیا کے چپے چپے پر اس فکر نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ خصوصاً معاشیات کو ایک تکنیکی سائنس کے طور پر پڑھایا گیا، یعنی ایسی سائنس جو ماورائے زمان، تہذیب و ثقافت کی قیود سے آزاد اور آفاقیت کی حامل ہے۔ 

لیکن یہ محض ایک دعویٰ اور بے بنیاد مفروضہ ہے، علمی حقیقت نہیں۔ مغربی معاشی و سماجی نظریات کے رَگ و پَے میں جو بنیادی مفروضات سرایت کیے ہوئے ہیں، جیسے انسانی خودغرضی، لذت پسندی، عقل پرستی، بے محابا مقابلہ، اور ریاست کا مخصوص کردار، یہ سب یورپ کے مخصوص اخلاقی و سیاسی تجربات کی پیداوار ہیں، نہ کہ انسانیت کی آفاقی فطرت کے یقینی حقائق۔ انھیں ’آفاقی‘ بنا کر پیش کرنے کے پیچھے خود ایک تاریخی ضرورت کارفرما رہی۔ ابتدا میں یہ دعویٰ اس لیے مفید تھا کہ نئی سائنسی و فکری کاوشوں کے لیے کلیسا کی نگرانی سے پرے ایک محفوظ میدان میسر ہو۔ بعد کے دور میں یہی دعویٰ نوآبادیاتی نظام کے لیے بھی نہایت کارآمد ثابت ہوا۔ یورپی فکر کو ’عقلِ عام‘ کا معیار قرار دے کر یہ تاثر پھیلایا گیا کہ ’غیر یورپی اقوام عقل و تدبیر میں کم تر ہیں، اس لیے ان پر حکومت کرنا اور انھیں ’مہذب‘ بنانا نہ صرف جائز بلکہ قابلِ توصیف ذمہ داری ہے‘۔ 

مگر یہ ملحوظ رہے کہ ہماری تنقید کا مقصود فی نفسہٖ عقل یا جدید علم کی نفی نہیں، بلکہ مغربی افکار کو’حتمی جواب‘ سمجھنے کے بجائے ان کو تاریخی و تہذیبی سیاق میں رکھ کر پرکھنا ہے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جائے تو اگلا نتیجہ خود بخود سامنے آتا ہے۔ سماج کی سمت متعین کرنے والے مقاصد اگر مختلف ہوں تو ان مقاصد کو پورا کرنے والے ادارے بھی لازماً مختلف ہوں گے۔ ادارے دراصل وہ عملی سانچے ہیں جن کے ذریعے کوئی معاشرہ اپنی اجتماعی ترجیحات ( عدل، فلاح، مساوات، یا محض نفع و نمو) کو حقیقت بناتا ہے۔ اسی لیے جب اسلامی اصولِ تنظیمِ معاشرہ سرمایہ دارانہ مقاصد سے مختلف ہیں تو اسلامی معیشت کے ادارے بھی مختلف ہوں گے۔  

مثال کے طور پر ’بینک‘ کا مرکزی محرک سرمائے کی بڑھوتری اور منافع کی توسیع ہے، جب کہ ’وقف‘ کا بنیادی مقصد فیاضی، خدمت اور دیرپا اجتماعی کفالت ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی تاریخ میں طویل عرصے تک ’اوقاف‘ معاشرتی زندگی کا مرکزی ستون رہے۔ ’اوقاف‘ نے تعلیم، صحت، غریبوں کی کفالت، مسافروں کی خدمت، اور شہری سہولیات تک کے لیے وہ بنیادی ڈھانچا فراہم کیا جس نے معاشرے کی تشکیل کی۔ اِس کے برعکس جدید یورپی تاریخ میں ’بینک‘ سے وابستہ ادارے ریاست، صنعت اور تجارت کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور ارتکاز کا مرکزی وسیلہ بنتے گئے، اور رفتہ رفتہ مالی نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار پائے۔ 

۵-  جدید تناظر میں اسلامی اصولوں کی تطبیق اور اجتہاد 

اگر مغربی فکر کی خرابی یہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص تاریخی تجربے کو آفاقی صداقت بنا کر پیش کرتی ہے، تو ہمارے ہاں ایک اور نوعیت کی مشکل درپیش ہے۔ وہ یہ ہے کہ شریعت کے آفاقی اصولوں کو عصرِ حاضر کے پیچیدہ معاشی اور مالیاتی مسائل پر منطبق کرنے کے لیے جدید نظامِ معیشت کی جس سطح کی سنجیدہ اور گہری تفہیم کی ضرورت ہے ، وہ ہمارے مذہبی حلقے میں کمیاب ہے۔ ’اجتہاد‘ کے لیے دینی علوم میں رسوخ ایک عمر کا تقاضا کرتا ہے، اور جدید معیشت کی تہہ در تہہ حقیقتوں کو سمجھنا بھی محض سطحی مطالعے سے ممکن نہیں۔ اسی لیے یہ میدان انفرادی کوشش سے بڑھ کر اجتماعی، فکری اور ادارہ جاتی کاوش کا طالب ہے۔  

اسلامی شریعت کی رہنمائی اپنی اصل میں آفاقی ہے۔ عدل، امانت، حقوق و فرائض، فلاحِ عامہ اور ظلم کی حرمت جیسے اصول ہر زمانے میں معتبر چلے آرہے ہیں، مگر ان اصولوں کا درست نفاذ حالات، وسائل اور سماجی ساخت کی حقیقی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے سلف نے ہردور میں اپنے زمانے کے نئے مسائل کو سامنے رکھ کر ’اجتہاد‘ کیا، یعنی پہلے درست صورتِ مسئلہ کی تشخیص کی ، پھر شریعت کے اصولوں کی روشنی میں اس کا حل تجویز کیا۔ آج بھی اصل ضرورت یہی ہے کہ جدید نظامِ معیشت کی حقیقت اور ساخت کو سمجھا جائے، تاکہ شرعی اصولوں کی تطبیق محض ظاہری مشابہت کے بجائے مضبوط اور بامعنی بنیاد پر ہو سکے۔ 

اس فرق کو ’حج‘ کی مثال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ شریعت ’حج‘ کے مناسک متعین کرتی ہے، یعنی احرام، طواف، سعی، وقوفِ عرفہ وغیرہ___ مگر ان مناسک تک پہنچنے اور انھیں ادا کرنے کے انتظامات ہر دور میں بدلتے رہے ہیں۔ آج کا پاکستانی حاجی آن لائن رجسٹریشن، بینک ادائیگی، سفری و سرکاری دستاویزات، ویزہ و کوٹہ سسٹم، اور بین الاقوامی سفر کے پیچیدہ نظام سے گزر کر ہی حرمین تک پہنچتا ہے۔ یہ امور مناسک کا حصہ نہیں، لیکن موجودہ دور میں انھی کے ذریعے حج عملاً ممکن ہوتا ہے۔ فقہ نے ہمیشہ مقاصد اور ذرائع میں امتیاز قائم رکھا ہے، جو اس امر کا غماز ہے کہ شریعت کے آفاقی احکام کے درست اطلاق کے لیے عصرِ حاضر کے نظاموں اور وسائل کو سمجھنا ناگزیر ہے۔  

یہاں ایک اور بنیادی فرق کا ادراک بھی ضروری ہے۔ طبیعیات اور دیگر طبیعی علوم (Natural Sciences) میں درسی کتابیں عموماً ایسے علم تک لے جاتی ہیں، جس کے نتائج دنیا بھر میں یکساں طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔ ان علوم کی بنیاد اُن خارجی مظاہر پر ہے، جن کے باہمی تعلقات بڑی حد تک مستقل رہتے ہیں، اور انھی کی بدولت ایسی ٹکنالوجی وجود میں آتی ہے، جو ہماری روزمرہ زندگی پہ براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید سماجی علوم بالخصوص معاشیات کو بھی اسی سائنسی ہیئت کے ساتھ ’قدرسے ماورا‘ اور ’آفاقی‘ بنا کر پیش کیا گیا، حالاں کہ ان کے عملی نتائج اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ دنیا آج بھی نہ ختم ہونے والی جنگوں، بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواریوں، معاشی بحرانوں، اور انسان، معاشرہ اور ماحول پر بڑھتے دباؤ کا شکار ہے۔ 

 یہی وجہ ہے کہ مسلمان اہلِ علم کے لیے جدید معاشیات کو سمجھنے کا مطلب صرف درسی ماڈلز اور اصطلاحات یاد کرنا نہیں، بلکہ ان نظریات کے تاریخی پس منظر اور کارفرما مفروضات کو پہچاننا بھی ہے، تاکہ اپنی معیشت اور اپنے مسائل کو دوسروں کے مخصوص تاریخی تجربات سے اخذ کردہ نام نہاد ’آفاقی قواعد‘ کے بجائے اپنے سماجی حقائق اور شریعت کے مقاصد کی روشنی میں سمجھا اور سنوارا جاسکے۔(جاری) 

’’ان شاہی خاندانوں کو دیکھیے جو زبردستی اپنی طاقت کے بل بوتے پر امتیازی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنے لیے وہ عزّت، وہ ٹھاٹھ، وہ آمدنی، وہ حقوق اور وہ اختیارات مخصوص کر رکھے ہیں جو دوسروں کے لیے نہیں ہیں۔یہ قانون سے بالاتر ہیں، ان کے خلاف کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا، یہ چاہے کچھ کریں، ان کے مقابلے میں کوئی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی، کوئی عدالت ان کے نام سمن نہیں بھیج سکتی‘‘۔(سلامتی کا راستہ،ص ۱۹) 

بادشاہوں کو حاصل استثنا کے بارے میں مولانا مودودیؒ کے کہے گئے اِن الفاظ پر ۸۵سال کا عرصہ بیت چکا۔ بادشاہوں پر نفرین بھیجنے والے ثناخوانِ تقدیس مغرب نے جمہوریت، آزادی اور مساوات کے تصورات کو روندا۔ انسانیت کو ملکوں میں خود تقسیم کرنے والوں نے جمہوریت کاشت کرنے کے نام پر انھی ملکوں کی سرحدوں کو بار بار پامال کیا۔ پھر اقوام متحدہ کے فیصلہ ساز ادارے سلامتی کونسل کےپانچ مستقل ممبر ممالک کو تاحیات یہ اختیار دے دیا کہ اگر اقوام متحدہ کے تقریباً سو ممالک کے ممبران ایک متفقہ قراراداد پاس کردیں،پھر سلامتی کونسل کے اجلاس میں مستقل اور غیر مستقل پندرہ ممبران میں سے چودہ اس کی حمایت کردیں تو بھی صرف ایک مستقل ممبر کا ویٹو انتہائی ڈھٹائی سے ساری محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔ 

الہامی تقدیس کو چیلنج کرنے والے آزاد خیالوں نے یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے نظریئے کو یہ تقدیس بخشی کہ کوئی محقق یا صحافی ہٹلر کے ہاتھوں ۶۰ لاکھ یہودیوں کے قتل کی مبالغہ آرائی پر تنقیدی سوال اُٹھائے تو اس کی جگہ مغربی ممالک کی آزاد فضا نہیں، جیل ہے۔ قانونی مساوات اور قانون کی حکمرانی کے علَم برداروں اور ان کے مقامی خوشہ چینوں نے صدورِ مملکت کو یہ اختیار دیا کہ جب طویل عدالتی عمل کے بعد کوئی قتل کی سزا کا حق دار قرارپا جائے تو صدر مملکت اس قاتل پر ترس کھاتے ہوئے اس کی سزا معاف کرسکیں، یعنی مقتول کے وارثوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کا اختیار۔ حد یہ کہ ’ووٹ کو عزّت دو‘ اورجمہوریت، جمہوریت کا راگ الاپنے والی پارٹیاں اور شخصیات صدر اور طاقت ور اداروں کو قانون سے بالاتر رہنے کا تاحیات استثنا دے دیں تو یہ بات جمہوریت اور انسانیت نوازی کے علَم برداروں اور اسلام کی سربلندی کی خواہش رکھنے والے دونوں طبقات کی فکرمندی کا موضوع بننا چاہیے۔ 

تاحیات استثنا حاصل کرنے والی یہ شخصیات ہوں یا ممالک،کیا ان کے اس مرتبے پر پہنچ جانے کے بعد وہ تزکیۂ نفس اور سلوک کی اتنی منزلیں طے کرجاتے ہیں کہ ان کے دل سے تعصبات، محبت و نفرت کے جذبات، حُب ِ مال و اولاد اور انتقامی جذبات کا گزر ہی نہیں ہوتا ہے۔ سیکولرز کو تو اس کوچے کی خبر ہی نہیں اور نہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں ، جب کہ اہل ایمان کے ہاں بھی یہ مقام صرف ایک ہی ہستی کو حاصل ہے لیکن اس ہستی نے تو استثنیٰ کو اُمتوں کی ہلاکت کا سبب قرار دیا۔ 

چوری کے ایک مقدمہ کے فیصلہ پر جب رسولؐ اللہ کو سفارش کی گئی توآپؐ نے فرمایا:  

تم سے پہلی اُمتیں اس وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں کہ جب ان کا کوئی بااثر آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کمزور آدمی جرم کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔یہ تو فاطمہ مخزومی ہے، اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔ (بخاری  و مسلم) 

بادشاہوں نے تو اپنی تقدیس کے نام پر قانونی چور دروازے رکھے تھے لیکن جمہوریت اپنے دعوے کے مطابق کسی تقدیس کو نہیں مانتی، تو پھر آج قانونی استثنا کا کیا جواز ہے؟ طاقت ور اور کمزور اور حاکم اور محکوم کے درمیان برابری کا قیام ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ جب یہ برابری گم ہوجاتی ہے تو گویا حق، طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ یوں عوام کی نظروں میں قانون کی تقدیس اور حکمرانوں کا احترام بھی مجروح ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً عدل و انصاف لوگوں کے درمیان نایاب ہوجاتا ہے حالانکہ لوگوں کو عدل پر قائم رکھنا تمام الہامی کتابوں اور انبیاؑکی بعثت کا مقصود ہے: 

وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ (الحدید۵۷:۲۵) اور ہم نے نبیوں کے ساتھ کتاب اور میزان اُتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ 

قرآن کے مطابق تو عدل کی زد میں اگر تم خود بھی آتے ہو تو بھی اس سے پہلوتہی نہ کرو۔ استثنا حاصل کرنے والا تو دوسروں کی گواہی کا راستہ بند کرنے ولا ہوتا ہے: 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور انصاف کے گواہ بن کر کھڑے رہو چاہے تمھارے انصاف اور گواہی کی زد خود تمھاری ذات، تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ مال دار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل کا دامن نہ چھوڑو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلوتہی کی تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔(النساء۴: ۱۳۵)  

قرآن کے مطابق غیر مشروط اطاعت کا حق صرف اللہ اور اُس کے رسولؐ کے لیے ہے، کسی حکمران کے لیے نہیں کیونکہ غلطی،کمزوری اور کجی سے پاک حکم صرف اللہ اور اس کے رسولؐ ہی کا ہوسکتا ہے: 

اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور اُن لوگوں کی جو تمھارے امیر ہوں۔ پھر اگر تمھارے درمیان تنازعہ ہوجائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف لوٹائو۔ (النساء۴:۵۹)  

گویا اُولی الامر کے بنائے گئے قانون اور نافذکیے گئے فیصلے کو اللہ اور رسولؐ کے حکم کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔ ’اللہ اور رسولؐ کی طرف لوٹانے‘سے مراد یہ ہے کہ آئینی طور پر قانون کے سامنے حاکم اور محکوم برابر ہیں۔ 

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکم و محکوم میں برابری کی مثالیں قائم کی ہیں۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن صحابہؓ کی صفیں جنگ کے لیے سیدھی کر رہے تھے۔ آپؐ کے ہاتھ میں تیر تھا جس سے آپؐ لوگوںکی صفوں کو برابر کر رہے تھے۔ آپؐ جب سوادؓ بن غزیہ کے پاس سے گزرے اور انھیں صف سے آگے پایا تو آپؐ نے ان کے پیٹ پر تیر کو چبھوتے ہوئے کہا:’’سواد سیدھے ہوجائو‘‘۔ انھوں نے کہا:’’یارسولؐ اللہ! آپؐ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ اللہ نے تو آپؐ کو حق اور عدل کے ساتھ بھیجا ہے، آپؐ مجھے بدلہ دیں‘‘۔ 

یہ سن کر آپؐ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا اور کہا: ’’لو بدلہ لے لو‘‘۔ 

یہ دیکھ کر سواد بن غزیہ نے آپؐ کے شکم مبارک کے بوسے لینے شروع کر دیئے اور بتایا کہ میرا مقصد آپؐ کے جسم سے مَس کرنا ہی تھا۔ (سیرت ابن ہشام، ۱/۶۲۶، البانی: سلسلہ احادیث صحیحہ، ۶/۳۳۴) 


حاکم اور محکوم کے درمیان مساوات کے قیام کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امیر کی زیادتی پر اس سے عوام کو بدلہ لینے کا حق دیا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکوٰۃ جمع کرنے بھیجا۔ اس مسئلہ پر ایک آدمی سے ان کی تکرار ہوگئی۔ ابوجہمؓ نے اس کی پٹائی کی جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ اس کے اہل قبیلہ رسولؐ اللہ کے پاس آئے اور کہا: یارسولؐ اللہ! ہمیں بدلہ چاہیے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ بدلے میں اتنا مال لے لو مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ آپؐ نے مال بڑھا کر کہا کہ اتنا لے لو لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے۔  پھر فرمایا کہ اتنا مزید لے لو تو وہ راضی ہوگئے۔ اب رسولؐ اللہ نے خطبہ دیا کہ قبیلہ لیث کے یہ لوگ میرے پاس بدلہ لینے کے لیے آئے تو میں نے انھیں اتنی پیش کش کی تو وہ راضی ہوگئے۔ اب آپؐ نے ان سے پوچھا: ’کیا تم راضی ہوگئے؟‘ انھوں نے کہا:’نہیں‘۔ یہ سن کر مہاجرین انھیں مارنے کے لیے لپکے تو رسولؐ اللہ نے انھیں روک دیا اور بنولیث کو تاوان میں مزید اضافے کی پیش کش کی اور پوچھا کہ ’اب تو راضی ہو نا؟‘ تو انھوں نے کہا: ’جی ہاں‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’میں لوگوں کو خطاب کر کے تمھاری رضامندی کی خبر دے دوں؟‘ انھوں نے کہا: ’جی ہاں‘۔ اب حضورؐ نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا: ’کیا تم راضی ہو؟‘ ان لوگوں نے کہا: ’ہاں‘۔ (سنن ابوداؤد، ۶/۵۹۲) 


دُنیاوی زندگی کے آخری ماہ صفر کے آخری عشرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کریں۔ لوگوں کے جمع ہونے پر آپؐ نے فرمایا:’یامعشرالمسلمین! میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اور تم پر میرا جو حق ہے، اس کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری جانب سے کسی آدمی کی حق تلفی ہوئی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کھڑا ہوجائے اور مجھ سے اس تکلیف کا قصاص لے لے۔مجمع دم بخود بیٹھا رہا۔ آپؐ نے دوبارہ پکار کر کہا:لیکن مکمل خاموشی۔ تیسری مرتبہ پھر فرمایا: ’’میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ میری طرف سے جس شخص کی حق تلفی ہوئی ہو، اسے چاہیے کہ وہ مجھ سے دُنیا میں ہی قصاص لے لے ، قیامت کے دن قصاص لینے سے پہلے پہلے‘‘۔ 

اب مجلس کے ایک سرے سے عمررسیدہ عکاشہؓ اُٹھے اور منبر رسولؐ کے سامنے پہنچ کر بولے: ’’میرے ماں باپ آپؐ پر فدا، اگر آپؐ نے بار بار ہمیں قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی یہ اقدام نہ کرتا۔ بات یہ ہے کہ ایک غزوہ میں فتح سے ہمکنار ہوکر آپؐ واپس آرہے تھے تو راستے میں ایک جگہ میری اُونٹنی آپؐ کی اُونٹنی کے آگے آگئی تو مَیں اُونٹنی سے نیچے اُتر پڑا اور آپؐ کے قدم چُومنے کے لیے آپؐ کے قریب ہوا تو آپؐ نے اپنی قضیب (لاٹھی) میرے پہلو پر ماری تھی۔ نہیں معلوم آپؐ نے جان بوجھ کر مجھے ماری تھی یا آپؐ اُونٹنی کو مارنا چاہتے تھے جو کہ مجھے لگ گئی‘‘۔ 

عکاشہؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمھیں اللہ کے جلال سے پناہ دیتا ہوں ، اللہ کے رسولؐ نے جانتے بوجھتے تمھیں مارا تھا‘‘۔ اب آپؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ حضرت فاطمہؓ کے گھر سے آپؐ کی قضیب لے آئے۔ 

بلالؓ نے قضیب لا کر رسولؐ اللہ کو تھما دی اور آپؐ نے وہ قضیب عکاشہؓ کے ہاتھ میں دے دی۔ حضرت عکاشہؓ نے عرض کیا: ’’یارسولؐ اللہ! جب آپؐ نے مجھے مارا تھا تو میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا‘‘۔ عکاشہؓ کی بات سن کر اللہ کے رسولؐ نے اپنے بطن اَقدس سے قمیض اُتار دی۔ سورج کی روشنی میں جسم مبارک یوں چمک رہا تھا جیسے صاف شفاف سفید قباطی کپڑے کی چمک ہو۔ 

عکاشہؓ بے تابانہ شکم مبارک کی طرف جھکے اور فرطِ عقیدت سے اس کے بوسے لینے لگے اور کہنے لگے: ’’آپؐ پر میرے ماں باپ قربان،کون یہ طاقت رکھتا ہے کہ آپؐ سے قصاص لے‘‘۔ 

 حضوؐر پھر بھی فرما رہے تھے:’’عکاشہؓ! تمھیں اختیار ہے، قصاص لو یا مجھے معاف کر دو‘‘۔ 

حضرت عکاشہؓ نے کہا: ’’میں نے معاف کر دیا اس اُمید پر کہ مجھے اللہ قیامت کے دن معاف فرمائے گا‘‘۔ 

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’یامعشر المسلمین! تم میں سے جو یہ چاہتا ہے کہ وہ جنّت میں میرے ہم نشین کو دیکھے، اسے چاہیے کہ وہ اس مردِ بزرگ کو دیکھ لے‘‘۔(المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: ۲۶۸۶) 

تریسٹھ سالہ زندگی کے آخری دنوں میں بھی اللہ کے رسولؐ اپنی ذات کے لیے کسی استثنا کے طلب گار نہ تھے۔مصنف عبدالرزاق ابتدائی کتب حدیث میں سے ہے، اس میں ایک باب ہے: قود النبی من نفسہ (نبیؐ کا اپنی ذات سے بدلہ دینے کا باب) اور دوسرا باب ہے: باب القود السلطان (سلطان سے بدلہ لینے کا باب) ہے۔(المصنف، ۹/۴۶۲-۴۶۵) 


 

اپنے دستوری مفہوم میں ا س سے مراد ہے شریعت اسلامی کے سامنے حاکم و محکوم کی برابری۔ گویا کسی کو کسی پر کوئی استحقاق حاصل نہیں ہے۔ مؤخرالذکر باب میں حضرت عمرؓ کا ایک اثر بیان ہوا ہے۔ 

حبیب بن صہبان راوی ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ کو یہ کہتے سنا: ’’مسلمانوں میں سے کسی کے لیے اللہ کی حد میں گھسنا جائز نہیں ہے، اِلا یہ کہ کوئی شرعی سزا اس کی اجازت دے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ان کی بغل کی سفیدی کو دیکھا جب وہ کھڑے اپنے آپ سے بدلہ دلوا رہے تھے۔(المصنف عبدالرزاق، ۹/۴۶۴) 

حضرت عمرؓ نے سنت نبویؐ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے گورنروں سے بھی بدلہ دلوایا۔ 

عطا سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے گورنروں کو حج کے موقع پر جمع ہونے کا فرمان جاری کیا۔ جب عوام الناس جمع ہوگئے تو انھیں خطاب کیا: ’’لوگو! میں نے اپنے ان گورنروں کو تم پر حق کے ساتھ والی بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے انھیں اس لیے نہیں مقرر کیا کہ وہ تمھاری کھال ادھیڑیں یا تمھارے خون سے ہاتھ رنگین یا تمھارے مال پر دست درازی کریں۔ اگر تم میں سے کسی کا ان میں سے کسی کے خلاف ظلم کا کوئی دعویٰ ہو تو وہ کھڑا ہوجائے۔ اس دن کوئی نہیں کھڑا ہوا سوائے ایک شخص کے۔ اس نے کہا: امیرالمومنین ! آپ کے گورنر نے مجھے ظلماً سو کوڑے مارے ہیں۔حضرت عمرؓ نے تحقیق کے بعد اسے کہا: اُٹھو اور تم بھی بدلے میں اسے سو کوڑے مارو۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاصؓ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا: امیرالمومنین!اگر آپ ؓ گورنروں کے خلاف یہ دروازہ کھول دیں گے تو یہ بات ان پر گراں گزرے گی اور یہ ایک دستور بن جائے گا جسے آپؓ کے بعد والے بھی اختیار کریں گے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: کیا میں اس سے بدلہ نہ دلائوں ، جب کہ میں نے اللہ کے رسولؐ کو اپنی ذات سے بدلہ دلاتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر مدعی کو کہا: اُٹھو اور بدلہ لو۔  اب عمرو بن عاصؓ نے کہا: تو پھر ہمیں اس آدمی کو راضی کرنے کا موقع دیں۔ عطا کہتے ہیں: اُن لوگوں کو ہر کوڑ ےکے بدلے میں دو دینار کے حساب سے دو سو دینار لینے پر راضی کرلیا گیا۔(ابویوسف، کتاب الخراج، ۳/۸۰۶، طبقات ابن سعد، ۳/۲۱۱) 


حضرت انسؓ راوی ہیں کہ مصر کے ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ گورنر مصر حضرت عمروؓ بن عاص کے بیٹے سے دوڑ میں وہ آگے نکل گیا تو گورنر کے بیٹے نے کوڑوں سے بے تحاشا اس کی پٹائی کر دی۔ حضرت عمرؓ نے عمروؓ بن عاص کوبیٹے سمیت مدینہ حاضرہونے کو لکھا۔ ان کے آنے پر آپؓ نے مصری کو حکم دیا کہ وہ عمرو کے بیٹے کو کوڑے مارے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اس مصری نے حضرت عمرو کے بیٹے کو خوب پیٹا اور ہم بھی چاہتے تھے کہ وہ اسے خوب پیٹے۔ (کنز العمال، ۶/۳۵۵) 


عبداللہ بن عمرو بن عاص راوی ہیں کہ جمعہ کے دن خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر نے کہا کہ جب صبح ہو تو تم صدقہ کے اُونٹ ہمارے پاس لے آئو، ہم انھیں تقسیم کریں گے اور اجازت کے بغیر کوئی آدمی ہمارے پاس نہ آئے۔ ایک آدمی کو اس کی بیوی نے خالی نکیل تھماتے ہوئے کہا کہ یہ نکیل لے جائو، شاید اللہ ہمیں بھی کوئی اُونٹ دے دے۔ صبح جب ابوبکرؓو عمرؓاُونٹوں میں داخل ہورہے تھے تو یہ آدمی بھی ان دونوں کے ساتھ داخل ہوگیا۔حضرت ابوبکرؓ نے اسے دیکھ کر کہا کہ تم ہمارے پاس کیوں آگئے؟ اس کے ساتھ اس کے ہاتھ سے نکیل چھین کر اسے ماری۔ جب اُونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو اس آدمی کو بلایا اور اس کی نکیل اسے تھماتے ہوئے کہا: تم اپنا بدلہ لے لو۔ حضرت عمرؓ نے یہ دیکھ کر کہا: آپ اسے دستور نہ بنائیں۔حضرت ابوبکرؓ نے کہا :مجھے قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا؟حضرت عمرؓ نے کہا: آپؓ اسے کچھ دے کر راضی کرلیں۔  

حضرت ابوبکرؓ نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس ایک اُونٹ، کجاوہ، ایک کمبل اور پانچ دینار لائے۔ چنانچہ یہ سب کچھ دے کر اس آدمی کو راضی کیا۔ (بیہقی، کنز العمال،۳/۱۲۷) 


حضرت امام شعبی راوی ہیں کہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابی ؓبن کعب کے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں جھگڑا ہوگیا۔ دونوں نے باہمی رضامندی سے حضرت زیدؓ بن ثابت کو اپنا ثالث تسلیم کرلیا۔ حضرت زیدؓ کے پاس پہنچ کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہم نے اپنے ایک جھگڑے میں آپ کو ثالث تسلیم کیا ہے اور میں امیرالمومنین ہوکر خود آپؓ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ دستور ہے کہ فیصلہ کرانے والے خود ثالث کے گھر چل کر آیا کرتے ہیں۔ 

جب دونوں حضرت زیدؓ کے ہاں اندر داخل ہوئے تو حضرت زیدؓ نے اپنے بستر کے سرہانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کو کہا کہ یہاں تشریف رکھیں۔ 

اس پر حضرت عمرؓ نے زیدؓ سے کہا کہ یہ تمھاری پہلی ناانصافی ہے۔ میں اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ مراد یہ کہ عدالت میں بحیثیت خلیفہ میں کسی پروٹوکول کا حق دار نہیں ہوں۔ 

اب حضرت اُبی بن کعبؓ نے اپنا دعویٰ پیش کیا جس کا حضرت عمرؓ نے انکار کیا۔ اب شرعی لحاظ سے انکار کرنے والے (حضرت عمرؓ) کے ذمے قسم آتی تھی۔ اس کے پیش نظر حضرت زیدؓ نے حضرت اُبیؓ سے کہا: آپ امیرالمومنین کو قسم کھانے کی زحمت نہ دیں لیکن حضرت عمرؓ نے اس رعایت کو قبول نہ کیا اور قسم کھائی اور کہا: زیدؓ! صحیح قاضی تب بن سکتے ہیں جب ان کے نزدیک عمرؓ (خلیفہ) اور ایک عام مسلمان برابر ہوں‘‘۔ (بیہقی، ابن عساکر، کنزالعمال، ۳/۱۷۴) 


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی یہ مثالیں اور ایسے بیسیوں واقعات جو طوالت کے باعث رقم نہیں کیے جاسکتے، اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام میں کسی حکمران یا کسی ریاستی ادارے کو کوئی قانونی استثنا حاصل نہیں ہے اور نہ یہ شریعت اسلامی کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ اسلام کی تبلیغ و اشاعت ہو یا اس کی برکات کا اظہار، وہ مساوات انسانی، حُریت فکروعمل کے فروغ اور عدل و انصاف کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’مجلس السلام‘ (Board of Peace) [جسے ’ٹرمپ دھونس بورڈ‘ بھی کہا جاسکتا ہے] کو عالمی سطح پر ’امن کے فروغ‘ اور غزہ کی جنگ کے بعد ’صلح و بحالی کے عمل‘ کے لیے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس کا اعلان ’ورلڈ اکنامک فورم‘، ڈیوس میں کیا گیا، جہاں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، انڈونیشیا، مراکش، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ارجنٹینا اور اسرائیل سمیت تقریباً انیس ممالک نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ حکومتی بیانات کے مطابق ’مجلس السلام‘ کا ابتدائی مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور ایک عارضی نظمِ حکمرانی کا قیام ہے، جب کہ بعد ازاں اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، منطق، عملیت اور بین الاقوامی سیاسی حقیقت کے تناظر میں یہ منصوبہ آغاز ہی سے ناکامی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔ 

  • قیادت اور شمولیت_____محدود اور منقسم:مجلس السلام کی تشکیل میں سب سے نمایاں مسئلہ اس کی محدود اور منقسم شمولیت ہے۔ کئی مؤثر مغربی ممالک اس میں شرکت سے ہچکچاتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا اور بعض دیگر بڑی ریاستوں نے یا تو شرکت سے انکار کیا یا شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا، جس سے اس ادارے کی عالمگیریت، ساکھ اور غیر جانب داری مشکوک ہو جاتی ہے۔ ایک ہمہ گیر عالمی فورم کے بجائے یہ مجلس امریکا کے زیرِ اثر ایک محدود سیاسی جتھے (Cluster) کا تاثر دیتی ہے، جس میں چندعلاقائی طاقتیں شامل ہیں۔ 
  • اقوامِ متحدہ کے کردار پر سوالات:اگرچہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ مجلس السلام اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں، تاہم تاسیسی خطاب میں اقوامِ متحدہ پر یہ کہہ کر تنقید کی گئی کہ ’یہ ادارہ کہیں اور کبھی بھی مؤثر امن قائم نہ کر سکا‘۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مجلس السلام دراصل اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے اور غزہ کے مستقبل پر امریکی بالادستی قائم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے متوازی یا اس سے بالا ایک عالمی ڈھانچا تشکیل دینا طویل عرصے سے اسرائیلی پالیسی سازی کا بھی حصہ رہا ہے، جس سے اس منصوبے کے پس پردہ محرکات مزید واضح ہو جاتے ہیں۔ 
  • امریکی بالادستی کا تاثر:مجلس السلام کے کلیدی اختیارات عملاً امریکی صدر کے ہاتھ میں ہوں گے۔ رکن ممالک کی شمولیت یا برطرفی، فیصلوں کی حتمی منظوری اور مالی وسائل کے استعمال پر بھی فیصلہ کن اختیار واشنگٹن کو حاصل رہے گا۔ اس صورتِ حال میں مجلس السلام ایک آزاد اور غیر جانبدار عالمی ادارے کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کے توسیعی آلے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ 
  • امتیازی رویہ:مجلس السلام کے مسودۂ میثاق کے مطابق یہ ادارہ غزہ کو غیر مسلح بنانے، عبوری نظم و نسق قائم کرنے اور تعمیرِ نو کی نگرانی کرے گا۔ اس نکتے پر نیویارک کے میئر زہران ممدانی کا مؤقف خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ ان سے انتخابی مہم کے دوران پوچھا گیا کہ آیا وہ غزہ کے مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے حامی ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر واقعی امن مطلوب ہے تو اسرائیل اور مزاحمت کار، دونوں کو ہتھیار رکھنے چاہئیں، کیونکہ ہتھیار اور پائیدار امن بیک وقت نہیں چل سکتے‘‘۔ 

تاہم مجوزہ منصوبے میں اسرائیل سے فوجی انخلا یا اسلحہ محدود کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ایسی صورت میں تنازعے کا ایک فریق غیر مسلح ہونے پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے ، جب کہ دوسرا فریق مکمل عسکری طاقت کے ساتھ بدستور موجود رہے؟ مزید یہ کہ غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں مزاحمت کاروں کو فنا کرنے کی دھمکیاں بھی اسی بیانیے کا حصہ ہیں، جو کسی طور پر امن سازی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ 

  • سیاسی تعمیر کی خامیاں:امن محض دستاویزوں، دستخطوں اور نمائشی تقریبات سے وجود میں نہیں آتا۔ اگر مجوزہ حل سیاسی، سماجی اور انسانی حقیقتوں کا مکمل ادراک نہ رکھتا ہو تو وہ کاغذی اعلانات سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ غزہ کے معاملے میں زمینی تباہی، امداد کی عدم بحالی، شدید انسانی بحران اور حقیقی سیاسی نمائندگی جیسے بنیادی سوالات مجلس السلام کے آئینی ڈھانچے میں واضح نہیں۔ 
  • مالی و تنظیمی ڈھانچا ___ ناکامی کے آثار: مجلس السلام کی رکنیت کے لیے فی ملک ایک ارب ڈالر کی شرط بھی اس ادارے کو عوامی سطح پر غیر جاذب بناتی ہے۔ اس نوعیت کا مالی اور اختیاراتی ڈھانچا نہ تو عالمی عوامی اعتماد پیدا کر سکتا ہے اور نہ حقیقی امن سازی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مجلس کی موجودہ صورت گری دیکھ کر چشم تصور میں ایک نمائشی ادارے کا ہیولا اُبھرتا ہے، جس کا مقصد عملی امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے امن کی تعبیر قائم کرنا ہے ۔ 
  • امن یا پروپیگنڈا؟:بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کے متعدد ماہرین اس پیش رفت کو امن کے بجائے طاقت کے اظہار اور ایک نئے عالمی سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ مجلس السلام ایک جامع اور شمولیتی (Inclusive) ادارے کے بجائے سفارتی اور داخلی سیاسی مفادات کے حصول کا آلہ بن جائے گی۔ 
  • مسلم بلاک___ نہ پائے رفتن ، نہ جائے ماندن  :پاکستان سمیت بعض مسلم ممالک کی شمولیت پر خود عالمِ اسلام میں سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسی مجلس میں شمولیت، جس کے فیصلے ایک ایسے فرد کے تابع ہوں جو کھلے عام غزہ کو جہنم بنانے اور اہلِ غزہ کو فنا کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہو، مسلم اور عرب عوام کے لیے کسی طور قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ 

غزہ میں جنگ بندی یا جنگ کی تیاری ؟ 

اہلِ غزہ نے رمضان المبارک کے انتظار کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں رجب کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ طویل عرصے کے بعد بارش اور اَبر آلود موسم کا سلسلہ تھما تو ۳ جنوری کی رات، چودھویں کا چاند تباہ حال پٹی پر پوری آب و تاب سے جگمگایا۔ مکمل تاریکی کے باعث اہلِ غزہ نے ماہِ کامل کا بڑے اشتیاق سے نظارہ کیا۔ملبے پر کھڑے بچوں سے جب ایک صحافی نے پوچھا: ’’چاند کو دیکھتے ہوئے تم زیر لب کیا کہہ رہے تھے؟‘‘، تو ایک لڑکے نے کہا:’’میں تاریک غزہ پرروشنی بکھیرنے والے چاند سے کہہ رہا تھا کہ دنیا بہری ہو چکی ہے۔  اے خوب صورت اور روشن چاند! تو ہی ہماری فریاد اپنے اور ہمارے خالق و مالک تک پہنچا دے‘‘۔ 

  • وحشی اسرائیل، تعلیم سے خوفزدہ : اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے مطابق غزہ کے لیےامدادی سامان کی جانچ پڑتال کے دوران اسکولوں کے لیے آنے والی نصابی کتب پر اسرائیل نے مکمل پابندی لگارکھی ہے۔ یونیسیف کے ترجمان کاظم ابوخلف نے کہا: ’’درسی کتب کے ساتھ کاپیاں، کاغذ،ربڑ، پنسل، مارکر تک لانے کی اجازت نہیں‘‘۔ غزہ میں اسکولوں اور اساتذہ کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ تقریباً تمام تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے، مگر زندہ دل و حوصلہ مند فلسطینیوں نے خیموں میں اسکول قائم کر کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ صبح سویرے اسکول جاتے بچے گولیوں کے خطرے کا سامنا کرتے ہیں، مگر وہ سینہ تان کر نکلتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ظالموں کو سب سے زیادہ خطرہ تعلیم سے ہے، کیونکہ تعلیم سوال کرنا سکھاتی ہے۔ 
  • جنگ بندی یا جنگ کی تیاری؟ : ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ خود کو ’غزہ امن‘ کا علَم بردار ظاہر کر رہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل ایک نئے حملے کے لیے امریکی پشت پناہی کا منتظر ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے مارچ میں نئے اور شدید فوجی آپریشن کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن میں غزہ شہر کو نشانہ بنانے والی ایک بڑی زمینی کارروائی شامل ہے۔ 

اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی حد، یعنی ییلو لائن کو مزید مغرب کی جانب، ساحلی پٹی کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ غزہ کے مزید رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ یہ معلومات ایک اسرائیلی عہدے دار اور ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ مذکورہ عرب سفارت کار کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ واشنگٹن اکتوبر ۲۰۲۵ء میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے سائے میں فوجی نقشے تیار کیے جا رہے ہیں۔یہ اطلاعات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کی عکاس ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے نزدیک جنگ بندی کسی مستقل امن کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہیں کہ اصل ہدف امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔ 

  • تولیدی نسل کُشی: انسانی حقوق کے کارکن اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین غزہ میں جاری قتلِ عام کے ساتھ ایک اور نہایت سنگین جرم کی نشاندہی کر رہے ہیں، جسے Reproductive Genocide یعنی ’تولیدی نسل کُشی‘ کہا جا رہا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے کسی قوم کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت، ماؤں کی صحت اور آئندہ نسلوں کے وجود کو عملاً تباہ کر دیا جائے۔ اس الزام کی بنیاد چند تلخ حقائق پر ہے:m زچگی وارڈز اور تولیدی صحت کے مراکز کی منظم تباہی m حاملہ خواتین کو بنیادی طبی سہولتوں کے بغیر ولادت پر مجبور کرناm نوزائیدہ بچوں کی  غذائی قلت اور سردی سے بڑھتی ہلاکتیں m ایسا محاصرہ جو ماں اور بچے دونوں کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ محض زندہ لوگوں پر حملہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے راستے بند کرنے کا عمل ہے۔اور ساری دنیا اس عمل کو خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ 
  • غربِ اُردن یا وادیِ گھٹن: غرب اُردن (West Bank) میں بڑے پیمانے پر پکڑدھکڑ جاری ہے۔ گذشتہ ہفتےخاتون صحافی اناس اخلاوی کو گرفتار کرلیا گیا۔ تلکرم سے ایک ۱۵سالہ بچے کو بھی اسرائیلی فوجی پکڑ کر لے گئے۔ جامعہ بیرزیت طلبہ یونین کی جانب سے غزہ میں جاں بحق ہونے والی بچی ہند رجب کے آخری لمحات پر مبنی دستاویزی فلم کی نمائش کا اہتمام کرنے پر اسرائیلی فوج مرکزی دروازہ توڑ کر کیمپس میں داخل ہو گئی اور طلبہ و اساتذہ پر تشدد کیا۔  
  • عالمی فوج کی تعیناتی : اسرائیلی بدنیتی کے تناظر میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک غزہ سمیت کسی بھی بیرونی محاذ پر فوج نہیں بھیجے گا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے مشیر سلامتی خلیل الرحمان نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF)میں شمولیت میں اصولی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ 
  •  بمباری کا نہ رُکنے والا سلسلہ: جمعہ، ۲ جنوری کی صبح وسطی غزہ کے مغازی کیمپ پرزبردست بمباری سے بچوں سمیت ۱۳؍افراد شہید اور درجنوں شدید زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ کئی روز سے بارش اور مطلع اَبرآلود رہنے کے بعد اسی دن دھوپ نکلی تھی۔ لیکن یہ روشن صبح خون کے چھینٹوں کے ساتھ آہوں اور سسکیوں میں ڈھل گئی۔ 
  • درندگی کی قیمت: بمباری و فوج کشی کی اہل غزہ و غربِ اردن بھاری قیمت ادا کررہے ہیں، لیکن اس کے اثرات سے خود اسرائیل بھی محفوظ نہیں۔اسرائیلی فوج کا شعبہ بحالیِ معذوراں (Rehabilitation Department)شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مزدور یونین ’ہسٹڈرٹ‘ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں معذور ہونے والوں کی تعداد تقریباً ۸۲ ہزار تک پہنچ چکی ہے، جب کہ ہرماہ اوسطاً ۱۵۰۰ نئے افراد رجوع کر رہے ہیں۔جنگی جنون و ہیجان سے خود اسرائیلیوں کے مابین عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے۔ گذشتہ دنوں لازمی فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے حفظ توریت مدارس (Yeshiva) کے طلبہ پر تیزرفتار گاڑی چڑھادی گئی جس سے مدرسے کا ایک ۱۸ سالہ لڑکا ہلاک ہوگیا۔ 
  • فلسطین میں تشدد پر پوپ کا اظہارِ تشویش: کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے غربِ اردن میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے‘‘۔ پوپ لیو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’’سفارت کاری، مکالمے اور اتفاقِ رائے کے بجائے طاقت ، دباؤ اور جنگ قابلِ قبول بیانیہ بنتی جارہی ہے‘‘۔امریکی نژاد پوپ کے اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ غربِ اردن میں واقع بیت اللحم وہ مقدس مقام ہے جہاں مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔ اس مقدس شہر اور اس کے گردونواح میں تشدد، جبر اور عدم تحفظ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔ 
  • عالمی رَدِ عمل کا تسلسل: پرتگال میں ایک ریسٹورنٹ بند: عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ردعمل جاری ہے۔پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ایک اسرائیلی ملکیتی ریستوران طنطورہ (Tantura) کو مسلسل دباؤ، سوشل میڈیا مہمات اور بائیکاٹ کے باعث تالے لگ گئے۔یہی رجحان یورپ اور امریکا کے دیگر شہروں میں بھی موجود ہے، جہاں بعض صہیونی نواز کاروبار بدلتی ہوئی عالمی رائے عامہ اور اخلاقی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں فرانسیسی ادارے Carrefour کی بندش اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ 

غزہ اور غربِ اُردن اب بھی بمباری، محاصرے اور سفارتی منافقت کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے زمینی حقائق کبھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دُنیا کب آنکھیں کھولنا اور کوئی مثبت عملی اقدام کرنا شروع کرے گی۔ 

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر کرسی پر ترجمے کی سہولت کےلیے ہیڈ سیٹ ترتیب سے رکھے تھے۔ دنیا بھر سے سفارت کار، دانش ور، سیاسی و سماجی کارکن اور صحافی ہال میں موجود تھے۔اس کانفرنس کے ایک سیشن میں جب نائل البرغوثی نے بولنا شروع کیا، تو چند لمحوںمیں ہی اوپر جھلملاتے فانوس غیر متعلق محسوس ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کانفرنس ہال کسی عالی شان مقام کے بجائے ایک بند، بھاری اور دم گھونٹ دینے والی جگہ بن گیا، جیسے دیواروں نے عشروں کا دُکھ اپنے اندر جذب کر لیا ہو۔میرے پیچھے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ چند قطار پیچھے بیٹھی ایک عورت نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا، اس کے لیے ہچکیاں روکنا ممکن نہ رہا۔ دروازے کے قریب بیٹھا ایک بوڑھا شخص بار بار اپنی آنکھیں پونچھ رہا تھا، شاید ان آنسوؤں پر خود حیران اور کچھ شرمندہ تھا جو رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ہال کے پچھلے حصے سے دبی دبی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ہال کے اندر کوئی ایک چہرہ بھی بے تاثر نہ تھا۔ 

برغوثی بغیر کسی نوٹس کے بول رہے تھے۔ ان کی آواز بلند نہیں تھی۔ نہ کوئی ڈراما، نہ الزام، نہ فریاد تھی نہ شکوہ، نہ الزام۔وہ انتہائی سکون اور وضاحت کے ساتھ اسرائیلی جیل میں ان کے گزرے ۴۵برسوں کی دردناک کہانی سنارہے تھے۔ چار عشرو ں کی تاریکی کے بعد البرغوثی نے  روشنی میں قدم رکھا تھا۔جب وہ خاموش ہوئے تو پورا ہال ایک جسم بن کر کھڑا ہو گیا۔ فوراً تالیاں نہیں بجیں۔ پہلے گہری اور باوقار خاموشی آئی۔ پھر تالیوں کی آواز، ابتدا میں کچھ دھیمی، پھر بڑھتی ہوئی، پھیلتی ہوئی، پورے ہال کو بھر دینے والی جوش سے بھری آوازیں اُبھریں۔ لوگ دیر تک کھڑے رہے۔ برغوثی کے اسٹیج سے نیچے اترتے ہی لوگ ان کو چھو کر جیسے یقین کر رہے تھے کہ کیا یہ شخص واقعی گوشت پوست کا انسان ہے، جو اسرائیل کی جیل سے زندہ باہر نکل آیا ہے۔ 

ہال کے باہر صحافیوں کا ہجوم ان کی طرف مائک اور کیمرے لے کر لپک رہا تھا ۔ان پر عربی، ترکی اور انگریزی میں سوالوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ وہ سب کے جواب تحمل سے دے رہے تھے، نہ جھنجھلاہٹ، نہ عجلت۔ جب ہجوم کچھ کم ہوا تو میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا۔ انھوں نے پوری توجہ سے سنا۔ ان کی نگاہ ٹھیری ہوئی تھی، ویسی ہی جیسی قیدی سیکھ لیتے ہیں۔ میں نے اپنے جیل کے چند واقعات بتائے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی، یوں ہماری گفتگو شروع ہوئی۔ 

قدآور اور دبلے پتلے نائل البرغوثی کی عمر ۶۷ برس ہے۔ ان کا جسم محرومی کی طویل چھاپ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بال مکمل سفید ہو چکے ہیں، چہرے پر گہری لکیریں ہیں، جو صرف عمر کی نہیں بلکہ عشروں کے ضبط اور برداشت کی گواہ ہیں۔ ان کی آنکھیں تیز اور چوکنی ہیں، ان میں ایک پُرسکون شدت بے چین کر دیتی ہے۔ ان کا لباس سادہ تھا، جسم پر ڈھیلا لٹکتا ہوا، ایک ایسے وجود پر جو برسوں کی قید سے کمزور ہو چکا ہو۔ چہرہ لکیروں سے بھرا تھا۔ یہ لکیریں صرف عمر کی نہیں تھیں بلکہ برداشت، ضبط اور طویل خاموشی کی علامت تھیں۔ 

میں نے جب ان سے قید میں گزری زندگی کے بار ے میں پوچھا ،تو انھوں نے کہا: ’’اگر کوئی پینتالیس سال کی قید کے بارے میں بات کرنا چاہے تو ایک دو گھنٹے کافی نہیں۔ کتابیں بھی کافی نہیں ہوں گی‘‘۔ اسٹیج سے جب ان کا تعارف کرایا گیا تھا، تو ا ن کو فلسطینی قیدیوں کا ڈین یا عمید بتایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ: ’’مَیں اس لقب سے بے چین ہوں جو اکثر میرے نام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ مجھے اس پر فخر نہیں‘‘۔ انھوں نے مضبوط لہجے میں کہا:’’یہ مجھے عزّت نہیں دیتا۔ کسی فلسطینی کو چند دن بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پینتالیس سال؟ یہ لقب خود ایک الزام ہے‘‘۔ تھوڑی دیر رُک کر انھوں نے کہا:’’میری پہچان سب سے پرانا قیدی نہیں ہے بلکہ میں ایک فلسطینی مجاہد ہوں۔ایک ایسا انسان جو اپنے حق کےلیے لڑا ہے‘‘۔  

برغوثی ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو مغربی کنارہ کے فلسطینی شہر رملہ کے شمال میں واقع گاؤں ’کوبر‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان زراعت کے پیشے سے تعلق رکھتا تھا۔ زمین اور زیتون کے درختوں کے ساتھ ان کے خاندان کا گہرا تعلق تھا۔ مزاحمت ان کے خاندانی ورثے میں شامل تھی۔ ان کے والد کو برطانوی دورِ انتداب میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ایک چچا ۱۹۳۶ء کی عظیم عرب مزاحمت میں شہیدہوگئے۔وہ دس برس کے تھے جب جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا۔ انھیں یاد ہے کہ کیسے فوجی ان کے علاقے میں داخل ہوئے۔ وہ دھماکے کر رہے تھے اور بچے ان پر پتھر پھینک رہے تھے۔ اس دن ان کے اندر کچھ بس گیا، جو پھر کبھی نہیں نکلا۔جوانی میں انھوں نے اپنے بڑے بھائی عمر اور کزن فخری کے ساتھ مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور پہلی گرفتاری دسمبر ۱۹۷۷ء میں ہوئی۔ تین ماہ قید کے بعد رہائی ملی۔ وہ گھر لوٹے، ہائی اسکول کے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے کہ اسرائیلی افواج نے انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔اس بار جیل کا دروازہ عشروں کے لیے بند ہو گیا۔۱۹۷۸ء میں برغوثی پر ایک اسرائیلی افسر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور ان کو سرسری سماعت کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ بمشکل بیس برس کے تھے۔ 

’’میں ایک نوعمر لڑکا تھا جب جیل میں داخل ہوا‘‘، اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر انھوں نے کہا ’’اب بوڑھا ہوگیا ہوں‘‘۔ اگلے ساڑھے چار عشروں میں انھیں تقریباً ہر اسرائیلی جیل میں منتقل کیا گیا۔گلبوع، بیرشیبہ کے تمام حصے، رملہ، نفحہ، ریمون، اشکلون، نقب، یہ سبھی جیلیں میرا ٹھکانہ رہ چکی ہیں۔ اسرائیلی جبر دکھانے اور اذیتیں دینے میں تخلیق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک جبر ختم تو دوسرا طریقہ شروع۔ گیارہ برس انھوں نے ایک جیل میں گزارے، جن میں سے آٹھ برس ایک ہی سیل کی دیواروں کو تکتے ہوئے بسر ہوئے۔ نو قیدیوں کے لیے بنے سیل میں پندرہ افراد ٹھونسے گئے تھے۔ ٹھنڈی کنکریٹ کے فرش پر جسم سے جسم جڑا ہوتا تھا، نہ ہل جل سکتے تھے اور نہ رازداری۔ ان کے مطابق جیل صرف قید کی جگہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسا نظام تھا جو انسانی روح کو آہستہ آہستہ ، منصوبہ بند طریقے سے تھکاکر مارنے کے لیے بنایا گیا تھا، بغیر ایسے نشانات چھوڑے جو باہر کی دنیا کو خبردار کردیں۔اشکلون جیل ان کی یاد میں سب سے زیادہ وحشیانہ جگہوں میں سے ایک مقام کے طور پر نقش ہے۔ وہاں تشدد کوئی استثنا نہیں بلکہ سب قیدیوں کے لیے معمول تھا۔ 

’’جب قیدی بنیادی حقوق کے لیے بھوک ہڑتال کرتے، تو جواب میں زبردستی خوراک دی جاتی۔ اس کو بھی اذیت کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔ ربڑ کی استعمال شدہ نالیاں منہ یا ناک میں زبردستی ڈالی جاتیں تھیں، وہ نالی اتنی نیچے دھکیلتے کہ خون بہنے لگتا۔پھر انتہائی گرم دودھ، نمک ملا کر، پیٹ میں انڈیل دیتے تھے۔ قیدیوں کو باندھ دیا جاتا تھا تاکہ حرکت سے محروم ہوجانے پر وہ مزاحمت نہ کرسکیں۔ ایک قیدی کے منہ سے نالی نکالی جاتی اور دوسرے کے منہ میں ڈال دی جاتی تھی۔ اس طرح کچھ لوگوں کے پھیپھڑے بیکار ہوگئے، کیونکہ دودھ ان میں چلا گیا تھا۔ ‘‘ 

برغوثی جب یہ بیان کر رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ شاید ا ن کا ذہن دوبارہ جیل میں پہنچ گیا تھا۔ وہ بتارہے تھے:’’مار پیٹ سہنا ہماری روز کی غذا تھی۔ نقاب پوش محافظ سیلوں پر دھاوا بولتے، ڈنڈوں، بوٹوں اور مکوں سے حملہ کرتے۔ بند جگہوں میں آنسو گیس چھوڑی جاتی تھی، سٹن گرنیڈ پھٹتے اور قیدیوں پر خوفناک تربیت یافتہ کتے چھوڑے جاتے تھے‘‘۔  اس کے ساتھ انھوں نے اپنی آستینیں اوپر کرکے بازو دکھائے، جن پر اَن گنت نشانات پڑ ے ہوئے تھے۔ ان کے بازو کو کتّے نے بھنبھوڑا تھا۔’’ کئی قیدی تشدد میں مارے گئے۔ جوبچ گئے،وہ میری طرح مستقل زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی قیدی ٹوٹی پسلیوں ، خراب اعضا اور دائمی درد کے ساتھ پسِ زندان ہیں‘‘۔  

اسرائیلی جیلوں میں کھانے کے انتظام کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: ’’کھانا بس اتنا دیا جا تا تھا کہ ان پرقیدیوں کو بھوک سے مارنے کا الزام نہ آئے۔’’  چائے کے کپ سے بھی چھوٹے برتن میںپتلا سا سوپ، نہ پھل، نہ گوشت۔ کیلوریز اس طرح ناپی جاتیں کہ قیدی بس زندہ رہیں۔یہ پیسہ بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنٹرول کے لیے تھا‘‘۔ برغوثی کا وزن بیس کلو سے زیادہ کم ہوگیا تھا۔ دوسروں کا اس سے کہیں زیادہ کم، بعض کا ستّر کلو تک وزن کم ہوگیا۔’’ دانتوں کے درد کا علاج ہی نہیں کیا جاتا۔ قیدی ہفتوں سوجے ہوئے چہروں کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، نہ سو سکتے، نہ کھاسکتے، نہ سوچ سکتے تھے اور نہ کسی کو درد کی ایک گولی تک ملتی تھی‘‘۔ انھوں نے کہا:’’سوچیں، کسی کے ساتھ ایک کمرے میں ہفتوں رہنا، جب وہ ناقابلِ برداشت درد کی حالت میں ہو اور آپ کچھ نہ کرسکنے کی پوزیشن میں ہوں،تو بے بسی کی ایسی انتہا میں بس مرنے کی ہی دعا کی جاسکتی ہے‘‘۔  

انھوں نے بتایا: ’’اس تشدد کے خلاف اور حقوق کی آواز بلند کرنے، اہل خانہ سے ملاقاتیں، یا قید تنہائی کے خاتمے، بچے یا ماں سے ملاقات کا حق منوانے کے لیے قیدیوں کے پاس بس بھوک ہڑتال کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں ہوتا تھا۔ اگر میں اپنی تمام بھوک ہڑتالیں گنوں،تو یہ تقریباً دو سال بغیر کھانے کے بنتی ہیں، یعنی اس کا دورانیہ سات سو تیس دن کا ہے۔ جب ایک قیدی کو تنہائی میں ڈالا جاتا، تو دوسرے یکجہتی میں بھوک ہڑتال کرتے تھے۔ دراصل اسرائیلی ہمارے اندر کی انسانیت مارنا چاہتے تھے اور ہم نے بھوک بانٹ کر مزاحمت کی‘‘۔ 

اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا: میرے خیال میںقیدِ تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑو ں سے باتیں کرتا تھا۔ خوف تھا کہ کہیں بولنا ہی بھول نہ جائوں۔ مگر اس دوران میں نے دیکھا کہ اگر ایک کاکروچ کو نقصان پہنچتا تھا، تو دیگر اس کی مدد کرنے پہنچ جاتے تھے اور اس کو دیوار پر چڑھنے میں مدد کرتے تھے‘‘۔ ایک فلسفی کے انداز میں برغوثی نے حسرت ناک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مجھ سے سوال کیا:’’ مگر انسان دیگر انسانوں کی مدد کیوں نہیں کرپاتا ؟‘‘ 

اپنے بڑے بھائی عمر کے ساتھ جیل کی زندگی کا بڑا حصہ رہا: ’’عمر چار سال بڑے تھے، اور وہ بھی مزاحمت کے علَم بردار تھے۔ ۱۹۸۵ء میں جب قیدیوں کے تبادلے ہونے والے تھے، تو میرا نام فہرست میں تھا۔اسرائیلی حکام نے مجھے بتایا کہ میرا نام رہا ہونے والے فلسطینیوں میں شامل ہے، تو میں نے کہا کہ اگر سب کو رہا کیا جاتا ہے، تو تب ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ اگر صرف فہرست میں شامل قیدیوں ہی کی رہائی ہونی ہے، تو میں اپنی جگہ عمر کو شامل کروانا چاہتا ہوں‘‘۔ عمربھائی رہا ہو گئے۔ نائل البرغوثی وہیں رہے۔بعد میںانتفاضہ کے دوران عمر کو دوبارہ قیدی بنایا گیا۔ بہت سے رہا شدہ قیدی دوبارہ واپس جیلوں کی زینت بن گئے۔ برغوثی نے اپنے والدین جیل میں رہتے ہوئے کھو دیے۔ انھیں جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں ملی۔۲۰۰۴ء  میں قیدیوں نے انیس دن کی بھوک ہڑتال کی۔ ان کے والد باہر یکجہتی کے مظاہروں میں شامل ہوئے۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ماں کی موت بھی اسی طرح ہوئی۔قیدیوں کےلیے فلسطینی حکام نے ایک ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کیا تھا۔ قیدی اس ریڈیو کے پروگراموں کو چھوٹے ٹرانزسٹروں پر سنتے ہیں۔ اس پر رات گیارہ بج کر تین منٹ پر ان کی ماں کی آواز سنائی دی۔ اس نے کہا: ’عزّت کا گھر، دولت کے گھر سے بہتر ہے‘۔ پھر اسی رات دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ ’دنیا دھند بن گئی‘، برغوثی نے کہا: ’’والدین کو کھونا زندگی کا ایڈریس کھو دینے جیسا ہے ۔میںاندر سے ٹوٹ گیا تھا مگر بظاہر خود کو سنبھالے رکھا۔ میں اپنی کمزوری جوان قیدیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا‘‘۔ 

اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھیں۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی: ’’میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں‘‘۔ ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے اور جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔ انھوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنھیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی سے ملنے کا حق نہ ملا:’’ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ یہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے‘‘۔ برغوثی نے کہا۔ ’’ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں‘‘۔  

برغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا،مگر جب ۲۰۰۲ء میںفلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انھوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینیوں کو مطالعے کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں، اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔ہماری گفتگو میںانھوں نے برصغیر ہند کی تاریخ کا ذکر کیا۔انھوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لال نہرو، ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔ حتیٰ کہ کشمیر کا جب ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انھوں نے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی کا بھی ذکر کیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی؟ تو وہ مسکرائے:’’جیل نے ہمیں پڑھنے دیا‘‘، انھوں نے کہا۔ وہ اس کےلیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انھوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا: ’’ہمیں معلوم ہے کہ ہماری تعلیم معاشرے کو فائدہ نہیں دے سکے گی، کیونکہ ہماری قسمت میںتو جیل میں ہی مر جانا لکھا ہے، مگر یہ یقین ہے کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے‘‘۔  

برغوثی کو فروری ۲۰۲۵ء میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت رہا کردیا گیا۔ مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ ان کو فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ان کو جلا وطن کیا جائے گا۔ ‘‘ ابتدا میں جب جیل میں ان کو بتایا گیا کہ رہا ہونے کے فوراً بعد ان کو مصر بھیجا جائے گا، تو انھوں نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا: ’’قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے‘‘۔مگر ثالثوں کے دبائو میں ان کی رہائی ہوگئی ، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی بھی متاثر ہوگی۔’’یہ حکم نامہ موت کے پروانے جیسا تھا‘‘، انھوں نے کہا۔ 

انھیں اپنی زمین، اپنے گھر، اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔ عشروں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم اور کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اب وہ ترکیہ میں زیرعلاج ہیں۔ دائمی درد، چوٹیں اور ان بیماریوں کے ساتھ جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب ان کوپریشان کر رہی ہیں، پھر بھی ان کا یقین قائم ہے۔وہ بتا رہے تھے: ’’ہماری جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے اور ہم اب بھی مزاحمت کر رہے ہیں‘‘۔ 

ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے، جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے۔نائل البرغوثی ۴۵ برس بعد جیل سے باہر آئے۔ مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیرمعلوم ہو رہے تھے   ؎ 

یقیں محکم ، عمل پیہم،محبت فاتح عالم 
جہاد زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں 

مقبوضہ کشمیر میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب اس کے کسی نہ کسی حصے میں قابض انڈین حکمرانوں کے عسکری و انتظامی اداروں کے ظلم و زیادتی سے مقامی نہتے شہری متاثر نہ ہوں۔ بھارتی فوج اور بدنامِ زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں ’این آئی اے‘ اور ’ایس آئی اے‘ کے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ چھاپےاور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں درجنوں عام شہری گرفتار کیے گئے ہیں اور ایک درجن کے قریب جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں۔ 

  • ۱۶ دسمبر ۲۰۲۵ء: ضلع ادھم پور کے علاقے مجلٹا میںمجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی اہلکارامجد پٹھان گولی لگنے سے ہلاک، جب کہ دو اہلکار زخمی ہو گئے ۔ ضلع کپواڑہ کے پوتہ خان علاقے میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں ایک بھارتی فوجی حوالدارزبیر احمد ہلاک ہوگیا۔ 
  • ۱۸ دسمبر ۲۰۲۵ء:ضلع اسلام آباد کے علاقے میںبھارتی فوج کا اہلکار لکھویندر سنگھ دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا۔ بھارتی فوج نے وادی کے مختلف علاقوںضلع ادھم پور ، بسنت گڑھ اور رام نگر ، ڈوڈہ ، کشتواڑ ، اسلام آباد، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور کپواڑہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں اوراس دوران گھروں پر چھاپے مارے ،گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی اور مکینوں کو ہراساں کیا ۔ بھارتی انتظامیہ نے ضلع کپواڑہ میں ایک کشمیری ولی محمد میر کا دو منزلہ رہائشی مکان کالے قانون ’یو اے پی اے ‘ کے تحت ضبط کر لیا۔ 
  • ۱۹ دسمبر۲۰۲۵ء: بھارتی پولیس نے ضلع ڈوڈہ میں گائے کے گوشت کی فروخت کے الزام میں تین کشمیری تا جروں فاروق احمد، محمد شفیع اور محمد یاسین کو گرفتار کر لیا ہے۔ 
  • ۲۰دسمبر۲۰۲۵ء:ضلع شوپیاں کے علاقے ہیر پورہ میں بھارتی پولیس نے ایک چھاپےکے دوران دو عام شہریوںاحمد حسن وگے اور راحیل احمد بٹ ساکن کولگام کوگرفتار کر لیا۔پولیس نے ان کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کے لیے ان سے انڈیا مخالف پوسٹر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(NIA) اور سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی(SIA) نے سرینگر اور ضلع شوپیاں کے علاقے نادیگام میں چھاپے مارکر مولوی عرفان احمد وگے سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ 
  • ۲۱دسمبر ۲۰۲۵ء:بھارتی پولیس نے ضلع پلوامہ نیو سرکلر روڈ پر معمول کی گشت کے دوران ایک شخص ہلال احمدساکن کاکہ پورہ کے علاقے کھدر موہ کو گرفتارکرلیا اوران سے جماعت اسلامی کے پوسٹر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ضلع بڈگام کی عدالت نے حزب المجاہدین کے امیر سیّدصلاح الدین احمد کے خلاف دوبارہ غیر ضمانتی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ 
  • ۲۲دسمبر ۲۰۲۵ء:بھارتی ریاست ہماچل پردیش اور ہریانہ میںہندو انتہاپسندوں کی طرف سے درجن کےقریب کشمیری شال فروشوں کو ہراساں کرنے اورانھیں’ہندوتوا‘اور’ بھارت ماتا کی جے‘ جیسے نعرے لگانے پر مجبور کیاگیااور باربارہراساں بھی کیا جارہاہے۔ 
  • ۲۳دسمبر ۲۰۲۵ء: امریکا میں مقیم کشمیری اسکالر ڈاکٹر غلام نبی فائی کی ضلع بڈگام میں موجود پانچ کنال سے زائد اراضی بھارتی ایجنسی(این آئی اے)نےکالے قانون کے تحت ضبط کرلی ہے،جب کہ ان کی ایک اور جائیداد گیارہ مرلے اراضی بھی ضبط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بھارتی پولیس نے ضلع کپواڑہ سے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتارکیاہے۔ بھارتی شہر اروناچل پردیش کے گنگا گائوں، ایٹا نگر،ضلع سیانگ کے آلائو ٹائون علاقوں سے پولیس نے دیگر بھارتی ایجنسیوں کے ہمراہ مبینہ طورپر حساس معلومات اکٹھا کرنے کے الزامات میںکشمیری نوجوانوں اعجاز احمد بٹ اور بشیر احمد گنائی، نذیر احمد ملک ، ہلال احمدمیر سمیت پانچ افرادکوگرفتار کیاہے،جب کہ ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ کے علاقے وویان کھریو سے گلاب باغ ترال کے رہائشی نوجوان جاوید احمد حجام کوبھارتی فوج نےگرفتار کیا۔بھارتی قابض فوج نے جاوید احمد پرکشمیری مجاہد ین کی مدد کرنے کا الزام عائد کیاہے۔ 
  • ۲۶ دسمبر ۲۰۲۵ء: سرینگر شہر کے قریب بھارتی فوج کے ایک کیمپ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، جس کے نتیجے میں متعدد بیرکیں جل کر تباہ ہوئیں ۔ 
  • ۲۸دسمبر ۲۰۲۵ء:بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی میں پولیس نے ضلع پونچھ کے رہائشیوں شوکت علی اور سجاد کو گائوں ڈھمری سے گرفتار کر لیا ۔ضلع اسلام آباد کے علاقے مرہامہ بجبہاڑہ میں ایک خاتون شیرازہ بانوبلیار مرہامہ اہلیہ عبدالحمید کمار کی لاش پراسرار حالت میں مُردہ پائی گئی۔ 
  • ۲۹ دسمبر ۲۰۲۵ء:مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نے شوپیاں سے اویس احمد لون ، شاہ لٹو سے معشوق احمد شاہ اورچیک چولند سے سبزار احمد گنائی کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکیا ہے اور تینوں کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقل کیاگیا ہے، جب کہ سرینگر سے ایک نوجوان ظفر احمد میرساکن راجباغ کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ بھارتی افواج نے ضلع جموں کے علاقے ستواری میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران بے بنیاد الزام پر ایک عام شہری منظور حسین کو گرفتارکرلیا ہے۔ انڈین فوج نے مشتبہ شے نظرآنے کا دعویٰ کرکے شمالی کشمیر میں سوپور،بانڈی پورہ روڈ کے قریبی علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی۔ سڑک کو عارضی طور پر بلاک کر دیا گیا، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،جب کہ آپریشن کے دوران شہریوں کی جامہ تلاشی لی گئی اورہراساں کیاگیا۔مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام نے معلومات تک رسائی کو روکنے کے لیے شمالی اورجنوبی کشمیر میں ’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘ (VPN)کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔قابض فوج نے موبائل فون صارفین کی نگرانی میں اضافہ کرتے ہوئے وادیٔ کشمیر کے کپواڑہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں وی پی این کے استعمال پر پابندی کے ضمن میں ۱۰ سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے۔ 
  • ۳۱ دسمبر۲۰۲۵ء: بھارتی پولیس نے کالے قانون کے تحت ضلع گاندربل میں ایک خاتون سمیت دو کشمیریوں کو گرفتار کر لیا۔ ضلع ڈوڈہ کے۱۷ کے قریب دُور دراز دیہات کے ۱۵۰کے قریب بدنام زمانہ ملیشیا ویلج ڈیفنس گارڈز(وی ڈی جی) ارکان جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں، انھیں انڈین فوج نے تربیت دینے کا عمل تیز کردیاہے۔یہ تربیتی پروگرام ڈوڈہ ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً ۹۰ کلومیٹر دور بھلیسہ علاقے میں شنگنی میں قائم کیا گیا ہے۔ بدنامِ زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘‘(این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے تین کشمیریوں کو ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی پاداش میں اشتہاری قرار دیا ہے۔ عدالت نے سرینگر کے علاقے جواہر نگر کے رہائشیوں مبین احمد شاہ اور عزیز الحسن، جب کہ کپواڑہ کے علاقے تریہگام کی خاتون کارکن رفعت وانی کو اشتہاری قرار دیا۔ان تینوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے سماجی رابطوں کی سائٹوں پر بھارت کے خلاف مواد اَپ لوڈ کیا۔ 
  • یکم جنوری ۲۰۲۶ء: تحریک آزادی کشمیر کے سینئررہنما محمد عبداللہ ملک مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے ۔ مرحوم کی نماز جنازہ اسلام آبادکی مرکزی جامع مسجد صدیق اکبر کے احاطے میںادا کی گئی جس میں کثیر تعدا دمیں عوام نے شرکت کی۔مرحوم کا تعلق مقبوضہ جموں وکشمیر میں ضلع بانڈی پورہ کے علاقے آلوسہ سے تھا۔ وہ بنیادی طور پر جماعت اسلامی سے وابستہ تھے ۔ مرحوم نے کشمیر کاز کے لیے تحریری اور ابلاغی محاذ پر اہم کردار ادا کیا ۔ انھوں نے بھارتی مظالم کی وجہ سے ۱۹۹۰ءمیں آزاد جموںوکشمیر سے ہجرت کی تھی۔ 
  • ۲جنوری ۲۰۲۶ء: مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ایک رکن کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی ہے۔ چھاپے کے دوران بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی کے رکن کے اہل خانہ کو ہراساں کیا اور تاریخی کتابیں، دستاویزات اور لیپ ٹاپ او ر موبائل فون ضبط کر لیے،جب کہ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نےبھارتی فوج کے ہمراہ شوپیاں کے علاقے پدپاون اور پلوامہ کے علاقے پامپور میں چھاپے مارکر نو افراد کو حراست میں لیا ہے۔ 
  • ۳جنوری ۲۰۲۶ء: بھارتی انتظامیہ نے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں جمال احمد لون کی ۶کنال اور ۱۳ مرلہ سے زائد اراضی کالے قانون ’یو اے پی اے‘ کے تحت ضبط کی۔ان کی جائیدا د کی ضبطی کا جواز فراہم کرنے کے لیے ان پر انڈیا مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔انتظامیہ نے محض دو روز قبل ضلع پونچھ کے گاؤں نار میں ایک اور شخص رفیق سلطان کی چار مرلہ سے زائد اراضی ضبط کر لی تھی۔ بھارتی پولیس نےانٹرنیٹ تک رسائی کے لیے اپنے موبائل فون پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپلی کیشنز استعمال کرنے پر ۱۵۰ کے قریب لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔پلوامہ ضلع میں ۹۵ افراد، بارہمولہ کے علاقے سوپور میں ۲۳، شوپیاں میں ۱۵، کولگام میں ۹، اسلام آباد میں ۵، ڈوڈہ میں۲، جب کہ ضلع راجوری میں ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق ان میں اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 
  • ۴جنوری ۲۰۲۶ء: ضلع کٹھوعہ ریلوے اسٹیشن پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ریلوے پروٹیکشن فورس کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ قابض حکام نے آزادیٔ اظہار اور ڈیجیٹل پرائیویسی پر ایک اور حملہ کرتے ہوئے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs)کا استعمال کرنے والے تقریباً ۸۰۰؍افراد کی نشاندہی کی ہے، جن کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے اور اس دوران متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے،جب کہ درجنوں افراد کو طلب کیا گیا، ان سے پوچھ گچھ کی گئی ، ڈرایادھمکایاگیا اور ان پر نفسیاتی دبا ئوڈالاگیا۔ 
  • ۵ جنوری ۲۰۲۶ء: کشمیریوں کو ان کی ملازمتوں اور جائیدادوں سے محروم کرنے کے مودی حکومتی  ایجنڈے کے تحت قابض انتظامیہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک کشمیری ملازم محمد ارشد گورو ساکن سرینگر آنچارکو ملازمت سےبرطرف کر دیا ہے۔ ضلع اسلام آباد میں بھارتی فوج کا ایک نائب صوبیدار پرگت سنگھ اپنی بیرک میں دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔ 
  • ۷ جنوری ۲۰۲۶ء:بھارتی پولیس کی کائونٹر انٹیلی جنس ونگ نے بھارتی فوج کے ساتھ مل کر ۲۲مقامات پر چھاپے مارے اورتلاشی کی کارروائیاں کیں۔ سرینگر میں تقریباً ۱۵مقامات پر چھاپے مارے گئے،جب کہ دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں کی گئیں۔ 
  • ۸جنوری۲۰۲۶ء: ضلع کٹھوعہ میں بلاور کے علاقوں کہوگ اور دھنو پیرول کماد میں بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں بھارتی فوج نے ایک مجاہد کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ جھڑپ کے دوران متعدد بھارتی فوج زخمی ہوگئے۔ اس دوران، کانٹر انٹیلی جنس اہلکاروں نے نیم فوجی اہلکاروں کے ساتھ گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران فوج نے ۲۲ نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ 
  • ۹جنوری ۲۰۲۶ء: بھارتی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئررہنما میر واعظ عمرفاروق کو مسلسل تیسرے جمعہ کو سرینگر میں گھر میں نظر بند رکھ کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے تاریخی جامع مسجد جانے سے روک دیا۔ 
  • ۱۱ جنوری ۲۰۲۶ء: بھارتی فوج نے جنوبی ضلع اسلام آباد کے علاقے جنگلات منڈی میں کچھ مشتبہ افراد کی موجودگی پر علاقے کو محاصرے میںلےکر گھر گھر تلاشی لے کر مکینوں کو ہراساں کیااور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑکی۔ 
  • ۱۲ جنوری۲۰۲۶ء: ضلع بانڈی پورہ میں بھارتی فوج کے ایک بھارتی فوجی کیمپ میں پُراسرارطورپر آگ لگ گئی جس میں بھارتی فوج کا کانسٹیبل رمیش کمارجل کر ہلاک ہوگیا۔ 
  • ۱۳ جنوری ۲۰۲۶ء: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے وادیٔ کشمیر بھر میں مساجد ، اَئمہ اور مساجد سے وابستہ دیگر افراد کے بارے میں بڑے پیمانے پر معلومات جمع کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔ انڈیا نے متعدد علاقوں کی مساجد میں چار صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فارم بھیجنا شروع کر دیا ہے، جس میں مساجد اور ان سے منسلک افراد بشمول ائمہ، خطیب، مؤذن ، مسجد کمیٹی کے اراکین اور بیت المال کے بارے میں مکمل معلومات طلب کی گئی ہیں۔فارم میں ہر مسجد کی بابت مسلکی وابستگی، بیٹھنے کی گنجائش، منزلوں کی تعداد، تعمیراتی لاگت، فنڈنگ کے ذرائع، ماہانہ بجٹ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق معلومات مانگی گئی ہیں۔  
  • ۱۴ جنوری ۲۰۲۶ء: عدالت نے سینئرحریت رہنما اوردختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت کو کالے قانون (UAPA) کے تحت درج ایک مقدمے میں مجرم قرار دے دیاہے۔یاد رہے انڈیا کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے آسیہ اندرابی کو اپریل ۲۰۱۸ء میں گرفتار کیا تھا۔آسیہ اندرابی کے خلاف انڈیا کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے جنگ چھیڑنے اور مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیاگیا تھا۔ آسیہ اندرابی نے۱۹۸۷ءمیں خواتین پر مشتمل آزادی پسند تنظیم ’دُخترانِ ملت‘ کی بنیاد رکھی تھی۔  
  • ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن کے ساتھ جنگل میں آتشزدگی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے ۔ آگ کے باعث بھارتی فوج کی طرف سے بچھائی جانے والی ایک درجن سے زائدبارودی سرنگوںکے پھٹنے کے عمل سے قریبی دیہات کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سرینگر کے پولیس کنٹرول روم میں بھارتی پولیس کا ایک اہلکار حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث چل بسا، جب کہ ضلع اسلام آباد کے علاقے اچھہ بل سے مسرور احمد نامی ایک۳۴ سالہ شخص کی لاش پُراسرارطورپر برآمد کی گئی ہے ۔ 
  • ۱۵جنوری ۲۰۲۶ء: بھارتی انتظامیہ نے بھارتی فوج کی سرپرستی میں قائم ’ویلج ڈیفنس گارڈز‘ (وی ڈی جی) کی خواتین کارکنوں کو رائفلوں سے لیس کرکے ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن اضلاع کےمختلف دیہات کی حفاظت پر مامور کر دیاہے ۔ان خواتین کارکنوں کے مسلسل گشت سے علاقے کے مسلمانوں کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ 
  • ۱۹ جنوری ۲۰۲۶ء: ضلع کشتواڑ کے چناب ویلی چھاترو علاقے میں مجاہدین نے ایک کارروائی کے دوران انڈین فوج کی ایک پارٹی پر دستی بموںسے حملہ کیا اور فائرنگ کی ، اس حملے کے نتیجے میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر ،ایک حوالدار گجندرسنگھ سمیت کم از کم آٹھ بھارتی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ انڈین فوج کے زیرِانتظام ولیج ڈیفنس گروپ (وی ڈی جی) کے ایک رکن نے نوشہرہ علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت کو جواز بنا کر بلااشتعال فائرنگ کی، جس سے علاقے میں خوف کی لہر پھیل گئی۔ 

اس نوعیت کے واقعات جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں پے درپے سامنے آتے ہیں، مگر چند ہی واقعات کسی خبر کے ذریعے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ 

بنگلہ دیش اس وقت قومی زندگی کے نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف تیرھویں قومی انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے، تو دوسری جانب ان انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔عوامی لیگ کی ۱۵ سالہ فسطائی حکومت کے خاتمے (اگست ۲۰۲۴ء) کے بعد دستور، قانون اور حکومتی انتظام کے تضادات پوری قوت سے اُبھر کر سامنے آئے، جنھیں درست کرنے کے لیے ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت نے ڈیڑھ سال کے دوران بہت سی کوششیں کیں، مگر یہ چیلنج اس قدر گہرا، ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے کہ عبوری حکومت، خواہش کے باوجود اس کام کو تسلی بخش طریقے سے انجام نہیں دے سکی۔  

اس کے چار اسباب تھے: پہلا یہ کہ حکومت میں شامل افراد پہلے سے کوئی ریاستی و انتظامی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ دوسرا یہ کہ بیش تر افراد مختلف این جی اوز کے پس منظر سے متعلق تھے، جن میں فکری ہم آہنگی نہیں تھی کہ وہ مل کر زیادہ اعتماد سے کام کرتے۔ تیسرا یہ کہ انھیں اس چیز کا احساس تھا کہ ان کے پاس عوام کا مقبول مینڈیٹ نہیں، جس کے سبب وہ زیادہ پُراعتماد اقدام نہ کرپائے، اور چوتھا یہ کہ پورے ریاستی نظام میں، عوامی لیگی اور انڈین اثرات کے تحت اہل کاروں سے اپنی بات منوانا مشکل ثابت ہوا۔ 

یہ وہ اسباب تھے کہ جنھوں نے انتخابات سے قبل قومی سطح پر قانون اور ضابطے کی درستی اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے منظم ڈھانچے کو بے نقاب کرنے کے لیے اصلاحات کا خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ۱۲فروری کو انتخابات کے روز ایک جانب لوگ اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں گے، تو دوسری جانب آئینی اصلاحات کی نسبت سے چند بنیادی نکات پر ریفرنڈم میں اپنی رائے دیں گے۔ 

عوامی لیگ کے قومی جرائم کے سبب، عبوری حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے، جس کے بعد عملاً میدان میں دو قوتیں برسرِ انتخاب ہیں: ایک بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP: بی این پی)اور دوسری بنگلہ دیش جماعت اسلامی۔  

قومی زندگی میں بی این پی کی گہری جڑیں ہیں، اور تین مرتبہ حکومت میں رہنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ ماہ قبل اس کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کا انتقال ہوا تو تدفین کے موقعے پر بلاشبہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہوا۔ ان کے بیٹے طارق رحمان (پ: ۱۹۶۵ء) ایک طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپس آئے اور اب وہ پُراعتماد حیثیت سے پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ملک میں آمد کے موقعے پر عبوری حکومت نے عملاً انھیں ایک سربراہ کی طرح پروٹوکول دیا، جس سے انتخابات میں حکومت کی غیر جانب داری کے دعوے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس چیز کو تمام حلقوں نے محسوس کیا ہے اور قومی سطح پر اس پہ اعتراض بھی اُٹھایا ہے۔ لیکن ریاستی انتظامی ڈھانچے نے فی الحقیقت انھیں مستقبل کے حکمران کے طور پر ہی سمجھنا اور پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔  

پارلیمنٹ کے تین سو کے ایوان میں دو سو سے زیادہ نشستوں پر بی این پی نے نمائندے کھڑے کیے ہیں۔ طارق رحمان نے انتخابی مہم میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہورہے ہیں، لیکن جس تاثر کے ساتھ بی این پی انتخابات جیتنے کا دعویٰ رکھتی ہے، اُس نسبت سے لوگ جلسوں میں نہیں آرہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں بی این پی اور جماعت اسلامی کم و بیش برابر یا کسی جائزے میں بی این پی قدرے بہتر نتیجے کے ساتھ نمایاں نظرآتی ہے، مگر بہت کم فرق کے ساتھ۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ بی این پی کی تائید کے لیے کمیونسٹ لابی، ہندو برادری کے طاقت ور گروہ، عوامی لیگ کے حامیوں کی بڑی تعداد، این جی اوز کی مشینری اور اس کے ساتھ ساتھ انڈیا کے مؤثر حلقوں کی آشیرباد واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ اسی سول اور فوجی انتظامیہ کے ساتھ میڈیا کے فعال عناصر بھی اس کی جانب جھکائو رکھتے ہیں۔ 

دوسری جانب جماعت اسلامی ہے، جس کے دامن میں خلوص، محنت، دیانت، خدمت اور ملک و قوم کے لیے قربانیوں کی بہترین روایت ہے۔ اس کی بے داغ قیادت نے قوم میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔بلاشبہ ملک بھر میں سب سے بڑے انتخابی جلسے جماعت اسلامی ہی کے ہورہے ہیں، جس کی تائید کے لیے نو چھوٹی بڑی جماعتیں شریک کار ہیں۔ ان پارٹیوں میں طلبہ کی ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (NCP)بھی شامل ہے۔  

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی اور اس کے اتحاد کی حمایت کرنے والوں میں چالیس سال سے کم عمر کے رائے دہندگان کی بڑی تعداد شامل ہے۔ پھر یہ پہلو بھی سامنے رہے کہ یونی ورسٹیوں کے تمام انتخابات جماعت اسلامی کی حامی ’اسلامی چھاترو شبر‘ کے اُمیدواروں نے واضح اور بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے، اور اپنے مدمقابل ’چھاترو دل‘ (بی این پی کے حامی طلبہ) کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ گویا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کی جانب ووٹ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ حالانکہ گذشتہ کئی عشروں سے جماعت اسلامی کے خلاف ابلاغی، نصابی اور قومی سطح پر ہمہ گیر مہم کی سرپرستی کی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح اب سے چند روز قبل علما کے ایک معروف گروپ نے جماعت اسلامی کے اتحاد سے الگ ہوکر انتخابات میں اُترنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یقینا جماعت اسلامی کے حامی ووٹروں کی قوت تقسیم ہوگی۔ 

جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن (پ:۱۹۵۸ء) قومی سطح پر ایک مرکزی راہ نما کے طور پر اُبھرے ہیں۔ ان کی تقاریر میں ٹھیرائو، تدبر، وسعت ِ نظری اور سنجیدگی نے عوام و خواص میں گہرا تاثر قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب انتخابی تقاریر اور عوامی پروگراموں میں الزام تراشی اور مخالفین پر طعن و الزام کے بجائے مثبت انداز سے اپنا پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ جس میں انصاف، سماجی فلاح اور معاشی استحکام کو مرکزیت حاصل ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی انتخابی مہم قدم قدم پر مالی وسائل کی کمی کے ساتھ چلتی دکھائی دیتی ہے اور بی این پی کی مہم شاہانہ اخراجات کا نمونہ ہے۔ 

مبصرین کی رائے ہے کہ اگر انتخابات غیر جانب دارانہ ہوں تو جماعت اور بی این پی برابر، برابر نشستیں لیں گی، اوریہ بھی ممکن ہے کہ جماعت اسلامی سادہ اکثریت حاصل کرلے۔  لیکن دھاندلی سے یہ نتیجہ تبدیل کرکے بی این پی کی جانب جھکایا بھی جاسکتاہے۔ تاہم جماعت اسلامی نے یہ پیش کش کر رکھی ہے کہ وہ کامیابی کی ہرصورت میں قومی حکومت بنا کر تعمیروترقی کے لیے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ 

 

۱۹۴۵ء میں اخوان المسلمون اُردن کا آغازمصر کی ایک رفاہی تنظیم کےطور پر رجسٹریشن سے ہوا ۔ اُردن میں اس کے بانی شیخ عبداللہ لطیف ابو قورہ تھے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ ۱۹۵۳ء میں جماعت کی سرگرمیاں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب بطور دینی جماعت اس کو باقاعدہ رجسٹر ڈکر لیا گیا۔ اس کے بعد پارٹی نے رفاہی کاموں اور سیاست میں باقاعدہ حصہ لینا شروع کی۔ شاہ عبداللہ اوّل اور اس کے بعد اُردن کے فرماں روا شاہ حسین بن طلال کے دور میں اخوان المسلمون اور حکومت کے باہمی تعلقات بہتر ہوئے اور بائیں بازو اور عرب قوم پرستوں کے خلاف ایک غیرعلانیہ اتحاد وجود میں آگیا۔ 

حکومت - اخوان المسلمون تعلقات  

حکومت کے ساتھ اخوان المسلمون کا تعلق نشیب و فراز کا حامل رہا ہے۔ ابتدائی چار عشروں میں باہم اس قدر ہم آہنگی رہی کہ اسے غیر علانیہ اتحاد قرار دیا گیا، اور آخری چار دہائیوں میں تعلقات بحرانوں کا شکار ہوتے ہوتے اس قدر خراب ہوئے کہ مارچ ۲۰۲۵ء میں آخرکار حکومت نے اخوان المسلمون پر پابندی عائد کر دی۔ درحقیقت تعلقات میں بگاڑ اس وقت شروع ہوا جب حکومتِ اُردن نے ۱۹۹۱ء میں اسرائیلی قابض ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کیا، اور ربع صدی کے بعد اختلاف اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب اخوان المسلمون نے دستور میں ترمیم اور بعض شاہی اختیارات پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف اردنی حکومت نے اخوان المسلمون کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ جماعت کے اندر باہمی اختلافات کو ہوا دی گئی۔ 

اخوان المسلمون کا سیاسی سفر 

اخوان المسلمون نے ۵۰ کے عشرے کے اوائل سے ہی سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ ۵۴-۱۹۵۱ء کے انتخابات میں اس کے بعض ارکان نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔ ۱۹۵۶ءمیں بطور جماعت پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا ،پھر ایک عرصے تک انتخابی میدان سے باہر رہے۔ ۱۹۸۴ءمیں پھر انتخابات میں حصہ لیا اور آٹھ میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ غرض اب تک کے سیاسی سفر میں جماعت کے کئی ذمہ داران اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔  

 ۱۹۸۹ء میں جماعت نے ’’اسلام ہی حل ہے‘‘ کے نعرے پر انتخاب لڑا اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔ ۸۰ میں سے ۲۲نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں نمایاں کردار ادا کرنا شروع کیا، اور جوں جوں اپوزیشن کا لہجہ سخت ہوتا گیا تو اس سے حکومتی شاہی حلقوں میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ گئی۔۱۹۸۶ء میں یرموک یونی ورسٹی میں احتجاج ہوئے اور حکومت نے اخوان کے طلبہ قائدین کو گرفتار کر لیا۔ جماعت کے بہت سے اراکین کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ گویا حکومت اور اخوان المسلمون کا پہلا ٹکراؤ تھا۔ 

۹۰ کے عشرے میں ’اسرائیل - اُردن امن مذاکرات‘ شروع ہوئے تو یہ اخوان اور حکومت کے درمیان اختلافات کا مرکزی نکتہ بن گئے۔ اخوان المسلمون اُردن نے شدت کے ساتھ ان مذاکرات کی مخالفت کی اور انھیں حرام تک قرار دیا۔ اُردنی عوام کی آواز بنتے ہوئے اخوان المسلمون نے اسرائیل اُردن امن مذاکرات کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے منظم کیے ۔ یوں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سڑکوں پر،اخوان المسلمون حکومت کی ایسی اپوزیشن بن چکے تھے، جن کا اثر و نفوذ یونینز میں، یونی ورسٹیوں اور مساجد میں ہر جگہ نمایاں تھا۔ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے جماعت کے اس اثر و نفوذ سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے محدود کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے شروع کیے۔ 

۱۹۹۲ء میں بیرونی تعلقات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس موقع پر اور اس بحران سےبچنے کے لیے اخوان المسلمون نے ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام جبهۃ العمل الاسلامی تھا۔۱۹۹۳ء میں حکومت نے الیکشن قوانین میں مزید ترامیم کیں، جن کا واضح مقصد اخوان المسلمون کے اثر و نفوذ اور پارلیمنٹ میں اس کے وجود کو محدود ترکرنا تھا۔ ۱۹۹۳ء کے انتخابات میں حکومت نے دھاندلی کی اور اخوان کو صرف ۱۷ نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس سے اخوان کی صفوں میں حکومت کے خلاف مزید شدت پیدا ہوگئی۔۱۹۹۴ء میں اسرائیل -اُردن امن معاہدہ (معاہدۂ وادی عربہ)وجود میں آیا۔اخوان المسلمون نے پارلیمنٹ میں اس معاہدے کے خلاف ووٹ دیا۔ حکومت کی طرف سے پابندیوں کے باعث اخوان المسلمون نے ۱۹۹۷ء کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا۔ 

۱۹۹۹ء میں حالیہ شاہِ اردن، شاہ عبداللہ ثا نی برسرِ اقتدار آئے۔ ان کے دور میں اخوان اور حکومت کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات، گویا دائمی اختلاف کی صورت اختیار کرتے چلے گئے۔  اُردن کی حکومت نے حماس کو اپنے دفاتر بند کرنے اور اُردن سے نکل جانے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ اُردن کی آبادی کا بڑا حصہ فلسطینیوں پر مشتمل ہے۔حماس کی جلاوطنی سے اخوان المسلمون کے اندر داخلی طور پر بھی اختلافات پیدا ہوئے۔ 

۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۳ءتک حکومت نے پارلیمنٹ برخواست کیے رکھی۔ اس دوران ۲۰۰کے قریب مختلف ایسےآرڈی ننس جاری کیے، جن سے سیاسی عمل اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگی۔ ۲۰۰۴ء میں اخوان المسلمون نے یونینز پر لگنے والی پابندیوں کے جواب میں مظاہروں کی قیادت کی۔ 

۲۰۰۶ءمیں حکومت نے اخوان المسلمون کے عوامی بہبود کے سب سے بڑے ادارے جمعیۃ المرکز الاسلامی پر پابندی عائد کردی۔ ۲۰۰۷ء کے بلدیاتی انتخابات میں اخوان نے حصہ لیا، لیکن پولنگ کے آغاز کے دو ہی گھنٹے بعد دھاندلی کا الزام لگا کر بائیکاٹ کر دیا۔ ۲۰۰۷ء کے قومی انتخابات میں بھی اخوان نے حصہ لیا، لیکن صرف چھ نشستیں حاصل ہوئیں۔اس کے بعد اخوان نے سیاسی اصلاحات، دستوری ترامیم اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافے پر اپنی پوری سیاسی توجہ مرکوز کر لی، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے بائیں بازو کی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں سے بھی گفت و شنید کی۔ ۲۰۱۰ء کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا گیا کہ پابندیاں برقرار تھیں ۔ 

۲۰۱۱ء میں ربیعِ عربی (عرب بہار) کا آغاز ہوا۔ حکومت نے عوامی احتجاج سے بچنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی قائم کر دی، تاہم اخوان المسلمون نے کمیٹی میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دیگر اپوزیشن پارٹیوں اور قبائلی قوتوں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا، اور دستور میں وسیع ترترامیم اور ملک میں سیاسی و اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ اتحاد کے اہم مطالبات درج ذیل تھے: پارلیمنٹ کی تشکیل و برخاست کے شاہی اختیارات کو دستوری ترمیم کے ذریعے ختم کیا جائے، پارلیمنٹ کو حکومت کے چناؤ میں زیادہ اختیار حاصل ہو، سینیٹ میں نامزدگی کے بجائے اس کابھی انتخاب ہو ، اینٹی کرپشن قوانین بہتر بنائے جائیں، اور انتخابی قانون کو یکسربدلا جائے۔ 

 پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر حکومت کے خلاف احتجاج ہوا جو پورے ملک میں پھیل گیا ۔ شدید احتجاج کے جواب میں شاہ عبداللہ دوم نے انتخابی قوانین میں ترمیم اور دیگر اصلاحات متعارف کرائیں۔ اخوان المسلمون نے انتخابی قوانین میں ترمیم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ۲۰۱۳ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ 

۲۰۱۴ء میں اخوان المسلمون نے اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاج منظم کیا جو پُرتشدد ہوگیا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور گرفتاریاں ہوئیں۔ حکومت کے ساتھ تعلقات میں اس وقت بدترین موڑ آیا جب ۳۱؍ افراد کو اُن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جو اسرائیل نے فراہم کی تھیں۔ علاوہ اَزیں نائب مرشدِ عام زکی ارشید کو ڈیڑھ سال تک جیل میں رکھا گیا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف بیان دیا ہے۔ 

اخوان المسلمون کے اندرونی اختلافات 

اس سارے سفر میں اخوان المسلمون اختلافات کا شکار بھی ہوئی ۔ دو رائے کے حاملین تو ہمیشہ سے ہی اخوان المسلمون کا حصہ رہے ہیں، جنھیں کبھی عقاب (یعنی سخت موقف والے) اور فاختاؤں (نرم موقف والے)سے تشبیہ دی جاتی رہی۔ فاختائی دھڑے کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مقامی مسائل کی سیاست کو اولیت دی جائے، جب کہ عقابی دھڑے کے زیادہ تر افراد کا تعلق چونکہ فلسطین سے تھا، اس لیے ان کا اصرار تھا کہ فلسطین ایشو کو اخوان المسلمون کی سیاست میں اوّلیت دی جائے کہ اُردن کی بڑی آبادی فلسطینی نژاد ہے۔ 

۲۰۱۲ء میں فاختائی دھڑے کا مطالبہ سامنے آیا کہ اخوان المسلمون (مصر) سے قطع تعلق کر لیا جائے، اور پھر ۲۰۱۴ء میں اسی گروپ نے اخوان المسلمون کی تنظیمی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اختلاف بڑھا تو ۲۰۱۵ء میں جماعت کو اپنے ۱۰؍ اراکین کی رکنیت منسوخ کرنی پڑی، جن میں ایک نمایاں ترین نام عبدالمجید ذنیبات کا بھی تھا۔ایک ماہ کے اندر اندر علیحدہ کیے جانے والے اراکین نے جمعیت اخوان المسلمون کے نام سے الگ جماعت کی بنیاد رکھی، جس کی سربراہی عبدالمجید ذنیبات کر رہے تھے۔ حکومت ِ اُردن نے ان باہمی اختلاف کو اور ہوا دی۔ اور نئی قائم ہونے والی ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کو اُردن میں اخوان المسلمون کا قانونی وارث قرار دیتے ہوئے باقاعدہ رجسٹر کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے اخوان المسلمون کی ملٹی ملین ڈالر مالیت کی سات املاک پر قبضہ کر لیا اور انھیں ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کے نام کر دیا۔ اور باقاعدہ اعلان کردیا کہ جماعت اخوان المسلمون کو عوامی سطح پر کوئی سرگرمی نہیں کرنے دی جائے گی۔ 

۲۰۱۵ءکے آخر میں جماعت میں ایک اور اختلاف در آیا جب ’جبھۃ العمل الاسلامی‘ کے ۴۰۰؍ اراکان نے استعفا دے دیا، ان میں اخوان المسلمون کے چند نمایاں رہنما بھی شامل تھے۔ علیحدہ ہونے والے اراکین نے ۲۰۱۶ء میں نہ صرف نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی بلکہ علی الاعلان اخوان المسلمون کے نظریات سے لاتعلقی کا بیان بھی دیا۔ 

اخوان المسلمون نے اس عرصے میں عوامی امنگوں کے قریب تر رہتے ہوئے اور مقتدر حلقوں کے ساتھ افہام و تفہیم کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ اخوان المسلمون مصر کے ساتھ لاتعلقی کا اعلان کیا، لیکن حکومت نے جماعت پر لگائی ہوئی پابندی نہیں ہٹائی، نیز حکومت نے جماعت کو اس کے اندرونی تنظیمی انتخابات کے انعقاد سے روک دیا اور اس کے مرکزی دفتر کو بھی سیل کر دیا۔ جماعت نے حکومتی پابندی کے باوجود اپنی دعوتی اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اس طرح جبھۃ العمل الاسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔جبھۃ العمل الاسلامی  نے ریاستی کارفرماؤں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی، نیز علاقائی اور داخلی چیلنجوں سے نمٹنے میں بھی مستعدی دکھائی۔سیاسی موقف اور اپنے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی۔ اب اس کا سیاسی موقف ’اسلام ہی حل ہے‘ کے بجائے سویلین اداروں کی ترقی اور شہریوں کے عزت و وقار کی بحالی بن گیا۔ نیز اس جبھۃ نے اپنے انتخابی پروگرام میں اندرونی ملکی مسائل کو موضوع بنایا۔ ممبرشپ عیسائیوں اور خواتین کے لیے بھی کھول دی گئی اور نوجوانوں کا کردار مؤثر بنایا گیا۔ 

۲۰۱۶ء کے انتخابات میں اخوان المسلمون کے بنائے ہوئے اتحاد ’نیشنل الائنس برائے اصلاح‘ نے ۱۵ نشستیں جیت لیں، جب کہ حکومت کی حمایت یافتہ جمعیۃ الاخوان کے حصے میں صرف ایک نشست آئی، اور وہ بھی اس لیے کہ انھوں نے نیشنل کانفرنس کی فہرست پر الیکشن لڑا تھا۔ 

۲۰۱۹ء میں ایک بار پھر تعلقات میں اس وقت دراڑ آئی جب حکومت نے اساتذہ کے احتجاج کا الزام اخوان پر لگایا۔ ۲۰۲۰ء میں عدالتی حکم کے ذریعے اخوان المسلمون کو تحلیل کرنے اور اس کے تمام اثاثہ جات ضبط کرنے کا فیصلہ صادر ہوا، البتہ جبھۃ العمل الاسلامی، جو جماعت کا سیاسی ونگ تھا، کو کام کرنے کی آزادی حاصل رہی۔ 

۲۰۲۲ء کے انتخابات میں جبھۃ العمل الاسلامی نے آٹھ نشستیں جیت لیں، البتہ انتخابی دھاندلی کی بنا پر بلدیاتی اور یونین انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ ۲۰۲۳ء میں طوفان الاقصیٰ کے بعد جماعت اخوان المسلمون نے اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا، اور الیکشن میں جبھۃ العمل الاسلامی ۳۱ پارلیمانی نشستیں جیت کر موجودہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے اُبھری۔ 

دوسری طرف اپریل ۲۰۲۵ء میں حکومت نے ۱۶؍ افراد کو میزائل اور ڈرون تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا اور کہا کہ ’یہ لوگ اُردن کے اندر سیکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے‘۔ ۲۰؍اپریل ۲۰۲۵ء کو حکومت نے اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دے دیا، اور اخوان کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ 

 ایک مسلمان کو اپنے مسلم معاشرے اور اجتماعیت کے ساتھ مربوط رہنے کے لیے ہروقت ایسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے جو اس کے اس تعلق کی تشکیل اور نشو و نما میں بھرپور کردار ادا کریں ۔ اس مقصد کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ مساجد کے ساتھ ربط و تعلق ہے ۔ اس کے لیے دنیا کے ہجوم سے تھوڑا دُور ہونا ضروری ہے۔ ہم اپنی مصروفیات کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے گھر میں قیام کی برکتوں سے روح کو زندہ ، تروتازہ اور نشو و نما دینے والے ماحول میں مساجد سے جڑنے کی بہت ضرورت ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمھیں وہ چیزیں نہ بتاؤں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟ وہ چیزیں: ناگواری کے وقت مکمل وضو کرنا، زیادہ چل کر مساجد کی طرف جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا‘‘۔پھر ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: ’’یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے، یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے، یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے‘‘۔ (موطا ، امام مالک) 

یہ حدیث اس ایمانی و روحانی قوت کی وضاحت کرتی ہے جو ایک مسلمان کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ مسجد سے جڑ جاتا ہے، وہاں جا کر بیٹھتا ہے ، اور اللہ کے گھر میں فرشتوں کے ماحول میں کچھ وقت گزارتا ہے ۔ یوں مسجد مسلمان کے لیے ایک روحانی کلینک بن جاتی ہے جس سے وہ بے نیاز نہیں رہ سکتا، لہٰذا یہاں حاضری اور زیارت ضروری ہے، ایسی حاضری نہیں جو سرسری، رسمی اور نہایت مختصر ہو، جو صرف فرض ادا کرنے کی حد تک ہو، بلکہ یہ محبت کرنے والے کی حاضری ہو ، جس شخص کا دل اپنے رب کے گھر کی طرف کھنچا رہتا ہے، وہ وہاں مہمان بننا پسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس کے شدید تعلق اور محبت کی بنا پر اسے رب کے گھر میں زیادہ دیر ٹھہرتے اور وقت گزارتے دیکھیں گے۔ وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، اور یہ 'مسجد کے ساتھ ’تعلق‘ کے ان مفاہیم میں سے ایک ہے جس کی طرف حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق کے بارے میں ملاء اعلیٰ (فرشتے) جھگڑتے ہیں کہ اس کے عظیم ثواب کی وجہ سے،اسے کیسے لکھا جائے؟جو شخص اس تعلق کی حفاظت کرتا ہے وہ خیر کے ساتھ جیتا ہے اور خیر کے ساتھ مرتا ہے، جیسا کہ حدیث نبویؐ میں آیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے پوچھا: ’اے محمدؐ،، میں نے عرض کیا: ’میں حاضر ہوں اے میرے ربّ، اور تیری سعادت چاہتا ہوں‘، اللہ نے فرمایا: ’ملاء اعلیٰ کس بارے میں جھگڑتے ہیں؟‘ میں نے عرض کیا: ’اے رب، کفارات کے بارے میں، جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے پیدل چل کر جانے کے بارے میں۔ اور ناگواریوں کے باوجود مکمل وضو کرنے کے بارے میں، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں۔ جو شخص ان کاموں کی اہتمام کے ساتھ ادائیگی کرے گا، وہ خیر کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا‘ ۔( کتاب التوحید ، ابن خزیمہ) 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مساجد سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ ایک حدیث میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہےجس میں دوسرے انعامات کی خوش خبری بھی سنائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فرشتے اس بندے کو اللہ کے گھر میں بیٹھنے کے دوران گھیر لیتے ہیں، اور اس کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں، پھر وہ نماز کا ثواب حاصل کرتا رہتا ہے(جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے) جب تک وہ اپنی جائے نماز پر رہتا ہے، چاہے وہ نماز پڑھ چکا ہو۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ لے پھر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے تو فرشتے اس پر مسلسل درود بھیجتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اور اگر وہ اپنی جائے نماز سے اُٹھ کر نماز کا انتظار کرتے ہوئے مسجد میں ہی بیٹھ جائے تو وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اگلی نماز پڑھ لے‘‘۔ 

مسجد کے ساتھ تعلق ہی کو اُمت مسلمہ کی رہبانیت قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ روایت ہے: کہا گیا: یارسولؐ اللہ! ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دیجیے، تو آپؐ نے فرمایا: ’’میری امت کی رہبانیت مسجدوں میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنا ہے‘‘۔ (کتاب الزھد ، ابن المبارک) 

مسجدوں کے ساتھ تعلق اصحابِ رسولؐ کی سنت تھی جس کی وہ پابندی کرتے تھے، اور ایک دوسرے کو اس کی ترغیب دیتے تھے، بلکہ اس میں تعاون کرتے تھے، اور اپنی مسجدوں میں اس کا اہتمام کرتے تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسا کرتے دیکھا، تو ان کے اس عمل کی قدر افزائی فرمائی، اور انھیں خبر دی کہ اللہ ان کے اس عظیم فعل سے راضی ہے۔ 

روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی حجرے سے باہر تشریف لائے، تو اپنی مسجد میں سات صحابہ کو دیکھا جو عرب اور موالی ( آزاد کردہ غلاموں) میں سے تھے۔ آپؐ نے ان سے ان کے بیٹھنے کا سبب پوچھا، تو انھوں نے کہا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپؐ نے اپنی انگلی زمین پر ماری، پھر تھوڑی دیر سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے رب عزوجل نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ فرماتا ہے: جس نے نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا، اور اس کی حدود کو قائم رکھا، تو اس کے لیے میرے ذمے ایک عہد ہے کہ میں اسے اس کے ذریعے جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے نماز کو اس کے وقت پر ادا نہیں کیا، اور اس کی حدود قائم نہیں رکھیں، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں، اگر میں چاہوں تو اسے آگ میں داخل کروں، اور اگر میں چاہوں تو اسے جنت میں داخل کروں‘‘۔(مسند ابن ابی شیبہ) 

کئی صحابہ کرامؓ روایت کرتے ہیں کہ انتظارِ صلوٰۃ کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (السجدہ۳۲: ۱۶) ’’اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں‘‘، اُس نماز کے انتظار کے بارے میں نازل ہوئی جسے عتمہ (عشاء) کہا جاتا ہے۔ (العلل الکبیر للترمذی) 

ایک اور آیت کے نازل ہونے کا سبب بھی انتظارِ صلوٰۃ ہے، جیسا کہ داؤد بن صالح سے روایت ہے، انھوں نے کہا، مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ آیت:اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا ۝۰ۣ (اٰل عمرٰن۳:۲۰۰) کس بارے میں نازل ہوئی؟ میں نے کہا: نہیں، تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی غزوہ کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ یہ نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے۔ (تفسیر الطبری) 

مساجد کے ساتھ تعلق کے نفسیاتی فوائد 

جو شخص مساجد کے ساتھ تعلق اور اس کی ترغیب دینے والی آیات و احادیث پر غور کرتا ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ یہ محض ایک عام عبادت نہیں، یا محض ایک پُرسکون جگہ پر ٹھہرنا نہیں، بلکہ یہ روح کی غذا ہے، تاکہ وہ زندگی کی تھکاوٹوں اور مصروفیتوں کے مقابلے میں مضبوط و مستحکم ہو، اور روح پر حملہ کرنے والی منفی قوتوں پر قابو پایا جائے، تاکہ روح بوڑھی نہ ہو، بلکہ جوان رہے اور مشکلات پر قابو پانے کی اپنے اندر صلاحیت رکھے۔ 

اسی طرح مساجد کے ساتھ تعلق اللہ تعالیٰ کے گھر میں اس کی پناہ حاصل کرنا ہے، اور رحمٰن کی میزبانی میں رہنا ہے، جس سے نفس کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اور اس کا مومن کے نفس پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق میں مساجد کو آباد کرنے اور انھیں اس بے رُخی اور نظراندازی سے بچانے کا احیاء ہے جو ہم آج اس غالب مادی تہذیب کے سائے میں دیکھ رہے ہیں، اور یہی وہ مفہوم ہے جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے: 

فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللہُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ۝۰ۙ يُسَبِّــحُ لَہٗ فِيْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۝۳۶ۙ رِجَالٌ۝۰ۙ لَّا تُلْہِيْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ  وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوۃِ ۝۰۠ۙ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۝۳۷ (النور۲۴: ۳۶-۳۷)  

(اُس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنھیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے۔ اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنھیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کرنے کے طریقے 

اُمت کے افراد، جماعتوں اور ذمہ داران پر واجب ہے کہ وہ امت میں مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کریں۔ اس تعلق کو زندہ کرنےوالے ذرائع میں سے چند نہایت اہم یہاں بیان کیے جاتے ہیں: 

  • جمعہ کے خطبات اور متعدد دروس کو مساجد کے ساتھ تعلق اور اس کی فضیلت کے بارے میں امت کو یاد دہانی کرانے کے لیے خاص کرنا۔ 
  • مسجد کو بستی کا مرکز بناتے ہوئے تزکیہ و تربیت کا ذریعہ بنایا جائے اور معاشرتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ 
  • ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگرام جو امت کو مساجد کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی ترغیب دیں۔ 
  • ویڈیو کلپس نشر کرنا اور پوسٹس بنانا جو مساجد کے ساتھ تعلق کی ترغیب دیں۔ 
  • مساجد کو اس طرح تیار کرنا جو نمازیوں کو راحت کا احساس دلائے اور ان کے دلوں میں مساجد کے ساتھ محبت پیدا کرے۔ 
  • نمازیوں کا نمازوں سے کافی دیر پہلے آنا، اور ان کے بعد بھی کافی دیر تک ٹھیرنا۔ 
  • احادیث میں بیان کی گئی مدت کو مساجد میں ٹھیرنے کے لیے مختص کرنا، جیسے فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک ٹھیرنا، اور اسی طرح مغرب اور عشاء کے درمیان مسجد میں ٹھیرنا۔ 
  • مسجد میں دروس کی حوصلہ افزائی کرنا جو لوگوں کو مساجد میں ٹھیرنے کی اجازت اور موقع فراہم کریں۔ 
  • لوگوں کو مسجد جانے اور وہاں جماعتوں کی صورت میں موجود رہنے کی عادت ڈالنا، تاکہ وہ ایک دوسرے کو مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کرنے کی ترغیب دیں۔ 

مصافحہ محض خوشی کے مواقع پر ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہرملاقات کے موقع پر نہ صرف جائز بلکہ مستحب اور مسنون ہے۔ سنن ابوداؤد میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دو مسلمان آپس میں مل کر مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کرتے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرما دیتا ہے‘‘۔ 

جامع ترمذی میں ارشاد مبارک کے الفاظ یہ ہیں: ’’جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے ہیں، اللہ ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت فرما دیتا ہے‘‘، یعنی ان کا ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا چونکہ مسلمان سے مسلمان کی محبت اور باہمی اکرام کا اظہار ہے، اس لیے یہ ان کی مغفرت کا موجب ہوتاہے۔ سنن ابوداؤد میں ہے کہ حضرت ابوذرؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے وقت آپ لوگوں سے مصافحہ فرمایا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا:’’ کبھی ایسا نہیں ہواکہ میں حضورؐ سے ملا ہوں اور آپ نے مجھ سے مصافحہ نہ کیا ہو‘‘۔ اسی بنا پر مصافحہ کے بارے میں فقہا کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 

مگر ’معانقہ‘ کے معاملے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض فقہا (جن میں امام ابویوسفؒ بھی شامل ہیں)اسے بلا کراہت جائز سمجھتے ہیں، بعض صرف سفر سے واپسی پر یا ایسے ہی کسی غیرمعمولی مواقع پر اس کو جائز اورعام حالات میں مکروہ قرار دیتے ہیں ، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ مطلقاً مکروہ ہے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہےکہ معانقہ کے بارے میں احادیث مختلف ہیں.... ان روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر صرف مصافحہ پر اکتفا فرمایا کرتے تھے۔ معانقہ آپ کا عام معمول نہ تھا۔ البتہ کبھی کبھی کسی خاص موقع پر آپ نے معانقہ فرمایا ہے۔ (’رسائل و مسائل‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، فروری ۱۹۶۶ء، جلد۶۴، عدد۶، ص۶۷-۶۸)