ڈاکٹر صفدر محمود


یہ ۱۹۳۶ء کی بات ہے کہ علامہ اقبال نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’’میری قوم کی ترقی کا راز سیاسی آزادی میں پنہاں ہے۔ برطانوی استعمار راستے کی بڑی رکاوٹ ہے اور ہندوئوں کا غلبہ ہمارے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں طرف کا دبائو ہمیں کچل رہا ہے‘‘۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا: ’’مسلمانوں کی فلاح و بہبود میری ساری زندگی کا مشن رہا ہے‘‘ (اوراقِ گم گشتہ، مرتبہ: رحیم بخش شاہین، ص۲۵۵، بحوالہ اقبال اور قائداعظم، مرتبہ: احمدسعید، ص ۷۷)۔   اس زمانے میں علامہ اقبال کی نظر محمدعلی جناح پر کیوں پڑی ؟ علامہ نے وضاحت سے فرمایا: ’’میری بصیرت کہتی ہے کہ مسٹر جناح ، ملّت اسلامی کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔ یہ میری پیش گوئی ہے کہ مسٹرجناح ایسے کردار، اخلاق، فہم، تدبر اور عزمِ محکم کے مالک ہیں، جن کی بناپر بہت جلد ایک ایسے عوامی ہیرو بن جائیں گے کہ مسلم ہندستان میں ابھی تک اس قسم کا کوئی لیڈرپیدا ہی نہیں ہوا‘‘۔ (ایضاً، احمد سعید، ص ۷۷، ۷۸)

۱۹۳۶ء کے اواخر میں اپنے احباب سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال نے کہا:’’مسٹر جناح کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے، جو آج تک ہندستان کے کسی مسلمان میں مجھے نظر نہیں آئی۔ [یعنی] He is incorruptible and umpurchasable۔ (آثارِ اقبال، غلام دست گیر رشید، ص ۴۱، ایضاً، ص ۸۲)۔پھر اس زمانے میں ہندستان میں مسلمانوں کی حالت ِ زار کی مناسبت سے فرمایا: ’’مسلمانوں کی طرف سے اگر کسی شخص کو بات کرنے کا حق ہے، تو وہ صرف مسٹر جناح ہیں‘‘۔ (اقبال کے آخری دو سال، عاشق حسین بٹالوی، ص ۳۸۶، ایضاً،ص ۸۰)
راجا حسن اختر نے پوچھا: ’’کیا ہندستان میں کوئی ایسا شخص ہے، جسے ہم آپ کی خودی کا مظہر کہہ سکیں؟‘‘ علامہ اقبال نے جواب دیا: ’’ہاں، بالکل ہے اور وہ محمدعلی جناح ہے۔ اپنی قوم کو مَیں جس خودی کا درس دے رہا ہوں وہ محمدعلی جناح کے وجود میں جلوہ فرما ہے۔حق بات کہنے میں اسے باک نہیں، نہایت اعتباری آدمی ہے۔ مسلم قوم کا نجات دہندہ ہونے کی ساری صفات اس میں پائی جاتی ہیں‘‘ (ایضاً، ص ۷۹)۔ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو قائداعظم نے پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں سے کہا: ’’آج کل مسلمانوں کا سب سے اہم فرض یہی ہے کہ وہ اپنی تنظیم کریں اور ہندستان کی واحد اسلامی سیاسی جماعت ’آل انڈیا مسلم لیگ‘ کے جھنڈے تلے ایک محاذ پر جمع ہوجائیں۔ ہماری اُمیدیں نوجوانوں سے وابستہ ہیں۔ مَیں آپ کی کامیابی کے لیے دست ِ بہ دُعا ہوں‘‘(روزنامہ انقلاب، لاہور، ۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۷ء، ایضاً، ص ۷۹)۔علامہ اقبال نے قائداعظم کی تائید میں بیان جاری کیا اور فرمایا: ’’میں مسٹر جناح کے ایک ایک لفظ کی تائید کرتا ہوں۔ مسلمان نوجوانوں کو اس سے بہتر مشورہ نہیں دیا جاسکتا‘‘۔ (گفتار اقبال، مرتبہ: رفیق افضل، بحوالہ ایضاً، ص ۷۹)
قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے دہلی اجلاس میں کانگرسی وزارتوں کے طرزِعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’’بندے ماترم‘ مسلم دشمن ترانہ ہے، جسےمسلمان بچوں کو اسکولوں میں پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بندے ماترم سے شرک کی بُو آتی ہے اور یہ مسلمانوں کے خلاف نعرئہ جنگ ہے‘‘۔ علامہ اقبال کو جب اخبار میں قائداعظم کا بیان بڑھ کر سنایا گیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’مسلمانوں کو چاہیے کہ جناح کے ہاتھ مضبوط کریں۔ لیگ کامیاب ہوگی تو جناح کے سہارے۔ جناح کے سوا اب کوئی مسلمانوں کی قیادت کا اہل نہیں‘‘۔ (اقبال کے حضور، نذیر نیازی، ص ۱۳۵، ایضاً، ص ۸۳)

علامہ محمد اقبال نے اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے سے پہلے قائداعظم کو ۳۷-۱۹۳۶ء میں نہایت پُرمغز خطوط لکھے، جن میں قائداعظم کی سیاسی و فکری رہنمائی کی۔ اُن کو مسلمانوں کے لیے آزاد مملکت کے مطالبے پر قائل کیا۔ اپنی وفات سے گیارہ ماہ قبل علامہ اقبال نے جناح کے نام خط مؤرخہ ۲۸مئی ۱۹۳۷ء میں لکھا:

’’مسلم لیگ کو آخرکار یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے محض اعلیٰ طبقے کی نمایندہ بنی رہے یا عام مسلمانوں کی نمایندگی کرے۔ جب تک کوئی سیاسی تنظیم، عام مسلمانوں کی حالت سدھارنے کا وعدہ نہ کرے، وہ اس وقت تک عوام کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی۔ نئے دستور کے تحت اعلیٰ ملازمتیں بالائی طبقوں کے بچوں کے لیے مختص ہیں۔ روٹی کا مسئلہ روز بروز نازک ہوتا جارہا ہے۔ مسلمانوں میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ وہ گذشتہ دوسو سال سے برابر تنزل کی طرف جارہے ہیں۔ غربت کی وجہ ہندو سودخوری اور سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی غربت کا علاج کیا ہے؟ خوش قسمتی سے اسلامی قانون کے نفاذ سے اس مسئلے کا حل ہوسکتا ہے۔ اسلامی قانون کے گہرے اور دقت ِنظر مطالعے کے بعد مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس قانون کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، تو کم از کم ہرشخص کے لیے   حقِ روزی تو محفوظ ہوجاتا ہے۔لیکن جب تک اس ملک میں ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستیں معرضِ وجود میں نہ آئیں، اسلامی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں.... مجھے اتنا ضرور  نظر آتا ہے کہ اگر ہندومت نے معاشرتی جمہوریت کو قبول کرلیا تو خود ہندو دھرم کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اسلام کے لیے معاشرتی جمہوریت کا کسی موزوں شکل میں اور شریعت کے مطابق قبول کرنا کوئی نئی بات یا انقلاب نہیں بلکہ ایسا کرنا اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف لوٹنا ہے۔ مسائل حاضرہ کا حل مسلمانوں کے لیے ہندوئوں سے کہیں زیادہ آسان ہے‘‘(مکتوب اقبال بنام جناح، ۲۸مئی ۱۹۳۷ء)۔[پھر علامہ اقبال نے ۲۱جون ۱۹۳۷ء کو قائداعظم کے نام لکھا:]’’اس وقت تمام ہندستان میں جو طوفان بڑھتا چلا آرہا ہے، ہندستانی مسلمان صرف آپ ہی سے رہنمائی کی اُمید رکھتے ہیں‘‘۔
کراچی میں ۱۱؍اکتوبر ۱۹۳۸ء کو مسلم طلبہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا: ’’آپ اپنی گم شدہ میراث کی بازیابی کے لیے حقیقی اور پُرخلوص کوششیں کریں۔ وقت آگیا ہے کہ آپ اسلام کے لیے اور اقتصادی ، تعلیمی و صنعتی ترقی کے لیے کام کریں۔ مسلمانوں کے پاس [اس وقت] نہ کوئی گھر ہے، نہ کوئی ایسی جگہ جسے وہ اپنی کہہ سکیں۔ مسلم لیگ نے ان کے لیے ایک گھر بنادیا ہے اور ایک پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔ اس پرچم کے گرد جمع ہوجایئے‘‘۔(سول اینڈ ملٹری گزٹ، ۱۲؍اکتوبر ۱۹۳۸ء، قائداعظم کی تقاریر، ج۲،ص ۲۶۳)
علامہ اقبال نے انھی خطوط میں قائداعظم کو لاہور میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس بلانے کی تجویز دی۔ اسی جذبے کے تحت مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس مارچ ۱۹۴۰ء میں لاہور میں منعقد ہوا جس میں ’قرارداد لاہور‘ (۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء) منظور کی گئی، جو بہت جلد ’قرارداد پاکستان‘ کہلائی اور مسلمان عوام کے خواب کی تعبیر بن کر اُن کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد یومِ اقبال کی تقریب منعقدہ ۲۵مارچ ۱۹۴۰ء (پنجاب یونی ورسٹی ہال، لاہور) میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا: ’’اگرچہ میرے پاس سلطنت نہیں ہے، لیکن اگر سلطنت مل جائے اور اقبال اور سلطنت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی نوبت آئے تو مَیں اقبال کو منتخب کروں گا‘‘ (روزنامہ انقلاب، لاہور، ۲۹مارچ ۱۹۴۰ء، بحوالہ گفتار قائداعظم،ص ۲۴۲، ایضاً، ص ۸۹)۔ ۱۹۴۴ء کو ایک مرتبہ پھر یومِ اقبال پر قائداعظم نے اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ’’اقبال ایک عظیم شاعر اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عملی سیاست دان بھی تھے۔ جہاں انھیں ایک طرف اسلام کے مقاصد سے شیفتگی اور عقیدت تھی، وہاں وہ اُن چند لوگوں میں سے تھے، جنھوں نے پہلے پہل ایک اسلامی مملکت کا خواب دیکھا تھا‘‘۔(محمدعلی جناح ،بزبانِ انگریزی، از مطلوب الحسن سیّد، ص۲۳۱، ایضاً، ص ۹۱)

یہی وہ فکری پس منظر تھا، جس میں قائداعظم نے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ۲۲مارچ ۱۹۴۰ء کو یہ واضح کیا کہ: ’’ہندوؤں اور مسلمانوں کا دو مختلف مذہبی فلسفوں ، معاشرتی رسم و رو اج اور ادب سے تعلق ہے۔ نہ وہ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں، نہ اکٹھے بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ دراصل وہ مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی اساس متصادم خیالات اور تصورات پر استوار ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان تاریخ کے مختلف ماخذوں سے وجدان حاصل کرتے ہیں۔ ان کی رزم مختلف ہے، ہیرو الگ ہیں اور داستانیں جدا جدا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہوتا ہے، اور اسی طرح ان کی کامرانیاں اور ناکامیاں ایک دوسرے پر منطبق ہوجاتی ہیں۔ ایسی دوقوموںکو ایک ریاست کے جوئے میں جوت دینے کا،  جن میں سے ایک عددی لحاظ سے اقلیت اور دوسری اکثریت ہو، نتیجہ بڑھتی ہوئی بے اطمینانی ہوگا، اور آخرکار وہ تانا بانا ہی تباہ ہوجائے گا‘‘۔ چنانچہ قائداعظم نے آزاد مسلمان مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا جسے قرارداد کی صورت میں پیش کردیا گیا۔
طلبہ اور نوجوانوں کی مجلس نے جب قائداعظم سے مذہب اور مذہبی حکومت کے متعلق سوال کیا تو اُنھوں نے برملا کہا: ’’جب میں انگریزی زبان میں ’مذہب‘ کا لفظ سنتا ہوں تو اِس زبان اور قوم کے عام محاورے کے مطابق میرا ذہن خدا اور بندے کی باہمی نسبتوں اور روابط کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ مَیں بخوبی جانتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک مذہب کا یہ محدود اور مقید مفہوم یا تصوّر نہیں ہے۔ مَیں نہ کوئی مولوی ہوں، نہ مُلّا اور نہ مجھے دینیات میں مہارت کا دعویٰ ہے۔ البتہ مَیں نے قرآنِ مجید اور اسلامی قوانین کے مطالعے کی اپنے تئیں کوشش کی ہے۔ اِس عظیم الشان کتاب کی تعلیمات میں اسلامی زندگی سے متعلق ہدایات کے باب میں زندگی کے روحانی پہلو، معاشرت، سیاست، معیشت، سب کے متعلق رہنمائی ہے۔ غرض انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں، جو قرآنِ مجید کی تعلیمات کے احاطے سے باہر ہو۔ قرآن کی اصولی ہدایات اور سیاسی طریق کار نہ صرف مسلمانوں کے لیے بہترین ہیں بلکہ اسلامی سلطنت میں غیرمسلموں کے لیے بھی سلوک اور آئینی حقوق کا اس سے بہتر تصور ممکن نہیں‘‘۔ (صدق، لکھنؤ، ۱۹ جنوری ۱۹۴۱ء)
اب آپ دیکھیے کہ اقبال اور قائداعظم نے کب، کہاں اور کس شکل میں مذہبی کارڈ استعمال کیا؟ یا دینِ اسلام کو ایک کارڈ کے طور پر نہیں بلکہ ایک باقاعدہ نظام کے طور پر پیش کیا؟ ان دونوں اکابر ملّت کی ساری جدوجہد ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کے لیے مختص تھی، جسے وہ مسلمانوں کی بقا کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس مذہبی، لسانی، علاقائی کارڈ استعمال کرنے کا مقصد اقتدار کا حصول یا مخالف حکومت کو گرانا یا انتشار پھیلانا یا نفرت کے بیج بو کر علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ اس سے برعکس اقبال اور قائداعظم کا یہ نصب العین مسلمانوں کا اتحاد اور مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ مسلمانوں میں تہذیبی احیا، قومی شعور اور بقا کے لیے اسلامی جذبہ پیدا کرنا کارڈ نہیں بلکہ ابدی خدمت ہے۔
ہماری صدیوں پر محیط تاریخ کے اس اہم مسئلے پر ذرا گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک سطحی نقطۂ نظر غلط نتائج اخذ کرسکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب مغل سلطنت کی کمزوری، انتشار اور بے بسی نے، مسلمانوں کی دشمن قوتوں کو انتقام پہ اُبھارا، تو مرہٹوں، جاٹوں، سکھوں اور ہندو نسل پرستوں نے اپنے آپ کو منظم کرکے مسلمان نوجوانوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کر دیا۔ تب حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے مسلمان سرداروں اور علاقائی حکمرانوں کو خطوط لکھے، جن کا متن یہ تھا کہ: ’’ہندستان میں مسلمان اور اسلام کی بقا کے لیے مسلمانوں کا کسی نہ کسی حصے میں حکمران رہنا ناگزیر ہے‘‘۔ پھر شاہ ولی اللہ کے جانشینوں سیّداحمد اور شاہ اسماعیل نے جہاد کی تحریک بھی مسلمانوں کے قومی وجود کی بقا کے لیے شروع کی اور غریب الوطنی میں شہادتوں کے مراتب پر فائز ہوئے۔
سرسیّد احمد خاں، اقبال اور قائداعظم تینوں رہنمائوں نے عملی زندگی کا آغاز ’مسلمان ہندو اتحاد سے کیا، لیکن ہندو لیڈروں کی تنگ نظری قریب سے دیکھنے اور ان کے باطنی عزائم کو بھانپنے کے بعد اس خواب کو ترک کردیا اور اپنی صلاحیتیں قومی وجود کی بقا کے لیے وقف کردیں۔ سیّداحمد نے کھل کر کہہ دیا تھا کہ اب ’’یہ دونوں قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں اورمسلمان الگ ہوئے تو فائدے میں رہیں گے‘‘۔
۱۹۴۴ء میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے مسلمانوں کے لاشعورمیں موجزن اسی آرزو کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’اس [مطالبۂ پاکستان] میں میرا کوئی کمال نہیں۔ میں نے فقط وہ بات کہہ دی، جو مسلمانوں کے دلوں میں پوشیدہ تھی‘‘۔ علی گڑھ میں ہی پاکستان کے خواب پر روشنی ڈالتے ہوئے ۸مارچ ۱۹۴۴ء کو کہا کہ :

That Pakistan started the moment the first non-Muslim was converted to Islam in India long before the Muslims established their rule. As soon as a Hindu embraced Islam, he was outcast not only religiously, but also socially, culterally are economically.

ہند میں مسلمانوں کے اپنی حکومت قائم کرنے سے پہلے، جس دن، ہند میں پہلے غیرمسلم نے اسلام قبول کیا، اسی لمحے پاکستان کے قیام کا آغاز ہوگیا۔ جونہی ایک ہندو نے اسلام قبول کیا تو اسے نہ صرف مذہبی اعتبار سے بلکہ معاشرتی، ثقافتی اور اقتصادی لحاظ سے بھی مردود قرار دے دیا گیا۔

کیوں؟ اس لیے کہ مسلمان اپنے تہذیبی، سماجی، شخصی، فکری اور مذہبی حوالے سے اپنا الگ تشخص رکھتا تھا، جو ہندوئوں سے بالکل مختلف تھا۔ غور کرنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ مسلمان کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے جب بھی مسلمانوں کے قومی وجود اور بقا کا سوال ہوگا، تو سب سے پہلے ذکر مذہب کا ہوگا۔ لیکن یہاں مذہب کسی قسم کا مذہبی کارڈ نہیں بلکہ قومی تشخص، تہذیبی پہچان اور انفرادیت کی علامت ہے اور یہ علامت قومی وجود کی بقا کی ضامن ہے۔ اگر آپ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد، اُن کی مختلف تحریریں اور خاص طور پر قائداعظم کے نام ان کے خطوط پڑھیں، تو احساس ہوگا کہ وہ علیحدہ وطن کا مطالبہ مسلمانوں کے معاشی مفادات، تہذیبی، علمی، سماجی اور مذہبی عوامل کے پیش نظر کر رہے تھے۔ اُن کے نزدیک یہ ہندو مسلم فسادات کا حل تھا۔
قائداعظم کے تصورِ پاکستان کا بغور مطالعہ کریں تو وہ مسلمانوں کو ہندو غلبے اور اکثریتی جبر سے نکال کر ایک ایسے خطۂ زمین کا حصول چاہتے تھے، جہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے تحت آزادی سے زندگی گزار سکیں۔ اسی لیے انھوں نے بیسیوں بار کہا کہ پاکستان کے آئین اور قانونی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ پھر پیر آف مانکی شریف کے سوال پر زور دے کر کہا کہ: ’’پاکستان میں کوئی قانون خلافِ مذہب نہیں بنے گا‘‘۔ کیا متحدہ ہندستان میں ایسا ممکن تھا؟ کیا آج ہندستان کی حکومت ایسی قانون سازی کرسکتی ہے، جس کے تحت مسلمان اپنی شریعت کے تحت زندگی گزار سکیں؟

اس لیے امرواقعہ یہی ہے کہ تحریک ِ پاکستان، اقبال اور قائداعظم کی جدوجہد مسلمانوں کے قومی وجود کی بقا کے لیے تھی۔ اس میں کارڈ نامی شے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اقبال اور قائداعظم دونوں کا تصورِ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست کا تھا۔ جس گاندھی کی آرایس ایس کے ہاتھوں موت کو ہمارے لبرل اور سطحیت کے مارے دانش ور مسلمانوں کی ہمدردی کا شاخسانہ کہتے ہیں اُنھیں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ گاندھی نے اپنے مقبولِ عام رسالے ینگ انڈیا میں اس طرح کے مضامین چھاپے جن سے آر ایس ایس اور ’ہندوتوا‘ کی بُو آتی تھی اور جن میں کہا گیا تھا کہ ہندستان میں مسلمانوں سے نبٹنے کے تین طریقے ہیں:

  • اوّل: چونکہ وہ ہندوئوں سے مسلمان ہوئے ہیں اس لیے اُنھیں زبردستی ہندودھرم میں شامل کرلیا جائے۔ اس کے لیے کئی تحریکیں بھی چلیں۔
  • دوم: اگر وہ یہ نہ مانیں تو انھیں ہندستان سے نکال دیا جائے۔
  • سوم: اگر یہ نسخہ بھی کارگر نہ ہو تو اُنھیں سمندر بُرد کر دیا جائے۔ (سیاست ملیہ، محمد امین زبیری، ص ۱۷۵-۱۷۶)

کیا ’ہندوتوا‘ کی فلاسفی یہی نہیں ہے؟آج آر ایس ایس یہی نہیں کر رہی؟ مودی نے اپنی وزارتِ اعلیٰ میں گجرات کے مسلمانوں کا قتل عام کروا کر اسی خونیں ڈرامے کا ایکٹ پیش نہیں کیا تھا؟ اُسے اپنی مسلمان کُش پالیسیوں کی وجہ سے ہندو اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی؟ اور اسی ایجنڈے کے تحت آج کشمیر ظلم و ستم کی نگری بنا ہوا ہے۔ شیخ عبداللہ جیسے کٹر کانگرسی گھرانے کے جانشین ہوں یا دہلی نواز سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی، آج کیوں دو قومی نظریے کی حقانیت کا اقرار کر کے ’جناح‘ سےعقیدت کا اظہار کر رہے ہیں؟ کیونکہ یہ اُن کی قومی بقا کا مسئلہ ہے۔ جب پاکستان کی بنیاد ہی دو قومی نظریے پر ہے اور اسی نظریے کو ہندستانی مسلمانوں کی ۷۵ فی صد تعداد نے ۴۶-۱۹۴۵ء میں ووٹ دیے تھے، تو پھر اس نظریے کو حب الوطنی کا معیار کیوں نہ بنایا جائے؟
اب یہاں پرقائداعظم کے صرف تین بیانات کو مطالعے کے لیے پیش کر رہا ہوں، جو انھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد دیے۔ 

۱۴ دسمبر ۱۹۴۷ء کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے آخری خطاب میں کہا:
Let it be clear that Pakistan is going to be a Muslim State based on Islamic Ideals. It was not going to be an ecclesiastical state.
میں صاف طور پر واضح کر دوں کہ پاکستان، اسلامی نظریات پر مبنی ایک مسلم ریاست ہوگی، یہ پاپائی ریاست نہیں ہوگی۔

۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں قائداعظم نے کہا:
Islam and its idealism have taught democracy. Islam has taught, equality, justice and fairplay to everybody.... Islam is not only a set of rituals, traditions and spiritual doctrines. Islam is also a code for every Muslim, which regulates his life and his conduct in even politics and economics and the like. It is based on the highest principles of honours, integrity, fairplay and justice for all. One God and equality of manhood is one of the 
fundamental principles of Islam.
(سول اینڈ ملٹری گزٹ، ۲۷ جنوری ۱۹۴۸ء، تقاریر ( جلد۴) ، ص ۲۶۶۹، ۲۶۷۰)
  اسلام اور اس کے کمال مطلوب نے جمہوریت کا سبق سکھایا ہے۔ اسلام نے بتایا ہے کہ انصاف اور زیبائی ہر ایک کا حق ہے۔ اسلام محض چند عبادات ، رسوم اور روحانی کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ’’اسلام ہرمسلمان کے لیے ضابطۂ حیات بھی ہے، جس کے مطابق وہ اپنی روزمرہ زندگی، اپنے افعال و اعمال، حتیٰ کہ سیاست و معاشیات اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں عمل پیرا ہوتا ہے۔ اسلام سب کے لیے انصاف، رواداری، شرافت، دیانت اور عزت کے اصولوں پر مبنی ہے۔خداے واحد اور انسانی برابری، اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہیں۔

اسی طرح ۱۴فروری ۱۹۴۸ء کو سبی دربار (بلوچستان) میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us, by our great law-giver the Prophet of Islam. Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic Ideals. 
میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات انھی شہری قوانین کی پابندی میں ہے، جو ہمارے شارع اعظم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے متعین کیے۔ آیئے ہم اپنی جمہوریت کی بنیاد صحیح اسلامی تصورات اور اصولوں پر استوار کریں۔

یہ اب سے چند ماہ قبل کا واقعہ ہے کہ ہندستانی ٹی وی کا ایک چینل میرے سامنے چل رہا تھا۔ ایک دانش وَر خاتون عیدالاضحی کے حوالے سے بڑی حقارت بھرے لہجے میں کہہ رہی تھی کہ: ’’ہندستان سرکار کو قربانی پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ مسلمان جانوروں کا خون بہاتے اور گندگی پھیلاتے ہیں۔ اُنھیں چاہیے کہ وہ بکرے کی شکل کا کیک بنوا کر گھر لائیں اور اُس کو کاٹ لیں‘‘۔ 
یہ گفتگو سن کر جہاں مجھے قائداعظم کے متعدد انتباہ (وارننگ) یاد آئے، وہاں پاکستان کے ’سیکولر اور ابلاغی اجتہادی‘ بھی یاد آئے: ’’جن کا فرمانا ہے کہ: حج کرنے کے بجاے وہ رقم مستحق لوگوں کو دے دینی چاہیے‘‘۔ اُنھیں یہ علم ہی نہیں کہ صاحب ِ استطاعت پر حج فرض ہے۔ اُنھی کے دیکھا دیکھی کچھ از قسم مولوی حضرات نے سوشل میڈیا پر اشتہارات دینے شروع کر دیے ہیں کہ ’’اپنی قضا و خطا نمازیں ہم سے پڑھوا دیں‘‘، حتیٰ کہ ’’مرحوم والدین کے لیے بھی نمازیں پڑھوانے کا بندوبست ہے، جس کے لیے اتنی ادایگی کرنا ہوگی‘‘۔ خدا جانے ایسے جاہلوں کا ’اجتہاد‘ ہمیں کہاں لے جائے گا؟
یہاں پر ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔ ڈاکٹر محمداقبال اور محمدعلی جناح کے حوالے سے ایک مخصوص لابی کی طرف سے یہ کہنا کہ اُنھوں نے ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ کا نعرہ لگاکر مذہبی کارڈ استعمال کیا‘‘۔ حقیقی معنوں میں اور تاریخی طور پر درست بات نہیں ہے۔ علامہ اقبال تو اپریل ۱۹۳۸ء میں وفات پاگئے تھے۔ دراصل مسلم لیگ نے باقاعدہ پارٹی کی سطح پر تو یہ نعرہ نہیں لگایا تھا۔ تاہم، مسلم لیگ کے جلسے اور جلوسوں میں کارکنوں کا یہ برق آسا نعرہ تھا۔  اس نعرے کا پس منظر یہ ہے کہ سیالکوٹ سے مسلم لیگ کے ایک پُرجوش کارکن اصغر سودائی [۲۸ستمبر ۱۹۲۶ء-۱۷مئی ۲۰۰۸ء] نے بحیثیت طالب علم ۱۹۴۴ء میں ایک نظم لکھی، جس کا یہ ایک مصرعہ لیگی کارکنوں کے دلوں کو چھو گیا، پورے ہند میں پھیل گیا اور تاریخ کا حصہ بن کراصغر سودائی کو امر کرگیا۔ 
اگرچہ تاریخ، مسلم لیگ کے ریکارڈ ،اور کسی قرارداد میں کہیں یہ حوالہ نہیں ملتا کہ یہ نعرہ مسلم لیگ نے بحیثیت پارٹی منظور کیا تھا، لیکن اس نعرے سے قطع نظر قائداعظم نے تحریک ِ پاکستان کے دوران اور قیامِ پاکستان کے بعد مجموعی طور پر کم از کم ۱۱۴بار، ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ، دلیل اور منطق کے ساتھ اسلام، اسلامی قانون، شریعت کا ذکر، قانون سازی کے حوالے سے کیا، مگر یہ بات نعرے کے طور پر نہیں کہی۔یہی وجہ ہے کہ قائداعظم کے رفقاے کار اور پہلی دستورساز اسمبلی نے نعرے کے طور پر نہیں، بلکہ نہایت سنجیدگی سے مارچ ۱۹۴۹ء میں ’قرارداد مقاصد‘ منظور کرکے، ایک باقاعدہ نظام کے خدوخال کو واضح کیا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام کا یہ حقیقی تصور ہے۔
قائداعظم کی ساری جدوجہد ایک اسلامی، جمہوری اور جدید پاکستان کے لیے تھی۔ انھوں نے پوری جدوجہد کو نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ دلیل ، قاعدے اور ضابطے کے بل پر اُٹھایا اور منظم کیا۔ اس طرح  پاکستان کا حصول ایک تہذیبی ، ملّی اور قومی مقصد تھا۔

کچھ باتوں کو نظرانداز کرنا بہتر ہوتا ہے، لیکن چند بنیادی باتوں کی وضاحت ملک سے محبت کی مجبوری بن جاتی ہے۔ مغالطہ انگیزی پر مشتمل تحریروں میں ایک دل چسپ تضاد بھی نظر آتا ہے۔ 
ایسے عالم و فاضل اور محقق حضرات، جو سچ لکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اُن میں سیکولر اور اسلام پر عالمانہ اور اجتہادی کالم لکھنے والے دونوں قسم کے حضرات شامل ہیں۔ بعض اوقات یہ ہوتاہے کہ نظریاتی حوالے سے دونوں متضاد گروہ بھی ایک دوسرے کے مماثل نظر آتے ہیں۔ 
ان دونوں قسم کے فاضل حضرات سے میرا محض ایک سوال ہے: ’’آپ کو کیسے علم ہوا کہ قائداعظم پاکستان کو فلاحی و جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے؟‘‘ اگر تو آپ نے یہ بات محض پروپیگنڈا سن کر لکھ دی ہے تو آپ قارئین سے بے انصافی کر رہے ہیں، کیونکہ قارئین آپ سے تحقیقی اور عالمانہ سچ کی توقع کرتے ہیں۔ اگر آپ نے قائداعظم کی تقاریر پڑھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے، تو آپ ادھورے سچ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
 قائداعظم نے اپنی تقریروں اور خطبات میں چند بار فلاحی اور کئی بار جمہوری پاکستان کا تصور پیش کیا۔ لیکن انھوں نے قیام پاکستان سے قبل سو بار سے زیادہ اور قیامِ پاکستان کے بعد بحیثیت گورنر جنرل چودہ بار یہ اعلان کیا کہ وہ ’پاکستان کو ایک اسلامی، جمہوری ریاست‘ بنائیں گے۔ انھوں نے بار بار یہ وضاحت کی کہ: ’’پاکستان کے دستور کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی‘‘۔

 عید میلاد النبیؐ کے موقعے پر ۲۵جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے ’پاکستان میں شریعت کے نفاذ‘ کا اعلان دُہرایا، اور فروری ۱۹۴۸ءمیں امریکی عوام کے نام براڈ کاسٹ پیغام میں پاکستان کو ’پریمئر اسلامک اسٹیٹ‘ قرار دیا۔ ایسے اَن گنت حوالوں کے پس منظر میں، ان حضرات سے میرا یہ سوال ہے کہ: ’’عزیزو! جہاں آپ کو قائداعظم کے تصورِ پاکستان میں جمہوری فلاحی پاکستان نظر آتا ہے، تو وہاں پر آپ کو اسلامی نظر کیوں نہیں آتا کہ جس پر قائداعظم نے بار بار زور دیا؟‘‘
تحقیق کا پہلا اصول سچ ہے اور جب تحقیق کے نام پر ادھورا سچ بولا یا لکھا جائے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ دھماچوکڑی کسی ایجنڈے یا وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔ اس میں دل چسپ بات یہ ہے کہ سیکولر اور دین سے بے زار حضرات تو قائداعظم کے پاکستان کو محض ’جمہوری اور فلاحی ریاست‘ تک محدود رکھتے ہی ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر میں نے بعض مذہبی شخصیات کو بھی اسی ایجنڈے کا ’سوداگر‘ پایا ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ انھوں نے قائداعظم کی تقاریر پر نظر نہ ڈالی ہو، اور یہ بھی ممکن نہیں کہ انھیں ان تقاریر میں اسلام کا سنگ بنیاد نظر نہ آیا ہو۔ یہ محض ان کی مذہب سے بے زاری ہے، جو جمہوری فلاحی ریاست سے پہلے ’اسلامی‘ کا لفظ لکھنے نہیں دیتی۔ حالانکہ آج کا پاکستان بھی  کم سے کم آئین کی حد تک اسلامی و جمہوری ہے۔ جب اسلامی کہا جائے تو فلاحی کے اضافی لفظ کی اس لیے ضرورت نہیں رہتی کہ ’اسلامی‘ میں ’فلاحی کا تصور‘ جزو لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی پس منظر میں سیکولر حضرات کی ’قرارداد مقاصد‘ سے بے زاری سمجھ میں آتی ہے۔ یاد رہے کہ ’قراردادِ مقاصد‘ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے منظور کی تھی، اور اسے پاکستان کے پہلے وزیراعظم جناب لیاقت علی خان نے پیش کیا تھا۔ قائداعظم کے بعد قائدِ ملت لیاقت علی خان سب سے زیادہ مقبول اور مضبوط قومی لیڈر تھے۔ یہ بھی ایک قابلِ توجہ بات ہے کہ یہ حضرات ’قرارداد مقاصد‘ پر وہی اعتراضات کرتے ہیں، جو اس وقت کے ہندو اور کانگریسی اراکین اسمبلی نے کیے تھے۔ کانگریسی اراکین اسمبلی کو اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تحفظات تھے، حالانکہ قرارداد کے پیرا۹ اور ۱۰ میں تمام شہریوں کو برابری، بنیادی حقوق، آزادیِ اظہار، آزادیِ مذہب و عقیدہ اور سیاسی و سماجی عدل کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق اور دانش ور جی ڈبلیو چودھری [غلام وحید: ۱۹۲۶ء- ۱۳دسمبر ۱۹۹۷ء] کے بقول: ’قرارداد مقاصد‘ کا قصور یہ ہے کہ اس قرارداد نے پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھنے کا اعلان کیا تھا، حالانکہ یہ وہی بات تھی، جو قائداعظمؒ اپنی زندگی میں بارہا کہہ چکے تھے‘‘۔ 

میرے مطالعے کے مطابق سیکولر حضرات اور ان کے حامیوں کے ہاں ’قرارداد مقاصد‘ کو مسترد کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ قرارداد نے اللہ تعالیٰ کا اقتدارِ اعلیٰ(Sovereignty) تسلیم کیا اور ریاست کو دین اسلام کی طے کردہ حدود میں رہ کر قانون سازی اور پالیسی سازی کرنے کا اختیار مانا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان میں اسلامی اصولوں کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکتی، اور یہ ہمارے آئین کا نمایاں ترین پہلو ہے۔ ان سیکولر حضرات کا کہنا ہے کہ: ’’مغربی جمہوریت کی مانند اقتدارِ اعلیٰ عوام کی ملکیت ہونا چاہیے اور اسلامی اصولوں سے قطع نظر انھیں ہر قسم کی قانون سازی کی اجازت ملنا چاہیے‘‘۔ ظاہر ہے کہ پاکستان میں ان کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا، اس لیے وہ لفظ’اسلامی‘ کو پسِ پشت ڈال کر ’فلاحی جمہوری ریاست‘ کا راگ الاپتے رہیں گے اور ’قرارداد مقاصد‘ پر نشانے باندھ باندھ کر تیر چلاتے رہیں گے۔

’قرارداد مقاصد‘ کے حوالے سے مجھے مزید حیرت اس وقت ہوئی، جب ایک معروف کالم نگار نے یہ لکھا کہ:’’ ’قرارداد مقاصد‘ کی منظوری لے پالک سیاسی قیادت کے جمہوری انحراف کا شاخسانہ تھی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے مقبول ترین وزیراعظم لیاقت علی خان ’لے پالک سیاست دان‘ تھے یا ان کے رفقا، جنھوں نے ’قرارداد مقاصد‘ کی حمایت کی وہ ’لے پالک تھے؟‘ کیا یہ حضرات ۴۶-۱۹۴۵ء کے انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوئے تھے؟ کیا انھیں کسی جرنیل نے اپنی گود میں پالا پوسا تھا؟ کیا پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا قرارداد منظور کرنا جمہوریت سے انحراف تھا؟ اسی طرح ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ’’قرارداد مقاصد کا مسودہ قائداعظم کی زندگی میں تیار کرلیا گیا تھا، لیکن جب قائداعظم کو دکھایا گیا تو انھوں نے نامنظور کر دیا‘‘۔ ’قرارداد مقاصد‘ کے مخالفین نے قرارداد پر ضرب کاری لگانے کے لیے یہ انوکھا افسانہ تراشا اور شوشہ چھوڑا ہے۔ جو سراسر بے بنیاد ہے اور سمجھ لینا چاہیے کہ یہ آخری وار ہرگز نہیں ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی یہ لوگ اسلام سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہیں؟

ہرقسم کی علمی، تحقیقی اور اخلاقی حدود یا اقدار سے ماورا، ہمارا سوشل میڈیا، جھوٹ اور مبالغے کا پرچارک یا ذریعہ بن چکا ہے۔اس ذریعے کو سیاسی جماعتیںاپنے مخالفین کی کردارکشی، دانش وَر حضرات نفرت بونے اور کنفیوژن پھیلانے، مذہبی عناصر فتوے دینے اور مذہبی اقلیتیں اپنے مفادات کی  آڑ میں جھوٹے دعوے کرنے کے لیے بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سوشل میڈیا مکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ بن چکا ہے۔ بلاشبہہ اس میں بعض اوقات نادر تحریریں اور مستند مواد بھی ملتا ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ خدا جانے یہ صورتِ حال ہمیں کہاں لے جائے گی۔

اس کا ایک پہلو بہرحال بڑا تشویش ناک اور قابلِ توجہ ہے۔ وہ یہ کہ ہماری نوجوان نسل کتاب، مطالعے اور تحقیق سے رشتے منقطع کرکے صرف سوشل میڈیا پر تکیہ کیے بیٹھی ہے اور سوشل میڈیا ہی ان کی معلومات اور ذہنی تربیت کا واحد ذریعہ بن چکا ہے۔ جھوٹ، نفرت، علاقائی و مذہبی تعصبات اور فرقہ واریت کے پرچار کے لیے لکھی گئی تحریریں پڑھ پڑھ کر ہماری نوجوان نسلوں کی سوچ کنفیوژن کا شکار ہورہی ہے۔حال ہی میں مجھے ایک بلاگ پڑھنے کا موقع ملا، جس میں پاکستانی مسلمانوں پر تبرا بھیج کر ایک مذہبی اقلیت کے دانش وَر نے پھر وہی دعویٰ دہرا ڈالا ہے، جس کی تردید کئی بار کی جاچکی ہے۔ تاریخ کا ریکارڈ ہزار بار ان کے جھوٹ کی نفی کرے، لیکن یہ عجیب لوگ ہیں کہ وہ غلط بات کو  بار بار دہراتے رہیں گے، تاکہ مطالعے سے عاری نوجوان ان کے جھانسے میں آجائیں اور ان کے   نقطۂ نظر کو قبول کرکے قائداعظمؒ کو انگریزوں کا ایجنٹ اور قیامِ پاکستان کو انگریزوں کا تحفہ سمجھ لیں۔

لاعلمی قابلِ معافی ہے لیکن بدنیتی ایسا جرم ہے جس کی سزا دونوں جہانوں میں ملتی ہے۔ جب ایک ایسا شخص جو علم و فضل کی شہرت رکھنے اور مؤرخ ہونے کا دعویٰ بھی کرے، مگر دوسری طرف ببانگ دہل تاریخی حقائق کو مسخ کرے، تو اس کا رویہ لاعلمی کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ نرم سے نرم الفاظ میں بھی خبث ِ باطن ہی کہلاتا ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں کانگریسی پروپیگنڈے اور ہندو ذہنیت کے ’ہرکارے‘ یا ایسے افراد موجود ہیں، جو وقتاً فوقتاً پاکستان کی نظریاتی اساس میں بدگمانیوں کا زہر گھولتے رہتے ہیں اور قائداعظمؒ سے قیامِ پاکستان کے جرم کا انتقام لیتے رہتے ہیں۔ تحریک ِ پاکستان اور قائداعظمؒ کے حوالے سے نوجوان نسلوں میں بدظنی اور بدگمانیاں پھیلانے کے لیے پہلے جب یہ مہم عبدالولی خان نے شروع کی تھی تو اسی وقت پروفیسر وارث میر مرحوم نے مدلل جواب دے کر انھیں لاجواب اورکانگریسی ہرکاروں کا منہ بند کر دیا تھا۔

قراردادِ لاہور (پاکستان) کی عظمت کو ٹھیس لگانے کے لیے پہلے ان خان صاحب نے اور پھر ڈاکٹر مبارک علی صاحب نے ایک اخبار میں یکم اپریل ۲۰۱۷ء کو یہ دعویٰ کیا کہ: ’’وائسرائے لنلتھ گو نے قراردادِ لاہور سرظفراللہ خاں سے لکھوائی اور یہ مسوّدہ قائداعظمؒ کو دے دیا۔ جنھوں نے ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کے اجلاس میں مسلم لیگ سے منظور کروا دی اور پھر قراردادِ پاکستان کا نام دے دیا گیا‘‘۔ حالیہ زمانے میں، پاکستان میں تاریخ کے نام پر اس سے بڑا جھوٹ شاید ہی بولا گیا ہو۔

پہلی بات یہ ہے کہ قرارداد ِ پاکستان کا اصلی مسودہ کراچی یونی ورسٹی کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ پس منظر کے طور پر ذہن میں رہے کہ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے ۲۱مارچ ۱۹۴۰ء کو قرارداد ڈرافٹ کرنے کے لیے سرسکندر حیات، ملک برکت علی اور نواب اسماعیل خان پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی کے تیار کردہ ڈرافٹ پر سبجیکٹ کمیٹی نے قائداعظمؒ کی صدارت میں ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کو سات گھنٹے بحث کی۔ یہ ڈرافٹ اپنی اصل حالت میں مسلم لیگ آرکائیوز میں موجود ہے۔ مذکورہ سبجیکٹ کمیٹی میں علی محمد راشدی، محمدنعمان، ظہیرالدین فاروقی، مشتاق گورمانی، حسین امام، زیڈ ایچ لاری، رضوان اللہ، عبدالحمید خان، نواب آف چھتاری، عزیز احمد اور عاشق حسین بٹالوی وغیرہ نے ۱۴،۱۵ترامیم تجویز کیں۔ یہ تمام ترامیم صاف طور پر پڑھی دیکھی جاسکتی ہیں۔خودقائداعظمؒ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ترمیم بھی قرارداد کے مسودے پر دیکھی جاسکتی ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ اگر ڈرافٹ وائسرائے کی طرف سے آیا تھا تو یہ ترامیم کیا ہوا میں کی جارہی تھیں؟ یہ ساری تحریری کارروائی مسلم لیگ کے ریکارڈ میں موجود ہے، جو ڈاکٹر مبارک اور ان کے مریدوں کے دعوئوں کو باطل ثابت کرتی ہے۔ اس طرح یہ بات بھی شواہد سے ثابت ہوتی ہے کہ قراردادِ لاہور کا سر چودھری ظفراللہ خاں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

 اسی مناسبت سے سکندرحیات نے ۱۱مارچ ۱۹۴۱ء کو پنجاب کی قانون ساز اسمبلی میں بیان دیا تھا کہ: ’’میری تیار کردہ،قراردادِ لاہور کے ڈرافٹ میں اتنی زیادہ تبدیلیاں کر دی گئی تھیں کہ اس کی شکل ہی بدل گئی‘‘۔ سرسکندر حیات کا ایک معاملہ یہ بھی تھا کہ وہ متحدہ ہندستان کی فیڈریشن کی بنیادپر مطالبے کے حق میں تھے، جب کہ کُل ہند مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی تقسیم ہند اور مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی۔ سرسکندر کے لیے ایسی کسی تجویز سے اتفاق ممکن نہ تھا کہ جس پر وہ انگریز وائسرائے اور برطانوی حکومت کو ناراض کرتے۔

اسی طرح پروفیسر اِکرام نے اپنی کتاب Truth is Truth میں، قراراداد پاکستان پر ایک دم یلغار کرنے والے ردعمل کےحوالے سے وائسرائے اور برطانوی سیکرٹری آف اسٹیٹ کی خط کتابت کے اقتباسات دیے ہیں۔ جن سے پتا چلتا ہے کہ برطانوی حکومت، مسلم لیگ سے کس قدر ناراض تھی اور قراردادِ لاہور کو کس طرح تختۂ مشق بنارہی تھی۔ اگر قرارداد لنلتھ گو نے بھجوائی تھی، تو پھر اس قدر غم و غصے کا کیا مطلب؟ یہ خطوط کئی جلدوں پر مشتمل مصدقہ کتاب ٹرانسفر آف  پاور میں موجود ہیں۔ برطانوی حکومت نے ۲۳مارچ کا جلسہ ملتوی کروانے کے لیے جو کوششیں کیں، ان کے ثبوت بھی سیّد شریف الدین پیرزادہ [م:۲۰۱۷ء]کی کتب میں موجود ہیں۔

اب دیکھیےکہ خود چودھری ظفراللہ خاں،قراردادِ پاکستان سے اپنے کسی قسم کے تعلق کی نفی اور تردید کرتے ہیں۔ ۲۵دسمبر ۱۹۸۱ءکو ان کا ایک بیان دوسرے اخبارات کے علاوہ معروف انگریزی اخبار ڈان کے پہلے صفحے پر شائع ہوا، جس کے بعد اس بحث کا سلسلہ بند ہوجانا چاہیے تھا۔   سرظفراللہ خاں کا بیان ملاحظہ فرمایئے:

Sir Zafarullah has denied having ever presented a formula of dividing the sub-continent to the then Viceroy vehemently refuting (Wali Khan's assertions) he stated that he only gave opinion to the Viceroy, whenever asked to do so. It is unthinkable that his opinions were passed on the Quaid-e-Azam and he  accepted without hesitation. It was unimaginable that a formula initiated on March12 was incorporated on March 23, 1940 during those days it took more than two weeks for a communication to reach India from England.

سر ظفراللہ نے اس سے انکار کیا کہ انھوں نے کبھی [برطانوی ہند کے]وائسرائے کو تقسیم ہند کا فارمولا پیش کیا تھا [ولی خان کے اصرار کو] مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا: میں نے وائسرائے کو صرف اپنی راے دی تھی۔ اور یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ ان کی راے کو قائداعظم تک پہنچایا گیا اور انھوں نے اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تسلیم کرلیا۔ اسی طرح یہ بات بھی ناقابلِ یقین ہے کہ ۱۲مارچ کو سوچا جانے والا فارمولا ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کو [لاہور کے اجلاس میں] پیش بھی کر دیا گیا ہو کہ ان دنوں برطانیہ سے انڈیا پہنچنے میں دو ہفتوں سے زیادہ دن لگتے تھے۔

ظفراللہ خاں نے یہ بھی واضح کیا کہ میں نے وائسرائے لنلتھ گو کے کہنے پر ایک اسکیم بنائی تھی، جس میں متحدہ ہندستان کے اندر فیڈریشن کا تصور دیا تھا۔

تحریکِ پاکستان اور قائداعظمؒ پر سیکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور ان مصنّفین میں عالمی سطح کے برطانوی ، امریکی، فرانسیسی، سویڈش اور پاکستانی مؤرخین شامل ہیں۔ سب نے قائداعظمؒ کی عظمت کردار، بصیرت اور مستقل مزاجی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ممتاز سوانح نگار والپرٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ تاریخ میں اتنا عظیم لیڈر پیدا ہی نہیں ہوا۔ عالمی سطح کے ان غیرملکی مؤرخین میں سے کسی ایک محقق کو بھی قراردادِ پاکستان سے ظفراللہ خاں کے تعلق کا اشارہ تک نہیں ملا۔ وہ افسانوی اشارہ کہ جو ولی خان کے ذریعے ڈاکٹر مبارک تک پہنچا ہے اور جس جھوٹے دعوے کو اُچک کر پرویز پروازی نے کتابی حوالہ بنادیا ۔ یاد رہے کہ پروازی صاحب کا مذہبی طور پر قادیانیت سے تعلق ہے، اور وہ   قیامِ پاکستان کا کریڈٹ قادیانیوں کو عطا کرنے کی کوشش میں ظفراللہ خاں کو قراردادِ پاکستان کا مصنف قرار دے رہے ہیں۔

قائداعظم، دن رات محنت کر کے اور مسلم قوم کو متحد کرکے حصولِ پاکستان میں جب کامیاب ہوگئے تو وہ عرصہ ان کی بیماری میں شدت کا زمانہ تھا۔ تاہم، انھوں نے اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو حصولِ مقصد کے لیے پوری قوت سے جھونک دیا۔ بیماری بڑھ گئی تو ۷جولائی کو قائداعظمؒ آرام کے لیے دوبارہ کوئٹہ چلے گئے۔ جب علالت مزید شدت اختیار کرگئی تو قائداعظمؒ کو زیارت منتقل کردیا گیا۔ کرنل الٰہی بخش کے علاوہ ٹی بی کے ماہر ڈاکٹر ریاض علی شاہ بھی اس وقت قائداعظمؒ کا علاج کرنے والے بورڈ کے رکن تھے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں ایک چشم کشا اور ایمان افروز گفتگو  لکھی ہے، جس کا ہرلفظ ہمیں غوروفکر کی دعوت دیتا اور قائداعظمؒ کے باطن کی جھلک دکھاتا ہے۔

ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں:’’کوئٹہ میں قائداعظمؒ کی صحت بہتر ہوتی گئی تو ایک دن  کرنل الٰہی بخش نے کہا کہ: ’’ہم دونوں کی انتہائی کوشش ہے کہ آپ کی صحت اتنی اچھی ہوجائے جتنی آج سے سات آٹھ سال پہلے تھی‘‘۔ قائداعظمؒ مسکرائے اور فرمایا: ’’چند سال قبل یقینا میری بھی   یہ آرزو تھی کہ میں زندہ رہوں۔ میں اس لیے زندگی کاطالب نہیں تھا کہ مجھے دنیا کی تمنا تھی اور میں موت سے خوف زدہ تھا، بلکہ اس لیے زندہ رہنا چاہتا تھا کہ قوم نے جو کام میرے سپرد کیا ہے اور قدرت نےجس [کام] کے لیے مجھے مقرر کیا ہے میں اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا سکوں۔ وہ کام پورا ہوگیا ہے۔ میں اپنا فرض ادا کرچکا ہوں۔ پاکستان بن گیا ہے۔ اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اس کی تعمیر کرے۔ اسے ناقابلِ تسخیر اور ترقی یافتہ بنائے، حکومت کا نظم و نسق دیانت داری اور محنت سے چلائے۔ آٹھ برس تک مجھے قوم کے اعتماد و تعاون پر تنہا، مدمقابل عیار اور مضبوط دشمنوں سے لڑنا پڑا ہے۔ میں نے خدا کے بھروسے پر اپنے خون کا آخری قطرہ تک حصولِ پاکستان کے لیے صرف کر دیا ہے۔ مَیں تھک گیا ہوں۔ اب مجھے زندگی سے زیادہ دل چسپی نہیں۔بے شک اللہ کے دوست موت سے نہیں ڈرتے‘‘۔(ڈاکٹر ریاض علی شاہ کا مضمون، مطبوعہ ماہِ نو، کراچی ، ۱۹۴۸ء، بحوالہ قائداعظمؒ کے ۷۲سال از خواجہ رضی حیدر،ص ۳۲۰)

یہی لیڈر جب سفرِآخرت پرروانہ ہوتا ہے تو سرظفراللہ خاں اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے کے بجاے، لاتعلقی سے بیٹھے سارا منظر دیکھتے رہتے ہیں۔ اب انھی کو قراردادِ پاکستان کا خالق بنانے کے لیے ہمارے ترقی پسندی اور روشن خیالی کے دعوے دار دانش وروں اور مؤرخ ہونے کا دعویٰ رکھنے والوں کی بے چینی ایک بھونڈے لطیفے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔

تاریخ کے فیصلے بھی دل چسپ ہوتے ہیں۔ ایک فرد ملک کا غدار ہوتا ہے مگر دوسرے کا ہیرو، اور ایک قوم کا دشمن تو دوسری قوم کی آنکھوں کا تارا قرار دیا جاتا ہے۔ جدوجہد انسانی تاریخ کا حصہ ہے، لیکن جب سے قومی ریاست کے تصور نے انسانی سوچ پر غلبہ پایا ہے، اس جدوجہد کا رُخ زیادہ تر قومیت کے تصور کی جانب ہوگیا ہے، اور ’قوم پرست‘ کی اصطلاح میڈیا میں استعمال ہونے لگی ہے۔

پاکستان میں تین مرتبہ وزیراعظم بننے والے میاں نواز شریف صاحب کی سیاسی منصوبہ سازی اور فیصلو ں پر ممکن ہے کسی کو اختلاف ہو یا اتفاق، لیکن سچی بات ہے کہ تحریک ِ پاکستان، قیامِ پاکستان اور تعمیر پاکستان کے حوالے سے ان کے بعض بیانات میں معلومات کا ادھورا پن، سخت تکلیف کا سبب بنتا ہے، اور وہ بھی اس صورت میں،جب کہ وہ ایک طرح سے مسلم لیگ کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں ان کی جانب سے یہ کہنا کہ: ’’مجیب محب ِ وطن تھا، اسے باغی بنا دیا گیا… اتنے زخم نہ لگائو کہ جذبات قابو میں نہ رہیں‘‘۔ سچی بات ہے کہ یہ بیان نہ صرف حقائق کے منافی ہے، بلکہ باعث ِ اذیت بھی۔ اس ضمن میں یہاں کسی علمی، تحقیقی اور تجزیاتی بحث کے بجاے صرف ایک حوالے سے گزارشات پیش کر رہا ہوں۔

جب یہ کہا جائے کہ: ’شیخ مجیب الرحمٰن پاکستان توڑنے کی تحریک کا سربراہ تھا اور وہ طویل عرصے سے ہندستان کی مدد سے بنگلہ دیش کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہا تھا‘، تو اس کے جواب میں ایک افلاطونی گروہ مشرقی پاکستان کی محرومیوں یا بے انصافیوں کا رقّت آمیز انداز میں ذکر کرکے پورے مسئلے کو گڈمڈ کردیتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ مجیب نے تحریک ِ پاکستان میں  کارکن کی حیثیت سے حصہ لیا تھا اور پھر صدارتی انتخابات میں فیلڈمارشل صدر ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس کے ساتھ حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ درپردہ بھارت سے رابطے میں تھا اور ’آزاد بنگلہ دیش‘ ہی اس کی منزل تھی۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ   دنیا کا کوئی بھی ملک یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کے تمام صوبے یا اکائیاں، تمام قصبے، گائوں اور شہر ایک جیسے خوش حال ہیں لیکن اس عدم توازن سے کبھی ملک توڑنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ محب ِ وطن قائدین، اتحاد کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنی اکائی یا صوبے کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور کبھی دشمن قوتوں کو ساتھ ملاکر ملک توڑنے کی سازش نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر مشرقی پاکستان کے بڑے اور اہم لیڈران کرام میں خواجہ ناظم الدین، اے کے فضل الحق، حسین شہید سہروردی، نورالامین، ڈاکٹر ایم اے مالک، فضل القادر چودھری، مولوی تمیزالدین، پروفیسر غلام اعظم، مولوی فریداحمد اور عبدالحمید خاں بھاشانی وغیرہ شامل تھے۔ بھاشانی صاحب سوشلزم کے پرچارک تھے اور فضل الحق نے مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کلکتہ کے دورے کے دوران، متحدہ بنگال کا مطالبہ کردیا تھا، جو مشرقی پاکستان میں گورنر راج کا باعث بنا۔ ان دو حضرات کے علاوہ تمام لیڈر حضرات متحدہ پاکستان کے فریم ورک کے اندر رہ کر بنگالیوں کے حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد میں یقین رکھتے تھے اور نہایت محب وطن تھے۔

فروری ۱۹۴۸ء میں پاکستان کی دستور سا ز اسمبلی نے اُردو کو قومی زبان قرار دیا، تو قومی سوچ کے حامل بنگالی لیڈروں نے بنگلہ کو بھی قومی زبان بنانے کے لیے سیاسی، آئینی جدوجہد جاری رکھی اور نتیجے کے طور پر مئی ۱۹۵۴ء میں بنگلہ کو بھی دستور ساز اسمبلی نے قومی زبان قرار دیا، اور پھر ۱۹۵۶ء کے دستورِ پاکستان میں اُردو اور بنگلہ قومی زبانیں قرار پائیں۔ پھر جغرافیائی مجبوری کو سمجھتے ہوئے انھی بنگالی لیڈروں نے ۱۹۵۶ء کی دستور سازی میں اہم کردار سرانجام دیا اور دونوں صوبوں کے درمیان آباد ی کے فرق کے بجاے برابری (پیرٹی) کے اصول کو تسلیم کیا۔ اگر اکتوبر ۱۹۵۸ء میں جنرل ایوب خان کا مارشل لا نہ لگتا تو ۱۹۵۶ء کے آئین کے تحت پاکستان ایک جمہوری، اسلامی اور فلاحی ریاست کی حیثیت سے اُبھرتا۔

مطلب یہ کہ ایک طرف وہ بنگالی قیادت تھی، جو پاکستان کی سالمیت، اتحاد اور استحکام میں یقین رکھتی تھی اور دوسری طرف شیخ مجیب الرحمٰن بھی قومی سیاست میں متحرک تھا۔ مشرقی پاکستان کی کابینہ میں وزیر بھی رہا، لیکن باطنی طور پر قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد سے ’آزاد بنگلہ دیش‘ کا حامی تھا۔ مجھے اپنے ان احباب کے فہم پر حیرت ہوتی ہے جو مجیب الرحمٰن پر حُب الوطنی کا ’الزام‘ لگاتے ہیں۔ حالانکہ خود مجیب الرحمٰن نے ببانگ دہل جنوری ۱۹۷۲ء میں برطانوی صحافی ڈیوڈ فراسٹ کوٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ: ’’میں تو ۱۹۴۸ء سے ’آزاد بنگلہ دیش‘ کے قیام کے لیے کام کر رہا تھا‘‘۔ کیا ان ’دانش ور‘ حضرات کی بے جا سینہ کوبی اور سرٹیفکیٹ کے اجرا  کے برعکس مجیب الرحمٰن کا اعترافی بیان زیادہ بھاری اور مقدم نہیں ہے؟

سوال یہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن اپنے اعلان کے مطابق ۱۹۴۸ء سے کیوں بنگلہ دیش کا خواب دیکھ رہا تھا؟ پس منظر کے طور پر یہ جاننا ضروری ہے کہ فروری ۱۹۴۸ء میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ ’پاکستان کی سرکاری زبان اُردو ہوگی‘۔ اس فیصلے کی بنگالی ارکان اسمبلی کی ایک تعداد نے حمایت کی تھی، اور بالخصوص بنگال سے کانگریس کے ارکان اسمبلی نے مجموعی طور پر مخالفت کی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف مشرقی پاکستان میں غم و غصے کی لہر پھیلا کر ہنگامے کیے گئے۔ مارچ ۱۹۴۸ء میں قائداعظم نے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور اپنی تقاریر میں واضح کیا کہ آپ  اپنے صوبے کی حد تک بنگلہ کو سرکاری زبان اور ذریعۂ تعلیم بنا لیں، لیکن قومی رابطے کی زبان اُردو ہوگی، جسے پورے ملک میں بولا اور سمجھا جاتا ہے۔تاہم، بنگلہ آبادی کی اکثریت کے احساس کو شیخ مجیب جیسے شورش پسند لوگوں نے احتجاج اور انارکی کی راہ پر ڈالنے کے لیے سرتوڑ کوششیں شروع کردیں۔ قرائن و شواہد بتاتے ہیں کہ مجیب کے ذہن میں علیحدگی کے جراثیم اسی وقت سے پرورش پانے لگے تھے۔ اسی لیے اس نے ڈیوڈفراسٹ کے سامنے سچ بولتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ میں ۱۹۴۸ء سے علیحدگی کے لیے کام کرتا رہوں۔

اسی طرح شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد نے بھی چند برس قبل اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جب وہ اپنے والد کے ساتھ لندن کے ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی تو وہاں ہندستانی ’را‘ کے افسران آیا کرتے تھے، جن سے مل کر بنگلہ دیش کے قیام کے لیے منصوبہ سازی ہوتی تھی۔ کیا دشمن ملک کے ساتھ سازباز کرکے اپنا ملک توڑنا حب الوطنی ہے؟ جب مجیب نے دعویٰ کیا ہے کہ مَیں تو۱۹۴۸ء سے بنگلہ دیش کے قیام کے لیے کام کر رہا تھا، تو یہاں پر بتایا جانا چاہیے کہ اس وقت مشرقی پاکستان سے کون سی زیادتیاں ہوئی تھیں، جنھوں نے اسے صرف ایک سال کے اندر اندر  یہ جواز مہیا کیا تھا؟ ناانصافی کا جواز ہو بھی تو حب الوطنی کا تقاضا ملکی اتحاد کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنا ہوتا ہے نہ کہ ملک توڑنا۔

شیخ مجیب الرحمٰن کے عزائم، ’را‘ سے تعلقات، ہندستانی حمایت اور یلغار پر کئی کتابیں ہندستان، انگلستان اور دوسرے ممالک میں چھپ چکی ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندستان کی مالی، سیاسی اور فوجی مدد کے بغیر مجیب الرحمٰن کبھی بھی اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکتا تھا۔ یہ موضوع تفصیلی بحث کا متقاضی ہے۔

سوانح عمری کے انداز میں لکھی گئی وہ کتاب کہ جسے چشم دید گواہ نے بیان کیا ہو، تاریخ کا حصہ تصور ہوتی ہے، بشرطیکہ گواہ قابلِ اعتماد ہو۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ہمارے اکثر لکھنے اور بولنے والے حضرات و خواتین،تحقیق اور انصاف کے بجاے جذباتی اور غصیلے انداز سے فتویٰ جاری کردیتے ہیں اور تجزیے کے بجاے مخالفین کی القابات سے تواضع کرتے ہیں جس سے تاریخی مقدمات کا صحیح پس منظر نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔فی الحال اس سلسلے کی ایک اہم کتاب کا حوالہ پیش کیا جارہا ہے۔ یہ کتاب اس لیے اہم ہے کہ اس میں ایک چشم دید بلکہ اس سازش میں شامل ایک اہم کردار کے اعترافات شامل ہیں۔ یہ کتاب ستمبر ۲۰۱۱ء میں شائع ہوئی، جس کے مصنف کا نام ہے  ساشنک ایس بینرجی (Sashank S. Banerjee) اور عنوان India, Mujib-ur-Rehman, Bangladesh Libration & Pakistan ہے۔اس کتاب کا مصنف ڈھاکہ کے ہندستانی قونصلیٹ میں پولیٹیکل افسر کی حیثیت سے متعین تھا۔ پولیٹیکل افسر کا مطلب انٹیلی جنس افسر ہوتا ہے۔

بینرجی نے لکھا ہے: ’’۲۵دسمبر ۱۹۶۲ء کو جب میں کرسمس پارٹی سے فارغ ہوکر نصف شب کو گھر پہنچا تو پیغام ملاکہ ڈھاکہ کے ممتاز بنگلہ اخبار روزنامہ اتفاق کے ایڈیٹر مانک میاں (تفضل حسین) بلارہے ہیں۔ روزنامہ اتفاق کا دفتر قریب ہی تھا۔ میں وہاں گیا تو مانک میاں نے شیخ مجیب الرحمٰن سے میرا تعارف کروایا، جو وہاں پہلے سے موجود تھا۔ دو گھنٹے کی اس ملاقات میں مانک میاں نے وضاحت کی کہ وہ دراصل اٹانومی (صوبائی خودمختاری) کی آڑ میں بنگلہ دیش کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مجیب الرحمٰن نے کہا کہ مجھے اپنی جدوجہد کے لیے ہندستان کی مدد کی ضرورت ہے۔ پھر مجیب نے مجھے ہندستان کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط دیا، جسے ڈپلومیٹک بیگ سے بھجوایا جانا تھا۔ اس خط میں بنگلہ دیش کی آزادی کا روڈمیپ دے کر ہندستان سے ہرقسم کی مدد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ میں نے اپنے باس کو خط دکھا کر بیگ کے ذریعے نئی دہلی بھجوا دیا۔ مجیب نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ مَیں نہرو سے خفیہ ملاقات کرنا چاہتا ہوں اور لندن شفٹ ہوکر یکم فروری ۱۹۶۳ء کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کردوں گا اور عبوری حکومت قائم کر دوں گا، جب کہ مانک میاں ڈھاکہ میں رہ کر اپنے اخبار کے ذریعے لوگوں میں آزادی کا شعور بیدار کرتا رہے گا۔ وزیراعظم نہرو نے خط ملتے ہی اپنے انٹیلی جنس چیف سے میٹنگ کی اور پھر اپنے سیکورٹی مشیروں سے مشورہ کر کے مجیب کو پیغام بھیجا کہ ہم حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں‘‘۔

آگے چل کر بینرجی نے بتایا ہے: ’’دراصل چین سے شکست کی ذلت اُٹھانے کے بعد نہرو پریشان تھا، تاہم اس کے باوجود اس نے مجیب کے خط کو حد درجہ اہمیت دی۔ جواب آنے میں کچھ تاخیر ہوئی تو مجیب صبر نہ کرسکا اور بغیرپاسپورٹ بارڈرکراس کر کے ہندستانی ریاست تری پورہ کے دارالحکومت ’اگرتلہ‘ چلا گیا اور وہاں کے وزیراعلیٰ سچندرا لال سنگھ سے ملاقاتیں کرکے اس سے بھی یہی استدعا کی۔ مجیب واپس آیا تو میں نے اسے وزیراعظم نہرو کا پیغام دیا کہ ’’ہندستان آپ کی پوری مدد کرے گا، لیکن فی الحال بین الاقوامی صورت حال موزوں نہیں۔ لندن جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ ڈھاکہ میں رہ کر کام کریں اور وزیراعظم نہرو سے رابطے کے لیے صرف ڈھاکہ کے ہندستانی ڈپلومیٹک مشن کو استعمال کریں۔ جلدبازی نہ کریں، مناسب موقعے کا انتظار کریں۔   جس دن آپ کے جلسے میں ۱۰لاکھ لوگ آگئے تو آپ لیڈر بن جائیں گے۔ آپ سیاسی قوت میں اضافے کے ساتھ ساتھ چندا مہم شروع کریں۔ ہندستان مالی امداد بھی دے گا اور رہنمائی بھی کرے گا‘‘۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ ’’اس دوران مشرقی پاکستان کے انٹیلی جنس بیورو کو مجیب کی اگرتلہ یاترا کا پتا چل گیا اور مجیب گرفتار ہوگیا۔ مقدمہ چلتا رہا اور اس نے مجیب کو ایک انقلابی لیڈر بنادیا۔ صدر ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو دبائو کے تحت فروری ۱۹۶۹ء میں مجیب کو رہا کر دیا گیا۔ مجیب کا چھے نکاتی پروگرام بھی ملک توڑنے کا خاکہ تھا۔ جنرل یحییٰ خان اقتدار میں آیا۔ ’ون مین ون ووٹ‘ کی بنیاد پر انتخابات ہوئے، اقتدار منتقلی کے بجاے مارچ میں آرمی ایکشن ہوا۔ دسمبر ۱۹۷۱ء میں ہندستانی فوج نے مشرقی پاکستان فتح کرکے بنگلہ دیش بنادیا‘‘۔

مصنف نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کس قدر تھوڑے عرصے میں ہندستان کے روڈمیپ پر عمل ہوا اور مشن پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ کتاب کے حوالے سے یہ بہت مختصر تفصیلات درج کی جارہی ہیں۔ بہرحال اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ ہماری سیاسی غلطیوں اور آمریتوں نے مجیب کا کام آسان بنادیا، لیکن یہ ایک تاریخی سچ ہے کہ مجیب علیحدگی چاہتا تھا اور ہندستان کی مدد سے   ’آزاد بنگلہ دیش‘ کے قیام کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہا تھا، جس کی تصدیق مزید بہت سے مستند ذرائع سے ہوتی ہے۔

بھارتی بدنامِ زمانہ خفیہ ایجنسی ’را‘ کے بانی بی رامن نے اپنی کتاب Role of Raw میں اعتراف کیا ہے کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے میں ناکامی کے بعد سے، مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کے لیے پانچ نکاتی پروگرام پر پوری قوت سے کام کا آغاز کیا گیا اور بنگلہ دیش کی پیدایش اسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کا ڈپٹی اسپیکر شوکت علی، پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر یہ اعلان کرتا ہے کہ ’’میں بھارت کو سو فی صد کریڈٹ دیتا ہوںکہ اس نے بنگلہ دیش کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا‘‘۔ (روزنامہ انڈی پنڈنٹ، ڈھاکہ، ۱۷دسمبر ۲۰۱۱ء)

اس پس منظر میں لوگوں کو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ مجیب کی سیاسی وارث حسینہ واجد اتنے طویل عرصے کے بعد کیوں جھوٹے مقدمے قائم کرکے، اور جعلی عدالتیں بنا کر جماعت اسلامی کے ا ن حضرات کو پھانسیاں دے رہی ہے، کہ جنھوں نے ۱۹۷۱ء میں پاکستان کو متحد رکھنے کے لیے برحق جدوجہد کی تھی؟ اسی طرح ۱۹۴۷ء میں ہجرت کر کے آنے والے بہاری پاکستانیوں کو کیوں آج تک مہاجرکیمپوں میں محدود رکھا گیا ہے اور انھیں شہریت دینے سے کیوں انکاری ہے؟ مجیب کا انجام دُنیا دیکھ چکی ہے، اب دیکھیں اس کی جانشین کا کیا انجام ہوتا ہے؟

قائداعظم پاکستان کے رہنے والوں کے عظیم ترین محسن ہیں کہ انھوں نے اپنی صحت، نجی زندگی، گھربار سب کچھ تیاگ کر ہمیں ایک آزاد خطۂ زمین لے کر دیا اور انتقال سے قبل اپنی محنت سے کمائی گئی دولت بھی قوم میں تقسیم کرگئے۔ لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ قائداعظم ہماری تاریخ کے ایک مظلوم کردار بنتے نظر آتے ہیں۔

قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ان کے نظریات،افکار، سیاسی و ذاتی زندگی پر بحث جاری ہے اور یہ کشتی کنارے لگتی نظر نہیں آتی۔ اصول تو یہ ہے کہ کسی بھی عظیم سیاسی رہنما کو اس کی تقریروں، فرمودات، تحریروں اور سیاسی زندگی کے حوالے سے جانچا پرکھا جاتا ہے اور اپنے ذاتی ایجنڈے ، ذاتی فلسفے اور ذاتی مفاد سے بلند ہوکر اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہاں صورت مختلف ہے۔

قائداعظم کا نقطۂ نظر، تصور، جدوجہد اور وژن ان کی تقریروں سے روزِ روشن کے مانند واضح ہے، لیکن ہمارے ہاں خاص کر گذشتہ چار عشروں سے رسم چل نکلی ہے کہ ایجنڈا بردار حضرات ان کو پورے تناظر میں سمجھنے اور ان کی سیکڑوں تقاریر و بیانات پڑھنے کے بجاے، سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنے اپنے مطلب کے فقرے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ پھر انھی جملوں پر اپنے فلسفے اور اپنی خواہشات کا خول چڑھا کر مخصوص فکری  ڈھول پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی تحریف نگاری کا یہ موضوع ایک کتاب کا تقاضا کرتا ہے۔ مجھے قائداعظم کے سیکڑوں حوالے اور تقاریر یاد ہیں۔ یہاں پر صرف مثال کی خاطر عرض کر رہا ہوں کہ روزنامہ جنگ (۹فروری ۲۰۱۶ئ) نے ایک صاحب کا کالم شائع کیا، جس میں انھوں نے قائداعظم کی چند تقاریر سے من پسند اور وضع کردہ جملوں کو اپنے سیاق و سباق سے کاٹ کر من پسند نتائج اخذ کیے۔ اس سے مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔

مثال کے طور پر موصوف نے لکھا کہ یکم فروری ۱۹۴۸ء کو قائداعظم نے امریکی عوام سے ریڈیو خطاب میں فرمایا: ’’پاکستان ایک ایسی مذہبی ریاست نہیں بنے گا، جس میں مُلّائوں کو مذہبی نصب العین کی روشنی میں حکومت کرنے کا اختیار ہو‘‘ ۔ چونکہ موصوف نے اس جملے کو خاص طور پر اپنے مقصد کے لیے منتخب کیا ہے، اس لیے قائد کے اصل الفاظ اور پورا سیاق و سباق ملاحظہ فرمایئے اور پھر ان کا اُردو ترجمہ:

The constitution of Pakistan has yet to be framed by the Pakistan Constituent Assembly. I do not know what the ultimate shape of this constitution is going to be. But, I am sure that it will be of a democratic type, embodying the essential principles of Islam. Today, they [means `Principles of Islam`] are as applicable in actual life, as they were 1,300 years ago. Islam and its idealism have taught us democracy. It has taught equality of men, justice and fairplay to everybody. We are the inheritors of these glorious traditions and are fully alive to our responsibilities and obligations as framers of the future constitution of Pakistan. In any case Pakistan is not going to be a theocratic state __ to be ruled by priests with a divine mission. (Speeches, Statements & Messages of the Quaid-e-Azam, Vol: 4, ed: Khurshid A. Yusufi,(بزمِ اقبال، لاہور، ص ۲۶۹۴ 

مجلس دستورِ پاکستان کو ابھی پاکستان کا دستور مرتب کرنا ہے۔ مجھے اس بات کا تو علم نہیں کہ دستور کی حتمی شکل کیا ہوگی، لیکن مجھے اس امر کا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا، جس میں اسلام کے لازمی اصول شامل ہوں گے۔ آج بھی ان اصولوں کا اطلاق عملی زندگی میں ویسے ہی ہوسکتا ہے، جیسے کہ ۱۳۰۰ برس قبل ہوسکتا تھا۔ اسلام نے ہرشخص کے ساتھ عدل اور انصاف کی تعلیم دی ہے۔ ہم ان شان دار روایات کے وارث ہیں اور پاکستان کے آیندہ دستورکے مرتبین کی حیثیت سے ہم انھی ذمہ داریوں اور فرائض سے باخبر ہیں۔ بہرنوع، پاکستان ایک ایسی مذہبی مملکت نہیں ہوگی، جس پر آسمانی مقصد کے ساتھ پاپائوں کی حکومت ہو‘‘۔

کالم نگار موصوف نے حضرت قائداعظم کی تقریر کے اس مکمل پیراگراف سے اپنی مرضی کا ایک چھوٹا ٹکڑا نکال کر، قارئین کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔ اب آپ پورا اقتباس دیکھ لیجیے، یعنی قیامِ پاکستان کے پانچ ماہ بعد بھی قائداعظم بیان فرماتے ہیں:پہلے یہ کہ ’’دستور، دستور ساز اسمبلی نے بنانا ہے‘‘، مراد یہ ہے کہ ’’دستور میری ذات نے شاہانہ اختیار کے ساتھ تشکیل نہیں دینا‘‘۔ دوسرا یہ کہ’’ وہ جمہوری ہوگا اور اسلام کے لازمی اصولوں پر مبنی ہوگا‘‘۔  سوال یہ ہے کہ اسلام کے لازمی اصول رُوبہ عمل ہوں گے تو پھر پاکستان سیکولر کیسے ہوگا۔ تیسرا یہ کہ ’’اسلام کے اصول ۱۳۰۰سال بعد بھی ویسے ہی قابلِ اطلاق ہیں اور ہم اہلِ پاکستان قطعاً معذرت خواہ نہیں ہیں کہ ۲۰ویں صدی میں آٹھویں صدی ہجری کے عطا کردہ ضابطوں کو رُوبہ عمل لانے سے کسی طور پر شرمائیں‘‘۔ چوتھا یہ کہ’’ اسلام ہرشخص کے ساتھ (یعنی غیرمسلموں کے ساتھ بھی) عدل اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے اور دستورسازی انھی اصولوں پر ہوگی‘‘۔ پانچواں یہ کہ ’’یہاں پر حکمرانی پاپائوں کی نہیں ہوگی، جو کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہوں اور اپنے ہر بُرے بھلے فعل کو تقدس کی مُہر سے نافذ کرنے کی دھونس جمائیں‘‘۔ (ایسا اختیار یا استثنا اسلام میں سرے سے ہے ہی نہیں، جب کہ ایسا مذہبی اقتدار صرف عیسائیوں میں تھا،جس سے مسلمانوں کی تاریخ کا کوئی تعلق نہیں)۔ اب آپ جناب دانش ور کی دیانت اور قائد کی بصیرت کا موازنہ کرکے دیکھیے، کیا واقعی قائدکے بیان کردہ اصولی موقف سے کاٹ کر، استعمال کردہ ٹکڑے کا وہی مطلب ہے، یا اس کا مقصد ایک بڑی جچی تلی اور مبنی برصداقت راے کا اظہار ہے؟

قائداعظم کے یکم فروری ۱۹۴۸ء کو امریکی عوام کے نام ریڈیو خطاب کا ذکر پڑھ کر مجھے اس لیے حیرت ہوئی کہ اسی خطاب میں قائداعظم کے ان الفاظ کو کیوں درخور اعتنا نہ سمجھا گیا، جو بنیادی اصول اور قائداعظم کے تصورِ پاکستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذرا ان الفاظ کو پڑھ لیجیے جو امریکی عوام نے اپنے کانوں سے سنے: Pakistan is the premier Islamic state [پاکستان سب سے بڑی اسلامی مملکت ہے]۔ مجھے اس پر ہرگز حیرت نہیں ہوتی کہ ایک مخصوص مکتب فکر سے وابستہ یہ لوگ قائداعظم کی تقاریر کو پڑھتے ہوئے ایسے تمام الفاظ کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور اُن کا جی چاہتا ہے کہ ان الفاظ کو قائداعظم کی تقاریر سے حذف کر دیا جائے۔

اسی مضمون میںیہ کالم نگار مزید لکھتے ہیں: ’’۱۹فروری ۱۹۴۸ء کو آسٹریلیا کے عوام کے نام تقریر میں قائداعظم نے اعلان کیا کہ ’’پاکستانی ریاست میں مُلّائوں کی حکومت (Theocracy) کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی‘‘۔ یہاں پر مَیں مجبور ہوں کہ ایک مرتبہ پھر مظلوم قائداعظم سے رجوع کروں۔ وہ ۱۹فروری ۱۹۴۸ء کو آسٹریلوی عوام کے نام ریڈیائی خطاب میں فرماتے ہیں:

West Pakistan is separated from East Pakistan by about a thousand miles of the territory of India....How can there be unity of government between areas so widely separated? I can answer this question in one word. It is 'Faith': Faith in Almighty God, in ourselves and in our destiny. But, I can see that people, who do not know us well might have difficulty in grasping the implications of so short an answer. Let me, for a moment, build up the background for you.

The great majority of us [means Pakistanis] are Muslims. We follow the teachings of the Prophet Muhammad (peace be on him). We are members of the brotherhood of Islam in which all are equal in right, dignity and self-respect. Consequently, we have a special and a very deep sense of unity. But, make no mistake: Pakistan is not a theocracy or anything like it. Islam demands from us the tolerance of other creeds and we wellcome in closest association with us all those who, of whatever creed, are themselves willing and ready to play their part as true and loyal citizens of Pakistan. Not only are most of us Muslims, but we have our own history, customs and traditions, and those ways of thought, outlook and instinct, which go to make up a sense of nationality.  (حوالہ مذکور، جلد۴، ص ۸۸-۲۶۸۷

مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ہزار میل کے قریب بھارتی علاقہ ہے۔ اس قدر طویل فاصلہ ہو تو اتحاد عمل کیسے ہوسکتا ہے؟ میں اس سوال کا ایک لفظ میں جواب دے سکتا ہوں، اور وہ ہے ’ایمان‘۔ ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر، اپنے اُوپر اعتماد اور اپنے مقدر پر بھروسا۔ لیکن میں سمجھ سکتا ہوں کہ جو لوگ ہم سے واقف نہیں ہیں، انھیں اس مختصر سے جواب کے مضمرات کو سمجھنے میں شاید کچھ مشکل محسوس ہو۔ لیجیے، میں آپ کے سامنے تھوڑ ا سا پس منظر بیان کیے دیتا ہوں:

ہماری عظیم اکثریت مسلمان ہے۔ ہم رسولِ خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ ہم اسلامی ملّت و برادری کے رکن ہیں، جس میں حق، وقار اور خودداری کے تعلق سے سب برابر ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہم میں اتحاد کا ایک خصوصی اور گہرا شعور موجود ہے۔ لیکن غلط نہ سمجھیں، پاکستان میں کوئی پاپائی نظام رائج نہیں ہے۔ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسلام ہم سے دیگر عقائد کو گوارا کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور ہم اپنے ساتھ ان لوگوں کے گہرے اشتراک کا پُرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں، جو خود پاکستان کے سچّے اور وفادار شہریوں کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ اور رضامند ہوں۔ نہ صرف یہ کہ ہم میں سے بیش تر لوگ مسلمان ہیں، بلکہ ہماری اپنی تاریخ ہے، رسوم و روایات ہیں اور وہ تصوراتِ فکر ہیں ، وہ نظریہ اور جبلّت ہے جس سے قومیت کا شعور اُبھرتا ہے۔

آسٹریلیا کے عوام کے نام قائداعظم کے اس خطاب کا یہ حصہ ملاحظہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی بات وہ یہ فرما رہے ہیں کہ: ’’پاکستان کے قومی اتحاد کی بنیاد ’ایمان‘ ہے‘‘۔ پھر لفظ ’ایمان‘ کی وہ تشریح فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ پر ایمان‘‘۔ قائد اسی بات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ابہام کو دُور کرنے کے لیے یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’یہ ملک عظیم مسلم اکثریت رکھتا ہے‘‘۔ یہاں وہ یہ نہیں کہتے کہ: ’’مسلم، ہندو ، سکھ، عیسائی، پارسی کیا ہوتا ہے؟ ہم بس پاکستانی ہیں‘‘۔ نہیں، بلکہ وہ قیامِ پاکستان کی بنیاد ’مسلم اکثریت‘ کی نشان دہی کرتے ہیں۔ دوسرا وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ ’’پاکستان بن گیا ہے، اب ہمارا کیا تعلق اسلام اور غیراسلام کے سوال سے۔ اس لیے اب رہنمائی کے لیے ارسطو، روسو، والٹیر اور ابراہام لنکن کی طرف دیکھو‘‘۔ اس کے بجاے وہ بڑے واضح لفظوں میں فرماتے ہیں: ’’ہم رسولِ خدا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں‘‘۔ اور رسولؐ اللہ کی تعلیمات کا مطلب محض ’محمدعلی‘ نام رکھنا نہیں ہوتا بلکہ قرآن، سنت اور حدیث محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہوتی ہیں۔ پھر وہ یہ نہیں کہتے کہ: ’’سرحد اور قومیت کی بنیاد کیا ہوتی ہے‘‘ بلکہ اس کے بجاے کہتے ہیں: ’’ہم اسلامی ملّت و برادری کے رکن ہیں‘‘۔ اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’مسلمان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں‘‘ اور پھر واضح کرتے ہیں کہ: ’’یہاں کوئی پاپائی نظام رائج نہیں ہے؟‘‘ اور آگے چل کر غیرمسلم شہریوں کا پورا احترام ملحوظ رکھنے کی بات کو وہ محض پاکستانی ہونے کے ناتے سے نہیں بلکہ پاکستان سے وفاداری سے مشروط کرتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ کالم نگار صاحب نے جو الفاظ قائداعظم سے منسوب کیے ہیں، وہ اپنے سیاق و سباق میں بالکل دوسرا منظرنامہ پیش کرتے ہیں، جو عین اسلامی فکریات سے مطابقت رکھتا ہے۔

قائداعظم نے یہ بات ۱۲،۱۳ مرتبہ کہی کہ پاکستان مذہبی ریاست نہیں ہوگی اور کئی بار وضاحت کی، جو ان کے فہم اسلام کا ثبوت ہے کہ اسلام میں مذہبی ریاست کا تصور موجود نہیں۔ ظاہر ہے کہ مذہبی ریاست عوام پرمذہب مسلّط کرتی ہے اور اقلیتوں کو برابر کے حقوق نہیں دیتی، جب کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو برابر کے شہری تصور کیا جاتا ہے اور ان پر ریاستی مذہب مسلّط نہیں کیا جاتا۔ ایک واضح اور روشن مثال ریاست مدینہ ہے۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ مرحوم نے میثاقِ مدینہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے تحت غیرمسلموں کو برابر کے حقوق دیے گئے تھے۔ غیرمسلموں کے حوالے سے حُسنِ سلوک، احترام، برابری اور برداشت کی مثالیں سیرتِ نبویؐ میں موجود ہیں، جس پر بہت لکھا جاچکا ہے۔ گویا اسلام یا اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے جھگڑا نہیں بلکہ اس ساری بحث اور جدوجہد کا مقصد کچھ اور ہے۔ پاکستان ہرگز مذہبی ریاست نہیں، بلکہ یہ اصول ہمیشہ کے لیے طے ہوکر آئین کا حصہ بن چکا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جس کے قوانین، آئین، ڈھانچے وغیرہ کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہوگی۔

یہی بات قائداعظم نے قیامِ پاکستان سے قبل ۱۰۱ بار اور قیامِ پاکستان کے بعد ۱۴بار برملا اور واشگاف الفاظ میں بیان فرمائی کہ پاکستان کا آئین، نظام، قانون، انتظامی ڈھانچے وغیرہ کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو حضرات پاکستان کو مذہبی ریاست بنانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں وہ بھی ناکام ہوں گے اور جو اسے اسلامی کے بجاے محض جمہوری ریاست بنانے کا خواب دیکھتے ہیں اور اس پر سیکولرزم کا غلاف چڑھانا چاہتے ہیں، وہ بھی ناکامی کے مقدر سے ہم کنار ہوں گے۔ قائداعظم نے بارہا ’مسلمان ریاست‘ کا لفظ استعمال کیا، لیکن ہربار ’مسلمان ریاست‘ کے بعد ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ ’’جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہوگی‘‘۔

اب ظاہر ہے کہ جس ریاست کی بنیاد اسلام ہو، اسے اسلامی ریاست یا اسلامی ملک ہی کہتے اور سمجھتے ہیں، اسے مذہبی ریاست نہیں کہتے۔ لیکن سیکولرزم کے پردے میں خود دو قومی نظریے کی نفی کرنے کے درپے ان حضرات کے لیے اصل وبالِ جان یہ تصور ہے کہ ’’اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات‘‘ ہے، جو ذاتی زندگی، سیاسی زندگی، ریاستی زندگی، حتیٰ کہ ہر شعبے پر محیط ہے۔ اس لیے اسلامی ریاست کی سیاست، طرزِحکمرانی، قانون کی تشکیل، تنفیذ اور تعبیر وغیرہ کو اسلام سے آزاد نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح مسلمان ریاست میں غیراسلامی رسومات و عادات، مثلاً: شراب، زنا، سود، جوا، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، استحصال، چوری وغیرہ وغیرہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ گھر کی چار دیواری کے اندر آپ کیا کرتے ہیں، یہ بندے اور اللہ کا معاملہ ہے۔ مگر ریاست کا تعلق اجتماعی معاشرت سے ہے، اور اس کے بارے میں ریاست کو ایک واضح تصور اختیار کرنا ہوتا ہے۔ ریاست ِ پاکستان کے اس تصور کی تشکیل ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو نہیں بلکہ طویل، جاں گسل اور صبرآزما جدوجہد کے دوران میں ہوئی تھی۔ اسی کمٹ منٹ نے پاکستان کی صورت گری کی ہے۔

تاریخی پس منظر اور قائداعظمؒ کی ۱۹۴۰ء سے ۱۹۴۸ء تک ساری تقاریر کے تناظر میں دیکھیں تو ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کا مدعا فقط یہ تھا کہ اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور مذہب ان کی ترقی، تمدن اور اندازِ زندگی میں حائل ہوگا، نہ رکاوٹ بنے گا اور غیرمسلم اپنے مذہب کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں گے۔ مختصر یہ کہ ریاست ان پر مذہب مسلّط نہیں کرے گی۔

کراچی بار ایسوسی ایشن سے عیدمیلاد النبیؐ کے موقعے پر ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو قائداعظم نے بڑے بلندآہنگ الفاظ میں اعلان فرمایا کہ: ’’وہ شرارتی عناصر ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ آئین پاکستان کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی۔ اسلامی اصول آج بھی ہماری زندگی پر اسی طرح لاگو (applicable) ہیں جس طرح تیرہ سو سال قبل تھے‘‘ (قائداعظم کے بیانات، تقاریر، جلد چہارم، ص ۲۶۶۹)۔ ظاہر ہے کہ اسلامی شریعت کا نفاذ غیرمسلموں پر تو نہیں ہونا تھا۔ جو مذہبی عناصر شریعت کے نام پر تشدد پھیلاتے، خدائی فوج دار بنتے اور اقلیتوں کے حقوق پر ضرب لگاتے ہیں، وہ زیادتی بلکہ کھلم کھلا قرآن و سنت اور اسلامی شریعت کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو حضرات اسلام کے نام پر’ لبرل ازم‘ یا ’سیکولرزم‘ کی آڑ میں مادرپدر آزادی و اخلاق باختگی پھیلاتے ہیں، وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون و ضابطے کو توڑتے اور اسلامی حدود کو پامال کرتے ہیں۔

ذہنی ارتقا انسانی زندگی کا حصہ ہے۔قائداعظم کی جانب سے تحریک خلافت کی مخالفت کی کئی وجوہ تھیں۔ برطانیہ سے ۱۹۳۴ء میں واپسی کے بعد اور خاص طور پر آٹھ صوبوں میں کانگریسی حکومت (Congress Rule) کی مسلم دشمنی پر مبنی کارروائیوں کو دیکھنے کے بعد قائداعظم کے خیالات میں بے پناہ تبدیلی نظر آتی ہے، جس کی بہترین جھلک مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کے ۱۹۴۶ء میں دہلی کنونشن [۷-۹؍اپریل]کے خطاب اور قرارداد میں ملتی ہے۔ دہلی کنونشن میں منظور کردہ قرارداد کو پڑھیے تو تصورِ پاکستان سمجھ میں آئے گا۔ اس قرارداد کے متن کے مطابق مستقبل میں تشکیل پانے والی مملکت پاکستان کے اسلامی، تہذیبی، سماجی اور آئینی دائرئہ کار کی بھرپور وضاحت ہوتی ہے۔ ازاں بعد جو حلف نامہ شرکاے اجلاس نے متفقہ طور پر پڑھا، جس کا ایک ایک جملہ نواب زادہ لیاقت علی خان بلندآواز میں پڑھتے تھے اور قائداعظم سمیت تمام منتخب ارکان اُن جملوں کو باآواز بلند دہراتے تھے۔ اس حلف نامے کے الفاظ بھی واضح کرتے ہیں کہ کُل ہند مسلم لیگ کے ارکان کس پاکستان کو بنارہے تھے۔ اس حلف نامے کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہہ دو کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

اوراس حلف نامے کا اختتام قرآنِ پاک کی اس آیت پر ہوتا ہے:

رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ

اے پروردگار، ہمیں صبرواستقامت دے۔ ہمیں ثابت قدم رکھ اور قومِ کفار پر ہمیں فتح و نصرت عطا فرما۔(سیّد شریف الدین پیرزادہFoundation of Pakistan،جلددوم، ناشر: سینٹر آف ایکسی لینس، قائداعظم یونی ورسٹی، اسلام آباد، ۲۰۰۷ئ، ص ۴۷۷- ۴۷۹ اور ۴۸۷-۴۸۸)

ہندستانی سفیر سری پرکاش کی کتاب بہت سے جھوٹوں کا مجموعہ ہے۔ قائداعظم کی شخصیت کے وقار کے پیش نظر ہندستانی سفیر گورنر جنرل کو سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کر لے، ناقابلِ فہم ہے۔ پھر قائداعظم جیسا کھرا انسان کیسے کہہ سکتا تھا کہ: ’’میں نے کبھی ’اسلامی‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا‘‘۔ قائداعظم کو معذرت خواہانہ رویے اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی اور نہ اُن کا یہ مزاج تھا، جب کہ  وہ اسلامی نسبت کا لفظ کئی بار ادا کرچکے تھے۔ سری پرکاش نے یہ واقعہ ستمبر ۱۹۴۷ء کا لکھا ہے،  صرف ایک ماہ بعد قائداعظم نے پنجاب یونی ورسٹی اسٹیڈیم لاہور میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے ۳۰؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو اعلان کیا تھا: Be prepared to sacrifice his all, if necessary, in building up Pakistan as a Bulwark of Islam [اس امر کے لیے تیار رہیے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے اگر ضروری ہو تو اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے]۔ (ایضاً، جلد چہارم، ص ۲۶۴۳)

یہ اعلان اہلِ پنجاب نے براہِ راست اور اہلِ پاکستان نے بذریعہ ریڈیو سنا کہ: ’’پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہوجائو‘‘۔کیا یہ قلعہ ہوا میں تعمیر ہونا تھا؟ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا عزم رکھنے والے قائداعظم یہ کیسے کہہ سکتے تھے کہ پاکستان اسلامی ریاست نہیں ہوگی۔ میں سیکڑوں حوالے دے سکتا ہوں لیکن جنھوں نے نہیں ماننا، انھوں نے بہرحال نہیں ماننا۔

اسی طرح یہ اصولی بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ تحقیق اور تحریر کا ایک طے شدہ اصول ہے۔ کسی بھی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہوئے اس کی پوری شخصیت، انداز و اَطوار، کردار وغیرہ کو ذہن میں رکھا جاتا ہے اور ایسے من گھڑت واقعات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، جو اس شخص کی شخصیت سے مطابقت نہ رکھتے ہوں، لگانہ کھاتے ہوں۔ اللہ پاک نے عقلِ عام (common sense) اسی لیے دی ہے کہ اسے استعمال کیا جائے اور اس کی کسوٹی پر سچ جھوٹ کو پرکھا جائے۔ قائداعظم کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے، خاص طور پر ۱۹۳۵ء سے لے کر ستمبر ۱۹۴۸ء تک ان کی شخصیت کا ہرشعبہ بے نقاب ہے۔ ان برسوں میں قائداعظم نے باربار سارے ہندستان کے دورے کیے، بہت سی جگہوں پہ قیام کیا۔ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح اکثر ساتھ ہوتی تھیں۔ قائداعظم درجن بار سے زیادہ لاہور آئے ، ممدوٹ ولا، فلیٹیز ہوٹل اور پھر گورنر ہائوس میں قیام کرتے رہے، لاکھوں لوگوں سے ملتے رہے، لیکن آج تک کسی شخص نے وہ بات نہیں کہی، جو روزنامہ جنگ کے ایک کالم نگار   نے لکھی۔ مَیں تحریکِ پاکستان اور قائداعظم سے بار بار ملنے والے سیکڑوں کارکنوں سے ملا ہوں۔ بانیِ پاکستان کے بارے میں کسی بھی واقعے کو ہوا دینے سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ کیا اس میں سچائی ہوسکتی ہے؟ اور کیا یہ کامن سنس کو اپیل کرتا ہے؟

یاد رہے کہ قائداعظم سیکڑوں بار اعلان کرچکے تھے کہ پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہوگی۔ قائداعظم اصول پرست، سچے اور کھرے انسان تھے۔ مصلحت یا منافقت کے الفاظ اُن کی ڈکشنری میں موجود ہی نہیں تھے۔ اُن کی سیاسی زندگی میں بہت سے ایسے مقامات آئے، جب اُن کو مصلحت کی بنیاد پر ایسا مشورہ دیا گیا، جو اُن کے کھرے اصولوں کے خلاف تھا۔ اُنھوں نے نقصان برداشت کرلیا، لیکن اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا۔ وہ جن اصولوں، تصورات اور وژن کا پرچار کرتے تھے، اُن پر خود بھی سختی سے عمل کرتے تھے۔ اس حوالے سے اُن کی سوانح عمری سیکڑوں واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ قائداعظم پاکستان کو ایک اسلامی ریاست کہتے تھے، اور اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کرتے تھے۔ ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کے دن پہلے یومِ آزادی کے موقعے پر پاکستان کے پرچم کشائی کی تقریب میں قائداعظم، مولانا شبیراحمد عثمانی کو خاص طور پر اپنے ساتھ لے کر گئے اور اُن سے پرچم کشائی کروائی۔ ڈھاکہ میں قائداعظم کے حکم پر ہی مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہرزادے مولانا ظفراحمد عثمانی سے پرچم کشائی کروائی گئی۔ دیکھنے اور سمجھنے والوں کے لیے اس میں اُس وقت بھی ایک واضح پیغام تھا اور آج بھی موجود ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد صوبوں میں اسلامک ری کنسٹرکشن بورڈ یا اسلامی تعلیمات بورڈ تشکیل دیے گئے، جن کا فرضِ منصبی یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شہریوں کی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے سفارشات دیں۔ ان بورڈوں کی سفارش پر ۳۰ستمبر ۱۹۴۸ء میں پنجاب اور سرحد میں شراب پر پابندی لگادی گئی۔ اس پابندی کے سرکاری حکم نامے، یعنی نوٹیفیکیشن کی خبر پاکستان کرونیکل  از عقیل عباس جعفری کے صفحہ ۲۶ پر موجود ہے اور پڑھی جاسکتی ہے۔

قائداعظم پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری جدید ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے ایک طرف عید میلادالنبیؐ کی تقریب منعقدہ کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں شریعت کے نفاذ کی بات کی، تو دوسری طرف یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں ماہرین معیشت و مالیات سے پاکستانی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کی نصیحت کی۔

اسٹیٹ بنک کی افتتاحی تقریب سے یہ خطاب، قائداعظم کی آخری عوامی تقریر تھی، جس کے بعد بیماری نے اُنھیں آرام پہ مجبور کر دیا۔ ذرا قائداعظم کے الفاظ کے باطن میں جھانکیے اور اُن کا مدعا اور وژن سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ انھوں نے کہا:

I shall watch with keeness the work of your Research Orgnanization in evolving practices compatible with Islamic ideals of social and economic life.... The adoption of Western economics theory and practice will not help us in achieving our goal of creating a happy and contented people. We must work our destiny in our own way and present to the world an economic system based on true Islamic concept of equality of manhood and social justice.

میں دل چسپی سے اس امر کا انتظار کروں گا کہ آپ کا شعبۂ تحقیق ، بنکاری کے طور طریقوں کو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات سے ہم آہنگ کرے… مغربی  معاشیات اور عمل، خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا، اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی اساس انسانی مساوات اورمعاشرتی عدل کے سچّے اسلامی تصور پر استوار ہو۔(ایضاً،جلد چہارم، ص ۲۷۸۷)

اس سے ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ جب قائداعظم نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کا اعلان کیا تھا تو اُن کا کیا مدعا تھا۔ وہ مغرب کے نظامِ معیشت کے مقابلے میں اسلامی نظامِ معیشت پر مبنی معاشی و معاشرتی ڈھانچا وضع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔قائداعظم عہد اور عزم کے پکّے تھے۔ وہ زندہ رہتے تو اپنے وژن کو عملی شکل دے کر دم لیتے، لیکن موت کا ایک دن مقرر ہے اور وہ مشن کی تکمیل کا انتظار نہیں کرتی۔ اس طرح وہ مشن اگلی نسل کو منتقل ہوجاتا ہے۔

قائد ملت لیاقت علی خان، قائداعظم کے معتمد ترین ساتھی اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ وہ قائداعظم کی سوچ اور وژن کا مکمل ادراک رکھتے تھے۔ قائداعظم کی وفات کے سات ماہ بعد دستورساز اسمبلی میں ’قراردادِ مقاصد‘ پیش کرتے ہوئے، وزیراعظم لیاقت علی خان نے یقینا قائداعظم کے وژن کو ذہن میں رکھا۔ جو دانش ور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ:’ ’قراردادِ مقاصد کا مسودہ قائداعظم کو دکھایا گیا تھا، لیکن اُنھوں نے اس کی منظوری نہ دی‘‘، وہ جھوٹ بولتے ہیں، کیونکہ تاریخ میں ایسے کسی انکار کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ ہمارے سیکولر دوستوں کو قائداعظم کے حوالے سے ’ہوائیاں‘ اُڑانے، بے بنیاد دعوے کرنے ، اُن کی تقاریر کو سیاق و سباق سے الگ کرکے اور بعض اوقات الفاظ میں تحریف کرکے من پسند نتائج اخذ کرنے کا دائمی عارضہ لاحق ہے۔

جسٹس محمد منیر نے اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں قائداعظم کی ایک تقریر کے الفاظ میں اپنی طرف سے تبدیلیاں کرکے سیکولرزم کے لیے بنیاد فراہم کی ہے۔ پاکستانی نژاد  محترمہ سلینہ کریم نے اپنی کتاب Secular Jinnah - Munir's Big  Hoax Exposed میں تقریر کے اصل الفاظ دے کر جسٹس منیرکی دیانت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ جسٹس منیر کی کتاب سے یہی الفاظ لے کر سیکولرزم کے علَم بردار، قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے اپنی ذہنی توانائیاں صرف کرتے رہے لیکن محترمہ سلینہ کریم نے ان الفاظ کوغلط اور من گھڑت ثابت کرکے ان کی دانش وَری کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ مصنفہ کا بجاطور پر کہنا ہے کہ: جب میں نے جسٹس منیر کی کتاب اور اس میں قائداعظم کی تقریر کا حوالہ پڑھا تو میں پریشان ہوگئی کہ ان الفاظ کی انگریزی غلط تھی، جب کہ قائداعظم غلط انگریزی نہیں بول سکتے تھے۔ میں نے تحقیق کی تو رازکھلا کہ جسٹس منیر نے یہ الفاظ اپنے پاس سے لکھے تھے‘‘___ دیانت دارانہ تحقیق کی بنیاد پر قائداعظم کو کسی صورت بھی سیکولر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے میں سیکولر دانش وروں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا! قائداعظم کو معاف کردو۔ اپنے ایجنڈے کا جواز قائداعظم کی تقریروں یا شخصیت میں مت تلاش کرو۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے اور ان شاء اللہ اسی سمت میں سفر جاری رکھے گا۔