مسعود ابدالی


خلیج فارس کی جنگ اب بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب تک پھیل گئی ہے۔گذشتہ ہفتے ایران نواز ’انصاراللہ‘ المعروف ’حوثیوں‘ نے سعودی حمایت یافتہ یمنی فوج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے المخا (Mokha) بندرگاہ پر قبضہ کیا اور اگلے ہی روز آبنائے باب المندب کے اہم جزیرے میون (Perim/Mayun) پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ یہ پیش رفت محض یمن کی خانہ جنگی کا ایک اور واقعہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد کے ایک بڑے اہم بحری راستے کو بدلنے اور روکنے کی علامت ہے۔

l میون: باب المندب کا جغرافیائی مہرہ:تقریباً ۲۷ کلومیٹر چوڑی آبنائے باب المندب ایشیا، خلیج عرب، بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز کے درمیان عالمی تجارت کا اہم دروازہ ہے۔ جزیرہ میون اسی آبنائے کے اندر واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس جزیرے پر قابض قوت کو وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی اور اسے خطرے میں ڈالنے کے لیے ایک اہم جغرافیائی پوزیشن حاصل ہوجاتی ہے۔

اس طرح ایک جانب آبنائے ہرمز اور دوسری طرف باب المندب میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم، میون پر حوثیوں کے قبضے کو ایران کی مکمل بحری بالادستی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خطے میں امریکی، سعودی اور دوسری بحری و فضائی قوتیں بھی موجود ہیں۔ ان کامیابیوں کو ایران کی فتح کے بجائے تہران کی تزویراتی سودے بازی کی قوت میں اضافے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

  •  بارود بمقابلہ جغرافیہ: محلِ وقوع کے تناظر میں معاملہ اب گولہ بارود بمقابلہ جغرافیہ تک پہنچ گیا ہے۔ امریکا کے پاس غیر معمولی فوجی اور فضائی طاقت، میزائل، بحری بیڑے اور گولہ بارود ہے۔ ایران کے پاس امریکا جیسی روایتی فوجی طاقت نہیں، لیکن اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جسے بموں سے تباہ نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہے جغرافیہ۔امریکا بم برسا سکتا ہے، میزائل داغ سکتا ہے اور فوجی تنصیبات تباہ کرسکتا ہے، لیکن جغرافیہ کو مٹا نہیں سکتا۔
  •  سعودی تیل بھی جنگ کی زد میں: باب المندب کے گرد طاقت کی کش مکش کے ساتھ سعودی تیل کی تنصیبات بھی اس جنگ کی زد میں آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے اپنی ’مشرقی، مغربی سپلائی لائن‘ عارضی طور پر بند کردی ہے۔ تقریباً ۱۲۰۰ کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل میدانوں سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ’ینبع‘ تک پہنچاتی ہے۔ اس کی موجودہ گنجائش تقریباً ۷۰ لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

بحیرۂ احمر سے جنوب کی جانب جانے والے تیل بردار ٹینکر باب المندب سے گزر کر بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے راستے ایشیائی منڈیوں تک پہنچتے ہیں، جب کہ شمال کی راہ اختیار کرنے والے ٹینکر نہر سویز عبور کرکے بحیرۂ روم کے راستے یورپی منڈیوں کی راہ لیتے ہیں۔یوں معاملہ صرف ہرمز اور باب المندب تک محدود نہیں رہا، بلکہ سعودی عرب کا وہ زمینی راستہ بھی زد میں آگیا، جو آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہمیت رکھتا تھا۔

  •  سعودی عرب پر حملہ اور مکہ معاہدہ:۸ ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان پر ڈرونز اور میزائلوں سے بڑا حملہ کیا، جس میں کم از کم ۷۳ افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کے مطابق توانائی کے بعض مراکز میں آگ لگی اور کچھ کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔۱۹،۲۰ستمبر کی درمیانی شب حوثی ملیشیا نے ریاض ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔ اس کارروائی سے مکہ دفاعی معاہدے کا امتحان بھی شروع ہوگیا ہے۔اس بڑے حملے سے صرف ایک ماہ پہلے، ۷؍اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی بنیادی شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ کیا سعودی عرب پر حوثیوں کے یہ حملے مکہ معاہدے کی اجتماعی دفاعی شق کو حرکت میں لاسکتے ہیں؟ فی الحال اس کا جواب ’نہیں‘ کہنا زیادہ محتاط ہوگا، کیونکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کا اصول تو واضح کرتا ہے، لیکن یہ سوال الگ ہے کہ حملے کی صورت میں پاکستان اور ترکیہ کے لیے براہِ راست فوجی کارروائی لازم ہوگی، یا وہ سیاسی، دفاعی، انٹیلی جنس یا دیگر معاونت کے ذریعے اپنا کردار ادا کرسکیں گے؟

پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاصا حساس ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پُر عزم ہے، تو دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔ ترکیہ بھی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تاہم، اگر سعودی سرزمین پر حملے مسلسل بڑھتے ہیں، انسانی اور معاشی نقصان وسیع ہوتا ہے یا سعودی فوجی تنصیبات براہِ راست نشانہ بنتی ہیں، تو مکہ معاہدے کی اصل آزمائش شروع ہوجائے گی۔

  • امریکی نقصانات کے متضاد بیانات: ایران نے اردن کے موفق السلطی اڈے پر حملے میں امریکی فوج کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔ امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس کے مطابق اس حملے میں تقریباً آٹھ ایف،۱۵ طیاروں کو نقصان پہنچا، جب کہ ایک’اے دس تھنڈر بولٹ‘ طیارے کا ایک بازو ضائع ہوگیا، مگر صدر ٹرمپ نے کہا: ’امریکا کا کوئی نقصان نہیں ہوا‘۔

دوسری طرف امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’بحرین میں موجود امریکی بحری تنصیبات کو ایرانی حملوں سے بُری طرح نقصان پہنچا۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے عملے کے لیے وہاں واپس آکر قیام یا جہاز کو لنگر انداز کرنے کی مناسب جگہ بھی باقی نہیں رہی‘‘۔ بحرین امریکا کے لیے خلیج میں محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ اس کی بحری حکمتِ عملی کا اہم مرکز ہے۔

  •  ایران کے ’آنکھوں والے‘ میزائل: اسی دوران ایران کی جانب سے ’آنکھوں والے جدید میزائلوں‘(الیکٹروآپٹیکل) کے استعمال کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میزائلوں میں ہدف کی شناخت اور نشاندہی کے لیے خصوصی کیمرے اور حساس شعاعِ نور آلات (Light Sensors) استعمال کیے جاتے ہیں۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق ایرانی میزائل ان کے کسی اثاثے تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔ تاہم، الیکٹروآپٹیکل میزائلوں کی موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا و اسرائیل، ایرانی فوج کی تحقیقی تنصیبات اور میزائیل فیکٹریوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
  •  زیرِآب ڈرون دعویٰ، پھر امریکی اعتراف:اسی سلسلے میں ۸ ستمبر کو ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی زیرِ آب ڈرون (Underwater Drone) پکڑنے کا دعویٰ کیا۔ ابتدا میں امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کیا، لیکن بعد میں امریکی مرکزی کمان نے تسلیم کیا کہ ایک Anduril Dive-LD زیرِ آب ڈرون سے رابطہ منقطع ہوا تھا۔ امریکی وضاحت کے مطابق یہ نسبتاً پرانا ماڈل تھا، جو ایک دن پہلے خراب ہوچکا تھا۔ ڈرون بنانے والی امریکی کمپنی ’انڈورِل‘ نے بھی ایک Dive-LD کے ضائع ہونے کی تصدیق کی۔ تقریباً ۱۹ فٹ طویل یہ خودکار زیرِ آب نظام سمندری تہہ کا نقشہ بنانے، بارودی سرنگوں کی تلاش اور زیرِ آب تنصیبات اور کیبلوں کی نگرانی جیسے کام انجام دے سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں موجود کوئی انتہائی حساس عسکری ٹکنالوجی ایران کے ہاتھ نہ لگی ہو، لیکن امریکی اعتراف نے کم از کم یہ ضرور واضح کردیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کے مکمل طور پر ختم ہوجانے کا دعویٰ حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔

خلیج فارس سے باب المندب تک پھیلتی جنگ ایک نئی حقیقت سامنے لارہی ہے، یعنی جدید جنگ صرف میزائل، بم اور طیاروں کی جنگ نہیں ہوتی۔ بندرگاہیں، جزیرے، آبنائے، پائپ لائنیں، تجارتی راستے اور سرحدی گزرگاہیں بھی جنگ کے اہم ہتھیار بن سکتے ہیں۔امریکا کے پاس گولہ بارود کی غیر معمولی طاقت ہے، مگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے پاس خطے کا پیچیدہ جغرافیہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ عسکری قوتِ قاہرہ، جغرافیہ کو شکست دے سکے گی یا جغرافیہ گولہ بارود کی طاقت کو مفلوج کردے گا؟

صہیونیت کے خلاف بڑھتا ہوا اضطراب

اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ اب صرف غزہ اور غربِ اردن تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی اور عوامی ردعمل بڑھتا جارہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے غربِ اردن کی اسرائیلی آبادیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جب کہ مزید ممالک بھی ایسی پابندیوں کی حمایت کررہے ہیں۔

  •  آبادکاری کے خلاف برطانوی اقدام:برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دارالعوام (پارلیمان) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ، غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی سمجھتا ہے۔ انھوں نے فلسطینی علاقوں سے مقامی افرادکی جبری بے دخلی اور قبضہ گردوں کے تشدد کو نسلی تطہیر قراردیا، اور ان آبادیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی کے ساتھ ان کی توسیع میں مدد دینے والی بعض کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔

ملی بینڈ کے بیانات پر اسرائیل اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انھیں یہود دشمنی سے جوڑا گیا، حالانکہ ملی بینڈ خود ایک یہودی ہیں۔ ان کے خاندان نے نازی دور میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کا سامنا کیا تھا۔

  •  غربِ اردن میں گرفتاریاں اور آبادکاروں کا تشدد :الجزیرہ کے مطابق گزشتہ ہفتے غربِ اردن کے مختلف علاقوں سے بچوں سمیت تقریباً ۱۰۰ فلسطینی گرفتار کیے گئے۔ طولکرم میں یتیم و بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال میں معروف سماجی کارکن محترمہ روی ابراہیم کو ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ روی پر بچوں کو دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام عائد کیا گیاہے۔
  •  غزہ میں بمباری:غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں ۹؍ افراد شہید ہوئے، جب کہ غزہ شہر کی ایک خیمہ بستی پر بمباری سے متعدد افراد زندہ جل گئے۔
  •  اسرائیلیوں کی اپنی دستاویزی فلم: اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریشل زور کی دستاویزی فلم NAZA نے وینس (اٹلی) فلم میلے میں خصوصی جیوری انعام حاصل کیا ہے۔ فلم میں ۲۴؍ اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گمنام گواہیاں شامل ہیں، جنھوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’غزہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے رہائشی علاقوں میں فون پر ہونے والی گفتگواور بچوں کی آواز کی تصدیق کے بعدایسے گھروں کو نشانہ بنایا گیا جہاں خواتین اور بچے موجودتھے‘‘۔

فلم کا نام NAZA دراصل اسرائیلی عسکری و انٹیلی جنس نظام میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں یا ’ضمنی نقصان‘ کی تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فلم نے اسی اصطلاح کو اپنا عنوان بنا کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگی منصوبہ بندی میں جب انسانی جانیں بھی محض اعداد و شمار یا ایک ’عسکری کوڈ‘ بن جائیں تو اس کے اخلاقی اور انسانی مضمرات کیا ہوتے ہیں؟

۱۰ ستمبر کو اس کی افتتاحی نمائش کے بعد جب فلم ساز اسٹیج پر آئے تو سارا مجمع کھڑا ہوکو ۲۵ منٹ تک تالیاں بجاتا رہا۔ یہ وینس فلم میلے میں کسی بھی فلم کی طویل ترین پذیرائی تھی۔ اس موقع پر یووال ابراہام نے کہا کہ NAZA محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسی دستاویزی کاوش ہے کہ جس میں غزہ کی جنگ کو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی زبان سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس فلم سے ابھرتی AI ٹکنالوجی کے بارے میں دنیا تشویش کا شکار ہوگئی ہے۔لگتا ہے کہ جدید ٹکنالوجی نے انسان کو محض ایک ہدف میں تبدیل کردیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر ثقافت مکی ظہر نے دونوں فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیاہے، جب کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے NAZA کو ’بدترین اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔ یہ ردعمل خود اس بات کی علامت ہے کہ فلم نے اسرائیل کے اندر بھی ایک غیرمعمولی سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے اور اس جابرانہ طرز عمل سے مشرق وسطیٰ کی’اکلوتی جمہوریت‘ بے نقاب ہوگئی ہے۔

  •  ایک جوتا اور ایک نیا اسرائیلی تنازع:اسرائیل نے اہلِ غزہ کو برباد کردیا، لیکن حکمرانوں کی وحشت کی بھاری قیمت اس کے سپاہی اب تک ادا کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ اسرائیلی فوجی ایک یا دونوں پیروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ جوتے بنانے والے ادارے ’ایڈی ڈاس‘ نے ایک پیر والے افراد کے لیے خصوصی جوتے تیار کیے ہیں، جس کے اشتہار میں اسرائیل کے ایک معذور فوجی کو اس جوتے کے ساتھ دوڑتے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی انتہا پسند اس پر سخت ناراض ہیں اور فوجیوں کی جانب سے ’ایڈی ڈاس‘ کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی گئی ہے۔
  •  ٹیکساس کا نیا نصاب: تاریخ یا تعصب؟:ادھر ریاست ٹیکساس (Texas) کے تعلیمی بورڈ نے ہائی اسکول کے سماجی علوم کے نئے نصاب کی منظوری دی ہے، جس میں ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کو’Radical Islam‘ سے جوڑ کر پڑھانے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بعض پہلوؤں کو جنگ، غلامی اور خواتین قیدیوں کے تناظر میں بیان کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔ اگر تاریخ پڑھاتے ہوئے کسی ایک مذہب کو مسلسل منفی مثالوں کے ذریعے پیش کیا جائے گا تو تاریخی شعور پیدا کرنے کے بجائے بین المذاہب بداعتمادی اور معاشرتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ یہ اعتراض صرف مسلم تنظیموں یا ناقدین کی طرف سے نہیں آیا، بلکہ بورڈ کے مقرر کردہ کم از کم تین ماہرین نے بھی نصاب میں اسلام سے متعلق بعض بیانیوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ممتاز ماہر تعلیم محترمہ آندریا ہچنسن نے کہا کہ متعلقہ مواد ’قریب سے تاریخی جانچ پڑتال‘ پر پورا نہیں اترتا، جب کہ جامعہ ٹیکساس، آسٹن میں فلسفے کے پروفیسر رابرٹ کونز کا کہنا تھا ہے: ’’تاریخ کا بنیادی اصول یہی ہے کہ طالب علم کو واقعات، شواہد اور مختلف نقطۂ نظر سے آگاہ کیا جائے، اُسے پہلے سے کسی نتیجے کا پابند بنانا علمی بددیانتی ہے۔ اگر اسلام کی تاریخ میں جنگیں، غلامی یا دوسرے متنازعہ پہلو پڑھانا ضروری ہے، تو ان کا پورا تاریخی پس منظر بھی بیان ہونا چاہیے۔ غلامی کو صرف اسلامی دنیا سے منسوب کرنا تاریخی تصویر کو ادھورا کردے گا، کیونکہ غلامی اسلام سے بہت پہلے بھی مختلف معاشروں میں موجود تھی۔ اور تو اور خود امریکا میں ۱۸۶۵ء تک غلامی کو آئینی تحفظ حاصل تھا‘‘۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے لے کر ٹیکساس کے کلاس روم تک الفاظ اور بیانئے اسلام مخالف مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اب اسکولوں میں تاریخ، تحقیق، شواہد اور غیر جانب داری کے بجائے مسلمانوں سے خوف اور شک کے ساتھ پڑھائی جائے گی۔جس کی بناپر کمرۂ تدریس علم کا مرکز بننے کے بجائے معاشرتی تقسیم کا میدان بن سکتا ہے۔ تاریخ کا کام کسی مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ماضی سے سچ سیکھنے کے قابل بنانا ہے۔

_______________

غزہ اور لبنان میں جنگ بندی، ثالثی کی کوششوں اور بارہا کی سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اب بھی پائیدار امن سے خاصا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے: ’’ہم نے سیکڑوں سال پرانے وہ ۲۴ لبنانی دیہات تباہ کردیئے جن کے شیعہ باشندے حزب اللہ کی حمایت میں اسرائیل کے دشمن کے طور پر کام کرتے تھے۔ہم نے صرف چند مکانات نہیں بلکہ پورے دیہات مسمار کیے ہیں‘‘۔ اس طرح ۱۵ سے ۲۰ ہزار مکانات منہدم کیے جا چکے ہیں۔ اس بیان کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبادی کو صرف ’حزب اللہ کے حامی‘ نہیں بلکہ ’شیعہ باشندے‘ کہہ کر متعارف کرایا گیا۔ جب کسی فوجی مہم میں مذہبی شناخت کو اس انداز سے نمایاں کیا جائے تو اس سے سیاسی اور عسکری تنازع کو فرقہ وارانہ رنگ ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدیوں سے آباد دودرجن دیہات اور تقریباً ۷۰۰ مربع کلومیٹر علاقے کی تباہی صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے جغرافیے اور آبادیاتی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی بلکہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔

غزہ میں بھی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ۲؍اگست کو دیر البلاح ، خان یونس اور دوسرے شہروں پر بمباری میں آٹھ اور ڈیڑھ سال کی بچیوں سمیت ۱۹؍افراد جاں بحق ہوئے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق جولائی میں ایک سو سے زیادہ شہری اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔ کچے گھروندوں اور خیموں کے ساتھ غزہ شہر میں امدادی خوراک کے گودام پر بھی بمباری کی گئی۔ گویا حیات کے ساتھ اب اسباب حیاتِ کو بھی غارت کیا جارہا ہے۔

  • جنگ کی تلخیوں میں شہد کا ذکر:تباہی و مایوسی کے ان لمحات میں بھی اہل غزہ اُمید کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ جنگ سے پہلے غزہ میں تقریباً ۳۰ ہزار شہد کے چھتے تھے، جن سے ہر سال سیکڑوں ٹن شہد حاصل ہوتا تھا۔ اب یہاں سات سو سے بھی کم چھتے باقی رہ گئے ہیں اور پیداوار صرف ۱۰ فی صد تک محدود ہو چکی ہے۔ باغات تباہ ہو چکے ہیں، اور شہد کی مکھیوں کے لیے پھول بھی نایاب ہو گئے ہیں۔اس کے باوجود غزہ کے شہد بان ہمت ہارنے پر آمادہ نہیں۔  
  •  غربِ اُردن: زمین کی خاموش جنگ:غربِ اردن میں حملے، بے دخلی اور قبضے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ الخلیل (Hebron) کے گاؤں صوریف پر صہیونی قبضہ گردوں نے حملہ کرکے مکانوں، گاڑیوں اور فصلوں کو آگ لگادی اور قبریں مسمار کردیں۔ نابلوس کے علاقے تل پر ایسے ہی ایک حملے میں ۶؍ افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس طرح اسرائیلی آبادکاری کا دائرہ اب صرف نجی فلسطینی زمینوں تک محدود نہیں رہا۔ 
  • اسرائیلی فوج میں اثرات:  گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے متعدد فوجیوں نے اپنے کمانڈر سے اختلاف کے بعد عارضی طور پر فوجی اڈہ چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ بغاوت نہیں، تاہم اسرائیلی فوج میں اجتماعی احتجاج یا ڈیوٹی سے انکار کا واقعہ، ریزرو اہلکاروں کی جانب سے احتجاج، اجتماعی استعفے اور غیر حاضری کی خبریں تین برس سے جاری جنگ کے نفسیاتی اثرات کا مظہرہیں۔ یقینی بات ہے کہ طویل جنگیں صرف دشمن کو ہی نہیں تھکاتیں، اپنی فوج کے اعصاب بھی آزماتی ہیں۔
  •  مغرب میں بدلتی ہوئی فضا:جنگ کا اثر عالمی رائے عامہ پر بھی واضح طور پر نظرآرہا ہے۔ برطانیہ کے مشرقی لندن میں واقع ہیکنی کونسل (Hackney Council) نے حال ہی میں اسرائیلی شہر حیفہ کے ساتھ اپنی ’ٹوئن سٹی‘ (Twin City) شراکت داری ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کے حامی ارکان کا مؤقف تھا کہ غزہ میں انسانی بحران کے تناظر میں معمول کے تعلقات برقرار رکھنا ان کے ووٹروں کے جذبات اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ اب صرف سفارتی یا عسکری معاملہ نہیں رہی، بلکہ یورپ کی مقامی سیاست اور عوامی رائے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

اسی نوعیت کی تبدیلی امریکا میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ICCکے وارنٹ کی تعمیل کی کوشش کریں گے۔ ممدانی نے حتمی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے ’کوشش‘ کہا کہ اس حوالے سے مئیر اور شہری انتظامیہ کے اختیارات محدود ہیں۔ ایک سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو امریکا آئیں تو کیا امریکی حکام کو وارنٹ پر عمل کرنا چاہیے؟ تو سروے کے مطابق ۴۹ فی صد امریکیوں نے اس کی حمایت کی، ۲۷ فی صد نے مخالفت کی، جب کہ باقی غیر جانب دار رہے۔ اگرچہ کسی ایک سروے کو امریکی عوام کی حتمی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ نتائج اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل، خصوصاً نیتن یاہو، کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ چند برس پہلے ایسا سوال امریکی سیاست میں تقریباً ناقابلِ تصور تھا۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ ابھی بھی بارود سے بھرا ہوا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں،جب کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبہ زیرِ بحث ہے، لیکن دونوں محاذوں پر وقفے وقفے سے گولہ باری اور فوجی کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی عسکری و داخلی سیاست، امن کی طرف بڑھنے کی سیاسی خواہش سے زیادہ طاقت ور ہے ۔

  •  لبنان: مذاکرات اور میدانِ جنگ:لبنان کے معاملے میں ایک بنیادی پیچیدگی یہ ہے کہ حزب اللہ، جو اس تنازع کا ایک اہم عسکری فریق ہے، مذاکرات کی میز پر موجود نہیں۔ امریکا کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔خبروں کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے کی نگرانی کے لیے کسی تیسرے فریق کی موجودگی جیسے امور پر اتفاق ہوچکاہے۔ حالیہ پیش رفت میں دونوں جانب سے نگرانی امن کے لیے ممکنہ ممالک کی ایک فہرست پر اتفاق بھی سامنے آیا ہے، تاہم حزب اللہ نے غیر مسلح ہونے سے انکار کردیا ہے۔ 

اس سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ جمعہ ۷؍ اگست کو مزاحمت کاروں نے جنوبی لبنان کے شہر مجدل سلم میں میجرسمیت دواسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور کئی زخمی کردیئے۔ دوسرے دن اسرائیلی فضائیہ نے قریبی گاؤں تبنین کے قبرستان کی مسجد کو نشانہ بنایا جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ سبت یعنی ہفتے کے روز اسرائیلی طیارے جنوبی لبنان کی اس شہری آبادی پر آگ برسارہے تھے۔

  •  غربِ اُردن: جنگ کا تیسرا محاذ:غزہ اور لبنان کے ساتھ غرب اردن میں اس ہفتے بھی فلسطینیوں پر حملے اور بے دخلی کا سلسلہ جاری رہا۔ نابلوس کے علاقے جالود پر مسلح قبضہ گردوں نے گاڑیوں اور مکانوں کو آگ لگادی اور پولیس نے وہاں پہنچ کر اپنے اثاثوں کا دفاع کرنے والے کئی فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔ادھر کچھ عرصے سے گھر خالی کرانے کے لیے مکینوں کو یرغمال بنانے کی واردات بھی شروع ہوچکی ہے۔ نابلوس کے قصبے قصرہ میں یوسف حسن کا گھر گذشتہ کئی دنوں سے صہیونی مسلح قبضہ گردوں کے محاصرے میں ہے۔ انھوں نے گھرکے مرکزی دروازے کے سامنے ایک عارضی ڈھانچا کھڑا کردیا ہے جس کے باعث حسن، ان کی اہلیہ اور دو کم سن بیٹیاں، جن کی عمریں صرف دو اور چار سال ہیں، گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اور کوئی شخص اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ یوسف نے گھر کے اندر سے فون پر بتایا کہ بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی گئی ہیں۔
  •  ملبے سے نکلتی ہوئی لاشیں:حالات نسبتاً پرسکون ہونے پر غزہ شہر کے محلے الصبرہ میں نومبر ۲۰۲۳ء کی اسرائیلی بمباری سے زمیں بوس ہونے والی عمارت کے ملبے سے لاشوں کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ کارکنوں نے ابو شریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے ۱۱۲؍ افراد کی لاشیں بازیاب کرلیں، جن کی ۴؍ اگست کو اجتماعی تدفین کی گئی۔ صرف دو خاندان کی میتوں کی تعداد ۱۰۰ سے زیادہ۔عینی شاہدین کے مطابق ان خاندانوں کا کوئی فرد بھی زندہ نہ بچا۔
  • اسرائیلی رائے عامہ کا بدلتا ہوا منظرنامہ:ایک طرف بمباری اور حملوں کی شدت دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی چینل ۱۲ کے تازہ سروے نے زمینی صورتِ حال کی  حیران کن تصویر پیش کی ہے۔ تین برس سے جاری جنگ، ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور غزہ کی مکمل تباہی کے باوجود ۶۲ فی صد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو غزہ کو فتح نہیں کر سکتا، جب کہ صرف ۲۵ فی صد اس دعوے پر یقین رکھتے ہیں۔ جائزے کے مطابق اکثریت کا خیال ہے کہ حماس اور نہ حزب اللہ مستقبل قریب میں رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالیں گے۔ 
  •  نیتن یاہو کے بعد کون؟:اگر اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگی اہداف کو ناقابل حصول اور قیادت کی کارکردگی کو غیرتسلی بخش سمجھتی ہے تو سوال یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں تھکن، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی، اسرائیلی ووٹروں کو نسبتاً معتدل اور مفاہمت پسند قیادت کی طرف مائل کر سکتی ہے یا نہیں؟ اسرائیل کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی قومی سلامتی کا احساس شدید ہو،عوام تبدیلی کے بجائے ایسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں، جسے وہ سخت گیر اور سلامتی کے معاملات میں زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی ممکن ہے کہ نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی کے باوجود کوئی اور انتہاپسند لیڈر اسرائیلی عوام کی پہلی ترجیح بن جائے۔
  •  غزہ: مزاحمت کی تزویراتی چال؟:امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے منصوبہ امن کو تسلیم کرتے ہوئے حماس، انتظامی اختیار سے دست بردار اور اسرائیلی انخلا کے بعد غیرمسلح ہونے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے، لیکن نیتن یاہو اپنے انتہاپسند اتحادیوں کے دباؤ میں اس منصوبے کی شرائط قبول کرنے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل روزن نے کہا ہے کہ حماس نے ۱۵ نکاتی منصوبہ قبول کرنے کے باوجود اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے نظریے سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ حماس نے گیند اسرائیل کے کورٹ میں پھینکنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے تو اسے مبینہ طور پر Strategic Ambush  یعنی تزویراتی گھات قرار دیا ہے کہ حماس کا معاہدے پر دستخط کرنا وقت حاصل کرنے اور اسرائیل کوغزہ میں فوجی کارروائی روکنے کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔
  • امن کا بل یا جنگ کا تسلسل؟: امریکی حمایت یافتہ منصوبے کو قبول کرنے کا مطلب غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلا اور غزہ کی پٹی کی مکمل آزادی ہے۔انتہاپسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموتریخ ، وزیر اندرونی سلامتی اور دوسرے اتحادی نیتن یاہو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ۱۵ نکاتی منصوبے کو مسترد کرکے غزہ میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرے لیکن دوسری طرف ان کے لیے حماس کی اس پیش کش کو مسترد کرنے کا کوئی اخلاقی و سیاسی جواز نہیں۔ 

نیتن یاہو کے لیے امریکی منصوبہ قبول کرکے اپنے انتہاپسند اتحادیوں کو مطمئن رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ حماس کی اس تزویراتی گھات نے اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے امن کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کیا نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کے دباؤ سے نکل کر امن کے ’پل صراط‘ سے گزرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر تیار ہیں؟

اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سلامتی، عسکری برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔ سرحد کے دوسری جانب رہنے والے انسان اگر مستقل خوف، محرومی اور بے دخلی میں زندگی گزاریں، تو آج کی فوجی کامیابی کل ایک نئی مزاحمت کو جنم دے گی۔ جب اسرائیلی عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ تین برس کی جنگ کے بعد بھی وہ ’مکمل فتح‘ سے دُور ہیں، تو آنے والے انتخابات میں انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کا تسلسل چاہتے ہیں یا ایک نئی سیاسی حکمت ِ عملی؟

 _______________

No Content

غزہ میں صرف معصوم بچّے ہی نہیں بلکہ اُمید بھی مر رہی ہے۔ غزہ محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیرالبرش کے مطابق: ’’نومبر ۲۰۲۵ء سے اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان غزہ میں بچوں کی شرح پیدائش ۶۷ فی صد تک کم ہوگئی ہے، جب کہ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ زچگی کے دائرے میں موجود خواتین بنیادی طبّی سہولتوں سے محروم ہیں، اورحمل ضائع ہونے کی شرح کئی گنا بڑھ کر، پورے معاشرے کے مستقبل پر تباہ کن حملہ بن چکی ہے‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نسل کے بچوں کا زندہ رہنے کا حق برباد کردیا گیا ہے اور اگلی نسل کی پیدائش کا امکان خطرے اور تباہی میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ چیز انسانی زندگی کا خوفناک المیہ ہے۔

’یادداشتِ اسلام آباد‘ پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سُکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور ۱۴ جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔

  • جنگ بندی اور لبنان کی تلخ حقیقت:لبنان میں ۱۶؍ اپریل سے بظاہرجنگ بندی نافذ ہوئی، لیکن لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے مطابق امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر ۳۵۰۰ حملے کیے ہیں۔بمباری کے علاوہ ۴۰۰ سے زیادہ شہری و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردیئے گئے۔یہی وجہ ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا تصور کاغذی دستاویزات سے آگے بڑھ کر عوامی زندگی میں منتقل نہیں ہو سکا۔

اسرائیل، حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے، جس کی وجہ سے ۱۳جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا: ’’ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے‘‘۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک کے حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو نہتا چھوڑ کر فوج کا اس طرح فرارناقابلِ فہم ہے۔ 

بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اسرائیل شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے  کے لیے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔ 

  • غزہ: جنگ ختم نہیں ہوئی: خلیج میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں، ناکہ بندی اور امدادی راستوں کی بندش نے مشکلات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کریم سلام پھاٹک کی بندش کے بعد خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی شدید متاثر ہوئی۔

خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی تھیں اور اب ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔

  • سمندر بھی بند، زمین بھی تنگ: اسرائیلی پیش قدمی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی ساحلی پٹی تک سمٹ آئی ہے اور ماہی گیری بہت سے خاندانوں کے لیے خوراک کا واحد ذریعہ بن چکی ہے۔ گذشتہ ہفتے بھوک سے مجبور ہوکر محمد ابوجیاب مچھلی پکڑنے ساحل پر آیا لیکن اسرائیلی بحریہ کی گولی نے اس مچھیرے کا کام تمام کردیا۔
  • غربِ اُردن : مسلسل بحران : اسی طرح غربِ اردن میں بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ فلسطینی دیہات، زرعی زمینیں، دکانیں اور رہائشی مکانات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ رام اللہ، قلقیلیہ، جنین اور دیگر علاقوں میں جائیدادوں کو نقصان پہنچانے، فصلیں جلانے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کی اس بم باری کا خصوصی نشانہ صحافی بن رہے ہیں۔

رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

  • قیدیوں سے سنگین بدسلوکی اور انسانی حقوق کے سوالات: گذشتہ ہفتے الجزیرہ نے فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی حراستی مراکز میں جسمانی، نفسیاتی اور جنسی نوعیت کی سنگین بدسلوکی کی ایک روح فرسا رپورٹ شائع کی۔ سابق قیدیوں کے انٹرویو پر مشتمل اس رپورٹ میں نصب بصری تراشے اتنے بھیانک ہیں کہ انھیں دیکھنا بھی ممکن نہیں۔ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے بعض ماہرین، انسانی حقوق کے اداروں اور سابق قیدیوں کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق یہ واقعات محض انفرادی زیادتیوں کے بجائے ایک وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔حسب توقع اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قراردیا لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کی آزاد، شفاف اور غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرین کو انصاف ملے۔

تحقیق تو دُور کی بات یہاں یہ عالم ہے کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجوؤں کے قتل کے ساتھ ان کی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ ان کے لیے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔

 _______________

غزہ کی گلیوں اور تباہ شدہ گھروں کے کھنڈرات سے اُٹھتی دھول ابھی بیٹھی بھی نہیں کہ اسرائیل نے لبنان میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے نام پر ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا۔ ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوے تو دوسری جانب خون، خوف اور بے یقینی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کیا واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے، یا یہ سب محض ایک ایسے کھیل کا حصہ ہے، جس میں اصول اور نشستیں بدلتی رہتی ہیں مگر مظلوم کا مقدر نہیں بدلتا؟

نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کے حالیہ اجلاس میں ’مزاحمت کاروں‘ سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ ایک حکم کے انداز میں دُہرایا گیا، جسے انھوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے قبل مسلح جدوجہد ترک نہیں کی جائے گی‘۔ اس تناظر میں بورڈ کے سربراہ نکولائی ملادنوف کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور نشان دہی کی گئی ہے کہ امن کے تقاضے یک طرفہ رکھے جا رہے ہیں۔

ایک طرف مزاحمت کاروں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، اور دوسری جانب اسرائیلی فوجی انخلا کے معاملے میں مکمل خاموشی۔اطلاعات ہیں کہ اگر مزاحمت کاروں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انھیں بزور طاقت غیر مسلح کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔

سارے غزہ میں بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ المواصی، خان یونس اور رفح کے علاقوں میں نہتے افراد نشانہ بنے، جن میں شہادتیں اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور کئی محلوں سے بچوں کے اغوا کی خبریں آرہی ہیں۔ غزہ شہر میں فلسطینی پولیس ایسی ہی ایک شکایت پر جب ان اوباشوں کو گرفتارکرنے پہنچی تو وہاں پر موجود اسرائیلی فوج نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا، جس سے چار فلسطینی شہید ہوگئے۔

لبنان: جنگ بندی کے باوجود شعلے

لبنان میں عارضی جنگ بندی کے باجود اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ہفتے جنوبی لبنان میں کم ازکم چار گاؤں خالی کراکر اسرائیلی فوج نے مکانوں اور فصلوں کو آگ لگادی۔

اسرائیلی جریدے Haaretz کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک ۱۷۲ بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ ۲۴۵۴ شہری شہید ہوئے ہیں اور ۷۶۵۸ زخمی۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے حامی عسکری گروہوں کے خلاف ہیں۔ پارکوں اور میدانوں میں کھیلتے یہ گیارہ بارہ سال کے معصوم بچے آخر کس ’دہشت گردی‘ میں ملوث تھے؟ سچ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی اٹھاتے ہیں۔

دوسری طرف غرب اردن میں فلسطینیوں پر حملے، فصلیں اجاڑنے اورگھروں پر قبضے کاسلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ کے قصبے ترمسعیا پر قبضہ گردوں نے مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، جاتے ہوئے یہ لوگ دیواروں پر 'انتقام ' کے نعرے لکھ گئے۔ معلوم نہیں مظلوموں سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے؟۲۱؍ اپریل کو رام اللہ کے المغیر اسکول پر قبضہ گردوں نے حملہ کیا، جس میں ایک ۱۴ سالہ طالب علم حمدی نسان اور استاد ابو نعیم گولی لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے۔ سات سال قبل حمدی کا باپ بھی اسرائیلی فوج کی درندگی کی نذر ہوچکا ہے۔ جاتے جاتے غارت گرد دیواروں پر 'عرب مُردہ باد کے نعرے لکھ گئے۔

صہیونی قبضہ گردوں نے فلسطینی بچوں کے خلاف اب تشدد کا ایک نیا انداز اختیار کرلیا ہے۔ کھیل کے میدانوں اور اسکولوں میں پانی کی گن سے بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ کے محلول کی پچکاری ماری جاتی ہے۔ بیت الحم کے گاؤں تقوع اور وادی اردن کے شہر عین الحلوہ میں بچوں کو گھیر کر مرچ کے پانی کے علاوہ کچھ کی آنکھوں میں سرخ مرچیں جھونک دی گئیں۔ جس سے درجنوں بچوں کی آنکھوں میں زخم آگئے۔ کچھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

القدس شریف میں دراندازی :مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلتے ہی دراندازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ءمیں القدس پر قبضے کے فوراً بعد اقوام عالم کو یقین دلایا تھا کہ مسجد اقصیٰ و القدس شریف کی اسلامی حیثیت برقرار رکھی جائے گی اور دیوار گریہ کے سوا کسی بھی جگہ غیرمسلموں کا داخلہ اوقاف کی تحریری اجازت سے مشروط ہوگا، مگر یہ سب خواب ہے!

ایمسٹرڈیم کی خاموش گواہی:نازی مظالم کا نشانہ بننے والے یہودیوں کی یاد میں ۱۴؍اپریل کو ’یومِ ہولوکاسٹ‘ منایا جاتاہے جسے عبرانی میں’یومِ ہاشوہ‘ کہتے ہیں ۔اس مناسبت سے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی ’ڈیم اسکوائر‘ پر درندگی کا شکار ہونے والے نونہالانِ غزہ کی یاد میں ننھے جوتوں کی ایک علامتی قطار سجائی گئی۔یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ تاریخ کے زخم صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کے دکھوں میں بھی جھلکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انھی یہودیوں  کے مظالم کا شکار عرب بچوں کا کوئی دُکھ اور کوئی یاد نہیں؟ یقینا دُنیا بھر کے لوگ انھیں یاد کرتے ہیں اور یاد رکھیں گے۔

آزادیٔ  اظہار کا مغربی انداز

گذشتہ ہفتے برطانیہ میں فلسطینی حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے والے ۵۰۰ افراد گرفتارکرلیے گئے۔کیا انسانی حقوق کا معیار سب کے لیے یکساں ہے، یا حالات کے مطابق بدل جاتا ہے؟

ترک نژاد طالبہ رمیسہ اوزترک، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بالآخر خود ہی امریکا چھوڑ کی اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ رمیسہ، ٹفٹ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں۔ یونی ورسٹی کے میگزین میں اسرائیل پر تنقیدی مضمون لکھنے کے بعد انھیں امریکی امیگریشن ادارے ICE نے حراست میں لے لیا اور لوزیانا کی ایک دُور افتادہ جیل میں ۴۵ دن رکھا گیا، جہاں انھیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ عدالت کے حکم پر رہائی ممکن ہوئی۔ رہائی کے بعد بھی گلبرائیٹ اسکالر، رمیسہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خود اس معاملے کی نگرانی کرتے رہے۔ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اس وفاقی جج کو برطرف کر دیا جس نے رمیسہ کی ملک بدری کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔اس حوصلہ مند لڑکی نے امریکا میں آزادیِ اظہارِ رائے کے ساتھ، عدالتی نظام کی بھی قلعی کھول دی۔

اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی تھا اور تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا رہا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ نیوزایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء کے پہلے پندرہ دنوں میں ایران کے ۱۲۷۰، لبنان کے ۴۸۸ اور غزہ کے ۳۶ فلسطینی اپنی جانیں ہار گئے۔ موت کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً ۱۰ لاکھ لبنانی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ 

  • آ  گ اور راکھ : غزہ میں رمضان کے دوران بھی مسلسل بمباری جاری رہی۔جمعۃ الوداع کی صبح الزوائیدہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں خیموں میں آگ بھڑک اُٹھی، جس میں ۱۲ سالہ بچّی اور خاتون صحافی امل سمیت تین افراد زندہ جل گئے۔ اگلے ہی دن خان یونس پر بمباری میں ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ غزہ اور غربِ اردن میں آزادی اور وقار کی جدوجہد کو زندہ رکھنے میں جہاں مزاحمت کاروں کی قربانیاں اہم ہیں، وہیں اہلِ قلم کا کردار بھی کم نہیں۔ انھی کے ذریعے دُنیا کو ان واقعات کی خبر ملتی ہے، ورنہ سخت سنسر کے پردے میں یہ سب کچھ خاموشی سے دفن ہو جاتا۔ قلم کی حرمت کے لیے مرحومہ امل شمالی کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔جنگ کے شور میں سچائی کی آواز اکثر دب جاتی ہے، مگر کبھی کبھی ایک قلم ہزار توپوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ 
  • سیاہ اتوار :اتوار (۱۵ مارچ) کی صبح وسطی غزہ کے علاقے الزویدہ میں اسرائیلی ڈرون نے ایک پولیس جیپ کو نشانہ بنایا، جس سے گاڑی میں سوار پولیس کمشنر اور آٹھ پولیس افسران جاں بحق ہوگئے۔ حملے میں قریب کھڑے ۱۴؍ افراد زخمی ہوئے۔ ٹھیک اسی وقت نصیرات خیمہ بستی پر حملے میں ایک شخص، اس کی حاملہ بیوی اور ایک معصوم بچہ جان سے گزر گئے۔  
  • غربِ اردن میں خوف کا پہرہ :اسی دن غربِ اردن میں تشدد کی ایک نئی لہر سامنے آئی۔ درجنوں مسلح یہودی آبادکار شمالی وادی اردن کے گاؤں خومسہ میں تراویح کے دوران گھس آئے۔ اندھا دھند فائرنگ اور لاٹھیوں کی ضربوں سے متعدد افراد زخمی کیے اور حملہ آور جاتے ہوئے ۱۴کسانوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کی ۳۶۰ بھیڑیں بھی ہنکا لے گئے۔ 

جنوبی غربِ اُردن ہی کے علاقے اُم الخیر میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملہ کرکے مرغیوں کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے ہزاروں مرغیاں اور چوزے جل کر مرگئے۔ 

  • دو بیٹے اور گولیوں کی بارش:اسی دوران غرب اردن نے دوایسی لرزہ خیز وارداتوں کا مشاہدہ کیا، جسے قتل عام کہنا زیادہ مناسب ہے۔ الخلیل (Hebron)کے گاؤں مسافر یطہ میں مسلح آبادکاروں نے ۵۷ سالہ محمد شِذَن کے کھیت کی باڑھ توڑ کر چرنے کے لیےاپنے مویشی چھوڑدیے۔ محمد شذن اور اس کے بیٹوں عامر اور خالد نے اعتراض کیا کہ تیار فصل مویشی چرانے کی جگہ نہیں۔ عامر نے مویشیوں کو ہنکا کر کھیت سے باہر نکالنے کی کوشش کی، جس پر یہودی آبادکاروں نے عامر پر گولی چلادی۔ بیٹے کو زخمی دیکھ کر محمد اس کی طرف لپکا ہی تھا کہ ایک دوسرے مسلح آبادکار نے چند گز کے فاصلے سے عامر کے بھائی خالد کو گولی ماردی۔عامر تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد دم توڑ گیا، جب کہ خالد کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔یہ واقعہ محض ایک خاندان کی المناک کہانی نہیں بلکہ غربِ اردن میں روزمرہ پیش آنے والے واقعات کی محض ایک مثال ہے۔ 
  • ایک خاندان کی خاموش موت: دوسری واردات۱۴ مارچ کی شب طمون میں پیش آئی، جب ۵۷ سالہ خالد بن ابی عودہ اپنی اہلیہ وعد اور دو کمسن بیٹوں کے ساتھ تراویح کے لیے مسجد جا رہے تھے کہ ایک فوجی چوکی سے ان کی گاڑی پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پورا خاندان موقعے پر ہی دم توڑ گیا۔جنگ میں صرف سپاہی نہیں مرتے، کبھی کبھی پورے خاندان بھی دفن ہو جاتے ہیں۔ 
  • لبنان میں بھی آگ: غزہ کی طرح جنوبی لبنان میں بھی عبادت گاہیں اسرائیل کا نشانہ ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک مارونی گرجا کو نشانہ بنایا گیا، جس میں پادری پیئر الراعی ہلاک ہوگئے۔ مارونی( Maronite) مسیحی پانچویں صدی کے ایک شامی راہب سینٹ مارون سے منسوب ہیں۔ لبنان کا صدر مارونی مسیحی، وزیراعظم سُنّی مسلمان اور اسپیکر شیعہ مسلمان ہوتے ہیں۔ 

اسی دوران عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس بم استعمال کیے گئے۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو جلا دیتا ہے اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس کے بم استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ،عرب لیگ کی خاموشی افسوس ناک ہے۔ 

اسرائیلی حکومت نے اس کے خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی ہے۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔ مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا:  ’نیتن یاہو کو جیل بھیجو‘۔پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرین کی بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ 

  • سفارتی محاذ بھی گرم:اسرائیلی جارحیت پر بطور احتجاج ، اسپین نے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلالیا۔ہسپانوی حکومت کے سرکاری اعلامیےکے مطابق تل ابیب میں سفیر کا منصب ختم کر دیا گیا ہے اور آئندہ اسپین کے سفارتی مشن کی قیادت ناظم الامور کریں گے۔ سفارتی اصطلاح میں کسی ملک سے سفیر واپس بلا کر مشن کو ’ناظم الامور‘ کے سپرد کرنا دراصل دوطرفہ تعلقات کو کم درجے پر لانا کہلاتا ہے، جو عموماً شدید سیاسی اختلاف یا احتجاج کا اشارہ ہے۔ 

مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کھودیں جارہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ جب ہرخبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدہم کیوں تھی؟ 

غزہ آج محض ایک جغرافیائی پٹی نہیں رہا، یہ عالمی سیاست کا آئینہ بن چکا ہے۔ یہاں گرنے والا ہر بم صرف کسی عمارت کو مسمار نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی اقدار اور سفارتی توازن کو بھی کسوٹی پر رکھ دیتا ہے۔ یہاں طاقت کے بے دریغ استعمال اور مزاحمت کے عزم کے درمیان ایک کش مکش جاری ہے۔ایسی کش مکش جس کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیوں، عدالتوں اور سفارتی میزوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ 

  • غزہ کا انسانی منظرنامہ: بمباری اور ناکہ بندی بدستور جاری ہیں۔ اسرائیل کے اندر امدادی ٹرکوں کے سامنے دھرنے دینا ایک معمول کی سیاسی سرگرمی بنتی جا رہی ہے۔ ۲ فروری سے شدت پسند عناصر ’کیریم شالوم کراسنگ‘ پر انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کو روک رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ’یسرائیل بیتینو پارٹی‘ کا رہنما ایویگڈور لیبرمین ، جو خود کو لبرل اور سیکولر قرار دیتا ہے  اپنی جماعت کے کنیسٹ ارکان یولیا مالینووسکی اور شیرون نیر کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ لیبرمین نے کہا کہ یہ ٹرک ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے غزہ کو بجلی، پانی اور دیگر سامان فراہم کر رہے ہیں، اور جب تک مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، امداد کی بحالی اسرائیلی عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ یہ منظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی ذمہ داری صرف مذہبی شدت پسندوں تک محدود نہیں، اسرائیلی سیاست کے لبرل اور سیکولر حلقے بھی سخت گیر پالیسیوں کے حامی ہیں۔ 
  • طاقت کی سیاست اور بیانیے کی جنگ:مغربی حمایت پر مبنی اعتماد نے اسرائیلی قیادت کو رسمی احتیاط برتنے سے بھی بے نیاز کر دیا ہے۔ چند روز قبل اسرائیل کی وزارتِ قومی سلامتی نے جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ تشدد اور بدسلوکی کی تصاویر جاری کیں، جسے ناقدین نفسیاتی جنگ کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ سرکاری ذرائع یہ خبر بھی پھیلا رہے ہیں کہ نئی قانون سازی کے تحت قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے، اور اس مقصد کے لیے جلادوں کی تربیت جلد شروع کی جائے گی۔ 
  • زندہ، معصوم بچّے جو بخارات میں بدل گئے:دوسری جانب ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ نے ہر صاحبِ ضمیر انسان کو لرزا دیا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں امریکا ساختہ تھرمل (Thermal) اور تھرمو بارک (Thermobaric) ہتھیار استعمال کیے۔ ایسے ہتھیار جو شدید حرارت اور دباؤ پیدا کرتے ہیں اور درجہ حرارت کو تقریباً ۳۵۰۰ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس غیر معمولی حرارت کے نتیجے میں بعض مقامات پر زندہ انسانی جسم بخارات میں تبدیل ہو گئے اور ان کے قابلِ شناخت آثار تک باقی نہ رہے۔ 

غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق فرانزک سائنسی شواہد کی بنیاد پر تیار کردہ دستاویزات کم از کم ۲ہزار ۸سو۴۲  افراد کی نشاندہی کرتی ہیں،جنھیں ’بخارات بن جانے والے‘ قرار دیا جاسکتا ہے،یعنی تباہ شدہ مقامات سے ان کے جسموں کی کوئی قابلِ شناخت باقیات برآمد نہ ہوسکیں۔ ان دعوؤں کی آزاد اور بین الاقوامی سطح پر تصدیق پیچیدہ اور متنازع ہے۔ تاہم، اگر شہری آبادی کے خلاف ایسے ہتھیاروں کے استعمال کا ثبوت مل جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ٹھہرایا جائے گا —اور سزا کون بھگتے گا؟ 

  • عسکری دباؤ اور سیاسی نتائج کا امکان:ہولناک ہتھیاروں کے بے رحمانہ استعمال، جیلوں میں تشدد کی کھلی نمائش، اور امریکی صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے باوجود کہ اگر مزاحمتی جنگجو غیر مسلح نہ ہوئے تو وہ غزہ پر ’’جہنم کے دروازے کھول دیں گے‘‘، مزاحمت کاروں میں ہتھیار ڈالنے کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی۔ 

’بورڈ آف پیس‘ کے نام سے شروع کیے گئے ایک المیہ ڈرامے میں بڑے دعوے کے ساتھ غزہ کے لیے ۱۲ رکنی نیشنل کمیٹی (NCAG) کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد غزہ جا کر انتظامی کنٹرول سنبھالنا تھا۔ مگر شیر کے منہ میں قدم رکھنا آسان نہیں۔امریکا اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کر دینا بذاتِ خود امن قائم نہیں کر سکتا۔ 

  • غیر مسلح کرنے کے مطالبے سے پسپائی:مظلوموں کی ثابت قدمی اور متکبروں کی جزوی پسپائی کے آثار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے ایک ایسے فارمولے پر غور کیا، جس کے تحت مزاحمتی قوتوں کو محدود ہلکے ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جب کہ بھاری ہتھیار مرحلہ وار ختم کیے جائیں گے۔ 

غیر مسلح کرنے کے منصوبے میں یہ مبینہ ترمیم امریکی اور اسرائیلی تکبر میں دراڑ کی علامت ہے —اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف بھی کہ سفاک عسکری کارروائیاں، منظم نسل کشی، اور بھوک و موسمی حالات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی غزہ کے عوام کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ یا یوں کہیے کہ غزہ کے لوگوں کے پُرعزم صبر نے ظلم کو اپنا مؤقف نرم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 

  • بین الاقوامی مداخلت اور ISF پر بحث:فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے غزہ میں غیرملکی افواج کی تعیناتی کو مشروط طور پر قبول کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ نیوزویک کے مطابق ان کے ترجمان باسم نعیم نے کہا کہ اگر بین الاقوامی افواج دونوں جانب کی سرحد کے درمیان بفر زون کے طور پر کام کریں اور فلسطینی شہری، عسکری، سیکیورٹی، سیاسی یا انتظامی معاملات میں مداخلت نہ کریں تو انھیں غزہ میں ان کی آمد پر کوئی اعتراض نہیں۔ 

بیان میں خبردار کیا گیا: اگر بین الاقوامی افواج اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گی تو فلسطینی انھیں ’قبضے کا متبادل‘ سمجھ سکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق انڈونیشیا نے اصولی طور پر ISF میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ 

  • مغربی کنارے کی صورتِ حال اور علاقائی ردعمل: مغربی کنارے میں، مسلم دُنیا، یورپی یونین اور حتیٰ کہ امریکا کی جانب سے ’تشویش‘ کے اظہار کے باوجود، اسرائیلی فیصلوں کے بعد اراضی ملکیت اور منتقلی کے قوانین میں ترمیم کے تحت الحاق کے منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ مغربی الخلیل میں فوج نے رہائشیوں کو بجلی کے نظام کے خاتمے کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ جب بجلی اور پانی منقطع کر دیے جائیں، تو رہائشیوں کے پاس اپنے گھروں کو خالی کرنے کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ 
  • عدالتی محاذ اور اظہارِ رائے کی حدود:جیسے امریکا میں، ویسے ہی برطانیہ میں بھی فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات جاری ہیں۔ تاہم ۱۳فروری کو ہائی کورٹ نے فلسطین ایکشن پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔ قانونی ماہرین جسٹس وکٹوریہ شارپ کے اس فیصلے کو اظہارِ رائے کی آزادی کے میدان میں ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔ 
  • اسرائیل کے اندر مذہبی اور سیکولر کشیدگیاں:اسرائیل کے داخلی منظرنامے میں بھی تناؤ برقرار ہے۔ ۱۱ فروری کو ربی ڈو لاندو—جو حریدی جماعت یونائیٹڈ توراہ یہودیت کے اہم دھڑے (دیگل ہاتوراہ،’توراہ کا پرچم‘) کے روحانی رہنما ہیں، نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ایک بھی یشیوا کا طالبِ علم فوج میں شامل نہیں ہوگا۔ ان کے بقول توراہ کے علما کی جگہ میدانِ جنگ نہیں بلکہ یشیوا اور کولیل (مذہبی درسگاہیں) ہیں۔یہ کش مکش اسرائیلی معاشرے کے سیکولر اور مذہبی طبقات کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ 
  • قیادت، کردار اور سیاسی اخلاقیات :قدامت پسند حلقوں کے دباؤ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی قیادت کو ایپسٹین فائلز سے متعلق انکشافات پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل رپورٹس سامنے آئیں کہ سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود باراک نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کی قدرتی افزائش اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ اس تناظر میں بعض تجزیہ کار غزہ میں جاری نسل کشی اور مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے کو دیکھنے لگے ہیں۔ایک حالیہ بیان میں باراک نے جیفری ایپسٹین سے اپنی ملاقاتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ افسوس کس بات پر؟ خود ان ملاقاتوں پریا اس بات پر کہ وہ ملاقاتیں منظرعام پر آ گئیں؟ 

غزہ کا بحران محض ایک جنگ نہیں، یہ طاقت اور ثابت قدمی، بیانیے اور حقیقت، خوف اور اعتماد کے درمیان ایک طویل کش مکش ہے۔ عسکری قوت وقتی غلبہ تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام کے لیے سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جراءت درکار ہوتی ہے۔ اگر مکالمے کے راستے مسدود رہے تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو شکل دے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عارضی طور پر غالب کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ پائیدار امن کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ کس کے پاس ہے؟ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’مجلس السلام‘ (Board of Peace) [جسے ’ٹرمپ دھونس بورڈ‘ بھی کہا جاسکتا ہے] کو عالمی سطح پر ’امن کے فروغ‘ اور غزہ کی جنگ کے بعد ’صلح و بحالی کے عمل‘ کے لیے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس کا اعلان ’ورلڈ اکنامک فورم‘، ڈیوس میں کیا گیا، جہاں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، انڈونیشیا، مراکش، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ارجنٹینا اور اسرائیل سمیت تقریباً انیس ممالک نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ حکومتی بیانات کے مطابق ’مجلس السلام‘ کا ابتدائی مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور ایک عارضی نظمِ حکمرانی کا قیام ہے، جب کہ بعد ازاں اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، منطق، عملیت اور بین الاقوامی سیاسی حقیقت کے تناظر میں یہ منصوبہ آغاز ہی سے ناکامی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔ 

  • قیادت اور شمولیت_____محدود اور منقسم:مجلس السلام کی تشکیل میں سب سے نمایاں مسئلہ اس کی محدود اور منقسم شمولیت ہے۔ کئی مؤثر مغربی ممالک اس میں شرکت سے ہچکچاتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا اور بعض دیگر بڑی ریاستوں نے یا تو شرکت سے انکار کیا یا شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا، جس سے اس ادارے کی عالمگیریت، ساکھ اور غیر جانب داری مشکوک ہو جاتی ہے۔ ایک ہمہ گیر عالمی فورم کے بجائے یہ مجلس امریکا کے زیرِ اثر ایک محدود سیاسی جتھے (Cluster) کا تاثر دیتی ہے، جس میں چندعلاقائی طاقتیں شامل ہیں۔ 
  • اقوامِ متحدہ کے کردار پر سوالات:اگرچہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ مجلس السلام اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں، تاہم تاسیسی خطاب میں اقوامِ متحدہ پر یہ کہہ کر تنقید کی گئی کہ ’یہ ادارہ کہیں اور کبھی بھی مؤثر امن قائم نہ کر سکا‘۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مجلس السلام دراصل اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے اور غزہ کے مستقبل پر امریکی بالادستی قائم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے متوازی یا اس سے بالا ایک عالمی ڈھانچا تشکیل دینا طویل عرصے سے اسرائیلی پالیسی سازی کا بھی حصہ رہا ہے، جس سے اس منصوبے کے پس پردہ محرکات مزید واضح ہو جاتے ہیں۔ 
  • امریکی بالادستی کا تاثر:مجلس السلام کے کلیدی اختیارات عملاً امریکی صدر کے ہاتھ میں ہوں گے۔ رکن ممالک کی شمولیت یا برطرفی، فیصلوں کی حتمی منظوری اور مالی وسائل کے استعمال پر بھی فیصلہ کن اختیار واشنگٹن کو حاصل رہے گا۔ اس صورتِ حال میں مجلس السلام ایک آزاد اور غیر جانبدار عالمی ادارے کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کے توسیعی آلے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ 
  • امتیازی رویہ:مجلس السلام کے مسودۂ میثاق کے مطابق یہ ادارہ غزہ کو غیر مسلح بنانے، عبوری نظم و نسق قائم کرنے اور تعمیرِ نو کی نگرانی کرے گا۔ اس نکتے پر نیویارک کے میئر زہران ممدانی کا مؤقف خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ ان سے انتخابی مہم کے دوران پوچھا گیا کہ آیا وہ غزہ کے مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے حامی ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر واقعی امن مطلوب ہے تو اسرائیل اور مزاحمت کار، دونوں کو ہتھیار رکھنے چاہئیں، کیونکہ ہتھیار اور پائیدار امن بیک وقت نہیں چل سکتے‘‘۔ 

تاہم مجوزہ منصوبے میں اسرائیل سے فوجی انخلا یا اسلحہ محدود کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ایسی صورت میں تنازعے کا ایک فریق غیر مسلح ہونے پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے ، جب کہ دوسرا فریق مکمل عسکری طاقت کے ساتھ بدستور موجود رہے؟ مزید یہ کہ غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں مزاحمت کاروں کو فنا کرنے کی دھمکیاں بھی اسی بیانیے کا حصہ ہیں، جو کسی طور پر امن سازی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ 

  • سیاسی تعمیر کی خامیاں:امن محض دستاویزوں، دستخطوں اور نمائشی تقریبات سے وجود میں نہیں آتا۔ اگر مجوزہ حل سیاسی، سماجی اور انسانی حقیقتوں کا مکمل ادراک نہ رکھتا ہو تو وہ کاغذی اعلانات سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ غزہ کے معاملے میں زمینی تباہی، امداد کی عدم بحالی، شدید انسانی بحران اور حقیقی سیاسی نمائندگی جیسے بنیادی سوالات مجلس السلام کے آئینی ڈھانچے میں واضح نہیں۔ 
  • مالی و تنظیمی ڈھانچا ___ ناکامی کے آثار: مجلس السلام کی رکنیت کے لیے فی ملک ایک ارب ڈالر کی شرط بھی اس ادارے کو عوامی سطح پر غیر جاذب بناتی ہے۔ اس نوعیت کا مالی اور اختیاراتی ڈھانچا نہ تو عالمی عوامی اعتماد پیدا کر سکتا ہے اور نہ حقیقی امن سازی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مجلس کی موجودہ صورت گری دیکھ کر چشم تصور میں ایک نمائشی ادارے کا ہیولا اُبھرتا ہے، جس کا مقصد عملی امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے امن کی تعبیر قائم کرنا ہے ۔ 
  • امن یا پروپیگنڈا؟:بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کے متعدد ماہرین اس پیش رفت کو امن کے بجائے طاقت کے اظہار اور ایک نئے عالمی سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ مجلس السلام ایک جامع اور شمولیتی (Inclusive) ادارے کے بجائے سفارتی اور داخلی سیاسی مفادات کے حصول کا آلہ بن جائے گی۔ 
  • مسلم بلاک___ نہ پائے رفتن ، نہ جائے ماندن  :پاکستان سمیت بعض مسلم ممالک کی شمولیت پر خود عالمِ اسلام میں سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسی مجلس میں شمولیت، جس کے فیصلے ایک ایسے فرد کے تابع ہوں جو کھلے عام غزہ کو جہنم بنانے اور اہلِ غزہ کو فنا کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہو، مسلم اور عرب عوام کے لیے کسی طور قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ 

غزہ میں جنگ بندی یا جنگ کی تیاری ؟ 

اہلِ غزہ نے رمضان المبارک کے انتظار کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں رجب کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ طویل عرصے کے بعد بارش اور اَبر آلود موسم کا سلسلہ تھما تو ۳ جنوری کی رات، چودھویں کا چاند تباہ حال پٹی پر پوری آب و تاب سے جگمگایا۔ مکمل تاریکی کے باعث اہلِ غزہ نے ماہِ کامل کا بڑے اشتیاق سے نظارہ کیا۔ملبے پر کھڑے بچوں سے جب ایک صحافی نے پوچھا: ’’چاند کو دیکھتے ہوئے تم زیر لب کیا کہہ رہے تھے؟‘‘، تو ایک لڑکے نے کہا:’’میں تاریک غزہ پرروشنی بکھیرنے والے چاند سے کہہ رہا تھا کہ دنیا بہری ہو چکی ہے۔  اے خوب صورت اور روشن چاند! تو ہی ہماری فریاد اپنے اور ہمارے خالق و مالک تک پہنچا دے‘‘۔ 

  • وحشی اسرائیل، تعلیم سے خوفزدہ : اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے مطابق غزہ کے لیےامدادی سامان کی جانچ پڑتال کے دوران اسکولوں کے لیے آنے والی نصابی کتب پر اسرائیل نے مکمل پابندی لگارکھی ہے۔ یونیسیف کے ترجمان کاظم ابوخلف نے کہا: ’’درسی کتب کے ساتھ کاپیاں، کاغذ،ربڑ، پنسل، مارکر تک لانے کی اجازت نہیں‘‘۔ غزہ میں اسکولوں اور اساتذہ کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ تقریباً تمام تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے، مگر زندہ دل و حوصلہ مند فلسطینیوں نے خیموں میں اسکول قائم کر کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ صبح سویرے اسکول جاتے بچے گولیوں کے خطرے کا سامنا کرتے ہیں، مگر وہ سینہ تان کر نکلتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ظالموں کو سب سے زیادہ خطرہ تعلیم سے ہے، کیونکہ تعلیم سوال کرنا سکھاتی ہے۔ 
  • جنگ بندی یا جنگ کی تیاری؟ : ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ خود کو ’غزہ امن‘ کا علَم بردار ظاہر کر رہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل ایک نئے حملے کے لیے امریکی پشت پناہی کا منتظر ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے مارچ میں نئے اور شدید فوجی آپریشن کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن میں غزہ شہر کو نشانہ بنانے والی ایک بڑی زمینی کارروائی شامل ہے۔ 

اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی حد، یعنی ییلو لائن کو مزید مغرب کی جانب، ساحلی پٹی کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ غزہ کے مزید رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ یہ معلومات ایک اسرائیلی عہدے دار اور ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ مذکورہ عرب سفارت کار کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ واشنگٹن اکتوبر ۲۰۲۵ء میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے سائے میں فوجی نقشے تیار کیے جا رہے ہیں۔یہ اطلاعات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کی عکاس ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے نزدیک جنگ بندی کسی مستقل امن کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہیں کہ اصل ہدف امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔ 

  • تولیدی نسل کُشی: انسانی حقوق کے کارکن اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین غزہ میں جاری قتلِ عام کے ساتھ ایک اور نہایت سنگین جرم کی نشاندہی کر رہے ہیں، جسے Reproductive Genocide یعنی ’تولیدی نسل کُشی‘ کہا جا رہا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے کسی قوم کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت، ماؤں کی صحت اور آئندہ نسلوں کے وجود کو عملاً تباہ کر دیا جائے۔ اس الزام کی بنیاد چند تلخ حقائق پر ہے:m زچگی وارڈز اور تولیدی صحت کے مراکز کی منظم تباہی m حاملہ خواتین کو بنیادی طبی سہولتوں کے بغیر ولادت پر مجبور کرناm نوزائیدہ بچوں کی  غذائی قلت اور سردی سے بڑھتی ہلاکتیں m ایسا محاصرہ جو ماں اور بچے دونوں کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ محض زندہ لوگوں پر حملہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے راستے بند کرنے کا عمل ہے۔اور ساری دنیا اس عمل کو خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ 
  • غربِ اُردن یا وادیِ گھٹن: غرب اُردن (West Bank) میں بڑے پیمانے پر پکڑدھکڑ جاری ہے۔ گذشتہ ہفتےخاتون صحافی اناس اخلاوی کو گرفتار کرلیا گیا۔ تلکرم سے ایک ۱۵سالہ بچے کو بھی اسرائیلی فوجی پکڑ کر لے گئے۔ جامعہ بیرزیت طلبہ یونین کی جانب سے غزہ میں جاں بحق ہونے والی بچی ہند رجب کے آخری لمحات پر مبنی دستاویزی فلم کی نمائش کا اہتمام کرنے پر اسرائیلی فوج مرکزی دروازہ توڑ کر کیمپس میں داخل ہو گئی اور طلبہ و اساتذہ پر تشدد کیا۔  
  • عالمی فوج کی تعیناتی : اسرائیلی بدنیتی کے تناظر میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک غزہ سمیت کسی بھی بیرونی محاذ پر فوج نہیں بھیجے گا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے مشیر سلامتی خلیل الرحمان نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF)میں شمولیت میں اصولی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ 
  •  بمباری کا نہ رُکنے والا سلسلہ: جمعہ، ۲ جنوری کی صبح وسطی غزہ کے مغازی کیمپ پرزبردست بمباری سے بچوں سمیت ۱۳؍افراد شہید اور درجنوں شدید زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ کئی روز سے بارش اور مطلع اَبرآلود رہنے کے بعد اسی دن دھوپ نکلی تھی۔ لیکن یہ روشن صبح خون کے چھینٹوں کے ساتھ آہوں اور سسکیوں میں ڈھل گئی۔ 
  • درندگی کی قیمت: بمباری و فوج کشی کی اہل غزہ و غربِ اردن بھاری قیمت ادا کررہے ہیں، لیکن اس کے اثرات سے خود اسرائیل بھی محفوظ نہیں۔اسرائیلی فوج کا شعبہ بحالیِ معذوراں (Rehabilitation Department)شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مزدور یونین ’ہسٹڈرٹ‘ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں معذور ہونے والوں کی تعداد تقریباً ۸۲ ہزار تک پہنچ چکی ہے، جب کہ ہرماہ اوسطاً ۱۵۰۰ نئے افراد رجوع کر رہے ہیں۔جنگی جنون و ہیجان سے خود اسرائیلیوں کے مابین عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے۔ گذشتہ دنوں لازمی فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے حفظ توریت مدارس (Yeshiva) کے طلبہ پر تیزرفتار گاڑی چڑھادی گئی جس سے مدرسے کا ایک ۱۸ سالہ لڑکا ہلاک ہوگیا۔ 
  • فلسطین میں تشدد پر پوپ کا اظہارِ تشویش: کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے غربِ اردن میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے‘‘۔ پوپ لیو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’’سفارت کاری، مکالمے اور اتفاقِ رائے کے بجائے طاقت ، دباؤ اور جنگ قابلِ قبول بیانیہ بنتی جارہی ہے‘‘۔امریکی نژاد پوپ کے اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ غربِ اردن میں واقع بیت اللحم وہ مقدس مقام ہے جہاں مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔ اس مقدس شہر اور اس کے گردونواح میں تشدد، جبر اور عدم تحفظ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔ 
  • عالمی رَدِ عمل کا تسلسل: پرتگال میں ایک ریسٹورنٹ بند: عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ردعمل جاری ہے۔پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ایک اسرائیلی ملکیتی ریستوران طنطورہ (Tantura) کو مسلسل دباؤ، سوشل میڈیا مہمات اور بائیکاٹ کے باعث تالے لگ گئے۔یہی رجحان یورپ اور امریکا کے دیگر شہروں میں بھی موجود ہے، جہاں بعض صہیونی نواز کاروبار بدلتی ہوئی عالمی رائے عامہ اور اخلاقی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں فرانسیسی ادارے Carrefour کی بندش اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ 

غزہ اور غربِ اُردن اب بھی بمباری، محاصرے اور سفارتی منافقت کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے زمینی حقائق کبھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دُنیا کب آنکھیں کھولنا اور کوئی مثبت عملی اقدام کرنا شروع کرے گی۔ 

غزہ کی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی فیصلہ سازی اور یورپ کے فکری ماحول کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں پہلے سے زیادہ منظم انداز میں جاری ہیں۔ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض عسکری واقعات نہیں بلکہ سفارت کاری، سماجیات، انسانی حقوق اور عالمی رائے عامہ کے نئے رُخ کی داستان بھی ہے۔ یہ جنگ نہ صرف فلسطینی بستیوں کو کھنڈر بنا رہی ہے بلکہ خود اسرائیلی معاشرے اور یورپی و امریکی سیاست میں بھی دراڑیں ڈال رہی ہے۔ 

اسی پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں وہ امریکی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں ایک بین الاقوامی فوج کی تعیناتی اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کا خاکہ شامل ہے۔لیکن یہاں بھی غزہ کی مزاحمتی قوتوں سے ہتھیار ڈالنے کی شرط موجود نہیں۔ قرارداد کا ایک پہلو یہ ہے کہ مفلوج مقتدرہ فلسطین (PA) کے تنِ مُردہ میں جان ڈالنے اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان سیاسی مکالمے کی بحالی کا تصور پیش کیا گیا ہے،جو موجودہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس سب کے باوجود ۱۳ ووٹوں سے قرارداد کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست ایک نئے بیانیے کی طرف جھک رہی ہے۔ تاہم رائے شماری کے دوران چین اور روس کی غیر حاضری سے اندازہ ہوتا ہے کہ طاقت ور اقوام عالم ٹرمپ منصوبہ پر پوری طرح یکسو نہیں۔ 

جنگ بندی یا تعمیرِ ملبہ؟ — غزہ کی عملی صورتِ حال 

جنگ بندی کے بعد بھی غزہ پر حملے جاری ہیں۔ان بڑے حملوں میں۱۹؍ اکتوبر کو ۴۲ اور ۲۹؍ اکتوبر کو ۱۰۹ ؍افراد شہید ہوئے۔ بی بی سی ویری یفائی شو (BBC Verify show)کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۰؍ اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کے اُن علاقوں میں جو تاحال اس کے قبضے میں ہیں، ڈیڑھ ہزار سے زائد عمارتیں منہدم کردیں۔ سیٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تباہی چند ہفتوں کے اندر منظم انہدامی کارروائیوں کے ذریعے کی گئی۔ کئی جگہوں پر پوری بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں۔یہ محض عمارتوں کی شکستگی نہیں بلکہ کھیتوں، باغات اور گھروں کے صحنوں کے مٹ جانے کی المناک داستانیں ہیں۔ 

خان یونس، رفح کا مشرقی علاقہ اور جبالیا و شجاعیہ کے وہ علاقے ہیں جہاں کبھی سبزہ اور درخت تھے، اب محض ملبہ اور مٹی کا غبار ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صرف عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک سیاسی و سماجی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کی مثال برسوں سے غربِ اردن میں دیکھی جارہی ہے۔ 

۱۲نومبر کو غزہ کے ایک کلینک پر حملہ کر کے تین فلسطینی شہید کر دیئے گئے۔ ۱۷نومبر کو غزہ کے کئی علاقوں پر اسرائیلی گولہ باری میں ۱۴ شہید ہوئے، پھر ۲۳نومبر کو اسرائیلی جنگی طیاروں کی بم باری سے ایک ہی وقت میں ۲۴ فلسطینی شہید ہوگئے۔ 

اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے مطابق اسرائیلی فوج نے ان ٹرکوں کو روک دیا ہے، جن پر بچوں کی جدرین کاری(Vaccination) کے لیے ۱۶ لاکھ انجکشن اور دودھ لدا تھا۔بدترین انسانی بحران کے دوران بچوں تک امداد نہ پہنچنے دینا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ 

غربِ اردن: انہدام، بے حرمتی اور مقدسات پر حملے 

نابلوس، طولکرم، قلقیلیہ اور بیت لحم میں گھروں، زیتون کے باغات اور چھوٹے کارخانوں کو آگ لگائی گئی۔جمعرات، ۱۳ نومبر کو ’دیراستیا‘ کی جامع مسجد پر حملہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا گیا اور قرآن کے نسخے نذرِ آتش کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ سب کارروائیاں فوجی سرپرستی میں ہو رہی ہیں۔ تاہم، فلسطینی عوام ان ہتھکنڈوں سے خوفزدہ نہیں ۔مسجد میں جمعرات کو آگ بھڑکی اور جمعہ کی نماز اسی مسجد کے ایک مرمت شدہ حصے میں ادا کی گئی۔ یہ وہ استقامت ہے جو اس جنگ کا اصل چہرہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ 

غربِ اُردن کی اس تباہی پر یورپی یونین نے خاموشی اختیار کی، لیکن کاغذ پر بنی فلسطینی ریاست کے لیے دستور کی تیاری کا کام شروع ہوگیاہے۔ گذشتہ ہفتے پیرس میں مقتدرہ فلسطین (PA)کے صدر محمود عباس اور فرانسیسی صدر نے مشترکہ آئین ساز پینل پر اتفاق کرلیا۔ سوال یہ ہے کہ جب مقتدرہ فلسطین کو عوامی مینڈیٹ ہی حاصل نہیں تو اسے آئین سازی کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے؟ ریاستی آئین منتخب دستور ساز اسمبلی بناتی ہے، اس مقدس دستاویز کی تدوین مذاکراتی میز پر نہیں ہوتی۔ 

چند ماہ پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں غزہ پر حملے کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا تھا۔لیکن اب خود یہ’فاتح فوج‘ اندر سے ٹوٹ رہی ہے۔ اسرائیلی چینل ۱۲ کے مطابق کپتان سے لیفٹیننٹ کرنل تک کے ہزاروں اہلکارقبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دے چکے ہیں۔ یہ رجحان فوج کی تمام شاخوں میں دیکھا جارہا ہے اور اُن عہدوں کو متاثر کر رہا ہے، جنھیں اسرائیلی فوج کی آئندہ قیادت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ نفسیاتی دباؤ، جنگی تھکن، ضمیر کا بوجھ، اور عسکری حکمتِ عملی سے مایوسی بنیادی عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔ 

درندگی کی گونج گھروں تک — سماجی بحران 

اسرائیلی پارلیمان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر تین میں سے ایک ریزرو فوجی کی بیوی علیحدگی یا طلاق پر غور کر رہی ہے۔ خواتین شدید مالی دباؤ اور بچے نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ یہ بحران براہِ راست جنگی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔رپورٹ پیش کرتے ہوئے کمیٹی کی سربراہ میراؤ کوہن (Meirav Cohen)نے کہا کہ ۳ لاکھ ریزرو اہلکار طویل عرصے سے محاذ پر ہیں، جو اس خوفناک سماجی بحران کی بنیادی وجہ ہے۔نصف سے زیادہ خواتین کا کہنا ہے کہ شوہروں کی طویل جدائی سے اَزدواجی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ والد کی غیر موجودگی اور اس کے نتیجے میں ماؤں کے چڑچڑے پن سے بچے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ 

غزہ جنگ کے اثرات اب اسرائیلی یونی ورسٹیوں تک جا پہنچے ہیں۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب کی بن گوریان یونی ورسٹی میں سیاسیات کے استاد ڈاکٹر سباسٹین بن ڈینیل ’ غزہ جنگ کے اسرائیلی معاشرے پر منفی اثرات‘ کے عنوان سے لیکچر دے رہے تھے کہ انتہا پسند وزیر الموغ کوہن نے کلاس میں گھس کر زبردستی لیکچر رکوا دیا۔  

اسرائیلی اولمپک کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کو غیر ملکی دوروں سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ نسل کشی کے خلاف دنیا کا بہت آہستگی سے جاگتا ضمیر اسرائیل کو ناپسندیدہ ریاست بنارہا ہے۔ 

اوکسفرڈ یونین نے ایک قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، ایران کے مقابلے میں خطّے کے استحکام کے لیے کہیں بڑا خطرہ ہے۔ گذشتہ سال بھی اوکسفرڈ یونین نے ایک قرارداد کہ اسرائیل نسل کشی کرنے والی نسلی تفریق پر مبنی ریاست ہے، کو ۵۹کے مقابلے میں ۲۷۸ ووٹوں سے منظور کیا تھا۔یہ قراردادیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ یورپ کے سنجیدہ حلقے اب اسرائیلی موقف سے ہٹ کر حقائق کو تسلیم کر رہے ہیں۔ 

جرمنی کا برانڈن برگ گیٹ (Brandenburg Gate) جو کبھی اتحاد اور آزادی کی علامت تھا، آج ایک نئے فکری جمود کی نشانی بنتا جا رہا ہے۔ چند نوجوانو ں نے اس تاریخی دروازے پر ایک بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا: ’’نسل کشی کبھی دوبارہ نہیں، فلسطین کو آزادی دو‘‘۔وہ فلسطینی پرچم لہراتے ہوئےامن کی اپیل کر رہے تھے۔ مگر جواب میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔ دنیا کو اظہارِ رائے کا درس دیتا یورپ، اب انسانی ہمدردی کے ایک جملے سے بھی خوف زدہ ہے۔دلچسپ حقیقت کہ گرفتاریوں، جرمانوں اور مقدمات کے باوجود ایسے واقعات یورپ میں معمول بنتے جا رہے ہیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ گرفتاری طے ہے، پھر بھی وہ بولنے سے باز نہیں آتے کیونکہ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ 

غزہ تعلیمی بورڈ نے ۱۳ نومبر کو انٹرمیڈیٹ کے نتائج کا اعلان کیا۔ ضحیٰ نظمی نے ۹۶ء۷  فی صد نمبر لے کر ٹاپ کیا۔ لیکن جب نتیجہ نکلا تو اس شانداز کارکرگی پر خوشی منانے کو ضحیٰ موجود نہ تھی۔ گذشتہ ماہ جب جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے وحشیوں نے نصیرات مہاجر کیمپ پر بم برسائے تو یہ لڑکی اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں سمیت اپنے ربّ کے پاس چلی گئی۔ درندگی صرف جسموں ہی کو نہیں بلکہ خواب، محنت، کوشش اور مستقبل کو بھی ملبے میں دفن کر رہی ہے۔ 

مغربی پریس کے جانب دارانہ رویّے کے باوجود یورپ کا باشعور طبقہ سوشل میڈیا کے ذریعے حقیقت سے آگاہ ہو رہا ہے۔ یہ وہ بدلتی فکری فضا ہے جو آنے والے کل فلسطین کے سیاسی مستقبل پر اثر ڈالے گی۔ اندھی طاقت عارضی فائدہ تو دیتی ہے لیکن فتح ہمیشہ حق اور ضمیر کی ہوتی ہے۔ 

عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس ۱۵ ستمبر ۲۰۲۵ء کو دوحہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد ۹ ستمبر کو قطر کے دارالحکومت پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتِ حال پر غور اور جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، ملائیشیا اور ایران کی جانب سے تجاویز تو پیش کی گئیں، مگر کوئی ٹھوس عملی منصوبہ سامنے نہ آیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے اور ’عرب اسلامی ٹاسک فورس‘ کی تشکیل کی تجویز دی، مگراسرائیل کے خلاف سفارتی مہم کی کوئی حکمت عملی بیان ہوئی نہ ٹاسک فورس کے خدوخال واضح کیے گئے۔ 

  • ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیل پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی بات کی، لیکن ان کی تقریر میں آذربائیجان سے اسرائیل کو تیل کی ترسیل روکنے جیسے کسی عملی اقدام کا ذکر نہ تھا۔ واضح رہے کہ یہ تیل ترک بندرگاہ جیحان (Ceyhan) سے اسرائیلی ٹینکروں پر لادا جاتا ہے۔  ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے مسلم ممالک سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی اپیل کی، مگر مصر، اردن، بحرین، مراکش، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے اس پر کوئی آمادگی ظاہر نہ کی۔ 

قطری امیر کا خطاب: جوش، حقیقت اور بے بسی 

اجلاس سے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا خطاب سخت اور جوشیلا تھا۔ انھوں نے اسرائیلی حکومت کو ’’اقتدار کی جنونیت، تکبر اور خون کی پیاس میں مبتلا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ثالثوں پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کو امن میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ وہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔قطری امیر نے غزہ میں جاری جنگ میں ۶۵ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کا ذکر کیا اور نیتن یاہو کی توسیع پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے شامی زمین پر قبضہ کیا اور اب جنوبی لبنان سے انخلاء پر تیار نہیں۔تاہم، قطری قیادت کی گفتگو عملی بے بسی کا شکار رہی۔ اربوں ڈالر کے امریکی و برطانوی دفاعی نظام کی موجودگی میں اسرائیلی طیارے حملہ کر کے چلے گئے اور قطر کو ان کی آمد کی آہٹ تک محسوس نہ ہوئی۔ 

ایران پر اسرائیلی حملوں اور یمن میں اسرائیلی مداخلت یا تباہی کا براہِ راست ذکر قطری امیر کی تقریر میں نہیں آیا۔حالانکہ اسرائیل اور امریکا نے ایران اور یمن میں وحشیانہ کارروائیاں کی ہیں۔خطے میں ان حملوں پر شدید ردِعمل بھی موجود ہے۔قطر، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کا ذکر نہ کرنا شاید سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہو، جب کہ یمن کے معاملے پر خلیج یکسو نہیں اور ان ممالک کی سفارتی کشیدگی سے خود کو باہر رکھنے کے لیے امیرقطر نے گفتگو میں احتیاط برتی۔ 

خلیج تعاونی کونسل کا اعلان ۔۔ دفاعی اتحاد یا علامتی بیانیہ؟ 

خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے اپنےاجلاس میں مشترکہ دفاعی نظام کو فعال کرنے اور فوجی کمان کا اجلاس دوحہ میں بلانے کا اعلان کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ خلیج کونسل کے کسی ایک رکن پر حملہ، تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد جی سی سی کے ترجمان ماجد محمد الانصاری نے بتایا کہ خلیجی ممالک کی فوجی قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے تاکہ علاقائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا جاسکے۔ 

اوآئی سی اور عرب لیگ کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔بیان میں اسرائیل کی جانب سے قطر کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی ہوا،لیکن اس سلسلہ میں کسی تزویراتی حکمت عملی کا ذکر سامنے نہ آیا۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ 

OIC کی تاریخ، زوال اور متبادل کی تلاش 

اسلامی تعاون تنظیم (OIC)کا قیام ۱۹۶۹ء میں مسجد اقصٰی کی آتشزدگی کا ردعمل تھا۔ تاسیس کے وقت اس کا مقصد مسلم ممالک کا اتحاد، مظلوموں کی آواز بننا اور عالمی سطح پر اسلامی دنیا کے مفادات کا تحفظ طے پایا تھا لیکن نصف صدی بعد OIC عملاً مفلوج ہو چکی ہے۔اس کی قراردادیں صرف کاغذی بیانات، اجلاس صرف رسمی تصاویر اور قیادت خلیجی طاقتوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے۔ 

کوالالمپور کانفرنس بطور متبادل؟ 

تنظیم کو فعال بنانے کے لیے ۱۸ سے ۲۰ دسمبر ۲۰۱۹ء کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک چوٹی کی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس میں ترکی، ایران، قطر اور دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں، دانش وروں اور اسکالرز نے شرکت کی تھی۔اس کانفرنس کا مقصد مسلم دنیا کو درپیش مسائل، اسلاموفوبیا، معاشی پس ماندگی، اور سیاسی انتشار کا حل اور اسلامی تنظیم کی غیر مؤثر حیثیت کے متبادل پر غور کرناتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیٹھک کے تجویز کنندگان میں سب سے اہم کردار پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا تھا، لیکن سعودی دباؤ کے باعث عین وقت پر پاکستان نے شرکت سے معذرت کر لی، جس نے مسلم دنیا میں نئی سفارتی صف بندی اور قیادت کے بحران کو مزید واضح کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو امت کی قیادت کا موقع ملا، مگر خان صاحب نے ریال کی سفارت کاری کو ترجیح دی۔ 

یہ اسلامی تعاون تنظیم کو فعال کرنے کا آخری موقع تھا جو ضائع کردیا گیا اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی پر امت کی قیادت کا عزم لے کر بننے والی تنظیم، غزہ کی نسل کشی، قطرپر حملے اور فلسطینی قیادت کے قتل پر صرف بیانات جاری کر رہی ہے۔ تنظیم کی قیادت ان ممالک کے زیرِ اثر ہے جنھوں نےاسرائیل سے تعلقات بڑھائے اور اب تنظیم کو اپنے مفادات کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالیہ عرب-اسلامی سربراہی اجلاس میں اسرائیل کے ’بزدلانہ‘ حملے کی مذمت تو کی گئی، مگر کوئی ٹھوس سیاسی یا اقتصادی منصوبہ سامنے نہ آیا۔ خلیج تعاون کونسل نے مشترکہ دفاعی نظام کی بات تو کی، مگر عملی مزاحمت کا کوئی نقشہ پیش نہیں کیا گیا۔ 

کیا اُمتِ مسلمہ نئی قیادت، نئی صف بندی اور نئی مزاحمت کے لیے تیار ہے؟ یا تنظیم کو تاریخ کا ایک ناکام تجربہ مان کر اسرائیل اور امریکا کے سامنے ہتھیار رکھ دینے ہی میں عافیت سمجھی جائے گی؟