خلیج فارس کی جنگ اب بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب تک پھیل گئی ہے۔گذشتہ ہفتے ایران نواز ’انصاراللہ‘ المعروف ’حوثیوں‘ نے سعودی حمایت یافتہ یمنی فوج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے المخا (Mokha) بندرگاہ پر قبضہ کیا اور اگلے ہی روز آبنائے باب المندب کے اہم جزیرے میون (Perim/Mayun) پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ یہ پیش رفت محض یمن کی خانہ جنگی کا ایک اور واقعہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد کے ایک بڑے اہم بحری راستے کو بدلنے اور روکنے کی علامت ہے۔
l میون: باب المندب کا جغرافیائی مہرہ:تقریباً ۲۷ کلومیٹر چوڑی آبنائے باب المندب ایشیا، خلیج عرب، بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز کے درمیان عالمی تجارت کا اہم دروازہ ہے۔ جزیرہ میون اسی آبنائے کے اندر واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس جزیرے پر قابض قوت کو وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی اور اسے خطرے میں ڈالنے کے لیے ایک اہم جغرافیائی پوزیشن حاصل ہوجاتی ہے۔
اس طرح ایک جانب آبنائے ہرمز اور دوسری طرف باب المندب میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم، میون پر حوثیوں کے قبضے کو ایران کی مکمل بحری بالادستی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خطے میں امریکی، سعودی اور دوسری بحری و فضائی قوتیں بھی موجود ہیں۔ ان کامیابیوں کو ایران کی فتح کے بجائے تہران کی تزویراتی سودے بازی کی قوت میں اضافے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
بحیرۂ احمر سے جنوب کی جانب جانے والے تیل بردار ٹینکر باب المندب سے گزر کر بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے راستے ایشیائی منڈیوں تک پہنچتے ہیں، جب کہ شمال کی راہ اختیار کرنے والے ٹینکر نہر سویز عبور کرکے بحیرۂ روم کے راستے یورپی منڈیوں کی راہ لیتے ہیں۔یوں معاملہ صرف ہرمز اور باب المندب تک محدود نہیں رہا، بلکہ سعودی عرب کا وہ زمینی راستہ بھی زد میں آگیا، جو آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہمیت رکھتا تھا۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاصا حساس ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پُر عزم ہے، تو دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔ ترکیہ بھی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تاہم، اگر سعودی سرزمین پر حملے مسلسل بڑھتے ہیں، انسانی اور معاشی نقصان وسیع ہوتا ہے یا سعودی فوجی تنصیبات براہِ راست نشانہ بنتی ہیں، تو مکہ معاہدے کی اصل آزمائش شروع ہوجائے گی۔
دوسری طرف امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’بحرین میں موجود امریکی بحری تنصیبات کو ایرانی حملوں سے بُری طرح نقصان پہنچا۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے عملے کے لیے وہاں واپس آکر قیام یا جہاز کو لنگر انداز کرنے کی مناسب جگہ بھی باقی نہیں رہی‘‘۔ بحرین امریکا کے لیے خلیج میں محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ اس کی بحری حکمتِ عملی کا اہم مرکز ہے۔
خلیج فارس سے باب المندب تک پھیلتی جنگ ایک نئی حقیقت سامنے لارہی ہے، یعنی جدید جنگ صرف میزائل، بم اور طیاروں کی جنگ نہیں ہوتی۔ بندرگاہیں، جزیرے، آبنائے، پائپ لائنیں، تجارتی راستے اور سرحدی گزرگاہیں بھی جنگ کے اہم ہتھیار بن سکتے ہیں۔امریکا کے پاس گولہ بارود کی غیر معمولی طاقت ہے، مگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے پاس خطے کا پیچیدہ جغرافیہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ عسکری قوتِ قاہرہ، جغرافیہ کو شکست دے سکے گی یا جغرافیہ گولہ بارود کی طاقت کو مفلوج کردے گا؟
اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ اب صرف غزہ اور غربِ اردن تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی اور عوامی ردعمل بڑھتا جارہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے غربِ اردن کی اسرائیلی آبادیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جب کہ مزید ممالک بھی ایسی پابندیوں کی حمایت کررہے ہیں۔
ملی بینڈ کے بیانات پر اسرائیل اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انھیں یہود دشمنی سے جوڑا گیا، حالانکہ ملی بینڈ خود ایک یہودی ہیں۔ ان کے خاندان نے نازی دور میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کا سامنا کیا تھا۔
فلم کا نام NAZA دراصل اسرائیلی عسکری و انٹیلی جنس نظام میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں یا ’ضمنی نقصان‘ کی تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فلم نے اسی اصطلاح کو اپنا عنوان بنا کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگی منصوبہ بندی میں جب انسانی جانیں بھی محض اعداد و شمار یا ایک ’عسکری کوڈ‘ بن جائیں تو اس کے اخلاقی اور انسانی مضمرات کیا ہوتے ہیں؟
۱۰ ستمبر کو اس کی افتتاحی نمائش کے بعد جب فلم ساز اسٹیج پر آئے تو سارا مجمع کھڑا ہوکو ۲۵ منٹ تک تالیاں بجاتا رہا۔ یہ وینس فلم میلے میں کسی بھی فلم کی طویل ترین پذیرائی تھی۔ اس موقع پر یووال ابراہام نے کہا کہ NAZA محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسی دستاویزی کاوش ہے کہ جس میں غزہ کی جنگ کو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی زبان سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس فلم سے ابھرتی AI ٹکنالوجی کے بارے میں دنیا تشویش کا شکار ہوگئی ہے۔لگتا ہے کہ جدید ٹکنالوجی نے انسان کو محض ایک ہدف میں تبدیل کردیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر ثقافت مکی ظہر نے دونوں فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیاہے، جب کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے NAZA کو ’بدترین اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔ یہ ردعمل خود اس بات کی علامت ہے کہ فلم نے اسرائیل کے اندر بھی ایک غیرمعمولی سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے اور اس جابرانہ طرز عمل سے مشرق وسطیٰ کی’اکلوتی جمہوریت‘ بے نقاب ہوگئی ہے۔
اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے لے کر ٹیکساس کے کلاس روم تک الفاظ اور بیانئے اسلام مخالف مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اب اسکولوں میں تاریخ، تحقیق، شواہد اور غیر جانب داری کے بجائے مسلمانوں سے خوف اور شک کے ساتھ پڑھائی جائے گی۔جس کی بناپر کمرۂ تدریس علم کا مرکز بننے کے بجائے معاشرتی تقسیم کا میدان بن سکتا ہے۔ تاریخ کا کام کسی مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ماضی سے سچ سیکھنے کے قابل بنانا ہے۔
_______________
غزہ اور لبنان میں جنگ بندی، ثالثی کی کوششوں اور بارہا کی سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اب بھی پائیدار امن سے خاصا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے: ’’ہم نے سیکڑوں سال پرانے وہ ۲۴ لبنانی دیہات تباہ کردیئے جن کے شیعہ باشندے حزب اللہ کی حمایت میں اسرائیل کے دشمن کے طور پر کام کرتے تھے۔ہم نے صرف چند مکانات نہیں بلکہ پورے دیہات مسمار کیے ہیں‘‘۔ اس طرح ۱۵ سے ۲۰ ہزار مکانات منہدم کیے جا چکے ہیں۔ اس بیان کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبادی کو صرف ’حزب اللہ کے حامی‘ نہیں بلکہ ’شیعہ باشندے‘ کہہ کر متعارف کرایا گیا۔ جب کسی فوجی مہم میں مذہبی شناخت کو اس انداز سے نمایاں کیا جائے تو اس سے سیاسی اور عسکری تنازع کو فرقہ وارانہ رنگ ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدیوں سے آباد دودرجن دیہات اور تقریباً ۷۰۰ مربع کلومیٹر علاقے کی تباہی صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے جغرافیے اور آبادیاتی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی بلکہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔
غزہ میں بھی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ۲؍اگست کو دیر البلاح ، خان یونس اور دوسرے شہروں پر بمباری میں آٹھ اور ڈیڑھ سال کی بچیوں سمیت ۱۹؍افراد جاں بحق ہوئے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق جولائی میں ایک سو سے زیادہ شہری اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔ کچے گھروندوں اور خیموں کے ساتھ غزہ شہر میں امدادی خوراک کے گودام پر بھی بمباری کی گئی۔ گویا حیات کے ساتھ اب اسباب حیاتِ کو بھی غارت کیا جارہا ہے۔
اسی نوعیت کی تبدیلی امریکا میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ICCکے وارنٹ کی تعمیل کی کوشش کریں گے۔ ممدانی نے حتمی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے ’کوشش‘ کہا کہ اس حوالے سے مئیر اور شہری انتظامیہ کے اختیارات محدود ہیں۔ ایک سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو امریکا آئیں تو کیا امریکی حکام کو وارنٹ پر عمل کرنا چاہیے؟ تو سروے کے مطابق ۴۹ فی صد امریکیوں نے اس کی حمایت کی، ۲۷ فی صد نے مخالفت کی، جب کہ باقی غیر جانب دار رہے۔ اگرچہ کسی ایک سروے کو امریکی عوام کی حتمی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ نتائج اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل، خصوصاً نیتن یاہو، کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ چند برس پہلے ایسا سوال امریکی سیاست میں تقریباً ناقابلِ تصور تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ ابھی بھی بارود سے بھرا ہوا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں،جب کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبہ زیرِ بحث ہے، لیکن دونوں محاذوں پر وقفے وقفے سے گولہ باری اور فوجی کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی عسکری و داخلی سیاست، امن کی طرف بڑھنے کی سیاسی خواہش سے زیادہ طاقت ور ہے ۔
اس سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ جمعہ ۷؍ اگست کو مزاحمت کاروں نے جنوبی لبنان کے شہر مجدل سلم میں میجرسمیت دواسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور کئی زخمی کردیئے۔ دوسرے دن اسرائیلی فضائیہ نے قریبی گاؤں تبنین کے قبرستان کی مسجد کو نشانہ بنایا جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ سبت یعنی ہفتے کے روز اسرائیلی طیارے جنوبی لبنان کی اس شہری آبادی پر آگ برسارہے تھے۔
نیتن یاہو کے لیے امریکی منصوبہ قبول کرکے اپنے انتہاپسند اتحادیوں کو مطمئن رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ حماس کی اس تزویراتی گھات نے اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے امن کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کیا نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کے دباؤ سے نکل کر امن کے ’پل صراط‘ سے گزرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر تیار ہیں؟
اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سلامتی، عسکری برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔ سرحد کے دوسری جانب رہنے والے انسان اگر مستقل خوف، محرومی اور بے دخلی میں زندگی گزاریں، تو آج کی فوجی کامیابی کل ایک نئی مزاحمت کو جنم دے گی۔ جب اسرائیلی عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ تین برس کی جنگ کے بعد بھی وہ ’مکمل فتح‘ سے دُور ہیں، تو آنے والے انتخابات میں انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کا تسلسل چاہتے ہیں یا ایک نئی سیاسی حکمت ِ عملی؟
_______________
No Content
غزہ میں صرف معصوم بچّے ہی نہیں بلکہ اُمید بھی مر رہی ہے۔ غزہ محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیرالبرش کے مطابق: ’’نومبر ۲۰۲۵ء سے اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان غزہ میں بچوں کی شرح پیدائش ۶۷ فی صد تک کم ہوگئی ہے، جب کہ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ زچگی کے دائرے میں موجود خواتین بنیادی طبّی سہولتوں سے محروم ہیں، اورحمل ضائع ہونے کی شرح کئی گنا بڑھ کر، پورے معاشرے کے مستقبل پر تباہ کن حملہ بن چکی ہے‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نسل کے بچوں کا زندہ رہنے کا حق برباد کردیا گیا ہے اور اگلی نسل کی پیدائش کا امکان خطرے اور تباہی میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ چیز انسانی زندگی کا خوفناک المیہ ہے۔
’یادداشتِ اسلام آباد‘ پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سُکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور ۱۴ جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔
اسرائیل، حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے، جس کی وجہ سے ۱۳جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا: ’’ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے‘‘۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک کے حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو نہتا چھوڑ کر فوج کا اس طرح فرارناقابلِ فہم ہے۔
بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اسرائیل شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے کے لیے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔
خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی تھیں اور اب ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔
رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق تو دُور کی بات یہاں یہ عالم ہے کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجوؤں کے قتل کے ساتھ ان کی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ ان کے لیے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔
_______________
غزہ کی گلیوں اور تباہ شدہ گھروں کے کھنڈرات سے اُٹھتی دھول ابھی بیٹھی بھی نہیں کہ اسرائیل نے لبنان میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے نام پر ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا۔ ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوے تو دوسری جانب خون، خوف اور بے یقینی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کیا واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے، یا یہ سب محض ایک ایسے کھیل کا حصہ ہے، جس میں اصول اور نشستیں بدلتی رہتی ہیں مگر مظلوم کا مقدر نہیں بدلتا؟
نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کے حالیہ اجلاس میں ’مزاحمت کاروں‘ سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ ایک حکم کے انداز میں دُہرایا گیا، جسے انھوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے قبل مسلح جدوجہد ترک نہیں کی جائے گی‘۔ اس تناظر میں بورڈ کے سربراہ نکولائی ملادنوف کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور نشان دہی کی گئی ہے کہ امن کے تقاضے یک طرفہ رکھے جا رہے ہیں۔
ایک طرف مزاحمت کاروں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، اور دوسری جانب اسرائیلی فوجی انخلا کے معاملے میں مکمل خاموشی۔اطلاعات ہیں کہ اگر مزاحمت کاروں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انھیں بزور طاقت غیر مسلح کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔
سارے غزہ میں بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ المواصی، خان یونس اور رفح کے علاقوں میں نہتے افراد نشانہ بنے، جن میں شہادتیں اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور کئی محلوں سے بچوں کے اغوا کی خبریں آرہی ہیں۔ غزہ شہر میں فلسطینی پولیس ایسی ہی ایک شکایت پر جب ان اوباشوں کو گرفتارکرنے پہنچی تو وہاں پر موجود اسرائیلی فوج نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا، جس سے چار فلسطینی شہید ہوگئے۔
لبنان میں عارضی جنگ بندی کے باجود اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ہفتے جنوبی لبنان میں کم ازکم چار گاؤں خالی کراکر اسرائیلی فوج نے مکانوں اور فصلوں کو آگ لگادی۔
اسرائیلی جریدے Haaretz کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک ۱۷۲ بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ ۲۴۵۴ شہری شہید ہوئے ہیں اور ۷۶۵۸ زخمی۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے حامی عسکری گروہوں کے خلاف ہیں۔ پارکوں اور میدانوں میں کھیلتے یہ گیارہ بارہ سال کے معصوم بچے آخر کس ’دہشت گردی‘ میں ملوث تھے؟ سچ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی اٹھاتے ہیں۔
دوسری طرف غرب اردن میں فلسطینیوں پر حملے، فصلیں اجاڑنے اورگھروں پر قبضے کاسلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ کے قصبے ترمسعیا پر قبضہ گردوں نے مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، جاتے ہوئے یہ لوگ دیواروں پر 'انتقام ' کے نعرے لکھ گئے۔ معلوم نہیں مظلوموں سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے؟۲۱؍ اپریل کو رام اللہ کے المغیر اسکول پر قبضہ گردوں نے حملہ کیا، جس میں ایک ۱۴ سالہ طالب علم حمدی نسان اور استاد ابو نعیم گولی لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے۔ سات سال قبل حمدی کا باپ بھی اسرائیلی فوج کی درندگی کی نذر ہوچکا ہے۔ جاتے جاتے غارت گرد دیواروں پر 'عرب مُردہ باد کے نعرے لکھ گئے۔
صہیونی قبضہ گردوں نے فلسطینی بچوں کے خلاف اب تشدد کا ایک نیا انداز اختیار کرلیا ہے۔ کھیل کے میدانوں اور اسکولوں میں پانی کی گن سے بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ کے محلول کی پچکاری ماری جاتی ہے۔ بیت الحم کے گاؤں تقوع اور وادی اردن کے شہر عین الحلوہ میں بچوں کو گھیر کر مرچ کے پانی کے علاوہ کچھ کی آنکھوں میں سرخ مرچیں جھونک دی گئیں۔ جس سے درجنوں بچوں کی آنکھوں میں زخم آگئے۔ کچھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
القدس شریف میں دراندازی :مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلتے ہی دراندازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ءمیں القدس پر قبضے کے فوراً بعد اقوام عالم کو یقین دلایا تھا کہ مسجد اقصیٰ و القدس شریف کی اسلامی حیثیت برقرار رکھی جائے گی اور دیوار گریہ کے سوا کسی بھی جگہ غیرمسلموں کا داخلہ اوقاف کی تحریری اجازت سے مشروط ہوگا، مگر یہ سب خواب ہے!
ایمسٹرڈیم کی خاموش گواہی:نازی مظالم کا نشانہ بننے والے یہودیوں کی یاد میں ۱۴؍اپریل کو ’یومِ ہولوکاسٹ‘ منایا جاتاہے جسے عبرانی میں’یومِ ہاشوہ‘ کہتے ہیں ۔اس مناسبت سے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی ’ڈیم اسکوائر‘ پر درندگی کا شکار ہونے والے نونہالانِ غزہ کی یاد میں ننھے جوتوں کی ایک علامتی قطار سجائی گئی۔یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ تاریخ کے زخم صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کے دکھوں میں بھی جھلکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انھی یہودیوں کے مظالم کا شکار عرب بچوں کا کوئی دُکھ اور کوئی یاد نہیں؟ یقینا دُنیا بھر کے لوگ انھیں یاد کرتے ہیں اور یاد رکھیں گے۔
گذشتہ ہفتے برطانیہ میں فلسطینی حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے والے ۵۰۰ افراد گرفتارکرلیے گئے۔کیا انسانی حقوق کا معیار سب کے لیے یکساں ہے، یا حالات کے مطابق بدل جاتا ہے؟
ترک نژاد طالبہ رمیسہ اوزترک، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بالآخر خود ہی امریکا چھوڑ کی اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ رمیسہ، ٹفٹ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں۔ یونی ورسٹی کے میگزین میں اسرائیل پر تنقیدی مضمون لکھنے کے بعد انھیں امریکی امیگریشن ادارے ICE نے حراست میں لے لیا اور لوزیانا کی ایک دُور افتادہ جیل میں ۴۵ دن رکھا گیا، جہاں انھیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ عدالت کے حکم پر رہائی ممکن ہوئی۔ رہائی کے بعد بھی گلبرائیٹ اسکالر، رمیسہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خود اس معاملے کی نگرانی کرتے رہے۔ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اس وفاقی جج کو برطرف کر دیا جس نے رمیسہ کی ملک بدری کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔اس حوصلہ مند لڑکی نے امریکا میں آزادیِ اظہارِ رائے کے ساتھ، عدالتی نظام کی بھی قلعی کھول دی۔
اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی تھا اور تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا رہا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ نیوزایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء کے پہلے پندرہ دنوں میں ایران کے ۱۲۷۰، لبنان کے ۴۸۸ اور غزہ کے ۳۶ فلسطینی اپنی جانیں ہار گئے۔ موت کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً ۱۰ لاکھ لبنانی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
جنوبی غربِ اُردن ہی کے علاقے اُم الخیر میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملہ کرکے مرغیوں کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے ہزاروں مرغیاں اور چوزے جل کر مرگئے۔
اسی دوران عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس بم استعمال کیے گئے۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو جلا دیتا ہے اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس کے بم استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ،عرب لیگ کی خاموشی افسوس ناک ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس کے خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی ہے۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔ مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا: ’نیتن یاہو کو جیل بھیجو‘۔پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرین کی بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کھودیں جارہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ جب ہرخبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدہم کیوں تھی؟
غزہ آج محض ایک جغرافیائی پٹی نہیں رہا، یہ عالمی سیاست کا آئینہ بن چکا ہے۔ یہاں گرنے والا ہر بم صرف کسی عمارت کو مسمار نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی اقدار اور سفارتی توازن کو بھی کسوٹی پر رکھ دیتا ہے۔ یہاں طاقت کے بے دریغ استعمال اور مزاحمت کے عزم کے درمیان ایک کش مکش جاری ہے۔ایسی کش مکش جس کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیوں، عدالتوں اور سفارتی میزوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق فرانزک سائنسی شواہد کی بنیاد پر تیار کردہ دستاویزات کم از کم ۲ہزار ۸سو۴۲ افراد کی نشاندہی کرتی ہیں،جنھیں ’بخارات بن جانے والے‘ قرار دیا جاسکتا ہے،یعنی تباہ شدہ مقامات سے ان کے جسموں کی کوئی قابلِ شناخت باقیات برآمد نہ ہوسکیں۔ ان دعوؤں کی آزاد اور بین الاقوامی سطح پر تصدیق پیچیدہ اور متنازع ہے۔ تاہم، اگر شہری آبادی کے خلاف ایسے ہتھیاروں کے استعمال کا ثبوت مل جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ٹھہرایا جائے گا —اور سزا کون بھگتے گا؟
’بورڈ آف پیس‘ کے نام سے شروع کیے گئے ایک المیہ ڈرامے میں بڑے دعوے کے ساتھ غزہ کے لیے ۱۲ رکنی نیشنل کمیٹی (NCAG) کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد غزہ جا کر انتظامی کنٹرول سنبھالنا تھا۔ مگر شیر کے منہ میں قدم رکھنا آسان نہیں۔امریکا اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کر دینا بذاتِ خود امن قائم نہیں کر سکتا۔
غیر مسلح کرنے کے منصوبے میں یہ مبینہ ترمیم امریکی اور اسرائیلی تکبر میں دراڑ کی علامت ہے —اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف بھی کہ سفاک عسکری کارروائیاں، منظم نسل کشی، اور بھوک و موسمی حالات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی غزہ کے عوام کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ یا یوں کہیے کہ غزہ کے لوگوں کے پُرعزم صبر نے ظلم کو اپنا مؤقف نرم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا: اگر بین الاقوامی افواج اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گی تو فلسطینی انھیں ’قبضے کا متبادل‘ سمجھ سکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق انڈونیشیا نے اصولی طور پر ISF میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
غزہ کا بحران محض ایک جنگ نہیں، یہ طاقت اور ثابت قدمی، بیانیے اور حقیقت، خوف اور اعتماد کے درمیان ایک طویل کش مکش ہے۔ عسکری قوت وقتی غلبہ تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام کے لیے سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جراءت درکار ہوتی ہے۔ اگر مکالمے کے راستے مسدود رہے تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو شکل دے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عارضی طور پر غالب کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ پائیدار امن کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ کس کے پاس ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’مجلس السلام‘ (Board of Peace) [جسے ’ٹرمپ دھونس بورڈ‘ بھی کہا جاسکتا ہے] کو عالمی سطح پر ’امن کے فروغ‘ اور غزہ کی جنگ کے بعد ’صلح و بحالی کے عمل‘ کے لیے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس کا اعلان ’ورلڈ اکنامک فورم‘، ڈیوس میں کیا گیا، جہاں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، انڈونیشیا، مراکش، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ارجنٹینا اور اسرائیل سمیت تقریباً انیس ممالک نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ حکومتی بیانات کے مطابق ’مجلس السلام‘ کا ابتدائی مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور ایک عارضی نظمِ حکمرانی کا قیام ہے، جب کہ بعد ازاں اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، منطق، عملیت اور بین الاقوامی سیاسی حقیقت کے تناظر میں یہ منصوبہ آغاز ہی سے ناکامی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔
تاہم مجوزہ منصوبے میں اسرائیل سے فوجی انخلا یا اسلحہ محدود کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ایسی صورت میں تنازعے کا ایک فریق غیر مسلح ہونے پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے ، جب کہ دوسرا فریق مکمل عسکری طاقت کے ساتھ بدستور موجود رہے؟ مزید یہ کہ غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں مزاحمت کاروں کو فنا کرنے کی دھمکیاں بھی اسی بیانیے کا حصہ ہیں، جو کسی طور پر امن سازی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
اہلِ غزہ نے رمضان المبارک کے انتظار کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں رجب کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ طویل عرصے کے بعد بارش اور اَبر آلود موسم کا سلسلہ تھما تو ۳ جنوری کی رات، چودھویں کا چاند تباہ حال پٹی پر پوری آب و تاب سے جگمگایا۔ مکمل تاریکی کے باعث اہلِ غزہ نے ماہِ کامل کا بڑے اشتیاق سے نظارہ کیا۔ملبے پر کھڑے بچوں سے جب ایک صحافی نے پوچھا: ’’چاند کو دیکھتے ہوئے تم زیر لب کیا کہہ رہے تھے؟‘‘، تو ایک لڑکے نے کہا:’’میں تاریک غزہ پرروشنی بکھیرنے والے چاند سے کہہ رہا تھا کہ دنیا بہری ہو چکی ہے۔ اے خوب صورت اور روشن چاند! تو ہی ہماری فریاد اپنے اور ہمارے خالق و مالک تک پہنچا دے‘‘۔
اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی حد، یعنی ییلو لائن کو مزید مغرب کی جانب، ساحلی پٹی کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ غزہ کے مزید رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ یہ معلومات ایک اسرائیلی عہدے دار اور ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ مذکورہ عرب سفارت کار کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ واشنگٹن اکتوبر ۲۰۲۵ء میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے سائے میں فوجی نقشے تیار کیے جا رہے ہیں۔یہ اطلاعات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کی عکاس ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے نزدیک جنگ بندی کسی مستقل امن کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہیں کہ اصل ہدف امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔
غزہ اور غربِ اُردن اب بھی بمباری، محاصرے اور سفارتی منافقت کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے زمینی حقائق کبھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دُنیا کب آنکھیں کھولنا اور کوئی مثبت عملی اقدام کرنا شروع کرے گی۔
غزہ کی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی فیصلہ سازی اور یورپ کے فکری ماحول کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں پہلے سے زیادہ منظم انداز میں جاری ہیں۔ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض عسکری واقعات نہیں بلکہ سفارت کاری، سماجیات، انسانی حقوق اور عالمی رائے عامہ کے نئے رُخ کی داستان بھی ہے۔ یہ جنگ نہ صرف فلسطینی بستیوں کو کھنڈر بنا رہی ہے بلکہ خود اسرائیلی معاشرے اور یورپی و امریکی سیاست میں بھی دراڑیں ڈال رہی ہے۔
اسی پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں وہ امریکی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں ایک بین الاقوامی فوج کی تعیناتی اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کا خاکہ شامل ہے۔لیکن یہاں بھی غزہ کی مزاحمتی قوتوں سے ہتھیار ڈالنے کی شرط موجود نہیں۔ قرارداد کا ایک پہلو یہ ہے کہ مفلوج مقتدرہ فلسطین (PA) کے تنِ مُردہ میں جان ڈالنے اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان سیاسی مکالمے کی بحالی کا تصور پیش کیا گیا ہے،جو موجودہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس سب کے باوجود ۱۳ ووٹوں سے قرارداد کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست ایک نئے بیانیے کی طرف جھک رہی ہے۔ تاہم رائے شماری کے دوران چین اور روس کی غیر حاضری سے اندازہ ہوتا ہے کہ طاقت ور اقوام عالم ٹرمپ منصوبہ پر پوری طرح یکسو نہیں۔
جنگ بندی کے بعد بھی غزہ پر حملے جاری ہیں۔ان بڑے حملوں میں۱۹؍ اکتوبر کو ۴۲ اور ۲۹؍ اکتوبر کو ۱۰۹ ؍افراد شہید ہوئے۔ بی بی سی ویری یفائی شو (BBC Verify show)کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۰؍ اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کے اُن علاقوں میں جو تاحال اس کے قبضے میں ہیں، ڈیڑھ ہزار سے زائد عمارتیں منہدم کردیں۔ سیٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تباہی چند ہفتوں کے اندر منظم انہدامی کارروائیوں کے ذریعے کی گئی۔ کئی جگہوں پر پوری بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں۔یہ محض عمارتوں کی شکستگی نہیں بلکہ کھیتوں، باغات اور گھروں کے صحنوں کے مٹ جانے کی المناک داستانیں ہیں۔
خان یونس، رفح کا مشرقی علاقہ اور جبالیا و شجاعیہ کے وہ علاقے ہیں جہاں کبھی سبزہ اور درخت تھے، اب محض ملبہ اور مٹی کا غبار ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صرف عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک سیاسی و سماجی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کی مثال برسوں سے غربِ اردن میں دیکھی جارہی ہے۔
۱۲نومبر کو غزہ کے ایک کلینک پر حملہ کر کے تین فلسطینی شہید کر دیئے گئے۔ ۱۷نومبر کو غزہ کے کئی علاقوں پر اسرائیلی گولہ باری میں ۱۴ شہید ہوئے، پھر ۲۳نومبر کو اسرائیلی جنگی طیاروں کی بم باری سے ایک ہی وقت میں ۲۴ فلسطینی شہید ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے مطابق اسرائیلی فوج نے ان ٹرکوں کو روک دیا ہے، جن پر بچوں کی جدرین کاری(Vaccination) کے لیے ۱۶ لاکھ انجکشن اور دودھ لدا تھا۔بدترین انسانی بحران کے دوران بچوں تک امداد نہ پہنچنے دینا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
نابلوس، طولکرم، قلقیلیہ اور بیت لحم میں گھروں، زیتون کے باغات اور چھوٹے کارخانوں کو آگ لگائی گئی۔جمعرات، ۱۳ نومبر کو ’دیراستیا‘ کی جامع مسجد پر حملہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا گیا اور قرآن کے نسخے نذرِ آتش کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ سب کارروائیاں فوجی سرپرستی میں ہو رہی ہیں۔ تاہم، فلسطینی عوام ان ہتھکنڈوں سے خوفزدہ نہیں ۔مسجد میں جمعرات کو آگ بھڑکی اور جمعہ کی نماز اسی مسجد کے ایک مرمت شدہ حصے میں ادا کی گئی۔ یہ وہ استقامت ہے جو اس جنگ کا اصل چہرہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
غربِ اُردن کی اس تباہی پر یورپی یونین نے خاموشی اختیار کی، لیکن کاغذ پر بنی فلسطینی ریاست کے لیے دستور کی تیاری کا کام شروع ہوگیاہے۔ گذشتہ ہفتے پیرس میں مقتدرہ فلسطین (PA)کے صدر محمود عباس اور فرانسیسی صدر نے مشترکہ آئین ساز پینل پر اتفاق کرلیا۔ سوال یہ ہے کہ جب مقتدرہ فلسطین کو عوامی مینڈیٹ ہی حاصل نہیں تو اسے آئین سازی کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے؟ ریاستی آئین منتخب دستور ساز اسمبلی بناتی ہے، اس مقدس دستاویز کی تدوین مذاکراتی میز پر نہیں ہوتی۔
چند ماہ پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں غزہ پر حملے کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا تھا۔لیکن اب خود یہ’فاتح فوج‘ اندر سے ٹوٹ رہی ہے۔ اسرائیلی چینل ۱۲ کے مطابق کپتان سے لیفٹیننٹ کرنل تک کے ہزاروں اہلکارقبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دے چکے ہیں۔ یہ رجحان فوج کی تمام شاخوں میں دیکھا جارہا ہے اور اُن عہدوں کو متاثر کر رہا ہے، جنھیں اسرائیلی فوج کی آئندہ قیادت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ نفسیاتی دباؤ، جنگی تھکن، ضمیر کا بوجھ، اور عسکری حکمتِ عملی سے مایوسی بنیادی عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی پارلیمان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر تین میں سے ایک ریزرو فوجی کی بیوی علیحدگی یا طلاق پر غور کر رہی ہے۔ خواتین شدید مالی دباؤ اور بچے نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ یہ بحران براہِ راست جنگی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔رپورٹ پیش کرتے ہوئے کمیٹی کی سربراہ میراؤ کوہن (Meirav Cohen)نے کہا کہ ۳ لاکھ ریزرو اہلکار طویل عرصے سے محاذ پر ہیں، جو اس خوفناک سماجی بحران کی بنیادی وجہ ہے۔نصف سے زیادہ خواتین کا کہنا ہے کہ شوہروں کی طویل جدائی سے اَزدواجی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ والد کی غیر موجودگی اور اس کے نتیجے میں ماؤں کے چڑچڑے پن سے بچے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔
غزہ جنگ کے اثرات اب اسرائیلی یونی ورسٹیوں تک جا پہنچے ہیں۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب کی بن گوریان یونی ورسٹی میں سیاسیات کے استاد ڈاکٹر سباسٹین بن ڈینیل ’ غزہ جنگ کے اسرائیلی معاشرے پر منفی اثرات‘ کے عنوان سے لیکچر دے رہے تھے کہ انتہا پسند وزیر الموغ کوہن نے کلاس میں گھس کر زبردستی لیکچر رکوا دیا۔
اسرائیلی اولمپک کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کو غیر ملکی دوروں سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ نسل کشی کے خلاف دنیا کا بہت آہستگی سے جاگتا ضمیر اسرائیل کو ناپسندیدہ ریاست بنارہا ہے۔
اوکسفرڈ یونین نے ایک قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، ایران کے مقابلے میں خطّے کے استحکام کے لیے کہیں بڑا خطرہ ہے۔ گذشتہ سال بھی اوکسفرڈ یونین نے ایک قرارداد کہ اسرائیل نسل کشی کرنے والی نسلی تفریق پر مبنی ریاست ہے، کو ۵۹کے مقابلے میں ۲۷۸ ووٹوں سے منظور کیا تھا۔یہ قراردادیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ یورپ کے سنجیدہ حلقے اب اسرائیلی موقف سے ہٹ کر حقائق کو تسلیم کر رہے ہیں۔
جرمنی کا برانڈن برگ گیٹ (Brandenburg Gate) جو کبھی اتحاد اور آزادی کی علامت تھا، آج ایک نئے فکری جمود کی نشانی بنتا جا رہا ہے۔ چند نوجوانو ں نے اس تاریخی دروازے پر ایک بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا: ’’نسل کشی کبھی دوبارہ نہیں، فلسطین کو آزادی دو‘‘۔وہ فلسطینی پرچم لہراتے ہوئےامن کی اپیل کر رہے تھے۔ مگر جواب میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔ دنیا کو اظہارِ رائے کا درس دیتا یورپ، اب انسانی ہمدردی کے ایک جملے سے بھی خوف زدہ ہے۔دلچسپ حقیقت کہ گرفتاریوں، جرمانوں اور مقدمات کے باوجود ایسے واقعات یورپ میں معمول بنتے جا رہے ہیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ گرفتاری طے ہے، پھر بھی وہ بولنے سے باز نہیں آتے کیونکہ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔
غزہ تعلیمی بورڈ نے ۱۳ نومبر کو انٹرمیڈیٹ کے نتائج کا اعلان کیا۔ ضحیٰ نظمی نے ۹۶ء۷ فی صد نمبر لے کر ٹاپ کیا۔ لیکن جب نتیجہ نکلا تو اس شانداز کارکرگی پر خوشی منانے کو ضحیٰ موجود نہ تھی۔ گذشتہ ماہ جب جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے وحشیوں نے نصیرات مہاجر کیمپ پر بم برسائے تو یہ لڑکی اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں سمیت اپنے ربّ کے پاس چلی گئی۔ درندگی صرف جسموں ہی کو نہیں بلکہ خواب، محنت، کوشش اور مستقبل کو بھی ملبے میں دفن کر رہی ہے۔
مغربی پریس کے جانب دارانہ رویّے کے باوجود یورپ کا باشعور طبقہ سوشل میڈیا کے ذریعے حقیقت سے آگاہ ہو رہا ہے۔ یہ وہ بدلتی فکری فضا ہے جو آنے والے کل فلسطین کے سیاسی مستقبل پر اثر ڈالے گی۔ اندھی طاقت عارضی فائدہ تو دیتی ہے لیکن فتح ہمیشہ حق اور ضمیر کی ہوتی ہے۔
عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس ۱۵ ستمبر ۲۰۲۵ء کو دوحہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد ۹ ستمبر کو قطر کے دارالحکومت پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتِ حال پر غور اور جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، ملائیشیا اور ایران کی جانب سے تجاویز تو پیش کی گئیں، مگر کوئی ٹھوس عملی منصوبہ سامنے نہ آیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے اور ’عرب اسلامی ٹاسک فورس‘ کی تشکیل کی تجویز دی، مگراسرائیل کے خلاف سفارتی مہم کی کوئی حکمت عملی بیان ہوئی نہ ٹاسک فورس کے خدوخال واضح کیے گئے۔
اجلاس سے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا خطاب سخت اور جوشیلا تھا۔ انھوں نے اسرائیلی حکومت کو ’’اقتدار کی جنونیت، تکبر اور خون کی پیاس میں مبتلا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ثالثوں پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کو امن میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ وہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔قطری امیر نے غزہ میں جاری جنگ میں ۶۵ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کا ذکر کیا اور نیتن یاہو کی توسیع پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے شامی زمین پر قبضہ کیا اور اب جنوبی لبنان سے انخلاء پر تیار نہیں۔تاہم، قطری قیادت کی گفتگو عملی بے بسی کا شکار رہی۔ اربوں ڈالر کے امریکی و برطانوی دفاعی نظام کی موجودگی میں اسرائیلی طیارے حملہ کر کے چلے گئے اور قطر کو ان کی آمد کی آہٹ تک محسوس نہ ہوئی۔
ایران پر اسرائیلی حملوں اور یمن میں اسرائیلی مداخلت یا تباہی کا براہِ راست ذکر قطری امیر کی تقریر میں نہیں آیا۔حالانکہ اسرائیل اور امریکا نے ایران اور یمن میں وحشیانہ کارروائیاں کی ہیں۔خطے میں ان حملوں پر شدید ردِعمل بھی موجود ہے۔قطر، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کا ذکر نہ کرنا شاید سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہو، جب کہ یمن کے معاملے پر خلیج یکسو نہیں اور ان ممالک کی سفارتی کشیدگی سے خود کو باہر رکھنے کے لیے امیرقطر نے گفتگو میں احتیاط برتی۔
خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے اپنےاجلاس میں مشترکہ دفاعی نظام کو فعال کرنے اور فوجی کمان کا اجلاس دوحہ میں بلانے کا اعلان کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ خلیج کونسل کے کسی ایک رکن پر حملہ، تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد جی سی سی کے ترجمان ماجد محمد الانصاری نے بتایا کہ خلیجی ممالک کی فوجی قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے تاکہ علاقائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا جاسکے۔
اوآئی سی اور عرب لیگ کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔بیان میں اسرائیل کی جانب سے قطر کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی ہوا،لیکن اس سلسلہ میں کسی تزویراتی حکمت عملی کا ذکر سامنے نہ آیا۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
اسلامی تعاون تنظیم (OIC)کا قیام ۱۹۶۹ء میں مسجد اقصٰی کی آتشزدگی کا ردعمل تھا۔ تاسیس کے وقت اس کا مقصد مسلم ممالک کا اتحاد، مظلوموں کی آواز بننا اور عالمی سطح پر اسلامی دنیا کے مفادات کا تحفظ طے پایا تھا لیکن نصف صدی بعد OIC عملاً مفلوج ہو چکی ہے۔اس کی قراردادیں صرف کاغذی بیانات، اجلاس صرف رسمی تصاویر اور قیادت خلیجی طاقتوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے۔
تنظیم کو فعال بنانے کے لیے ۱۸ سے ۲۰ دسمبر ۲۰۱۹ء کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک چوٹی کی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس میں ترکی، ایران، قطر اور دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں، دانش وروں اور اسکالرز نے شرکت کی تھی۔اس کانفرنس کا مقصد مسلم دنیا کو درپیش مسائل، اسلاموفوبیا، معاشی پس ماندگی، اور سیاسی انتشار کا حل اور اسلامی تنظیم کی غیر مؤثر حیثیت کے متبادل پر غور کرناتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیٹھک کے تجویز کنندگان میں سب سے اہم کردار پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا تھا، لیکن سعودی دباؤ کے باعث عین وقت پر پاکستان نے شرکت سے معذرت کر لی، جس نے مسلم دنیا میں نئی سفارتی صف بندی اور قیادت کے بحران کو مزید واضح کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو امت کی قیادت کا موقع ملا، مگر خان صاحب نے ریال کی سفارت کاری کو ترجیح دی۔
یہ اسلامی تعاون تنظیم کو فعال کرنے کا آخری موقع تھا جو ضائع کردیا گیا اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی پر امت کی قیادت کا عزم لے کر بننے والی تنظیم، غزہ کی نسل کشی، قطرپر حملے اور فلسطینی قیادت کے قتل پر صرف بیانات جاری کر رہی ہے۔ تنظیم کی قیادت ان ممالک کے زیرِ اثر ہے جنھوں نےاسرائیل سے تعلقات بڑھائے اور اب تنظیم کو اپنے مفادات کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالیہ عرب-اسلامی سربراہی اجلاس میں اسرائیل کے ’بزدلانہ‘ حملے کی مذمت تو کی گئی، مگر کوئی ٹھوس سیاسی یا اقتصادی منصوبہ سامنے نہ آیا۔ خلیج تعاون کونسل نے مشترکہ دفاعی نظام کی بات تو کی، مگر عملی مزاحمت کا کوئی نقشہ پیش نہیں کیا گیا۔
کیا اُمتِ مسلمہ نئی قیادت، نئی صف بندی اور نئی مزاحمت کے لیے تیار ہے؟ یا تنظیم کو تاریخ کا ایک ناکام تجربہ مان کر اسرائیل اور امریکا کے سامنے ہتھیار رکھ دینے ہی میں عافیت سمجھی جائے گی؟