قرآن مجید میں جن اچھائیوں کے حسن کو بہت نمایاں کرکے دکھایا گیا ہے ، ان میں سے ایک سچ ہے، اور جن برائیوں کی شناعت کو خاص طور سے بہت زیادہ ابھار کر پیش کیا گیا ہے، ان میں سے ایک جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سچائی شعار انسانوں کے ساتھ رہنے کی تاکید کی:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ۱۱۹(التوبۃ ۹:۱۱۹ )اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی ناراضگی سے بچو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔
اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو سب سے بڑا ظالم قرار دیا ہے ، ان میں وہ بھی ہیں جو جھوٹ بول کر اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کریں جو اللہ نے فرمائی نہیں ہیں اور وہ بھی ہیں جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی سچ باتوں کو جھٹلادیں۔ فرمایا:
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللہِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَاۗءَہٗ۰ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَہَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ۳۲ (الزمر۳۹: ۳۲) پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا۔ کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف حدیث سننے اور اسے دوسروں تک پہنچانے والوں کے لیے دعا کی ہے :نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ (سنن الترمذی)’’اللہ اس شخص کو شاداب رکھے جو ہم سے کوئی بات (حدیث) سنے تو اسے یاد کرلے اور دوسروں تک پہنچا کے دم لے‘‘۔
دوسری طرف اللہ کے رسول کی طرف جھوٹ بول کر ایسی بات منسوب کرنے کو جو آپؐ نے فرمائی نہیں، بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی دو شکلیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی خود حدیث گھڑ کر اللہ کے رسول کی طرف منسوب کرے۔ دوسری یہ کہ حدیث تو کوئی اور گھڑے لیکن وہ اسے بیان کرنے کا کام کرے۔
پہلی صورت کے بارے میں فرمایا :مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ (صحيح البخاری) ’’جس نے جھوٹ بات گھڑ کر میری طرف منسوب کیا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنالے‘‘۔
دوسری صورت کے بارے میں فرمایا:مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ(سنن ابن ماجہ) ’’جس نے میرے حوالے سے کوئی بات (حدیث) بیان کی حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ دونوں جھوٹوں میں سے ایک ہے‘‘۔
سچ اور جھوٹ کا معاملہ اللہ کے یہاں اتنا اہم ہے کہ ایمان لانے والوں کے لیے ان کا دعوائے ایمان کافی نہیں ہوتا بلکہ انھیں ایسے امتحان سے بھی گزارا جاتا ہے کہ جس سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آجائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۲ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۳ (العنكبوت ۲۹: ۲-۳) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’ہم ایمان لائے‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالانکہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون؟
سچ اجتماعیت کو استحکام عطا کرتا ہے اور جھوٹ انتشار کا سبب بنتا ہے۔سچائی کے ماحول میں باہمی اعتماد فروغ پاتا ہے، ایک دوسرے کو جوڑنے والے رابطے وجود میں آتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی فروغ پاتی ہے۔ جھوٹ کے ماحول میں باہمی اعتماد ختم ہوجاتا ہے، باہمی روابط کمزور ہوجاتے ہیں اور محبت و ہمدردی کے سارے مظاہر مشکوک ہوجاتے ہیں۔
اسلامی اجتماعیت تو مکمل طور سے سچ پر قائم ہوتی ہے۔ صادقِ رسولؐ کی سچی خبر، قرآن محفوظ کی سچی آیتیں ، صحابہ کرامؓ کا سچا کردار، اہلِ اسلام کاسچے دل سے ایمان، اللہ سے سچا عہد و پیمان اور اہل ایمان سے سچی خیر خواہی، اخوّت کا جذبہ بھی سچا اور امیر سے بیعت بھی سچی، غرض اسلامی اجتماعیت کی رگ رگ میں سچ سرایت کیے ہوئے ہوتا ہے۔ جھوٹ کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ اسلامی اجتماعیت میں اہل ایمان کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے جھوٹ کو جگہ ملنے لگے، تو اسلامی اجتماعیت شدید خطرے سے دوچار ہوتی ہے۔ اسی لیے اُمت کے حساس افراد کے نزدیک جھوٹ ہمیشہ ایک سنگین معاملہ رہا ہے، جس کے سلسلے میں انھوں نے کسی قسم کی مداہنت نہیں برتی۔
واقعہ یہ ہے کہ جھوٹ کی جتنی زیادہ یلغار اسلامی امت پر ہوئی اور جھوٹ کا جتنا زیادہ مقابلہ اسلامی امت کے صالحین نے کیا، اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی ہے۔ نبوت کے جھوٹے مدعی، قرآن سے متعلق جھوٹی باتیں، اللہ کی رسولؐ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی روایتیں ، اہل اسلام کی تاریخ میں جھوٹ کی ملاوٹیں، غرض جھوٹ کے حملے ہوتے رہے اور اہل اسلام ان کا منہ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔
جھوٹ بولنے والا جتنا قصور وار ہوتا ہے جھوٹ سننے والا اس سے کم قصور وار نہیں ہوتا۔ جھوٹ کو پھیلانے میں دونوں ہی کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اگر سماج میں لوگ جھوٹ سننے کے سلسلے میں حسّاس ہوجائیں، تو جھوٹ بولنے والوں کی جرأت کم زور پڑجائے گی۔ جھوٹ سننے سے انکار کرنا جھوٹ بولنے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ قرآن مجید میں جھوٹ سننے کی قباحت کو بھی بڑی تاکید سے بیان کیا گیا ہے۔
غیبت کے اندر جہاں بہت سے قبیح پہلو ہیں، وہیں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جھوٹ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ جب ایک شخص سامنے نہیں ہوتا ہے تو اس کے اوپر جھوٹے الزامات لگانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ غیبت سننے والا اس کا لطف اٹھانے کی خاطر اور بسااوقات سامنے والے کی مروّت میں خاموش رہتا ہے، اور غیبت کرنے والا بلا کسی روک ٹوک کے جتنا جھوٹ چاہتا ہے غیر حاضر افراد کے بارے میں بولتا ہے۔
پیٹھ پیچھے برائی اور منہ پر تعریف میں ایک مشترک چیز جھوٹ ہے۔ پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہوئے عام طور سے انسان جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور منہ پر تعریف کرتے ہوئے بھی عام طور سے آدمی جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ پہلی صورت میں آدمی تردید کے لیے موجود نہیں ہوتا ہے، اور دوسری صورت میں وہ موجود تو ہوتا ہے لیکن اس کا ضمیر غیر حاضر ہوتا ہے۔
بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جن سے بظاہر معاشرے میں کوئی بڑی خرابی پیدا ہوتی نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ جھوٹ فروغ پاتا ہے اور اپنی جگہ یہ بھی کوئی چھوٹی برائی نہیں ہے۔ بے ضرر قسم کے جھوٹ جب بار بار بولے جاتے ہیں تو جھوٹ کے سلسلے میں حساسیت ختم ہوجاتی ہے، اور پھر ایسے جھوٹ بھی عام ہونے لگتے ہیں جو پورے معاشرے کے لیے ضرر رساں ہوتے ہیں۔ دینِ اسلام میں ایسے جھوٹ سے بھی منع کیا گیا ہے۔
وہ جھوٹ جو اجتماعیت کو فوری طور پر براہِ راست بڑا نقصان پہنچاتے ہیں، ان میں سے ایک جھوٹا الزام ہے۔ جھوٹا الزام اجتماعیت کے معتبر افراد کو غیر معتبر بنانے کے لیے گھڑا اور پھیلایا جاتا ہے۔
اجتماعیت کو جھوٹ کے برے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے قرآن مجید میں بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہاں ہم دو اصولوں کا ذکر کریں گے، جو قرآن سے حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا اصول خبر کی تحقیق کا ہے اور دوسرا اصول اجتماعیت سے وابستہ افراد پر اعتماد رکھنے کا ہے۔ پہلا اصول ہمیں اس آیت سے حاصل ہوتا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۶ (الحجرات۴۹: ۶) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔
دوسرا اصول ہمیں بہت سی آیتوں میں ملتا ہے، یہاں ایک آیت کا ذکر کرتے ہیں:
لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَيْرًا۰ۙ وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ۱۲ (النور: ۲۴:۱۲) جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے لوگوں کے سلسلے میں نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟
ایک جھوٹی خبر معاشرے کے بہت بڑے حصے کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔ اس لیے ایسی خبروں کی تحقیق بہت ضروری ہوجاتی ہے جن کی بنا پر کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
نقصان جانی بھی ہوتا اور مالی بھی، مادّی بھی ہوتا ہے اور معنوی بھی۔ جنگ کے حالات میں جھوٹی خبر بہت سے بے گناہ لوگوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ معمول کے حالات میں کسی کے بارے میں جھوٹی خبر اس کی عزت کو پامال کرسکتی ہے۔ محبت کی فضا میں جھوٹی خبر نفرت کی آگ بھڑکا سکتی ہے، اور تناؤ کے ماحول میں جھوٹی خبر لڑائی چھیڑ سکتی ہے۔ جھوٹی خبر معتبر افراد کوغیر معتبر بنا سکتی ہے اور متحد جماعت کو انتشار سے دوچار کرسکتی ہے۔
جھوٹی خبر کی تخلیق کرنے والا بے شک بدکردار انسان ہوتا ہے۔ اس خبر کو منتقل کرنے والا بد کردار نہ بھی ہو تو غیر ذمہ دار ضرور ہوتا ہے۔ جھوٹ کی تخلیق کرنے والا عام طور سے پس منظر میں ہوتا ہے اور اسے منتقل کرنے والا نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے۔ لوگ جھوٹ گھڑنے والے کے کردار سے ناواقف ہوتے اور پھیلانے والے کے کردار سے مطمئن ہوتے ہیں، اس لیے بڑے دھڑلے کے ساتھ اسے پھیلاتے ہیں۔
قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ کوئی بد کردار شخص اگر کوئی خبر دے ، تو اس کی اچھی طرح سے جانچ پرکھ کرنی چاہیے، اور کسی نیک نام فرد کے بارے میں کوئی خراب خبر ملے تو اس کے لیے ثبوتوں کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں بدکردار شخص ہمیشہ شک کے دائرے میں رہے جس کا ازالہ تحقیق کے بغیر نہ ہو، اور نیک سیرت شخص ہمیشہ اعتماد کی پوشاک میں ملبوس رہے جسے ٹھوس ثبوتوں کے بغیر تار تار نہ کیا جائے۔
پرانے وقتوں میں باتیں راست انسانوں کے ذریعے پہنچتی تھیں اور ان کےبارے میں جاننا آسان ہوتا تھا۔ بعد میں اخبارات اس کا وسیلہ بنے اور اب ٹکنالوجی کے راستے باتوں کا سیلاب بہتا ہے اور یہ نہیں معلوم ہوپاتا کہ کون سی بات کہاں سےچلی؟ یہ صحیح ہے کہ دورِ حاضر میں خبروں کی تحقیق کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود قرآن کے یہ دو نوں اصول معاشرے کے نیک لوگوں کے تحفظ میں بے حد مفید ہیں۔ ایک یہ کہ ضرر رساں باتیں بغیر تحقیق کے قبول نہ کی جائیں، اور دوسرا یہ کہ ثبوتوں کے بغیر کسی نیک صفت فرد کی عزت پر حرف نہ آنے دیں۔
اے آئی کے ہوش ربا ظہور و فروغ کے بعد خبروں کی صداقت کو جاننا ناممکن حد کو چھوتا نظر آتا ہے۔ یہ امکان خطرے کی گھنٹی بجانے لگا ہے کہ کوئی شریف انسان کسی جرم میں ملوث اس طرح دکھادیا جائے کہ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں اور کوئی انکار ہی نہ کرسکے۔ ایسی صورت میں قرآن مجید کے بیان کردہ دونوں اصولوں کی اہمیت و ضرورت اور زیادہ بڑھ جائے گی۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے اور بیان کرنے کے درمیان ایک ذمہ داری کا پُل مقرر کیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جو سنا جائے وہ بیان بھی کردیا جائے۔اس غیر ذمہ دارانہ حرکت سے معاشرے میں بہت سے فتنوں کو فروغ ملتا ہے۔
آپؐ نے فرمایا:كَفَى بالمرءِ كذِبًا أن يحدِّثَ بِكُلِّ مَا سمِعَ ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنتا ہے سب کچھ بیان بھی کردیتا ہے‘‘۔ اس حدیث سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ سماعت ایک بھاری ذمہ داری ہے۔
آدمی کیا کیا اَن سنی کردے اور کیاسنے ؟ نیز سنی ہوئی کون سی بات بیان کرے اور کون سی بات بیان نہ کرے؟ اس کی سمجھ بوجھ اپنے اندر پیدا کرنا ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ جھوٹ گھڑے بغیر گھڑنے والوں میں شامل ہوجانا خسارے کا سودا ہے۔
جھوٹ سے انسیت اور سنسنی پھیلانے کی اکساہٹ کے نتیجے میں کبھی یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو سننے سے زیادہ بیان کرنے کی چاہت ہوتی ہے۔ بیان کرنے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ وہ سنی ہوئی بات کو سمجھنے اور وزن کرنے کے لیے بھی وقت نکالنے کا روادار نہیں ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا میں یہ کیفیت بہت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ آدمی کسی دوسرے کی پوسٹ کو ٹھیک سے پڑھتا نہیں ہے، کسی دوسرے کی ویڈیو کو بغور دیکھتا نہیں ہے، یہ نہیں سوچتا کہ یہ درست ہے یا نادرست ہے؟ یہ بھی نہیں سوچتا کہ یہ مفید ہے یا ضرر رساں، بس اسے یہ دھن سوار ہوتی ہے کہ یہ سنسنی خیز ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔
قرآن مجید نے اس کے لیے زبردست تعبیر اختیار کی ہے۔ کم زور ایمان اور بیمار دل والوں کے رویے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَتَــقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِكُمْ مَّا لَيْسَ لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَيِّنًا۰ۤۖ وَّہُوَعِنْدَ اللہِ عَظِيْمٌ۱۵ (النور۲۴:۱۵)جب تم اس بات کو اپنی زبانوں کے ذریعے وصول کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے معمولی بات سمجھ رہے تھے، جب کہ اللہ کے یہاں وہ بڑی بات ہے۔
آدمی کو اس کے آلۂ سماعت، یعنی کانوں کے ذریعے باتیں موصول ہوتی ہیں، لیکن اس آیت میں زبان کو ہی وصولیابی کا آلہ بتادیا گیا۔ گویا ایسے لوگوں کی کیفیت بتائی گئی کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلدی سے دوسرے کی زبان سے نکلنے والی بات راست ہماری زبان پر آجائے۔بات کان کے راستے اندر دماغ تک پہنچے، وہاں اس کی کچھ جانچ پڑتال ہو اور اس کے بعد وہ زبان تک آئے، یہ راستہ انھیں بہت طویل معلوم ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی بلاغت یہ ہے کہ اس نے ان کی اس مضحکہ خیز کیفیت کو ایک لفظ سے پوری طرح بیان کردیا۔
جھوٹ کا قلع قمع کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ الزام اور ثبوت کے درمیان فرق واضح رہے۔جھوٹا الزام لگانے والے اپنے الزام ہی کو ثبوت بناکر پیش کرتے ہیں۔ الزامات کی کثرت کو وہ ثبوتوں کی بہتات بتاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ثبوت نہ ہو تو الزامات کی کثرت و قلت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
_______________