خرم مراد


اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی زندگی کامیاب بنانے کے لیے جو ہدایت دی ہے اس کا ماحصل مختلف الفاظ اور مختلف انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

ایک پہلو سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ: اپنے رب سے ملاقات کی تیاری کرو۔

اگر دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے ہمارا ہر کام اسی مقصد کے لیے ہے۔ اللہ کی بندگی بھی اسی لیے کرنا ہے کہ اللہ سے ملنا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں جواب دینا ہے۔ اچھے اخلاق بھی اسی لیے اختیار کرنا ہیں‘ عبادات اور اللہ کی راہ میں جہاد اور اُس کے دین کے لیے ساری سرگرمیاں بھی اسی لیے ہیں۔ اگر موت کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات نہ کرنا ہوتی اور ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ زندگی موت پر ختم ہو جائے گی‘ تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اللہ کی بندگی کرتے‘ نماز پڑھتے‘ سخت سردی میں وضو کرکے نماز ادا کرتے۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم سچ بولیں‘ وعدہ پورا کریں‘ دوسروں کے حقوق ادا کریں اور کسی پر ظلم نہ کریں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم دین کی خدمت کے لیے‘ اللہ کی راہ میں وقت اور مال لگائیں‘ دعوت کا کام یا جہاد کریں۔ اللہ سے ملاقات نہ کرنا ہو تو یہ سارے کام فضول اور بے کار ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے ہر کام میں‘ حقیقی معنی اس یقین سے پیدا ہوتے ہیں کہ اللہ سے یقینا ملاقات کرنا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں جواب دینا ہے۔

آخرت کی یاد دھانی

اللہ سے ملاقات پر یقین اور اس کے لیے تیاری ہی وہ قوت اور وہ روشنی ہے جو اللہ کی راہ پر چلنے کے لیے طاقت بخشتی ہے‘ اور زندگی کی راہیں روشن کرتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم پاور ہائوس کہہ سکتے ہیں‘ وہ پاور ہائوس جس کے بل پر اچھے اعمال‘ پاکیزہ اخلاق اور دینی جدوجہد کی گاڑی رواں دواں رہتی ہے۔

انبیاے کرام ؑ اور خود ہمارے نبی ؐ کو ‘جب اس کام کی ذمہ داری دی گئی کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائیں تو انھوں نے سب سے پہلے‘ اللہ سے ملاقات کے لیے تیاری کرنے کی دعوت دی‘دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی دائمی زندگی کا یقین دلایا۔ جب حضوؐر کو عام لوگوں کے سامنے دعوت پیش کرنے کا حکم ہوا تو آپؐ سے پہلی بات یہی کہی گئی کہ:

قُمْ فَاَنْذِرْ o (المدثر ۷۴:۲)اٹھو اور خبردار کرو۔

پھر جب حکم آیا کہ اپنے رشتہ داروں کو دعوت دو تو تب بھی یہی حکم ہوا:

وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَo (الشعراء ۲۶:۲۱۴)جو تمھارے قریبی رشتہ دار ہیں ان کو ڈرائو‘ آگاہ کرو‘ ہوشیار کرو۔

جب وحی باقاعدہ نازل ہونا شروع ہوئی تو حضوؐر کے لیے‘ نبی اور رسول سے زیادہ مُنذر کا لفظ استعمال ہوا جس کے معنی ہیں ڈرانے والا‘ آگاہ کرنے والا‘ خبردار کرنے والا۔ اسی لیے نبی کریمؐ ،نبوت کے پہلے دن سے لے کر آخری لمحے تک‘اللہ سے ملاقات کی مسلسل تذکیر کرتے رہے‘ اور اس کے لیے تیاری کرنے کی تاکید فرماتے رہے۔

آپؐ اپنے ساتھیوں سے جو گفتگو بھی کرتے‘ جو تقریریں کرتے‘ جو خطبے دیتے‘ غلطیوں پر ٹوکتے اور اچھی باتوں کی تعریف کرتے‘ تو اِس دوران میں‘ موت کے بعد کی زندگی کی یاد دلاتے‘ جنت کی خوشخبری سناتے اور نارِجہنم سے ڈراتے۔

قرآن مجید میں وہ آیات بہت کثرت سے موجود ہیں جو آخرت کا ذکر کرتی ہیں‘ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی یاد دلاتی اور اس سے ملاقات کی تفصیلات بیان کرتی ہیں۔ حضوؐر اکثر ایسی ہی آیات نمازوں میں تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

فجر کی نماز میں آپ زیادہ تر سورہ ق ٓ کی تلاوت کرتے۔ اس سورہ میں پورا بیان ہی آخرت کا ہے کہ موت حقیقت کو آشکارا کرتی ہوئی آگئی‘ صور پھونک دیا گیا‘ سب کے سب‘   اللہ کے سامنے پہنچ گئے‘ حساب و کتاب ہوگیا‘ کوئی اُس جہنم میں ڈالا گیا کہ جس کا پیٹ کسی طرح نہیں بھرتا اور کسی کے قریب وہ جنت لائی گئی کہ جس میں ہر خواہش پوری ہوتی ہے۔

اسی طرح سورۃ الواقعہ‘ حم السجدہ ‘ الدھر‘التکویر‘الانفطار‘ الغاشیہ وغیرہ کی تلاوت بھی آپؐ کثرت سے فرماتے۔آپؐ خطبہ دیتے تو اس میں بھی عموماً قرآن مجید کی وہ آیات بیان فرماتے جو آخرت اور موت کی تیاری سے متعلق ہوں۔مکہ میں قیام کے دوران میں معاشرتی معاملات کے سلسلے میں بہت کم احکام نازل ہوئے تھے۔ صرف دین کی بنیادی اور اہم تعلیمات‘ بہت مختصر اوربڑے سادہ الفاظ اور جملوں میں بیان ہوتیں۔ شریعت کی تفصیلات تو نہ تھیں لیکن ان جامع اور مختصر بنیادی تعلیمات ہی پر شریعت کی بنیادیں رکھی گئیں اور اس کا ڈھانچا بنایا اور اٹھایا گیا‘ مثلاً:

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی o وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی o (الیل ۹۲:۵-۶) جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا‘ اور اچھی بات کی تصدیق کی۔

ان تینوں جملوں میں پورا کردارِ مطلوب  بیان کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:

وَّاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی o فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰیo (النزٰعت ۷۹:۴۰-۴۱) جو شخص [حساب کتاب کے لیے] اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو بے لگام خواہشات کے پیچھے جانے سے روک لیا‘ تو بس جنت اس کا ٹھکانہ ہے۔

ان مختصر تعلیمات کے ساتھ وہ طویل حصے نازل ہوئے جو آخرت کے تفصیلی بیان پر مشتمل ہیں‘ جو جنت کا شوق اور رب کے حضور کھڑا ہونے کا خوف پیدا کرتے ہیں۔

عمل کا محرک

مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی تشکیل کے بعد‘ جب اسلامی معاشرہ وجود میں آگیا اور مزید تفصیلی احکام نازل ہونا شروع ہوئے تو ان احکام کے ساتھ ساتھ یہ تاکید بھی مسلسل کی گئی کہ اللہ سے ڈرو جس کے پاس تمھیں لوٹ کر جانا ہے‘ جس کا عذاب بہت سخت اور دردناک ہے‘جو ہر بات کو سنتا ہے‘ ہر ہر عمل کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے اور وہ تم سے حساب لے گا۔ بعض روایات کے مطابق جو آخری آیت نازل ہوئی اور جس نے سورئہ بقرہ کے آخر میں جگہ پائی وہ یہ تھی:

وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ق ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَo (البقرہ ۲:۲۸۱) اس دن سے ڈرو‘ جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جائو گے۔ پھر ہر ایک کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

گویا احکامات دیے تو ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے وہ پاور ہائوس بھی بتایا جو ان احکام پر عمل کرنے کی قوت فراہم کرتا ہے‘ خواہ یہ وراثت کے احکام ہوں یا نکاح و طلاق کے‘ جہاد کے ہوں یا ایمانیات کے۔

جہاد کا حکم دیا تو بتایا کہ یہ جنت کا سودا ہے۔ جنت کے لیے جہاد کرو اور اس کے علاوہ کوئی اور مقصد سامنے مت رکھو۔ ایمان کی حقیقت بیان کی تو کہا کہ: ہم نے ایمان لانے والوں کے جان و مال جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں۔ اسی طرح جب مسلمانوں میں کوئی خرابی رونما ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّھْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِط o (الجمعہ ۶۲:۱۱) بتا دیجیے   جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے‘ وہ دنیا کی ساری دل چسپیوں اور نفعے سے زیادہ بہتر ہے۔

آخرت کے اجر پر یقین اور اس کی طلب پیدا ہوگی تو لوگ اجتماعی کام‘ بغیر کسی کے کہے بھی کریں گے۔ یقین نہیں ہوگا‘ تومارے باندھے بھی نہیں کریں گے۔ اسی طرح اگر جہاد پر جانے میں سستی دکھائی تو فرمایا:

اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ج (التوبہ ۹:۳۸) کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ہے۔

اس طرح سے قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی یاد اور اس کی تیاری کی فکر کے ذریعے‘ مسلمانوں کے روحانی امراض کا علاج کیا اور ان کو ایمان کے تقاضے ادا کرنے کے لیے تیار کیا۔ پھر کیفیت یہ ہوگئی کہ صحابہ کرامؓ کے لیے جنت اور دوزخ اتنے حقیقی بن گئے جتنی کہ دنیا تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ ان پر ہر وقت ایک جیسی کیفیت طاری رہتی تھی۔ وہ بھی انسان تھے اور ہر قسم کے حالات سے گزرتے تھے لیکن ان کو غیب پر ایمان حاصل تھا۔ غیب پر ایمان ہی ان کے تقوے کی بنیاد تھا۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں متقین کی سب سے پہلی صفت ہی یہ بیان کی کہ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ غیب میں اللہ تعالیٰ کی ذات بھی شامل ہے‘ جنت بھی اور دوزخ بھی۔ ان پر ایمان کے بغیر تقویٰ پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ صحابہؓ کا حال یہ تھا کہ گویا جنت میں رہتے‘ جنت کی خوشبو سونگھتے اور جنت کی نعمتوں کا مزہ چکھتے ہوں۔ جنت مقصود و مطلوب تھی‘ تو وہی نگاہوں میں سمائی رہتی۔ ان کو دنیا میں بھی جنت کا مزہ آگیا تھا۔ وہ دوزخ سے اس طرح ڈرتے ‘ کانپتے اور لرزتے تھے کہ ان کے چہروں کے رنگ بدل جاتے‘ جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے‘ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے‘ داڑھیاں بھیگ جاتیں‘ گویا کہ آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے ہوں۔

جنت کتنی قریب تھی اور کیسی حقیقت بن گئی تھی‘ اس کا اندازہ ایک واقعے سے کیجیے۔

ایک دفعہ نبی کریمؐ منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا‘ پھر واپس کھینچ لیا۔ لوگوں کو تعجب ہوا کہ یہ کیا ہوا۔ پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: میرے سامنے جنت کا ایک خوشہ تھا‘ میں نے چاہا کہ اسے توڑ کر تمھیں دکھا دوں۔

جنت ‘نہ وعظ تھی‘ نہ افسانہ اور نہ کہانی‘ بلکہ جو کچھ ان کو پیش آتا تھا‘ جن حالات میں وہ چلتے پھرتے تھے‘ جنت ان کے سامنے رہتی تھی‘ عذاب اور دوزخ کا خطرہ انھیں لاحق رہتا تھا۔ وہ جنت کی خوشبو سونگھتے اور متوالے ہو کر جان قربان کردیتے۔ جنت کے باغ کا تصور ذہن میں لاتے تو اُس کی چاہت اور تڑپ میں دنیا کا بہترین باغ اللہ کی راہ میں دے دیتے۔ آندھی چلتی تو کانپ اٹھتے۔ کسی قبر پرکھڑے ہوتے تو زاروقطار روتے۔ اسی چیز نے ان میں بے مثال قربانی‘ اطاعت اور اللہ کے ساتھ تعلق پیدا کیا تھا۔

آج بھی اپنے رب سے ملاقات کی ایسی ہی یاد اور جنت کا ایسا یقین اور حصول کے لیے ایسی ہی تڑپ اورجہنم کی آگ کا ایسا ڈر‘ کسی نہ کسی درجے میں ہمیں حاصل کرنا چاہیے۔ یہ ناگزیر ہے۔ اگر ہم نے یہ نہ کیا تو اُن سارے کاموں کاہمیں کوئی فائدہ نہ ہوگا  جو ہم خدا کی راہ میں کررہے ہیں۔

اللہ کی اطاعت میں اتنی محنت کے بعد بھی‘ آخرت میں اجر نہ ملے تو اس ساری تگ و دو کاکیا فائدہ ؟ اس سے بہتر تو شاید یہ ہوگا کہ ہم دنیا ہی کے لیے بھاگ دوڑ کریں‘ یہیں کچھ کما لیں‘ یہیں کچھ بنالیں۔ ہم دین کے لیے کام کریں‘ دنیا کا نقصان بھی اٹھائیں اور یہ بھی سمجھتے رہیں کہ ہم بڑے اچھے اعمال کر رہے ہیں‘ لیکن آخرت کی آندھی سب کچھ اڑا کر لے جائے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں‘ تو یہ بڑے نقصان کا سودا ہوگا۔ خدا نہ کرے کہ ہم ایسے ہوں‘ اور مجھے امید ہے کہ ہم ایسے نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی اس تنبیہ کو یاد رکھنا ضروری ہے:

قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاo اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا o (الکھف ۱۸:۱۰۳-۱۰۴)

اے نبیؐ، ان سے کہو‘ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔

یہ بات ہر وقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جو کام محض دنیا کی خاطر ہوا وہ ضائع ہوگیا۔ کیونکہ جسم سے آخری سانس نکلتے ہی دنیا ہاتھ سے نکل جائے گی۔ دولت ہو‘ مکان ہو‘ کھیت ہوں‘ کاروبار ہوں‘غرض دنیا کی کوئی بھی چیز ساتھ جانے والی نہیں۔ قبر میں کوئی چیز ساتھ نہیں جاتی۔ دنیا میں جو کچھ کمایا‘ وہ پیچھے رہ گیا۔ صرف اعمال ساتھ ہوں گے۔اب اگر اعمال بھی‘ خواہ وہ کتنے ہی دینی کیوں نہ ہوں‘ خدا اور آخرت کے لیے نہ ہوئے تو وہ بھی ضائع جائیں گے۔ اگرچہ ہم اس خیال میں مگن ہوں کہ ہم تو بہت ہی اچھے کام کر رہے ہیں اور آخرت کے لیے ذخیرہ کر رہے ہیں۔ یہ تو بہت ہی نقصان کا سودا ہوگا کہ ہم اللہ کے دین کا کام بھی کریں اور آخرت میں اس کا بدلہ بھی نہ ملے۔

دعوت کا ایک اھم پھلو

فکرِآخرت‘ رب سے ملاقات کی یاد اور تیاری‘ جنت کے حصول کی تڑپ اور نارِجہنم کا خوف‘ صرف ہمارے ہی لیے ضروری نہیں‘ بلکہ ہماری دعوت کے مخاطبین کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر ہم نے کسی کو اجتماع میں شریک کرلیا‘ کسی سے اعانت لے لی‘ کسی کو کتاب پڑھوا دی‘ کسی سے ووٹ لے لیا‘ مگر اس سے اُس کو آخرت کا کوئی فائدہ نہ ہوا‘ تو ہم نے اس کی کوئی خیرخواہی نہیں کی‘ اس کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کی۔ دوسری پارٹیاں بھی لوگوں سے پیسے لے لیتی ہیں‘ انھیں جلسے جلوس میں لے جاتی ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہمارے ان تمام کاموں کے نتیجے میں اس کو آخرت میں اجر ملنا چاہیے اور اس کی آخرت سنورنی چاہیے۔

نبی کریمؐ نے صرف اپنے ساتھیوں ہی سے نہیں کہا کہ فکرِآخرت اور اللہ سے ملاقات کی تیاری کرو‘ بلکہ آپؐ انتہائی کٹّر مخالف‘ مشرک‘ کافر‘ یہودی‘ عیسائی‘ منافق‘ ہر ایک کو بار بار آخرت کے عذاب سے ڈراتے رہے۔ آپؐ نے اپنے رشتے داروں کو کھانے پر جمع کیا تو یہی بات کہی۔ کوہ صفا پر کھڑے ہوئے تو آپؐ نے یہی کہا کہ اُس عذاب سے ڈرو جو تمھارے سروں پر اس طرح کھڑا ہے جس طرح اس پہاڑی کے پیچھے کوئی لشکر موجود ہو جو ابھی تمھیں دبوچ لے گا۔ اپنی اولاد کو‘ اپنے چچائوں اور پھوپھیوں کو‘ اپنے اعزہ و اقربا کو‘ ایک ایک کا نام لے لے کر‘ اُن کو اُس دن کی تیاری کرنے کی دعوت دی جس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔

ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے یہی کہہ کر بھیجا کہ اَنْذِرْ قَوْمَکَ ، اپنی قوم کو خبردار کرو اور ڈرائو اس سے پہلے کہ عذاب آجائے۔

قرآن کا ایک بڑا حصہ آخرت کے بیان ہی پرمشتمل ہے۔ صرف یہ دعوت ہی نہیں دی کہ اپنے رب کی ملاقات کی تیاری کرو‘ بلکہ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آخرت کیسی ہوگی‘ کس طرح قبر سے اٹھو گے‘ کس طرح اللہ کے سامنے جائو گے‘ حشر کا میدان کیسا ہوگا‘ وہاں کیا سماں ہوگا‘ اعمال کا وزن کیسے ہوگا‘ عذاب کس قسم کا ہوگا‘ کیسی ذلت ورسوائی اورحسرت و ندامت ہوگی‘ جہنم کی آگ کیسی ہوگی‘ آگ کے کوڑے ہوں گے‘ پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ہوگا جس سے آنتیں کٹ جائیں گی‘ سر پر آگ کا سایہ ہوگا اور لیٹنے کے لیے آگ کا بستر--- گویا ایک ہولناک منظر ہے جس کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

قرآن میں احکام کی اتنی تفصیل بیان نہیں ہوئی‘ لیکن آخرت کے حوالے سے ایک ایک چیز کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ یہ نہیں بیان کیا کہ ہر نماز کی کتنی رکعتیں ہیں‘ ان میں فرائض کیا ہیں اور سنن و مستحبات کیا ہیں‘ زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے‘ لیکن آخرت کی ایک ایک بات بڑی تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ ایک ایک عذاب کی تفصیل ہے‘ ایک ایک نعمت کا تذکرہ ہے۔ جنت کیسی ہوگی--- اس میں بالاخانے ہوں گے‘ محلات ہوں گے‘ خیمے ہوں گے‘ گھنے اور لمبے سائے ہوں گے‘ ہر قسم کے پھل اور میوے ہوں گے‘ انگور ہوں گے‘ انار ہوں گے۔کھجور ہوگی‘ کیلا ہوگا‘ بیری کے درخت ہوں گے۔ پانی ‘دودھ ‘ شہد ‘ غرض ہر قسم کے بہترین مشروبات کے چشمے بہہ رہے ہوں گے‘ حسین و جمیل رفاقتیں ہوں گی‘ حوریں ہوں گی اور یہ سب کچھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔

قرآن ہی ہمارے لیے روشنی ہے‘ قرآن ہی ہمارا رہنما ہے‘ قرآن ہی کی طرف ہماری دعوت ہے‘ لیکن ہماری دعوت میں آخرت کا بیان کہاں ہے اور کتنا ہے؟ اگر ہم قرآن کی دعوت لے کر کھڑے ہوئے ہیں‘ قرآن کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں‘ قرآن پر لوگوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری دعوت کو بھی قرآن ہی کے انداز میں آخرت کی دعوت ہونا چاہیے۔ اپنے مخالفین کو‘ خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور کیسی ہی استعداد رکھتے ہوں‘ قرآن کے اسی انداز میں آخرت کی تیاری کی دعوت دینا چاہیے۔

اگر غور کریں تو اس لحاظ سے ہم بہت پیچھے ہیں۔ جو تقریریں ہم کرتے ہیں ان کو دیکھیں‘ جو درس ہم دیتے ہیں ان پر نگاہ ڈالیں‘ تربیت گاہوں کے جو پروگرام ہوتے ہیں ان کا جائزہ لیں‘ ان سب میں رب سے ملاقات کی یاد اور جنت و دوزخ کے ذکر کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟ کبھی ایک دم ہمیں خیال آتا ہے کہ فکرِآخرت کا پروگرام بھی ہونا چاہیے۔ ایک حدیث رکھ لو‘ ایک درس رکھ لو‘ ایک تقریر رکھ لو‘ مگر قرآن کے وہ حصے جہاں جنت اور جہنم کا بیان ہے وہ ہمارے درس کا موضوع نہیں بنتے۔ شاید یہ سب کچھ جدید دور کا بھی اثر ہے کہ ہم کو اب شاید کچھ غیرشعوری ہچکچاہٹ ہوتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس زمانے میں یہ حوروغِلمان کا ذکر کرتے ہیں اور محلات کا ذکر کرتے ہیں‘ جنت کا لالچ دیتے ہیں اور آگ سے ڈراتے ہیں۔

ہم سوچتے ہیں کہ آج کل اس طرح لوگ کہاں متاثر ہوں گے‘ کہاں مانیںگے۔ اب تو اسلامی نظام کی برتری ثابت کرنا چاہیے۔ دوسرے نظام ہاے حیات پر تنقید کرنی چاہیے‘ عالمی اور قومی سیاست کے حوالے سے بات ہونا چاہیے۔ یہ سب کچھ بھی ضرور ہونا چاہیے‘ لیکن صرف اس سے کام ہرگز نہیں چلے گا۔ ہمارے دروس میں‘ ہمارے پروگراموں میں آخرت کا‘ جنت کا‘ دوزخ کا وہ تناسب نہیں ہے جو تناسب قرآن مجید میں ہے‘ بلکہ قرآن مجید جس قدر آخرت‘ جنت اور دوزخ کے بیان سے بھرا ہوا ہے اس کا عشرعشیر بھی ہماری دعوت‘ گفتگوئوں‘ تقریروں اور درس میں نہیں ہوتا۔

ظاہر ہے کہ یہ ہونا چاہیے کیونکہ لوگوں کے ساتھ اصل بھلائی ہی یہ ہے کہ وہ آخرت میں کامیاب ہوسکیں۔ ہمارا سارا کام اسی لیے ہے کہ لوگ جنت کے طلب گار بن جائیں۔ پھر دین بھی قائم ہوگا اور دنیا میں بھی اسلامی نظام کی جنت بنے گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ انھی جذبات سے اس دین کی طرف آئیں جن جذبات سے وہ قوم پرستی اور سوشلزم کی طرف جاتے ہیں تو اسلام کے لیے یہ نسخہ کارگر نہیں ہوسکتا‘ نہ ہو رہا ہے۔

جب لوگ جنت کے طلب گار بن جائیں گے جس طرح صحابہ کرامؓ تھے تو پھر وہ دنیا کو بھی جنت بنائیں گے اور دنیا میں عدل و قسط کا نظام بھی قائم ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسپین سے لے کر چین تک‘ ساری دنیا اُن کے قدموں میں ڈھیر ہوگئی جو جنت سماوی کے طلب گار تھے۔ اگر وہ دنیا کے طلب گار ہوتے توکیا دنیا اس طرح ان کے آگے ڈھیر ہوتی؟ ہمیں بھی یہ جاننا چاہیے کہ جب ہم آخرت کے طلب گار بن جائیں گے تو اللہ تعالیٰ دنیا کو ہمارے قدموں میں اُسی طرح ڈھیر کر دے گا جس طرح ان کے آگے دنیا بچھتی چلی گئی۔ لیکن اگر ہم نے صرف دنیا طلب کی تو آخرت بھی ہاتھ سے جائے گی اور دنیا بھی!

دنیا ہماری مطلوب کیوں ہو‘ جب کہ اس طرح اس کا ملنا غیر یقینی ہے اور جنت کا ہاتھ سے جانا یقینی۔ دنیا تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا دے گا‘ جس کو چاہے گا نہیں دے گا‘ لیکن آخرت کے حوالے سے اس کا وعدہ یقینی ہے کہ جس نے آخرت کا ارادہ کر لیا اور اس کے لیے کوشش کی جیساکہ کوشش کرنے کا حق ہے‘ اور اس کے دل میں ایمان ہے تو اس کی محنت کی لازماً قدردانی کی جائے گی۔

مَنْ اَرَادَ الْاٰخِـرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَـھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۱۹) جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے‘ اور ہو وہ مومن‘ تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔

ہر آدمی دن رات محنت کرتا ہے۔ کسی کو چند ٹکے ملتے ہیں اور کسی کو لاکھوں مل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے کسی کو بقدرِ ضرورت دیتا ہے اور کسی کو بلاحساب دیتا ہے‘ اس لیے کہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اِس کی حقیقت تو بس اتنی ہے جیسے ایک مچھر کا پر‘ یا جیسے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈال کر کچھ پانی حاصل کرلے‘ یا جیسا کہ قرآن نے کہا: اگر یہ امکان نہ ہوتا کہ سارے کے سارے لوگ کافر ہوجائیں گے تو ہم رحمن کا انکار کرنے والوں کے گھروں کی چھت‘ زینے‘ دروازے‘ فرنیچر سب چاندی کا بنا دیتے‘ بلکہ سونے کا۔ پھر بھی ان کی قیمت اس سے زیادہ نہ ہوتی کہ جب تک سانس ہے آدمی اس سے کام لے لے‘یا لذت اندوز ہولے۔ جو چیز ختم ہونے والی ہو اس کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے۔

حقیقی خسارہ

قرآن مجید میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ: اس دنیا کو مقصود نہ بنائو‘ منزل نہ بنائو‘ بلکہ اس دنیا کے ذریعے آخرت کا سامان کرو۔ یہی راہ پکڑو گے توکامیابی تمھارے قدم چومے گی۔ یہ بات ہرلمحے یاد رکھو کہ اپنے رب سے ملاقات کرنا ہے‘ اس ملاقات کی تیاری کرو۔ قیامت کے دن وہ یہی پوچھے گا کہ تم نے دنیا کی زندگی میں آج کے دن کی ہم سے ملاقات کو یاد رکھا تھا یا نہیں۔ اگر اِس دنیا میں یہ بات بھلا دی گئی کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا ہے تو تباہی و بربادی اور ناکامی و خسارہ مقدر ہوگا۔ دیکھیے کتنے دل دہلا دینے والے الفاظ ہیں:

وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا وَمَاْ وٰکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ o (الجاثیہ ۴۵:۳۴) اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم بھی اُسی طرح تمھیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے۔تمھارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمھاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔

مزید فرمایا:

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَـآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَاج اِنَّا نَسِیْنٰکُمْ o (السجدہ ۳۲:۱۴)

پس اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا‘ ہم نے بھی اب تمھیں فراموش کر دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق‘ محض بھولنے اور یاد رکھنے کا معاملہ نہیں ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ ہم بھلا دیں گے تو اس کے معنی دراصل یہ ہیں کہ ہم نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں گے‘ رحمت نہ کریں گے۔ جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا سوائے اس کے سائے کے‘ کوئی سہارا نہ ہوگا سوائے اس کے سہارے کے‘ کسی کی نظر کام نہ آئے گی سوائے اس کی نظرِکرم کے‘ کسی کی توجہ سے کام نہ بنے گا سوائے اس کی توجہ کے--- ذرا سو چیے کہ اگر اُس دن اُس نے ہمیں بھلا دیا تو ہمارا کیا بنے گا!

لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے اس دن کو برابر یاد رکھنا اور اس ملاقات کی تیاری کرنا‘ یہ وہ کام ہے جو اپنے لیے بھی ضروری ہے اور جو ہمارے مخاطب ہیں یا ساتھ چلنے والے ہیں‘ ان کے لیے بھی ضروری ہے۔ حضور اکرمؐ نے اپنی جو مثال بحیثیت داعی کے دی ہے‘ اسے دیکھیے۔ آپؐ نے فرمایا: میری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی۔ اب تم ہو کہ پروانوں کی طرح اس آگ میں گر رہے ہو اور میں ہوں کہ تمھاری کمریں پکڑپکڑ کر تمھیں روک رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں‘ لوگو! آگ سے بچو۔

بحیثیت داعی ہمارا کردار حضور اکرمؐ کی اس مثال کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر ہمارے گھر میں آگ لگ جائے تو ہم اپنی جان خطرے میں ڈال کر‘ اپنے بچوں کو اٹھا کر باہر بھاگیں گے‘ پانی لے کر آئیں گے اور آگ بجھائیں گے۔ اگر ہماری بیوی‘ بھائی‘ بہن‘ ماں باپ‘ دوست‘ رشتہ دار آگ میں جلنے کے خطرے کے قریب ہوں تو یقینا ہم بے چین ہوجائیں گے۔ اگر یہی لوگ جہنم کی آگ کے قریب جا رہے ہوں توکیا یہی جذبہ ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے‘ کیا ہم اسی طرح کوشش کرتے ہیں کہ ان کو آگ سے بچالیں؟

آخرت کی یاد اور آخرت کے لیے تیاری‘ یہی وہ پاور ہائوس ہے جو ہمارے کام اور جدوجہد کو رواں دواں رکھے گا۔ سارے کاموں میں یہی یاد جاری و ساری رہنا چاہیے‘ خواہ وہ الیکشن کا کام ہو یا نعروں اور جلوس کا کام یا پوسٹر لگانے کا۔ جو کام بھی آپ کریں صرف اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہو‘ آپ کو اپنی جنت میں داخل کر دے۔ پھر دیکھیے اس کام میں کتنی اور بے انتہا برکت ہوتی ہے۔ اس کام کا بہت بڑا اجر آپ کو آخرت میں یقینا ملے گا‘ اگرچہ دنیا میں بظاہر کچھ نہ بھی ملے‘ یہاں آپ الیکشن نہ بھی جیتیں اور چاہے لوگ آپ کی بات سن کر نہ دیں۔ لیکن اگر آپ نے کام صرف اس لیے کیا کہ کسی نہ کسی طرح الیکشن جیت جائیں‘ الیکشن تو آپ ہار بھی سکتے ہیں‘ لیکن آخرت میں آپ کو اس کا کوئی بدلہ نہیں ملے گا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ صرف وہی کام قبول کرے گا جو خالص اس کے لیے ہو۔ بظاہر الیکشن تو دنیاوی کام ہے اور اگر کوئی شخص قرآن کا حافظ اور عالم ہو یا اللہ کی راہ میں شہید ہوجائے‘ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والا ہو‘ لیکن یہ خالصتاً دینی کام بھی اگر صرف اللہ کے لیے نہ کیے گئے ہوں‘ تو یہ بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا‘ بلکہ ان کو جہنم میں ڈال دے گا۔ عمل تو وہی قبول ہوگا جو خالص صرف اسی کے لیے ہو‘ اسی سے اجر کے لیے ہو۔ آخرت کے مسافر اور بھی ہیں‘ فرق اتنا ہے کہ دوسرے لوگوں کے نزدیک آخرت گوشے میں بیٹھ کر ملتی ہے‘ مگر ہمارے نزدیک آخرت اللہ کے دین کی راہ میں جہاد کے ذریعے ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یقینی وعدہ کیا ہے:

وَلَا ُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ج (اٰل عمرٰن ۳:۱۹۵) میں ان کو ضرور بالضرور جنتوں میں داخل کروں گا جہاں نہریں بہتی ہوں گی۔

یہ ہونی چاہیے ہماری دعوت‘ یعنی رب سے ملاقات اور جنت کی طلب۔ دوسروں کو بلانا ہے تو اس طرف ہی بلانا ہے کہ وہ جنت کے طلب گار بنیں اور اللہ کے دین کی راہ میں جہاد کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ ہماری دعوت کا موضوع یہی بن جائے‘ یہی دعوت کی روح بن جائے کہ:

وَفِی الْاٰخِـرَۃِ عَـذَابٌ شَدِیْـدٌ وَّمَـغْفِـرَۃٌ مِّـنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٌط (الحدید ۵۷:۲۰) آخرت میں ایک طرف عذاب شدید ہے‘ دوسری طرف اللہ کی مغفرت اور رضا۔

یہ دونوں ہمارے منتظر ہیں۔ ہمیں فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ان میں سے کون سی چیز ہم اپنے لیے منتخب کرتے ہیں۔

گو یہ دونوں چیزیں آج ہمیں آنکھوں سے دکھائی نہیں دے رہیں۔ لیکن اگر ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے تو مغفرت و رضوان کے انعام کا اور عذاب شدید کا پورا نقشہ‘ ہم قرآن مجید میں دیکھ سکتے ہیں۔ آپ قرآن مجید کثرت سے پڑھیں‘ اس کو یاد کریں‘ اس کو نمازوں میں پڑھیں‘ چھوٹی چھوٹی آیتوں کے معنی یاد کرلیں۔ صبح و شام‘ اٹھتے بیٹھتے‘ موت کو یاد رکھیں۔ قرآن پڑھیں تو خود کو اس کا مخاطب بنائیں۔ اپنے مخاطبین کو دعوت دیں تو آخرت کے بیان اور آخرت کے لیے تیاری کو اس میں شامل کریں۔ اس طرح آپ کی زندگی صحیح راہ پر چلے گی اور آپ کی محنت کا بدلہ آپ کو لازماً ملے گا۔ بالآخر وہ وقت بھی آئے گا جب ہم اس کی جنت میں داخل ہونے کے مستحق ٹھیریں گے۔

آخرت کی یاد

ایک چھوٹا سا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو یاد رکھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ اس کو اگر آپ اپنے اوپر لازم کرلیں تو آپ بھی اس کے ذریعے آخرت کاسفر بار بار کرسکتے ہیں۔

ایک دعا ہے جو نبی کریمؐ نے سکھائی ہے اور یہ کوئی بہت لمبی دعا نہیں ہے:

اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ -

اے اللہ مجھے آگ سے بچا لے۔

بہت چھوٹی‘ بہت سادہ‘ بہت آسان دعا ہے۔ اس کو عربی ہی میں یاد کرنا چاہیے‘ اور یہ کوئی ایسا مشکل کام بھی نہیں۔ اگر ہم اُن الفاظ میں یہ دعا مانگیں گے جو الفاظ حضور اکرمؐ نے سکھائے ہیں تو الفاظ سے بھی برکت کا چشمہ جاری ہوگا‘ لیکن اگر یہ الفاظ یاد نہ ہو سکیں تو اپنی زبان میں اس کا مفہوم ادا کیا جا سکتا ہے‘ یعنی اے اللہ مجھے آگ کے عذاب سے بچا لے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو آدمی مغرب کے بعد اور فجر کے بعد سات سات دفعہ یہ دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ کے عذاب سے بچالے گا۔ دعا خود سے تو کام نہیں کرتی۔ دعا تو اس بات کا اظہار ہے کہ آپ کو اُس چیز کی طلب ہے‘ پیاس ہے جو آپ مانگ رہے ہیں۔ جب آپ پانی مانگتے ہیں تو آپ کو پیاس لگی ہوتی ہے‘ آپ کھانا مانگتے ہیں تو بھوک لگی ہوتی ہے۔ جتنی شدت سے بھوک پیاس ہوتی ہے‘ اتنی ہی بے چینی اور اضطراب اور لگن سے آپ پانی اور کھانا مانگتے ہیں اسی طرح آپ کو آگ سے بچنے کی فکر لگی ہو اور شدت سے لگی ہو‘ خوف‘ اندیشہ‘ بے چینی اور اضطراب سے دل بھرا ہوا ہو‘ اور پھر آپ کہیں اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ،    تو ان الفاظ کا اثر ہوگا۔ دل میں آگ لگی ہوگی تو الفاظ دل سے نکلیں گے‘ رنگ لائیں گے۔     یہ الفاظ آپ دل سے کہیں گے تو دل میں آگ سے بچنے کی فکر بھی پیدا ہوگی۔ مانگنے سے بھی بھوک پیاس محسوس  ہونے لگتی ہے۔ یہ گویا دو طرفہ عمل ہے۔اس لیے صبح و شام فجر اور مغرب کے بعد ضرور کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔

میں نے اس عمل میں تھوڑا سا اضافہ کیا ہے۔ میں جس طرح پڑھتا ہوں‘ آپ بھی چاہیں اور مفید سمجھیں تو اس طرح ہی پڑھیں۔ اس میں کوئی زیادہ وقت بھی نہیں صرف ہوتا۔ ہر بار جب میں یہ کہتا ہوں کہ اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ، تو آخرت کے سفر کی کسی ایک منزل کا نقشہ اپنے ذہن میں رکھتا ہوں۔ یہ سفر قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ میں اس سفر کے کسی ایک مرحلے کی تصویر اپنے ذہن میں لاکر کہتا ہوں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔

  • پھلا مرحلہ: آپ پہلی دفعہ کہیں تو موت کا وقت یاد کریں۔ قرآن مجید میں موت کے وقت کا کثرت سے ذکر کیا گیا ہے۔ کسی ایک منظر کو اپنے ذہن میں تازہ کرلیں۔ ایک یہ ہے:

کَلَّا ٓاِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ o وَقِیْلَ مَنْ رَاقٍ o وَّظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ o وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ o اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمَسَاقُ o (القیامۃ ۷۵:۲۶-۳۰)

ہرگز نہیں‘ جب جان حلق تک پہنچ جائے گی‘ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا‘ اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے‘ اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی‘  وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا۔

جب جان حلق تک پہنچ جائے گی‘ پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔ کوئی سہارا نظر نہ آئے گا جو موت سے بچائے اور کوئی جھاڑ پھونک کرکے بھی نہیں بچا سکے گا‘ تو یقین ہو جائے گا کہ بس اب تو دنیا کو چھوڑنا ہے۔ بھائی بہن‘ ماں باپ‘ رشتہ دار‘ مال و دولت‘ مکان سب کچھ چھوڑنا ہیں‘ جسم کی سب قوتیں ختم ہو جائیں گی۔ اب اللہ کی طرف جانا ہے اور سوائے اعمال کے کوئی سہارا نہیں۔ یا اس وقت کو یاد کریں جب فرشتے آئیں گے اور چہروں اور پیٹھوں پر آگ کے کوڑے ماریں گے‘ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْo (محمد ۴۷: ۲۷)

موت کے کسی منظر کو چند سیکنڈ کے لیے قرآن کے کسی حصے کے ذریعے‘ یا ذہن میں لاکر آپ موت کا وقت یاد کریں‘ اور اس کے بعد کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔ یہ پہلا مرحلہ ہوا۔

  • دوسرا مرحلہ: موت کے بعد قبر کی منزل ہے۔ دوسری بار کہنے لگیں تو قبر کا مرحلہ یاد کریں۔ اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قبر ہی دراصل فیصلہ کر دے گی کہ آگے کیا ہوگا‘ یا تو یہ آگ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ۔

حضرت عثمانؓ کے بارے میں مذکور ہے کہ آپ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا زاروقطار روتے تھے کہ آپ کی داڑھی آنسوئوں سے بھیگ جایا کرتی تھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ قبر کہتی ہے کہ میں تنہائی کا گھر ہوں‘ میں کیڑوں کا گھر ہوں۔ لہٰذا قبر کا عذاب‘ اُس کے مختلف مناظر اگر ذہن میں تازہ رکھیں‘ اور کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔ یہ دوسرا مرحلہ ہوا۔

  • تیسرا مرحلہ: قیامت کا ایک مرحلہ وہ ہوگا جب قبروں سے نکال کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔ لوگ دیوانہ وار اٹھ کر بھاگیں گے‘ ہوش اُڑے ہوںگے‘ نگاہیں اٹھ نہ رہی ہوں گی‘ چہروں پر ذلت کی سیاہی ہوگی‘ ننگے ہوں گے مگر دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا۔ سورج قریب آجائے گا‘ پسینہ اس طرح بہے گا کہ لوگ کانوں تک غرق ہوںگے۔ ہلکے سے ہلکا عذاب یہ ہوگا کہ آدمی کو آگ کے جوتے پہنا دیے جائیں گے اور اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔ اعمال نامے ہاتھ میں ہوں گے اور سب لوگ خدا کے حضور کھڑے ہوں گے۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قسمت کا فیصلہ ہو رہا ہوگا۔ جس کے نیک اعمال بھاری ہوں گے تو وہ دل پسند زندگی پائے گا‘اور جس کے بداعمال بھاری ہوں گے تو اس کا تو ٹھکانہ آگ کا گڑھا ہوگا۔

یہ تیسری منزل ہے حشر کی۔ کسی بھی منظر کو ذہن میں تازہ کرلیں اور کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔

  • چوتہا مرحلہ: چوتھی منزل پُل صراط کی ہے۔ آپ سوچیں کہ ہر شخص جہنم پر سے گزرے گا۔ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ہوا کی رفتار سے گزر جائیں گے‘ اور بعض اس سے آہستہ‘ اور بعض لڑکھڑاتے ہوئے گزریں گے‘ اور بعض وہیں جہنم کے اندر گر پڑیں گے۔ اس وقت تو اعمال ہی سواری ہوں گے‘ کوئی اور سواری نہ ہوگی۔ آپ اس منظر کو ذہن میں لائیں اور چوتھی بار کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔
  • پانچواں مرحلہ: پانچویں دفعہ اس آگ کو دیکھیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس کثرت اور تفصیل سے کیا ہے۔ اس آگ کے جسمانی عذاب کا تصور کریں۔ وہاں پر آگ کا بستر ہے‘ آگ کی چھت ہے‘ پیپ کا پانی ہے‘ کانٹوں کا کھانا ہے‘ لوہے کے ہتھوڑے ہیں‘ سرپر کھولتا ہوا پانی ڈالا جا رہا ہے‘ ان میں کسی ایک کا تصور اپنے ذہن میں رکھیں اور پھر کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔
  • چہٹا مرحلہ: پھر وہاں ایک عذاب اور بھی ہے۔ یہ رسوائی اور حسرت و ندامت کا عذاب ہے۔ یہ نفسیاتی اور روحانی عذاب ہے۔ چھٹی بار اس کا تصور کریں۔ یہ حشر سے شروع ہوگا‘مثلاً جب وہاں آپ کے سارے اعمال براڈ کاسٹ کردیے جائیں گے‘ وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (۸۱:۱۰) ‘کیا آپ اس گھڑی کا سامنا کرسکتے ہیں؟ میں بھی اپنے آپ کو جانتا ہوں ‘اور آپ بھی اپنے آپ کو جانتے ہیں۔ کیا کوئی یہ رسوائی مول لے سکتا ہے کہ اس کے سارے اعمال لائوڈاسپیکر پر بیان ہونا شروع ہو جائیں۔ کتنی رسوائی‘ کتنی ذلّت ہمارے حصے میں آئے گی؟ پھر وہاں زبردست ندامت و حسرت یہ ہوگی کہ ہماری اتنی مختصر سی عمر تھی‘ اس کو ہم نے کیوں ضائع کردیا۔ پھرجہنم سے نکلنا چاہیں گے تو کوئی نجات کی صورت نظر نہ آئے گی۔ جن کا مذاق اڑاتے تھے ان کو ہی عیش و آرام میں دیکھیں گے۔ آپ ذلّت کا‘ رسوائی کا‘ حسرت کا‘ یہ عذاب یاد کریں اور چھٹی بار کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔
  • ساتواں مرحلہ: آخر میں آپ یہ سوچیں کہ جو کچھ کل پیش آنے والا ہے‘ یہ سب آج کی کمائی ہے‘ یعنی کل کے جتنے بھی مرحلے پیش آنے والے ہیں‘ یہ آسان ہوں گے تو صرف آج کے نیک اعمال سے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آج مجھے ان اعمال سے بچا لے کہ جو کل آگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔ پھر آپ کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔

اس طرح آپ دنیا سے چلنا شروع کریں‘ موت کے وقت سے جہنم تک پہنچیں‘ پھر واپس لوٹ کر آج کی دنیا میں آجائیں۔ یہ سفر مکمل ہوجائے گا۔

یہ دعا سات دفعہ اگر آپ صبح و شام اس طرح پڑھ لیں تو مشکل سے دو تین منٹ صرف ہوں گے۔ آپ مزید کچھ وقت بیٹھنا چاہیں تو بیٹھ سکتے ہیں۔ لیکن میں آپ کو کسی طویل مراقبے کی تعلیم نہیں دے رہا ہوں۔

اس طرح آپ موت کو یاد رکھنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ اللہ سے ملاقات کو بھولیں گے ‘کوئی بات نہیں‘ انسان بھولنے والا ہے‘ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے۔ صحابہ کرامؓ بھی ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہتے تھے۔ ان کی حالت بدلتی رہتی تھی۔ حضوؐر کی محفل میں ہوتے تو گویا جنت و دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے‘ گھروں کو جاتے تو یہ کیفیت بہت مدھم ہو جاتی۔

اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ آپ آخرت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔بھول تو آدمی کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آخرت کو یاد رکھنے کی کوشش کرتے رہیں‘ اور اگر بھولیں تو فوراً یاد کرلیں۔ پھر پوری امید رکھیں کہ اللہ آپ کی برائیوں کو نظرانداز کر دے گا‘ آپ کے گناہوں کو بخش دے گا۔ اس کا بھی امکان ہے کہ آپ گناہ کم اور نیکیاں زیادہ کرنے لگیں۔ بس آپ کی اپنی طرف سے کوشش ضروری ہے۔ اس کوشش کے لیے یہ ایک عملی نسخہ ہے۔ اس کو آپ اختیار کرلیں تو ان شاء اللہ آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ‘ سب کو‘ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! (کیسٹ سے تدوین: عبدالجبار بہٹی)


(کتابچہ دستیاب ہے۔ فی عدد ۵ روپے۔ سیکڑے پر رعایت۔ منشورات‘ منصور‘ہ لاہور-۵۴۷۹۰)

تربیت کا عمل انسان کے پیدا ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے ۔ کچھ تربیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے جوخود بخود ہوجاتی ہے‘ جب کہ کچھ تربیت انسان اپنی کوشش سے کرتا ہے۔ تربیت کے معنی کسی چیز کو نشو و نما دینا‘ بڑھانا اور تقویت دینا ہے ۔ تربیت سے ملتا جلتا ایک اور لفظ بھی استعمال ہوتا ہے‘ وہ ہے تزکیہ ۔ اس میں پاکیزہ کرنا اور نشو ونما دینا ‘ دونوں معنی شامل ہیں ۔ انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کی تربیت کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ اُس کا جسم بڑھنا شروع کرتاہے ۔ آیندہ زندگی میں درپیش مراحل کے لیے مختلف صلاحیتیں اور استعداد بتدریج پیداہوتی چلی جاتی ہے۔

کچھ کام انسان دوسروں کو دیکھ کر اور ان سے سیکھ کر اختیار کرتا ہے ‘ جیسے چلنا پھرنا ‘کھانا پینا‘ کپڑے پہننا وغیرہ ۔ یہ سب کام آدمی سیکھتا ہے ‘ یعنی ان کی تربیت حاصل کرتا ہے ۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ نوالہ کیسے بناناہے ‘ کپڑے کیسے پہننے ہیں‘ یہ سب کچھ وہ دوسروں کو   دیکھ کر یا کسی کے سکھانے سے سیکھتا ہے ۔ زبان بڑی اہم چیز ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ تربیت کا معجزہ ہے کہ بچہ تین چار سال کی عمر تک ایک زبان سیکھ لیتاہے اور اس طرح سیکھتا ہے کہ اس کی گرامر بھی صحیح ہوتی ہے ‘ لغت بھی اور محاورہ بھی۔ اگرچہ اس نے گرامر کی کوئی کتاب نہیں پڑھی ہوتی‘ کوئی لغت نہیں دیکھی ہوتی‘ کسی اسکول میں داخلہ نہیں لیا ہوتا‘ وہ کوئی کتابیں نہیں پڑھتا‘ مگر پھر بھی زبان سیکھ جاتا ہے۔ اگرچہ کسی زبان کو بڑی عمر میں بھی سیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ تربیت کے لیے قدرت کے انتظامات ہیں۔

قدرتی تربیت کے ساتھ ساتھ بعض چیزیں اورمہارتیں بھی ضروری ہیں۔ البتہ ہمیں وہ تربیت مطلوب ہے جو ہماری سوچ ‘ عمل ‘ اخلاق اور کردار کو اس سانچے میں ڈھال دے جس کے ذریعے ہم اللہ کی رضا حاصل کرسکیں ۔ ہم سب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر جوچیز محبوب ہے وہ اس کی راہ میں جہاد اور اس کے دین کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد ہے ۔ اس نے اپنی محبت اور اپنے رسولؐ کی محبت کو اپنی راہ میں جہاد کے ساتھ منسلک کیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دین میں چوٹی کا عمل‘ جہاد ہے ۔ اس بات کی اہمیت کے پیش نظر ہی ہم سب ایک تنظیم میں شامل ہوئے ہیں اورایک جماعتی اور اجتماعی زندگی اختیار کی ہے ۔ اس اجتماعیت کا تقاضا ہے کہ تربیت کے عمل میں ہمارے پیش نظر سب سے بڑھ کر یہی امر ہونا چاہیے کہ ہم دین کو قائم کرنے کے لیے جہاد کے اہل بنیں۔

تربیت کی بنیاد: ارادہ و عزم

انسان کی تربیت قدرتی بھی ہوتی ہے اور گردوپیش کے حالات و مشاہدات سے بھی‘  دوسروں سے سیکھ کر بھی اور لکھ پڑھ کر بھی۔ لیکن تربیت کی اصل ذمہ داری ایک فرد کی اپنی ہی ہے۔ تربیت کے عمل میں یہ سب سے پہلا اور بنیادی سبق ہے جو ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے۔

ہم جیسا بھی بننا چاہیں‘ وہ اپنی کوشش سے اور اپنے عمل سے بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بہت واضح اور صاف طورپر بیان فرمایا دیا ہے کہ آدمی کے حصے میں وہی کچھ آتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے ۔

وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِ نْسَانِ اِلَّا مَاسَعٰیo (النجم ۵۳:۳۹)

اوریہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے۔

جو آدمی خود کچھ نہ بننا چاہے‘ وہ دوسروں کے بنانے سے نہیں بن سکتا۔ آدمی اپنی محنت اور کوشش سے ہی اپنے آپ کو وہی کچھ بناتا ہے جو وہ بننا چاہتا ہے ۔ لہٰذا تربیت کے ضمن میں بنیادی بات اپنی اِس ذمہ داری کوسمجھنا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰیo (الاعلٰی ۸۷:۱۴)

فلاح پاگیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

تَزَکّٰی کا لفظ عربی زبان میں جس وزن پر اور جن معنوں میں آیا ہے ‘ اس میں انسان کا اپنے اوپر محنت سے کسی کام کو کرنے کا مفہوم بھی شامل ہے ۔ اسی وزن پر تدبر اور تذکر ہیں۔ تدبر آدمی خود کرتا ہے ‘ کوئی دوسرا زبردستی نہیں کرواسکتا ۔ تذکر کے معنی کسی چیز کو یاد کرنے اور یاد رکھنے کے ہیں ۔ یہ بھی آدمی خود کرتا ہے ‘ کوئی دوسرا نہیں کروا سکتا۔ چنانچہ تَزَکّٰی سے مراد اہتمام کے ساتھ اپنی کوشش سے اپنا تزکیہ کرنا ‘ اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرنا اور اپنی نشوونما اور ارتقا کی کوشش کرنا ہے جو دراصل آدمی کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے جہاں تَزَکّٰیٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں یہ بھی فرمایا گیا:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o (الشمس ۹۱:۹)

یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔

تزکیہ کسی کام کو بتدریج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ گویا اس کے معنی یہ ہیں کہ نفس کو پاک صاف کرنے کا کام مسلسل کرنے کی ضرورت  ہے ۔اس کے علاوہ جتنے بیرونی محرکات اور تربیت کے ذرائع ہیں ‘ وہ اللہ کی وحی ہو یا اس کی کتاب ‘ یا اس کے رسول علیہم السلام جو اس دنیا میں رہنمائی کے لیے آتے رہے ہیں ‘ یا صالح صحبت جو آدمی کو نصیب ہوتی ہے ‘ یا کتابیں اور لٹریچر ہو ‘ یادرس قرآن اور اجتماعات ہوں‘ ان سب کی حیثیت معاون و مددگار کی ہے ۔ اگر زمین بنجر ہے اور اس میں بیج موجود نہیں ہے تو باہر سے خواہ کتنا ہی پانی دیا جائے‘ کتنی ہی کھاد ڈالی جائے‘ کتنی ہی محنت کی جائے‘ فصل نہیں اگے گی۔ فصل تو اسی وقت اگے گی جب زمین میں فصل اگانے کی صلاحیت موجود ہو اور بیج موجود ہو جو پودے اور درخت کی شکل اختیار کرسکے ۔

یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ایسے لوگ جونبی کریمؐ کی صحبت میں بیٹھتے تھے ‘ آپؐ کا کلام سنتے تھے ‘ آپؐ کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے‘ یا آپؐ سے واقف تھے‘ وہ کافر اور منافق ہی رہے۔ انھیں سچا ایمان لانے کی توفیق نصیب نہیںہوئی۔ اگر محض کسی اچھی بات کا سن لینا اور کسی اچھی صحبت میں بیٹھ جانا ہی کافی ہوتا ‘ تو ان میں سے ہر ایک کو ایمان کی دولت نصیب ہوجاتی‘ لیکن جنھوں نے خود صحیح بات کو نہ ماننا چاہا اور صحیح راستے پر نہ چلنا چاہا ‘ ان کے لیے ان میں سے کوئی چیز بھی مدد گار ثابت نہ ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کو مخاطب کرکے فرمایا:

اِنَّکَ لَاتَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ (القصص ۲۸:۵۶)

اے نبیؐ! تم جسے چاہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے ۔

یہ اللہ کا قانون ہے اور اس کے تحت ہی وہ لوگوں کو توفیق بخشتا ہے‘ اور توفیق کا انحصار آدمی کے اپنے ارادے اور خواہش پر ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر آدمی سیدھا راستہ اختیار کرتاہے ۔

انسان مجبور محض نہیں ہے بلکہ وہ ایک بااختیار ہستی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو انسان پر ایسا کوئی اختیار نہیں دیا ہے کہ وہ اس سے زبردستی کوئی کام کرواسکے ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ جو اختیار حاصل ہے ‘ وہ یہ ہے کہ وہ برائی کا خیال دل میں ڈال دے ‘ برائی کو اچھا کرکے دکھائے ‘ اس کی ترغیب دے اور آدمی سے کہے کہ یہ برائی کرو۔ لیکن وہ زبردستی اس کا ہاتھ پکڑ کر‘ یااس کی زبان سے کوئی برا کام نہیں کرواسکتا۔ اگر آدمی جھوٹ نہ بولنا چاہے تو وہ اس سے جھوٹ نہیں بلوا سکتا۔ اگر آدمی انتقام اور غصے سے مغلوب ہوکر کسی کی غیبت کرنا یا حسد کی بنا پر کسی کو برا بھلا نہ کہنا چاہے‘ تو شیطان اس سے یہ کام زبردستی نہیں کرواسکتا۔ اسے صرف وسوسے ڈالنے کا اختیار حاصل ہے ۔ وہ دل میں خیال ڈال سکتا ہے ‘ برائی کی ترغیب دے سکتا ہے۔ لیکن اپنے ہاتھ ‘ پائوں یا زبان سے کسی برائی کا ارتکاب کرنا‘ یہ انسان کا ذاتی فعل ہے ۔ وہ اپنی آزاد مرضی سے کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ اگر وہ کوئی کام نہ کرنا چاہے تو کوئی اس سے زبردستی نہیں کرواسکتا ۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ محض لٹریچر کے مطالعے سے انسان کی تربیت ہوجائے گی اور وہ اچھا انسان بن جائے گا تو یہ بات درست نہیں ‘ اگرچہ لڑیچر کا مطالعہ بھی ضروری ہے ۔ لیکن تربیت کے لیے صرف لٹریچر کامطالعہ کافی نہ ہوگا ‘ جب تک آدمی اُس پر عمل کرنے کی خود کوشش نہ کرے ۔ اسی طرح موثر تقاریر اور تربیت گاہیں اور قرآن مجید کاپڑھنا بھی کافی نہ ہوگا ۔ یورپ کے بعض مفکرین نے قرآن کو پڑھنے‘ عربی جاننے اور تفسیریں پڑھنے میں عمر کھپا دی ‘بڑی شان دار کتابیں بھی لکھیں‘ لیکن ان کو ایمان کی دولت نصیب نہیں ہوئی اور نہ عمل کی توفیق ہی ملی۔ لہٰذا تربیت کے لیے جو چیز اہم ترین ہے وہ دراصل آدمی کا اپنا ارادہ اور کوشش ہے ۔

اگر اپنی اصلاح کا ارادہ ہی نہ ہوتو تربیت گاہیں ‘ دروسِ قرآن‘ یا لٹریچر ‘ کوئی بھی چیز فائدہ نہیں دے گی ۔ اگر ارادہ ہوگا اور اصلاح کی کوشش بھی ہوگی تو قرآن میں سے ہر چیز اسی طرح فائدہ دے گی جس طرح بیج اور زمین کو مناسب پانی ملے ‘ مناسب کھاد اور ادویات میسر آئیں اور مناسب دیکھ بھال ہو تو فصل لہلہا اٹھتی ہے اور کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ البتہ زمین کی زرخیزی و تیاری اور بیج کی فراہمی کسان کااپنا کا م ہے۔ اگر کوئی کسان اپنے کھیت سے غافل ہو اوروہ یہ چاہے کہ محض بارش برس جائے اور اس کی فصل تیار ہوجائے‘ یا کھاد ڈالنے سے ہی پیداوار حاصل ہوجائے تو یہ ناممکن ہے ۔ اسی طرح یہ سوچنا کہ محض درس و تقریر سننے اورلڑیچر کے مطالعے سے تربیت ہو جائے گی تو یہ بھی خام خیالی ہے ۔

لوگ شکایت کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ہے‘ انحطاط ہے ‘ معیار گر گیا ہے ‘ لٹریچر نہیں پڑھا جاتا ‘ لوگوں کے اندر عملی کمزوریاں ہیں‘ لہٰذا تربیتی پروگرام زیاہ ہونے چاہییں‘ تاکہ معیاری افراد تیار ہوسکیں اور صحیح نہج پرتربیت ہو۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ لٹریچر پڑھنا ضروری ہے ‘ قرآن مجید کا مطالعہ بھی ضروری ہے اورتربیت گاہیں بھی ضروری ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی مسئلے کااصل حل نہیں ہے ۔ تربیت کی بنیاد تو ایک فرد کی اپنی محنت ہے‘ اپنا ارداہ ہے اور اپنی کوشش ہے۔  یہی اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے ۔ اسی لیے نبی کریمؐنے فرمایا : کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّکُلُّکُمْ مَّسْئُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ، تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی۔

جو جس کا نگہبان ہے وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے ۔ سب سے بڑھ کر تو انسان کا اپنا نفس اور اس کی زندگی ہے جس کے لیے وہ جواب دہ ہے۔ اس وقت کی جواب دہی ہے جو تیزی سے گزرتا چلا جارہا ہے ۔ زندگی ایک نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اور جو برف کی طرح پگھل رہی ہے اور ہاتھ سے نکلی چلی جارہی ہے ۔ اس کے لیے انسان‘ خدا کے ہاں جواب دہ ہے ۔ سورۃ العصر میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

وَالْعَصْرِ o اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ o (العصر ۱۰۳:۲۱)

زمانے کی قسم‘ انسان درحقیقت خسارے میں ہے۔

وقت کس قدر تیزی سے گزر رہا ہے ‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر گزرنے والا لمحہ انسان کی عمر گھٹارہا ہے ۔ ہم رات کو سوتے ہیں اور صبح کو اٹھتے ہیں‘ لیکن ہماری زندگی کا ایک دن کم ہوچکا ہوتا ہے اور وہ کبھی دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے گا ۔ لہذا کامیاب وہ ہے جو زندگی کی قدر جانے اور آنے والے کل کے لیے آج سامان کرلے ۔ یہ قدر اسی کو ہوگی جسے جواب دہی کا احساس ہو ‘ جو اپنا تزکیہ کرے ‘ برائیوں کو دبائے اور بھلائیوں کو نشوونما دے‘ البتہ اس عمل کی بنیاد انسان کا اپنا ارادہ اور کوشش ہے ۔

وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَاسَعٰی (النجم ۵۳:۳۹)

اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے۔

انسان کی زندگی ‘ اس کی کھیتی ‘ اس کا کاروبار‘ اس کوبنانااور سنوارنا‘ اس میں نیک اعمال کے بیج بونا اور نیک اعمال کی کھیتی اگانا‘ یہ اس کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔ کسی دوسرے کے کرنے سے یہ نہیں ہوسکتا ۔ اگر کوئی نماز نہ پڑھے تو کوئی دوسرا اس کی جگہ نہ نماز پڑھ سکتا ہے اورنہ زبردستی اُسے نماز پڑھوا سکتا ہے ۔ اگر نماز میں اللہ کے حضور حاضری اور خشوع و خضوع سے گفتگو کا تصور آدمی خود نہ پیدا کرے تو کسی تقریر اور درس قرآن سے یہ پیدا نہیں ہوگا۔ یہ توممکن ہے کہ نماز بہتر بنانے پر کوئی تقریر سن کر ایک آدھ نماز بہتر پڑھ لی جائے لیکن اس کے بعد پھر توجہ بٹ جاتی ہے‘  بھول ہوجاتی ہے ۔ اس لیے کہ ارادے کی کمزوری ‘ غفلت اور بھول انسان کے مزاج کا حصہ اور فطری امر ہیں ۔ البتہ اگر یہ مرض ہے تو اس کی دوا بھی موجود ہے ۔ آدمی اس پر قابو پاسکتا ہے لیکن دوا تو استعمال کرنے سے ہی فائدہ دیتی ہے ۔ اگر دوا شیشی میں بھر کر اپنے پاس رکھ لی جائے اوریہ وعظ سنا اور کہا جائے کہ یہ دوا بڑی فائدہ مند ہے‘ تو اس سے مرض دور نہیں ہوگا‘ بلکہ اس کے لیے دوا استعمال کرنا ہوگی۔ اسی طرح اللہ کی یاد سے غفلت کا علاج ہوجاتا ہے‘ لیکن اگر اللہ کو یاد ہی نہ کیا جائے تو غفلت کیسے دور ہوسکتی ہے ؟ لہٰذا جو کچھ بھی تربیت ہوگی وہ اپنی کوشش سے ‘ اپنی محنت اور اپنے ارادے سے ہوگی نہ کہ محض وعظ و نصیحت یا تربیت گاہ میں شرکت سے ۔

ایک فرد کے نزدیک جس چیز کی جتنی قدروقیمت ہو تی ہے‘ وہ اس کے لیے اتنی ہی تگ و دو‘ کوشش اور محنت کرتا ہے۔ وہ اگر کوئی دکاندار ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ میں گھر بیٹھا رہوں‘ یا دعا کرتا رہوں‘ یا کسی بزرگ کی برکت ہوگی‘ یا میں تجارت کے فضائل پر اور دکان میں مال رکھنے کی اہمیت پر کوئی تقریر کروں گا تو اس سے مال فروخت ہوگا۔ دکان تو تب چلے گی جب سودا لایا جائے ‘ دکان میں رکھا جائے ‘ گاہک آئیں اور سودا بیچا جائے‘ تب نفع ہوگا ۔ دکان چلانے اور نفع کمانے کا اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔ زندگی بھی ایک دکان اور تجارت کی طرح ہے ۔ یہ جنت کو کمانے کی تجارت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا  ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍo  (الصف ۶۱:۱۰)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ میں بتائوں تم کو وہ تجارت جو تمھیں عذابِ الیم سے بچا دے؟

یہ تجارت ‘زندگی کو اللہ کی راہ میں کھپانے ‘جنت کمانے اور جہنم سے بچنے کی ہے۔ اگر کوئی یہ سوچے کہ یہ تجارت محض خواہش‘تمنا اور آرزو سے ہوجائے گی اور نفع حاصل ہو جائے گا‘ یا محض تقریر یا درس سننے سے ہوجائے گی تو ایسا نہیں ہوگا ‘ بلکہ فصل حاصل کرنے کے لیے جس طرح کھاد اور پانی ضروری ہے ‘اسی طرح تربیت کے لیے تقریر اور درس قرآن بھی اہم اور ضروری چیزیں ہیں ‘ لیکن اصل کام اپنا ارادہ اور کوشش ہے ۔

لہٰذا تربیت کے عمل میں سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ عمر‘ یہ زندگی‘ یہ جسم ‘ یہ جان ‘ اگر میں تاجر ہوں تو میر ی یہ دکان اور کاروبار اور اگر میں کسان ہوں تو میری یہ کھیتی‘ اس میں جو کچھ پیدا ہوگا ‘ جو فصل اُگے گی ‘ وہ میرے ارادے اور کوشش سے ہی اُگے گی۔

قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ :

وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعَیْھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَشْکُوْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۱۹)

اور جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے‘ اور ہو وہ مومن‘ تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہو گی۔

گویا جس نے یہ ارادہ کرلیا کہ مجھے آخرت کمانا ہے اور اس کے لیے محنت کی جیسا کہ محنت کرنی چاہیے اور ایمان کا بیج موجود ہو‘ اور عمل ہو تو اس کی کوشش کی پوری قدر دانی کی جائے گی۔

کون کیااعمال کرے گا‘ یاکتنے گناہ اس سے سرزد ہوں گے‘ یہ کوئی نہیں جانتا۔ آدمی سے گناہ بھی ہوں گے اور بہت سے نیک کام وہ نہیں کر پائے گا ۔ بہت سے درجات تک وہ نہیں پہنچ پائے گا اوربہت سے کام کرنا چاہے لیکن نہیں ہوپائیں گے ‘ لیکن جو نیک کام بھی وہ کرناچاہے گا اس کا اجر اسے مل کر رہے گا ۔

اللہ کو تو بس یہی مطلوب ہے کہ آدمی ارادہ کرے ‘ عزم کرے اور فیصلہ کرے کہ اسے آخرت کمانا ہے ‘ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے ‘ وہ اعمال اور وہ محنت کرنی ہے جس سے اسے یہ چیز حاصل ہوسکے اور پھر اپنی حد تک کوشش کرے جتنی اللہ نے اسے ہمت اور قوت دی ہے ۔ اس سے زیادہ کسی سے مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ یہ بات کہ اپنا کام خود کرنا ‘ اپنی ذمہ داری کو خود سنبھالنا‘ اپنی کھیتی اور اپنی دکان کی خود فکر کرنا‘ اس کو تیار کرنے اور چلانے کے لیے پوری محنت اور کوشش کرنا‘ ہر فرد کی اپنی ذمہ داری ہے۔ کوئی دوسرا یہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔ اگر اُس نے اِس راز کو پالیا‘ تو تربیت کا راستہ اس کے لیے کھل گیا ۔

جب تک آدمی اس انتظار میں رہے کہ کچھ بیساکھیاں مل جائیں جن کے سہارے وہ چل سکے ‘ تو ایسا شخص دوسروں کو مورد الزام ہی ٹھیراتا رہے گا کہ یہ نہیں ہورہا ‘ وہ نہیں ہورہا ‘ یا دوسرے ایسا نہیں کر رہے‘ وہ پروگرام نہیں ہورہا وغیرہ۔ اس لیے مجھ میں خامی ہے۔ ان میں سے کوئی عذر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

قرآن میں ہے کہ لوگ روزِ قیامت‘ اللہ تعالیٰ کے سامنے عذر تراشیں گے کہ یہ تو ہمارے بڑوں سے ‘ آباو اجداد سے ہوتا چلا آرہا تھا‘ ہم نے تو ان کی پیروی کی‘ لیکن اللہ تعالیٰ اس عذر کو بھی قبول نہیں کریں گے ۔ لوگ کہیں گے کہ یہ ہمارے سردار تھے ‘ پیشواتھے ‘ علما تھے ‘ لیڈر تھے ‘ ہم تو ان کی وجہ سے گمراہ ہوئے تھے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ اس عذر کو بھی قبول نہیں فرمائیں گے اور ان کو معاف نہیں کیا جائے گا ۔ دراصل ہر آدمی اپنے اعمال کے لیے خود ہی ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ قیامت کے روز شیطان بھی کھڑا ہوجائے گا اور کہے گا کہ اپنی برائی کے تم خود ذمہ دار ہو۔ میراکوئی قصور نہیں ۔ میر اتم پر کوئی زور نہیں تھا ۔ میں نے تو تمھیں محض ترغیب دی تھی‘ للچایا تھا‘ برائی کی طرف دعوت دی تھی اور تم نے میری دعوت خود قبول کی تھی۔

اِلاَّ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُوْا اَنْفُسَکُمْط (ابراھیم ۱۴:۲۲)

میراتم پر کوئی زور تو تھا نہیں ‘ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو‘ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔

گویا اگر تم بگڑ گئے‘ خرابی کا شکار ہوئے‘ اچھے انسان نہیں بنے‘ گناہ گار ٹھیرے تو دوسروں کو موردِ الزام مت ٹھیرائو‘ اس کے تم خود ہی ذمہ دار ہو۔

دراصل بنیادی ذمہ داری تو ہر شخص کی اپنی ہی ہے۔ ہر آدمی اللہ کے سامنے اکیلا حاضر ہوگا‘ اور وہ اکیلا ہی اپنے عمل کی جواب دہی کرے گا۔ اگر کوئی مجبو ر ہوگا‘ یا معقول عذر ہوگا تو   اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے گا۔ البتہ کسی دوسرے پر الزام لگا کر اپنی ذمہ داری سے بر ی نہیں ہوا جاسکتا۔ یہ بات بالکل واضح ہے اور جو آدمی اس بنیادی اصول سے ہی واقف نہ ہو‘ وہ صحیح معنوں میں اپنی تربیت نہیں کرسکتا۔

تربیت اپنے بس میں ھے!

دوسرا اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بھی انسان کو اس سے زیادہ مکلف نہیں بنایا‘ یا ذمہ دار نہیں ٹھیرایا جتنی اس کی استطاعت ہو ۔ اس نے انسان پرایسا کوئی بوجھ نہیںڈالا جو وہ نہ اٹھا سکتا ہو۔

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَا لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اَکْتَسَبَتْ (البقرہ ۲: ۲۸۶)

اللہ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔

ہر ایک کے لیے اُس کے اچھے اور بُرے عمل کے مطابق ہی بدلہ ہے۔ گویا اگر ایک طرف خوشخبری ہے تو دوسری طرف بڑی سخت گرفت اور پکڑ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے مجھے کچھ کرنے کا جو موقع دیا ہے ‘ اس کا میں خود ذمہ دار ہوں‘ اور جس برائی کا میں مرتکب ہوا‘ اس کا بھی میں خود ہی ذمہ دار ہوں گا کوئی دوسرا ذمہ دار نہیں ہے ۔

جب یہ آیت نازل ہوئی :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo (اٰل عمرٰن ۳:۱۰۲)

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ‘ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔

اس پر صحابہ کرامؓ کانپ اٹھے اور لرز کر رہ گئے کہ کون ہے جو اللہ سے ویسا ہی تقویٰ اختیار کرے جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اللہ سے تقویٰ کرنے کا تو کوئی حق ادا نہیں کرسکتا ۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی:

فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (التغابن ۶۴:۱۶)

جہاں تک تمھارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔

یعنی جتنی تمھاری استطاعت ہے اتنا اللہ سے تقویٰ اختیار کرو تو انھیں اطمینان ہو ا اور ان کی جان میں جان آئی۔ لہٰذا کون کیا کرسکتا ہے ‘ یا اسے کیا کرنا چاہیے ‘ اس حوالے سے بہت زیادہ سوچنے یا کسی ذہنی الجھن کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں‘ بلکہ آدمی جس قدر بھرپور محنت کر سکتا ہے وہ کرنی چاہیے۔ اگر غلطی ہوجائے یا گناہ سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرناچاہیے اور پھر اس کی اطاعت و فرماں برداری کی راہ پر لگ جانا چاہیے۔ اسلام میں مایوسی کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کسی پر اُس کی ہمت و استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اگر کوئی شخص کوئی کام نہیں کرسکے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ کوئی مواخذہ نہیں کرے گا لیکن یہ بات خوب سوچ سمجھ کر کہنی چاہیے کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا ‘ یا اس ذمہ داری کو نہیں اٹھا سکتا ۔ اس لیے کہ یہ بات ‘ یا یہ عذر کسی ناظم‘ امیر‘ ذمہ دار‘ دوست یا محض اجتماع میں نہیں رکھنا ہے‘ بلکہ اس کے سامنے پیش کرنا ہے جو انسان کے اندر اور باہر سے خوب واقف ہے۔ لہٰذا اس موقع پر محض یہ نہ خیال کیا جائے کہ میں اپنے جیسے انسانوں کو مطمئن کررہا ہوں‘ بلکہ یہ سوچا جائے کہ ہم اس ذات کو جواب دہ ہیں جو دلوں کا حال جانتا ہے‘ جو سب سے واقف ہے‘ جو بخوبی جانتا ہے کہ کون کیا کرسکتا ہے اورکیا نہیں کرسکتا۔ لہٰذا محض یہ کہنا کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا‘ یا وقت نہیں ملتا‘ یہ عذر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

اللہ نے ہر ایک پر وہی ذمہ داری ڈالی ہے جو وہ اٹھا سکتا ہے ۔ اس لیے اس نے ہر مسلمان پر جو فرائض عائد کیے ہیں ‘ وہ کسی انسان کے بس سے باہر نہیں۔ اگر کوئی معاملہ اس کے بس میں نہ ہو تو شریعت میں اس کے لیے چھوٹ موجود ہے ۔ اگر کوئی آدمی بے ہوش ہوجائے تو نماز کا کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ کوئی بیمار ہو جائے تو کھڑے ہو کر پڑھنے کی کوئی ذمہ داری اس پر نہیں ہے ‘ اگر پانی نہ ملے تو تیمم کر کے پڑھے ۔ اگر کوئی پاگل ہے تو اس سے کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ غرض جہاں بھی کوئی کام کسی کے بس میں نہ ہو توشریعت اس کے لیے راستہ کھول دیتی ہے‘ اور جو ممکن ہے‘ اختیار سے باہر نہیں‘ اس کے لیے کوئی عذر قابلِ قبول نہیں۔

ہر آدمی نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ فجر میں میری آنکھ نہیں کھلتی تو یہ بھی کوئی معقول عذر نہیں۔ ہر آدمی اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر کوئی مجبوری آن پڑے یا  ہوائی جہاز یا ٹرین میں سفر کرنا ہو تو آنکھ ضرور کھل جاتی ہے ۔ اگر کوئی حادثہ پیش آجائے‘ یا بچہ بیمار ہو جائے تو رات بھر آنکھ نہیں لگتی۔ لہٰذا اللہ کے ہاں توکوئی ایسا عذر پیش نہیں کیا جاسکتا جو معقول نہ ہو ۔ اصل بات یہ جان لینا ہے کہ جو کام بھی اللہ نے مجھے کرنے کو کہا ہے‘ یہ بالکل میرے بس میں ہے‘ میرے اختیار میں ہے‘ اور جو کام میرے اختیار میں نہیں ہیں‘ ان کے لیے کوئی مطالبہ بھی نہیں ہے۔

نماز پڑھنا آدمی کے اختیار میں ہے‘ اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی۔ نماز کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ نماز کے اندر خشوع ہو‘ اور اس کے لیے کوشش کرنا بندے کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا وہ یہ پوچھے گا کہ تم نے نماز میںخشوع پیدا کرنے اور اس کو بہتر بنانے کے لیے کیا کوشش کی‘ لیکن نماز میں کتنا خشوع پیدا ہوگایہ بندے کے بس میں نہیں ہے ۔ آدمی کا دل کبھی اس کے اختیار میں ہوتا ہے اور کبھی نہیں ۔ کئی قسم کے خیالات اور وسوسے دل کو غافل کر دیتے ہیں۔ دل پر انسان کو مکمل اختیار نہیں دیا گیا ۔ اپنے آپ کو متوجہ رکھنا تو انسان کے اختیار میں ہے لیکن دل کی کیفیت ایک سی رہے‘ یہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔ لہٰذا جو کام آدمی کے بس میں ہو‘ وہ کام کرنا اس کی ذمہ داری ہے‘ اور وہ اس کا مکلف ہے۔

اسی طرح ایک داعی کی حیثیت سے دوسروں تک بات پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے حتی المقدور کوشش کرنا‘ ذرائع و وسائل اختیار کرنا ہمارا فرض ہے۔ لیکن یہ بات سوچنا کہ اس سب کے باوجود لوگ لازماً ہماری بات مان لیں تو اس کے ہم ذمہ دار نہیں ٹھیرائے گئے۔ البتہ اپنی بیوی بچوں کو نیکی کی تلقین کرنا اورترغیب دینا ‘ اپنے دوستوں کو نیکی کی دعوت دینا ‘یہ تو ہمارے اختیار میں ہے اور اس کے لیے ہم سے پرسش ہوگی‘ مواخذہ ہوگا۔ اس کے بعد اگر کوئی بات نہ مانے اور لوگ نہ سنیں‘ یا سنی ان سنی کردیں تو اس پر کوئی جواب دہی نہیں ہے ۔ اگر کوئی ہماری بات نہ مانے تو اس پر ہمارے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی اور نہ کوئی مواخذہ ہوگا ۔ اصل بات جو ہمارے اختیار اور ہمارے بس میں ہے ‘ وہ ہے کام کرنا‘یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ دوسرا بڑا اہم اصول ہے جو تربیت کے ضمن میں ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے ۔

 تربیت‘ عمل سے

تیسرا اصول یہ ہے کہ تربیت عمل سے ہوتی ہے ۔

کوئی کام خواہ کتنا ہی چھوٹا یا معمولی ہو‘ وہ کرنا چاہیے ‘ چاہے تھوڑا ہی کیا جائے۔ اگر ہمارے عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی‘ کوئی نیا عمل نہیں شروع کیا‘ کسی پرانے عمل کو بہتر نہیں بنایا‘ کسی برائی کونہیں چھوڑا‘ تو اس سے ایک فرد کی تربیت میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

عمل خواہ تھوڑا کیا جائے لیکن باقاعدگی سے کیا جائے ‘ یہی تربیت کی بنیادہے ۔ ضروری ہے کہ کچھ وقت نکال کر ہم اپنا جائزہ لیں۔ اپنی پوری زندگی پر ایک نظر ڈالیں۔ آپ ۱۵ سال کے ہوں یا ۶۰ سال کے‘ آپ کے سامنے اپنی پوری زندگی موجود ہے۔

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌo (القیمۃ ۷۵:۱۴)

انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے۔

یعنی ہر انسان خود اپنے آپ سے بخوبی واقف ہے۔ کسی کو باہر سے وعظ و نصیحت کی ضرورت نہیں ہے۔

پھر یہ دیکھیے کہ اللہ کے حقوق و معاملات اور اللہ کے بندوں کے معاملات میں آپ نے کیا کیا خرابیاں کی ہیں۔ اس کے بعد استغفار کیجیے اور گناہوں سے توبہ کیجیے‘ اور کوشش کرکے   غلط باتوں کو ترک کردیجیے اوراچھی باتوں کو اپنا لیجیے۔

اگر آپ فجر کی نماز مسجد میں جا کر باجماعت اور باقاعدگی سے نہیں پڑھتے تو آپ یہ فیصلہ کریں کہ میں کل سے یہ کام کروں گا۔ ممکن ہے کئی دن ایسے آئیں کہ آپ یہ کام نہ کرسکیں۔ لیکن جس دن نہ کرسکیں ‘ اسی دن پھر استغفار کریں اورنئے سرے سے عزم کریں کہ اب کروں گا۔ اگر سوبار بھی یہ نوبت آجائے تو کوئی پروا نہیں ۔ آپ پیچھے پڑے رہیں کہ مجھے اس کام کو کر کے ہی چھوڑنا ہے‘ تو یہ کام ہوجائے گا۔

نماز میں آپ نیت باندھتے ہیں اور نیت باندھ کر خیالوں ہی خیالوں میں کہیں اور چلے جاتے ہیں اور یہ خیال ہی نہیں آتا کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہوں ‘ اور کس سے بات کررہا ہوں ‘ اور نماز کی صورت میں اللہ نے مجھے جو کچھ عطا کیا ہے وہ کیا ہے۔ حالانکہ اللہ نے آپ کی تربیت کے لیے‘ پانچ وقت کی نماز کی صورت میں‘ ایک ایسا نسخہ آپ کے ہاتھ میں تھما دیا ہے‘ اگر آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوجائیں اور وہ ساری چیزیں آپ دوبارہ تازہ کرلیں جو آپ نماز میں پڑھتے اور کہتے ہیں‘ تو یہی تربیت کے لیے کافی ہے۔ حدیث میں ہے کہ اگر کسی آدمی کے دروازے پر نہر بہ رہی ہو اور وہ پانچ وقت اس میں غسل کرے تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟ کیا وہ پاک صاف نہیں ہوجائے گا؟ لیکن ہم جیسے اس نہر میں جاتے ہیں ویسے ہی اس سے واپس آجاتے ہیں۔ وہ ساری گندگیاں جو دل و دماغ کو یا روح اور اخلاق کو آلودہ کیے ہوئے ہیں‘ ویسی کی ویسی ہی واپس آجاتی ہیں۔

نماز اس طرح پڑھیے گویا اللہ تعالیٰ سے بات چیت ہو رہی ہو اور یہ آخری نماز ہو۔ یہ بھی طے کر لیجیے کہ نماز میں جو کچھ پڑھوں گا‘ سمجھ کر پڑھوں گا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور دل میں ترجمہ بھی کرتا رہوں گا۔ اگر آپ اس کی مشق کریں اور عادت ڈالیں کہ جو کلمات عربی میں زبان سے نکلیں‘ دل ہی دل میں اور جی ہی جی میں اس کا ترجمہ کرلیں‘ یعنی زبان سے تو کہیے الحمدللہ    رب العالمین‘ لیکن دل میں کہیے کہ ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس سے آپ کی توجہ اِدھر اُدھر نہ بھٹکے گی۔ اس میں بھی شیطان نقب لگائے گا‘ چوری کرے گا‘  ڈاکا ڈالے گا‘ ذہن میں بار بار مختلف خیال لائے گا‘ ہر بھُولی بسری چیز یاد دلائے گا۔ آپ توجہ سے اس مشق اور کوشش میں لگے رہیں گے تو بالآخر کامیاب ہوں گے ۔ خشوع و خضوع کی کیفیت بڑھے گی اور شیطان پسپائی پر مجبور ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر جھوٹ بولا اور وعدہ خلافی کی ہے‘ یا کسی کا حق مارا ہوا ہے‘ تو ان سب کی اصلاح کی کوشش کریں۔ غرض آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں‘ اس کا آغاز کردیں‘ اس لیے کہ عمل سے ہی تربیت ہوتی ہے۔

اگر آپ پہلوان بننا چاہتے ہیں تو آپ کو آہستہ آہستہ ورزش کرنا پڑتی ہے ۔ جسم ورزش کا عادی ہوجاتا ہے ۔ ریاضت اورمجاہدہ اسی کا نام ہے ۔ کوئی چیز آپ سیکھنا چاہتے ہیں یا تقریر کرنا چاہتے ہیں تو آپ آہستہ آہستہ بولنا شروع کریں گے تو تقریر کرنا آئے گی۔ اگر آپ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھنا شروع کریں گے تو تھوڑا بہت لکھنا آئے گا ۔ اچانک نہیں لکھنا شروع کردیں گے۔ یہی معاملہ ایمان اور روح کی تربیت اور تزکیے کا ہے ۔ آہستہ آہستہ آپ سیکھنا شروع کریں گے‘ عمل شروع کریں گے‘ عادت پڑے گی‘ مشق ہوگی اور اس طرح تربیت ہوتی چلی جائے گی ۔

ماحول سے سیکہنا

تربیت کا ایک ذریعہ اپنے ماحول سے سیکھنا‘ ایک دوسرے سے سیکھنا اور ایک دوسرے کی تربیت کرنا ہے۔ یہ بھی ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے ۔

انسان جس ماحول میں رہتا ہے وہاں بعض باتیں اچھی لگتی ہیں ‘ دل کو بھاتی اور موہ لیتی ہیں اوربعض باتیں ناگوار اور باعث اذیت ۔ ایسے لوگ ملتے ہیں جو اچھے ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو اچھے نہیں ہوتے ۔ ان میں سے کسی سے دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ درگزر کریں اور معافی کارویہ اختیار کریں ۔ کسی کی خرابی دیکھیں‘ اگر ممکن ہو تو اس کو خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ بتا دیں ‘ توجہ دلائیں اور اس کی اصلاح کی کوشش کریں ۔ اس کو پھیلاتے نہ پھریں ۔ کسی ایک فرد کے اندر خرابی دیکھ کر مجموعی رائے نہ بنا لیں اور یہ فتویٰ صادر نہ کردیں کہ یہاں تو سب لوگ ایسے ہی ہیں۔

ہر جگہ ‘ ہر بستی میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے بھی ۔ کوئی انسان کسی پہلو سے مثالی نہیں ہوتا۔ انسان خیروشر کا پتلا ہے۔ کسی انسان کی زندگی اس پہلو سے خالی نہیں ہوتی ۔ اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو اس میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ ہرانسانی بستی ایسی ہی ہوتی ہے‘ اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں اور بری باتیں بھی۔ ہمیں اچھی باتوں سے اثر قبول کرناچاہیے اور بری باتوں کو نظر انداز کردینا چاہیے ۔ جو باتیں آپ کو بری لگتی ہیں کم از کم خود ان کا ارتکاب نہ کریں۔ یہ بھی تربیت کا ذریعہ ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ ماحول اور گرد ونواح میں پائے جانے والے لوگ کس طرح آپ کی تربیت کرتے چلے جاتے ہیں۔

یہ چند بنیادی اصول ہیں اس کے علاوہ مزید دو اہم باتیں تربیت میں اپنی جگہ بہت اہمیت کی حامل ہیں۔

عمل کی بنیاد اخلاص

اعمال تو بہت سارے ہو سکتے ہیں لیکن جتنا آپ کرسکیں‘ اس کو غنیمت سمجھیے۔ اللہ نے جتنی توفیق دی ہے ‘ اس پر اس کا شکر ادا کیجیے۔ آپ کو سب سے بڑھ کر فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ جو عمل بھی کریں‘ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اصل میں یہ اخلاص ہی ہے جس سے اعمال میں اللہ کا رنگ پیدا ہوتا ہے‘ وزن پیدا ہوتا ہے اور اعمال کا زندگی پر اثر پڑتا ہے۔

وَمَا اُمِرُوْا اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَائَ (البینۃ ۹۸:۵)

یعنی اللہ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی بندگی کریں ‘اس کے لیے دین کو خالص کر کے اور اس کے لیے یکسو ہو کر۔

گویا اپنا قبلہ‘ اپنا محبوب اورمطلوب صرف اللہ کو بنایا جائے۔ ہر عمل ا س کے لیے ہو۔ اگر ہم نماز پڑھیں تو اس کے لیے ‘ تجارت یا نوکری کریں تو اس کے لیے‘ اجتماع کریں تو اس کے لیے‘ دعوت کا کام کریں تو صرف اس کے لیے۔ جتنا آپ اس پہلو کو سامنے رکھیں گے‘ اور اس میں اخلاص پیداکریں گے‘ اتنا ہی آپ کے اعمال ‘اللہ کے ہاں وزنی قرار پائیں گے اور قبول ہوں گے‘ اورجتنا آپ اس کے بغیر عمل کریں گے اُسی قدر ہی اعمال بے وزن اور خیروبرکت سے محروم ہوں گے۔ عمل اگر اللہ کے لیے خالص نہیں ہے تو خواہ نماز ہو یا تعلیم قرآن یا انفاق‘ حتیٰ کہ آدمی جان بھی قربان کر دے‘ لیکن یہ اعمال اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوں گے۔ لہٰذا جو اعمال لوگ دکھاوے کے لیے کرتے ہیں وہ قبول نہیں ہوتے۔ اللہ کے ہاں صرف وہی عمل قبول ہوگا جو خالص اُسی کے لیے ہو۔

بظاہر یہ معمولی سی بات ہے کہ ہر کام کو کرتے ہوئے ‘اپنے ذہن میں اس بات کو تازہ کر لیا جائے کہ میں یہ کام اللہ کے لیے کررہاہوں لیکن اس سے اخلاصِ نیت مستحضر ہوجاتا ہے۔ کسی سے نیکی کریں یا احسان‘ کسی کو ہدیہ کریں‘ بیوی کے ساتھ اچھی بات کریں یا بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں ‘ ان کی تربیت کریں‘ غرض جو کام بھی کریں اس میں اس پہلو کو‘ اگر پیش نظر رکھیں گے تو وہ آپ کے لیے باعث اجرو ثواب ہوگا۔ حدیث میں آتا ہے کہ آدمی جو لقمہ اپنے منہ میں رکھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور جو اپنی بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے‘ اور آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرتا ہے اس پر بھی اجر ملے گا۔ صحابہؓ کو اس پر تعجب ہوا کہ یہ کیسے ہوگا کہ ایسا دنیاوی کام اور اس پر بھی اجر ملے گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص غلط طریقے سے اپنی جنسی خواہش پوری کرے گا تو کیا اس کو عذاب نہیں ہوگا؟ صحابہؓ نے کہا کہ ہاں ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا اور اگر وہ صحیح طریقے سے اس خواہش کی تکمیل کرے توکیا اسے اجر نہیں ملنا چاہیے؟

اس طرح ہم جو بھی کام کریں ‘ اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں تو پوری زندگی عبادت بن جائے گی اور ہر کام نیکی تصور ہوگا ۔ یہ سب خلوص نیت اور اخلاص کا نتیجہ ہوگا۔

حقوق اورمعاملات پر نظر

دوسری بات حقوق العباد سے متعلق ہے ۔

اسلام میںبندوں کے حقوق اوربندوں کے معاملات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اللہ نے ہر انسان کی جان ‘ اس کا مال اور اس کی عزت‘ تینوں کو حرام قرار دیا ہے۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی ہوگا جو کسی کی جان لینا چاہے گا‘ لیکن مال کے معاملے میں لوگ بڑے بے احتیاط ہوتے ہیں۔ کسی کی مرضی کے بغیر اس کا مال لینا‘ حرام ہے ۔ کسی کا حق مار لینا یہ اس سے بھی بڑا حرام کام ہے اوریہ ایسا جرم ہے جس کی کوئی تلافی نہیں ہے‘ الایہ کہ اس کا بدلہ دیا جائے۔ شراب پی‘ تو یہ ایسا گناہ ہے کہ اللہ‘ استغفار سے شاید معاف کردے لیکن اگر کسی کا حق مارلیا‘ کسی کا مال ناجائز طور پر کھا لیا‘ تو جب تک اس کا بدلہ نہ دے دیا جائے‘ اس کو معاف نہ کروائیں ‘ کوئی معافی نہیں ہے ۔ ہم لوگ سور کا گوشت نہیں کھاتے کہ حرام ہے ۔ حالانکہ سور کا گوشت اگر کھالیں تو شاید اللہ تعالیٰ استغفار سے معاف فرمادے۔ اس لیے کہ آپ نے صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے۔ لیکن اگر آپ نے کسی کی عزت پر حملہ کیا‘ کسی کی غیبت کی‘ کسی کو گالی دی‘ کسی کا تمسخر اڑایا ‘ کسی کو قتل کر دیا‘ تو یہ اس سے بڑے گناہ ہیں جتنا کہ سور کا گوشت کھانا ۔ یہ وہ حرام کام ہیں کہ جن میں اگر آپ ملوث ہوں ‘ تو جب تک آپ متاثرہ فریق سے معاف نہ کروالیں‘ یا آپ اللہ کو اس قدر محبوب ہوں کہ وہ آپ کی طرف سے کچھ دے دلا کر اس بندے کو راضی کر لے ‘ تو وہ الگ معاملہ ہے ( کیا اتنے نیک ہیں ہم!)ورنہ قاعدہ اور اصول تو یہی ہے کہ یا تو آپ اس کومعاف کروائیں یا پھر قصاص دیں ‘ اس کا بدلہ دیں۔

بندوں کے حقوق اورمعاملات کی جب اس قدر اہمیت ہے توپھر اس کا ناگزیر تقاضا ہے کہ ہم کسی کو ایذا نہ پہنچائیں ‘ تکلیف نہ دیں ۔ بیوی بچے ہوں یا دوست احباب ‘ یا کوئی اور شخص جو ساتھ آکر بیٹھ جائے‘ ہماری کوشش ہو نی چاہیے کہ کسی کو بھی ہم سے تکلیف نہ پہنچے۔ ایک پڑوسی تو وہ ہے جس کا دروازہ ہمارے گھر کے دروازے کے ساتھ ملا ہوا ہے‘ ایک پڑوسی وہ ہے جو ہمارا رشتے دار بھی ہے‘ لیکن ایک پڑوسی وہ ہے جو پہلو میں آکر چند لمحوں کے لیے بیٹھ جائے۔ ہر پڑوسی کا ہم پر حق ہے۔ جو ساتھ بیٹھا ہوا ہے اس کابھی حق ہے‘ جو کمرے میں ساتھ رہتا ہے اس کابھی آپ پر حق ہے ‘ اور ان سب حقوق کا قرآن مجید میں ذکر موجود ہے۔ بیوی بچے بھی پڑوسی ہیں ‘ ایک لحاظ سے ان کا بھی حق ہے ۔ لہٰذا بندوں کے یہ حقوق کہ ہم کسی کو ایذا نہ پہنچائیں‘ کسی کا حق نہ ماریں ‘ کسی کی عزت پر حملہ نہ کریں‘ زبان کو پاک صاف رکھیں‘ بُرے انداز میں کسی کا ذکر نہ کریں‘ کسی کا مذاق نہ اڑائیں ‘کو ئی ایسی بات نہ کریں جس سے کسی کو تکلیف پہنچے‘ دل آزاری ہو‘ جذبات کو ٹھیس پہنچے وغیرہ وغیرہ‘ ہماری خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔

یہ دو بڑی اہم باتیں ہیں کہ اللہ کی مرضی و خوشنودی کے لیے کام کرنا ‘ اور بندوں کا حق نہ مارنا اور ان کو تکلیف نہ پہنچانا۔ انھی دو اصولوں کی بنیاد پر آپ عمل کرتے جائیں تو ان شاء اللہ آپ کو اپنی تربیت کے لیے بڑی مدد ملے گی۔

تربیت کے ضمن میں یہ چند بنیادی باتیں ہیں۔ ہم انھیں یاد رکھیں اور یہ اہم ترین اصول ہمیشہ پیش نظر رہے کہ ہر فرد اپنی تربیت کا خود ہی ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ درس قرآن‘ تقاریر‘ تربیت گاہیں‘ دوست احباب‘ مطالعہ لٹریچر‘ گردونواح کا ماحول اور افراد تب ہی معاون و مددگار اور مؤثر ہوں گے جب ہم ارادہ اور عزم مصمم کرلیں کہ ہمیں اپنی تربیت آپ کرنا ہے‘ اور پھر اس کے لیے عمل شروع کردیں خواہ وہ کتنا ہی معمولی ہو لیکن ہو مسلسل۔ یہی تربیت کی بنیاد ہے۔

(کیسٹ سے تدوین : امجد عباسی)

اللہ کی بندگی کی روح یہ ہے کہ ہم صرف اسی کے محتاج اور فقیر بن جائیں۔ محتاجی اور فقر کے سوا انسانی زندگی کی کوئی اور تعبیرممکن نہیں ہے۔ جتنا محتاج‘ جتنا فقیر‘ جتنا بے بس‘ جتنا لاچار اور بے کس انسان ہے‘ اتنی شاید ہی کوئی دوسری مخلوق ہو۔

ایک بچے کے آنکھ کھولتے ہی اگر دو انسان اس کی خبرگیری کے لیے‘ اللہ تعالیٰ نے متعین نہ کر دیے ہوں‘ تو انسان کا بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ قدم قدم پر‘ لمحے لمحے پر‘ ہر جگہ انسان‘ کائنات کی قوتوں کے آگے‘ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اگر زلزلہ آجائے‘ آتش فشاں پھٹ جائے‘ سیلاب آجائے‘ آندھی اور طوفان آجائے‘ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ جسم کے اندر اگر ایک خلیے کا مزاج بگڑ جائے تو کینسر کا مرض موت کا پروانہ لے کر آجاتا ہے‘ اورکوئی علاج کارگر نہیں ہوتا۔ معمولی زکام بھی ہوجائے تو اس کی دوا ابھی تک انسان کے پاس نہیں ہے۔ وہ اپنے نزلے‘ زکام کا علاج نہیں کر سکتا ہے۔ اگردل دھڑکنا بند ہو جائے تو وہ اس کی دھڑکن دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ انسانی زندگی کو وہ اگر لوٹانا بھی چاہے تو نہیں لوٹا سکتا۔ اُس کا اِس پر بس نہیں چلتا۔

گویا ہر طرف انسان کی حاجت مندی‘ محتاجی اور فقیری ہے جو اس کی زندگی میں رچی بسی ہے۔ اسی محتاجی اور فقیری کا نتیجہ ہے کہ انسانی زندگی میں سب سے غالب اور نمایاں پہلو اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ وہ اپنے آپ کو نقصان سے بچائے۔ اس وجہ سے جس سے بھی نقصان پہنچتا ہے اور جس سے بھی فائدہ ملنے کی امید ہوتی ہے‘ وہ اس سے نسبت اور تعلق قائم کرلیتا ہے۔ انسانی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہی پہلو غالب نظر آئے گا۔ کہیں وہ کسی غیرمعمولی طاقت اور قوت کے خوف‘ ڈر اور ہیبت سے اس کے آگے جھک جاتا ہے‘ ماتھا ٹیک دیتا ہے اور اس کو خدائی کا درجہ دے کر بندگی کرتا ہے اور پناہ مانگتا ہے۔ وہ اپنی حاجات ‘ ضروریات‘ امیدوں اور تمنائوں کے برآنے کے لیے ہر ایسی ہستی اور قوت کے آگے ہاتھ پھیلا دیتا ہے‘ اُس کے در پہ جھک جاتا ہے‘ سجدے میں گرجاتا ہے‘ گڑگڑاتا اور دعائیں مانگتا ہے جس سے اسے حاجت روائی‘ مشکل کشائی‘ مرادوں کے برآنے اور دعائوں کی قبولیت اور امن و تحفظ کی امید و توقع ہوتی ہے۔ اس سب کے پیچھے بنیادی سوچ یہی ہوتی ہے۔ پوجا و پرستش اور عبادت و بندگی‘ اور محتاجی وفقر‘ اور مذاہب و ادیان کی تشکیل میں بھی یہی فلسفہ و فکر کارفرما ہے۔

بندگی کی روح اور حقیقت

اللہ کی بندگی کی روح اور حقیقت یہ ہے کہ فقر‘ حاجت روی اور محتاجی کا یہ تعلق صرف ایک ذات سے‘ یعنی اللہ سے ہو۔ انسان صرف اُسی کی بندگی کرے نہ کہ کسی اور کی۔ زمین کے زلزلے سے گھبرا کر وہ زمین کی بندگی نہ کرے‘ نہ سورج‘ چاند‘ ستاروں کی پرستش کرے‘ نہ ہوائوں اور بارش کی اور نہ اپنی یا اپنے جیسے کسی انسان کی پوجا کرے‘ بلکہ وہ یہ سمجھے کہ جو کچھ بھی مل سکتا ہے صرف اللہ ہی سے مل سکتا ہے اور سارے اختیارات صرف اُسی کے پاس ہیں۔ ہر چیز اس کے خزانے میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس ذرہ برابر بھی اختیار نہیں ہے‘ نہ کچھ دینے کے لیے اور نہ کچھ چھیننے کے لیے۔ زندگی و موت‘ نفع و نقصان اور خیروشر‘ سب اس کے اختیار اور قبضۂ قدرت میں ہے۔جس نے اس بات کو سمجھ لیا اوراس پر یقین کر لیا‘ اور پھر اس پر اپنی زندگی کی تعمیرکی‘ صرف اُسی کی بندگی مکمل ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دعا کے انداز میں اپنے ساتھ تعلق رکھنے کی تعلیم دی اور اس تعلیم کو بار بار دہرانے کی بھی ہدایت کی اور حکم دیا کہ یوں کہو: اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo (الفاتحہ ۱:۴) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں‘‘۔ دراصل یہی بندگی کی روح اور بندگی کی معراج ہے۔

سورۃ الفاتحہ کی اس آیت کی تشریح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اَلدُّعَائُ ھُوَ العِبَادَۃُ ،’’مانگنا ہی تو بندگی ہے‘‘۔ آپؐ نے مزید فرمایا: اَلدُّعَائُ مُخُّ العِبَادَۃِ،یعنی مانگنا عبادت کا مغز‘ اس کی روح اور اس کا جوہر ہے۔ لہٰذا جو اللہ کا نام لے‘ اس کا جھنڈا اٹھائے اور طلب کی نسبت اللہ کے علاوہ دوسروں سے بھی رکھے تووہ توحید کے راستے میں نقص‘ کمزوری اور ضعف کا شکار ہے۔ توحید کے مطابق اللہ کی بندگی کامل اس کی ہے جو خوف اور طمع کی نسبت صرف اللہ سے رکھے۔ ڈرے تو صرف اُسی سے ڈرے‘ اور اگر کوئی امید ہو تو صرف اسی سے ہو۔

یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا (السجدہ ۱۶:۳۲)

اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں۔

گویا وہ خوف اور ڈر سے‘ لالچ اور طمع سے اور امید و حاجت روی سے اگر مانگتے ہیں یا پکارتے ہیں تو صرف اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے وہ سارے انعامات ہیں جو نہ انسان نے دیکھے‘ نہ سنے اور نہ وہ تصور کرسکتا ہے۔ اسلام میں بندگی ومحتاجی اور فقر کی یہی روح اور حقیقت ہے۔

اللہ کی بندگی کی روح یہی ہے کہ ہم اُس کے آگے ہاتھ پھیلائیں‘ اسی کے در پر بھکاری بن کر جائیں‘ اسی سے مانگیں‘ اور یہ سمجھیں کہ جو کچھ مل سکتا ہے صرف اُسی سے مل سکتا ہے‘ اور اگر کوئی چھین سکتا ہے تو صرف وہی چھین سکتا ہے۔

ایک طویل حدیث قدسی میں جو حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت کی گئی ہے‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: تم سب بھوکے ہو‘ بھوکے رہو گے سوائے اس کے جس کو میں کھانا کھلائوں۔ تم سب بے لباس رہو گے سوائے اس کے جس کو میں کپڑا پہنائوں۔ تم سب گمراہ رہو گے سوائے اس کے جس کو میں ہدایت دوں۔ تم دن رات گناہ کرتے ہو‘ اور مجھ سے معافی مانگتے ہو تو میں معاف کر دیتا ہوں۔پھر فرمایا کہ تم مجھ سے ہدایت مانگو۔

گویا محتاجی صرف دنیا کی چیزوں کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ محتاجی ہر چیزکے لیے ہے۔ زندگی کیسے بسر کریں؟ سیاست کیسے ہو؟ معیشت کیسی ہو؟ یہ بھی محتاجی میں شامل ہے۔ یہ سمجھنا کہ یہ رہنمائی کہیں اور سے مل سکتی ہے‘ یہ بھی خلافِ توحید ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ: تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمھیں ہدایت دوں گا‘مجھ سے کھانا مانگو میں تمھیں کھلائوں گا‘ مجھ سے کپڑا مانگو میں تمھیں پہنائوں گا‘ مجھ سے معافی مانگو میں تمھیں معاف کر دوں گا۔

پھر فرمایا:اس سے میری کوئی غرض نہیں ہے۔ ’’سارے انسان‘ تمھارے پہلے ‘ اور بعد میں آنے والے جِن اور مخلوق سب مل کر انتہائی متقی ہوجائیں تو میری خدائی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اگر سب کے سب مل کربدترین نافرمان ہوجائیں‘ تب بھی میری خدائی میں کوئی کمی نہیں آئے گی‘ اور سب کے سب کسی میدان میں جمع ہو کے جو مانگنا ہے وہ مانگ لیں‘ جو دل میں آئے مانگ لیں‘ اور میں وہ سب دے دوں تو میرے خزانوں میں اس سے زیادہ کمی نہیں ہوگی کہ سوئی سمندر میں ڈال کر نکال لی جائے (تو اس کے سرے پر جو پانی لگا رہ جاتا ہے‘ اس کے برابر) اے میرے بندو! تم مجھ کو چھوڑ کر کس کے پاس جاتے ہو! (مشکوٰۃ المصابیح‘ باب الاستغفار والتوبہ)

وہ ہمیں بلاتا ہے‘ پکارتا ہے۔ غرض تو ہماری ہے‘ محتاج توہم ہیں وہ توغنی ہے‘ ہم فقیر ہیں۔ اگر اسے خدا کی شان میں گستاخی نہ سمجھا جائے تو وہ ہم کو ایسے پکارتا ہے اوربار بار پکارتا ہے کہ آئو‘ مجھ سے مانگو‘ نعوذ باللہ گویا وہ محتاج اور فقیر ہو اور ہم غنی ہوں اور ہمیں کوئی پروا نہ ہو۔ ہم رات سے صبح‘ صبح سے رات کریں اور بھول کر بھی نہ سوچیں کہ اس سے ملنا ہے‘ اس سے مانگنا ہے۔ مگر وہ ہے کہ جو بار بار پکارتا ہے کہ  آئو اپنے گناہوں کی معافی مانگو‘تاکہ میں تم کو معاف کر دوں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: جو اللہ سے سوال نہیں کرتا ہے‘ اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوتا ہے‘ غصہ کرتا ہے جو اس سے سوال نہیں کرتا اور مانگتا نہیں ہے۔ بندگی‘ محتاجی اور فقر یہی توہے کہ اس نے ہم کو پیدا کیا ہے‘وہ ہمارا خالق اور ہم اس کی مخلوق ہیں‘ اور مخلوق ہونے کے ناطے ہم اپنے ارادے سے اس کے در پر جائیں‘ اسی کے بھکاری بن کر جائیں اور اسی سے مانگیں۔

بندے اور رب کا تعلق

اگر آپ غورکریں تو مانگنے میں‘ ایک تو مانگنے والا ہے جو ہم ہیں‘ اور ایک وہ ہے جس سے مانگا جائے۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم فقیر ہیں‘ محتاج ہیں‘ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے‘ نہ اپنی آنکھ پر‘ نہ اپنے کان پر اور نہ اپنے جسم پر۔ ہمارا اختیار تو جسم کے اندر ایک چھوٹے سے خلیے پر بھی نہیں۔ اگر اس میں فساد پیدا ہو جائے تو ہم چند دن میں گل سڑ کر مرجاتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے جسم پر اتنا بھی اختیار نہیں ہے۔ اس قدر لاچار اور بے بس ہیں ہم۔ مگر آدمی اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھتا ہے۔

دوسری طرف ایک وہ ہے کہ جس سے مانگا جائے‘ یعنی اللہ رب العزت۔ اس کا حال یہ ہے کہ ہماری کسی نیکی سے‘ دعا سے اس کی خدائی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا لیکن ہم جو مانگیں‘ وہ ہم کو دے دیتا ہے اور اس کے ہاں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ وہ خود پکارتا ہے کہ آئو مجھ سے ہدایت مانگو میں تمھیں ہدایت دوں گا‘ کھانا مانگو‘ کھانا کھلائوں گا‘ پانی مانگو پانی دوں گا‘ شفا مانگو شفا دوں گا ۔ یہی رب سے وہ حقیقی تعلق ہے جس کو توحید کے امام عالی مقام حضرت ابراہیم ؑ نے یوں ادا کیا کہ تمام جھوٹے معبود میرے دشمن ہیں‘ سواے ایک رب العالمین کے:

فَاِنَّھُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَo الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَ یَھْدِیْنِo  وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِo وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِo وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیِنِo وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِo (الشعرائ۲۶: ۷۷-۸۲)

میرے تو یہ سب دشمن ہیں‘ بجز ایک رب العالمین کے‘ جس نے مجھے پیدا کیا‘ پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔ جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔

مانگنے والا اور جس سے مانگا جائے‘ ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ کیا مانگا جائے؟ آدمی کیا مانگتا ہے‘ وہ جس کی طلب دل کے اندر ہوتی ہے۔ پیاسا پانی مانگتا ہے‘ بھوکا کھانا مانگتا ہے‘ بے لباس کپڑا مانگتا ہے‘ تو گویا جس کی واقعی حاجت ہوتی ہے‘ واقعی طلب ہوتی ہے‘ اسی کے لیے آدمی ہاتھ پھیلاتا ہے۔ چھوٹا سا کام درپیش ہو تو آدمی ایم این اے وغیرہ کے گھر کے دس چکر لگاتا ہے کہ کسی طرح میرا کام ہوجائے۔ اگر کہیں اس سے اُوپر تعلق پیدا ہوجائے‘ وزیراعظم کے ہاں جانے کا موقع مل جائے‘ تو آدمی بے چین ہو کے دوڑا دوڑا جا کے کام کروائے گا۔

پس جس چیز کی طلب ہوتی ہے ‘ حرص ہوتی ہے‘ اس کے لیے دل کی گہرائیوں سے آواز اٹھتی ہے اور انسان اس کے لیے پکار اٹھتا ہے۔ اگر دل میں طلب‘ حرص و لالچ نہ ہو‘ کوئی پیاس اور بھوک نہ ہو‘ کوئی تڑپ اور بے قراری نہ ہو‘ تو اس کیفیت میں مانگنے پر ملنا مشکل ہے‘ اور دعا کا قبول ہونا بھی مشکل ہے۔

تزکیہ و تربیت کا اہم ذریعہ

دعائوں کے ذریعے اللہ سے اور صرف اللہ سے خوف اور لالچ کا تعلق قائم ہوتا ہے۔ یہ تعلق بندگی اور عبادت کی روح ہے۔

دعاکا ایک اور پیرایہ یہ ہے کہ دعا تعلیم و تربیت اور تزکیے کا ذریعہ ہے۔ ہم منطق چھانٹیں‘ دلائل دیں‘ بڑی لمبی چوڑی تقریر بھی کریں مگر اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے چار الفاظ میں جو تعلیم دی گئی ہے‘ وہ ہم نہیں سمیٹ سکیں گے۔جو کچھ ] اور جیسا[ ہم کو ہونا چاہیے‘ اس کو دعا بنا کر‘ طلب اور خواہش کی طرح ہماری زبان پر جاری کر دیا گیا ہے۔ گویا جو کچھ ہم مانگ رہے ہیں اس کی طلب‘ اس کا لالچ‘اس کی حرص بھی دل کے اندر ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ دل میں اگر اس چیز کی پیاس نہ ہو‘ یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ہم کو کیا چاہیے یا کیا مانگنا ہے؟ تو پھر اس کی قبولیت بھی مشکل ہے۔ لہٰذا دعا کرنا یا مانگنا صرف اتنا ہی نہیں کہ اللہ کے آگے گڑگڑایا جائے اور التجا کی جائے‘ بلکہ جو کچھ ہم مانگ رہے ہیں اور جیسا بننا چاہ رہے ہیں‘ اس کے حصول اور ویسا بننے کی کوشش بھی لازم آجاتی ہے۔ یہی تزکیہ و تربیت کا وہ عمل ہے جو دعا کے مانگنے کے ساتھ فطری انداز میں جاری و ساری ہوجاتا ہے۔ دعا اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق ہی نہیں جوڑتی‘ بلکہ وہ ہم کو یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم کو کیسا بننا چاہیے‘ کیسا ہونا چاہیے اور دل میں خواہش‘ لالچ‘ تڑپ اور طلب کس چیز کی ہونی چاہیے۔

دعائیں قرآن مجید میں بھی مذکور ہیں‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپؐ کی دعا ہے۔ ایسے ایسے الفاظ میں‘ایسے ایسے مضامین کی‘ ایسے خوب صورت اور مؤثر پیراے میں دعائوں کی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ دل بے اختیار ہوجاتاہے ‘روح وجد میں آجاتی ہے اور بندہ اپنے رب ہی کا بن کے رہ جاتا ہے۔ اگر ہم ان دعائوں کو دیکھیں‘ ان کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہم کو کیا مانگنا چاہیے‘ اور کیسا بننا چاہیے اور اللہ سے ہمارا تعلق کیسا ہونا چاہیے۔

دعا اللہ کو یاد کرنے کی بھی ایک بڑی عمدہ‘ نادر اور نفیس صورت ہے۔ قرآن مجید میں  اللہ تعالیٰ ہم سے ہم کلام ہوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں: ’’اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ، سبحان اللہ، الحمدللہ‘‘۔ تو ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں‘ لیکن جب ہم اس سے دعا مانگتے ہیں تو ہم صرف اس کو یاد ہی نہیں کرتے‘ بلکہ ہم اس سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ اس سے بات چیت کرتے ہیں۔ اگر کسی کو اللہ سے بات چیت کرنے کا موقع مل جائے تو یہ بہت بڑی نعمت اور بہت بڑی سعادت ہے۔ صبح و شام انسان کو حاجات پیش آتی ہیں‘ ضروریات آن پڑتی ہیں‘ اگر آدمی صبح و شام‘ رات دن‘ ہر موقع پر اللہ سے مانگتا رہے تو پھر یہ کیفیت ہوتی ہے:  اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ(ٰاٰل عمرٰن۳:۱۹۱)، ’’جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے‘ ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں‘‘۔ یہ کیفیت ہماری بھی بن سکتی ہے۔

چند مسنون دعائیں

قرآن مجید نے بہت ساری دعائوں کی تعلیم دی ہے۔

سورۃ الفاتحہ خود ایک دعا ہے اور دعا ہی کی صورت میں پورے دین کی تعلیمات کو بیان کر دیا گیا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام‘ اللہ تعالیٰ کے بڑے محبوب نبی اور رسول تھے اور اس کی راہ میں انھوں نے بڑی محنت اور جدوجہد کی ہے۔ ساڑھے نوسو سال تک رات دن‘ کھلے چھپے اپنی قوم کو پکارا‘ مگر سواے انکار اور مایوسی کے‘کچھ ہاتھ نہ آیا۔ ان کی قوم نے مان کر نہ دیا اور ایک نہ سنی بلکہ انھیں جھٹلا دیا۔ اس حالت میں ان کی زبان سے ایک دعا نکلی جوبہت مختصر سی دعا ہے:

اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ o (القمر۵۴:۱۰)

میں مغلوب ہوچکا‘ اب تو ان سے انتقام لے۔

یہ تین الفاظ کی دعا ہے‘ لیکن اس کی پشت پر ساڑھے نو سو سال رات دن کی محنت تھی۔ اس دعا نے زمین و آسمان کو ہلا کر رکھ دیا اور اس طرح قبول ہوئی :

فَفَتَحْنَـآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْھَمِرٍط وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ o (القمر ۵۴:۱۱-۱۲)

تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا‘ اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔

بظاہریہ چھوٹی سی دعا تھی۔ لیکن ایک ایسے بندے کے دل و زبان سے نکلی تھی جو رات دن اسی مغلوبیت کے میدان سے گزر رہا تھا۔

حضرت موسٰی علیہ السلام‘ معرکہ فرعون و کلیم میں جب مصائب و مشکلات کے ہاتھوں پریشان ہوئے تو اپنے رب کی طرف لپکے‘ مدد مانگی اور پکار اٹھے:

رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ (القصص ۲۸:۲۴)

پروردگار!جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اُس کا محتاج ہوں۔

اس پکار کے نتیجے میں ان کے لیے بھی راستے کھل گئے‘ پناہ بھی ملی‘ مغفرت بھی ملی‘ دشمن بھی تباہ و برباد ہوا اور مقامِ عبرت بن گیا‘ نیز غلبہ بھی ملا‘ سب کچھ ان کے حصے میں آیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دعائوں کی تعلیم دی ہے‘ ان دعائوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسے تعلق کا جس سے سب کچھ مل سکتا ہے‘ ایک ایک لفظ سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔

یہ دعا‘ عرفات کے میدان کی دعا ہے۔ لیکن کسی وقت بھی مانگی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی بندہ رات کی تنہائی میں بھی مانگ سکتا ہے اور دن میں بھی :

اِلٰھِیْ عَبْدُکَ بِبَابِکَ فَقِیْرُکَ بِبَابِکَ مِسْکِیْنُکَ بِبَابِکَ سَائِلُکَ بِبَابِکَ ذَلِیْلُکَ بِبَابِکَ ضَعِیْفُکَ بِبَابِکَ  ضَیْفُکَ بِبَابِکَ  یَارَبَّ الْعٰلَمِیْنَ٭

میرے معبود‘ تیرا بندہ تیرے در پر ہے‘ تیرا فقیر تیرے در پر ہے‘ تیرا مسکین تیرے در پر ہے‘ تیرا سائل تیرے در پر ہے‘ تیرا ذلیل بندہ تیرے در پر ہے‘ تیرا کمزور و ناتواں بندہ تیرے در پر ہے‘ تیرا مہمان تیرے در پر ہے‘ اے رب العالمین!

اس دعا میں بندگی‘ عجز وانکسار اور خدا سے استعانت و مدد کی کتنی دل کش تصویر پیش کی گئی۔ بندہ پکارتا ہے: اے اللہ، تیرا بندہ تیرے دروازے پر حاضر ہے‘ تیرے در پر بھکاری بن کر کھڑا ہے۔ تیرا محتاج و فقیرہے‘ مسکین و بے بس ہے۔ اے اللہ‘ تیرا بندہ اسی لیے تیرے در پر کھڑا ہے اور تیرا مہمان ہے کہ تونے بلایا ہے۔ بن بلائے بھی نہیں آیا ہے‘ بلایا ہوا آیا ہے۔ میں تیرا بندہ ہوں‘ کمزور اور ضعیف‘ فقیر اور محتاج‘ تیرے در پر سوالی بن کر کھڑا ہوں‘اور تیرے سوا کون ہے جس کے در پر ہم اپنی جھولی پھیلا سکیں۔

اس طرح ایک اور دعا ہے:

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ تَسْمَعُ کَلَامِیْ وَتَـرٰی مَکَانِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ لَایَخْفٰی عَلَیْکَ شَیْ ئٌ مِّنْ اَمْرِیْ، اَنَا الْبَآئِسُ الْفَقِیْرُ، الْمُسْتَغِیْثُ الْمُسْتَجِیْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِیْ اِلَیْکَ، اَسْئَلُکَ مَسْئَلَۃَ الْمِسْکِیْنِ وَاَبْتَھِلُ اِلَیْکَ ابْتِھَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِیْلِ، وَاَدْعُوْکَ دُعَائَ الْخَائِفِ الضَّرِیْرِ، دُعَائَ مَنْ خَضَعَتْ لَکَ رَقَبَتُہٗ وَفَاضَتْ لَکَ عَبْرَتُہٗ وَذَلَّ لَکَ جِسْمُہٗ وَرَغِمَ لَکَ اَنْفُہٗ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَآئِکَ شَقِیًّا وَکُنْ بِیْ رَؤُوْفًا رَّحِیْمًا یَاخَیْرَ الْمَسْئُوْلِیْنَ وَیَاخَیْرَ الْمُعْطِیْنَ (کنزالاعمال‘ طبرانی‘ عن ابن عباسؓ، عبدابن جعفرؓ)

میرے اللہ‘ تو میری بات کو سن رہا ہے‘ اور تو میرا مقام اور حالت دیکھ رہا ہے اور میرے چھپے اور کھلے سب کو جانتا ہے‘ تجھ سے میری کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ میں مصیبت زدہ ہوں‘ محتاج ہوں‘ فریادی ہوں‘ پناہ کا طلب گار ہوں‘ ڈرنے والا‘ ہراساں ہوں‘ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں‘ اعتراف کرتا ہوں میں تجھ سے مانگتا ہوں‘ جیسے بے کس مانگتا ہے اور میں تیرے آگے گڑگڑاتا ہوں جیسے گناہ گار اور ذلیل و خوار گڑگڑاتا ہے‘ اور میں تجھ کو پکارتا ہوں جیسے خوف زدہ‘ آفت رسیدہ پکارتا ہے‘ ایسے شخص کی پکار جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہے اور جس کے آنسو تیرے سامنے بہہ رہے ہیں‘ جس کا تن بدن تیرے آگے بچھا ہوا ہے اور جو اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہاہے‘ اے اللہ! تو ایسا نہ کر کہ تجھ سے مانگوں اور پھر بھی محروم رہوں‘ تو میرے حق میں بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا بن جا‘ اے ان سب سے بہتر جن سے مانگا جائے‘ اے سب دینے والوں سے بہتر۔

دیکھیے‘ ایک ایک لفظ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور بندگی کی تڑپ جھلک رہی ہے۔ پوری زندگی کے گناہوں کا بھی اعتراف ہے‘ اپنی کیفیت بھی ہے‘ جسم بھی جھکا ہوا ہے‘ ناک بھی زمین پہ رکھی ہوئی ہے‘ پیشانی بھی زمین پہ ٹکی ہے‘ آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہیں اور اس حالت میں گڑگڑا رہے ہیں‘ سارے گناہوں کا گنہگار کی طرح اعتراف ہے۔ یہی وہ چیزہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے بندگی کا تعلق قائم کرا دیتی ہے۔

اس دعا کے اندر خوف اور محبت کے چشمے‘ دل کے اندر پھوٹتے ہیں۔ خدا کے بارے میں ایک تصور یہ ہے کہ اس نے پیدا کر دیا اور اس کے بعد لاتعلق ہوگیا‘ اب اس کا انسان کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ یوں سمجھیے کہ جیسے شاہجہان نے تاج محل بنایا‘ مر گیا اور ختم ہوگیا۔ ایک دوسرا تصور خدا یہ ہے کہ ہماری زندگی رات دن اس کی مٹھی میں ہے۔ جو سانس آتا ہے اسی کے حکم سے آتا ہے اور جو سانس جاتا ہے وہی لے جاتا ہے‘ اور جو لقمہ منہ میں آتا ہے‘ وہی لا کر ڈالتا ہے اور جو پانی کا گھونٹ پیتے ہیں اُسی کا دیا ہوا پیتے ہیں۔ دعا ایک ایسے ہی زندہ و جاویدہستی اور جیتے جاگتے خدا سے بندے کا براہ راست تعلق جوڑ دیتی ہے۔

اللّٰہ سے قرب کے لیے

اللہ سے محبت اور حلاوتِ ایمان ایک عظیم نعمت ہے۔ ہر ایک کی طلب‘ خواہش اور آرزو ہونی چاہیے کہ اللہ کی محبت پیدا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس محبت کی دعائیں بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہیں اور یہ دعائیں جن الفاظ میں اور جس اسلوب میں ہیں‘ آدمی ان کو سن کر اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتا ہے۔ ایک مختصر دعا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَمَالِیْ وَاَھْلِیْ وَمِنَ الْمَائِ الْبَارِدِ (مشکوٰۃ‘ترمذی‘کتاب الدعوات‘ ۵؍۱۸۴)، یااللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرے اور اس عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو تیری محبت کا باعث ہے۔ یااللہ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان‘ میرے مال اور میرے اہل وعیال اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ عزیز بنا دے۔

ایک اور دعا جو اس سے بھی زیادہ جامع ہے :

اَللّٰھُمَّ اَجْعَلْ حُبَّک اَحَبَّ الْاَشْیَائِ اِلَیَّ وَاجْعَلْ خَشْیَتَکَ اَخْوَفَ الْاَشْیَائِ عِنْدِیْ وَاقْطَعْ عَنِّیْ حَاجَاتِ الدُّنْیَا بِالشَّوْقِ اِلٰی لِقَائِکَ وَاِذَا اَقْرَرْتَ اَعْیُنَ اَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ دُنْیَاھُمْ فَاَقْرِرْعَیْنِیْ بِعِبَادَتِکَ (کنزالعمال‘ عن ابی  بن مالکؒ)

اے اللہ‘ اپنی محبت میرے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب بنا دے اور اپنے ڈر کو تمام چیزوںکے ڈر سے زیادہ کر دے۔ اور مجھے اپنے ساتھ ملاقات کا ایسا شوق دے کہ میری دنیا کی محتاجیاں ختم ہوجائیں‘ اور جہاں تو نے دنیا والوں کی لذت ان کی دنیا میں رکھی ہے‘ میری لذت اپنی عبادت میں رکھ دے۔

آپؐ نے ذیل کی مختصر دعا کی بھی تعلیم دی ہے:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ اُحِبُّکَ بِقَلْبِیْ کُلِّہٖ وَاُرْضِیْکَ بِجَھْدِیْ کُلِّہٖ

اے اللہ‘ مجھے ایسا بنا دے کہ میں اپنے سارے دل کے ساتھ تجھ سے محبت کروں اور اپنی پوری کوشش تجھے راضی کرنے میںلگا دوں۔

کیسا والہانہ انداز محبت ہے! بندہ دل کی گہرائیوں سے اظہارِ تمنا کر رہا ہے کہ مجھے ایسا بنا دے کہ پورے دل کے ساتھ تجھ سے محبت کروں‘ دل کے اندر کوئی خانہ خالی نہ رہے اور تجھ سے ٹوٹ کے بے پناہ محبت کروں‘ نیز میری جدوجہد اور ساری کوشش اسی لیے ہو کہ تجھ کو راضی کر لوں۔

اس کے بعد پھر خوف کی بھی تعلیم دی:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ اَخْشَاکَ کَاَنِّیْ اَرَاکَ یَوْمَ اَلْقَاکَ وَاَسْعِدْنِیْ بِتَقْوَاکَ

اے اللہ‘ مجھے ایسا بنا دے کہ میں تجھ سے اس طرح ڈروں گویا میں تجھے تیرے ساتھ ملاقات کے وقت دیکھ رہا ہوں اور مجھے اپنے تقویٰ سے سعادت بخش۔

دیکھیے کہ اس چھوٹی سی دعا کے اندر وہ ساری چیزیں آگئی ہیں جو ہم کو یہ بتاتی ہیں کہ کن چیزوں کی پیاس ہو‘ کن چیزوں کی طلب ہو‘کیا چیزیں مانگیں‘ کیسا بننا چاہیے۔ یہ صرف دعائیں نہیں ہیں‘ بلکہ بڑی قیمتی تعلیمات ہیںجو ان دعائوں کے اندر سمیٹ کے بیان کر دی گئی ہیں۔

ایک اور طویل دعا کا مختصر حصہ ہے:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ ذَکَّارًا لَکَ شَکَّارًا لَکَ رَھَّابًا لَکَ مِطْوَاعًا لَکَ مُطِیْعًا اِلَیْکَ مُخْبِتًا اِلَیْکَ اَوَّاھًا مُّنِیْبًا (ترمذی‘ عن ابن عباسؓ)

میرے رب‘ مجھے ایسا بنا دے کہ میں تجھے بہت یاد کروں‘ تیرا بہت شکر کروں‘ تجھ سے بہت ڈرا کروں‘ تیری بہت فرماں برداری کیا کروں‘ تیرا بہت مطیع رہوں‘ تیرے آگے جھکا رہوں‘ اور آہ آہ کرتا ہوا تیری ہی طرف لوٹ آیا کروں۔

یہ ایک بڑی خوب صورت اور بڑی جامع دعا ہے۔ اس میں ایک ایک چیز بڑی ترتیب سے آئی ہے ‘اور ایک ایک چیز دین کی بہت ہی قیمتی بنیادوں میں سے ہے۔ ذَکَّار اور شَکَّار ‘ یہ فَعَّالٌ کے ہم وزن عربی زبان کے الفاظ ہیںجن کا مفہوم ہوتا ہے بہت زیادہ یا کثرت کے ساتھ کرنے والا۔ ذَکَّارًا، یعنی مجھے ایسا کر دے کہ بہت زیادہ تجھے یاد کرنے والا بنوں۔ لَکَ شَکَّارًا، اور تیرا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنوں۔ ان دونوں کا آپس میں باہمی تعلق بھی ہے۔ اس لیے کہ جو آدمی شکر کرے گا وہی اللہ کو یاد کرے گا۔ جب آدمی کثرت کے ساتھ شکر کرے گا تو وہ خدا کی ایک ایک نعمت کے لیے شکر ادا کرے گا۔ وہ اپنے ایک ایک عضو کے لیے شکر ادا کرے گا‘ زبان کے لیے‘ آنکھ کے لیے‘ کان کے لیے‘ اس دل کے لیے جو دھڑکتا ہے‘ حتیٰ کہ ہرآنے جانے والی سانس کے لیے جو اس کے حکم سے آتی اور جاتی ہے۔ غرض زمین و آسمان کی بے شمار نعمتوں کے لیے وہ ہر دم شکرگزار ہوگا۔ اس طرح کون سا لمحہ ہوگا جو اللہ کے ذکر سے خالی رہ جائے گا۔

جہاں شکر کا ذکر ہے وہاں خوف کا بھی ذکر ہے۔خوف کا بھی ذکر کسی انتقام کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ ہمیں جو اتنی نعمتیں ملی ہیں‘ یہ کہیں چھن نہ جائیں۔ اگر ہم اتنے نااہل و ناکارہ ہوئے کہ یہ نعمتیں چھن جائیں تو اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی۔ بچہ باپ سے کس لیے ڈرتا ہے؟ نفرت کی وجہ سے یا ڈنڈے کی وجہ سے نہیں‘ بلکہ محبت کی وجہ سے ڈرتا ہے کہ اگر یہ محبت مجھ سے چھن گئی تو کیا ہوگا؟

یہاں مِطْوَاعًا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مطیع نہیں کہا گیا۔ مطیع کے معنی ہیں حکم ماننے والا‘ جب کہ مِطْوَاعًا کے معنی ہیں جو اپنی مرضی سے اپنے مالک کو خوش کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کو یاد کرے‘ اللہ کا شکر کرے‘ اسے اللہ کا خوف لاحق ہو‘ اس کے بعد جہاں اسے رب کو راضی کرنے کا موقع مل جائے تو اس طرح نہیں کہ ڈیوٹی سمجھ کے انجام دے یا جیسے کوئی بوجھ اتار دیا‘ بلکہ جو اپنی مرضی سے‘ اپنی خواہش سے‘ اپنی طلب سے اللہ کی اطاعت کرے۔ پھر فرمایا: لَکَ مُطِیْعًا اِلَیْکَ مُخْبِتًا ،’’تیرا بہت مطیع رہوں‘ تیرے آگے جھکا رہوں‘‘۔

اب آخری بات آپ دیکھیے: اِلَیْکَ اَوَّاھًا مُنِیْبًا۔، ’’اور آہ آہ کرتا ہوا تیری ہی طرف لوٹ آیا کروں‘‘۔ اُردو میں ایک لفظ آہ ہے۔ آپ کہتے ہیں آہ کرنا۔ تو اَوَّاہَ کا لفظ بھی عربی زبان میں آہ سے نکلا ہے۔ آہ کا لفظ بھی عربی زبان کا ہے۔ اَوَّاہَ کے معنی ہیں جو بہت ہائے ہائے کرنے والا ہو‘ بہت آہ آہ کرنے والا ہو‘ گناہوں پر رونے والا ہو۔ لہٰذا فرمایا گیا:  اَوَّاھًا مُنِیْبًا، ’’میں ہائے ہائے کرکے‘ ہمیشہ تیرے ہی در پہ لوٹ آئوں۔ اب یہ چھوٹے چھوٹے الفاظ ہیں‘ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں۔ جو آدمی رات دن مانگے اور سوچ سمجھ کر مانگے تو پھر ویسا ہی بنتا بھی جائے گا۔ اس کی کوشش ہوگی کہ کچھ نہ کچھ تو اپنے آپ کو ویسا ہی بنائے جیسا کہ اس دعا کے اندر بیان ہوا ہے۔

توبہ و استغفار کے لیے

دعا کا ایک اہم موضوع توبہ‘ یعنی اللہ کی طرف پلٹنا اور استغفار بھی ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم گناہ کرتے ہیں‘ اورمعافی مانگتے ہیں‘ پھر گناہ کرتے ہیں اور معافی مانگتے ہیں۔ لیکن پھر دنیا ہمیں گھیرلیتی ہے‘ ہم بہک جاتے اور پھسل جاتے ہیں۔ نگاہ بھی پھسلتی ہے‘ ہاتھ بھی غلط کاری میں ملوث ہوجاتے ہیں‘ حرام بھی کما لیتے ہیں اور جیب میں رکھ لیتے ہیں۔ گویا گناہوں سے مفر نہیں ہے۔ گناہوں سے مفر اس لیے نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا ہی اس لیے کی ہے کہ وہ گناہ کرنے کے لیے آزاد ہو۔ اسے گناہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل ہو‘ اور جو آزاد ہوگا‘ جسے اختیار حاصل ہوگا ‘وہ گناہ ضرور کرے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے توبہ و استغفار کا دروازہ کھول رکھا ہے‘ اس نے استغفار کے لیے دعوت دی ہے‘ وہ تو پکارتا ہے:

یَدْعُوْکُمْ لِیَغْفِرَلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرَکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّیط

وہ تمھیں بلا رہا ہے تاکہ تمھارے قصورمعاف کرے اور تم کو ایک مدتِ مقرر تک مہلت دے۔ (ابراھیم ۱۴:۱۰)

انبیا علیہم السلام کو اسی لیے بھیجا گیا کہ لوگوں کے لیے گناہوں کی بخشش کا دروازہ کھل جائے۔حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس لوگوں کو رب کی بندگی کی دعوت دی تو یہ بھی فرمایا: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ، یعنی میں نے تو قوم سے یہی کہا کہ اپنے گناہوں کی معافی مانگو‘ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔ وہ بخشنے والا ہے۔

ایک شخص مسجد نبویؐ میں آیا اور کہنے لگا: ہائے میرے گناہ‘ ہائے میرے گناہ‘ ہائے میرے گناہ۔ وہ اپنے گناہوں کے سبب رو رہا تھا‘ دھاڑ رہا تھا‘ چیخ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا‘ بیٹھ جائو اور یہ کہو: اَللّٰھُمَّ اِنَّ مَغْفِرَتَکَ اَوْسَعُ مِنْ ذَنُوْبِیْ وَرَحَمَتَکَ اَرْجٰی عِنْدِیْ مِنْ اَمْرِیْ، ’’اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور اپنے معاملے میں بہت زیادہ امیدوار ہوں‘‘۔ اس کے بعد آپؐ نے اس شخص کے لیے دعاے مغفرت بھی کی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: عُدْ، یعنی ایک دفعہ اور کہو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: جائو تمھارے گناہ بخش دیے گئے۔

سَیِّد الاسْتِغْفَار

آپؐ نے سیدالاستغفار کی بھی تعلیم دی ہے اور فرمایا کہ یہ سارے استغفاروں کا سردار ہے۔ حضرت شداد بن اوسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص استغفار کو صبح و شام پڑھے اور اس کے معنی و مفہوم کو سمجھ کر اس پر پورا یقین رکھے‘ اگر اُس کا اُسی دن شام سے پہلے یا اُسی رات صبح سے پہلے انتقال ہوجائے تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ،  وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، اَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلیَّ وَاَبُوْئُ بِذَنْبِیْ، فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّآ اَنْتَ (بخاری‘ کتاب الدعوات)

اے اللہ ! تو میرا پروردگار ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں‘ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں‘ اور جتنی مجھ میں استطاعت ہے میں تیرے عہدوپیمان (اقرارِ اطاعت) پر قائم ہوں‘ اور جو کچھ بھی میں نے کیا‘ اس کے برے انجام سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ جن نعمتوں سے تو نے مجھے نوازا ہے‘ ان کا اعتراف کرتا ہوں۔ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں تو مجھے بخش دے کہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا۔

امام ابن قیمؒ اپنی کتاب کتاب الاذکار میں ‘ جو ذکر پر بہت ہی جامع کتاب ہے لکھتے ہیں کہ ایک بدو آیا۔ اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑا اور اللہ تعالیٰ سے دعا شروع کی کہ ’’اے اللہ! تو نے استغفار کا جو وعدہ کیا ہے‘ اور تیرا جو کرم ہے‘ اس کے بعد بھی میں گناہوں پر اصرار کرتا رہوں تو یہ میرا کمینہ پن ہے‘‘۔ جب اللہ تعالیٰ نے استغفار کا دروازہ کھول دیا ہو اور اس کے بعد بھی بندہ اگر اپنے گناہوں پر اصرار کرے تو وہ بہت کمینہ بندہ ہے ۔ آگے چل کر وہ کہتا ہے‘ عجیب بات ہے‘ تُو تو مجھ سے بے نیاز ہے‘ اس کے باوجود تو بار بار نعمتیں دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتاہے‘ اور میں تیرا محتاج ہوں اور میں تجھ سے بھاگ بھاگ کے گناہ کرتا رہتا ہوں۔ اَدْخِلْ عَظِیْمَ جَرْمِیْ اَدْخِلْ عَظِیْمَ عَفْوِکَ، اے اللہ تُومیرے عظیم جرائم کو اس سے زیادہ عظیم عفو کے اندر داخل کردے۔

یہ استغفار ہیں۔ ان کی حضورؐ نے تعلیم دی ہے۔ محبت مانگنے کی تعلیم دی ہے‘ بلکہ دنیا کی چھوٹی بڑی ہر چیز کو اُسی سے مانگنے کی تعلیم دی ہے۔

قبولیت دعا: چند تقاضے

دعائوں کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جتنا بھی چاہیں اس کو پھیلا لیں۔ ایک ایک دعا کو‘ اس کے الفاظ کو آپ دیکھیں‘ ان میں جن چیزوں کو مانگا گیا ہے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ بندے کو کیا ہونا چاہیے‘ کیسا بننا چاہیے۔ اس کے لیے کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں کی گئی‘ کوئی لمبی چوڑی کتاب نہیں لکھی گئی‘ بلکہ چند مختصرجملوں میں دعا کے انداز میں اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کی ایک خوب صورت مثال: اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ہے۔ چار الفاظ کے ایک مختصر جملے میں بندگی کی پوری تعلیم دعا کے انداز میں دے دی گئی ہے۔ دعا آدمی کو یاد ہوجاتی ہے اور وہ مانگتا رہتا ہے‘ اُس کے ذریعے طلب کرتا رہتا ہے‘ سیکھتا رہتا ہے‘ ویسا بنتا رہتا ہے‘ اس طرح سے عبد‘ یعنی اس کا حقیقی و سچا بندہ بنتا چلا جاتا ہے۔ یہ ساری دعائیں دراصل حرص بھی ہیں‘ طلب بھی ہیں اور یہ ہماری تعلیم و تربیت اور تزکیے کا ذریعہ ہیں۔

یہ وہ صفات ہیں جو دین میں مطلوب ہیں۔ اللہ کی خشیت‘ اللہ کی محبت‘ اللہ سے اپنے گناہوں پر استغفار‘ اللہ پر بھروسا کہ جو کچھ ملنا ہے اسی سے ملنا ہے‘ جو کچھ چھن جانے والا ہے وہی چھیننے والا ہے۔ جب یہ سوچ اور یہ کردار ہوگا تو دنیا میں بھی سب کچھ ملے گا‘ آخرت میں بھی جنت ملے گی اور دنیا کے اندر غلبہ بھی حاصل ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یَعْبُدُوْانَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا  صرف میری ہی بندگی کریں اور ذرہ برابر بھی کسی کو میرے ساتھ شریک نہ کریں۔ اللہ نے زمین میں اپنی خلافت کا‘ زمین میں غلبے کا وعدہ انھی سے کیا ہے جنھوں نے بندگی کی نسبت اس کے ساتھ قائم کرلی‘ جو اس کے محتاج بن گئے‘ اس کے فقیر بن گئے اور صرف اسی کے دَر پر آکر کھڑے ہوگئے اور یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ ملے گا صرف اللہ ہی سے ملے گا۔

اصل چیز دل ہے۔ دل کے اندر اگر یہ ساری چیزیں جمع ہوجائیں تو زندگی سدھر جائے گی‘ نہ ہوں تو نہیں سدھرے گی۔دل کا معاملہ بھی اس نے اپنے ساتھ متعلق کرلیا ہے۔ حضوؐر کی ایک بہت پیاری دعا ہے۔میں اپنی دعا کا آغاز اکثر اسی دعا سے کرتا ہوں:

اَللّٰھُمَّ اِنَّ قُلُوْبَنَا وَنَوَاصِیَنَا وَجَوَارِحَنَا بِیَدِکَ وَلَمْ تُمَلِّکْنَا مِنْھَا شَیْئًا فَاِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ بِنَافَکُنْ اَنْتَ وَلِیَّنَا وَاھْدِنَا اِلٰی سَوَآئِ السَّبِیْلِ - (ترمذی‘ عن ابی ہریرہ)

اے اللہ! ہمارے دل بھی تیرے ہاتھ میں ہیں‘ اعضا اور جوارح بھی تیرے ہاتھ میں ہیں۔ پوری شخصیت بھی تیرے ہاتھ میں ہے۔ تو نے ہمیں کسی چیز پر ذرہ برابر بھی اختیار نہیں دیا ہے۔ جب تو نے ہمارے ساتھ یہ معاملہ کیا تو تو ہی ہمارا ولی بن جا‘ دوست بن جا‘ ہمارا رفیق بن جا‘ ہمارا مددگار بن جا۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔

دیکھیے‘ کس طرح دل کا معاملہ بھی اللہ کے سپرد کر دیا گیا!

دعا کے لیے زبان کی کوئی قید نہیں۔ دعا مانگنے کا‘ اگر ذوق و شوق ہو‘ توجہ و یکسوئی اور پورے یقین کے ساتھ دعا مانگی جائے خواہ اُردو میں ہو یا پنجابی میں‘ خواہ پشتو میں ہو یا کسی بھی زبان میں‘ دل کی یہ پکار‘ زبان پہ آئے یہ کلمے بارگاہِ الٰہی تک پہنچتے ہیں اور اپنا اثر رکھتے ہیں۔  شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ‘ بندگی کا‘ حاجت کا‘ فقر کا تعلق قائم ہونا چاہیے۔ یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ بے نیاز ہے‘ ہم فقیر ومحتاج ہیں‘ اس کے در کے بھکاری ہیں۔ جو کچھ بھی چاہیے‘ خواہ جوتے کا تسمہ ہی ہو‘ اسی سے مانگنا چاہیے۔ ہدایت و غلبہ بھی اُسی سے مانگنا ہے۔ فتح و نصرت بھی اسی سے ملنا ہے۔ یہ وہ چیزہے جو اللہ کی یاد کو‘ اللہ کے ساتھ تعلق کو دل کے اندر راسخ کر دیتی ہے۔ ہم دعوت یا اپنے ذاتی یا دنیاوی کام کے لیے نکلیں‘ گھر سے نکلیں‘ کھانے کے لیے بیٹھیں اٹھیں۔ ہر موقع پر اللہ کو یاد کریں اور صرف اسی سے مانگیں۔ جیسے جیسے یہ اخلاص پیدا ہوتا جائے گا کہ جو کچھ ملے گا اللہ ہی سے ملے گا کہیں اور سے کچھ نہیں ملے گا‘ نہ بندوں سے ملے گا‘ نہ اپنی کوششوں سے اور نہ عوامی تائید سے ‘ بلکہ جو کچھ بھی ملے گا وہ اللہ ہی سے ملے گا۔ جتنا زیادہ اخلاص پیدا ہوگا اتنا ہی اور ملے گا۔ جتنی نسبتیں دوسروں سے قائم ہوں گی‘ اتنا ہی کم ملے گا اور اتنی ہی مایوسیاں ہوں گی۔ اللہ ہی سے ملنے کا‘ اللہ ہی سے پانے کا‘ اللہ ہی سے طلب کرنے کا یہ انداز‘ دعا ہمیں سکھاتی ہے۔

دعا عبادت کا مغز ہے‘ خدا کی بندگی ہے‘ اور یہی روحِ عبادت ہے۔ اسی لیے قرآن یَدْعُوْنَ وَیَعْبُدُوْنَ ان دونوں الفاظ کو بدل بدل کے ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتا ہے اور آخر میں کہتا ہے: اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط (المومن ۴۰:۶۰)‘ مجھ سے مانگو‘ مجھے پکارو‘ میں تمھیں دوں گا اور تمھاری پکار کو قبول کروں گا۔ مزید فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادِتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَo (۴۰: ۶۰) ’’جو لوگ گھمنڈ میںآکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں‘ ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے‘‘۔ اب یہاں فوراً اسی آیت کے اندر دعا کی جگہ عبادت کا لفظ آگیا کہ جو لوگ میری عبادت سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے ہیں وہی تکبر کرنے والے ہیں اور جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ یہاں دعا کے لفظ کو عبادت کے لفظ سے بدل دیا گیا‘ یہ بتانے کے لیے کہ اصل میں یہ دونوں ایک ہی ہیں‘ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

حدیث کی ہر کتاب میں دعا کا ایک باب ہوتا ہے۔دعائوں کی بے شمار کتابیں ملتی ہیں۔ چھوٹے بڑے بہت سے مجموعے دیکھنے میں آتے ہیں۔ امام نووی کی کتاب الاذکار ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ملتا ہے‘ عربی زبان میں بھی دستیاب ہے۔ حصن حصین کے نام سے دعا کی مشہور کتاب ہے۔ اس میں سات منازل کے اندر اذکار اور دعائیں جمع کر دی گئی ہیں۔ یہ بھی بآسانی دستیاب ہے۔ اسی طرح امام نسائی کی کتاب ہے جس میں رات دن کی ساری دعائیں جمع کر دی گئی ہیں۔ اس کا اردو ترجمہ بھی بازار میں ملتا ہے اور عربی میں بھی موجود ہے۔ چھوٹے چھوٹے مجموعے تو بے شمار ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی مناجات مقبولبہت ہی عمدہ کتاب ہے۔ اس میں بیش تر مسنون دعائیں اور ان کا ترجمہ بھی بہت اچھا ہے۔ شیخ حسن البنا کی ماثورات مسنون اذکار اور دعائوں کا بہت عمدہ مجموعہ ہے۔ ابن تیمیہؒ کی الکلمۃ الطیّبمیں بھی عمدہ دعائیں ہیں۔ یہ بھی ایک مختصر‘ مگر عمدہ مجموعۂ دعا ہے۔ حدیث کی ہر کتاب میں اور مشکٰوۃ میں بھی دعائوں کا الگ باب ہے۔ اگر شوق اور طلب ہو تو ان کا مطالعہ مفید رہے گا۔

ان گزارشات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بغیر اللہ سے مانگے‘ اللہ کا محتاج بنے‘ اللہ کے دربار میں فقیر بنے کچھ بھی حصے میں نہیں آئے گا۔ اسی کے نتیجے میں خدا کا قرب حاصل ہوگا‘ حاجات پوری ہوں گی‘ خدا کی رضا اور خوشنودی‘ جنت کا حصول ممکن ہوگا۔ دنیا میں بھی سب کچھ ملے گا اور آخرت میں بھی۔ نیز زمین پر غلبے اور خلافت کا وعدہ بھی اسی تعلق کے نتیجے میں پورا ہوگا۔ (کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)


کتابچہ دستیاب ہے۔ قیمت: ۵ روپے۔ منشورات‘ منصورہ‘ لاہور

ترجمہ:  قاضی محمد اقبال /مسلم سجاد

(آخری قسط)

تبدیلی مذہب کی ذمہ داری

کسی نبی کا کبھی یہ مقصد نہیں رہا کہ وہ دوسروں کو جبر کے ذریعے اپنے ساتھ لائے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ وہی اور صرف وہی حق پر ہیں‘ پھر بھی انھوں نے اپنے مخاطبین کو کبھی اپنا پیغام قبول کرنے پر مجبور کرنے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ ان کی ذمہ داری ابلاغ تھی‘ پیغام پھیلانا‘ بات پہنچانا۔ ابلاغ کے مفہوم میں بات کرنا‘مکالمہ‘ آزادیِ تقریر اور آزادیِ انتخاب شامل ہے۔ قرآن‘ انبیا اور ان کے مخاطبین کے مکالموں سے بھرا پڑا ہے۔ ہدایت کے راستے کا انتخاب یا گمراہ رہنا‘ رسول کے دائرہ اختیار سے باہر‘ انسان اور اس کے خداکے درمیان ایک انفرادی معاملہ تھا۔ آنحضرتؐ کو اکثر بتایا گیا: ’’(اے نبیؐ) نصیحت کیے جائو۔ تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو‘ کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو‘‘(الغاشیہ ۸۸:۲۱-۲۲)۔ اے نبیؐ، ’’تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے‘ مگر اللہ جسے چاہتا ہے‘ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت پانے والے ہیں‘‘ (القصص ۲۸:۵۶)۔ ہدایت کے راستے پر لے آنا یا فیصلہ کرنا رسول کی ذمہ داری نہیں ہے۔ نجات‘ مغفرت و بخشش یا سزا کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے آخری فیصلے میں رسول کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ’’فیصلے کے اختیارات میں تمھارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اللہ کواختیار ہے‘ چاہے انھیں معاف کرے‘ چاہے سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں‘‘۔ (اٰل عمرٰن ۳:۱۲۸)

اسلام میں نبوت کے چند اہم پہلوئوں کا یہ انتہائی مختصر جائزہ کسی معاشرے میں مختلف بلکہ متضاد سچائیوں کے دعوئوں کے باوجود مل جل کر رہنے کے لیے‘ وسیع مضمرات کی نشان دہی کرتا ہے۔

تمام بڑے مذاہب کا الہامی سرچشمہ ایک ہی ہے۔ بعض اختلافات جو بنیادی طور پر اتنے اہم نہیں ہیں اصلی الہامات کا حصہ تھے‘ بعض مختلف تہذیبوں اور انسانی فکر کے دھاروں سے ان کے باہمی تعامل سے وجود میں آئے۔ اختلافات کا یہ دوسرا دائرہ مذاہب کو سختی سے ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ پھر بھی ان میں بہت سی بنیادی صداقتیں مشترک ہیں۔کوئی ایک طرف یہودیت‘ عیسائیت اور اسلام کے مابین اختلافات اور دوسری طرف ہندومت اور بدھ مت کے مابین اختلافات کی طرف اشارہ کرسکتا ہے جن کی میرے خیال میں بالترتیب پیغمبرانہ اور صوفیانہ حیثیتوں سے غلط طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ لیکن اگر آج یہ سوالات کھڑے ہوئے ہیں کہ کیا حضرت عیسٰی علیہ السلام اپنے آپ کو وہی کچھ سمجھتے تھے اوروہی کچھ ہونے کا دعویٰ کرتے تھے جو بعد کی نسلوں نے انھیں سمجھا‘ تو کیا یہی سوالات رام‘ کرشن اور بدھا کے بارے میں نہیں کھڑے ہوسکتے؟

یہ ایک اہم نکتہ ہے کہ اسلام نظریۂ نبوت کو صرف انھی تک محدود نہیں کرتا جن کا قرآن میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس اصول کے بیان کے بعد کہ انبیا ؑہرقوم کی طرف مبعوث کیے گئے‘ آگے چل کر کہا گیا ہے: ’’اے نبی، تم سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے‘‘۔ (المومن ۴۰:۷۸)

یہ بات کہ مسلمانوں نے اس اصول کو ان مذہبوں پر خوشی خوشی منطبق کیا جن سے انھیں واسطہ پڑا ہے‘ یعنی زرتشتی اور ہندو مذاہب‘ اس کے مذہبی اور معاشرتی مضمرات ہیں‘ انھیں آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ نظریہ کہ تمام دوسرے مذاہب اپنے موجودہ پیروکاروں کے خیال کے مطابق اپنے صحیح اور اصل راستے سے دور ہوچکے ہیں‘ کسی بین المذہبی رشتے اور اسلام کے مکمل سچائی کا حامل ہونے کے دعویٰ میں ایک بڑی رکاوٹ دکھائی دے سکتا ہے۔ لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے خیال میں بعد کی نسلوں کے اسلام کے وژن کے بارے میں اسلام بھی وہی بات کہے گا‘ یعنی یہ کہ یہ اصل حقیقی اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اگر اسلام دوسرے عقائد کے پیروکاروں کو ایسی زندگی بسر کرتے دیکھتا ہے جو ان کی بانیوں کی تعلیمات کے خلاف ہیں تو وہ یہی بات مسلمانوں کی غالب اکثریت کے بارے میں بھی کہے گا۔ دوسرے یہ کہ شاید کوئی عقیدہ مضبوط‘ مؤثر اور زندہ نہیں رہ سکتا اگر اسے اس خود اعتمادی سے محروم کر دیا جائے کہ صرف وہی مکمل سچائی کا حامل ہے۔

اسلام دوسرے مذاہب کے نظام عقائد سے کلی طور پر متفق نہیں ہے تب بھی وہ غیرمبہم طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ’’وہ سب اللہ کا نام لیتے ہیں‘‘۔ اس طرح عبادت کے تمام مقامات صاف طور پر اللہ کی عبادت کے مقامات تسلیم کیے گئے ہیں۔ ’’اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں‘ جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے‘ سب مسمار کر ڈالی جائیں‘‘۔ (الحج ۲۲:۴۰)

کیا اسلامی نظریۂ نبوت کتابوں میں ایک عقیدے اور تصور ہی کی حیثیت سے محفوظ رہا یا مثبت رویوں اور اعمال سے اس کا اظہار بھی ہوا؟ اس میں سے کچھ رویوں کا قرآن پاک میں تذکرہ کیا گیا ہے‘ مثلاًیہ کہ ایک مسلمان مسلمان نہیں رہے گا اگر وہ پہلے تمام انبیاؑ پر ایمان نہ لائے---اسی طرح قرآن پاک کا عقائد کے اختلافات کے باوجود دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ خوردونوش اور شادی بیاہ کی اجازت انسانیت کی بنیاد پر معاشرے کی تخلیق کے لیے انقلابی مضمرات رکھتا ہے۔

تاریخ میں مسلمانوں کا طرزِعمل اور پالیسیاں کئی لحاظ سے قابلِ اطمینان نہیں کہی جاسکتیں۔ مسلمان انسان ہی تھے اور اسی لیے خام تھے۔ لیکن ان میں جو اچھائی اور خیر کا عنصر دکھائی دیتا ہے اس کی وجہ نبوت کے متعلق وہی خاص اسلامی نظریہ ہے۔ اس میں اچھائی یا خیر کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ ہرچند کہ ہمارے موجودہ معیارات (عمل کتنا ہوتا ہے؟) کی رو سے اسے مثالی نہ کہاجاسکے‘ مثلاً عبادت کی آزادی اور مذہبی خودمختاری جو مسلم علاقوں میں بڑے وسیع پیمانے پر موجود تھی۔۱؎ لباس پر پابندی‘ عبادت گاہوں کی جگہوں کی تخصیص‘ دفاعی خدمات کے بجاے خصوصی ٹیکس یعنی جزیہ‘ امتیازی درآمدی محاصل جیسی کچھ اِکا دکا مثالیں کم تر حیثیت کے ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں‘ لیکن آج کل کے بعض جدید اور مہذب معاشروں میں بھی پائی جانی مشکل نہ ہوں گی۔

قرآنی احکامات جاننے کے دو تناظر

بعض قرآنی احکامات کی سختی اور اسلام کے ابتدائی دور میں دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف بعض اقدامات اکثر لوگوں کو پریشان کرتے ہیں لیکن یہ مقام ان کے تنقیدی جائزے کا نہیں۔ ان کا تفصیلی جائزہ یہ ثابت کرسکتا ہے کہ جو کچھ بہت عرصے تک امرواقعہ سمجھا جاتا رہا ہے وہ دراصل سچ نہیں تھا۔۲؎ لیکن انھیں سمجھنے کے لیے دو تناظر خاصے مددگار ثابت ہوں گے۔

پہلا یہ کہ یہ سیاسی دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ محض اس لیے کہ کوئی ایک خاص عقیدے کے پیروکار ہے۔ اس کے خلاف کوئی اعلانات نہیں کیے گئے‘ کوئی کارروائیاں نہیں کی گئیں‘ کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ بے شک مذہبی جبر کو بدترین ظلم اور کبیرہ گناہ (فتنہ) قرار دیا گیا ہے۔ سیاسی بنیاد اس وقت واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے جب کوئی قرآن کی مسلمانوں کو کفار تک سے اس وقت تک صلہ رحمی کرنے کی ہدایت دیکھتا ہے جب تک وہ مسلمانوں کے خلاف آمادہ شروفساد نہ ہوجائیں۔ ’’بعید نہیں کہ اللہ تمھارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے۔ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے۔ وہ غفور و رحیم ہے۔ ’’اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا… اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔ ’’وہ تمھیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے‘ اور تمھارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ ان سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں‘‘۔ (الممتحنہ ۶۰:۷-۹)

دوسرے یہ کہ ہر پیغمبر معاشرے کا ایک پرجوش ناقد ہوتا ہے‘ ہم عصر یہودو نصاریٰ بھی اسی معاشرتی ماحول کا حصہ تھے۔ اس لحاظ سے قرآنی احکامات سابقہ پیغمبروں کی تعلیمات کی نسبت زیادہ نرم تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو کہا وہ یہ ہے:

تم کتنے ظالم ہو! اے فریسیو! اے قانون سکھانے والو! اے ریاکار لوگو! تم سفیدی کیے گئے مقبروں کی طرح ہو جو بظاہر بہت خوش نما دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے اندر ہڈیاں اور لاشیں گل سڑ رہی ہیں… پس تم عملاً اعتراف کرتے ہو کہ تم ان کی اولاد ہو جنھوں نے انبیاؑ کو قتل کیا۔ اے سانپو! اے سانپوں کے بچو! تم کیونکر توقع رکھتے ہو کہ تم دوزخ کی آگ سے بچ سکو گے۔

پس میں تمھیں بتاتا ہوں کہ میں تمھارے پاس پیغمبر اور اہل دانش اور تعلیم دینے والے بھیجوں گا۔ تم ان میں سے بعض کو قتل کرو گے‘ بعض کو مصلوب کرو گے‘ اور بعض کو اپنے معبدوں میں کوڑے مارو گے اور شہر بہ شہر ان کا تعاقب کرو گے۔

یروشلم! یروشلم! تو انبیاؑ کو قتل کر دیتا ہے! اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کو سنگسار کر دیتا ہے۔ (متی ۲۳:۳۷-۲۷)

یہاں عہدنامہ عتیق سے بھی چند سطریں دی جاتی ہیں:

مجھے ان خوشبوئوں سے جو تم جلاتے ہو‘ سخت گھن اور کراہت محسوس ہوتی ہے۔ ان میں تمھارے گناہوں کی بدبو رچی ہوتی ہے۔

تمھارے ہاتھ خون سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ وہ شہر جو کبھی وفاکیش ہوا کرتا تھا‘ اب کسی بیسوا کا رنگ ڈھنگ اختیار کر گیا ہے۔ تمھارے راہنما باغی اورچوروں کے دوست ہیں۔ وہ ہر دم تحفے اور رشوتیں وصول کرتے رہتے ہیں۔ (یسیلیا: ۱-۱۳-۲۳)

یہاں قرآن پاک کی چند آیات بھی درج کی جا رہی ہیں:

جب کبھی کوئی رسول تمھاری خواہشاتِ نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمھارے پاس آیا تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی ہی اختیار کی۔ کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کرڈالا۔ (البقرہ ۲:۸۷)

آخرکار ان کی عہدشکنی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا… ان کے اس ظالمانہ رویے کی بنا پر… اور اس بنا پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور سود لیتے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائزطریقوں سے کھاتے ہیں (النساء ۴:۶۱)

نظریۂ نجات

شاید کسی بھی مذہب کے اہم مسائل میں سے ایک نجات کا مسئلہ ہے۔ یہ جانچنا دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس حوالے سے مسلم عقائد‘ تصورات اور رویوں کی تشکیل میں اسلامی نظریۂ نبوت کا کیا کردار ہے۔

اس لحاظ سے میرا خیال ہے کہ نجات کے اسلامی نظریے کا تعین بیش تر اس کے نظریۂ نبوت سے ہوتا ہے۔ پہلے یہ کہ اسلام بہت واضح طور پر ایک معروف مذہب سے منسلک ہونے‘ اور سچا ایمان رکھنے اور عملِ صالح کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ یا جسے ہم دوسری قرآنی اصطلاح میں سچائی (الحق یا الدّین  یا آیات اللہ جو مطالب میں ایک ہیں) تلاش کرنے‘ پانے‘ قبول کرنے‘ تصدیق کرنے اوراس کے مطابق زندگی گزارنے سے تعبیرکرسکتے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے‘قرآن نے ان کے لیے نزول کے وقت بھی (الذین اٰمنوا) کے الفاظ استعمال کیے۔ اس کے دو مفہوم تھے۔ ایک وہ جو اُمت مسلمہ سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے وہ جو واقعی ایمان رکھتے ہیں‘ (البقرہ ۲:۶۲‘۴: ۱۳۶‘ ۵:۶۹) ۔چنانچہ نجات کا انحصار محض اُمت مسلمہ سے تعلق رکھنے پر نہیں۔

دوسرے یہ کہ نجات کا راستہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے وسیلے یا تعلق پر منحصر نہیں۔ وہ بہت سے انبیاؑ میں سے ایک تھے گو کہ آخری پیغمبر تھے۔ اس کے کچھ ایسے اہم مضمرات ہیں جن کو ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔

کیا ضروری ہے کہ نجات کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی تسلیم کیا جائے؟ میرا خیال ہے کہ اس سوال کے تمام پہلو اور اس پر مسلمانوں کے مختلف موقفوں پر تحقیق ابھی ہونا ہے۔ البتہ یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا نبی ہونا پہچان چکے ہیں (یعرفون) انھیں اپنی نجات کے لیے انھیں سچا نبی تسلیم کرنا چاہیے۔ دوسرا لفظ جو اس سلسلے میں استعمال ہوتا ہے وہ سَمِعُوْا ہے‘یعنی وہ جو انؐ کی باتیں سنتے ہیں۔ لیکن لفظ سَمَعَ (سننا) قرآن پاک میں سننے کے طبعی فعل کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ یقینا اس کی تعریف کرنے کی ضرورت ہے اور شاید قرآن سماعت میں قبولیت پر آمادگی کے لیے علم بھی شامل کرتا ہے۔

بہرکیف یہ دونوں الفاظ ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کو شامل نہیں کرتے جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام کبھی نہیں سنا۔ ظاہر ہے کہ نجات کا کوئی دعویٰ مطلق نہیں ہے۔ شاید اسی لیے الغزالی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و کرم بہت سے عیسائیوں اور ترکوں کے لیے بھی ہے۔ جن لوگوں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی نہیں پہنچا‘ ان کے پاس ایک جائز عذر ہے۔۳؎میرے خیال میں انھی باتوں کا اطلاق اسلام اور قرآن کے آخری وحی خداوندی ہونے پر کیا جا سکتا ہے۔

تیسرے یہ کہ جو بات بڑی اہم ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کے پیش نظر تمام نوع انسانی کو خداے واحد کی حاکمیت کے تحت لانا ہے۔ لیکن یہ اسے اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا کہ کسی خاص فرد یا جماعت کو اپنے خداے واحد کے تصور اور طریقۂ عبادت کی طرف لے آئے۔ اس کا کوئی ایسا الوہی منصوبہ نہیں ہے کہ تمام نوع انسانی کو لازماً اسلام کی طرف پھیر لائے یا مذہبی اقلیتوں کو اپنے علاقے سے نکال دے یا ان کا نام و نشان مٹا دے۔ شاید یروشلم میں صلیبیوں اور مسلمانوں کے داخلے کے وقت ان دونوں کے رویوں اور اقلیتوں کے مسائل کے مسلمانوں کے حل اور دوسروں کے حل میں فرق کی وجہ یہی ہے۔

چوتھی اور اہم بات یہ ہے کہ میری نظر میں اسلامی رویوں میں ان انسانی فیصلوں کا کہ کون سا شخص جنت میں جائے گا اور کون ہمیشہ کے جہنم میں‘ کوئی مقام نہیں ہے۔ درحقیقت سختی سے منع کیا گیا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے بارے میں پہلے ہی کوئی رائے قائم کرے۔ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ تمام مذہبی تنازعات کا فیصلہ کرے گا۔ ایک مسلمان خود اپنے بارے میں بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آیا اسے نجات حاصل ہوگی یا نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا: ’’ایمان بیم و رجا کے بین بین ہے‘‘۔

ایک دوسری اہم روایت میں آپ ؐ نے ایک ایسے گناہ گار شخص کا قصہ سنایا تھا جس نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے جسم کو جلا دینے اور اپنی راکھ کو بکھیردینے کی وصیت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ اکٹھی کی‘ اسے دوبارہ زندہ کیا اور اس سے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا: صرف تیرے خوف کی وجہ سے۔ اور وہ بخش دیا گیا۔

اس سلسلے میں حضرت عمرؓ کا یادگار قول خصوصی اہمیت کا حامل ہے: اگر روز قیامت میں یہ اعلان سنوں کہ سوائے ایک کے سب لوگ جنت میں جائیں گے تو مجھے یہ خوف ہوگا کہ یہ وہ شخص میں ہی نہ ہوں‘ اور اگر یہ اعلان سنوں کہ سوائے ایک کے سب لوگ دوزخ میں جائیں گے تو میں یہ امید کروں گا کہ وہ ایک شخص میں ہی ہوں گا۔ مسلم رویے کی اس سے بہتر اور دلکش نمایندگی نہیں کی جا سکتی۔

ہر مذہب کے اپنے اصولوں کی حقانیت پر قائم رہتے ہوئے‘ کیا اسلام میں نبوت کا تصور مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رہنے کے لیے کسی ایک اہم راستے کی نشاندہی کرتا ہے؟ مجھے امید ہے کہ بین المذہبی اجتماعات میں اس سوال کی طرف زیادہ توجہ دی جائے گی۔

نبی کریمؐ کی حیثیت کا تعین

ایک اور اہم اور متعلق سوال جسے ہماری گفتگو کے دائرے سے طویل عرصے کے لیے باہر نہ ہونا چاہیے یہ ہے کہ کیا آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کے سچے نبی تھے۔ وہ ان میں سے ایک تھے جن سے اللہ ہمکلام ہوا‘ اور جو انسانیت کے سامنے درست طور پر دعویٰ کرسکتے ہیں کہ اللہ نے یہ کہا۔ اس سوال کو مناسب الفاظ میں اس طرح پیش کیا جا سکتا ہے: ’’کیا قرآن اللہ کا کلام ہے؟‘‘ یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر واقعی اللہ کی وحی آتی تھی‘ مسلم نقطۂ نظر کا بیان ہے۔۴؎

کسی بین المذہبی نشست میں آسانی سے قرار دیا جا سکتا ہے کہ یہ پہلے ہی سے معلوم شدہ اور مسترد شدہ بات کا دعویٰ کرنے یا دہرانے سے زیادہ کی کوشش نہیں ہے‘ یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کسی کے اپنے عقیدے کی سچائی کی گواہی دینا اور تبلیغ کرنا ہے جس کا نتیجہ یا مذہب کی تبدیلی ہوگی یا اختلافات کی شدت میں اضافہ‘ بعض دفعہ اول الذکر‘ اور اکثر ثانی الذکر۔۵؎

مسلمانوں کے ساتھ ایک عشرے سے زائد کے مکالمے میں اس مسئلے (issue) کی گہرائی میں اترنے کی بجاے اس سے پہلو کیوں بچایا جاتا رہا ہے؟ عموماً بحث اس مثبت مسئلے کے اندر اترنے کے بجاے اس کے قریب ہی سے گزر جاتی رہی۔ اس طرح‘مکالمے کے لیے تیار کیے جانے والے تمام بیانات‘ قراردادوں اور رہنما خطوط میں اس کا جگہ نہ پانا قابلِ توجہ ہے۔ وٹیکن II کا ناسٹرا ایٹیٹ(Nastre etate) میں محمدؐ کا حتیٰ کہ اسلام تک کا تذکرہ نہیں ملتا۔ یا تو مذہبی مضمرات اس موضوع پر بحث میں مانع ہیں‘ یا اس راستے کو مختلف مذاہب کے افراد کے مابین دوستی کے لیے خطرات سے بھرپور سمجھا گیا‘ یا اس کے متوقع نتائج کی قدروقیمت اتنی مشکوک تھی کہ اس کے لیے کوشش نہ کی گئی۔

اگر ہم مذہبی افراد کی حیثیت سے بین المذہبی تعلقات کے لیے ایک ایسا فریم ورک تشکیل دینے کے لیے اپنے درمیان اتفاق و اختلاف کے دائروں کو تلاش کریں جو ہمیں ’’ایک عالم گیر دنیا‘‘ میں رہنے کے قابل بنا دیں تو ایسی صورت میں کیا ہمیں اس مسئلے سے زیادہ عرصے تک صرفِ نظر کرنا چاہیے؟اور کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں؟ یہ مستقبل کے کسی مذہبی مباحثے کے لیے جس میں مسلمان بھی شامل ہوں‘ ایک اہم سوال ہے۔ اگر شرکا خوف اور بے اعتمادی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے اور سنجیدگی سے غوروفکر نہیں کر سکتے اور کم سے کم یہ کوشش نہیں کرتے کہ ان اختلافات کو دُور کریں یا ان کے ساتھ زندہ رہنے کی کوشش کریں جنھوں نے ان کو پُرتشدد طور پر جدا کر رکھا ہے تو وہ بھلا ’’ایک عالم گیر دنیا‘‘… ایک مشترکہ انسانیت کے محبوب آدرش کی طرف پیش قدمی کی امید کیونکر کرسکتے ہیں؟ اگر مکالمہ اپنی بقا کے لیے ہے تو ان بنیادی مسائل پر مشترکہ گفتگو کے علاوہ کوئی راستہ نہیں جو ناقابلِ عبور دکھائی دیتے ہیں۔

مکالمے کی بنیاد

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم یہ امید کرلیں کہ کل صبح یا مستقبل قریب کی کسی صبح‘ اس مسئلے کا کوئی حل مل جائے گا۔ بے شک ہماری زندگی میں کوئی حل نہ ملے لیکن کیا ہمیں کبھی نہ کبھی ان مسائل پر کھلی بحث کی کوشش کا آغاز نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے باہمی جھگڑے اور فساد کی اصل جڑ ہیں۔ اگر ایسا ہونا ہے‘ تو آج ہی کیوں نہ ہوجائے؟ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ اس طرح شاید یہ مسئلہ حل نہ ہو۔ لیکن یہ کم از کم زیادہ سننے‘ زیادہ جاننے‘ زیادہ سمجھنے‘ زیادہ اعتماد و بھروسا‘ زیادہ دوستی اور شاید زیادہ قرب کی جانب رہنمائی کرے گا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دُوری کی خلیج کو کم اہمیت دی جا رہی ہے۔ کوئی بھی چیز اسلام کو دوسرے مذاہب بالخصوص یہودیت و عیسائیت سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور قرآن کے بارے میں اس کے دعویٰ سے زیادہ جدا نہیں کرتی۔ ایک طرف اس کے مضمرات دینی ہیں۔ سادہ طور پر بیان کیے جائیں‘ تو بے لچک دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی عیسائی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ سمجھے جو مسلمان سمجھتے ہیں تو وہ عیسائی نہ رہے گا۔ یہی بات یہودیوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے‘ اور اگر کوئی مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ سمجھنا چھوڑ دے جو وہ سمجھتا ہے تو وہ مسلمان نہیں رہتا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قطع نظر اسلام میں یہودیت اور عیسائیت سے اتنی بہت سی باتیں کم سے کم ظاہری طور پر مشترک ہیں کہ اسے بلاہچکچاہٹ یہودیت سے ماخوذ یا عیسائیت میں جڑیں رکھنے والا مذہب کہہ سکتے ہیں۔ بلاشبہہ بعض مغربی تحریروں میں یہودیت اور عیسائیت اس بارے میں مقابلہ کرتی نظرآتی ہیں کہ ان میں کون ولدیت میں زیادہ حصہ رکھتا ہے۔ اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کا کانٹوں بھرا مسئلہ نہ ہو تو ان میں سے کوئی بھی اس بچے کو گود لے سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ مضمرات معاشرے کے لیے اور ایک لادین شخص کے لیے جو صرف انسانی صورت حال ہی سے دل چسپی رکھتا ہے کچھ کم اہمیت نہیں رکھتے۔ اس لیے کہ جدید دور میں بھی مسلمان اپنی زندگیاں قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کے متمنی ہیں جن کی دائمی صداقت پر وہ ایمان رکھتے ہیں اور اس کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ مزیدبرآں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں اسلام کے تصور کی تشکیل میں انتہائی نمایاں۶؎،انتہائی مرکزی اور انتہائی اہم مقام ہمیشہ حاصل رہا ہے اور آج بھی ہے۔ مسئلہ کتنا ہی گمبھیر کیوں نہ ہو‘ قریب آنے میں مشکلات بلکہ ناممکنات کی نوعیت اور وسعت کیسی ہی ہو‘ ہم اس کام کو چاہے نتیجہ خیز نہ پائیں‘ روحانی‘ دینی اور عملی طور پر مفید اور تحرک خیز پائیں ضرور گے۔

مذہبی لحاظ سے ایک مسلمان کی حیثیت صاف اور واضح‘ حتمی اور غیرتغیر پذیرہے۔ میں اس حقیقت کو محض بیان کرنا نہیں چاہتا بلکہ ایک قدم آگے جانا پسند کروں گا۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے مسئلے پر مختلف نقطہ ہاے نظر تلاش کرنے اور متعین کرنے میں جو سوال اٹھیں ان کو متعین کرنے کی کوشش کروں گا خواہ میرے پاس کوئی قابلِ قبول جواب نہ بھی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ مسلمان اور دوسرے مذاہب کے پیروکار جو ایک دوسرے سے کھلے دل سے ملنے کے لیے تیار ہیں‘ ان مسائل کا سامنا کریں گے اور اپنے محدود دائرے کے اندر لکھنے اور بولنے کی بجاے مختلف نظریات اور سوالات پر آمنے سامنے گفتگو کریں گے اور ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سنیں گے۔ ذرائع اور حدود کار صرف وہ ہونے چاہییں جن پر ہم متفق ہیں۔ ان میں مغربی علمی روایت کے پروردہ زمرے‘ معیار اور ذرائع لازماً شامل یا باہر نہ ہونے چاہییں۔ بعض اوقات میں دیکھتا ہوں کہ قرآن پر ہی نہیں‘ بائیبل کے لوازمے پر بھی بعض مغربی طریقوں کا اطلاق خصوصاً ’انسان اورخدا‘ اور’خدا اور تاریخ‘ کے باہمی تعلق کے بارے میں پہلے سے طے شدہ تصورات پر مبنی قیاس آرائی سے زیادہ نہیں۔

نبوت کے تصور کا جائزہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے مسئلے کا جائزہ لینے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں:

اولاً: نبوت کا تصور ہی سائنسی طریقے کے خلاف ہے۔ کوئی خدا نہیں ہے اور اگر ہے تو اسے انسانی تاریخ میں مداخلت کی کوئی ضرورت یا حق نہیں۔ مغرب کا ایک عام فرد انسانی زندگی کے ہر پہلو کو حسی مشاہدات و معلومات‘ تاریخ‘ عمرانی اقتصادی‘ ثقافتی پس منظر اورماحول کی بنیاد پر وضاحت کرنا چاہے گا۔ ایسے اندازنظر سے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے مسئلے سے زیادہ وسیع اور گہرے ہیں۔

ثانیاً: اللہ انسان سے ہم کلام ہوتا ہے لیکن اللہ کی انسان سے ہمکلامی کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ یہ ہم بہت کم جانتے ہیں۔ اس زاویے کی جو تعبیر اسلام پیش کرتا ہے اور جیسا کہ یہودیت اور عیسائیت میں بھی سمجھا جاتا ہے (جسے گب ازمنہ وسطیٰ کی ترجمانی کہتا ہے) جدید سائنسی تصورِ جہاں کی روشنی میں قابلِ مدافعت نہیں ہے۔ اس کا یقینا یہ مطلب نہیں کہ انسان جو وصول کرتا ہے  وہ واقعتا اللہ ہی کے الفاظ ہیں۔ وہ کسی صورت میں ابدی نہیں ہیں۔ جو بھی تجربہ یا جذبہ ہو‘ وصول کنندہ کی اپنی شخصیت‘ معاشرتی حیثیت اور اس کے نظریۂ کائنات کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔ مثال کے طور پر عہدنامہ عتیق کے پیغمبر مسلمانوں کے عقیدہ وحی کے مطابق اللہ کا کلام وصول نہیں کرتے تھے۔ یہ طرزِفکر اگرچہ عام نہیں‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پیغمبر تسلیم کرسکتی ہے‘ لیکن پیغمبر کے اپنے تصور کے مطابق‘ نہ کہ اس طرح جس طرح مسلمان سمجھتے ہیں۔

ثالثاً: ہرچند کہ اللہ انسان سے ہمکلام ہوتا ہے‘اور تاریخ میں بھی اپنی ذات کی حد تک بھی مداخلت کرتا ہے‘ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک پیغمبر نہیں تھے۔ یہاں سے یہ طرزفکر دو راستوں میں بٹ جاتا ہے۔ اول: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے اللہ کا کلام سمجھا وہ ان کی اپنی اندرونی آواز تھی‘ جو ان کے اپنے معاشرے کے تجربات‘ اپنے معاشرتی ماحول پر غوروتفکر اور اللہ کے بارے میں انہماک اور اس سوچ و بچار کے نتیجے میں کہ عرب کیا چاہتے تھے‘ ان کے اندر سے اُٹھی تھی۔ وہ ایک مخلص لیکن خودفریبی میں مبتلا انسان تھے۔ دوم: وہ (نعوذباللہ) ایک جعلی شخصیت تھے۔ وہ اپنی تحریر کے مصنف تھے‘ جسے انھوں نے اپنے گردوپیش کے مختلف ذرائع سے حاصل کیا تھا اور اسے کلامِ الٰہی کہہ کر پیش کیا تھا۔

اس نظریے کی کہ وہؐ ایک مخلص انسان تھے اگرچہ پیغمبر نہیں تھے‘ دوسری ترجمانی جومیر (Jomier) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مسیحی نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے نسبتاً زیادہ قابلِ قبول اصطلاحات میں کی ہے۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم مذہبی راہنما قرار دیتا ہے جنھوں نے‘ جیسا کہ اس نے تصور کی وضاحت کی ہے، ’’زوال پذیر مذہب میں بہت سے مثبت اضافے کیے… وسیع منصوبۂ نجات میں کچھ اصلاحات کیں‘… انھیں ایک تاریخی مشن تفویض کیا گیا… (اور اپنے آپ کو) اور عیسائیوں کو مخاطب کیا‘ مؤخر الذکر کو اپنی اقدار اور تشخص کے کھو ڈالنے کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے‘‘۔۷؎

یہ تمام نقطۂ ہاے نظر کچھ سوال اٹھاتے ہیں جن پر ہم پھر کسی وقت بحث کریں گے‘ ان میں سے چند پر یہاں گفتگو کی جاتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ جو لوگ نبوت کی شکل میں وحی الٰہی پر یقین رکھتے ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا پیغمبر نہیں پاتے؟ ظاہر ہے‘ اس لیے نہیں کہ وہ اس تصور کو خلافِ عقل اور غیر سائنٹفک سمجھتے ہیں‘ بلکہ اس لیے کہ ان کا خیال ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس معیار پر پورے اترنے میں ناکام رہے ہیں جس پر کسی کو ایک سچے پیغمبر کی حیثیت سے قبول کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے یہ مناسب رہے گا اگر تحقیق و جستجو کو اس طور پر آگے بڑھایا جائے‘ معیارات کا تعین قطعیت سے کیا جائے‘ زیادہ تنقیدی نگاہ سے جائزہ لیا جائے‘ خصوصاً نبوت سے متعلق ان نظریات کی روشنی میں جو دو طرفہ طور پر قابلِ قبول ہوں خواہ وہ انجیل میں آئے ہوں یا قرآن میں۔اس کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات کو اس معیار پر پرکھا جاسکے گا۔ اس کا جواب اگرچہ نتیجہ خیز نہ ہوگا لیکن تحقیق مکمل طور پر بے فائدہ بھی نہ ہوگی۔

مزیدبرآں یہ نظریہ کہ ہرچند کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعوے میں سچے نہیں تھے اور جو کچھ انھوں نے کہا ہمیشہ سچ نہیں تھا‘ پھر بھی وہ انتہائی اخلاص کے ساتھ اپنی باتوں کے کلام الٰہی ہونے پر یقین رکھتے تھے‘ کیا اس بیان سے کہ وہ ایک مدعی کاذب تھے‘ زیادہ مضبوط ہے؟ ایک اندازنظرمصالحانہ اور مہذب ہے اور دوسرا مخالفانہ اور کھردرا۔ لیکن کیا ان کا آخری نتیجہ یکساں نہیں ہے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سچا نہیں تھا۔ اس پر جو کچھ سوچا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ باتیں ان کی حیات میں ان کے سامنے پیش کی گئیں اور قرآن نے بہت صاف طور پر وضاحت اور قطعیت سے انھیں مسترد کیا۔ یہ الزام کہ وہ جو کچھ اللہ سے منسوب کرتے تھے اللہ کی طرف سے نہیں تھا‘ اسے نہ صرف جھٹلایا گیا ہے‘ بلکہ قرآن کے ہرصفحے پر جھٹلایا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ مثبت بات کہ یہ من جانب اللہ ہے اسے بھی کم نہیں دہرایا گیا ہے۔ بیشتر قرآنی سورتوں کا آغاز ہی اسی واضح بیان کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ یقین کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۲۳ سال کی طویل مدت تک اپنے رسول ہونے پر اصرار کرتے رہے اور اس کے برعکس بات کی تردید ان الفاظ میں کرتے رہے جو وہ خدا کی طرف منسوب کر رہے تھے اور پھر بھی وہ ایک مخلص انسان تھے۔ جس وقت وہ اپنی زبان میں وہ کچھ تحریر کرنے میں مصروف تھے جس کی ہدایت ان کی اندرونی آواز دے رہی تھی یا وہ بیرونی ذرائع سے جانتے بوجھتے یہ مواد اکٹھا کررہے تھے‘ اس وقت اسی مسئلے پر دلائل میں مصروف تھے۔ تو کیا کوئی مخلص شخص ایسے تیزوتند تنازعات میں مصروف ہو سکتا ہے‘ جب کہ وہ اسی وقت اپنے آپ کو وہ کچھ ظاہر کر رہا تھا جو وہ حقیقتاً نہیںتھا۔ کیا وہ اپنے پیروکاروں کو ناقابلِ تسخیر ایمان سے مالا مال کر سکتا ہے اوران کی زندگیاں اپنے تصورات کے سانچے میں ڈھال سکتا ہے‘ جب کہ وہ تمام عرصہ غلط شناخت کا شکار رہے؟ یقینا غلط شناخت قرآن میں ایک تیزوتند استدلال کا سبب نہیں ہوسکتی۔ صرف ایک مدعی کاذب ہی اتنی ثابت قدمی کے ساتھ قطعی باتیں کرسکتا ہے۔

نبی کریمؐ کا زمانۂ نبوت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی بعض مسائل اٹھاتا ہے جن کا ہم جائزہ لے سکتے ہیں:

آپؐ ان تمام پیغمبروں کے آخر میں‘ جن پر یہود و نصاریٰ اور مسلمان ایمان رکھتے ہیں‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھی بعد تشریف لائے۔ یہ مذہبی نظریہ نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔ لیکن آپؐ نے کبھی تمام پیغمبروں سے بہتر اور اعلیٰ پیغمبر ہونے کا یا کسی تاریخی عمل کا نقطۂ عروج ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ یہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے‘ خواہ مسلمان انھیں ایسا مقام دیتے ہوں۔ قرآن مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ کہیں: ’’لانفرق بین احد من رسولہ‘‘۔ ایک مرتبہ کسی صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں مخاطب کیا: ’’یااشرف المخلوقات!‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ ابراہیم ؑ تھے… خلیل اللہ‘‘۔ ایک موقع پر آپؐ سے پوچھا گیا: ’’کس پیغمبر کا خاندان سب سے معزز و محترم ہے؟‘‘ آپؐ نے جواب دیا: ’’یوسف ؑکا خاندان۔ جو اس پیغمبر کے بیٹے تھے جس کا باپ بھی پیغمبر تھا‘ اور اس کے باپ ابراہیم ؑ خلیل اللہ تھے‘‘۔ ایک مرتبہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں اس بات پر جھگڑا ہوگیا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور موسٰی ؑ میں کون بہتر وبرتر ہے۔ یہ معاملہ آپؐ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپؐ نے سختی سے مسلمان کی سرزنش کی اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ موسٰی ؑ اور دوسرے انبیاؑ کے مقابلے میں انؐ کی ستایش اور مدح سرائی نہ کیا کریں۔ رچرڈبیل (Bell) جیسے لوگ اسے یہودیوں کی خوشنودی حاصل کرنے اور انھیں پرچانے کے لیے پریشان حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی تدبیر سے تعبیر کریں گے لیکن کیا مسلمانوں کا دوسرے انبیا علیہم السلام کے بارے میں رویہ ان تعلیمات کے سانچے میں ڈھلا ہوا نہیں دکھائی دیتا؟

ولفریڈ اسمتھ کا خیال ہے کہ یہ ایک انتہائی اہم بات ہے کہ کوئی مذہب زمانے کے لحاظ سے کسی دوسرے مذہب سے پہلے یا بعد آیا ہے۔ جو کسی کے بعد آئے وہ پہلے والے کے ساتھ سرپرستانہ رویہ رکھتا ہے۔ اس لیے عیسائیوں نے یہودیوںکی تمام کتب مقدسہ کو اپنی انجیل میں جمع کر لیا ہے۔۸؎ یہ تاریخی نقطۂ نظر مسلم رویے کے ایک پہلو کی توجیہہ کرسکتا ہے لیکن وسیع تر پہلو کی گنجایش چھوڑتا ہے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بنیادی تعلیمات‘زندگی اور مشن کے ساتھ عہدنامہ عتیق کے زمانے اور فضا میں پہنچا دیے جائیں تو وہ کیا ایک سچے پیغمبر سے بڑھ کر بھی کچھ ہوسکتے تھے؟

جدید اور قدیم کی بحث

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی نوعیت کا اسلامی نقطۂ نظر ‘ نہ کہ ان کی سچائی ہرچند کہ دونوں باہم دگر متعلق ہیں‘ ہماری توجہ ایک دوسرے اہم مسئلے کی طرف مبذول کرتے ہیں۔ وہ ہے اسلام کا سائنس اور ٹکنالوجی کے چیلنج پر ردعمل اور جدیدیت کے پیدا کردہ مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان جدیدیت کے مسئلے سے بہت قریبی طور پر منسلک ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے افراد سے ملاقاتیں کرنے اور ان چیلنجوں کو معلوم کرنے اور ان کے ممکنہ جواب دینے کے قابل نہ ہوں۔ جو چیز اس کام کو سہل بنائے گی وہ یہ ہے کہ جواب کو جدیدیت کی پہلے ہی سے دی گئی شرائط کی بنیاد پر نہیں دیا جانا چاہیے‘ جنھیں اس لیے قبول کیا جائے کہ یہ فی نفسہ درست ہیں۔ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے--- مجھے امید ہے کہ میں غلطی پر ہوں--- مذہبی اجتماعوں کے شرکا‘ ایسے طرزِعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جسے کسی نے کھردرے اور ناشایستہ لیکن صاف اور واضح الفاظ میں یوں بیان کیا ہے: ’’اسلام اور مغرب کے مابین کوئی مکالمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا‘ نہ ہوگا جب تک کہ اسلام عورت اور سزا کے بارے میں اپنی پوزیشن میں تبدیلی یا ترمیم پر آمادہ نہیں ہو جاتا‘‘۔ شاید استدلال اور تفہیم سے‘ بیان کرنے اور سننے سے مغرب اور اسلام ایک دوسرے سے زیادہ سیکھ سکیں گے۔

ایک ممکنہ جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے ہی سے طے شدہ سائنسی نظریے کے زیراثر اسلام اس حد تک باقی رہ سکتا ہے جس حد تک عیسائیت مغرب میں باقی رہی ہے۔ کیا انسانیت کے وسیع تر مفاد میں ہمیں اس امکان کو خوش آمدید کہنا چاہیے؟ کیا یہ نسلِ انسانی کے لیے بہتر ہوگا کہ اگر اسلام بھی اتنا کچھ کھودے جتنا کہ عیسائیت نے کھویا ہے اور صرف اتنا بچائے جتنا اس نے بچایا ہے؟ کیا یہ بدقسمتی نہ ہوگی کہ دوسرے مذاہب خود اپنے مختلف ردعمل دینے میں ناکام رہیں؟ ہم زیادہ بہتر صورت حال میں (richer) ہوں گے اگر ہر مذہب اپنا الگ ردعمل ظاہر کرے اور بالکل اس طرح کا ردعمل نہ دے جس طرح کا عیسائیت نے سائنس اور عقل پرستی‘ اثباتیت اور انسان دوستی کے نظریات کے پہلے حملے کے خلاف ظاہر کیا تھا۔ کیا یہ کوئی اچھی بات ہوگی کہ ہم تمام مذاہب کو محض ہر آن بدلتے رہنے والے تجربی علوم کی روشنی میں معتبر رہنے کے لیے بڑی بڑی تبدیلیوں سے گزرنے پر مجبور کریں؟ یہ انسانی زندگی میں مذہب کے کردار اور اصل مقصد کو ہی ختم کر دے گا۔

یہ تعین کہ ’قرون وسطیٰ ‘ کیا ہے اور ’جدید کیا ہے؟‘ ،’قرون وسطیٰ کا انسان کیا ہے‘ اور ’جدید انسان کیا ہے‘ اور ’جدید ذہنیت کیا ہے؟‘ یہ سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا کہ مغربی نظریات کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے دوسرے مذاہب کو اپنے جوابی اقدام کس طرح تشکیل دینا چاہییں۔ ظاہر ہے کہ قدیم اور جدید کے تصورات مغربی فکر کے پیدا کردہ ہیں جن کا ماخذ وہ خاص راستہ ہے جس پر مغربی تہذیب نے ترقی کی ہے۔ اگر جدیدیت حصولِ علم کے واحد ذریعے کے طور پر سائنٹفک اسلوب پیش کرتی ہے‘ اور اگر جدیدیت کا آغاز بقول ٹوئن بی اس طرح ہوا تھا کہ ’’مغربی انسان نے اللہ کا نہیں بلکہ خود اپنا شکر ادا کیا تھا‘‘ تب واقعتا قدیم ذہنیت سے جس کا اعلان تھا: الحمدللّٰہِ رب العلمین (تمام حمدوثناء اللہ کے لیے ہے)‘ جدیدیت تک روحانی سفر کرنا آسان نہ ہوگا‘ نہ ’ایک عالم گیر دنیا‘ کے مستقبل کے لیے ہی فائدہ مند ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ سائنس اور ٹکنالوجی نے مذہبی عقائد کے لیے بہت سے سنجیدہ چیلنج پیش کیے ہیں لیکن انسانیت کی بقا کے لیے ان کا چیلنج بہت زیادہ سنگین ہے۔ بلاشبہہ مذاہب کو اپنے نظامِ عقائد‘ وحی اور نبوت کے بارے میں اپنے نظریات‘ اپنی آسمانی کتابوں اور مذہبی لٹریچر‘ اپنے اخلاقی ضوابط اور انسانی زندگی کو منضبط کرنے کے اپنے دعوئوں کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کے مناسب اور قابلِ قبول جواب دینے کی عظیم ذمہ داری کا سامنا ہے۔ لیکن ٹھیک اسی وقت اس قبر سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش بھی‘ جوانسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے‘ ان کی کچھ کم ذمہ داری نہیں ہے۔

درپیش سنگین چیلنج

صرف سائنس اور ٹکنالوجی کو ہر اس مصیبت کی جڑ قرار دینا جس میں آج کل کا انسان مبتلا ہے مشکل ہی سے منصفانہ مؤقف قرار دیا جا سکتا ہے‘  لیکن شاید بغیر کسی خاص اختلاف کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سائنسی نقطۂ نظر سے پیدا ہونے والے نظریۂ ہاے حیات اور اخلاقی بندشوں سے آزاد ترقی کی اندھا دھند دوڑ نے اسے مکمل تباہی کی دہلیز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسے ہلاکت عظمیٰ کی خبر دینے والوں کی مایوسانہ باتیں کہا جا سکتا ہے لیکن انسانوں کی غالب اکثریت کو درپیش حد درجہ غربت اور افلاس‘ امیر اور غریب کے مابین گہری اور وسیع ہوتی خلیج‘ سلگتے ہوئے سیاسی قضیے‘ بڑھتے ہوئے بین الاقوامی قرضے‘ ان میں سے کوئی بھی یکایک پھٹ کر ہمیں ایک ناقابلِ تصور تباہی کے ’ہولوکاسٹ‘ کی طرف لے جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک انتہائی سنگین نوعیت کا چیلنج ہے جس کا سامنا اہل مذہب کو کرنا چاہیے۔ ان کے مذہب مختلف ہوسکتے ہیں لیکن خطرہ ان سب کے لیے مشترک ہے۔ مذہب پر قابو پانے کے لیے ایٹم بم آسانی سے بنایا جا سکتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اگر ایک مرتبہ اس کی تباہ کاریوں کے دائرے کو پھیلنے دیا گیا تو یہ اپنا شکار ہونے والوں میں ان کے مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کرے گا۔

اس چیلنج کا واحد جواب‘ انتہائی اختصار کے ساتھ یہ ہے کہ ہر زمانے میں دیے جانے والے اللہ کے پیغام کو سنا جائے:

میں نے ابراہیم کو منتخب کیا کہ وہ اپنے بیٹوں اور اپنی نسلوں کو میری اطاعت کی ہدایت دے اور حق و انصاف کی راہ دکھائے۔ (پیدایش ۱۸:۱۹)

سوائے میرے کسی خدا کی عبادت نہ کرو۔ اپنے لیے آسمانوں اورزمین پر اور زیرزمین پانی میں کسی چیز کے عکس پیدا نہ کرو۔ (متی ۵:۷-۸)

خلوصِ دل سے‘ اپنی روح اور ذہن کی پوری گہرائیوں کے ساتھ‘ اپنے مالک اللہ سے محبت رکھو۔ یہ اس کا سب سے بڑا اور اہم ترین حکم ہے۔ دوسرا سب سے بڑا اہم حکم یہ ہے کہ اپنے ہمسائے سے بھی ویسی ہی محبت رکھو جیسی کہ تم اپنے آپ سے رکھتے ہو۔ (متی ۲۲:۳۷-۳۹)

یہ مت سوچو کہ میںموسیٰ کے قانون اور دوسرے پیغمبروں کی تعلیمات منسوخ کرنے آیا ہوں۔ میں انھیں منسوخ کرنے نہیں آیا بلکہ ان کی تصدیق اور حقانیت واضح کرنے آیا ہوں۔ (متی :۵-۱۷)

آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے۔ (آلِ عمران ۳: ۶۴)

شاید ہم ایسے مسائل کا کوئی حل تلاش نہ کر سکیں جنھوں نے ہمیں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ ان پر گفتگو سے احتراز کا کوئی معقول عذر نہیں لیکن ہم کافی مشترکہ ماخذ دریافت کر سکتے ہیں تاکہ انھیں یکجا کریں۔ اس سلسلے میں ایک انتہائی چبھتا ہوا سوال ہمیشہ باقی رہے گا: کیا ہم مذہب تسلیم کرنے والوں کی حیثیت سے مل رہے ہیں‘ اور کیا ہمارا یہ ملنا اللہ کے ہماری زندگی کے لیے بنائے گئے منصوبے کے مطابق‘ جیسا کہ ہم اسے سمجھتے ہیں‘ زندگی گزارنے میں ہمارا معاون ثابت ہوگا۔


حواشی

۱- مثال کے طور پر دیکھیے مذکورہ بالا نوٹ (۵) اور برکت احمد Muhammad and Jews: A Reexamination نئی دہلی‘ ۱۹۷۹ئ)

۲-  ابوحامد الغزالی‘ فیصل ا لتفرقہ بین الاسلام والزندق (مرتب)‘ (سلیمان Dunya ‘قاہرہ‘ ۱۳۸۱ھ/۱۹۶۱ئ‘ ص ۲۰۶)

۳-  جان ہِک‘ God Has Many Names (دی مک ملن پریس‘ لندن ۱۹۸۰ئ)‘ ص ۸۵)

۴-  جان ہِک‘ Truth and Dialogue (شیلڈن پریس‘ لندن ۱۹۷۵ئ)‘ ص ۱۵۴۔

۵-  دیکھیے نارمین ڈینیل کی کتاب: Islam and the West: Making of an Image (ایڈن برگ یونی ورسٹی پریس‘ ایڈن برگ‘ ۱۹۶۰ئ)

۶- God Has Many Names حوالہ بالا‘ ص ۹۳۔

۷-  On Understanding Islamحوالہ بالا‘ ص ۲۹۳۔

۸-  (احمد وان ڈینیفر‘ Muhammad A Prophet or a Great Religious Leader?" ‘ امپیکٹ انٹرنیشنل‘لندن‘ ج ۱۰‘ شمارہ ۱۳‘ ۱۱-۲۴ جولائی ۱۹۸۰ئ)‘ ص ۲۔

ایک اسلامی تناظر

ترجمہ:  قاضی محمد اقبال /مسلم سجاد

خلاصہ: آج کی ’ایک عالم گیردنیا‘ جدید ٹکنالوجی کا ایک ایسا تحفہ ہے جس میں طرح طرح کی سہولتیں تو ہیں‘ لیکن اس نے مل جل کر رہنے کا کام سہل نہیں بنایا۔ گو‘ باہمی رابطہ پہلے کے مقابلے میں تیز تر ہوگیا ہے لیکن خود ہمسایوں کے درمیان میل ملاپ مشکل تر ہوگیا ہے۔ کیا مذہب ایک خدا کے کنبے کو متحد کر سکتا ہے؟ حق یا نجات کی حقیقت کیا ہے؟ اس مقالے میں‘ اسلام کے تصورِ نبوت کی روشنی میں انھی سوالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اسلام کا استدلال ہے کہ مذاہب کے سرچشمے الوہی ہیں۔ لہٰذا‘ ہدایت من جانب اللہ پر کسی خاص گروہ‘ نسل یا مذہب کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اسلام اس کا مدعی نہیں کہ تمام انبیا ؑ، اسلام کی وہی  شکل (version) لائے تھے جو آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کی۔ یہ مقالہ ہدایت  من جانب اللہ اور ایک انسانی وسیلے کی حیثیت سے نبوت کے تصور پر بحث کرتا ہے‘ اور نبوت کی تاریخ اور اس کی عالم گیریت اور تبدیلی مذہب کی ذمہ داری کی وضاحت کرتا ہے۔

تضادات سے بھرپور اس دنیا میں مل جل کر رہنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ تاہم‘ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان نہایت مفید کاموں میں سے ایک ہے‘ جو پیچیدگیوں سے بھرپور اور ہلاکت خیز حد تک خطرناک سہی‘ لیکن اس میں انسان اپنی تخلیق کے روزِ اول ہی سے سرگرم عمل ہے۔     ان کوششوں کا دائرہ طبعی لحاظ سے نہیں ہے کہ اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتے‘ اور نہ معاشرتی اعتبار سے ہے‘ کیونکہ معاشرتی روابط کے بغیرانسانی زندگی کا تانا بانا نہیں بُناجاسکتا۔ یہ قلب و ذہن کا دائرہ ہے: میل ملاپ‘ افہام و تفہیم‘ باہمی تعاون اور اس دنیا میں مل جل کر امن و امان اور محبت کو عام کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ اندیشوں اور ناکامیوں کے باوجود اس عظیم کام میں آدم و حوا کے   بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے ناقابلِ مزاحمت کشش موجود رہی ہے۔ مل جل کر رہنے کی مشکلات نے انسانی خواہشات اور جدوجہد کو اکثر حیرانی اور مایوسی سے دوچار کیا ہے‘ لیکن اس کے لیے کوشش کو کبھی ترک نہیں کیا گیا‘ اگرچہ یہ حقیقت سے زیادہ ایک خواب‘ اور کارنامے کے بجاے ایک تمنا   رہی ہے۔

تخلیق کے ہر اظہار میں تنوع لازماً ہوتا ہے لیکن وحدانیت اس کا منبع اور جوہر ہے۔ اگر اسی تنوع سے آدمی یہ سیکھنے کے لیے آمادہ ہو کہ وہ کس راستے پر چل کر اپنے خالق کو تلاش کرے اور اس تک پہنچے‘ تو اس جستجو میں مایوس ہونے کا کوئی جواز نہیں:

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں۔ شاید کہ تم اس سے سبق لو (کہ خدا ایک ہے)۔ پس دوڑو‘ اللہ کی طرف۔ (الذاریات ۵۱:۴۹-۵۰)

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدایش اور تمھاری زبانوں اور تمھارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کے لیے۔(الروم ۳۰:۲۲)

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے۔ پھر اس کے ذریعے سے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں‘ جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ پہاڑوں میں بھی سفید‘ سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں‘ جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں‘ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں۔ (فاطر ۳۵:۲۷-۲۸)

باہم مل جل کر رہنے میں جو بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں‘ ان میں مذہب‘ خصوصاً زیادہ مانے جانے والے مذاہب اور عقائد کے اختلاف کو عرصۂ دراز سے اہم ترین قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے۔ ان عقائد کو تشدد اور تنازعات پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے‘ تاہم مغرب میں ’روشن خیالی‘ کے دور نے اس تصور کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عقلی و ذہنی ارتقا سے قطع نظر بعض تاریخی وجوہ نے بھی مغربی فکر میں مذہب کے اس تصور کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیا کا کوئی خطہ بھی اس سے مبرا نہیں کہاجاسکتا‘ لیکن یورپ خصوصی طور پر مذہب کے نام پر شدید تشدد کا منظرنامہ پیش کرتا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت جب مختلف عقائد کی حامل مختلف اقوام مختلف علاقوں میں مل جل کر رہ رہی تھیں‘ یورپ مذہبی بنیادوں پر جنگوں اور مذہبی اقلیتوں پر’ہسپانوی حل‘ ] مذہبی تطہیر[ مسلط کرنے میں مصروف تھا۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۰ء میں بھی اس کے نزدیک مذہبی اختلافی مسئلے کا حل اقلیتوں کا صفایا یا مکمل جلاوطنی ہی قرار پایا ہے] جیساکہ بوسنیا میں مظاہرہ کیا گیا[۔ یہی سب سے بڑا سبب ہوسکتا ہے کہ مذہبی تکثیریت (pluralism) کی حقیقت اور اس کے مطالبات سے ہم آہنگی کی ضرورت‘ جو صدیوں سے بہت سے لوگوں کے نزدیک زندگی کی ایک حقیقت کے طور پر چلی آرہی ہے‘ مغرب پر اب اتنی دیر بعد منکشف ہوئی ہے۔

اتحاد انسانی میں مذہب کا کردار

سوال یہ ہے کہ بنی نوع انسان کو متحد کرنے میں آج مذہب کیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے؟

اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذہبی شخصیتوں کے باہمی مکالمے کی ضرورت ایک بڑا چیلنج ہے‘ خواہ اس مکالمے کی ابتدا مغرب کی طرف سے ہو۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تمام مذاہب کو ایک سائنسی نقطۂ نظر کی سطح پر لانے کا خبط بھی مغرب ہی کی پیداوار ہے‘ بجاے اس کے کہ ایک ایسا خاکہ تیار کیا جائے جو الہامی مذاہب کی حیثیت سے ان کے الگ وجود کو تسلیم کرے۔

اس حقیقت کو واضح طور پر تسلیم کرنا چاہیے کہ مذہبی عقائد نے بنی نوع انسان کو تقسیم کرنے میں کوئی بڑا یا فیصلہ کن کردار ادا نہیں کیا۔ دراصل دوسرے عقائد (لادینیت‘ قوم پرستی وغیرہ) نسلِ انسانی کی بقا کے لیے بڑے خطرے بن گئے ہیں۔ یہ عقائد کسی آسمانی خدا کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ انسان کی خدائی میں روبہ عمل ہیں۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ ’روشن خیالی‘ کے جڑواں بچوں‘ یعنی لادینیت اور قوم پرستی کے پیدا کردہ تشدد کے سامنے مذہب کے جرائم ماند پڑ جاتے ہیں۔ ذرا دیکھیں کہ دونوں عظیم جنگوں کے دوران‘ ہیروشیما اور ناگاساکی پر‘ اس کے بعد کوریا اور ویت نام‘ ہنگری اور چیکوسلوواکیہ پر اور اب سابق یوگوسلاویہ ]اور افغانستان اور عراق[ پر کیا گزر رہی ہے؟ قوم پرستی یا نسل پرستی کی قربان گاہوں پر‘ ترقی اور توسیع پسندی کی ناقابلِ تسکین پیاس اور نام نہاد انسان پرستی اور سائنسی طریقۂ کار کی کوکھ سے پیدا ہونے والے نظریات کے لیے جو خون بہایا گیا ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی حساب نہیں لگایا جا سکتا۔

’ایک عالم گیر دنیا‘ کے ظہور نے‘ جو ٹکنالوجی کی متنوع برکات کا تحفہ ہے‘ مل جل کر رہنے کے کام کو آسان نہیں بنایا۔ اس سے قبل مشکلات اور خطرات ایسے مشکل اور گمبھیر نہ تھے جیسے کہ اب ہیں۔ فاصلوں کے سمٹ جانے کے عمل نے لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب نہیں کیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ آواز کی رفتار سے ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ خیالات‘ تصورات اور اطلاعات کو ایک لاکھ ۸۶ ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرئہ ارض کے پار پہنچایا جاسکتا ہے۔ پھر بھی صدیاں گزرنے کے باوجود باہمی محبت‘ فہم و ادراک اور خیرخواہی کے جذبات ایک پڑوسی سے دوسرے پڑوسی تک نہیں پہنچے ہیں۔ امرواقعہ یہ ہے کہ میں‘ ولفریڈ کانٹ ویل سمتھ کی رجائیت پسندی اور خوشی میں شریک ہونا مشکل سمجھتا ہوں۔ جب وہ یہ کہتا ہے کہ   ’فی الحال کم سے کم تشدد‘ باہمی چپقلش اور نفرت سے چھٹکارا پا لیا گیا ہے یا پایا جا سکتا ہے‘ اور تنہاپسندی اور جہالت جلدی ختم ہونے والی ہیں۔ ماضی میں تہذیبیں ایک دوسرے سے بے نیاز رہیں‘ اب ایسا نہیں ہے۔ ہم تفصیلی طور پر ایک دوسرے سے آگاہ ہوچکے ہیں اور مذہبی اور  ثقافتی سطح پر بھی تدریجاً آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔۱؎

آیئے! لوگوں میں پائے جانے والے سیاسی‘ ثقافتی اور نسلی فاصلوں کو ایک لمحے کے لیے نظرانداز کر دیں اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں پر نگاہ ڈالیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ واقعتاً یا استعارۃً قریب کے پڑوسی ہوں اور ایک دوسرے کے بارے میں مکمل معلومات کتابوں کی الماری میں موجود ہوں‘ لیکن عدمِ واقفیت پہلے ہی کی طرح غیرمعمولی ہے۔ آگاہی پہلے ہی کی طرح بہت کم ہے‘ اور حقیقی علم تاحال ایک دور کا خواب معلوم ہوتا ہے۔ میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کسی غیرمسلم کی‘ خواہ وہ کتنا ہی عالم و فاضل کیوں نہ ہو‘ جو بھی تحریر اٹھاتا ہوں‘ اسے پہلے سے تشکیل شدہ تصورات‘ مضحکہ خیز خاکوں‘ لاعلمی حتیٰ کہ تعصبات سے بھرپور پاتا ہوں۔ غیرمسلم جب کسی مسلمان کی تحریر پڑھتے ہوں گے تو ان کے بھی اسی طرح کے تاثرات ہوتے ہوں گے۔ کیا ہم سب اپنے آپ کو اور دوسروں کو رنگ دار شیشوں سے دیکھتے ہیں؟ معلوم ہوتا ہے کہ اب‘ جب فاصلے سکڑرہے ہیں‘ ذہنوں‘ دلوں اور رویوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ تناسب بالمعکوس ہوں۔

یقینا مذہب بنی نوع انسان میں تفرقات پیدا کرنے اور خون بہانے کا اصل ذمہ دار نہیں۔ بلکہ اگر مناسب طریقہ اختیار کیا جائے تو اب بھی یہ واقعی ’ایک عالم گیر دنیا‘ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے‘ یعنی ایک ایسے عالم گیر معاشرے کا قیام جو ایک ’خدا کے کنبے‘ کی طرح زندگی گزارے۔ کیا مذہب اس دعوے کو کچھ قریب لا سکتا ہے؟ بنی نوع انسان کی بقا کو جو چیلنج درپیش ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ اسے یہ کوشش ضرور کرنی چاہیے۔

بین المذاہب مکالمہ

اس حوالے سے مذہبی شخصیتوں کے لیے اپنے ماضی‘ حال اور مستقبل پر بحث و مباحثے کے لیے ایک اجلاس کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ ایسے اجلاس یا مکالمے کا مفید اور معنی خیز ہونا شرکا پر منحصر ہوگا لیکن اس کی اصل اہمیت یہ ہوگی کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے اکٹھے ہوکر‘ کھل کر اپنے مماثلات اور تضادات‘ اپنے تاریخی اور حالیہ تعلقات کی حرکیات اور ان خاکوں‘ مثالیوں اور مفروضوں پر غور کریں جو ان کے باہمی رشتوں سے تعلق رکھتے ہوں اور جو اُس الہامی دانش کے خزانے سے اخذ کردہ ہوں‘ جو ان سب کے پاس ہے۔

اس کا مقصد ایک عالمی مذہب‘ یا کلی یکسانیت یا ہمہ گیر ہم آہنگی نہیں جیسا کہ اس سے قبل بیشتر لوگوں نے اپنے مکالمات میں بیان کیا ہے۔ میری رائے میں اس کا لازماً یہ مطلب بھی نہیں کہ مذہباً تبدیل ہوا جائے لیکن اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ ایک دوسرے کے ورثے کے بارے میں ایک بہتر نگاہ حاصل کرلی جائے‘ اور باہم اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ بنیادوں کو تلاش کیا جائے‘ نیز یہ معلوم کیا جائے کہ کیا کچھ بجا طور پر خود ہمارے ورثے کا جزو ہے۔

تاہم‘ اگر ہم بہت واضح اور مشترک باتوں کے علاوہ دیگر امور کو اس خوف سے تسلیم کرنے سے انکار کر دیں کہ اس کا مطلب تبدیلیِ مذہب ہوگا‘ اورہم اپنے اختلافات کی اصل نوعیت کا کھوج لگانے اور اس پر بحث کرنے سے اس خوف سے ہچکچائیں کہ اس سے ہماری دوستیاں اور رفاقتیں متاثر ہوں گی اور اپنی مذہبی صداقتوں کے بارے میں ہمارے بیانات کو وعظ سمجھ لیا جائے گا‘ تو اس طرح ہمارے بین المذاہب مکالمے کا ایک اہم مقصد پسِ پشت چلا جائے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اگر ہم مشترکہ مقاصد کے لیے بعض امور پر متفق ہوکر جدوجہد کریں تاکہ باہمی تعلقات اور عام انسانی حالت میں بہتری پیدا ہو‘ تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اگر اس طرف توجہ نہ کی گئی تو سیاسی اور لادینی تنازعات جو آج ہمارے درمیان پُرتشدد تفریق پیدا کر رہے ہیں‘ وہ مذہبی اختلاف سے بھی زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔ یہ عموماً مذہبی اجلاسوں کے ایجنڈے میں جگہ نہیں پاتے۔ ایس جے سمارتھا کہتی ہیں: مذہبی شخصیات کے اجلاس کا اہم ترین مقصد یہ ہوگا کہ وہ ہمارے مخصوص ورثوں کے ماخذ کا تعین کرے اور ان کی ایسی تعبیر کرے جو ہمیں ساتھ رہنے میں مدد دے، ۲؎کیونکہ ہم ایک مشترک مستقبل میں حصہ دار ہیں۔ ساتھ رہنے کے لیے اتنا ہی‘ یا اس سے بھی زیادہ اہم‘ ان ماخذ کا تعین ہو سکتا ہے جن میں ہم حصہ دار ہیں‘ جو ہمارے لیے مخصوص نہیں ہیں لیکن یہ ہمارا مشترکہ ورثہ بن گئے ہیں۔ بڑے اور سنگین قسم کے اختلافات اور بے شمار تنازعات کے باوجود ایسے ماخذ قلیل نہ ہوں گے‘ اور آج بین المذاہب تعلقات قائم کرنے کے لیے ان کی تلاش‘ ہو سکتا ہے کہ‘ بہ نسبت کسی اور چیز کے‘ زیادہ ثمرآور ثابت ہو۔

مختلف مذاہب کی مشترک بنیاد

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہودیت‘ عیسائیت اور اسلام میں بہت سی باتیں مشترک ہیں اور اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں ایسے مزید ماخذ ملیں۔ لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا ہیں اور رہے ہیں۔ شاید ہم اسی لیے محاذ آرا ہیں کہ ہم میں مشترکات بہت ہیں۔ یہ بذاتِ خود تحقیق کا ایک دل چسپ موضوع ہو سکتا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے بڑے مذاہب کے ساتھ مشترک ماخذ کی تلاش و جستجو کو بھی کچھ کم ثمرآور ثابت نہ ہونا چاہیے‘ اگر ہم صرف یہ کام کریں کہ تاریخ نے ان پر جو تہیں چڑھا دی ہیں ان کو اتار دیں‘ اور ان کی تہ میں پوشیدہ زبان اور علامات کے پس پردہ اصل مطالب نکال لیں۔ ہمیں ان تین مذاہب کے بارے میں بھی یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ان میں کیا چیز مشترک ہے‘ تاکہ ان طریقوں کے بجاے جو خود انسانی ذہن نے اللہ تک رسائی کے لیے اختیار کیے ہیں۔ ان طریقوں کو معلوم کیا جائے جو اللہ نے انسانی ذہن کو اپنے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سکھائے ہیں  (یہ بجاے خود ایک بدیہی مفروضہ ہوگا جو دوسرے کے خلاف ہوگا)۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک بڑی دل چسپ مشق ثابت ہو۔

اگر ہم مذہب کے ماخذ کی تعریف اس کے صحیفے‘ اس کی روایات‘ اس کی تاریخ‘ اس کی ثقافت‘ اس کی موروثی دانش‘ اور اس اصول کی روشنی میں کی جائے جو اس نے دوسرے مذاہب کی اقوام سے اپنا رشتہ یا تعلق استوار کرنے کے لیے استعمال کیا ہے‘ تو مجھے یہ بات جرأت سے کہہ ڈالنی چاہیے کہ یہودیت‘ عیسائیت اور اسلام جو مشترکہ سرمایہ رکھتے ہیں‘ اس میں کوئی بات اتنی مشترک اور ان کے لیے ایسی لازمی اہمیت کی حامل نہیں ہے جتنی کہ نبوت کا ادارہ اور بعض انبیا علیہم السلام کی شخصیات۔ انبیا علیہم السلام بحیثیت ایسے انسان جن سے اللہ ہمکلام ہوا اور جنھیں اللہ نے انسانوں کو یہ سکھانے کے لیے مبعوث کیا کہ اللہ کی عبادت کیسے کی جائے‘ ہمارے مذاہب میں اتنا اہم اور نمایاں مقام رکھتے ہیں کہ شاید ’مشترکہ وسیلے‘ کے طور پر نبوت سے زیادہ کوئی چیز ہماری توجہ کی محتاج نہیں۔

یہ صحیح ہے کہ اس معاملے میں ہمارے درمیان بنیادی اور سنگین قسم کے اختلافات موجود ہیں۔ ایسے اختلافات جو غالباً دوسری چیزوں سے بڑھ کر ہمارے تنازعات کا باعث رہے ہیں۔ ایک طرف ہم نبوت کے استدراک میں اختلاف رکھتے ہیں‘ خصوصاً عیسائی فہم کے مطابق ’’یسوعؑ کی گواہی ہی نبوت کی روح ہے‘‘۔ مسلمان ایک محدود مفہوم اور اپنی تعبیر کے مطابق شاید اس نظریے سے کچھ ہمدردی رکھتے ہیں‘ مگر یہودی ہرگز اس پر راضی نہ ہوں گے۔ دوسری طرف ہم اس ضمن میں شدید اختلاف رکھتے ہیں کہ حقیقی اور سچا نبی کون ہے؟ جب بات حضرت عیسٰی ؑ اور آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اسلامی نقطۂ نظر تک پہنچتی ہے‘ تو ہم دو مختلف کناروں پر پہنچ جاتے ہیں۔ عیسائی اور یہودی دونوں اسلامی نقطۂ نظر سے ہرگز اتفاق نہیں کر سکتے۔ یہ اختلافات ہمارے مذاہب میں کچھ کم اہمیت نہیں رکھتے۔ البتہ اگر ہم اعتماد اور بھروسے کے ساتھ مذہبی شخصیات کی حیثیت سے‘ مفید نتائج کے لیے میل جول جاری رکھنے کے متمنی ہوں تو ان ماخذ کی باہم جستجو کو‘ جن میں ہمارا مشترکہ حصہ ہے‘ خواہ یہ اشتراک اتفاق میں ہو یا اختلاف میں‘ زیادہ عرصے تک معرض التوا میں نہیں ڈالے رکھنا چاہیے۔

پہلے قدم کے طور پر کچھ دیر کے لیے ہمیں فی الحال اس سوال کو ایک طرف اٹھا رکھنا چاہیے کہ کون نبی تھا‘ اور اس ادارے کے بنیادی خدوخال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو ہم سب اپنی روایات میں بھرپورطریقے سے موجود پاتے ہیں۔ کیا یہ سودمند نہ ہوگا کہ ایک ایسے موضوع کا مطالعہ کیا جائے جو کسی ایسے نمونے یا خاکے کی بنیاد فراہم کر سکے جس پر ہم ’ایک عالم گیر دنیا‘ کے مذاہب میں رشتوں کی تعمیر کر سکیں۔ اس امید پر کہ یہ ممکن ہے‘ میں اس مقالے کے بیشتر حصے میں ان موضوعات پر گفتگو کروں گا جو اسلام میں نبوت کے تصور کے مطالعے کے دوران واضح ہوتے ہیں۔

ایسا کرتے ہوئے میں خصوصی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کی تعلیمات پر انحصار کروں گا۔ صرف اس لیے نہیں کہ میں ایک مسلمان ہوں‘ بلکہ اس لیے بھی کہ میرے خیال میں قرآن اس ادارے کے بنیادی خدوخال سے بہت جامع اور تفصیلی بحث کرتا ہے‘ اور اس طرح ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم ایک مربوط اور مکمل نظریہ تشکیل دے سکیں۔ جو کچھ انبیا علیہم السلام نے کہا یا کیا‘ جس کا انجیل میں بڑی تفصیل سے اور بڑے مؤثرانداز میں تذکرہ موجود ہے‘وہ بھی ایک قیمتی ماخذ ہوگا۔ میرا مقصد یہ ہے کہ اس اہم دائرے میں قرآنی بصیرت کو ایک بین المذہبی گروہ کے سامنے تنقیدی جائزے کے لیے پیش کروں۔

نبوت کے موضوع پر علماے یہود و نصاریٰ کے مطالعوں کی کمی نہیں ہے۔ مگر وہ زیادہ تر عہدنامہ عتیق تک محدود رہتے ہیں اور یہ قابلِ فہم بھی ہے۔ اپنی محدود تحقیق و جستجو کے دوران  نبوت کے قرآنی نقطۂ نظر کا کسی غیرمسلم کا تفصیلی مطالعہ میری نظروں سے نہیں گزرا‘ سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بحیثیت پیغمبر مطالعے کے‘ جو ہمیشہ ایک ہی حتمی نتیجے پر پہنچتا ہے۔ زیادہ تر لکھنے والے خدا سے گزر کر اسلام میں نبوتؐ کے موضوع کو چھیڑے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آجاتے ہیں‘ حالانکہ قرآن اس پر اتنا زیادہ زور دیتا ہے۔ اس صورت حال پر تعجب ہوتا ہے کیونکہ غیرمسلم اہلِ علم نے قرآن کے اٹھائے ہوئے اکثر چھوٹے اور معمولی اہمیت کے حامل معاملات پر بھی تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔

مغربی اہلِ علم کی طرف سے مطالعے کے اس میدان کی طرف اتنی کم توجہ کیوں دی گئی؟ اس سوال کا کوئی مکمل جواب نہیں ہو سکتا۔ شاید قرآنی نظریہ اس لیے مسترد کر دیا گیا کہ عقلی اور مذہبی لحاظ سے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یا اس لیے کہ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیش کردہ ایک ایسی چیز کے طور پر دیکھا گیا ہے جس سے ان کے دعویٰ (نبوت) کو تائید مل جائے‘ اور ان کی پوزیشن کو اپنے مخالفین کے مقابلے میں سہارا مل جائے‘ یا شاید مغربی اہلِ علم قرآن میں عرب تاریخی تناظر کی کمی کی طرف زیادہ متوجہ رہے ہیں‘ اور اس حیرت میں مبتلا رہے ہیں کہ گذشتہ انبیاؑ کے ناموں کا مختلف جگہوں پر مختلف ترتیب کے ساتھ کیوں تذکرہ کیا گیا ہے‘ اور انھیں ایک صاف اور واضح تاریخی سلسلے کی صورت میں کیوں نہیں بیان کیا گیا‘ جیسا کہ ایک انسان سے بحیثیت مصنف کرنے کی امید کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدریجی اور قدیم تاریخی معلومات کو بائبل سے ماخوذ ثابت کرنا چاہتے تھے۔

قرآن کے ساتھ رویہ

قرآنی بیانات میں نہ صرف ہدایت ربانی اور نبوت کا ایک خاص نقطۂ نظر موجود ہے‘ بلکہ انسان کی ابتدا اور انسانی مذہبی تاریخ کا نظریہ بھی موجود ہے جو مغرب کے بیشتر اہلِ علم کے لیے خوف اور ناراضی کا باعث ہے۔ اپنے روایتی علم وفکر پر مضبوطی سے جمے ہونے کی وجہ سے یہ ان کے نزدیک اس حد تک ناپسندیدہ ہے کہ وہ اس پر دوسری نظر ڈالنا بھی پسند نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک یہ سب کچھ ساتویں صدی کے ایک اَن پڑھ عرب کی طبعی سائنسی علوم‘ تاریخ اور فلسفہ کے میدان میں‘ جو اب اتنی ترقی کرچکے ہیں‘ خلل اندازی ہے اور یہ بھی اس طرح کہ اس کے پیچھے کوئی حتمی یا فیصلہ کن یا غالب تجرباتی شہادت کا وزن نہیں ہے۔

مجھے یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ قرآن جو کچھ کہتا ہے اس کی تائید میں ابھی تک کوئی حتمی یا اغلب تجرباتی شہادت موجود نہیں ہے‘ لیکن کیا اس کے خلاف کوئی حتمی شہادت موجود ہے؟ کم از کم مجھے تو اب تک ایسی کوئی شہادت نہیں ملی اور نہ مجھے انسان کے آغاز کے حوالے سے ارتقا کے نظریے کے حق میں‘ یا مذہب کی تاریخ کے حوالے سے فطری مذہب سے لے کر نبوی مذہب تک‘ یا بہت سے خدائوں پر عقیدے سے لے کر ایک خدا پر ایمان تک کے حق میں‘ کسی قسم کی حتمی شہادت ملی ہے۔ اس امرسے قطع نظر کہ اگر کوئی حتمی شہادت کبھی میسر آ بھی جائے جس سے سائنسی طور پر کسی سچائی کو ثابت کر دیا جائے یا اگر سائنس حتمی صداقت تک پہنچانے کا دعویٰ کرتی ہے‘ پھر بھی یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ تاریخ کے کسی خاص مرحلے پر کیا دستیاب تاریخی شہادت کو حتمی طور پر قبول کر لیا جائے تاکہ علم کی ہر دوسری شاخ کو اس کے خاکے میں فٹ کر دیا جائے اور اسی کے مطابق اسے قبول یا رد کیا جائے؟ اگر قرآنی نظریے کے چند اہم عناصر کی تائید میں خاطرخواہ تجربی دلائل فراہم ہوجائیں تو میں جو تجویز پیش کرنا چاہوں گا وہ یہ ہوگی کہ یہ نظریہ اگرچہ میرے ایمان کی بنیاد ہے‘ پھر بھی اس کو تین سوالات کی روشنی میں ایک مفروضہ یا اندازہ سمجھا جائے۔ (الف) اسے غلط ثابت کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ (ب) کیا یہ قابلِ عمل ہے اور کسی معلوم شہادت کی توجیہہ کرتا ہے؟ (ج) کیا یہ ’ایک عالم گیر دنیا‘ میں بین المذہبی تعلق کے خاکے کو اجاگر کرنے کے لیے کارآمد ہے؟ تحقیق و جستجو کا ایک سائنسی راستہ یہ بھی ہے کہ ایک مفروضہ تیار کر لیا جائے اور دیکھا جائے کہ کیا موجودہ صورت حال میں اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔

قرآنی نظریے کو اسلام کا اس طرح کا سادہ لیکن شدید موقف قرار دے کر بہ نظر حقارت دیکھا جاتا ہے جو اپنی صداقت کے ثبوت اور آخری مذہب ہونے کی اپنی حیثیت کی بنیاد پر    نوع انسان کی کُل مذہبی تاریخ پر اپنی چھاپ چاہتا ہے۔ یہ ایک نقطۂ نظر ہوسکتا ہے‘ لیکن ایک دوسرا نقطۂ نظر بھی ہو سکتاہے۔ قرآن دعویٰ کرتا ہے کہ پہلا انسان نبی تھا‘ مسلم تھا‘ اس کا مذہب اسلام تھا‘ اور یہ کہ سب نبی مسلم تھے اور وہ اسلام ہی لے کر آئے تھے۔ اس دعوے سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ بعض ایسے اہم مذہبی مقدمات پیش کر رہا ہے جو نجات‘ انفرادیت اور عروج کی طرف رہنمائی کرنے کے بجاے ’ایک عالم گیر دنیا‘ میں مختلف مذاہب کے اکٹھے رہنے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

اسلامی نظریہ: بنیادی نکات

اسلامی نظریہ جن نکات کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ یہ ہیں:

ا-             تمام مذاہب کا ماخذ الہامی یا آسمانی ہے۔ لہٰذا الہامی رہنمائی پر کسی خاص گروہ‘ نسل یا مذہبی مسلک کی اجارہ داری نہیں ہے۔

ب-           مختلف ہونے کے باوجود تمام مذاہب کے کچھ عناصر مشترک ہونے چاہییں کیونکہ ان سب کا آغاز ایک ہی منبع سے ہوا ہے۔

اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ اسلام کا ہرگز یہ دعویٰ نہیں ہے کہ تمام انبیاؑ اسلام کی وہی صورت (version) لائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے۔ وہ ایک بہت سادہ پیغام لائے جو اسلام کا اصل جوہر ہے‘ یعنی:

ا-             اللہ ایک ہے۔ صرف اسی کی عبادت کرو اور صرف اسی سے ڈرو۔

ب-           میری پیروی کرتے ہوئے بھلائی کرو اور برائی سے بچو۔

اب ہم نبوت کے اسلامی تناظر پر ایک سرسری نظر ڈال سکتے ہیں۔ اس کی بنیاد اور حقیقت کیا ہے؟ اسلام اس کو انسان کی زندگی کے سارے منصوبے میں کیا مقام دیتا ہے؟ اس کے بڑے اور اہم خدوخال کیا ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ خداے واحد کی دنیا میں مذہبی تکثیریت کی قبولیت کے کس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے؟ ہم یہاں آزادی فکر کے فلسفیانہ مضمرات پر زیادہ بحث نہیں کریں گے۔ ہم تو ایسی واضح اور قابلِ فہم اصطلاحات میں بات کریں گے جو ایک عام آدمی کی سمجھ بوجھ کے مطابق ہوں۔ مثال کے طور پر: ’اللہ کا وجود ہے‘ اس کے مخاطب فلسفی اور اہلِ علم نہیں بلکہ عام انسان ہیں جو مل جل کر رہنے کے مسائل سے نبردآزما ہیں۔ اہلِ علم کی اہمیت سے انکار نہیں‘ لیکن فی الحال وہ انتظارکرسکتے ہیں۔

ربانی رہنمائی

نبوت کے اسلامی نظریے کی ساری بنیاد اس پر ہے کہ خدا صرف ایک ہے۔ صرف وہی ہمیشہ کی زندگی کے بارے میں سوالات کے جوابات کی طرف ہماری رہنمائی کرسکتا ہے۔ انسانی زندگی کا مفہوم اور مقصد کیا ہے؟ اس کا آغاز کیسے ہوا؟ اور یہ ہم کو کہاں لے جاتی ہے؟ ان کے جوابات کی روشنی میں انسان اپنی زندگی کو کیسی شکل دے اور کس طرح گزارے؟ یا مذہبی زبان استعمال کی جائے تو: انسان خدا کی عبادت کس طرح کرے--- صرف خدا ہی خود بتا سکتا ہے۔ صرف اس کی ہدایت ہی علم اور مکمل سچائی ہے۔ باقی سب گمان ہی کیا جا سکتا ہے جو جزوی علم یا جزوی سچائی ہوگی۔

صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ (البقرہ ۲:۱۲۰)

اور کہو کیا ان میں کوئی ہے جس کو تم خدا کے ساتھ شریک کرتے ہو‘ جو سچائی کی طرف تمھاری رہنمائی کرے۔ کہو ’’صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا الا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمھیں کیا ہوگیا ہے؟ کیسے الٹے اُلٹے فیصلے کرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ محض قیاس اور گمان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پورا نہیں کرتا‘‘۔ (یونس۱۰:۳۵-۳۶)

مزیدبرآں:

اس معاملے کا کوئی علم انھیں حاصل نہیں۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں۔ یہ گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ (النجم ۵۳:۲۸)

بہت سے لوگ مظاہر قدرت کے بارے میں سائنس‘ ٹکنالوجی اور تاریخ کے ذریعے تجرباتی اعداد و شمار پر مبنی کچھ معلومات ضرور حاصل کر لیتے ہیں‘ لیکن کائنات اور زندگی کے پوشیدہ اسرار کے بارے میں وہ آسمانی رہنمائی یا ہدایت کے بغیر صرف قیاس اور خیال آرائی ہی کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ خدا کی عبادت کرنے کے لیے رہنمائی من جانب اللہ ہے‘ بلکہ یہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اگر میں یہ کہوں کہ یہ ایک ایسی ذمہ داری اور فرض ہے جو خدا نے خود اپنے اوپر عائد کیا ہوا ہے‘ تو غلط نہ ہوگا (میں جو زبان استعمال کرتا ہوں‘ ضروری نہیں کہ وہ تینوں مذاہب کی روایت کے حوالے سے موزوں و مناسب ہو۔ میں ایک عالم ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کرتا لیکن میں ہر صورت قرآنی زبان کے قریب ضرور رہتا ہوں)۔ ’’یقینا ہم پر ہدایت دینے کی ذمہ داری ہے‘‘(اللیل ۹۲:۱۲)۔ یہ وعدہ اس وقت کیا گیا جب انسان کو پہلی دفعہ پیدا کیا گیا۔ ’’پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف یا رنج کا موقع نہ ہوگا‘‘۔(البقرہ ۲:۳۸)

انسانی ذریعہ

اللہ تعالیٰ اپنا فرض اور وعدہ پورا کرنے کے لیے انسان کا ذریعہ کام میں لاتا ہے۔     بنی نوع انسان کے لیے ایسے انسانوں کے ذریعے اپنی ہدایت نازل کرتا ہے جنھیں وہ منتخب کرتا ہے‘ جن سے وہ ہمکلام ہوتا ہے اور جنھیں‘ اپنے فرمودات کا اعلان کرنے کی ذمہ داری سونپ دیتا ہے۔

پیغام کا آغاز‘ اس کے مضامین اور اس کے الفاظ‘ سب مکمل طور پر من جانب اللہ ہوتے ہیں اور یہ انسانوں کے لیے اس کی رحمت و محبت کا بے پایاں اظہار ہے:

ہم نے اسے نازل کیا… تیرے رب کی رحمت کے طور پر۔ (الدخان ۴۴:۳-۶)

اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے۔ (الانعام ۶:۱۲۴)

حقیقت یہ ہے کہ اللہ (اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے) ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ (الحج ۲۲:۷۵)

نبوت خدا کا عطیہ ہے‘ اس لیے صلاحیتوں کو نشوونما دے کر‘ یا مراقبہ کر کے‘ غوروفکر کرکے اسے ازخود حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ وحی ایک نفسیاتی مغالطہ(جنون) نہیں۔ یہ شاعرانہ تخیل بھی نہیں۔ یہ ایک سیاسی بصیرت یا خواہش بھی نہیں اور نہ یہ ایک صوفیانہ تجربہ ہے۔ یہ کوئی فعل نہیں‘ ذاتی اور انسانی ردعمل نہیں۔ کوئی نبی خدا کی طرف جو الفاظ منسوب کرتا ہے‘ ان میں سے کوئی اس کا اپنا نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہو تووہ جھوٹا ہوگا اور سب سے بڑا گنہگار۔ نہ وہ یہ کر سکتا ہے کہ فریب خیال یا جنون کی حالت میں الفاظ کو اللہ کی طرف منسوب کر دے۔ایسی صورت میں وہ بڑی مشکل سے انبیاؑ کی طرح رہنمائی کر سکے گا‘ سختیاں جھیلے گا یا اپنے مخالفین کا سامنا کرے گا۔ پیغامِ الٰہی ہمیشہ صاف‘ واضح‘ روشن اور شکوک و شبہات سے پاک ہوتا ہے۔ ’’پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا‘ اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اس شہادت کی تائید میں) آگیا‘‘۔ (ھود۱۱:۱۷)

واسطہ انسانی ہے کیونکہ مخاطب انسان ہیں۔ لوگوں کے لیے یہ سمجھنا ہمیشہ مشکل رہا ہے کہ بھلا انھی جیسا ایک انسان کیونکر اللہ کا پیغام وصول کر سکتا ہے؟ ایک گوشت پوست کا عام انسان کیونکر اللہ سے ہم کلام ہو سکتا ہے؟ پہلے بھی ایسی ہی مذہبی الجھنیں اور مشکلات پیش آتی رہی ہیں اور آج بھی سائنسی بنیاد پر اعتراضات ہیں (پھر بھی جب کبھی ایسے انسان سامنے آئے تو ان کی دین دارانہ زندگی کا لوگوں پر ایسا اثر ہوا کہ ان کو الوہیت کے مقام تک پہنچا دیا گیا)۔ مگر   قرآن پاک انبیاؑ کے انسان ہونے پر بہت اصرار کرتا ہے۔ ’’اے محمدؐ ان سے کہو پاک ہے میرا پروردگار۔ کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟ لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے ان کو کسی چیز نے نہیں روکا‘ مگر ان کے اس قول نے کہ: ’’کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟‘‘ ان سے کہو‘ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لیے پیغمبر بناکر بھیجتے‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۹۳-۹۵)۔ یہی وجہ تھی کہ ہدایت انسانوں کی زبان میں آئی۔ بولنا انسانی فعل ہے۔ وہ اس کے لیے ذمہ دار ہے اور اس کے لیے آزاد اور بااختیار ہے۔

حضرت آدم ؑ کو جو علم دیا گیا تھا وہ اسماء کا علم تھا (البقرہ ۲:۳۱)۔ زبان سے مافی الضمیر کو بیان کرنا‘رحمت الٰہی کا سب سے بڑا تحفہ اور انسانیت کا جوہر ہے۔ لہٰذا یہ وحی کے عطیے کی ظاہری صورت ہے۔ (الرحمٰن ۵۵:۱-۹)

گو کہ انبیاؑ انسان تھے‘ قرآن ان کی پاکیزہ زندگیوں کو‘ ان کے بے داغ کردار کو‘ نیک چلنی کو‘ اللہ اور اس کے مشن پر ان کے غیر متزلزل ایمان اور وفاداری کو‘ راہ حق میں جو تکالیف انھوں نے صبر سے برداشت کیں‘ ان سب کو نہایت نمایاں کرتا ہے۔ بلاشبہہ وہ انسانیت کی معراج تھے۔ اس لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ اپنے دعوئوں اور مثالوں میں سچے ہوں‘ اور ان کی پیروی کی جا سکے۔ ’’پھر ہم نے ہر ایک کو راہ دکھائی۔ اس طرح نیکوکاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں… بہتوں کو ہم نے نوازا۔ اپنی خدمت کے لیے چُن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی‘ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے…‘‘۔ (الانعام ۸۴۶-۹۰)

نبوت اور وحی سے متعلق بیانات کا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ سائنسی چیلنجوں کے باعث جو مشکلات ان کی راہ میں کھڑی کر دی گئی ہیں انھیں نظرانداز کر دیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے لیکن کسی دوسرے موقع پر۔

تاریخ اور عالم گیریت

اگر الہامی ہدایت پانے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے ہی سے انسانی زندگی کے مقصد کی تکمیل اور اخروی نجات حاصل ہوتی ہے تو پھر اس کا ظہور تاریخ کے کسی خاص لمحے کا انتظار نہیں کر سکتا۔ ’اولین انسان‘ پر اللہ کی طرف سے جو بارگراں ڈالا گیا وہ اتنا ہی بڑا اور عظیم تھا جتنا کہ کسی اور انسان کے لیے زمان و مکان کے کسی مرحلے پر ہوسکتا تھا۔ اس لیے پہلا انسان ہی نبی تھا اور اسے وہ ضروری علم حاصل تھا جو آخری نبیؐ کو اور درمیان میں آنے والے تمام انبیاؑ کو حاصل تھا۔ اللہ کے نبی تمام زمانوں‘ علاقوں میں اور مختلف زبانیں بولنے والوں میں آئے۔

اور اللہ نے آدم ؑاور نوح ؑاور آل ابراہیم ؑاور آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا تھا ۔(اٰل عمرٰن۳:۳۳)۔

اے محمدؐ، ہم نے تمھاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح ؑاور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی… اور ان رسولوں پر بھی جن کا تم سے ذکر نہیں کیا۔ (النساء ۴:۶۴)۔

ہر شخص کے آگے پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگران لگے ہیں۔ (الرعد ۱۳:۷)

ہم نے ہر اُمت میں ایک رسول بھیج دیا۔(النحل ۱۶:۳۶)

پیــغام

تمام انبیاؑ ایک ہی ضروری پیغام لائے:

اللہ کی عبادت کرو اور میری پیروی کرو۔ اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔ (الانبیا ۲۱:۲۵)

اور اگر کوئی اور چیز ان کے پیغام کا مشترک حصہ تھی تو وہ یہ تھی:

نیکی کرو اور ہم نے ان کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انھیں وحی کے ذریعے نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے کی اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی۔ وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔ (الانبیا ۲۱:۷۳)

اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جو ہدایات لائے وہ تمام جزئیات میں ایک سی تھیں۔ رسوم و آداب‘ قواعد و ضوابط‘ معاشرتی اور انفرادی برائیوں پر توجہ کے لحاظ سے‘ ایک نبی کی تعلیمات دوسرے نبی سے مختلف ہوتی تھیں:

ہر اُمت کے لیے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمدؐ، وہ اس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ (الحج ۲۲:۶۷)

تاہم‘ یہ اختلاف ان مذاہب کے پیروکاروں کے لیے اپنی نجات کا خصوصی دعویٰ کرنے یا پھر ایک دوسرے کے خلاف تشدد پر آمادہ ہو جانے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

ہم اب ان مقدمات سے آگے بڑھ سکتے ہیں کہ تمام مذاہب میں بہت سی باتیں مشترک ہونی چاہییں۔ اس لیے نہیں کہ انھوں نے ایک دوسرے سے مستعار لیا ہوا ہے بلکہ اس لیے کہ ایک ہی خدا نے اپنا کلام تمام انبیاؑ تک پہنچایا ہے۔ یہ بات کہ ایک ہی بنیادی پیغام ہر مذہب کا سرچشمہ تھا اور یہ اب بھی ان کی میراث کا حصہ ہے‘ آنے والے تمام زمانوں کے لیے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین باہمی تعاون اور امن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اس پیغام کے اجزا ایک سچے نبی کو ایک جھوٹے نبی سے ممیز کرنے کا ایک اہم معیار فراہم کرتے ہیں۔ دوسرا معیار اس نبی کی راست بازی اور پاکیزہ زندگی ہے جس نے ہمیشہ اپنے زمانے پر اور آیندہ نسلوں پر ایک گہرا نقش چھوڑا۔ (جاری)

(Encounter, Living Together in a World of Diverse Faiths: An Islamic Perspective ‘جلد ۵‘ شمارہ ۱‘ ۱۹۹۹‘ صفحات ۳-۲۹‘ اسلامک فائونڈیشن لسٹر‘برطانیہ)


حواشی

۱-            ولفرڈ کانٹ ویل سمتھ: On Understanding Islam (Selected Studies)  (مائونٹین پبلشرز‘ دی میگ‘ ۱۹۸۱ئ)‘ ص ۲۹۳۔

۲-            ایس جے سمارتھا (مدیر) Towards World Community (ورلڈ کونسل آف چرچز جنیوا ۱۹۷۵ئ) ص ۴۰۔

ہمارے مسلمان معاشرے میں امام مسجد کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ عام آدمی کی نظر میں وہ ایک عالمِ دین ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت بلند مقام ہے۔ حدیث رسولؐ کے مطابق علما درحقیقت انبیا کے وارث ہیں۔ لہٰذا امامت کا فریضہ اپنے مرتبہ و مقام کے لحاظ سے خدا کی کسی بڑی نعمت سے کم نہیں‘ اور جسے وہ اپنی مشیت سے اس منصب کے لیے منتخب کرلے فی الواقع اسے ایک بڑی نعمت حاصل ہوگئی۔ اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے‘ اس لیے کہ اس کے پاس وہ علم ہے جو انبیاے کرام لے کر آئے‘ وہ انبیا کا وارث ہے‘ اور اسے لوگوں کی امامت و رہنمائی اور تزکیہ و تربیت کا موقع حاصل ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے مسجد کی امامت ہمارے معاشرے میں ایک چلن بن کر رہ گیا ہے کہ گویا یہ صرف دو رکعت کی امامت ہے‘ لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ عملاً ایک امام اس مصلے پر کھڑا ہوتا ہے جس پر سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے۔ یوں تمام ائمہ آپؐ کے وارث اور نائب ہیں۔ اس لیے ائمہ کو آج پھر وہی فرائض انجام دینے ہیں جو آپؐ نے انجام دیے۔

یہ بھی ہماری بدنصیبی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مسجد کو وہ مقام حاصل نہیں رہا جو مسجدنبویؐ کو حاصل تھا ‘اور نہ ائمہ ہی کو وہ مقام حاصل ہے جو انھیں حاصل ہونا چاہیے۔ مسجد محض ایک عبادت گاہ بن کر رہ گئی ہے جہاں نمازی حضرات رسماً عبادت کے لیے آتے ہیں۔ اب اس بات کا شعور نہیں رہا کہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں ہے بلکہ اسلامی بستی کے مرکز کی حیثیت رکھتی ہے‘ اور امام محض امامِ مسجد نہیں ہے بلکہ فی الواقع وہ اس بستی کا قائد و فکری رہنما ہے۔ مسجد تو اُمت کی زندگی کا مرکز ہے۔ اذان و نماز کے ذریعے ایک مسلمان کے ایمان و عہدِ بندگی کو تازہ کرنے اور اطاعت کی مشق دن میں پانچ مرتبہ کروائی جاتی ہے۔ اخوت‘ مساوات اور ہمدردی و غم خواری کا سبق سکھایا جاتا ہے۔ وہ اپنے بھائیوں سے بے تعلق نہیں رہ سکتا کہ ان کے دکھ درد میں شریک نہ ہو اور ان کے دکھ نہ بانٹے۔

یہ مرکز دعوت و ارشاد ہے۔ اس لیے کہ یہاں احکامات الٰہی سے روشناس کروایا جاتا ہے۔ مسجد تعلیم و تربیت کا مرکز ہے‘ مدرسہ و اسکول ہے اور لائبریری و مطالعہ گاہ ہے۔ سیاسی مرکز ہے جہاں قائدین و عوام اپنے مسائل باہم مشاورت سے حل کرتے ہیں۔ بیت المال ہے کہ زکوٰۃ وغیرہ جمع اور تقسیم کی جاتی ہے‘ اور حاجت مندوں کی کفالت کی جاتی ہے۔ عدالت ہے کہ جھگڑے نبٹائے جاتے ہیں‘ اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ مسجد مرکز ثقافت (کمیونٹی سنٹر) ہے جہاں شادی بیاہ اور مختلف مواقع پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ آج نہ ہم مسجد کے مقام سے صحیح طرح آگاہ ہیں اور نہ امام ہی اپنے منصب و مقام اور تقاضوں کو جانتا ہے   ع

رہ گئی رسمِ اذاں روح بلالی نہ رہی

تاریخ انسانی میں تین واقعات ایسے ہیں جنھوں نے اُمت مسلمہ کی تعمیروتشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے:

۱-            غارحرامیں نزولِ وحی کا آغاز ہوا۔ انسانیت کو قرآن دیا گیا جس پر اُمت کی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ قرآن وہ سرچشمۂ حیات ہے جس نے انسان کے لیے خدائی ہدایت کی تکمیل کی اور انسانیت کے لیے دین کو ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا۔ نبی کریمؐ نے ایک جاں گسل جدوجہد کے بعد قرآنی نظام کو دنیا میں نافذ کر کے ایک جیتی جاگتی اسلامی ریاست کا نمونہ پیش کر کے دکھا دیا کہ انسانیت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اب دنیا میں قرآنی نظام کے علاوہ کسی اور نظام اور ازم کی گنجایش نہیں۔

۲-            ۱۱ سال بعد مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا واقعہ پیش آیا۔ یہ اتنا اہم واقعہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے کیلنڈر کی بنیاد اس پر رکھتے ہیں۔ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت‘ اسلام کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن سفر تھا۔ اس سے ایک اسلامی ریاست کی بنیاد فراہم ہوئی۔ معرکہ حق و باطل کا یہ وہ تاریخ ساز لمحہ ہے جس نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ حق حق ہے اور اسے بالآخر غالب آنا ہے‘ اور باطل باطل ہے‘ اسے ایک روز لازماً مٹ جانا ہے خواہ وہ کتنی ہی طاقت‘ کروفر اور جاہ و حشم کا مالک ہو۔ اس کا مقدر بہرحال ذلت‘ شکست اور مٹ جانا ہی ہے۔

۳-            ۸ ہجری میں فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا اور دنیا کو یہ پیغام ملا کہ مستقبل اسلام کا ہے۔ فتح مکہ نے عملاً یہ ثابت کر دیا کہ انسانیت کو اگر امن‘ انصاف اور مسائل زندگی کے حل کے لیے کوئی متوازن‘ معتدل اور پایدار نظامِ حیات چاہیے تو وہ اسلام ہی ہے‘ اور اگر کوئی قابلِ تقلید بہترین اسوہ کی کسی کو تلاش ہے تو وہ نبی اکرمؐ کی ذات میں ہے--- ایک فرد کی زندگی سے لے کر ایک انسانی ریاست کی تشکیل تک!

تعمیرِمعاشرہ میں مسجد کا کردار

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ مسجد کی تعمیر کی۔ اس بات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں مسجد کا کیا مقام اور کتنی اہمیت ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں آپؐ خود شریک ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے پتھر اٹھائے۔ اگرچہ مسجد نبویؐ اپنی عمارت اور زیبایش کے لحاظ سے ایک عام سی مسجد تھی لیکن یہ مسجد دراصل ان تمام عالی شان مساجد کے قیام کی بنیاد بنی جو بعد میں دہلی‘ قرطبہ‘ اصفہان‘تاشقند اور لاہور میں نظر آتی ہیں۔ مسجد کا تعلق اُمت کی زندگی سے اسی وقت قائم ہوگیا تھا۔ مسجد دعوت‘ عدالت اور سیاست کا مرکز بن چکی تھی۔ مقدمات کا فیصلہ یہاں کیا جاتا‘ جہاد کے لیے پکار کر لوگوں کو جمع یہاں کیا جاتا‘ لشکر کی روانگی بھی یہیں سے ہوا کرتی۔ مجلس شوریٰ کا اجلاس بھی یہاں ہی ہوا کرتا تھا۔ پنج وقتہ نماز مسجد میں ہوتی تھی حتیٰ کہ منافق بھی مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔ یہ تصور نہیں تھا کہ کوئی فرد‘ اُمت کا ایک فرد ہو اور مسجد میں حاضر نہ ہو۔ فجر کی نماز کی خصوصیت سے اہمیت تھی۔ خلیفۂ وقت حضرت عمرؓ جب نماز فجر کے لیے مسجد جایا کرتے تھے تو لوگوں کو نماز کے لیے جگایا کرتے تھے۔ صفیں درست اور سیدھی رکھنے کا مکمل اہتمام کرتے تھے۔ گویا مسلمان معاشرے میں مسجد‘ اُمت کی پوری زندگی کا مرکز تھی۔ سیاست‘ عدالت اور اجتماعی زندگی کا مرکز بھی مسجد تھی اور تعلیم و تربیت کا مرکز بھی۔ اسلام کی تاریخ میں بڑے بڑے مدارس مساجد سے ملحق رہے۔ وہ مدارس ہماری بڑی جامعات تھیں‘ ملت مسلمہ کی کیمبرج اور آکسفورڈ تھیں۔ ان مساجد سے متصل طلبا کے قیام کے لیے حجرات تعمیر کیے گئے تھے۔ نظام تعلیم مساجد کے گرد قائم تھا۔

یہ ہمارا عروج کا دور تھا لیکن بعد میں‘ جیسے جیسے اُمت کا زوال زور پکڑتا گیا‘ اس کے ہاتھ سے دنیا کی قیادت نکلتی چلی گئی‘ اور ساتھ ہی مسجد کے ہاتھ سے اُمت کی قیادت بھی نکل گئی۔

ضروری ہے کہ مسجد کے ائمہ کو وہی مقام حاصل ہو جو مقام ان کا حق ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مسجد کے ائمہ اپنے آپ کو اس منصب اور مقام کو سنبھالنے کا اہل بنائیں۔ اس کے بغیر اُمت کی اجتماعی زندگی کا احیا اور اس کو درپیش چیلنج کا مقابلہ ممکن نہیں۔

اس وقت اُمت کے اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود‘ ذلت و مسکنت ہمارا مقدر ہے۔ ہم پر غیراقوام کا غلبہ ہے۔ دنیا کی قومیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی ہیں۔ اس وقت مسلمان اپنی زندگی کے ایک انتہائی خطرناک دور سے گزر رہے ہیں۔ لیکن جہاں خطرات ہیں وہیں امکانات بھی موجود ہیں۔ آج اُمت کو اتنا بڑا خطرہ درپیش ہے کہ تاریخ میں کبھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ غالب تہذیب نے جس طرح مسلمانوں کو اپنا حریف اور نشانہ بنالیا ہے‘ اس کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف تقاریر‘ قراردادوں اور ان کی سازشوں کو بے نقاب کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ائمہ کرام کو اپنا حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اپنا مقام و منصب پہچاننا ہوگا۔ یہ ناگزیر ہے کہ مسجد کے ائمہ اس بات کے اہل ہوں کہ وہ وہی مقام سنبھال سکیں‘ اُمت کی رہنمائی کر سکیں‘ اور مسجد کا اُمت کی زندگی میں وہی مقام ہو جو نبی اکرمؐ نے مسجد کو مدینہ کی اجتماعی زندگی میں دیا تھا۔

آج اُمت تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے اور اسے سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہیں‘ لیکن انھی خطرات میں روشن مستقبل پوشیدہ ہے۔ ہمارے لیے دنیا کی قیادت کے کھلے امکانات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی  ابلیسی تہذیب کے مستقبل کو اصل خطرہ مسلمان سے ہے۔ اس حقیقت کی نشان دہی علامہ اقبال نے ابلیس کی زبان سے کی تھی۔ مغرب کو نہ اشتراکیت سے خطرہ ہے نہ مزدکیت سے‘ اصل خطرہ اسلام سے ہے۔ اسلام ہی میں یہ قوت و صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہو اور اس کو چیلنج کرے۔

اُمت کی ہیئت ترکیبی کے اندر یہ خاصیت پوشیدہ ہے۔ رب العالمین کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے: اُخرجت للناس، یہ تمام انسانوں کے لیے برپا کی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے لیے نبی بناکر بھیجے گئے تھے اور اُمت کو قیامت تک یہی مشن سونپا گیا: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطاً لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ(البقرہ ۲:۱۴۳) ’’ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’امت وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو‘‘۔ اُمت کا شعار یہ بتایا گیا: وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖط(الحج ۲۲:۷۸) ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے‘‘۔ قرآن نے رہنمائی کر دی ہے کہ یہ اُمت کس لیے وجود میں آئی ہے۔ یہ اُمت معاشی مفادات کے لیے‘ سیاست گری کے لیے یا دنیا میں محض ناموری کے لیے نہیں‘ بلکہ تمام انسانیت کو اللہ کی بندگی میں داخل کرنے کے لیے برپا کی گئی ہے۔ اس اُمت نے جب اپنے منصب کو پہچانا تو صرف ۳۰ سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا کرکے رکھ دیا۔

اُس وقت مسلمان بے سروسامان تھے لیکن ان کے پاس ایمان تھا‘ یقین تھا‘ وحدت تھی۔ صرف ۳۰ سال کے اندر‘ ایران و روم اور صرف ۱۰۰ سال کے اندر اندر وہ اسپین کے غاروں اور چین کے ساحل تک پہنچ گئے۔ دنیا ورفعنالک ذکرک کی عملی صورت اپنی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

لیکن یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوگیا۔ اس کے کچھ تقاضے تھے جو پورے کیے گئے۔ آج درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور امکانات سے فائدہ اٹھانے کی بھی یہی صورت ہے کہ اُمت اپنے فرائض کو کماحقہ انجام دے اور اس کے لیے کمر کس لے۔

ائمہ کی ذمہ داریاں

اس کام میں مرکزی اہمیت ائمہ کرام کو حاصل ہے۔ آپ کو صرف نماز کا امام نہیں‘ بلکہ معاشرے کا امام و لیڈر بننا ہے اور معاشرے کو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلانا ہے    ؎

بمصطفیٰ ؐبرساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

اس کے لیے آپ کو ‘ اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔ مسجد کو اُمت کی اجتماعی زندگی کی تعلیم گاہ بنانا ہے۔ اپنے اندر یہ اہلیت پیدا کرنا ہے کہ اس مقام پر بیٹھ کر اُمت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں۔

معاشرے میں اس وقت مسجد کے حقیقی مقام و مرتبے کی حیثیت بہت کمزور ہے‘ اور امام عملاً اس قدر بے بس ہے کہ اسے (متولی کی اجازت کے بغیر) نماز کا وقت متعین کرنے کا بھی اختیار نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ ‘ائمہ کے اندر بے پناہ قوت ہے۔ اگر آپ کے پاس اہلیت اور صلاحیت ہو تو معاشرے میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے‘ مگر ہم ان صلاحیتوں اور امکانات سے آگاہ نہیں۔ عرب کے ریگستان میں پلنے والے لوگوں کے اندر یقین اور ایمان کی کیفیت پیدا ہوئی تو نتیجہ یہ نکلا کہ بہترین جرنیل پیدا ہوگئے۔ ان کو تاریخ کے چیلنجوں کا ادراک تھا۔ ان سے نبٹنے کی صلاحیتوں کا شعور تھا۔ انھوں نے دنیا میں عظیم فتوحات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ایک بڑی دنیا نے ان کے پیغام کو قبول کیا اور تاریخ کا دھارا موڑ کر رکھ دیا۔

آپ کو اس کا ادراک کرنا ہے کہ آپ کا مقام کیا ہے؟ منصب کیا ہے؟ اگر مسجد کو مرکز بننا ہے‘ اور آپ کو اس مرکز میں دعوت و ارشاد اور قیادت کا وہ کام انجام دینا ہے‘ تو آپ کے سامنے ایک ہی روشنی کا مینارہ ہے اور وہ ہیں مسجد نبویؐ کے امام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپؐ کا اخلاق‘ شہرت‘ کردار‘ اخلاص‘دلسوزی--- اس کے بغیریہ عظیم کام انجام نہیں پاسکتا ہے۔

آپ اپنے لیے کوئی لائحہ عمل بنائیں تو اس کے بنیادی نکات یہ ہونے چاہییں:

۱-            سب سے پہلی اور اہم ترین بات یہ ہے کہ آپ کو صحیح چیزوںکا علم ہو جائے۔ اللہ کی وحدانیت اور رسولؐ کی شہادت آپ کی زندگی کا جزو ہو جائے۔ اسلام کی پوری روح اور اس کی پوری عمارت توحید پر قائم ہے۔ مسجد میں آنے والوں میں اللہ کی محتاجی کی کیفیت پیدا کریں۔ زندگی کے ہر مسئلے میں ہم اللہ اور اس کے رسولؐ کے محتاج ہوں۔ شعوری طور پر اس کی کوشش کرنا ہوگی اور اس کے لیے تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ اللہ کی محتاجی کی نسبت پیدا کرنا‘ اللہ کے ساتھ لوگوںکا تعلق قائم کرنا‘ یہ آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

۲-            آپ اپنے مقتدیوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت کا جذبہ پیدا کریں۔ ذات مصطفویؐ سے عشق پیدا کریں‘ اس سے ملت کے جسد میں قوت پیدا ہوگی۔   نبی اکرمؐ کی ذات گرامی سے محبت‘ قوت کا وہ سرچشمہ ہے جو صرف آپ کے پاس ہے‘ کسی اور اُمت کے پاس نہیں۔ صنعتی ترقی اور کارخانوں کی قوت اصل قوت نہیں۔ ان سے وہ کام نہیں بنے گا جو آپ کے پیشِ نظر ہے۔

۳-            اُمت کی زندگی میں دین و دنیا کی وحدت پیدا کرنا بھی آپ کا کام ہے۔

۴-            علم صرف احکام اور مسائل کو جاننے کا نام نہیں‘ بلکہ احکام و مسائل کے ساتھ ساتھ حکمت اور مصلحت کو جاننے کا نام ہے۔ نبی اکرم ؐکتاب کے ساتھ ساتھ حکمت کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ حکمت وہ چیز ہے جسے خیرکثیر کہا گیا ہے: وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا ط (البقرہ ۲:۲۶۹) ’’اور جس کو حکمت ملی‘ اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی‘‘۔

حکمت دین اور تدریج

اگر آدمی حکمت سے آشنا نہ ہو تو دین پر چلنا‘ دین پر چلانا‘ دین کو قوت بنانا ممکن نہیں۔ صرف احکام و مسائل کے بیان سے دین پر عمل نہیں ہوتا۔ ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب لوگوں کو حکمت کے ساتھ دین کی راہ پر لایا جائے۔ لوگوں کو آمادہ کیا جائے کہ وہ دین کی ذمہ داریوں کے متحمل ہوسکیں‘ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاسکیں‘ یعنی ان میں اطاعت کی استعداد پیدا ہو۔ اس حکمت کے بہت سارے پہلو ہیں:

ایک حکمت‘ احکام کے درمیان مدارج کا فہم ہے۔ سارے احکام ایک جیسے نہیں۔ عمل کرنے والوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ احکام کے اندر مدارج ہیں۔

ایک دفعہ مسجد نبویؐ میں لوگ نماز میں فرض ادا کرنے کے بعد اسی مقام پر کھڑے ہوکر جہاں فرض ادا کیے تھے‘ سنتیں ادا کرنے لگے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: پہلی امتیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ جب فرائض‘ سنن‘ مستحبات کے درمیان فرق ختم ہوجائے تو اُمت زوال کے راستے پر آجاتی ہے۔ پھر سارا زور مستحبات اور سنن پر ہوجاتا ہے اور فرائض کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

قرآن کے اندر صرف سؤر کے گوشت اور شراب نوشی ہی کی ممانعت نہیں ہے بلکہ حسد کو اور غیبت کو بھی حرام کیا گیا ہے‘ نیز اللہ کی راہ میں جدوجہد اور جانفشانی کو بھی بڑی نیکیوں میں شمار کیا ہے۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط (التوبہ ۹:۱۹)

کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اُس شخص کے کام کے برابر ٹھیرا لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روزِ آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں؟

اللہ کے رسول ؐنے ان احکامات کو بھی اچھی طرح واضح فرمایا ہے اور عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ گویا احکامات کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیمات اور راہ خدا میں جدوجہد کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا ایمان کے ساتھ ساتھ اخلاق اور کردار سازی اور دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی طرف بھی توجہ رہنی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں ایک مسلمان کا وہ اخلاق اور کردار تعمیر ہوسکے گا جو اصلاً مطلوب ہے اور غلبۂ دین کے لیے جدوجہد کے نتیجے میں ایک صحیح اسلامی معاشرت سامنے آسکے گی جو اسلام کا طرئہ امتیاز ہے۔ یوں معاشرہ اسلام کے مکمل نظامِ حیات کی حقیقی برکات سے مستفید ہو سکے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر کام تدریج کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ پورا دین لوگوں پر ایک ہی دفعہ میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ طبیعت اور نفس کی استعداد کے ساتھ ساتھ تدریج کے ساتھ لوگوں کو چلایا جائے۔ سب سے پہلے دل کے اندر ایمان پیدا کیا جائے۔ یہی سلف کا طریق کار تھا۔ وہ تدریج کا اہتمام کرتے تھے۔ دین کے سارے مطالبات ایک ساتھ ہی سامنے نہیں رکھے دیتے تھے۔

سیرت پاکؐ کا مطالعہ کیا جائے تو نبی اکرمؐ کی کامیابی کا راز یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ محبت‘ رحمت اور شفقت کے پیکرِ مجسم تھے۔ قرآن گواہ ہے: فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْج وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَص (اٰل عمرٰن۳:۱۵۹) ’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘۔

آپؐ نرم دل تھے‘ تادیب وتعزیر میں نرمی کرتے تھے۔ ایک بدو مسجد نبویؐ کے صحن میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ روکنے کے لیے اٹھے۔ آپؐ نے منع کر دیا۔بعد میں صحابہؓ سے فرمایا: اس کو دھو کر صاف کر دو۔ آپؐ کے اس طرزعمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شخص ہمیشہ کے لیے مطیع و فرماں بردار ہوگیا۔

سید قطبؒ سورۃ الاعلیٰ کی تفسیر میں واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص رسولؐ اللہ کے پاس آیا۔ کچھ مانگا‘ آپ ؐنے عطا کیا۔ اس نے بے اطمینانی ظاہر کی۔ آپؐ نے اس کو اور دیا۔ پھر وہ خوش ہوکر گیا۔

آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میری اور تمھاری مثال ایسی ہے جیسے ایک اونٹنی ہو جو بدک گئی ہو‘ اور تم ڈنڈے لے کر اس کے پیچھے لگ جائو جس سے وہ اور زیادہ خوف زدہ ہو جائے اور بدک جائے۔لیکن مالک محبت و شفقت سے اس کو قابو کر لیتا ہے۔

آج ہمیں بھی اس قوم کے اوپر سواری کرنے کے لیے‘ اس کی صحیح سمت میں رہنمائی اور تربیت کے لیے‘ اسی نرمی اور محبت و شفقت کی ضرورت ہے۔ مسجد کے منبر سے دین کی تعلیم اس انداز سے ہو تو نتیجہ خیز ہوگی۔

مسجد‘ بستی کا مرکز

مسجد کا معاشرے سے تعلق قائم کرنے اور رکھنے میں بھی فیصلہ کن کردار امام کا ہی ہوگا۔ مسجد کو صاف رکھنا چاہیے۔ نظافت و طہارت کو دین میں بڑی اہمیت ہے۔ اس کا اہتمام مسجد میں نظرآنا چاہیے۔ مسجد محلے کے لوگوں کا مرکز ہو‘ لوگ وہاں بیٹھیں اور اپنے مسائل پر بات کریں۔

مسجد تو وہ جگہ ہے جہاں ہم سجدہ کرتے ہیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے خصائص نبوت میں سے یہ ہے کہ پوری زمین کو آپؐ کے لیے سجدہ گاہ بنا دیا گیا۔ مسلمان کسی بھی جگہ خاک پر سر رکھ کر سجدہ کر سکتا ہے۔

اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ مسلمان جہاں چاہے نماز پڑھ سکتا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ پوری دنیا اللہ کی بندگی میں آجائے۔ نبی اکرمؐ نے مسجد کی تعمیر کے بعد ساری توجہ مسجد پر ہی نہیں دی۔ محض اس کی آرایش و زیبایش کو مرکز توجہ نہیں بنایا۔ آپؐ کی اصل توجہ اور سرگرمی دین کو غالب کرنے‘ دنیا کو دین پر چلانے پر رہی۔ آپؐ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اور دنیا کی تنگیوں سے نکال کر‘ ایک اللہ کی بندگی کی وسعت و کشادگی میں لائے۔ ائمہ مساجد کا اصل فریضہ یہی ہے اور اسے ترجیحِ اول ہونا چاہیے۔

آپ مسجد کو نور کا مینارہ بنایئے۔ امامت کی ذمہ داری دے کر آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز کیا گیا ہے۔ اللہ نے آپ کو آزمایش میں ڈالا ہے۔ آپ پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ آپ انھیں اپنی وسعت اور استعداد کے مطابق انجام دیں۔ اسوہ رسولؐ کی ہدایت‘ رہنمائی اور روشنی میں اپنی صلاحیتوں کو کام میں لائیں۔ اسوہ رسولؐ کا فہم حاصل کرنے کے لیے سیرت کا خوب مطالعہ کریں‘ خود بھی عمل کریں‘ نمازیوں کو بھی آمادہ کریں۔ اس سے امت میں وہ طاقت اور قوت پیدا ہوگی کہ وہ دنیا کی قیادت کر سکے گی۔

خطبۂ جمعہ اسلام کے نظامِ تعلیم و تربیت میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نمازجمعہ کو فرض قرار دیا گیا ہے اور کوئی شخص جماعت سے الگ انفرادی طور پر نماز جمعہ ادا نہیں کرسکتا۔ بستی کا مرکز ہونے کی وجہ سے ہر شخص کا مسجد پہنچنا لازم قرار دیا گیا ہے اور خطبۂ جمعہ کے ذریعے فکری رہنمائی اور تزکیہ و تربیت کا سامان کیا گیا ہے۔ اس طریقے سے ہر ہفتے اس عمل کو دہرایا جاتا ہے۔ لہٰذا خطبۂ جمعہ خصوصی اہمیت اور توجہ چاہتا ہے۔ اگر ائمہ حضرات گذشتہ نکات کی روشنی میں ترجیحات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے‘ ایمان‘ اخلاق اور تدریج اور عوام کے مسائل کو موضوع بناتے ہوئے خطبہ دیں تو جہاں یہ فریضہ بہ احسن ادا ہوسکے گا‘ وہاں عوام کی دل چسپی بھی بڑھے گی اور بتدریج مسجد بستی کے مرکز کا مقام حاصل کر لے گی۔ البتہ ایک بات کا خصوصی اہتمام کیا جائے کہ ائمہ جو خطبہ دیں‘ اس میں صرف وہ باتیں بیان کریں جو تمام علما کے ہاں مسلّمہ ہیں۔ اس سے فکری ہم آہنگی اور ملّی یک جہتی پیدا ہوگی اور اختلاف و انتشار کا خاتمہ بھی ہو سکے گا اور مسلمان جسدِواحد بن کر اُمت کا وہ مطلوبہ کردار بھی ادا کرسکیں گے جو وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے۔

آج اُمت زوال کا شکار ہے۔  ایمان اور اعمال میں زوال اور کمزوری رونما ہوگئی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ لوگوں کو دین کی صحیح صحیح تعلیم دی جائے۔ اس راہ میں مشکلات لازمی ہیں لیکن آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنا کام جاری رکھیں‘ مشکلات کو خاطر میں نہ لائیں اور اپنے  کام میں لگے رہیں۔ عزم‘ ارادہ اور کوشش--- اپنے اپنے دائرے میں اخلاص نیت کے ساتھ کام کریں۔ اس کے ثمرات ضرور نکلیں گے۔ اس دور میں رواداری اور وسعت نظر کی ضرورت ہے۔ اس کا اظہار آپ کے رویے سے‘ آپ کی باتوں سے ہونا چاہیے۔

یقین ہے کہ ان امور کا خیال رکھ کر اگر آپ منصبِ امامت کی ذمہ داری ادا کریں اور اس تحریک کو ائمہ مساجد میں عام کردیں‘ تو معاشرے پر جلد مثبت اثرات نظر آئیں گے۔


(کتابچہ دستیاب ہے۔ منشورات‘ منصورہ‘ لاہور)

تربیت کے معنی ترقی اور نشوونما کے ہیں۔ ترقی اور نشوونما کسی سمت میں اور کسی منزل کی طرف ہوتی ہے۔ انسان اپنے آپ کو بہت سے سانچوں میں ڈھال سکتا ہے اور جو شخصیت اور صلاحیتیں اللہ نے عطا کی ہوں ان کو بہت سارے پہلوئوں سے پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔

تربیت کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اُس مقصد کے حصول کے لائق بنائیں‘ اُس کا اہل بنائیں جو ہمارے پیشِ نظرہے۔ اس لحاظ سے تربیت کا عمل‘ اس کا نہج‘ اس کا طریقۂ کار اور اس کے اجزا مقصد کے لحاظ سے متعین ہوں گے۔

فوج میں تربیت کے معنی یہ ہوں گے کہ جسمانی طور پر اور لڑنے کی صلاحیت کے لحاظ سے اتنی تربیت ہو کہ جنگ جیتی جا سکے اور دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ایک مدرسے میں تربیت کے معنی یہ ہوں گے کہ علمی صلاحیتیں‘ علم کی تطبیق‘ بیان و اظہار اور تجزیے کی صلاحیتیں پروان چڑھائی جائیں۔ اس لحاظ سے جب ہم تربیت کے لیے جمع ہوں تو زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ ہمارے سامنے یہ چیز روزِ روشن کی طرح واضح ہو کہ وہ کیا مقصد ہے جس تک پہنچنے کے لیے ہم اپنی شخصیت کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ جتنا وہ مقصد صاف اور واضح ہوگا‘ اتنی ہی صحیح سمت میں‘ صحیح راستے پر‘ صحیح طریقے سے آگے بڑھنا اور اپنی منزل تک پہنچنا آسان ہوگا۔

ہمیں ایک جماعت کی صورت میں جمع کرنے اور منظم کرنے والی چیز اس دنیا میں   غلبۂ اسلام کی جدوجہد ہے۔ اس کے لیے اچھا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ ایک اچھا مسلمان ہونے کے لیے ایمان اور اسلام کا یہ مطالبہ ہے کہ مسلمان اپنا مال اور جان اللہ کی راہ میں لگائے۔ چونکہ اب عرصے سے ایک اچھے مسلمان کی تعریف سے یہ حصہ خارج ہو چکا ہے‘ اس لیے ہم کو اس کو بھی علیحدہ سے اپنے ذہن میں تازہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو ایسا مسلمان‘ مسلم‘ مطیع‘ متقی اور محسن بندہ دیکھنا چاہتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہو‘ جس سے وہ محبت کرتا ہو۔ ہماری کوشش ہو کہ ہم ویسا بنیں اور اگر ویسا نہ بن سکیں تو اس کے جتنے قریب پہنچ سکیں اتنا قریب پہنچیں‘ اور ایسا بننے کی کوشش میں لگے رہیں‘ کم از کم اس کوشش سے بے نیاز نہ ہوں۔ لیکن اسی کے اندر یہ بات بھی شامل ہے کہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے جدوجہد میں ہم اپنی قوتیں‘ صلاحیتیں‘ محنتیں‘ مال و دولت‘ یہ سب لگانے کے قابل ہوں۔

تربیت کا مقصد

اگر ہم تربیت کے مقصد کو بہت مختصر انداز میں بیان کرنا چاہیں‘ ذہن نشین کرنا چاہیں تو بنیادی طور پر تووہ مقصد اللہ کی جنت کا حصول ہے جس کی طرف اس نے اپنی کتاب ہدایت میں بار بار بلایا اور پکارا ہے اور دعوت دی ہے: وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِـّکُمْ وَجَـنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۳) ’’دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمھارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے‘‘۔ لہٰذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے تربیت کا وہی عمل مفید ہوگا جس میں تربیت کرنے والے کی نگاہوں میں یہ منزل ہمیشہ واضح رہے اور اسی پر نگاہیں جمی رہیں۔ اسی کے لیے بے چینی اور خلش رہے کہ میں وہ کام کروں کہ میرا قول و فعل اور عمل مجھے جنت کے قریب کر دے‘ اور ان کاموں سے دُور رہوں جو جنت سے دُور کریں اور نارِ جہنم سے قریب کر دیں۔ اگر میں بات یہیں ختم کر دوں تو یہ بھی کافی ہے۔ اس لیے کہ تربیت کے لیے بہت طویل تقریروں کی اور لمبے مباحث کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آدمی ایک ہی بات پا لے تو یہ اس کی تربیت کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔

حدیث میں ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے عرض کی کہ اُس کو قرآن کی کچھ تعلیم دیں جس کو وہ باقاعدگی سے پڑھا کرے اور اس سے ہدایت حاصل کرتا رہے۔حضورؐ نے حضرت علیؓ کو اس کی تعلیم و تربیت پر مامور فرمایا۔ انھوں نے اس کو سورئہ زلزال کی تعلیم دی۔ جب آخری آیت پر پہنچے: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ o  وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّـرَہٗ o (الزلزال ۹۹:۷-۸)’’پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘--- اس نے کہا یہ میرے لیے کافی ہے۔ غور کیجیے کہ اگر اتنی ہی بات کسی آدمی کے ذہن میں رہے کہ اگر وہ ذرہ برابر بھی برائی کرے گا تو وہ سامنے آئے گی اور ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا تو وہ بھی سامنے آئے گی‘ تو یہ بھی اس کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے اور صحیح راستے پر چلانے کے لیے کافی ہے۔

ایک روایت کے مطابق جب حضرت علیؓ نے حضورؐ کے سامنے اس بات کو بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو‘ وہ آدمی تو فقیہہ بن گیا۔ اس نے سمجھ لیا ہے کہ دین کا ماحصل کیا ہے۔ دین کا ماحصل تو یہی ہے کہ آدمی ہمیشہ اس اندیشے اور اس خیال سے اپنے اعمال پر نگاہ رکھے کہ اسے ان کا جواب اللہ تعالیٰ کو دینا ہے۔

اگر ہم صرف اتنی بات کو بھی پا لیں کہ اس ساری تربیت کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی جنت کی منزل سے قریب ہوسکیں‘ اور یہی ایک ترازو اگر ہاتھ میں رہے اور دل میں لٹکی ہوئی ہو اور جو بات بھی منہ سے نکلے اور جو کام بھی کیا جائے ‘ اور جہاں بھی آدمی کا وقت لگے اور مال خرچ ہو‘ وہاں توجہ صرف اسی طرف ہو اور اسی ترازو پر ہم تول کردیکھ لیں کہ آیا یہ مجھے اپنی منزل سے قریب کرنے والی چیز ہے یا دُور کرنے والی‘ تو صرف یہی ایک بات بھی ایک فرد کی تربیت کے لیے کافی ہوسکتی ہے‘ اگر اس کو اختیار کرلیا جائے۔

تربیت کے لیے جس عمل اور محنت کی ضرورت ہے وہ منزل کی مناسبت سے آدمی کو نصیب ہوتی ہے۔ اگر لوگوں کے سامنے وہ منزل ہو کہ جس کی وسعت میں زمین و آسمان سماجائیں تو اسی کی مناسبت سے وہ اپنی تربیت کریں گے‘اور جتنی وسیع جنت ہے اتنی ہی وسعت اور اتنی ہی بلندی پر اڑان اور پرواز کے لیے‘ ان کے پاس میدان ہوگا اور فضا ہوگی۔ اس کے نتیجے میں انسان کے دل‘ نظر‘ سوچ اور اخلاق و اعمال سب میں یہ وسعت پیدا ہوگی۔اصحاب الجنۃ‘ جو جنت میں جانے والے ہیں‘ ان کا جو سانچہ قرآن مجید نے پیش کیا ہے اس کے مطابق وہ اپنے آپ کو بنائے گا۔ درحقیقت اصل چیز تو منزل کا شعور اور اس کا واضح ہونا اور اس کا مطلوب ومقصود بننا ہے‘ اور اس کی خاطر کوشش کرنا اور محنت کرنا ہے اور اسی پر نگاہیں جمائے رکھنا ہے۔

نصب العین کے معنی نگاہ کو کسی چیز پر جما دینے کے ‘ نظر کو ٹھیرا دینے کے ہیں۔ چنانچہ جہاں نگاہ اٹک جائے وہاں دل بھی اٹک جاتا ہے‘ اور جس کے نگاہ اور دل دونوں اسیر ہو جائیں تو پھر پورا عمل اور زندگی اسی کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ ایک مسلمان کی نگاہ و دل جہاں ٹھیرنی چاہیے‘ جو اس کا مطمح نظر ہونا چاہیے‘ اور جس کی اسے تلاش اور طلب ہونی چاہیے وہ جنت ہے! لہٰذا نگاہ جس کی تلاش میں رہے وہ جنت ہے اور دل میں جس کی طلب اور آرزو ہو وہ جنت ہے اور جس کے اوپر اپنی کوششوں کو‘ اعمال کو‘ محنتوں کو اور اپنے آپ کو جانچنا چاہیے وہ جنت ہے۔

تربیت کی راہ میں یہ پہلی چیز ہے جو ہمیشہ نگاہوں کے سامنے رہنی چاہیے۔ جنت کے حصول کے لیے بہت سارے اعمال ہیں۔ ان میں جو سب سے بڑا عمل ہے وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ اسی لیے ایمان کی نشانیوں میں ‘ ایمان کی علامتوں میں ‘ اور ایمان میں سچے اور کھرے ہونے کی کسوٹی میں یہ بھی ہے کہ درحقیقت مومن وہی ہیں جو ایمان لائیں اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کو اونٹ کے کوہان سے تشبیہ دی ہے۔ گویا دین میں جو سب سے اعلیٰ اور اونچا مقام ہے وہ جہاد کو حاصل ہے۔ ہماری یہ تحریک قائم ہی اسی بنیاد پر ہوئی ہے۔ اسی چیزنے ہم سب کو جمع کیا ہے کہ دین کے مطالبات میں اقامت دین کا مطالبہ‘ اور دین کے فرائض میں سے جہاد کا فرض‘ اور دین میں مطلوب اشیا میں سے دین کے غلبے کا کام‘ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمارے ہاں سرفہرست ہیں۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ    اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کی طرف توجہ‘ اس کی طرف رغبت اور اس کی قربت اور اس کے ساتھ مناجات اور اس کی خاطر بھوکا پیاسا رہنا اور اس کی خاطر اپنی محبوب دنیا کو قربان کرنا‘ یہ چیزیں کوئی کم درجے کی ہیں۔ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیںاور لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔

قرآن مجید کی مختلف سورتیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کا حکم ساتھ ساتھ دیا ہے۔ اگر ایک طرف یہ فرمایا کہ قُمْ فَاَنْذِرْ o (مدثر ۷۴:۲) ’’اٹھ اور (لوگوں کو) ڈرا‘‘ تودوسری طرف فوراً بعد یہ حکم بھی دیا کہ یٰٓاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ o قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلاً o (مزمل ۷۳: ۱ -۲) ’’اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے‘ رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم‘‘۔ وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا o (’’اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو‘‘۔(مزمل ۷۳:۸)۔ اگر یہ فرمایا کہ وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ o (والضحیٰ ۹۳:۱۱)‘ کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت کی نعمت دی ہے اس کو دوسروں تک پہنچائو‘ بیان کرو تو اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ o (الم نشرح ۹۴:۷)‘ کہ جب بھی فارغ ہو تو پھر اپنے آپ کو اللہ کے ساتھ جوڑو‘ اسی کی طرف رغبت اختیار کرو۔ اگر یہ حکم دیا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ  رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ o (العلق ۹۶:۱)‘ یعنی اللہ کے نام سے پڑھو اور سنائو جوہدایت کہ تمھارے پاس آئی ہے تو آخر میں یہ بھی فرمایا کہ سجدہ کرو اور اس سے قریب ہوجائو۔ جہاں یہ فرمایا: وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖط ھُوَ اجْتَبٰکُمْ (الحج ۲۲:۷۸)‘ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے‘ اور اسی کے لیے اس نے تم کو منتخب کیا ہے ‘ وہاں یہ بھی فرمایا کہ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰہِط ھُوَ مَوْلٰکُمْج فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُo (۲۲:۷۸) ‘اللہ کو مضبوطی کے ساتھ پکڑلو۔ وہی تمھارا مولیٰ ہے بہترین دوست اور بہترین مددگار۔ گویا جہاں بھی اقامت دین کا‘ خدا کی طرف بلانے کا حکم دیاہے وہاں خدا سے تعلق مضبوط کرنے کا حکم بھی دیا ہے‘ اس سے بھی ان دونوں پہلوئوں کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جہاد کا کام اللہ کے ساتھ گہرے تعلق اور للہیت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن جوچیز مقصود ہے‘ وہ یہی ہے کہ انسان اپنے ارادے سے اللہ کی بندگی اختیار کرے اور اس کی راہ میں اپنی جان و مال‘ سب کچھ لگا دے۔جو کچھ اللہ نے دیا ہے وہ بھی لگا دے اور اگر وقت آئے تو اپنا سر بھی اس کے قدموں میں نثار کر دے۔

منزل کا تعین

تربیت کے مقصد کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ دنیا میں جو کام ہمیں کرنا ہے‘ اس کام کے جو تقاضے اور مطالبات ہیں‘ ان کی مناسبت سے ہمیں اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔ وہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ ہمیں اس بات کا پورا ادراک‘ شعور اور فہم ہو کہ ہم دنیا میں کیا کرنے آئے ہیں۔

ہم نے پہلے دن سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ ہمارے سامنے جو مقصد ہے وہ ایک نئی دنیا کی تعمیر ہے۔ اس کو ہم ’’عالمگیر اسلامی انقلاب‘‘ کے نام سے بھی پکارتے ہیں اور ’’امامت عالم کے منصب کو حاصل کرنے‘‘ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے ’’انسانی زندگی کی زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لینے‘‘ کی تعبیربھی اختیار کی ہے لیکن سب کا مقصد ہے دنیا کی امامت‘ انسانوں کی رہنمائی اور ایک نئی تہذیب و تمدن کی تعمیر۔ یہ دراصل ہمارا مقصد ہے اور ہرشخص کے سامنے یہمقصد واضح ہونا چاہیے۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان باصلاحیت ہو‘ بہت اچھا بولنے والا ہو‘ اچھا لکھنے والا ہو‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو تب ہی وہ دنیا کی قیادت سنبھال سکتا ہے۔ اس امت کے اولین دور میں جن لوگوں نے دنیا کی امامت سنبھالی اور ساری دنیا کو فتح کرلیا وہ مکہ کے چھوٹے چھوٹے تاجر تھے۔ مدینہ کے معمولی کسان اور عرب کے صحرائوں میں بکریاں چَرانے والے بدو تھے۔ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ میں تو بڑا حقیر ہوں اور میرا کام اتنا ہی ہے کہ اپنے گائوں میں ایک اجتماع کر لیا کروں‘ بس اتنا ہی کام کافی ہے۔ ممکن ہے کرنے کا کام بہت تھوڑا ہو لیکن ذہن میں اس بات کا واضح اور صاف ہونا بہت ضروری ہے کہ اصل مقصد وہ نہیں ہے جو آدمی گائوں میں کر رہا ہے‘ اصل مقصد اجتماع کرنا یا کتاب پڑھا دینا بھی نہیں ہے‘ اور اصل مقصد جلوس نکالنا بھی نہیں ہے بلکہ اصل مقصد تو ساری دنیا کو تبدیل کر دینا ہے۔ چھوٹی چھوٹی کوششیں جو جگہ جگہ ہو رہی ہیں‘ وہ سب مل کر   اس عظیم الشان مقصد کی کامیابی کا ذریعہ ضرور بنیں گی۔ لیکن جب تک ہر کوشش کا رخ وہی نہ ہو اور ہر کوشش سے مطلوب وہی عظیم الشان تغیر وتبدل نہ ہو‘ اس وقت تک انسان وہ نہیں بنے گا جو وہ بننا چاہے۔

عرب کے بدو‘ کسان اور تاجر اس لیے عظیم الشان انسان بن گئے تھے کہ ان کو یہ بات معلوم تھی اور ان کے سامنے یہ منزل واضح اور روشن تھی کہ بالآخر قیصروکسریٰ کے محلات اور ان کی سلطنتیں ان کے ماتحت آنے والی ہیں۔

مکہ میں بھی یہ بات عام تھی کہ اگر تم لوگوں نے لا الٰہ الا اللہ کو اختیار کرلیا تو عرب اور عجم تمھارے زیرنگیں آجائیں گے۔ ہجرت کی طرف سفر کرتے ہوئے جب دو آدمی اس حالت میں نکلے تھے کہ پیچھے دشمن قتل کے درپے تھا اور آگے مدینہ میں کیا صورت حال پیش آنے والی تھی‘ آیا پناہ ملے گی بھی یا نہیں‘ اس کا کچھ اندازہ نہیں تھا۔ اس وقت بھی حضورؐ نے سراقہ بن جعشم کو جب امان کا پروانہ لکھ کر دیا تھا تو یہی پیشنگوئی فرمائی کہ ایک دن آئے گا کہ کسریٰ کے کنگن تمھارے ہاتھ میں ہوں گے۔

غور کیجیے کہ کن حالات میں یہ بات کہی جا رہی ہے۔ اوپر سورج ہے اور نیچے ریگستان‘ کوئی لشکر اور فوج نہیں ہے اور ایران کی حکومت اس وقت کی سپرپاور ہے اور ایسے میں آپؐ پیشنگوئی فرماتے ہیں کہ اے سراقہ ایک دن آئے گا کہ کسریٰ کے کنگن تمھارے ہاتھوں میں ہوں گے۔

غزوئہ خندق کا واقعہ اپنے ذہن میں تازہ کیجیے کہ ہزاروں کا لشکر مدینہ کو تباہ کرنے کے لیے پورے عرب سے اُمڈ آیا ہے۔ پشت پر یہودی چھرا گھونپنے کے لیے تیار تھے۔ کہیں سے بھی کوئی سلامتی کی راہ سجھائی نہیں دیتی تھی۔ لوگوں کے دل سینوں میں اُلٹ رہے تھے‘ حالات دیکھ کر حوصلے پست ہو رہے تھے۔ صرف ایک چھوٹی سی خندق نے مدینہ کو محفوظ کر رکھا تھا۔ ان حالات میں جب وہ خندق کھودی جا رہی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی خندق کھودنے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شریک تھے۔ ایک موقع پر ایک سخت چٹان پر گدال مارتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ مجھے قیصر کے خزانے دکھائے گئے ہیں۔ پھر دوسرا گدال چٹان پر مارا اور فرمایا کہ مجھے کسریٰ کے خزانے دکھائے گئے ہیں۔ ان حالات میں جب ہر طرف سے دشمن گھیرے میں لیے ہوئے تھا اور ذرا سی چوک سے مدینہ تباہ و برباد ہو سکتا تھا‘ اس وقت بھی آپؐ کی نظر عالمِ انسانیت کی  امامت پر تھی اور جو منصب ابراہیم علیہ السلام کے سپرد کیا گیا تھا‘ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاط (البقرہ ۲:۱۲۴) ’’میں تم کو سارے انسانوں کا امام بنانے والا ہوں‘‘، وہی منصب سامنے تھا۔

یہ بات میں نے اتنی تفصیل سے اس لیے بیان کی ہے کہ تربیت میں جہاں ایک طرف نظر اس جنت پر ہونی چاہیے جس کی وسعت میں زمین و آسمان سما جائیں اور اسی کی طرح اپنے آپ کو بنانا چاہیے‘ وہاں دوسری طرف دنیا کی منزل بھی سامنے رہنی چاہیے ۔ سوچ میں‘ اعمال میں‘ برتائو میں‘ اخلاق میں وہی رویہ کارفرما ہونا چاہیے جو اہل جنت کی سوچ‘ اہل جنت کے اخلاق اور اہل جنت کے اعمال میں مطلوب ہے۔ نظر اور قلب میں وہی وسعت ہونی چاہیے جیسی کہ جنت کی وسعت ہے‘ اور فیصلوں میں وہی شادابی اور تازگی ہونی چاہیے جو جنت کی شادابی اور تازگی ہے‘ اور وہی سدابہار حوصلے اور محنتیں درکار ہیں کہ جس طرح سدابہار جنت کے پھل ہیں‘ اور اسی طرح کے ایمان اور اخلاق کی بہتی ہوئی نہریں ہونی چاہییں جو کہ جنت میں بہہ رہی ہوں گی۔ دنیا میں جب یہ سب کچھ ہوگا تب جاکر ہی جنت نصیب ہوگی اور دنیا کی امامت کی منزل سر ہوگی۔

دنیا کے اندر جو منزل ہے وہ کسی ضلع‘ گائوں اور دیہات تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ منزل تو اس ملک کو اور سارے عالم کو اس کے پیدا کرنے والے کے لیے مسخر کرنا ہے۔ کوئی آدمی جس کی صلاحیت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو‘ وہ گونگا ہو یا بہرہ‘ دیہاتی ہو یا اَن پڑھ‘ ہر ایک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ میں اس قافلے میں شریک ہوں جو بالآخر اس سارے عالم پر غالب آنے والا ہے۔ اس سے ایک فرد کی سوچ اور صلاحیتیں پروان چڑھیں گی۔ اگر یہ مقصد واضح اور صاف ہو اور نگاہوں کے سامنے موجود ہو تو پھر اسی لحاظ سے آدمی کے اندر حوصلہ اور ہمت پیدا ہوگی اور تربیت اور عمل کے لیے جو محنت اور کوشش درکار ہے وہ کرنے کے قابل ہوسکے گا۔

تربیت کی بنیاد

تربیت کا انحصار نہ افراد کے جمع ہونے پر ہے‘ نہ تقریروں پر اور نہ دروس قرآن پر ہی ہے بلکہ تربیت کا انحصار ایک فرد کی اپنی ذات پر ہے۔ تربیت کی کنجی تقریروں میں یا دوسروں میں تلاش نہ کیجیے بلکہ وہ کنجی آپ کے دل میں ہے‘ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر صرف گفتگوئوں اور تقریروں سے تربیت ہوجایا کرتی تو انبیا علیہ السلام کی اتنی موثر وعظ و نصیحتیں اور تقاریر رائیگاں  نہ جاتیں۔ جولوگ نہ ماننا چاہتے تھے ان کو ایمان کی دولت بھی نصیب نہ ہوئی‘ اور جو لوگ کوئی کام نہ کرنا چاہتے تھے ان سے کوئی نیک عمل صادر نہیں ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس حکمت کے تحت پیدا کر کے دنیا میں بھیجا ہے اس کی بنیاد ہی یہ ہے کہ وہ ہم میں سے ہر شخص کو الگ الگ آزمانا چاہتا ہے۔   الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط (الملک ۶۷:۲)‘ یعنی موت اور زندگی کی یہ ساری بساط بچھائی ہی اس لیے گئی ہے کہ وہ ہمیں آزما کر دیکھ سکے کہ   ہم میں سے کون حسنِ عمل‘ نیک عمل کرتا ہے۔نیکی ہی حسین ہوتی ہے۔ جس کے اعمال نیک ہوتے ہیں اسی کے اعمال حسین بھی ہوتے ہیں۔ یہی اس دنیا میں پیدایش کا مقصد ہے اور اس کے لیے اپنا ارادہ‘ اپنا عزم اور اپنی کوشش ہی وہ معیار اور ذریعہ ہے جس سے کسی کی تربیت ممکن ہے۔

اگر ہم یہ چاہیں کہ کسی کے پاس جادو کی چھڑی ہو اور وہ ہلائے تو اس کے نتیجے میں تربیت ہو جائے اور ہم نیک بن جائیں‘ تو یہ جادو کی چھڑی اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا کو بھی نہیں  عطا کی تھی۔ انبیا کو بھی محنت کرنا پڑتی تھی اور انبیا کی بات بھی وہی سنتے تھے کہ جو سننا چاہتے تھے۔ اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی (النمل ۲۷:۸۰) ’’تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے‘‘۔ اَفَاَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَو کَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَo (یونس ۱۰:۴۳) ’’مگر کیا تو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ انھیں کچھ نہ سوجھتا ہو؟‘‘

سیدنا مسیح علیہ السلام کے معجزات تو ایسے تھے کہ مفلوج چلنے لگتے تھے اور اندھے دیکھنے لگتے تھے اور کوڑھی اچھے ہوجایا کرتے تھے اور مٹی کے پرندے اڑنے لگتے تھے اور مردے زندہ ہوجایا کرتے تھے لیکن بنی اسرائیل کے وہ عوام‘ علما اور فقہا جو بیت المقدس میں آپ کی باتیں سن رہے تھے ان کے اندھے پن کا‘ ان کی بے عملی کا اور ان کی مفلوجیت کا کوئی علاج نہ ہو سکا تھا۔ اس لیے کہ انھوں نے خود اپنا علاج نہیں کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ اسی کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت چاہتا ہے۔ اسی کی بہتری چاہتا ہے جو اپنی بہتری چاہتا ہے اور بہتری کے لیے کوشش کرتا ہے۔

جب تک اس نکتے کو نہیں سمجھا جائے گا کہ تربیت کا انحصار تقریروں‘ درس قرآن یا گفتگو پر نہیں ہے بلکہ تربیت کا انحصار ایک فرد کی اپنی ذات‘ مرضی اور ارادے پر ہے‘ تربیت نہیں ہوسکتی۔ تربیت کے عمل میں ایک شخص کی ذات کی حیثیت وہی ہے جو ایک کسان کے لیے کھیت کی ہوتی ہے‘ ایک دکاندار کے لیے اس کی دوکان کی ہوتی ہے اور ایک تاجر کے لیے اس کے کاروبار کی ہوتی ہے۔ ایک کسان خوب جانتا ہے کہ گھربیٹھ کر دعا کرنے سے یا کسی اور کے دعا دینے سے یا آسمان سے بارش کے برسنے سے فصل نہیں اگے گی۔ وہ ہل لے کر نکلے گا‘ ہل چلائے گا‘ بیج بوئے گا‘ اس کی نگہداشت کرے گا‘ تب جاکر پانی بھی فائدہ دے گا‘ سورج بھی گرمی پہنچائے گا‘ بیج بھی نشوونما پائے گا‘ درخت بھی نکلے گا اور پھل بھی آئیں گے۔ اس محنت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوگا۔ اس کو اپنے کھیت کی ذمہ داری خود سنبھالنا پڑے گی۔ تب کہیں جاکر کھیت اس کو فصل دے گا۔   دکان دار بھی جانتا ہے کہ وہ اگر دکان پر تالا ڈال کر گھر بیٹھا رہے تو کسی چھو منتر سے دکان کھل کر اس کو نفع نہیں دے گی۔ کسی کے پاس کوئی ایسا نسخہ نہیں ہے۔ اس کو دکان کھولنا ہی پڑے گی‘ صبح سے شام تک مال بیچنا پڑے گا‘ خون پسینہ ایک کرنا پڑے گا‘ تب کہیں جاکے چار پیسے کھرے ہوں گے۔

اسی طرح یہ دکان جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی شخصیت میں لگا دی ہے اور یہ کھیتی جو اس نے آپ کو اپنی روح اور اخلاق کی دی ہے ‘اس کو سینچنے کی ذمہ داری آپ کو خود اٹھانا پڑے گی۔ جب آپ یہ عزم کریں گے کہ اللہ نے مجھ کو وہ کچھ بخشا ہے کہ جس کی اگر میں تربیت کروں تو وہ اس لائق ہو سکتا ہے کہ ملائکہ سے بھی اوپر جاکر اللہ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ منزل موجود ہے‘ وہاں پہنچنا بھی مشکل نہیں ہے لیکن پرواز خود کرنا پڑے گی۔ اگر میرے اندر حوصلہ اور ہمت نہیں ہے تو میں منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ وہ جنت بھی میرے نصیب میں آسکتی ہے جس کی وسعت میں زمین و آسمان سما جائے‘ اور امامت عالم کا وہ منصب کہ جہاں دنیا کی ساری طاقتیں اسلام کے مقابلے میں سرنگوں ہوجائیں وہ بھی میرے مقدر میں اللہ تعالیٰ نے لکھا ہوا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی بغیر محنت اور کوشش کے مجھے نہیں مل سکتی۔

ایک طرف اگر آپ کے سامنے منزل ہو اور دوسری طرف آپ کو اس امکان پر یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے فرمائے ہیں وہ پورے ہوں گے اور تیسری طرف اگر آپ اس بات کو سمجھ لیں کہ نہ تقریروں سے تربیت ہوتی ہے نہ دروس قرآن سے اور نہ تربیت گاہ سے ہی تربیت ہوتی ہے بلکہ تربیت صرف اپنے عمل اور کوشش سے ہوتی ہے‘ تو آپ تربیت کی کنجی کو پالیں گے۔ اس کے بعد تقاریر‘ درس قرآن‘ تربیت گاہیں اور ماحول اس کھاد‘ پانی اورروشنی کی طرح کام کرتے ہیں جس سے بیج کو پروان چڑھایا جاسکتا اور تربیت کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کوشش ہی نہ کریں‘ بیج ہی نہ ڈالیں‘ اس کی نگہداشت نہ کریں تو پھر پانی‘ کھاد‘ زمین کتنی ہی زرخیز کیوں نہ ہو‘ سونا اگلنے والی ہی ہو‘ وہ آپ کو کچھ نہیں دے گی۔

ہر شخص کے اندر اللہ تعالیٰ نے سونا اُگلنے والی مٹی رکھی ہوئی ہے جیسا کہ میں نے مثال دی کہ عرب کے بدو معمولی انسان تھے لیکن دنیا کے قائد بن گئے۔ جواَن پڑھ تھے‘ اُمّی تھے‘ ان میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو بہترین جرنیل‘ حکمران‘ علما اور جج اور فقہا ثابت ہوئے۔ مدینہ کی    درس گاہ سے وہ لوگ بن کر نکلے کہ جنھوں نے سارے عالم پر حکومت کی اور ہزاروں برس تک دنیا کی رہنمائی کی۔ ان میں قیادت کی صلاحیت موجود تھی لیکن وہ اپنی صلاحیتوں سے بے خبر تھے۔ جس طرح ایٹم کا چھوٹا سا ذرّہ نہیں جانتا کہ اس کے اندر کتنی بڑی قوت پوشیدہ ہے۔ جب ایٹم کا وہ معمولی ذرّہ خود سے آگاہ ہو جاتا ہے یا کوئی دوسرا اس کو آگاہ کر دیتا ہے تو وہی اتنی بڑی قوت پیدا کر دیتا ہے کہ ایٹم بم بن کے لاکھوں انسانوں کو ایک سیکنڈ میں تباہ کر سکتا ہے اور لاکھوں کلوواٹ کی قوت پیدا کرسکتا ہے۔

اسی طرح ہر انسان کے اندر وہ امکانات موجود ہیں کہ وہ بہت اونچا اڑ سکتا ہے‘ بہت اونچی پرواز کر سکتا ہے اور وہ ساری منازل طے کرسکتا ہے جو منازل اللہ نے انسان کے لیے کھول دی ہیں‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ لیکن یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ ہوگا وہ میرے کرنے سے ہی ہوگا۔

اگر ایک شخص محض خواہش ہی کرتا رہے‘ تمنا ہی کرتا رہے‘ دعا کرتا رہے اور دوسروں سے دعائوں کی درخواست کرتا رہے اور یہ سوچے کہ تمنائوں اور آرزوئوں سے کام چل جائے گا تو یہ خام خیالی ہے۔ اس سے کام نہیں ہوگا۔ اصل چیز عمل ہے۔ عمل کم ہو یا زیادہ‘ عمل سے ہی زندگی بنتی ہے‘ جنت بھی جہنم بھی۔ جب آپ کچھ کرنے پر لگ جائیں گے خواہ تھوڑا کریں‘ تو تھوڑا تھوڑا کر کے بہت ہو جاتا ہے۔ قطرہ قطرہ کرکے دریا بن جاتا ہے‘ ذرہ ذرہ مل کر ریگستان بن جاتا ہے۔ ایک ایک کرکے آپ نیک اعمال اختیار کرلیں گے اور ایک ایک کرکے اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرلیں گے۔ البتہ یہ سب کچھ خود کرنے سے ہوگا۔ اگر خود کام نہیں کریں گے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔یہ تربیت کا بڑا اہم پہلو ہے جو ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے۔

ترجیحات کا مسئلہ

تربیت کے عمل میں ایک اہم پہلو ترجیح‘ ایثار اور قربانی کا ہے۔ یہ دین کی راہ میں اور تربیت میں بڑا بنیادی عمل ہے۔ انسان کی پوری زندگی اسی چیز میں بسرہوتی ہے کہ مختلف چیزیں انسان کی توجہ‘ اس کے مال‘ اس کے عمل اور اس کی محنت کی طلب گار ہوتی ہیں۔ اب اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کسے ترجیح دے اور کسے رد کرے۔ نیکی اور بدی ایک ساتھ آجائیں تو کسے اختیار کرے؟ دو چیزیں وقت مانگتی ہیں‘ کس کو وقت دیا جائے؟ بعض دفعہ بہت چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں جہاں یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ سردیوں کی صبح ہے‘ گرم گرم بستر ہے‘ موذن کی آواز بلند ہوجاتی ہے‘ اب یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ گرم بستر چھوڑ دوں اور رب کی پکار پر لبیک کہوں یا سوتا پڑا رہ جائوں۔ گھر میں کسی کام میں مشغولیت ہے‘ اذان کی آواز آجاتی ہے‘ یہاں بھی ترجیح کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ نماز کے ذریعے پانچ وقت اسی چیز کی تربیت ہوتی ہے۔

اس طرح ترجیح‘ ایثار اور قربانی کا یہ عمل ساری عمرجاری رہتا ہے۔ اسی ترجیح کی بنا پر انسان کو اپنے بہت سے سارے رشتہ دار‘ اپنے تعلقات اور بعض دفعہ اپنا ذاتی مفاد تک قربان کرنا پڑتا ہے۔ البتہ ترجیحات کے اس عمل میں ہمیشہ ترجیح اس کام کو دی جانی چاہیے جس میں اللہ کی رضا ہو اور جس سے دنیا میں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے انعامات حصے میں آتے ہوں۔ اسی کو ترجیح دینا چاہیے اور اسی کے پیچھے اپنے آپ کو لگانا چاہیے۔

اپنی منزل کی طرف جستجو‘ مختلف امور پر مختلف امورکو ترجیح دینا‘ اسلام میں بہت ساری عبادات میں اس کی تربیت دی گئی ہے۔ پانچ وقت نماز میں اسی بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ سارا کام چھوڑ کر نکل جائو‘ اللہ کے گھر تک جائو‘ نماز ادا کرو اور واپس آجائو۔ یہ اپنی ذات پر اور اپنے مفاد پر خدا کے حکم کو ترجیح دینا ہے اور اس کی تربیت ہے۔نماز تو گھر میں بھی پڑھی جاسکتی ہے اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گھر میں‘ تنہائی میں‘ یا کسی گوشے میں کھڑے ہوکر نماز ادا کی جائے تو مسجد کے مقابلے میں شاید زیادہ خشوع و خضوع ہوتا اور زیادہ توجہ ہوتی۔ گھر میں پڑھی جانے والی نماز کے مقابلے میں مسجد میں نماز کی ادایگی ۲۷ درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ مسجد میں شاید خشوع و خضوع میں کمی آجاتی ہو لیکن یہ تربیت کہ آدمی اللہ کی پکار پر لبیک کہے اور سب کچھ چھوڑ کے نکل کھڑا ہو‘ سارے کاروبار ترک کر دے اور اللہ کی پکار پر حاضر ہو جائے‘ نماز باجماعت اور مسجد میں آئے بغیر ممکن نہیں۔ سورۂ جمعہ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے:  یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ (الجمعہ ۶۲:۹) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو‘‘۔

اللہ کو یاد کرنا‘ تنہائی میں خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرنا اپنی جگہ فضیلت رکھتا ہے اس کے لیے اور مقامات ہیں۔ لیکن اللہ کی پکار پر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللہ کی یاد کی طرف دوڑ پڑنا اور سارا کاروبار زندگی ترک کر دینا‘ یہ اصل چیز ہے جو مطلوب ہے اور نماز کے ذریعے اس کی بار بار یاد دہانی اور تربیت کی جاتی ہے۔ جب آپ گوشے میں کھڑے ہیں تو کوئی چیز قربان نہیں کر رہے ہیں لیکن جب آپ گھربار چھوڑ کر نکلتے ہیں تو آپ قربانی دیتے ہیں اور اصل چیز تو یہ ترجیح‘ ایثار اور قربانی ہی ہے جس سے شخصیت بنتی ہے۔

صبح سے شام تک بارہا اس سوال کا سامنا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے‘ کسے ترجیح دی جائے اور کسے نہ دی جائے‘ یہ کیا جائے اور وہ نہ کیا جائے۔ اسی طرح یہ پہلو کہ غصہ آ رہا ہے یہ بات منہ سے نکالنی چاہیے یا نہیں‘ یہ وعدہ کیا ہے اس کو پورا کرنے میں میرا یہ نقصان ہوتا ہے وعدہ پورا کروں یا نہ کروں‘ سچ بولوں تو یہ نقصان ہوگا اور جھوٹ بولوں تو یہ فائدہ‘ آیا سچ بولوں یا جھوٹ‘ اگر ملکی انتخابات ہیں ترجیحات کا مسئلہ پیش آتا ہے کہ کس کا ساتھ دیا جائے۔ گویا    قدم قدم پر یہ مسئلہ پیش آتا ہے۔ عملاً تربیت یہیں سے شروع ہوتی ہے کہ آپ بہت ساری چیزوں کو ترک کرتے ہیں اور یہ تربیت مسلسل ہوتی ہے۔

حج کی تربیت بھی یہی ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر آدمی جاتا ہے اور ایک پتھر کے گھر کے گرد چکر کاٹتا ہے اور ایک میدان میں جاکر کھڑا ہو جاتا ہے اور واپس آجاتا ہے۔ حج کا خلاصہ جو میں نے بیان کیا ہے‘ اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ حج کے اندر کوئی چیز کرنا یا پڑھنا ضروری ‘ لازمی یا ناگزیر نہیں ہے کہ جس کے بغیر حج نہ ہوسکے۔یہ سب کس لیے ہے‘ اسی لیے کہ اللہ کی راہ میں نکلو اور اس کی پکار پر لبیک کہو اور اس کی خاطر سب کچھ چھوڑ دو‘ گھر بھی چھوڑ دو‘ رشتہ داروں کو بھی چھوڑ دو‘ لباس بھی بدل لو‘ سفر کرو‘ اس کے گھر تک آئو۔ اللہ ہی کو اپنا محبوب سمجھو‘ اسی کے لیے اس کے گھر کے گرد چکر لگائو‘ اسی کے دربار میں حاضری دو اور اسی کے سامنے کھڑے ہوجائو۔ یہی دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق‘ دین کی خاطرجدوجہد اور اس کے لیے قربانی کی تربیت ہے۔

باہمی تعلق اور ماحول سے تربیت

انسان تنہا نہیں ہے بلکہ انسان کی زندگی تو بنتی ہی دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں ہے۔ بیوی بچے‘ ماں باپ‘بھائی بہن‘ دوست احباب اور رشتہ داروں کے ساتھ مختلف تعلق ہیں جن پر انسانی زندگی محیط ہے۔ دراصل انسان کا امتحان ہی یہی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق میں عدل اور احسان کے اوپر قائم رہے۔ دوسروں کے حقوق پورے پورے ادا کرے۔ اگر کسی کے ساتھ بات کرے تو بہترین بات کرے‘ یا بھلی بات کرے ورنہ خاموش رہے۔ اگر کسی کے ساتھ معاملہ کرے تو انصاف کا معاملہ کرے‘ احسان کا معاملہ کرے۔ اپنی ذات سے کسی انسان کو ایذا نہ پہنچائے۔ راستے میں اگر کوئی ایذا پہنچانے والی چیز ہو تو اس کو بھی ہٹا دے۔ اس پر بھی جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اگر کسی کتے کو پیاسا دیکھیں اور اس کو پانی پلا دیں تو اس پر بھی جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں بلی کو آدمی بھوکا مار دے تو اس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔

باہم مل جل کر رہنے میں‘ تعلق‘ رشتہ داری اور حقوق کی ادایگی میں ناگواریاں ہو سکتی ہیں اور تلخیاں بھی۔ مگر یہ سب صبر کرنے‘ محبت کرنے‘ ایک دوسرے سے قریب آنے کی تربیت کا ایک ذریعہ اور موقع ہے جو درس و تقریر سے الگ ہٹ کے میسرآسکتی ہے۔

اسی طرح اپنے ماحول سے آدمی سیکھتا ہے۔ باہم ملنے جلنے سے‘ چلنے پھرنے سے بہت سی باتیں ایسی سامنے آتی ہیں جو آدمی کو ناپسند ہوں اور بہت سی ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جو پسندیدہ ہوں۔ اس میں بھی انسان کا امتحان ہوتا ہے اور اس میں دین نے جو اصول سکھائے ہیں‘ باہمی اصلاح کے طریقے بتائے ہیں ان کی آزمایش ہوتی ہے کہ اگر آدمی کسی برائی کو دیکھے تو  کس طرح اس کی اصلاح کرے اور اگر اچھائی دیکھے تو کس طرح اس کی تحسین کرے۔

کوئی انسان مثالی انسان نہیں ہو سکتا سوائے اللہ کے رسولوں کے۔ کوئی بستی مثالی بستی نہیں ہو سکتی سوائے جنت کی بستی کے۔ اس لیے آپ جہاں جہاں بھی انسانوں کے اندر چلیں گے‘ پھریں گے آپ کو اچھائیاں بھی دکھائی دیں گی اور خرابیاں بھی ملیں گی۔ یہ آپ کا فرض ہے کہ ان سب کے ساتھ جینا اور ان سب کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ ان کی اصلاح کی کوشش کرنا آپ پر فرض ہے۔ یہ بھی تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

تربیتی ذرائع کی اہمیت

جہاں تک تعلق تقاریر‘ درس قرآن اور لٹریچر وغیرہ کا ہے تو وہ خود تو کسی انسان کی تربیت نہیں کرتے بلکہ یہ ایک ذریعہ ہیں۔ ان کی مثال بارش کی سی ہے۔ جب بارش برستی ہے تو کھیت بھی اس سے سیراب ہوتے ہیں اور کنوئوں کے اندر بھی پانی ذخیرہ ہوتا ہے اور تالابوں کے اندر بھی اور بہت سی جگہوں پر پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سیراب وہی ہوگا جو اس کو اپنے اندر جذب کرے‘ محفوظ کرے۔ درس قرآن اور تقاریر سے بھی تب ہی فائدہ اٹھایاجا سکتاہے کہ اگر ان کو اپنے ذہن‘ دماغ اور سینوں میں محفوظ کیا جا سکے۔ جو باتیں قابلِ عمل ہوں ان سے فائدہ تب حاصل کیا جاسکتا ہے‘ جب ان پر نگاہ رہے۔  تقریر فی نفسہ آپ کو فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ اگر آپ خود فائدہ حاصل کرنا چاہیں گے تو پھر وہ سارے فوائد آپ کے استفادے کے لیے موجود ہوں گے جو تقریر کے اندر پائے جاتے ہیں۔

یہ تربیت سے متعلق کچھ بنیادی باتیں ہیں۔ اگر آپ انھیں ملحوظ رکھیں‘ اپنے ذہن میں تازہ رکھیں اور عمل کی کوشش کریں تو مجھے امید ہے کہ یہ باتیں ان شاء اللہ آپ کے لیے برکت کا‘ بہتری کا اور نشوونما اور ارتقا کا ذریعہ بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

(کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)

قوموں اور گروہوں کا گرنا اور اٹھنا‘تاریخ کی ایک ایسی حقیقت ہے جس پر انسان ہمیشہ سوچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

کچھ قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہیں‘ غلبہ اور کامرانی اُن کے حصے میں آتا ہے‘ وہ دنیا پر چھا جاتی ہیں۔ تہذیب‘ تمدن‘ علم‘ ہر لحاظ سے انھی کا سکہ چلتا ہے‘ لیکن پھر مختلف انداز سے زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کچھ محض ماضی کی داستان بن کر رہ جاتی ہیں اور صرف تاریخ کے اوراق میں اُن کا ذکر پڑھا جا سکتا ہے۔ کچھ ایک لمبے عرصے کے لیے پستی اور گم نامی کے پردے میں چلی جاتی ہیں۔ کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کبھی بھی‘ اس سے نہیں نکلتیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیںجو طویل عرصے کے بعد پھر اُبھر کر سامنے آجاتی ہیں۔

یہ سوال ہر سوچنے والے انسان کو ہمیشہ ہی پریشان کرتے رہے ہیں۔ ان کا جواب بھی لوگ دیتے رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے نبیؐ کی معرفت دنیا کو ہدایت دی ہے اورجو آخری ہدایت ہمارے پاس موجود ہے اس میں بھی قوموں کے عروج و زوال سے کافی تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔ قوموں کا ذکر ہے‘ اُن کے کردار اور اُن کے افعال کا بیان ہے‘اُن پر عذاب آنے یا نجات پانے کا ذکر کیا گیاہے۔ یہ اس لیے ہے کہ انسان دنیا کے اندر ہمیشہ کسی گروہ‘ یا کسی قوم‘ یا کسی اجتماعیت کا حصہ بن کر رہتا ہے۔ لہٰذا اگر اُس کو راہِ راست پہ قائم رہنا ہے تو وہ اجتماعیت اور قوم سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ وہ پیدا ہوتا ہے تو اس صورت میں کہ دو انسان مل کر ایک خاندان کی اجتماعیت کو وجود میں لاتے ہیں۔ آنکھ کھولتا ہے توخاندان‘ محلہ‘ اسکول‘ ہر جگہ‘ اُس کی زندگی کا ہر گوشہ دوسرے انسانوںکے ساتھ تعلقات کے اندر بندھا ہوتا ہے۔ بہت ہی تھوڑی زندگی ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان دوسرے انسانوں سے بالکل آزاد اور بے نیاز ہو کر گزارتاہے۔ لیکن یہ بھی باہر سے متاثر ہوتی ہے۔ دل میں خیالات اُٹھتے ہیں‘ غصہ آتا ہے‘ محبت ہوتی ہے‘ جذبات پیدا ہوتے ہیں‘ یہ سب باہر سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ لوگ جو کسی ایک خاص پہلو سے انسان کا مطالعہ کرتے ہیں جب وہ اجتماعیت کے نقطۂ نظر سے انسان کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ دراصل انسان اپنی قوم یا اپنے معاشرے یا اپنی اجتماعی زندگی کی پیداوار ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان تو ایک social animal ‘ یعنی معاشرتی حیوان ہے۔ حالانکہ معاشرے اور اجتماعیت کے لحاظ سے بہت سے جانور بھی بڑی زبردست اجتماعیت اور قومیت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس کی ایک مثال شہد کی مکھیوں کی ہے۔ اگر آپ نے سنا یا پڑھا ہو تو آپ واقف ہوں گے کہ ان کے اندر کتنی زبردست اجتماعیت پائی جاتی ہے۔

قرآن مجید نے اپنے انبیا‘ اپنی دعوت‘ ایمان اور عملِ صالح کی مناسبت سے کامیابی کے جو مژدے سنائے ہیں اُن کی بنیاد پر‘ آج دنیا کے اندر اُس کی نافرمان قوموں کو غالب دیکھ کر ذہن میں سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے اس موضوع کا بڑا گہرا تعلق ہدایت اور قرآن مجید کو سمجھنے سے ہے۔ اگر اصلاح و تغیر اور انقلاب کا کام کرنا ہے تو اُس کے لیے بھی اُن قوانین کو سمجھنا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت اس سلسلے میں ہم کو دیے ہیں۔

انسان کی یہ عادت ہے اور صحیح ہے کہ جن چیزوں کو وہ نہیں جانتا اور سمجھنا چاہتا ہے‘ اُن کو وہ اُن کی معرفت جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جواُس کی فہم اور سمجھ کے دائرے کے اندر آتے ہیں۔ وہ یہ تو نہیں جانتاکہ قومیں کیوں پیدا ہوتی ہیں؟کیوںترقی کی منزلیں طے کرتی ہیں؟ اور کیوں زوال کے گڑھے میں جاگرتی ہیں؟ لیکن بہت سارے ایسے واقعات اور مظاہر موجود ہیں جو اسی عمل سے گزرتے ہیں اور انھیں وہ جانتا ہے۔ وہ درخت کا بیج بوتا ہے‘ اُس سے تنا نکلتا ہے‘ درخت جوان ہوتا ہے‘ اُس کے بعد خزاں کا شکار ہوتا ہے اور مٹی میں مل جاتا ہے۔ یہ بھی ایک عروج و زوال کی داستان ہے جو اُس کی نگاہوں کے سامنے برابر پیش آتی ہے۔ وہ روز یہ دیکھتا ہے کہ سورج آہستہ آہستہ نکلتا ہے‘ پھر اُس کی روشنی بڑھنا شروع ہوتی ہے‘ پھر وہ نصف النہار پر پہنچتا ہے‘ اور اُس کے بعد زوال کی طرف جانا شروع کرتا ہے اور آخرکار ڈوب جاتا ہے۔ عروج و زوال کا ایک اور مظاہرہ بھی اُس کے سامنے ہوتا ہے۔ وہ انسان کو دیکھتا ہے کہ وہ پیدا ہوتا ہے‘ بچہ ہوتا ہے‘ اس کے بعد جوانی کی قوتیں آتی ہیں‘ شباب کے عالم میں وہ زندگی گزارتا ہے‘ پھر اُس کے قویٰ مضمحل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی قوتیں جواب دینا شروع کر دیتی ہیں‘ جسم بھی جواب دینے لگتا ہے‘ بالآخر وہ بوڑھا ہوکر قبرکے گڑھے میں پہنچ جاتا ہے۔ عروج و زوال کے یہ منظر انسان کی نگاہوں کے سامنے رہتے ہیں۔ اِن کو وہ سمجھ سکتاہے اور دیکھ سکتا ہے۔ جب وہ بغیر کسی ہدایت کے غور کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ انھی میں سے کس طریقے یا ماڈل کے مطابق قومیں بھی اُٹھتی اور نیچے گرتی ہیں۔ یا پھر یہ رات اور دن کے چکر کی طرح ایک ناقابلِ مفر چکر ہے۔ اس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ دن کا کوئی لمحہ اُس انجام سے بھاگ نہیں سکتا جو اس کے لیے مقرر ہے۔ اگر ۱۲ بجے کے لیے عروج لکھا ہوا ہے تو ہمیشہ ۱۲ بجے عروج ہوگا اور چھ بجے شام کے لیے اگر زوال لکھا ہوا ہے تو اس وقت ہمیشہ زوال ہوگا۔

درخت اور انسان طبیعی وجود تو نہیں رکھتے لیکن ایک حیاتیاتی وجود ضرور رکھتے ہیں۔ یہ اِن ساری منازل سے گزرتے ہیں اور اس سے ان کو کوئی مفر نہیں ہے۔ جوان دوبارہ بچہ نہیں ہو سکتا‘ بوڑھا دوبارہ جوان نہیں بن سکتا۔ موت سے دوبارہ زندگی کی طرف واپسی نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک ناگزیر عمل ہے۔

مفکرین نے عروج و زوال کے بارے میں جو بھی قوانین بنائے‘ تجویز کیے‘ سوچے‘ وضع کیے‘ وہ انھی چیزوں کے گرد گھومتے ہیں۔ ایک نظریہ cyclical ہے‘ یعنی ایک چکر ہے جس سے ہر قوم کو گزرنا ہے‘ اس سے کوئی مفرنہیں۔ ایک حیاتیاتی نظریہ ہے۔ دیگر نظریات بھی ہیں لیکن ہم ان کے اندر بڑے بڑے نظریات کو سمیٹ سکتے ہیں۔ یہ تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ قرآنِ مجید نے اس ضمن میں جو بالکل منفرد رہنمائی دی ہے‘ اُس کو بخوبی سمجھا جا سکے اور اُس کی جو گراں قدر قیمت ہے اُس کو بھی محسوس کیا جا سکے۔

افراد اور اقوام کی حیثیت

قرآنِمجید جو پہلی بات بہت ہی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فرد کی زندگی ایک حیاتیاتی چکر کے ساتھ بندھی ہوئی ہے: پیدایش‘ بچپن‘ جوانی‘ بڑھاپا اور موت۔ ہرآدمی کو اِس پورے چکر سے یا اس کے بعض مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ بچپن کے بعدبھی مر سکتا ہے اور بوڑھا ہو کر بھی مر سکتا ہے۔ میں آیات کے حوالے نہیں دوں گا مگر قرآنِ مجید میں آپ کو‘ اس مضمون کی بہت ساری آیات مل جائیں گی۔ اُس نے کہا ہے کہ انسان کا جو آخری مقدر ہے وہ ہلاکت‘ یعنی موت سے دوچار ہونا ہے۔ کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِط (اٰل عمران ۳:۱۸۵) ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘۔

اس عمل کا کوئی تعلق‘ اُس فرد کے اعمال سے‘ یا اُس کے اخلاق سے‘ یا اُس کے ایمان سے نہیں ہے‘ اور نہ اُس کی معنوی‘ اخلاقی‘ روحانی‘ علمی اور ایمانی زندگی سے ہے۔ وہ کافر ہو یا مسلمان‘ وہ نبی ہو یا شیطان‘ وہ مطیع و فرماں بردار ہو یا فاسق و فاجر‘ ہر ایک اس عمل سے گزرتا ہے۔ انسان کو اس عمل سے گزرتے ہوئے جو کچھ بھی پیش آتا ہے وہ بالعموم اُس کے اخلاقی اعمال کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اگر شراب پینے سے کسی کی صحت خراب ہوتی ہے تو شراب پینے کی ایک حیثیت اخلاقی ہے اور ایک طبیعی ہے۔ کوئی زہر کھائے گا تو مر جائے گا‘ شراب پیے گا تو اُس کا جگر خراب ہوجائے گا۔ اِس کا کوئی تعلق اُس کے اخلاقی فعل سے نہیں ہے بلکہ طبیعی اثر سے ہے جو رونما ہوتا ہے۔ کسی کو کینسرہوجاتا ہے‘ کوئی اور بیماری ہوجاتی ہے تو اس کا کوئی تعلق اُس کے اعمال سے نہیں ہے۔ اُس کو موت آتی ہے تو اس لیے نہیں آتی کہ وہ برے کام کرتا ہے بلکہ اس لیے آتی ہے کہ کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ِط  (اٰل عمران ۳:۱۸۵)۔یہ بڑی اہم اور پہلی بات ہے جس کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر آگے کی بات نہیں سمجھی جاسکتی۔

قرآنِ مجید برملا اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اس کے برعکس قوموں کی زندگی اعمال اور اخلاق کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ اگر اُن کو ترقی اور عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ اخلاق اور اعمال کی وجہ سے ہے اور اگر وہ زوال کا شکار ہوتی ہیں تو وہ اعمال اور اخلاق کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں۔ اِس میں کسی طبیعی چیز کو دخل نہیں ہے بلکہ اصل چیز اعمال ہیں۔ اصل قوت اخلاق کی قوت ہے۔ ایمان اور تقویٰ ہو تو آسمان اور زمین سے بھی نعمتوں کی بارش ہوگی۔ اگرقومیں استغفار کریں گی توآسمان سے بارشیں ہوں گی‘ زمین سے چشمے اگلیں گے اور کھیتیاں اگیں گی اور قوم پر بہار آئے گی۔ اگر ہلاکت اور زوال حصے میں آئے گا تووہ بھی اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آئے گا۔ فَکُلاًّ اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖم ج  (العنکبوت ۲۹:۴۰) ’’آخرکار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا‘‘۔  فَھَلْ یُھْلَکُ اِلاَّ الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَo (الاحقاف ۴۶:۳۵)‘ اِلاَّ الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ o (الانعام ۶:۴۷)‘ یعنی مجرموں‘ ظالموں‘ فاسقوں کے علاوہ کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ ہلاکت‘ بربادی اور زوال‘ اگر ہے تو صرف اپنے اعمال کی وجہ سے ہے۔ یہ حقیقت بڑی نمایاں ہے‘ اور یہی قرآنِ مجید کی تعلیم کی‘ اور اس کے قانون کی بنیاد ہے۔ اس سے اور بہت ساری شاخیں پھوٹیںگی لیکن اس کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ قرآنِ مجید کی نظر میں انسانی زندگی دنیا تک محدود نہیں ہے بلکہ انسان کے لیے موت کے بعد بھی ایک اور دنیا اور ایک اور زندگی ہے۔ اُس دنیا میں اور اُس زندگی میں ہر فرد اپنی انفرادی حیثیت سے اپنے اعمال اور اپنے کارنامۂ زندگی کے لیے جواب دہ ہے۔ اگر یہاں اُس کو اپنے معنوی‘ اخلاقی اور روحانی اعمال کے لیے جزا اور سزا نہیں ملتی‘ تو یہ لازمی ہوا کہ ایک نقطۂ اختتام آئے‘ جہاں اُس کی مہلت عمل ختم ہو اور اُس کے بعد وہ اللہ کے سامنے حاضر ہو اور اپنے کارنامہ زندگی پر اجر و ثواب یا سزا پائے۔ چنانچہ اُس کی جو سوانحِ حیات ہے اُس کی تاریخ موت پر ختم نہیں ہوتی بلکہ موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ اگر اُس کو جزا اور سزا یہیں ملنا شروع ہو جائے تو موت کے بعد کا عمل مشکل ہو جائے گا۔ یہ ممکن بھی نہیں ہے کہ اُس کو اعمال کی جزا اور سزا یہاں مل سکے۔ اگرمولانا مودودیؒ کا ایک چھوٹا سا کتابچہ زندگی بعد موت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کیوں یہ ضروری ہے کہ انسان کی مہلت ِ عمل ختم کی جائے اور دنیا کا پورا نظام درہم برہم کیا جائے۔ دراصل اُس کا صحیح محاسبہ اُس کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ انسان کے اعمال کے اثرات بہت لمبے عرصے اور بہت دور کے دائرے پر محیط ہوتے ہیںجب تک کہ اُس کی زندگی اور یہ دنیا ختم نہ ہو‘ان کو سمیٹا نہیں جا سکتا ۔

فرد اور قوم کی جواب دہی

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی قوم بحیثیت قوم اللہ کے سامنے‘ اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے آخرت کے دن کھڑی نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ قوم کی مثال تو ایک دریا کی طرح ہے۔ وقت کے کسی لمحے میں بھی بہت سارے قطرات آتے ہیں‘ ملتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ قوم کوئی ایسی چیز نہیں کہ اللہ تعالیٰ گردن سے پکڑ کر کہے کہ تم کسی چیز کے لیے جواب دہ ہو۔ اُس میں ہر طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ نیک بھی ہوسکتے ہیں اور بد بھی۔ اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی۔ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا عدل و انصاف کا تقاضا نہیں ہے۔ البتہ ہرشخص اللہ کے سامنے الگ الگ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی قرآنِ مجید میں واضح طور پر بیان فرما دی ہے۔ پاکستانی قوم بحیثیت مجموعی‘ یا کوئی جماعت بحیثیت مجموعی یا کوئی تنظیم بحیثیت مجموعی اللہ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوگی۔ اُس قوم میں‘ اُس جماعت میں‘ اُس تہذیب میں جو افراد برائیاں کرتے رہے ہیں وہ اپنی برائیوں کے لیے اور جو نیکیاں کرتے رہے ہیں وہ اپنی نیکیوں کے لیے اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ وہاں انصاف کا ہو نہیں سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ قوموں کا عرصۂ محشر دنیا میں ختم ہوجائے‘ اور افراد کا عرصۂ محشر موت کے بعد شروع ہو۔ اس لیے یہ ضروری ہوا کہ قوموں کے عروج و زوال اور ہلاکت و بربادی کی داستان اُن کے اعمال مرتب کریں اور افراد کے وجود کا جو عروج و زوال ہے وہ ایک طبیعی‘ حیاتیاتی عمل ہو‘ اور اُس کو طبیعی قوتوں سے متعین اور مرتب کیا جائے۔ یہ دوسرا بڑااصول ہے جو قرآنِ مجید نے بڑی کثرت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ قرآن مجید کے جس ورق کو اُٹھا کر دیکھ لیجیے‘ قومِ عاد کا ذکر ہو یا قومِ لوط کا‘ اگر نجات دی گئی تو انبیاء اور اُن کے ساتھیوں کو اُن کے اعمالِ صالحہ کی وجہ سے دی گئی اور برباد کیا گیا تو اِس وجہ سے کہ لوگ برائی کے راستے پر پڑے تھے۔ برائیاں مختلف قسم کی تھیں لیکن اپنے گناہوں کی وجہ سے پکڑے گئے اور برباد کیے گئے۔ کسی انسان کو موت اُس کے گناہوں کی وجہ سے نہیں آتی۔ کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِط (اٰل عمران ۳:۱۸۵)کے عمومی اور بے لاگ قاعدے کی وجہ سے آتی ہے۔

عروج و زوال کی بنیاد

اگر یہ دوسرا قانون بھی اچھی طرح ذہن نشین رہے تو پھر یہ بات واضح اور صاف ہے کہ عروج و زوال کا انحصار اخلاق اور اعمال پر ہے۔ انسان اپنے اخلاق اوراعمال پر اختیار رکھتا ہے۔ اگر وہ اختیار نہ رکھتا ہوتا تووہ جواب دہ نہ ہوتا۔ اُس کو اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تووہ نیکی کرے اور چاہے تو برائی‘ چاہے تو ایمان لائے اور چاہے تو انکار کر دے‘ چاہے تو اللہ کو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔ اس کے لیے یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا ہونا ناگزیر ہے یا جس سے کوئی مفر نہیں ہے یا جس کو پلٹا نہیں جا سکتا یا واپس نہیں لوٹایا جاسکتا۔ اگر انحصار طبیعی عوامل کے اُوپر ہے خواہ درخت کی زندگی ہے یا انسان کی زندگی‘ تو یقینا ناگزیر ہے کہ انسان بچپن‘ جوانی اور بڑھاپے سے گزر کر قبر کے گڑھے میں جائے‘ اِس سے کوئی مفر نہیں ہے۔ اعمال اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے لیکن اگر قوموں کی زندگی صرف اخلاق و اعمال کے اُوپر منحصر ہے‘ تو اخلاق اور اعمال چونکہ اُس کے اپنے اختیار میں ہیں‘ اس لیے یہ اُس کے اختیار میں ہونا چاہیے کہ اگر وہ اُن قوانین کی پابندی شروع کر دے جن سے اللہ تعالیٰ نے قوموں کے عروج کو وابستہ کیا ہے تو وہ عروج کی طرف جا سکے اور اگر وہ اُن قوانین کی خلاف ورزی شروع کر دے تو وہ زوال کی طرف جا سکے۔ یہ بالکل ایک ایسی بات ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ہم اس کو آسانی کے ساتھ‘ سوچ سکتے ہیں‘ سمجھ سکتے ہیں۔ یہی بات اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تمھارے اختیار میں ہے۔

وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ (الاعراف ۷:۹۶) ’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے‘‘۔ انسان کے ساتھ یہ وعدہ نہیں ہے کہ اگر وہ ایمان و تقویٰ اپنائے تو اُس کا بڑھاپا جوانی میں بدل جائے گا‘ یہ نہیں ہوگا۔ یا اُس پر رزق کے دروازے کھل جائیں‘ یہ وعدہ نہیں ہے۔ ایک مومن مفلسی کے عالم میں زندگی بسر کر سکتا ہے لیکن بستی والوں سے اور قوموں سے وعدہ ہے اگر وہ ایمان و تقویٰ کا راستہ اختیار کریں توآسمان و زمین سے برکتوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ اگر استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ نعمتیں عطا کرے گا‘ یعنی دنیوی وعدے بھی ہیں۔ یہ دراصل اسی قانون کا نتیجہ ہے کہ قوموں کی زندگی اخلاق اور اعمال پر منحصر ہے۔

اخلاق کی وسیع تعریف

اس کے بعد چوتھا قانون جو بڑا اہم ہے وہ اخلاق اور قانون کی وہ بڑی وسیع تعریف ہے جو قرآن مجید نے بیان فرمائی ہے۔ عام طور سے ہمارے ذہنوں میں یہ موجود نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہمارے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایمان بھی اسی اخلاق کا حصہ ہے اور ایمان کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کے ساتھ‘ اخلاص کے ساتھ وابستگی اور اُس کو ماننا۔ چنانچہ ایمان بالباطل بھی ممکن ہے اور ایمان بالحق بھی ممکن ہے۔ ایمان تو خود ایک صفت ہے‘ وفاداری کی‘ وابستگی کی‘ کسی چیز کو مان لینے کی اور اُس پر جم جانے کی۔ یہ اخلاقی صفت ہے۔ یہ باطل کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اور حق کے ساتھ بھی۔ جس کے ساتھ یہ ہوگی اُس کا وزن زیادہ ہوگا۔

نفاق بھی ایک صفت ہے کہ کسی چیز کو نہ ماننا‘ نہ ماننے کے برابر ہونا‘ اُس کو نہ ماننے پر جمنا‘ اور دل میں ہمیشہ دو روش ہونا۔ یہ حق کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے اور باطل کے ساتھ بھی۔ جو وعدہ ایمان کے ساتھ ہے‘ وہ نفاق کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ نفاق کی روش ہو اور شیطان کے ساتھ ایمان کی روش ہو تو شیطانی ایمان غالب آئے گا اور نفاق شکست کھائے گا‘ اس لیے کہ اصل قیمت ایمان کی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ آدمی جس قانون کو مانتا ہو اُس کی پابندی کرے۔ اگر آدمی اللہ کا قانون مانتا ہو اور اُس کی پابندی نہ کرتا ہو تو وہ اس کی سزا پائے گا۔ ایک آدمی اللہ کا قانون نہ مانتا ہو‘ اپنا بنایا ہوا قانون مانتا ہو‘ لیکن اُس کی پابندی کرتا ہو تو قانون کی پابندی فی نفسہٖ اپنے اندر وہ قوت رکھتی ہے جو اُس کو غلبہ عطا کر دیتی ہے۔ ایک آدمی اللہ کو ماننے والا ہو لیکن اُس کے لیے محنت کرنے کو تیار نہ ہو‘ اور ایک آدمی شیطان کو ماننے والا ہو اور شیطان کے لیے محنت کرنے کو تیار ہو تو محنت فی نفسہٖ ایک اخلاقی قوت ہے جو کام کرے گی اور اس کا نتیجہ سامنے آکر رہے گا۔ ایک آدمی حق کے اُوپر ایمان رکھتا ہو لیکن اُس کے لیے تحقیق و اجتہاد اور علم سے عاری ہو تو یہ حق اُسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اگر ایک قوم باطل پر ایمان رکھتی ہے لیکن تحقیق و اجتہاد اور جدت اور نئے مسائل کے حل نکالنے سے آراستہ ہے تو وہ غلبہ پائے گی۔ ایک قوم اگر صبح شام استغفراللہ کا ورد کرتی ہے لیکن اُس کے اندر احتساب اور جرم کرنے والوں کے لیے سزا کا کوئی نظام نہیں ہے تووہ قوم دنیا میں مغلوب ہوگی اور وہ قوم جو استغفراللہ کا ورد تو نہیں کرتی لیکن اُس نے اپنی قوم کے لیے جو ضابطہ بنایا ہے‘ جو دستور بنایا ہے‘ جن ضوابط کا وہ اپنے آپ کو پابند سمجھتی ہے‘ اُن کی پابندی کرتی ہے ‘ اور اگر کوئی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے تواُس کو سزا دیتی ہے اور اُس میں کوئی رعایت نہیں کرتی ہے خواہ وہ اُس کا وزیر ہو‘ صدرِ ریاست ہو یا عام مجرم ہو‘ تو وہ غالب ہو کر رہے گی۔ احتساب‘ اپنی غلطیوں کا ادراک اور اُن کے اوپر داروگیر‘ وہ اخلاقی صفات ہیں جواُس کو غلبے سے ہم کنار کریں گی۔

اگر یہ اصول واضح ہو جائے کہ اخلاق کا دائرہ عورت اور شراب تک محدود نہیں ہے بلکہ اخلاق کا دائرہ وقت کی پابندی‘ اپنے مقاصد کے ساتھ لگن‘ اُن کے لیے محنت‘ اُن کی جستجو‘ اپنی قوم کے اندر انصاف‘ لوگوں کی برابری‘ مظلوم کی داد رسی‘ یہ بھی وہ چیزیں ہیں جو اخلاق کے اندر شامل ہیں‘ تو پھر یہ سوال اُٹھانے کی ضرورت نہیں رہتی کہ وہ قومیں جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت سے خالی ہیں وہ کیوں آگے ہیں اور ہماری وہ قوم جو ایک قرآن بھی رکھتی ہے‘ اللہ پر ایمان کی دعوے دار بھی ہے‘ نمازیں بھی پڑھتی ہے‘ روزے بھی رکھتی ہے‘ زکوٰۃ بھی دیتی ہے‘ وہ کیوں مغلوب ہے۔ اگر اخلاق کی جامع تعریف کو سامنے رکھا جائے جس کی ایک تشریح  تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں میں کی گئی ہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بنیادی انسانی اخلاقیات سب سے اہم ہیں اور  انھی کی بنیاد پر اسلامی اخلاق تعمیر ہوتا ہے۔ اسلامی اخلاق کی حالت بھی اگر اتنی زار ونزار ہو کہ نہ ایمان قابلِ اعتبار ہو‘ نہ تقویٰ اور احسان موجود ہو تو پھر قوم محض نام کا لیبل لگانے سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ مذکورہ کتابچے میں مولانامودودیؒ لکھتے ہیں کہ: تانبے کے سکے پر اشرفی کی مہر لگا دیں تو بازار میںنہیں چلے گا اور اگر بُھس بھرے ہوئے سپاہیوں کو آپ وردی پہنا دیں تو وہ نہیں لڑ سکتے‘ خواہ وہ وردی ایمان کی ہو اور ایمان باللہ کی وردی ہو۔ لیکن اگر جسم کے اندر طاقت موجود ہے اور خالص سونا موجود ہے تو وہ بازار میں چل سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ خالص ہی بازار کے اندر چل سکتا ہے‘ منافقت بازار میں نہیں چلتی۔ یہ بھی وہ قانون ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے کہ زبانی دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں ہے‘ اصل چیز تو عمل ہے۔ لِنَنْظُرَکَیْفَ تَعْمَلُوْنَo (یونس ۱۰:۱۴) ’’تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو‘‘۔ وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰیo (النجم ۵۳:۳۹) ’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی‘‘۔

کوشش اور محنت کا بدلہ انسان کو ملتا ہے‘ اور تقویٰ عمل کا نام ہے اور عمل پوری زندگی پر محیط ہے۔ آدمی جس کو صحیح مانتا اور جانتا ہو‘ اسی پر عمل کرتا ہے۔ اُس میں سے بعض چیزیں غلط بھی ہو سکتی ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ شراب پینے میں کوئی حرج نہیں ہے‘ وہ شراب پیتا ہے۔ اس کے خیال میں زنا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے‘ وہ زنا کرتا ہے۔ اگر وہ سمجھتا ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دینا چاہیے‘ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتا اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ غریب کی مدد کرنا چاہیے‘ وہ غریب کی مدد کرتا ہے‘ اور اپنی جیب سے پیسہ نکال کے دیتا ہے۔ اگر وہ سمجھتا ہے کہ قانون کی پابندی کرنا چاہیے‘ وہ قانون کی پابندی کرتا ہے۔ اگر وہ سمجھتا ہے کہ رشوت دینا گناہ ہے‘ نہ وہ رشوت دیتا ہے اور نہ لیتا ہے۔ یہ وہ اخلاق ہیں جن کی بڑی قدروقیمت ہے بلکہ بعض احادیث کی رو سے شراب‘ زنا اور دوسرے اعمال کے بہ نسبت ان اخلاق کی زیادہ قدروقیمت ہے۔

مغرب کی بالادستی کا سبب

آج جو معاشرے دنیا میں غالب ہیں اگر اُن کے ساتھ مسلم معاشرے کا موازنہ کیا جائے تو صاف فرق محسوس ہوتا ہے۔ انصاف ہی کو لے لیجیے کہ مسلمان معاشرے میں اُس کا کیا حال ہے۔ انصاف تو بہت بڑی چیز ہے‘ ممکن ہے وہ دنیا کو انصاف نہ دیتے ہوں‘ مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہ کرتے ہوں لیکن اُن کے اپنے معاشرے میں تو انصاف ہے۔ اُن کے ہاں رشوت نہیں ہے۔ اُن کے ہاں کوئی کسی کا حق پامال نہیں کرسکتا۔ کوئی کسی کو ٹارچر سیل میں نہیں ڈال سکتا۔ کوئی کسی کو پکڑ کر مار پیٹ نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ اُن کے ہاں بیوائوں‘ یتیموں‘ پنشن یافتہ لوگوں اور بے روزگاروں کی فلاح کے لیے ایک پورا نظام ہے۔ آدمی بیمار ہوتا ہے تو اس کا مفت علاج ہوتا ہے۔ اگر بے روزگار ہو جاتا ہے تو اُس کو الائونس ملتا ہے۔ یونی ورسٹی جاتا ہے اُس کا وظیفہ بندھ جاتا ہے۔ کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس کا وظیفہ بندھ جاتا ہے۔ یہ میں نے صرف چند مثالیںدیں ۔میرا مقصد مغرب سے مرعوب کرنا نہیں ہے بلکہ ذہن سے یہ بات نکالنا ہے کہ صرف شراب اور موسیقی اور ناچ گانا اور زنا وغیرہ ہی وہ چیزیں ہیں جن کی بنیاد پر قوموں کی قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ قوموں کے عروج و زوال میں صرف یہی فیصلہ کن امر نہیں ہے بلکہ اخلاق کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ اس ضمن میں حق پسندی اور خود احتسابی بھی بہت اہم ہے۔ لیکن مسلمان ممالک میں قوم کے احتساب کی کوئی مضبوط روایت موجود نہیں ہے کہ اس کے نتیجے میں کوئی جیل جائے۔ مغرب کے حوالے سے یہ ایک اہم پہلو ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی اخلاقی اقدار ہیں جن کی وجہ سے دوسری قومیں ہم سے آگے ہیں۔

جزا و سزا کا قانون

اگر قوموں کے عروج و زوال کے انھی موٹے موٹے اصولوں کو سامنے رکھا جائے تو قرآنِ مجید کی بیان کردہ بڑی بڑی بنیادیں سامنے آجاتی ہیں۔ انبیا کے بارے میں قرآنِ مجید نے یہ قانون بنایا ہے‘ اور یہ صرف انبیا کے بارے میں ہے اور کسی کے بارے میں نہیں ہے‘ کہ میرے رسول غالب ہوکر رہیں گے۔ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْط (المجادلہ ۵۸:۲۱) ’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوکر رہیں گے‘‘۔

اسی اصول پر غور کرنے سے ذہن میں اٹھنے والے بہت سے سوالوں کا جواب مل جاتا ہے۔ چونکہ انبیا وہ واحد افراد ہیں جو کسی قوم پر اخلاقی طور پر اتمامِ حجت کرسکتے ہیں۔ ہم اور آپ جو دعوتی کام کرتے ہیں‘ اس کے لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے حق ادا کر دیا اور اتمامِ حجت کر دی۔ انبیا چونکہ اتمامِ حجت کر دیتے ہیں اس لیے سید مودودیؒ کے الفاظ میں اگر کوئلے کی کان میں کوئی ہیرا باقی نہ رہے تو اِس کا مقدر اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ اِس کو پھونک دیا جائے‘ جلا دیا جائے۔ چنانچہ جب انبیا ان سارے لوگوں کو چھانٹ لیتے ہیں تو کان کو جلا دیا جاتا ہے اور خدا کا عذاب ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَo (حم السجدہ ۴۱:۱۸) ’’اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بدعملی سے پرہیز کرتے تھے‘‘۔ گویا ان کی مساعی کے نتیجے میں ان کو نجات مل جاتی ہے۔ یہ قانون صرف انبیا کے ساتھ ہے‘ انبیا کے بعد اور لوگوں کے ساتھ نہیں ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ اور لوگوں کے ساتھ پوری کی پوری قوم کو سزا دی جاتی ہے۔ سوال کیا گیا کہ اُن میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! قیامت کے روز لوگ اپنی اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ اور اگر کوئی بلا آئے گی‘ کوئی عذاب اترے گا تو وہ یہ دیکھ کر نہیں اترے گا کہ اس گھر میں مومن رہتا ہے یا اس گھر میں کافر رہتا ہے‘ بلکہ جب قوم پر عذاب آئے گا تو سب کے سب اُس کا شکار ہوں گے۔ البتہ ایک فرد کے لیے یہ بات اس لیے اہمیت نہیں رکھتی کہ اس کا کام تو اس دنیا کی زندگی کے بعد ختم نہیں ہوا۔ اُس کو تو بہرحال مرنا ہی تھا خواہ وہ کینسر سے مرتا‘ یا ٹریفک کے کسی حادثے میں مرجاتا‘ یا بستر پر پڑا ہوا مرتا‘ یا معمولی زکام یا پائوں پھسلنا اس کی موت کا باعث ہوتا‘ یا اللہ کا عذاب اس کی ہلاکت کا سبب بنتا۔ لہٰذا دنیا میں موت کا آجانا یا ہلاکت کوئی سزا نہیں ہے۔ بے شمار نیک آدمی ہیں جو ہوائی جہازوں اور گاڑیوں کے حادثوں میں‘ کینسر سے اور بہت سارے امراض سے مر جاتے ہیں۔ یہ دنیا میں کوئی عذاب نہیں ہے۔ دنیا کا عذاب نہ کوئی عذاب ہے اور نہ دنیا کا نفع کوئی نفع ہے۔ فرد تو جانتا ہے کہ اصل چیز تو آخرت ہے اور وہاں پر لوگ اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے نبیؐ نے جزا و سزا کے قانون کو بھی واضح فرما دیا۔ یہ بڑا قیمتی قانون ہے۔

دنیا میں اگر کسی کو کوئی تکلیف ہے تو وہ بھی عارضی ہے اور اگر کوئی آرام ہے تو وہ بھی عارضی ہے۔ اگر یہاں پر نعمتیں ملتی ہیں تو اس کی بھی کوئی قدروقیمت نہیں ہے اور اگر یہاں پرسزا ملتی ہے تو اُس کی بھی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ دنیا کی نعمتوں کے بارے میں تو قرآنِ مجید نے یہ فرما دیا کہ ہم کو اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے کے سارے لوگ کافر ہوجائیں گے تو ہم اُن انکار کرنے والوں کے گھر‘ اُن کے دروازے ‘ اُن کی کھڑکیاں‘ اُن کی چھتیں‘ اُن کے بستر‘ اُن کے زینے‘ یہ سب سونے چاندی کے بنا دیتے۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے لیے یہ سب مچھر کے پَرکے برابر بھی وقعت نہیں رکھتا‘ لیکن اس طرح اہل ایمان کی بڑی سخت آزمایش ہو جاتی اور کوئی بھی ایمان پر قائم نہ رہتا اس لیے ہم نے ایسا نہیں کیا۔ لہٰذا دنیا کی تکلیف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ گزر ہی جاتی ہے۔ ایک سانس جب نہیں آتی تو کینسر کا بڑے سے بڑا درد ختم ہو جاتا ہے اور پھر کوئی تکلیف باقی نہیں رہتی۔ اگر دنیا میں لوگ عذاب میں شریک بھی ہیں تو بالآخر آخرت میں اپنا اجر پائیں گے۔ اس لیے کہ آخرت میں تو آدمی اپنی نیتوں اور اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ جو نیک ہوں گے وہاں پر اُن کے ساتھ پوری داد رسی کی جائے گی۔ یہ قانون اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے۔

دنیا کی امامت کا منصب

اس قانون کے تحت بعض قومیں ہلاک ہو جاتی ہیں۔  وَّجَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَج (المؤمنون۲۳:۴۴) ’’ہم نے ان کو ایک داستان بنا دیا‘‘۔ بعض قومیں قعرمذلت اور گم نامی میں چلی جاتی ہیں اور پھر زندہ ہوتی ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو اُس کی دنیا کو بہتر طریقے سے چلا سکتا ہے‘ جو دنیا کے لوگوں کے لیے زیادہ بہتر‘ مفید اور باعث خیر ہو‘وہ اسے پستیوں سے نکال کر سربلندی عطا کرتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مغربی اقوام میں بہت سی خامیاں ہیں۔ انسان اچھائیوں اور برائیوں کا مجموعہ ہوتا ہے‘ اس لیے ہر قوم میں اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور برائیاں بھی۔ لیکن عروج اور سربلندی اس کو ملتی ہے جو بحیثیت مجموعی انسانوں کے بنائو‘ تعمیر اور خیر کا باعث ہو۔ اس کی بہترین مثال وہ ہے جو سید مودودیؒ نے بناؤ اور بگاڑ میں دی ہے۔ اس پر اگر غور کیا جائے تو عروج و زوال کے حوالے سے ذہنوں میں اُٹھنے والے بہت سے سوالوں کا جواب مل جاتا ہے۔ اس کے مطابق باغ کا مالک اپنا باغ اُس کے سپرد کرے گا جو اُس کا نظام بہتر چلا سکتا ہو۔ جو لوگ اپنے ایک ایئرپورٹ کا نظام نہیں چلا سکتے‘ ایک میونسلپٹی کا نظام نہیں چلا سکتے‘ ایک شہر کو صاف ستھرا نہیں رکھ سکتے‘ ایک عدالت کا نظام پورے عدل و انصاف سے نہیں چلا سکتے‘ وہ لوگ پوری دنیا کی قیادت کے اہل کیسے ہو سکتے ہیں۔

دنیا کی قیادت کا اہل تو وہی ہوگا جو بنی نوع انسان کے لیے زیادہ مفید اور کارآمد ہوگا۔ مغرب کے حوالے سے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کے اندر برائیاں نہیں ہیں۔ اس سے انکار  نہیں کیا جاسکتا۔ برائیاں بھی اپنا کام کر رہی ہیں اور بالآخر اُن کے زوال کا باعث بنیں گی لیکن دنیا کے اندرکوئی اچھا امیدوار نہیں ہے جو اللہ کو پسند ہو لیکن وہ بہتر امیدوار ہے۔ وہ بہترین امیدوار تو نہیں ہے لیکن مقابلتاً اچھا امیدوار ہے جو دنیا کی قیادت کا مستحق ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی محنت سے‘ اپنی جستجو سے‘ دنیا کو چلانے کے سلیقے سے‘ اپنی قوم کے اندر عدل و انصاف قائم کرنے سے‘ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے دنیا کا انتظام سونپا جائے۔ وہ مسلمان حکمرانوں کے اخلاق اور کردار کے لحاظ سے سو گنا بہتر ہیں۔ اُن کے ہاں اگر ایک ’’واٹرگیٹ‘‘ اسیکنڈل ہو جائے تو صدر کو استعفا دے کر رخصت ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں اگر ٹارچر سیل بھی بنے رہیںاُن میں انسانوں پر ظلم بھی کیا جائے اور ملک کے بڑے سے بڑے اصول اور ضابطے کو پامال کر دیا جائے پھر بھی حکمران کی حیثیت سے برقرار رہتے ہیں‘ اور آج بھی وہ اُسی دبدبے سے حکمران ہیں۔ اس کے مقابلے میں مغرب میں یہ روایت ہے کہ اگر کسی مجرم سے کسی وزیر کا تعلق ثابت ہو جائے‘ کوئی حادثہ ہو جائے تو وہ ایک دن بھی نہیں رہ سکتا۔ یہ اُن کے ہاں احتساب کی ایک صفت ہے۔ اسی کو محدود معنوں میں استغفار کہا جا سکتا ہے۔ وہ استغفراللہ تو نہیں کہتے لیکن پبلک لائف میں غلطی کرنے والے کو سزا ملتی ہے۔ پرائیویٹ زندگی میں ممکن ہے وہ ایمان دار نہ ہوں‘ زنا کرتے ہوں‘ شراب پیتے ہوں‘ عورتوں کے ساتھ بدکاریاں کرتے ہوں لیکن پبلک لائف میں وہ اس کو برداشت نہیں کرتے۔ اب بھی اگر اُن کو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا صدر یا وزیراعظم بہت زیادہ شراب پیتا ہے تو وہ اسے منتخب نہیں کرتے۔ وہ خود خواہ کتنی ہی برائیاں کرلیں‘ اپنے اہل کاروں میںنہیں دیکھنا چاہتے۔ اس لحاظ سے وہ بہتر قوم ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ اچھی قوم ہیں بلکہ دنیا میں موجود دوسری قوموں کے مقابلے میں بہتر قوم ہیں۔ اس لیے وہ دنیا کی امامت کے حق دار ہیں۔ یہی حال یہودیوں کا بھی ہے۔ یہودیوں کے بارے میں یہ سوال عام طور سے اٹھایا جاتاہے کہ وہ ذلت اور مسکنت کا شکار ہو جانے کے باوجود کیوں غالب ہیں؟ اُس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ مجید میں فرمایا ہے:  الا بحبلٍ من اللّٰہ وحبل من الناس (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۲) ‘ یعنی اللہ کی طرف سے رسی دراز کر دی جائے یا پھر لوگوں کے سہارے وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اور آج اُن کا جو وجود ہے اور جس دم خم کا وہ مظاہرہ کرتے ہیں وہ اپنے بل پر نہیں بلکہ دوسری قوموں کے بل پر ہے۔

اُمت مسلمہ کے لیے ضابطہ

اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بھی واضح کر دیا ہے کہ جس قوم کو اپنے کام اور مقصد کے لیے وہ منتخب کرلے اور جس کو یہ ذمے داری دے دے‘ جسے ملازم رکھ لے اور جس سے employment contract پر دستخط لے لے‘ اُس سے ایک میثاق باندھ لے کہ تم میرے کام کروگے‘ میں تم کو اپنی امانت اور اپنی ہدایت سپرد کر رہا ہوں تو اُس کو جب ترازو میں تولا جائے گا تو سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ وہ اپنے معاہدئہ ملازمت کی شرائط (terms of employment) کوکہاںتک پورا کر رہی ہے۔ اگر فردِ جرم عائد ہوگی تو اس لحاظ سے ہوگی۔ وہ کسی اور ذریعے سے دنیا میں ترقی نہیں کر سکتی۔ یہ بات بھی قرآنِ مجید میں اُس نے کھول کھول کر بیان کر دی ہے:  فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃًج (المائدہ ۵:۱۳) ’’پھر یہ ان کا اپنے عہد کو توڑ دالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دُور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے‘‘۔ وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُق وَبَآئُ وْبِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (البقرہ ۲:۶۱) ’’آخرکار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلت و خواری اور پستی و بدحالی ان پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے۔ یہ نتیجہ تھا اس کاکہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے‘‘۔

آج مسلمانوں کو جس ذلت اور مسکنت کا سامنا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یورپ والے آگے بڑھ گئے یا اس سے پہلے ساسانی آگے بڑھ گئے تھے بلکہ یہ اس لیے ہے کہ جو ہماری ملازم و وفادار قوم تھی‘ اُس نے ہماری آیات کے انکار کی روش اختیار کی‘ ہم سے بے وفائی کی‘ ہمارے راستے کوچھوڑا‘ چنانچہ ہم نے اس پر ذلت اور مسکنت مسلط کر دی۔

مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی معاملہ ہے۔ اس لیے کہ اُس نے ان کو ملازم رکھا ہے۔ اور جب کسی کو ملازم رکھا جائے تو اُسے دیگر شرائط کے ساتھ شرائط ملازمت بھی پوری کرنی ہوں گی۔

ترکی نے ۱۹۲۰ء میں فیصلہ کیا کہ ہم مغرب کے سانچے میں ڈھل کے ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے قوانین بدلے‘ لباس بدلا‘ رسم الخط بدلا‘ زبان بدلی‘ سب کچھ بدل دیا لیکن آج بھی یورپ کا ایک مردِ بیمار ہے۔ اس کے مقابلے میں جاپان نے بھی ایک فیصلہ کیا کہ ہمیں بھی آگے بڑھنا ہے‘ ترقی کرنا ہے لیکن اپنی اقدار کو ساتھ لے کر ترقی کرنا ہے۔ آج جاپان دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں میں سے ایک بڑی طاقت ہے۔ ہم بھی کئی ’’پانچ سالہ منصوبہ‘‘ پاکستان میں نافذ کرچکے ہیں لیکن ہم ترقی سے محروم ہیں۔ اس لیے کہ ہمارے پاس کوئی مقصد نہیں ہے جس کے لیے کام کریں۔ مسلمان جب قوم بن جائے تو وہ اللہ کے علاوہ کسی مقصد کے لیے متحد نہیں ہو سکتی۔ قوموں کی زندگی میں اخلاق میں سب سے بڑھ کر ایمان ہے۔ چونکہ ہمارا ایمان ہی ناقص ہے اس لیے آگے بڑھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایمان خواہ باطل پر ہی ہو مگر مضبوط ہو تو وہ عظمت اور سربلندی کا باعث ہوتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کے عروج و زوال کے یہ تمام قوانین بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیے ہیں۔یہ قرآنِ مجید کا ایک بڑا اہم باب ہے۔ اس باب کے تمام پہلوئوں کو کسی ایک گفتگو میں نہیں سمیٹا جاسکتا۔ اس کے اتنے پہلو ہیں کہ اس کا احاطہ بہت مشکل ہے۔ تاہم موٹے موٹے اصول میں نے بیان کر دیے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو قوموں کے عروج و زوال کے حوالے سے بیش تر سوالات کے جواب ان اصولوں اور قوانین کے اندر موجود ہیں۔ یہ قرآنِ مجید کے وہ قوانین ہیں جو جگہ جگہ بیان کیے گئے ہیں۔ کہیں ان کو مبہم نہیں رکھا گیا ہے بلکہ بار بار بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہمارا قصور ہے کہ ہم اِن کو پڑھتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ ان پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے قوموں کے بارے میں کس طرح کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اُن کی عزت اور سربلندی‘ مادی قوت سے نہیں ہے بلکہ اخلاقی برتری سے ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ اگر صبر کی قوت ہوگی تو ایک آدمی ۱۰۰ پر غالب ہوگا۔ اگر معاملہ محض مادی قوت کا ہوتا تو۱۰ آدمیوں کو ایک آدمی نہیں ہرا سکتا۔ فرمایا: وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا ط (اٰل عمرٰن ۳:۱۲۰) ’’مگر ان کی کوئی تدبیر تمھارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو‘‘۔

گویا اگر صبر ہو‘ جمائو ہو‘ ثبات ہو‘ اپنی چیز کے لیے جمنے کا حوصلہ ہو‘ آپس میں اتحاد ہو‘ انتشار نہ ہو تویہ وہ چیزیں ہیں جو دنیا کے اندر غالب کرنے والی ہیں۔ ایٹم بم‘ فیکٹریاں اور کارخانے اور مادی وسائل غلبے کی اصل وجہ نہیں ہیں۔ حقیقت مادی ترقی بھی اخلاقی ترقی کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر اخلاق میں زوال ہو تو کارخانے کام نہیں کرتے‘ وہاں بھی مال گھٹیا بنتا ہے جو برآمد نہیں ہو سکتا۔ بددیانت لوگ ہوں گے تو گھٹیا مال برآمد کریں گے۔ مزدور محنت نہیں کرتے‘ اس لیے کہ اُن کا اخلاق کمزورہوتا ہے۔ وہ دیانت داری سے اپنا فرض ادانہیں کرتے۔ اگر بددیانتی ہوگی تو سڑک بننے کے اگلے دن ادھڑ جاتی ہے‘ ایئرپورٹ بنتا ہے‘ اگلے دن ناقص نکلتا ہے۔ غرض دنیا میں بھی بغیر اخلاق کے ترقی نہیں ہو سکتی۔ محنت اور علم کی جستجو نہ ہو تو ایٹم بم نہیں بن سکتا‘ اسلحہ نہیں بن سکتا۔ یہ مادی قوت سے نہیں بنتے بلکہ اخلاقی قوت سے بنتے ہیں۔ ان کے پیچھے اصل کارفرما محرک قوت اخلاقی ہوتی ہے۔ اس لیے اصل قوت لوگوں کے اخلاق ہیں۔ جس نے برائی کمائی اُس کے حصے میں برائی آئے گی‘ جس نے بھلائی کمائی اُس کے حصے میں بھلائی آئے گی۔ فرد کے حصے میں تو موت کے بعد آئے گی لیکن قوموں کو جزا و سزا اسی دنیا میں مل جائے گی۔ یہی ان کے عروج و زوال کا اصل سبب ہے۔ یہ قرآن کے قوانین ہیں۔ ان پر جتنا غور کیا جائے گا‘ اتنی ہی اس حوالے سے الجھنیں دُور ہوں گی۔ ذہنی عقدے حل ہوں گے اور قوموں کے عروج و زوال کے حوالے سے بہت سے مسائل کی تہہ تک بآسانی پہنچا جا سکے گا۔ (کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)

محبت کا لفظ خود اپنے اندر بڑی مٹھاس‘ کشش‘ کیف ‘ لذّت اور مزہ رکھتا ہے۔ کسی کے بھی تعلق کے ساتھ یہ لفظ بولا جائے تو دل میں زندگی کی ایک رو دوڑ جاتی ہے۔ ہم سب ہی محبت کے مزے سے آشنا ہوتے ہیں۔ یہ کوئی انوکھی اور اجنبی چیز نہیں ہے۔ انسانوں کے تعلق سے بھی ‘ محسوسات کے تعلق سے بھی‘ مال و دولت کے تعلق سے بھی‘ اپنی عزت اور آن کے تعلق سے بھی‘ اور خود اپنے نفس سے محبت کے تعلق سے بھی ہم سب خوب جانتے ہیں کہ محبت کیا چیز ہوتی ہے اور محبت کا مزہ اگر دل کو لگ جائے اور دل میں اتر جائے تو یہ کیا کرشمہ دکھاتی ہے۔ عام مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ شاید یہ وہ مقام اور درجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بڑے برگزیدہ بندوں کو حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو ایمان کی نشانی‘ ایمان کی شرط اور ایمان کی روح ہے۔ ایمان کا راستہ ہی عشق و محبت کا راستہ ہے۔  وَالَّذِیْنَ  اٰمَنُوْآ اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ ط (البقرہ ۲:۱۶۵)’’ایمان رکھنے والے اللہ کو سب سے بڑھ کر محبوب رکھتے ہیں‘‘۔جو بھی ایمان لائیں گے وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کریں گے۔ اس کے دین پر عمل کریں گے‘ اُس کے دین کو قائم کریں گے۔ اپنی محبت کو پہلے بیان فرمایا ہے کہ جو اس کی راہ پر آجائے‘ اس کی راہ پر چل پڑے‘ اپنے آپ کو اس کے دین کے لیے لگا دے تو وہ اللہ کا محبوب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُسے پیار کرتا ہے۔ دیکھیے یہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے۔ یُّحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ (المائدہ ۵:۵۴) ’’اللہ ان سے محبت رکھتا ہے اور وہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں‘‘۔

یہ محبت تو ایمان کی روح اور ایمان کی جان ہے۔ اِس کے بغیر تو ایمان چند الفاظ کا مجموعہ ہے جو زبان سے ادا ہو جائے‘ ایک لباس ہے جس کو آدمی وضع قطع اور چال ڈھال کے مختلف طریقوں سے اپنے اوپر اوڑھ لے۔ لیکن اصل ایمان تو وہ ہے جو دل کو بھی لذّت بخشے اور جس کے پیچھے چلنے میں مزہ بھی آئے۔ اسی لیے نبی کریمؐ نے یہ بھی فرمایا: کہ جن چیزوں سے ایمان کی مٹھاس حاصل ہوتی ہے اُن میںسے ایک یہ ہے کہ ‘  اِن یکون اللّٰہ والرسول احب الیہ ممن سوآئٌ علیھم‘ اللہ اور اس کے رسولؐ ان دو کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ پیارے اور محبوب ہو جائیں ۔جب یہ کیفیت ہوتی ہے تبھی ایمان دل میں اترتا ہے‘ ایمان کا مزہ ملتا ہے اور ایمان میں لذّت آتی ہے۔

ایمان کے مطالبے آدمی دل کے تقاضے سے پورے کرتا ہے۔ محبت کی راہ میں کسی کو دھکا نہیں دینا پڑتا ہے کہ جائو اس کے کوچے میں جائو‘ جو محبوب ہے اس کی گلی میں جائو‘اس کے دروازے پر جائو‘ اس کو یاد کرو‘ اس کا نام لکھو۔ یہ سب سبق کسی کو پڑھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ محبت خود ہی استادوں میں سب سے بڑی استاد ہے ‘ سکھانے والوں میں سب سے بڑی سکھانے والی اور قوتوں میں سب سے بڑی قوت ہے۔ یہ انسانوں کے دل فتح کر لیتی ہے‘ جمادات اور نباتات کے دل فتح کر لیتی ہے۔ کسی پودے کو آپ پیار دے کر دیکھئے‘ پانی دیجئے‘ خبرگیری کیجیے وہ لہلہا اٹھتا ہے‘رنگ برنگ کے پھول آپ کی گود میں ڈال دیتا ہے۔ جس کو بھی آپ محبت دیں گے وہ مفتوح ہو جائے گا۔ اس کا دل بھی فتح ہو جائے گا اور وہ آپ کا غلام بھی بن جائے گا۔

یہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے اور اللہ کے واسطے سے اور بہت ساروں کی محبت‘ یعنی اس کے رسولؐ کی ‘ اُس کی کتاب کی ‘اُس کے دین کی ‘ اُس کی امت کی اور اس کی راہ میں ساتھ چلنے والوں کی ۔ یہی محبت کی زندگی ہے۔ اِس کی کمی اُن سارے مسائل کی جڑ ہے جو ہمیں درپیش ہیں۔ جتنی یہ محبت پیدا ہوتی جائے گی‘ دل میں اترتی جائے گی اور جتنی رچتی بستی جائے گی اتنا ہی مسائل کا جنگل صاف ہوتا چلا جائے گا۔ اس لیے میرے بھائیو اور بہنو‘ سب سے بڑھ کر تو اسی محبت کی فکر کرنی چاہیے۔

یہ محبت مصنوعی ذرائع سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔ یہ اس طرح کی طبعی چیز بھی نہیں ہے جس طرح باپ کو بیٹے سے ہو جاتی ہے‘ ایک مرد کو عورت سے ہو جاتی ہے یا آدمی کو کسی حسین چیز سے ہو جاتی ہے۔ لیکن حُسن‘ جمال اور کمال اگر سب سے بڑھ کر کسی کے پاس ہے تو وہ حبیب حبیب ِعالمؐ ہیں۔ اُسی کے حُسن کا ایک جلوہ ہے جو کائنات میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ جدھر بھی دیکھیں گے حُسن بکھرا ہوا ہے‘ پہاڑوں اور درختوں اور پھولوں اور پرندوں میں‘ ہر جگہ اُس کا حسن جلوہ گر ہے۔ یہی حسن ازلی‘ ابدی اور اعلیٰ ہے۔

حسن سے ہی احسان نکلا ہے۔ احسان کی کوئی حد نہیں ہے۔ ہر ذی نفس کا ہر سانس جو اندر جاتا ہے وہ بھی اُس کا احسان ہے اور جو باہر آتا ہے وہ بھی اس کا احسان ہے۔ہر لقمہ جو آدمی اپنے ہاتھ سے منہ میں رکھ رہا ہے یہ اسی کی توفیق و عنایت ہے۔ انسان خود نہیں رکھتا۔پانی کا ہر گھونٹ جو آدمی سمجھتا ہے کہ میں نے اٹھا کر پیا ہے وہی پلاتا ہے۔ وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِo (الشعراء ۲۶:۷۹) ’’وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے‘‘ ۔ آدمی دوا کھا کر سمجھتا ہے کہ میں تو ٹھیک ہو گیا‘ ڈاکٹر نے بڑی اچھی دوا دی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِo  (الشعراء ۲۶:۸۰)’’جب بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا بخشتا ہے‘‘۔ کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو اس کے بغیر مل سکتی ہے۔ اگر مل سکتی تو دینے والا خود خدا بن جاتا اور جو خدا سے بے نیاز ہو کر دے سکتا وہ تو خود خدا ہوتا۔ کائنات میں دو خدا تو نہیں ہیں۔ ایک ہی خدا ہے۔ دینے والا بھی ایک ہی خدا ہے‘ کوئی اور نہیں ہے اور ہو نہیں سکتا۔

محبت میں یہ تقاضا نہیں ہے کہ صرف اُسی سے محبت ہو‘ بلکہ یہ تقاضا ہے کہ سب سے بڑھ کر اس سے محبت ہو۔ اس نے اور بھی محبتیں رکھی ہیں‘ اور بھی چیزوں کو محبوب بنایا ہے: مال کی محبت‘ عزیز و اقربا کی محبت‘ دنیامیں اپنے لیے عزو جاہ کی محبت‘ یہ سب اُسی نے رکھی ہیں۔  زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْْطَرَۃِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوََّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِط (آلِ عمران ۳:۱۴) ’’لوگوں کے لیے مرغوبات نفس--- عورتیں‘ اولاد‘ سونے چاندی کے ڈھیر‘ چیدہ گھوڑے‘ مویشی اور زرعی زمینیں ---بڑی خوش آیند بنا دی گئی ہیں‘‘۔ بہت ساری چیزیں ہیں جن کی محبت رکھ دی گئی۔ لیکن فرمایا کہ سب سے بڑھ کر محبت تو اُسی کے لیے ہونی چاہیے۔ جب اس کی محبت کا تقاضا آجائے تو وہ سب پر غالب ہونا چاہیے۔ اس میں پھر کوئی اشتباہ کی گنجایش نہیں ہونی چاہیے۔ اسی لیے قرآن مجید میں تو نہیں‘ لیکن سابقہ صحِف سماوی میں اللہ تعالیٰ جب اپنی محبوب امت سے بات کرتا ہے تو جو استعارے اور تشبیہات استعمال کرتا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ اے میری محبوب امت! تو بدکار عورت کی طرح جگہ جگہ جا کر آشنائیاں کیوں کرتی ہے؟یہود و نصاریٰ سے اللہ تعالیٰ جب خطاب کرتا ہے تو کہتا ہے کہ بدکار عورت کی طرح جگہ جگہ آشنائیاں کیوں کرتے پھرتے ہو؟ در در پر جا کر سر کیوں جھکاتے ہو؟ میرے ہو جائو تو میں تمھارا ہوں۔ جب میں تیرا ہوں تو دنیا میں تجھے اور کس کی ضرورت ہے؟ کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

اگر ہم اس کا کام کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں تو کتنا ہی ہم سر مار لیں‘کوشش کر لیں‘ اُسی کے بن جانے اور اُسی کی محبت میں غرق ہوئے بغیر یہ راہ طے نہیں ہو سکتی۔ مجھے تو اس بات کا یقین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہے کہ اگر تم نہیں تو پھر دوسری قوم لائوں گا اور سب سے بڑھ کر اُن کی پہلی صفت یہی ہو گی کہ وہ محبت کی زندگی گزاریں گے‘ میں اُن سے محبت کروں گا وہ مجھ سے محبت کریں گے۔ باقی صفات کا ذکر تو بعد میں آتا ہے سب سے پہلے یہ ہے ‘ اس کے بعد ہی وہ کام کر سکیں گے جو اُن کے سپرد کیا گیا ہے۔

محبت کوئی اجنبی چیز تو نہیں‘ جانی پہچانی چیز ہے۔ اگر آپ پوچھیں کہ محبت کیا ہوتی ہے توکوئی اس طرح بتا نہیں سکتا کہ محبت کیا ہوتی ہے۔ لیکن کس کو ان میں سے ہرچیز کا تجربہ نہیں ہے۔ محبت ہوتی ہے تو اُسی کی طرف دھیان لگا رہتا ہے‘ اسی کا خیال رہتا ہے‘ اُسی کا نام زبان پہ رہتا ہے۔ اُس سے ملاقات کے لیے جو موقع مل جائے غنیمت ہوتا ہے۔ اگر پانچ وقت مل جائے تو اس سے بڑھ کر محبت کرنے والے کی اور کیا سعادت ہو سکتی ہے؟ خود بلائے ‘ دروازہ کھول دے‘ یہ تو اس کا بہت بڑا قُرب دینے اور قریب کرنے کا اعلان ہے۔ جب اُس سے روبرو ملاقات کی گھڑی آئے تو اُس سے ملاقات کا شوق اسی محبت کی علامت اور نشانی ہے۔ پھر جو کام کریں اس طرح کریں کہ اُس کو خوش کر دیں۔ انسان دُھن میں لگا ہو توکسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ خود ہی دُھن میں لگا رہتا ہے۔ دھیان اسی میں لگا رہتا ہے اور ایسے ایسے کام بھی کرتا ہے جو محبوب نے فرض اور لازم نہیں کیے۔ جو فرض کیے وہ تو بجا لاتا ہے مگر جو فرض نہیں کیے اُن کے پیچھے بھی لگا رہتا ہے کہ اس سے بڑھ کر تو قربت کا کوئی ذریعہ ہی نہیں ۔ کہاں سے‘ کس طرح‘ کون سا ایسا موقع مل جائے جس سے اُس کو خوش کر دوں اور اس کے قریب ہوتا چلا جائوں۔

یہ سب محبت کی وہ علامتیں ہیں جو سب جانتے ہیں۔ دل میں ایک آگ لگ جاتی ہے اور اس آگ کے اندر سب تعلقات بھسم ہو جاتے ہیں۔ایک ہی تعلق طاری رہتا ہے اور دل کے اوپر چھاجاتا ہے۔ یہ سب نشانیاں آپ جانتے ہیں۔ اس کی میزان میں رکھ کے اپنے دل کو تول سکتے ہیں۔ اس کی ملاقات ‘ اُس کا ذکر‘ اُس کی یاد‘ اُس کی رضا‘ اُس کی خوشنودی کی کوشش زندگی کے اندر کتنی ہے‘ خود اپنے اندر پیدا کریں ‘ جو ساتھی آپ کے ساتھ چل رہے ہیں‘ دو ہوں ‘چار ہوں یا جتنے بھی‘ ان کے اندر پیدا کریں ‘ آپ کا اور آپ کے کام کا نقشہ بدل جائے گا۔ وہی کام جو آپ ٹہل ٹہل کر کرتے ہیں‘ وہ دوڑ دوڑ کر کریں گے۔وہی زبانیں جو دعوت کے لیے نہیں کھلتیں ‘ وہ کھلنے لگیں گی‘ اس لیے کہ پھر میں خود زبان بن جاتا ہوں۔ وہی پائوں جو اب نہیں اُٹھتے‘ وہ اٹھنے لگیں گے‘ اس لیے کہ وہ ہاتھ میں خود بن جاتا ہوں۔ وہی ہاتھ جو کام نہیں کرتے‘ وہ کام کرنے لگیں گے اس لیے کہ وہ پائوں میں خود بن جاتا ہوں۔ یہی وہ مقام ہے جب آدمی دوڑ دوڑ کے اس کے لیے کام کرتا ہے۔ ایک مختصر سی دعا حدیث میں آتی ہے کہ:

رَبِّ اجْعَلْنِیْ لَکَ ذَکَّارًا لَکَ شَکَّارًا لَکَ رَھَّابًا لَکَ مِطْوَاعًا لَکَ مُطیْعًا اِلَیْکَ مُخْبِتًا اِلَیْکَ اَوَّاھًا مُّنِیْبًا (ترمذی‘ عن ابن عباسؓ)

اے میرے اللہ‘ مجھے ایسا بنا دے کہ تجھے بہت یاد کروں‘ تیرا بہت شکر کروں‘ تجھ سے بہت ڈرا کروں‘ تیری بہت فرمانبرداری کیا کروں‘ تیرا بہت مطیع رہوں‘ تیرے آگے جھکا رہوں‘ اور آہ آہ کرتا ہوا تیری ہی طرف لوٹ آیا کروں۔

یہ سب محبت کی تصویریں ہیں:خوب ہروقت مجھے یاد کرو۔ ہر وقت میرا شکر کرتے رہو۔ خوف بھی ہو‘ محبت بھی۔ محبت اور خوف کا ایک دوسرے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں دل ہر وقت دھڑکتا رہتا ہے‘ پتا نہیں کب یہ محبت چھن جائے۔ اس کا خوف ہوتا ہے کہ کوئی ایسا کام نہ ہو جائے جو محبوب کو ناگوار گزرے۔یہ کوڑے کا خوف نہیں ہوتا بلکہ یہ خوف اس کا ہوتا ہے کہ نہ جانے کب کوئی ایسی چیز ہو جائے جس سے میرا محبوب‘ میرا رب مجھ سے ناراض ہو جائے۔ دوڑ دوڑ کر تیرے کام کروں۔ جو فرض نہیں ہیں وہ بھی کروں۔ لَکَ مُطیعًا تیرا بہت مطیع رہوںاور لَکَ مُخْبِتًا اور تیری طرف جھکا رہوں  اور ہائے ہائے واہ واہ کرکے تیرے در پہ لوٹ آیا کروں۔

حبیب کے حبیبؐ نے فرمایا کہ اللہ سے اس لیے محبت کرو کہ اس کے انعامات تم پر   بے پایاں ہیں اور مجھ سے اللہ کے لیے کرو (ترمذی)۔ جو اللہ کا حبیب ہے ‘ اللہ نے اس کو اپنے کام کے لیے بھیجا ہے۔ اُس کے ذریعے اُس نے ہم پر اپنی ساری نعمتیں تمام کر دیں۔ قرآن مجید‘ اپنا دین ‘ اپنی ہدایت‘ اپنی جنت کاراستہ اور جہنم سے بچنے کا راستہ ‘ سب کچھ اُنہی کے ذریعے ملا ہے۔ ان سے محبت کا تو یہ عالم تھا کہ لوگ نگاہ بھر کر دیکھ نہیں پاتے تھے۔ مجلس میں سناٹا رہتا تھا۔ وضو کا پانی زمین پر نہیں گرنے پاتا تھا۔ تھوکتے تھے تو چاہنے والے وہ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے۔ یہ بھی محبت کی علامتیں تھیں۔ ان میں سے کوئی چیز فرض نہیں تھی۔ کسی چیز کا دین میں مطالبہ نہیں تھا۔ ایک آدمی آیا اور اس حال میں آپؐ سے ملا کہ آپؐ کے گریبان کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ عمر بھر باپ اور بیٹے نے اپنے گریبان کے بٹن بند نہیں کیے۔ دین کا کوئی مطالبہ نہیں تھا کہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ ایک اور آدمی آیا اس نے دیکھا کہ آپؐ  کی چپل کے تسموں پر بال ہیں۔ اُس نے ہمیشہ وہی چپل پہنے۔ ایک اور آدمی آیا اس نے دیکھا کہ آپؐ سالن میں کدو کے ٹکڑے تلاش کر رہے ہیں۔ اس کے ہاں کبھی کوئی سالن نہیں پکا جس میں کدو نہ ڈلا ہو اور اس میں کدو کے ٹکڑے نہ تلاش کیے ہوں۔ اُن میں سے کوئی چیز بھی فرض نہیں تھی۔ اور جو چیزیں فرض کیں‘ جن کا مطالبہ کیا---مکے کی گلیاں ‘ عکاظ کے میلے‘ طائف کی وادی‘ بدر و حنین کے میدان--- بھلا جو قمیض کے بٹن بھی بند نہ کرتے ہوں‘ کدو کے ٹکڑے بھی نہ چھوڑتے ہوں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ اِن میں پیچھے رہ سکتے ہیں؟ پھر انھوں نے اسپین سے لے کر چین تک سب کو بدر و حنین کا میدان بنا دیا۔ جو کام قومیں ہزاروں برس میں کرتی ہیں‘ وہ کام انھوں نے سوبرس میں کر دیا۔ یہ اِسی محبت کا نتیجہ ہے۔ یہی محبت تو اُن کا سارا سرمایہ تھی۔ ہر دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپؐ کے دل کا ایک ٹکڑا آگیا۔ ہر شخص چلتا پھرتا قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر بن گیا۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے آگے قوموں کی قومیں ‘شہروںکے شہر او ر ملک کے ملک سپرانداز ہو گئے اور بچھتے چلے گئے۔ اس لیے کہ محبت فاتحِ عالم ہوتی ہے۔ اللہ کی محبت اور اس کے رسولؐ کی محبت یقینا سارے عالم کو فتح کر لیتی ہے۔ آپ ؐ کے پاس اس کے سوا کوئی اور نسخہ نہیں تھا۔ نہ وعظ تھے‘ نہ لٹریچر تھا‘ نہ کتابیں تھیں‘ کچھ نہیں تھا‘ بس محبت کی تفسیر تھے‘ زندہ چلتی پھرتی تصویر تھے۔

ایک آدمی آیا۔ اُس نے پوچھا قیامت کا دن کب آئے گا؟ فرمایا پوچھ تو رہے ہو‘ کچھ تیاری بھی کی ہے؟ کہا نہیں۔ نماز روزے‘ یہ تو بہت مشکل ہیں۔ صرف اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہوں۔ فرمایا جس سے محبت کرتے ہو اُسی کے ساتھ رہوگے۔ حضرت انسؓ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں نے صحابہؓ کی زندگی میں اس سے زیادہ خوشی کا کوئی دن نہیں دیکھا کہ جب یہ خوشخبری سُنی کہ نمازیں بھی کم ہیں‘ روزے بھی کم‘ کوئی وسیع سرمایہ ساتھ نہیں ہے‘ بس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ فرمایا کہ مجھے یہ بشارت ملی کہ پھر تو قربت بھی ہے‘ ساتھ بھی ہے اور پاس بیٹھنا بھی ہو گا اور ملنا جلنا بھی ہو گا۔

کسی نے کہا کہ آدمی محبت تو کرتا ہے مگر پہنچ نہیں سکتا۔ پہنچ نہ سکناتو بہت بلیغ بات ہے۔ ۱۴ سو برس کے زمانے کا فاصلہ ہے۔ مکان کا بھی فاصلہ ہے۔ بہت دور ہے جا نہیں سکتے۔ عمل کا بھی فاصلہ ہے کہ ہمارے عمل کی اُن کے عمل کے ساتھ کوئی نسبت نہیں ہے۔ فرمایا کہ محبت تو ایسا نسخہ ہے کہ ساری دوریوں اور فاصلوں کے باوجود آدمی اُسی کے ساتھ جائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپؐ کے پیچھے چلنا اللہ کی محبت کی کسوٹی ہے۔یہ محبت کا سیدھا راستہ ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ  (آلِ عمران۳: ۳۱)۔ ’’اے نبیؐ ، لوگوں سے کہہ دو کہ ’’اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو‘ اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘۔اگر اللہ سے محبت کا دعویٰ ہے تو میرے پیچھے پیچھے چلو اور میرے بن جائو‘ میرے نقشِ قدم پر چلو‘ جن راستو ں سے میں گزرا ہوں‘ اُن سب سے گزرو۔ اگر میں کہوں کہ مکہ کی گلیوں سے گزرو‘ عکاظ کے میلوں سے گزرو‘ طائف کی وادی سے گزرو اور بدر و حنین کے میدان سے بھی گزرو‘ تو ان سب مقامات سے بلاجھجک گزرواس لیے کہ یہی محبت کا تقاضا ہے۔

اتّباع کے معنی اطاعت کے نہیں ہیں۔ اطاعت کا لفظ الگ ہے۔اطاعت کے معنی تو کہنا ماننے اور حکم ماننے کے ہیں‘ اور اتباع کے معنی پیچھے پیچھے چلنے کے ہیں۔ پیچھے پیچھے تو ہر آدمی چلا جائے گا‘ محبوب جدھر جائے گا اُس کے پیچھے جائے گا۔ جہاں وہ چلا ہو گا اس کے پیچھے چلے گا۔ جو نقشِ قدم اُس نے چھوڑے ہوں گے اُنہی کو وہ پیار کرے گا انہی کے اوپر وہ اپنے قدم بھی رکھے گا۔

یہ محبت بھی آسانی سے نہیں حاصل ہو سکتی۔ایک واقعہ آپ نے بھی پڑھا ہو گا‘ میں نے بھی پڑھا ہے۔ پڑھ کے دل لرز جاتا ہے اور بڑی محبت بھی پیدا ہو تی ہے۔ غزوہ احد کا واقعہ ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ زخموں سے چور اور جان بہ لب تھے۔ محبت میں یہاں تک پہنچ گئے۔ آپؐ کے پاس بھی لائے گئے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپؐ اپنا پائوں میرے چہرے پر رکھ دیں۔ لوگ تو بڑے دعوے کرتے ہیں محبت کے‘ لیکن حضورؐ کے قدموں کے نیچے آنے کے مقام تک پہنچنے کے لیے اس کیفیت میں ہیں کہ پورا جسم خونم خون‘ زار و نزار‘ جان لبوں پر ہے تو اس کے بعد انھوں نے اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھا یا محبت میں یہ آرزو ہوئی کہ قدمِ مبارک چہرے کے اوپر ہوں۔ یہ آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔

وہ لوگ جو دین کے راستے پر ساتھ چل رہے ہیں ان کے لیے اس میں بہت رہنمائی ہے۔ آپ ؐنے فرمایا کہ اپنے آپ کو باندھ لو‘ اس کے ساتھ جمالو‘ جم جائو‘  ناگواریاں بھی ہوں تو صبر اختیار کرو۔ وَلَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْہُمْج (الکھف ۱۸:۲۸) ’’اور اُن سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو‘‘نگاہیں ہٹنے نہ پائیں۔ یہی ساتھی سرمایہ ہیں۔کچے بھی ہیں اور پکے بھی۔ گناہ گار بھی ہیں اور نیک بھی ‘پُختہ بھی ہیں اور ناپختہ بھی ہیں۔ جو بھی ہیں وہ سب جو ساتھ چل رہے ہیں‘ ان میں سے ہر شخص قیمتی ہے۔ ہر شخص ایک سرمایہ ہے۔ کالے بھی ہیں اور گورے بھی‘ پڑھے لکھے بھی ہیں اور جاہل بھی۔ اچھے اخلاق والے بھی ہیں اور بد اخلاق بھی۔ آکے چادر کھینچ لیتے ہیں‘ بُرا بھلا کہتے ہیں‘ طعنے دیتے ہیں پھر بھی وہ محبوب رہتے ہیں۔ عذر پیش کرتے ہیں وہ قبول کر لیے جاتے ہیں۔ غلطی کرتے ہیںتو معاف کر دیے جاتے ہیں اورسینے سے لگا لیا جاتا ہے۔کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی دھتکار کے باہر کر دیا گیا ہو۔

یہی تو وہ لوگ ہیں جن سے کام ہونا ہے۔ انھی کی تائید سے تو دین غالب ہوا۔ ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ o (الانفال۸:۶۲) ’’وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی‘‘۔  یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَo (الانفال ۸:۶۴) ’’اے نبیؐ ، تمھارے لیے اور تمھارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ ہی کافی ہے ‘‘۔

یہ مومنین کی جماعت ہی تو ہے جس کی جدو جہد سے پورا کا پورا دین نافذ ہوگا‘ فتنہ مٹے گا اور دین کا کلمہ غالب ہو گا۔ ان میں سے تو ہر شخص بڑا قیمتی ہے۔ کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس کی قدر و قیمت کم کی جائے۔ ہر شخص کا دل اللہ کی یاد کا مسکن ہے۔یہ تو خانۂ کعبہ سے بھی زیادہ محترم ہے۔ خانۂ کعبہ کیا ہے؟ مٹی کا گھر ہے۔ یہ تو گوشت کا دل ہے جو اللہ نے خود بنایاہے۔ جس میں وہ خود بستا ہے۔ اس کی یاد بستی ہے۔ اس کی محبت بستی ہے۔ اس کا ایمان بستا ہے۔ اس کی ناقدری کی جائے اور اس کو آدمی جھڑک دے‘ اس کو ایذا پہنچائے‘ اس کو تکلیف دے‘ اس کی پروا نہ کرے ‘ اس کی برائی کرتا پھرے‘ اس کوگالی دے‘ اس کا مذاق اڑائے‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے! اسی لیے فرمایا کہ جس نے کسی مسلمان کو خوش کیا اُس نے مجھے خوش کیا۔ جس نے مجھے خوش کیا اُس نے اللہ کو خوش کیا۔ جس نے کسی مسلمان کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھ ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی۔ آپ بتائیے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ  محبوب ہوں تو کیا اس کے بعد اب کسی ہدایت کی ضرورت ہے؟ یہ تو خود اپنی جگہ پر کافی ہے۔ جب اللہ پیارا ہے‘ اللہ کے محبوبؐ پیارے ہیں تو پھر اللہ کے کسی بندے کو‘ اپنے کسی ساتھی کو کیسے تکلیف پہنچائی جا سکتی ہے۔ کوئی ایسی بات زبان پر کیوں آئے‘ ہاتھ سے ایسا کام کیوں ہو‘ روش ایسی کیوں ہو جس سے اُس کو تکلیف ہو۔جن کو ہم نے آگے کھڑا کر دیا ہے وہ بھی اُسی طرح محبوب ہیں‘ اور جو ہمارے پیچھے ہیں وہ بھی اسی طرح محبوب ہیں۔ یہ محبت کا رشتہ ہے۔

اب کوئی آگے چلنے والا یہ حق تو نہیں رکھتا کہ وہ کہہ سکے کہ میں تمھاری جان ‘مال ‘ والدین سب سے زیادہ پیارا ہوں۔ یہ مقام تو صرف اللہ کے رسولؐ کے لیے۔ لیکن اِسی کا کچھ حصّہ کہیں نہ کہیں تو آئے گا جس سے جماعتیں مضبوط ہوں گی اور ایران و روم فتح کرنے کے قابل ہوں گے۔ خشک احتساب جماعتوں کو صحیح تو رکھ سکتا ہے‘ مگر اُن کے اندر سیلاب کی وہ قوت نہیں پیدا کر سکتا کہ دنیا کے اوپر چھا جائے۔ یہ سیلاب کی قوت تو محبت ہی پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے رحما کی مثال دی ہے ‘  مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ ٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ (الفتح ۴۸:۲۹) ’’محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں‘‘۔ اس کا نتیجہ تھا کہ وہ بیج کونپل بنی‘ درخت بنا اور پھر تناور درخت بن گیا۔ آپس کی محبت اور رحمت پر مبنی اس کی اینٹیں ایک دوسرے کے ساتھ آپس میں محبت کے سیمنٹ سے جڑی ہوئی ہیں۔وہی جماعت اس قابل ہے کہ اس کا ننھا منا بیج تناور درخت بن جائے۔ عام انسان‘ہر انسان جس کو اللہ نے پیدا کیا‘ گوشت پوست کا انسان جس کے اندر اس نے اپنی روح پھونکی ہے (نفختُ فیہ من روحی)۔ ہر انسان جو گناہ گار ہے‘ اس کا گناہ آپ کو کتنا ہی ناپسند کیوں نہ ہو‘ نفرت کا مستحق نہیںہے۔ گناہ گار بھی آتے تھے‘ جانی دشمن بھی آئے‘ چچا کا کلیجہ چبانے والے بھی آئے‘ مکے کے پورے ۱۳سال گالیاں دینے والے‘راہ میںکانٹے بچھانے والے بھی آئے‘ مرد بھی آئے‘عورتیں بھی آئیں‘ بیٹی کے اوپر برچھا مارنے والا جس کے نتیجے میں اُن کا اسقاط حمل ہوگیا وہ بھی آیا‘ سب کو گلے سے لگا لیا اور سب سے کہا کہ آئو آج سے تم میرے بھائی ہو اوروہی پھر قوت بن گئی۔

وہ چند افراد کی قوت نہیں تھی۔ مہاجرین و انصار نے ساری دنیا فتح کی۔وہ تو لیڈر تھے ‘ قائد تھے‘وہ آگے چلنے والے تھے۔ انسانی قوت تو ان سے آئی جن کے دلوں کو اونٹ دے کر اور مالِ غنیمت دے کر جیتا گیا۔

فرمایا کہ بھوکے کے پاس جائو تو اپنے رب کو وہاں پائو گے۔ تم اسے کہاں تلاش کرتے پھرتے ہو؟ پیاسے کے پاس جائو تو مجھے وہاں پائو گے‘ اور بیمار کے پاس جائو تو مجھے وہاں پائو گے۔ تم مجھے کہاں تلاش کرتے ہو؟ مجھے بندوں میں تلاش کرو۔ ان کے پاس جائو گے‘ ان سے محبت کرو گے تو پھر وہ تمھارے ہو جائیں گے اور تم اُن کے ہو جائو گے۔

میرے بھائیو اور دوستو! یہ بنیادی سبق ہے۔ یہ دین کی بنیاد ہے۔ حمد کا کلمہ بھی محبت کا کلمہ ہے۔ شکر اور تعریف محبت کے بغیرنہیں ہوسکتی اور محبت تو شکر کے بیج سے پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا آغاز بھی اسی کلمے سے فرمایا:  الحمد للّٰہ۔ اورجب دین تکمیل تک پہنچ گیا تو پھر فرمایا:  فسبّح بحمد ربک۔ شکر ہی تو محبت کا بیج ہے۔ اِسی سے محبت کا درخت پھوٹتا ہے‘ اس کی شاخیں نکلتی ہیں‘ پتے آتے ہیں‘ پھول کھلتے ہیں‘ پھل نکلتے ہیں۔ یہ دین کی بنیاد ہے‘ ایمان کا تقاضا ہے۔ ایمان کی راہ عشق و محبت کی راہ ہے اور اسی سے یہ منزل آسان ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نسخہ میں نہیں جانتا۔

میں پھر اپنی بات دُہرائوں گا کہ تم اگر اس معیار پر پورے نہیںاترو گے تو پھر تمھارے ہاتھوں سے یہ کام نہیں ہو گا۔ پھر اللہ دوسرے لوگ لائے گا۔ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ (المائدہ ۵:۵۴)  ’’وہ دوسری قوم لے کر آئے گا‘‘۔ اور اس گروہ کی پہلی خصوصیت ہی ہو گی کہ وہ اللہ کی محبت کے نشے میں سرشار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہو گا۔ اس کے بعد سارے کام آسان ہوں گے‘ دین غالب ہو گا‘ پھر زندگی ٹھکانے لگے گی۔ پھر تھوڑے عمل سے بھی بڑے بڑے نتائج پیدا ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ مجھے آپ سب کو اسی محبت کا حصّہ عطا فرمائے۔ (کیسٹ سے تدوین:  م - س)

محترم خرم مرادؒ لاہور میں گارڈن ٹائون کی مسجد بلال میں خطبہ جمعہ سے قبل ۴۰ منٹ کا خطاب کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ۱۹۹۰ء سے جنوری ۱۹۹۶ء میں آخری سفر کے لیے برطانیہ روانگی تک‘ بیرونی سفر اور بیماری کے وقفوں علاوہ‘ مسلسل جاری رہا۔ انھوں نے یہ خطاب ایک اسکیم کے تحت ایمانیات‘ عبادات‘ عبادات قلبی‘تعلق باللہ‘ فضائل اخلاق‘ رذائل اخلاق‘ اُمت‘ دعوت و جہاد سے متعلق موضوعات پر احادیث کو بنیاد بنا کر کیے تھے۔ ۲۴ آخری سورتوں کے اور دعائوں کے درس بھی یہیں ہوئے۔ یہ خطاب وہ ہمیشہ مکمل تیاری کرکے کرتے تھے‘ کبھی وقت گزاری نہ کی۔ ان خطابات کو کیسٹ سے تدوین کر کے پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دیگر تحریکی رسائل میں بھی شائع ہو رہے ہیں۔ یہاں ان میں سے ایک پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان کارنامہ یہ ہے کہ آپؐ نے انسانوں کو بھی بدلا‘ ان کی سوسائٹی بھی بدلی اور ان کی پوری دنیا بھی بدل دی۔ اس کام کو آپؐ نے کیسے سرانجام دیا‘ وہ کون سی کنجی تھی جس سے آپؐ نے لوگوں کی زندگیوں کے تالے کھول دیے اور ان کوبدل کر ان کے ذریعے ساری دنیا کو بدل دیا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب درج ذیل حدیث میں دیا    گیا ہے۔

اس حدیث کو ایک انصاری صحابی حضرت نعمان بن بشیرؓ نے روایت کیا ہے اور اس طرح روایت کیا ہے کہ جب انھوںنے یہ بیان کیا کہ میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو انھوں نے اپنے کانوں کی طرف اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا کہ یہ وہ کان ہیں جن سے سنا ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسولؐ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

الْحَلاَلُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَّبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لاَّ یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشْتَبِھَاتِ اسْتَبْرَاَلِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِیْ الشُّبْھَاتِ کَرَاعٍ یَّرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗٓ اَلاَ وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلاَ اِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖ مُحَارِمُہٗ اَلاَ وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً۔ اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلاَ وَھِیَ الْقَلْبُ (بخاری‘کتاب الایمان‘ باب فضل من استبرالدینہ)

بے شک حلال واضح اور صاف ہے اور بے شک حرام بھی واضح اور صاف ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہہ والی چیزیں ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تو جس نے اپنے آپ کو شبہے والی چیزوں سے بچایا اس نے اپنے دین کو اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا۔ اور جو مشتبہ چیزوں کے اندر پڑ گیا تو پھر وہ حرام میں پڑ گیا۔ جس طرح کہ کوئی چَرانے والا کسی بادشاہ کی مخصوص چراگاہ کے گرد جائے اور قریب ہے کہ وہ اسی چراگاہ کے اندر داخل ہوکر چَرنا شروع کردے۔ اچھی طرح سن لو اور جان لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اچھی طرح سن لو اور جان لو کہ اللہ کی چراگاہ وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام کیا ہے ۔ اور اچھی طرح سن لو اور جان لو کہ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ سدھر جائے تو ساراجسم سدھر جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے اور اچھی طرح سن لو اور جان لو کہ یہ قلب ہے۔

اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں میں روایت کیا گیا ہے۔ جو الفاظ میں نے آپ کے سامنے پڑھے ہیں وہ بخاریکے الفاظ ہیں۔ دونوں کے الفاظ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے لیکن جس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں نے بیان کیا ہو وہ اپنی صحت کے لحاظ سے بہت اونچے درجے کی حدیث شمار ہوتی ہے۔حدیث کی بعض کتابوں کو دوسرے طبقے میں شمار کیا جاتا ہے۔ پہلے طبقے میں بخاری‘ مسلم اور مؤطا امام مالک ہیں اور دوسرے طبقے میں ترمذی‘ نسائی‘ ابوداؤد‘ ابن ماجہ اور دارمی کی کتابیں ہیں۔ دوسرے طبقے کی کتابوں میں سے ابن ماجہ اور دارمی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور ان کے الفاظ بھی تقریباً وہی ہیں جو میں نے آپ کے سامنے پڑھے ہیں۔

اس حدیث کو محدثین اور علماے کرام نے بہت عظیم الشان حدیث قرار دیا ہے بلکہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اسلام کامدار اس حدیث پر ہے‘ یا یہ کہ یہ ان تین یا چار احادیث میں سے ایک ہے جن پر پورے اسلام کی بنیاد قائم ہے۔

اس حدیث کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ حلال اور حرام اور مشتبہات کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات ہم تک پہنچاتا ہے اور دوسرا حصہ دل یا قلب کے بارے میں ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں حصوں کا آپس میں کوئی گہراتعلق نہیں ہے۔ محدثین نے عام طور سے اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے کہ ان دونوں حصوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ کیوں جمع کیا؟ ہم اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ لیکن پہلا حصہ جو کہ حلال و حرام اور مشتبہات کے بارے میں ہے اس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے‘ اور دوسرا حصہ جو دل کے بارے میں ہے اس پر ہم پہلے گفتگو کریں گے۔ اس طرح اس حدیث کاجو مطلب ہے اور اس میں ہمارے لیے جو ہدایت ہے اس کا سمجھنا ہمارے لیے آسان ہوگا۔

دوسرے حصے میں آپؐ نے یہ فرمایا کہ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے‘ اگر وہ سدھر جائے‘ سنور جائے‘ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم سدھر جاتا ہے‘ اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ اچھی طرح جان لو کہ یہ قلب ہے!

’’ قلب‘‘ سے مراد

پہلا سوال یہ ہے کہ یہاں قلب کا کیا مطلب ہے؟ حدیث کے الفاظ تو یہ بتاتے ہیں کہ جسم میں دل کی شکل میں گوشت کا جو ٹکڑا ہے‘ آپؐ نے اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے لیکن قرآن مجید اور حدیث میں قلب کی اصطلاح بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوئی ہے۔ اس کے مطابق ہماری پوری شخصیت کا نام قلب ہے۔ یہ جسم فنا ہوجائے گا اور انسان کی روح جس کو قرآن مجید میں قلب بھی قرار دیاگیا ہے وہ باقی رہ جائے گی۔ انسان کی شخصیت کے مختلف پہلو قلب کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان کی طرف قرآن مجید میں بے شمارمقامات پراشارہ کیا گیا ہے‘ مثلاً عقل اور سمجھ بوجھ‘ شعور اوراحساس‘ ان سب کا مرکز بھی قرآن کی زبان میں قلب ہے۔ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا ز (الاعراف ۷:۱۷۹) ’’ان کے دل ہیں لیکن وہ ان سے سوچتے سمجھتے نہیں ہیں‘‘۔ یا یہ کہ کیا ان میںایسے لوگ نہیں تھے جن کے پاس دل ہوتے اور وہ اپنی عقل سے کام لیتے۔ لہٰذا قرآن میں عقل‘ تفکر اور سمجھ بوجھ کامرکز بھی قلب کو قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں ارشاد ہوا: اَفَلاَیَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا (محمد ۴۷:۲۴) ’’کیا ان لوگوںنے قرآن پر غور نہیں کیا‘ یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘ گویا تدبر‘ یعنی قرآن پر غور و خوض کا مرکز بھی قلب ہے۔

قلب کا لفظ جن دوسرے معنوں میں استعمال ہوا ہے وہ ہماری خواہشات ہیں۔ یہ خواہشات دنیوی چیزوں کے لیے بھی ہوسکتی ہیں‘ ان سے اعلیٰ چیزوں کے لیے بھی ہوسکتی ہیں۔ ان خواہشات کامرکز بھی قلب ہے۔ اسی طرح جو جذبات انسان کے اندر ہوتے ہیں‘ مثلاً شفقت کا جذبہ‘محبت کا جذبہ‘ نرمی کاجذبہ‘ نفرت اور غصے کا جذبہ‘ ان سب کا مرکز بھی قرآن و حدیث کی رو سے انسان کا قلب ہے۔ اور سب سے آخر میں وہ چیز جو انسان کوانسان بناتی ہے‘ یعنی اس کاارادہ اور نیت۔ وہ ارادہ‘ جس سے وہ اپنے اعضا کو حرکت دیتا ہے‘ کام کرتا ہے‘ کچھ چیزوں کو طلب کرتا ہے اور کچھ چیزوں سے رک جاتا ہے‘ اس کے اس ارادے کا مرکز بھی قلب ہے۔ اس لحاظ سے قلب دراصل انسان کی شخصیت کا پورامرکز ہے۔ ہاتھ پائوں نہ بھی رہیں‘کٹ جائیں‘ ختم ہوجائیں‘ جسم کے اور دوسرے اعضا بھی ناکارہ ہوجائیں لیکن ایک چیز انسان کی شخصیت ہے‘ وہ باقی رہتی ہے۔ اسی کو قلب کہا گیا ہے ۔

اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے کہ حدیث میں جو یہ کہا گیا ہے کہ ’’گوشت کا ایک ٹکڑا‘‘ ہے تو اس سے کیا مطلب ہے؟ا س بارے میںہمارے محدثین نے کافی لکھا ہے اور لوگوں کا اختلاف بھی نقل کیا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک عقل دماغ میں ہے اور بعض کے نزدیک دل میں ہے۔ سائنس کی رو سے بھی گوشت کا یہ ٹکڑا صرف اتنا کام کرتا ہے کہ خون پمپ کرتا رہے اور باقی انسان کے سارے جذبات اور سوچ سمجھ کا مرکز اس کا دماغ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بحث حدیث سے بالکل غیر متعلق ہے اور میری رائے میں حدیث کو سمجھنے کے لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم یہ متعین کریں کہ فی الواقع یہ دماغ ہے یا قلب۔جب انسان آپس میں بات کرتے ہیں تو وہ اپنے مشاہدے کی بنا پر اور ادب کے پیرایے میں بات کرتے ہیں۔ اگرچہ سائنس یہ کہتی ہو کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے لیکن کہا یہی جاتا ہے کہ سورج نکل آیا اور سورج ڈوب گیا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ زمین نکل آئی اور زمین ڈوب گئی۔ اسی طرح ہماری زبان کے اندر معروف محاورہ یہ ہے کہ میرا دل یہ کہتا ہے‘ میرا دل یہ چاہتا ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو ادب کی زبان ہے اور اس لحاظ سے اس کا مطلب سمجھنے کے لیے یہ متعین کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے کہ عقل کا مرکز کہاں ہے اور دماغ کا مرکز کیا ہے۔ قرآن نے یہ لفظ اصطلاح کے طور پر استعمال کیا ہے۔

جسد سے مراد

دوسرا سوال یہ ہے کہ جسد سے کیا مراد ہے؟ جب جسم کہا تو اس سے ظاہری جسم مراد ہے یا کچھ اور۔ یہاںاس سے ہمارا یہ جسم مراد ہے۔ اس کی طرف محدثین نے اشارہ کیا ہے اور یوں کہا ہے کہ جسم کی حیثیت رعایا کی ہے اور قلب کی حیثیت بادشاہ کی۔ جس طرح رعایا بادشاہ کے ماتحت ہوتی ہے‘ اسی طرح یہ ہاتھ پائوں‘ ناک کان‘ آنکھ ہر چیز قلب کے تابع ہے۔ آنکھ وہ چیز نہیں دیکھے گی جو دل دیکھنا نہ چاہے بلکہ وہی چیز دیکھے گی جس کو دل دیکھنا چاہے گا۔ ہاتھ وہ چیز نہیں کمائے گا جس کے بارے میں دل نے یہ فیصلہ کرلیا ہو کہ نہیں کمانا چاہیے اور وہی چیز کمائے گا جس کے بارے میں دل یہ فیصلہ کرلے کہ اسے کماناچاہیے۔ یہ سارے اعضا رعیت ہیں‘ رعایا ہیں اور قلب کی حیثیت ایک بادشاہ کی ہے۔

جسد کے دو اور معنی بھی ہوسکتے ہیں اگر ہم اس کو ایک استعارہ سمجھیں۔ ایک تو یہ کہ جسد سے مراد وہ شریعت ہے جس کا ذکر حدیث کے پہلے ٹکڑے میں ہوچکا ہے اور یہاں سے ان دونوں کا ربط قائم ہوتا ہے کہ وہ شریعت جو حلال اور حرام کو واضح کرتی ہے‘ اس شریعت کے قائم ہونے کے لیے قلب کی بنیاد اور قلب کی قوت ضروری ہے۔احکام کی اطاعت کے لیے سینے کے اندر دل بیدار ہونا چاہیے۔ سننے کے لیے‘ سمجھنے کے لیے‘ دیکھنے کے لیے‘ صحیح فیصلہ کرنے کے لیے‘صحیح نتائج تک پہنچنے کے لیے‘ صحیح راہ پر چلنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دلِ بیدار موجود ہو۔

اس کے دوسرے معنی یہ بھی نکلتے ہیں کہ جسد سے دراصل پوری انسانی زندگی مراد ہے۔ اس کی انفرادی زندگی بھی اور اجتماعی زندگی بھی‘ اور اس کی زندگی کا ہر پہلو۔ اگر دل میں سکون ہے تو زندگی میں سکون ہوگا‘ اگر دل میں اطمینان ہے تو زندگی میں اطمینان ہوگا ‘اگر دل میں اچھے خیال آتے ہیں تو زندگی اچھے راستے پر جائے گی۔ اور اگر دل میں برے خیال آتے ہیں تو زندگی برے راستے پر جائے گی۔ اجتماعی طور پر بھی جو خرابیاں قوم کے اندر پیدا ہوتی ہیں ‘ لوٹ مار ‘خون خرابہ یا ڈاکے پڑنا وغیرہ ان سب کے پیچھے اصل خرابی دل کی خرابی ہوتی ہے۔ انسان گناہ کرتا ہے‘ اس لیے کہ اس کے دل میں خرابی ہوتی ہے اور وہ غلطی کا مرتکب ہوتا ہے۔ گویا اس حدیث کی رو سے اصلاح کاراستہ قلب ہے۔ اگر قلب کی اصلاح ہوگی تو آدمی کے اعضا بھی صحیح کام کریں گے‘ شریعت کی اطاعت کی قوت بھی اس کے اندر پیدا ہوگی اور پوری انسانی زندگی کی اصلاح ہوجائے گی۔ اگر اس میں بگاڑ پیدا ہو تو پھر اعضا بھی غلط کام کریں گے‘ شریعت بھی کتابوں میں لکھی رہ جائے گی اور اس پر عمل نہیں ہوگا۔ یوں پوری انسانی زندگی کے اندر بگاڑپیدا ہوجائے گا۔

نیکی اور بدی کا منبع

یہاں ’’صلاح‘‘کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی دراصل ہر قسم کی اچھائی اور بھلائی اور اصلاح ہے‘ اور فساد سے بھی ہر طرح کا فساد مراد ہے۔ حدیث میں اس کا کوئی تعین نہیں کیا گیا ہے کہ کس قسم کی صلاح اور کس قسم کا فساد مراد ہے۔ ہر قسم کی صلاح اور ہر قسم کا فساد مراد ہو سکتا ہے خواہ وہ انسان کی جسمانی زندگی سے متعلق ہو یا اخلاقی زندگی سے یا مادی زندگی سے‘ خواہ اس کی انفرادی زندگی سے متعلق ہو یا اس کی اجتماعی زندگی سے۔البتہ یہ بات واضح ہے کہ    ہر صلاح اور ہر قسم کی صلاح‘ ہر فساد اور ہر قسم کے فساد کاانحصار قلب پر ہے۔ قرآن مجید نے اس بات کو بہت کھول کر بیان کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ پوری انسانی زندگی میں جو کچھ بھی پیش آ رہا ہے وہ اس دل کی وجہ سے ہے۔ فرمایا : فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ (البقرہ ۲:۱۰) ’’ان کے دلوں میں مرض ہے‘‘۔ کسی منافقت ‘نافرمانی اور تغافل کے رویوں کے پیچھے جو چیز ہے وہ دراصل دلوں کامرض ہے۔ مرض کی جڑ دلوں میں ہے۔ فرمایا: فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ (الحج ۲۲:۴۶)’’حقیقت یہ ہے کہ وہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘۔ گویا یہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں کہ دیکھنے سے انکار کردیں کہ صحیح راستہ کیا ہے اور صحیح کام کیا ہے‘ بلکہ جو دل سینوں کے اندر ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد آنکھیں دیکھتی بھی ہیں اور کان سنتے بھی ہیں‘ لیکن نہ صحیح راستہ دکھائی دیتا ہے‘ نہ صحیح آواز سنائی دیتی ہے اور نہ آدمی ہدایت قبول کرتا ہے۔ قرآن مجید نے کہا ہے کہ ایمان اور تقویٰ کا اصل مرکز دل ہے: وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ (الحجرات ۴۹:۷)’’مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمھارے لیے دل پسند بنا دیا‘‘۔ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ لِلتَّقْوٰی (الحجرات ۴۹:۳)‘یعنی جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لیے آزمالیاوہی اہل تقویٰ ہیں نہ کہ ظاہر کی چیزیں تقویٰ ہیں۔

اس بات کی تائید ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کے مطابق حضورؐ نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف تین دفعہ اشارہ کیا اور فرمایا کہ التقویٰ ھٰھنا  ‘ تقویٰ دراصل یہاں ہے۔ تقویٰ کو تم کبھی لباس میں ڈھونڈتے ہو‘کبھی شکل و صورت میں‘ کبھی ظواہر میں‘ لیکن تقویٰ کا مرکز اور سرچشمہ تو یہاں پر ہے۔ تین دفعہ آپؐ نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کرکے اس بات کی تاکید فرمائی ہے۔ قرآن مجید نے بھی کئی دفعہ اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اصل پرسش قلب کے اعمال کی ہے۔ اگر کسی آدمی کو زبردستی کلمۂ کفر کہنا پڑے لیکن اس کے دل کے اندر ایمان ہو تو اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ جس کو مجبور کردیا گیا لیکن قلبہ مطمئن‘ اس کا دل ایمان کے اوپر مطمئن ہے‘ اس سے کوئی بازپرس نہ ہوگی۔ آپؐ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ تم گناہ تو کرتے ہو لیکن پرسش تو اس گناہ کی ہے جس کا دل نے ارادہ کیا ہو‘ جو دل نے کمایا ہو۔ دل کی کمائی پر انسان سراسر قابل مواخذہ ہے۔

انسان اس لیے جواب دہ اور قابل مواخذہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کوارادے کی آزادی دی ہے۔ کوئی چاہے تو نیکی کرے اور کوئی چاہے تو برائی کرے۔ اس ارادے کا سرچشمہ اور ڈوری کیونکہ قلب کے ہاتھ میں ہے اس لیے اصل ذمہ داری قلب کی ہے۔ گناہ کا ذمہ دار بھی انسان کا قلب ہے‘ یعنی اس کے اندر کی شخصیت جو اس کے جذبات اور ارادے اور محرکات اور ہر چیز کی مرکز ہے۔ قیامت کے روزبھی وہی آدمی نجات پائے گاجو صحیح سالم دل لے کر اللہ کے پاس جائے گا۔ اس کو قرآن مجید میں واضح کردیا گیا: جس دن نہ مال کام آئے گا‘ نہ بیٹے کام آئیں گے‘ نہ دولت کام آئے گی‘ نہ جایداد کام آئے گی سوائے اس کے کہ جو ’’قلب سلیم‘‘ لے کر آئے گا۔ جو سالم‘صحیح‘ درست دل لے کر اللہ کے پاس آیا‘ بس وہی نجات پائے گا۔ جو لوگ مال و دولت جمع کرتے ہیں‘ فرمایا کہ اللہ کے ہاں آگ تیار ہے‘ بھڑک بھڑک کر ان کے دلوں تک جھانکے گی۔ مختلف جگہ قرآن نے یہ اشارہ دیا ہے کہ دراصل ذمہ داراندر کی شخصیت ہے۔ جسم تو ہر پانچ سال میں نیا بن جاتا ہے اور مٹی میں مل کے دوبارہ بھی نیا بنے گا۔ اس ہاتھ میں اس وقت جو گوشت ہے وہ کوئی گناہ کرنے کاذمہ دار نہیں ہے۔ یہ تو فناہوجائے گا لیکن جو اندر کی شخصیت ہے‘ جو ارادہ کرتی ہے‘ اور اس کے نتیجے میں انسان نیکی کرتا ہے یا گناہ کا مرتکب ہوتا ہے‘ وہی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔

حضورؐ نے جو بات یہاں پر فرمائی ہے یہ انسان کی زندگی کے تالے کھولنے کے لیے پہلی کنجی ہے‘ انفرادی زندگی کے بھی اور اجتماعی زندگی کے بھی۔ اصل ذمہ دار دل ہے۔ اگر دلوں کے اندر بگاڑ ہوا تو زندگی بھی بگڑے گی‘معاشرہ بھی بگڑے گا‘ سوسائٹی بھی بگڑے گی‘ ریاست بھی بگڑے گی‘ سیاست بھی بگڑے گی اور معیشت بھی بگڑے گی‘ اور اگر دل درست ہوں گے تو ہر چیز میں سدھار پیدا ہوجائے گا۔

دل اور شریعت پر عمل

اب ہم حدیث کے پہلے حصے کی طرف آئیں تو اس کا مفہوم بہت صاف اور واضح ہوجاتا ہے۔ حضورؐ نے بات کا آغاز اس طرح کیا کہ حلال بالکل واضح اور صاف ہے‘ اور حرام بھی واضح اور صاف ہے۔ جو چیزیں اللہ نے حلال کردی ہیں ان میں کسی شبہے کی گنجایش نہیں ہے اوران کو بیان فرمادیا ہے۔ حلال کے واضح ہونے کے معنی دراصل یہ ہیں کہ اس کے اندر کوئی شبہہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح شراب‘ جوا اور سود کے بارے میں بھی کوئی شبہہ نہیں پیدا ہوسکتا۔ یہ وہ حرام ہیں جوبالکل واضح ہیں۔ اسی طرح حلال بھی واضح ہیں۔ اس میں آپؐ نے  بیّنکا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ میرے فہم کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس قدر روشن اور کھلی بات ہے کہ اگر شرعی دلیل نہ بھی ہو تب بھی انسان اپنی عقل اور فطرت سے بھی حلال و حرام اور برا بھلا سمجھ سکتا ہے۔ یہ بات قرآن مجید میں مختلف انداز میں کئی جگہ بیان کی گئی ہے‘ مثلاً نیکی کو معروف کہا‘ یعنی وہ چیز جو انسان کی جانی پہچانی ہے اور برائی کو منکر کہا‘ یعنی وہ چیز جو انسان کے لیے اجنبی ہے۔ اس کی فطرت اس سے خود ہی کہتی ہے کہ یہ بات بری ہے۔ انسان نے کتنے ہی گناہ کیے ہوں‘ کتنی ہی برائیوں کے اندر پڑا ہو‘ کتنے ہی فلسفے بنائے ہوں لیکن انسانوںکی عظیم اکثریت آج تک اس بات پر متفق نہیںہوئی کہ کوئی نیکی جو مسلمہ نیکی ہو‘ برائی ہے اور کوئی برائی نیکی۔ دنیا میں کبھی قوموں نے مل کر اس بات کو نہیں مانا‘ یہاں تک کہ وہ قومیں جو دن رات شراب پیتی ہیں وہ بھی کہتی ہیں کہ شراب مضر ہے۔ جو سود کھاتی ہیں وہ بھی کہتی ہیں کہ سود کے اندر نقصان ہے‘ اور جو زنا کرتی ہیں وہ بھی اسے برا کہتی ہیں۔ زنا کی کوئی تعریف نہیں کرتا کہ زنا اچھی بات ہے۔ اس کو گوارا کرلیا گیا‘ اس کے لیے دلائل گھڑے گئے لیکن اگر آپ اسلاف کی تاریخ نکال کر پڑھیں تو کبھی بھی انسانوں کی اکثریت نے اس برائی کو اچھائی نہ سمجھا۔ ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں جن کا ذائقہ بگڑ جائے لیکن انسانوں کی بڑی اکثریت نے کبھی معروف نیکیوں کے برے ہونے پر اصرار نہیں کیا اور معروف برائیوں کے اچھے ہونے پر اصرار نہیں کیا۔

اس کا مطلب یہ ہواکہ جو آدمی ایمان کے راستے پر آئے گااور جس کے پاس سالم دل ہوگا جس کی اصلاح ہوچکی ہوگی وہ حرام اور حلال کی پابندی تو لازماً کرے گا۔ جو چیز روزِروشن کی طرح دِکھ رہی ہے اور بیّن ہے‘ جیسے سورج چمک رہا ہو‘ اور آدمی کومعلوم ہو کہ یہ راستہ میرے گھرکی طرف جاتا ہے تو پھر وہ دوسرے راستے پر کیوں جائے گا۔ یہ تو اس طرح سے بیّنات ہیں کہ جس کے دل میں ایمان کی روشنی ہے وہ ان میں سے کسی حلال کو نہ حرام کرسکتا ہے نہ حرام کو حلال۔

آپؐ نے ایک بات اور فرمائی: فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان ایک چیز اور ہے جو شبہے والی ہے۔ لَا یَعْلَمُوْنَھُنَّ کَثِیْرَ مِّنَ النَّاسْ‘ اکثر لوگ اس کوجانتے نہیں۔ شبہے والی چیزوں سے کیا مطلب ہے؟ یہ بڑااہم سوال ہے۔ شبہے والی چیزو ںسے یہ مراد ہے کہ وہ چیزیں جن کے بارے میں قرآن و سنت کے دلائل سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ واقعی حلال ہیں یا حرام‘ یا جس پر اختلاف ہوجائے۔ اس سے وہ چیزیں مراد نہیں ہیںجن کو اللہ تعالیٰ نے بالکل حلال کردیا ہے۔ اب آدمی خواہ مخواہ شبہہ پیدا کرے کہ پتا نہیں یہ پانی حلال ہے یا نہیں‘ یا پتا نہیں یہ جانور کھانے کے لائق ہے یا نہیں۔ اس قسم کے شبہات سے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے ہدایت کی گئی ہے کہ یہ سارے وسوسے ہیں‘ ان کے پیچھے مت پڑو۔ لیکن جہا ں پر شرعی دلائل کی بنیاد پر آدمی شبہے میں پڑجائے کہ یہ بات حلال ہے یا حرام‘اور آج کی موجودہ دنیا میں بے شمار نئی چیزیں پیدا ہوئی ہیں جن کے بارے میں شبہہ پیدا ہوا ہے‘ جن کو اکثر لوگ نہیں جان سکتے‘ اس کے لیے شریعت اور دین کاعلم ضروری ہے۔

فرمایا کہ جس نے اپنے آپ کو ان چیزوں سے بھی بچایا‘ یعنی مشتبہ چیزوں سے‘ اس نے اپنے دین کو شریعت کے لحاظ سے برا ہونے سے بچا لیا اور اپنی عزت کو دنیا کے اندر محفوظ کرلیا۔ یہ جو فرمایاکہ دین اور عزت دونوں کوبچالیا اور شبہے سے اپنے آپ کو بچایا‘ تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آدمی حرام اور حلال کی تو پروا نہ کرے اور جو چیزیں مشتبہ ہیں ان سے اپنے آپ کو بچائے۔ اس قسم کامضمون اور بھی بہت سی حدیثوں میں آیا ہے۔ مشہور حدیث قدسی ہے کہ ایک بندہ فرائض اداکرتے کرتے مجھ سے قریب ہو جاتا ہے اور وہ مجھے بہت محبوب ہے۔ پھر وہ نوافل بھی ادا کرتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں‘ اس کا کان بن جاتا ہوں‘ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ نوافل کا درجہ فرائض سے اونچا ہے بلکہ اس میںجوبات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب دل اتنا بیدار اورحساس ہوجاتا ہے کہ حرام اور حلال کی لازماً پابندی کرے تو وہ چیز جو مشتبہ ہو اس سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ جو آدمی بہت پاک صاف رہتا ہو اگر شبہہ بھی ہوجائے کہ کپڑوں پر گندگی کاداغ لگ گیا ہے تو وہ اس سے اپنے آپ کو بچائے گااور اسے صاف کرے گا۔ یہ دراصل دل کی اس کیفیت کااظہار ہے۔ یہ نہیں کہ مشتبہات کا درجہ حلال و حرام سے اونچا ہے۔ اصل چیز تو حلال و حرام سے بچنا ہے لیکن یہاں دل کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تقویٰ کی کیفیت ہے۔ جس کے اندر تقویٰ ہوگا‘ جس کا دل صالح اور سالم ہوگا تو وہ ان مشتبہات سے بھی دور رہے گا۔ فرمایا کہ اس طریقے سے اس کا دین بھی محفوظ ہوجائے گا اور اس کی عزت بھی محفوظ ہوجائے گی۔

دین کس طرح محفوظ ہوگا؟ اس کی تفصیل بھی یہ بتائی کہ جو مشتبہ چیزوں کے پیچھے جائے گا وہ بالآخر حرام میں پڑ جائے گا۔ یہ کس طرح ہوگا؟ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب آدمی ایک مشتبہ چیز کے پیچھے جائے گا کہ چلو یہ تو بہت چھوٹی بات ہے‘ اس کے بہت دلائل ہیں‘ توکل اس سے زیادہ مشکوک چیز کی طرف جائے گا‘ اور پرسوں اس سے بھی زیادہ مشکوک چیز کی طرف جائے گا اور بالآخر حرام کو بھی حلال ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ طبیعت کے اندر سستی پیدا ہوجائے گی۔ وہ طبیعت جس کو چست و چالاک ہونا چاہیے‘ کوئی ذرا سی بات ایسی نہ ہو جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہو‘ جواللہ کو ناپسند ہو‘ مشتبہات کرتے کرتے اس کی طبیعت کی حس کمزور پڑجائے گی اور جب یہ غائب ہوجائے گی تو پھر آدمی لازماً حرام کا بھی ارتکاب کر بیٹھے گا۔ اس لیے طبیعت کی چستی ضروری ہے۔

یہاں آپؐ نے بڑی خوب صورت مثال اور تشبیہ دی ہے۔ پرانے زمانے میں جو بادشاہ اور عرب قبائل کے سردار ہوتے تھے ان کو چراگاہیں بہت محبوب ہوتی تھیں‘ جہاں جانور چَرائے جاتے تھے۔ وہ بعض چراگاہوں کو اپنے لیے مخصوص کرلیتے تھے کہ اس کے اندر کوئی جانورنہیں لائے گا‘ کوئی نہیں چَرائے گا۔ اگر آئے گا تو سزا ملے گی۔ آپؐ نے فرمایا کہ جس طرح جب ایک مخصوص چراگاہ کے قریب کوئی جانور چر رہا ہو تو جب وہ اس کی چار دیواری کے پاس پہنچ جائے گاتو اس بات کا بھی امکان ہے کہ اندر سے لہراتا ہوا سبزہ  نظر آئے اور حرام کی ترغیب و کشش ہوگی تو وہ ممنوعہ چراگاہ میں بھی چرنے لگے۔قریب تو اس لیے آتا ہے کہ یہاں تک تو میں آسکتا ہوں لیکن پھر وہ اچانک احاطے کے اندر بھی داخل ہوجائے گا۔ اس کے لیے بخاری میں تو حدیث کے الفاظ ہیں کہ وہ احاطے میں داخل ہوجائے گا اور مسلم میں ہیں کہ یرتع یزنع۔ یہ آہستہ آہستہ چگنے کے معنوں میں آتا ہے۔ یوں وہ چگنا شروع کردیتا ہے۔ پھر آپؐ نے بہت ہی تاکید کے ساتھ اور بہت زوردار انداز میں کہا کہ ہر بادشاہ کے لیے ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اس ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو چراگاہ اپنے لیے مخصوص کرلی ہے جس میں کسی کو داخل نہیں ہونا چاہئے وہ محارمات ہیں جن کو اس نے حرام کردیا ہے۔ پھر فرمایا کہ الا وان فی الجسد مضغۃ‘  غور سے سنو کہ جسم میں گوشت کاایک ٹکڑا ہے۔ الاوھی القلب ‘ سن لو‘یہ دل ہے۔ آپؐ نے چار دفعہ الا کہا۔

حدیث کا باہم ربط

ان دونوں حصوں کے درمیان جو بظاہر غیر متعلق معلوم ہوتے ہیں‘ کیا ربط ہے؟ اس مسئلے سے محدثین اور علما نے کوئی بحث نہیں کی لیکن میں نے اس پر غور کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں کے درمیان بڑاگہرا ربط ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ دل کی زندگی کا انحصار اس پر ہے کہ آدمی اطاعت گزارہو۔ یہ سارے شیطانی وسوسے ہوتے ہیں کہ عمل سے یا عبادات سے کیا ہوتا ہے‘ اصل چیز تو دل کی نیکی ہے‘ اخلاق ہیں۔ دل کی فلاح‘ اچھائی اور سنورنا ہے۔ اس کاانحصار اس پر ہے کہ آدمی اللہ کی اطاعت کرے‘ حرام اور حلال میں تمیز کرے۔ اگر اس کی حس تیز ہو‘ دل زندہ ہو تو ان چیزوں سے بھی بچے جو حرام اور حلال کے درمیان ہیں‘ جن کے اندر شبہہ ہے۔ یہ توایک وجہ ہے دونوں کے درمیان ربط کی۔

دوسری بات یہ ہے کہ حرام اور حلال کی حدود کو ہم سب جانتے ہیں۔ آج آپ کسی مسلمان سے پوچھ لیں کہ حلال کیا ہے تو وہ آپ کو بڑے بڑے حلال بتادے گا۔حرام پوچھ لیں تو بڑے بڑے حرام گنوا دے گا۔ لیکن اس کے اندر اتنی استعداد اور قوت نہیں ہے کہ اپنے آپ کو حرام سے بچائے اور حلال کے راستے پر لے کر جائے۔ ابھی حال میں ایک سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ سیورریفل کے ٹکٹ کو کتنے لوگ اسلام کی رو سے جائز سمجھتے ہیں‘ تو سب نے کہا کہ یہ ناجائز ہے۔ پوچھا گیا کہ کتنے لوگوں نے ٹکٹ خریدا ہے‘ ہر دو میں سے ایک آدمی نے ٹکٹ خریدا ہوا تھا‘ یعنی علم تھا کہ یہ حرام ہے لیکن عمل اس سے مختلف ہے۔ لہٰذا یہ قوت‘ نفس کے اندر یہ استعداد جس سے آدمی شریعت کی عمارت کا بار اٹھاسکے اور احکام کابوجھ اپنے اوپر لے سکے اور اس عمارت کی پوری تعمیر شریعت پر کرسکے‘ اس کا سرچشمہ آدمی کا قلب اور اس کادل ہے۔ دل کے اندر اگر یہ ایمان اور یہ جذبہ ہوگا‘ یہ قوت اور استعداد ہوگی اور یہ کیفیت ہوگی تو پھر جو شریعت میں حلال و حرام طے کیا گیا ہے آج ہم اس کی پابندی کریں گے‘ اور اگر یہ نہیں ہوگی تو ہزار وعظ کہے جائیں‘ تقاریر کی جائیں‘ لیکن اگر دل کے اندر یہ نور نہیں ہوگا‘ یہ قوت نہیں ہوگی‘ یہ استعداد نہیں ہوگی تو حلال و حرام کتابوں میں لکھا رہے گا‘ وعظ کے اندر بیان ہوگا‘ علما کی زبان پر بھی ہوگا‘ غلط اور صحیح سب کو معلوم ہوگا لیکن عمل نہیں ہوگا‘ اور جب عمل مختلف ہوگا تو عمل کا اثر دل پر بھی پڑے گا۔

اب یہاں یہ حدیث ایک اور اہم مسئلہ طے کر رہی ہے۔ ہمارے ہاں شریعت اور طریقت کی اور ظاہر اور باطن کی مسلسل بحث چلتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ شریعت الگ چیز ہے‘ اور طریقت الگ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس حدیث میں دونوں کو ایک جگہ جمع کرکے اور جسم کی مثال دے کر رسولؐ اللہ نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ یہ تو ایک وحدت ہے۔ دل ہو یا شریعت‘ اندر کی زندگی ہو یا باہر کی‘ جس طرح دل کاتصور جسم کے بغیر نہیں ہوسکتا‘ اخلاق اور روح اور دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے کہاںباقی رہے گا اگر نماز‘ زکوٰۃ‘ روزہ اور حلال و حرام کی پابندی نہ ہو۔ اسی طریقے سے جسم کاتصور بھی دل کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں‘ ایک ہی چیز کا حصہ ہیں‘ ایک ہی چیز کے ٹکڑے ہیں‘ اور ایک دوسرے کے ساتھ بالکل مربوط ہیں۔ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ یہ حدیث بالکل واضح طور پر طے کردیتی ہے کہ انسان ایک وحدت اور ایک اکائی ہے۔ اس کادل و دماغ اور جسم سب یکساں ایک ہی طرح ڈھلے ہوئے ہیں۔ یہ بات قرآن نے بار بار کہی ہے کہ ظاہر کے اعمال کا اثر دل پر پڑتا ہے اور دل ظاہر کے اعمال کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر صحیح یا غلط راستہ پر لے جاتا ہے۔ فَلَمَّا زَاغُوْآ اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ط (الصّف ۶۱:۵)‘ یعنی جب لوگوں نے برائی کاراستہ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کوبھی ٹیڑھا کردیا۔ جب لوگوں نے اللہ کے ساتھ اطاعت اور بندگی کے اپنے عہد کو توڑ دیا تو ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ان کے اوپر لعنت ہے۔ ظاہر کے اعمال کا اثر دل پر اور دل کے اعمال کا ظاہر پر کیسے اثر ہوتا ہے‘ یہ بات روز مرہ مشاہدے میں آتی ہے۔ ہم روز اس بات کو دیکھتے ہیں کہ کوئی آپ کو گالی دے تو دل کی حرکت تیز ہوجائے گی‘ جبڑا اُوپر چڑھ جائے گا‘ کنپٹی سرخ ہوجائے گی۔ ایک ایک لفظ کااثر جسم پر پڑتا ہے۔ اگر کوئی آپ کی تعریف کردے تو دل کو بڑی راحت اور اطمینان محسوس ہوگا۔ باہر کی بات اور باہر کے اعمال کا اثر دل پر پڑتا ہے اور دل کا اثرباہر پڑتا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں کی فکر کرنے ہی سے انسانی زندگی درست اور صحیح راستے پر چلے گی۔یہ وہ بات ہے جس کی بنا پر اس حدیث کوبڑی عظیم حدیثوں میں شمار کیا گیا ہے۔ بعض محدثین نے تو یہ تک کہا ہے کہ جن تین یا چار احادیث پر پورے دین کی عمارت قائم ہے ان میں سے ایک حدیث یہ ہے۔

دل کی اصلاح

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دل کی اصلاح کا راستہ کیا ہے؟ اس سوال کا میں ایک مختصر جواب دے رہا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے پر پانی گرے تو اس کو زنگ لگ جاتا ہے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ جب آدمی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑجاتا ہے اور استغفار نہیں کرتا‘ توبہ نہیں کرتااور پھر گناہ کرتا ہے تو ایک اور داغ پڑ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پورے کا پورا دل زنگ آلود ہوجاتا ہے‘ پورے کاپورا سیاہ ہوجاتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ حضورؐ اس کاعلاج کیا ہے؟ دل کیسے صاف ہوسکتا ہے؟ فرمایا کہ کثرۃ ذکر الموت و تلاوت القرآن۔ یہ  بیہقی کی حدیث ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ موت کو کثرت سے یاد رکھو اور قرآن کی تلاوت کرو ۔اگر اِعراب تھوڑاسا بدل کر پڑھے جائیں تو اس کا ایک ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ موت کوبھی کثرت سے یاد رکھو اور قرآن کی تلاوت بھی کثرت کے ساتھ کرو۔ ان اعراب کے ساتھ حدیث میں روایت تو نہیں آئی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ ترجمہ بھی ممکن ہے۔ چنانچہ کثرت کے ساتھ موت کو یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا ہے‘ اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا یہ وہ چیزیں ہیں جن سے دل کی برائیاں دور ہوتی ہیں‘ زنگ دھلتا ہے‘ سیاہی صاف ہوتی ہے اور دل چمکتا ہے۔ اس کے اندر ایمان کا نور پیدا ہوتا ہے‘ اور اس سے پوری زندگی کی اصلاح ہوتی ہے۔ دل کا تعلق اللہ کے ساتھ قائم ہوجائے‘ اللہ کی یاد دل کے اندر بس جائے تو یہی چیز دل کو صحیح راستے پر لگاتی ہے۔

میرے بھائیو اور بہنو! اگر ہمیں اپنی زندگی کی تعمیر اس نقشے پر کرنا ہے جو نبی کریمؐ نے ہمیں دیا ہے تو ہمیں سب سے پہلے اسی چیز سے آغاز کرنا ہوگا۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم عمل کو چھوڑ دیں گے۔ یہ میں نے بالکل واضح کردیا ہے‘ جیسا کہ حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عمل بھی ساتھ ساتھ ہوگا‘ لیکن دل نقطہء آغاز ہے۔ اس میں اللہ کی محبت‘ اس کاخوف‘اس پر یقین و بھروسا‘ اچھے خیالات کو اگر آپ پروان چڑھائیں گے تو دل میں زندگی پیدا ہوگی۔ دل میںزندگی پیدا ہوگی تو آپ کے اندر وہ قوت اور استعداد آئے گی جس سے آپ اللہ کی اور اس کے نبیؐ کی راہ پر چل سکیں گے۔

جب ڈوری بہت زیادہ الجھ جائے تو آپ کوشش یہ کرتے ہیں کہ اس ڈوری کاکہیں سے سرا پکڑ لیں تو پھر آہستہ آہستہ پوری ڈوری کھلتی چلی جاتی ہے۔ آج ہماری زندگی اس ڈوری کی طرح بہت ساری گرہوں میں الجھ گئی ہے۔ معیشت میں‘ سیاست میں‘ معاشرت میں‘ روزمرہ کی زندگی میں‘ اپنی نفسیاتی زندگی میں‘ معاشرتی زندگی میں‘ گھر میں‘ غرض بے شمار گرہیں ہیں جو زندگی کی اس ڈوری کے اندر پڑچکی ہیں۔ ہم کو کہیں سے اس سرے کو پکڑنا ہے۔ پکڑ کر بیٹھ ہی نہیں جانا بلکہ پوری رسی کو کھولنا ہے۔ انسان کا سرا‘ اس کا دل ہے۔ جب بھی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ ڈوری ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے اور زندگی ہمارے ہاتھ سے نکل کر خرابی کے راستے پر چل نکلی ہے تو پھر ہمیں واپس جاکر وہیں سے اپنے کام کو شروع کرنا چاہیے‘ اس کی نگرانی کرناچاہیے‘ اس پر نگاہ رکھنا چاہیے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن کی ہمیں فکر کرنا چاہیے۔ دن میںجتنی بار بھی ممکن ہو اس بات کو یاد کریں کہ اللہ سے ملاقات کرنا ہے اور جتنا وقت بھی اللہ توفیق دے اس کی کتاب کی تلاوت کریں۔ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اس لیے کہ قرآن مجید کابیشتر حصہ دراصل موت کی یاد دلاتا ہے اور موت کے بعد کی زندگی کی تیاری کی دعوت دیتا ہے۔ گویا یہ دونوں چیزیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔

یہ ایک عظیم الشان حدیث کامفہوم ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)