قرآن مجید میں جن اچھائیوں کے حسن کو بہت نمایاں کرکے دکھایا گیا ہے ، ان میں سے ایک سچ ہے، اور جن برائیوں کی شناعت کو خاص طور سے بہت زیادہ ابھار کر پیش کیا گیا ہے، ان میں سے ایک جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سچائی شعار انسانوں کے ساتھ رہنے کی تاکید کی:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ۱۱۹(التوبۃ ۹:۱۱۹ )اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی ناراضگی سے بچو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔
اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو سب سے بڑا ظالم قرار دیا ہے ، ان میں وہ بھی ہیں جو جھوٹ بول کر اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کریں جو اللہ نے فرمائی نہیں ہیں اور وہ بھی ہیں جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی سچ باتوں کو جھٹلادیں۔ فرمایا:
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللہِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَاۗءَہٗ۰ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَہَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ۳۲ (الزمر۳۹: ۳۲) پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا۔ کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف حدیث سننے اور اسے دوسروں تک پہنچانے والوں کے لیے دعا کی ہے :نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ (سنن الترمذی)’’اللہ اس شخص کو شاداب رکھے جو ہم سے کوئی بات (حدیث) سنے تو اسے یاد کرلے اور دوسروں تک پہنچا کے دم لے‘‘۔
دوسری طرف اللہ کے رسول کی طرف جھوٹ بول کر ایسی بات منسوب کرنے کو جو آپؐ نے فرمائی نہیں، بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی دو شکلیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی خود حدیث گھڑ کر اللہ کے رسول کی طرف منسوب کرے۔ دوسری یہ کہ حدیث تو کوئی اور گھڑے لیکن وہ اسے بیان کرنے کا کام کرے۔
پہلی صورت کے بارے میں فرمایا :مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ (صحيح البخاری) ’’جس نے جھوٹ بات گھڑ کر میری طرف منسوب کیا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنالے‘‘۔
دوسری صورت کے بارے میں فرمایا:مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ(سنن ابن ماجہ) ’’جس نے میرے حوالے سے کوئی بات (حدیث) بیان کی حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ دونوں جھوٹوں میں سے ایک ہے‘‘۔
سچ اور جھوٹ کا معاملہ اللہ کے یہاں اتنا اہم ہے کہ ایمان لانے والوں کے لیے ان کا دعوائے ایمان کافی نہیں ہوتا بلکہ انھیں ایسے امتحان سے بھی گزارا جاتا ہے کہ جس سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آجائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۲ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۳ (العنكبوت ۲۹: ۲-۳) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’ہم ایمان لائے‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالانکہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون؟
سچ اجتماعیت کو استحکام عطا کرتا ہے اور جھوٹ انتشار کا سبب بنتا ہے۔سچائی کے ماحول میں باہمی اعتماد فروغ پاتا ہے، ایک دوسرے کو جوڑنے والے رابطے وجود میں آتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی فروغ پاتی ہے۔ جھوٹ کے ماحول میں باہمی اعتماد ختم ہوجاتا ہے، باہمی روابط کمزور ہوجاتے ہیں اور محبت و ہمدردی کے سارے مظاہر مشکوک ہوجاتے ہیں۔
اسلامی اجتماعیت تو مکمل طور سے سچ پر قائم ہوتی ہے۔ صادقِ رسولؐ کی سچی خبر، قرآن محفوظ کی سچی آیتیں ، صحابہ کرامؓ کا سچا کردار، اہلِ اسلام کاسچے دل سے ایمان، اللہ سے سچا عہد و پیمان اور اہل ایمان سے سچی خیر خواہی، اخوّت کا جذبہ بھی سچا اور امیر سے بیعت بھی سچی، غرض اسلامی اجتماعیت کی رگ رگ میں سچ سرایت کیے ہوئے ہوتا ہے۔ جھوٹ کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ اسلامی اجتماعیت میں اہل ایمان کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے جھوٹ کو جگہ ملنے لگے، تو اسلامی اجتماعیت شدید خطرے سے دوچار ہوتی ہے۔ اسی لیے اُمت کے حساس افراد کے نزدیک جھوٹ ہمیشہ ایک سنگین معاملہ رہا ہے، جس کے سلسلے میں انھوں نے کسی قسم کی مداہنت نہیں برتی۔
واقعہ یہ ہے کہ جھوٹ کی جتنی زیادہ یلغار اسلامی امت پر ہوئی اور جھوٹ کا جتنا زیادہ مقابلہ اسلامی امت کے صالحین نے کیا، اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی ہے۔ نبوت کے جھوٹے مدعی، قرآن سے متعلق جھوٹی باتیں، اللہ کی رسولؐ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی روایتیں ، اہل اسلام کی تاریخ میں جھوٹ کی ملاوٹیں، غرض جھوٹ کے حملے ہوتے رہے اور اہل اسلام ان کا منہ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔
جھوٹ بولنے والا جتنا قصور وار ہوتا ہے جھوٹ سننے والا اس سے کم قصور وار نہیں ہوتا۔ جھوٹ کو پھیلانے میں دونوں ہی کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اگر سماج میں لوگ جھوٹ سننے کے سلسلے میں حسّاس ہوجائیں، تو جھوٹ بولنے والوں کی جرأت کم زور پڑجائے گی۔ جھوٹ سننے سے انکار کرنا جھوٹ بولنے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ قرآن مجید میں جھوٹ سننے کی قباحت کو بھی بڑی تاکید سے بیان کیا گیا ہے۔
غیبت کے اندر جہاں بہت سے قبیح پہلو ہیں، وہیں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جھوٹ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ جب ایک شخص سامنے نہیں ہوتا ہے تو اس کے اوپر جھوٹے الزامات لگانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ غیبت سننے والا اس کا لطف اٹھانے کی خاطر اور بسااوقات سامنے والے کی مروّت میں خاموش رہتا ہے، اور غیبت کرنے والا بلا کسی روک ٹوک کے جتنا جھوٹ چاہتا ہے غیر حاضر افراد کے بارے میں بولتا ہے۔
پیٹھ پیچھے برائی اور منہ پر تعریف میں ایک مشترک چیز جھوٹ ہے۔ پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہوئے عام طور سے انسان جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور منہ پر تعریف کرتے ہوئے بھی عام طور سے آدمی جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ پہلی صورت میں آدمی تردید کے لیے موجود نہیں ہوتا ہے، اور دوسری صورت میں وہ موجود تو ہوتا ہے لیکن اس کا ضمیر غیر حاضر ہوتا ہے۔
بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جن سے بظاہر معاشرے میں کوئی بڑی خرابی پیدا ہوتی نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ جھوٹ فروغ پاتا ہے اور اپنی جگہ یہ بھی کوئی چھوٹی برائی نہیں ہے۔ بے ضرر قسم کے جھوٹ جب بار بار بولے جاتے ہیں تو جھوٹ کے سلسلے میں حساسیت ختم ہوجاتی ہے، اور پھر ایسے جھوٹ بھی عام ہونے لگتے ہیں جو پورے معاشرے کے لیے ضرر رساں ہوتے ہیں۔ دینِ اسلام میں ایسے جھوٹ سے بھی منع کیا گیا ہے۔
وہ جھوٹ جو اجتماعیت کو فوری طور پر براہِ راست بڑا نقصان پہنچاتے ہیں، ان میں سے ایک جھوٹا الزام ہے۔ جھوٹا الزام اجتماعیت کے معتبر افراد کو غیر معتبر بنانے کے لیے گھڑا اور پھیلایا جاتا ہے۔
اجتماعیت کو جھوٹ کے برے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے قرآن مجید میں بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہاں ہم دو اصولوں کا ذکر کریں گے، جو قرآن سے حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا اصول خبر کی تحقیق کا ہے اور دوسرا اصول اجتماعیت سے وابستہ افراد پر اعتماد رکھنے کا ہے۔ پہلا اصول ہمیں اس آیت سے حاصل ہوتا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۶ (الحجرات۴۹: ۶) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔
دوسرا اصول ہمیں بہت سی آیتوں میں ملتا ہے، یہاں ایک آیت کا ذکر کرتے ہیں:
لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَيْرًا۰ۙ وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ۱۲ (النور: ۲۴:۱۲) جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے لوگوں کے سلسلے میں نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟
ایک جھوٹی خبر معاشرے کے بہت بڑے حصے کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔ اس لیے ایسی خبروں کی تحقیق بہت ضروری ہوجاتی ہے جن کی بنا پر کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
نقصان جانی بھی ہوتا اور مالی بھی، مادّی بھی ہوتا ہے اور معنوی بھی۔ جنگ کے حالات میں جھوٹی خبر بہت سے بے گناہ لوگوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ معمول کے حالات میں کسی کے بارے میں جھوٹی خبر اس کی عزت کو پامال کرسکتی ہے۔ محبت کی فضا میں جھوٹی خبر نفرت کی آگ بھڑکا سکتی ہے، اور تناؤ کے ماحول میں جھوٹی خبر لڑائی چھیڑ سکتی ہے۔ جھوٹی خبر معتبر افراد کوغیر معتبر بنا سکتی ہے اور متحد جماعت کو انتشار سے دوچار کرسکتی ہے۔
جھوٹی خبر کی تخلیق کرنے والا بے شک بدکردار انسان ہوتا ہے۔ اس خبر کو منتقل کرنے والا بد کردار نہ بھی ہو تو غیر ذمہ دار ضرور ہوتا ہے۔ جھوٹ کی تخلیق کرنے والا عام طور سے پس منظر میں ہوتا ہے اور اسے منتقل کرنے والا نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے۔ لوگ جھوٹ گھڑنے والے کے کردار سے ناواقف ہوتے اور پھیلانے والے کے کردار سے مطمئن ہوتے ہیں، اس لیے بڑے دھڑلے کے ساتھ اسے پھیلاتے ہیں۔
قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ کوئی بد کردار شخص اگر کوئی خبر دے ، تو اس کی اچھی طرح سے جانچ پرکھ کرنی چاہیے، اور کسی نیک نام فرد کے بارے میں کوئی خراب خبر ملے تو اس کے لیے ثبوتوں کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں بدکردار شخص ہمیشہ شک کے دائرے میں رہے جس کا ازالہ تحقیق کے بغیر نہ ہو، اور نیک سیرت شخص ہمیشہ اعتماد کی پوشاک میں ملبوس رہے جسے ٹھوس ثبوتوں کے بغیر تار تار نہ کیا جائے۔
پرانے وقتوں میں باتیں راست انسانوں کے ذریعے پہنچتی تھیں اور ان کےبارے میں جاننا آسان ہوتا تھا۔ بعد میں اخبارات اس کا وسیلہ بنے اور اب ٹکنالوجی کے راستے باتوں کا سیلاب بہتا ہے اور یہ نہیں معلوم ہوپاتا کہ کون سی بات کہاں سےچلی؟ یہ صحیح ہے کہ دورِ حاضر میں خبروں کی تحقیق کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود قرآن کے یہ دو نوں اصول معاشرے کے نیک لوگوں کے تحفظ میں بے حد مفید ہیں۔ ایک یہ کہ ضرر رساں باتیں بغیر تحقیق کے قبول نہ کی جائیں، اور دوسرا یہ کہ ثبوتوں کے بغیر کسی نیک صفت فرد کی عزت پر حرف نہ آنے دیں۔
اے آئی کے ہوش ربا ظہور و فروغ کے بعد خبروں کی صداقت کو جاننا ناممکن حد کو چھوتا نظر آتا ہے۔ یہ امکان خطرے کی گھنٹی بجانے لگا ہے کہ کوئی شریف انسان کسی جرم میں ملوث اس طرح دکھادیا جائے کہ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں اور کوئی انکار ہی نہ کرسکے۔ ایسی صورت میں قرآن مجید کے بیان کردہ دونوں اصولوں کی اہمیت و ضرورت اور زیادہ بڑھ جائے گی۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے اور بیان کرنے کے درمیان ایک ذمہ داری کا پُل مقرر کیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جو سنا جائے وہ بیان بھی کردیا جائے۔اس غیر ذمہ دارانہ حرکت سے معاشرے میں بہت سے فتنوں کو فروغ ملتا ہے۔
آپؐ نے فرمایا:كَفَى بالمرءِ كذِبًا أن يحدِّثَ بِكُلِّ مَا سمِعَ ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنتا ہے سب کچھ بیان بھی کردیتا ہے‘‘۔ اس حدیث سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ سماعت ایک بھاری ذمہ داری ہے۔
آدمی کیا کیا اَن سنی کردے اور کیاسنے ؟ نیز سنی ہوئی کون سی بات بیان کرے اور کون سی بات بیان نہ کرے؟ اس کی سمجھ بوجھ اپنے اندر پیدا کرنا ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ جھوٹ گھڑے بغیر گھڑنے والوں میں شامل ہوجانا خسارے کا سودا ہے۔
جھوٹ سے انسیت اور سنسنی پھیلانے کی اکساہٹ کے نتیجے میں کبھی یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو سننے سے زیادہ بیان کرنے کی چاہت ہوتی ہے۔ بیان کرنے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ وہ سنی ہوئی بات کو سمجھنے اور وزن کرنے کے لیے بھی وقت نکالنے کا روادار نہیں ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا میں یہ کیفیت بہت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ آدمی کسی دوسرے کی پوسٹ کو ٹھیک سے پڑھتا نہیں ہے، کسی دوسرے کی ویڈیو کو بغور دیکھتا نہیں ہے، یہ نہیں سوچتا کہ یہ درست ہے یا نادرست ہے؟ یہ بھی نہیں سوچتا کہ یہ مفید ہے یا ضرر رساں، بس اسے یہ دھن سوار ہوتی ہے کہ یہ سنسنی خیز ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔
قرآن مجید نے اس کے لیے زبردست تعبیر اختیار کی ہے۔ کم زور ایمان اور بیمار دل والوں کے رویے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَتَــقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِكُمْ مَّا لَيْسَ لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَيِّنًا۰ۤۖ وَّہُوَعِنْدَ اللہِ عَظِيْمٌ۱۵ (النور۲۴:۱۵)جب تم اس بات کو اپنی زبانوں کے ذریعے وصول کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے معمولی بات سمجھ رہے تھے، جب کہ اللہ کے یہاں وہ بڑی بات ہے۔
آدمی کو اس کے آلۂ سماعت، یعنی کانوں کے ذریعے باتیں موصول ہوتی ہیں، لیکن اس آیت میں زبان کو ہی وصولیابی کا آلہ بتادیا گیا۔ گویا ایسے لوگوں کی کیفیت بتائی گئی کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلدی سے دوسرے کی زبان سے نکلنے والی بات راست ہماری زبان پر آجائے۔بات کان کے راستے اندر دماغ تک پہنچے، وہاں اس کی کچھ جانچ پڑتال ہو اور اس کے بعد وہ زبان تک آئے، یہ راستہ انھیں بہت طویل معلوم ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی بلاغت یہ ہے کہ اس نے ان کی اس مضحکہ خیز کیفیت کو ایک لفظ سے پوری طرح بیان کردیا۔
جھوٹ کا قلع قمع کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ الزام اور ثبوت کے درمیان فرق واضح رہے۔جھوٹا الزام لگانے والے اپنے الزام ہی کو ثبوت بناکر پیش کرتے ہیں۔ الزامات کی کثرت کو وہ ثبوتوں کی بہتات بتاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ثبوت نہ ہو تو الزامات کی کثرت و قلت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
_______________
گذشتہ شب (۲۴ فروری ۲۰۲۵ء) یوٹیوب پر محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی ایک تازہ گفتگو سننے کا موقع ملا۔ یہ گفتگو فلسطین کی تحریک مزاحمت کے سلسلے میں تھی۔ اس گفتگو میں بھی مجھے وہی خلل نظر آیا، جو عام طور سے مسلمان دانش وروں کے یہاں پایا جاتا ہے۔ وہ بیانیہ تو اپنی سوچ اور مزاج کے مطابق بناتے ہیں، پھر قرآن کریم کی کسی آیت کے ٹکڑے یا حدیث کے کسی حصے کو حسب منشا چسپاں کرکے اپنے طبع زاد بیانیے کو قرآن و سنت کا بیانیہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔
غامدی صاحب کا کہنا یہ ہے کہ ’’فلسطین کے باشندوں کو نیز پوری امت کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ اللہ سے لو لگانا چاہیے۔ اپنے اخلاق درست کرنے چاہئیں۔ علم کے میدان میں ترقی کرنی چاہیے۔ صہیونی غاصبوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ صہیونی طاقتوں کے خلاف مزاحمت نہیں کرنی چاہیے جب تک کہ اللہ تعالیٰ موجود ہ نظامِ عالم کو خود تبدیل نہ کردے‘‘۔
اپنی اس سوچ کو قرآنی قرار دینے کے لیے موصوف قرآن مجید سے دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو مکہ سے باہر نکال دیا گیا تو اللہ نے انھیں حکم دیا (كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ : اپنے ہاتھ جنگ سے روک رکھو)۔ جاوید صاحب کا کہنا ہے کہ جب تک جنگ جیتنے کا یقین یا غالب امکان نہ ہو، قرآن جنگ سے باز رہنے کا حکم دیتاہے، ورنہ وہ جنگ خود کشی ہے۔ ہمیں یہاں پر عرض کرنا ہے کہ قرآن مجید میں کہیں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو (كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ : اپنے ہاتھ جنگ سے روک رکھو) کی ہدایت نہیں فرمائی۔ قرآن کی ایک آیت میں یہ خبر تو دی گئی:’’ لوگوں سے کبھی کہا گیا تھا کہ ہاتھ روکو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو‘‘، لیکن پورے قرآن مجید میں کسی ایک بھی مقام پر اہلِ ایمان کو مخاطب کرکے (كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ : اپنے ہاتھ جنگ سے روک رکھو) کا حکم نہیں دیا گیا۔ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ والی آیت ملاحظہ فرمالیں کہ اس آیت میں بھی قتال سے بھاگنے والوں کی مذمت کی گئی ہے:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ۰ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْـيَۃِ اللہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَۃً۰ۚ وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ۰ۚ لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ۰ۭ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ۰ۚ وَالْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى۰ۣ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۷۷(النساء۴:۷۷) تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو تو جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح اللہ سے ڈرا جاتا ہے یا اس سے بھی زیادہ۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی، کچھ اور مہلت کیوں نہ دی؟ کہہ دو اس دنیا کی متاع بہت قلیل ہے اور جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے ان کے لیے آخرت اس سے کہیں بڑھ کر ہے، اور تمھارے ساتھ ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔
اصل میں كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ ایک وقتی پالیسی تھی، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے نکلنے کے بعد نہیں بلکہ مکہ میں رہتے ہوئے وہاں کے دعوتی مصالح کے تحت اختیار فرمائی تھی۔ قرآن مجید میں وہ بطور مستقل ہدایت کہیں مذکور نہیں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ قاتلوا :جنگ کرو، کا حکم تو قرآن مجید میں متعدد مقام پر ہے، لیکن كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ کا حکم کسی ایک مقام پر بھی نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے اور بار بار کہنے کی ہے کہ قرآن مجید میں قتال کے سلسلے میں بہت اصولی اور بنیادی ہدایت یہ ہے کہ جو جنگ کرے اس سے اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور زیادتی نہ کرو:
وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۱۹۰ (البقرہ۲:۱۹۰) اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کریں اور حد سے بڑھنے والے نہ بنو۔ بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
یعنی اسلام جنگ میں پہل کرنے کی تعلیم نہیں دیتا، لیکن جنگ کی پہل کرنے والوں سے جنگ کرنے کی پُرزور تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا ایک اور پہلو سامنے رہنا چاہیے کہ قرآن کہیں یہ نہیں کہتا ہے کہ جب فتح یقینی ہو یا اس کا غالب گمان ہو تبھی جنگ کرو۔ قرآن تو بہت واضح، کھلے اور واشگاف الفاظ میں کمزور مظلوموں کو طرح طرح سے اس امر کے لیے آمادہ کرتا ہے کہ ’ظالم کتنا ہی زیادہ طاقت ور ہو تم اس کا مقابلہ کرو‘۔
سورۂ بقرہ میں طالوت کی فتح اور جالوت کی شکست کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا جس کا بنیادی پیغام یہ ہے جب دشمن کو دیکھ کر بہتوں کے حوصلے پست ہوجائیں، تو بھی ایمان والے اس یقین سے سرشار رہتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے چھوٹی فوج بڑی فوج کو شکست دے سکتی ہے:
فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ھُوَوَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ۰ۙ قَالُوْا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْيَـوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ۰ۭ قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللہِ۰ۙ كَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِيْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً كَثِيْرَۃًۢ بِـاِذْنِ اللہِ۰ۭ وَاللہُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۲۴۹ (البقرہ ۲:۲۴۹) پھر جب طالوت اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ایمان پر ثابت قدم رہے دریا پار کر گئے تو یہ لوگ بولے کہ اب ہم میں تو جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ بالآخر انھیں اللہ سے ملنا ہے انھوں نے للکارا کہ کتنی چھوٹی جماعتیں رہی ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں، اللہ تو ثابت قدموں کے ساتھ ہوتا ہے۔
سورۂ مائدہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ تفصیلی مکالمہ ذکر کیا گیا ہے، اس کا پیغام بھی یہ ہے کہ اللہ کے مومن بندے دشمن کی بڑی طاقت کو دیکھ کر حوصلہ نہیں ہارتے:
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْہَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ۰ۤۖ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَا حَتّٰي يَخْرُجُوْا مِنْہَا۰ۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْہَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ۲۲ قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْہِمُ الْبَابَ۰ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ۰ۥۚ وَعَلَي اللہِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۲۳ (المائدہ ۵:۲۲-۲۳) وہ بولے کہ اے موسی! اس میں تو بڑے زور آور لوگ ہیں۔ ہم اس میں نہیں داخل ہونے کے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے۔ دو شخصوں نے جو تھے تو انھی ڈرنے والوں ہی میں سے، پر خدا کا ان پر فضل تھا، للکارا کہ تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے پھاٹک میں گھس جاؤ۔ جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے اور اللہ پر بھروسا کرو اگر تم مومن ہو۔
سورۂ انفال میں جنگ بدر کا نقشہ کھینچا گیا کہ بظاہر فتح کے امکانات معدوم تھے، اس وجہ سے بعض لوگوں کو تو لگ رہا تھا کہ خودکشی کے راستے پر انھیں لے جایا جارہا ہے:
كَـمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ۰۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِہُوْنَ۵ۙ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَہُمْ يَنْظُرُوْنَ۶ۭ (انفال۸:-۵-۶) اسی طرح کی بات اس وقت ظاہر ہوئی جب تمھارے رب نے ایک مقصد کے ساتھ تم کو گھر سے نکلنے کا حکم دیا اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو یہ بات ناگوار تھی۔ وہ تم سے امرِ حق میں جھگڑتے رہے باوجود یکہ حق ان پر اچھی طرح واضح تھا، معلوم ہوتا تھا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں اور اس کو دیکھ رہے ہیں۔
سورۂ آل عمران میں جنگ احد کے واقعے کی تفصیل ہے، اس میں بھی یہی پیغام دیا گیا ہے کہ لوگوں کی کثرتِ تعداد سے ایمان والے ذرا نہیں ڈرتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دین کے دشمنوں سے ڈرانا شیطان کا کام ہے:
اَلَّذِيْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِيْمَانًا۰ۤۖ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۱۷۳ فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللہِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْھُمْ سُوْۗءٌ۰ۙ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللہِ۰ۭ وَاللہُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍ۱۷۴ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطٰنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَاۗءَہٗ ۰۠ فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۱۷۵ (اٰل عمرٰن۳: ۱۷۳-۱۷۵) یہ وہ ہیں کہ جن کو لوگوں نے سنایا کہ دشمن نے تمھارے لیے بڑی طاقت اکٹھی کی ہے تو اس سے ڈرو تو اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔ سو یہ لوگ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے، ان کو ذرا گزند نہ پہنچی، اور یہ اللہ کی خوشنودی کے طالب ہوئے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ یہ شیطان ہے جو اپنے رفیقوں کے ڈراوے دے رہا ہے تو تم ان سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔
سورۂ احزاب میں قبائل کے متحدہ لشکر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دشمن بہت بڑی قوت کے ساتھ آیا تھا:
اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللہِ الظُّنُوْنَا۱۰ ہُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا۱۱ (احزاب۳۳:۱۰-۱۱) یاد کرو، جب کہ وہ تم پر آچڑھے، تمھارے اُوپر کی طرف سے بھی اور تمھارے نیچے کی طرف سے بھی، اور جب کہ نگاہیں کج ہوگئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم اللہ کے باب میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت اہل ایمان امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دیے گئے۔
پھر سورۂ توبہ میں بتایا گیا کہ تبوک کے لیے جب نکلنے کا حکم ہوا تو وہ بڑی مشکل گھڑی تھی:
لَقَدْ تَّابَ اللہُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُہٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْہُ فِيْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ۰ۭ اِنَّہٗ بِہِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۱۱۷ (التوبہ۹:۱۱۷) اللہ نے نبی اور ان مہاجرین و انصار پر رحمت کی نظر کی جنھوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے۔ پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی۔ بے شک وہ ان پر نہایت مہربان اور رحیم ہے۔
سورۂ انفال میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ تعداد کے بڑے فرق سے قطع نظر قتال پر اُبھاریں:
يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ۰ۭ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْــرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ۰ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَۃٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ۶۵(انفال۸:۶۵) اے نبیؐ! مومنین کو جہاد پر ابھارو۔ اگر تمھارے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے سو ہوں گے تو ہزار کافروں پر بھاری ہوں گے۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ بصیرت سے محروم ہیں۔
غرض یہ کہ قرآن مجید میں تاریخِ اسلام کے متعدد مواقع کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور ان مواقع کا ذکر کیا گیا ہے جب اہلِ اسلام کے مقابلے میں دشمن کی تعداد اور مادی قوت خوف ناک حد تک زیادہ تھی۔ لیکن کہیں بھی كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ کی تعلیم نہیں دی گئی۔ ہر موقعے پر قاتلوھم کی تاکید کی گئی۔ اس لیے محترم جاوید احمد صاحب سے گزارش ہے کہ اپنی رائے وہ شوق سے پیش کریں، لیکن قرآن مجید کے ساتھ ظلم نہ کریں۔ قرآن مجید ظلم سے روکتا ہے، لیکن ظالموں سے ڈرنا اور ان کے ظلم کو قبول کرلینا نہیں سکھاتا ہے۔ ظالم کتنا ہی طاقت ور ہو وہ اللہ سے زیادہ طاقت ور نہیں ہوسکتا۔ اللہ کی نصرت کے آگے کسی طاقت ور ظالم کی نہیں چلنے والی ہے۔
آخر میں استاذ امام مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے اس ایمان افروز بیان کو ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، جو انھوں نے طالوت اور جالوت کے واقعے کی تفسیر میں تحریر کیا ہے :
وہ حقیقی شجاعت جو خدا کی راہ میں موت کو زندگی سے بھی زیادہ عزیز و محبوب بنا دیتی ہے وہ مومن کے اس عقیدے سے پیدا ہوتی ہے کہ خدا کی راہ میں قتل ہونے والے مرتے نہیں ہیں بلکہ حقیقی زندگی اور اپنے رب کی ملاقات سے مشرف ہوتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے ہمت چھوڑ بیٹھنے والے ساتھیوں کو اُبھارا کہ فلسطینیوں کی کثرتِ تعداد سے مرعوب ہو کر ہمت نہ ہارو اصل شے تعداد نہیں بلکہ اللہ کی تائید اور اس کی نصرت ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ نہایت قلیل التعداد گروہ محض اللہ کے حکم اور اس کی تائید سے دَل با دل فوجوں [بہت بڑی فوج] پر غالب آگیا ہے۔ خدا کی تائید حاصل کرنے کے لیے جو چیز مطلوب ہے وہ صبر و استقامت اور عزم و ہمت ہے نہ کہ تعداد کی کثرت و قلت۔(تدبر قرآن، ج ۱ ص ۵۷۸)
جس دور میں اسلامی فقہ کی تدوین ہوئی مسلمان غالب و حکمران تھے‘ خواہ آبادی کے لحاظ سے وہ اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں ہوں۔ دارالحرب میں مسلمانوں کی موجودگی کا تصور تھا مگر عارضی اور محدود۔ چنانچہ نہ مسلم اقلیت کی اصطلاح تھی نہ فقہ الاقلیات کی تقسیم۔
’فقہ الاقلیات ‘کی اصطلاح گذشتہ چند دہائیوں کے اندر وجود میں آئی اور رفتہ رفتہ خاصی اہمیت اختیار کرگئی۔ فقہ اسلامی کے ماہرین نے اسے بحث و تحقیق کا موضوع بنایا اور متعدد کتابیں‘ مقالے اور مضامین منظرعام پر آگئے۔ جن میں علامہ یوسف قرضاوی‘ ڈاکٹرطٰہٰ جابرعلوانی اورخالد محمدعبدالقادر کی کتابیں قابلِ ذکر ہیں۔ فقہ الاقلیات کے نہج پر عالمی سطح پر اجتہاد و تحقیق کے اجتماعی ادارے بھی قائم ہوئے جن میں سب سے نمایاں نام ’یورپین کونسل فار افتا اینڈ ریسرچ‘ کا ہے۔ اس ادارے نے مغربی ممالک میں رہنے والی مسلم اقلیتوں کی شرعی رہنمائی کے ذیل میں بہت سارے اہم فیصلے کیے۔ ہندستان میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے بعض فیصلے بھی فقہ الاقلیات کے دائرے میں آتے ہیں۔
فقہ الاقلیات کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ غیرمسلم معاشرے میں مسلمانوں کی شرعی رہنمائی‘ اس میںوہ رعایتیں بھی شامل ہیں جو غیرمسلم معاشرے اور غیراسلامی قانون کے تحت رہنے والے مسلمانوں کے مخصوص مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فراہم کی جاتی ہیں‘ اور وہ پابندیاں بھی جو وہاں کے منفرد حالات کے پیش نظرمسلمانوں پر اضافی طور پر عائد ہوتی ہیں۔
فقہ الاقلیات عام اسلامی فقہ سے خارج یا اس کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں ہے بلکہ اسی سے مستفاد‘ اسی کا ثمرہ اور اسی کی ٹھوس بنیادوں پر استوار فقہ ہے۔ فقہ الاقلیات کی سب سے مضبوط بنیاد شریعت کا یہ مسلّمہ قاعدہ ہے کہ فقہ کے وہ احکام جن میں حالات اور نتائج کا اعتبار کیا گیا ہے‘ اگر حالات تبدیل ہو جائیں یا مطلوبہ نتائج تقاضا کریں تو ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ فقہ کی تاریخ میں اس قاعدے کے انطباق کی بے شمار مثالیں ہیں۔ بعض مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں نے ان کے بعد ان کے مسلک سے اختلاف کیا۔ علماے احناف نے ان کے بارے میں کہا کہ یہ اختلاف دلیل کے اختلاف کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ زمانے کے بدل جانے کا نتیجہ ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ مدینہ کے گورنر تھے تو ایک گواہ کے ساتھ ایک قَسم کو کافی قرار دیتے تھے مگر شام آئے اور وہاں جھوٹ کو عام دیکھا تو فیصلے کے لیے دو گواہوں کا ہونا لازم قرار دے دیا۔
فقہا نے زمان و مکان اور حالات کے جس فرق کا اعتبار کیا ہے ‘ مسلم ممالک اور غیرمسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے حالات کا فرق اس سے کہیں زیادہ ہے اور اعتبار کا زیادہ شدت سے متقاضی ہے۔
شریعت کا ایک اور مسلّمہ قاعدہ ہے کہ ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے۔ اس سلسلے میں علامہ یوسف قرضاوی کا تاثر ہے کہ فقہا نے افراد کی انفرادی ضرورتوں کا لحاظ تو کیا ہے مگر پورے معاشرے کی اجتماعی ضرورتوں کا لحاظ بہت کم کیا گیا ہے۔ مسلم اقلیت جن اضطراری حالات سے دوچار ہوتی ہے ان کا اعتبار فقہ الاقلیات کا اہم حصہ ہے۔
شریعت کا ایک مسلّمہ قاعدہ سدّذرائع کا بھی ہے‘ یعنی مفاسد سے بچنے کے لیے ان مباحات سے پرہیز جو جائز ہونے کے باوجود شرکے ارتکاب کا سبب ہوسکتے ہیں۔ فقہ الاقلیات میں ایسے مباح امور کی شدت سے نگرانی کی جاتی ہے۔ کیونکہ مسلم معاشرے کے بہ نسبت غیرمسلم معاشرے میں مفاسد کے فروغ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
فقہ الاقلیات یسرّوا ولا تعسّروا کے اصول پر عمل پیرا ہوتی ہے۔ شریعت پر عمل کو دشوار بنانے کے بجاے آسان بنانا پیش نظر ہوتا ہے۔ علامہ قرضاوی کا خیال ہے کہ صحابہ و تابعین دین میں آسانی کا مزاج رکھتے تھے۔ بعد میں دین میں احتیاط کا مزاج بڑھتا گیا اور دین پر آسانی کے بجاے احتیاط غالب آگئی۔ فقہ الاقلیات میں صحابہ کے رویے کی طرف پلٹنے پر زور دیا جاتا ہے۔
فقہ الاقلیات اصولوں میں بھی اور جزئیات میں بھی عام اسلامی فقہ سے ہی مستفاد ہے۔ البتہ اس میں کسی ایک مسلک کی پابندی نہیں کی جاتی ہے بلکہ اسلامی فقہ کا پورا ذخیرہ اس کے سامنے رہتا ہے۔ نہ صرف وہ فقہی اقوال جن پر اُمت عمل پیرا ہے بلکہ فقہاے اُمت کے وہ اقوال بھی جو کسی وجہ سے اُمت میں مقبول نہیں ہوئے مگر آج ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ سے منقول اقوال و فتاویٰ بھی اہمیت کے حامل ہیںخواہ کسی مسلک کے امام نے ان کو اختیار نہ کیا ہو۔ بنیادی امر یہ ہے کہ دلائل‘ احکام کے نتائج‘ شریعت کے مقاصد اور وہ حالات جن میں شریعت کا نفاذ ہونا ہے ان سارے امور کا مجموعی تقاضا جو ہو اسے اختیار کیا جائے۔ کسی ایک مسلک کی تقلید پر مکمل جمود حالات کے تبدیل ہوجانے پر عام اسلامی معاشرے کے لیے سودمند نہیں ہوسکتا ہے۔ چہ جاے کہ مسلم اقلیتوں کے لیے جن کے حالات حددرجہ مخصوص نہیں ہیں۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ فقہ الاقلیات شریعت کے احکام سے فرار کے لیے زیربحث نہیں آیا‘ اس کا محرک احکام الٰہی کے سلسلے میں رعایت کا جذبہ نہیں ہے‘ بلکہ یہ تو اس وقت زیربحث آیا جب بطور خاص مغرب میں قیام پذیر مسلمانوں میں دین پر عمل کا جذبہ بیدار ہوا اور ان کو یہ احساس ہوا کہ گذشتہ ایک یا دو نسلوں کی غفلت کے باعث وہ دین کی عظیم نعمت کو کھوتے جارہے ہیں۔ بیداری کے اس مرحلے میں انھیں یہ احساس ہوا کہ شریعت پرعمل پیرا ہونے کے راستے میں ان کے سامنے متعدد رکاوٹیں ہیں جن کا حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ فقہ الاقلیات میں رکاوٹوں اور مسائل کو دور کرکے شریعت پر عمل کو یقینی بنانے کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ بیمار کو تیمم کی رعایت وضو سے بچانے کے لیے نہیں دی جاتی ہے بلکہ اس لیے دی جاتی ہے کہ نماز کی ادایگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ فقہ الاقلیات میں جوبھی رعایتیں دی جاتی ہیں وہ صرف اس لیے کہ شریعت پر عمل آسانی کے ساتھ ہوسکے‘ اور یہ رعایتیں بھی وہی ہوتی ہیں جو شریعت خود عطاکرتی ہے۔ مگر ہمارا جمود اس کے سامنے حائل ہوگیاہے۔
فقہ الاقلیات ایک متحرک فقہ ہے۔ اس میں دعوتی عنصر شامل بلکہ حاوی ہے۔ اس میں مسلم اقلیت کی یہ حیثیت پیش نظر رہتی ہے کہ وہ اسلامی اور غیراسلامی معاشرے کے درمیانی دعوتی تعلق کا سب سے اہم اور مؤثر ذریعہ ہے۔ چنانچہ اس فقہ میں مسلم اقلیت کے غیرمسلم اکثریت کے ساتھ روابط پر گفتگو کی جاتی ہے اور ایک مثبت اور دعوتی رویہ اپنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
دیگر اقلیتوں کے بالمقابل مسلم اقلیتیں چوں کہ ہر جگہ اکثریت کے مقابلے میں معاشی‘ تعلیمی اور سیاسی لحاظ سے کمزور اور پس ماندہ ہی ہوتی ہے۔ فقہ الاقلیات میںاس پہلو پر بھی زور دیا جاتا ہے کہ ہمارے وہ فتوے جو اجتہادی نوعیت کے ہوتے ہیں‘ ساتھ ہی مختلف فیہ بھی ہوتے ہیں‘ ان پر اصرار ان مسلمانوں کی پس ماندگی میں مزید اضافہ نہ کرے بلکہ ان کی معاشی‘ تعلیمی اور سیاسی ترقی کی ضرورت کو معتبر ضرورت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
فقہ الاقلیات میں بہت سارے ایسے مسائل بھی زیربحث آئے ہیں جن کا تعلق ایسے ممالک کے جغرافیائی حالات سے ہے جہاں عموماً مسلم اقلیتیں ہی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر ان علاقوں میں عشاء کی نماز کا مسئلہ جہاںمغرب کا وقت ختم ہوتے ہی فجر طلوع ہوجاتی ہے یا وہ علاقے جہاں عشاء کا وقت رات گئے شروع ہوتا ہے یا وہ علاقے جہاں روزے کے لیے مقرر وقت ۲۰گھنٹے کا ہوجاتا ہے۔ ان مسائل کا تعلق مسلمانوں کے اقلیت میںہونے سے نہیں ہے مگر چوںکہ عملاً ایسے علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں اس لیے فقہ الاقلیات میں یہ مسائل بھی زیربحث آتے ہیں۔
فقہ الاقلیات میں اب تک جو اہم مسائل زیربحث آئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: کیا نومسلم اپنے غیرمسلم رشتہ دار کا وارث بن سکتا ہے یا وہ اس جایداد کو چھوڑ دے کہ غیرمسلم حکومت اسے اپنے قبضے میں کرلے؟ کیا ایک نومسلم عورت کے لیے اپنے غیرمسلم شوہر کے گھر کو چھوڑ دینا فوراً ضروری ہے یا اسے موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہ کر دین کی تبلیغ کرے؟ کیا مسلمان مرد عیسائی یا یہودی عورت سے غیرمسلم ملک میں رہتے ہوئے شادی کرسکتا ہے یا اس پر بطور خاص پابندی لگائی جائے کہ اس صورت میں بچے یقینی طور پر غیرمسلم ماں اور اس ماحول سے متاثر ہوں گے‘ جب کہ مسلم معاشرے میں رہ کر ایسی شادی کی اجازت شریعت دیتی ہے؟ انتخابات میں حصہ لینے کا مسئلہ بھی فقہ الاقلیات کے دائرے میں آتا ہے۔ یہ اور ایسے دوسرے بہت سے مسائل دورِ جدید کے علما کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔