خرم مراد


اس دنیا میں ہماری زندگی ایک حقیقت ہے، اور جتنی بڑی حقیقت دنیا کی یہ زندگی ہے،  اتنی بڑی حقیقت یہ ہے کہ اس زندگی کو لازماً ختم ہوجانا ہے۔ کسی بات کے بارے میں بھی بحث، گفتگو یا اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اس بارے میں کوئی اختلاف یا بحث کی گنجایش نہیں ہے کہ یہ زندگی ختم ہوگی___ یہ بڑی واضح اور اٹل بات ہے۔ اور پھر جتنی بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ زندگی اللہ کی بخشی ہوئی ہے اور اسی نے اس کو پیدا کیا ہے، اتنی ہی بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ مخلوق کی خالق سے ملاقات ہوگی۔ اس سے ملاقات نہ ہو تو یہ سارا سلسلہ محض ایک واہمہ اور ایک تخیل بن کر رہ سکتاہے___ اللہ موجود ہے، وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور  یہ کہ واقعی وہ ہے، اس کی آخری تصدیق اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس سے ملاقات ہو۔ ساری زندگی اللہ کی بندگی اور اس کی غلامی میں گزارنے کے لازمی معنی یہ ہیں کہ موت کے بعد آنے والی زندگی میں اس سے ملاقات ہو، اور اس کی بندگی اور غلامی کی راہ میں جو ہماری کوششیں ہوں، ان کو وہ قبول فرمائے اور وہ اس کی خوشنودی اور اس کی رضامندی کی مستحق ٹھیریں۔ پس جو آدمی اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان کا دعویٰ کرے، اس کو ان دونوں کو ملا کر چلنا ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ پر ایمان کا دعویٰ آخرت کے یقین کے بغیر، عملی زندگی میںکوئی وزن نہیں رکھتا۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم نے جس ہستی کو ہر جگہ محسوس کیا ہو، ہر جگہ پایا ہو، موت کے ساتھ ہی اچانک وہ ہم سے لاتعلق ہوجائے۔ اگر اللہ سے ملاقات، آنے والی زندگی، اس کا احتساب، اس کی رضا اور اس کا انعام، یہ ساری چیزیں حقیقت نہ ہوں تو پھر بندگی، اطاعت، اس کی راہ میں جان لڑانے اور جہاد فی سبیل اللہ کے معنی کیا رہ جاتے ہیں، بلکہ وہ آدمی بڑا احمق ہے جو نیکی کرے اور یہ یقین  نہ رکھتا ہو کہ آخرت میں اللہ سے ملاقات ہونی ہے، یعنی خدا کو مانتا ہو، آخرت کو نہ مانتا ہو۔  صاحب ِ ایمان تو صاحب ِ شعور بھی ہوتا ہے، اور ایمان کو بہرطور کامل ہونا چاہیے۔ یہی شعور کا تقاضا ہے___ یہ بنیادی مقدمات ہیں، جنھیں ذہن میں صاف ہونا چاہیے۔

  •  چند بنیادی پھلو: اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ آخرت پر ایمان کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی ساری زندگی، یہاں کی ساری کوششوں، ہرچیز، ہربات، ہر کاوش اور ہرقدم کا محور آخرت ہو۔ یہ ایمان بالآخرت ہے اور جتنا یہ ایمان مضبوط ہوگا، اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارا تعلق بھی مضبوط ہوگا۔ خود اللہ تعالیٰ نے بار بار دونوں کو ایک دوسرے سے مربوط کیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ عبادت، غلامی اور بندگی کی دعوت جہاں بھی آئی ہے اس میں آخرت کو مطلوب و مقصود قرار دینے اور اس کی کامیابی کو سمجھ کر جینے کی دعوت بھی شامل ہے۔    انبیا علیہم السلام کی ساری دعوت کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ زندگی اگر غلامی میں بسر کرنا ہے تو یہ سمجھ کر بسر کرو کہ جب اس سے ملاقات ہوگی تو وہی اس فیصلے کا دن بھی ہوگا کہ ہم نے فی الواقع زندگی  اس کی غلامی میں بسر کی یا نہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہمیں ایک مشکل کا سامنا ہے___ دنیا ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس کو ہم دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں۔ اس کی لذات سے ہم آگاہ ہیں۔ اس کی تکالیف سے اور درد اور الم کی کیفیات سے گزرتے ہیں۔ یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار ممکن نہیں ہے۔ آخرت ایک وعدہ ہے، نگاہوں سے اوجھل ہے۔ اس کی لذتیں ہم محسوس نہیں کرتے۔ دیکھتے نہیں، سنتے ہیں کہ وہ ایسی ہوں گی۔ اس کی تکلیفوں سے ہم واقف نہیں ہیں۔ اور یہ ہماری فطرت ہے کہ ہم کل کے اُوپر آج کو، دُور کے مقابلے میں قریب کو، اور غیرمحسوس چیز کی جگہ محسوس چیز کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ معاملہ دنیا اور آخرت کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ خود دنیا میں ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ کل آنے والی چیز اور کچھ مدت بعد ملنے والی شے کو ہم ٹال دیتے ہیں اور جو چیز فوری طور پر مل رہی ہو، اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ فی الحقیقت ہمارے امتحان کا ایک حصہ ہے۔

  •  دنیا کو ترجیح دینا: دنیا کی محبت، اس کے اُوپر راضی ہوجانا اور اسی کو مقصود بنانا ایک ایسی بیماری ہے، جو اللہ کی راہ میں اُٹھنے والے ہرقدم اور کوشش کو گھُن کی طرح کھا جاتی ہے۔یہ یقین کہ اللہ سے ملاقات ہونی ہے اور اسی کو مطلوب و مقصود بنانا ہے وہ چیز ہے جس سے ان سارے مراحل کو طے کرنے کے لیے، جو راہِ حق میں پیش آتے ہیں، صحیح قوت اور طاقت پیدا ہوتی ہے۔

یہ بیماری کہ آدمی دنیا کو ترجیح دے، دنیا سے محبت کرے، نقد کو حاصل کرے، اُدھار کو ٹال دے اور آج جو کچھ ہے اس کو قیمتی جانے، اور جو کچھ کل آنے والا ہے اس کو محسوس نہ کرے___ یہ جس طرح کافروں کے ساتھ لگی ہوئی ہے اسی طرح ان کے ساتھ بھی لگی رہتی ہے جو ایمان کی راہ پر آتے ہیں۔ ایک ہی دنیا ہے۔ کافر بھی اس میں رہتے ہیں اور مسلمان بھی اسی میں رہتے ہیں۔ دونوں کو ایک ہی قسم کے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔

جہاں جہاں بھی مسلمان ایمان کے دعوے میں اور اس کے تقاضے پورے کرنے میں کمزوری دکھاتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے اس بیماری کی نشان دہی کردی ہے۔ یہ دراصل دُکھتی رگ ہے اور ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ غزوئہ بدر ہوا تو فرمایا: تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا (الانفال ۸:۶۷) ’’تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو‘‘۔ غزوئہ اُحد میں ڈسپلن کی کمزوری ظاہر ہوئی تو فرمایا: مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ، (اٰل عمرٰن ۳:۱۵۲) ’’تم میں سے بعض دنیا کے طلب گار تھے اور بعض آخرت کے طلب گار تھے‘‘۔ غزوئہ تبوک میں جن لوگوں نے کمزوری دکھائی ان کا ذکر سورئہ توبہ میں یوں ہوا: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تمھیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا؟ ایسا ہے تو تمھیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا‘‘ (۹:۳۸)۔ گویا ہرجگہ ایک ہی بات کہی گئی۔ ایسے معاملات میں خرابی کی جڑ یہ دنیا کی محبت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بگڑی ہوئی مسلمان اُمتوں کو اپنی طرف بلایا تو اس میں اس بات کو بنیادی اہمیت دی کہ ہر وہ چیز جس سے آخرت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس کمزور ہوتا ہو، یا جس سے دنیا کی محبت ظاہر ہوتی ہو، اس کو ختم کیا جائے، اس کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جائے۔

  •  دعوت کا مرکزی نکتہ: سارے پہلوئوں کو سامنے رکھیں تو یہ بات صاف اور واضح ہوجاتی ہے کہ حق کی راہ پر چلنے میں، خود اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی، ایک ہی چیز مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور اسی سے ہمارے اندر قوت، استقامت اور استعداد پیدا ہوگی کہ جن لوگوں کو ہم منظم کر کے اسلامی انقلاب کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں ان کے اندر دنیا کی محبت کم ہو، آخرت کی محبت اور آخرت کا خیال زیادہ ہو، اور جو موت سے خوف زدہ نہ ہوں۔

ہماری دعوت کے اندر اس کی حیثیت ایک مرکزی نکتے کی ہونی چاہیے۔ جب دنیا کی محبت دل سے نکل جائے گی اور آخرت کی طلب دل کے اندر ڈیرہ ڈال لے گی اور وہاں کی کامیابی ہی اصل کامیابی ٹھیرے گی تو ہمیں صحیح عمل کرنے کے لیے یقین اور قوت بھی حاصل ہوگی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جن عوام کو ہم پکارتے ہیں اور جن کی عدم توجہی کی ہم شکایت کرتے ہیں، ان کے بھی سارے امراض کا علاج اسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عوام کو بھی پکارا اور جب بھی پکارا تو یہی پکارا کہ وہ ایسے فریب اور دھوکے سے باہر نکل آئیں جو ان کو نیک عمل سے غافل کرتے ہیں۔

یہ حدیث آپ کی بار بار کی سنی ہوئی ہوگی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ ایک وقت آئے گا دنیا کی قومیں اس اُمت کے اُوپر اس طرح سے ٹوٹ پڑیں گی جس طرح سے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں، تو صحابہؓ نے پوچھا کہ کیا ہم تعداد میں بہت کم ہوجائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، تمھاری تعداد تو ریگستان کے ذروں اور درخت کے پتوں کی طرح ہوگی۔ انھوں نے کہا: پھر کیا وجہ ہوگی، تو آپؐ نے فرمایا: تمھارے اندر وہن پیدا ہوجائے گا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا: وہن کیا ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت___ گویا جب یہ پیدا ہوجائے تو انسانوں کی ساری استعداد اور قوت ختم ہوجاتی ہے، اور اگر انسان میں وہن نہ رہے تو اس کی جدوجہد اور اس کے عمل میں نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس نکتے سے غافل ہوکر جو کوششیں ہوں گی، ہوسکتا ہے وہ پوری طرح بارآور نہ ہوں۔

  •  آخرت کے لیے یکسوئی: اس کی اہمیت سمجھ لینے کے بعد___   دوسری جس چیز کا مطالبہ ہے وہ یہ ہے کہ ہم آخرت کویکسوئی کے ساتھ منتخب کریں، اور یکسوئی کے ساتھ اس کے حصول کا ارادہ کریں۔ دنیا اور آخرت دونوں میں سے کسی ایک کو آدمی منزل بناسکتا ہے۔ دونوں کو ایک جیسا مقام نہیں دے سکتا۔ قرآن نے اس بات کو بہت واضح انداز میں کہا ہے کہ آدمی اپنے ارادوں کو کبھی دو حصوں میں نہیں بانٹ سکتا۔ وہ یہ نہیں کرسکتا کہ دونوں کو مقصود بنا کر چلے۔ قرآن نے کہا ہے کہ جو آخرت کو مطلوب بنائے گا اس کو آخرت ملے گی، اور جو دنیا کو مقصود بنائے گا اس کو دنیا ملے گی اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ انسان دنیا اور آخرت کو بیک وقت مقصود بناکر نہیں چل سکتا۔ دو کشتیوں میں پائوں رکھ کر وہ زندگی کے سمندر میں تیر کر آخرت تک نہیں پہنچ سکتا۔

اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جو آدمی آخرت کو مقصود بنائے وہ دنیا سے دستبردار ہوجائے گا___  مطلب یہ ہے کہ دنیا اس کے لیے مطلوب، محبوب اور مقصود کی حیثیت نہیں رکھے گی بلکہ یہ آخرت کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہوگی۔ اس کی رشتہ داریاں، اس کی دوستیاں، اس کی محبتیں، اس کی جدوجہد، سب ایک ذریعے کی حیثیت اختیار کرجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کو بار بار واضح کیا ہے، مختلف مثالوں سے سمجھایا ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ آخرت کو مطلوب ہونا چاہیے، کئی جگہ بتایا ہے کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے، آخرت کی حقیقت کیا ہے، دنیا سے کیا ملتا ہے، آخرت کیا دیتی ہے، اور اس لیے ان دونوں میں سے کس چیز کو تمھیں اختیار کرنا چاہیے۔ دنیا کا نفع دنیا کی چیزیں ہیں، مثلاً مال، اولاد، جاہ و حشمت، مقبولیت۔ دوسری طرف آخرت کا فائدہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، اور وہاں کا نقصان اس کی طرف سے دیا ہوا عذاب ہے۔

دنیا اور آخرت کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے مختلف پہلوئوں سے واضح کیا ہے۔ ان میں پہلی بات یہ ہے کہ دنیا کی ہرچیز، نعمت ہو یا تکلیف، گزر جانے کی چیز ہے۔ چونکہ وقت نہیں ٹھیرسکتا، اس لیے تکلیف بھی نہیں ٹھیرسکتی اور آرام بھی نہیں ٹھیرسکتا۔ اب اس صورت میں کہ وقت کا گزرنا یا   رُک جانا ہمارے بس میں نہیں ہے، ہم اس کو روک کے نہیں بیٹھ سکتے۔ اس لیے یہاں کی خوشی، یہاں کا آرام، یہاں کی تکلیف، یہاں کا الم، اور یہاں کا درد، یہ سب چیز گزر جانے والی ہیں۔ یہ ہمارا روز کا تجربہ ہے کہ خوشی کا بڑا انتظار رہتا ہے۔ ہم اس کی تمنا ہی نہیں کرتے، خواب دیکھتے ہیں۔ خوشی آتی ہے اور بالآخر گزر جاتی ہے۔ تکلیف سے ہم ڈرتے رہتے ہیں۔ تکلیف بڑھتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی اب گزر ہی جائے گی۔

  •  ایک اٹل حقیقت: دنیا کے ساتھ ایک عجیب معاملہ ہے کہ اس کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ٹھیرنے والی ہو۔ ہر بات موت کے ساتھ بالکل ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی۔ اس خاتمے کو ٹالا نہیں جاسکتا اور موت سب کے لیے ہے، کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ (اٰل عمرٰن ۳:۱۸۵)۔ لیکن آخرت میں جو کچھ ہے، اس کا تعلق دنیا کے وقت سے نہیں ہے۔ اس کے وقت کا پیمانہ الگ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں ہمیں ہماری زبان میں جو کچھ سمجھایا ہے اس میں اسی بات پر زور دیا ہے کہ وہاں کی ہرچیز باقی رہنے والی ہے، کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔

دنیا کی مثال تفصیل کے ساتھ دو تین جگہ دی گئی ہے۔ ایک جگہ فرمایا کہ دنیا کی مثال ایک بارش کی سی ہے۔ بارش ہوتی ہے، فصل اُگتی ہے، ہری بھری ہوتی ہے، بہار آتی ہے، اس کے بعد زرد پڑتی ہے اور چورا چورا ہوکر زمین کے اندر مل جاتی ہے۔ سورئہ کہف میں، سورئہ حدید میں اور سورئہ یونس میں تین جگہ اس مثال کے مختلف پہلو مختلف انداز سے اُجاگر کیے گئے ہیں۔ ان سب میں یہی بتایا گیا ہے کہ جس طرح کھیتی باڑی ہوتی ہے، انسان کھیتی کرتا ہے، وہ کچھ نتائج دیکھتا ہے لیکن پھر بالآخر سب کچھ مٹی میں مل جاتا ہے۔ دنیا کے معاملات اسی طرح ہیں۔

آخرت کے بارے میں یہ بات بالکل صاف کہی گئی ہے کہ وہاں پر موت نہیں آئے گی۔ عذاب ہوگا تو وَ یَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّ مَا ھُوَ بِمَیِّتٍ ط (ابراہیم ۱۴:۱۷) ،یعنی وہ عذاب تو ایسا ہوگا کہ جیسے ہر طرف سے موت آرہی ہے مگر انسان مرنے نہ پائے گا۔ دنیا میں جب درد و الم بہت بڑھتا ہے تو آدمی یہ آرزو کرتا ہے کہ بس اب موت آجائے تاکہ یہ درد و اَلم ختم ہو اور موت آبھی جاتی ہے، اور درد و اَلم ختم ہو بھی جاتا ہے۔ لیکن وہاں کا عالم ایسا ہے جو موت ہی کی طرح ہوگا کہ موت آرہی ہے، لیکن آدمی مرے گا نہیں۔ یہ عذاب کی بڑی تکلیف دہ صورت ہوگی۔ لیکن انعام پانے والے بھی ایک موت کے بعد کسی دوسری موت کا مزا نہیں چکھیں گے۔

  •  یقینی نتائج:دوسری بات جو اللہ تعالیٰ نے آخرت اور دنیا کے موازنے میں کہی ہے وہ یہ ہے کہ آخرت کے لیے کوشش کے نتائج یقینی ہیں۔ آخرت کے لیے کوشش رائیگاں نہیں جاسکتی۔ اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ آدمی خلوص کے ساتھ آخرت کے لیے کوشش کرے اور وہ ضائع ہوجائے اور اس کا اجر اس کو نہ ملے۔ لیکن دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی کوشش کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ آدمی بہت محنت کرے اور پھر بھی ممکن ہے کچھ حاصل نہ ہو، یا تھوڑی محنت کرے اور ممکن ہے بہت زیادہ مل جائے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر آدمی جو کوشش کرے گا اس کو اس کا پھل ضرور ملے گا، بلکہ کسی کو مل سکتا ہے اور کسی کو نہیں ملے گا۔ گویا دنیا کے نتائج غیریقینی بھی ہیں، کم اور زیادہ بھی ہوسکتے ہیں، اور ہرشخص کو ملنا ضروری بھی نہیں ہیں۔ لیکن آخرت کے بارے میں یہ بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ کسی شخص کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو ضائع جائے گا، بلکہ ارشاد ہے کہ جو کچھ عمل ہوگا اس سے زیادہ کا بھی وعدہ ہے، ہماری طرف سے۔
  •  کثرت کی ھوس: اب ایک اور پہلو سے دیکھیں۔ سورئہ حدید میں ایک پوری آیت میں دنیا کو زینت بھی کہا گیا ہے، تکاثر بھی کہا گیا ہے۔ ان میں سے ہر لفظ کے اندر دنیا کے نتائج کی ایک قدروقیمت کو واضح کیا گیا ہے۔ سجاوٹ اور زینت صرف ظاہری ہوتی ہے۔ آپ باہر سے ایک چیز کو سجاتے ہیں۔ سجاوٹ کے معنی یہ ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ اندر سے اس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ زینت اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ تو ظاہر کی سجاوٹ ہے۔ اچھا لباس ہے، اچھا مکان ہے، اچھی گاڑی ہے،  یہ سب کچھ ہے، لیکن یہ سجاوٹ ہے۔ اس کی کوئی اندرونی قدروقیمت نہیں ہے۔ تکاثر کے معنی یہ ہیں کہ اس میں ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت ہے اور مسابقت کے ساتھ حسد اور جلن اور کش مکش کی جو برائیاں ہیں وہ بھی ساتھ ساتھ آتی ہیں۔ تکاثر کے معنی ہیں: زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی ہوس۔ یہ دنیا کی بھوک ہے جس سے کبھی آدمی سیر نہیں ہوتا۔ یہ وہ پیاس ہے کہ ایک گھونٹ پی کر اور بڑھتی ہے، اور بڑھتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ آدمی اس کو اور حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
  •  متاعِ غرور: دنیا کے یہ مختلف پہلو یہاں کے نتائج اور ان کی قدروقیمت کو واضح کرتے ہیں۔ قرآن حکیم انھی نتائج کو بیان کر کے تصریح کرتا ہے کہ یہ متاع ہے اور متاع الغرور ہے۔ غرور کے معنی دھوکے کے ہیں۔ سارے دھوکے اس کے اندر شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں آخرت کو خیر کہا ہے کہ یہ بہتر بھی ہے، باقی رہنے والی بھی ہے، اور یہاں خوف و حزن اور اَلم سے نجات بھی ہے۔ آخرت کے بارے میں وعدہ ہے کہ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ (البقرہ ۲:۳۸) ’’نہ ان پر خوف ہوگا نہ کسی قسم کے غم کا شکار ہوں گے‘‘۔ اور نہ وہاں پر یہ مسابقت ہوگی کہ اس کو اتنا مل گیا۔ ایسی کوئی چیز مالک کی خوشنودی پانے والوں کے درمیان نہ ہوگی۔

قرآنِ مجید نے دنیا کو اس لحاظ سے اہم قرار دیا ہے کہ آخرت کی پوری راہ دنیا سے ہوکر جاتی ہے۔ یہی راہ، یہی مال، اور یہی نعمتیں آخرت کے حصول کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اسی لیے دنیا کے مال کو خیر بھی کہا گیا۔ اس میں کوئی تضاد نہیں۔ اگر یہی مال آخرت بنانے کے لیے استعمال ہو تو یقینا وہ خیر ہے۔ گویا یہ دو دھاری تلوار ہے۔ جو اس کے پیچھے چلتا ہے وہ برباد ہوگیا، اور جس نے اس کو اپنے پیچھے چلایا اور آخرت کی منزل کی طرف لے گیا تو وہ کامیاب ہوگیا۔ جو انسان ان حقائق سے واقف ہو، اس کو اپنی منزلِ مقصود آخرت ہی کو قرار دینا چاہیے۔ لیکن اگر یہ سب کچھ چھوڑ کر آپ دنیا کو مقصود بنائیں اور اس کے پیچھے دوڑیں تو آپ خود ہی سوچیں کہ اس سے بڑی غلطی کیا ہوسکتی ہے۔

  •  اس سے پھلے کہ موت آجائے! اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمیں دنیا استعمال کرنے کی جو مہلت ملی ہوئی ہے وہ ایک مختصر مہلت ہے۔ ایک تو یہ مختصر ہے اور دوسرے اس کے اختتام کا علم ہمیں نہیں ہے۔ یہ اختتام آج بھی ہوسکتا ہے اور کل بھی، برسوں بھی لگ سکتے ہیں اور دنوں میں بھی بات ختم ہوسکتی ہے۔ ماہ و سال کی جو مقدار بھی ہو، اس مدت کو مختصر ہی قرار دینا پڑتا ہے۔ لہٰذا نہ صرف یہ کہ یہ مدت مختصر ہے بلکہ ہمیں اس مختصر مدت کے نہ اختتام کا علم ہے اور نہ جگہ کا۔ موت کے بارے میں قرآنِ مجید نے جو تعلیمات دی ہیں، ان سے دراصل یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موت ڈرنے اور خوف کھانے کے لیے نہیں ہے۔ بجاے اس کے کہ ہم موت سے ڈریں اور خوف کھائیں کہ جس سے ڈرنے اور خوف کھانے کا کوئی نتیجہ نہیںہے، سواے اس کے کہ بالآخر موت آئے گی، جو کچھ موت کے بعد پیش آنے والا ہے، ہم اس کی فکر کریں۔

یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ مہلتِ عمل مختصر بھی ہے اور یہ بغیر کسی نوٹس کے ختم ہونے والی بھی ہے۔ اور یہ بھی دعوت دی گئی ہے کہ ا س سے پہلے کہ وہ وقت آئے جب تم دنیا سے رخصت ہو، اس سے پہلے ہی اس کی تیاری کرلو۔ یہی دعوت اس انداز سے بھی دی گئی ہے کہ اس سے پہلے کہ تم کو پکڑ لیا جائے اور موت تمھارے اُوپر آجائے، اس مہلت سے فائدہ اٹھا لو۔ اس لیے کہ اس کے بعد پھر کوئی اور عمل کی مہلت نہیں ہوگی۔

اگر آخرت مقصود بن جائے تو پوری دنیا کا رُخ متعین ہوجاتا ہے۔ شادی ہو، عائلی زندگی ہو، کیریئر ہو، اولاد ہو، کارخانے ہوں، کھیت ہوں، پیداوار ہو، تجارت اور مالِ تجارت ہو،  بنک بیلنس ہو، سب چیزیں موجود ہوں گی اور آدمی کا ان سے تعلق بھی یقینا ہوگا۔ لیکن اب سب سے برتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہی اس کی منزلِ مقصود ہوگی۔ یہی طاقت کا اصل سرچشمہ اور قوت کا اصل منبع ہے۔ (ایک خطاب کی تلخیص)       (کتابچہ منشورات سے دستیاب ہے، منصورہ، لاہور)

 

شیطان کا ابن آدم کو چیلنج ہے کہ وہ دائیں اور بائیں اور سامنے اور پیچھے سے حملہ آور ہوگا اور اللہ کے مخلص بندوں کے سوا ہر کسی کو اپنے جال میں پھنسا لے گا۔ ایک ہی مقصد کے لیے اور ایک ہی ہدف پر بار بار حملے کرنا بھی شیطان کے طریق کار کا تیر بہدف ہتھیار ہے۔ ہٹلر کے وزیراطلاعات گوبلز نے بھی شیطان کے اس کھیل کا ایک پہلو اپنے اس حربے کی شکل میں بنالیا تھا کہ ایک جھوٹ کو اتنی بار دہرائو کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں۔ آج کی استعماری قوتیں اور ان کے  آلۂ کار انھی تمام حربوں کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں اور ان کا ایک خاص نشانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک اور اسلام کے تصورِ عدل اور جہاد ہیں۔ اپنی اصل کے اعتبار سے اعتراض بہت پرانا ہے اور اتنا گھسا پٹا ہے کہ تعجب ہوتا ہے کہ شیطانی قوتیں ان چلے ہوئے کارتوسوں کو باربار کس دیدہ دلیرہ سے استعمال کر رہی ہے۔ لیکن چونکہ یہ حملے برابر جاری ہیں اور ایک ہی ڈراما ہے جس کو تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد دہرایا جاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام اعتراضات کا جواب بار بار دیا جائے اور تمام ریشہ دوانیوں کا پردہ ہربار چاک کیا جائے۔

آج جو کھیل آسیہ مسیح کے نام پر کھیلا جارہا ہے وہ اس سے مختلف نہیں جو چند سال پہلے گوجرانوالہ میں رچایا گیا تھا۔ اس موقع پر مدیر ترجمان القرآن اور میرے بھائی  خرم مرادؒ نے ’توہین رسالتؐ کا مقدمہ‘ کے عنوان سے ایک گراں قدر مقالہ لکھا تھا جس میں مسئلے کے تمام پہلوئوں کا بڑے مدلل انداز میں اور کمالِ عدل کے ساتھ احاطہ کیا گیا تھا۔ آج یہ بحث ایک بار پھر برپا کردی گئی ہے اور پوری سیکولر لابی یک زبان ہوکر توہینِ رسالتؐ کے مبنی برحق قانون پر حملہ آور ہوگئی ہے تو ہم نے ضروری سمجھا کہ ایک بار پھر بطور تذکیر اس مقالے کو قارئین ترجمان کے سامنے لائیں، اور ترجمان کے ذریعے پوری قوم اور خود معتبرین کو اس کے مندرجات پر کھلے دل اور دیانت سے    غور کرنے کی دعوت دیں۔ اس ماہ کے ’اشارات‘ بھی تازہ واقعے اور اس کے تعلق سے اُٹھائے جانے والے سوالات سے متعلق ہیں جو برادر عزیز ڈاکٹر انیس احمد کے قلم سے ہیں۔ ’اشارات‘ اور یہ مضمون اس وقت کی بحث کا کافی و شافی جواب فراہم کرتے ہیں  ع

شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات

___  پروفیسر خورشید احمد

توہینِ رسالتؐ کا حالیہ مقدمہ ،معمول کے مطابق محض جرم و سزا کا ایک مقدمہ ہوتا تو کوئی بات نہ تھی۔ اگر دونوں ملزم بے گناہ تھے، یا ان کا جرم شرعی معیار شہادت کے مطابق ثابت نہ ہوسکا تھا، یا اس میں کوئی ادنیٰ سا بھی شبہہ تھا، تو حق و انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ ان کو بری کردیا جاتا۔ اس حق و انصاف اور رحم و درگزر کا، جس کی تعلیم ہمیں اسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، جس کی توہین کا یہ مقدمہ تھا، جس نے بدترین دشمن کے ساتھ بھی عدل و رحم کا برتائو کیا ہے، اور ہر قیمت پر عدل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ تو ہمارے معاہد اور برابر کے شہری تھے، مگر پورے مقدمے کے دوران جس طرح اور جس پیمانے پر طاقت ور بیرونی اور اندرونی قوتیں اثرانداز ہوتی رہیں، اس نے مذکورہ مقدمے کو ایک غیرمعمولی نوعیت دے دی ہے۔ اس نے توہینِ رسالتؐ کے معاملے کو ہمارے مقدر کا، ہمارے حال اور مستقبل کا ایک آئینہ بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ملزمان کی برأت بھی مشتبہ ہوگئی ہے، جو یقینا ان کے ساتھ ایک بے انصافی ہوئی ہے۔

اس آئینے میں وہ ساری کھلی اور چھپی صورتیں بالکل بے نقاب ہوگئی ہیں، جو آج ہمارے مستقبل کی نقشہ گری اور ہمارے مقدر کے بنانے اور بگاڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان صورتوں میں، اندرونی بھی ہیں اور بیرونی بھی ، تہذیبی بھی ہیں اور سیاسی بھی، فکری بھی ہیں اور ابلاغی بھی۔ اس آئینے میں ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری بربادی کے مشورے کہاں ہو رہے ہیں، جنگ کا نقشہ کیا ہے، محاذ کہاں کہاں کھولے جارہے ہیں، مورچے کہاں کہاں بنائے گئے ہیں، چالیں کیا کیا چلی جارہی ہیں، دُور مار توپیں کدھر کدھر سے گولہ باری کر رہی ہیں، ہتھیار کون کون سے استعمال ہو رہے ہیں، پیش قدمی کن کن راستوں سے ہو رہی ہے، اندر کون کون ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، عزائم کیا ہیں اور اصل ہدف کیا ہے؟___ اور یہ بھی کہ ___ ہماری قوت کا اصل راز کیا ہے، ہم بازی کیسے پلٹ سکتے ہیں، بلکہ جیت سکتے ہیں۔

l ایک چہرہ مغرب کا ہے، اس کے حکمرانوں، اہل کاروں اور سفارت کاروں اور ذرائع ابلاغ کے سحرکاروں کا چہرہ، جو پورے مقدمے کے دوران تیز تیز چلتے، بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے رہے۔   یہ چہرہ اب کچھ ایسا ڈھکا چھپا بھی نہیں رہا۔ ذرا موقع نکلتا ہے، فوراً اُوپر سے تہذیب، روشن خیالی اور انسانی ہمدردی کا چھلکا اتر جاتا ہے، اور نیچے سے وہی مسلمان اور اسلام کی دشمنی کا چودہ سو سال پرانا رویہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت اور غصہ ٹپکاتا ہوا چہرہ نمودار ہوجاتا ہے۔

 سیکولرازم اور انسانی حقوق کی علم بردار ریاستیں بالآخر محض ’عیسائی‘ ریاستیں ثابت ہوتی ہیں، جو ہر ملک کے ملکی قوانین کے خلاف ’عیسائی حقوق‘ کے لیے سرگرم ہوجاتی ہیں۔ فلسطین ہو یا بوسنیا، کشمیر ہو یا چیچنیا، الجیریا ہو یا فرانس___ چہرہ روشن، اندرون چنگیز [۹ لاکھ ۴۰ ہزار انسانوں کا قاتل تاتار حکمران۔ م: ۱۲۲۷ئ] سے تاریک تر۔ مغرب کی یہ قوتیں ہمارے ہاں تہذیبی اور سیاسی غلبہ رکھتی ہیں، ہماری قسمت کے ساتھ کھیل رہی ہیں، یہاں تک کہ اب ہمارا ایک قانون اور ہمارے دو شہریوں کے خلاف، ہماری عدالت میں ایک مقدمہ بھی ان کے غلبے سے آزاد نہیں۔

l ایک چہرہ مغرب کے فرزندوں کا ہے، جو برطانوی مورخ لارڈ [تھامس بابنگٹن] میکالے [م: ۱۸۵۹ئ] کے خواب کی مکمل تعبیر ہے: ’’خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہم میںسے نہیں، مگر مذاق اور راے، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز‘‘۔ یا، لبنانی ادیب خلیل جبران [م:۱۹۳۱ئ] کے الفاظ میں: ’’[جن کے جسم خواہ یہاں پیدا ہوئے ہوں، مگر] ان کی روحوں نے مغربی ہسپتالوں میں جنم لیا ہے۔ جو فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہیں، مگر ہمارے [فرنگی سامراجیوں] کے سامنے کمزور اور گونگے ہیں۔ جو آزادی کے علم بردار ہیں، مصلح ہیں، پرجوش ہیں، مگر اپنے اسٹیجوں پر، اہلِ مغرب کے سامنے اطاعت کیش اور رجعت پسند ہیں‘‘___ یہ فرزند ان مغرب، توہین رسالتؐ جیسے معاملات میں ایک سو ایک فی صد مغرب کے ہم نوا رہتے ہیں، مغرب سے بڑھ کرپیش پیش ہوتے ہیں۔

  • ایک چہرہ ان کا ہے، جو کسی طرح بھی لارڈ میکالے کے خواب کی مکمل تعبیر نہ بن سکے، وہ اسلام اور ملّت سے اپنا رشتہ کھرچ نہیں سکے، لیکن اس کے باوجود وہ کسی نہ کسی درجے میں فرنگی افکار کے جاود میں گرفتار ہیں۔ ان کے مزاج کے لیے بھی یہ قبول کرنا مشکل ہے کہ توہینِ رسالتؐ کی سزا موت ہو۔

وہ پوچھتے ہیں: کیا یہ سخت سزا قرآن سے ثابت ہے؟ کہیں یہ مُلا کی تنگ نظری اور شدت کا شاخسانہ تو نہیں؟ جو رحمت للعالمینؐ تھے اور جنھوں نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں، ان کی توہین پر ایسی سخت سزا! دنیا ہمارے بارے میں کیا کہے گی، ہمیں کیا سمجھے گی، ہم اسے کیا منہ دکھائیں گے؟

خود نگری اور مستقبل بینی کا یہ آئینہ ہمارے ہاتھوں میں اگر مسئلہ توہینِ رسالتؐ کے ذریعے آیا، تو بالکل بجا آیا:

قوم را سرمایہ قوت ازو

حفظ سر وحدت ملّت ازو

’’ما ز حکم نسبت او ملتیم‘‘: آں حضوؐر کی ذات مبارک ہی ہماری قوت کا سرمایہ ہے، ہماری وحدت کا راز آپؐ سے وابستگی میں ہے، آپؐ سے نسبت ہی نے ہمیں ایک ملّت بنایا ہے، بلکہ ہمارے جسد ملّی میں رسالت ہی کی جان پھونکی گئی ہے، اسی کے دم سے ہمارا دین ہے، ہمارا آئین ہے:

حق تعالیٰ پیکر ما آفرید

و ز رسالت در تن ما جاں دمید

از رسالت در جہاں تکوین ما

از رسالت دین ما آئین ما

مغرب کا اضطراب اور شور و غوغا قابلِ فہم ہے۔ اس لیے نہیں، جیسا بعض لوگ [گستاخی رسولؐ کے مرتکب] سلمان رشدی کی یاوہ گوئی کے وقت سے کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک رسولؐ کا مقام کیا ہے، اور کیوں ہے۔ مغرب سے ہماری مراد سارے اہلِ مغرب نہیں، تاہم ان میں سے اکثر کے بارے میں یہ بات صحیح ہے۔ اور مغرب کے طلسم میں گرفتار سادہ دل مسلمانوں کے بارے میں بھی۔ یقینا ان سب کو سمجھانے کی ضرورت ہے، ان کو سمجھا لینے ہی میں ہماری کامیابی پوشیدہ ہے۔ مگر جو حکمراں، سفارت کار، دانش ور اور ذرائع ابلاغ کے سحرکار قانونِ توہینِ رسالتؐ کے خلاف پیش پیش ہیں، وہ اسی لیے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان ملّت کی زندگی، وحدت اور قوت و توانائی کا راز اور ان کی سربلندی کا راز بھی حضوؐر کے ساتھ وابستگی اور عشق و محبت میں پوشیدہ ہے  ع  ’’در دل مسلم مقامِ مصطفیؐ است‘‘۔

اسی لیے ہزار سال سے اُوپر مدت ہوگئی، ان کے نقشۂ جنگ کا ہدف یہی مقام مصطفیؐ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کا یہی ’قلب‘ اور ’دارالحکومت‘ ہے۔ اس کی شکست و ریخت، بربادی اور اس پر قبضہ کے بغیر اس ملت کو زیر کرنے کا اور کوئی نسخہ نہیں۔ اسی لیے آں حضوؐر کی ذات ان کے سارے حملوں کا اوّلین ہدف رہی ہے، اور ہے۔ اسی لیے وہ مسلسل ہر قسم کے انتہائی غلیظ وار، آپؐ  کے خلاف کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے سلمان رشدی ان کی آنکھوں کا تارا ہے، یورپ کی حکومتوں کے سفارتی تعلقات اور تجارتی مفادات اس کے خلاف ’فتویٰ‘ کے محور پر گھوم رہے ہیں۔ اسی لیے تسلیمہ نسرین ان کی ہیروئن ہے۔ اسی لیے ہر وہ مسلمان جو: شریعت مصطفویؐکو بے وقعت کرے، جو تعلیمات محمدیؐ کو مشکوک بنائے، جو مقامِ مصطفویؐ کو مجروح کرے، وہ انھیں محبوب ہے۔ اور یہ حکیمانِ مغرب کا فتویٰ ہے:

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

اسی لیے مذکورہ دو افراد کے خلاف مقدمہ دائر ہوتے ہی، غیرمسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ اور سفارت کار حرکت میں آگئے اور یہ واقعہ عالمی شہرت کا حامل بن گیا۔ ان سب کا ہدف ملزموں کی بے گناہی ثابت کرنا نہیں،بلکہ توہینِ رسالتؐ کے قانون کی تنسیخ رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو، بی بی سی، وائس آف امریکا، وائس آف جرمنی کی نشریات، اخبارات، رسائل و جرائد میں مضامین اور خبروں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ انھی بیرونی لابیوں کے ساتھ پاکستان کا ہیومن رائٹس کمیشن بھی متحرک ہوگیا۔

امریکا میں پاکستانی سفیر، ملیحہ لودھی، گوجرانوالہ گئیں اور ملزموں کی ضمانت کے لیے عدالت پر زور ڈالا۔ امریکی نائب وزیرخارجہ، رابن رافیل نومبر ۱۹۹۳ء میں اسلام آباد آئیں، تو وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کے ساتھ مذاکرات کے دوران اس کیس کو اٹھایا۔ پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے انھیں یقین دلایا کہ ’’ملزموں کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا‘‘۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اس مقدمے میں ذاتی دل چسپی لی اور جب مجرموں کو سزا ہوئی تو انھیں ’سخت دکھ‘ ہوا۔ اپریل ۱۹۹۴ء میں پاکستان کی وفاقی کابینہ نے موصوفہ کی صدارت میں، توہین رسالتؐ کے مرتکب فرد کے لیے موت کی سزا کو ۱۰ سال قید کی سزا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

پھر جب ملزموں کو سیشن کورٹ سے سزا ہوگئی تو سارے بین الاقوامی، سفارتی اور ابلاغی ذرائع نے نفرت انگیز پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستانی حکومت پر دبائو ڈالنے کی مہم تیز تر کر دی۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر، ملزمان سے ملاقات کے لیے جیل پہنچ گئے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک    بنچ نے، جو عارضی [ایڈہاک] ججوں پر مشتمل تھا، مسلسل روزانہ اپیل کی سماعت شروع کردی۔ بالآخر ملزمان رہا ہوگئے اور راتوں رات ان کو جرمنی روانہ کردیا گیا۔

عدالتوں کے فیصلے تسلیم کیے بغیر کوئی مہذب اور پُرامن معاشرہ قائم بھی نہیں ہوسکتا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ہائی کورٹ نے صحیح فیصلہ ہی کیا ہوگا۔ لیکن، اس مسلسل بین الاقوامی اور حکومتی دبائو اور عدالتی کارروائی میں حیرت انگیز سرعت نے پورے فیصلے کو مشکوک بنا دیا۔ اس دبائو کے آگے اس دبائو کی کیا حیثیت اور کیا وزن، جو عدالتی کارروائی کے دوران اور فیصلے کے بعد عوام نے لاہور کی سڑکوں پر نکل کر ڈالا۔ ہر تجزیہ نگار، پورا پس منظر جان بوجھ کر نظرانداز کر کے، سارا زور عوامی احتجاج کی مذمت کرنے میں لگاتا رہا۔ ہم بھی کسی عدالت پر اس طرح عوامی دبائو ڈالنے کو صحیح نہیں سمجھتے۔ لیکن لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دوسری طرف سے وہ لوگ زبردست دبائو ڈال رہے تھے، جن کی مٹھی میں حکمرانوں کے اقتدار کی کنجی ہے، ڈالر ہیں، دہشت گرد قرار دینے کی لاٹھی ہے اور ’مہذب، بھی کہلاتے ہیں۔

تہذیب کے دعووں کے ساتھ اب مغرب کے لیے قرونِ وسطیٰ کی طرح دشنام طرازیاں تو ممکن نہیں، البتہ ان کی جگہ آج کے رائج الفاظ کے پردے میں توہین رسالتؐ کے قانون پر حملہ ہو رہا ہے: ’’یہ قانون، انسانی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے، مذہبی آزادی کے خلاف ہے، اظہار راے کی آزادی کے خلاف ہے، اقلیتوں کے خلاف تعصب اور امتیاز پر مبنی ہے، اقلیتی فرقوں کے سر پر  ننگی تلوار لٹکا دی گئی ہے، فرقہ واریت اور ذاتی عناد کی بنا پر، اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اس سے مُلا، بنیاد پرستی، مذہبی جنون اور تنگ نظری کا زور بڑھ گیا ہے، تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

توہین رسالتؐ کے لیے سزا، اس مقصد کے لیے رائج الوقت قانون، اس کا استعمال اور اس بارے میں خدشات کو حالیہ مقدمہ سے الگ کر کے دیکھا جائے، تب ہی ایک منصف مزاج آدمی اس قانون کے خلاف سارے مباحث میں کسی صحیح نتیجے تک پہنچ سکتا ہے۔

  • بنیادی اور اوّلین سوال یہ ہے: ’’کیا توہینِ رسالتؐکوئی جرم نہیں ہے، اور جرم ہے بھی تو کیا اس پر کوئی سزا نہیں ہونا چاہیے؟‘‘

رسالت تو بڑی چیز ہے، دنیا بھر میں ہمیشہ سے کسی بھی انسان کی عزت و آبرو کو تحریری یا زبانی نقصان پہنچانا، ایک جرم قرار دیا گیا ہے، اور اسی لیے ہر معاشرے میں ہتک عزت [defamation] کے جرم کے لیے سزا کا قانون موجود رہا ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں کبھی یہ نہیں آیا کہ کسی دوسرے انسان کی بے عزتی اور توہین کرنا، ایک فرد کا انسانی اور بنیادی حق ہوسکتا ہے، اور اگر اس پر سزا دی جائے تو گویا ایک بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ آج مغرب میں بھی یہی تصور اور یہی قانون ہے۔ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ مغربی قوانین کے تحت جس کی  ہتک عزت ہوئی ہو، وہ خود ہی مدعی بن سکتا ہے۔ گویا، کیونکہ رسول، یا کوئی بھی دنیا سے گزرا ہوا آدمی، اب خود مدعی نہیں بن سکتا، اس لیے اس کی جتنی توہین کرلی جائے، یہ جرم قابلِ سزا نہیں ہوسکتا۔

لیکن اس سے زیادہ بودی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے؟___ جب ایک عام آدمی کی ہتک عزت بھی قابلِ تعزیر جرم ہو، تو اس شخص کی ہتک عزت کیوں نہ قابلِ تعزیر ہو، جوایک ارب سے زیادہ انسانوں کواپنی جان و مال ہی نہیں، اپنی ذات سے بڑھ کر محبوب ہے۔ جس کی عزت اور نام سے ان کی عزت اور نام وابستہ ہے۔ جس کی توہین سے ان کی اپنی ذات، ان کے نام، ان کی اپنی عزت، ان کے دین، ان کے آئین اور ان کی ملّت کی توہین ہوتی ہے۔ آں حضوؐر کا مقام تو ہرمسلمان کے لیے یہی ہے۔ ایک مسلمان کی آبرو آپؐ کے نام سے ہے: آبروے ما زنام مصطفی است۔ وہ مسلمان ہو نہیں سکتا، جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی جان، مال، والدین، دنیا کی ہر چیز، یہاں تک کہ اپنے نفس اور ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوں: لَا یُوْمِنُ اَحَدَکُمْ حَتّٰی اَکُوْنُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّلَدِہٖ وَالِدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ (بخاری، مسلم)

  • دوسرا سوال یہ ہے: ’’کیا اس جرم کے لیے موت کی سزا بہت سخت اور احترام آدمیت کے خلاف ہے؟‘‘

اگر اعتراض فی نفسہٖ موت کی سزا پر ہے کہ یہ وحشیانہ ہے، تو وہ زمانہ گزر گیا جب تہذیب کے جوش میں موت کی سزا کو بالکل منسوخ کرنے کی ہوا چلی تھی۔ اب تو انتہائی ’مہذب‘ اور   ’انسان دوست‘ ہونے کے دعوے دار ملکوں میں، ایک کے بعد ایک، یہ سزا بحال کی جارہی ہے، بلکہ ہر ملک جہاں یہ سزا ختم کی گئی، وہاں کی بھاری اکثریت موت کی سزا کی بحالی کے حق میں ہے، نہ صرف موت کی سزا، بلکہ جسمانی سزا کے حق میں بھی۔ ۱۹۹۴ء میں جب سنگاپور میں ایک امریکی کو چھے بید مارنے کی سزا دی گئی تو،امریکی حکومت اور چند طبقات کی مخالفت کے باوجود، امریکیوں کی اکثریت نے اس سزا کی حمایت کی تھی۔ مغرب میں بھی اس قسم کے جرم پر سخت سزائوں کے قوانین موجود ہیں، اور پہلے تو زندہ جلایا جاتا رہا ہے۔

اگر اعتراض یہ ہو کہ یہ سزا جرم کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے، تو اس جرم کی نوعیت کا فیصلہ تو وہی کرسکتے ہیں، جن کو اور جن کے پورے معاشرے کو اس جرم سے نقصان پہنچ رہا ہو۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے کردار، اخلاق، صداقت، امانت، عدالت کو مجروح کرنا دراصل دین، ایمان، آئین، ریاست اور پوری اُمت مسلمہ، سب کو مجروح کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان ہی اس معاملے میں مناسب قانون سازی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کی مقننہ نے یہی سزا مناسب سمجھ کر یہ قانون منظور کیا ہے، ان کی اعلیٰ عدالتوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ یہ ایک جمہوری طریقے سے طے کردہ قانون ہے، ان کی اعلیٰ عدالتوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ یہ ایک جمہوری طریقے سے طے کردہ قانون ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمرقید کی سزا، موت کی سزا سے زیادہ وحشیانہ اور ظالمانہ سزا ہے، لیکن کوئی پارلیمنٹ یاکانگرس اپنی حدود میں یہ سزا دینے کا قانون بنائے، تو ہم اس کا فیصلہ کیسے بدلوا سکتے ہیں؟

  • تیسرا سوال یہ ہے: ’’کیا یہ قانون واقعی عیسائی اور ہندو جیسے اقلیتی فرقوں کے خلاف تعصب و امتیاز پر مبنی ہے، ان کو کچلنے، دبانے اور حقوق سے محروم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے؟‘‘

جہاں تک قانون کا تعلق ہے، اس میں ایک حرف اور ایک نکتہ بھی ایسا نہیں بتایا جاسکتا، جو اقلیتی فرقوں کے خلاف ہو یا ان کا کوئی حق سلب کرتا ہو۔ اس کا اطلاق کسی نام نہاد مسلمان پر بھی بالکل اسی طرح ہوگا، جس طرح غیرمسلم پر۔ تعصب و امتیاز کی بات اس وقت صحیح ہو سکتی ہے، جب یہ گمان کیا جائے کہ اقلیتی فرقوں کی باقاعدہ نیت یا پروگرام ہے کہ وہ توہینِ رسالت کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ عمومی سطح پر ان کا ایسا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں، اگرچہ باہر والے ان سے یہ حرکت کروا کے انھیں اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑانے اور انھیں پاکستان میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے رکھتے ہوں۔ اگر اعتراض کی بنیاد یہ ہو کہ اس میں دوسرے مذاہب کے پیغمبروں کی توہین کو شامل نہیں کیا گیا ہے، تو اس اعتراض کو ’اسلامی نظریاتی کونسل، (IIC) اور شریعت کورٹ کی سفارش کے مطابق، دُور کیا جانا چاہیے۔

  • چوتھا سوال یہ ہے: ’’کیا یہ قانون اس لیے منسوخ کردیا جائے، کہ ذاتی عناد یا فرقہ واریت کی خاطر اس کا غلط استعمال ہوا ہے، یا خدشہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے؟‘‘

اگر خود قانون میں ایسی کوئی خامی، خلا یا ابہام ہے، جو غلط استعمال کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو ہماری راے میں ایسی ہر خامی کو دُور کیا جانا چاہیے، اور ممکنہ غلط استعمال کے خلاف ہر ممکن تحفظ  فراہم کرنا چاہیے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جو باہمی گفت و شنید سے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔ ہمیں  صرف مقامِ رسالتؐ کا تحفظ مطلوب ہے، بے گناہ لوگوں کو توہینِ رسالتؐکے نام پر سزا دلوانا تو خود توہینِ رسالتؐ کے زمرے میں آسکتا ہے۔

لیکن اگر قانون کا غلط استعمال کسی فرد یا پولیس کے غلط کردار کی وجہ سے ہے، تو اس کا  علاج قانون کی منسوخی نہیں ہے۔ اس وجہ سے تو ہر قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ قیامِ امن کے، انسداد دہشت گردی کے، لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے قوانین حکومتیں بے دردی کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، کیا اس وجہ سے ان سب کو منسوخ کردیا جائے؟ قتل کے قانون کے تحت پولیس اور بااثر لوگ بے گناہوں کو پھانستے ہیں، ان کو لوٹا جاتا ہے، بعض پھانسی پر بھی چڑھ جاتے ہیں، کیا ان کو بھی منسوخ کر دیا جائے؟ کوئی بھی معقول آدمی یہ بات نہیں کہے گا۔ ذاتی عناد کی بنا پر بھی ملک میں بے شمار مقدمات کھڑے کیے جاتے ہیں۔ اس ظلم کا کوئی خصوصی تعلق اقلیتی فرقوں سے نہیں۔

  • پانچواں سوال یہ ہے: ’’کیا قانون توہینِ رسالتؐ کی وجہ سے فرقہ واریت میں، مذہبی جنون میں، اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے، کہ یہ قانون منسوخ کردیا جائے؟

اگر شدت پیدا ہوئی ہے تو شیعہ سنی فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے محض چند جنگجو عناصر میں، جب کہ عام سطح پر تو شیعہ سنی ہم آہنگی پہلے کی طرح قائم ہے اور یہ بڑی خوش آیند بات ہے۔ حد سے بڑھتی ہوئی قتل و غارت اور خوں ریزی کی وجہ نسلی اور لسانی تعصبات، سیاسی جھگڑے اور انتقامی کارروائیاں ہیں۔ اس میں کوئی دخل قانون توہینِ رسالتؐ کا نہیں، اور نہ کسی دوسرے قانون کا۔ ان کارروائیوں کا شکار اکثریتی فرقہ ہے، نہ کہ اقلیتی فرقے۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں روز بروز تشدد اور خوں ریزی بڑھ رہی ہے، اس معاشرے میں کیا صرف اقلیتی فرقوں کے لوگ ہی اس لہر سے بالکل محفوظ رہ سکتے ہیں؟ پھر تشدد کے ہر واقعے کو فوراً اقلیت کے خلاف ظلم قرار دینا کہاں تک قرین انصاف ہے؟ پاکستان میں آج تک کوئی     فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ ذرا بھارت کے جمہوری، سیکولر، روشن خیال ملک پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے، جہاں کوئی مذہبی قوانین نہیں، جہاں ’مُلّا‘ کا غلبہ نہیں، لیکن وہاں پر تو فرقہ وارانہ فسادات روز کا معمول ہیں۔

قرآن و سنت کے دلائل سے جس طرح شاتمِ رسولؐ کی سزا ثابت ہے، اور اس پر جس طرح فقہاے اُمت کا اجماع ہے۔ جس طرح اس پر، ماسوا دورِ غلامی کے، ہر مسلمان ملک میں، ہرزمانے میں عمل درآمد ہوتا رہا ہے، اور دور غلامی میں بھی مسلمان جس طرح اپنا خون دے کر اسے نافذ کرتے رہے ہیں، اسے بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ اس بارے میں عام مسلمانوں کے درمیان نہ کبھی اختلاف رہا اور نہ کوئی شک و شبہہ۔ جس کو تحقیق کا شوق ہو، اس کے لیے   حسب ذیل کتب کا مطالعہ کافی ہے:

۱-            محمد اسماعیل قریشی : ناموس رسولؐ اور قانونِ توہینِ رسالتؐ

۲-            امام ابن تیمیہ: الصارم المسلول علی شاتم الرسولؐ

۳-            تقی الدین سبکی: السیف المسلول علی من سب الرسولؐ

۴-            ابن عابدین: تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیرالانامؐ

  • لوگ چھٹا سوال یہ پوچھتے ہیں کہ: ’’رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تو گالیاں سن کر، پتھر کھا کر، دعا دی، اب ان کو گالی دینے والے کو موت کی سزا دی جائے؟‘‘

ایسے لوگ رحمت کے مفہوم سے آگاہ نہیں۔ رحمت کا تقاضا جہاں عفو و درگزر ہے، وہاں انصاف بھی ہے۔ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے: واقعہ افک میں قذف کے مرتکبین کو  کوڑے لگوائے، زنا کے مجرموں کو سنگسار کرایا، مسلح لشکر لے کر نکلے جس نے بدر کے میدان میں ۷۰سردارانِ قریش کو تہہ تیغ کردیا، فتح مکہ کے دن جب ہرجانی دشمن کو معافی مرحمت فرما دی گئی، چھے مرتدین اور شاتمین کے قتل کا حکم صادر ہوا۔ آپؐ یہ نہ کرتے تو فساد مچتا، اور زیادہ ظلم برپا ہوتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم اپنی ذات کی خاطر نہیں دیا، دین اور ملت کے تحفظ کی خاطر دیا۔ جب رسالتؐ ہی ایمان کی، دین کی، ملت کی بنیاد ہے، اس کی زندگی کی ضمانت ہے، تو توہینِ رسالتؐ کے مجرم کو سزا دینا عین رحمت کا تقاضا تھا۔ اسی لیے یومِ قیامت کو___ جس دن نیکوکاروں کو انعام سے نوازا جائے گا، مگر بدکار جہنم جھونکے جائیں گے___ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت، رحمانیت اور رحیمیت کا دن قرار دیا ہے۔ (الفاتحہ، الانعام)

شان رسالتؐ میں گستاخی کے مرتکب فرد کے لیے موت کی سزا کے قانون کی تائید اور حمایت کچھ فقہا و علما، ملائوں اور جنونیوں ہی کا ’جرم‘ نہیں ہے، بلکہ وہ اچھے اچھے مغربی تعلیم یافتہ مسلمان حضرات، جنھوں نے روح اسلام کو ضائع نہ کیا اور مقام محمدیؐ سے آگاہ رہے، کسی بھی مداہنت کے بغیر اس ’مذہبی جنون‘ کے ’جرم‘ میں شریک رہے۔

غازی علم الدین شہید [۴دسمبر ۱۹۰۸ئ- ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ئ] نے [شانِ رسالتؐ میں گستاخی پر مبنی کتاب کے ناشر] راج پال کو قتل [۶ اپریل ۱۹۲۹ئ] کیا تو اس کے مقدمے کی پیروی قائداعظم محمدعلی جناح [م: ۱۱ستمبر ۱۹۴۸ئ] نے کی۔ علامہ محمد اقبال نے رشک کے ساتھ فرمایا: ’’اسیں گلاں کر دے رہے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔ (ہم باتیں کرتے رہ گئے، اور ایک بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا)۔ علم الدین شہید کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا، اور اس فضا میں یہ شعر بھی کہا :

ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ

قدروقیمت میں ہے جن کا خون حرم سے بڑھ کر

شانِ رسالتؐ میں گستاخی کے جرم میں ایک خانساماں نے ایک انگریز میجر کی بیوی کا کام تمام کر دیا۔ سرمیاں محمد شفیع [م: جنوری ۱۹۳۲ئ] نے، جو برطانیہ کے زیرتسلط ہندستان میں وائسراے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے، اس کے مقدمے کی پیروی کی۔ دوران بحث ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

ہائی کورٹ کے انگریز جج نے انھیں بڑی حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا: ’’سرشفیع، کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہوسکتا ہے؟‘‘

سرمیاں محمد شفیع نے رنج اور حسرت بھرے لہجے میں جواب دیا: ’’جناب، آپ کو نہیں معلوم، ایک مسلمان کو اپنے پیغمبرؐ کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سرشفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ بھی یہی کر گزرتا جو اس ملزم نے کیا ہے‘‘۔

ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے بعض مسیحی بھائیوں نے اس قانون کے معاملے میں حق پسندانہ اور معتدل مسلک اختیار کیا ہے۔ صوبہ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر، آنجہانی بشیرمسیح کے الفاظ ایسے ہی موقف کے آئینہ دار ہیں، انھوں نے کہا تھا:

ہم اس [قانون] کے خلاف نہیں۔ کوئی بھی سچا مسیحی، توہین رسالتؐ کا تصور نہیں کرسکتا، اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر واقعی کوئی اس قبیح جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ موت سے بھی سخت سزا کا   حق دار ہے۔ لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی بے گناہ کو اس قانون کا نشانہ بنایا جائے۔

اسی طرح ماہنامہ کلامِ حق میں پادری ڈاکٹر کے ایل ناصر کے بیٹے میجرٹی ناصر کے الفاظ ہیں:

ہم مسیحی، تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵- سی یعنی گستاخ رسولؐ [کی سزا] کے مخالف نہیں۔ ہم صرف یہ درخواست کرتے ہیں کہ ایک خصوصی کمیشن بنایا جائے۔ غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں اور اگر ملزم واقعی مجرم ہو تو اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے،   ورنہ بصورت دیگر رہا کر دیا جائے۔ مقدمہ بھی خصوصی عدالت میں چلایا جائے، اور ملزم کو تمام قانونی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں، تاکہ اقلیتوں، خاص طور پر مسیحی اقلیت کو   تحفظ و انصاف کا احساس ہو ___ اور یہ مطالبات بجا ہیں۔

لیکن ہمیں افسوس ہے کہ مسیحی لیڈروں کی اکثریت، سوچے سمجھے بغیر، قانون توہینِ رسالتؐ کی اندھی مخالفت پر تل گئی ہے۔ اس طرح وہ ایک طرف مغربی سامراجی طاقتوں کے آلۂ کار بھی بن رہے ہیں، دوسری طرف پاکستان میں اسلام دشمن اور سیکولر عناصر کے دوش بدوش کھڑے ہوگئے ہیں۔

ہم پورے خلوص اور دردمندی سے ان کی خدمت میں ادب سے عرض کریں گے، کہ اگر ان کے پیش نظر اس قانون کے بارے میں خدشات کے خلاف ضروری تحفظات حاصل کرنا ہے، بلکہ پاکستان کے شہری ہونے کے ناتے پاکستان میں اپنا جائز مقام حاصل کرنا ہے، تو انھوں نے ایک غلط راستہ اختیار کیا ہے۔ نہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے انھیں یہ مقام حاصل ہو سکتا ہے، نہ سیکولر عناصر کی مدد سے کچھ پاسکتے ہیں، اگرچہ وہ اقتدار میں بھی آجائیں۔

ان کے لیے درست اور معقول راستہ یہ ہے کہ وہ محبِّ اسلام ممتاز شہریوں اور حق پسند علما اور دینی جماعتوں سے گفت و شنید کا آغاز کریں۔ انھیں اپنے خدشات سے آگاہ کریں، ممکن ہو تو ایک مشترک ’مسلم اینڈ کرسچین کونسل‘ تشکیل دیں۔ دلیل اور شواہد کے ساتھ مسلمانوں پر زور دیں کہ وہ خاص طور پر اس قانون کے ضمن میں اسلام کے قانون عدل و شہادت کے تقاضوں کی تکمیل یقینی بنائیں۔ وہ ایسی ترامیم کرانے میں ان کی مدد کریں جو قانون کو بے اثر بنائے بغیر کی جاسکتی ہیں، اور ان کے ساتھ انھی بنیادوں پر معاملہ کریں، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ اختیار کیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس طرح دونوں کے تعلقات بھی خوش گوار ہوجائیں گے اور ان مسائل کا حل بھی خوش اسلوبی سے نکل آئے گا۔

شاید انھیں اسلام کے قانونِ عدل کے ان تقاضوں کا علم نہیں، جن کا نفاذ ان کے خدشات کے ازالے کے لیے کافی ہوسکتا ہے:

                ۱-            حد کی سزا صرف حکومت دے سکتی ہے، کسی مسلمان کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں۔

                ۲-            عدالت کے لیے یہ بھی ضروری ہے، کہ وہ گواہوں کی مناسب جانچ پڑتال کرے۔ اس لیے کہ ’حد‘ کی سزا میں شہادت کا معیار، عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیرمعمولی ہے۔ ایسے گواہوں کی شہادت قبول ہوتی ہے، جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں، صادق القول اور عادل ہوں، اور مزیدبرآں تزکیۃ الشہود کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں‘‘۔

                ۳-            جرم ثابت ہونے میں ایک شبہہ بھی رہ جائے تو شک کا فائدہ بھی اسلامی قانون کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے۔ حدیث مبارک ہے: ادر والحدود بالشبہات، حدود کی سزائوں کو شبہات کی بنا پر ختم کرو۔

                ۴-            عدالت ملزم کی نیت کا تعین بھی کرے گی، کیونکہ ’’نیت کے بغیر اسلامی قانون میں کوئی جرم مستوجب سزا نہیں ہوتا‘‘۔

                ۵-            حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی اسلامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ’’ایک مجرم کو بری کر دینے کی غلطی ایک بے گناہ کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔

                ۶-            بجاے اس کے کہ ہمارے مسیحی بھائی پاکستان کی سیکولر حکومت کے وعدوں پر زندہ رہیں یا باہر کی مسیحی طاقتوں سے آس لگائیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ مسلمان، عیسائی، ہندو مل کر ایک متفقہ ترمیمی بل حکومت اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردیں، جو اسلامی قانون کے مطابق بھی ہو اور اقلیتوں کے لیے انصاف اور تحفظ کا ضامن بھی۔ ہماری راے میں علما اور دینی جماعتوں کو اس مقصد کے لیے عیسائی رہنمائوں سے مکالمہ شروع کرنا چاہیے۔

قانون توہینِ رسالتؐ پر مخالفانہ ردعمل نے جو آئینہ ہمیں دیا ہے، اس میں مسلم ملت کی قوت کا اصل سرچشمہ بھی عیاں ہو رہا ہے۔

یہ سرچشمہ وہی ہے جس کے پیچھے ہمارے دشمن چودہ سو سال سے آج تک لگے ہوئے ہیں۔ ہماری قوت و توانائی کا سامان: اس اسلحہ، قرض اور امداد میں نہیں ہے جو ہمارے دشمن خود ہمیں فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سرچشمہ تو روز اوّل سے دل مسلم میں مقام مصطفیؐ ہے، عشق مصطفیؐ ہے، اور ملت کی پوری زندگی میں اتباع اور اطاعت مصطفیؐ سے منسوب ہے۔ ہمیں اسی سرچشمے سے سیراب ہونے میں لگ جانا چاہیے۔

آج تاریخ کا اسٹیج، اسلام اور مغرب کے درمیان معرکے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ بظاہر ہمارا اور مغرب کا کیا مقابلہ؟ نہ ہمارے پاس اسلحہ، نہ ٹکنالوجی، نہ معاشی ترقی، نہ اتحاد، نہ لیڈرشپ، نہ منزل اور نہ مقصد۔ لیکن ان میں سے ہر چیز ہمیں حاصل ہوجائے گی، اگر ہم قوت اور توانائی کے اس سرچشمہ تک پہنچ جائیں:

کیمیا پیدا کن از مشت گلے

بوسہ زن بر آستان کاملے

دل زعشق اور توانا می شود

خاک ہم دوش ثریا می شود

اس سے زیادہ فریب انگیز مغالطہ اور کوئی نہیں ہو سکتا، کہ ہم یہ فیصلہ کرنے بیٹھ جائیں: ہم کو ’ترقی پسند‘ بننا ہے یا ’بنیاد پرست‘۔ ہمیں نہیں معلوم بنیاد پرست کے کیا معنی ہیں۔ لیکن ہم کو یہ ضرور معلوم ہے کہ ہماری بنیاد تو حضوؐر کی ذات، آپؐ کی لائی ہوئی کتاب، آپؐ کی سنت اور آپؐ  کا   اسوۂ حسنہ ہے۔ ہم، جو اس بنیاد کے ناتے بظاہر ’بنیاد پرست‘ ہیں، فی الحقیقت سب سے بڑھ کر   ترقی پسند ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس ضمن میں اگر امریکا کی انگلی پکڑ کر چلے تو ترقی نہیں موت اور ذلت کا گڑھا ہمارا مقدر ہے۔ اس راہ کو چھوڑ کر چلنے والے ’ترقی یافتہ‘ مسلمان ممالک کے ڈھانچے ہمارے سامنے بہت موجود ہیں:

کشودم پردہ را از روئے تقدیر

مشو ناامید و راہ مصطفیؐ گیر

مقام خویش اگر خواہی دریں دیر

بحق دل بند و راہ مصطفیؐ رو

دامنش از دست دادن موت است، حضوؐر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا پروانہ موت ہے۔ آج کل مسلمان ہر جگہ، خصوصاً وطن عزیز پاکستان میں، زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں، علاج کیا ہے، حل کیا ہے؟ علاج اور حل تو ایک ہی ہے۔ پہلے بھی، قوم زندگی از دم اویافت، حضوؐر کے دم سے ہی زندگی ملی تھی، اور آج بھی سب کچھ آپؐ  کا دامن پکڑ کے، آپؐ  کا مشن پورا کرنے، اور آپؐ  کے پیچھے چلنے ہی سے ملے گا:

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

حج کی حقیقت کو تم ایک دفعہ پالو، اچھی طرح اور پوری طرح جان لو، اسی کے مطابق خود کو ڈھالو، اسی کی روشنی میں ہر قدم اٹھائو، تو ایک کے بعد ایک، حج کے فیوض و برکات اور انعامات و فتوحات کے دروازے تمھارے لیے کھلتے چلے جائیں گے۔

حج کیا ہے؟ اللہ سے محبت کرنا، ان کی محبت پانا۔ حج کا سفر محبت و وفا کا سفر ہے۔ اس کا مدعا اور حاصل، اللہ کے سواکچھ نہیں۔ اس کا ہر عمل محبت و وفا کا عمل ہے، اس کی ہر منزل محبت و وفا کی منزل ہے۔ یوں سمجھو کہ حج سارے کا سارا یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ ، اللہ اپنے ان پروانوں سے محبت کرتے ہیں اور یہ پروانے ان کی محبت میں سرشار ہیں، کی مجسم اور متحرک تصویر ہے۔

دیکھو، بات یہ ہے کہ اللہ تم سے، اپنے بندوں سے، بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ جیسا حضورپاکؐ نے ارشاد فرمایا: وہ ماں باپ سے بھی کہیں زیادہ محبت والے ہیں۔ وہ اپنی ذات میں بے انتہا رحمت اور محبت کرنے والے ہیں۔ اللہ کو پکارو یا الرحمٰن کو، ایک ہی بات ہے۔ گویا اللہ کے معنی ہی الرحمٰن ہیں۔ ساتھ ہی وہ سارے دنیا والوں پر اپنی بے پایاں رحمتوں کی مسلسل بارش کر رہے ہیں۔ دنیا میں مخلوقات کے درمیان تم جہاں بھی اور جتنی بھی رحمت دیکھتے ہو، وہ سب بھی ان ہی کی رحمت کا جلوہ ہے۔ مگر دنیا میں وہ جتنی رحمت کر رہے ہیں، وہ ان کی رحمت کے ایک سو میں سے ایک حصے کے برابر بھی نہیں،اگرچہ اس کا بھی احاطہ اور شمار ممکن نہیں۔ ۹۹ حصے انھوں نے آخرت میں عطا کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔

یہ انھی کی رحمت اور محبت ہے کہ انھوں نے ہمیں قرآن عطا کیا، تاکہ ہم آخرت کی رحمتوں میں سے حصہ پاسکیں۔ رسول پاکؐ جو رحمۃ للعالمین اور رؤف و رحیم ہیں، ہمارے اُوپر اللہ کی رحمت و شفقت کا مظہر ہیں (لَقَدْ مَّنَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ…الخ)۔ موت کے بعد زندگی بخشنا اور اعمال کی جزا دینا بھی ان کی رحمت کا تقاضا ہے (کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَہ ، لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَہ)۔ ہمیں دین اسلام عطاکرکے تو انھوں نے رحمت و انعام کی انتہا کردی، یہ ان کی نعمت کا اتمام ہے کہ یہی آخرت میں ان کی رحمت تک پہنچنے کا راستہ ہے (وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ)۔ یہ بھی ان کی ہمارے ساتھ محبت کا ثمر ہے، ان کا فضل اور نعمت ہے کہ انھوں نے اپنے اوپر ایمان، ہمارے دلوں میں ڈال دیا، اسے دلوں کی زینت بنا دیا، اسے ہمارے لیے محبوب بنادیا۔ ان کے ساتھ ہماری جتنی محبت ہے، ہوگی، وہ ان کی محبت (یُحِبُّھُمْ) اور ایمان کا ثمر ہے۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ، جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ شدت سے اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ ایمان کی ساری شیرینی، مزا اور رنگ ان کے ساتھ اسی محبت کے دم سے ہے۔

یہ بیانِ محبت ذرا طویل ہوگیا۔ لیکن محبت کے بیان کی لذت! دل چاہتا ہے کہ ختم ہی نہ ہو۔ محبت کے سفر کی لذت! دل چاہتا ہے کہ وقت سے پہلے شروع ہوجائے، ختم ہونے کا نام نہ لے۔ اس کی ہر زحمت میں لذت کی چاشنی ملتی ہے۔ حج کی حقیقت کو دل کی گہرائیوں میں پالینے کے لیے کم سے کم اتنا بیان لذیذ ہی نہیں، ضروری بھی تھا۔

دیکھو، ویسے تو اس دین کا ہر حکم، جو نعمت و محبت کا اتمام ہے، بندوں سے ان کی محبت کا مظہر ہے،اور ان کی محبت کے حصول کا راستہ، جو بندوں کی غایت ہے۔ ’’سجدہ کس لیے کرو؟‘‘ تاکہ ہم سے قریب ہوجائو۔ ’’مال کس لیے دو؟‘‘ علٰی حبہ،ان کی محبت میں، ان کی محبت و رضا کے لیے۔ احکام، حرام و حلال کے ہوں،اخلاق و معاملات کے، ہجرت و جہاد کے--- سب ہم پر ان کی شفقت و رحمت پر مبنی ہیں۔ مگر حج کی بات ہی دوسری ہے۔ یہ تم سے اللہ کی محبت کا، اور ان کی محبت کے اظہار کا بے مثال مظہر ہے، اور تمھارے لیے ان سے محبت کرنے کا،اپنی محبت کا اظہار کرنے کا اور ان کی محبت پانے کا انتہائی کامیاب و کارگر نسخہ۔ عبادات میں اس پہلو سے اس کی کوئی نظیر نہیں۔

ذرا غور کرو! اللہ تعالیٰ لامکان ہیں، وہ ہر جگہ موجود ہیں، وہ کسی مکان میں سما نہیں سکتے، ہرذرہ اور لمحہ ان کا ہے، اور ان کی جلوہ گاہ--- لیکن یہ، ان کی، ہم جیسے اسیر مکان و زماں بندوں سے، بے پناہ محبت نہیں تو اور کیا ہے کہ انھوں نے، ہمیںاپنی محبت دینے اور ان سے محبت کرنے کی نعمت بخشنے کی خاطر،مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں ایک بظاہر بالکل سادے اور معمولی گھر کو’اپنا گھر، بنالیا اور مشرق و مغرب میں تمام انسانوں کو اپنے اس گھر آنے کا بلاوا بھیجا، کہ آئو، سب کچھ چھوڑ کر،  لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے آئو۔ پتھروں کے اس گھر آئو، اس گھر میں اپنے خداے لامکاں کی محبت اور قربت حاصل کرو۔ اس گھر میں، اس کے در و دیوار میں، اس کے گلی کوچوں میں، اس کی طرف سفر میں انھوں نے تمھارے جذبہ عشق و محبت کے لیے تسکین و سیرابی، شادکامی اور لذت و کیف کا وہ سارا سامان رکھ دیا جو ایک عاشق صادق اپنے محبوب کے کوچہ و دیار اور درودیوار سے پانے کی تمنا کرسکتا ہے۔

یہ بھی اللہ کی رحمت و محبت کا کرشمہ ہے کہ انھوں نے عشق و محبت کے اس مرکز میں، جو بظاہر حسن تعمیر اور جمال ماحول سے بالکل مبرا ہے، بڑی عجیب و غریب محبوبیت رکھ دی ہے! اس گھر کو انھوں نے اعلیٰ ترین شرف و کرامت سے نوازا ہے۔ اسے انھوں نے اپنی بے پناہ عظمت و جلال کا مظہر بنایا ہے۔ اس کے سینے سے انھوں نے رحمت و محبت، برکت و ہدایت اورانعام و اکرام کے لازوال چشمے جاری کیے ہیں۔ آیات بینات کا ایک اتھاہ خزانہ ہے جو اللہ نے اس گھر کی سادہ مگر محبت کے رنگ سے رنگین داستان کے ورق ورق پر رقم کردیا ہے۔ اللہ کے گھر کے حسن و جمال اور شانِ محبوبیت کا بیان اسی طرح الفاظ کے بس سے باہر ہے، جس طرح کسی حسین کے حسن کا اور کسی شے لذیذ کی لذت کا، جو تم دیکھنے اور چکھنے ہی سے پاسکتے ہو۔

دوسری طرف انھوں نے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں اس گھر کی محبت ڈال دی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جو جا نہیں سکتے، وہ بھی جانے کی آرزو اور شوق میں سلگتے رہتے ہیں، اور کچھ نہیں تو روزانہ پانچ دفعہ، اس گھر کی طرف رخ کرکے، گھر کے مالک سے قرب اور ہم کلامی کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ لیکن ایک طرف دیار محبوب کی شانِ محبوبیت اور دوسری طرف محبت کرنے والوں کی محبت، ازل سے عشاق بے تاب کا ایک ہجوم بے پناہ ہے جو ہروقت اور ہرجگہ سے کھنچ کھنچ کر اس گھر کے گرد جمع ہوتا چلا آرہا ہے۔ خاص طور پر حج کے وقت، جس کو رب البیت نے جلوہ و زیارت کے لیے مخصوص و متعین کیا ہے۔ آج تم بھی اسی ہجوم کا ایک حصہ ہو،اور میری تمنا ہے--- اور تمھاری بھی یہی تمنا ہونا چاہیے--- کہ محبت کی یہی چنگاری تمھارے دل میں سلگ رہی ہو، اور وہی تمھیں کشاں کشاں دیارِ محبوب کی طرف لیے جارہی ہو۔

اب ذرا حج کے اعمال و مناسک کو دیکھو جو تم بجا لائوگے۔ یہ تمام تر عشق و محبت کے اعمال ہیں۔ یہ بھی اللہ کی محبت ہے کہ انھوں نے محبت کی ان ادائوں کی تعلیم دی، ان کو اپنے گھر کی زیارت کا حصہ بنایا، اور ان پر محبت اور اجر کی بشارت دی۔ یہ سنت ابراہیم ؑ کا ورثہ ہیں۔ دیکھو شاہ عبدالعزیز ؒ صاحب ان اعمال کی حقیقت کی کتنی خوب صورت تصویر کھینچتے ہیں:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا [اور یہی حکم تمھارے لیے ہے] سال میں ایک دفعہ اپنے کو اللہ کی محبت میں سرگشتہ و شیدا بنائو، اس کے دیوانے ہوجائو، عشق بازوں کے طور طریقے اختیار کرو۔ محبوب کے گھر کے لیے--- ننگے پائوں، الجھے ہوئے بال، پریشان حال، گرد میں اَٹے ہوئے--- سرزمینِ حجاز میں پہنچو، اور وہاں پہنچ کر کبھی پہاڑ پر چڑھو، کبھی وادی میں دوڑو، کبھی محبوب کے گھر کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوجائو--- اس خانہ تجلیات کے چاروں طرف دیوانہ وار چکرلگائو، اور اس کے در ودیوار کو چومو اور چاٹو۔

محبت کرنے اور محبت پانے کے یہ سب طریقے اللہ کی رحمت ہی نے تمھیں سکھائے ہیں۔

یہ ہے وہ حج جس کے لیے تم روانہ ہو رہے ہو۔ جتنا عشق و محبت کا یہ سبق ازبر کرو گے، دل پر اسے نقش کرو گے، اسے یاد رکھو گے، اللہ کو تم سے جو محبت ہے اس کی حرارت اور طمانیت اپنے اندر جذب کرو گے، اللہ سے ٹوٹ کر پورے دل سے محبت کرو گے اور اس کا اظہار کرو گے، حج کے ہر عمل کو زیادہ سے زیادہ اس محبت کے رنگ میں رنگو گے، اس سے اللہ کی محبت کی طلب اور جستجو کرو گے، انھی کی محبت اور قرب کی آرزو اور شوق میں جلو گے، اتنا ہی تم حج کی آغوش سے اس طرح گناہوں سے پاک و صاف ہوکر لوٹو گے جیسے ماں کے پیٹ کی آغوش سے نکلتے ہو، اور تمھارے حق میں   نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت پوری ہوگی۔ (حاجی کے نام، منشورات، لاہور، ص ۸-۱۴)

حج کی عبادت اس پوری زندگی کے لیے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی میں دینے کا اپنی مخلوق سے مطالبہ کیا ہے، ایک بڑی اہم عبادت ہے۔ اس کو اسلام کے ارکان میں شمار کیا جاتا ہے اور ارکان کے معنی ہیں وہ ستون جن کے اوپر پوری عمارت قائم ہو۔ گویا ان ستونوں کے بغیر عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ ستون کے حوالے سے ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ وہ یہ کہ ستون کا نام عمارت نہیں ہے بلکہ ستون دراصل عمارت کی بنیاد اورسہارا ہوتا ہے۔ عمارت ستونوں کے علاوہ ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ یہی  کُل دین ہے۔ درحقیقت یہ دین کے ارکان اورستون ہیں، دین کی اصل عمارت اپنی جگہ پر الگ ہے۔ پوری زندگی اللہ کی بندگی اور اس کی اطاعت میں گزرے، یہ دین ہے۔ اس کو سہارا دینے کا کام یہ ستون کرتے ہیں۔ یہ اپنی جگہ خود دین نہیں ہیں۔

عبادت کا مقصد

ہر عبادت اپنی جگہ پر کوئی مقصد رکھتی ہے۔ چنانچہ نماز کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی یاد زندگی میں جاری و ساری ہو۔ ہر وقت بندہ اللہ کو یاد رکھے۔ اسی لیے پانچ وقت نماز کے ذریعے اس بات کی مشق کروائی جاتی ہے کہ کاروبار زندگی چھوڑ کر اللہ کے حضور حاضرہو کے اس کو یاد کرو، زبان سے بھی یاد کرو، دل سے بھی اور ہاتھ پائوں سے بھی یاد کرو، نیز پیشانی اس کے سامنے ٹیک کر، ہاتھ پائوں باندھ کر، اس کے سامنے کھڑے ہو کر مکمل اطاعت اور بندگی کا نمونہ پیش کرو۔ گویاپوری زندگی   اللہ کی یاد میں صرف ہو۔ قرآن مجید میں اہلِ ایمان کے بارے میں فرمایا گیاہے:

یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قَیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ (اٰل عمرٰن ۳:۱۹۱) جو اُٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔

ہمارا نماز میں بیٹھ کے، لیٹ کے، جھک کے ہر طریقے سے اللہ کو یاد کرنا وہی زندگی بنانے کے لیے ہے جس میں دل، دماغ، عمل ہر جگہ اللہ کی یاد ہمیشہ تازہ رہے۔

اس کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کا حکم ہے اور زکوٰۃ کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی دیا ہے وہ اس کی مرضی کے مطابق اس کے بندوں کے اوپر خرچ ہونا چاہیے۔ گویا نماز اللہ کی یاد سے متعلق ہے اور زکوٰۃ اس احساس کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال دیا ہے، اس میں بندوں کے حقوق ادا کرو اور اللہ کو مال سے زیادہ محبوب رکھو۔ اہلِ ایمان کے بارے میں فرمایا گیا ہے:     اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ (البقرہ۲:۱۷۷) ’’جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘

یوں گویا پوری زندگی، جان و مال ہی اسی لیے ہے کہ آدمی کو جو کچھ اللہ نے دیا ہے، جسمانی صلاحیتیں، قوت گفتار، تصنیف و تالیف کی صلاحیت، مال، وقت، محض اپنے لیے نہ ہو بلکہ دوسرے انسانوں کی فلاح و بہبود اور خدمت کے لیے بھی ہو۔

تیسرا ستون روزہ ہے جو اپنے نفس کے اوپر ضبط کی تربیت دیتا ہے اور چوتھا ستون حج ہے۔ یہ دراصل اللہ کی راہ میںنکلنا اور اللہ کی راہ میں اپنی محبوب ترین چیزیں قربان کرنا ہے، اور  اللہ کے دین کو دنیا کے اندر قائم و دائم اور غالب کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے عزم اور جذبے سے سرشار ہونا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کے لیے ہے۔

حج ایسی عبادت نہیں ہے کہ ہر ایک پر فرض ہو۔ اس کے لیے مال بھی چاہیے، صحت بھی چاہیے اور سفر کی سہولت بھی۔ اس کے بغیر کوئی آدمی اس کو ادا نہیں کر سکتا۔ نماز دن میں پانچ دفعہ   فرض ہے۔ زکوٰۃ سال میں ایک دفعہ فرض ہے۔ روزے سال میں ایک دفعہ ۳۰ دن کے لیے   فرض ہوتے ہیں، جب کہ حج پوری زندگی میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ اس کے بعد جو بھی حج ہے، وہ نفلی عبادت ہے۔

جب حج فرض ہوا اور حضوؐر نے مسجد نبویؐ میں اعلان فرمایا کہ تم پر ہر سال حج فرض کر دیا گیا ہے، تو ایک قبائلی سردار حضرت فرع بن حابسؓ کھڑے ہو گئے اور پوچھا کہ کیا یہ ہر سال فرض کیا گیا ہے؟ اس پر آپؐ خاموش رہے۔ انھوں نے دوسری بار پھر یہی سوال کیا۔ کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے؟ آپؐ  نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو پھر حج ہر سال فرض ہو جاتا اور پھر تم اس کو ادا نہیں کرسکتے تھے۔ پھر آپؐ  نے فرمایا کہ جو میں کہا کروں اس کو اسی پر چھوڑ دیا کرو ۔تم سے پہلے لوگوں نے ایسے ہی سوال کرکے دین کو بڑا مشکل بنا دیا تھا۔ پھر وہ اس پر چل نہیں سکے اور آپس میں اختلاف کیا۔ جو میں حکم دوں اس کو سنواور جتنا عمل کرسکتے ہو، اس پر عمل کرو۔ گویا نبی کریمؐ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ بہت سارے سوال کرکے کام کو اپنے لیے مشکل بنایا جائے۔ لہٰذا حج پوری زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے۔

حج، اللّٰہ سے والھانہ عشق

حج دراصل محبت اور عشق کی عبادت ہے اور یہ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے کہ ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ سے ہر چیز سے بڑھ کر محبت ہو۔

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ (البقرہ ۲:۱۶۵) ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔

اللہ سے محبت کوئی ایسا مقام نہیں ہے جو صرف صوفیاے کرام اور اولیاء اللہ کا مقام ہو، اور بڑے مقرب آدمی ہی کو اللہ سے محبت ہو سکتی ہو، بلکہ یہ تو ہر آدمی کو ہو سکتی ہے۔ ہر آدمی محبت سے واقف ہے اور ہر آدمی محبت کا مزہ چکھے ہوئے ہوتا ہے۔ جب کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو آدمی اس کے لیے دیوانہ وار کام کرتا ہے اور اس کے لیے اپنی پسندیدہ چیزیں تک قربان کرتا ہے۔ ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آدمی کو اللہ سے سب سے بڑھ کر محبت ہو۔ اسی بات کی ہدایت قرآن مجید میں کی گئی ہے کہ جو ایمان لائے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ پھراللہ سے محبت کو مزید کھول کے بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھاری بیویاں، تمھارے رشتہ دار اور تمھارے مال جو تم نے سینت سینت کے جمع کر رکھے ہیں، اور تمھارے وہ کاروبار اور ملازمتیں جن سے تم کماتے ہو، اور تمھارے وہ مکانات جو تم کو بڑے پسند ہیں، کوئی چیز بھی اگر اللہ اور اس کے رسولؐ [اب اللہ کے ساتھ اس کے رسول کا بھی تذکرہ ساتھ ساتھ کیا گیا ہے] اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہے تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔

اللہ کی محبت اس طرح کی محبت نہیں ہے جس طرح کی محبت آدمی دُنیا میں کرتا ہے، بلکہ اس میں تو اللہ کے رسول کی محبت بھی شامل ہے اور اللہ کا رسول دراصل اللہ کا نمایندہ اور دوسروں کے لیے اس کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ اس کی زندگی وہ زندگی ہے جو اللہ کو پسند اور محبوب ہے۔ اس کی اطاعت، اللہ کی اطاعت ہے۔ اس کا کہا ماننا دراصل اپنے محبوب کا کہا ماننا ہے۔ اس کے پیچھے چلنا، اپنے محبوب کے پیچھے چلنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ؐ کو خود حکم دیا:

قُل اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط (اٰل عمرٰن۳:۳۱) اے نبیؐ، لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھاری خطائوں سے درگزر فرمائے گا۔

لہٰذا حج اللہ سے محبت کی عبادت ہے، اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تیار کرنے کے لیے ہے۔

حج حضرت ابراہیم ؑ کی اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی بھی اسی محبت کو تازہ کرنے کے لیے ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ کی محبت میں جس طرح اپنے باپ کو چھوڑا، اپنا گھر بار چھوڑا، رشتہ داروں کو چھوڑا، ایک بیابان جنگل میں اپنے بیوی بچے کو لا بسایا، وہاں پر پتھروں سے اللہ کا گھر بنایا، یہ سب محبت کی علامت ہے۔ وہ جس طرح آتے تھے، اس گھر کے گرد چکر کاٹتے تھے، اس کو چومتے تھے، اس کو پیار کرتے تھے، یہ بھی محبت کی علامت ہے۔

تکمیلِ دین کا مرحلہ

حج، دین کی تکمیل کا نام ہے۔ قرآن مجید کے نزول کا آغاز رمضان المبارک میں ہوا۔ قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لیے اپنے نفس پر ضبط اور اس کے احکام کی اطاعت و پیروی ضروری ہے۔ اس قرآن کو لے کر کھڑے ہونا، اس کو دُنیا تک پہنچانا، اس کو غالب کرنا، دین کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔ دین کی تکمیل بھی حج کے موقع ہی پر ہوئی۔ حضوؐر حجِ وداع کے موقع پر عرفات کے میدان میںکھڑے تھے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرِضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط (المآئدہ ۵:۳) آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کر دیا ہے، اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔

اس آیت کا حج کے موقع پر نازل ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دین کی تکمیل کا رشتہ حج کے ساتھ وابستہ ہے۔ حضوؐر نے پوری زندگی میں صرف ایک بار حج کیا اور اس کے تین مہینے بعد آپؐکا وصال ہو گیا اور آپؐ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپؐ نے اپنے وصال سے پہلے حج کا فریضہ انجام دیا، اس کے سارے مناسک اور آداب اور مسائل لوگوں کو سکھائے اور یہ آپؐ ہی واضح کر سکتے تھے۔ اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر دین کی تکمیل بھی ہوگئی۔

دین کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب دین پوری زندگی میں غالب آ جائے اور پوری زندگی دین کے مطابق ہو۔ یہ مرحلہ اس وقت آیا جب لوگ دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور فتح عنایت فرمائی اور مکہ فتح ہوگیا اور بہ تدریج پورے عرب میں دین غالب آ گیا۔جب آپؐ مغلوب تھے، اس وقت آپؐ عمرے کے لیے تشریف لے گئے تھے۔    حج کے لیے آپؐتب نکلے جب پورا مکہ، مدینہ اور سارا عرب آپؐ کے زیر نگیں آگیا۔ اسلام کی حکومت قائم ہوگئی، دین غالب آگیا، لوگ گروہ در گروہ دین میں داخل ہونے لگے۔ سورۂ نصر میں اسی مرحلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب لوگ گروہ در گروہ دین میں داخل ہونے لگے تھے۔

حج، جھاد ھے

حج اس بات کی علامت ہے کہ محض ضبط نفس، نیکیاں کر لینا، نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا، اس سے دین مکمل نہیں ہوتا، بلکہ دین اس وقت مکمل ہوتا ہے جب آدمی اللہ کی راہ میں ان چیزوں کو چھوڑنے کے لیے تیار ہو جو اسے محبوب ہیں اور اس کے بغیر اللہ کی راہ میں جہاد نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید میں جہاں بھی جہاد فی سبیل اللہ کا لفظ آیا ہے، بعضوں نے اس کے معنی صرف اللہ کے لیے میدانِ جنگ میںجہاد کے لیے ہیں اور بعض نے اس میں حج کوبھی شامل کیا ہے۔ حج بھی جہاد سے ملتی جلتی عبادت ہے۔ حضوؐر نے فرمایا کہ میرے دین میں کوئی رہبانیت نہیں ہے۔ اگر رہبانیت دُنیا کا ترک ہے تو وہ حج میں اور جہاد فی سبیل اللہ میں ہے۔ آپؐ نے ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر فرمایا۔ گویا دُنیا کو چھوڑنا یا ترکِ دنیا اگر ہے تو یہ حج اور جہاد فی سبیل اللہ کے اندر ہے۔ لیکن دُنیا کے دوسرے تمام کام اسی طرح ہوں گے جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں لیکن اللہ کی مرضی کے لیے ہوں گے، اللہ کے حکم کے تحت ہوں گے۔ لہٰذا اسلام میں اگر کوئی رہبانیت ہے تو وہ حج اور جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کچھ نہیں ۔

گوشوں اور خانقاہوں میں بیٹھنے اور راتوں کو بیٹھ کر لمبے لمبے ذکر کرنے کی تعلیم آپؐ  نے نہیں دی۔آپؐ نے اس کو پسند نہیں فرمایا کہ کسی چیز کو لاکھوں بار پڑھا جائے۔ ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بڑے ثواب کا کام ہے، حضوؐرنے بڑا پسند کیا ہوگا کہ کسی کلمے کا لاکھ لاکھ ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ دفعہ ورد کیا جائے۔ ایسی کوئی حدیث نہیں ملتی کہ حضوؐر نے اس کثرت سے پڑھنے کی کوئی تعلیم دی ہو۔ آپؐ  نے زیادہ سے زیادہ سو دفعہ، دس دفعہ، سات دفعہ، یاتین دفعہ پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔

ایک بار حضوؐرکسی کام سے باہر نکلے۔ اس وقت حضرت جویریہؓ دانوں پر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ جب آپؐ واپس آئے تو وہ اسی میں مشغول تھیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ اتنی دیر میں کیا پڑھا؟ انھوں نے بتایا کہ میںتو تب سے یہ تسبیح پڑھ رہی ہوں اور آپ کاروبار میں مشغول تھے۔ آپؐ  نے فرمایا: میں نے اس عرصے میں صرف چار کلمات کہے ہیں اوریہ تمھاری ساری تسبیحات پر بھاری ہیں۔

اسلام نے رہبانیت کی تعلیم نہیں دی۔ اسلام چاہتا ہے کہ آدمی دُنیا میںمشغول رہے مگرہروقت اللہ کی رضا کواپنے سامنے رکھے۔ چنانچہ بہت سے علما نے کہا ہے کہ اگر آدمی ہزاروں اشرفیوں میں کھیلتا ہے، جائز کماتا ہے اور جائز خرچ کرتا ہے مگر دل اشرفیوں میں نہیں اٹکتا تو وہ سچا مومن ہے اور اس کے مقابلے میں ایک آدمی جھونپڑی میں بیٹھا ہے، اس کے پاس چندپیسے ہیں، اس کا دل ان پیسوں میں اٹکا ہوا ہے، اللہ کے پا س نہیں ہے تو وہ بڑا دُنیا دار ہے۔ یہ حکم ہے دُنیا کے بارے میں ۔ یہ ہے رہبانیت دین کو مکمل کرنے کے لیے ، دین کو غالب کرنے کے لیے۔ اس کے لیے ہی حج کی عبادت فرض کی گئی ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ عائد کیاگیا ہے۔

اللہ کی یاد، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، اپنے نفس کے اوپر ضبط کرنا اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے، اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے، اس مشن کو پورا کرنے کے لیے جو اللہ نے اپنے رسولوں کے سپرد کیا، اس کے لیے گھر بار چھوڑنا، گھر سے نکلنا اور اپنے معمولاتِ زندگی چھوڑ دینا اور کہیں اور سفر کرکے جانا___ حج کے ذریعے ان سب پہلوئوں سے تربیت کی جاتی ہے۔

حج کا اھم ترین فرض

حج کی عبادت میں، کوئی چیز پڑھنا ضروری نہیں ہے جس طرح نماز اور دیگر عبادات میں ہے۔ حج کے فرائض صرف تین ہیں۔ ان میں کوئی بھی چیز پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ آدمی عرفات میں حاضر ہو جائے، یعنی گھر سے نکلے، سفر کرے، میقات پر احرام باندھے اور عرفات کے میدان میں پہنچ جائے۔ اور جو شخص عرفات کے میدان میں سورج نکلنے سے لے کر بعض کے نزدیک سورج غروب ہونے تک اور بعض کے نزدیک اگلے دن فجر تک پہنچ گیا، اس کا حج ہو گیا اور جو نہیں پہنچا، اس کو اگلے سال حج کے لیے دوبارہ آنا پڑے گا۔ ہر چیز کی قضا ہوسکتی ہے، ہر چیز کا مداوا ہے، ہر چیز کا علاج ہے، آدمی سے طواف چھوٹ گیا بعد میں کر لے، قربانی بعد میں دے دے لیکن عرفات کے میدان میں حاضری کی کوئی قضا نہیں ہے۔ اگلے سال لازماً پھر آنا پڑے گا۔ کسی قربانی سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے کہ لوگ گھروں سے نکلیں، سفرکریں، بیوی بچوں کو چھوڑیں، کاروبار چھوڑیں، ملازمت چھوڑیں، اور اس کے دربار میں کھڑے ہوکے واپس چلے جائیں۔ صرف حاضری دیں اور کچھ نہ کریں۔ اگر آدمی میدانِ عرفات میں سے ایک منٹ بھی گزارے تو اس کا حج ہو جاتا ہے اور اگر کسی وجہ سے نہیں پہنچ پاتا تو اس کا حج نہیں ہوتا ہے۔

یہ حج کا پہلا اہم ترین فرض ہے۔ پھر اس کے ساتھ بہت ساری چیزیں اور مناسک ہیں لیکن حج کا رکنِ اعظم یہی ہے کہ آدمی گھر بار چھوڑ کر نکلے، مال بھی خرچ کرے، مشقت بھی اُٹھائے، سفر بھی کرے اور میدانِ عرفات میں حاضری دے کر واپس چلا جائے۔ دیگر فرائض بھی ہیں، قربانی ہے، طواف ہے لیکن پورے حج کا انحصار اسی پر ہے۔ گویا مسلمانوں کا ایک میدان میں جمع ہونا،  اللہ کے دربار میں حاضری دینا، یہ اللہ کو اتنا محبوب ہے کہ یہ حج کا اہم ترین فرض ہے۔ ا س لیے کہ  یہ اس کی محبت کی علامت ہے۔ یہ محبت ہی تو ہے کہ آدمی اپنے گھر سے نکلے، اپنا لباس اتار دے،  دو چادروں میں ملبوس ہو جائے، سفر کرے، اپنے محبوب کے گھر پر پہنچ جائے، اس کے گھر کے گرد دیوانوں کی طرح گھومے، اسے بوسا دے، چومے اور لپٹ لپٹ جائے اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں۔

ہم سب اردو شاعری سے واقف ہیں۔ محبوب کی گلی میں جانا، اس کے در پر حاضر ہونا،  اس کی گلی کے چکر کاٹنا، یہ سب محبت کے وہ محاورے ہیں جو ہمارے شعرا نے باندھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اللہ کے گھر جانا، اس کے گھر کے درودیوار سے لپٹ کے دُعا کرنا، اس کے گھر کے پردے سے لپٹ جانا، اس کے در پر جا کے کھڑے ہو جانا، اس سے منہ لگانا، گال لگانا، پیار کرنا اور پتھر کو چومنا، بوسا دینا، سینے سے لگانا، یہ سب بھی اللہ تعالیٰ سے والہانہ محبت اور عشق کا اظہار اور اس کی علامات ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے، کسی ایک گھر میں نہیں بیٹھا ہوا ہے، کسی ایک پتھر سے وابستہ نہیں ہے۔ اس نے علامتیں مقرر اسی لیے کیں تاکہ آدمی اس سے محبت کا اظہار کر سکے، اس سے والہانہ عشق کر سکے۔ اسی لیے اس نے کہا کہ یہاں آئو، اسی گھر کے گرد چکر لگائو، اس کو چومو اور پیار کرو اور اس کے بعد پھر اپنے محبوب کے حکم کی تکمیل میں عرفات کے میدان میں پہنچ کر حاضری دو۔

حج کے موقع پر قربانی بھی دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اگر آدمی کواللہ کی راہ میں خون بہانا پڑے، اپنی جان دینی پڑے، اپنے محبوب بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا پڑے تووہ اس سے دریغ نہیں کرے گا اور سر کٹوانے کے لیے تیار ہوگا، اس لیے کہ یہ سر اس کا دیا ہوا ہے۔ سر محبوب کے قدموں پر نثار کر دے، قربان کر دے۔ جب بھی اس کی راہ میں قربانی دینا پڑے،  مال کی، وقت کی، جذبات کی، محبتوں کی، وہ قربانی دی جائے۔ یہی اسوۂ ابراہیمی ؑ ہے اوریہی حج کا منشاو مقصود ہے۔ اسی لیے یہ ایسی عبادت ہے کہ اگر آدمی عمر میں صرف ایک دفعہ بھی کرلے تو بھی یہ اس کے لیے کافی ہے۔ یہ دوا کی اتنی بڑی خوراک ہے اورتربیت کا اتنا اہم ذریعہ ہے کہ اگر آدمی اس کو واقعی انجام دے لے، تو اس کی پوری زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل سکتی ہے۔

اسوۂ ابراھیمی کی یاد

حج حضرت ابراہیم ؑ کی محبت و قربانی کی یاد گار ہے۔ حج کے جتنے مناسک ہیں، اسی کی یاد میں ہیں۔ صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم ؑ نے کی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو پہلی عبادت گاہ قرار دیا ہے جو انسانوں کے لیے زمین پر تعمیر کی گئی۔

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰـرَکًا وَّہُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ فِیْہِ اٰیٰتٌم بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰھِیْمَ وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ط (اٰل عمرٰن۳:۹۶-۹۷)    بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے۔ اس کو خیر وبرکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیا تھا۔ اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم ؑ کا مقامِ عبادت ہے، اور اُس کا حال یہ ہے کہ جواس میں داخل ہوا، مامون ہوگیا۔

لہٰذا یہ پہلا گھر ہے جو اللہ کے لیے بنایا گیا ہے اور سارے انبیاؑ نے اس کا حج کیا ہے۔

جب حضوؐرآخری حج کے لیے جا رہے تھے، ایک جگہ رُک کر آپؐ نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ کرامؓ نے وادی کا نام لیا تو آپؐ نے کہا کہ میں گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ حضرت یونس ؑ جن کے گھنگریالے بال ہیں، سفید کپڑے پہنے ہوئے لبیک کہتے ہوئے جا رہے ہیں۔ حضرت یونس ؑ کا زمانہ توبہت پرانا تھا۔ آپؐ نے کہا کہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ جار ہے ہیں اور یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ آپؐ  نے ان انبیاے کرام کے نام بھی لیے جو بہت پہلے گزرے تھے کہ انھوں نے یہاں حج کیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد کے لیے تو مرکز یہی تھا۔ اب تورات میں تحریف ہو گئی ہے اور قربانی کی جگہ کا نام مورولکھا ہوا ہے لیکن اصل مروہ ہے۔ مروہ کے مقام پر حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی دی گئی تھی۔ تورات میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے اکلوتے بیٹے حضرت اسحاقؑ کی قربانی دی گئی تھی حالانکہ حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی دی گئی تھی۔ قرآن مجید میں اس واقعے کا تذکرہ کیا گیا ہے اگرچہ قرآن ان بحثوں میں نہیں الجھتا کہ صحیح نام کیا ہے لیکن یہ واضح کیا ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کی گئی ہے۔

حضرت ابراہیم ؑ نے اس کو اپنا گھر بنایا۔ مقامِ ابراہیم ؑ اور وہ پتھر آج بھی موجودہے جہاں کھڑے ہو کر آپ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ آپ کی اہلیہ یہاں رہتی تھیں، آپ کا بچہ یہاں پر رہتا تھا اور جہاں آدمی کے بیوی بچے رہتے ہوں، وہ اس کا گھر بھی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے خانہ کعبہ آپ کا گھر بھی تھا۔ مقامِ ابراہیم سے ایک مراد حضرت ابراہیم ؑ کے قیام کی جگہ بھی ہے، اور یہاں لا کر آپ نے اپنی اولاد کو بسایا تھا۔ لہٰذا تاریخی حوالے سے بھی یہ اللہ کا قدیم ترین گھر ہے، اور پھر قرآن مجید کی شہادت تو کسی روایت کی محتاج نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی تاریخی حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ یہ پہلا گھر ہے جو خدا کی بندگی کے لیے بنایا گیا ہے اور وہ مکے میں ہے۔ مکہ کا پہلا نام بکہ تھا اور تورات میں اور حضرت دائود ؑ کے نغموں میں اس کا نام بکہ ہی لکھا ہے۔ وادی بکہ، اس سے لگائو، اس کے عشق میں وہاں پر جائوں اور اس کی زیارت کروں اور خیموں میں ٹھہروں… یہ سارے گیت تورات کے اندر موجود ہیں۔ بکہ اور خانہ کعبہ سے متعلق بہت سے بیانات تورات انجیل میں ملتے ہیں، جن کو لوگ نہیں مانتے، تسلیم نہیں کرتے لیکن اس کا ذکر نام کے ساتھ موجود ہے۔ خدا کے پہلے گھر کو حضرت ابراہیم ؑ نے دوبارہ تعمیر کیا اور ان بنیادوں پر تعمیر کیا جن بنیادوں پر اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی۔ قرآن مجید نے اس تعمیر کا نقشہ کھینچا ہے:

وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوْاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ ط (البقرہ ۲:۱۲۷)اور یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے۔

اس پورے منظر کی تصویر کھینچ کر سامنے رکھ دی ہے کہ دونوں باپ بیٹے مزدور کی طرح لگے ہوئے ہیں، کام کر رہے ہیں، بیٹا پتھر لا لا کے دے رہا ہے اور باپ ایک ایک پتھر رکھتا جارہا ہے اور اس گھر کی تعمیر ہو رہی ہے جس کی مثال اور نظیر دُنیا کے کسی اور گھر کی نہیںہے۔

بندگی کی معراج

یہ گھر اس بات کی علامت ہے کہ یہ مرکزِ رشدو ہدایت ہے۔ نماز میں پانچ وقت [اسی طرف] رُخ کرنے کا حکم بھی اسی لیے ہے کہ یہ اللہ کا گھر ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی مثال کے ذریعے سے ا س بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو اس گھر کے رب کو اپنا رب بنا لیتا ہے تو اللہ اس کو کیا مقام عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانا تو اللہ نے ان کو کتنا اونچا مقام دیا۔ سارے انسانوں کا امام بنا دیا۔ عیسائی، یہودی، مسلمان تینوں ان کو اپنا امام مانتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ برہمن کا لفظ بھی ابراہیم سے نکلا ہے۔ ابراہیم سے اس لیے کہ ’ب رھ م‘ یہ مادہ عربی زبان میں اور عبرانی زبان میں ایک ہی لفظ کا ہے۔ ہر مذہب کی جڑ جا کر انھی تک پہنچتی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو ساری دُنیا کا امام بنا دیا۔

ایک عورت جس نے اللہ پربھروسا کیا، جو یکا و تنہا تھی، جس کا کوئی سہارا نہیں تھا، اس کا ایک بیٹا جو دودھ پیتا بچہ تھا، ان کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے جب انھیں یہاں پر چھوڑا تو حضرت ہاجرہ نے پوچھا کہ آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ انھوں نے پلٹ کے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ آپؐ کو اس کا حکم اللہ نے دیا ہے؟ کہنے لگے: ہاں، اللہ نے حکم دیا ہے۔ اس پر وہ مطمئن ہو گئیں اور مزید کوئی سوال نہیں کیا اور اللہ کی ذات پر بھروسا کر لیا۔ حضرت ابراہیم ؑبھی بالکل مطمئن واپس آ گئے۔ یہ اللہ پر بھروسے کا نتیجہ ہی تھا کہ اللہ نے لق ودق صحرا میں ان کی زندگی کا سامان کر دیا، زم زم جاری کر دیا اور پھر اپنی اس بندی کی اس محبت و اطاعت کو حج کا رکن بنا کر ہمیشہ کے لیے جاری وساری کر دیا۔

خدا پر بھروسا اور ا س کی اطاعت، یہی دراصل دین کی روح ہے۔ اسی لیے نماز میں جواطاعت کی مظہر ہے، ہم خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ سبق ذہن میں ہر وقت تازہ ہونا چاہیے کہ گھر سامنے موجود ہے۔ اگرچہ نگاہوں کے سامنے تونہیںہے لیکن تصور میںموجود رہنا چاہیے۔ یہ اتنا ضروری ہے کہ اگر قبلے کی طرف رخ نہ ہو تونماز نہیں ہوتی۔ قبلہ کی طرف رخ کرنا بنیادی شرائط نماز میں سے ہے۔ حکم ہے کہ اگر قبلہ نامعلوم ہو توآدمی اندازے سے رخ کا تعین کرے اور جب صحیح رخ معلوم ہو جائے توبغیر کسی توقف کے فوراً اپنا رخ درست کرلے۔ جب حضوؐر کو تحویل قبلہ کا حکم آیا تو آپؐ  شمال کی طرف جدھر بیت المقدس تھا منہ کیے ہوئے تھے، جیسے ہی تحویل قبلہ کا حکم آیا تو آپؐ نے فوراً ۱۸۰ ڈگری پھیر کر مکہ کی طرف اپنا رخ کرلیا۔

قبلے کی طرف رخ کرنے کا حکم، پانچ وقت نماز میں رخ کرنا اور حج کے موقع پر حاجی کا اللہ کے گھر کی طرف جانا، یہ اللہ پر بھروسے، اس پر توکل، اس پر اعتماد اور حکم ملتے ہی بلا دھڑک   اس کی اطاعت کرنے کا نام ہے۔ یہی حضرت ابراہیم ؑ کی محبت کی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:

اِذْا قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ لا قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (البقرہ ۲:۱۳۱) اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا! مسلم ہو جا تو اس نے فوراً کہا: میں مالکِ کائنات کا ’مسلم ‘ہوگیا۔

بے لاگ اطاعت کی مشق

اللہ کی اطاعت ایک مسلمان کی شانِ بندگی ہونی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ لبیک لبیک کہتے ہوئے، سفید لباس پہنے ہوئے، لاکھوں کی تعداد میں خانہ کعبہ جاتے ہیں لیکن اگر زندگی میںکوئی معاملہ اطاعت کا آ جائے تو منہ سے لبیک نہیں نکلتا، اور عمل سے تو بالکل ہی نہیں نکلتا ۔ وہ بڑے بڑے روساے حکومت جو احرام باندھ کر جاتے ہیں اور خانہ کعبہ میں گھس کر اپنی داد وصول کرتے ہیں اور مسجد نبویؐ کے اندر بھی روضہ مبارک کے اندر پہنچائے جاتے ہیں، کھلم کھلا احکامِ الٰہی کا انکار کرتے ہیں اور مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں لیکن یہاں ان کے منہ سے لبیک نہیںنکلتا۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے حج کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ ادھر آئو اور اللہ سے اپنی محبت کو تازہ کرو۔ ماں باپ، بیوی بچے، رشتہ دار، تجارت، مال و دولت، مکان کوئی چیز بھی اللہ اور اس کے رسولؐ سے بڑھ کر محبوب  نہیں ہونی چاہیے۔ نبی کریمؐ نے بھی اپنی محبت کے لیے ایسا ہی مطالبہ کیا ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے والدین، جان و مال اور ہر چیز سے بڑھ کر پیارا اور محبوب نہ ہوجائوں۔

عبادت بالخصوص حج دراصل اللہ کی محبت کی علامت ہے۔ یہ جہاد کے لیے تیاری کرنے کی علامت ہے۔ اس اُمت کے زوال کا اصل سبب بھی یہی ہے کہ اس نے اس مقصد کے لیے جہاد کو ترک کر دیا جس کے لیے اللہ نے اس کو پیدا کیا تھا۔ ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ دُنیا اتنی محبوب ہو جائے اور موت سے آدمی ڈرنے لگے تو پھر کافر قومیں تم پر اس طرح ٹوٹیں گی جس طرح بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

لوگوں نے پوچھا کہ کیا ہم تعداد میں کم ہوں گے؟آپؐ نے کہا: نہیں تم درخت کے پتوں اور ریگستان کے ذروں کے برابر ہوگے۔ لیکن دیگرقوموں کے لیے ترنوالہ ہو گے۔ جو چاہے گا تم پر ظلم ڈھائے گا۔پھر لوگوں نے پوچھا: کہ یہ کیوں ہوگا؟آپؐ نے فرمایا: وَہن پیدا جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا: وَہن کیا ہے؟آپؐ نے فرمایا: دُنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔

یہ اس مقصد فراموشی ہی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمان سوا ارب سے زیادہ کی تعداد میں ہیں کہ دُنیا کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہے لیکن دشمن قومیں ہم پر بھوکوں کی طرح ٹوٹ پڑی ہیں۔ بوسنیا،چیچنیا، فلسطین، کشمیر [اور اب افغانستان، عراق، پاکستان] میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔ اس کے مداوے کی بھی اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ وہن سے نجات حاصل کی جائے، خدا کی بے لاگ اطاعت ہو اور اس سے محبت و عشق کا والہانہ اظہار کیا جائے۔ حج کے ذریعے سے اسی پیغام کو تازہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جب آدمی حج کے لیے جاتا ہے تو اسی محبت سے بے قرار ہو کے جاتا ہے۔ کوئی کام نہیں کرتا سواے اس کے کہ میدان میں پہنچ کر حاضری دے جس طرح میدانِ جنگ میں جا کر آدمی لڑتا ہے۔ یہ ویسی ہی مشق ہے جس طرح پریڈ میں آدمی کرتا ہے کہ بگل بجتے ہی آدمی ہر کونے سے دوڑا چلا آتا ہے۔ اس کا مقصد صرف حاضری دینا اور واپس چلے جانا ہوتا ہے اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ اگر کوئی نہ آئے تو اس کا کورٹ مارشل ہو جاتا ہے، اس کو ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے۔ اسی طرح حج کے موقع پر حاضری بھی اسی بات کی علامت ہے کہ جب پکارا جائے: ’’آجائو، اطاعت کرو‘‘، تو سب کچھ لا کے حاضر کردو۔ اس بات کی عملی تربیت حج کے ذریعے دی گئی ہے۔

حج اتنی عظیم عبادت ہے کہ محبت، عشق، قربانی اور حضرت ابراہیم ؑ کی طرح سب کچھ ترک کرنا، اسی پر بھروسا کرنا، اسی پر توکل کرنا، یہ سب صفات اس سے پیدا ہوتی ہیں۔

نبی کریمؐ کے مشن کے لیے تڑپ!

اب تو حج بڑی کثرت سے ہوتا ہے۔ لوگ ہر سال حج کے لیے بھی جاتے ہیں اور برابر عمرے کے لیے بھی جاتے ہیں لیکن حج کی عبادت کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس بات کی تربیت ہو کہ جہاں آدمی ہو، وہ کام کرے جس کے لیے حضوؐر تشریف لائے تھے۔ اس کام کے مکمل ہونے کی داستان مکہ کے ایک ایک پتھر اور ایک ایک سنگریزے کے اوپر لکھی ہوئی ہے۔ جو وہاں پر جائے اس پوری داستان کو پڑھے۔ لیکن جو شخص طواف کرے اور واپس آ جائے اوراس کے دل میں کوئی شوق پیدا نہ ہو کہ میں بھی وہی کام کروں جو حضوؐرنے کیا ہے تو اس نے حج سے کچھ حاصل نہیں کیا۔

ایک آدمی ہر سال حج کے لیے جاتا ہے، عمرے کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ ایک لاکھ کا ثواب مجھے مل رہا ہے، تو یہ ثواب محض ترغیب کے لیے ہے۔ اگر صحابہؓ کو معلوم ہوتا کہ یہی اصل چیز ہے تو وہ مدینہ چھوڑ کر ہی نہ نکلتے کہ مسجد نبویؐ میں نماز ادا کرنے کے نتیجے میں ہمیںہر وقت پچاس ہزار نماز کا ثواب مل رہا ہے، یا مکہ میں جا کر بیٹھ جاتے کہ یہاں تو ایک لاکھ نماز کا ثواب ہے اور تواتر سے ہر سال عمرہ اور حج کرتے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ خود نبی کریمؐ جب حج کے لیے آئے، امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں کہ آپؐ  آئے اور عمرہ کرکے واپس اپنی قیام گاہ میں چلے گئے جو مکہ کے بالائی حصے میں تھی۔ اس کے بعد جب تک آپؐ مکہ میں رہے، طواف اور نماز کے لیے حرم میں نہیں آئے۔ ۴ تاریخ کو آپؐ مکہ آئے تھے اور ۸ تاریخ کو آپؐ مکہ سے نکلے تھے۔ حج کے لیے منیٰ کی طرف گئے اور پھرآپؐ نے آکر طواف نہیں کیا اور حرم میں نماز نہیں پڑھی۔ آپؐ  حجراسود کو چومنے کے لیے آگے بڑھے۔ آپؐ  اپنی چھڑی سے اشارہ کرتے تھے اور اونٹنی پر سوار ہو کے آپؐ نے طواف کیا۔ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ خواہ مخواہ کی بھاگ دوڑ ضروری نہیں ہے۔ آدمی جو کچھ سہولت سے کرسکتا ہو، وہی کرے۔ اصل تو حج کا سبق ہے، یعنی محبت کا، قربانی کا، عشق کا اور وہ کام کرنے کا جو حضوؐر نے انجام دیا ہے۔

آج لوگ فرائض چھوڑ کر نوافل کی طرف دوڑتے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ ایک کروڑ نفل بھی ادا کرلیے جائیں تو وہ ایک سنت ایک فرض کے برابر نہیں ہوسکتے۔ اس کا وہ مقام نہیں ہو سکے گا جو مقام فرض اور سنت کا ہے۔ اس لیے کہ وہ نفل ہے۔ سب سے بڑا فرض تو شریعت پر عمل اور اس کا نفاذ ہے۔ ایک سنت کو بھی اگر آدمی زندہ کرے اوراگر سنتیں مٹ گئی ہوں تو اس کا اتنا ثواب ہے کہ ایک کروڑ نفل ادا کر کے بھی نہیںمل سکتا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ لوگ ہر سال حج کو جاتے ہیں، عمرے کو جاتے ہیں، لیکن ایک پائی بھی دین کو قائم کرنے کے لیے اور فریضہ    امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے جیب سے نہیں نکلتی۔

حضرت شفیق بلخیؒ کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا میرے پاس پیسہ جمع ہے اورمیں حج کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا پہلے حج کر چکے ہو؟ وہ کہنے لگا کہ ہاں کر چکا ہوں اور اب پھر جانا چاہتا ہوں۔ حضرت شفیق بلخیؒنے فرمایا کہ میں جو بات تمھیں بتائوں گا، تم اس کو نہیں مانو گے۔ وہ کہنے لگا:نہیں، آپ مجھے بتائیں، جو کچھ آپ بتائیں گے، میںوہی کروں گا۔ وہ کہنے لگے کے تمھارے محلے کے ایسے لوگ جو غریب ہیں، بھوکے ہیں اورضروریات زندگی سے محروم ہیں، یہ پیسہ جو تم نے حج کے لیے جمع کیا ہے، وہ انھیں دے دو۔ اس لیے کہ غریب کی مدد کرنا تو فرض ہے، اللہ کے دین کو قائم کرنا فرض ہے۔ وہ کہنے لگے تم حج کو نہ جائو۔ اس نے کہا: نہیں، میں تو حج کو ہی جائوں گا۔ میں نہیں مانوں گا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی تم کو کہا تھاکہ میںجو مشورہ تم کو دوں گا، تم اس کو نہیں مانو گے۔ اس لیے آدمی سمجھتا ہے کہ نفلی حج کرنا ہی بڑی عبادت ہے۔

درحقیقت اصل عبادت یہ ہے کہ آدمی اپنے مقام پر ان فرائض کو ادا کرے جو اللہ نے فرض کیے ہیں۔ یہ فرائض حقوق میں بھی ہیں اور دین میں بھی۔ ان چیزوں سے بچا جائے جو اللہ نے حرام کی ہیں۔ نماز، روزہ اور حج، اسی ترغیب کے لیے ہیں۔

حج کے حوالے سے ایک پہلو ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو حج کے لیے نہیں جا سکتے۔   دل کی تمنا، شوق، تڑپ اور محبت تو ایسی چیز ہے کہ یہ جتنی وصال میں ہے، اس سے زیادہ ہجر میں ہوتی ہے۔ محبوب سے دُور رہنا، اس کی محبت میں آنسو بہانا، اس کی یاد میںتڑپنا، یہ اس سے زیادہ محبوب ہوگا کہ یہاں وہ تڑپتا رہے، اسی کی آرزو میں آنسو بہاتا رہے اور اپنا مال اور وقت اس کے دین کی سربلندی کے لیے خرچ کرتا رہے۔ یہ اس کے لیے سب سے بڑی محبوب چیزہوگی۔    لیکن اللہ نے محبت کے جو راستے بتائے ہیں، ہم ان کو چھوڑ کر ان راستوں کے پیچھے جاتے ہیں   جو ہمارے دل پسند راستے ہیں کہ وہاں چلے جائیں، زیارت کرکے واپس آئیں اوراس طرح   خدا کی محبت کا حق ادا ہو جائے گا۔ حج کے حوالے سے یہ پہلو بھی غور طلب ہے۔ اگر ہم اس پر    غور کریں تو اللہ کا دین جو مٹ رہا ہے، اللہ کے بندے جو پریشان حال ہیں، یقیناان سب  کے لیے وسائل کی ایک بڑی مقدار میسر آئے گی اور خدا کی محبت کا حق بھی بہتر طور پر ادا ہوسکے  گا۔ (کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)

 

۔

حالاتِ حاضرہ پر تحریر ۱۵ سال میں پرانی ہوجانا چاہیے، لیکن محترم خرم مراد کی یہ تحریر پڑھیں تو بالکل آج کی تحریر معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی تشخیص کی ہے اور نسخۂ شفا تجویز کیا ہے۔ لیکن شفا کے لیے شرط نسخے کے استعمال کی ہے۔ (ادارہ)

موجودہ پاکستان اور ہماری ذمہ داریوں کے حوالے سے اگر مختصراً جائزہ لیا جائے تو اس کے دو پہلو ہیں۔پہلے ایک نظر موجودہ پاکستان پر ڈالنا ضروری ہے، اور پھر اس کے حوالے سے ہم اور آپ کیا کر سکتے ہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

موجودہ پاکستان اُس پاکستان سے بالکل مختلف ہے جو ۱۹۴۷ء میں معرض وجود میں آیا تھا، جغرافیائی طور پر بھی اور معنوی و روحانی طور پر بھی۔ یہ وہ پاکستان بھی نہیں ہے جس کا خواب دیکھ کر برعظیم کے مسلمانوں نے خاک وخون کے دریا سے گزر کر پاکستان کو وجود بخشا تھا۔ جغرافیائی طور پر اپنے وجود کے لحاظ سے جو پاکستان ۱۹۴۷ء میں تھا، وہ دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ اب اس کا آدھا حصہ ہے جو اس وقت پاکستان کے نام سے موجود ہے۔ اس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ، بلکہ اکثریتی حصہ پاکستان سے الگ ہوچکاہے۔ جس دھڑکے دو حصے ہو جائیں وہ خود اپنی جگہ پر اس بات کی علامت ہے کہ وہ شدید انتشار اور مسائل سے دو چار ہے۔

معنوی اعتبار سے جب پاکستان وجود میں آیا تھا تو عزائم اور امیدوں کے خزانے لوگوں کے دلوں میںموج زن تھے۔ مگر منزل کی طرف پیش رفت کے لیے جو ہمتیں اور حوصلے اور جوجذبے اور آرزوئیں اُس وقت عوام کے دلوں میں موج زن تھیں، آج وہ ناپیدہیں۔ ان کی جگہ ایک مایوسی، قنوطیت، بے ہمتی اور بے حوصلگی کی کیفیت ہے۔

جب پاکستان وجود میں آیا تواس وقت عزائم بلند تھے، امنگیں توانا تھیںاور بازوئوں اور دلوں میں جذبہ اور قوت تھی۔ آج جدھر بھی چلے جائیں___ میں نے اس ملک کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا حوالہ دیا ہے___ لوگ سنجیدگی سے پوچھتے ہیں اوران کو پوچھنے کا حق ہے___  اس لیے کہ ماضی ان کی نگاہوں کے سامنے ہے___ کیا پاکستان سلامت رہے گا؟ اندر اور باہر کے لوگ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اس پاکستان کا سلامت رہنا ناممکن نہیں تومشکل ضرور ہے۔

وہ پاکستان جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا کہ یہ ملت اسلامیہ کی امنگوں کا ترجمان اور مظہر ہوگا، یہاں زندگی اس تہذیب و ثقافت، اس عقیدے اور ایمان اور اس نظام کے مطابق تشکیل پائے گی جو بحیثیت مسلمان ہمارا نظام ہے، مگر وہ منزل بظاہر آج قریب نہیں، بلکہ دور نظر آتی ہے۔

اگر ہم معنوی طور پر دیکھیں تو یہ کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ ملک ہمارے لیے ایک کشتی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں ہم سب کشتی کے مسافر کی طرح سوار ہیں۔ اس کو جو حادثہ پیش آئے گا اس میں ہم برابر کے شریک ہوں گے۔ یہ کشتی ایک ایسے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے کہ اس کا تختہ تختہ  ہل رہا ہے۔ جو لوگ اخلاقی اور دینی حوالے سے اپنے آپ کو بلند اور اس کشتی کے پاکیزہ حصے سے متعلق سمجھتے ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ نچلے حصے کے لوگ، اور نچلے حصے سے مراد طبقاتی یا مادی یا علمی نچلا پن نہیں ہے بلکہ اخلاقی اور ایمانی لحاظ سے جو لوگ نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس کشتی میں چھید کر رہے ہیں۔پانی اندر آرہا ہے، کشتی پانی سے بھر رہی ہے اور جوکشتی پانی سے بھر جائے، اس کی سلامتی مخدوش ہو جاتی ہے، بلکہ وہ تباہ و برباد ہو سکتی ہے اور سمندر کی نذر ہوسکتی ہے۔

یہی کیفیت ہمارے ملک کی ہے۔ یہ نچلا طبقہ جس میں ان مناصب پر بھی لوگ فائز ہیں جو پاکستان کے اعلیٰ ترین مناصب ہیں، اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو لائن مین ہوں یا میٹر ریڈر، سٹرک پر کھڑا ہوا کانسٹیبل ہو یا پٹواری جو زمین کی حدبندی کرتا ہے___ہر شخص اور ان کی بہت بڑی تعداد کشتی میں چھید کرنے میں مصروف ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ قانون نام کی چیز کتابوں میں پائی جاتی ہے لیکن قانون کی پابندی سے ہر ایک اپنے آپ کو بالاتر سمجھتا ہے۔ صدر ریاست بھی قانون توڑتے ہیں، کمانڈر انچیف بھی قانون توڑتے ہیں، وزیراعظم بھی قانون توڑتے ہیں، سول سرونٹ بھی قانون توڑتے ہیں، اور خود قانون کے محافظ، قانون کے نگراں، قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی قانون توڑتے ہیں۔ قانون شکنی اس ملک کا ایک عام رواج ہے اور قانون کی پابندی ایک استثنا ہے جو بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔

سیاسی طور پر یہ ملک اس قدر غیر مستحکم ہے کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود بھی کسی حکومت کے بارے میں یہ اعتبار نہیں ہوتاکہ وہ قائم رہے گی، اور اپنے مقام پر اپنے فرائض انجام دے سکے گی۔ پچھلے چند انتخابات ہمارے سامنے ہیں اور وہ حکومتیں جو بظاہر بڑی مستحکم رہی ہیں جو  قوت اور اسلحے کے بل پر قائم ہوئیں، وہ جب رخصت ہوئیں تو ملک کو مزید غیرمستحکم کرکے رخصت ہوئیں۔ سید مودودیؒ کے الفاظ میں: گویا کہ مین ہول یا گٹر پر ڈھکن رکھا ہوا تھا اور پانچ پانچ، دس دس سال کے اندر جو گندگی اور سٹراند جمع ہوتی رہی، وہ لوگ دیکھ نہیں سکے تھے لیکن جیسے ہی حکمران رخصت ہوئے، وہ منظر عام پر آگئی۔

پہلی ۱۰سالہ جبری حکومت رخصت ہوئی تو تحفے میں ملک کی تقسیم اور پیپلز پارٹی کی حکومت کا تحفہ دے کر گئی۔ ملک دو لخت ہو گیا اور پاکستان کی باگ ڈورپیپلز پارٹی کے ہاتھ میں آگئی۔

دوسری حکومت رخصت ہوئی تو مسلسل چھے سال تک زلزلے کا عالم ملک کے سیاسی نظام پر طاری رہا۔ معاشی گرانی اور بے روزگاری نے کمر توڑ کر رکھ دی اور عالمی امداد کی آڑ میں پاکستان کو بھکاری بنا کر رکھ دیا گیا۔

پہلے ہی دن سے گداگری کو پاکستان کا شیوہ بنا دیا گیا۔ بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ پاکستان بننے کے دو ماہ بعد پاکستان کے پہلے گورنرجنرل کا سفیر، واشنگٹن خیرات کی درخواست لے کر پہنچا اور اس زمانے میں دوہزار ارب ڈالر کی امداد دی گئی۔ یہ اتنی بڑی رقم تھی کہ اس کے ملنے کا خواب بھی آدمی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کے بدلے میں یہ یقین دلایا گیا کہ اس علاقے میں امریکا کے مفادات کے ہم محافظ ہیں ، اور اس کے جو سامراجی بین الاقوامی عزائم ہیں، ان کی تکمیل کا ذریعہ بنیں گے۔ اس امداد کے لیے جن اشیا کی فہرست دی گئی تھی، اس کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اس لیے کہ اسی میں سپاہیوں کی تنخواہیں بھی امداد کے طور پر امریکا سے طلب کی گئی تھیں۔   اس سے انکار نہیں ہے کہ پاکستان جس بے سروسامانی اور کس مپرسی کے عالم میں وجود میں آیا تھا، ان حالات میںشاید باہر سے امداد لینا ضروری ہوتا لیکن امداد لینے والوں اور خیرات لینے والوں نے امداد کے نام پر اس ملک کی آزادی کو آزاد ہوتے ہی بیرونی قوتوں کے ہاتھ میں گروی اور رہن رکھ دیا۔ سیاسی طور پر ان کا سفیر یہاں کا وائسراے کہلانے لگا، اورمعاشی طور پر امداد کے سنہرے جال میں ہمارا بال بال بندھ گیا۔ یہاں تک کہ آج جو کچھ بھی ہم بجٹ میں بھاری ٹیکس لگا کروصول کرتے ہیں اس کا بڑا حصہ قرضوں کی ادایگی میں ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے بجٹ کا یہ بڑا حصہ ابتدا ہی سے ترقیاتی کاموں پر لگاتے تو وہ رقم اس سے کہیں زیادہ ہوتی جو ہم نے امداد کے طور پر حاصل کی۔ پھر قرض کا یہ تناسب بڑھتاچلا جائے گا اور ایک وقت آئے گا کہ شاید پوری آمدنی دے کر بھی ہماری جان نہیں چھوٹے گی۔

دوسری طر ف اس الزام کے باوجود کہ ہم بجٹ کا۳۷ فی صد اسلحے اور فوج پر خرچ کرتے ہیں، یہ حقیقت تاریخ کے صفحات کے اندر موجود ہے کہ ہر سال اپنا پیٹ کاٹ کے تعلیم کو قربان کرکے، صحت کو قربان کرکے اور پائی پائی جوڑ کے ہم فوج کی صورت میں جو قوت پالتے رہے ہیں، وہ ہمارے ملک کو دو ٹکڑے ہونے سے نہیں بچا سکی۔ شروع سے لے کر آج تک کے کمانڈر انچیف واشنگٹن ’حج‘ پر جاتے ہیں اور وہاں کے ’باب ملتزم‘ سے چمٹ کر امداد کی درخواستیں کر کے، امداد لے کر واپس لوٹتے ہیں۔

ہماری نیوکلیئر پالیسی ہو یا کشمیر پالیسی یا افغان پالیسی، سب پر امریکا کی نظر ہے۔ ہمارے سر پر تلوار لٹکتی رہتی ہے کہ ابھی ہم نے تمھیں دہشت گرد قرار نہیں دیا لیکن اس تمام تر صورت حال پر ہم گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہر دو ہفتے یا ایک ماہ بعد یہ خبر آتی ہے کہ اب ملک کو دہشت گرد   قرار دیا جانے والا ہے۔ اس پر ہم اور ہمارے حکمران کانپ اٹھتے ہیں، اور پھر اطمینان دلایا جاتا ہے کہ نہیں ابھی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس لیے کہ مسلسل خوف میں رکھنا ٹارچر اور تعذیب کا  ایک بڑا معروف طریقہ ہے۔ اپنی مرضی کے کام کرانے کے لیے ہلاک کرنے سے اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا مسلسل خوف اور ڈر کے اندر مبتلا رکھنے سے ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد آدمی زیادہ فائدہ دیتا ہے،اور وہ سب کام کرتا ہے جو کہ کرانے والا چاہتا ہے۔

ہمارے ملک کے اندر خوںریزی اور قتل و غارت کا جو بازار گرم ہے، یہ نبی کریمؐ نے    حجۃ الوداع کے موقع پر اس امت کوجو نصیحتیں فرمائی تھی کہ تمھارے مال، تمھارے خون اور تمھاری عزتیں ایک دوسرے کے اوپر اس طرح حرام ہیں جس طرح آج کے دن کی ، اس شہر کی اور اس مہینے کی حرمت ہے، اور دیکھو، میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ پنجابی ہو یا بنگالی ،عرب ہو یا ترک، یمن ہو یا مصر، شام ہو یا عراق… کبھی  حجاج بن یوسف جیسے حکمرانوں کے ہاتھوں اور کبھی آپس میں نسلی اور لسانی تفرقوں کے ہاتھوں، جب کہ یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر، کالے کو گورے پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، مگر زبان ، نسل اور رنگ کی خاطر کلمہ پڑھنے والے ایک دوسرے کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔ اس میں ریاستی ادارے، فوج اور پولیس،ڈکٹیٹر اور حکمران اور عام آدمی، سب ہی شامل ہیں۔ فرقہ واریت کی خاطر خون بہانا بالکل ایک عام رواج بن گیا ہے۔

اس مرض کی جڑ کی نشان دہی بھی نبی کریمؐنے فرما دی ہے۔ اس کے مطابق تنگ دلی اور دنیاسے محبت، دینے سے انکار اور لینے پر اصرار، اور لینے میں حق سے زیادہ لینے کی فکر اور دیتے ہوئے کم دینے کی روش، یہ سب اس مرض کی علامات ہیں۔ قرآن مجید نے اس کی نشان دہی یوں کی ہے:

الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَo وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْ  وَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَo (المطففین ۸۳:۲-۳) جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں، اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انھیں گھاٹا دیتے ہیں۔

ان سب امراض سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس لیے بھی کہ انھی امراض نے پہلی قوموں اور امتوں کو ہلاک کر دیا تھا۔اسی وجہ سے انھوں نے اللہ نے جو حرمتیں قائم کر دی ہیں، یعنی جان و مال اور عزت و آبرو کی حرمت ، ان کو حلال کر دیا۔

یہ مرض تو رگ رگ اور ریشے ریشے میں پھیل چکا ہے۔ مغربی تہذیب دنیا کی محبت اور  زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کی فکر کا نام ہے۔ اسی لیے مغرب دجّال کی یہی جنت لے کر آیا کہ اگر انکار کرو گے تو پستی ، پسماندگی اور افلاس کی جہنم میں جلو گے اور ایمان لائو گے، تو ہماری ترقی کے نظارے دیکھو گے۔ یہ موٹروے، یہ کارخانے، یہ ٹیلی ویژن اور بے شمار سائنسی ایجادات اسی ترقی کا نتیجہ ہیں۔ گویا معاشی ترقی ہی سب کچھ ہے۔ اسی طرح یہ کہا جاتا ہے کہ اول جماعت سے انگریزی پڑھو گے تو ترقی نصیب ہوگی، کارخانے بنائو گے تو معاشی بہبود نصیب ہوگی۔  لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ۴۰سال کی معاشی ترقی کے بعد بھی لوگ ویسے ہی غریب، پسماندہ اور جاہل ہیں۔ انگریزی پڑھ کے نہ ہم نے وہ سائنس دان پیدا کیے اورنہ وہ علما، نہ وہ فلاسفر پیدا کیے اور نہ وہ مفکر ین جو مغرب پیدا کر رہا ہے۔ گویا تعلیم میں بھی افلاس سے دوچارہیں اور معاشی طور پر بھی افلاس اور بدحالی میں مبتلاہیں۔

مغرب نے معاشی ترقی کو دیوی بنا کر اس کی پرستش کی ہے۔ یہ وہ سونے کا بچھڑا تھا جومغرب کے سامری نے گھڑ کے ہمارے سامنے رکھ دیا اور مسلمان ملت ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک اس کی پرستش میں مصروف ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ شاید یہ امت بنی ہی اس لیے تھی کہ کارخانے بنائے، اور مال و دولت جمع کرے۔

جب مال بنانے کی حرص وہوس اور دینے میں بخل اور کنجوسی اور اغراض رگ رگ میں پھیل جائے تو پھر یہ باہمی افتراق و انتشار اور پستی و بدحالی کا سبب بنتے ہیں۔ جب معاشی ترقی ہی حاصل ٹھیری تو پھر ذاتی اغراض اور مفاد ہی مقدم ہوتے ہیں۔ پھر شاید میرے محلے، میری نسل اور میری قوم کی بات بہت دور جا کرآخر میںکہیں آتی ہے۔ آج جو خوں ریزی پائی جاتی ہے اس کی جڑ بھی اسی میں موجود ہے۔

مختصراً میں نے آپ کے سامنے موجودہ پاکستان کا نقشہ کھینچا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ   ؎

تن ہمہ داغ داغ شد

پنبہ کجا کجا نہم

گویا پورا جسم زخموں سے چور ہے، آدمی مرہم کہاںکہاں رکھے، کس کس طرف آدمی انگلی اٹھائے کہ یہ اور یہ جرائم ہیں۔

بظاہر جو پڑھا لکھا اور تعلیم یافتہ طبقہ ہے، جس سے ہم اور آپ بھی متعلق ہیں،وہ چند ایک شعبوں میں کامیابی سے ہم کنار ہونے کے بعدسمجھتا ہے کہ ہماری ذمہ داری ادا ہوگئی۔لیکن یہ رویہ انبیاؑ کی روش نہیں تھی۔ ان کی قومیں جس جاہلیت کے اندر مبتلا تھیں، وہ اس سے کہیں زیادہ تھی۔ بسااوقات ایک بھی صاحب ِخیر مشکل سے نظر آتا تھا۔ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ o (ھود ۱۱: ۷۸) کی صدا وہ بلند کرتے تھے لیکن ایک بھی آدمی نہیںملتا تھا جو صحیح بات کہنے والا ہو۔ حتیٰ کہ ایک ہزار سال کی دعوت اور جدوجہد کے بعد بھی وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلٌo (ھود ۱۱: ۴۰) کا منظر ہوا کرتا تھا۔ اس سب کے باوجود وہ مایوس نہ ہوئے بلکہ اپنی قوم کے درد اور سوز میں تڑپتے تھے، مضطرب رہتے تھے کہ کسی طرح قوم صحیح راستے پر آجائے۔ بُرا بھلا کہہ کر مرثیہ پڑھ کر بیٹھ نہیںجایا کرتے تھے،بلکہ ان کی روش تو یہ تھی:

فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَo (اعراف ۷:۹۳) اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبولِ حق سے انکار کرتی ہے۔

یہاں تک کہ جب عذاب کی آخری گھڑی بھی آجاتی تو کہتے تھے کہ ہم نے تو نصیحت کی کوشش کی اور روتے ہوئے رخصت ہوا کرتے تھے کہ قوم کا یہ انجام ہوا۔ لہٰذا قوم کو برا بھلا کہنے یا مرثیہ پڑھنے سے ہماری اور آپ کی ذمہ داری ادا نہیں ہوتی۔ ماضی کے جائزے اور مسائل کے تذکرے کا بنیادی مقصد اس بات کا احساس دلانا ہوتاہے کہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ ہم اس کے   ذمہ دار ہیں۔ نبی کریمؐکے ارشاد کے مطابق:  کلکم راعٍ و کلکم مسُٔول عن رعَیْـتِہٖ، تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

اس لیے وہ لوگ جن کے پاس دین کافہم اور دین کا علم ہے اور جنھوں نے دین کے لیے حلف اٹھایا اور عہد کر رکھا ہے، ان سے بڑھ کر کون راعی ہوگا، اور ان سے بڑھ کر کس کو اپنی رعیت کا سوز اور درد و غم ہونا چاہیے۔ ان کو تو گھلنا چاہیے یہاں تک کہ گلا گھٹنے لگے جیسا کہ نبی کریمؐ کی حزن کی کیفیت تھی۔

فَلَا یَحْزُنْکَ قُوْلُھُمْ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَo (یٰسٓ ۳۶:۷۶)  اچھا ،جو باتیںیہ بنا رہے ہیں وہ تمھیں رنجیدہ نہ کریں، ان کی چُھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں۔

یہ اس کیفیت کی عکاسی ہے جو حضوؐرکے اوپر طاری تھی۔آپؐ جانتے تھے کہ جب میری قوم نے میرا انکار کر دیا اور مجھے نکال باہر کیا تو پھر اس کا مقدر ہلاکت اور تباہی ہو گا۔ ہم تو اس مقام پر بھی نہیں ہیں۔ یہ تو انبیا کی خصوصیت ہے کہ جب ان کی قوم رد کر دے تو قوم ہلاکت و تباہی میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

ہم تو یہ بھی نہیںکہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پہنچانے کا حق اور ذمہ داری ادا کر دی ہے۔ لیکن یہ ہماری اور آپ کی ذمہ داری ہے۔ اللہ نے جن کو دین کا علم اور دین کا فہم دیا ہے، سب سے پہلے ان سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس کی فکر ہونی چاہیے اس لیے کہ لوگ اس بنیاد پر ہماری گردن پکڑ سکتے ہیں۔ قرآن مجید نے وہ جن کے پاس علم ہو اور جواس کو دوسروں تک نہ پہنچائیں اور اس کا حق ادا نہ کریں جیسا کہ اس نے سب سے عہد لیا ہے کہ اسے لوگوں تک پہنچائیں اور اس کو بیان کریں، ان کے بارے میں بڑی وضاحت سے فرمایا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَامِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْم بَعْدِ مَا بَیَّـنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ لا  اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَo اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ ج وَاَنَاالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُo اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَo خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ج لَا یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَاھُمْ یُنْظَرُوْنَo (البقرہ ۲:۱۵۹-۱۶۲) جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، درآں حالیکہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں، یقین جانوکہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے، اسے بیان کرنے لگیں، ان کو معاف کر دوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کو سزا میں تخفیف ہو گی اور نہ انھیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔

قرآن مجید میں اس امت کو شہادت حق کے منصب پہ فائز کیا:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ (البقرہ ۲:۱۴۳) اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’’امتِ وسط‘‘بنایا ہے، تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو۔

اور اس کی تعبیر بھی سامنے رکھ دی ہے۔ اب سب سے بڑھ کر یہ ہمارے پاس امانت ہے، اورہمارا اور آپ کا فرض ہے کہ یہ قوم جو تباہی کے کنارے لگ چکی ہے، وہ کشتی جس کا تختہ تختہ    اس طوفان نے ہلا کر رکھ دیا ہے، اس کی سلامتی کے لیے ہم اٹھ کھڑے ہوں اور اپنا حق اور فرض اداکریں۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اگر ہم ایک ایک زخم کے اوپر مرہم رکھتے جائیں گے، اورایک ایک پھوڑے کا علاج کریں گے تودوسرا نکل آئے گا، اور گذشتہ ۴۵سال سے ہم یہی منظر دیکھ رہے ہیں۔ حالات کو بہتر کرنے کے لیے اور قوم کی قسمت سنوارنے کے لیے مدعی آتے ہیں اور اپنی اپنی جگہ کوشش کرتے ہیں مگر جب جاتے ہیں تو قوم کی قسمت مزید بگڑی ہوئی ہوتی ہے، حالات مزید خراب ہو چکے ہوتے ہیں۔

دراصل ہمیں مسائل کی جڑ تک پہنچنا چاہیے اور امراض کی جڑ دلوں میں ہے:

فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ (البقرہ ۲:۱۰)  ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے۔

فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِیْ الصُّدُوْرِo (الحج ۲۲:۴۶) حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میںہیں۔

وہ سب قوتیں اور عناصر جو اس ملک کو بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں، جو اس دھرتی کے سینے میں چھید کرنے میںلگے ہوئے ہیں، جو ملکی وسائل اور خزانے کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں، جو ملک کی سلامتی کو دائو پر لگائے ہوئے ہیں، ان کی آنکھیں خوب دیکھ رہی ہیں، ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہیں، ان کو خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیںلیکن ان کے دل اندھے ہو گئے ہیں۔

یہ دلوں کا اندھا پن زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی ہوس اور نہ دینا، روکے رکھنا، جمع کرنا، گن گن کے رکھنا اور حق نہ ادا کرنے کا نتیجہ ہے۔ سیاست میں کسی دوسرے کو جگہ نہ دینا ،ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا، روا داری کا مظاہرہ نہ کرنا،اس کی بنیادی وجہ دل کی تنگی ، بخل اور کنجوسی ہے۔ جب دل کھلتا ہے تو مال و دولت بھی آدمی دونوں ہاتھوں سے دیتا ہے۔ پھرغصے، نفرت اور  انتقام کے طوفان بھی دل کے اندر سما جاتے ہیں اور تھم جاتے ہیں۔ اہلِ ایمان کی حقیقت تو یہ بتائی گئی ہے:

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَ الضَّرَّآئِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط (  اٰل عمرٰن ۳:۱۳۴) جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔

یہ دونوں صفات ساتھ ساتھ اور پہلو بہ پہلو ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ آدمی سخی ہو اور دل کا تنگ بھی ہو، معاف کرے اور انتقام بھی لے۔ لیکن یہاں تو دونوں طرح کی کنجوسی اور بخل چھایا ہواہے۔ اس کی چربی دل کی آنکھوں پر چڑھ گئی ہے۔ اس نے دلوں کو اندھا کر دیا ہے۔

ہمارا کام تو یہ ہے کہ ہم دلوں کو جگائیں، دلوں کو بیدار کریں، دلوں کی بستی کو آباد کریں۔ ان میں خدا کی محبت پیدا کریں اور دنیا سے بے نیازی پیدا کریں۔ اس کے بغیر اس قوم کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہم چاہیں کہ اوپر سے کوئی لیپ پوت کرکے یہ قوم صحیح راہ پہ آ جائے، تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ دلوں کے اوپر جوتالے پڑے ہوئے ہیں، ہم اگر ان کو ایمان اور خدا کی محبت کی کنجی سے نہیں کھولیں گے تو قوم کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر اس قوم میں بے پناہ قوت کے خزانے پوشیدہ ہیں۔ یہ کام ہے جو ہمارے آپ کے کرنے کا ہے۔

ہزار وعظ کیے جائیں کہ یہ غلط ہے اور وہ صحیح، یہ کرواور وہ نہ کرو،مگر جن کے دل پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہوں، ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا پتھروں سے بھی چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور پانی رسنے لگتا ہے، اورخدا کی خشیت اور خوف سے بھی پتھر گر پڑتے ہیں، اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیںمگر جو دل پتھر سے زیادہ سخت ہوں ان پر کلام نرم و نازک بے اثر ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟   قرآن کہتا ہے:ـ

فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً (المائدہ ۵:۱۳) پھر یہ ان کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے۔

قرآن نے اس کی وجہ صاف بیان کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وعظ بھی ہوتے ہیں،   درس بھی ہوتے ہیں، قرآن بھی پڑھے جاتے ہیں، دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں لیکن اثر نہیں ہوتا، پتھروں سے پانی نہیں بہتا، اس لیے کہ دل تو پتھر کی طرح سخت ہیں۔

یہی ایک نسخہ ہے جس سے پوری قوم کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ جب کسی قوم اور افراد کے سامنے کوئی مقصد ہو اور کسی چیز سے محبت ہو تو اس کے بعد ہی اصلاح ممکن ہوتی ہے اور کسی کو عمل پر ابھارا جا سکتا ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ ایسا محض وعظ و نصیحت اور علم و شعورسے ہو جائے تو ایسا ممکن نہیں۔ اس لیے کہ علم تو شیطان کے پاس بھی بہت تھا۔ علم تو مستشرقینِ اسلام کا بھی بہت ہے۔ علم کی ضرورت و اہمیت اپنی جگہ ،لیکن علم کے ساتھ دل کی بیداری بھی ضروری ہے۔ علم کی امانت ہمارے پاس ہے مگر علم خود فی نفسہٖ کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ بڑے بڑے علما گزر گئے مگر جن کے دل سخت تھے ان کا کچھ نہیں کر سکے، اپنی قوم کو کچھ نہیں دے سکے۔یہی وہ بات ہے جس کو اقبال نے یوں بیان کیا ہے    ؎

زندگانی را بقا از مدعاست

کاروانش را درا از مدعاست

کارواں کے لیے منزل و مقصد کا استحضار، بانگِ درا کی حیثیت رکھتا ہے جو قافلے کے متحرک رہنے کی علامت ہے۔گویا قوموں کی زندگی اگر باقی رہتی ہے تو مقصد سے وابستگی، مقصدسے محبت اور لگن سے باقی رہتی ہے۔

جب ہم قوم کو اُس مقصد کے لیے بیدار کر دیں، اُس راہ پر لگا دیں اور اُس مقصد سے وہ چمٹ جائے، جو مقصد اللہ کے عہد کے حوالے سے ہمارے اوپر عائد ہوتا ہے، تو اس کی زندگی کو بقا مل سکتی ہے۔ یہ عہد اور مقصد ایک لنگر اور پتوار ہے جس سے طوفان میں ڈوبتی کشتی بچ سکتی ہے،  اس کا تختہ تختہ ہلنا بند ہوجائے گا، اور پھر اس کے بعد یہ اپنی منزل کی طرف بڑھے گی۔

ہم اگر اور کچھ نہ کرسکیں توکم از کم یہ آرزو اپنے دلوں کے اندر زندہ رکھیں اور دوسروں کے دلوں کے اندر بیدارکردیں اور اس کی جستجو اور سعی میں لگے رہیں   ؎

زندگی در جستجو پوشیدہ است

اصلِ او در آرزو پوشیدہ است

جستجو ہی زندگی کا راز ہے، زندگی تو اسی میں ہے کہ آدمی جستجو میں لگ جائے، یہ کام کرجائے،      اس مقصد کے لیے تگ و دو کرے، اور اسی کی آرزو دل میں سلگتی رہے   ؎

آرزو را در دِلِ خود زندہ دار

تانگردد مشتِ خاکِ تو مزار

لہٰذا اس آرزو کا چراغ کم از کم دل میں جلائے رکھو، اس آرزو کو دل میں سلگنے دو۔ اگر یہ بھی ختم ہو گئی تو پھر یہ مٹھی بھر مٹی کے پتلے چلتی پھرتی قبریں بن جائیں گے۔

حضرت مسیحؑ بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر کہا کرتے تھے کہ تمھاری مثال تو ان قبروں کی طرح ہے جن کے باہر تو سفیدی کر دی گئی ہے، اور اندر گندگی اور مردہ ہڈیاں اورخون اور پیپ   جمع ہے۔ آج امیر طبقوں سے لے کر نچلے طبقوں تک وضع قطع، کلام، سب کچھ دیکھ لیں، ان کی کیفیت ایسی ہی ہے۔

موجودہ حالات میں بگاڑ کو روکنے اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے دراصل یہی ایک راہ ہے اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔ میں نے آپ کے سامنے کوئی لمبی چوڑی فہرست نہیں پیش کی بلکہ اصلاحِ عمل کے لیے لوگوں میں خدا کی محبت جگانا اور دنیا سے بے نیازی پیدا کرنی ہے۔یہی کرنے کا کام ہے اور اسی میں آج کے پاکستان کی بقا اور نجات ہے۔ (کیسٹ سے تدوین:  امجدعباسی)


(تقسیمِ عام کے لیے کتابچہ دستیاب ہے، ۴۰۰ روپے سیکڑہ، منشورات، منصورہ، لاہور)

آج سے ۱۴ سو سال پہلے چھٹی صدی عیسوی میں، تاریخ کا وہ حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا، جس کی مثال اور نظیر نہ انسان نے پہلے کبھی دیکھی تھی، اور نہ اُس کے بعد دیکھی۔ اس حیرت انگیز واقعے کو مؤرخین انفجار(explosion)کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس لیے کہ چند صحرا نشینوں نے جن کے پاس ایک مشن، دعوت اور پیغام تھا، صرف۳۰سال کے عرصے میں گردو پیش کی دنیا میں اس پیغام کو غالب اور سربلند کر دیا۔

سیدنا عثمان غنیؓ کے زمانے میں یہ پیغام کاشغر، ٹریپولی، لیبیا ، تیونس، شمالی افریقہ کے تمام علاقوں تک پہنچ چکا تھا، اور صرف۱۰۰ سال کے عرصے میں ایک طرف اسپین تک اور دوسری طرف دریاے سندھ کی وادی سے گزرتے ہوئے، ہندستان کے مشرقی ساحل کو چھوتے ہوئے چین کے ساحل تک اس کو ماننے والے، اپنی دعوت پہنچا چکے تھے۔ اتنی سرعت اور تیزی کے ساتھ، اتنی عظیم الشان توسیع کی کوئی مثال انسانی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ ایک مستشرق کے الفاظ میں لاالہ الاللہ کے   برقی نعرے نے عرب کے بدوئوں میں وہ قوت بھر دی، کہ۱۰۰ سال میں ایک یتیم بچے محمدؐ، کا نام صحرائوں، شہروں ، دیہاتوں، پہاڑوں، اور وادیوں میں، ہر جگہ گونج رہا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا؟ کیا اس کے پیچھے کوئی معاشی یاسیاسی عوامل تھے؟ کیا صحراے عرب سے نکلنے والے لوگوں کو فتح عالم کا شوق تھا؟ کیا اُن کی نگاہیں     مال غنیمت کی تلاش میں تھیں؟ کیا وہ سکندر اور چنگیز کی طرح دنیا کو اپنا باج گزار بنانے، شہروں کو تاخت و تاراج کرنے اور سروں کے مینار کھڑے کرنے کے لیے نکلے تھے؟

شاید ہمارا اور آپ کا، ملت اسلامیہ اور پوری انسانیت کا، اور ساری دنیا کا مستقبل اسی سوال کے جواب پر منحصر ہے۔ اسی میں انسانیت کے لیے بھی بشارت ہے، اور اُمت مسلمہ کے لیے روشن اور تابناک مستقبل کی نوید بھی۔ اس لیے کہ آج کی دُنیا، چھٹی صدی عیسوی کی دُنیا کی طرح  ایک زبردست اضطراب اور بحران کا شکار ہے۔ انسان نے جس پیمانے پر سائنس اور ٹکنالوجی کی دنیا میں ترقی کی ہے، اسی حساب سے یہ اضطراب اور بحران بھی سنگین تر ہے۔

چھٹی صدی عیسوی کی دنیا کے نقشے پراگر نگاہ ڈالیں تو بظاہر زندگی کا کوئی پہلو خالی نہیں تھا۔ حکومتوں کی جگہ حکومتیں تھیں، قانون کا نفاذ تھا، عدالتیں کام کر رہی تھیں، تجارتی قافلے ایک جگہ سے دوسری جگہ جایا کرتے تھے، محلات اپنی جگہ پر موجود تھے، درس گاہیں اور مدرسے بھی قائم تھے، اور خانقاہوں میں اللہ کے آگے گریہ و زاری کرنے والے راہب بھی تھے___ اس کے باوجود انسانیت موت کے کنارے پر کھڑی تھی۔

اک جھانِ نو کی ضرورت

آج کا عالم بھی اسی طرح کے سنگین بحران اور ایسے ہی اضطراب سے دو چار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمِ پیر مر رہا ہے اور دنیا بڑی بے چینی کے ساتھ ایک جہاںِ نوکی منتظر ہے! اس سے کسی کو انکار نہیں ہے، کہ اس وقت دنیا کو ایک جہاںِ نو کی ضرورت ہے۔ اس سے اختلاف تو ہو سکتا ہے کہ کس طرح کا جہان نو، کس کا جہان نو اور وہ کس کے ہاتھوں برپا ہوگا، لیکن اس سے کسی کواختلاف نہیں ہے کہ عالم پیر موت سے ہم کنار ہے، اور دنیا کی نجات ایک جہانِ نو کی تعمیر میں مضمر ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھی جو پچھلے ۳۰۰ سال سے اس عالَم کے حکمران اور امام ہیں، جنھوں نے اس   عالم پیر کو جنم دیا ہے، اس کی تشکیل اور تعمیر کی ہے، اور ترقی کی اس منزل تک پہنچایا ہے، جن کے ہاتھوں میں آج بھی زمانے کی باگ ڈور اور زمام کار ہے، وہ بھی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ایک نیوورلڈ آرڈر ، نیا عالمی نظام ناگزیر ہے۔ اس اعتراف میں یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ اولڈ ورلڈ آرڈ، اب انسان کے کام کا نہیں رہا، اور اب اس کو ایک نئے عالمی نظام اور ایک جہانِ نو کی ضرورت ہے۔

یہ جہان نو اس لیے بھی ضروری ہے کہ پرانا عالمی نظام گذشتہ ۳۰۰ سال میں انسان کو   اس مقام پر لے آیا ہے، جہاں اس کے مصائب و آلام، مسائل اور پریشانیاں اور رنج و الم انتہا کو  پہنچ چکے ہیں۔ یہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے قومیں اٹھتی تھیں، ایک علاقے کو فتح کرتی تھیں اور قتل و غارت مچاتی تھیں، مگر یہ ایک حد تک ہوتا تھا۔ آج یہ صورت حال ہے کہ انسان، اس پوزیشن میں ہے، کہ وہ بٹن دبائے تو پوری دنیا، تہہ و بالا ہو جائے، اور اس بٹن پر انسان کا ہاتھ ہے۔

یہ صدی انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ خوں ریز صدی ہے، جتنا خون اس صدی میں بہا ہے انسانی تاریخ اس کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ انسان نے ایک ایٹم بم سے لاکھوں انسان فنا کے گھاٹ اُترتے دیکھے ہیں۔ جنگ عظیم میں ، ڈھائی کروڑ انسانوں کو مرتے، اور اپاہج ہوتے دیکھا ہے۔چند چھوٹے چھوٹے علاقوں پر مسلسل بمباری سے، لاکھوں انسانوں کو مرتے دیکھا ہے۔ انسان نے جبر کے جو نظام قائم کیے، ان کے ہاتھوں لاکھوں انسان بے گھر ہوئے، مصیبتیں اٹھائیںاور بہت سے اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ نسل اور رنگ کے بتوں پر بڑی تعداد میںانسانی جانیں بھینٹ چڑھائی گئیں۔واضح رہے کہ یہ جانیں مذہب اور خدا کے نام پر بھینٹ نہیں چڑھائی گئیں، جو خوں ریزی کے لیے بدنام ہیں۔ آج کے آزر نے اس دور کے لیے وطن اور قوم پرستی کا جو نیا بت تراشا ہے،اس نے انسانیت کو خون کے اندر نہلا دیاہے۔ آج ہر جگہ اسی وجہ سے خون بہہ رہا ہے، لوگ قتل ہو رہے ہیں، گھر سے بے گھر ہو رہے ہیں۔ یہ سب فساد اسی وجہ سے ہے۔

بظاہر معیشت ترقی کی معراج پر نظر آتی ہے، لیکن یہ پانی کے بلبلے کی طرح ہے۔ اگر آج سارے ممالک اپنا قرض دینے سے انکار کر دیں اور بنک میں روپیہ رکھنے والے سب لوگ بنک کے دروازے پر آجائیں کہ ہمارا روپیہ ہمیں دے دو، تو اس غبارے کی ہوانکل کر رہ جائے گی اور معاشی نظام تباہ ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ سیاسی نظام بھی جو بڑی محنت اور مشقت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے، اور جس میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی، آج لوگ اس سے بھی مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ انسان کی روح پیاسی ہے، اس آب حیات کے لیے جو اس کو اس درد و الم سے نجات دے، اور موت کی آغوش سے نکال کر زندگی سے ہم کنار کر دے۔

یہ جہانِ نو کس طرح پیدا ہو گا؟ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ اس عالم پیر کے معمار، سیاست دان، مدبر و مفکر اور اخبار نویس اور تجزیہ نگار پکار پکار کر کہہ رہے ہیں، کہ اگلا تصادم تہذیبوں کا تصادم ہو گا، اور یہ تصادم مغرب اور اسلام کا تصادم ہو گا۔ امریکا کے نائب صدر، امریکا کے سابق صدرنکسن،ناٹوکے کمانڈر،سب کی زبان پر ہے کہ پچھلے ایک ہزار سال بھی اسلام سے مقابلہ کرتے گزرے، اور شاید اگلے ہزار سال بھی اسی میںگزریں۔ کمیونزم کی موت کے بعد اب یہ کش مکش اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان ہے۔ ۱۴ سو سال سے جو کش مکش اور تصادم دونوں تہذیبوں کے درمیان ہے، اور جس میں اسلام کے ہزار سالہ غلبے کے بعد مغرب نے برتری حاصل کی، لیکن صرف ۳۰۰ سال میں وہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اب پھر شاید وہی شیر بیدار ہو رہا ہے جس نے ۱۴سوسال پہلے نکل کر دنیا میں غلبہ حاصل کیا تھا، اور اس کی زمامِ کار اپنے ہاتھوں میں لے لی تھی۔

اُمت مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہر جگہ اِنھی طاقتوں کی دست نگر ہے جو اس کی گردن پر حکمران پیرتسمہ پا کی طرح مسلط ہیں اور مغربی تہذیب کی مقلد اور پیرو ہیں۔ وہ تو غلبۂ اسلام کاخواب بھی نہیں دیکھ سکتی۔ ہمارے پاس نہ ایٹم بم ہیں، نہ فوج، نہ بنک کا نظام ہے نہ سڑکیں، نہ موٹروے اور کارخانے ___  پھر ہم کیسے مغرب کے لیے خطرہ اور چیلنج ہیں؟ لیکن مغرب کے ہر آدمی کی زبان پر یہی الفاظ ہیں کہ آیندہ دور کی کش مکش اور تصادم ، اسلام اور مغرب کے درمیان ہے۔ اب یہ تصادم، نظریات (یعنی کمیونزم، فاشزم اور کپٹل ازم وغیرہ) کی بنیاد پر نہیں ہوگا،اور نہ رنگ اور نسل کا تصادم ہوگا، بلکہ یہ تصادم تہذیبوں کے درمیان ہوگا۔ تہذیبیں مذہب سے وجود میں آتی ہیں، اور دنیا کے اندر دو ہی مذہب ہیں جو عالم گیر مشن کے علم بردار ہیں: ایک اسلام، اور دوسرا عیسائیت۔ عیسائیت نے مغربی تہذیب کی بنیاد رکھی ہے، اور اسلام نے ملت اسلامیہ کی ، جب کہ آیندہ معرکہ ان دونوں کے درمیان ہونے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جومسلمان بھی حالات پر نظر رکھتے ہیں، جن کی نظر تاریخ پر ہے، جو تاریخ کی اندرونی کش مکش سے واقف ہیں، وہ بہت پہلے سے یہ بات دیکھ رہے ہیں، کہ یہ وہ واقعہ ہے جو ظہور پذیر ہونے والا ہے۔ وہ اس کا انجام بھی دیکھ رہے ہیں، کہ اب دنیا کا مستقبل اسلام ہے،یعنی وہ پیغام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم آج سے ۱۴ سو سال پہلے عرب میں لے کر آئے تھے غالب آکر رہے گا۔ اقبال نے کہا تھا  ع

جہان نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالم پیر مر رہا ہے،

اسے لطیفہ سمجھیے یا ایک دل چسپ بات کہ برطانیہ کے ایک موقر ہفت روزہ اکانومسٹ نے ایک مضمون شائع کیا۔ اس نے لکھا کہ اتفاق سے ایک تاریخ کی کتاب دست یاب ہوئی ہے، جو آج سے ہزار سال بعد کی لکھی ہوئی کوئی کتاب یا تورات ہے۔ اس میں لکھا تھا کہ کمیونزم کے زوال کے بعد جو موقع مغرب کے ہاتھ آیا تھا، وہ اس نے ضائع کر دیا، اور ۲۰۱۱ء میں ایک  انقلاب سعودی عرب میں آیا جس کی وجہ سے وہاں ایک اسلامی جمہوری حکومت قائم گئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ مسلمان ممالک جمع ہوگئے، خلافت قائم ہو گئی، اور خلافت کا چین کے ساتھ اتحاد ہو گیا، اور بالآخر پوری دنیا پر یہ خلافت غالب آگئی۔۲۱۰۰ء تک یہ واقعہ ظہور پذیر ہوگا۔ گویا مستقبل کے آئینے میں آج کے زمانے کے بارے میں پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

یہ وہ حقیقت ہے جو بالکل عیاں ہے۔ یہ وہی بات ہے جس کی طرف ابتدا میں اشارہ کیا گیا تھا کہ نبوت کے زیر اثر، صحراے عرب میں اٹھنے والا یہ سیلاب ایک اتفاقی حادثہ تھا،  یا یہ مشیت اور اس انقلاب کو برپا کرنے والی ہستی محمدؐکا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا؟ کیا ان کے مشن میں یہ بات شامل تھی کہ وہ امامت عالم سنبھالیں گے، اور ایک عالم گیر انقلاب برپا کریں گے، یا ان کا کام محض تزکیۂ نفوس، اہل عرب کو پیغامِ حق سنانا تھا اور جس کو ماننا ہے مانے، اور جس کو نہیں ماننا نہ مانے۔

دعوتِ انقلاب

ہمارے سیرت نگار ولادت نبویؐ کا واقعہ بڑے دل آویز اور معنی خیز الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ جس رات حضوؐر اس دنیا میں تشریف لائے، کسریٰ کے محل کے مینارے گر گئے، آتش کدہ فارس بجھ گیا، اور دریاے ساوہ خشک ہو گیا۔ بعض کے نزدیک یہ استعارے کی زبان ہے اور   بعض کے نزدیک یہ واقعات فی الواقع پیش آئے تھے۔ یہ حقیقت ہو یا استعارے کی زبان، بلکہ  اگر استعارے کی زبان ہو تو اور بھی معنی خیز ہے، تاہم یہ واقعہ اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ  ولادت نبویؐ ہی اس بات کی علَم بردار اور پیش خیمہ تھی، کہ عالم میں انقلاب آئے، عالمی طاقتیں سرنگوں ہوجائیں، اور گمراہی اور جاہلیت کے آتش کدے بجھ جائیں، اور کسریٰ کی عظیم الشان سلطنت پارہ پارہ ہو جائے۔

خود نبی کریمؐکی یہ صحیح حدیث موجودہے، کہ میں اپنی ماں آمنہ کا خواب ہوں۔ حضرت آمنہ نے ایک خواب دیکھا تھا کہ میرے پیٹ سے  ایک روشنی نکلی، جس سے پوری ارض شام روشن ہو گئی۔ ارض شام سے مراد محض ملک شام نہیں ہے۔ ارض شام تو سارے انبیا کی سرزمین ہے، اور اس وقت کی ارض شام آج کے شام کے برابر نہیں تھی۔ اس میں پورا شام، لبنان، اردن ، فلسطین اور عراق کا ایک حصہ شامل تھا، اور یہیں سے ساری دنیا کو ہدایت ملی۔ عیسائیت اگر آج دنیا کے ایک بڑے حصے میں پہنچ چکی ہے تو اس کا مولد ارض شام ہے۔ لہٰذا وہ روشنی جو بطن مادر ہی سے ارض شام کو روشن کر رہی تھی، وہ ایک عالم گیر ہدایت اور عالم گیر مشن کی علم بردار نہ تھی تو اور کیا تھی!

تمام سیرت نگار بیان کرتے ہیں کہ ابتدا ہی سے آپؐ کی دعوت کا ایک اہم عنصر یہ تھا کہ توحید کی دعوت اگر قبول کروگے، یہ ایک کلمہ اگر تم مجھ سے قبول کر لو گے، تو عرب و عجم تمھارے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ ایک سیرت نگار لکھتے ہیں کہ یہ اس زمانے میں ایک سلوگن بن گیا تھا، اور لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے کہ یہ مٹھی بھر لوگ، یہ غلام، یہ فاقہ مست جن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، کوئی حکومت اور سلطنت نہیں ہے، عرب و عجم کے مالک بن جانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ لوگ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ گویا یہ عالم گیر مشن نبوت کے پہلے ہی لمحے سے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔

  • ہجرت مدینہ کے واقعے سے کون نہیںواقف کہ کس عالم میں حضوؐرگھر سے نکلے تھے۔ تعاقب کرنے والے شکاری کتوں کی طرح پیچھے لگے ہوئے تھے۔ ریگستان کا لمبا سفر تھا جو آج کی طرح موٹر کاریا جہاز پر نہیں بلکہ اونٹنی پر ہو رہا تھا۔ آپؐ کے سر کے لیے ۱۰۰اُونٹ کا انعام مقرر تھا، جس کے لیے بے شمار لوگ آگے پیچھے پھر رہے تھے۔ اگر مکہ میںخون کے پیاسے تھے تو مدینہ میں یہودی اور منافق تھے۔ کوئی اندازہ نہ تھا کہ کیا صورت حال ہو گی۔ کوئی نقشہ نگاہوں کے سامنے نہ تھا۔

سراقہ بن جعشم کو خبر ملتی ہے کہ قریش کے دو مفرور سردار قریب سے گزر رہے ہیں۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوا، اور ۱۰۰ اونٹوںکے لالچ میں انھیں پکڑنے کے لیے پہنچ گیا۔ جب وہ قریب آیا تو آپؐ  نے اللہ سے دعا کی۔ اس کے نتیجے میں اس کے گھوڑے کے پائوں زمین کے اندر دھنس گئے۔ سیرت نگاروں کے مطابق یہ واقعہ تین دفعہ پیش آیا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ مقابلہ تو کسی اور ہستی سے ہے ، چنانچہ اس نے کہا کہ حضوؐر امان نامہ لکھ دیجیے۔ آپؐ نے امان نامہ لکھوایا اور پھر فرمایا کہ سراقہ میں وہ وقت دیکھ رہا ہوں کہ جب کسریٰ کے کنگن تمھارے ہاتھوں میں ہوں گے۔

ذرا تصور کیجیے، کس پریشانی کا عالم تھا، کیسی بے سروسامانی تھی، مستقبل کا کچھ اندازہ نہ تھا، بے یقینی کی کیفیت تھی مگر اس وقت بھی خوش خبری کسریٰ کے کنگن کی دی جا رہی ہے۔

  • اس سے سخت لمحہ غزوۂ احزاب کا آیا۔ سب جانتے ہیں کہ یہ مدینہ کی زندگی میں    سخت ترین اور سنگین ترین لمحہ تھا۔ پورا عرب امنڈ آیا تھا، اورمدینہ کی چھوٹی سی بستی کے چاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں فوج جمع تھی، اور دفاع میں عارضی خندق تھی جس کو کوئی بھی زور آور گھوڑا پار کرسکتا تھا۔ بس یہی ایک دفاعی لائن تھی۔ اگر فوج اندر گھس جاتی تو کوئی زندہ نہ بچ سکتا تھا۔ قرآن نے نقشہ کھنچا ہے کہ دل اچھل اچھل کر حلق میں آرہے تھے، اور خوف کے مارے عجب عالم تھا۔

خندق کی کھدائی کے دوران ایک چٹان اس قدر سخت تھی کہ کسی سے نہ ٹوٹی۔ حضوؐرپیٹ پر پتھر باندھے اپنے صحابہؓ کے ساتھ کھڑے تھے۔ آپؐ  کو بلایا گیا۔ آپؐ  نے ایک کدال ماری تو ایک روشنی بلند ہوئی۔ آپؐ  نے فرمایا کہ مجھے شام کے خزانے دکھائے گئے ہیں اور یہ میرے لیے فتح کر دیے گئے ہیں۔ دشمن سر پہ کھڑا ہے، چاروں طرف سے ۲۴ ہزار کا لشکر گھیرے ہوئے ہے، اور ایک خندق کے علاوہ کوئی دفاع نہیں ہے، اس موقع پر بھی آپؐ  فرماتے ہیں کہ مجھے شام کے خزانے دکھائے گئے ہیںجو میرے لیے فتح کر دیے گئے ہیں۔ دوسری کدال مارنے پرفرمایا کہ مجھے   ایران کے خزانے دکھائے گئے ہیںجو میرے لیے فتح کر دیے گئے ہیں۔ تیسری دفعہ فرمایا کہ یمن کے خزانے دکھائے گئے ہیں جو میرے لیے فتح کر دیے گئے ہیں۔گویا چار دانگ عالم میں یہ سب نبوت کے لیے، مفتوح ہونے والے ہیں۔ یہ عزم و ارادہ اور یقین اس کیفیت میں تھا، جس کا نقشہ میں نے آپ کے سامنے کھینچا ہے۔

  • مکی زندگی کا مشہور واقعہ ہے۔ حضرت خبابؓ بن ارت، جن کے اوپر مظالم کی یہ انتہا تھی کہ انگاروں پر لٹایا جاتا تھا اور پیٹھ کی چربی پگھل کر ان انگاروں کو بجھا دیتی تھی، اس حال میں وہ حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ خود ہی بیان کرتے ہیں کہ آپؐ  کعبہ کے سایے میں لیٹے ہوئے تھے اور چادر سر کے نیچے تھی۔ میں نے کہا کہ حضوؐراب تو دعا فرمائیں کہ بہت ظلم ہو گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ آپؐ کا چہرہ اس طرح سرخ ہو گیا جس طرح اس پر انار نچوڑ دیا گیا ہو، آپؐ ٹیک لگائے ہوئے تھے، اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جن لوگوں کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا، ان کا یہ حال تھا کہ ان کے لیے گڑھے کھودے جاتے تھے، اور ان کو آروں سے چیر دیا جاتا تھا۔ لوہے کی کنگھیوں سے ان کے جسم سے گوشت کو ہڈیوں سے نوچ کر الگ کر لیا جاتا تھا، مگر وہ پھر بھی راہ خدا میں ثابت قدم رہے۔ ان کو کوئی چیز اس کی راہ سے نہ ہٹا سکی۔ خدا کی قسم! میرا یہ کام بھی پورا ہو کر رہے گا۔ یہاں تک کہ ایک عورت صنعا سے حضر موت تک جائے گی، اور اس کو خدا کے علاوہ کسی کا خوف نہ ہوگا___ یہ دراصل عدل و انصاف پر مبنی نظام کے قیام کا اعلان تھا۔ یہ بات آپؐ  نے  مکی زندگی کے ابتدائی سالوں میں ارشاد فرمائی تھی۔
  • یہی بات مدینہ میں آپؐ  نے اس وقت دہرائی جب حاتم طائی کے بیٹے عدی بن حاتم آئے، اور آپؐ  ان کا ہاتھ پکڑکر اپنے گھر لے آئے۔ ان کو اپنے گدے پر بٹھایا اور خود فرش پر بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ عدی! (مختلف روایات ہیں)یہ لوگ اس لیے ایمان نہیں لا رہے کہ مسلمان کمزور ہیں‘ تم دیکھنا! ایک وقت آئے گا کہ کسریٰ کے سارے خزانے فتح کر دیے جائیں گے۔ پھر فرمایا کہ تم نے ہیرا دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں،تو فرمایا کہ ایک عورت ہیرے لے کر چلے گی، کعبے کا طواف کرے گی، تنہا ہو گی، واپس جائے گی اور اس کو کسی کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ ایک آدمی ہاتھ میں مٹھی بھر سونا چاندی لے کر نکلے گا، کوئی اس کو لینے والا نہ ہوگا۔ عدی کہتے ہیں کہ کسریٰ کے خزانوں کی فتح میں تو میں خود شریک تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر بھی دیکھا کہ ایک عورت تنہاچلی اور کوئی اس کو چھیڑنے والا اور نگاہ اٹھاکر دیکھنے والا نہ تھا۔ امن اور انصاف کا یہ دور بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
  • ایک موقع پر آپ ؐ نے فرمایا کہ مبارک ہو! بحیرۂ روم، استنبول میں تم نے جہاز ڈال دیے ہیں، اور استنبول فتح ہو گیا۔ صحابہ کرامؓکو نبوت کے عالمی مشن پر اس قدر یقین تھا کہ حضرت امیرمعاویہؓ کے دور میں، جب پہلے اسلامی لشکر نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا اور ناکام ہو گیا تو ان کے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاریؓبھی تھے۔ ان کا آخری وقت قریب آ گیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ حضوؐر کی پیش گوئی ہے کہ استنبول فتح ہوگا، اسلام یورپ میں داخل ہوگا۔ مجھے اس فصیل کے جس قدر قریب ممکن ہولے جا کر دفن کر دو۔ چنانچہ مسلمانوں نے عین فصیل کے قریب لے جا کر انھیں دفن کردیا، کہ اب ہم واپس جا رہے ہیں، پھردوبارہ آئیں گے۔ اس کے بعد بہت سے لوگوں نے چاہا کہ حضوؐرکی پیش گوئی ہمارے حق میں پوری ہو، لیکن اس میں تقریباً ساڑھے سات سو سال لگے۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے جسد خاکی نے اتنا عرصہ انتظار کیا، اور مسلمان اس تلاش میں سرگرداں رہے کہ نبوت کا یہ عالمی مشن استنبول سے گزر کر یورپ میں داخل ہو، اور بوسنیا، بلغاریہ، جرمنی اور ہنگری کے دروازوں تک پہنچے۔ ان کو یقین کا مل تھا۔ یہ ان کی ذمہ داری اور مشن تھا۔ وہ اس سے آشنا تھے، گئی گزری حالت میں بھی آشنا تھے۔ ساڑھے سات سو سال بعد، منگولوں کے حملوں اور چنگیز خان کے آنے کے بعد اسی چنگیز خان کی اولاد سے وہ لوگ نکلے، جنھوں نے استنبول فتح کر لیا، اور محمد فاتح نے فتح پائی۔ اس کے ہاتھوں نبیؐ کی یہ بشارت پوری ہوئی۔
  •  ایک وقت تھا کہ آپؐ  دو آدمی تھے جو مکہ سے نکل کر تنہا ریگستان میں جا رہے تھے، اور چھے سال میں یہ حالت ہو گئی کہ آپ۱۴۰۰ کے قافلے کے ساتھ مکے عمرہ کے لیے تشریف لے گئے، اور کفار قریش صلح کرنے پر مجبور ہوئے۔ حدیبیہ کے مقام پر صلح نامے پر دستخط ہوئے۔ ذی القعدہ کے مہینے میں آپؐ  واپس مدینہ تشریف لائے۔ وہ صلح نامہ جس کو مسلمان اپنی ذلت کا پروانہ خیال کررہے تھے، اس کو قرآن فتح مبین قرار دے رہا تھا۔

صلح حدیبیہ کے بعد بھی عرب سرنگوں نہیں ہوا تھا، مکہ فتح نہیں ہواتھا، اور مدینہ کی اسلامی ریاست مکمل نہ ہوئی تھی، لیکن آپؐ  نے فوراً اپنے گردو پیش کی ہر عالمی طاقت کو دعوت نامہ بھیج دیا۔ ایک مہینے کے اندر ذوالحجہ کے مہینے میں، گردو پیش کی چھوٹی بڑی کوئی حکومت ایسی نہیں تھی جہاں آپؐ  کی دعوت نہ پہنچی ہو۔ یہاں تک کہ قیصر کو بھی اس کا اعتراف کرنا پڑا کہ ہاں، یہ سچے نبی ؐ ہیں اور جس جگہ آج میرا تخت ہے، ایک دن اس جگہ ان کا پیغام پہنچے گا۔

اُمت مسلمہ کا مشن

یہ محض بشارتیں اور پیش گوئیاں نہیں تھیں بلکہ اگر غور کریں تو یہ ایک مشن تھا اور ایک    ذمہ داری تھی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا، اور کہا تھا کہ اعلان کردو: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ (الاعراف۷:۱۵۸)‘اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن اللہ نے اس لیے اتارا ہے کہ قرآن لانے والا (رسولؐ اللہ) سارے جہانوں کے لیے آگاہ کرنے والا، نذیر بن کر آئے (الفرقان ۲۵:۱)۔ اسی طرح فرمایا کہ ہم نے تم کو رحمتہ للعالمینؐ بنا کر بھیجا ہے۔ تم خاتم النبیینؐ ہو، تمھارے بعد اب کوئی اور نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ تمھاری نبوت ابد تک کے لیے ہے۔ یہ نبوت نہ صرف عرب کے لیے ہے، بلکہ سارے عالم کے لیے ہے۔ ہر قوم، ہر زبان ، ہر رنگ، ہر نسل کے لیے یہی نبوت ہے، اور اسی کا پیغام ہے۔ تمھارا جسد خاکی تو زمین میںدفن ہوگا لیکن تمھارا پیغام، تمھاری نبوت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اس کے لیے موت نہیں ہے۔ اس لیے کہ نبوت اور رسالت کا پیغام اگرمحفوظ نہ رہے تو نبیؐکی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لیے اس پیغام کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے اٹھا رکھا ہے۔

ہم خاتم النبیینؐ کے لیے نعرے بھی لگاتے ہیں، کانفرنسیں بھی کرتے ہیں، جو نہیں مانتے ان کو غیر مسلم بھی قرار دیتے ہیں، لیکن جو ماننے والے ہیں، ان کے لیے خاتم النبیین میں معانی کا جو ایک جہان پوشیدہ ہے، اس سے ہم واقف نہیں ہیں۔ اگر کوئی خاتم النبیینؐ آچکا ہو اور اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، مگر ہم نہیں جانتے کہ اب نبوت کی ذمہ داری کس کے اوپر ہے اور اس نے نبوت کے عالم گیر مشن کی دعوت کس کے سپرد کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًاط (البقرہ۲:۱۴۳) اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’اُمت ِوسط‘ بنایا ہے، تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عالم گیر فتوحات، یہ ۱۰۰ سال کے عرصے میں اسپین سے لے کر چین تک محمد رسولؐ اللہ کے نام کا پکارا جانا، یہ دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کا پہنچ جانا، یہ تاریخ کا سب سے حیرت انگیز انفجار یا کوئی حادثہ نہیں۔ یہ عرب سے نکلنے والے بدوئوں کا شوق جہانگیری نہیں تھا، جس کے نتیجے میں تاریخ کا یہ عظیم الشان واقعہ پیش آیا، یہ تو نبوت کی فطرت کا تقاضا تھا، کہ یہ واقعہ ظہور پذیر ہو۔ وہ نبوت جو عالمی نبوت تھی، وہ نبوت جو خاتمِ نبوت تھی، اس کی فطرت کے اندر یہ پنہاں تھا، کہ یہ ساری دنیا کے اوپر چھائے، اور اس پیغام کو ساری دنیا تک پہنچائے۔

مولانا عبدالقدوس گنگوہی ہندستان کے ایک مشہور صوفی تھے۔انھوں نے کہا کہ محمدعربیؐ تو آسمان پر چلے گئے اور حق کے پاس پہنچ کر واپس آ گئے۔ اگر میں جاتا تو واپس نہ آتا۔ اس پراقبالؒکہتے ہیں کہ یہی فرق ہے مزاج نبوت اور مزاجِ تصوف میں۔ تصوف کی منزل حق ہے۔ وہ حق کے پاس پہنچ کر فنا ہو جاتا ہے۔ نبوت کی منزل حق نہیں، وہ حق سے حق لے کر لوٹتا ہے۔ پھر وہ اپنے آپ کو زمانے کی رو میں جھونک دیتا ہے، اور تاریخ ساز قوتوں کو اپنی مٹھی میں لے کر اپنے تصورات اور عقائد کی ایک نئی دنیا تعمیر کرتا ہے۔ یہ نبوت کا مزاج ہے اور یہ اس امت کا مزاج بھی ہونا چاہیے، جو اس مشن کی علم بردار ہے جو مشن نبی کریمؐ نے مکمل فرمایا، اور اس امت کے سپرد کر دیا۔

آج انسان کو جن مصائب اور مشکلات کا سامنا ہے، جس الم ، درد اور کرب سے وہ دوچار ہے، روز مرہ زندگی جس طرح پریشانی، عدم اطمینان اور بے چینی کا شکار ہے، جس کا اظہار چہروں سے بھی ہوتا ہے اور زندگیوں سے بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے اپنا حقیقی معبود کھو دیا ہے اور جھوٹے معبود جو دیوی دیوتائوں سے بھی بدتر ہیں، ان کا وہ پجاری بن گیا ہے۔ یہی دراصل اس کے مصائب اور آلام کی جڑ ہے۔ ان حالات میں حضوؐرکا پیغام ، کہ یہ ایک کلمہ ہے، اس کو مجھ سے لے لو تو عرب و عجم تمھارے زیر نگیں ہوںگے___ یہی دراصل وہ چیز ہے، جس سے انسانی زندگی کا قبلہ متعین ہوتا ہے، مقصد زندگی کا تعین ہوتا ہے، اور اسی سے انسانیت کی شیرازہ بندی ہوتی ہے۔

مغرب کا کرب

آج مغرب کس انتشار اور بے مقصدیت سے دوچار ہے، اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے:

برطانیہ میں دو لڑکوںنے جن کی عمریں۱۰،۱۰ سال تھیں، ایک ڈھائی سال کے بچے کو اغوا کر لیا۔ اس کو خوب مارا، اس کا سر کچل ڈالا، ٹکڑے ٹکڑے کر تھیلی میں بند کیا اور ایک جگہ ڈال دیا۔ جب بچے کی لاش ملی تو شور مچ گیا،کہ ۱۰سال کے لڑکوں نے اس قدر ظلم، وحشت ، اور سفاکیت کے ساتھ اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔اس موقع پر برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ دراصل ہماری کوئی سمت نہیں رہی، ہمارا کوئی قبلہ نہیں رہا، ہمارے سامنے کوئی مقصدنہیں جس کے لیے ہم جئیں۔

مغرب اس کرب سے دو چار ہے۔ ہر جگہ یہی نظر آتا ہے۔ خاندان بکھر رہے ہیں، single parentخاندان ہیں،جن میں ایک مرد یا ایک عورت اور عموماً بے چاری عورت ہی کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ مرد تو لطف اندوز ہو کر بھاگ جاتا ہے۔ بس عورت ہی ماں ہے ، اور وہی باپ۔ ایسے خاندانوں کی تعداد کثرت سے بڑھتی جا رہی ہے۔

اکانومسٹ نے کمیونزم کے زوال کے بعد دنیا کے مستقبل کے حوالے سے ایک تجزیہ کیا کہ تاریخ کے وہ کون سے واقعات ہیں جو فی الواقع تاریخ ساز واقعات ہیں؟ اس نے بہت سے واقعات کی فہرست گنوائی، اور اس میں ہجرت کا واقعہ بھی شامل کیا۔ اس کی اتنی انصاف پسندی تسلیم کریں کہ اس نے ہجرت کے واقعے کو بھی تاریخ ساز واقعات میں شمار کیا ہے۔ اس کے بعد کمیونزم کے زوال کا تذکرہ کرتا ہے کہ یہ تو چند سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے بلکہ ایک ہی تہذیب کے اندر الٹ پھیر ہے۔ کیا آیندہ تاریخ کوئی کروٹ بدلنے والی ہے، کوئی نیا موڑ مڑنے والی ہے، اور کسی انقلاب سے دو چار ہونے والی ہے اور کن مسائل کے گرد تاریخ کی یہ نئی تبدیلی آئے گی___ اس حوالے سے وہ لکھتا ہے کہ یہ وہ مسائل ہیں جن کا دعویٰ اسلامی بنیاد پرست بھی کر تے ہیں اور عیسائی بنیاد پرست بھی۔ اگر دنیا نے اب کوئی کروٹ بدلی ، تو یہ ان مسائل کے گرد ہوگی، جو بظاہر نگاہوں کے سامنے نہیں ہیں، ابھی پردہ غیب میں ہیں اور جو غیبی علوم ہیں (یعنی خدا، رسالت اور آخرت وغیرہ) ، ان کے گرد اَب تاریخ نئی کروٹ بدلنے والی ہے۔ مگر وہ اس بات پر مسرت کا اظہار کرتا ہے کہ نہ عیسائی بنیاد پرست اس کے اہل نظر آتے ہیں اور نہ مسلمان بنیاد پرست ہی اس کے اہل ہیں، کہ وہ تاریخ کا رخ موڑ دیں، نئی تاریخ رقم کریں اور انسانیت کی زمام کار سنبھال لیں، اور اس کو اس کے مستقبل سے ہم کنار کر دیں۔فی الواقع دنیا ایک جہانِ نو کی تعمیر کی منتظر ہے۔

انسانیت کی نجات

اُمت محمدیؐ کے اس عالمی مشن اور عالمی پیغام کا دوسرا حصہ جو اس پیغام کا لازمی نتیجہ اور تقاضا تھا، وہ انسانی وحدت ہے، یعنی یہ کہ انسان ایک ہے۔انسانوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، ان کو ناقابلِ عبور دیواروں اور فصیلوں میں نہیں بانٹا جا سکتا، اور اگر بانٹا جائے گا تو انسان ان جھوٹے خدائوں کے پھیر میں آکر سب کچھ کھو بیٹھے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف نبی کریمؐ نے یوں اشارہ کیا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، اگر کسی کو بڑائی حاصل ہے تو وہ تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ یہ خدا پرستی کا، لاالہ الا اللہ کا منطقی نتیجہ تھا، اور یہ اسلام کا سب سے بڑا contributionہے، سب سے بڑی خدمت ہے، جو اس نے انسانیت کی ہے۔

انسان کی وحدت کی بنیاد اگر مادی چیزوں ، رنگ، نسل، زبان اور خون پر ہو، تو یہ ایسی دیواریں ہیں جو کوئی ڈھا نہیں سکتا۔ کالا آدمی چاہے کہ گورا ہو جائے تو نہیں بن سکتا۔ اگر گورا چاہے کہ کالا ہوجائے تو رنگ نہیں بدل سکتا۔ جو آدمی ہندستان میں پیدا ہوا ہے اور چاہے کہ پاکستان میں پیدا ہو جائے، یہ ممکن نہیں۔ اگر کسی کی مادری زبان پنجابی ہے تو اردو نہیں بن سکتی، اردو ہے تو پنجابی نہیں بن سکتی۔ یہ ناقابل عبور چیزیں ہیں، لیکن عقیدہ آدمی کے اپنے اختیار میں ہے۔ جب چاہے بدل سکتا ہے، جب چاہے سرحد کے ادھر ادھر جا سکتا ہے، اور جب چاہے کسی عالم گیر قوت میں شامل ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کی وحدت کی بنیاد مادی اور زمینی چیزوں سے بالاتر ہوکر آفاقی چیزوں میں رکھی جودل و دماغ میں بستی ہیں اور انسان ان کو جب چاہے قبول کر لے اور نتیجتاً ایک انسانیت وجود میں آ سکتی ہے، اور فی الواقع آئی بھی۔

دنیا اس بات کی معترف ہے کہ گئے گزرے مسلمان جو اگرچہ آپس میں لڑتے ہیں، ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں ، قومی عصبیت برتتے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب بھی مسلمانوں کے اندر جو یگانگت، وحدت اور قوت ہے، اس کی کوئی مثال دنیا کی کوئی دوسری قوم پیش نہیں کرسکتی۔ آدمی انڈونیشیا کی مسجد میں داخل ہو جائے، یا واشنگٹن میں، وہ ایک ہی زبان میں خطبہ سنے گا۔ وہ انڈونیشیا کے کسی گھر میںجا کر کھانا کھائے یا واشنگٹن میں، دستر خوان، شراب اور سؤر کے گوشت سے پاک ہو گا، اور لوگ داہنے ہاتھ سے اس لیے کھا رہے ہوں گے کہ محمدعربیؐنے ۱۴ سو سال پہلے یہی فرمایا تھا۔ کیا کسی شخص نے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد انسانوں کے اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے پر اتنا گہرا اثر ڈالا ہے، جتنا حضوؐر نے ڈالا ہے۔ یہ وحدت و یگانگت اسلام کا عطیہ ہے جو رنگ،نسل اور زبان، ان سب فصیلوں کو عبور کرکے، انسان کو انسان سے جوڑتی ہے اور ایک وحدت بناتی ہے۔ یہ محمد عربیؐ کے عالمی مشن اور پیغام کی دوسری نمایاں خصوصیت ہے۔

امنِ عالم اور عدل کا قیام

اُمت محمدیؐ کے عالمی مشن کی تیسری نمایاں صفت عدل و قسط کا قیام ہے۔ جب ہم شہادت کا لفظ بولتے ہیں تو اس کے ساتھ حق کا لفظ بولتے ہیں، یعنی شہادت حق۔ قرآن نے جہاں بھی شہادت کا ذکر کیا ہے، بعض جگہ اسی کی وضاحت نہیں کی کہ کس بات کی شہادت دو، مثلاً فرمایا:

تَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ(البقرہ۲:۱۴۳) تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جائو۔

کس چیز کے گواہ بن جائو، یہاں یہ بیان نہیں فرمایا، اور جہاں یہ بیان فرمایا تو اس کے لیے قسط کا لفظ استعمال فرمایا:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِز (المائدہ۵:۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج (الحدید۵۷:۲۵) ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔

سورۂ رحمن میں اسی بات کو ایک دوسرے انداز میں بیان کیا گیا ہے:

اَلرَّحْمٰنُo عَلَّمَ الْقُرْاٰنَo خَلَقَ الْاِنْسَانَo عَلَّمَہُ الْبَیَانَo اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍo وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِoوَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَo (الرحمٰن۵۵:۱-۷) نہایت مہربان (خدا) نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ اُسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں۔ آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔

جولوگ کہتے ہیں کہ حق اور انصاف کی بات کرنا، اسلام کا مزاج نہیں، وہ اسلام اور نبوت کے مزاج سے ناواقف ہیں۔ حق وہ بھی ہے جو مجموعی طور پر حق ہے، اور تواصوابالحق میں    وہ حق بھی شامل ہے جو ایک انسان کا دوسرے انسان پر ہے۔ ایک موقع پر حضوؐرنے یہ فرمایا کہ اسلامی معاشرے میںعدل اور انصاف کا یہ عالم ہوگا کہ زیورات سے لدی ایک عورت تنہا سفر کرے گی اور اسے اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہ ہوگا۔یہ دراصل آپؐ  نے اس معاشرے کا ذکر کیا ہے جہاں پر کوئی کسی کے حق پر ڈاکا نہیں ڈال سکتا۔ کوئی کسی کی جان، مال اور عزت و آبرو پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔یہی انسانی حقوق کا خلاصہ ہے۔

حقیقی چیلنج

دراصل یہ وہ پیغام ہے جو آج بھی بڑی کشش رکھتا ہے۔ اس میں بڑی دل آویزی اور   دل کشی ہے، اور لوگ اس کو قبول کرتے ہیں۔ یہ جو کش مکش ہونے والی ہے، جس کے لیے اسٹیج تیار ہو رہا ہے، جس کی پیش گوئی خود ارباب مغرب کر رہے ہیں، یہ کش مکش آج کا حقیقی چیلنج ہے۔ دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ کیا محمد عربی ؐکی نبوت کے ماننے والے یہ اہلیت رکھتے ہیں ، کہ ایک دفعہ پھر  تاریخ کا دھارا موڑ دیں، زمانے کا رخ بدل دیں، اور انسانیت جو بتدریج ہلاکت و تباہی کی   طرف بڑھ رہی ہے، اس کو موت سے بچا سکیں اور ایک نئی زندگی سے ہم کنار کر سکیں۔ اگر کوئی    نبی آنے والا نہیں ہے، اور خاتم النبیینؐ تشریف لا چکے ہیں اور آپؐ  کی نبوت زندہ ہے، تو کیا اس نبوت کا حیات بخش خطاب دنیا کو سنایا نہ جائے گا؟ کیا دنیا پھر اس سے ہم کنار نہ ہو سکے گی؟

ہندستان کے ایک اخبار میں ایک ہندو عورت کا بڑا درد ناک خط چھپا۔ اس عورت نے مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے کہ تم نے ہمارے ہاں ۸۰۰ سال حکومت کی۔ مگر تم نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ قرآن میں کیا لکھا ہے، نہ اپنے عمل سے بتایا، نہ زبان سے بتایا کہ قرآن کا کیا پیغام ہے۔ اب میں قرآن پڑھ کر واقف ہو چکی ہوں کہ تمھارے اوپر اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری ڈالی تھی اور سپرد کی تھی کہ اس پیغام کو لوگوں تک پہنچائو۔ میں قیامت کے روز تمھاری گردن پکڑوں گی، اور کہوں گی کہ یہ وہ تیرے بندے ہیں جن کے پاس قرآن مجید بھی تھا اور نبوت کا پیغام بھی مگر انھوں نے ہمیںاس سے ناآشنا رکھا، اور ہم کو معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ اسلام کیا ہے۔

آج ہر جگہ یہ معرکہ برپا ہے۔ اب اسلام اور مغرب کے معرکے کی سرحدیں مغرب کے جغرافیائی خطے تک محدود نہیں رہیں۔ اَب مغرب کی سرحدیں ریاض اور جکارتہ میں بھی ملیں گی، اور کراچی اور قاہرہ میں بھی۔ اسی طرح اب اسلام کی سرحدیں واشنگٹن، لندن، پیرس اور یورپ کے اندر بھی نظر آئیں گی۔ مشیت الٰہی سے یہ حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان یورپ میں موجود ہیں۔ مشیت الٰہی تو اسی طرح کام کرتی ہے، جہاں عقل کام نہیں کر سکتی۔

حضوؐرکی پیش گوئی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان فلسطین کے مقام پر جنگ ہوگی۔ اس پر ایک محدث نے کہا کہ یہ ضعیف، موضوع اورگھڑی ہوئی روایت معلوم ہوتی ہے۔ فلسطین میں تو یہودی ہیں ہی نہیں، ان کی مسلمانوں کے ساتھ آخر جنگ کیسے ہوگی؟ جب آدمی عقل پر انحصار کرتا ہے، تو ایسے ہی نتائج نکالتا ہے۔ یہودی گذشتہ ۶۰سال میں  دنیا کے گوشے گوشے سے کھینچ کھینچ کر اس علاقے میں پہنچائے جا رہے ہیں۔ روس سے آرہے ہیں، ایتھوپیا سے آ رہے ہیں، یورپ سے آ رہے ہیں، ہر جگہ سے ان کو جمع کیا جا رہا ہے۔

میری نظر میں، ۱۴ سو سال کی تاریخ میں یہ تیسرا موقع ہے کہ آج مغرب کے چپے چپے پر مسلمان موجود ہیں۔ وہ برطانیہ جہاں ۳۵سال پہلے صرف چار مسجدیں تھیں، اب وہاں پر ۵۰۰سے لے کر ہزار مساجد کااندازہ ہے۔ امریکا کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں مساجد کے گنبد اور مینار نظر آتے ہیں۔ اب انگلستان کی سڑکوں پر اذان کی آواز بھی سنائی دیتی ہے، وہ آواز کہ جس کے بارے میں ونسٹن چرچل کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس گھڑی سے خوف محسوس ہوتا ہے کہ جب ہماری سڑکوں پر اذان کی آواز سنائی دے گی، اورآج وہ سنی جا رہی ہے۔ پروپیگنڈا یہ ہے کہ اسلام سب سے بدتر مقام عورت کو دیتا ہے، حالانکہ مسلمان ہونے والوں میں دوتہائی عورتیں ہیں اور ایک تہائی مرد۔

ہر شخص جانتا ہے کہ یہ ہونا ہے۔ اس لیے یورپ کو ایک طرف اسلامی دنیا کا خطرہ ہے، اور دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ہی گھر کو بھر رہے ہیں، جہاں جائیں مسلمان نظر آتے ہیں۔ چنانچہ وہ تعصب اور تنگ نظری کا وہ مظاہرہ کر رہے ہیں کہ جس کی مثال بھی مشکل سے ملے گی۔

بوسنیا تو ہے ہی ایک خونچکاں داستان، یورپ میںلڑکیاں چہرے پر نقاب نہیں لے سکتیں، سرپر اگر اسکارف باندھیں، تویہ بھی منع ہے۔ آزادیِ راے، حریتِ فکر اور جمہوری حقوق کے    علَم بردار یہ برداشت کرنے کو تیار نہیں کہ لڑکیاں سر پر اسکارف باندھ لیں۔ وہ یہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں کہ لڑکیاں اسکرٹ کے بجاے شلوار پہن کر اسکولوں میں چلی جائیں۔ اسکولوں کے باہر مظاہر ے ہوئے، کہ ان لڑکیوں کو شلوار پہننے کی اجازت کیوں دی گئی ہے؟ یہ پاکستان اور ایران کے کٹرملا نہیں تھے بلکہ یہ مغرب کے روشن خیال شہری تھے جو اس پر احتجاج کر رہے تھے کہ کسی کو اپنی مرضی سے لباس پہننے، اپنی مرضی سے سر ڈھانپنے کا حق کیسے دیں؟

اسلام سے مفاھمت کی شرائط

اب وہ اسلام کو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ کسی طریقے سے اسلام اور مغرب کے درمیان کچھ مفاہمت ہونی چاہیے۔ لیکن یہ مفاہمت کس شرط پر ہو؟

ایک لکھنے والا لکھتا ہے اور پہلے وہ پورے ۱۴ سو سال کا نقشہ کھینچتا ہے کہ کس طرح اسلام اور مغرب نجران کے عیسائیوں سے لے کر مسلسل تصادم سے دو چارہیں، اوراسلام نے وہ چرکے لگائے ہیں، وہ داغ دیے ہیں، وہ زخم لگائے ہیں کہ ہم بھول نہیں سکتے۔ مصر، شام، عراق،بیت المقدس جہاں حضرت مسیحؑ پیدا ہوئے لیبیا، الجزائر، تیونس، یہ عیسائیت کے بڑے مضبوط گڑھ تھے۔ عیسائیت کے بڑے بڑے زعما شمالی افریقہ میں پیدا ہوئے ہیں، یورپ میں نہیں۔ ابتدائی چوتھی پانچویں صدی کے ان کے سب بڑے علما اور فضلا لیبیا، تیونس اور الجزائریا میں پیدا ہوئے ہیں۔ اسلام ایسا آیا کہ ۳۰سال کے عرصے میں سب کو بے دخل کر دیا۔ یہ کش مکش تو جب سے چلی آ رہی ہے، اب تو انسانیت کے مستقبل کا انحصاراس کش مکش پر ہے۔

وہ مزید لکھتا ہے کہ دو بڑی تہذیبیں آپس میں مفاہمت کر لیں، اور مفاہمت اس وقت ہوسکتی ہے، جب مسلمان دو چیزوں کے بارے میں اپنی تعلیمات میں تبدیلی کرنے کو تیار ہوجائیں۔ ذرا سوچیے کہ وہ دو چیزیں کیا ہو سکتی  ہیں؟ کیا توحید، آخرت یا رسالت کے بارے میں، نہیں، بلکہ وہ سزائوں کے بارے میں اور عورت کی حیثیت کے بارے میں ہیں۔ اگر ان دوچیزوں کے بارے میں مسلمان اپنی تعلیمات میںترمیم کرنے کو تیار ہو ں تو ہماری ان کی مفاہمت ہو سکتی ہے، اور اگر تیار نہ ہوں تومفاہمت نہیں ہو سکتی۔ آدمی حیران  ہو تاہے کہ یہ کیا مطالبات ہیں، کہ ان کی بنیاد پر تہذیبوں کے درمیان انسانیت کے مستقبل کے لیے مفاہمت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ آگے چل کر وہ کہتا ہے کہ اس کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ مسلمان اس قرآن کو دوحصوں میں تقسیم کرلیں۔ ایک وہ حصہ ہے جو مکہ میںنازل ہوا، جس میں توحیدو رسالت اور یتیموں اوربیوائوں کی امدادکی دعوت دی گئی ہے۔ یہ تو مشترک انسانی چیزیں ہیں ، وہ سر آنکھوںپر۔ ایک وہ حصہ ہے جو مدینہ میں نازل ہوا اور جس میں ریاست ’سیاست‘ قانون، خاندان، عورتوں اور سزائوں کے بارے میں احکام ہیں۔ یہ نعوذ باللہ حضوؐر نے بحیثیت ایک مدبر اور قانون دان کے خود کیا ہے، اسے بدلا جا سکتا ہے۔ گویا جس طرح عیسائیت میں شریعت کو ختم کیا گیا تھا، اسی طرح اسلام میں بھی شریعت کو ختم کر دیا جائے۔ یہ ہے وہ پوشیدہ حقیقت جو آج سامنے آ گئی ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اسی طرف اشارہ کیا تھا کہ مغرب کا دل اسی سے لرزتا ہے کہ کہیں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق شرع پیغمبری آشکارا نہ ہو جائے   ع

ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں

دراصل یہ وہ دور ہے کہ جو شرع پیغمبریؐ کے نمو کا دور ہے۔ وہ شرعِ پیغمبر جو انسانیت کو  اس آبِ حیات سے ہم کنار کرے گی،جسے قرآ ن نے شِفَـآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ، (یونس ۱۰:۵۷) کہا ہے۔ وہ شفار ہے ان سارے امراض کے لیے، جن کا انسانیت آج شکار ہے۔ یہ کس کے ہاتھوں ہوگا، یہ میں نہیں کہہ سکتا، لیکن میرا بھی دل چاہتا ہے کہ یہ سعادت ہمارے حصے میں آئے، بشرطیکہ ہمیں اس کا ادراک اور احساس ہو۔

مستقبل آپ کا منتظر ھے!

یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے جو ہم نے اپنے ذمے لیا ہے۔ مکہ میں مٹھی بھر آدمی تھے اور ایک کلمے کی دعوت تھی، مگر اس وقت بھی ان کی نگاہیں قیصر و کسریٰ کے خزانوں اور محلات پر تھیں۔ اس ادراک کے بغیر ان چھوٹے کاموں کے اندر وہ عظمت نہیںپیدا ہو سکتی، جو کہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ صدقے کی ایک سونے کی گٹھلی کو لیتا ہے اور اس کو اتنا بڑھاتا ہے کہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ مگر اللہ نے ایک فرق بھی ملحوظ رکھا ہے، اس کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے:

لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ط اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْٓ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا ط وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی ط وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ o (الحدید۵۷:۱۰) تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنھوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے، اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

لہٰذا جب فتح اور غلبے کی علامات نظر آنے لگیں، اس وقت کا ادراک اور احساس رکھنا اور شعور رکھنا اور تاریخ جو کچھ پیش کر رہی ہے اس کا فہم ضروری ہے۔ یہ اُمت محمدیؐ کے عالمی مشن کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اس کے نتیجے میںآج بھی چھٹی صدی عیسوی کا یہ معجزہ ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔

اگر ہم آگے بڑھ کر اس کام کو نہ اٹھائیں گے تو سیدنا مسیحؑ کی تمثیلی زبان میں کہ دولھا کے انتظار میںکنواریاں چراغ لیے انتظار کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ دولہا آیا اور گھر میں داخل ہو گیا، کچھ سو گئی تھیں اور کچھ کا تیل ختم ہو گیا تھا اور وہ اس کے ساتھ اندر نہیں جا سکیں۔

جب تاریخ کا دولہا اسلام کی بارات لے کر آئے گا، تو کون ہوگا جس کے چراغ میں تیل جل رہا ہوگا، اور کون ہوگا کہ جو جاگ رہا ہوگااور کون ہوگا جو تاریخ کے اس لمحے پر اپنا کردار ادا کرے گا___  اس کا علم یا تو علام الغیوب کو ہے یا تاریخ اس کا فیصلہ کرے گی۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ اگر تم اس فرض کو ادا نہ کرو گے تو پھر وہ کیا کرتا ہے:

وَ اِنْ تَـتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ لا ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْo         (محمد ۴۷:۳۸) اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔

یہ ہے وہ دعوت کہ جو آج اس امت کے سامنے موجود ہے۔ اس پکار پر لبیک کہنے میں اس اُمت کا مستقبل بھی ہے، اور انسانیت کا مستقبل بھی اسی سے وابستہ ہے۔ اللہ ہم سب کو اس کا شعور وادراک عطا کرے اور اس راہ پر چلنے کی توفیق دے،آمین! (کیسٹ سے تدوین: امجدعباسی)


کتابچہ دستیاب ہے، منشورات، منصورہ، لاہور۔ قیمت: ۷ روپے، سیکڑے پر خصوصی رعایت

عیدالاضحی کے موقع پر مسلمان سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں‘ اور اللہ کی راہ میں اپنی جان تک قربان کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ اس موقعے پر محترم خرم مراد کی ایک انگریزی مطبوعہ تقریر Sacrifice کا ایک حصہ پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

قربانی کا کیا مطلب ہے؟ ہمیں کس چیز کی قربانی دینا چاہیے؟ کون سی قربانیاں دینا زیادہ مشکل ہے؟ کن قربانیوں کو عظیم قرار دیا جانا چاہیے؟

قربانی کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہم جن چیزوں سے محبت کرتے ہیں‘ جن کی ہماری نظروں میں کچھ قدر ہے‘ وہ اِس وقت ہماری ہوں‘ یا ہم مستقبل میں انھیں حاصل کرنے کی تمنا اور امید کرتے ہوں‘انھیں چھوڑ دیں۔ یہ چیزیں محسوس اور مادی ہوسکتی ہیں‘ یا غیرمادی اور تصوراتی۔ مادی چیزوں میں وقت‘ مال‘ دنیاوی اشیا‘ جسمانی صلاحیتیں اور زندگی اہم ہیں۔ اہم تصوراتی اشیا میں ہماری محبت‘ خاص طور پر خاندان سے تعلقات‘ پسندوناپسند‘ ترجیحات و تعصبات‘ نقطۂ نظر اور راے‘ خواہشات اور تمنائیں‘آرام و آسایش‘مقام و منصب یا ہماری اَنا شامل ہیں۔

قربانی کا مفہوم صحیح طور پر سمجھنے کے لیے تین اصول پیش نظر رہنے چاہییں:

اوّل: کسی چیز کے چھوڑنے کو اسی وقت قربانی کہا جاسکتا ہے‘ جب کہ ہم اس سے محبت کرتے ہوں اور اس کے قدرداں ہوں۔ اس لیے مادی اور غیرمادی اشیا کے درمیان امتیاز کی لکیر کھینچنا مشکل ہے۔ آخری تجزیے میں ہر قربانی‘ محبت اور قیمتی چیز کی قربانی ہے۔ جب ہم مال‘ یا زندگی‘ یا کوئی تعلق اللہ کی خاطر قربان کرتے ہیں تو جو شے ہم درحقیقت قربان کرتے ہیں جو اسے ایک قربانی بناتاہے‘ وہ مال‘ زندگی یا رشتے دار کے لیے ہماری محبت ہے‘ نہ کہ اصل شے۔

دوم: مادی کے مقابلے میں غیر مادی اشیا کو قربان کرنا زیادہ مشکل لیکن زیادہ ضروری ہے۔

سوم: ہم کسی ایسی چیز کو جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور جس کی قدر کرتے ہیں‘ کسی ایسی چیز کے لیے ہی قربان کرسکتے ہیں جس سے ہم اس سے زیادہ محبت کرتے ہوں اور اس سے زیادہ قدر کرتے ہوں۔

مادی قربانیاں

ٹھوس اشیا کی قربانیوں کی ضرورت اور اہمیت ہم جانتے پہچانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں خواہ بعض وقت یہ قربانیاں نہ دے سکیں‘ یا دینے میں بہت مشکل محسوس کریں۔ لیکن جب ہم ایک دفعہ کسی مقصد سے وابستہ ہوجائیں تو اپنے وقت اور مقام پر ان میں سے ہر ایک کی قربانی دینا ہوتی ہے۔ اسی لیے ہمیں ذرا ٹھیر کر ان کی اہم خصوصیات پر غور کرنا چاہیے۔

وقت

وقت ہماری سب سے قیمتی شے ہے۔ ہم زندگی میں جس چیز کی بھی خواہش کریں‘ اسے وقت لگائے بغیر حاصل نہیں کرسکتے۔ ہم اپنا وقت‘ مسرت حاصل کرنے میں‘پیسہ کمانے میں‘  دنیاوی اشیا حاصل کرنے میں‘ کام کرنے میں‘ مزے اٹھانے میں یا محض کاہلی میں کچھ نہ کر کے بھی گزار سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سے جس چیز کا سب سے پہلے مطالبہ کرتا ہے‘ وہ وقت ہے۔ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے کے لیے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ نماز پڑھنے میں وقت لگتا ہے۔ دعوت کا کام کرنے میں وقت خرچ ہوتا ہے۔ قرآن پڑھنے میں وقت صرف ہوتاہے۔ مریض کی عیادت کرنے کے لیے بھی وقت چاہیے ہوتا ہے۔ ہمیں اپنا ہرلمحہ اللہ کی رضا کے حصول میں‘ جو اس سے عہد کیا ہے اسے پورا کرنے میں صرف کرنا چاہیے۔

لیکن اگر آپ ذرا گہرائی میں جاکر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آپ سے دراصل جس چیز کی قربانی مانگی جارہی ہے‘ وہ وقت نہیں بلکہ وہ اشیا ہیں جن کے حصول میں آپ کا وقت خرچ ہوتا ہے۔ وہ اشیا جو آپ کی زندگی کے مقاصد کے خلاف ہوں‘ بے معنی‘ غیراہم‘ یا اللہ کی خاطر کیے جانے والے کاموں سے کم اہم۔ اس لیے اسلام کے لیے وقت دینے کے لیے‘ آپ کو سب سے پہلے وہ بہت سی اشیا قربان کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے جن پر آپ کا وقت لگتا ہے۔

آپ اپنے آپ کو ان چیزوں کی قربانی کے لیے اور اپنا وقت اللہ کے لیے دینے پر کس طرح آمادہ کریں؟

یاد رکھیے کہ وقت ایک ایسی چیز ہے جس کو آپ ایک لحظہ بھی نہیں ٹھیرا سکتے۔ جس طرح بھی چاہیں آپ اسے صرف کریں‘ یہ مسلسل آپ کے ہاتھ سے پھسلتا رہے گا۔ آپ کے لیے اس کی قیمت وہی ہے جو آپ اس سے حاصل کریں۔ وقت پگھل جائے گا‘ جو آپ اس سے حاصل کریں گے‘ وہ آپ کے ساتھ رہے گا۔

ہرلمحے اس امر کو پیش نظر رکھیے کہ وقت کا ہرلمحہ ہمیشہ کی مسرت یا نہ ختم ہونے والی تکلیف میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس طرح صرف کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس امر کا استحضار وقت کی قربانی دینے میں آپ کو سب سے زیادہ طاقت فراہم کرے گا۔ وہ لمحات جن کو آپ آج اپنی گرفت میں نہیں رکھ سکتے‘ کل آپ کو اس طرح ملیں گے کہ کبھی جدا نہ ہوں گے۔ پھر آپ ایسی چیزوں کا حصول کیوں نہ قربان کردیں جو نہ ختم ہونے والی تکلیف اور پچھتاوے میں تبدیل ہوجائیں گی۔

جب وقت گزر رہا ہو تو آپ غور کیجیے: آپ کیا پا رہے ہیں___ کوئی عارضی یا مستقل چیز؟ مسرت یا پچھتاوا؟ آپ کے وقت میں اسلام کو کتنی ترجیح حاصل ہے؟ وقت کس تناسب سے اللہ کی راہ میں لگتا ہے؟ ’’اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے‘‘۔(الحشر ۵۹:۱۸)

اللہ کی راہ میں وقت کی قربانی اسلام کا جوہر ہے۔ جب بھی طلب کیا جائے‘ آپ کو حاضر ہونا چاہیے۔ اس لیے‘ آپ کو اپنے آپ کو مسلسل تربیت دینا چاہیے کہ اللہ کی راہ میں وقت دے کر‘ ہر چیز کی قربانی دے سکیں۔ یہ صفت آپ کے کردار پر ‘ دن میں پانچ دفعہ نقش کی جاتی ہے۔ جمعہ کے دن آپ کو اس طرح بیدار کیا ہے:

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن‘ تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو‘ یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔ (الجمعہ ۶۲:۹)

مال اور دنیاوی اشیا

آپ کا بیش تر وقت مال کے یا مال کے ذریعے حاصل ہونے والی دنیاوی اشیا کے حصول کی کوشش میں صرف ہوجاتا ہے: ’’لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس : عورتیں ، اولاد ، سونے چاندی کے ڈھیر ، چیدہ گھوڑے ، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آیند بنادی گئی ہیں‘‘۔(اٰل عمرٰن۳:۱۴)

یاد رکھیے کہ دنیاوی اشیا کی یہ محبت اور خواہش نہ قابلِ مذمت ہے‘ نہ بری ہے۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ یہ دنیا اپنی اصل میں شر‘ یا خرابی نہیں ہے۔ دولت اور مال کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ اسے خیر (اچھا) کہتے ہیں جو ایک بالکل درست بات ہے۔ اس لیے کہ اللہ اور دوسری دنیا کی نعمتوں اور برکتوں کی طرف جانے والا راستہ اس دنیا سے گزر کر جاتا ہے۔ اگر ہم اس دنیا کو ترک کردیں‘ تو ہمارے پاس ان نعمتوں اور بیش بہا خزانوں کو حاصل کرنے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ بلاشبہہ اللہ کی رضا اور اس دنیا کے حصول کا واحد ذریعہ اور بنیاد یہی ہے۔

جو چیز اس دنیا کو شر‘ یا برائی بناتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس دنیا کے عارضی دورانیے کے لیے یہ سب کچھ ہمیں اُس دنیا کے حقیقی اور مستقل مقاصد لیے دیا گیا ہے‘ جو ہر اس چیز سے بہتر ہے جو یہ دنیا دے سکتی ہے۔ جب ذرائع مقاصد بن جائیں‘ تو حقیقی قدروقیمت کی اشیا کے بجاے ہمارے حصے میں دنیاوی تکالیف آتی ہیں۔ قرآن آگے کہتا ہے:

مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے ، وہ تو اللہ کے پاس ہے۔کہو : میں تمھیں بتائوں کہ ان سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے؟ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں ، ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغ ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں انھیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہو گی ، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی اور اللہ کی رضا سے وہ سر فراز ہوں گے۔ (اٰل عمرٰن ۳:۱۴-۱۵)

اللہ کی راہ میں دنیاوی اشیا کی قربانی دینا آسان نہیں ہے۔ جب انتخاب کا واقعی موقع آئے تو بہت سے لڑکھڑاجاتے ہیں اور ناکام رہتے ہیں۔ کچھ باتوں کا یاد رکھنا‘ ان مشکل قربانیوں کو دینے میں آسانی پیدا کرے گا۔

اوّل: کوئی چیز بھی آپ کی نہیں ہے‘ ہر چیز اللہ کی ہے۔ جب آپ کوئی چیز اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں تو دراصل اسے اس کے اصل مالک کی طرف لوٹا رہے ہوتے ہیں: ’’آسمانوںاور زمین میں ہر چیز اللہ ہی کی ہے‘‘۔

دوم: دنیاوی چیزوں کو آپ کتنا ہی زیادہ قدروقیمت کا حامل کیوں نہ سمجھیں‘ آخری سانس کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہوجائے گا۔

جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے ، اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔(النحل ۱۶:۹۶)

اور اے نبیؐ ! انھیں حیاتِ دنیا کی حقیقت اس مثال سے سمجھائو کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پودخوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی ، جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرایش (زینت) ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنھی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔(الکہف ۱۸:۴۵-۴۶)

سوم: صرف اللہ کی راہ میں دینے سے آپ اسے کئی گنا زیادہ واپس پاسکتے ہیں۔

اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو ۔ جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے‘ اسے اللہ کے ہاں موجود پائو گے ، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔اللہ سے مغفرت مانگتے رہو ، بے شک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔(المزمل ۷۳:۲۰)

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں ، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے ‘ افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔(البقرہ ۲:۲۶۱)

ایک لمحے کے لیے سوچیے!

اسلام سے وابستگی کے آپ کے دعووں کی کیا وقعت ہے اگر آپ کھانے پینے اور سگریٹ نوشی پر اپنے مقصد سے زیادہ خرچ کریں۔ اللہ کے وعدوں پر آپ کے یقین کی کیا حقیقت ہے اگر دنیا میں نفع کی ذرا سی بھی اُمید آپ کو اپنی کُل رقم کسی بزنس میں لگانے کے لیے آمادہ کرتی ہے‘ جب کہ ۷۰۰ گنا رقم کا وعدہ___ جو کبھی واپس نہ لی جائے گی‘ آپ کا بٹوا نہیں کھلوا سکتا۔ آپ اپنی زندگی میں اسلام کے مقام کا تعین یہ جائزہ لے کر کرسکتے ہیں کہ آپ اپنی دولت کس تناسب سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

مال کی قربانی کبھی آسان نہیں رہی۔ لیکن ہمارا دور تو ایسا دور ہے کہ جس میں صرف بہتر معیارِ زندگی‘ مزہ اور مسرت‘ صارفیت اور مادی اشیا ہی زندگی کے مقصد بن چکے ہیں۔ اس لیے آپ دیکھ بھال کر جائزہ لیں کہ کہیں آپ اس لحاظ سے ناکام نہ ہوجائیں۔

زندگی

ایک وقت آسکتا ہے جب آپ سے اللہ کی راہ میں جان کی قربانی طلب کی جائے۔ اس طرح جان دینا‘ شہادت کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ اس کے بعد آپ شہید کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ آپ کی زندگی‘ آپ کی قیمتی ترین متاع ہے۔ اس کی قربانی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی زندگی جو کچھ دیتی ہے‘ یا دے سکتی ہے‘ تمام مادی اور غیرمادی اشیا جن کا پہلے ذکر ہوا ہے‘ آپ سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار رہیں۔

جب یہ احساس ہوجائے کہ زندگی آپ کی نہیں‘ اللہ کی ملکیت ہے اور جو اس کا ہے‘ وہ آپ کو اسے دینا چاہیے تو آپ اللہ کی راہ میں جان دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ موت سے نہ تو آپ بچ سکتے ہیں‘ نہ فرار اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ ہمیشہ مقررہ وقت پر‘   طے شدہ مقام پر‘ طے شدہ طریقے سے آئے گی (اٰل عمرٰن ۳:۱۸۵، ۱۴۴-۱۴۵۔ النساء۴ : ۱۷۸)۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جو اللہ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں‘ وہ اپنی موت سے ماورا‘ اپنے لیے‘ اپنی برادری کے لیے‘ اپنے مشن کے لیے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرلیتے ہیں۔

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں‘ اُنھیں مردہ نہ کہو ، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں ، مگر تمھیں اُن کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا ۔(البقرہ ۲:۱۵۴)

اس دنیا کی زندگی سے محبت نہ ہونا چاہیے‘ موت کا خوف نہ ہونا چاہیے‘ تب ہی آپ وہ طاقت حاصل کریں گے جو اپنی جان قربان کرنے کے لیے چاہیے۔ یہ صرف موت کے لیے آمادہ ہونا ہے جس سے آپ دشمن طاقتوں پر غلبہ پاسکتے ہیں۔ تب ہی کامیابی کے دروازے کھلیں گے۔ آپ مر کر زندگی حاصل کرتے ہیں‘ اپنے لیے‘ اور اپنی برادری کے لیے۔ اگر آپ مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ تو آپ کو زندہ رہنے کا حق نہیں رہتا‘ کم سے کم ایک برادری کے طور پر۔

ہم میں سے ہر ایک سے جان کی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا‘ لیکن اس کی تمنا ہر دل میں ہونی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جو نہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے‘  نہ جہاد کے بارے میں سوچتا ہے‘ منافق کی موت مرے گا (مسلم)۔ انھوں نے یہ بھی کہا: اس  ہستی کی قسم! جس کے قبضے میں‘ میری جان ہے‘ مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں مارا جائوں‘ پھر زندہ کیا جائوں‘ پھر مارا جائوں‘ پھر زندہ کیا جائوں تاکہ ایک دفعہ پھر اللہ کی راہ میں جان دے سکوں(بخاری، مسلم)۔ (ترجمہ:  مسلم سجاد)

 

’مستقبل‘ کا لفظ اپنے اندر بڑی کشش اور دل فریبی رکھتا ہے۔ مستقبل بنانے کے لیے ہم ساری زندگی تگ و دو کرتے ہیں‘ اور اپنی زندگی کے بہترین سال اپنے مستقبل کی تعمیر میں صرف کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں اُس چیز کی محبت رکھ دی ہے جو فوری ملنے والی ہو‘ جو نفعِ عاجل ہو‘ اور یہ محبت اس امتحان کے لیے ضروری تھی جس میں اس کو ڈالا گیا ہے‘ وہاں اس نے اس کی فطرت میں مستقبل کی آرزوئوں‘ تمنائوں اور خوابوں کے لیے جدوجہد‘ کوشش اور قربانی کا جذبہ بھی رکھ دیا ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسانی وجود کی تخلیق کو تکمیل کا درجہ عطا کرتی ہیں۔

حال اور مستقبل‘ آج اور کل کے لحاظ سے اگر ہم انسانوں کو اور انسانی گروہوں کو تقسیم کرنا چاہیں تو دو قسم کے گروہ نظر آئیں گے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو حال مست ہیں‘جن کی نظر آج کے نفع پر ہوتی ہے‘ جو آج کا کام آج کر کے لمبی تان کر سوتے ہیں اور جن کے نصیب میں آج کی روٹی آئے تو وہ اس کو اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی نگاہ مستقبل پر مرکوز کردیتے ہیں۔ آج کے ہرلمحے اور اپنی ہرکوشش کا نتیجہ وہ مستقبل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تقسیم بہت واضح اور صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے اور اس میں کسی شک و شبہے کی گنجایش نہیں ہے۔

اسلام ، مستقبل کے لیے جستجو

اگر ہم مختصر الفاظ میں اسلام اور مسلمان کی تعریف کرنا چاہیں تو یہ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتی کہ اسلام مسلمان کو مستقبل کے لیے جینے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ مستقبل جس کا وجود موت کی سرحد سے بھی ماورا ہے‘ اور جو اتنا عظیم الشان ہے کہ زمین و آسمان بھی اس کے وسعت میں سماجائیں۔ قرآن مجید کی ساری دعوت ہی یہ ہے کہ دوڑو‘ بھاگو ‘سعی اور کوشش کرو اور ایک دوسرے سے سبقت لے جائو اور آگے بڑھو۔ حرکت خود مستقبل کی طرف لے جاتی ہے۔ گویا مسلمان وہ ہے کہ جو اپنے حال کے ہرلمحے پر اس طرح سے نگاہ ڈالتا ہے کہ کل اس کا کیا نتیجہ نکلنے والاہے۔

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ج (الحشر ۵۹:۱۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اللہ سے ڈرو‘ اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل  کے لیے کیا سامان کیا ہے۔

قرآن کی دعوت یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری جائے۔ ہرانسان یہ دیکھے کہ اس نے آج‘ کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ یہ کل وہ ہے جو زندگی کی سرحد سے ماورا اپنا وجود رکھتی ہے اور جو زندگی کی سرحد کے اس پار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا جس کی فطرت ہی میں ایک واضح مستقبل کی تعمیر ہو‘ وہ صرف آج کے نفع‘ آج کی سعی اور جدوجہد پر قانع نہیں ہوسکتا‘ اس کی نگاہ ہمیشہ کل پر رہے گی۔

ایک تحریک، ایک جدوجھد

یہ بھی واضح رہے کہ اسلام کے معنی تحریک کے ہیں‘ جب کہ تحریک کے معنی حرکت اور جدوجہد کے ہیں۔ حرکت کے معنی ایک زمانے سے دوسرے زمانے کی طرف سفر کے بھی ہیں‘ یعنی حال سے مستقبل کی طرف سفر۔ تحریک وہ ہے جو مستقبل کی طرف سفر جاری رکھے۔ اگر وہ حال پر قانع ہوکر رہ جائے اور حال ہی کی کارکردگی پر مطمئن رہے تو یہ تحریک نہیں بلکہ جمود ہے۔ تحریک کی نگاہ ہمیشہ آنے والے کل پہ ہوگی۔ آنے والا کل‘ آج کی اس کی جدوجہد کو بارآور کرے اور نتیجہ خیز بنائے‘ یہی اس کا مقصود ہوگا۔

اگر زمانے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو رات اور دن کی گردش ایک ایساعمل ہے جو مسلسل حال کے لمحات کو ماضی میں بدلتا ہے‘ مستقبل کو حال بنا دیتا ہے‘ اور مستقبل کا اگلا لمحہ آپ کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ آج تک وقت کی حقیقت اور ماہیت کو کوئی نہیں سمجھ سکا۔ یہ وقت کا وہ پھیر ہے جس سے ہم سب واقف ہیں کہ گھڑی ٹک نہیں کرتی کہ حال ماضی بن جاتا ہے‘ مستقبل حال‘ اور مستقبل کا نیا لمحہ سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ مستقبل کا یہ لمحہ ایک سیکنڈ کے برابر بھی ہوسکتا ہے‘ ایک برس کے برابر بھی ہوسکتا ہے اور یہ صدیوں پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔ اس سب کے باوجود ہر آن وقت کے ماضی‘ حال اور مستقبل میں بدلنے سے مفر کی کوئی صورت نہیں۔ انھی لمحات میں سے بعض لمحات ایسے آتے ہیں کہ ایک لمحے میں ہزاروں مہینوں کا کام ہوجایا کرتا ہے اور ایک بالکل نئے مستقبل کی بنیاد پڑجاتی ہے۔ اس طرح بعض لمحات ایسے آتے ہیں کہ ایک لمحے کی غفلت مستقبل کی منزل کو صدیوں دُور کر دیا کرتی ہے۔

وہ انسان جنھوں نے اپنا دامن اسلام کے ساتھ وابستہ کیا ہو‘ اپنے وقت‘ اپنی کوششوں اور اپنی مساعی کی اس قدروقیمت سے کبھی غافل نہیں ہوسکتے۔ آج دنیا تاریخ کے جس موڑ پرکھڑی ہے‘ وہ کچھ ایسا ہی لمحہ ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے کہ جب لمحے بھر کی غفلت انسان کوا پنے مستقبل سے صدیوں دُور پھینک سکتی ہے‘ اور ایک لمحے کی محنت اور توجہ انسان کواپنی منزل سے قریب بھی کرسکتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا زیر و زبر ہورہی ہے اور ہر طرف تغیر وتبدل کا عمل جاری ہے۔ ایسی کیفیت میں اسلامی تحریک کے لیے‘ جو عالمی انقلاب کا خواب دیکھ کر وجود میں آئی اور جس نے امامت عالم پر   اپنی نگاہیں جمائیں‘ اور جس نے دنیا کو نئی تہذیب و تمدن سے آشنا کرنے کے لیے انسانوں کی ایک نئی ٹیم بنانے کا کام اپنے ذمے لیا‘ سوچنے کا لمحہ ہے کہ وہ کہاں کھڑی ہے‘ اور اسے کیا کرنا چاہیے کہ وہ تاریخ کے اس چیلنج کا جواب دے سکے‘ جواُسے اس کی منزل سے قریب کردے۔

اُمت مسلمہ کا عروج و زوال

تاریخ کے اس چیلنج کو بہت مختصراً سمجھنے کے لیے ذرا ذہن میں اس تصویر کو تازہ کیجیے کہ جب چھٹی صدی عیسوی کے ایک دن‘ صبح صادق سے چند لمحے پہلے‘ اللہ تعالیٰ نے غارِحرا میں اپنی ہدایت کی پہلی چند کرنیں اپنے محبوبؐ کے قلبِ مبارک میں داخل کیں تو دراصل انسانیت کا مستقبل ایک روشن صبح کے اندر تبدیل ہوگیا۔ یہ صبح ایک ہزار سال تک رہی۔ اگرچہ اس میں تاریکی کے دور بھی آئے لیکن ایک ہزار برس تک اسی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین دنیا کے امام اور قائد بنے رہے۔ یہ ابھی تین چار سو سال پہلے کی بات ہے کہ وہ امامت کے اس منصب سے دست بردار ہونے لگے اور اس سے دست کش ہوتے چلے گئے۔ وہ مغرب کہ جہاں وہ کبھی ایک دفعہ شمال سے آئے اور فرانس کے وسط تک پہنچے‘ اور ایک دفعہ مغرب سے آئے اور جرمنی کی سرحدوں تک دستک دی‘ وہی مغرب کھڑا ہوااور اس نے ان کو ایک ایک کر کے انھی علاقوں میں مغلوب کرنا شروع کردیا جہاں وہ غالب اور حکمران تھے۔ انڈونیشیا‘ ملایشیا‘ ہندستان‘ مصر‘ عراق‘ شام‘ فلسطین‘ تیونس‘ الجزائر‘ مراکش‘ نائیجیریا‘ سینیگال‘ افریقہ‘ ایشیا‘ یورپ‘ غرض کوئی جگہ باقی نہ رہی جہاں پر اُمت مسلمہ کو امامت کے منصب سے بے دخل نہ کردیا گیا ہو۔

جتنا حیرت انگیز انقلاب چھٹی صدی عیسوی کا تھا جس کو ایک مستشرق یوں بیان کرتا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کی صدا نے عرب کے بسنے والے بدوؤں اور گلہ بانوں کو اس جذبے سے سرشار کیا کہ ۱۰۰سال کے عرصے میں اسپین کے مرغزاروں سے لے کر چین کے ساحل تک مکہ کے یتیم بچے   محمد بن عبداللہ کا نام پکارا جانے لگا اور آوازہ بلند ہونے لگا۔ ایسا معجزہ تاریخ نے کبھی نہیں دیکھا۔

تاریخ نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وہی محمد رسولؐ اللہ کے پیرو اور متبعین ایک ایک کر کے ایک ایک علاقے سے اپنی امامت اور حکومت سے بے دخل کردیے گئے۔ ایک لکھنے والے کے الفاظ میں‘ ۱۹۲۰ء میں‘ یہ عالم تھا کہ اگر نگاہ دوڑائی جائے تو ساری دنیا میں صرف چار مسلم ممالک براے نام آزاد تھے جو اس وقت بڑے غیراہم ملک تھے‘ اور وہ تھے سعودی عرب‘ یمن‘ افغانستان اور ترکی۔ ان ملکوں کے حکمرانوں کے بارے میں بھی آج یہ کہاجاتا ہے کہ یہ مغربی طاقتوں کے بعض صورتوں میں آلۂ کار تھے اور بعض صورتوں میں تنخواہ دار تھے۔ یہ حال تھا اس صدی کی ابتدا میں مسلم دنیا کا۔

امامتِ عالم کا چیلنج

تحریک اسلامی جو امامتِ عالم کے منصب پر اپنی نگاہیں جمائے ہوئے ہے‘ جو عالمی انقلاب کا علَم ہاتھ میں تھام کر آگے بڑھی ہے‘ آج وہ خواہ کتنے ہی مسائل میں گھری ہوئی ہو‘ اس بات سے آنکھیں نہیں چرا سکتی کہ بالآخر اس کا مقابلہ مغرب کی اسی غالب تہذیب سے‘ قوت اور عسکری طاقت سے‘ علم و فن اور ترقی سے ہے جو اب مغرب کے جغرافیائی حدود کے اندر محدود  نہیں ہے بلکہ جکارتہ‘ ریاض‘ قاہرہ اور کراچی میں بھی اپنا وجود اور غلبہ رکھتی ہے۔ اس کی زبان بولی جاتی ہے۔ اس کے ادارے قائم ہیں۔ دستور اور پارلیمنٹ‘ عدالت اور بنک اور کاروبار اور تجارت‘ سب پر اسی کی چھاپ‘ اسی کی مہر اور اسی کا غلبہ ہے۔

اسلامی تحریک کے وہ داعی جو اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو آج کے مسائل میں بری طرح گھرا ہوا اور محصور سمجھتے ہیں‘ اگر وہ اپنے ماضی کے اس نعرے اور اس دعوت کو اپنے ذہن میں تازہ رکھیں کہ ہم دنیا کی امامت اور ساری دنیا میں انقلاب لانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں‘ تو وہ سمجھ سکتے ہیں کہ کتنا بڑا چیلنج ہے جو ان کو درپیش ہے۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ مستقبل آپ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے‘ وہ ملت اسلامیہ کا منتظر ہے‘ لیکن مستقبل کی حیثیت من و سلویٰ کی نہیں ہے کہ وہ خودبخود آپ کی گود میں آن گرے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی فرد‘ کسی قوم‘ اورکسی تہذیب کے لیے کوئی ایسا مستقبل نوشتۂ تقدیر نہیں کیا ہے کہ جواس کو خودبخود حاصل ہوجائے۔ مستقبل اسی کا ہے جو اس کے لیے جدوجہد کرے‘ اس کے لیے محنت اور بھرپور کوشش کرے۔

وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی o وَاَنَّ سَعْیَہُ سَوْفَ یُرٰی o (النجم ۵۳: ۳۹-۴۰) اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے‘ اور یہ کہ اس کی سعی عن قریب دیکھی جائے گی۔

گویا انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ جدوجہد کرتا ہے۔ پھر جیسے جیسے گردش لیل و نہار حال کے لمحات کو ماضی اور مستقبل کو حال بناتی چلی جائے گی‘ اس جدوجہد کے نتائج و ثمرات سامنے آتے چلے جائیں گے‘ اور سواے اپنے کیے اور کمائی کے کوئی چیز سامنے نہیں آئے گی۔

اسلام اور مغرب کی کش مکش

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جس کو علامہ اقبال نے آج سے نصف صدی سے بھی پہلے بڑے واضح الفاظ میں شیطان کی زبان سے ادا کروایا تھا    ؎

جانتا ہے ، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنۂ فردا نہیں ، اسلام ہے

یہ اس زمانے کی بات ہے جب کوئی کمیونزم کے زوال کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن شاعر کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ ابلیسیت کے نظام کے لیے اگر کوئی فتنہ ہے تو وہ اسلام اور ملّت اسلامیہ ہے کہ جو اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ مگر مغرب کے کتنے ہی مرثیے پڑھے جائیں‘ اس کی خرابیوں کو کتنا ہی کھول کھول کر بیان کیا جائے اور اس پر کتنے ہی تبرے کیوں نہ بھیجے جائیں اوراس کے خلاف کتنے ہی نعرے کیوں نہ بلند کیے جائیں‘ لیکن یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ مغرب کبھی خودبخود زوال پذیر نہیں ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے اسلام اورمسلمانوں کے لیے جو مستقبل لکھ دیا ہے‘ وہ صرف محنت‘ بلندنظری‘ قوتِ اجتہاد اور جہادو قربانی سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ اس کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔ تحریکِ اسلامی جو امامتِ عالم پر نگاہ رکھتی ہے اور وہ انقلاب لانا چاہتی ہے جو ساری دنیا کو  اپنی لپیٹ میں لے لے‘ جو تہذیب و تمدن کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے اٹھی ہے‘ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اس کا ادراک رکھے اور فہم حاصل کرے کہ دراصل کرنے کا کام کیاہے؟

اگر ہم نبی کریمؐ کی زندگی پر غور کریں یا سید مودودیؒ کے افکار کا جائزہ لیں تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام ساری انسانیت کے لیے اورسارے عالم کے لیے نجات کا علَم بردار ہے۔ اسی طرح جس تحریک کا اسلامی تحریک ہونے کا دعویٰ ہو‘ اس کی نگاہ بھی تنگ دائروں کے اندر محصور ہوکر نہیں رہ سکتی۔ جس کی نگاہ آخرت میں اس جنت کے اُوپر ہو جس کی وسعت میں زمین و آسمان سما جائیں‘ اس کی نظر‘ اس کی فکر‘ اس کی جدوجہد اور اس کی سرگرمیاں دنیا میں تنگ نظری کا شکار نہیں ہوسکتی ہیں۔

آج دنیا عرصۂ محشر میں ہے اور اُمت بھی عرصۂ محشر میں ہے۔ یہ دورجدید جس سے ہم گزر رہے ہیں‘ اس کی چند خصوصیات کا بھی مختصراً آپ کے سامنے ذکر کرتا چلوں۔

تغیر حالات پر نظر

آج کے دور میں جس تیزی سے تغیرات برپا ہو رہے ہیں‘ اس کا کوئی تصور آج سے ۱۰۰سال پہلے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ بات کسی محدود خطے کی ہو یا ذرائع ابلاغ کی وسعت کی‘انسانی آبادی کی ہو یا انسانی وسائل کے استعمال کی‘ سائنسی ترقی کی ہو یا قدرت کے رازوں کے انکشاف کی‘ تغیرو تبدل کی جو رفتار اس صدی میں ہے ‘ وہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ ایک اندازے کے مطابق پہلے جو کام ایک سال میں ہوا کرتا تھاوہ اب ایک ایک گھنٹے میں ہوجاتا ہے۔ اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جنھیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

اسی کے نتیجے میں جو دوسری تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کرئہ ارض جو بہت سے براعظموں پر مشتمل ہے‘ ایک چھوٹا سا گائوں بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کے کسی خطے میں کوئی واقعہ رونما ہوجائے‘  چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بات پہنچ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ مسلمان قائد بحراوقیانوس کے ساحل پر کھڑے ہوکر کہتا تھا کہ اے خدا! اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ سمندر کے پار بھی زمین ہے‘اور وہ امریکا کی زمین تھی‘ تو میں اپنے گھوڑے سمندر میںڈال دیتا اور اس سرزمین تک جاپہنچتا۔ اس وقت دنیا اس قدر بٹی ہوئی اور اتنے فاصلوں پر تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے ناواقف تھے۔ مگر آج کی دنیا میں‘ کسی ملک‘ کسی گوشے اور افریقہ کے کسی تاریک ترین جنگل میں ہونے والا واقعہ بھی پوری دنیا کی آنکھوں سے چھپا نہیں رہ سکتا۔ یہ وہ دو چیزیں ہیں کہ جو بالکل واضح اور صاف طور پر ہمارے سامنے ہیں۔

اُمت محمدیؐ کا مشن اور خواب

مستقبل کی یہ منزل ہمارے افکار اور ہماری تحریک میں اس لیے نہیں آگئی ہے کہ ہمارے لٹریچر میں موجود ہے بلکہ پوری کی پوری سیرت رسولؐ اسی بات پر گواہ اور شاہد ہے۔

ہمارے سیرت نگار جس واقعے کو انتہائی مبالغے کی زبان میں یوں اداکرتے ہیں کہ جب حضوؐر اس دنیا میں تشریف لائے تو فارس کے آتش کدے بجھ گئے اور کسریٰ کے مینار گرگئے مگر استعارے کی یہ زبان چند برسوں میں ایک حقیقت بن گئی۔

مکہ میں جو چند مٹھی بھر آدمی کوڑوںاور پتھروں کی زد میںتھے ان کو یہ خوشخبری سنائی جاتی تھی کہ پورا عرب تمھارے قدموں میںہوگا اور عجم تمھارے زیرنگیں ہوگا۔ خانہ کعبہ کی دیوارسے  ٹیک لگائے جب حضوؐر سے صحابہ کرامؓ آکر شکایت کرتے کہ اب تو مظالم کی حد ہوگئی ہے‘ دعا کیجیے تو ان کو یہ خواب دکھایا جاتا کہ ایک وقت آئے گا کہ ایک تنہا عورت عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کرے گی اور کوئی اس کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔

جب دو آدمی مدینے کا سفر کر رہے تھے جو ہماری زبان میں ہجرت کا سفر تھا‘ اور ہمارے دشمنوں کی زبان میں دو آدمی اپنی جان بچا کر دشمنوں سے بھاگ رہے تھے اوراس وقت جب سراقہ نے ان کو دیکھ لیا تو یہ خواب بھی دکھایاگیا کہ سراقہ کے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔

غزوئہ خندق کے موقع پر سارا عرب اُمنڈ آیا تھا اور مدینہ پر چڑھ دوڑا تھا اور مدینہ کے مٹھی بھرانسان اس وقت ہلاکت کی زد میں تھے‘ جب کہ چند گز کی خندق تھی جوان کو ہلاکت سے بچائے ہوئے تھی۔ اس وقت بھی خندق کی کھدائی کے دوران جب ایک سخت چٹان پر کدال کی ضرب لگنے پر چنگاریاں نکلتی ہیں تو ارشاد ہوتا ہے کہ مجھے قیصر کے خزانے دکھائے گئے ہیں۔ دوسری ضرب پڑتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ مجھے کسریٰ کے خزانے دکھائے گئے ہیں۔ غرض مٹھی بھر جماعت بھی اس سے غافل نہیں تھی کہ یہ کام محض مکہ اور مدینہ کا نہیں ہے‘ یا محض عالمِ عرب کا نہیں ہے بلکہ یہ کام تو پورے عالم میں انقلاب برپا کرنے کا ہے۔

جو تحریک اور جماعت حال میں گم ہوکر رہ جائے‘ وہ بالآخر ماضی کے اوراق کا ایک نقش  بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جو تحریک اور جماعت مستقبل کے لیے کمربستہ ہوکر جدوجہد کرے اوروہ صفات اپنے اندر پیدا کرے جس سے مستقبل کے چیلنج کا مقابلہ ہوسکتا ہے‘ بالآخر اللہ کی مشیت اس کے لیے مستقبل کو مقدر کر دیتی ہے۔

مغربی تھذیب کا چیلنج

عصرحاضر میں‘ اُمت مسلمہ کو درپیش آج کے چیلنج میں اصل حیثیت مغرب کی ہے۔ مغرب سے میری مراد وہ جغرافیائی خطہ نہیں ہے جس کو ہم یورپ کے نام سے پکارتے ہیں‘بلکہ مغرب کی  وہ تہذیب ہے جو جکارتہ سے لے کر رباط تک ہر مسلمان ملک میں سرایت کرچکی ہے‘ اس کے قلب میں داخل ہوچکی ہے‘ اس کے گھروں میں داخل ہورہی ہے‘ اس کی عورتیں اور بچے اس کی زد میں ہیں۔

ایک امریکی پروفیسر کے الفاظ میں: آپ کہتے ہیں کہ ہماری تہذیب و تمدن آپ کے ہاں سے رخصت ہوچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کہیں چلے جائیں آپ کو جین اور کوکاکولا دونوں چیزیں نظر آئیںگی۔ ہماری تہذیب سے اگر کوئی بچا ہو تو وہ کوکاکولا کی کشش سے اپنے آپ کو  نہیں بچاسکتا‘اور کوئی نوجوان ہو تو وہ جین پہننے سے باز نہیں رہ سکتا۔

مغرب کو بھی اسلام سے ایک ہزار سال تک اسی چیلنج سے سابقہ رہا ہے۔ مغرب کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ایک ہزار سال تک مغرب کے سوچنے والے‘ مغرب کے سیاست دان اور حکمران‘ سب کو اسی بات کی فکر تھی کہ اسلام اور مسلمانوں سے کیسے بچا جاسکے۔ ایک زمانہ تھا کہ یورپ میں مائیں اپنے بچوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کرتی تھیں کہ ذرا ٹھیک رہوورنہ ترک آجائیں گے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب اسپین میں تہذیب کی شمعیں اور جنوب میں عثمانیوں کی تلوار‘ دونوں ایک پیغام تھے اور مغرب اس سے لرزہ براندام تھا۔ پھر ۱۸ویں صدی میں وہ لمحہ بھی آیا کہ مغربی مفکرین نے کہا کہ اب وہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ وہ وحشی‘ وہ بدو‘وہ بکریاںچرانے والے‘ وہ کھجوروں کے کاشت کار جوعرب سے نکل کر آئے تھے اور جنھوں نے ایک ہزار سال تک سسلی‘ اسپین‘ ہنگری‘ یوگوسلاویہ‘ بلغاریہ اور مشرق وسطیٰ میں حکومت کی‘ اور بیت المقدس پر قبضہ کیا اور فلسطین کو ہم سے چھین لیا___ اب ہمیں ان سے کوئی خطرہ نہیں۔

ابھی ۲۰ویں صدی ختم ہونے کو نہیں آئی تھی کہ مغرب کو اس بات کا احساس ہوا کہ چھٹی صدی میں جو تہذیب‘ جوتمدن‘ جو عقیدہ اور جو نظام دنیا کے سامنے آیا تھا وہ آج بھی اپنے اندر اتنی قوت رکھتا ہے کہ قوموں کی قوموں کو کھڑا کرسکتا ہے۔ انقلابِ ایران سے خواہ ہمیں اختلاف ہو یا اتفاق اور اس انقلاب کی خرابیاںاپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس انقلاب کے بعد مغرب اور اسلام کا تعلق اب وہ نہیں ہوسکتا جو ۱۰۰سال سے تھا۔ اس لیے کہ مغرب نے اس بات کو بخوبی جان لیا ہے کہ اسلام میں اتنی قوت ہے کہ وہ ایک پوری قوم کو اُٹھا کرکھڑا کرسکتا ہے جو ان کے مہرے کو اٹھاکر پھینک دے اور ان کے نظام کو درہم برہم کردے۔ ۱۹۷۸ء کے بعد سے کتابوں کا ڈھیر لگ گیا۔ مفکرین‘ مدبرین‘ سیاست دانوں کے بیانات کا طومار بندھ گیا کہ اب اگر خطرہ ہے تو اسلام اور مسلمانوں سے ہے۔

اسلام اور مغرب کے حوالے سے درپیش اس چیلنج کے چند پہلو بہت اہم ہیں جو ہمارے سامنے رہنے چاہییں۔ یہ ہماری گفتگو کے تین حصوں، یعنی ’مستقبل، چیلنج اور ہم‘ میں سے تیسرے لفظ ’ہم‘ جو میری نظر میں اس گفتگو کا سب سے اہم حصہ ہے‘ کی وضاحت پر بھی مبنی ہوگا۔

مستقبل کا ادراک

مستقبل کے چیلنج کا سامنا بھی وہی لوگ کرسکتے ہیں جواس کاادراک اور اس کا شعور رکھیں۔ اگر اس بات کو پوری طرح سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس کا خواب دیکھیں کہ کل ہمارا ہوگا۔ جو لوگ اُونچے اُونچے خواب نہیں دیکھ سکتے وہ دنیا میں بڑے بڑے کام بھی نہیں کرسکتے۔ میںنے آپ کو وہ خواب دکھائے جو غارِحرا سے لے کر غزوۂ خندق تک دیکھے جاتے رہے اور دکھائے جاتے رہے۔ اگر ایک حوالے سے ان خوابوں کو دیکھا جائے تو جنون کی حد تک وہ پاگل پن دکھائی دیں گے اور لوگ کہتے تھے کہ یہ مجنون ہے‘ پاگل ہے (نعوذباللہ)‘ ایسی باتیں کرتا ہے کہ  سارا عرب و عجم‘ قیصروکسریٰ کے سارے خزانے ہمارے زیرنگیں ہوں گے‘ اور کسریٰ کے کنگن   سراقہ کے ہاتھوں میں ہوں گے۔ یہ خواب کون دیکھ سکتا تھا اور کہاں پورا ہوسکتے تھے لیکن اس خواب کو عام خواب کے معنوں میں نہ لینا چاہیے‘ اس لیے کہ نبی کے خواب بھی سچے ہواکرتے ہیں۔

آج بھی وہی اسلامی تحریک مستقبل کی تعمیر کرسکتی ہے جو اپنے نبی کی طرح یہ خواب دیکھے کہ لندن‘ واشنگٹن‘ ماسکو‘سب ہمارے ہیں‘ہمارے بن سکتے ہیں اور یہ ہمارا مقدر ہیں۔ لیکن یہ ہم کو اس وقت ملیں گے جب ہم اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کریں گے۔

مستحق کا لفظ آیا تو اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں اور آپ کے سامنے یہ چیز رکھوں کہ وہ کون سے ضروری پہلو ہیں کہ جن کے بغیر ہم مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کامیابی کے ساتھ نہیں کرسکتے اور یہ مستقبل ہمارا نہیں بن سکتا۔ میں مشہور برطانوی ہفت روزہ اکانومسٹ کے ایک تجزیے کا تذکرہ کروں گا۔ جب کمیونزم کا زوال ہوا تو اس نے ایک مختصر مگر جامع تجزیہ پیش کیا کہ تاریخِ عالم میں وہ کون سے بڑے بڑے واقعات ہوئے کہ جنھوں نے تاریخ کا رخ پلٹ دیا اور انسان کو ایک نئی زندگی اور نئے مستقبل سے روشناس کیا۔ اس نے اس میں ہجرت کے واقعے کا بھی حوالہ دیا کہ یہ واقعہ بھی ایسا تھا کہ جس نے تاریخ کا رخ پلٹ دیا اور بدل کر رکھ دیا۔

اس تجزیے کے مطابق کمیونزم کا زوال کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ جس سے انسان کی قسمت یا تقدیر بدل جائے۔ پھر وہ لکھتا ہے کہ وہ کون سے مسائل ہیں کہ جن کے گرد آنے والی دنیا میں انقلاب برپا ہوگا اور انسانیت کے لیے نیا مستقبل نئے سرے سے تعمیر ہوگا۔ وہ کہتاہے کہ یہ وہ مسائل ہیں جو غیب کی دھند میں پوشیدہ ہیں جن کی طرف مسلمان بنیاد پرست اور عیسائی بنیاد پرست دونوں اشارہ کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا تعلق سیاست اور معیشت سے نہیں ہے بلکہ ان کا تعلق  عالمِ غیب ‘ یعنی خدا‘ آخرت اور رسالت وغیرہ سے ہے۔ مذہبی حوالے سے بظاہر یہ بات بڑی  خوش آیند ہے لیکن آگے چل کر وہ لکھتا ہے کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ مسلمان بنیاد پرست اور نہ عیسائی بنیاد پرست اس کے اہل دکھائی دیتے ہیں کہ وہ انسانیت اور دنیا کو اس نئے مستقبل سے روشناس کروا سکیں جس کی کلید ان کے ہاتھوں میں ہے اور جس کے گرد دنیا میں انقلاب برپا ہونے والا ہے۔ ان میں وہ بصیرت اور قوت نظر نہیں آتی‘و ہ قوت اجتہاد نہیں پائی جاتی کہ وہ دنیا کے تہذیب و تمدن کے امام بن کر دنیا کو ایک نئے مستقبل سے روشناس کروا سکیں۔

میں نے اس تجزیے کا تذکرہ اس لیے بھی کیا کہ یہ پہلو بھی نگاہوں کے سامنے رہے کہ  اہلِ مغرب مسلمانوں کے بارے میں اور دنیا کے مستقبل کے حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں۔

امامتِ عالم اور وسعت

جس کو ساری انسانیت کا امام بننا ہو‘ اس کو ہر لحاظ سے اپنے اندر وسعت پیدا کرنا ہوگی اور ایک دنیا کو اپنے اندر سمونا ہوگا اور ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اسے اپنے دل کے اندر وسعت پیدا کرنا ہوگی‘ وہ وسعت کہ جس میں سارے لوگ سماجائیں‘ دماغ کی وسعت کہ جو سارے افکار کامقابلہ کرسکے‘ عمل کی وسعت کہ جوسارے انسانوں کو اپنے اندر سمیٹ سکے۔ جس کا دل تنگ ہو‘ جس کی نظر تنگ ہو‘ جس کا دماغ محدود ہو‘ جو اپنے ناک سے آگے نہ دیکھ سکتا ہو‘وہ ساری دنیا کا امام نہیں  بن سکتا۔ صحابہ کرامؓ قیصروکسریٰ کے دربار میں کھڑے ہوکر کہا کرتے تھے کہ ہم تو اس لیے آئے ہیں کہ تم کو دنیا کی تنگیوں سے نکال کر آخرت کی وسعت تک پہنچا دیں۔

جو اس جنت کا طلب گار ہو جس کی وسعت میں زمین وآسمان سما جائیں‘ نہ اس کا دل تنگ ہوسکتا ہے نہ نگاہ‘ نہ اس کا دماغ تنگ ہوسکتا ہے نہ فکر سطحی اور نہ اس کی نظر محدود ہوسکتی ہے۔ جس طرح ایک پرندہ سب انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپالیتا ہے‘ اسی طرح وہ سارے انسانوں کواپنے ساتھ لے کرچل سکتا ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ہرقسم کے حالات اور ماحول میں اپنے مشن کے اوپر‘ اپنے موقف کے اوپر تمام انسانوں کو جمع کرسکے۔ لہٰذا امامتِ عالم  کے لیے مقاصد میں‘ دل میں‘ فکر میں‘ نظر میں اور رویوں میں تنگی کے بجاے وسعت ناگزیر ہے۔ اسی لیے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ دین تو ہے ہی اس لیے کہ اس کے اندر سب لوگوں کو سمیٹ لیا جائے۔ یہ لوگوں کو بھگانے یا کاٹ پھینکنے کے لیے نہیں آیا۔یہ تو آیا ہی اس لیے ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لے۔ اسی بات کے پیش نظر نبی کریمؐ نے بشروا ولا تنفروا کی ہدایت کی‘ یعنی خوش خبری کی شیرینی سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچو اور متنفر مت کرو۔ اس لیے کہ مسلمانوں کو تو ساری دنیا کا امام بننا ہے۔ لہٰذا وہ معمولی معمولی بحثوں اور مسائل اور تنگ نظری کے اندر مبتلا نہیں ہوسکتے۔

اگر مسلمانوں کی ۴۰۰ سال کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو جب مسلمان ایک کے بعد ایک ملک فتح کرتے ہوئے دنیا کے امام بنتے چلے جارہے تھے‘ ان کے درمیان اختلافات بھی تھے (سقیفہ بنی ساعدہ سے اختلافات شروع ہوگئے تھے)‘ جو سیاسی بھی تھے اور فقہی بھی‘ مگر ان سب کے باوجود وہ ایک تھے۔ چار امام اور بہت سے سیاسی اختلافات ہونے کے باوجود ان کے اندر وسعت تھی کہ وہ لوگوں کو اپنے اندر سمیٹ سکیں۔ اگر چند سو آدمی پورے اسپین پر غلبہ حاصل کرسکتے تھے اور چند سو آدمی پورے ہندستان پر غلبہ پاسکتے تھے‘ اورچند تاجر جاکر ہندستان کے ساحل‘ ملایشیا اور انڈونیشیا‘ ہرجگہ اسلام پھیلا سکتے تھے تو اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ ان کے دل و نگاہ میں وسعت تھی۔ وہ لوگوں کو اپنے اندر سمیٹ سکتے تھے‘ اپنے اندر جذب کرسکتے تھے۔ ہررنگ‘ ہر مسلک اور ہرقسم کے انسانوں کو اپنے ساتھ لے کر چل سکتے تھے۔ اس لیے کہ جس کو امامتِ عالم کا منصب سنبھالنا ہو‘ اس کا ناگزیر تقاضا وسعت قلبی اور اختلافات کے باوجود لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔

دعوتِ عام اور راے عامہ کی تشکیل

امامتِ عالم کے منصب کے حصول کے لیے اس سے کوئی مفر نہیںکہ اسلامی تحریک   دعوتِ عام کے میدان میں اُتر جائے۔ سید مودودیؒ نے پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی یہ کہا تھا کہ اب ہماری تحریک دعوتِ عام اور توسیع کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ اب ہماری منزل اپنی دعوت کو بڑے پیمانے پر پھیلانا ہے‘ جلد سے جلد پھیلانا ہے‘ لوگوں تک پہنچنا ہے اور اپنے آپ کو وسیع سے وسیع تر کرنا ہے۔ اب یہی ہماری منزل ہے۔ انھوں نے تحریک اسلامی اوراس کا آیندہ لائحہ عمل میں یہ بات کھول کر بیان کی ہے۔

جماعت اسلامی کے قیام کے ایک ہی سال کے بعد سید مودودیؒ نے اس بات کو واضح انداز میں بیان فرما دیا تھا کہ جس طرح تعمیری کاموں کے بغیر کوئی اسلامی انقلاب رونما نہیں ہوسکتا‘ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ عامۃ الناس میں اسلام پھیلائے بغیر کوئی انقلاب برپا ہوسکے۔ اربوں انسانوں کو ہماری دعوت اور پیغام سے واقف ہونا چاہیے۔ کروڑوں انسانوں کو اس حد تک اس سے متاثر ہونا چاہیے کہ وہ اس کو حق مانیں اور اس کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ اس کے بغیر نہ اس ملک میں انقلاب آسکتا ہے اور نہ دنیا میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ چنانچہ دعوتِ عام ملک میں اور   ملک سے باہر‘ اس کا خواب انھوںنے جماعت اسلامی کے قیام کے بالکل ابتدائی دور میں بھی  دکھایا تھا اور اس کے بعدبھی دکھایا۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جس کو طے کیے بغیر اس کا کوئی امکان نہیں کہ امامتِ عالم کا منصب اور آج کے دور کے چیلنج کا ہم مقابلہ کرسکیں۔

انبیاے کرام ؑکا اسوہ کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری مثال ایسی ہے کہ کہیں آگ جل رہی ہو اور تم لوگ ہو کہ پروانوں کی طرح دوڑ دوڑ کر اس آگ میں گر رہے ہو‘ اور میں ہوں کہ کمر سے پکڑپکڑ کر تمھیں اس آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

جو لوگ انبیا ؑکے اس مقام سے واقف ہوں اور جو نبیؐ کی دی ہوئی اس تمثیل کو ذہن میں رکھتے ہوں اور یہ جانتے ہوں کہ وہ آگ بھڑک رہی ہے جس میں دنیا کی قومیں سر کے بل گر رہی ہیں کہ جن کو کمر سے پکڑ پکڑ کر بچانا ہماری ذمہ داری ہے‘ وہ آخر اس جذبے سے کیسے خالی ہوسکتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو ہمیں لوگوں کو اس آگ میں گرنے سے بچانا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کہا ہے‘جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے۔ یہی وہ تعریف ہے جو ہم اپنے لٹریچر میں‘ اپنی تقریروں میں اور اس آیت میں سنتے ہیں:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط (اٰل عمرٰن۳:۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو‘ بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

شاید ان دو لفظوں کے اندر جو وسعت اور گہرائی ہے اس پر ہم نے پوری طرح غور نہیں کیا ہے۔ یہ اُمت تو برپا ہی ساری انسانیت کے لیے کی گئی ہے۔ یہ محض اپنے لیے برپا نہیں کی گئی ہے‘ یہ صرف پاکستانیوں کے لیے نہیں کی گئی ہے‘ بلکہ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ہے‘ یہ سارے انسانوں کے لیے برپا کی گئی ہے۔ لہٰذا اس کی دعوت سارے انسانوں کے لیے عام ہونی چاہیے۔

معاشرتی بگاڑ اور اسلامی معاشرے کا قیام

وہ لوگ جنھیں ایک معاشرے کو بدل کر ایک نئے معاشرے کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینا ہو‘ ایک نئے معاشرے کی قیادت کو سنبھالنا ہو‘ ان کے لیے بھی‘ اور جسے سارے عالم کی قیادت سنبھالنا ہو‘ اس کے لیے بھی یہ مسئلہ ہے کہ سارے کے سارے انسان کبھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے‘ ایک معیار کے نہیں ہوسکتے۔ اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس بات کو ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ساری کی ساری بھیڑیں یا تو سفیدہوں یا کالی۔ عملاً صورت حال تو یہ ہوگی کہ    کالی اورسفید بھیڑوں کے درمیان ۹۹ فی صد بھیڑیں وہ ہوں گی ‘ جن کی سفید اور کالی کھالوں کے اوپر سیاہ اور سفید دھبے موجود ہوں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال انسانی معاشرے کی بھی ہے۔

انسانی معاشرے کو اس صورت حال سے کوئی مفر نہیں۔ مدینے کے معاشرے میں عبداللہ بن ابی جیسے رئیس المنافقین بھی تھے اور ضعیف الایمان لوگ بھی تھے۔ وہ لوگ بھی تھے جو میدانِ جہاد میں نبی کریمؐ کو تنہاچھوڑکر پلٹ آیا کرتے تھے‘ اور وہ لوگ بھی تھے کہ حضوؐرمنبر پر کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے ہیں اور وہ آپؐ کو چھوڑ کر مالِ تجارت کے لیے دوڑ پڑتے تھے۔ ان سارے لوگوں کی مثالیں قرآن مجید کے اندر موجود ہیں۔

یہ کبھی ممکن نہیں ہے کہ پورے کا پورا معاشرہ ایک رنگ میں‘ ایک معیار پر قائم ہوجائے۔ لہٰذا جن کو معاشروں کو لے کر چلنا ہو‘ جن کو پوری کی پوری ریاستوں کو لے کر چلنا ہواور جن کو سارے کے سارے عالم کو اپنے ساتھ لے کرچلنا ہو‘ ان کو اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنا ہوگی کہ وہ ہرقسم کے انسانوں کو اپنے ساتھ لے کر چل سکیں۔ گناہ گار بھی آئیں تو شفقت پائیں اور گناہ سے مغفرت اور نجات پائیں۔

یہ ایک عملی دشواری ہے کہ ایک بگڑے ہوئے معاشرے کو بدلناہے اوراس بگڑے ہوئے معاشرے کے انسانوں کی اصلاح کے ذریعے انھیں ایک قوت میں ڈھالنا ہے۔ بظاہر یہ ایک متضاد بات ہے۔ اسی لیے بعض دفعہ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں کہ عوام ایسے ہیں‘ جاہل ہیں‘ کالانعام ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کے ذریعے یہاں پر اسلامی انقلاب برپا ہوجائے۔ تحریک اسلامی کو تو ابھی اسی ملک کے عوام سے واسطہ درپیش ہے۔ اگر ہم عالمی چیلنج کا سوچیں تو افریقہ کے جنگلات میں‘ نیویارک اور واشنگٹن میں اور ٹوکیو میں‘ ساری دنیا میں بسنے والے انسانوں سے ہمیں معاملہ کرنا ہے۔ ان سب تک ہمیں محمدرسولؐ اللہ کا پیغام پہنچانا ہے۔ انھیں کس طرح سے ایک قوت میں ڈھالنا ہے‘ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے جو اُمت مسلمہ کو درپیش ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: دو ہی طریقوں سے کامیابی حاصل ہوسکتی ہے:

ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُوْمِنِیْنَ o (انفال ۸:۶۲)

وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے تمھاری تائید کی۔

مومنین کی یہ جماعت انسانوں ہی کے ذریعے بن سکتی ہے۔ حضوؐر کی روش ہمارے سامنے ہے۔ ہرطرح کے لوگ آتے تھے اور آپؐ  سے فیض پاتے تھے۔ کمزور بھی آتے تھے اور گناہ گار بھی اور مضبوط ایمان والے بھی‘ سب مل کر آپؐ  کے ساتھ کام کرتے تھے جو آپؐ  کے پیش نظر تھا۔

ایک روشن مثال

سیدقطبؒ اپنی تفسیر فی ظلال القرآن میں‘ آخری پارے میں ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہیںاور اس سے آپ کے سامنے پورا منظر آسکتا ہے کہ کس طرح معاشروں کو چلایا جاسکتا ہے اور معاشروں پر غالب آیا جاسکتا ہے۔

ایک شخص حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی ضرورت کا اظہار کیا اور کہا کہ میری کچھ مدد کیجیے۔ آپؐ نے اس کی کچھ مدد کی مگر وہ اس کی نظر میں کم اور ناکافی تھی۔ اس پر اس نے کہا: آپؐ  اچھے آدمی نہیں ہیں‘ آپؐ کا قبیلہ بھی اچھا نہیں ہے‘ آپؐ  فیاض نہیں ہیں اور آپؐ  کے آباواجداد بھی فیاض نہیں تھے۔ اس نے بہت کچھ کہہ ڈالا۔ یہ سن کر صحابہ کرامؓ کے چہرے غصے سے سرخ ہوگئے اور ہونے بھی چاہییں تھے۔ وہ اس کو مارنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے مگر آپؐ  نے ان کو روک دیا۔

یہ کہہ کرآپؐ  اپنے حجرے میں چلے گئے۔ پھر اس آدمی کو بھی اندر بلایا اور اس کو مزید کچھ دیا اور کہا کہ اب تو خوش ہو۔ اس نے کہا کہ آپؐ  بڑے اچھے آدمی ہیں‘ بڑے فیاض ہیں‘ بڑے اچھے خاندان کے ہیںاور آپؐ  سے بہتر کوئی آدمی نہیں۔ حضوؐر نے فرمایا: اچھا‘ ابھی باہر جو بات تم نے کہی تھی‘ میرے ساتھی اس سے بہت ناراض ہیں۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ کل تم پھر آئو اور جو بات تم نے ابھی کہی ہے ان سب کے سامنے بھی دہرائو۔ اس نے کہا کہ مجھے کیا تامل ہے‘ میں آجائوں گا۔

اگلے دن آپؐ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ آدمی پھر آیا۔ آپؐ نے پورا واقعہ    صحابہ کرامؓ کے سامنے بیان کیا کہ کل یہ شخص آیا تھااوراس نے جو بات کہی تھی اس سے تمھیں رنج ہوا تھا۔ اب یہ کچھ اور بات کہتا ہے وہ بھی تم سن لو۔ جب اس نے کل والی بات دہرائی اورحضوؐر کی فیاضی بیان کی تو صحابہؓ بہت خوش ہوئے۔

اس پر آپؐ  صحابہ کرامؓ سے مخاطب ہوئے اور یہ بات ہم سب کے لیے بہت اہم اور بہت غور طلب ہے۔ آپؐ  نے فرمایا کہ میری اور تمھاری مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی اُونٹنی کا مالک ہو اوروہ اس اُونٹنی پر سوار ہوا تو وہ بے قابو ہوگئی‘ اور اس کے ساتھی ڈنڈے لے کر اس اُونٹنی کو قابو میں کرنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ مگر وہ انھیں دیکھ کر مزید بدک گئی۔ اس پر مالک نے ان سے کہا کہ ٹھیرجائو۔ اس اُونٹنی کا معاملہ تم میرے اُوپر چھوڑ دو‘ میںاس کو سدھار لوں گا۔ اس کے بعد اس اُونٹنی کے مالک نے اپنے ہاتھ میں کچھ چارہ لیا اور وہ اس اُونٹنی کو دکھایا۔ جب اُونٹنی نے دُور سے چارہ دیکھا تو وہ پلٹ آئی اور آہستہ آہستہ قریب آتی گئی۔ جب وہ مالک کے بالکل قریب آگئی تو مالک نے چارہ اس کے سامنے ڈال دیا۔ جب وہ چارہ کھانے میں مصروف ہوگئی تو اس نے اس کے اُوپر کجاوہ کسا‘ اس پر بیٹھا اور اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔

ان الفاظ کے اندر جوحکمت پوشیدہ ہے ان پر غور کیجیے۔ ان معاشروں پر کجاوہ کس کر سواری کرنے کے لیے اور ان پر بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہونے کے لیے‘اور ان کی قیادت سنبھالنے کے لیے‘ ان کی باگ ڈور اپنے ہاتھ لینے کے لیے ہمیں اُونٹنی کے اس مالک کی طرح بننا پڑے گا جس کی مثال سیرت کے اس واقعے کے اندر موجود ہے۔

صلاحیت اور استعداد کا لحاظ

ایک اور پہلو جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ سب سے اچھا دین وہ ہے جو ’حنیفیت‘ اور ’سہل‘ پر مبنی ہو۔ حنیفیت یہ ہے کہ آدمی صرف اللہ کاہوجائے اور ’سہل‘ کا مطلب آسانی ہے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہرشخص پر اس کی استطاعت کے مطابق بوجھ ڈالا جائے۔ کسی پر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اس پہلو کو بھی ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔

جب کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہو رہے تھے‘ اور یدخلون فی دین اللّٰہ افواجا کا منظر تھا تو ایک وفد حضوؐر کے پاس آیا۔ ایک شخص نے حضوؐر سے پوچھا کہ آپؐ  کا قاصد ہمارے پاس آیا اوراس کا یہ کہنا ہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بناکر بھیجا ہے۔ کیا وہ سچ کہتا ہے؟ آپؐ  نے فرمایا: ہاں‘ وہ سچ کہتا ہے۔ اس نے آپؐ  کو قسمیں دے دے کر پوچھا کہ کیا واقعی آپؐ  کو اللہ نے رسول بنایا ہے؟ پھر وہ کہتا ہے کہ کیا نماز پڑھنے کا حکم واقعی اللہ نے آپؐ  کو دیا ہے؟ آپؐ  نے فرمایا: ہاں۔ پھر وہ روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھتا ہے کہ کیا واقعی آپؐ  کو اللہ نے حکم دیا ہے؟ آپؐ   نے فرمایا: ہاں۔ اس طرح اس نے حج اور دوسری چیزوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر یہی آپؐ  کو اللہ نے حکم دیا ہے تو میں ان پانچ ارکان میں نہ کمی کروں گا نہ زیادتی۔ اس کے بعدوہ چلا گیا۔ جب وہ چلا گیا تو حضوؐر نے فرمایا کہ اگر تمھیں کسی ایسے آدمی کو دیکھنا ہو جو اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تو اس شخص کو دیکھ لو۔ مگر سب سے یہی مطالبہ نہیں تھا۔ بعض لوگوں سے یہ مطالبہ تھا کہ تم کسی سے کچھ نہ مانگو گے‘ یہاں تک کہ اگر گھوڑے کا کوڑابھی نیچے گرجاتا تو وہ دوسروں سے نہیں کہتے تھے کہ اٹھا کر ہمیں دے دو بلکہ خود نیچے اُتر کر اٹھا لیتے تھے۔ بہت سوںسے جان ومال کی بیعت اور عہد لیا جاتا تھا۔

گویا آپؐ ہر ایک سے اس کی صلاحیت اور استعداد کے مطابق معاملہ فرماتے۔ لہٰذا سب کو ایک سانچے میں فٹ نہیں کیا جاسکتا بلکہ مختلف انسانوں کی مختلف سوچ‘ مزاج‘ صلاحیت اور استعداد کی بنا پر الگ الگ معاملہ کیا جانا چاہیے۔ ایک ہی ڈنڈے سے سب کو ہانکنا خلافِ حکمت ہے۔

زندگی کی دائروں میں تقسیم

دین کی حنیفیت اور اس کے یسر ہونے میں ایک نہایت اہم بات ہے جو ہمیشہ نظروں کے سامنے رہنی چاہیے۔ وہ یہ کہ ہم بار بار یہ بات کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے اور  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ دین کا کوئی گوشہ اسلام کے دائرے سے باہر نہیں۔ کھانا کھانا بھی ثواب تھااور پانی پینا بھی۔ شعروشاعری بھی حج کے راستے میں ہوا کرتی تھی اور حج پر جاتے ہوئے پوری پوری رات شعر سنتے گزرجایا کرتی تھی۔ یہ خلفاے راشدین کا واقعہ ہے۔ یہاں تک کہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں بھی آپؐ  نے فرمایا کہ یہ بھی اجروثواب کا باعث ہے۔ گویا کوئی بھی چیز دین سے باہر نہیں۔ یہاں تک کہ آپؐ  نے جب دو تہوار مقرر فرمائے تو آپؐ  نے فرمایا: کھیل کود‘ کھاناپینا اور تفریح بھی دین میں شامل ہے۔

زندگی کو دو حصوں میں نہیں بانٹا جاسکتا کہ دین پر عمل کرنا ہو تو تحریک میں آئو اور اگر باقی دنیوی کام کرنے ہوں تو تحریکی دائرے سے باہر جاکر کرو۔ کوئی تحریک اس طرح پورے کے پورے انسانوں کو لے کر نہیں چل سکتی۔ پھر اس کا حشر یہ ہوتا ہے کہ لوگ بٹ جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک حصہ تو اقربا‘ رشتہ داروں‘ شادی بیاہ کی مجلسوںاور دیگر گھریلو ذمہ داریوں کے لیے   ہوتا ہے جہاں وہ دین کی ہدایت اور احکام کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں‘ جب کہ دوسرا دائرہ دعوت دین اور تنظیم اور اس کی سرگرمیوں پر مبنی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی زندگی کے ایک دور میں‘ نوجوانی کے عالم میں‘ تحریک کے کارکن بن جاتے ہیں‘ ۲۴ گھنٹے اسی کام میں لگاتے ہیں۔ دوسری طرف جیسے ہی عملی زندگی کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں تو اکثریت ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہوجاتی ہے۔ پھروہ پوری زندگی کو دین کے دائرے میں رہتے ہوئے نباہ نہیں پاتے اور دینی و دنیاوی تقسیم کا شکار ہوجاتے ہیں۔ میں محض کارکنوں کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم عام انسانوں کو ساتھ لیے بغیر انقلاب نہیں لاسکتے۔ جب بھی انقلاب لانا ہوگا تو عام انسانوں کی پوری زندگی کو دین کے ماتحت لانا ہوگا یہ دینی و دنیاوی تقسیم کو لازماً ختم کرنا ہوگا۔

تدریج اور اجتھاد

اللہ اور اس کے رسولؐ نے اس بات کو واضح فرما دیا ہے کہ دین میں کچھ چیزیں ہیں کہ جو فرائض کا درجہ رکھتی ہیں اور کچھ نوافل کا۔ دونوں کا مقام و مرتبہ ایک جیسا نہیں ہے۔ اس بات کو ایک حدیث میں بھی واضح کیا گیا ہے جو امام نوویؒ نے اربعین نووی میں درج کی ہے کہ کچھ چیزیں ہیں جو فرائض کے طور پر آئی ہیں‘ ان فرائض کو کبھی ضائع مت کرنا۔ کچھ چیزیں ہیں کہ اللہ نے ان کو حرام قرار دیا ہے‘ ان حرام چیزوں میں کبھی نہ پڑنا۔ اللہ نے کچھ حدود عائد کردی ہیں‘ ان حدود سے باہر نہ نکلنا۔ ممکن ہے کہ حدود کی بات پوری طرح سمجھ میں نہ آئے۔ اس بات کو ایک مثال سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ سڑک پر ٹریفک کے لیے لائن بنی ہوتی ہے۔ گاڑی کو اس لائن میں چلانا ہوتا ہے اور ٹریفک سگنل کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ اب کوئی تیزچلے یا آہستہ یا رُک جائے‘ اسے ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا ہوتی ہے اور اس کی حدود میں رہتے ہوئے گاڑی چلانا ہوتی ہے۔

اسی طرح زندگی میں اسلام نے کچھ حدود مقرر کردی ہیں‘ لہٰذا ان کی پابندی کرنا ہوگی۔ ایک بڑے دائرے میں اللہ تعالیٰ خاموش رہا ہے۔ حضوؐر نے فرمایا کہ یہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ سے کوئی غلطی ہوگئی‘ یا یہ کہ وہ بھول گیا ہے‘ بلکہ یہ تمھارے لیے باعثِ رحمت ہے۔ لہٰذا زندگی کے معاملات میں ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔

اسلام کے پیغام سے پوری انسانیت کو روشناس کرانے کے لیے اور ایک عالمی انقلاب برپا کرنے کے لیے اجتہاد بھی ناگزیر ہے۔ سیدمودودیؒ کے الفاظ میں: تہذیب و تمدن کے وہ معمار جن کے اندر اجتہاد کی یہ صلاحیت ہوکہ وہ ہرمسئلے کو اسلام کی روشنی میں حل کرسکیں‘ جو نت نئے مسائل کا حل اسلام کی روشنی میں ڈھونڈ سکیں‘ وہی دنیا کے امام بن سکیں گے۔ لہٰذا دورِ جدید میں جہاں تغیر، تبدل کی رفتاراتنی تیزہے وہاں اجتہاد بھی ناگزیر ہے۔

عالمی راے عامہ کی تشکیل

سید مودودیؒ نے ایک موقع پر فرمایا تھا اور روداد جماعت اسلامی حصہ اول میں ان کے یہ الفاظ موجود ہیں کہ کسی ایک ملک میں اسلامی انقلاب نہیں آسکتا جب تک کہ بین الاقوامی سطح پر  اسلام کے حق میں راے عامہ ہموار نہیں کی جاتی ہے۔ انھوں نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب  ڈش انٹینا اور ٹیلی ویژن نہیں تھا۔ جب جٹ ہوائی جہاز نہیں تھااور پلک جھپکنے میں ایک خبردنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک نہیں پہنچتی تھی۔ یہ اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا جب انھوںنے خداداد بصیرت کے تحت یہ فرمایا تھا: مسقبل کے چیلنج اور عالمی اسلامی انقلاب کے پیش نظر عالمی راے عامہ کی تشکیل کی اہمیت آج کل سے زیادہ ہے بلکہ ناگزیر ہے۔

خدا کی نصرت

آخری بات جو میں سمجھتا ہوں کہ ضروری ہے اور جو ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے اور جس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا‘ وہ ہے: لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں پوری کوشش کرنی ہے لیکن قوت صرف اللہ کے پاس ہے اور اس کی مدد کے بغیر کوئی معرکہ سر نہیں ہوسکتا۔ لوگوں کے دل اس کے ہاتھ میں اس طرح ہیں کہ جس طرح دو انگلیوں کے درمیان ہوں۔ وہ چاہے تو پلک جھپکنے میں لوگوں کے دل پلٹ سکتا ہے۔ لیکن ہمیں اپنے حصے کی پوری محنت کرنا ہے۔

فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْص وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰیج (الانفال ۸:۱۷) پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اوراے نبیؐ،تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔

درحقیقت کام کرنے والی ذات وہی ہے‘ ہم تو صرف بہانہ ہیں۔ لیکن اس بہانے کو اپنی پوری قربانی‘ جدوجہد‘ اجتہاد‘ جہاد‘وسعتِ نظر‘ وسعتِ قلب اور اس شعور اور ادراک سے کرنا ہے کہ یہ ہمارا خواب ہے اور اس خواب کی تعبیر ہم ہیں۔ اگر عرب کے بدو اور چرواہے دنیا کے امام بن سکتے ہیں توکوئی وجہ نہیں ہے کہ آج ہزاروں لاکھوں لوگ جو اسلام کی پکار پر جمع ہوچکے ہیں وہ دنیا کے امام نہ بن سکیں۔ یہ دروازہ کھلا ہوا ہے اور منتظر ہے کہ کب ہم اس میں داخل ہوں۔میری نظر میں یہ وہ صفات ہیں جن کے بغیر اس عظیم الشان چیلنج کا جواب نہیں دیا جاسکتا جو آج ہمارے دروازے پردستک دے رہا ہے۔(کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)

 

رخصت وعزیمت خاصا مشکل موضوع ہے۔ اس لیے کہ رخصت و عزیمت کا معاملہ اس طرح واضح اور متعین نہیں ہے جس طرح کہ حلال و حرام واضح اور متعین ہیں، بلکہ یہ ان دونوں کے درمیان ایک وسیع میدان ہے جس کا تعین ترجیحات کی بنیاد پر ہوتاہے۔

رخصت کا پھلو

اگر رخصت کا پہلو لیا جائے تو کئی باتیں سامنے آتی ہیں:یہ کہ یہ دور دین پر چلنے کے لیے ایسا دور ہے، جس کے بارے میں وہ حدیث نبویؐصادق آتی ہے کہ جب کسی ایک حکم پر عمل کرنا، اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارہ پکڑنے کے مترادف ہوگا۔ دوسری طرف وہ بہت ساری احادیث ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ، آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو (یسر وا ولا تعسّروْا)‘یا یہ فرمایا گیاہے کہ دین آسان ہے، (الدین یسر)۔ اسی طرح قرآن کی وہ آیات بھی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ   اللہ تعالیٰ نے جو زینتیں انسان کے لیے اتاری ہیں، ان کو حرام کرنے والا کون ہے۔ اب ،جب کہ اللہ کے دین پر چلنا ایسا ہے جیسا کہ کانٹوں پر چلنا‘ اور اس کے احکام پر عمل کرنا اس طرح ہے جیساکہ اپنے ہاتھ میں انگارہ پکڑ لینا، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ساری واضح ہدایات موجود ہیں، جن میں کہا گیا کہ دین آسان ہے اور آسانی پیدا کرو، توخیال آتا ہے کہ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ لوگوں کو اس راستے کی طرف بلایا جائے جو کہ آسانی کا راستہ ہو، اور جس پر چل کر آسانی کے ساتھ اللہ کے دین کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

عزیمت کا پھلو

دوسری طرف اگر عزیمت کا پہلو لیا جائے تو خیال آتا ہے کہ ہمارا گروہ تو ایک ایسا گروہ ہے، جو وہ کام کرنے چلا ہے جو کام انبیاے کرام ؑ نے انجام دیا تھا۔ اس کی خاطر انھوں نے ہر قسم کی قربانی دی۔ وہ آگ میں ڈالے گئے، آروں سے چیرے گئے، ان کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے، پتھر برسائے گئے، ان پر طرح طرح سے تشدد کیا گیا، جسموں کو داغا گیا، طعنے دیے گئے، تمسخر کا نشانہ بنایا گیا، تذلیل کی گئی، گھر سے بے گھر کر دیا گیا‘ مال و اسباب سے محروم کر دیا گیا لیکن وہ اپنے مقام پر ثابت قدم رہے۔

پھر خیال آتا ہے کہ ہماراگروہ تو وہ گروہ ہے، جو یہ عزم لے کر اٹھا ہے کہ ساری دنیا کو ایک اللہ کی بندگی کی طرف لے کر آنا ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ کام شیروں کے کرنے کا کام ہے۔ اگرچہ بظاہر ہمارے دلوں میں کتنے ہی امراض کیوں نہ پیدا ہو چکے ہوں اور ہماری زندگیوں میں کتنی ہی خامیاں کیوں نہ ہوں، ہمیں یہ کام کرنا ہے۔ چنانچہ میں نے یہ سوچا کہ آپ کو عزیمت کی دعوت دوں، اس لیے کہ یہی راستہ شیروں کا راستہ ہے۔ ان لوگوں کا راستہ ہے جو دنیا کو بدلنے کا عزم  لے کر کھڑے ہوتے ہیں، اور دنیا کو بدل ڈالتے ہیں۔تاہم‘ جب میں نے بحیثیت مجموعی تحریک کا جائزہ لیا اور عزیمت کی کسوٹی پر پرکھا تو مجھے بڑی شرم آئی کہ میں اس مقام پر کھڑے ہو کر، یہ کہوں کہ آپ سب لوگ رخصت کی راہ چھوڑ کر عزیمت کا راستہ اختیارکریں۔

 ہم دنیا اور خاص طور پر مسلم دنیا میں دین حق کا یہ حال دیکھتے ہیں کہ مسلمان ایک ارب سے زائد ہونے کے باوجود عزت سے محروم اور ذلت سے ہم کنار ہیں اور خون مسلم پانی کی طرح ارزاں ہے۔ برسوں سے دنیا کے مختلف حصوں میں، بے شمار افراد اس عزم کا اعلان کر رہے ہیں کہ اللہ کے دین کی سر بلندی ان کا مقصد زندگی ہے، یہ ان کی ساری تگ ودو کا نصب العین ہے اور اس کے باوجود کہ ان کے قدم آگے بڑھے ہیں، مگر وہ ابھی تک کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکے ہیں۔ اسلام موجود ہے، اس کے نام لینے والے موجود ہیں، اس کے لیے تقریریں کرنے والے بہت ہیں‘ اس پر کتابوں کی نکاسی بھی کم نہیں ہے، لیکن ہر طرف اپنوں کی چیرہ دستی، اور غیروں کی ریشہ دوانیوں سے پورا جسد مسلم زار زار اور فگار فگار ہے۔ ایسے میں، میں نے یہ محسوس کیا کہ وہ گروہ، مختصر اور مٹھی بھر گروہ جوان حالات میں اس عزم کے ساتھ کھڑا ہوا ہے کہ اللہ کے دین کو زمین پر دوبارہ غلبہ اور عزت حاصل ہو، اور مسلمان قوم ایک بار پھر غلامی کے بجاے ہادی اور امام بن کر کھڑی ہوجائے، یہ وقت کا تقاضا بھی ہے اور عزیمت کی راہ بھی، لہٰذااس کے لیے سواے عزیمت اور عظمت کی راہ کے اور کوئی راہ نہیں ہے۔

جب میں نے اس بات کا فیصلہ کر لیا کہ رخصت کی بات کرنا آپ جیسے گروہ کے   مناسبِ حال نہ ہوگا تو پھرمیں نے یہ سوچا کہ عزیمت کی بات کس انداز اور کس پیرایے میں کروں؟ اس لیے کہ زمانہ بڑا نازک ہے، اور ہرطرف انسان اپنے آپ کو مشکلات کے اندر گھرا ہوا محسوس کرتا ہے، مصالحت اور مفاہمت کا دور دورہ ہے، قدم قدم پر ایسی پرکشش چیزیں ہیں جو نگاہ کو کھینچتی ہیں، جہاں قدم پھسلنے لگتے ہیں اور آدمی کا دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہیں بیٹھ جائے۔

ترجیحات کا تعیّن

سوال یہ ہے کہ رخصت اور عزیمت کیا ہے؟

اگر ایسا ہوتا کہ ہربات بڑی وضاحت کے ساتھ معلوم ہو جاتی کہ یہ کرنا صحیح ہے اور یہ کرنا غلط‘ توشاید زندگی بڑی آسان ہو جاتی۔ مثال کے طور پر روز مرہ زندگی کے حوالے سے یہ معلوم ہوجاتاکہ ٹیلی ویژن گھر میں رکھناچاہیے یا نہیں رکھنا چاہیے، گھر میںقالین بچھانا صحیح ہے یا غلط،  دبئی یا سعودی عرب کا رخ کرنا جائز ہے یا ناجائز، تو ترجیحات کے تعین میں بہت سارے لوگوں کے لیے فیصلہ آسان ہو تا۔پھر یا تو وہ جان بوجھ کرایک ناجائز کام میں پڑتے ، یا سوچ سمجھ کر اپنا نقصان گوارا کرتے، اورناجائز کام سے پرہیز کرتے۔

مشکل یہ ہے کہ زندگی اس قدر آسان نہیں ہے۔ زندگی ایک امتحان ہے‘ اور اس میں رخصت و عزیمت‘ یعنی ترجیحات کا تعین ایک کڑا مرحلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امتحان کو اس عظیم الشان امتحان کو‘ جس میں کامیابی کے اجرکو اس نے مخصوص کر رکھا ہے، اور جس کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ جس کا خیال بھی انسان کے دل میں گزرا، اس کو اس نے اس طریقے سے دو الگ الگ راستے کر کے واضح نہیں کیا ہے، بلکہ حرام و حلال کے درمیان ایک وسیع میدان چھوڑدیا ہے جس میں آدمی چاہے تو ادھر سے اُدھر نکل جائے، اور یہی محسوس کرتا رہے کہ وہ سیدھے  راستے پر ہے اور اس کو خیال بھی نہ آئے کہ وہ غلط راستے پر چل پڑا ہے اور حرام کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یہ وہ بیچ کا دائرہ ہے جہاں رخصت اور عزیمت کا سوال پیدا ہوتاہے۔ رخصت و عزیمت میں اصل مسئلہ ترجیحات کے تعین کا ہی ہے۔

حلال ، واضح طورپر حلال ہے اور جس کا واضح طور پر کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔اسی طرح حرام‘ واضح طور پر حرام ہے اور جس سے واضح طورپر روک دیا گیا ہے۔ اس حلال اور حرام کے درمیان بہت سے ایسے معاملات ہیں جن سے روزمرہ زندگی میں ہمیں واسطہ پڑتا ہے لیکن ان میں دو ٹوک اور واضح ہدایات نہیں دی گئی ہیں‘بلکہ ترجیحات کی بنا پر ان کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ہوتاہے۔ ہم اس طرح کے بے شمار فیصلے کرتے ہیں کہ کیاکمائیں اور کہاں خرچ کریں، کہاں سچ بولیں اور کہاں جھوٹ‘ کہاں ہم رشوت دیں اور کہاں نہ دیں، کہاں حق کے لیے اپنا مال قربان کریں، اور کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دیں۔ یہ وہ پورا دائرہ کار ہے، جہاں پر حلال اور حرام کی بحث ختم ہو جاتی ہے، جہاں صحیح اور غلط کی راے واضح کشادہ اور نمایاں نہیںرہتی، بلکہ ہم کو ترجیحات کا تعین کرنا پڑتا ہے اور یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کسے اختیار کریں اور کسے نہ کریں۔ یہ وہ نازک مقام ہے جہاں فیصلہ دشوار بھی ہوتا ہے، اور مشکل بھی۔

اللہ کے راستے پر چلنے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں سیدھی سیدھی اللہ کی اطاعت کرنے کی کوشش کرے، اور مسلمان بن کر رہنے کے لیے اپنے آپ کو تیارکرے۔ بعض لوگوں کی نظر میں اتنا ہی ہو جائے تو کافی ہے۔

ایک بدو نبی کریمؐکے پاس آیا اور آپؐ سے پوچھا کہ میرے فرائض کیا ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: کلمہ شہادت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔ اس نے کہا کہ بس۔ آپؐ نے فرمایا: بس۔ اس پر اس نے کہا کہ یہ میرے لیے کافی ہے اور وہ چلا گیا۔ اس کے لیے اتنا ہی اسلام کافی تھا۔

ایک اور شخص نبی کریمؐکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے قرآن کریم کی تعلیم دیں۔ آپؐ نے اسے سورئہ زلزال پڑھنے کا حکم دیا۔ اس نے پوری سورہ پڑھی اور کہا کہ میں اس میں کوئی کمی بیشی نہ کروں گا اور یہ میرے لیے کافی ہے۔ یہ کہہ کروہ چلاگیا۔

بعض لوگوں کے نزدیک یہ سیدھا سادا نسخہ بڑا آسان ہے، اور یہ بالکل ہمارے لیے  کافی ہے۔ اس لیے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اورحج پر عمل درآمد کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔یہ ایک صاف اور واضح راستہ ہے جس پر ہم بآسانی چل سکتے ہیں۔

یہیں سے رخصت اور عزیمت کا ایک اورپہلو سامنے آتا ہے، اور وہ یہ کہ اس کا کوئی حتمی معیار نہیں ہے۔ اس کے لیے دو اور دوچار کی طرح کوئی اصول نہیں ہیںبلکہ ہر ایک کے لیے اس کا معیار الگ ہوگا۔ ہر ایک کو اپنا انفرادی فیصلہ کرنا ہو گا، کہ وہ کس راہ پر چلنا چاہتاہے۔ ہر ایک سے مطالبہ بھی الگ ہو گا، اور ہر ایک کا حساب بھی الگ ہوگا اور جزا وسزا بھی الگ الگ ہو گی۔

دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں کہ آدمی نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃاور حج کا اہتمام کرے بلکہ اس کا تقاضا دعوت اورجہاد بھی ہے۔ اس کا تقاضا وہ کام بھی ہے  جو انبیاے کرام ؑنے سر انجام دیا۔ اس کے نتیجے میں ہم وہ سارے کام کرتے ہیں جن کی دعوت   ہم اقامت دین، شہادت حق اور اسلامی نظام کے قیام کے الفاظ سے دیتے ہیں۔ اب، جب کہ ہمارا تعلق اس گروہ سے ہے جو اگرچہ تعداد میں کم ہے، تاہم  اس نے اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے وقف کر دیا ہے، اور اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر غالب کرنے کے لیے کھڑا ہواہے‘ لہٰذا اس کے لیے جو حدود ہوں گی، وہ شاید اس بدو سے مختلف ہوں جس کے لیے  نماز، روزہ ،زکوٰۃ اور حج پر قناعت کرنا کافی قرار دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا قانون بتا دیا ہے کہ جو شخص دین کا عَلم لے کر کھڑا ہو، دین کا جھنڈا اٹھائے، شہادت حق کا نعرہ بلند کرے، اور اقامت دین کا دعویٰ کرے، اس کو ٹھنڈے پیٹوں اس راہ سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ اس کی آزمایش بڑی سخت ہوگی۔ اس کے سامنے صبح سے شام تک بے شمار انتخاب کے مواقع آئیں گے۔ لمحہ لمحہ اس کا امتحان ہو گا۔ اس کو جان ایک دفعہ نہیں دینا پڑے گی بلکہ روز جینا اور روز مرنا ہوگا۔ ایک دفعہ مرنا تو شاید آسان ہو لیکن روز روز مرنا بڑا مشکل ہوتاہے۔ موت صرف جسم سے جان کے نکل جانے کا نام نہیں ہے، بلکہ اپنی خواہش‘ اپنی آرزو اور اپنی تمنا کو مارنا بھی موت کی ایک صورت ہے۔ آخرانسان عبارت کس چیز سے ہے، ہڈیوں اور گوشت سے نہیں بلکہ ان آرزوئوں اور تمنائوں سے، جو اس کے دل و دماغ کے اندر بستی ہیں۔    یہ وہ چیز ہے جس کے بغیر راہ حق، دعوت اور جہاد کی منزل طے نہیں ہو سکتی۔

اس بات کو واضح طور پر کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا:

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَo (العنکبوت۲۹:۲) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟

ذرا انداز بیان پر غور کیجیے۔ ذکر ان کا ہو رہا ہے جو مٹھی بھر لوگ مکے میں ایک اللہ کے اوپر ایمان لے کر آئے ہیں، جو خدا سے محبت کرتے ہیں اور خدا ان سے محبت کرتاہے، لیکن لہجے میں بڑی اجنبیت ہے اور بڑی غیریت ہے کہ کیالوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد انھیں آزمایا نہ جائے گا۔ حالانکہ یہ کوئی عام لوگ نہیںہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے جسم وجان کا سودا کرکے اپنا ہاتھ رسولؐ اللہ کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔ پھر بھی یہ نہیں کہا کہ میرے بندے یہ سمجھ بیٹھے ہیں، بلکہ یوں کہا گیا ہے کہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ گویا ایمان لانے کے بعد ہر ایک کو آزمایش کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جس سے کسی کومفر نہیں۔

ایمان کا دعویٰ ہوگا تو آزمایا بھی ضرور جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں جب تک کہ برے کو بھلے سے الگ نہ کر دیا جائے۔ ایک مقام پر قرآن مجید نے اس طرف یوں اشارہ کیاہے:

مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِط (اٰل عمرٰن۳:۱۷۹)ا للہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم لوگ اس وقت پائے جاتے ہو۔ وہ پاک لوگوں کو نا پاک لوگوں سے الگ کر کے رہے گا۔

گویا اس وقت تک کامیابی سے ہم کنار ہونا ممکن نہیں ہے جب تک کہ برے اور بھلے کی تمیز نہ ہوجائے۔ یہ اس لیے کہ زبان سے دعویٰ کرنے والے تو بہت ہوتے ہیں، لوگ بہت سے لبادے اوڑھ لیتے ہیں‘ بظاہر شیر نظرآتے ہیں، لیکن کس کے سینے میں واقعی شیر کا دل ہے، اور کون اتنی ہمت اور جرأت رکھتا ہے کہ نہ صرف حلال وحرام کی پابندی کرے،بلکہ آگے بڑھ کر ان جائز اور حلال چیزوں کوبھی چھوڑ دے کہ جن کی قربانی راہ حق میں چلنے کے لیے ناگزیرہو۔ یہ وہ چیزیںہیں جن کی آزمایش ضروری ہے، جس کے لیے وہ ہلا ڈالے جائیں گے ، جس کے لیے انھیں جھنجھوڑا جائے گا، آروں سے چیرے جائیں گے، زندہ زمین کے اندر گاڑے جائیں گے اور ان کا گوشت لوہے کی کنگھیوں سے نوچا جائے گا۔ یہ سب کس لیے ہے، اس لیے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام یعنی عدل و انصاف کا نظام قائم ہو۔

حضرت خبابؓ بن ارت کے واقعے کو تازہ کیجیے۔ جوبات حضرت خبابؓسے نبی کریمؐنے ارشاد فرمایا تھا کہ تم دیکھنا کہ ایک روز یہ دین غالب آکر رہے گا۔ اس بات پر اگرغور کیا جائے تو  اس میں بڑی گہری حکمت نظر آئے گی۔ آج ہم بھی اسی دین کو قائم کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ہمارے پیش نظر بھی نبی کریمؐ کا وہی مشن ہے جسے لے کر آپؐ آگے بڑھے۔ البتہ یہ کام صرف چند افراد کی تبدیلی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ خدائی عدل کے قیام کا نام ہے۔

ایک انسان کے کردار اورکیرکٹر کے لیے اس سے بڑی کوئی آزمایش نہیں کہ وہ اختیار اور اقتدار کا مالک ہو۔ دوسری طرف انسان کا یہ حال ہے کہ اگر کہیںاس کو اختیار مل جائے، خواہ یہ اختیار گھر میں مل جائے یا کہیں اور‘ تووہ فوراً پھیلنے لگتا ہے،اور آپے سے باہر ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے پیش نظر قیادت کے لیے اگر کوئی معیار ہے تو وہ بہترین صاحب کردار لوگ ہیں۔

اسلام کا نام لینے والے ہمیشہ بہت رہیں گے، لیکن اسلام کے نام لیوائوں اور اسلام کے مدعیوں کو اقتدار اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ آزمایش کی بھٹی میں تپ کے، اور عزیمت کی راہ پر چل کر، کھرا سونا نہ بن جائیں، جن پر یہ اعتماد کیا جا سکے کہ جب ان کے ہاتھ میں اختیار اور اقتدار آئے گا، تو وہ اللہ کے بندوں کی خدمت کریںگے، نہ کہ انسانوں کے خدا بن جائیں گے۔ دراصل صبر، قربانی اور آزمایش کے فلسفے کی حقیقت یہی ہے۔

آپ سوچیں گے کہ عزیمت کی بات کرتے کرتے اچانک صبر کا لفظ کہاں سے آگیا، اورمیں نے اچانک قربانی کا لفظ کیوں بول دیا؟ اگر غور کیا جائے تو یہ تینوں چیزیں ایک ہی ہیں، اور تینوں کے معنی بھی ایک ہیں۔

صبر کے معنی بظاہر یہی ہیں کہ مصیبت پڑے تو برداشت کا مظاہرہ کیا جائے، لیکن یہ صبر کے منفی(negative) معنی ہیں۔ صبر کے مثبت (positive) معنی یہ ہیں کہ ہم آگے بڑھ کر وہ کام کریں، جس کے لیے ہم اپنی جان، اپنامال ، اپنا وقت اور احساسات و جذبات اور ترجیحات کی قربانی دے سکیں۔ جب اس قسم کا صبر پیدا ہو جائے، تب کہیں جا کر اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے پورے ہوتے ہیں جو اس نے دنیا اور آخرت میں سربلندی کے لیے کر رکھے ہیں۔

چند اھم پھلو

آئیے ہم اس کا تفصیل سے جائزہ لیں، کہ یہ عزیمت کا راستہ کون سا راستہ ہے، اور اس میں کیا کیا چیزیں ہیں جو ہم کو پیش آسکتی ہیں، جن کے لیے ہمیں اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے۔

  •  دنیا اور مال ودولت: سب سے پہلا معاملہ دنیا اور مال کا ہے۔ مال کمانا اور خرچ کرنا، اس کے گرد ہماری زندگی کا بڑا حصہ گھومتا ہے۔ اس کے لیے ہم بڑی جدوجہد اورمحنت کرتے ہیں۔ دنیا میں مال کمانے کے لیے بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طورپراگر آدمی یہ چاہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے۔

ایک حدیث میں‘جو کہ دجال کے بارے میںہے، کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ ایک جہنم ہوگی اور ایک جنت۔ جو دجال پر ایمان لائے گا وہ اس کی جنت میں داخل ہو گا، اورجو خدا پر ایمان لائے گا وہ اس کی جہنم میں داخل ہو گا۔ بات یہ ہے کہ ایک خدا پر ایمان لانا، آج کی دنیا میں جہنم میں داخل ہونے کے مترادف ہے، اور یہ بات سب سے زیادہ مال کمانے کے بارے میں ہے۔    اللہ تعالیٰ نے مال کمانے کی اجازت دی ہے، اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پورا کرنے کا بھی  حکم ہے، لیکن جو آدمی دعوت حق کے کام کے لیے کھڑا ہو‘ آخر اس کو اس سے زیادہ مال سے     دل چسپی کیوں ہو جو اس کی ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے کافی ہو۔ جو لوگ مال کما رہے ہیں ان کی تعداد دنیا کے اندر ایک، دو نہیں، کروڑوں نہیں بلکہ اربوں میں ہے، جن کا صبح سے شام تک بس یہی کام ہے کہ مال کیسے کمائیں۔ وہ صرف یہ سوچتے ہیں کہ ہم کتنا کمائیں اور کہاں جمع کریں، کہاں لگائیں اور کہاں خرچ کریں، اور اس پر ہمیںکتنے فی صد نفع ہو گا۔

اس کے مقابلے میں ایک ارب ، ایک کروڑ یا ایک لاکھ نہیں، بلکہ صرف چند ہزار آدمی جو اللہ کی زمین پر اللہ کی بندگی کا عزم لے کر کھڑے ہوئے ہوں، اگر وہ بھی یہی سوچنا شروع کردیں کہ کیسے زیادہ سے زیادہ کمائیں، اور کیسے اس کو جمع کریں، اور کہاں اس کولگائیں کہ زیادہ سے زیادہ کما سکیں، جایداد اور بنک بیلنس بنانے کی فکر ان کے دامن گیر ہو جائے، تو ایسے لوگوں کو کیسے    اللہ تعالیٰ اپنے دین کی کامیابیوں سے سرفراز کرے گا۔ یہ کام تو وہی لو گ کر سکتے ہیں  جن کو جائز ذرائع سے مال کمانے میں صرف اس قدر دل چسپی ہو، جو ضروری اور ناگزیرہو، جس سے ان کی ضروریات زندگی پوری ہو جائیں۔

خرچ کرنے میں بھی صرف اسی پر اکتفا نہیں ہونا چاہیے، کہ آدمی زکوٰۃ  ادا کر دے ‘ یا اپنی ساری ضروریات زندگی اور سارے شوق پورا کرنے کے بعد تحریک اسلامی کے بیت المال کے لیے ایک ماہوار رقم مقرر کرلے۔ اپنا فرض ادا کر نے کے لیے قرآن و حدیث سے اس سے بڑھ کر  کوئی ذمہ داری ثابت نہیں کی جا سکتی۔ لیکن یہ معاملہ قرآن و حدیث کے احکامات کا نہیںہے، بلکہ قرآن و حدیث کے منشا اور اس کی روح کا ہے۔

عام مسلمانوں اور خدا کی بندگی کرنے والوں کے لیے، شاید یہ بات صحیح ہو کہ زکوٰۃ دے دیں اور راہ خدا میں ایک ماہوار رقم اپنی آمدنی سے باندھ لیں، اور اس  رقم کے تناسب کا کوئی مقابلہ اس چیز سے نہ کریں، اس خرچ سے نہ کریں جو وہ اپنی ضروریات زندگی پر کرتے ہیں۔ بہر حال جب ایک مخصوص رقم ہر ماہ کے لیے باندھ لی اور یہ زندگی کا ایک شعبہ ہے جو ہم نے الگ کر دیا،  اب اس کے علاوہ ہماری آمدنی ہماری اپنی ہے، وہ ہم چاہیں تو مہینے میں چار پانچ سو کاپان کھائیں، سگریٹ پییں، کہیں ہوٹل میں چلے جائیں اور دو چار سو خرچ کر ڈالیں، ہمیں اس کا کوئی دکھ نہ ہوگا۔ اگر کوئی مانگنے کے لیے آجائے تو کہیں کہ کل ہی تو چندہ لے کر گئے تھے، آج پھر آگئے ہو، آخر     ہم کہاں تک دیتے رہیں۔ اگر آدمی ضرورت سے زیادہ نہ کمائے، اور ضرورت سے زیادہ کمانے  کے لیے کوئی ناجائز کام نہ کرے، تو خرچ کرنے کا سوال پھر بھی پیدا ہوتا ہے اور خرچ کرنے میں دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ خرچ کرنے کے حوالے سے ہمارا  ایمان اور یقین کس قدر مضبوط ہے۔

عزیمت کا راستہ تو یہ ہے کہ آدمی اپنا مال خدا کی راہ میں دونوں ہاتھوں سے لٹائے، اور اس کو یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ اس نے مجھے توفیق بخشی، نہ کہ میں نے دین پر   یا تحریک اسلامی اور جماعت پر کوئی احسان کیاہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ لوگ جو اللہ کے دین کو قائم کرنے کا عزم اور اعلان دن رات کرتے ہیں، جوصبح شام اس کا وظیفہ پڑھتے ہیں، اور بے چین ہو کر پوچھتے ہیں کہ وہ گھڑی کب آئے گی جب اسلامی نظام قائم ہوگا‘ اگر ان کی اکثریت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کی آمدنی کا بہت کم حصہ ایسا ہے جو راہ خدا یا تحریک کے لیے صَرف ہوتا ہے۔ خدامیری اس بد گمانی کو معاف فرمائے، لیکن جہاں تک میرا علم ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ اپنے مال کا بہت کم حصہ ہے جو ہم نے خدا کی راہ کے لیے مخصوص کر رکھا ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق ادا ہو گیا ہے۔

میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جو لوگ تحریک اسلامی کا عَلم بلند کیے ہوئے ہیں، اگر ان کو کہا جائے کہ ہم آپ کو ایسی جگہ پیسہ لگانے کی دعوت دیتے ہیں جس میں ایک کے سات سو گنا سے ایک ہزار گنا تک ہو جائیں گے، اور ایسے وقت آپ کوملے گا،جب کہ واقعی آپ کو اس کی ضرورت ہوگی، تو ان کی جیب مشکل سے کھلتی ہے۔ جب ہم ان سے کہیں کہ فلاں جگہ زمین بک رہی ہے،  اس کو اگر آج خرید لیا جائے تو کل اس کے دگنے روپے ملیں گے تو وہ جانتے ہیں کہ نہ زمین ان کے ساتھ جائے گی اور نہ اس کی دوگنی آمدنی ساتھ جائے گی،آخر دوگز زمین ہی ان کو ملے گی، لیکن وہ دوڑ کر اس کے لیے پیسہ نکالتے ہیں۔ اگر تحریک کو مالی وسائل کی ضرورت ہو تو مشکل سے چند سو روپیہ نکلتا ہے، دوسری طرف گھر میں اگر قالین ڈالنا ہو یا عالی شان پردے لگانا ہوں، یاماربل کے مکان بنانے ہوں، توجیب ختم ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا عزیمت کا راستہ تو یہ ہے کہ ہم دل کھول کر راہ خدا اور تحریک پر خرچ کریں۔اگرچہ قرآن و سنت سے ایک مخصوص رقم صرف کرنے کو شاید کوئی حرام نہ کہہ سکے، لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا اس روش اور طرز عمل پر جو عموماً ہم نے اپنا رکھا ہے،  اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کامیابی کے انعام سے سرفراز کرنے والا ہے!

  • معیارِ زندگی: اسی طرح معیار زندگی کا معاملہ ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ زندگی بسر کرتے ہوئے جہاں گہری خندقیںآجائیں، اور اُونچے اُونچے پہاڑآجائیں، وہاں پر آدمی کے لیے بچ کے چلنا بڑا آسان ہوتاہے۔ آدمی بآسانی دیکھ لیتا ہے کہ یہ پہاڑ میرے راستے میں رکاوٹ پیدا کرے گا، میں اس سے بچ کر نکل جائوں۔ مگرزندگی کا سفر ان راستوں پر بڑا خطرناک ہوتاہے جو بظاہر بڑے سیدھے اور صاف دکھائی دیتے ہیں لیکن ان میں جگہ جگہ پائوں پھسلنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ کہیں کوئی کیلے کا چھلکا پڑا ہے، کہیں کوئی چھوٹا سا کھڈا ہے، مگر آدمی اطمینان کے ساتھ چلتا رہتاہے اور اچانک اس کا پائوں پھسلتا ہے اور وہ گر پڑتا ہے۔ کسی چھوٹے سے پتھر سے ٹکراتا ہے اور زخمی ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ منافق وہ ہے جو چھوٹے گناہوں کو حقیر جانتا ہے، اورمومن وہ ہے جو چھوٹے گناہوں کو بھی بہت بڑا خیال کرتا ہے۔ یہ گناہوں کے ارتکاب کا مسئلہ نہیں ہے‘ وہ تو بہت بعد کی بات ہے۔ یہ تواحساس کی بات ہے۔

ایک مومن سے گناہ بھی سرزد ہو سکتے ہیں۔ ایک مومن زانی بھی ہو سکتاہے، چوری بھی کرسکتا ہے دوسرے بہت سے گناہ سرزد ہو سکتے ہیں‘ مگر ایک مومن اور منافق کے طرز عمل میں فرق ہوتا ہے۔ منافق کی نظر میں چونکہ معمولی گناہوں یا چھوٹی چھوٹی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، اس لیے وہ خیال کرتا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر ایک مومن چوکس و چوکنا ہوتاہے۔اس کو معلوم ہوتاہے کہ اس راہ میں جگہ جگہ کھائیاں ہیں، جو بظاہر نظرنہیں آتیں، جگہ جگہ دشمن گھات لگائے بیٹھا ہوا ہے جو برابر کہیں نہ کہیں نقب لگائے گا، دائو مارے گا، کہیں پھندا پھینکے گا، اورمجھے گرا لے گا اور پھانسے گا،  راستے سے ہٹادے گا اور تباہ و برباد کر دے گا۔ اس لیے وہ ہر وقت چوکنا رہتاہے، معمولی باتوں کو بھی اہمیت دیتا ہے اور انھیں نظر انداز نہیں کرتا۔ یہ وہ پہلو ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

چند مثالیں

چند مثالوں سے اس بات کو سمجھیے:

  •  ٹیلی ویژن کی مثال لے لیجیے۔ بحیثیت مجموعی یہ خرابی کی جڑ ہے۔ پھرمیں اس پرکیوں ہزاروں روپے برباد کروں۔ اس سے کسی غریب ساتھی کی مدد ہو سکتی ہے، یہ کسی اور مفید کام میں  لگ سکتاہے، کتابیں خرید کر دی جا سکتی ہیںوغیرہ وغیرہ۔

جن دنوں میں ڈھاکہ رہتا تھا، میرے پاس کوئی ٹیلی ویژن سیٹ نہیں تھا۔ اس کے بعد میں انگلینڈ پہنچا، وہاں کوئی گھرانا ٹی وی سے خالی نہیںہوتا۔ میرے اچھے اچھے مسلمان دوستوں نے کہا کہ اپنے بچوں کی انگریزی بہتر بنانے کے لیے ٹی وی خرید لو، اور کچھ نہیں تو کم از کم نیوز ہی سن لیا کریں گے۔ میں تین سال تک برابر اس حال میں رہا کہ میں نے اس سے انکار کیا۔ اس کے بعد ایران میں انقلاب آگیا۔ لوگوںنے کہنا شروع کیا کہ آج ٹی وی پر یہ آیا ، وہ آیا، یہ دکھایا گیا، انقلاب کی یہ لہر اٹھ رہی ہے، توسب گھر والوںنے جمع ہو کر یہ سوچا کہ اس انقلاب کو دیکھنے کے لیے تو کم از کم ٹی وی خرید لینا چاہیے۔ چنانچہ ہم نے سیکنڈ ہینڈ ٹی وی اپنے گھر کے لیے خرید لیا۔ مگرمجھے آج بھی اس پر شرمندگی ہے۔ پھرمیں نے محسوس کیا یہ راہ واقعی بڑی خطرناک ہے۔ اگرچہ میرے بچے سواے سپورٹس اور نیوز کے کچھ نہیں دیکھتے، مگر میرا ضمیرا س بوجھ سے آج تک آزاد نہیں ہو سکا۔

میں نے یہ مثال اس لیے دی ہے کہ یہ راہ بڑی خطرناک راہ ہے۔ شیطان پوری کوشش کرتا ہے کہ آدمی کسی طرح پھسل جائے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ٹی وی کوئی غلط چیز ہے لیکن جن لوگوں نے عزیمت کی راہ پر چلنے کادعویٰ کیا ہو، اور اس راہ پر چل پڑے ہوں، ان کو آخر اس کے لیے وقت کہاں سے مل سکتاہے، کہ وہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھیں اور اس میں اپنا وقت لگائیں۔

ایک ایک لمحے کا حساب اللہ کو دینا ہے، ایک ایک لمحہ دعوت کے کام میں صرف ہونا چاہیے۔ محلے کے ساتھی اور بیوی بچے قیامت کے روز گریبان پکڑ کر کھڑے ہو جائیں گے، اگر آپ نے ان تک اللہ کا پیغام نہ پہنچایا۔ وہ پوچھیں گے کہ ہم جہنم کی راہ پرسفر کرتے رہے اور تم ٹی وی دیکھتے رہے۔ اب بتائو ہمارے اس انجام کا ذمہ دار کون ہے، تم یا ہم؟ شاید ہم اس کا جواب نہیں دے سکیں۔

  •  آپ کو وہ واقعہ یاد ہوگا کہ نبی کریمؐنے حضرت عبداللہؓبن مسعود سے کہا کہ تم مجھے قرآن سنائو، تو انھوں نے سوال کیا کہ یارسولؐ اللہ! قرآن تو آپؐ پر نازل ہوتاہے، میں آپؐ  کو قرآن کیسے سنائوں؟ آپؐ  نے کہا: ہاں، میں تم ہی سے سننا چاہتاہوں۔ انھوں نے سورۂ نساء کے ایک حصے کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے کہ’’ اس وقت کیا کیفیت ہو گی جب ہم ہر قوم میں سے ایک گواہ بنا کر لائیں گے اور تم کو ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے، کہ آیا تم نے ان تک پیغام پہنچایا یا نہیں‘‘؟ حضرت عبداللہؓ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ میںنے نگاہ اٹھا کر دیکھا، تو نبی کریمؐ کی آنکھوں سے زارو قطارآنسو بہہ رہے تھے اور آپؐ کی داڑھی تر ہوگئی تھی۔

یہ کیا چیز تھی؟ ایک لمحے کے لیے آپ سوچیں۔ یہ ذمہ داری کا احساس تھا کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر صرف اپنے اعمال کی جواب دہی ہی نہیں کرنا‘ بلکہ سارے انسانوں کی زندگی اور سارے انسانوں کے اعمال کی جواب دہی میرے ذمے ہے۔ یہ وہ احساس تھا جس سے نبی کریمؐ جنھوں نے اس شہادت کے فریضے کو سب سے بڑھ کر سرانجام دیا، ان کا قلب بھی پگھل کر رہ گیا اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ جس کے سامنے ذمہ داری کا یہ احساس ہو، وہ جائز اور ناجائز کی بحث میں کہاں پڑ سکتا ہے۔ اس کو تویہ سوچنا ہے کہ یہی واحدمقصد زندگی ہے۔ ایک ہی راہ ہے جس پر مجھے چلنا ہے، ایک ہی منزل ہے جو مجھے سر کرنا ہے۔ اس راہ میںجو چیز رکاوٹ ہو، خواہ اس کی اجازت ہو یا نہ ہو،خواہ جائز ہو یا ناجائز، مجھے اس سے دامن بچا کر آگے نکلنا ہے۔

  •  یہ بھی عزیمت ہے کہ جب احساسات و جذبات ، غصہ اور محبت و نفرت پر زد پڑے تو انسان صبر کرے۔ قرآن مجید میں بار بار کہا گیا ہے کہ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلَوْنَ (قٓ:۵۰-۳۹) ’’اے نبیؐجو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو۔‘‘ آج بھی تحریک سے وابستہ لوگوں کو طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔کوئی کہتاہے کہ یہ لوگ کمزور ہیں، کوئی کہتا ہے کہ متشدد ہیں‘ تشدد پر اتر آتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ غنڈے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ سیاسی طور پر ناکام ہیں، کوئی کہتا ہے کہ زیادہ سیاسی ہو گئے ہیں اب دینی نہیں رہے، کوئی کہتا ہے کہ مُلّا ہیں ان کو دنیا نہیںچلانی آتی۔ ان ساری باتوں کے لیے بڑی عزیمت کی ضرورت ہے کہ آدمی ان سب کو سُنے اور پی جائے، اور اس کے بعد بھی اپنے راستے کے اوپر استقامت کے ساتھ چلتا رہے۔

اس سے بھی بڑھ کر جس عزیمت کی ضرورت ہے ، وہ یہ ہے کہ آدمی برائی کا جواب بھلائی سے دے سکے، گالیاں سن کر بھی دعا دے سکے، کانٹوں پر چل کر بھی پھول نچھاور کرسکے۔ قرآن نے اس طرز عمل اور روش کو اپنانے کا کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں تمھارے کٹر دشمن بھی گہرے دوست بن جائیں گے، لیکن یہ کام معمولی کام نہیں ہے۔ یہ صفت ان کے حصے میں آتی ہے جو بڑے حوصلے والے ہیں، جو بڑے صبر کرنے والے ہیں، جن کے اندر عزیمت پوری طرح موجود ہو۔

ایک اھم پھلو

میں نے عزیمت کے چند پہلو آپ کے سامنے گنوائے ہیں۔ اصل بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عزیمت کا راستہ اسی وقت آسان ہو سکتا ہے جب کبھی آپ کچھ وقت نکال کر اور رات کی تنہائی میں ایک دفعہ بیٹھ کر اس کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ جسے آپ مقصد زندگی قرار دیتے ہیں، کیا وہ آپ کے دل کے اندر بھی وہی مقام رکھتا ہے؟ اس لیے کہ مقصد زندگی تو وہ ہوتاہے جس کی محبت آدمی کے دل کے اندر بیٹھ چکی ہو، جس کی خاطر وہ پوری زندگی وقف کرنے کے لیے تیارہو۔ پھر وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کی اجازت بھی ہے کہ نہیں۔ پھر تو وہ یہ سوچتا ہے کہ میرے وقت کا ہر لمحہ، میرے مال کا ہر پیسہ، میری تمام صلاحیتیں اور وسائل،میری ہر چیز اللہ کی راہ میں اور اس کی مرضی کے مطابق کھپنا چاہیے۔

ایک اوربات بھی غور کرنے کی ہے، وہ یہ کہ جب سختیاں ہوں، آزمایش ہو، مشکلات پیش آئیں تو آدمی کے لیے جم جانا اور ڈٹ جانا بہت آسان ہوتاہے، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مخالفتوں کے طوفان کے آگے،لوگ پامردی کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ راستے جن کا ابھی میں نے ذکر کیا، جو بظاہر بڑے صاف اور سیدھے نظر آتے ہیں، لیکن جن میں چھوٹے چھوٹے پیچ و خم ہوتے ہیں، جن میں جگہ جگہ قدم پھسلنے کا سامان ہوتاہے، وہ خطرناک راستے ہوتے ہیں۔

ایک خطر ناک راستہ وہ بھی ہوتا ہے، جہاں پر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمانے لگتا ہے، جہاں سختی سے نہیں بلکہ نعمت سے آزمانے لگتا ہے۔ جیسا کہ امام احمد بن حنبلؒ کے بارے میں کہا گیاہے کہ ان کو اتنے کوڑے مارے گئے، کہ کوئی ہاتھی بھی ان کو برداشت نہ کرسکتا ، مگر وہ مسکراتے ہوئے اور جواں مردی سے، اس کا مقابلہ کرتے رہے۔ جب خلیفہ بدلا، اور اس نے ان کی خدمت میں دولت اور دینار کی تھیلیاں بھیجیں، تو وہ کانپ اٹھے، اور انھوں نے کہا کہ اب زیادہ کڑی آزمایش آگئی۔ انھوں نے فوراًسارا کا سارا مال واپس کر دیا۔

دراصل رخصت اور عزیمت کی یہ ساری بحث بڑی مختصر ہے۔ اگر آپ کوئی بڑا کام کرنے چلے ہیں اور آپ کے سامنے پوری دنیا کی نئی تعمیر کا ایک نقشہ ہے، اگر آپ پورے ملک کا نظام بدلنا چاہتے ہیں، تو یہ وہ کام ہے جو عزیمت کا راستہ اختیار کیے بغیر نہیں ہو سکتا۔ سر کے بل جانا پڑے گا، نقد جان بھی گنوانا پڑے گی، جیب بھی خالی کرنی پڑے گی، تن کے کپڑے بھی دینے پڑیں گے، تب جا کر کہیں شاید وہ منزل آئے کہ جب یہ ملک اسلامی انقلاب سے ہم کنار ہو۔ اگریہ کام صرف تبلیغی اور اصلاحی کام ہے، ایک گروہ کو منظم کرنا ہے، تھوڑے بہت نعرے لگانا ہیں، تو یہ کام ۴۰سال سے ہوتا آیا ہے، اور ۴۰سال اور بھی ہوتا رہے گا، مگر اس سے معاشرے کے مجموعی اقتدار کے سرچشموں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اللہ تعالیٰ کو تو وہ لوگ چاہییں جن کے بارے کہا گیا ہے:

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌصَدَقُوْا مَاعَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ زصلے وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاo (الاحزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

یہ عہدصرف جائز سے فائدہ اٹھانے، اور حلال اور جائز کام کرنے اور حرام کاموںسے بچنے کا عہد  نہیںتھا بلکہ یہ اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینے کا عہد تھا۔

اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ  ط (التوبۃ ۹:۱۱۱)حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔

یہ سودا عزیمت کا سودا ہے، رخصت کا نہیں۔ اس راہ میںجان بھی کھپانا ہے اور مال بھی۔ جب آپ نے اس سودے کو سچ کر دکھایا، اس معاہدے میں جو آپ کا حصہ اور کردارہے پورا کردیا، تو سب سے زیادہ سچا وعدہ کرنے والا بھی اپنا وعدہ پورا کر دکھائے گا۔

(کیسٹ سے تدوین:  امجدعباسی )