نبی کریمؐ کا ہر نقش ‘ہر قدم‘ ہر ادا‘ ہر بات ‘ ہر عمل ہمارے لیے بہترین اسوہ‘ قابل عمل نمونہ اور مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔قرآن مجید نے خود اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ تمھارے لیے اللہ کے رسول کی ذات میںبہترین اسوہ ہے۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب ۳۳:۲۱)۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ اللہ کا رسول آتا ہی اس لیے ہے کہ اس کی پیروی و اطاعت کی جائے۔ یہ اطاعت و پیروی ہی وہ واحد چیز ہے جس میں اللہ کے رسول کی اطاعت، اللہ کی اطاعت کے برابر ہے۔جس نے رسول کی اطاعت کی‘ دراصل اس نے خدا کی اطاعت کی۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ج (النسآء ۴:۸۰)
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْط(اٰل عمرٰن ۳:۳۱) اے نبیؐ، لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھاری خطائوں سے درگزر فرمائے گا۔‘‘
یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ آپؐاللہ کے رسول ہیں‘بلکہ اس لیے کہ آپؐ کا اسوہ کامل ترین اسوہ ہے۔ وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ o (القلم ۶۸:۴)’’اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘۔گویا آپؐکا کردار اور آپؐکی سیرت انسانوں کے لیے ہرلحاظ اور ہرپہلو سے بہترین اور کامل نمونہ ہے۔
رسالت اور اسوۂ کامل، یہ دونوں باتیں لازم وملزوم ہیں۔ اس لیے کہ جو اللہ کا رسول ہو گا وہ لازماً اسوۂ کامل کا حامل بھی ہوگا‘ اور جواسوۂ کامل کا حامل ہو گا اسی کو اللہ تعالیٰ اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمائے گا۔ تاہم اس کا ایک اور پہلو بھی ہے وہ یہ کہ اللہ کے رسولؐ کی زندگی کے بہت سارے پہلو ہیں۔ آپؐسربراہ ریاست بھی تھے اور قانون ساز بھی‘ باپ بھی تھے اور شوہر بھی، دوست اور ساتھی بھی تھے اور فوج کے سپہ سالار بھی‘نیز معلم و مربی بھی‘ اور یہ ساری حیثیتیں آپؐکی رسالت کی حیثیت کے تابع تھیں۔ لیکن رسالت کا بنیادی فریضہ یہ تھا کہ اللہ کی بندگی کا پیغام انسانوں تک پہنچایا جائے۔ اس لحاظ سے قرآن مجید نے جب یہ کہا کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں تو جہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ کے رسولؐہونے کی حیثیت سے آپؐکا اسوہ قابل اتباع ہے، وہاں یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے رسالت کا فریضہ ادا کرنے میں اور کارِ رسالت انجام دینے میں بھی آپؐکا طریقہ ، آپؐکی روش اور آپؐکا اسوہ ہی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
کارِ رسالت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاکو شاہد ، مبشر، نذیر اور داعی الی اللّٰہ بنا کر بھیجا۔اس حوالے سے انبیا کی جس صفت پر بھی غور کیا جائے،اس کا حاصل یہی ہے کہ اللہ کے بندوں تک اللہ کی ہدایت اور اس کا پیغام پہنچے۔ رسول کے لفظ کے اندریہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ وہ پیغامبر ہوتاہے اور جو پیغام لے کر آتا ہے اسے دوسروں تک پہنچاتاہے۔ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے کہ اللہ کے رسول کوئی اور کام کر پائیں یا نہ پائیں لیکن اُن سے اِن کی اس بنیادی ذمہ داری کے بارے میں لازماً سوال کیا جائے گا کہ تم نے اس کو کہاں تک ادا کیا۔ لوگ مانتے ہیں یا نہیں مانتے‘ پیچھے چلتے ہیں یا نہیں چلتے‘ پکار پر لبیک کہتے ہیں یا نہیں کہتے‘ اور اللہ کے رسول اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے کہ اللہ کے دین کو سارے دینوں پر غالب کردیں‘ لیکن یہ فریضہ ایسا ہے جو بنیادی طور پہ لازماً ان کے ذمے کیا گیا ہے۔
یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (المائدۃ۵:۶۷) اے پیغمبر‘ جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔
گویا اگر رسول نے پہنچانے کا کام سر انجام نہیں دیا تو فی الواقع اللہ نے جو پیغام دیاہے‘ اس کے پہنچانے کا حق ادا نہیں ہوا۔ یوں سمجھ لیں کہ رسالت کے سارے فرائض کا انحصار مخاطبین کے اُوپر ہے۔ وہ مانیں گے تو مومن وجود میں آئیں گے۔ وہ ساتھ دیں گے تو ساتھ چلنے والے ملیں گے لیکن ایسا بھی ہو سکتاہے ۹۰۰ برس رات دن پکارنے کے بعد بھی تھوڑے ہی لوگ ہوں جو ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔ وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلاَّ قَلِیْلٌ o (ھود ۱۱:۴۰)’’اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوحؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے‘‘۔ اگر دعوت کے نتیجے میں تھوڑے لوگ ایمان لائیں یا لوگ دعوت رد کردیں تو اس پر رسول سے کوئی پرسش نہیں ہے۔ وہ اس کے لیے جواب دہ نہیں ہے۔ البتہ جس بات میں اس کی جواب دہی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے دعوت پہنچانے کا کام اور لوگوں کو خدا کی طرف پکارنے کا کام کہاں تک انجام دیا۔ اگر اس نے اس کام کو مکمل کر دیا تو رسالت کا سب سے بنیادی فریضہ اور اس کی بنیادی ذمہ داری ادا ہوگئی۔
یہ جاننا ہمارے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ اکثر دعوت دین اور اقامت دین کا کام کرتے ہوئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کام کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے جو دوسروں کے ماننے اور دوسروں کا ساتھ دینے اور اللہ کی خشیت اور حکمت پر منحصر ہے۔ جب وہ کام پورا نہیں ہوتا تو ہم مایوسی کا شکار ہو کر اس کام کو بھی چھوڑ دیتے ہیں جس کام سے کوئی مفر نہیں اور جس ذمہ داری کو کبھی ٹالا نہیں جا سکتا۔ وہ یہ کہ اللہ کے ایک ایک بندے تک اس کی ہدایت‘ اس کی زندگی کا پیغام‘ اللہ پر ایمان لانے کی دعوت‘ اس کی اطاعت کا مطالبہ اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہی دراصل کارِرسالت کا ماحاصل ہے ۔ آج بھی جو اسلامی تحریک کا نام لیتاہے‘ اقامتِ دین کا دعوے دار ہے‘ وہ کوئی اور کام کر پائے یا نہ کر پائے لیکن اس کام کے لیے اس کی ذمہ داری اور اس کی جواب دہی ایسی ہے جس سے وہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک کہ وہ اس کام کو کماحقہ، انجام نہ دے۔
اسوۂ رسالت کے تحت میں مختصراً دو چیزوں کا ذکر کروں گا اور یہ دونوں چیزیں بالکل لازمی اور ناگزیر ہیں۔دعوت کے ضمن میں اُن طریقوں کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے لیے جو طریقے نبی کریمؐنے اختیار کیے ہیںایک خاص جذبہ، کیفیت اور روح درکار ہے۔ اس لیے کہ دعوت کا کام کوئی مجرد فنی مہارت کا کام نہیں ہے اور اس کو عام اصولوں کی طرح نہیں سیکھا جا سکتا۔ اس کام کے طریقے‘ اس کام کے راستے اسی وقت سیکھے جاسکتے ہیں اور ان پر عمل درآمد اسی وقت ہو سکتاہے جب ان کی پشت پر وہ کیفیت‘ وہ روح اور وہ جذبہ کار فرما ہو جو دعوت الیٰ اللہ کے لیے ضروری ہے‘ اور جس کی نمایاں مثال نبی کریمؐکی اپنی زندگی اور اپنا اسوۂ دعوت ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ دعوت کی ذمہ داری ایک بڑی بھاری ذمہ داری ہے جس کے احساس سے آپؐکا دل گراں بار تھا‘ جس کے بوجھ سے آپؐکو اپنی کمر ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی تھی‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے خود قول ثقیل(بھاری بات)سے تعبیر کیا ہے۔ یہ اس لیے تھا کہ یہ ذمہ داری کس کی طرف سے تھی‘ نیابت کس کی ہو رہی تھی‘ بات کس کی تھی جو دوسروںتک پہنچانا تھی اور جواب دہی کس کے سامنے تھی___ یہ اللہ کی طرف سے تفویض کردہ ذمہ داری تھی اور اس کی جواب دہی خود اپنے سامنے اور ربِ کائنات کے سامنے تھی۔ یہ ذمہ داری نہ کسی اجتماع میں رپورٹ تک محدود تھی‘ نہ صرف دنیا کے اندر کچھ کامیابی حاصل کرنے کے لیے تھی‘ بلکہ اللہ کے رسول اس منصب پر اپنے رب کی طرف سے فائز کیے گیے تھے اور رب کا دیا ہو کام ایسا تھا جو ہرحال میں‘ ہر طرح انجام دینا تھا۔
مجرد یہ احساس اور شعور کہ یہ میرے رب کا کام ہے‘ میں نے رب کے بندوں کو حق کی طرف بلانا ہے‘ ان کو غلط راستوں پر بھٹکنے سے بچا کر صحیح راستے پر لگانا ہے‘ یہ اپنی جگہ اتنی زبردست ذمہ داری تھی کہ اقراْ کا پیغام سننے کے بعد ہی حضوؐرکا نپتیـ‘ لرزتے اپنے گھر واپس آئے اور اپنی اہلیہ محترمہ سے کہا کہ زمّلونی‘ زمّلونی ‘مجھے اڑھا دو، مجھے اڑھا دو۔ مجھے اپنے نفس کے بارے میں ڈر ہے۔ اتنا عظیم الشان کام اقراْ (پڑھنے اور سنانے) کاکام‘ رب کے نام سے دنیا کو پکارنے کا کام‘ اور دنیا کو یہ پیغام دینا کہ علم کا سرچشمہ صرف اللہ کی ذات ہے‘ اس سے ماورا بے نیاز ہو کر، جو علم کا دعوے دار ہے‘ وہ قطعی غلط ہے‘ نیز اللہ کی ذات سے اور اللہ کی ہدایت سے پوری انسانی زندگی کا رشتہ جوڑنا‘ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ o (العلق ۹۶:۱)‘ میں یہ پوری ذمہ داری پوشیدہ تھی اور حضوؐر اسی لیے کانپتے اور لرزتے ہوئے واپس آئے تھے اور یہ فرمایا تھا کہ مجھے اپنے نفس کے بارے میں ڈر اور خوف محسوس ہوتاہے۔ یہ اس مقامِ دعوت کی عظمت اور اس کی گراں باری تھی جس نے قلبِ مبارک پر اس کیفیت کو طاری کر دیاتھا۔
اس کے ساتھ ساتھ جو چیز تھی وہ صرف یہ نہیں تھی کہ دنیاکے اندر اتنا عظیم الشان کام درپیش ہے بلکہ یہ کہ اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اگر اس کام کے اندر کوتاہی ہوئی توجو لوگ گمراہی کے راستے پہ جائیں گے‘ بھٹک جائیں گے اور غلط راہ پر پڑ جائیں گے‘ وہ جن کے سامنے حجت پوری نہیں ہوگی‘ اس کا ذمہ داروہ بھی ہوگا جس کے پاس پیغام حق ہو اور وہ اس کو پہنچانے سے قاصر رہے۔ اسی لیے جب آپؐ اس حوالے سے سوچتے تھے‘ آپؐ کے سامنے اس کا ذکر ہوتا تھا تو آپؐ لرزہ براندام ہو جاتے تھے، آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے تھے۔
ایک طرف تو جواب دہی کا یہ احساس تھا جس کے بوجھ سے آپؐکو اپنی کمر ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی تھی تو دوسری طرف خود وحی کے نزول کا مرحلہ بھی بہت کٹھن تھا۔ اس سے نہ صرف جسم کے اُوپر بوجھ پڑتا تھا بلکہ جب یہ کلام نازل ہوتا تھا تو اس کے بوجھ سے اونٹنی بھی بیٹھ جایا کرتی تھی اور آپؐکی پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوا کرتے تھے۔ یہ تمام کیفیات کلامِ حق اور ہدایت الٰہی کو وصول کرکے پہنچانے کی ذمہ داری کا احساس کا نتیجہ تھیں۔
فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَo (الاعراف۷:۶) پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں، اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں( کہ انھوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انھیں اس کا کیا جواب ملا)۔
یہ سوال صرف انھی سے نہیں ہو گا جو مخاطب تھے کہ تم نے یہ بات کیوں رد کردی‘ بلکہ مرسلین جن کو رسول بنا کر بھیجا گیا‘ ان سے بھی سوال کیا جائے گا کہ تم نے اپنی ذمہ داری کو کہاں تک ادا کیا۔ یہ کتنی بڑی ذمہ داری تھی‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا بوجھ تھا جس سے کمر ٹوٹتی محسوس ہوتی اور بدن لرزتا اور کانپتا تھا‘ اور جواب دہی کا احساس دل و دماغ کے اُوپر چھایا رہتا تھا۔
یہ ذمہ داری رب کی طرف سے تھی کہ اللہ کے بندوں کو بھٹکنے سے بچا کر صحیح راستے پر لگایا جائے۔ ذرا تصور کیجیے کہ وہ دل اور وہ قلب جو انسانوں کی محبت سے سرشار ہو‘ جو ۴۰ سال سے دن رات انسانوں کی خدمت کے اندر لگا ہوا ہو‘ اس کو جب یہ معلوم ہو کہ یہ وہ پیغام ہے جس سے انسان آگ سے بچ کر اللہ کی جنت کی طرف جا سکتے ہیں تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس کی کیفیت کیا ہو گی۔ نبی کریمؐ نے اس بات کو یوں بیان فرمایا کہ میری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی، اور جب آگ روشن ہو گئی تو لوگ پروانوں کی طرح آگ میں گرنے لگے اور مجھ کو مغلوب کرکے آگ میں گرنے لگے‘ اور میں تمھاری کمر پکڑ کر تم کو بچا رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ کے اندر گرے جا رہے ہو۔ اگر اپنا بچہ آگ کے قریب چلا ئے‘ یا کسی حادثے کا شکار ہوجائے‘ یا تباہی کے گڑھے پر کھڑا ہو تو قلب کی جو کیفیت ہو گی وہی نبی اور داعی کے قلب کی کیفیت ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔
ایک نبی کی حیثیت اپنی قوم کے لیے باپ کی سی ہوتی ہے۔ وہ کتنی ہی گمراہ کیوں نہ ہو‘ وہ اس کو نصیحت اور خیر خواہی سے آخر وقت تک بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ وہ اس کے اُوپر غصے و ناراضی اور مایوسی کا اظہار نہیں کرتا۔ اگر وہ پتھر بھی کھاتا ہے تو دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور صحیح راستے پر لگائے ۔ وہ اپنی ذات کے لیے نہ کچھ اجر مانگتا ہے اور نہ انتقام کا طالب ہوتاہے۔ اس کی ساری محبت اور دشمنی صرف اللہ کے لیے اور اس کے پیغام کے لیے ہوتی ہے۔ اسی کیفیت کی وجہ سے نبی کریمؐدن، رات اسی فکر کے اندر گھلا کرتے تھے اور ہر داعیِ حق کو بھی گھلنا چاہیے کہ کس طرح یہ پیغام عام ہو۔ دل کی یہ فکر عمل کے اندر ظاہر ہوتی تھی۔ گھر گھر جانا، گلیوں میں گھومنا‘ لوگوں کو دعوت دینا‘ اپنے گھر پر بلانا اور دعوت دینا‘ پہاڑی پہ چڑھ کے وعظ کہنا‘ حج کے موقع پر خیموں کے اندر جانا‘ ہر موقع سے فائدہ اٹھانا‘ ہر آنے جانے والے سے موقع نکال کر حکمت کے ساتھ اپنی بات کہنا‘یہ سب کس طرح ہو، اسی فکر میں آپؐدن رات گھلا کرتے تھے۔
آپؐکی اس کیفیت کو قرآن مجید نے مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے۔ کہیں فرمایا کہ کیا اس فکر میں تم اپنا گلا گھونٹ ڈالو گے۔ کہیں اس کے لیے حرص کا لفظ استعمال ہوا۔ کہیں فرمایا: لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ (التوبۃ ۹:۱۲۸)’’دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمھارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمھاری فلاح کا وہ حریص ہے‘‘۔گویا بھلائی اور دعوت حق کی طرف بلانے کے لیے نبی کی فکر اور آرزو اور تمنا لالچ کی حدتک پہنچی ہوتی ہے۔جس طرح لالچی آدمی برابر سوچتا رہتا ہے کہ مطلوبہ چیز کو کس طرح حاصل کرے‘ اس کے پیچھے پڑا رہتاہے‘ اپنا سب کچھ اس کے لیے لگاتا ہے‘ وہی کیفیت نبی کریمؐکی تھی اور وہی کیفیت ہر داعیِ حق کی بھی ہونی چاہیے۔
اس میں نہ مایوسی کا گزر تھا اور نہ جھنجھلاہٹ کا‘ اور نہ اپنی قوم سے نفرت اور بے زاری کابلکہ شفقت و رحمت کے ساتھ مسلسل آپؐ اس کام کے اندر لگے رہے۔ یہاں تک کہ یہ تمنّاکہ جو دیکھنے والے نہیںہیں‘ کسی طرح ان کو دکھا دیں‘ جو سننے والے نہیں ہیں کسی طرح ان کو سنادیں‘ جو بھٹک رہے ہیں ان کو کسی طرح صحیح راستے پر لگا دیں۔ اس کی تصویر قرآن مجید نے یوں کھینچی کہ تم اندھوں کو راستہ نہیں دکھا سکتے‘ تم بہروں کو نہیں سناسکتے‘ یعنی جو جان بوجھ کر بھٹک گئے ہیںتم ان کو صحیح راستے پہ نہیں لگا سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ہدایت کے باوجود آپؐ کی یہ کیفیت کہ کسی نہ کسی طرح لوگ ہدایت پاجائیں‘بالکل آئینے کی طرح نمایاں ہوکر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔
لوگوں کی ہدایت اور ان کو گمراہی سے بچانے کے لیے آپؐاس قدر بے قرار تھے کہ اگر لوگ نہیں مانتے تو کوئی ایسی نشانی آجائے جسے دیکھ کر لوگ ایمان لے آئیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ تم آسمان میں سیڑھی لگا کر چڑھ جائو‘ یا زمین کے اندر سرنگ کھود لو‘ یا اور کوئی نشانی لے آئو‘ یہ لوگ اس کے بعد بھی ماننے والے نہیںہیں۔ وہاں آپؐکی کیفیت یہ ہے کہ آسمان پرسیڑھی لگا کر یا زمین میں سرنگ لگا کر بھی اگر قبولِ اسلام کے لیے راہ ہموار ہوسکتی ہوتو ہوجائے۔ آسمان پہ سیڑھی لگا کے چڑھنا اور زمین میں سرنگ لگانا، یہ ہمارے ادب کے عام محاورے ہیں کہ اگر ضرورت پڑے تو کسی کام کو کرنے کے لیے انتہائی مشقت اور انتہائی کوشش کرنا‘ اور آپؐاس کے لیے بھی تیار رہتے تھے۔
یہ وہ چیز تھی جس کی وجہ سے داعی ہونا آپؐکی زندگی کا کوئی ایک پہلو نہیں تھا بلکہ آپؐ ہمہ وقت اور ہر دم داعی تھے اور اسی کو آپؐکے سارے کام میں بنیادی ترجیح حاصل تھی۔ جہاد اسی کے لیے تھا، تلوار اسی کے لیے اٹھائی گئی‘ خطوط اسی کے لیے لکھے گئے۔ ابتدا سے آخر تک سب سے بڑی فکر جو آپؐکے اُوپر غالب تھی وہ یہ تھی کہ اللہ کے بندوں تک یہ پیغام پہنچے اور آپؐسرخ رو ہو کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں‘ اور لوگ گواہی دیں کہ ہاں‘ آپؐنے ہم تک پیغام پہنچا دیا‘ نصیحت کا حق ادا کر دیا، اور جو امانت آپؐکے سپرد ہوئی تھی وہ ہم تک پہنچ گئی۔ اس لیے آپؐدن رات اسی کام میں لگے رہتے تھے۔
مدینہ آمد پر آپؐنے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ایک چھوٹی سی مسجد بنائی ۔ اس مسجد کا فرش سنگ ریزوں‘ ستون کجھور کے درختوں کے اور فرش پر کجھور کی چھال بچھی تھی ۔ اس کے بعد ۱۳ برس تک آپؐنے اس طرف توجہ نہیں کی کہ یہ مسجد پختہ ہو جائے‘ عالی شان عمارت بن جائے بلکہ آپؐاسی کام کے اندر لگے رہے کہ خدا کا پیغام دلوں کے اندر راسخ ہو جائے۔ آپؐکی کوشش تھی کہ ظاہر میں یہ عمارت شان دار ہو یا نہ ہو لیکن دلوں کے اندر دعوتِ حق کی عمارت ضرور شان دار تعمیر ہوجائے۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ آپؐکے انتقال کے صرف ۱۰۰ برس کے اندر اندر اسپین سے لے کر ہندستان تک انتہائی عالی شان مسجدیں وجود میں آگئیں۔ اگر پہلے ہی دن آپؐکی توجہ دعوت سے ہٹ کر ان کاموں کے اندر لگ جاتی تو اس کا امکان کم تھا کہ وہ قوت وجود میں آتی جو اس دعوت کے جذبے سے سرشار ہو کر مدینہ سے نکلتی اور دنیا کے گوشے گوشے میں اس پیغام حق کو پہنچاتی۔ مقامِ دعوت کے سلسلے میں یہ آپؐ کا اسوہ اور ترجیح اول تھی جس کو سب سے پہلے سمجھنا ضروری ہے۔
دوسری بات جو جاننا ضروری ہے وہ یہ کہ وہ مضامین دعوت کیا تھے جس پر آپؐ شروع سے آخرتک اپنی توجہ مرکوز کیے رہے۔
مکی زندگی کے پہلے دن سے لے کر مدنی زندگی کے آخری دن تک آپؐ اس کام سے غافل نہیں ہوئے کہ اللہ کے بندوں کا تعلق اپنے رب کے ساتھ قائم ہو___یعنی بندگی کا تعلق، توکّل کا تعلق، خشیت کا تعلق، محبت کا تعلق اور اپنے آپ کو سپرد کردینے کا تعلق۔ اقراْ کے نام سے جو کام شروع ہوا تھا‘ وہ اپنے رب کی تسبیح ، حمد اور استغفار کے حکم تک جاری رہا۔ گویا نبی کریمؐکے مشن کی تکمیل تک جو کام جاری رہا وہ یہی تھا کہ اللہ کے بندے اللہ کے ساتھ جڑ جائیں۔جب تک وہ اللہ کے ساتھ نہیں جڑیں گے‘ ان کے اندر وہ قوت اور طاقت نہیں پیدا ہوگی جو اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
اس دعوت کے اندر وہ کشش تھی کہ لوگ دوڑ کر آتے تھے او راسی کے ہو کر رہ جاتے تھے۔ اس لیے کہ خالقِ کائنات کی بندگی کے اندرجو لذت‘ جو نشہ اور جو کشش ہے، وہ کسی اورچیز کے اندر نہیں ہو سکتی۔ اس کی بندگی کی حدود، اس دنیا سے ماورا آخرت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جو اس کا ہوجاتا ہے پھر اس کے لیے دنیا کی کوئی قربانی، قربانی نہیں رہتی ۔جان‘ مال اور وقت‘ ہر چیز اس کے لیے حاضر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ جس نے اس دعوت کی پکار پہ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا، گویا اس نے اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کردیا۔ اگر دنیا کے چھوٹے چھوٹے مقاصد لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے رہتے تو ان کی زندگی کے اندر یہ انقلاب کبھی برپا نہ ہوتااور وہ اس طرح نہ بدلتے۔
بندگی کا یہ تعلق دنیا اور آخرت کے اُوپر محیط تھا۔ زمین و آسمان کی ساری وسعت سے زیادہ وسیع یہ تعلق تھا جو آپؐنے قائم کیا‘ اور اس کے نتیجے میں آخرت کا طلب گار بنا کر جنت کا خریدار بنادیا۔ فی الواقع یہ بہت بڑا انقلاب تھا جو نقطۂ نظر کے اندر ، فکر کے اندر، اور دل کے اندر پیدا ہوگیا۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کے طلب گار نہیں تھے اور جنت کے خریدار بن چکے تھے۔
یہ وہ سیدھی سادھی دعوت تھی کہ جو ایک بدو، ایک تاجر، ایک اَن پڑھ ‘ایک چرواہے یا کسی عالم اور پڑھے لکھے کے لیے یکساں طورپر پُرکشش دعوت تھی کہ آدمی اپنے خالق کا ہو کر رہے‘ اس کے ساتھ جڑ جائے‘ آخرت کا طلب گار ہو اور جنت کی قیمت کے اُوپر اپنے آپ کو راضی کر لے۔
آپؐنے جنت کو ایک ایسی حقیقت بنا دیا تھا جس کی انھیں خوشبو بھی آنے لگی تھی۔ مشہور حدیث ہے کہ ایک دفعہ آپؐنے ہاتھ آگے بڑھایا اور پھر پیچھے ہٹا لیا۔ صحابہ کرامؓنے پوچھا کہ آپؐنے ایسا کیوں کیا۔ آپؐنے فرمایا کہ میرے سامنے جنت تھی ۔ اگر میں اس کا خوشہ توڑ کے تم کو دکھا دیتا اور تمھارے درمیان لے آتا تو رہتی دنیا تک کے انسانوں کی غذا کے لیے یہ کافی ہوتا۔
ان کے لیے جنت کوئی افسانہ نہیں تھی جس کو وہ قرآن میں پڑھتے تھے اور گزر جاتے تھے، بلکہ ان کے لیے وہ ایک جیتی جاگتی زندہ حقیقت تھی۔ جب وہ نبی کریمؐکو اٹھتے بیٹھتے یا منبر کے اُوپر کھڑا دیکھتے تو سمجھتے تھے کہ سامنے جنت موجود ہے لیکن وہ جنت جہاد کے اندر پوشیدہ تھی۔ بندگیِ رب اور آخرت کی طلب اور جنت کا تعلق جہاد کے ساتھ جوڑ کے انسانی زندگی کے اندر آپؐ نے اسے راسخ اور مربوط کر دیا تھا۔ اب یہ جنت کے طلب گار وہ نہیں تھے جو گوشوں میں بیٹھ کر صرف درس دیں، بلکہ اس کے نتیجے میں ایک ایسی جماعت تیار ہوئی جو دنیا بھر کو آخرت اور بندگیِ رب کی دعوت دینے کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔ لوگوں کے دل فتح ہوگئے، نسلوں کی نسلیں، قوموں کی قومیںاس دعوت کے گرد جمع ہوگئیں۔
خالق و رب کے ساتھ تعلق‘ آخرت کی طلب اور دنیا کے اندر انسانوں کو ہدایت پہنچانا اور اس کے لیے کوشش اور جدوجہد‘ یہ دراصل دعوت کا اصل مضمون تھا جس کے لیے کسی لمبے چوڑے فلسفے‘ منطق اور کتابوں کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ وہ بات تھی کہ ہر آدمی اپنے اندر اس کی پیاس محسوس کرتا تھا۔ وہ بدو‘ وہ چرواہے اور وہ تاجر جنھوں نے جب اس پیغام کو سنا اور اپنے آپ کو اس دعوت کے حوالے کردیا تو کسی منطق اور فلسفے کے بغیر ہی وہ دنیا کے امام اور لیڈر بن گئے۔
آپؐکے اسوہ ٔدعوت کا چوتھا پہلو یہ ہے کہ آپؐنے دعوت کے لیے وہ کون سے طریقے اختیار کیے کہ اس دعوت نے قوم کے بڑے حصے کو ایک مختصر مدت میں آپؐ کے گرد جمع کر دیا۔
نبی کریمؐانسانیت کے کس قدر ہمدرد، خیر خواہ اور دوسروں کے کام آنے والے تھے‘ اس کی ایک گواہی حضرت خدیجہؓنے دی۔ خدا کا پیغام وصول کرکے جب آپؐغارِ حرا سے گھبرائے گھبرائے گھر لوٹے اور آتے ہی لیٹ گئے اور کہنے لگے کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو، اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرت خدیجہ نے آپؐکو حوصلہ اور تسلی دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپؐکو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ آپؐصلہ رحمی کرتے ہیں ، رشتہ داروں اور اقربا کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ بات کرتے ہیں تو سچ بولتے ہیں، جو لوگ معاشرے کے اُوپر بوجھ بنے ہوئے ہیں ان کا بوجھ اٹھا تے ہیں،جن کے پاس وسائل نہیں،جو یتیم ، بیوہ، غریب، اپاہج اور معذور ہیں،جو کمانہیں سکتے‘ ان کے لیے کما کر ان کی خدمت کرتے ہیں۔ آپؐمہمانوں کا احترام کرتے ہیں اور جو لوگ مشکلات کا شکار ہوں‘ ان کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہرگز آپؐ کو ضائع نہیں کرے گا۔
یہ نبی کریمؐکے اسوۂ دعوت کی ایک تصویر ہے۔ جو لوگ انسانوں کی تکالیف‘ مصائب‘ پریشانیوں اور ان کی خدمت سے غافل ہوں اور یہ چاہیں کہ محض درس و تقریر اور خطاب سے ہی لوگ دین کی طرف دوڑ پڑیں تو وہ یقینا سخت غلط فہمی کے اندر مبتلا ہیں۔ یہ دعوت اسی وقت عام آدمی کے دلوں کے اندر جگہ پیدا کرے گی جب اس کے داعی انسانوں کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح مربوط کریں کہ ان کے دلوں میں، آخرت میں آگ سے بچنے کی فکر بھی پیدا کریں اور ان کے دنیاوی مصائب و تکالیف کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں۔ یہ دونوں چیزیں اس دعوت کے اندر سب سے نمایاں ہیں اور لازم و ملزوم بھی۔
آپؐکے اُوپر لوگوں کا اتنا اعتماد تھا کہ آپؐپہاڑی پر کھڑے ہو کر پوچھتے ہیں: اگر میں کہوں کہ اس پہاڑکے پیچھے سے ایک لشکر آ رہا ہے تو تم کیا کہوگے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم تمھاری بات پر یقین کریں گے۔ لوگوں کا یہ وہ اعتماد تھاجو آپؐکو حاصل تھا۔ لوگ یہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ یہ آدمی ہمارا بدخواہ بھی ہو سکتا ہے۔ اہلِ مکہ نے آپؐکی کتنی مخالفت کی‘ آپؐکے پیچھے پڑے رہے‘ آپؐکے اُوپر کتنا ظلم کیا‘ آپؐکا راستہ روکا‘ کانٹے بچھائے‘ پتھر مارے لیکن لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ خدانخواستہ آپؐجھوٹے ہیں یا آپؐ ان کے بدخواہ ہیں۔ ابوجہل تک نے کہا کہ یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ آپؐ جھوٹے ہیں۔ مجھے تو یہ شکایت ہے کہ آپؐنے باپ کو بیٹے سے اور بھائی کو بھائی سے الگ کر کے قوم کو پھاڑ دیاہے۔ اس کے علاوہ آپؐکے خلاف اور کوئی شکایت نہیں ہے۔ لہٰذا اعتماد ہی وہ اصل ذریعہ ہے جس کے حصول کے بعد ہی اپنی دعوت آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔
اس کی ایک عمدہ مثال عیسائیوں کے وفد سے نبی کریم ؐکا مکالمہ ہے۔ وہ لوگ جس طرح آئے اور مسجد نبوی ؐکے اندر ٹھیرے، وہاں ان کو اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی سہولت دی گئی اور ان کی خاطر مدارات ہوئی‘ اور پھر یہ دعوت پیش کی گئی کہ آئو اس چیز کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہے۔(اٰل عمرٰن ۳:۶۴)
دعوت حق اگر پیش کی جائے تو بڑی مشکل سے کوئی آدمی ملے گا جو پوری کی پوری دعوت کا مخالف ہو‘ اور پوری کی پوری دعوت کو رد کرنے کے لیے تیار ہو۔ کوئی نہ کوئی دعوت کا پہلو ایسا ہو گا جو اس کے اور داعی کے درمیان مشترک ہو گا جیسا کہ نبی کریمؐاور آپؐ کے مخاطبین کے درمیان مشترک تھا۔ دعوت کے اس بنیادی اصول پربات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
اگر آپ کبھی سیرت میں ان واقعات کا جائزہ لیں جو لوگوں کے قبولِ اسلام اور قبولِ دعوتِ حق کے سلسلے میں بیان ہوئے ہیں تو آپ دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے قرآن سنا اوران کے دل کی دنیا بدل گئی‘ ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے ، جب کہ وہ لوگ جنھوں نے نبی کریمؐ کو قریب سے دیکھا‘ آپؐکی نرمی‘ شفقت اور محبت کا مزا چکھا اور جنھوں نے صرف آپؐکا چہرہ ہی دیکھا وہ اس دعوت کے گرویدہ ہوگئے۔ جس طرح لوہا مقناطیس سے چپک جاتا ہے، اسی طرح وہ آکر آپؐکی ذات سے، آپؐکی دعوت سے‘ آپؐکی جماعت سے چپک گئے اور ان کی تعداد کثیر ہے۔
ایک واقعے سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم کچھ لوگ اونٹ لے کر مدینہ پہنچے اور ہمارا خیال تھا کہ ہم اونٹ فروخت کرکے کجھوریں خریدیں گے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کیسے آئے ہو؟ ہم نے اپنا مقصد بیان کیا۔ ہم آپؐکو پہنچانتے نہیں تھے کہ کون ہیں۔ انھوں نے کہا: اچھا‘ میں نے تمھارا اونٹ خرید لیا۔ اس کی جو قیمت طے ہوئی ہے وہ تمھیں مل جائے گی۔ آپؐنے اونٹ کی نکیل تھامی اور چل دیے۔
جب آپؐنگاہوں سے اوجھل ہوگئے تو ہم نے سوچا کہ یہ ہم نے کیا کیا۔ نہ ہم ا س آدمی کو جانتے ہیں‘ نہ اس کا نام پتا معلوم ہے کہ کہاں رہتا ہے، اور نہ قیمت ہی وصول کی‘ اور جو مال بیچا تھا وہ بھی لے گیا ہے۔ پتا نہیں ملے گا یا نہیں؟ ہمارے سردار کی بیوی جو کہ اونٹ کے ہودج میں بیٹھی تھی‘ اس نے کہا کہ جس آدمی نے اس اونٹ کو خریدا ہے‘ اس کا چہرہ اتنا روشن تھا کہ یہ کسی جھوٹے آدمی کاچہرہ نہیں ہو سکتا۔ میں اس کی ضمانت دیتی ہوں۔ یہ قیمت تم کو لازماً پہنچ کررہے گی۔
چند لمحات گزرے تھے کہ ایک آدمی آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا تم لوگوں نے اپنا اونٹ فروخت کیا ہے؟ ہم نے کہا : ہاں‘ ہم نے فروخت کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ لو وہ قیمت جو تم نے طے کی تھی‘ اور یہ مزید تمھاری میزبانی اور مہمان داری کے لیے۔ اس طریقے سے یہ معاملہ طے ہوا۔
اسی طرح ایک اور قبیلے سے ایک عورت آئی اور واپس جا کر کہا کہ لوگو! محمدؐکے پیچھے چلو‘ اس لیے کہ ایسا سخی آدمی میں نے نہیں دیکھا۔ آپؐدونوں ہاتھوں سے بھر بھرکر لوگوں کو دیتے ہیں اور ان کی خدمت کرتے ہیں۔
آپؐکی سخاوت‘ آپؐ کی شجاعت‘ آپؐکی نرمی‘ یہ وہ چیز تھی جو لوگوں کو اس دعوت کے ساتھ ‘ اس پیغام کے ساتھ چپکائے ہوئے تھی۔ قرآن مجید نے بھی اس بات کو یوں بیان کیا ہے:
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ ج وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ ص (اٰل عمرٰن۳:۱۵۹) (اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تُند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گرد وپیش سے چَھٹ جاتے۔
یہ بات اس بات کے اُوپر گواہ ہے کہ مجرد پیغام کی سچائی کثیر لوگوں کو کسی بھی دعوت کے گرد جمع نہیں کر سکتی۔ جب تک اس دعوت کو پیش کرنے والے اس کردار سے بھی آراستہ نہ ہوں‘ جو کردار اُن لوگوں کے لیے باعث کشش ہو اور نرمی و محبت کاپیغام لے کر آتا ہو۔
آپؐنے دو صحابہ کرامؓکو کسی قبیلے میں دعوت کے لیے بھیجا تو کہا: دیکھو‘ نفرت نہ پیدا کرنا۔ بات اس طرح مت کہنا کہ لوگ اپنے رب سے نفرت کرنے لگیں۔ بات اس طرح کہنا کہ آسانی اور سہولت ہو اور لوگ رغبت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ یہ آپؐ کی رحمت اور شفقت تھی جس نے لوگوں کو آپؐکے چاروں طرف جمع کر دیا۔
اس دعوت میں مقابلہ‘ لڑائی‘ کش مکش اور جدوجہد بھی تھی۔ لیکن کش مکش اور جدوجہد منتقمانہ ذہنیت کے ساتھ یا بدلہ لینے کی ذہنیت اور فکر کے ساتھ نہیں تھی، بلکہ اس پوری جدو جہد میں ہر وقت یہی فکر غالب تھی کہ یہ لوگ نادان ہیں‘ یہ جانتے نہیں ہیں، جذبات سے مغلوب ہوچکے ہیں اور جاہلیت کے پنجے کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔یہ اگر آج آکر حق کے مقابلے پر کھڑے ہوئے ہیں‘ اس کی وجہ باطنی خباثت نہیں بلکہ دھوکے اور فریب کے اندر مبتلا ہوناہے۔ پھر ان کے لیے دعاگو بھی رہے کہ اے اللہ! انھیں ہدایت دے۔
طائف کے اندرآپؐ کو پتھر بھی مارے گئے‘ آپؐکاخون بہایا گیا، اس کے باوجود کہ آپؐلوگوں سے بدلہ لے سکتے تھے اور ان کو دو پہاڑوں کے درمیاں پیس سکتے تھے، پہاڑوں کا فرشتہ بھی حاضر تھا کہ آپؐحکم دیں تو اس بستی کو پیس کر رکھ دوں‘ لیکن آپؐنے فرمایا: نہیں، میں اس بات سے مایوس نہیں ہوں کہ ان کی نسل میں سے ایسے لوگ اٹھیں جو ہدایت کے راستے پر آئیں۔
غزوۂ اُحدمیں آپؐزخمی ہوگئے، آپؐکے دندان مبارک شہید ہوگئے۔ اس کے باوجود آپؐکی زبان مبارک پر یہ الفاظ نہیں تھے کہ لوگو! اُٹھو اور اس کا بدلہ لو‘ بلکہ یہ الفاظ تھے:رب اھد قومی فانھم لایھدون، اے اللہ! میری قوم کو صحیح راستے پر لگا، اس لیے کہ یہ جانتے نہیں ہیں۔ ان کی یہ روش اس وجہ ہے کہ اس سے واقف نہیں ہیں۔
اسوۂ دعوت کے ضمن میں یہ چند بنیادی باتیں ہیں۔اگر ان باتوں کو آج داعیِ حق سمجھ لیں کہ جو کام ہم نے اپنے ذمے لیا ہے اور ہر مسلمان کو اپنے ذمے لینا چاہیے‘ یہ اس لیے ہے کہ یہ ہمارا بنیادی فرض ہے۔ یہ دراصل کارِ رسالتؐ ہے۔ کوئی اور کام اپنی منزل پر پہنچے یا نہ پہنچے‘ یہ وہ کام ہے جس کو ہر صورت میں انجام دیا جانا چاہیے۔یہ بات ہم میں سے ہر ایک کو اپنے سامنے ہمیشہ رکھنی چاہیے کہ میرے گردو پیش جتنے لوگ ہیں ان کو صحیح راستے پر لانے کے لیے میں جواب دہ ہوں۔ پھر مجھے اس پوزیشن میں ہونا چاہیے کہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ، میں ان سے کھڑے ہو کر پوچھوں‘ خواہ اپنی بیوی بچوں سے پوچھنا پڑے یا اپنے محلے والوں سے‘ یا کھیتوں میں کام کرنے والوں سے پوچھنا پڑے یا فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں سے‘ یا اپنے کاروبار یا ملازمت میں ساتھ کام کرنے والوں سے پوچھنا پڑے کہ کیا میں نے تم تک حق کا پیغام پہنچا دیا ہے، تو لوگ کہیں کہ ہاں، پہنچا دیاہے۔ ماننا یا نہ ماننا یہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ان کا اپنا فعل اور اپنا امتحان ہے۔ ہم کتنا ہی چاہیں‘ چاہے اس کے لیے اپنی جان ہی گھلا ڈالیں:
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ج (القصص ۲۸:۵۶) اے نبیؐ!تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتاہے۔
گویا یہ تمھارے ہاتھ میں نہیں کہ تم صرف اپنے چاہنے اور خواہش سے لوگوں کو صحیح راستے پر لگاسکو۔ لوگوں کا اپنا ارادہ اس کے اندر بنیادی چیز ہے۔ توفیق بھی چاہنے پر ملتی ہے:
اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَـآئُ وَیَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ o (الشورٰی۴۲:۱۳) اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجو ع کرے۔
دنیا کے اندر نظامِ حق قائم ہو یا نہ ہو‘ یہ بھی ہماری ذمہ داری نہیں۔ نظام حق کے لیے کام کرنا ہم پرفرض ہے لیکن اس کو قائم کر دینا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ خدا کے بے شمار انبیا تھے جو دنیا سے رخصت ہوگئے‘ کئی برس کی جدوجہد کے بعد رخصت ہوگئے‘ مگر ان کی قوموں نے ان کی بات مان کر نہیں دی۔ وہ اپنی آنکھوں سے اس نظام کو قائم ہوتا نہیں دیکھ سکے۔قرآن مجید نے خود فرمایا:
وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُo ( الرعد ۱۳:۴۰)اور اے نبیؐ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمھارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمھیں اٹھالیں، بہر حال تمھارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔
گویا حساب لینااللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے اور پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ پہنچانے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جس طرح چاہا پہنچا دیا اور فرض ادا ہوگیا، بلکہ اس سے مراد حکمت اور خوب صورتی کے ساتھ، دل کو موہ لینے والے طریقوں اور پورے سوز و درد کے ساتھ پہنچانا ہے۔ یہ وہ بنیادی ذمہ داری ہے جس سے ہم بچ نہیں سکتے‘ جس کی جواب دہی ہم کوکرنا پڑے گی۔ ہرمسلمان کو یہ جواب دہی عام انسانوں تک دعوت پہنچانے کے حوالے سے کرنا پڑے گی۔ یہ جواب دہی اس حوالے سے بھی ہے کہ جو لوگ اس نعمت‘ اس ہدایت اور اس ذمہ داری سے واقف نہیںتھے، آیا ہم نے ان کے سامنے اس کو پیش کیا یا نہیں ۔
وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (الشعرآء ۲۶:۱۰۹) میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔
میں اپنی بات کو اس حدیث کے اُوپر ختم کروں گا جس میں نبی کریمؐنے فرمایا ہے کہ قیامت کے روز ایک آدمی بارگاہِ رب میں حاضر ہوگا اور اس سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ میں بھوکا تھا، تم نے مجھے کھانا کیوں نہیں دیا ؟وہ کہے گا کہ پروردگارتو سارے جہانوں کا رب ہے تو بھلا کہاں بھوکا ہوتا اور تجھ کو کھانا کیسے دیتا؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ بھوکا تھا اور تو نے اس کو کھانا نہیں دیا۔ اسی طریقے سے وہ اس سے بیمار اور پیاسے کے بارے میں سوال کرے گا۔ احادیث میں مختلف چیزیں مختلف روایات میں بیان ہوئی ہیں۔ لیکن وہ تمام انسانوں کی مادی ضروریات ہیں‘ یعنی کھانا، پانی، لباس، دوا کہ جن پر اس کی دنیا کی فلاح اور بھلائی کا انحصار ہے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جہاں اللہ کے بندوں کی یہ ساری ضروریات پوری کرنے کے بارے میں سوال کیا جائے گا‘ تو کیا وہاں یہ سوال نہیں ہو گا کہ میرا فلاں بندہ گمراہ ہو کر جہنم کی راہ پر جارہا تھا اور تم نے اس کو کیوں نہیں بچایا؟ یہ سوال اگر کیا جائے گا تو اس سوال کا جواب ہمارے پاس تیار ہونا چاہیے۔
وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًاo اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآئً وَّلَا شُکُوْرًاo (الدھر۷۶:۸-۹) اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں(اور اُن سے کہتے ہیں کہ )، ہم تمھیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں‘ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔
اگر دعوت پر خلوص ہو اوراس کے پیچھے یہ روح اور جذبہ کارفرما ہو ،اس کی ہر وقت اورہر دم لگن ہو، اس کے ساتھ اپنے بھائی کے لیے سوز اور تڑپ ہو اور اس کا دکھ درد بانٹنے کی کوشش ہو، اور پھر یہ سب کسی اجر یا صلے کے لیے نہ ہو بلکہ اس لیے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو اورہماری اس کے سامنے حجت قائم ہو جائے۔ اس کیفیت اور جذبے کے ساتھ‘ اس پیغام کو لے کر اگر آپ ذمہ داری کے ساتھ‘ اپنے گائوں‘ محلے‘ تحصیل اور ضلع میں کھڑے ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ چند برسوں کے اندر اندر یہ پیغام عام نہ ہو، اور انسانوں کی کثیر آبادی کم سے کم اس سے واقف نہ ہوجائے۔ ماننا یا نہ ماننا اور دلوں کا موڑنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)
روزمرہ زندگی میں انسان کو جو بھی رکاوٹیں پیش آسکتی ہیں ان کو ہم بنیادی طورپر دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایک مادی رکاوٹیں‘ اور دوسری نفسیاتی رکاوٹیں ۔
مادی رکاوٹوں کے کئی پہلو ہیں۔ کوئی مشکل پڑ جائے‘ کوئی نقصان ہوجائے‘ کوئی بڑی خواہش پوری نہ ہو‘ اور کوئی لالچ بھی ہو سکتاہے۔ جب ہم رکاوٹ کا لفظ بولتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں کسی قسم کی مزاحمت ہوگی۔ کوئی بھی شے اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ کسی بھی چیز کی کشش ہو سکتی ہے۔ یہ وہ مادی رکاوٹیں ہیں جن کا تعلق آدمی کے جسم وجان اور مال سے ہے۔
دوسری قسم کی رکاوٹیں نفسیاتی ہیں۔ ان کی جڑ آدمی کے اپنے اندر‘ اس کے نفس کے اندر اور اس کے دل و دماغ کے اندر ہوتی ہے۔ یہاں جو چیزیں اٹھتی ہیں وہ اس کو راستے سے ہٹاتی ہیں۔ اس کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں‘ اس کو ترغیب دیتی ہیں‘ اس کے اندر خواہشات پیداکرتی ہیں اور وسوسہ ڈالتی ہیں۔ یہ رکاوٹیں اس طرح کی ہوسکتی ہیں کہ: ایسا کرو گے تو یہ ہوجائے گا‘ جیب سے پیسہ نکالو گے تو تمھارے پاس کچھ نہیں بچے گا اور تم فقیر اور نادار ہو جائو گے‘ لہٰذا جیب مت کھولو۔ یہ سارے وسوسے جو اندر سے پیدا ہوتے ہیں‘ یہ نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔
اگر غور کیا جائے تو فی الواقع اصل چیز وہی ہے جو آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے‘ لہٰذا اصل رکاوٹیں نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔ مادی مصائب‘ مادی ترغیبات اور مادی رکاوٹوں کی بھی اصل جڑ آدمی کے نفس کے اندر ہوتی ہے۔ اگر کسی کوڈھیر سامال مل جائے‘ اس کی نظر میں اس مال کی قیمت پتھر کے چند ریزوں سے زیادہ نہیں ہوگی‘ اگر اس کا نقطۂ نظر صحیح ہو۔ اگر اس کو موت کے منہ میں جانا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ موت نہیں ہے بلکہ یہ تو جنت او راللہ تعالیٰ سے ملاقات کا نام ہے‘ تو موت کا خوف اس کے دل میں نہ رہے گا۔ بڑی سے بڑی چوٹ آدمی کو لگتی ہے مگر اپنے اندر کے حوصلے سے‘ اپنے اندر کی نفسیاتی کیفیات سے وہ اسے سہار جاتاہے۔ دوسری طرف ذرا سی مصیبت پڑتی ہے تو آدمی ہمت ہار دیتاہے اوررونا دھونا شروع کردیتاہے۔ اس کا تعلق مصیبت کی مقدار یا آزمایش کی نوعیت سے نہیں ہے کہ آدمی کو کس چیزکا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اس کا تعلق اس کے ذہن سے ہے۔ دراصل طاقت کا سرچشمہ انسانی ذہن کے اندر پوشیدہ ہے۔
یہ انسانی سوچ اور جذبہ یا نفسیاتی کیفیت ہی ہے جو اسے دلیر‘ نڈر اور بے باک بنا دیتی ہے‘ یا خوف اور ڈر سے پست ہمت یا بزدل۔ ایک کیفیت کے تحت وہ بڑا طاقت ور بن جاتا ہے۔ ایک ایک سپاہی سو سو سپاہیوں کے مقابلے میں ڈٹ جاتا ہے‘ اگرچہ مادی و عسکری لحاظ سے وہ مقابلتاً کمزور ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کے پاس زیادہ مادی طاقت ہے بلکہ اس کی نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے جو اسے نڈر اور بے باک بنادیتی ہے۔ دوسری طرف یہ احساس کہ ہمارے اوپر مصیبت پڑسکتی ہے‘ یہ ایک دوسری نفسیاتی کیفیت ہے جو ایک فرد کی طاقت کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے۔ وہ بہت سے وسائل رکھنے کے باوجود اور بہت کچھ کرگزرنے کی صلاحیت کا متحمل ہونے کے باوجود‘ حوصلہ و ہمت ہار دیتاہے اور عملاً ناکامی وشکست سے دو چار ہوکر رہتاہے۔
اگر غور کریں تو ہم ان تمام نفسیاتی کیفیات کا دو حوالوں سے جائزہ لے سکتے ہیں: ایک خوف اور دوسرا حزن۔
خوف کے معنی ہیں ڈر یا اندیشہ کہ کچھ ہو جائے گا‘ جو ملنے والا ہے وہ نہیں ملے گا‘ یا کوئی ایسی چیز مل جائے گی جو ناخوش گوار اور ناقابل برداشت ہو گی اور نقصان کا باعث ہوگی۔
حزن سے مراد اس بات کا غم کہ کچھ چھن گیا یا نقصان ہو گیا‘ کوئی ضرب پڑگئی‘ کوئی چیز ملنا چاہیے تھی نہ ملی اور جو چیز نہ ملنا چاہیے تھی وہ مل گئی۔ غم کی اس کیفیت کو حزن وملال کہا جاتاہے۔
دراصل نفس کے اندر کی یہ وہ کیفیات ہیں جن سے اصل رکاوٹیں پیداہوتی ہیں۔ اگر آدمی خوف اور اندیشوں پر پہلے سے قابو نہ پائے تو جن چیزوں کا خوف و اندیشہ اس کو لاحق رہتاہے وہ اس پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ خدشات کہ اگر میں نے ایسا کیا تو یہ ہوجائے گا‘ ایک چیز جو ہاتھ لگنے والی ہے اگر ہاتھ نہ لگی تو یہ بڑا نقصان ہو جائے گا‘ میری عزت کو‘ میری دولت کو‘ معاشرے میں میرے مقام ومرتبے کونقصان پہنچ سکتاہے ‘ سیاسی‘ مادی‘ مالی یا جو کچھ بھی حیثیت ہے‘ ہاتھ سے نکل جائے گی ___یہ خوف وخدشات جب آدمی کے اوپر طاری ہوتے ہیں‘ تو پھر بالآخر وہ ان کے ڈر سے ہتھیار ڈال دیتاہے۔
دوسرا پہلو غم اور حزن کا ہے‘ یعنی یہ کہ جو چیز حاصل تھی وہ ہاتھ سے نکل گئی‘ کوئی مرگیا یا مال کا نقصان ہوگیا‘ یاکسی نے عزت کے اوپر حملہ کردیا‘ گالی دے دی وغیرہ۔ جب کوئی نقصان ہوجاتاہے یا عزت تک ہاتھ سے نکل جاتی ہے تو آدمی کو اس کا غم ہوتاہے۔ غم ہو تو پھر غصہ بھی آتاہے۔ غم وغصہ کا لفظ تو ہماری زبان میں‘ اردو ادب میں استعمال ہوتاہے۔ جہاں غم پیدا ہوتا ہے وہاں غصہ بھی لازماً آتاہے‘ کہ یہ چیز کیوں ہمارے ہاتھ سے نکل گئی‘ میری عزت پہ یہ حملہ کیوں ہو گیا‘ جو چیز مجھے ملنے والی تھی وہ کیوں کوئی چھین کے لے گیا۔ اس طرح ایک طرف تو غم ہوتاہے جو غصے کے اندر تبدیل ہو جاتاہے‘ اور پھر غصہ بالآخر اشتعال دلاتاہے اور اس اقدام پر مجبور کرتاہے جو صبر کے منافی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں نیک بندوں کا ذکر کیا گیا ہے وہاں ان کی اس صفت کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ نہ خوف اور اندیشے کا شکار ہوں گے اور نہ کسی غم کے اندر مبتلا ہوں گے۔ جنت کے بارے میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ فَلا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنَوْنَo (البقرۃ ۲:۳۸)‘ یعنی جنت کی زندگی کی بھی یہی خصوصیت ہے کہ وہاں نہ مستقبل کا اندیشہ ہو گا اور نہ کسی چیز کے چھننے کا خدشہ ہوگا۔ کوئی مصیبت پڑنے کا خوف بھی دل کے اوپر طاری نہیں ہوگا‘ اور نہ کوئی چیز ہاتھ سے نکل جانے کا غم وغصہ ہو گا بلکہ اطمینان ہوگا کہ صحیح زندگی گزار آئے اور صلہ پالیا۔ کوئی حسرت نہیں ہوگی کہ یہ کام کیوں نہیں کیا او راگر یہ کرتے تو یہ پیش نہ آتا۔ اگر غور کیا جائے تو دراصل یہی دو چیزیں ہیں جو صبر کے سرچشمے کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں‘ اور صبر کے راستے میں جو چیزیں رکاوٹ بنتی ہیں ان کا اظہار بھی انھی دو باتوں سے ہوتاہے‘ یعنی خوف اور حزن۔
اگر اس بات کو مزیدواضح کیا جائے تو یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ جو نفسیاتی کیفیات انسان کے اوپر طاری ہوتی ہیں‘ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی طاری ہوا کرتی تھیں۔ یہ مسلمانوں کے اُوپر بھی طاری ہوا کرتی تھیں۔ ان کیفیات کو قرآن مجید نے کھول کر بیان کردیا ہے کہ اگر ہم ان میں سے ایک ایک چیز کو دیکھیں تو اس کے اندر ہمارے لیے سبق اور نصیحت کا بہت بڑا خزانہ پوشیدہ ہے۔ میں جسمانی و مادی مصائب کا ذکر نہیں کر رہا‘ یعنی جو مار پیٹ ہوئی‘ جو جانیں دینا پڑیں‘ جو محنت کرناپڑی‘ اور جان و مال کا جو نقصان ہوا‘ اس لیے کہ اس کی جڑ بھی نفسیاتی رکاوٹوں کے اندر ہے۔ دراصل آدمی اپنے اندر سے اٹھے والی کیفیات اور جذبات کا شکار ہو جاتاہے۔ نبی کریمؐجو دعوت لے کر آئے‘ جو پیغام آپؐنے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا‘ یہ دعوت او ریہ پیغام آپؐ کے لیے اتنا کھلا‘ واضح اور روشن تھا کہ جیسے عام آدمی کے لیے دن میں آسمان پر چمکتا ہوا سورج ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ‘ آخرت‘ اور جنت و دوزخ‘ یہ ساری چیزیں ہماری نظروں سے محو ہیں لیکن نبیؐ کے لیے یہ ساری چیزیں غیب سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔
نبی کو تو اللہ تعالیٰ براہ راست علم دیتاہے۔ جس طرح دن کی روشنی میں ایک عام آدمی دیکھ سکتاہے کہ سورج نکلاہوا ہے اور یہ اس کے لیے ایک کھلی حقیقت ہوتی ہے‘ یہی کیفیت نبی کی اللہ اور آخرت کے بارے میں ہوتی ہے۔ اب اگر آدمی دن کے اجالے میں کھڑا ہو کریہ کہے کہ لوگو‘ سورج نکلا ہوا ہے لیکن لوگ اس کھلی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں‘ اس کے برعکس اس کو ملامت کریں‘ طعنے دیں کہ تم اندھے ہوگئے ہو‘ تم پر جادو کر دیا گیا ہے‘ تم شاعری کر رہے ہو‘ تم پر جنون ہوگیا ہے‘ اسی لیے تمھیں رات کے وقت سورج نظر آرہا ہے‘ یا سورج نہیں نکلا ہوا اور تم کہہ رہے ہو کہ نکلا ہوا ہے۔ کسی نے تم کو چکمہ دے دیا ہے‘ یا باہر سے کوئی چیز تمھارے اوپر آگئی ہے‘ کوئی تمھارا استاد ہے جو تمھیں باتیں گھڑ گھڑ کر دیتا ہے وغیرہ۔ گویا نبی جو چیز اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے‘ دنیا اس کو جھٹلانے پر تلی ہوئی ہے۔ اس موقع پر انسان جن کیفیات سے دو چار ہوتاہے‘ یا گزرتاہے وہ نفسیاتی کیفیات کہلاتی ہیں۔
ایک نبی بھی اس نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہوتاہے۔نبی کے لیے سب سے پہلی آزمایش یہی ہوتی ہے کہ جس حق کی دعوت لے کر وہ اٹھا ہے اس کو جھٹلایا جائے۔ یہ جھٹلانا معمولی جھٹلانا نہیںہوتا۔ جو آدمی جانتا ہو کہ یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں سچی اوربر حق ہے‘ مگر اسے جھٹلایا جاتاہے او رکہا جاتاہے کہ تم بے وقوف ہو‘ تم جھوٹے ہو‘ تم کو دھوکا ہوگیا ہے‘ تم پر کسی نے جادوکردیا ہے‘ اس وقت جو کیفیت ہوتی ہے وہ شدید غم اور حزن کی کیفیت ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا غم ہوتا تھا کہ لوگ سچی بات کیوں نہیں مانتے‘ اور نہ صرف یہ کہ کھلی حقیقت کو جھٹلاتے ہیں بلکہ مذاق بھی اڑاتے ہیں اور طرح طرح سے اذیتیں پہنچاتے ہیں۔قرآن مجید نے اس کیفیت کو اس طرح بیان کیا ہے : لَا یَحْزُنْکَ قَوْلُھُمْ (یونس ۱۰:۶۵)’’ اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں‘‘۔
قرآن مجید میں کئی جگہ کہا گیا ہے: وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (المزمل ۷۳:۱۰) ’’جوکچھ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کرو‘‘۔ اس لیے کہ سب سے بڑا فتنہ اور آزمایش تو لوگوں کی باتیں ہی ہوتی ہیں۔ یہ باتیں جو لوگوں کی زبان سے نکلتی ہیں‘ خواہ لوگ کان میں آکر کہیں‘ مجلس میں بیٹھ کر کہیں‘ کتابوں میں لکھ کر چھپوائیں یا اخبار میں شائع کریں‘ یہ بڑی سخت آزمایش ہوتی ہے۔ کوڑے کی مار‘ پتھرکی چوٹ اور ریت پر گھسیٹا جانا شاید اتنی سخت آزمایش نہ ہوتی ہوگی جتنی سخت آزمایش طنز‘ طعن و تشنیع اور مذاق و استہزا سے ہوتی ہے۔ یہ اندرونی چوٹ زخم کاری کی مانند ہوتی ہے۔ اس کی زد آدمی کی عزت نفس‘ اس کی سچائی‘ اس کے کردار اور مقام ومرتبے پر بھی پڑتی ہے۔یہ جسمانی چوٹ سے زیادہ گہری چوٹ ہوتی ہے ۔ اسی پر قرآن نے کہا:
وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (المزمل ۷۳:۱۰) جوکچھ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔
اس غم اور حزن کو برداشت کرنا صبر ہے۔ اس سے آدمی مایوس بھی ہوتاہے۔ اس مایوسی کا ذکر قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے۔ جو آدمی بات نہ مانے‘ بار بار کہنے کے باوجود نہ مانے‘ ہر قسم کی دلیل سننے کے باوجود بھی نہ مانے‘ نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی تسلیم نہ کرے‘ او رپھر پہلی قوموں کا بھی ذکر ہوا ہے کہ برسوں دعوت کا کام ہو الیکن ان لوگوں نے مان کے نہیں دیا‘ تو پھر آدمی کے اوپر مایوسی طاری ہوتی ہے۔ مایوسی اندورنی کیفیت ہے اور غم کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہے اور آدمی کے اوپر طاری ہوجاتی ہے۔ جب لوگ نہیں مانتے اور سچی بات کو جھٹلاتے ہیں تو آدمی کو اس سے دکھ ہوتا ہے جو مایوسی کا باعث بنتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حزن کا لفظ کئی جگہ استعمال کیا ہے۔ اسی حزن سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ مایوسی کا قرآن پاک نے بار بار علاج کیا اور اس کے لیے مختلف طرح سے تسلی دی اور حوصلہ دیا کہ اگر یہ لوگ نہیں مانتے ہیں تو یہ ان کی اپنی غلطی اور اپنا قصور ہے۔ آپؐ کا کام تو بس اتنا ہے کہ آپؐ لو گوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔ زبردستی منوانا آپؐ کا کام نہیں ہے۔ ہم نے آپؐ کو داروغہ بنا کر نہیں بھیجا ہے اورنہ ان کے سرپر مسلط کیا ہے۔ ماننا یا نہ ماننا‘ ان کا اپنا اختیار ہے۔ آپ ؐ ان کے سامنے حق پیش کرتے رہیں‘ جو قبول کرے گا وہ اپنی آزاد مرضی سے قبول کرے گا اور جو انکار کرے گا وہ اپنی آزاد مرضی سے انکار کرے گا۔ ان کا فیصلہ ہم نے آپ ؐ کے ہاتھ میں نہیں دیا ہے۔ اگر انھیں زبردستی مسلمان بنانا ہوتا تو کیا اللہ تعالیٰ کے پاس خود کم طاقت تھی۔ وہ یہ سب کام کیوں کرتا کہ نبیؐ کو بھیجتا‘ دعوت کا کام کرواتا‘ کتاب اتارتا‘ اس کے لیے تو وہ ایک کلمہ کن کہتا اور سارے لوگ ایک ہی راستے پر آجاتے: وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (ھود۱۱:۱۱۸)’’ بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا‘‘۔سب اس کی بندگی کرتے‘ سب فرشتوں کی طرح ہو جاتے۔ لیکن فرشتے تو پہلے سے موجود تھے۔ انسان کو تو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ اس کے اختیار کے استعمال کی آزمایش ہو۔ وہ اپنے ارادے سے اور اپنے فیصلے سے راہ حق پر آئے۔ اس کے لازمی معنی ہیں کہ جو آدمی چاہے گا مانے گا اور جونہیں چاہے گا نہیں مانے گا۔ لہٰذا تمھیں مایوسی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس طرح قرآن مجید نے اس حقیقت کو باور کیا کہ اگر ایک داعی اس بات کو بخوبی جانتا ہو کہ اس کا کام تو احسن انداز میں لوگوں تک پہنچانا ہے اور اس کا ماننا نہ ماننا‘ قبول کرنا یا رد کرنا‘ لوگوں کا اپنا اختیار ہے‘ اور وہ اس بات کا مکلف نہیں کہ لازماً لوگ حق بات کو تسلیم کریں‘ تو پھر مایوسی کی کوئی وجہ نہیں رہتی۔
ایک کیفیت آدمی پر یہ طاری ہوتی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ معاملہ جلدی سے نپٹ جائے‘ جب کہ یہ جدو جہد ایک طویل جدوجہد ہے۔ یہ تو یقین ہوتا ہے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا اور اس کا دین غالب آئے گا۔ یہ اللہ کا اپنے رسولؐ سے بالکل حتمی و یقینی وعدہ ہے کہ تمھارا کام ضرور مکمل ہو کر رہے گا‘ خواہ یہ تمھاری زندگی میں ہو یا موت کے بعد۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اس دین کو ضرور غالب کرکے رہے گا۔ یہی وعدہ نبی کریمؐکے ساتھ تھا اور آپؐکی جانشین اُمت‘ مسلمانوں سے بھی ہے‘ لیکن آدمی کی طبیعت میں عجلت پسندی ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر کام جلد سے جلد ہوجائے۔ کافروں کے بارے میں عذاب کی جو دھمکی ہے وہ بھی ذرا جلد آجائے‘ اور جس منزل کا وعدہ ہے کہ دین غالب ہوگا‘ وہ بھی جلدسر ہو جائے۔ بسا اوقات نبی کریمؐ بھی پریشان ہو کر اس طرح سوچنے لگتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جلدی مت کرو۔ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ (القلم ۶۸:۴۸) ’’اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو او رمچھلی والے کی طرح نہ ہو جائو۔ ‘‘ یہاں حضرت یونسؑ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب ان کی قوم نے برسوں دعوت کے کام کے بعد مان کے نہیں دیا‘ تو وہ مایوس ہوگئے اور اسی جلد بازی کی وجہ سے بستی چھوڑ کر چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی طرح نہ ہوجائو بلکہ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبر کے ساتھ دعوت کا کام کیے چلے جائو۔ فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّھُمْ (الاحقاف۴۶:۳۵) ’’پس اے نبیؐ ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیاہے‘ اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو‘‘۔
جلد بازی صبر کے منافی ہے۔ جلد بازی مایوسی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ حزن سے مایوسی پیدا ہوتی ہے اور پھر مایوسی سے جلد بازی ۔اگر آدمی کو امید بندھی رہے کہ میرا کام ہو جائے گا اور ہو کر رہے گا اور اس کاوقت مقرر ہے تو پھر وہ اتنی جلد بازی نہیں کرے گا۔ جلد بازی آدمی تب کرتا ہے جب اس کو خود پر یقین نہ ہواورمایوسی ہو۔ پھر یہ خیال آتا ہے کہ یہ کام اس طرح تو نہیں ہوگا‘ کچھ اور کرنا چاہیے یاکوئی اور راہ نکالنی چاہیے۔ اسی کے نتیجے میں عجلت پسندی یا جلد بازی پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ ط (النحل ۱۶:۱) ’’ ان کے بارے میں جلد بازی نہ کرو‘‘۔ اس لیے کہ ہم نے معاملات کو اپنے ہاتھ میںرکھا ہے‘ تمھارے ہاتھ میں نہیں دیا۔
اسی حزن و غم کے نتیجے میں جو اگلی کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ وہ وعدے بھی مشکوک نظر آنے لگتے ہیںجو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے کیے ہیں۔ اللہ کے نبی تو اس کیفیت میں مبتلا نہیں ہو سکتے‘ لیکن یہ ضرور پکار اٹھتے ہیں: مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ (البقرۃ ۲:۲۱۴) ’’ اللہ کی مدد کب آئے گی‘‘؟ ان کو شک تو نہیں ہوتا لیکن اس بارے میں شبہہ ہو نے لگتا ہے کہ کبھی ہم منزل پر پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں۔ اس بارے میں ہدایت یہ ہے فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ (الروم۳۰:۲۰)‘یعنی صبر کرو‘ راہ خدا پر جمے رہو‘ او راللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔ اس کا وعدہ باکل سچا ہے۔
انسان کے لیے آخری خطرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ پر چلا جائے‘اور مخالفین کے ساتھ ملنے کی کوشش کرے کہ وہ چھائے ہوئے ہیں‘ غالب ہیں‘ اور انھی کا سکہ چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو نبیؐ کے بارے میں یہ خدشہ تو نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ ایسا کریں گے‘ مگر نبیؐ کومخاطب کرکے نبیؐ کے ماننے والوں کو ہدایت دینا مقصود ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا: فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تُطِعْ مِنْھُمْ اٰثِماً اَوْ کَفُوْرًا o (الدھر۷۶:۲۴) ’’تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو‘ اور ان میں سے کسی بدعمل یا منکرحق کی بات نہ مانو‘‘۔ گویا اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو اور اس کے لیے صبر کرو۔ یہاں انتظار کا لفظ استعمال نہیں ہوا‘ میں نے ترجمہ کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صبر کرو یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔ اس کام میں لگے رہو اور جو غلط کاروں کا گروہ ہے‘ ان کے ساتھ ملنے کا مت سوچو۔ یہ کسی بے صبری کا نتیجہ ہو سکتا ہے اور اس طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ یہ چیز صبر کے منافی ہے۔
اگر غور کیا جائے تو یہ سب نفسیاتی کیفیات حزن سے پیدا ہو رہی ہیں۔ ایک چیز جو ہم چاہتے ہیں کہ وہ نہ ہو‘ مگر ہو جاتی ہے تو ہمیں اس کاغم ہوتاہے۔ اسی طرح جو چیز ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہو جائے اور نہ ہو تو ہمیں اس کا غم ہوتاہے۔ اس غم سے مایوسی‘ کم حوصلگی اورپست ہمتی اور بہت ساری کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ جلد بازی اور بے یقینی کی ساری کیفیات بھی اسی سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہر ایک کے علاج کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے ‘ کہ اِصْبِرُوْا‘ اِصْبِرُوْا ، یعنی صبرکرو اور اپنے کام پر جمے رہو اور صبر سے مدد چاہو‘ اپنے آپ کو اس سے باندھ کر رکھو‘ اپنے آپ کو ایک مقام پر روکے رکھو۔ اس لیے کہ یہی ان چیزوں کا علاج ہے۔
دوسری کیفیت خوف کی ہے۔ اس بات کا خوف کہ کل نہ جانے کیا ہو جائے۔ اسی طرح جان کا خوف ہوتاہے‘ مال کے ضائع ہونے کا خوف ہوتاہے‘ اور دنیا کے اندر جو عزت اوروقار ہے اس کے چھن جانے کا خوف بھی ہو سکتاہے۔ یہ تمام خوف اور اندیشے انسان کے اوپر حاوی ہیں۔ زندگی آدھی تو حسرت کی نذر ہو جاتی ہے کہ کیا نہیں ہو سکا‘ اور آدھی خوف کی نذر ہوجاتی ہے کہ نہ جانے کیا ہو جائے گا۔ اس کا علاج بھی صبر ہے۔ چناں چہ جہاں اللہ تعالیٰ نے ابتلا و آزمایش کا ذکر کیا‘ وہاں سب سے پہلے خوف کا ذکر کیا ہے۔ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیئٍ مِّنَ الْخَوْفِ (البقرۃ ۲:۱۵۵)۔ اسی طرح دشمن کے حملہ آور ہو جانے اور مسلط ہو جانے کا خوف ہوتاہے۔ دیگر ہزاروں اندیشے اور خطرات ہوتے ہیں جو آدمی پر طاری ہوتے ہیں۔ وہ لرزتا ہے‘ کانپتاہے اور ڈرتا رہتاہے کہ پتا نہیں کیا ہو جائے‘ رشتہ دار ساتھ چھوڑ دیں گے‘ دوست ساتھ نہ دیں گے‘ اور پتا نہیں کیا کیا نقصان ہو جائے۔ فرمایا کہ اس خوف سے ہم آزمائیں گے۔ اس خوف کا علاج بھی صبر ہے۔ خوف کے مقابلے میں جمے رہنا اور پیچھے نہ ہٹنا بھی صبر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دین کے راستے پر جمنے اور ہر طرح کی قربانی دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ حضرت اسماعیل ؑ کو باپ کے ذریعے حکم ملا کہ تمھاری جان مطلوب ہے تو انھوں نے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ (الصّٰفّٰت ۳۷:۱۰۲) ’’اس نے کہا ‘ ابا جان ، جو کچھ آپ کو حکم دیاجار ہا ہے اسے کرڈالیے‘ آپ ان شا ء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے‘‘۔ یہ صبر عام قسم کا نہیں تھا بلکہ بڑے عزم اور حوصلے کا صبر تھا کہ میری جان حاضر ہے۔ اس کے لیے تیار ہوں۔ یہ اللہ پر توکل تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دین کے دوسرے احکام نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ حج اور جہاد سب کے ساتھ صبر کا ذکر کیا ہے۔ کیوں کہ صبر کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کسی حکم پر عمل نہیں ہو سکتا۔
دعوت کی راہ میں بہت سی مخالفتوں سے سابقہ پڑتاہے۔ جو چیزیں سہی اور برداشت کی جاتی ہیں‘ ان پر آدمی کو صدمہ اور غم ہوتاہے۔ اس میں مخالفین کے ساتھ روش کے حوالے سے بھی صبرکی تاکید ہے۔ صبر کے کچھ ایسے پہلو ہیں جو عموماً نگاہوں سے محو ہو جاتے ہیں۔ یہ کہا گیا ہے کہ اگر تم پر کوئی سختی کرے‘ کوئی نقصان پہنچائے‘ تو تمھیں بھی اس کی اجازت ہے کہ جتنا اور جس طرح تم کو نقصان پہنچایا گیاہے‘ تم بھی اس کو پہنچائو لیکن اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا:
وَلَئِنْ صَبَرْ تُمْ لَھُوَ خَیْرٌّ لِّلصّٰبِرِیْنَ o (النحل۱۶:۱۲۶)
لیکن اگر تم صبرکرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہترہے۔
وَلَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ o (الشورٰی ۴۲:۴۳)
البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور در گزر کرے، تویہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔
الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط (اٰل عمرٰن۳:۱۳۴) جو ہرحال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال‘ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔
خرچ کرنے کے لیے بھی حوصلے اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک پہلو ہے۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر یہ خوبیاں ہیں کہ برائی کو بھلائی سے دفع کرو۔ برائی کا جواب بھلائی سے دو۔ ایک جگہ ان لوگوں کا جو اللہ کی جنت میں جائیں گے یوں ذکر کیا : وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآئَ وَجْہِ ربِّھِمْ وَ اَقَامُوالصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزقْنٰھُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وََّیَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ (الرعد۱۳:۲۲) ’’ان کا حال یہ ہوتاہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں‘ نماز قائم کرتے ہیں‘ ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں‘‘۔ ایک دوسری جگہ فرمایا: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَ بَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌo وَمَا یُلَقّٰھَآ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا ج وَمَا یُلَقّٰھَآ اِلَّا ذُوحَظٍّ عَظِیْمٍo (حٓم السجدۃ ۴۱:۳۴-۳۵) ’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں‘ اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں‘‘۔گویا اخلاق کے اعلیٰ مقام تک وہی پہنچتے ہیں جو برائی کا جواب بھی بھلائی سے دیتے ہیں۔ برائی کو تو وہی چیز مٹاسکتی ہے جو بھلی اور اچھی ہو۔
یہ وہ مختلف نفسیاتی کیفیات ہیں جو صبر کا تقاضا کرتی ہیں۔ اس کے بعد پھر جسمانی مصائب اور جسمانی تکالیف ہیں۔ اگر اس حوالے سے بھی آدمی کا تصور واضح ہو تو وہ ہر طرح کے ظلم و جبر کو برداشت کرسکتاہے‘ حتیٰ کہ جان بھی دینا پڑے تو بے خوف جان دے گا۔ جب یہ بات واضح ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے‘ لہٰذا موت کوئی ڈرنے کی چیز نہیں ہے۔ اس چیز سے کیا ڈرنا جس کا نہ تو وقت معلوم ہو‘ نہ جسے روکا جا سکتا ہو‘ نہ اس سے بچا جا سکتاہو‘ نہ اس کو ٹالا جا سکتاہو اور نہ اس سے چھپ کر کہیں جایا جا سکتا ہو‘ اور نہ ایک گھڑی آگے کی جاسکتی ہو اور نہ پیچھے۔ بہت بے وقوفی ہے کہ آدمی اس سے ڈرے۔ ڈرنا تو اس چیز سے چاہیے کہ جو اس کے بعد پیش آنے والی ہے‘ جسے ٹالا جاسکتا ہے‘ جس سے بچا جا سکتاہے اور کچھ کرکے اس پر قابو پایا جا سکتاہے‘ یعنی آخرت۔ لہٰذا جس کو یہ معلوم ہو کہ موت کا وقت مقرر ہے تو پھر اس کو کبھی بھی موت کا خوف لاحق نہیں ہو سکتا۔
حضرت علیؓ کا مشہور قول ہے کہ دد دن ایسے ہیں کہ جب میں موت سے نہیں ڈرتا۔ ایک دن تو وہ ہے کہ جس روز موت کو نہیں آنا۔ اس دن موت سے ڈرنے کی کیا ضرورت‘ اس لیے کہ اس روز تو اس کو نہیں آنا۔ دوسرا دن وہ ہے جس دن موت کو آنا ہے۔ اس دن بھی موت سے کیا ڈرنا کہ اس دن ڈرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انھوں نے بڑے خوب صورت انداز میں یہ بات کہی ہے کہ یا تو آج کے دن موت کو آنا ہے‘ یا آج کے دن موت کو نہیں آنا۔ اگر آج کے دن موت کو آنا ہے تو ٹل نہیں سکتی‘ لہٰذا ڈرنے سے کچھ حاصل نہیں۔ اگرموت کو اس روز نہیں آنا تو خواہ مخواہ آدمی کیوں ڈرے‘ ۔ یہ تصور موت سے بے خوف کردیتاہے اور آدمی کے اندر صبروہمت پیدا کردیتاہے۔ پھر وہ عزم اور حوصلے کے ساتھ جما رہتاہے۔
صبر کے بہت سے پہلو ہیں۔ میں نے ان میں سے صرف چند پہلو سامنے رکھے ہیں۔ قرآن مجید اسے کہیں صبر کے نام سے اور کہیں نام لیے بغیر صبرکے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرتاہے۔ کہیں اپنے نبی ؐ سے خطاب کرتاہے تو اس میں کوئی نہ کوئی صبر کا سامان ہوتا ہے اور کسی نہ کسی خزانے کا منہ کھولتاہے‘ جہاں سے دعوت کا کام کرنے والا صبر کاخزانہ حاصل کرتاہے۔ کوئی چشمہ ایسا بہتا ہے کہ جہاں سے کوئی فیض ملے۔ نبی کریمؐ اور آپؐ کے ساتھی جس طرح اپنے مقام پر ‘ اپنے موقف پر‘ اپنے کام اور اپنے مقصد کے اوپر جمے رہے‘ وہ اسی صبر کا نتیجہ تھا اور بالآخر ساری دنیا کے وارث بن گئے۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے صرف فلسطین عطا کیا تھا‘ لیکن حضوؐر کی امت کو اللہ تعالیٰ نے مشرق سے لے کر مغرب تک‘ شمال سے لے کر جنوب تک پوری دنیا صبر کی وجہ سے عطا کردی۔ یہ صبر کا نتیجہ تھا اور وہ صبر کے مقابلے میں کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔
صبر کا سرچشمہ دراصل یہ احساس ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہر چیز قائم ہے‘ اور ہم ہر وقت اللہ کی نگاہوں کے سامنے ہیں۔اسی لیے قرآن مجید میں سورۂ مدثر میں سورۂ اقرأ کے بعد دوسری یا تیسری وحی میںیہی ہدایت فرمائی : وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ o (المدثر۷۴:۷) ’’اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو‘‘۔ گویا اپنے رب کی خاطر اور اپنے رب کے لیے جم جائو‘ اور یہ سمجھو کہ میں اپنے رب کے لیے کام کر رہا ہوں‘ رب کا کام کر رہا ہوں اور رب کی راہ میں ہوں۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ہوں۔ قرآن پاک نے اس طرح بار بار صبر کی تلقین کی ہے۔ ایک مقام پر فرمایا:
وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیْنَ تَقُوْمُ o (الطور۵۲:۴۸) اے نبیؐ،اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو‘ تم ہماری نگاہ میں ہو۔ تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔
حضرت موسٰی ؑ کو جب فرعون کے دربار میں بھیجا تو انھوں نے کہا کہ ہم فرعون کے دربار میں جائیں گے لیکن میرے اوپر خون کا دعویٰ بھی ہے اور مجھے ڈر اور خوف بھی ہے۔ اس پر فرمایا : اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰی (طٰہٰ ۲۰:۴۶) ’’ڈرو مت ‘ میں تمھارے ساتھ ہوں‘ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہاہوں‘‘۔ گویا تم جس حال میں بھی ہوگے‘ میں سن بھی رہا ہوں گا اور دیکھ بھی رہا ہوں گا۔
دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات صبر کا سرچشمہ ہے۔ جب آدمی کو یقین ہو جائے کہ جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘ کوئی چیز بھی میری اپنی نہیں ہے۔ یہ دین بھی میرا اپنا نہیں ہے۔ لوگوں کو دین کی راہ پر لانا‘ ان کے دلوں کو حق کی طرف موڑنا‘یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو ہو گا‘ اور اگر نہیں چاہے گا تو نہیں ہوگا۔ سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ (البقرۃ۲:۱۵۶) ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے‘ ‘ میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ دراصل وہ چھوٹاسا کلمہ ہے جس کے اندر صبر کی ساری دنیا پنہاں ہے۔ اسی لیے حادثے اور صدمے پر اسی کو پڑھا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اس کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جس سے آدمی صبر حاصل کرسکتاہے۔ گویا کوئی چیز میری اپنی نہیں ہے‘ اللہ کی ہے۔ سب چیزوں کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اس کا انجام وہیں پر ہونا ہے۔
اسی طرح نماز کو صبر کے ساتھ اس لیے جوڑا گیا ہے کہ نماز میں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ حضرت موسٰی ؑ کے الفاظ ہیں‘ وَاسْتَعِینُوْا بِاللّٰہِ ،’’اللہ سے مدد مانگو‘‘۔ اور وہی الفاظ پھر ہیں کہ یٰٓایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ کہ اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد مانگو۔ صبر کا لفظ انھوں نے خود کہا۔ اللہ کی مدد کے لیے صلوٰۃ کا لفظ آیا ہے۔ اس لیے کہ صلوٰۃ تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا نام ہے۔ اللہ کے سامنے حاضر ہونے ‘ اللہ سے بات چیت اور اللہ سے قرب کا نام ہے۔ سجدہ کرتے وقت آدمی اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہوتاہے۔ جب اس کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتاہے تو اس کے دربار میںحاضر ہوجاتاہے۔ اسی لیے تو نماز اللہ کی یاد اور اللہ کے قرب کا نام ہے‘ نیز نماز صبر کا سامان فراہم کرتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ کیا ہے:
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ (البقرۃ ۲:۱۵۳) صبراور نماز سے مدد لو۔
فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغَرُوْبِ o وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ o (قٓ۵۰:۳۹-۴۰) پس اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اورغروب آفتاب سے پہلے اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی۔
وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاًo وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ وَسَبِّحْہُ لَیْلاً طَوِیْلاًo (الدھر ۷۶:۲۵-۲۶) اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو‘ رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو‘ اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو۔
جہاں بھی صبر کا ذکر آئے گا وہاں سے کسی نہ کسی پہلو سے اللہ کا‘ اس کی حمد کا اور نماز کا ذکر آئے گا۔ اس لیے کہ صبر کی پوری استعداد اسی تعلق سے حاصل ہوتی ہے۔ جتنا یہ تعلق مضبوط ہوگا‘ یقین مضبوط ہوگا‘ اتنا ہی آدمی بے خوف اور اللہ سے ملاقات کا شائق ہوگا۔ کوئی چیز جو اللہ کی ہے اگر اس نے لے لی‘ تو اس پر کوئی گلہ نہیں ہوگا‘ کوئی صدمہ نہیں ہوگا۔ اللہ کی عزت اس کی عزت ہے‘اور اس کی عزت اللہ کی عزت ہے۔ اسی کی خاطر وہ جما رہے گا۔ لہٰذا اس کو کسی بات کا صدمہ نہیں ہوسکتا۔ بڑے سے بڑا صدمہ تو جان کے ضیاع کا ہوتاہے‘ اگر جان کا ضیاع بھی ہو جائے تو یہ ہمارے ہاں بہت معروف ہے اور کہا جاتا ہے: لِلّٰہِ مَا اَخَذَ وَلِلّٰہِ مَاعَطَا ‘ جو لے لیا وہ بھی اسی کا تھا‘ جو دیا ہے وہ بھی اللہ کا ہے۔ کوئی چیز ہماری نہیں ہے‘ سب کچھ اسی کا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ اس کی بھر پور عکاسی کرتاہے۔ گویا سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے‘ سب اسی کی ملکیت ہے‘ ہمارے پاس تو ایک امانت ہے۔
جب نماز سے اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہوتی ہے‘ اللہ کی یاد دل میں بستی ہے‘ ڈیرے ڈالتی ہے‘ تو پھر صبر پیدا ہوتاہے۔ اللہ کا ذکر ساتھ ساتھ ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ نماز کو خشوع کے ساتھ پڑھنے کے لیے بڑے صبر کی ضرورت ہے۔ اس لیے بھی دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ نماز ٹھیک ہو تو صبر پیدا ہوتاہے‘ اور نماز ٹھیک سے پڑھنے کے لیے صبر کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہزاروں خیالات آتے ہیں‘ ہزاروں وسوسے پریشان کرتے ہیں‘ ان کے اوپر قابو پانا اور ان کے مقابلے میں اللہ کو یاد رکھنا‘ اس کے لیے بڑے ضبط اور بڑے صبرکی ضرورت ہے۔ حصول صبر کے لیے ایک جامع نسخہ ذیل کی آیات میں بیان کیا گیاہے:
وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ o الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰـقُوْا رَبِّھِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo (البقرۃ ۲:۴۵-۴۶) صبر اور نماز سے مدد لو‘ بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے‘ مگر ان فرماں برداروں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انھیں اپنے رب سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
گویا صبر اور نماز سے مدد مانگی جائے اور یہ مدد مانگنا بڑا مشکل ہے‘ سوائے ان کے جو خشوع کی کیفیت رکھتے ہیں‘ جن کے دل اللہ کے آگے پست ہیں‘ یا جن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھل جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں‘ جن کو اس کا دھڑکا لگا رہتاہے‘ کہ اللہ سے ملاقات کرنی ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ، یعنی ہم اللہ کے ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے‘ کے اندر پورے صبر کا نسخہ آگیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس اعلیٰ اخلاقی مقام پر پہنچائے‘ اور اس کو حاصل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ (کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیںکہ صبر کرو۔ اگر دین دارگھرانہ ہو تو اس پر جو بھی مشکل یا مصیبت آن پڑے‘ اس پر والدین کی طرف سے یہی نصیحت کانوں میں پڑتی ہے کہ صبر کرنا چاہیے۔ اگر کوئی عام گھرانہ ہو ‘ تب بھی جب کوئی بڑا حادثہ پیش آجائے‘ یاکوئی عزیز دنیا سے رخصت ہو جائے ‘ تو ہرآنے جانے والا شخص یہی کہتاہے کہ صبر کریں‘ اللہ کی مرضی کے آگے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ یہ ہمارا صبر سے ابتدائی تعارف ہے جو بچپن ہی سے گھروں میں ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی دنیا میں کچھ بھی حاصل کرنا چاہے‘ اس کے لیے محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر آدمی جانتاہے کہ زندگی بسر کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ جس کو اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہو‘ اس کی زندگی بھی ہزاروں اندیشوں اور پریشانیوں سے دو چار ہوتی ہے۔ ہر آدمی اس چیز کی طلب میں رہتاہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی‘ اور ہر اس چیز کا رنج و غم کرتاہے جو اس کے ہاتھ نہیں آسکتی۔ یہ کیفیت اس کی بھی ہے جو دنیا میں بہت کچھ رکھتاہو اور اس کی بھی جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ اسی طرح کوئی بھی مقصد زندگی اگر سامنے ہو‘ کوئی بھی خواہش پوری کرنی ہو تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس کے لیے لگن سے کام اور محنت کرنی پڑتی ہے۔ راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنی پڑتی ہیں اور ان پر قابو پانا ہوتا ہے۔ اگر ترغیبات راستے سے ہٹانا چاہیں تو ان کا بھی مقابلہ کرنا پڑتاہے۔ مثال کے طورپر اگر کسی کو ڈاکٹر بننا ہے تو اس کے لیے اسے محنت کرنا پڑتی ہے‘ راتوں کی نیند قربان کرنا پڑتی ہے اور بہت سی خواہشات اور تمنائوں کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے‘ تب کہیں جا کر ڈاکٹر بنا جاتاہے۔
صبر کے کئی مفہوم ہیں‘مثلاً کسی کام کو جم کر کرنا‘ حوصلے سے کرنا‘ عقل کے ساتھ کرنا۔ کہیں پہنچنا ہو تو اس کے لیے اس استعداد کی ضرورت ہوتی ہے جس کو ہم صبر کے نام سے پکارتے ہیں۔
صبر کے لغوی معنی عربی زبان میں روکنے اور باندھنے کے‘ یا برداشت کرنے اور سہنے کے ہیں۔ کسی بھی چیز کے ساتھ اگر آدمی اپنے آپ کو باندھ لے اور اس کے اوپر جم جائے تو یہ صبر ہے۔ یہ بھی صبر ہے کہ انسان کے سامنے جو بھی مقصد ہو یامنزل سر کرنا ہو‘ چاہے یہ مقصد دنیاوی ہو یا اعلیٰ و ارفع کوئی اخلاقی مقصد‘ آدمی اپنے مقصد پر جم جائے اور یہ عزم کرلے کہ جوبھی رکاوٹیں ہوںگی انھیںخاطر میں نہیں لائے گا‘ خواہ وہ تکلیف کی صورت میں نمودار ہوں یا ترغیب کی صورت میں۔ یہ مشکلات اور رکاوٹیں باہر سے ہوں‘ یا اپنے اندر سے‘ یا کوئی راہ میںمسائل پیدا کردے‘ لیکن انسان اپنے مقصد پر جما رہے۔ کبھی حوصلہ پست ہونے لگے‘ یا مایوسی ہونے لگے‘ کبھی محنت سے دل گھبرانے لگے‘ مستقل کام کرتے ہوئے اُکتاہٹ ہونے لگے‘ اس کے باوجود کام کرتے رہنا‘ یہ بھی صبر ہے۔ گویا روکنے اور باندھنے اورسہارنے کے معنوں میں صبر کا لفظ استعمال ہوتاہے۔
اگر قرآن مجید کھول کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تو ایک ایسی صفت ہے اور ایسی استعداد ہے جس کے ذکر سے قرآن مجید بھراہوا ہے۔ وہ جگہ جگہ اس کی ہدایت کرتاہے‘ اور اس کے مختلف پہلو بیان کرتاچلا جاتاہے۔ دنیا کے کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان جم کے کام کرے‘ رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لائے اور ترغیبات کے اوپرقابو پائے۔ لالچ ہو یا خوف‘ خوشی ہو یا غم‘ مایوسی ہو یا کم ہمتی‘ سب کے اوپر قابو پائے۔ دنیا کے اندر اس کا کوئی کاروبار چلتاہے‘ کسی نوکری میں اونچا مقام ملتا ہے‘ تعلیم کے میدان میںکوئی کامیابی ملتی ہے‘ گھر کی بنیاد رکھی جائے یا تعمیر کیا جائے یا اور بہت سے کام ہوں‘ ان سب کے لیے صبر کی صفت ضروری ہے۔
قرآن مجید ایک ایسی منزل کی دعوت دینے کے لیے آیا ہے اور ایک ایسی نعمت عطاکرتاہے جو بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں جتنی بھی منازل ہیں‘ جتنی بھی خواہشات ہیں‘ جتنی بھی چیزیں ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ وہ اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس لیے کہ وہ ایک ابدی نعمت‘ ہمیشہ کی نعمت‘ یعنی جنت اور رضاے الٰہی کی طرف پکارتا ہے۔ اس لحاظ سے سب سے بڑھ کر صبر کی ضرورت اسی راستے کے لیے ہے۔ جتنی اعلیٰ منزل ہوگی‘ اتنی ہی محنت کرنا پڑے گی اور اتنا ہی گرنے کا ڈر بھی ہوگا‘اور اتنی ہی زیادہ راہ میں رکاوٹیں بھی حائل ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح ترغیبات اور وسوسے بھی باربار سامنے آئیں گے کہ شاید پیچھے رہ جانے میں ہی فائدہ تھا‘ یاآگے بڑھنے کی محنت خواہ مخواہ مول لی وغیرہ۔
یہ وہ مختلف نفسیاتی کیفیات ہیں جو کسی بھی اعلیٰ مقام تک پہنچنے کے لیے ہمارے راستے میں حائل ہوتی ہیں۔ جب منزل وہ ہو جس کی وسعت میں آسمان اور زمین سماجائیں تو ظاہر ہے کہ اسی پیمانے سے مشکلیں‘ رکاوٹیں‘ مصائب اور ترغیبات سامنے آسکتی ہیں۔ وہ ساری نفسیاتی کیفیات اور جسمانی مصائب جو دوسرے مقاصد تک پہنچنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں وہ اس حیثیت میں کئی گنا زیادہ پیش آتے ہیں۔ اسی لیے جب قرآن مجید نازل ہوا تو شروع ہی میں جو بنیادی ہدایات اس نے اپنے لانے والے کو دیں‘وہ یہی تھیں کہ وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ (المدثر۷۴:۷) ’’ اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔‘‘ پھر چند دن کے بعد دوسری وحی نازل ہوئی: وَاصْبِرْعَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُُرْ ھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا o (المزمل۷۳:۱۰) ’’اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں‘ ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ ان سے الگ ہو جائو‘‘،یعنی مخالفین جو بھی باتیں بنار ہے ہیں‘ تمھیں جھٹلا رہے ہیں‘ مذاق اڑا رہے ہیں‘ پروپیگنڈا کررہے ہیں‘ اس پر صبر کرو اور راہِ خدا میں جمے رہو۔ ان لوگوں کو چھوڑ دو اور چھوڑو بھی اچھے اور بھلے طریقے سے۔ یہ دوسری ہدایت سورۂ مزمل کی ہے اور پہلی سورۂ مدثر کی۔ یہ بالکل ابتدائی دنوں میں دی جانے والی ہدایات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو دیں۔ اس کے بعد دین کی راہ پر آگے بڑھنے کے ہر ہر مرحلے میں یہ ہدایات بار بار دہرائی جاتی رہیں۔
مکی دور مظالم کا دور تھا۔ مخالفین پر ہاتھ اٹھائے بغیر سہنے اور برداشت کرنے کا دور تھا۔ جسمانی مصائب اور تکالیف اٹھانے کا دور تھا۔ جب مدنی دور آیا تو ہاتھ اٹھانے کا زمانہ آیا‘ اس میں جنگ کی نوبت آئی اور جہاد کا راستہ کھلا۔ اگرچہ اس دور میں ہاتھ اٹھانے اور مقابلہ کرنے کی اجازت تھی مگر اس میں بھی جان و مال کا خطرہ موجود تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جب جہاد کی اجازت دی تو ساتھ ہی یہ ہدایت بھی فرمائی:
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo (البقرۃ ۲:۱۵۵) اورہم ضرورتمھیں خوف و خطر‘ فاقہ کشی‘ جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمھاری آزمایش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریںان کے لیے بشارت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی ؑ اور دوسرے انبیا ؑ کو بھی صبر کی ہدایت کی۔ اس میں بھی یہ دو چیزیں موجود تھیںکہ راہ میں آنے والے مصائب پر صبر اور نمازکی روش‘ کامیابی کی روش ہے۔ اگرکوئی کنجیاں ہیں جو راستہ کھولتی چلی جائیں‘ جس سے راہ آسان ہوتی جائے‘ منزل قریب آئے‘ مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور استعداد پیدا ہو‘ تووہ صبراور صلوٰۃ ہیں۔ سب انبیا ؑ نے اپنی اُمتوں کو انھی دوچیزوں کی نصیحت کی۔ قرآن مجید میں بھی تین جگہ پر مختلف انداز میں یہ بات دہرائی گئی ہے:وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِط (البقرۃ ۲:۴۵) ’’ صبر اور نماز سے مدد لو‘‘۔ گویاجو راستہ تمھارے سامنے ہے‘ اللہ کی بندگی اور اللہ کی رضا کے حصول کا راستہ‘ اللہ کی جنت تک پہنچنے کا راستہ‘ یہ راہ صبر اور نمازکے ذریعے ہی طے ہو سکتی ہے۔ نماز اور صبر کا کیا تعلق ہے‘ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
قرآن مجید میں اگر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کی ساری بھلائیاں صبر اور تقویٰ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ البتہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ اس تقویٰ کو اختیار کرنے کے لیے نفس کے اندر جس صلاحیت‘ تربیت اور استعداد کی ضرورت ہے‘ اس کا نام صبر ہے۔ آدمی ان چیزوں سے رک جائے جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہیں‘ ان تمام نفسیاتی کیفیات کے مقابلے میں ڈٹا رہے جو انسان کے نفس کے اندر سے پیدا ہوتی ہیں‘ ان ساری رکاوٹوں کے مقابلے میں بھی اللہ کی راہ پر جما رہے جو باہر سے آتی ہیں‘ اس تقویٰ کے حصول کے لیے قوت کا خزانہ اور سرچشمہ صبر ہے۔ اسی لیے تقویٰ کے ساتھ صبر کا ذکر لازماً اور بڑی کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ایک مقام پر فرمایا گیا کہ مخالفین تمھارے خلاف جو تدبیریں اور ہتھکنڈے اختیار کررہے ہیں‘ ان کے مقابلے کے لیے صبر اور تقویٰ اختیار کرو۔
وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُ ھُمْ شَیْئًا ط(اٰل عمرٰن ۳:۱۲۰) ان کی کوئی تدبیر تمھارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطے کہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔
قرآن بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بھی زمین میں جن کو امامت عطا فرمائی‘ یہ وہی لوگ تھے جو صبر میں سچے اور کھرے ثابت ہوئے۔
حضرت ابراہیم ؑ کو دنیا کی امامت اس وقت ملی جب انھوں نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری رکھی۔ یہ مرحلہ بھی بڑے صبر کا متقاضی تھا۔ بیٹے نے بھی کمال سعادت مندی کے ساتھ کہا: یٰٓـاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ز سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَo (الصّٰفّٰت ۳۷:۱۰۲) ’’اباجان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کرڈالیے‘ آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے‘‘۔
بنی اسرائیل کا ذکر آیا کہ مستضعفین تھے‘ غلام تھے‘ فرعون کے شکنجے میں کسے ہوئے تھے‘ اس کے ظلم و جبر کے تحت پس رہے تھے لیکن ہم نے ان کو مشرق و مغرب کی زمینوں کا مالک بنادیا۔ بنی اسرائیل سے خلافت کا وعدہ اس لیے پورا ہوا کہ انھوں نے صبر کیا۔ جب وہ ان سارے مصائب کے مقابلے میں جمے رہے‘ جہاد کیا اور قربانیاں دیں‘ تو اللہ تعالیٰ نے مشرق ومغرب کی خلافت اور حکمرانی ان کے سپرد کردی۔ وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ لا بِمَا صَبَرُوْا o (اعراف ۷:۱۳۷) ’’اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدۂ خیر پورا ہوا کیونکہ انھوں نے صبر سے کام لیا تھا‘‘۔
اسی طرح جنت کے بارے میں قرآن واضح طور پر بیان کرتاہے کہ یہ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو صبر کی روش اختیار کرتے ہیں۔ وجَزٰ ھُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِیْرًا o (الدھر ۷۶:۱۲) ’’اور ان کے صبر کے بدلے میں انھیں جنت اور ریشمی لباس عطاکرے گا‘‘۔ایک دوسری جگہ یہ بات مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے: اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍo (الزمر ۳۹:۱۰)’’ صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے تم سے پہلے بھی اہلِ کتاب کو اس کی ہدایت کی تھی اور تم کو بھی اسی کی ہدایت کی ہے کہ صبر کی روش اختیار کرو۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ برائی کے جواب میں جمے رہنا‘ اشتعال میں نہ آنا‘ مخالفتوں کے مقابلے میں اپنے آپ پر قابو رکھنا‘ ہمت نہ ہارنا‘ حوصلہ نہ چھوڑنا‘ مایوسی کا شکار نہ ہونا‘ اور اشتعال میں آئے بغیر برائی کے جواب میں بھلائی کے راستے پر چلنا‘ صبر کے بغیر ممکن نہیں۔ جب انسان نیکی کا حکم دے گا اور منکر سے روکے گا تو یہ اس کے کام آئے گا۔ یہی عزیمت ہے کہ آدمی حالات و مصائب کا جم کر مقابلہ کرے۔یہ حکم‘ یہ ہدایت‘ یہ تاکید‘ کہ صبر کرو‘ اس لیے بھی ہے کہ اس کے بغیر دین کا راستہ طے نہیں ہو سکتا۔ اس راستے میں اس کے بغیر قدم آگے نہیں بڑھ سکتے۔
صبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیے کہ حضرت لقمان نے جب اپنے بیٹے کو نصیحت کی تو اس کو دوسری ہدایات کے ساتھ صبر کی بھی تلقین کی کہ یہ بڑے عزم وحوصلے کا کام ہے:
یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ ط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِo (لقمٰن ۳۱:۱۷) بیٹا! نماز قائم کر‘ نیکی کا حکم دے‘ بدی سے منع کر‘ اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبرکر۔ یہ بڑے حوصلے کے کاموں میں سے ہے۔
آپ غور کریں کہ آیت کا آغاز نماز سے ہوا اور اختتام صبر پر۔ قرآن مجید میں نماز اور صبر دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر آتاہے۔ اسی طرح جہاں بھی صبر کا ذکر آئے گا کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کا نام بھی آئے گا‘ اللہ کا ذکر آئے گا‘ اللہ کی تسبیح کا حکم آئے گا اور اللہ کے قریب ہونے کا ذکر آئے گا۔ اس لیے کہ قرآن مجید کی تعلیم کی رو سے ایک مومن کے لیے اللہ پر ایمان اور اللہ کی ذات کے ساتھ تعلق صبر کا سرچشمہ ہے۔ اسی طرح قرآن میں جہاں بھی جہاد کا ذکر آیا ہے وہاں صبر کا ذکر بھی ساتھ آیا ہے کہ اللہ یہ آزما کر رہے گاکہ کون مجاہدہ کرتاہے اور کون اس کی راہ میں صبر کرتاہے۔
اگر صبرکے یہ معنی ہوں تو اس سے ایک بات بڑی صاف اور واضح ہو جاتی ہے کہ بچپن سے جو کچھ ہم سنتے چلے آئے ہیں وہ اس کا صرف ایک پہلو ہے۔ یہ کہ جب بے بس ہو جائیں‘ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے‘ ڈاکٹر جواب دے دیں‘ موت کا فرشتہ آجائے اور جان نکال لے جائے‘ تب دم مارنے کی مجال نہیں ہے۔ ایسے موقع پر اس کے علاوہ کیا چارہ ہے کہ صبر کیا جائے۔ لیکن قرآن مجید میں صبر کا جوبیان ہے اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ بے بسی کی خاموشی یا بے کسی کا نام صبر نہیں ہے‘ یا قابو نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کرپانا صبرنہیں ہے۔ کچھ کرنے اور کچھ کہنے کا حوصلہ بھی ہو‘ اس کے باوجود انسان اس سے رک جائے‘ یہ صبر ہے۔ کسی کام کے کرنے کی استعداد ہو‘ خواہش بھی موجود ہو لیکن آدمی اس کے مقابلے پر جم جائے۔ صبر بزدلوں یا کم حوصلہ لوگوں کا کام نہیں بلکہ صبر تو بڑی ہمت، بڑی جرأت، بڑی بہادری اور عزم وحوصلے کا مطالبہ کرتاہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے بار بار کہا ہے کہ جو صبر کرتے ہیں اور قدرت رکھنے کے باوجود معاف کردیتے ہیں‘ اور برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیںکہ یہ بڑے عزم وحوصلے کا کام ہے۔
وَلَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِo (الشورٰی ۴۲:۴۳) البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے‘ تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے۔
ہم دیکھیں گے کہ صبر بے بسی کا نام نہیں ہے بلکہ صبربدلہ لینے کی استعداد اور ترغیب کا شکار ہو جانے کے باوجود اپنے مقام پر جمے رہنے کا نام ہے۔ مکی زندگی میں اگر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ہاتھ اٹھا نہیں سکتے تھے‘ بلکہ وہ سب لڑنا جانتے تھے اور مدینہ جاکر انھی لوگوں نے دکھایا بھی کہ وہ کس جواں مردی سے لڑنا جانتے ہیں۔ اس زمانے میں کوئی مسلح فوجیں نہیں تھیں۔ ہر ایک کے پاس تلوار ہواکرتی تھی اور ہر ایک لڑائی میں حصہ لیتا تھا۔ عرب معاشرے کے اندر اگر کوئی توہین و تذلیل کرے‘ بے عزتی کرے‘ قبیلے کے کسی آدمی کے اوپر ہاتھ ڈال دے یا کوئی خون ہو جائے‘ تو برسوں بلکہ ایک ایک سو سال تک خون در خون انتقام کا سلسلہ چلتا رہتاتھا۔ ان کے لیے یہ اجنبی بات نہیں تھی کہ آن بان اور عزت کی خاطرمرمٹیں اور اپنے قبیلے کے خون کا بدلہ لیں۔لہٰذا مکے میں جو کچھ کیا گیا وہ بے بسی کا صبر نہیں تھا بلکہ ایک سوچا سمجھا راستہ تھا۔ اس کی بنیاد میں بہت ساری چیزیں پوشیدہ تھیں‘ جن کی یہاں وضاحت کی ضرورت نہیں۔ البتہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ صبر بے بسی‘لاچاری یا بزدلی کی وجہ سے نہیں تھا۔
صبر کا حقیقی مقام یہ ہے کہ آدمی اپنے مقاصد کی خاطر جم جائے اور پورے عزم وحوصلے سے مال بھی قربان کرے اور جان بھی کھپائے اور ضرورت پڑنے پر جان دینے سے بھی دریغ نہ کرے۔
یہ شاید صبر کی بڑی مختصر تعریف ہے جو قرآن مجید میں موجود ہے اور جس کو میں نے بڑی تفصیل کے ساتھ بغیر کسی حوالے کے بیان کیا ہے۔ گویا کہ آدمی کے اپنے اندر سے جو ترغیبات اٹھتی ہیں‘جو خواہشات سراٹھاتی ہیں‘ جو نفسیاتی کیفیات ہوں اور جو باہر سے رکاوٹیں آئیں‘ ترغیبات ہوں‘ کوئی دولت کا لالچ دے یا جان کا خوف حائل ہو جائے‘ ان سب کے مقابلے میں اپنے مقام پر جمے رہنا‘ اپنے مقصد کے ساتھ وابستہ رہنا‘ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشش جاری رکھنا---یہی دراصل صبر ہے۔
صبر ایک جامع اصطلاح ہے۔ اس کے مختلف پہلوہیں اور ان کو پیش نظر رکھنا چاہیے تاکہ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے کہ قرآن مجید کن کن حوالوں سے صبر کا مطالبہ کرتاہے۔
روزمرہ زندگی میں انسان کو جو بھی رکاوٹیں پیش آسکتی ہیں ان کو ہم بنیادی طورپر دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایک مادی رکاوٹیں‘ اور دوسری نفسیاتی رکاوٹیں ۔
مادی رکاوٹوں کے کئی پہلو ہیں۔ کوئی مشکل پڑ جائے‘ کوئی نقصان ہوجائے‘ کوئی بڑی خواہش پوری نہ ہو‘ اور کوئی لالچ بھی ہو سکتاہے۔ جب ہم رکاوٹ کا لفظ بولتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں کسی قسم کی مزاحمت ہوگی۔ کوئی بھی شے اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ کسی بھی چیز کی کشش ہو سکتی ہے۔ یہ وہ مادی رکاوٹیں ہیں جن کا تعلق آدمی کے جسم وجان اور مال سے ہے۔
دوسری قسم کی رکاوٹیں نفسیاتی ہیں۔ ان کی جڑ آدمی کے اپنے اندر‘ اس کے نفس کے اندر اور اس کے دل و دماغ کے اندر ہوتی ہے۔ یہاں جو چیزیں اٹھتی ہیں وہ اس کو راستے سے ہٹاتی ہیں۔ اس کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں‘ اس کو ترغیب دیتی ہیں‘ اس کے اندر خواہشات پیداکرتی ہیں اور وسوسہ ڈالتی ہیں۔ یہ رکاوٹیں اس طرح کی ہوسکتی ہیں کہ: ایسا کرو گے تو یہ ہوجائے گا‘ جیب سے پیسہ نکالو گے تو تمھارے پاس کچھ نہیں بچے گا اور تم فقیر اور نادار ہو جائو گے‘ لہٰذا جیب مت کھولو۔ یہ سارے وسوسے جو اندر سے پیدا ہوتے ہیں‘ یہ نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔
اگر غور کیا جائے تو فی الواقع اصل چیز وہی ہے جو آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے‘ لہٰذا اصل رکاوٹیں نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔ مادی مصائب‘ مادی ترغیبات اور مادی رکاوٹوں کی بھی اصل جڑ آدمی کے نفس کے اندر ہوتی ہے۔ اگر ڈھیر سامال کسی کو مل جائے‘ اس کی نظر میں اس مال کی قیمت پتھر کے چند ریزوں سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اگر اس کا نقطۂ نظر صحیح ہو‘ اگر اس کو موت کے منہ میں جانا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ موت نہیں ہے بلکہ یہ تو جنت او راللہ تعالیٰ سے ملاقات کا نام ہے‘ تو موت کا خوف اس کے دل میں نہ رہے گا۔ بڑی سے بڑی چوٹ آدمی کو لگتی ہے مگر اپنے اندر کے حوصلے سے‘ اپنے اندر کی نفسیاتی کیفیات سے وہ اسے سہار جاتاہے۔ دوسری طرف ذرا سی مصیبت پڑتی ہے تو آدمی ہمت ہار دیتاہے اوررونا دھونا شروع کردیتاہے۔ اس کا تعلق مصیبت کی مقدار یا آزمایش کی نوعیت سے نہیں ہے کہ آدمی کو کس چیزکا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اس کا تعلق اس کے ذہن سے ہے۔ دراصل طاقت کا سرچشمہ انسانی ذہن کے اندر پوشیدہ ہے۔
یہ انسانی سوچ اور جذبہ یا نفسیاتی کیفیت ہی ہے جو اسے دلیر‘ نڈر اور بے باک بنا دیتی ہے‘ یا خوف اور ڈر سے پست ہمت یا بزدل۔ ایک کیفیت کے تحت وہ بڑا طاقت ور بن جاتا ہے۔ ایک ایک سپاہی سو سو سپاہیوں کے مقابلے میں ڈٹ جاتا ہے‘ اگرچہ مادی و عسکری لحاظ سے وہ مقابلتاً کمزور ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کے پاس زیادہ مادی طاقت ہے بلکہ اس کی نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے جو اسے نڈر اور بے باک بنادیتی ہے۔ دوسری طرف یہ احساس کہ ہمارے اوپر مصیبت پڑسکتی ہے‘ یہ ایک دوسری نفسیاتی کیفیت ہے جو ایک فرد کی طاقت کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے۔ وہ بہت سے وسائل رکھنے کے باوجود اور بہت کچھ کرگزرنے کی صلاحیت کا متحمل ہونے کے باوجود‘ حوصلہ و ہمت ہار دیتاہے اور عملاً ناکامی وشکست سے دو چار ہوکر رہتاہے۔(جاری)
اس ضمن میں پہلی بات یہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ تحریک اسلامی کا یہ پورا نظام ایک اجتہادی نظام ہے ۔ اگر ہم قرآن و حدیث میںان اصطلاحات کو تلاش کرنا چاہیں تو وہاں نہیں ملتیں۔ وہاں مومن ‘ مسلم ‘ متقی‘ محسن ‘ یہ ساری اصطلاحات تو ملتی ہیں لیکن رکن ‘امیدوار ‘رفیق اورحامی کی اصطلاحات موجود نہیں ہیں‘ اور نہ کہیں یہ احکام ملتے ہیں کہ اس قسم کا نظام بنایا جائے۔ یہ بات میں نے شروع میں اس لیے کہی ہے کہ بنیادی طور پر دین کا کام کرتے ہوئے دو چیزوں کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا بڑا ضروری ہے۔ ایک وہ چیز ہے جو انسانوں نے اپنے فہم ‘ سمجھ بوجھ اور استنباط و اجتہاد سے وضع کی ہے‘ اور دوسری وہ چیز ہے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر دیا ہے ۔ مثال کے طور پر پانچ وقت کی نماز اجتہاد نہیں ہے بلکہ منصوص ہے ۔ اسی طرح سود کی حرمت اجتہاد نہیں منصوص ہے ‘ جب کہ جو چیزیں اجتہادی ہیں وہ انسان کے اپنے فہم پر مبنی ہیں۔
اس لحاظ سے جب یہ نظامِ رکنیت بنایا گیا تو اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اقامت دین فرض ہے ۔ اس فریضے کو ادا کرنے کے لیے اجتماعیت ناگزیر ہے ‘ مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی۔ چنانچہ اس اجتماعیت کو وجود میں لانے یعنی اسے عملی شکل دینے کے لیے ہم نے اپنے زمانے اور حالات کے لحاظ سے اور اپنی سہولت کے مطابق جس نظام کو بہترین سمجھا‘ وضع کرلیا۔چونکہ مقصد شریعت کا منصوص ہے ‘ اس لیے رکنیت کی ایک دینی و شرعی حیثیت بھی ہو گئی۔
دوسری بات جو اس سلسلے میں ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ ایک اور بھی دینی مقصد منصوص ہے جس کے لیے یہ رکنیت کانظام اور تنظیم بنائی گئی ہے‘ اور وہ ہے اقامت دین کا فریضہ۔ اقامت دین کے فریضے کی ادایگی کے لیے اگر کوئی چیز ہر ایک پر فرض ہے تو وہ دعوت کا کام ہے۔ میں چاہوں گا کہ ان الفاظ پر آپ اچھی طرح غوروفکر کریں اورانھیں جذب کریں کیونکہ رکن بننے کے لیے جہاں جماعت اسلامی کا دستور چند بنیادی شرائط عاید کرتاہے ‘ اوررکن بننے کے بعد جو کچھ کرنا ہے اس کے لیے اپنے سیرت و کردار میں بتدریج کچھ تبدیلیوں کا تقاضا کرتا ہے‘ وہاں ہر رکن کے لیے وہ اس بات کو بھی لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اپنے حلقۂ تعارف میں دعوت کا کام کرے‘ اور یہ کارِ دعوت اس کے لیے فرض ہے ۔ لہٰذا ہر رکن دائمی مبلغ ہے ‘ اور شعبہ دعوت و تبلیغ ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس کا ہر رکن اورہر کارکن ممبر اور رکن ہے ۔
اگر یہ دو چیزیں جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں واضح ہیں ‘ تو پھر اس سے ہٹ کر کچھ اورچیزیں بھی ہیں جنھیں ہر رکن کو سوچ سمجھ کر اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے۔
ہمارا رکنیت کا یہ نظام جو منصوص نہیں ہے‘ دراصل اس لیے بنایاگیا ہے کہ ہم جن حالات میں کام کررہے ہیں ‘ یہ وہ حالات نہیں ہیں جو اس وقت موجود تھے جب قرآن نازل ہو ا اور سنت کی تدوین ہوئی۔ اُس وقت ایک بگڑا ہوا مسلمان معاشرہ جو زوال پذیر ہو موجود نہیں تھا‘ بلکہ ایک طرف کفار تھے اور دوسری طرف مومن ‘نیز وحی الٰہی اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں براہِ راست خدا کی رہنمائی موجود تھی ۔ ہمارے پیش نظر ایک بگڑا ہوا اور زوال پذیر مسلمان معاشرہ ہے جس کی اصلاح درپیش ہے۔ ہمیں جہاں ایک طرف حقیقی فہم دین ‘ اہل علم اور علماے دین کی ضرورت تھی وہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ ہم کو تہذیبی اور تمدنی معمار بھی بننا ہے ۔ یہ الفاظ بھی ہمارے ہاں استعمال ہوئے ہیں کہ رکن وہ ہیں جو تہذیبی اور تمدنی معمار ہوں‘ جو دنیا کے اندر ایک نئی تہذیب اور ایک نئے تمدّن کے تعمیر کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ ان کی سیرت و کردار بھی ایسا ہو‘ جو اُن کی اپنی اخروی نجات کے لیے بھی ضروری ہے اور اسی سیرت و کردار کے بل پر وہ عوام کے قائد بھی بن سکیں‘ ان کی رہنمائی کر سکیں اور ان کے ملجا بن سکیں‘ بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ عوام کے لیڈر بھی بنیں اور تہذیبی و تمدنی معمار بھی اور اپنے بلند کردار کی جاذبیت کی وجہ سے ایک ایک علاقے کے عوام کو سنبھال سکیں اور ان کی ذات عوام کا مرجع بن جائے۔ گویا وہ معاشرے سے الگ تھلگ اور کٹے ہوئے نہ رہیں‘ بلکہ لوگ خود ان کی طرف رجوع کریں کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے پاس ہم کو جانا چاہیے۔
یہ چند بنیادی پہلو ’رکنیت کیا اور کیوں‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہیں۔ ہر رکن کو انھیں سمجھنا اور جاننا چاہیے۔
فریضہ اقامت دین اور دعوت الی اللہ کی ادایگی کے لیے پہلی ضرورت انفرادی سیرت و کردار کی تعمیر ہے ۔ اگر پیش نظر تہذیبی و تمدنی معمار بننا ہو تو اس کے لیے سب سے بڑھ کر اپنی ذات کی تعمیر ضروری ہے ۔ اگرچہ اپنی ذات کی تعمیر کوئی ایسی ضروری چیز نہیں ہے کہ جس میں آدمی گم ہوجائے اور کھوجائے ‘ بلکہ رکنیت کا فارم بھر کے اور ضابطے کی کارروائی پوری کر کے ‘ کتابیں پڑھ کے اور کچھ اجتماعات میں حاضری دے کے جو رکنیت حاصل ہوتی ہے وہ رکنیت ہمارا مقصود نہیں ہے۔ مقصود تو رکنیت کا وہ تصور ہے کہ یہ ایک فریضہ ہے ‘ اوررکنیت کا یہ معیار مطلوب ہے کہ ارکان مثالی سیرت و کردار کے حامل ہوں تاکہ وہ تہذیبی و تمدنی معمار بن سکیں‘ اور انھیں عوام کی لیڈر شپ حاصل ہو سکے‘ یعنی اپنے اپنے دائرۂ اثر میں لوگوں کو اپنے پیچھے لے کر چل سکیں۔
اس سلسلے میں بھی چند بنیادی باتیں جاننے کی ضرورت ہے ۔
پہلی بات تویہ ہے کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہوں‘کہ ہماری ذات کی تعمیر صرف کسی اجتماعیت سے وابستہ ہو جانے سے ہو جائے گی تو میرا خیال ہے کہ یہ غلط فہمی ہوگی ۔ اگرچہ اپنی ذات کی تعمیر کے لیے اجتماعیت میں شمولیت بڑی ضروری اور ناگزیر ہے اور انسان کی ذات ایسی ہے کہ اجتماعیت کے سانچے میں آکر ہی اس کی تعمیر ممکن ہے‘ لیکن اجتماعیت ‘ وعظ و نصیحت ‘ درس و تقریراور کتاب اور لٹریچر‘ ان میں سے کوئی چیز بھی ذات کی تکمیل کے لیے کافی نہیں ہے ۔ یہ سب بھی موجود ہوں تو ذات کی تعمیر میں نقص اور کمی رہ سکتی ہے ۔ ذات کی تعمیر کے لیے سب سے بڑھ کراپنی کوشش اور عمل کی ضرورت ہے ۔ گویا کہ اپنے آپ کو خود سنبھالنا ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر فرد کو بے پناہ قوتیں اور صلاحیتیں بخشی ہیں۔ ہر نفس کے اندر اس نے اپنی روح پھونکی ہے‘ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ(صٓ۳۸:۷۲) ۔ہر ایک کو سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کی صلاحیتوں سے آراستہ کیا ہے ۔ ہر شخص کی ذات میں ایک دنیا مخفی ہے۔ان سب صلاحیتوں سے کام لینا ‘ ان کی تنظیم و تربیت کرنا ‘ ان کو پروان چڑھانا‘ اپنی ذات کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے ۔ ملک کا انتظام اور دنیا کی امامت سنبھالنے سے پہلے ‘ اپنی ذات کی امامت سنبھالنا اور اپنی ذات پر قابو پانا اور اس پر اللہ کی حاکمیت قائم کرنا ضروری ہے۔
ہماری ذات ہمارا کردار اور شخصیت کیسی بھی ہو‘ ہمارا نام ارکان کی فہرست میں دیکھ کر فیصلہ نہیں ہوگا‘ بلکہ اعمال نامہ دیکھ کر فیصلہ ہوگا ۔ اسی طرح ناظم کا اور شوریٰ کا فیصلہ بھی اس کی ترازو میں کوئی وزن نہ رکھے گا بلکہ اعمال کی شہادت ہی فیصلے کی اصل بنیاد ہوگی۔ اس حقیقت اور روح کو اگر آپ نے سمجھ لیا اور پا لیا ‘ تب ہی صحیح معنوں میں اپنی ذات کی تعمیر ہو سکے گی۔
اپنی ذات کی تعمیر و تربیت میں اگر صرف دو چیزوں پر خاص طور پر توجہ مرکوز رہے ‘ تو اس کے اندر ساری چیزیں سمٹ آتی ہیں۔
پہلی چیز ’للہیت ‘ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہے‘ یعنی جو کام کریں اللہ کے لیے کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ سب خرابیاں اخلاص کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح اعمال میں جو وزن پیدا ہوتا ہے وہ اخلاص کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں خلافت کا وعدہ بھی اخلاص کے ساتھ مشروط کیا ہے ۔ جہاں لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ (النور۲۴:۵۵۔ وہ انھیں زمین میں خلیفہ بنائے گا۔) کا وعدہ ہے وہاں یہ شرط بھی ہے: یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ(۲۴:۵۵- یعنی صرف میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں)۔ صرف اس صورت میں وہ ان کو زمین میں خلافت اور غلبۂ دین عطا کرے گا اور خوف کوامن سے بدل دے گا۔ یہ اللہ کے ساتھ تعلق اور اس کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگنے کا نتیجہ ہے۔ پھر بڑے بڑے عوامی ‘ سیاسی ‘ دعوتی اور تنظیمی کاموں میں بھی یہی رنگ آئے گا۔ صبغت اللّٰہ اللہ کا رنگ غالب آئے گا‘ اور ان میں سے ہر ایک تربیت کا ذریعہ بنے گا۔ دوسری صورت میں اجتماعات میں لوگ آئیں گے اوراٹھ کر چلے جائیں گے۔ خَرَجُوْا کَمَا دَخَلُوْا جس طرح داخل ہوئے تھے‘ اسی طرح نکل کے چلے جائیں گے۔ کوئی رنگ ان پہ نہیں چڑھے گا ‘ اور کوئی چیز ان کے دلوں میں نہیں اترے گی۔
دراصل للہیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور اخلاص کا نام ہے ۔ اس کے بغیر دین کا کوئی کام نہیں ہو سکتا اور اللہ کے ہاں قبول بھی نہیں ہوسکتا۔ مشہور حدیث ہے : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ،کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔ شہدا کی شہادت ‘ مال داروں کا انفاق اور قرآن کے عالموں کا درس‘ ان میں سے کوئی بھی چیز ان کو فائدہ نہیں دے گی اگراس کے ساتھ للہیت اوراخلاص نہ ہو۔ تحریک اسلامی سے وابستہ ہو کر جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں‘ اس سب کا ہماری ذات کے لیے آخرت میں اگر کوئی فائدہ ہے اور اگر دنیا میں بھی کوئی پھل ملے گا‘ تو وہ صرف للہیت اور اخلاص کی وجہ سے ملے گا‘ خواہ ہم رکن ہوں یا نہ ہوں۔
تعلّق باللّٰہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق تو ایک الگ موضوع ہے۔ مختصراً میں اس کا بھی تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ اس ضمن میں چند چیزیں جو مختلف جگہوں پرمختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہیں‘ ان میں سے صرف دو تین دعائیں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں تاکہ آپ کو یہ اندازہ ہو کہ کس قسم کا بندہ بننا مطلوب ہے۔ ایک دعا کے چند جملے ہیں:
رَبِّ اجْعَلْنِیْ لَکَ ذَکَّارًا ،میرے رب مجھے ایسا بنا دے کہ میں تجھے بہت یاد کروں۔
لَکَ شَکَّارًا ، اور بہت کثرت کے ساتھ اپنا شکر کرنے والا بنا دے۔
لَکَ رَھَّابًا ، تجھ سے بہت ڈرا کروں۔
لَکَ مِطْوَاعًا ، تیری بہت فرماں برداری کیا کروں۔
لَکَ مُخْبِتًا اِلَیْکَ اَوَّاھًا مُّنِیْبًا (ترمذی) تیرے آگے جھکا رہوں‘ اور آہ آہ کرتا ہوا تیری ہی طرف لوٹ آیا کروں۔
یہ ایک طویل دعا کا مختصر سا حصہ ہے ۔ اس میں آپ کے سامنے پوری تصویر کھینچ دی گئی ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیسا تعلق مطلوب و مقصود ہے۔
ایک اور بڑی جامع دعا ہے : اَللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ، اے اللہ تو میرے دل کو منافقت سے پاک کر دے‘ یعنی کہیں پر بھی دو رنگی نہ ہو ‘کہ زبان پر کچھ ہو‘ اورعمل کچھ اور ہو‘بلکہ یکسانیت ہو۔ وَعَمَلِیْ مِنَ الرِّیَا ، اورجو کام ہو اس کو ریا سے پاک کر دے‘ یعنی دکھاوے کے لیے نہ ہو۔ ہر کام میں صرف تیری رضا پر نظر ہو‘ اور صرف تیرے لیے کام کروں۔ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکَذِبِ اور زبان کو جھوٹ سے پاک کر دے۔ وَعَیْنِیْ مِنَ الْخَیَانَہِ اور میری آنکھ کو خیانت سے پاک کر دے۔
ایک اور مختصر سی دعا ہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الرِّضَا بِالْقَضَائِ وَبَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، (اے اللہ تو جو بھی فیصلہ کردے‘ اس پہ مجھے راضی رکھ ‘ اور موت کے بعد جو زندگی ہے اس زندگی کی لذت عطا کر)۔ گویا اصل مطلوب دنیا کی نعمتوں کی لذت نہیں بلکہ خدا کی رضا اورآخرت کی لذتیں ہیں۔ پھر فرمایا: وَلَذَّۃَ النَّظْرِ اِلٰی وَجْھِکَ الْکَرِیْمَ، (اور تیرے کریم چہرے کو دیکھنے کی لذت)۔ اس کے بھی دو معنی ہیں جو عام طور پر سمجھ میں نہیں آتے۔ ایک تو یہ ہے کہ آخرت میں تیرے چہرے پرنظر جمانے کی جو مجھے لذت ملنے والی ہے ‘ وہ مجھے عطا کر۔ لیکن آپ غور کریں تو اس کے ایک اورمعنی بھی ہیں‘ یعنی یہ کہ دنیا کے ہر کام میں ‘ تو اپنے چہرے پرنظر جما کے اپنی رضا طلب کرنے میں لذت پیدا کردے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کام جبراً نہ ہو‘ مارے باندھے کا نہ ہو۔کوئی توجہ دلائے ‘کوئی ترغیب دے یا بالائی نظم کی طرف سے ہدایت یاسرکلر آئے تو کام ہو‘ بلکہ تیری رضا کی طلب میں ہو‘ یعنی یہ کہ جو ہو بس اسی کے لیے ہو جائے اور اس میں لذت پیدا کردے۔ وَالشَّوْقَ اِلٰی لِقَائِکَ، اور تیری ملاقات کا شوق۔
یہ تین دعائیں میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں۔ ویسے تو بہت سی دعائیں ہیں۔ میں نے دعائوں کو اس لیے وسیلہ بنا لیا‘ کہ دعا دراصل اپنی دل کی پیاس کا نام ہے ۔ انسان وہی چیز مانگتا ہے جس کی ضرورت کا اسے احساس ہوتا ہے ۔ ان چھوٹی سی تین دعائوں میں وہ تمام باتیں بیان ہوگئی ہیںجو للہیت اور تعلق باللہ کے لیے ضروری ہیں اور جن کی پیاس ہونی چاہیے‘ بھوک ہونی چاہیے‘ طلب ہونی چاہیے‘ جستجو ہونی چاہیے۔
میں دو چیزوں میں تعمیر کردار کو سمیٹنا چاہ رہا تھا۔ ایک چیز’’ للہیت‘‘ اللہ کے ساتھ تعلق ہے‘ اور دوسری چیز مخلوق کے ساتھ عدل اور احسان کا سلوک ۔
ہمارے ایک مشہور مصنف کا قول ہے کہ ’’مخلوق کو ایذا نہ پہنچانا‘یہ ساری شریعت کی بنیاد ہے‘‘۔ حکم ہے کہ اگر تین آدمی ایک جگہ اکٹھے ہوں تو دو آدمی الگ ہو کر بات نہ کریں۔ بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کی ممانعت ہے۔ اسی طرح شادی‘ خاندان‘ تجارت‘ ریاست اور سیاست کے سارے اصول اسی بنیاد پر ہیں کہ کسی انسان کو کسی دوسرے انسان سے تکلیف نہ پہنچے ۔ حکم ہے کہ‘ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ‘ مال اور اس کی عزت مکمل طور پر حرام ہے۔ ہمارے معاشرے میں خون بہانے کی نوبت تو بہت کم آتی ہے‘ اورشاید کچھ لوگ دوسروں کا مال بھی جائز ناجائز طریقے سے کھالیں لیکن کسی دوسرے کی عزت پر دست درازی بڑی عام ہے‘ جب کہ اسلام میں برائی کے ایک ایک رخنے کو بند کر کے مسلمان کی عزت کو بحال کیا گیا ہے ۔
ایک تیسری بات بھی قابل غور ہے کہ تربیت کے لیے مصنوعی ذرائع کے بجاے فطری ذرائع پر انحصار کر نا چاہیے۔ تربیت کے لیے بڑے بڑے نصابوں اور تربیت گاہوں سے گزرنا بالکل ضروری نہیں ہے ۔ اگرچہ ان سب سے تربیت میں بڑی مدد ملتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ذرائع اہمیت کے حامل ہیں۔ تربیت کا فطری طریقہ یہ ہے کہ روز مرہ زندگی میں ان پہلوئوں پر توجہ مرکوز رہے ‘ یعنی کہیں کسی کو مجھ سے تکلیف نہ پہنچ جائے‘ کسی کا دل خوش کر دوں ‘ کسی سے مسکرا کے مل لوں‘ تو ان اعمال کی بنا پر بھی اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر سکتا ہے ۔ کسی کے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دی جائے تو اس پر بھی جنت مل سکتی ہے ۔ کسی کی زندگی میں کوئی آسانی پیدا کر دی جائے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا سکتی ہے اور اس کے قرب سے نواز سکتی ہے ۔ اسی طرح اس کے ذکر ‘ شکر اور خوف اور توبہ و استغفار کا معاملہ ہے۔ یہ سب چیزیں تربیت کا ذریعہ ہیں۔ اگرچہ روز مرہ کام ہی جاری رہیںگے‘ اورمعمول سے ہٹ کر کچھ نہ کرنا ہو گا‘ لیکن ان کے ذریعے سے ہر چیز میں وہ روح پیدا ہو جائے گی جو قلب کو آہستہ آہستہ صاف کرے گی‘ اس کو جلا بخشے گی اور کردار سازی کا ذریعہ ہوگی۔ ان سب باتوں کا تعلق ایک فرد کی ذات اورانفرادی تربیت سے ہے۔
تربیت کا دوسرا پہلو اجتماعیت سے متعلق ہے ‘ اور وہ یہ کہ ہماری اصل ذمہ داری ایک نئے تہذیب و تمدن کی تعمیر ہے۔ اسلامی تحریک اسی لیے وجود میں آئی ہے ۔ یہ سارے کام جن کا تذکرہ کیا گیا ہے یہ کسی خانقاہ میں بھی ہو سکتے ہیں‘ اور اس سے قبل ان کو کرنے والے خانقاہوں میں ہی پائے جاتے تھے۔ اسی طرح علمِ دین کسی مدرسے سے بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن اصل چیز جس کی وجہ سے ہم سب جمع ہوئے ہیں‘ اورجس نے ہمارا آپس میں تعلق قائم کیاہے ‘وہ اس کے علاوہ اورکیا ہے کہ ہم دنیا کے اندر اللہ کے دین کی بنیاد پرایک نئی تہذیب اور ایک نئے تمدن کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ امامتِ عالَم پر ہماری نظر ہے‘ جیسا کہ مکہ اورمدینہ میں بالکل بے بس و بے کس اورمظلوم انسانوں کے ذہن میں یہ بات تھی کہ عرب و عجم اور قیصر و کسریٰ کے خزانے اور ساری دنیا ہمارے قدموں میںہے۔ اسی لیے جیسے ہی وہ مدینہ سے نکلے تو ان کے ہاں یہ بحث نہیں چھڑی تھی کہ ہم سیاست میں پڑ گئے ہیں یا ہم فتوحات اور مالِ غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے ہیں‘ بلکہ اندلس کے ساحل تک پہنچ کر بھی یہی کہا گیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ اس کے آگے بھی کوئی اور زمین ہے تو ہم وہاں بھی اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ضرور پہنچ جاتے ۔یہ تحریک بھی دراصل اسی لیے بنی ہے‘ اور اسی لیے آپ اس کا حصہ ہیں۔ اگر یہ مقصد ذہن سے محو ہو جائے تو پھر یہ تعلق باللہ اور یہ ساری چیزیں اگرچہ بڑی عمدہ اوربڑی اچھی ہیں اور ان شاء اللہ یہ نجات میں بھی مدد دیں گی‘ لیکن یہ مطلوب نہیں ہے۔ مطلوب تو دراصل غلبۂ دین اور ایک نئے تہذیب و تمدن کی تعمیر ہے۔
ہماری تحریک کا بنیادی مقصد اوراہم ترین کام تہذیب و تمدن کی تعمیر ہے۔ اسی لیے ہمارے لٹریچر میں بار بار کہا گیا ہے کہ ہمیں قیادت کا منصب سنبھالنا ہے۔ ایک ایک علاقے کے عوام کو سنبھالنا ہے۔ آپ کی ذات عوام کا مرجع بن جائے‘ آپ تعمیر اقدار کے ساتھ ساتھ اجتماعی قیادت بھی سنبھالیں۔ آپ عوام کے لیڈر ہی نہیں‘ تہذیب و تمدن کے معمار بھی ہوں ‘ اور بہترین سیرت کے حامل بھی ہوں۔ اس کے لیے اسی معاشرے سے ہم کو ہر اُس قوت کو جمع کر لینا اور اپنے ساتھ ملانا ہے جو معاشرے کی تبدیلی اور تہذیب و تمدن کی تعمیر میں ہمارا ہاتھ بٹاسکے۔
تحریک اسلامی سے وابستہ یہ گروہ اس لیے بھی نہیں ہے کہ اپنی ذات میں گم ہو جائے‘ اور اپنی تعداد سے مطمئن ہو جائے کہ ہم نے طے شدہ تنظیمی کام کر لیے ہیں اور یہ کافی ہیں۔ دراصل وہ تمام لوگ جن تک یہ دعوت نہیں پہنچی ‘ وہ سب اس بات کے منتظر ہیں کہ ان تک یہ دعوت پہنچائی جائے۔ وہ قیامت کے روز ہمارا دامن پکڑ سکتے ہیں‘ یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ تمھارے پاس تو حق پہنچاتھا‘ مگر تم نے ہم تک اسے نہیں پہنچایا ‘ تم نے ہم کو اپنے دامن میں نہیں سمیٹا ‘ اوراپنے ساتھ لے کر دین کی راہ پر نہیں چلایا۔ یہ وہ چیز ہے جو سب سے اہم ہے ‘ اورجس کے لیے یہ تحریک برپا ہوئی ہے اور جس کے بغیر ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ۔
اس ضمن میں جو سب سے زیادہ کارگر چیز ہے وہ اخلاق حسنہ ہے ۔ کوئی اور چیز اتنی مؤثر نہیں ہو سکتی جتنا آپ کا اخلاق حسنہ ہوسکتا ہے ۔ جو کام اخلاق حسنہ کر سکتا ہے ‘ وہ کام نہ کتاب کر سکتی ہے ‘ نہ تقریر ‘ نہ وعظ اور نہ اجتماع ہی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہفتے میں دو دن سے زیادہ وعظ کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ آپؐ کا جمعے کا خطبہ بڑا مختصر ہوا کرتا تھا‘ نیز آپؐ جگہ جگہ تقاریر بھی نہیں کیا کرتے تھے۔ اگر میری بات کو غلط نہ سمجھا جائے اور میں قرآن کی اہمیت کو کسی طرح بھی کم نہیں کر رہا‘ اگر سیرت النبی ؐ کا جائزہ لیا جائے ‘ واقعات کو دیکھا جائے‘ تو جو لوگ قرآن سن کر یا پڑھ کر ایمان لائے‘ ان کی تعداد انگلیوں پہ گنی جا سکتی ہے‘ جب کہ وہ لوگ جو حاملِ کتاب کا اخلاق اور چہرہ دیکھ کر ایمان لے آئے ‘ وہ فوج در فوج تھے۔ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلمکا روشن چہرہ دیکھ کر ایمان لے آیا ‘ کوئی آپؐ کا دل نواز حسنِ اخلاق دیکھ کر متاثر ہو گیا‘ کسی نے آپؐ کی فیاضی دیکھی ‘ اور کسی کے سینے پہ آپؐنے ہاتھ رکھ دیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کر کے وہ آپؐکا گرویدہ ہو گیا۔ اس طرح بڑی تعداد میں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ یہی وہ لوگ تھے جن سے وہ قوت بنی جس نے اسپین سے لے کر چین تک اسلام کو غالب کر دیا۔
اگر آپ یہ چاہیں کہ معاشرے سے الگ تھلگ ہوکر اپنے تنظیمی کام میں مصروف رہیں‘ اورایک بڑی تعداد میں عام لوگ ‘ نوجوان ‘ طلبہ و طالبات ‘ مرد و خواتین آپؐ کے اس اخلاق کی ایک جھلک نہ دیکھ پائیں کہ جونبی کریمؐ کے پاس تھا ‘ تو پھر دعوت کا کام وسیع پیمانے پر اور اس مؤثر انداز میں نہیں ہو سکتا جو اس کا فطری تقاضا ہے۔
دعوت دین ‘ شہادت حق اور فریضہ اقامت دین کی بہ احسن ادایگی کے مزید کچھ اور تقاضے بھی ہیں‘ ان کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے‘ مثلاً: معاشرے میں دعوت کو قبول کرنے کی استعداد۔
تہذیب و تمدن کی تعمیر‘ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ معاشرے کے اندر ہوگی ‘ لہٰذا معاشرے کے اندر اس کی استعداد پیدا ہونا بھی ضروری ہے ۔ اس مقصد کے لیے دین کی بنیادی تعلیم ‘ اللہ سے محبت اور تعلق ‘ اور اللہ کے احکامات کی تعمیل کے لیے آمادگی ‘ یہ وہ چیزیں ہیں جو معاشرے کے اندر عام ہونی چاہییں۔ اس لیے ہمارا اوّلین فرض معاشرے کی تربیت کرنا ہے۔ عام انسانوں میں دین پھیلانا ہے ‘ ان کو تعلیم دینا ہے اور ان کی تربیت کرنا ہے۔
تعمیرمعاشرہ کے حوالے سے یہ بنیادی بات بھی ہمیشہ سامنے رہنی چاہیے کہ معاشرہ کبھی ایک سانچے میں نہیں ڈھل سکتا‘ تمام لوگوں میں کبھی ایک جیسی استعداد نہیں پیدا ہو سکتی ‘ اور کبھی بھی سب لوگ ایک معیار کے نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم چاہیں بھی تو سب کو ایک جیسا نہیں بنا سکتے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو متنوع اور مختلف سوچ وکردار کا حامل بنایا ہے ۔ پھر انسانوں کو ضعیف پیدا کیا گیا ہے: وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا o (النساء ۴:۲۸) ، لہٰذا وہ ضعف اور کمزوری کا شکار ہوگا۔ انسان کو عجلت پسند بھی بنایا گیا ہے ۔ وہ عجلت پسندی کا مظاہرہ بھی کرے گا۔ غرض انسان کا بہت سی کمزوریوں کا شکار ہونا فطری امر ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انھی انسانوں سے ہمیں وہ قوت فراہم کرنا ہے جس سے ہم معاشرے کی تعمیر کر سکیں اور ایک نئی تہذیب و تمدن کی بنیاد اٹھا سکیں۔ اس حقیقت کو اگر سامنے رکھا جائے تو پھر ہم ہر ایک سے کچھ نہ کچھ حاصل کرسکتے ہیں‘ اور ہر ایک کو کچھ نہ کچھ دے سکتے ہیں۔ اگر ہم ذروں کو جمع کر لیں تو پہاڑ بن جائے گا‘ اور قطرہ قطرہ دریا بن جائے گا۔ پھر یہی پہاڑ اور دریا بالآخر اس نظام کی حقانیت کو ثابت کردیں گے‘ اور اس سیلاب سے پوری دنیا کے اندر اس دین کو پھیلا دیں گے جس کو ہم نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہے۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ صرف ایک گروہ تیار کر لینے سے کام ہو جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔
میرا یہ نقطۂ نظر قرآن و حدیث اورسیرت کے مطالعے‘ سوچ ‘ فہم اور تجربے کی بنا پر ہے ۔ ممکن ہے کہ آپ کو میری اس بات سے اتفاق نہ ہو ‘ لیکن مجھے اس لیے کامل یقین ہے کہ جب تک ہم یہ صلاحیت نہیں پیدا کر یں گے کہ ہر قسم کے لوگوں کو ہمارے دامن میں پناہ ملے ‘ گناہ گار بھی آئیں اور وہ بھی ہم سے نرمی اورمحبت پائیں‘ اور ہم ان کو توبہ و استغفار کی تلقین کرسکیں اور وہ بھی ہمارے ساتھی بن سکیں‘ بے کس اور نادار آئیں وہ بھی ہمارے ساتھی بن سکیں___ اس وقت تک کوئی بڑی تبدیلی لانا ممکن نہیں ۔
دراصل یہ وہ چیز ہے جس سے ہم وہ قوت فراہم کر سکتے ہیں جو اس کام کو نتیجہ خیز اور پایۂ تکمیل تک پہنچا نے کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔ اس قوت کے حصول کے لیے بھی کچھ بنیادی اصول ہیں۔اس حوالے سے مختصراً دو تین چیزیں بیان کر دیتا ہوں۔
اس ضمن میںایک اہم اصول تیسیرِ دین کا ہے۔ تیسیر عربی کا لفظ ہے جس کے معنی آسان کرنا اور آسان بنانا کے ہیں۔ حضوؐر نے اس کی بہت نصیحت کی ہے۔ جہاں بھی لوگوں کو مبلغ اور داعی بنا کے بھیجا وہاں اور باتوں کے علاوہ یہ ضرور کہا کہ بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا ، یعنی دین اس طرح پیش کرو کہ لوگوں کو بشارت دو‘ آسانی دو تاکہ لوگ اسے قبول کریں اور ان کو متنفرمت کرنا۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ایک جگہ بہت واضح طور پر فرمایا ہے کہ نیکیاں تو ہم وہی قائم کریں گے جن کا اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے‘ برائیاں بھی وہی جڑ سے مٹائیں گے جو اللہ اور رسولؐ نے بتائی ہیں‘ لیکن ہم اس میں تقدیم و تاخیر کرسکتے ہیں۔ البتہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کن نیکیوں کو ہم پہلے کریں گے اور کن کو بعد میں ‘کن برائیوں کو پہلے مٹائیں گے اورکن کو بعد میں ‘یہ فیصلہ ہم اپنے حالات اور اپنی قوم کی نفسیات کو دیکھ کر ہی کریں گے۔ اگر مریض کی نبض پر ہاتھ رکھے بغیر‘ اور نفسیات کو جانے بغیر ہر ایک کو ایک ہی دوا دی جائے تو وہ غیرمؤثر ہوجائے گی۔ اسی طرح لوگوں کے مزاج کو جانے بغیر اگر عمل کی ترغیب دی جائے تو وہ اس پر عمل پیرا نہ ہوں گے۔
تنظیم کے حوالے سے میں دو باتیں کہنا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ جان دار تنظیم وہ نہیں ہے جہاں سارا کام سرکلروں اور بالائی نظم کے حکم پر چلتا ہو۔ روداد جماعت اسلامی حصہ اوّل میں سیدمودودیؒ کے یہ الفاظ بڑے غور طلب ہیں: ’’اصل میں تنظیم وہ ہے جو اُوپر کی ہدایات کے انتظار میں نہ ہو‘ بلکہ اصول و ضوابط معلوم ہوں‘ اور کوئی کہے یا نہ کہے لوگ خود صحیح فیصلے کر کے اپنا کام کریں‘‘۔ جب ہر جگہ اس کی ضرورت پڑے کہ کوئی توجہ دلائے اور آگے بڑھائے تو کام ہو ‘ تو یہ کوئی مؤثر تنظیم نہ ہوگی۔ اصل جان دار تنظیم تو وہی ہو گی کہ کسی بڑے سے بڑے معرکے میں اگر صرف ایک پلٹن بھی میدان جنگ میں ہو تو اس کو معلوم ہو کہ اسے کیا کرنا ہے ۔ اگر کسی کمانڈر انچیف سے اس کا رابطہ نہ بھی ہو ‘ تو پھر بھی وہ اپنی لڑائی لڑے ۔ اس کو یہ معلوم ہو کہ کس طرح لڑنا ہے ‘ کہاں سے آگے بڑھنا ہے ‘ اور کیا حکمت عملی اپنانی ہے۔ اس کے مقابلے میں جو پلٹن ہمیشہ اس بات کی منتظر رہے کہ وائرلس پر حکم آئے گا تو لڑیں گے ‘ وہ پلٹن کسی بڑی جنگ میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ اگر تنظیم سازی اور تربیت میں اس اصول کو پیش نظر رکھا جائے کہ لوگ از خود کام کریں‘ بغیر اس کے کہ اوپر سے کوئی کہے یا توجہ دلائے۔ نیز ان ضوابط کی حدود میں رہیں جو ضوابط کام کرنے کے لیے متعین ہیں‘ تو اس سے بہت فائدہ ہو گا۔ ایسی تنظیم ایک مؤثر تنظیم کی طرح آگے بڑھ سکتی ہے۔
یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ تنظیم ازخود کوئی مقصد یا مطلوب نہیں ہے۔ اگر تحریک کے وسائل اور انسانوں کا بڑا حصہ تنظیم پر صَرف ہونے لگے ‘ تو اس کے معنی ہیں کہ کہیں کوئی نہ کوئی خرابی ہے ۔ اس لیے کہ اصل کام تو دعوت و تربیت ‘ عوام کو تیار کرنا‘ منظم کرنا اور ان تک بات پہنچانا ہے۔ تنظیم تو اس کا ایک ذریعہ ہے ۔ اگر ذریعہ ہی وسائل کا بڑا حصہ کھانا شروع کردے اور زیادہ تر وسائل اسی پر کھپنا شروع ہو جائیں تو یہ سرا سر خسارے کا سودا ہے ۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ اگر مسجد بنانے میں ہی سارا مال اور سب کچھ لگ جائے اورنماز پڑھنے کی فرصت ہی نہ ہو تو پھر مسجد بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ حالانکہ مسجد تو بڑی محترم و مقدس جگہ ہے ۔ لہٰذا یہ وہ پہلو ہے جو تنظیم کے بارے میں سامنے رکھنا بہت ضروری ہے کہ تنظیم دعوت کے کام اور اصل اہداف کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے ‘ وسائل کا بڑا حصہ اس حوالے سے صرف ہو‘ نہ کہ تنظیم کو برقرار رکھنے میں۔
ایک اور اہم بات جو کام کرتے وقت سامنے رکھنے کی ضرورت ہے‘ وہ یہ کہ تدبیر اور حکمت عملی ایک چیز ہے اور اصول ایک دوسری چیز ۔ اس اصول کو سامنے رکھیں کہ زمانے اورحالات کے ساتھ ‘ اگر تحریک میں اتنی اہلیت نہ ہو ‘ اتنی قوت اور دماغی صلاحیت نہ ہو کہ اپنی سوچ ‘حکمت عملی اور تدابیر کو حالات کے لحاظ سے بدل سکے تو پھر مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں اس کی مثال ایک ایسے عطار کی ہو گی جس کے پاس نسخوں کی ایک کتاب ہو اور وہ اس کتاب سے ہر ایک کو ایک ہی نسخہ بنا کر دے رہا ہو ‘ یہ جانے بغیر کہ مرض کیا ہے ‘ اس کی حالت کیا ہے ‘ کن مسائل کا اسے سامنا ہے ‘ کس مریض کو کس چیز سے پرہیز کرانا ہے‘ اورکس کو کس دوا سے فائدہ ہوگا‘ اگرچہ بظاہر مرض ایک ہی نظر آتا ہو۔ ایک ایسے عطار کی طرح جو حکمت سے خالی ہو اگر اسلامی تحریک بھی ہر قسم کے حالات میں ایک ہی حکمت عملی پر عمل پیرا رہے تو وہ دین کے کام کو آگے نہیں بڑھا سکتی۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: جماعت اسلامی ، حکمت عملی اور لائحہ عمل‘ ترتیب : خرم مراد‘ ترجمان القرآن‘ جنوری ۱۹۹۳ئ)
غور کیجیے کہ حکمت اور حُکم دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں‘ دونوں کا ایک ہی مادہ ہے ‘ یعنی ح ‘ ک ‘ م۔ حکمت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریمؐ نے جہاں کتاب کی تعلیم دی وہاں حکمت کی تعلیم بھی دی۔ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴) ’’وہ ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے ‘‘۔ میرے نزدیک یہاں کتاب کے معنی احکام کے ہیں‘ اور حکمت کے معنی دراصل ان احکام کو نافذ کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے جس سمجھ بوجھ اورفہم کی ضرورت ہے اس کے ہیں۔ حکمت کے بغیر صرف احکام سے کام نہیں کیا جا سکتا ‘ حکمتِ دین کا فہم ناگزیر ہے۔ لہٰذا اپنی تدبیر اورحکمت عملی میں تغیر و تبدل کی قدرت اور استطاعت رکھنا‘ یہ وہ چیز ہے جس کی دعوت دین اوراقامت دین کے فریضے کی ادایگی کے لیے ہر لمحے ضرورت پڑتی ہے۔
اس کام کو کرتے ہوئے ایک بنیادی بات اضطراب اور بے چینی کا پیدا ہونا ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کو مزید بہتر انداز میں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف جائزے میں لکھ دیا جائے کہ ہم کو کام بہتر سے بہتر انداز میں کرنا چاہیے‘ بلکہ واقعتاً ایک اضطراب اور بے چینی پائی جانی چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بہتر ہونا چاہیے ۔ اگر یہ احساس نہیں پایا جاتا اور یہ سوچ پیدا ہوجائے کہ جو کچھ ہو رہا ہے‘ ٹھیک ہو رہاہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی منزل اور اپنے مقصد سے غافل ہیں اور ہمیں کوئی احساس نہیں ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جو عظیم الشان مقصد ہمارے پیشِ نظر ہے اور اللہ نے اقامتِ دین کی جو ذمہ داری ہمارے کاندھوں پر ڈالی ہے ‘ اس کو بخوبی نبھانے اور اس کا حق ادا کرنے کے لیے بہت کچھ سوچنے‘ مضطرب اور بے چین رہنے کی ضرورت ہے ۔ نبی کریمؐ کس قدر مضطرب رہتے تھے‘ اس کی عکاسی اس آیت قرآنی سے ہوتی ہے: فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا o (الکھف ۱۸:۶)‘ گویا آپؐ اپنا گلہ گھونٹ ڈالیں گے اس بات کے پیچھے کہ سب لوگ مومن ہو جائیں ‘ اور سب لوگ ہمارے ساتھ آجائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے ۔ اس میں نہ کوئی ڈانٹ ہے اورنہ کوئی تنبیہہ ‘ بلکہ بڑی محبت اور شفقت کے ساتھ توجہ دلائی گئی ہے۔ حضوؐر کی بے پناہ خواہش تھی اور وہ چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح لوگ اسلام قبول کر لیں ۔ اس کے لیے آپؐ بڑی تگ و دو کرتے تھے‘ اور مضطرب رہتے تھے ۔ آپؐ کے اسی اضطراب کی بنا پر حضوؐرکو مخاطب ہوکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ تم چاہو تو سیڑھی لگا کے آسمان پہ چڑھ جائو‘ اور سرنگ کھود کے زمین میں گھس جائو‘ لیکن سب لوگ تمھاری بات ماننے والے نہیں ہیں‘‘۔ یہ بھی کوئی تنبیہہ نہیں ہے بلکہ حضوؐر کی جو قلبی کیفیت تھی‘ آپؐ کی جو نفسیات ‘ اور آپؐ میں جو اضطراب اور بے چینی تھی‘ دل کی گہرائیوں سے آپؐ کی جو تڑپ تھی کہ لوگ میری بات مان جائیں اور نجات پا لیں‘ یہ اس کی عکاسی ہے‘ اور بڑی خوب صورت عکاسی ہے۔ یہ ایک داعی کے اضطراب کی بہترین مثال ہے۔
اس راہ میں قناعت ایک کینسر کی مانند ہے ‘ جب کہ اضطراب اور بے چینی وہ اصل قوت ہے‘ جس سے کام آگے بڑھتا ہے۔ اسی لیے حضوؐر کو حمد کے ساتھ استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ۔ لوگ جب فوج در فوج دین میں داخل ہو رہے تھے تو فرمایا: فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ ط (النصر ۱۱۰:۳) ’’پس آپ اپنے رب کی حمد کیجیے اور اس سے مغفرت مانگیے‘‘۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے رب کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی ‘ حق کی راہ دکھائی ‘ اس راہ پر چلایا‘ اس کا شعور بخشا اور اس کے لیے اضطراب اور بے چینی سے نوازا۔ یہ کوئی کم نعمت نہیں بلکہ بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن جتنی بڑی نعمت ہے اس کا اتنا ہی بڑا حق ہے۔ اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ اسی طرح جہاں شکر کرنے کی ضرورت ہے وہاں استغفار بھی کیجیے کہ جو حق ہے وہ ادا نہیں ہورہا‘ اور اس راہ میں کوئی کمی کو تاہی ہو تو اسے اللہ معاف کر دے۔
اس کے ساتھ ساتھ اس کام کے کرنے پر کبھی اپنے اوپر یہ زعم نہ کیجیے کہ یہ کام ہمارے کرنے سے ہو گا۔ اس لیے کہ اللہ کو زعم بڑا نا پسند ہے۔ اس سے سارا کام غارت ہو جاتا ہے۔ اللہ کو تواضع اورانکساری پسند ہے ۔ کام تو اللہ کے کرنے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضوؐر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ غزوہ بدر میں تم نے انھیں نہیں قتل کیا بلکہ ان کو اللہ نے قتل کیا‘ اور تم نے وہ مٹھی بھر خاک نہیں پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔ گویا جو کام بھی ہو گا وہ اللہ کے کرنے سے ہوگا۔ اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ ماشاء اللّٰہ ولا قوۃ الا باللّٰہ،جو وہ چاہتا ہے وہی ہو گا۔ قوت اس کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا ہماری یہ سوچ ہونی چاہیے کہ دعوت دینے سے کسی کادل نہیں بدلے گا ‘ ہمارے کام کرنے سے کام نہیں ہوگا‘ بلکہ جو کچھ ہو گا اللہ کے کرنے سے ہوگا۔ اگر اضطراب اور بے چینی بھی ہوگی کہ ہم زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھا کام کریں ‘ نئی سے نئی تدابیر اختیار کریں‘ اور ساتھ ہی اپنے اوپر زعم نہ ہو کہ یہ کام ہمارے کرنے سے ہو گا‘ تو اس کے نتیجے میں تواضع و انکساری اور عاجزی بھی پیدا ہوگی۔
تحریکِ اسلامی اور رکنیت اور اس کے تقاضوں سے متعلق یہ چند باتیں ہیں۔ ان سے اختلافِ راے بھی ہو سکتا ہے ‘ مگر جو باتیں اچھی لگیں‘ ان کو قبول کر لیں اور ان پر عمل کیا جا سکے تو ضرور کیجیے۔ خدا ہمیں عہد رکنیت اور اس کے تقاضوں کو بخوبی پورا کرنے اور فریضۂ اقامتِ دین کو احسن انداز میں ادا کرنے کی توفیق دے ۔ آمین! (کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)
(کچھ حصے حذف کیے گئے ہیں۔ مکمل متن کتابچے میں دستیاب ہے۔ تحریک اور رکنیت‘ منشورات‘ منصورہ‘لاہور)
دعوت کے اس سال اور تذکار سیرتؐ کے اس مہینے میں ہم قرآن کی روشنی میں حیاتِ طیبہؐ میں دعوت کے مقام کی اہمیت پر محترم خرم مراد کا ایک منفرد مطالعہ پیش کر رہے ہیں۔ دعوتِ دین کا کام کرنے والے ہر فرد کے لیے اس میں عملی رہنمائی ہے۔ (ادارہ)
مقام دعوت سے آپؐ کے قلب و ذہن کا تعلق‘ اس کی عظمت اور ذمہ داری کا احساس‘ اس کے لیے آپؐ کی لگن‘ اس کے لیے اپنی علمی‘ روحانی‘ اخلاقی اور عملی تیاری اور اس راہ میں آپؐ کی نفسیاتی کیفیات کا ایک وسیع اور اہم موضوع ہے‘ جس پر قرآن مجید نے روشنی ڈالی ہے۔ ہم صرف چند موتی ہی چن سکتے ہیں۔
دعوت الی اللہ‘ شہادت حق اور اقامت دین کا مقام اور کام‘ جو وحیِ الٰہی کی امانت کا لازمی نتیجہ ہے‘ بڑا نازک اور گراں بار کام ہے۔ ہر اس شخص کے لیے ہے‘ جس پر یہ ذمہ داری آتی ہو۔ لیکن جو سالار قافلہ ہو اس کے لیے اس عظیم ذمہ داری کے بوجھ کا کیا ٹھکانا۔
کوئی بھی اگر اس کو ایک مشغلے اور ایک پیشے کی طرح یا ماحول کے دبائو یا صرف اپنی اندرونی کیفیات کی تسکین کی خاطر اٹھائے تو اس کا صحیح حق ادا نہیں کر سکتا‘ جب تک وہ اس کو اپنے رب کی طرف سے عائد کردہ فرض نہ سمجھے۔ اس لیے کہ یہ راہ کٹھن ہے اور اس کے مطالبات نازک‘ اور سب سے زیادہ قائد کے لیے۔ اس کو‘ سب سے بڑھ کر‘ اس راہ میں مکمل بے نفسی‘ بے غرضی‘ خلوص اور للّٰہیت درکار ہے۔ اس کو انتہائی اعلٰی اخلاق کی ضرورت ہے۔ لازم ہے کہ وہ مخالفتوں کے طوفان میں صبر و ثبات پر قائم رہے۔ کامیابی کے مادی امکانات معدوم ہونے کے باوجود اپنے کام میں لگا رہے۔ برائی کا جواب بھلائی سے دے۔ گالیوں اور کانٹوں کے درمیان مسکراہٹ کے ساتھ گزر جائے‘ پتھر کھا کر ہدایت کی دعا دے۔ مخالفین تک کے ساتھ طنز و استہزا اور تذلیل و تحقیر کی روش اختیار نہ کرے۔ کمزور اور ناتواں ساتھیوں کو لے کر دشوار گزار مراحل سے گزرنے کا حوصلہ و ہمت رکھے۔ اپنوں کے ستم بھی خاموشی کے ساتھ سہہ لے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی ذمہ داری پر فائز ہونے کے احساسات کے ساتھ کبر اور پندارِ نفس اور تنگ نظری کے فتنوں سے بھی خود کو محفوظ رکھے۔ گویا اس کے اخلاق‘ مجسم قرآن ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی معراج پر پہنچے ہوئے تھے۔ طائف کی کٹھن وادی سے کامیابی کے ساتھ گزر جانے کے بعد ہی آپ کو آسمان کی بلندیوں پر لے جایا گیا۔ عرب و عجم آپؐ کے قدموں پر ڈال دیئے گئے۔
حضوؐر کو اس بات میں کیا شبہہ ہو سکتا تھا کہ آپؐ کو یہ کام اللہ کی طرف سے سپرد ہوا ہے اور جو کچھ آپؐ کر رہے ہیں وہ اللہ کا کام ہے۔ ایسا کوئی شبہہ آپؐ کو لاحق نہیں ہوا۔ اس معاملے میں آپؐ کے یقین کی کیفیت بالکل منفرد تھی‘ اور اس کا کوئی حصہ بھی‘ میرے خیال میں‘ کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آپؐ سے کلام کرتا تھا۔ جبریل ؑ آپؐ کے پاس تشریف لاتے تھے اور وحی آپؐ کے قلب مبارک پر نازل ہوتی تھی۔ ہم امتیوں کا حصہ تو بس اتنا ہی ہے جو ہم قرآن کے ان الفاظ پر یقین کی کیفیت سے حاصل کریں اور یہ ہمارے لیے کافی ہے‘ اگر کماحقہ ہمیں حاصل ہو:
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ (البقرہ ۲: ۱۴۳) اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ’اُمت وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ (الصف۶۱: ۱۴) اے لوگو‘ جو ایمان لائے ہو‘ اللہ کے مددگار بنو۔
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَـہٗٓ (البقرہ ۲: ۲۴۵) تم میں کون ہے جو اللہ کو قرضِ حَسن دے‘ تا کہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے۔
قرآن میں جہاں حضوؐر کو مخاطب کر کے فَلَا تَکُن مِنَ الْمُمْتَرِیْن(شک کرنے والے نہ ہو جائو) کہا گیا‘ تو اوّل تو خطاب کے پردے میں عتاب کا رخ مخالفین کی طرف ہے۔ دوم یہ‘ کہ اس کیفیت کا اظہار ہے جو اس وقت طاری ہوتی ہے‘ جب کسی کو اپنی آنکھوں سے نظر آ رہا ہو کہ سورج نکلا ہوا ہے اور سارے دیدئہ بینا رکھنے والے اس کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے میں مصروف ہوں اور‘ وہ سوچے کہ آخر ان کو کیا ہو گیا ہے!
آپؐ نے سارا کام اسی احساس و یقین کے ساتھ سرانجام دیا کہ یہ اللہ کا کام ہے۔ قرآن جب اترتا تو اکثر اس یقین کو گہرا کرنے کے لیے وضاحت و صراحت سے کام لیتا: یہ رب العالمین کی طرف سے اتر رہا ہے‘ آپؐ حق پر ہیں‘ آپؐ صراط مستقیم پر ہیں‘ آپؐ مرسلین میں سے ہیں۔ اس طرح آپؐ کے ساتھ ساتھ‘ صحابہ کرامؓ کی کیفیت ِیقین میں بھی اضافہ ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس چیز کی یاد دہانی سے کسی لمحہ بھی نہ غفلت برتی جا سکتی ہے نہ فارغ ہوا جا سکتا ہے۔ اور اگر یہ احساس کمزور ہوتا تو خرابیاں سر اٹھاتیں۔ اور جب ایمان و احساس کمزور ہوتا ہے تو پھر خرابیاں ضرور سر اٹھاتی ہیں۔ اگر آپؐ کے کردار کو کسی ایک لفظ سے ظاہر کرنا مقصود ہو تو وہ ’صبر‘ کا لفظ ہو سکتا ہے‘ محدود معنوں میں نہیں بلکہ اپنے گوناگوں جامع معانی میں۔ اور آپؐ کا یہ سارا صبر اپنے رب کی خاطر تھا۔ اس لیے کہ کام بھی اسی کی خاطر تھا:
وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ o (المدثر۷۴:۷) اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔
اس ضمن میں ایک اور اہم کیفیت تھی جو آپؐ پر طاری رہتی تھی۔ وہ یہ کہ آپؐ یہ سارا کام اس مالک کی نگاہوں کے سامنے کر رہے ہیں جس نے اس کام پر مامور کیا ہے۔ وہ ساتھ ہے سب کچھ سُن رہا ہے‘ دیکھ رہا ہے‘ وہ بھی جو مخالفین کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں‘ اور وہ بھی جو ساتھیوں کی طرف سے ہے‘ اور وہ بھی جو میں کہہ رہا ہوں اور کر رہا ہوں:
وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُـنِنَا (الطور۵۲: ۴۸) اے نبیؐ، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو‘ تم ہماری نگاہ میں ہو۔
اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰی o (طٰہٰ ۲۰: ۴۶) میں تمھارے ساتھ ہوں‘ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔
وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط (الحدید۵۷: ۴) تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمھارے ساتھ ہے۔
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْـدِo (ق ۵۰: ۱۶) اور ہم شاہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
غرض‘ دو ہوں تو تیسرا وہ ہے (التوبہ ۹:۴۰)۔ تین ہوں تو چوتھا وہ ہے۔ کم ہوں یا زیادہ‘ تو بھی وہ ساتھ ہے (المجادلہ۵۸: ۷)۔ اس کیفیت میں دو خزانے مستور ہیں: ایک خزانہ توسکون‘ طمانیت‘ اعتماد‘ توکّل‘ جرأت‘ بے خوفی‘ ولولہ‘ جوش اور ہر لمحہ تازگی اور شادابی کا خزانہ ہے۔ غارِ ثور اس کی ایک مثال ہے۔ پوری سیرت طیبہ ان واقعات سے بھری ہوئی ہے جو ان کیفیات پر گواہ ہیں۔ ۲۳ سال میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جب آپؐ پر تھکن‘ یعنی ذہنی و نفسیاتی تھکن طاری ہوئی ہو‘ جب اکتاہٹ طاری ہوئی ہو‘ جب جوش و ولولے میں کمی آئی ہو‘ یا جب حوصلے پست ہوئے ہوں۔
اور دوسرا خزانہ‘ ذمہ داری کی عظمت و نزاکت کے احساس کا خزانہ ہے۔ جس کا کام کررہے ہیں اور جس کو اپنا کام دکھانا ہے‘ جب وہ کام کرتے ہوئے دیکھ رہا ہو تو قلب و ذہن احساس ذمہ داری سے کس طرح خالی ہو سکتے ہیں۔ اور جتنا زیادہ اس کی عظمت و کبریائی کا احساس ہو گا‘ اتنا ہی زیادہ اس کے کام کی عظمت کا احساس ہو گا۔
کام کی عظمت‘ منصب کی نزاکت اور ذمہ داری کی گراں باری سے آپؐ ہمیشہ معمور رہے۔ وحی آئی تو لرز گئے‘ کانپ گئے۔ یہ کپکپاہٹ اور لرزش دل پر بھی تھی اور جسم بھی اس میں شریک تھا۔ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے تو زَمِّلُوْنِیْ(مجھے چادر اوڑھا دو) کہتے ہوئے آئے۔ قرآن نے شروع میں ہی یاایھا المزمل اور یاایھا المدثر کہہ کر خطاب کیا تو اور دوسری کیفیات کے ساتھ اس کیفیت کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ایک عظیم الشان کام درپیش ہے۔ اس کی ہیبت طاری ہے۔ گھٹاٹوپ اندھیرے میں نور کی ایک کرن ہے جس سے روشنی کا سامان کرنا ہے۔ ایک پکار ہے‘ الفاظ پر مشتمل‘ جس سے سارے سوتوں کو جگانا ہے۔ ایک چھوٹا سا بیج ہے جس کی آبیاری کر کے ایسے درخت میں تبدیل کرنا ہے جس کی جڑیں ثابت ہوں اور شاخیں آسمان کو چھورہی ہوں جو سدابہار ہو اور جس کے پھلوں اور سایے سے قافلے کے قافلے نفع اندوز ہوں۔ چنانچہ بے چینی کی جو کیفیت تھی‘ اضطراب کا جو عالم تھا‘ ذمہ داری کا جو پہاڑ نظر آ رہا تھا‘ اپنی چادر میں لپٹ جانے کی کیفیت سے قرآن نے ان سب کی عکاسی کر دی۔
ساتھ ہی آپؐ نے یہ بھی سمجھ لیا کہ دعوت حق کے معنی اور اس کی قیادت کی ذمہ داری کا مطلب یہ ہے کہ پائوں پھیلا کر سونے کا زمانہ گزر گیا۔ اپنی ذات تک سمٹ جانے کا دور گیا۔ اب تو کمربستہ ہو کر خود کو تیار کرنا ہے اور مسلسل کرتے رہنا ہے۔ اور کھڑے ہو کر‘ میدان کارزار میں کود کر‘ ساری دنیا کو آگاہ اور خبردار کر دینے اور رب کی کبریائی قائم کرنے کی جدوجہد میں لگ جانا ہے اور لگا رہنا ہے۔
اقراء کا پیغام آپؐ کے لیے علم کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کا پیغام نہ تھا‘ بلکہ ایک قولِ ثقیل تھا جو اپنے دامن میں سنانے‘ دعوت دینے‘ ہجرت و جہاد کے مراحل طے کرنے کی ساری کٹھن وادیاں سمیٹے ہوئے تھا۔ وحی صرف اس لیے نہ تھی کہ پڑھیں اور ثواب حاصل کریں‘ بلکہ ذمہ داری کا ایک بوجھ تھا‘ ایسا بوجھ جو صرف معنوی ہی نہ تھا‘ بلکہ جسمانی بھی تھا۔ جب وحی آتی تو پیشانی مبارک پر پسینے کے قطرے نمودار ہوتے اور اگر آپؐ سوار ہوتے تو اونٹنی بیٹھ جاتی:
اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًاo (المزمّل ۷۳: ۵) ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔
آپؐ کے لیے یہ کام ایک مشغلہ نہ تھا‘ بلکہ ایک ایسا مشن تھا‘ ساری زندگی کا‘ جو ایسا لگتا تھا کہ آپؐ کی کمر توڑ ڈالے گا۔ جس کا بار صرف رحمت الٰہی کی دست گیری سے ہی کم ہوتا رہا:
وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ o الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ o (الم نشرح۹۴: ۲-۳) اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار دیا جو تمھاری کمر توڑے ڈال رہا تھا۔
شہادت حق کی ذمہ داری سے آپؐ کا قلب مبارک اتنا گراں بار تھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت کے مطابق: ایک مرتبہ حضورؐ نے ان سے تلاوت قرآن کی فرمایش کی۔ پہلے تو وہ ہچکچائے کہ میں اور مہبط وحی کو قرآن سنائوں۔ جب آپؐ نے اصرار کیا‘ تو انھوں نے سورۃ النساء کی چند آیات تلاوت کیں۔ جب وہ ان آیات پر پہنچے: فکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَّجِئْنَابِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًاo (النساء ۴: ۴۱) ’’پھر سوچو کہ اس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمھیں (یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے‘‘۔ تو آواز آئی: ’’عبداللہ بس کرو!‘‘ کہتے ہیں کہ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
کام کی عظمت اور ذمہ داری کے احساس کا نتیجہ یہ تھا کہ دعوت و تحریک کی حیثیت آپؐ کے لیے ایک لبادے کی نہ تھی جو اوپر سے اوڑھ لیا ہو بلکہ یہ دل کی لگن بن گئی تھی۔ اس نے نہاں خانہ روح میں جگہ بنا لی تھی۔ یہ گہرائیوں میں اتر گئی تھی۔ اس کی دُھن آپؐ پر ہر وقت سوار تھی۔ صبح شام یہی ذکر تھا‘ یہی فکر تھی‘ یہی مشغلہ تھا اور یہ کیفیت ہر اس چیز کے لیے تھی جو اس مقصد کا تقاضا ہو۔ لیکن سب سے بڑھ کر دعوت کے لیے تھی۔ دل میں ایک سوز تھا۔ ایک خیر خواہی کا چشمہ ابل رہا تھا کہ لوگ ہدایت پائیں‘ حق تک پہنچ جائیں‘ صحیح راہ سے لگ جائیں۔ آپؐ کی اس کیفیت‘ لگن اور اضطراب کی تصویر قرآن مجید نے یوں کھینچی ہے:
لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ o (الشعرا ۲۶: ۳) اے نبیؐ،شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
اس دُھن اور سوز میں آپؐ اپنے آپ کو ہلاک کیے دے رہے تھے۔ ہدایت کے لیے اس نوعیت کی تڑپ کے بغیر کوئی دوسری اجتماعی تحریک چل سکتی ہو گی‘ مگر اسلامی تحریک کا چلنا بڑا مشکل ہے۔
آپؐ کی اسی حالت کے پیشِ نظر قرآن کو بار بار آپؐ کا دامن تھامنا پڑا۔ سمجھانا پڑا کہ آپؐ کے بس میں ہر ایک کو نعمتِ ایمان سے فیض یاب کرنا نہیں۔ آپؐ کو داروغہ‘ وکیل‘ فیلڈ مارشل بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ آپؐ کی بنیادی ذمہ داری‘ پہنچانا ہے۔ ماننا یا نہ ماننا‘ ہر انسان کا اپنا فعل ہے۔ اس کو راہِ زندگی منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
قرآن کی ہر اس نوعیت کی آیت دراصل آپؐ کی لگن کو بھی ظاہر کرتی ہے اور داعیِ حق کے مقام کو بھی واضح کرتی ہے اور معلم کو اس کی حدود بھی بتاتی ہے:
اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَھْدِی الْعُمْیَ وَمَنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍo (الزخرف ۴۳: ۴۰ ) اب کیا اے نبیؐ‘ تم بہروں کو سنائو گے؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھائو گے؟
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَـآئُ ج (القصص ۲۸: ۵۶) اے نبیؐ ،تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے‘ مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
اِن تَحْرِصْ عَلٰی ھُدٰھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ (النحل۱۶: ۳۷) اے نبیؐ، تم چاہے ان کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو‘ مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا۔
وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَھُوْ الْحَقُّ ط قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍo (الانعام۶: ۶۶)
تمھاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے۔ حالانکہ وہ حقیقت ہے۔ اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں پہلے دن سے قرآن مجید کی تبلیغ اور دعوت و تحریک کا کام شروع کیا‘ اسی لمحے سے اپنی تیاری کا کام بھی شروع کیا۔ دل و نگاہ اور دامن کی پاکیزگی اور اخلاق کی بلندی یوں ہی حاصل نہیں ہوتیں--- طلب‘ محنت اور ریاضت کا تقاضا کرتی ہیں۔
قرآن اس ساری تیاری کا سرچشمہ تھا۔ وہ آپؐ ہی پر نازل ہو رہا تھا۔ آپؐ اس کو حاصل کرتے‘ اس پر تدبر کرتے‘ اس کا علم حاصل کرتے‘ اس کو نوکِ زبان کرتے اور حرزِ جاں بناتے‘ اس کو جذب کرتے اور اس کے سانچے میں ڈھل جاتے۔ ایک طرف تو آپؐ کی اپنی علمی‘ روحانی اور اخلاقی تیاری کے لیے یہ ناگزیر تھا‘ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا۔ دوسرے‘ آپؐ کی رسالت اور دعوت و تحریک کے فرائض کا مرکز و محور بھی یہی قرآن تھا: تلاوتِ آیات‘ تعلیمِ کتاب و حکمت‘ تزکیۂ نفس:
کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰـتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ o (البقرہ۲:۱۵۱) ہم نے تمھارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا‘ جو تمھیں ہماری آیات سناتا ہے‘ تمھاری زندگیوں کو سنوارتا ہے‘ تمھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘ اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔
لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ o (القیامۃ۷۵: ۱۶) اے نبیؐ، اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں: ’’اگرچہ شوق و محبت کا مضمون ادب کے پامال مضامین میں سے ہے لیکن اس محبت و بے قراری کی تعبیر کون کر سکتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت طاری ہوتی ہو گی جب ایک طویل وقفے کے انتظار کے بعد اور مخالفین کی ژاژخائیوں کے طوفان کے اندر حضرت جبریل امین اللہ تعالیٰ کے نامہ و پیام کے ساتھ نمودار ہوتے ہوں گے۔ ایک بچہ بھوکا ہو اور ماں اس کو چھاتی سے لگائے تو وہ چاہتا ہے کہ ماں کی چھاتی کا سارا دودھ ایک ہی سانس میں سڑپ لے۔ صحرا کا مسافر پیاس میں تڑپ رہا ہو اور طویل انتظار کے بعد اس کو پانی کا ڈول ہی مل جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ پورا ڈول ایک ہی دفعہ پیٹ میں انڈیل لینا چاہتا ہے۔ ایک فراق زدہ کو جدائی کی کٹھن گھڑیاں گزارنے کے بعد نامۂ محبوب مل جائے تو وہ چاہے گا کہ ایک ہی نظر میں اس کا ایک ایک حرف پڑھ ڈالے‘‘۔ (تدبر قرآن ‘ جلد ۸‘ ص ۵۸)
وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا o (طٰہٰ۲۰: ۱۱۴) اور دعا کرو کہ اے پروردگار‘ مجھے مزید علم عطاکر۔
دعوتِ اسلامی کے سامنے جو منزل ہے‘ وہ مکتب ِوحی میں تحصیل علم کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ کام خالی کھڑکھڑانے والے برتن سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ذہن و فکر کی بے پناہ صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ حکمت کا خزانہ درکار ہے۔ حضورؐ نے قرآن مجید سے ہی اس علم و حکمت کا حصول کیا‘ جس کی بنیاد پر آپؐ نے انسان کے لیے پورا نظامِ حیات مدوّن کر دیا۔ پھر نہ صرف آپؐ کے اندر علم کے لیے وہ شوق اور اضطراب تھا جو قائد کے لیے ضروری ہے‘ بلکہ اس معاملے میں رجوع‘ اللہ تعالیٰ کی طرف تھا‘ دعا اس سے تھی‘ بھروسا اور اعتماد صرف اسی پر تھا۔ اس لیے کہ علم کا سرچشمہ وہی ہے۔ پھر جیسے جیسے قرآن آپؐ کو ملتا گیا‘ آپؐ اس کو اپنے قلب و روح کی غذا بناتے گئے۔ اور قرآن کے تھوڑا تھوڑا نازل ہونے میں یہی حکمتِ الٰہی تھی۔ یہ زندگی میں ایک دفعہ کا تعلق نہ تھا۔ نہ یہ کہ جب موقع ملا تو ڈول اندر اتار لیا‘ خواہ جذب و ہضم کا کام ہو یا نہ ہو۔ غافل ہوئے تو مدتیں بیت گئیں۔
شروع میں حضوؐر بستر کا آرام چھوڑ کر رات کے بیش تر لمحات ہاتھ باندھ کر منزل قرآن کے سامنے کھڑے ہو جاتے‘ کبھی آدھی رات‘ کبھی اس سے زیادہ‘ کبھی اس سے کم‘ کبھی ایک تہائی‘ کبھی دو تہائی۔ اور قرآن کو آہستہ آہستہ‘ سوچ سمجھ کر‘ قلب و زبان کی ہم آہنگی کے ساتھ تلاوت فرماتے۔ قرآن کو جذب کرنے کا اس سے زیادہ موثر اور کوئی نسخہ نہیں ہے:
قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا o نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا o اَوْزِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا o ....اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْلِ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ (المزمل۷۳: ۲-۴‘ ۲۰) رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم‘ آدھی رات‘ یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو‘ اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔ اے نبیؐ ،تمھارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات‘ اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو۔
اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ ط (العنکبوت۲۹: ۴۵) اے نبیؐ ،تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمھاری طرف وحی کے ذریعے سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو۔
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِط اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا o وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ق عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا o (الاسراء ۱۷: ۷۸-۷۹) نماز قائم کرو زوالِ آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے۔ اور رات کو تہجد پڑھو‘ یہ تمھارے لیے نفل ہے۔ بعید نہیں کہ تمھارا رب تمھیں مقامِ محمود پر فائز کر دے۔
قرآن کے ساتھ نماز کا ذکر آگیا۔ ان دونوں کا رشتہ لاینفک ہے۔ اسی لیے میں یہیں یہ بھی کہہ دوں کہ نماز ہی آپؐ کا سب سے بڑا سہارا تھی۔ آپؐ اس کے ذریعے ہی مدد حاصل کرتے تھے اور جب کوئی امر آپؐ کو پریشان کرتا تو آپؐ نماز پڑھا کرتے تھے۔
قرآن اور نماز کے علاوہ آپؐ نے کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر‘ اس کی وحدانیت کا اقرار‘ اس کی تکبیر‘ اس کی تسبیح‘ اس کی حمد‘ اس کے شکر کو اختیار کیا۔ صبح شام‘ رات دن‘ ہر لمحہ اور ہر کام کے موقعے پر‘ نہ صرف دل کو مشغول کیا‘ بلکہ چھوٹے چھوٹے کلمات کے ذریعے ان احساسات و کیفیات کو الفاظ کا جامہ پہنایا‘ تعداد مقرر کی‘ اوقات کا تعین کیا‘ خود اس نظام کا اہتمام کیا۔ اپنے رفقا کو اس کی تاکید کی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا اظہار جماعت کی زندگی میں سمو دیا گیا۔
اسی طرح آپؐ نے ہر موقع اور ہر حالت اور ہر ضرورت کے لیے بڑی جامع‘ قلب و روح کے لیے نشاط انگیز‘ جذبات کے لیے پُرکشش دعائیں تجویز کیں اور ان کی تعلیم دی۔ خاص طور پر آپؐ نے استغفار کا اہتمام کیا‘ کہ اللہ کی عبادت اور اس سے دعا کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعوت کا بنیادی جزو ہے۔ آپؐ خود کثرت سے استغفار کرتے تھے اور اس طرح کرتے تھے کہ ساتھی جانتے تھے کہ آپؐ استغفار کر رہے ہیں۔ ہر نشست کے خاتمے پر‘ ہر مجلس کے دوران اس کا اہتمام تھا۔ بعض اصحاب نے آپؐ کو ۷۰ مرتبہ سے زیادہ استغفار کرتے دیکھا۔ آپؐ کے طریقے کی پیروی آپؐ کی جماعت نے بھی کی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے ساتھ عبدیت‘ اخلاص‘ محبت‘ شکر اور توکل جیسی صفات کا کامل ترین نمونہ تھے۔ اسی طرح آپؐ اس کی اطاعت میں بھی سب سے آگے تھے اور اس کی راہ میں اپنا سب کچھ لگا دینے میں پیش پیش۔ یہاں ان سارے پہلوئوں کی تفصیل کا موقع نہیں۔ اخلاق کا ایک عظیم خزانہ آپؐ کے پاس صبر کی صورت میں تھا۔ آپؐ کے سارے اخلاق تو ایک ایسا اتھاہ سمندر ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ صرف صبر کے ہی اتنے پہلو ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے۔ (مصنف کی کتاب: اسلامی قیادت: قرآن پاک کی روشنی میں سیرت پاک کا ایک منفرد مطالعہ کا ایک باب)
آج ___ جب کہ مغرب‘ مسلسل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طبل جنگ بجا رہا ہے‘ اور دنیا کو مستقبل میں اسلام اور مغرب کے درمیان ایک زبردست تہذیبی معرکہ برپا ہونے کی خبر دے رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی طرف سے اس جنگ کے لیے پوری تیاریاں بھی کر رہا ہے‘ اور جو کچھ پیش قدمی اس وقت کرنا ممکن ہیں‘ وہ بھی کر رہا ہے___ مسلمانوں کے لیے یہ سمجھنا بڑا ضروری ہے کہ وہ اصل مسئلہ کیا ہے جس کے گرد یہ تہذیبی جنگ لڑی جارہی ہے؟ اور اس جنگ میں فیصلہ کن حیثیت کس ایشو اور کس مسئلے کو حاصل ہے؟
شاید کم ہی لوگ ہوں گے جنھیں اس بات کا ادراک ہو‘ یا جو اسے آسانی سے تسلیم کرلیں‘ لیکن ہمیں اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ اصل اور فیصلہ کن ایشو اور مسئلہ رسالت محمدیؐ کی صداقت کا ایشواور مسئلہ ہے: ’’کیا محمدصلی اللہ علیہ وسلم‘ اللہ کے رسول ہیں؟‘‘
غارحرا میں پہلی وحی آنے کے بعد‘ روز اول سے یہی سوال نزاع و جدل کا اصل موضوع تھا‘ اور آج بھی یہی ہے۔ اس وقت بھی انسان اسی بات کے ماننے اور نہ ماننے پر دو کیمپوں میں تقسیم ہوگئے تھے‘ اور ان کے جواب نے قوموں کے مقدر اور تاریخ و تہذیب کے رخ کا فیصلہ کردیا تھا‘ آج بھی اسی سوال پر مستقبل کا مدار ہے۔ یہ کش مکش تو ازلی و ابدی ہے ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفویؐ سے شرار بولہبی
مغرب کے معاشی ‘ سیاسی اور اسٹرے ٹیجک مفادات کا مسئلہ بھی یقینا اہم ہے‘ تیل کے چشمے بھی اہم ہیں۔ اسی لیے مغربی قیادت نے عالمِ اسلام کے قلب میں اسرائیل کا خنجر گھونپا ہے‘ مسلمان حکمرانوں کو اپنا باج گزار بنایا ہے اور شرق اوسط میں فوجی اڈوں کا جال بچھا لیا ہے۔ مسلمان ملکوں کو کمزور اور بے طاقت کر رہا ہے‘ یا جن سے سرتابی کا شبہہ ہے ان کے گلے میں پھندا کس رہا ہے۔ لیکن مفادات کے تنازعات تو امریکا‘ یورپ‘ جاپان‘ چین اور روس کے درمیان بھی ہیں‘ ان کی بنا پر ان کے درمیان مستقل دشمنی اور ایک دوسرے کی بربادی کے مشورے اور منصوبے نہیں۔ دراصل مسئلہ مفادات کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ مفادات ان لوگوں اور علاقوں میں واقع ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہیں‘ اور آپؐ کے دین کے لیے مرنے کو زندگی سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔
تہذیبی ایشوز کا معاملہ بھی بہت اہم ہے۔ اسی لیے انسانی حقوق کی دہائی ہے‘ عورتوں کے مقام‘ ان کی خوداختیاری (empowerment) اور آزادی (liberation) پر اصرار ہے‘ اسلامی قوانین اور حدود کے خلاف دبائو ہے اور جمہوریت دشمن ہونے کا الزام ہے۔ لیکن دنیا میں بڑی بڑی آبادیاں اور بھی ہیں‘ جو مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ان ساری مزعومہ تہذیبی اقدار کی خلاف ورزی کی مجرم ہیں اور ان ’تحائف‘ کی مستحق۔
ظاہر ہے کہ اصل لڑائی ان تہذیبی ایشوز پر بھی نہیں‘ بلکہ یہ ایشوز تو اس تہذیب کی بربادی کے لیے لاٹھی کا کام کر رہے ہیں‘ جس کی تشکیل و ترکیب اور ترتیب و تکوین‘ رسالت محمدیؐ کے دم سے ہے۔
مغرب کو اچھی طرح معلوم ہے‘ مسلمان آج اتنے کمزور ہیں کہ سیاسی‘ معاشی اور فوجی لحاظ سے کسی طرح بھی وہ ان کا عشرعشیر بھی نہیں۔ اہل مغرب کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر مسلمان اپنے نظام معاشرت و سیاست اور جرم و سزا کی تشکیل اسلام کے مطابق کریں‘ حجاب اختیار کریں یا حدود نافذ کریں‘ تو بھی مغربی تہذیب کو کوئی گزند نہیں پہنچتا۔ لیکن وہ اس بات کی مسلسل رٹ لگائے جا رہا ہے: ’’اسلام کا احیا اور مسلمان___ (اس کے الفاظ میں فنڈامنٹلزم یا بنیاد پرستی)___ دراصل مغرب کی تہذیب‘ اس کے طرززندگی‘ اس کی اقدار اور اس کی آج تک کی حاصل کردہ تہذیبی ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے‘‘___ ایسا کیوں ہے؟ رسالت محمدیؐ کی وجہ سے!
جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدبیضا ہے پیران حرم کی آستیں
عصرِحاضر کے تقاضائوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبرؐ کہیں
الحذر آئین پیغمبرؐ سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن‘ مرد آزما‘ مرد آفریں
عام مسلمان اگر تہذیبی جنگ کی اس حقیقت سے بے خبر ہیں‘ تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ جو احیاے اسلام کے علم بردار ہیں‘ وہ بھی اس حقیقت کا پورا ادراک اور احساس نہیں رکھتے۔ اسی لیے رسالت محمدیؐ کا ان کے ایجنڈے پر وہ مقام نہیں‘ جو ہونا چاہیے۔ حالاںکہ تہذیبی جنگ‘ دل اور زندگی جیتنے کی جنگ ہے۔ دل پہلے بھی خاتم الانبیا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے مجتمع اور توانا ہوئے تھے‘ آج بھی اسی محبت سے ایمان‘ اتحاد اور قوتِ عمل سرشار ہوں گے۔ اس کے باوجود رسالت محمدیؐ کے لیے انسانوں کے دل اور ان کی زندگیاں مسخر کرنے کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے‘ افسوس صد افسوس کہ وہ نہیں کیا جا رہا۔ یہی کچھ کرنے کا احساس اور جذبہ و فکر پیدا کرنا آج ملت اسلامیہ کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
جب سے اسلام اور عیسائیت کا آمنا سامنا ہوا ہے‘ اس وقت سے عیسائیت اور یورپ نے اسلام کے خلاف اپنی جنگ کا مرکز و ہدف ذات محمدیؐ اور رسالت محمدیؐ کو بنایا ہے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا اچانک صحراے عرب سے نمودار ہوئے‘ اور پلک جھپکتے میں انھوں نے شام‘ فلسطین‘ مصر‘ لیبیا‘ تیونس اور الجیریا ___ جو عیسائیت کے گڑھ تھے___ کی زمام کار سنبھال لی۔ نہ صرف انھیں اپنے انتظام میں لیا‘ بلکہ آبادیوں کی آبادیاںبہ رضا و رغبت‘ رسالت محمدیؐ کی تابع بن گئیں۔ یہی نہیں‘ ہزار سال تک اس کا سورج نصف النہار پر چمکتا رہا‘ اور مسیحی پادریوں کی ہزار بددعائوں‘ خواہشوں اور ان کے حکمرانوں کی عملی کوششوں کے باوجود‘ وہ ڈھلنے پر نہ آیا۔
وہ متحیر‘ شکست خوردہ اور غیظ و غضب کا شکار تھے۔ مزید غصے کی بات یہ تھی کہ ان کی کرسٹالوجی (سیدنا مسیح کی ابنیت/ولدیت اور مصلوبیت) اور شریعت کی عدم پابندی کے علاوہ دین اسلام میں کوئی چیز ان کی عیسائیت سے خاص مختلف نہ تھی‘ بلکہ دونوں میں بڑی یکسانیت تھی۔ وہ حیران و ششدر تھے کہ اس غیرمعمولی واقعے کی توجیہہ کیا اور کیسے کریں؟ اس کا مقابلہ کیسے کریں؟ عیسائیوں کو مسلمان بننے سے کیسے روکیں؟
ان کو یہی نظر آیا کہ اس سارے ’’فتنے (نعوذ باللہ) کی جڑ‘ اور ان کی ساری مصیبت کا سبب‘ محمدؐ کی رسالت ہے۔ مسلمانوں کی قوت و شکست کا راز حضوؐر پر ایمان و یقین اور آپؐ کی ذات سے والہانہ محبت اور وابستگی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنا سارا زور یہ بات ثابت کرنے پر لگا دیا کہ: (نعوذ باللہ) حضوؐر کا دعواے رسالت درست نہیں تھا اور قرآن آپؐ کی تصنیف کردہ کتاب ہے‘ وہ بھی عیسائیوں اور یہودیوں سے مانگ تانگ کر اور مدد لے کر‘ اور اپنے مضامین و اسلوب اور بے ربطی و تکرار کی وجہ سے کلام الٰہی کہلانے کی مستحق نہیں۔ یا کوئی سنجیدہ‘ علمی مہم بھی نہ تھی۔ مغرب کا دورِ ظلمت (dark ages) ہو یا ازمنۂ وسطیٰ (medieval ages) یا روشن خیالی (enlightenment)‘ ان کے ہاں اس مقصد کے لیے حضوؐر کے کردار پر انتہائی رکیک الزامات گھڑے گئے اور غلیظ الزامات لگائے گئے۔ آپؐ کی زندگی کے ہر واقعے کو بدترین معنی پہنائے گئے اور اسے مسخ کرکے پیش کیا گیا۔ یہ الزام لگایا گیا کہ تلوار‘ خون ریزی اور قتل و غارت کے ذریعے‘ اور لوٹ مار اور دنیاوی لذائذ سے لطف اندوزی کی کھلی چھوٹ کا لالچ دے کر‘ آپؐ نے اپنے گرد پیروکار جمع کیے‘ اور ان کے ذریعے دنیا کو فتح کیا۔ یہ سب کچھ کہنے اور لکھنے کے لیے اہلِ مغرب کی جانب سے زبان بھی انتہائی غلیظ استعمال کی گئی۔ اتنی غلیظ کہ اس کا نقل کرنا بھی ممکن نہیں۔ ہم نے اُوپر جو کچھ لکھا ہے‘ یا آگے نقل کریں گے ‘ وہ دل پر انتہائی جبر کر کے‘ اس لیے کہ نقلِ کفر کفر نہ باشد۔ انھیں نقل کرتے ہوئے ہمارا قلم کانپتا اور روح لرزہ براندام ہوتی ہے‘ مگر صرف اس لیے یہ جسارت کر رہے ہیں کہ مسئلے کو سمجھنا ممکن ہو اور خود قرآن نے بھی مخالفین کے الزامات نقل کیے ہیں۔
سینٹ جان آف دمشق [م: ۷۵۳ئ]‘ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ [م: ۷۲۰ئ] سے قبل اموی دربار میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا اور اسلام سے ناواقف نہیں تھا۔ وہ الزام تراشی کرتے ہوئے لکھتا ہے:’’بنی اسماعیل کی اولاد میں‘ محمدؐ کے نام سے [معاذاللہ] جھوٹے نبی نمودار ہوئے۔ وہ تورات و انجیل سے واقف تھے۔ ایک عیسائی راہب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ان کچی پکی معلومات کے بل پر انھوں نے عیسائیت کی ایک تحریف کردہ شکل وضع کر کے پیش کردی اور لوگوں سے تسلیم کرالیا کہ وہ خدا ترس انسان ہیں۔ پھر یہ افواہ پھیلا دی کہ ان پر آسمان سے کتابِ مقدس نازل ہورہی ہے۔ عیسٰی ؑ اور موسٰی ؑکی طرح‘ وہ اپنی وحی کی صداقت پر کوئی گواہ پیش نہ کرسکے‘ نہ کوئی معجزہ۔۱؎
انھی خطوط پر‘ خلیفہ مامون کے ایک درباری [ابن اسحاق- م: ۸۷۰ئ] نے عبدالمسیح الکندی کا قلمی نام اختیار کر کے الرسالہ کے نام سے ایک فرضی مکالمہ لکھا‘ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا: ’محمد کس طرح سچے نبی ہوسکتے ہیں‘ جب کہ آپ نے خوں ریزی کی‘ اپنی نبوت کی تائید میں کوئی معجزات پیش نہ کیے۔ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو وہ کتاب الٰہی کس طرح ہو سکتا ہے؟‘
سینٹ جان آف دمشق اور عبدالمسیح الکندی کے الرسالہنے‘بیسویں صدی کے آغاز تک‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اہلِ یورپ کے رویے اور فکر کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ بارہویں صدی میں الرسالہکالاطینی ترجمہ اسپین میں شائع ہوا‘ پندرہویں صدی میں سوئٹزرلینڈ میں‘ یہاں تک کہ انیسویں صدی میں سر ولیم میور [م: ۱۹۰۵ئ] نے اس کا انگریزی ترجمہ لندن سے شائع کرنا ضروری سمجھا۔ ایک ہزار سال کے اس طویل عرصے میں پادریوں اور یورپی دانش وروں نے رسالت محمدیؐ کے بارے میں جو کچھ کہا ہے‘ وہ بنیادی طور پر مسیح الکندی اور سینٹ جان آف دمشق ہی کی اس یاوہ گوئی کو دہراتے رہتے ہیں: ۱- قرآن‘ یہودیوں اور عیسائیوں سے سیکھ کر وضع کیا گیا‘ متضاد اور الجھی ہوئی باتوں کا مجموعہ ہے۔ ۲-اخلاقی الزامات ۳- سیاست دانوں اور حکمرانوں کی طرح موقع پرستی اور مکروفریب کی کارروائیاں‘ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک ونشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ۔
ان چیزوں کو نقل کرنا‘ اس لیے ضروری تھا تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ آج جب ایک طویل زمانہ گزر چکا ہے اور اب اہلِ مغرب کا مسلمانوں سے روز کا ربط ہے۔ اہلِ مغرب کے ہاں سائنٹی فک اندازفکر‘ علمیت اور غیر جانب داری کے نعرے بھی ہیں‘ بلکہ ہمدردانہ اور منصفانہ معاملے کے دعوے بھی___ لیکن اہلِ یورپ کی روش اور سوچ میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں میں پروفیسر منٹگمری واٹ‘ کینتھ کریگ اور ویٹی کن [اٹلی میں واقع رومن کیتھولک چرچ کا ہیڈکوارٹر‘ جسے ۱۹۲۹ء سے ریاست کا درجہ حاصل ہے] کی سوچ اور روش میں بھی‘ جو ڈائیلاگ‘ مکالمے‘ فیاضی اور مراعات کی روش کے دعوے دار ہیں‘ ان کے ہاں تال اور سُربدلے ہیں‘ مگر راگ وہی ہیں۔ بظاہر ان کے الفاظ ’مہذب‘ ہوگئے ہیں لیکن الزامات وہی ہیں‘ دشنام طرازی بھی وہی ہے‘ مگر ’تہذیب‘ کے جامے میں ہے۔ زبان اور تعبیرات وہ ہیں جو آج کے زمانے میں قابلِ قبول ہوں‘ مگر تہہ میں بات وہی ہے۔ چنانچہ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہیں۔
اب ان توجیہات کی جگہ ایسے نفسیاتی‘ سماجی‘ معاشی اور سیاسی عوامل نے لے لی ہے‘ جن سے جدید ذہن زیادہ آشنا ہے۔ مثلاً راڈنسن ‘ سگمنڈ فرائڈ [م: ۱۹۳۹ئ] کی رہنمائی میں‘ حضوؐر کی نفسیاتی تحلیل کرتا ہے۔ پروفیسرمنٹگمری واٹ‘ سوشیالوجی(سماجیات) کے اوزار سے لیس‘ اس سرچشمے کا سراغ عرب کی ریگستانی اور بدویانہ زندگی میں‘ جاہلیت کی خرابیوں میں‘ مکہ میں عیسائی اور یہودی تعلیمات و اثرات میں‘ اور اہل عرب کی سیاسی ضرورت میں پاتا ہے۔ کینتھ کریگ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ’’رسالت نے کہاں جنم لیا؟‘‘ اور خود جواب دیتا ہے: ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جستجو اور آرزو میں کہ عرب متحد ہوں‘ اور اس یقین میں‘ کہ ایک کتاب الٰہی ہی‘ ایک عربی قرآن ہی‘ ان کو اتحاد و تشخص دے سکتا ہے‘‘۔ یہ ایقان کیوں کر پیدا ہوا: ’’عیسائیوں اور یہودیوں کو دیکھ کر‘ کہ وہ بھی اہل کتاب تھے‘‘۔
پھر کوئی بھی ’’ہمدردانہ‘‘ تحریر ایسی نہیں‘ جو (نعوذ باللہ) وحی الٰہی میں خارجی مداخلت ثابت کرنے کے لیے شیطانی ہفوات کے واقعے‘ سیاسی مفاد اور دنیاداری کے ثبوت کے لیے نخلہ کے واقعے [رجب ۲ھ]‘ خون آشامی کی شہادت کے طور پر بنوقریظہ کے قتل کے واقعے [شوال ۵ ہجری] اور اخلاقی سطح کو زیربحث لانے کے لیے حضرت زینبؓ کے ساتھ نکاح کے واقعے سے خالی ہو۔
جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب تھے‘ وہ ان کے سخت دشمن اور رسالت کے منکر تھے۔ جو آپؐ کے خلاف ہجو کہتے پھرتے تھے‘ وہ بھی اخلاق سے اتنے عاری نہ تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی اخلاقی الزامات لگائیں۔ اگرچہ‘ جاہلیت عرب کا انکار‘ جاہلیت جدیدہ کے انکار رسالت سے کچھ بھی مختلف نہ تھا۔ وہی الزامات‘ وہی اعتراضات نعوذباللہ: شاعر ہیں‘ جن آگئے ہیں‘ جادوگر ہیں‘ خود کلام گھڑتے ہیں‘ اور اسے اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ کہ:
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا ٓاِفْکُنِ افْتَرٰئـہُ وَاَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَج فَقَدْ جَآئُ وْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا o وَقَالُــوْٓا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَہَا فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا o (الفرقان ۲۵:۴-۵) ایک جھوٹ ہے جو انھوں نے گھڑ لیا ہے‘ اور اس میں دوسرے لوگوں نے ان کی مدد کی ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے ہیں جن کو انھوں نے لکھ لیا ہے‘ اور یہ ان کو صبح و شام لکھوائے جاتے ہیں۔
وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ط لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ o (النحل ۱۶:۱۰۳) کہتے ہیں کہ ان کو تو یہ سب کچھ ایک آدمی سکھاتا ہے‘ لیکن یہ جس کی طرف اشارہ کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ عربی مبین ہے۔
کَذٰلِکَ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ o اَتَوَاصَوْا بِہٖ ج بَلْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ o (الذاریات ۵۱:۵۲-۵۳) یوں ہی ہوتا رہا ہے‘ ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انھوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے؟ نہیں‘ بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔
اس بات کو نارمن ڈینیل (Norman Daniel) نے یوں لکھا ہے: ’’ہم انتہائی غیرجانب دار اسکالر کی تحریر بھی پڑھیں‘ تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قدیم عیسائیت نے (اسلام اور محمد) کے بارے میں کیا انداز فکروگفتگو اختیار کیا تھا۔ وہ انداز ہمیشہ ہر اس مغربی ذہن کا لازمی جزو رہا ہے‘ اور آج بھی ہے‘ جو اس موضوع پر سوچتا اور بات کرتا ہے۔۲؎
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘ قرآن مجید اور رسالت کے خلاف عیسائیت اور اہلِ مغرب کی اس شدید دشمنی کے اسباب کیا ہیں؟
چند تاریخی‘ سیاسی اور نفسیاتی اسباب کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ ان کی نظر میں‘ ان پر اسلام کی صورت میں جو تباہ کن آفت نازل ہوئی تھی‘ اس کی حیرت انگیز قوت و شوکت اور غلبے کا راز رسالت محمدیؐ پر ایمان اور حضوؐر کی ذات سے محبت و وابستگی میں مضمر تھا۔ اس سے مقابلے کا راستہ اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا کہ قوت اور زندگی کے اس منبعے کو ختم کیا جائے۔ اس کو ختم کرنے کا طریقہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حضوؐر کو نعوذ باللہ جھوٹا نبی‘ قرآن کو آپؐ کی خودساختہ تصنیف‘ اور آپؐ کے کردار کو غیرمعیاری ثابت کیا جائے‘ خواہ اس جھوٹ کے لیے تہذیب و معقولیت کی ہر حد پھلانگنا پڑے۔
دنیا کی قیادت کے لیے مغربی تہذیب کا حریف ایک ہی ہو سکتا ہے: وہ ہے اسلام۔ اس سے مغرب کا تصادم ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک آئیڈیا ہے‘ آج کی دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد آئیڈیا۔ یہ آئیڈیا انسانی تجربے اور مشاہدے سے ماورا حق کے وجود پر یقین کا مدعی ہے! اس کے نزدیک یہ‘ وہ حق ہے جو ۱۴ سو سال پہلے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوا‘ اور قرآن کی صورت میں محفوظ و موجود ہے۔ ایک تہذیب کی قوت اور غلبے کے لیے ایسے الحق پر یقین کی قوت کے برابر کوئی قوت نہیں۔ اسی لیے اہلِ یورپ اسلام اور مسلمانوں سے خائف ہیں۔ انھیں خطرہ ہے کہ ایک نئی سرد جنگ آرہی ہے‘ جو غالباً ’سرد‘ نہ رہے گی۔
اسی لیے آج بھی رسالت محمدیؐ، مغرب کے حملوں کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ جہاں موقع ملے‘ ذات گرامیؐ پر بھی گندگی ڈالنے سے اجتناب نہیں‘ لیکن اب یہ کام بالعموم مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے گنتی کے چند سلمان رشدی [بھارتی نژاد شاتم رسول] اور تسلیمہ نسرین [بنگالی نژاد دریدہ دہن] قسم کے لوگوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اپنا اسلوب بدل دیا گیا ہے۔ اب کچھ لوگ حضوؐر کو پیغمبر تسلیم کرنے کے دعوے دار ہیں‘ لیکن تورات کے اسرائیلی انبیا کی طرح کا پیغمبر۔ کچھ لوگ وحی کی حقیقت اور نوعیت ہی کو ___ مکالمہ ___ اور مفاہمت کے نام پر___ بدلنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ کچھ سینٹ پال [م: ۶۴ئ] کی طرح کے ’’مصلح‘‘ کے ورود [از قسم‘ مرزا غلام احمد قادیانی۔ م:۱۹۰۸ئ] کے متمنی ہیں جو اسلامی شریعت سے نجات دے۔
کچھ چاہتے ہیں کہ قرآن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے: ایک حصہ‘ عقائد و اخلاق کی تعلیم پر مبنی‘ اس کو کلامِ الٰہی مان لیا جائے۔ دوسرا حصہ‘ زندگی بسر کرنے کے ضوابط پر مشتمل‘ ان کو حضوؐر کی تصنیف قرار دیا جائے‘ جو قابلِ تغیروتبدل ہے۔ اسی ذیل میں کچھ ’دُور اندیش‘ عناصر کسی دینی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے‘ لیکن وہ انسانی حقوق‘ عورت کے مقام اور جمہوریت کے نام پر وہ چیزیں دل ودماغ میں اتار رہے ہیں‘ اور اُمت محمدیؐ کی زندگی اور عمل کو ایسے سانچے میں ڈھال رہے ہیں‘ جو رسالت پر ایمان اور ناقابل تغیر و تبدل حق پر یقین کو خودبخود بے معنی اور غیر مؤثر کرکے رکھ دے۔
ہفت روزہ اکانومسٹ‘ لندن نے صحیح لفظوں میں اعتراف کیا: ’’آج رسالت محمدیؐ پر یقین و ایمان ہی مغربی تہذیب کے لیے واحد حریف اور سب سے بڑا خطرہ ہے‘ اور یہی ایمان مسلمانوں کے لیے بے پناہ قوت کا سرچشمہ‘‘۔
۱- مغربی تہذیب اور جدیدیت (modernism) کی بنیاد یہ ہے‘ کہ انسان اب بالغ ہوچکا ہے۔ کسی ماوراے انسان وجود یا ذریعے سے علم اور رہنمائی لینے کا محتاج نہیں۔ وہ مستغنی ہے‘ خصوصاً خدا اور وحی جیسے ان ذرائع و تصورات سے‘ جن کو اس نے اپنے عہدطفولیت میں اپنے سہارے اور تسلی کے لیے گھڑ لیا تھا۔ رسالت محمدیؐ اس کے برعکس‘ یہ علم اور یقین بخشتی ہے کہ خالق کا وجود حقیقی ہے۔ وہ علوم کا رشتہ بھی اس کے نام سے جوڑتی ہے‘ زندگی کا بھی۔ وہی خالق حقیقی کھانا بھی کھلاتا ہے‘ شفا بھی بخشتا ہے‘ اختیار و قدرت بھی صرف اس کو حاصل ہے‘ زندگی بسر کرنے کا صحیح راستہ بھی وہی دکھاتا ہے۔ انسان ہر لحاظ سے اس کا محتاج‘ فقیر اور غلام و بندہ ہے۔
۲- مغربی تہذیب کے فلسفہ علم (epistemology) کی بنیاد یہ ہے‘ کہ علم کا ذریعہ صرف: انسانی حواس اور عقل ہے‘ تجربہ و مشاہدہ ہے‘ سائنسی طریقہ ہے مگر یہ سارا علم بھی ظنی ہے جو آج صحیح ہے وہ کل غلط ہو سکتا ہے‘ بلکہ غلط ثابت ہونے کا امکان نہ ہو تو وہ علم ہے ہی نہیں‘ ایک عقیدہ ہے۔ قطعی اور یقینی علم کے نام کی کوئی چیز دنیا میں پائی ہی نہیں جاتی‘ جو معیار حق ہو‘ جس کے آگے لوگ سرتسلیم خم کریں‘ جس کے لیے کوئی کسی سے مطالبہ کرسکے کہ اس کو مانو اور اس پر چلو۔ اس کے برعکس‘ رسالت محمدیؐ اس شعور سے معمور کرتی ہے کہ علم یقینی کا وجود ہے اور اس کا سرچشمہ وحی الٰہی اور حضوؐر کی رسالت ہے۔ زبردستی کسی پر نہیں کی جا سکتی‘ لیکن جو مان لیں انھیں اس علم کے آگے سرتسلیم خم کرنا چاہیے‘ جہاں اختیار ہو‘ وہاں اس علم کے مطابق چلنا اور چلانا چاہیے۔ مغرب نے حق اور باطل کے الفاظ کو متروک بنا دیا ہے‘ اور ان کا استعمال تہذیب و فیشن کے خلاف۔ رسالت محمدیؐ کے ماننے والوں کے لیے یہ الفاظ آج بھی سچائی اور زندگی سے بھرپور ہیں‘ اور ہمیشہ رہیں گے۔
۳- مغرب کے نزدیک اخلاق و اقدار ہوں یا قوانین و ضوابط‘ ہر چیز مفید ہے یا مضر‘ جیسا اپنا اپنا احساس اور نقطۂ نظر ہو۔ حقیقت کا انحصار دیکھنے والوں کی پوزیشن پر ہے۔ چنانچہ ہرچیز اضافی (relative) طور پر صحیح یا غلط ہوتی ہے‘ کوئی چیز فی نفسہٖ حق اور باطل نہیں ہو سکتی۔ رسالت محمدیؐ کے ماننے والوں کے نزدیک ان چیزوں کی جو حقیقت وحی نے طے کر دی ہے‘ اسے کسی کی راے‘ پسند و ناپسند یا تجربے و دلیل سے بدلا نہیں جا سکتا: لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ج [الانعام ۶:۳۴] ’’اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے‘‘۔
۴- مغربی تہذیب کے نزدیک علوم غیبی ___ اللہ‘ فرشتے‘ وحی‘ زندگی بعد موت کے نام کی کوئی چیز کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس رسالت محمدیؐ کے ماننے والوں کے نزدیک‘ زندگی کے معنی و مقصد اور انسان کی حقیقت کا علم صرف علوم غیبی ہی سے ہوسکتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ حقائق___ جن کی تعلیم رسالت محمدیؐ نے دی ہے___ جیتے جاگتے حقائق ہیں: یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ[البقرہ ۲:۳] ’’وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔
۵- دنیا اور دنیا کی زندگی سے رسالت محمدیؐ کے ماننے والوں کو اتنی ہی گہری اور بھرپور دل چسپی ہے جتنی اہلِ مغرب کو۔ لیکن مغرب کی دل چسپی کا ہدف یہیں دنیا میں انسان کی خوشی‘ راحت‘ لذت اور زندگی کی کیفیت و معیار ہے‘ کہ وہی مقصود ہیں۔ اس کے برعکس‘ رسالت محمدیؐ کے ماننے والوں کی دل چسپی دنیا میں اہلِ دنیا کی بھلائی اور آخرت میں اپنی بھلائی کے لیے ہے۔ اس کے نتیجے میں دو بالکل مختلف قسم کی شخصیتیں اور معاشرے وجود میں آتے ہیں: لاَ یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِط [الحشر ۵۹:۲۰] ’’دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے‘‘۔
آج کے تہذیبی معرکے میں رسالت محمدیؐ کے مسئلے کو جو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے‘ اس کا پورا ادراک ان سب کو ہونا چاہیے‘ جو دین سے محبت رکھتے ہیں‘ جو غلبۂ دین کی تمنا رکھتے ہیں یا اس کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس ادراک کی روشنی میں انھیں اپنی ترجیحات پر بھی نظر ڈالنا چاہیے‘ اور حکمت عملی پر بھی۔ اس لیے:
۱- یہ سمجھنا ضروری ہے کہ‘ ہمارا یہ زمانہ اگرچہ عہد نبویؐ سے ۱۴ صدیوں کے فاصلے پر ہے‘ اور ہم جن تمدنی حالات میں اسلامی زندگی اور اس کے غلبے کے لیے کوشاں ہیں‘ وہ اس عہد سے بہت مختلف ہیں‘ لیکن یہ ہے اسی عہد نبویؐ کا حصہ اور تسلسل۔ کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی طرف نہیں‘ ساری انسانیت کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں‘ اور آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے‘ اس لیے آپؐ ہماری اکیسویں صدی کے لیے بھی اسی طرح رسول ہیں جس طرح چھٹی صدی کے لیے تھے‘ اور آج کے سارے انسان اسی طرح آپؐ کی ’’قوم‘‘ ہیں اور آپؐ کے مخاطب‘ جس طرح اس وقت کا اہلِ عرب اور ساری دنیا والے تھے۔ اس سیدھی سادی بات کے دُور رس مضمرات ہیں۔ چنانچہ آج کے زمانے اور لوگوں تک آپؐ کی رسالت کی دعوت اس طرح پہنچنا اور پہنچانا ان کا حق ہے جس طرح آپؐ نے پہنچائی۔
۲- یہ سمجھنا ضروری ہے کہ‘ بہ حیثیت رسولؐ اللہ آپ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ کیوںکہ آپؐ کی لائی ہوئی کتاب موجود ہے‘ آپؐ کی سیرت اور اسوہ موجود ہے‘ آپؐ کا دین موجود ہے‘ اور ان امانتوں کی حامل‘ آپؐ کی اُمت موجود ہے۔ گویا اپنی رسالت کی طرف دعوت دینے کا جو مشن بہ حیثیت رسول آپؐ نے ادا کیا‘ اب اسے ادا کرنے کے لیے اُمت ذمہ دار ہے۔
۳- یہ سمجھنا ضروری ہے کہ‘ رسول کی موجودگی میں دعوت اور اسلام و جاہلیت کے درمیان جو تہذیبی کش مکش برپا ہوتی ہے‘ اس میں رسالت کی طرف دعوت کو اوّلین اور فیصلہ کن مقام حاصل ہوتا ہے۔ درجے کے لحاظ سے‘ ایمان باللہ‘ اسلامی زندگی کا مرکز اور روح ہے‘ اسے سب سے اعلیٰ مقام حاصل ہے‘ رسالت کا مدعا وہی ہے۔ لیکن ترتیب کے لحاظ سے ایمان بالرسالت کی حیثیت اولین اور فیصلہ کن ہے۔ انسان‘ محمد کو اللہ کا رسولؐ مانتا ہے‘ تب ہی وہ اللہ اور ہر دوسری چیز تک پہنچتا ہے۔ ایمان باللہ‘ وہی حق اور معتبر ہے جس کی تعلیم حضوؐر نے دی‘ اور اس لیے ہے کہ آپؐ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قرآن اسی لیے بلاشک و شبہہ کلامِ الٰہی ہے کہ رسالت محمدیؐ ہر شک و شبہہ سے بالاتر ہے۔ حلال و حرام‘ واجبات و منہیات اور عذاب و ثواب کے لیے کوئی عقلی یا تجربی دلیل‘ سند ناطق نہیں سواے حکم نبویؐ کے۔ پھر عمل کے لحاظ سے تو ایمان و اتباع رسالت‘ عین اطاعتِ الٰہی اور قربِ الٰہی کے مترادف ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ [النسائ۴:۸۰۔جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔] اور : قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ [اٰل عمرٰن ۳:۳۱۔ اے نبیؐ! لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو‘ اللہ تم سے محبت کرے گا۔]
۴- یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دعوت و جہاد میں رسالت کی طرف دعوت کو یہی مقام حاصل ہو۔ اس کے بغیر اللہ کا اقرار بھی کوئی معنی نہیں رکھتا‘ کجا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق جیسی سماجی اقدار پر اتفاق و اقرار۔ ورنہ یہودی توحید الٰہی کا عقیدہ رکھتے تھے‘ عیسائیوں کو موحد ہونے کا دعویٰ تھا‘ اور ان کی عبادات و اخلاقی فضائل کی تعریف خود قرآن نے فرمائی ہے۔ مگر وہ مغضوب اور ضال ٹھیرے کہ ایمان بالرسالت سے انکاری تھے۔
۵- یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایمان بالرسالت اس معنی میں بھی فیصلہ کن ہے کہ اللہ کی طرف سے نصرت‘ نجات اور غلبے کا وعدہ‘ ان لوگوں سے ہے جو رسول مبعوث پر حقیقی معنوں میں ایمان لائیں‘ تن من دھن سے اس کے پیچھے چلیں‘ اور اس کے مددگار بنیں: وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ o اِنَّھُمْ لَھُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ o وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَھُمُ الْغٰلِبُوْنَ o (الصافات ۳۷:۱۷۱-۱۷۳) ’’اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ یقینا ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہوکر رہے گا‘‘۔
۶- یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ازل سے جو معرکہ چراغ مصطفویؐ اور شرار بولہبی کے درمیان برپا ہے‘ اور جو آج اسلام اور مغرب کے درمیان تہذیبی جنگ کی صورت اختیار کررہا ہے‘ وہ دراصل انسانوں کے دل اور زندگیاں جیتنے کا معرکہ ہے۔ دل فتح ہوں گے تو غلبۂ دین حاصل ہوگا۔ قوت سے زمین فتح ہوسکتی ہے‘ اموال فتح ہوسکتے ہیں‘ سیاسی اقتدار پر قبضہ ہوسکتا ہے‘ مگر زندگیاں فتح نہیں ہو سکتیں اور دلوں پر قبضہ نہیں ہوسکتا۔ دلیل سے موافقت اور حمایت حاصل ہو سکتی ہے‘ مگر یکسوئی‘ لگن اور جاں بازی اور سرفروشی نہیں۔ دل جیتنے کا راستہ صرف ایک ہے۔ لوگ رسالت محمدیؐ کی صداقت پر ایمان لے آئیں‘ آپؐ کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ دے دیں‘ اپنے دل آپؐ کی محبت سے بھرلیں‘ آپؐ کے آستانے پر سر رکھ لیں‘ آپؐ کی اطاعت و محبت اور آپؐ پر اعتماد و یقین سے سرشار ہو کر آپؐ کے پیچھے پیچھے چل پڑیں۔ پہلے بھی لوگ اور دل اسی طرح فتح ہوئے تھے‘ تہذیبی جنگ اسی طرح جیتی گئی تھی‘ آج بھی اسی طرح فتح ہوگی‘ اور اسی طرح جنگ جیتی جا سکے گی۔
۷- اس بات کو سمجھنا بڑا اہم ہے۔ یقینا ہمیں اسلام کی حقانیت اور برتری ثابت کرنا چاہیے‘ ہمیں بتانا چاہیے کہ سودی معیشت انسان کے لیے کتنی تباہ کن ہے‘ اسلام کے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی و خاندانی نظام میں کیا محاسن ہیں‘ اسلام کی خوبیاں کیا ہیں؟ لیکن ہمیں یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان سب کاموں کی حیثیت زمین کو نرم و ہموار اور فضا کو سازگار بنانے کی سی ہے۔ لوگ یہ سب کچھ مان بھی لیں‘ لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ایمان نہ لائیں‘ تو تہذیبی جنگ میں کامیابی کی راہ ہموار نہ ہوگی۔ کتنے لوگ ہیں جو اسلام کی تعریف کرتے ہیں‘ اس کے آرٹ اور فنِ تعمیر کی داد دیتے ہیں‘ اس کی روحانیت اور تصوف کے ثناخواں ہیں‘ لیکن وہ محمد رسولؐ اللہ کو اللہ کا رسول مان کر آپؐ کا اتباع کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے وہ رسالت کے مشن کے اعوان و انصار نہیں بن سکتے۔
۸- اسی طرح اگر ہم یہ ثابت بھی کر دیں اور ہمیں یہ ثابت ضرور کرنا چاہیے‘ لیکن اس مشق کے محدود نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے___ کہ اسلام میں بھی جمہوریت ہے۔ اسلام دوسروں سے بڑھ کر حقوقِ انسانی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام نے عورتوں کو وہ مقام دیا ہے جو آج تک مغرب نے بھی نہیں دیا ہے۔ اسلامی حدود ظالمانہ نہیں بلکہ منصفانہ اور زیادہ رحم دلانہ ہیں‘ تو اس سے بھی دلوں کے جیتنے کے امکانات روشن نہ ہوں گے۔ اس کے لیے عقلی اتفاق سے زیادہ رسولؐ پر اعتماد و محبت درکار ہے۔
چنانچہ سب سے بڑا کام یہ ہے کہ ہم دعوت الی الرسالت کو اپنے ایجنڈے پر سرفہرست مقام دیں۔
نواے او بہ ہر دل سازگار است
کہ در ہر سینہ قاشے از دل اوست
امام مسلم [م: ۸۷۰ئ] روایت درج کرتے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا: ’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے‘ اس اُمت میں سے جو میرے بارے میں سنے‘ یہودی ہو یا عیسائی‘ پھر وہ جو میں لایا ہوں اس پر ایمان لائے بغیر مرجائے‘ وہ آگ میں جائے گا‘___ امام محی الدین نوویؒ [م: ۶۷۶ھ] کہتے ہیںکہ اس اُمت سے مراد ایک داعی اُمت ہے‘ یعنی آپؐ کی رسالت سے لے کر قیامت تک تمام اہلِ زمین کے لیے۔ لیکن امام غزالیؒ [م: ۱۱۱۱ئ] بڑی اہم بحث اٹھاتے ہیں: ’سننے‘ کا کیا مطلب ہے؟ کیا صرف کانوں سے نام سن لینا؟___ نہیں‘ وہ کہتے ہیں‘ اس سے حضوؐر کی زندگی اور پیغام کے بارے میں اس طرح سننا مراد ہے‘ جو دل و دماغ کے ماننے کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ جن پر سنانے کی ذمہ داری ہے‘ وہ زیادہ آگ کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ آج تو نہ ماننے والوں کی عظیم اکثریت نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہی سنا ہے‘ سنا ہے تو سرسری طور پر یا مخالفانہ انداز میں۔ جن لوگوں کو کماحقہٗ سنایا گیا ہے‘ وہ بھی براے نام ہیں۔ پھر اربوں انسانوں کے اپنے رسول اور آخری رسول پر ایمان نہ لانے کے لیے مسئول‘ ذمہ دار اور جواب دہ کون ہے؟ کیا ہم نہیں؟
جس طرح حضوؐر نے ایک ایک ملک میں اپنے ایلچی بھیجے تھے‘ آج ایک ارب سے زائدمسلمان دنیا کے گوشے گوشے میں آپؐ کے ایلچی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں آپؐ کا خط ہے۔ جس کو بھی اپنی اس پوزیشن اور ذمہ داری کا احساس ہو‘ اسے تڑپ کر کھڑا ہوجانا چاہیے۔ سلیقے سے‘ حکمت سے‘ موعظۂ حسنہ سے‘ انسانوں کو حضوؐر سے قریب لانا چاہیے۔ جتنا زور ہم آپؐ کا دین پیش کرنے پر لگاتے ہیں‘ اتنا ہی اہتمام ہمیں آپؐ کی ذات‘ شخصیت‘ کردار‘ اسوئہ حسنہ اور زندگی کو پیش کرنے پر لگانا چاہیے۔ جو سراج منیر سے جتنا قریب آئے گا‘ اس کا دل کھلا ہوگا‘ وہ حضوؐر کی روشنی اور حرارت میں سے حصہ پائے گا۔ جتنے لوگ حضوؐر کی رسالت پر ایمان لاتے جائیں گے‘ آپؐ کے آستانے سے وابستہ ہوتے جائیں گے‘ اتنا ہی تہذیبی جنگ میں حضوؐر کے پیغام کی فتح کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔
یہ ایک قرض ہے جو ہم سب پر ہے‘ اور ہم میں ہر ایک کو اسے ادا کرنے اور اپنا حصہ ڈالنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ [ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۹۶ئ]
(کتابچہ دستیاب ہے۔ قیمت: ۳ روپے (۲۰۰ روپے سیکڑہ)۔ منشورات‘ منصورہ‘ لاہور)
1- Encounters and Clashes: Islam and Christianity in History, Rome, 1990.
۲- نارمن ڈینیل: Islam and The West: The Making of Image ‘ناشر: ایڈنبرگ یونی ورسٹی پریس‘ ۱۹۶۰ئ‘ ص ۳۰۱
حج کی حقیقت کو تم ایک دفعہ پالو‘ اچھی طرح اور پوری طرح جان لو‘ اسی کے مطابق خود کو ڈھالو‘ اسی کی روشنی میں ہر قدم اٹھائو‘ تو ایک کے بعد ایک‘ حج کے فیوض و برکات اور انعامات و فتوحات کے دروازے تمھارے لیے کھلتے چلے جائیں گے۔
حج کیا ہے؟ اللہ سے محبت کرنا‘ ان کی محبت پانا۔ حج کا سفر محبت و وفا کا سفر ہے۔ اس کا مدعا اور حاصل‘ اللہ کے سواکچھ نہیں۔ اس کا ہر عمل محبت و وفا کا عمل ہے‘ اس کی ہر منزل محبت و وفا کی منزل ہے۔ یوں سمجھو کہ حج سارے کا سارا یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ ، اللہ اپنے ان پروانوں سے محبت کرتے ہیں اور یہ پروانے ان کی محبت میں سرشار ہیں‘ کی مجسم اور متحرک تصویر ہے۔
دیکھو‘ بات یہ ہے کہ اللہ تم سے‘ اپنے بندوں سے‘ بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ جیسا حضورپاکؐ نے ارشاد فرمایا‘ وہ ماں باپ سے بھی کہیں زیادہ محبت والے ہیں۔ وہ اپنی ذات میں بے انتہا رحمت اور محبت کرنے والے ہیں۔ اللہ کو پکارو یا الرحمٰن کو‘ ایک ہی بات ہے۔ گویا اللہ کے معنی ہی الرحمٰن ہیں۔ ساتھ ہی وہ سارے دنیا والوں پر اپنی بے پایاں رحمتوں کی مسلسل بارش کر رہے ہیں۔ دنیا میں مخلوقات کے درمیان تم جہاں بھی اور جتنی بھی رحمت دیکھتے ہو‘ وہ سب بھی ان ہی کی رحمت کا جلوہ ہے۔ مگر دنیا میں وہ جتنی رحمت کر رہے ہیں‘ وہ ان کی رحمت کے ایک سو میں سے ایک حصے کے برابر بھی نہیں‘اگرچہ اس کا بھی احاطہ اور شمار ممکن نہیں۔ ۹۹ حصے انھوں نے آخرت میں عطا کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔
یہ انھی کی رحمت اور محبت ہے کہ انھوں نے ہمیں قرآن عطا کیا‘ تاکہ ہم آخرت کی رحمتوں میں سے حصہ پاسکیں۔ رسول پاکؐ جو رحمۃ للعالمین اور رؤف و رحیم ہیں‘ ہمارے اُوپر اللہ کی رحمت و شفقت کا مظہر ہیں (لَقَدْ مَّنَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ…الخ)۔ موت کے بعد زندگی بخشنا اور اعمال کی جزا دینا بھی ان کی رحمت کا تقاضا ہے (کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَہ ، لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَہ)۔ ہمیں دین اسلام عطاکرکے تو انھوں نے رحمت و انعام کی انتہا کردی‘ یہ ان کی نعمت کا اتمام ہے کہ یہی آخرت میں ان کی رحمت تک پہنچنے کا راستہ ہے (وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ)۔ یہ بھی ان کی ہمارے ساتھ محبت کا ثمر ہے‘ ان کا فضل اور نعمت ہے کہ انھوں نے اپنے اوپر ایمان‘ ہمارے دلوں میں ڈال دیا‘ اسے دلوں کی زینت بنا دیا‘ اسے ہمارے لیے محبوب بنادیا۔ ان کے ساتھ ہماری جتنی محبت ہے‘ ہوگی‘ وہ ان کی محبت (یُحِبُّھُمْ) اور ایمان کا ثمر ہے۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ، جو ایمان والے ہیں‘ وہ سب سے زیادہ شدت سے اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ ایمان کی ساری شیرینی‘ مزا اور رنگ ان کے ساتھ اسی محبت کے دم سے ہے۔
یہ بیانِ محبت ذرا طویل ہوگیا۔ لیکن محبت کے بیان کی لذت! دل چاہتا ہے کہ ختم ہی نہ ہو۔ محبت کے سفر کی لذت! دل چاہتا ہے کہ وقت سے پہلے شروع ہوجائے‘ ختم ہونے کا نام نہ لے۔ اس کی ہر زحمت میں لذت کی چاشنی ملتی ہے۔ حج کی حقیقت کو دل کی گہرائیوں میں پالینے کے لیے کم سے کم اتنا بیان لذیذ ہی نہیں‘ ضروری بھی تھا۔
دیکھو‘ ویسے تو اس دین کا ہر حکم‘ جو نعمت و محبت کا اتمام ہے‘ بندوں سے ان کی محبت کا مظہر ہے‘اور ان کی محبت کے حصول کا راستہ‘ جو بندوں کی غایت ہے۔ ’’سجدہ کس لیے کرو؟‘‘ تاکہ ہم سے قریب ہوجائو۔ ’’مال کس لیے دو؟‘‘ علٰی حبہ،ان کی محبت میں‘ ان کی محبت و رضا کے لیے۔ احکام‘ حرام و حلال کے ہوں‘اخلاق و معاملات کے‘ ہجرت و جہاد کے--- سب ہم پر ان کی شفقت و رحمت پر مبنی ہیں۔ مگر حج کی بات ہی دوسری ہے۔ یہ تم سے اللہ کی محبت کا‘ اور ان کی محبت کے اظہار کا بے مثال مظہر ہے‘ اور تمھارے لیے ان سے محبت کرنے کا‘اپنی محبت کا اظہار کرنے کا اور ان کی محبت پانے کا انتہائی کامیاب و کارگر نسخہ۔ عبادات میں اس پہلو سے اس کی کوئی نظیر نہیں۔
ذرا غور کرو! اللہ تعالیٰ لامکان ہیں‘ وہ ہر جگہ موجود ہیں‘ وہ کسی مکان میں سما نہیں سکتے‘ ہرذرہ اور لمحہ ان کا ہے‘ اور ان کی جلوہ گاہ--- لیکن یہ‘ ان کی‘ ہم جیسے اسیر مکان و زماں بندوں سے‘ بے پناہ محبت نہیں تو اور کیا ہے کہ انھوں نے‘ ہمیںاپنی محبت دینے اور ان سے محبت کرنے کی نعمت بخشنے کی خاطر‘مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں ایک بظاہر بالکل سادے اور معمولی گھر کو’اپنا گھر‘ بنالیا اور مشرق و مغرب میں تمام انسانوں کو اپنے اس گھر آنے کا بلاوا بھیجا‘ کہ آئو‘ سب کچھ چھوڑ کر‘ لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے آئو۔ پتھروں کے اس گھر آئو‘ اس گھر میں اپنے خداے لامکاں کی محبت اور قربت حاصل کرو۔ اس گھر میں‘ اس کے در و دیوار میں‘ اس کے گلی کوچوں میں‘ اس کی طرف سفر میں انھوں نے تمھارے جذبہ عشق و محبت کے لیے تسکین و سیرابی‘ شادکامی اور لذت و کیف کا وہ سارا سامان رکھ دیا جو ایک عاشق صادق اپنے محبوب کے کوچہ و دیار اور درودیوار سے پانے کی تمنا کرسکتا ہے۔
یہ بھی اللہ کی رحمت و محبت کا کرشمہ ہے کہ انھوں نے عشق و محبت کے اس مرکز میں‘ جو بظاہر حسن تعمیر اور جمال ماحول سے بالکل مبرا ہے‘ بڑی عجیب و غریب محبوبیت رکھ دی ہے! اس گھر کو انھوں نے اعلیٰ ترین شرف و کرامت سے نوازا ہے۔ اسے انھوں نے اپنی بے پناہ عظمت و جلال کا مظہر بنایا ہے۔ اس کے سینے سے انھوں نے رحمت و محبت‘ برکت و ہدایت اورانعام و اکرام کے لازوال چشمے جاری کیے ہیں۔ آیات بینات کا ایک اتھاہ خزانہ ہے جو اللہ نے اس گھر کی سادہ مگر محبت کے رنگ سے رنگین داستان کے ورق ورق پر رقم کردیا ہے۔ اللہ کے گھر کے حسن و جمال اور شانِ محبوبیت کا بیان اسی طرح الفاظ کے بس سے باہر ہے‘ جس طرح کسی حسین کے حسن کا اور کسی شے لذیذ کی لذت کا‘ جو تم دیکھنے اور چکھنے ہی سے پاسکتے ہو۔
دوسری طرف انھوں نے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں اس گھر کی محبت ڈال دی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جو جا نہیں سکتے‘ وہ بھی جانے کی آرزو اور شوق میں سلگتے رہتے ہیں‘ اور کچھ نہیں تو روزانہ پانچ دفعہ‘ اس گھر کی طرف رخ کرکے‘ گھر کے مالک سے قرب اور ہم کلامی کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ لیکن ایک طرف دیار محبوب کی شانِ محبوبیت اور دوسری طرف محبت کرنے والوں کی محبت‘ ازل سے عشاق بے تاب کا ایک ہجوم بے پناہ ہے جو ہروقت اور ہرجگہ سے کھنچ کھنچ کر اس گھر کے گرد جمع ہوتا چلا آرہا ہے۔ خاص طور پر حج کے وقت‘ جس کو رب البیت نے جلوہ و زیارت کے لیے مخصوص و متعین کیا ہے۔ آج تم بھی اسی ہجوم کا ایک حصہ ہو‘اور میری تمنا ہے--- اور تمھاری بھی یہی تمنا ہونا چاہیے--- کہ محبت کی یہی چنگاری تمھارے دل میں سلگ رہی ہو‘ اور وہی تمھیں کشاں کشاں دیارِ محبوب کی طرف لیے جارہی ہو۔
اب ذرا حج کے اعمال و مناسک کو دیکھو جو تم بجا لائوگے۔ یہ تمام تر عشق و محبت کے اعمال ہیں۔ یہ بھی اللہ کی محبت ہے کہ انھوں نے محبت کی ان ادائوں کی تعلیم دی‘ ان کو اپنے گھر کی زیارت کا حصہ بنایا‘ اور ان پر محبت اور اجر کی بشارت دی۔ یہ سنت ابراہیم ؑ کا ورثہ ہیں۔ دیکھو شاہ عبدالعزیز ؒ صاحب ان اعمال کی حقیقت کی کتنی خوب صورت تصویر کھینچتے ہیں:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا [اور یہی حکم تمھارے لیے ہے] سال میں ایک دفعہ اپنے کو اللہ کی محبت میں سرگشتہ و شیدا بنائو‘ اس کے دیوانے ہوجائو‘ عشق بازوں کے طور طریقے اختیار کرو۔ محبوب کے گھر کے لیے--- ننگے پائوں‘ الجھے ہوئے بال‘ پریشان حال‘ گرد میں اَٹے ہوئے--- سرزمینِ حجاز میں پہنچو‘ اور وہاں پہنچ کر کبھی پہاڑ پر چڑھو‘ کبھی وادی میں دوڑو‘ کبھی محبوب کے گھر کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوجائو--- اس خانہ تجلیات کے چاروں طرف دیوانہ وار چکرلگائو‘ اور اس کے در ودیوار کو چومو اور چاٹو۔
یہ ہے وہ حج جس کے لیے تم روانہ ہو رہے ہو۔ جتنا عشق و محبت کا یہ سبق ازبر کرو گے‘ دل پر اسے نقش کرو گے‘ اسے یاد رکھو گے‘ اللہ کو تم سے جو محبت ہے اس کی حرارت اور طمانیت اپنے اندر جذب کرو گے‘ اللہ سے ٹوٹ کر پورے دل سے محبت کرو گے اور اس کا اظہار کرو گے‘ حج کے ہر عمل کو زیادہ سے زیادہ اس محبت کے رنگ میں رنگو گے‘ اس سے اللہ کی محبت کی طلب اور جستجو کرو گے‘ انھی کی محبت اور قرب کی آرزو اور شوق میں جلو گے‘ اتنا ہی تم حج کی آغوش سے اس طرح گناہوں سے پاک و صاف ہوکر لوٹو گے جیسے ماں کے پیٹ کی آغوش سے نکلتے ہو‘ اور تمھارے حق میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت پوری ہوگی۔ (حاجی کے نام‘ منشورات‘ لاہور‘ ص ۸-۱۴)
چند روز پیش تر شرق اوسط میں جو عبرت ناک واقعات پیش آئے ہیں اور‘ اس کے نتیجے میں مسلمان جس ذلت اور رسوائی کا شکار ہوئے ہیں‘ اس کی مثال ہماری چودہ سو سالہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔٭
اس جنگ کے دوران ہماری یہ رسوائی بھی ہوئی کہ چودہ عرب ریاستیں اپنے تمام وسائل و ذرائع کے ساتھ ایک حقیر سی ریاست سے شکست کھاگئیں‘ جب کہ ان کی پشت پر تمام مسلمان ممالک کی ہمدردیاں بھی تھیں۔ پھر ہم نے یہ ذلت بھی اٹھائی کہ جو جنگ اس بلند بانگ دعوے سے شروع ہوئی تھی کہ: ’’عالمِ اسلام کے سینہ کا خنجر چار دن میں نکال کر سمندر میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔ وہ اس شرمناک انجام پر ختم ہوئی کہ یہ خنجر دو دن میں سینے سے اُوپر ہماری شہ رگ تک پہنچ گیا۔ خلیج عقبہ اور نہر سویز دونوں دشمن کی دست برد سے نہ بچ سکیں۔
سب سے بڑھ کر شرمناک بات یہ ہے کہ جس مقدس شہر (بیت المقدس) کی حفاظت ہمارے سپرد ہوئی تھی اس کو ہم نے نہ صرف یہ کہ ضائع کر دیا‘ بلکہ اس قوم نے ہم سے اسے چھینا جس کو ڈھائی ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ذلیل و خوار کر کے وہاں سے نکال دیا تھا۔ ان سب پر مستزاد ہمارے نوجوانوں کا وہ گرم گرم خون اور ہمارے ترکش کے وہ تیر ہیں‘ جو بغیر کسی مقابلے کے دشمنوں کے قدموں پر ڈھیر ہوگئے۔
آج ہر مسلمان اپنی اس ذلت پر سوگوار ہے۔ وہ بے چین ہوہو کر پوچھ رہا ہے: ’’آخر یہ سب کیسے ہوگیا؟‘‘
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اب بھی جاگ جائیں اور اس سوال کا جواب پاکر اپنے حالات درست کرلیں تو یہ تازیانۂ عبرت ہمارے لیے سامانِ رحمت بن سکتا ہے۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا میں ایک حکیم اور مدبر ہستی کا راج ہے۔ یہ کوئی اندھیرنگری اور چوپٹ راج نہیں ہے کہ بلاسبب اور بلاقانون اتنے بڑے بڑے واقعات رونما ہوجائیں۔ جہاں ایک پتّہ بھی خدا کی مرضی کے بغیر نہ ہل سکتاہو وہاں اتنا بڑا زلزلہ اچانک کہیں خلا سے یوں ہی نمودار نہیں ہوگیا‘ بلکہ ہم نے خدا کے قانون کے تحت وہی فصل کاٹی ہے جس کے بیج ہم عرصے سے بو رہے تھے۔
اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں اور شکست کے اسباب اپنے اندر ڈھونڈنے کے بجاے اس کی ذمہ داری مغربی استعماری طاقتوں کی دخل اندازی‘ دشمن کی مکاری‘ نام نہاد دوستوں کی بے وفائی اور ٹکنالوجی میں اپنی کم تری جیسے عذرات لنگ کے سر منڈھتے رہے تو ہم کو مستقبل میں اس سے بھی بدتر ذلت کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔ اس لیے کہ قدرت بار بار سبق نہیں دیا کرتی۔
کیا ہمارے حکمرانوں کو پہلے سے یہ معلوم نہ تھا کہ اسرائیل بڑی طاقتوں کا قائم کردہ اور پروردہ ملک ہے اور کسی بھی جنگ میں یہ طاقتیں اس کی پشت پناہی کریں گی۔ پھر دخل اندازی کا یہ گلہ کیوں؟
کیا ہمارے حکمران یہ سمجھتے تھے کہ دشمن ہم سے پوچھ کر حملہ کرے گا‘ کہ کب کریں اور کدھر سے آئیں اور اگر اس کی طاقت ہمارے اندازے سے زیادہ نکلی تو قصور کس کا ہے؟
اگر ’دوستوں‘ نے بے وفائی کی تو ہم اتنے نادان کیوں بن گئے تھے کہ یہ بھی نہ سوچ سکے کہ کفر خواہ واشنگٹن میں ہو یا ماسکو میں‘ پیرس میں ہو یا بیجنگ اور دہلی میں‘ کہیں بھی اسلام کا دوست نہیں بن سکتا۔ پھر شکایت کس لیے؟
اور جہاں تک سائنس اور ٹکنالوجی میں کم تری کا سوال ہے تو کیا ویت نام اور کیوبا اس لحاظ سے اپنے دشمن [امریکا] سے برتر ہیں کہ انھوں نے اس کے دانت کھٹے کر دیے؟
سوال یہ ہے کہ سائنس و ٹکنالوجی کی جتنی قوت پہلے سے ہمارے مسلم عرب حکمرانوں کے پاس تھی‘ کیا وہ ہمارے کام آئی۔ اگر ہمارے لڑاکا جنگی طیارے اُڑ نہ سکے‘ ہمارے میزائل فائر نہ ہوسکے اور ہمارے ٹینک آگے نہ بڑھ سکے تو اور مزید قوت حاصل کرلینے سے ہمارا کیا بھلا ہوجاتا؟ اگر جنگ کے فیصلے کا دارومدار اسلحے اور تعداد پر ہوتا تو آج اسلام دنیا میں کہیں نظر بھی نہ آتا۔
دراصل اتنا بڑا المناک حادثہ جس قانونِ الٰہی کے تحت ہوا ہے۔ وہ اس لیے کہ جب اللہ کی طرف سے کتاب پانے والی قوم اس کتاب کو پیچھے ڈال کر اللہ کے مقابلے میں سر اٹھاتی ہے‘ اللہ کی کتاب کو غالب کرنے کا مشن بھول کر ہر گمراہی کے پیچھے دوڑتی ہے اور اس کے اپنے اندر جو لوگ اس کتاب پر عمل کی دعوت دیتے ہیں ان کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتی ہے‘ اور ان کا خون بہاتی ہے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوکر دنیاوی طاقتوں کے آگے سجدہ ریز ہوجاتی ہے___ تو اللہ تعالیٰ اس پر دشمنوں کو مسلط کرکے اس کی عزت و آبرو کو ملیامیٹ کردیتا ہے۔ منکرین پر تو اس کا عذاب اکثر طوفان‘ کڑک اور زلزلہ کی صورت میں آکر ان کو مٹادیتا ہے‘ لیکن اپنے سے بے وفائی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ مٹانے کے بجاے ذلیل و خوار کر کے رہتی دنیا میں ایک سامانِ عبرت بناکر رکھ دیتا ہے:
اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُھُمْ اَنَّ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ o (اٰل عمرٰن ۳:۸۷) ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے۔
خدا کے اس قانون کی بہترین مثال خود بنی اسرائیل ہیں‘ جن کا ذکر قرآن نے شروع میں ہی اتنی تفصیل سے اسی لیے کیا ہے کہ مسلمان اس انجام سے ہوشیار رہیں‘ جو ان کے حصہ میں آیا ___وہ ہم مسلمانوںسے پہلے کتابِ الٰہی کے حامل تھے۔ پھر انھوں نے اپنے خدا سے بے وفائی کی تو اللہ نے ان کو اس لیے زندہ نہ رکھا کہ وہ زندہ رہنے کے مستحق تھے‘ بلکہ اس لیے کہ خدا سے بے وفائی کی سزا یہی ہو سکتی تھی کہ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھریں۔ اس لیے بھی کہ اگر ان کے بعد آنے والی اُمت بھی خدا سے بے وفائی کرے تو اس پر انھی کو مسلط کیاجائے۔
سوچنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت مسلم اُمہ ہم نے وہ کون سے اعمال کیے ہیں کہ مشیت الٰہی نے یہ تک گوارا کرلیا کہ جس قوم کو وہ ذلیل کر کے دنیا میں تتربترکرچکی تھی‘ اسی کو وہ ہمارے اُوپر مسلط کرنے کے لیے دوبارہ کھڑا کر لائے۔ ظاہر بات ہے کہ جس درخت نے بنی اسرائیل کی جھولی کانٹوں سے بھر دی تھی اگر وہی درخت ہم بوئیں گے‘ تو ہماری جھولی میں پھول نہیں گریں گے بلکہ ویسے ہی کانٹے گریں گے۔ خدا کا قانون نہ بدل سکتا ہے اور نہ جانب داری برت سکتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل کے راستے پر چل کر ہمارا انجام ان سے مختلف ہوتا تو خدا کے عدل پر سوال اٹھایا جاتا۔
ذرا تورات اُٹھا کر دیکھیے تو بنی اسرائیل کے اعمال اور ان کی سزا کے آئینے میں ہم کو اپنی تصویر نظر آئے گی۔ تورات کہتی ہے:
ویسے تو پوری اُمت مسلمہ کسی نہ کسی طرح اسی تصویر کا ایک نمونہ ہے لیکن اس کا وہ حصہ جو اس جنگ میں اسرائیل سے برسرِپیکار تھا‘ اس کی قیادت تو ایسے عناصر کے ہاتھ میں تھی جو خدا سے بے وفائی‘ اسلام دشمنی اور مسلمانوں کا خون بہانے میں سب سے ہی آگے بڑھ گئے تھے۔
ان عناصر میں سب سے نمایاں مثال مصر کے آمرمطلق جمال عبدالناصر[م: ۱۹۷۰ئ] کی ہے۔ ہر مسلمان کو جاننا چاہیے کہ پچھلے چودہ سال سے وہ کس روش پر گامزن رہے ہیں۔ یہ جاننے سے اس سوال کا جواب ملے کہ یہ عبرت ناک حادثہ کیسے پیش آیا۔
خدا کے دیے ہوئے دین کے ساتھ ان کا سلوک یہ رہا ہے کہ اپنے ریاستی دستور سے کھلم کھلا اسلام کو خارج کر کے عرب سوشلزم (قوم پرستی+سوشلزم) کو سرکاری مذہب کے طور پر اختیار کیا۔ مسلمان ہونے کے بجاے عرب ہونے پر فخر کیا۔ عربوں میں سے بھی ان ممالک کو جو سوشلسٹ پارٹیوں کے زیرنگیں نہ تھے‘ انھیں مسلمان اور عرب ہونے کے باوجود دشمن اور گردن زدنی قرار دیا۔ اس عبرت ناک جنگ سے صرف تین ہفتے پہلے ناصرصاحب نے ایک ہی سانس میں‘ اسرائیل کے ساتھ ساتھ سعودی عرب‘ اُردن اور تیونس کو مغربی استعمار کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے مٹا دینے کی دھمکی دی۔
حد یہ ہے کہ اس پوری جنگ میں نہ عالمِ اسلام کو مدد کے لیے پکارا‘ اور نہ اپنی قوم کو اسلام کے لیے لڑنے کی دعوت دی۔ قوم کو اس کلمہ کی بنیاد پر لڑائی کے میدان میں نہیں اتارا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے‘ یعنی لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، بلکہ وہ اس کلمہ پر میدانِ جنگ میں اترے جو عیسائی پادریوں نے سکھایا اور جو عربیت کا کلمہ ہے‘ یعنی اللّٰہ اکبر والعزۃ للعرب___ حالاں کہ مسلمان تو بنا ہی ایسے خمیر سے ہے کہ وہ صرف فی سبیل اللّٰہ ہی لڑنے اور مرنے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔ فی سبیل العرب [عرب کے لیے] مرجانے کا جذبہ وہ کہاں سے لاتا‘ جب کہ اس کو یہ معلوم تھا کہ جو وطن کے لیے مرا وہ جاہلیت کی موت مرا۔
قوم پرستی کا مذہب صدر ناصر کو اتنا عزیز ہوا کہ اس کی خاطر انھوں نے فرعونی تہذیب کو دوبارہ زندہ کیا۔ اس کی تصویریں نوٹوں اور ٹکٹوں پر چھاپیں‘ اس کے مجسّمے بازاروں میں لگائے اور اس بات پر فخر کیا: ’’ہم فرعون کی اولاد ہیں‘‘۔ حد یہ ہے کہ بوسمبل کے بتوں کے نیچے قرآن کے نسخے دفن کیے۔ اس جسارت کے بعد کیا مشیت ایزدی صرف اس لیے جدید فرعونیت کی تائید کرتی کہ بدقسمتی سے وہ اُمت محمدیہ میں پیدا ہوگئی ہے!
معصوموں کا خون بہانے میں وہ اس حد تک نکل گئے کہ اپنی قوم کے مصلحین اور مجاہدین تک کو بے دریغ پھانسی پر چڑھا دیا۔ اخوان المسلمون جس ظلم و ستم کا نشانہ بنائے گئے ہیں‘ اس ظلم کو زبان بیان نہیں کر سکتی اور آنکھ نم ہوئے بغیر سنا نہیں جاسکتا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ قرآن کی طرف دعوت دے رہے تھے اور عرب قومیت اور سوشلزم کے بجائے اسلام پر چلنا چاہتے تھے حالانکہ یہ وہی اخوان تھے جنھوں نے ۱۹۴۸ء میں خاک و خون میں لوٹ کر اور اپنی جانیں قربان کرکے بغیرکسی حکومت کی پشت پناہی کے اسی اسرائیل کو اسی صحرائے سینا اور بیت المقدس میں آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔
مسلمانوں کے مفادات کے حوالے سے تو عرب قوم پرستی کے علم بردار جمال عبدالناصر کی دردمندی کا یہ عالم ملاحظہ ہو:
خدا سے اپنے بندھن توڑ ڈالنے‘ خدا کی مخالف قوموں کے سے کام سیکھنے‘ معصوموں کا خون بہانے‘ (نعوذ باللہ) کلامِ الٰہی کو حقیر جاننے کے بعد‘ اگر یہ بدکرداری پہلے بنی اسرائیل پر دیوار کی طرح گری تھی تو اب ہمارے اُوپر کیوں نہ گرے ___ اگر ان پر خدا کا قہر بھڑکا اور ان کے دشمن ان پر حکمران ہوگئے تو ہمارے اُوپر قہرالٰہی کیوں نہ بھڑکے اور ہم پر ہمارے دشمن کیوں نہ مسلط ہوں۔
ہم نے مصر کا تذکرہ اس لیے تفصیل سے نہیں بیان کیا کہ ان جرائم کا ارتکاب صرف وہیں پر ہوا ہے۔ آپ کسی بھی مسلمان ملک کو اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ اس پیمانے پر نہ سہی لیکن کم و بیش یہی داستان ہر جگہ دہرائی جارہی ہے۔ ہر جگہ: پاکستان‘ تیونس‘ الجیریا‘ انڈونیشیا وغیرہ میں جنگِ آزادی اسلام کے نام پر لڑی گئی‘ مگر ہر جگہ آزادی کے بعد عوام کو اختیارات سے بے دخل کرکے اس بات کی کوشش کی گئی کہ اسلام سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ ہر جگہ اسلام کے احکام و حدود کو پامال کیا گیا۔ ہرجگہ اسلام کے علم برداروں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا۔ ہر جگہ وطنیت اور قوم پرستی کو پروان چڑھایا گیا اور ملکی مفادات پر عالمِ اسلام کے مفادات کو قربان کیا گیا۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ جتنی مسلم ریاستیں ہیں‘ بنی اسرائیل کی طرح اتنے ہی ان کے معبود ہیں۔ ممکن ہے یہ معبود پتھر کے بتوں کی صورت میں نہ موجود ہوں‘ لیکن ڈالر‘ روبل‘ اور پونڈ کی صورت میں بالضرور موجود ہیں۔ مسلم ممالک میں سے کسی کا قبلہ لندن‘ کسی کا واشنگٹن‘ کسی کا ماسکو اور کسی کا بیجنگ ہے‘ لیکن یہ بت نہ آج تک ہم کو مصیبت سے بچا سکے ہیں اور نہ آیندہ یہ ہمارے کسی کام آئیں گے۔ یہ سب جھوٹے سہارے ہیں اور کفر کا کوئی بھی ایڈیشن ہو‘ خو اہ وہ سرمایہ داری ہو‘ قوم پرستی ہو‘ یا سوشلزم‘ وہ اسلام کا اور مسلمان کا حقیقی دوست ہرگز نہیں بن سکتا۔ یہ ہماری انتہائی سادہ لوحی اور بیوقوفی ہے کہ ہم پھر انھی جھوٹے سہاروں سے امیدیں باندھ رہے ہیں اور انھی کی طرف دوڑ دوڑ کر جارہے ہیں‘ حالانکہ مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔
سب راستے آزمانے کے بعد اور ہر طرف سے ٹھکرائے جانے کے بعد ہم کو اچھی طرح جان لینا چاہیے‘ کہ ہمارے لیے عزت و سربلندی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے مخلص بندے بن جائیں۔
دنیا کی غالب قوموں اور گمراہ نظریات‘ یعنی سرمایہ داری‘ قوم پرستی اور سوشلزم کو چھوڑ کر اسلام کا راستہ اختیار کریں۔ دین حق کی نصرت کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ خدا سے بے وفائی چھوڑ کر اس کے وفادار بنیں اور اس کے ساتھ اپنا عہد پورا کریں۔ اس نے جس کام پر ہم کو مامور کیا ہے اور جو مشن ہمارے سپرد کیا ہے‘ یعنی اس کی اطاعت کی دعوت اور اس کے دین کا غلبہ‘ اس کو پورا کرنے کے لیے تن‘ من‘ دھن سے لگ جائیں۔
اگر ہم اللہ کی مدد کریں گے تو اللہ ہماری مدد کرے گا۔ اللہ ہماری مدد کرے گا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارے اُوپر غالب نہیں آسکتی۔ یہ اس کا وعدہ ہے جو خدا کی قسم‘ غلط نہیں ہو سکتا۔ اس نے اپنی قوم کو کہیں ذلیل نہیں کیا جب تک وہ اس کی رہی اور جب اس نے دوسروں سے آشنائی کی تو اس نے اسے کبھی معاف نہیں کیا۔
یہ بات ہم کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ جو قوم کسی ایک راستے کے لیے یکسو نہ ہو وہ ہمیشہ دوسروں کی جھولی بلکہ قدموں میں گری رہے گی اور دنیا میں اس کا اپنا کوئی مقام نہیں ہوگا۔ اب اس کو کیا کہیے کہ مسلمان قوم کا مزاج ہی ایسا ہے کہ ان کے حکمران چاہے لاکھ دماغ سوزی کریں‘ وہ قوم پرستی‘ سوشلزم اور دنیا پرستی کے لیے یکسو نہیں ہوسکتی۔ وہ صرف اپنے دین ہی کے لیے یکسو ہوکر بے نظیر کارنامے دکھا سکتی ہے۔
تاہم‘ یہ اسلام کے لیے یکسو نہ ہونے کا نتیجہ ہے کہ آج سارا عالمِ اسلام اتنی عظیم الشان آبادی اور اتنے وسیع وسائل و ذرائع کے باوجود پارہ پارہ ہے اوردوسروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہے۔ لیکن عالمِ اسلام کے اتحاد کی ہر دعوت صدا بہ صحرا ثابت ہوگی‘ جب تک ہر مسلمان ملک کی قیادت اخلاص سے اسلام کے راستے پر چلنا شروع نہ کر دے۔
اس معاملے میں بحیثیت پاکستانی ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو کسی نسلی یا علاقائی قومیت کے بجاے اسلام کی بنیاد پر بنا ہے اور جس نے اپنے پروردگار سے علانیہ عہد کیا ہے کہ یہاں اسلامی حکومت قائم ہوگی۔ جب تک ہمارا یہ عہد بیان کی دنیا سے نکل کر عمل کی دنیا میں پورا نہ ہوگا‘ اس وقت تک ہمارا پروردگار ہم سے خوش نہ ہوگا۔
آج سارا عالمِ اسلام ہماری رہنمائی کا منتظر ہے اور اس کی نگاہیں ہماری طرف لگی ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہمارا ہر جوان‘ مرد‘ عورت‘ بوڑھا‘ بچہ اس کام میں لگ جائے کہ پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنایا جائے اور خدا کی ہر نافرمانی کو ترک کر کے اس کی اطاعت کو اختیار کیا جائے۔ اس کے بعد عالمِ اسلام بھی متحد ہوجائے گا۔ اس کے بعد ہم مشقت کی زندگی بسر کرکے اسلحہ کے کارخانے بھی بنائیں گے۔ پھر اگر ہماری تعداد کم بھی ہو اور ہمارے پاس اسلحہ نہ بھی ہو تو ہمارا ایک آدمی دس دشمنوں پر بھاری ہوگا۔
آیئے! ہم میں سے ہر آدمی اس تازیانۂ عبرت سے سبق حاصل کر کے اپنے خدا سے اپنا تعلق جوڑے‘ اس کی اطاعت کا عہد کرے اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں نکل کھڑا ہو۔
غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ البقرہ کو کچھ متعین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جن کے اپنے موضوع ہیں لیکن ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ ان حصوں کو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بتائی گئی ہے‘ لیکن غوروفکر اور تفہیم کو بہت آسان کردیتی ہے۔ میری فہم کے مطابق سورت کے ایسے سات حصے ہیں:
حصہ اوّل: آیات ۱ تا ۳۹ (۳۹ آیات)۔ ہدایت کی بنیادیں۔
حصہ دوم: آیات ۴۰ تا ۱۲۳ (۸۴ آیات)۔ بنی اسرائیل‘ ایک مسلم اُمّت زوال کی کیفیت میں‘ عہدشکنی اور قلب و عمل کے امراض۔
حصہ سوم: آیات ۱۲۴ تا ۱۵۲ (۲۹ آیات)۔ پیغمبرانہ مشن اُمّت مُسلمہ کے سپرد کرنا۔
حصہ چہارم: آیات ۱۵۳ تا ۱۷۷ (۲۵ آیات)۔ کلیدی انفرادی خصائص‘ دین اور شریعت کے بنیادی اصول۔
حصہ پنجم: آیات ۱۷۸ تا ۲۴۲ (۶۵ آیات)۔ اجتماعی زندگی کے اصول‘ قوانین اور ادارے (عبادت‘ جان و مال اور خاندان کا تقدس)۔
حصہ ششم: آیات ۲۴۳ تا ۲۸۳ (۴۱ آیات)۔ مشن کی تکمیل کی کلید: جہاد اور انفاق۔
حصہ ہفتم: آیات ۲۸۴ تا ۲۸۶ (۳ آیات) ۔اخلاقی اور روحانی ذرائع۔
ھدایت کی بنیادیں (آیات: ۱- ۳۹)
ان آیات میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں‘ اور ان کی بھی جویہ فائدہ نہیں اٹھاتے۔
یہ بڑی اہم بات ہے کہ سورت کا آغاز اس اعلان سے ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کی سند کے ساتھ ہے۔ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ ،یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شبہ نہیں (آیت: ۱)۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اعلان پورے قرآن میں بہت سی سورتوں کے آغاز اور درمیان میں اکثر دہرایا گیا ہے۔ اس طرح قاری کامل احترام‘ ذوق طلب اور سمجھنے اور سرِتسلیم خم کرنے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ کتاب کس مقصد سے نازل کی گئی ہے؟ ہدایت دینے کے لیے۔ کس کو ہدایت دینی ہے اور کس بات کی ہدایت دینی ہے؟ ہدایت ان کے لیے جو مُتّقین ہیں‘ جن میں نیکی ‘ خدا کا شعور‘ یعنی تقویٰ کی صفت پائی جاتی ہے‘ یا ان کے لیے ہدایت جو مُتّقین بننا چاہتے ہیں۔
مُتّقین کی صفات کچھ تفصیل سے بیان کی گئی ہیں (آیت ۲ تا ۵)۔ یہ ہم کو یہاں روک نہ لیں‘ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر آگے قرآن مُتّقین کا تفصیلی بیان تعمیر کرتا ہے۔
ھُدًی لِلمُتّقینکا مطلب عام طور یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف وہی لوگ جو تقویٰ اور اس سے پیدا ہونے والی صفات رکھتے ہیں قرآنی ہدایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر اسے ایک لازمی پیشگی شرط سمجھا جائے تو ان صفات کو ان کے اصل لغوی مفہوم میں سمجھنا چاہیے نہ کہ مکمل قرآنی مفہوم میں۔ ورنہ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہدایت پانے کے لیے آدمی کو پہلے ہی ہدایت یافتہ ہونا چاہیے۔ ایک مفہوم میں یہ معانی بھی درست ہیں۔ اس لیے کہ تقویٰ اختیار کرنے کے امکانات لامحدود ہیں۔ ابتدا سے ترقی یافتہ اور اعلیٰ مراحل تک جانے کے لیے کسی نہ کسی درجے میں تقویٰ موجود ہونا چاہیے۔
وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی ہے‘ اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے‘ اور انھیں ان کے حصے کا تقویٰ عنایت کرتا ہے۔ (محمد ۴۷:۱۷)
مگر ایک بامعنی اور بہتر مفہوم یہ ہے کہ قرآن کی ہدایت افراد اور افراد کے گروہوں یا قوموں کو مُتّقین بننے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اسی طرح جیسے کہ ہم کہتے ہیں یہ ایم اے کا کورس ہے تو ہمارا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کورس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایم اے ہونا پیشگی شرط ہے۔ ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کورس ایک آدمی کو ایم اے تک پہنچا دے گا۔ پس ابتدائی آیات (۱-۵) بیان کرتی ہیں کہ قرآن کس طرح افراد اور قوموں کو مُتّقین بنانے کے لیے آیا ہے۔ صراطِ مستقیم بھی تقویٰ کی زندگی ہے۔ آگے ہم دیکھیں گے کہ تقویٰ کی زندگی اور اس دنیا میں اور آخرت میں اس کے خوش گوار نتائج قرآن کا مستقل موضوع ہیں۔
اصل لغوی مفہوم میں پیشگی شرط کے طور پر تقویٰ سے مراد صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت‘ اور وہ باطنی طاقت ہے جس سے آدمی صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط تسلیم کرے اور جس بات کو غلط تسلیم کرے اس سے اپنے آپ کو بچانے پر قادر ہو۔
پھر ان لوگوںکا بیان ہے جو اللہ کی ہدایت سے ہرگز فیض یاب نہ ہوں گے۔
اس میں سب سے پہلے وہ لوگ ہیں جو اپنی مرضی سے قرآن کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کرنے پر مُصر ہیں۔ نتیجتاً ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے (آیات: ۶-۷)۔ پھر وہ لوگ ہیں جو بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر درحقیقت ایمان نہیں رکھتے (آیات: ۸-۲۰)۔ ان کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک سرے پر وہ لوگ ہیں جو دشمن ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں‘ فساد پھیلاتے ہیں اور انھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کا سودا کرلیا ہے (آیت:۱۶)۔ یہ اپنی مرضی سے منافق ہیں: اندھے بہرے اور گونگے‘ یہ لَوٹنے والے نہیں ہیں (آیت: ۱۸)۔ دوسرے سرے پر وہ لوگ ہیں جو ایمان تو رکھتے ہیں لیکن ایمان جب آزمایش اور قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے تو ثابت قدم نہیں رہتے۔ یہ ایمان اور ارادے کے ضعف کی وجہ سے منافق ہیں: جب روشنی ہوتی ہے تو چلتے ہیں اور جب ان کے گرد تاریکی چھا جاتی ہے تو وہ ٹھیر جاتے ہیں۔ (آیت: ۲۰)
اس کے بعد یہ سورت ساری انسانیت کو قران کے مرکزی پیغام کی طرف بلاتی ہے: صرف اللہ کی عبادت کرو‘ کسی کو اس کے برابر یا شریک نہ بنائو (آیات :۲۱-۲۲)۔ اس پیغام کو مستند بنانے کے لیے یہ قرآن کے من جانب اللہ ہونے کو اور اس طرح رسولؐ کی حقانیت کو ثابت کرتی ہے (آیات ۲۳-۲۵)۔ ان دونوں کا رشتہ زندگی کے مقصد اور معانی کے ساتھ جوڑنے کے لیے یہ زندگی بعد موت کی حقیقت کو واضح کرتی ہے (آیات: ۲۸-۲۹)۔ درمیان میں ان لوگوں کی فکر اور اخلاق کے امراض بیان کیے جاتے ہیں جو قرآن سننے کے باوجود گم کردہ راہ ہیں۔ وہ قرآن خصوصاً اس کی مثالوں پر سوال اٹھاتے ہیں‘ شبہ ظاہر کرتے ہیں اور جھگڑتے ہیں: وہ عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑتے ہیں‘ اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے ‘ اسے کاٹتے ہیں‘ اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ (آیت: ۲۷)
اس طرح ہم ان آیات (۲۱ تا ۲۹) میں قرآن کے مکمل پیغام کا رواں خلاصہ پاتے ہیں۔
آیات ۳۰ تا ۳۹ میں تخلیق انسانی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے قرآن کا تصورِ جہاں‘ عالمی نظریہ(world view) اور فطرتِ انسانی کا اس کا تصور واضح ہوتا ہے۔ انسان کو علم اور ارادے کی آزادی دی گئی ہے۔ وہ زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے۔ اس لیے اس کو اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود اور ہدایات کے اندر زندگی گزارنا چاہیے۔ ایسا کرنے کے لیے اسے خیر اور شر کے درمیان انتخاب کرنے کی مسلسل کش مکش کا سامنا ہے۔ وہ اخلاقی طور پر ذمہ دار اور ایک آزاد ہستی ہے‘ اس لیے اس سے اس کش مکش میں گناہ کرنے کا امکان ہے۔ خیروشر کی اس کش مکش کا مقابلہ کرنے کے لیے اور اپنے گناہوں پر قابو پانے کے لیے اس کو اللہ کی طرف سے دو نعمتیں دی گئی ہیں۔ اوّل: توبہ قبول کرنے کا وعدہ‘ یعنی جب بھی گناہ کرنے والا اس کی طرف پلٹ کر آئے اسے معاف کرنے کا وعدہ‘ جیسے اس نے حضرت آدم ؑکو معاف کیا (آیت: ۳۷)۔ دوم: اللہ کی طرف سے ہدایت بھیجنے کا وعدہ‘ جیساکہ اس نے حضرت آدم ؑکو بتایا تھا۔ (آیت: ۳۸)
ان لوگوں کے بیان کے فوراً بعد جو قرآن کی ہدایت سے فائدہ اٹھائیں یا نہ اٹھائیں‘ پوری انسانیت کو خالق و مالک‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دے کر اور پھر تخلیق انسانی کے واقعے کو بیان کرکے قرآنی تصورِ جہاں‘ انسانی نفسیات اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور معافی پر انسان کے مکمل انحصار (آیات: ۳۰-۳۹) کا ذکر کرتے ہوئے البقرہ کا رخ ۸۴ طویل آیات میں‘ جو ایک تہائی سورت کے برابر ہیں‘ اپنے وقت کی یہودی قوم‘ بنی اسرائیل کی طرف مڑجاتا ہے۔ وہ اُنھیں اللہ تعالیٰ کے بے پایاں انعامات کی یاد دلاتا ہے اور ان کی ناشکری‘ احکامات سے اُن کی سرتابی اور ان کے قلب اور ایمان و عمل کے بڑے بڑے امراض کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ مختصراً‘ یہ اللہ تعالیٰ سے عہدشکنی کی ایک طویل داستان ہے۔ قرآن ایسا کیوں کرتا ہے؟ وہ بالکل آغاز ہی میں اتنے اہم موقع پر کیوں بنی اسرائیل سے اتنی تفصیل سے بحث کرتا ہے؟ سب سے پہلے ہم اس اہم سوال پر غور کرتے ہیں۔
کیا یہ مدینے میں یہودیوں کی موجودگی کی وجہ سے ہے؟ یقینا مدینے میں یہودی موجود تھے۔ انھیں اسلام کی طرف دعوت دی جانی تھی اور قرآن کو ان کی جہالت سے‘ اور رسولؐ اللہ اور ان کے پیغام کے ساتھ ان کا جو رویہ تھا‘ اس سے بحث کرنا تھی۔ اس لیے یقینا یہ ان آیات کی ایک وجہ یا شانِ نزول تھی۔ لیکن یہ اس حصے کے طول‘ اس کے موضوعات اور اُس کے سیاق کی توجیہہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
کیا یہ جیساکہ بہت سے مستشرقین کا خیال ہے‘ رسولؐ اللہ کو تسلیم کرنے سے یہودیوں کے شدید انکار اور شدید مخالفت پر مایوسی اور غصے کی وجہ سے ہے؟ اس مؤقف کی تائید میں کوئی تاریخی گواہی یا روایت نہیں ملتی۔ قرآن اس طرح کا کلام نہیں ہے جس کا مقصد اپنے دشمنوں کے خلاف غصہ نکالنا ہواور پھر اس کو بالکل آغاز ہی میں رکھ دے‘ تاکہ آنے والے سب زمانوں میں اس کے تمام قارئین اس کا مشاہدہ کریں۔ یہاں اس طرح کا غصہ اور مذمت نہیں ہے جس طرح کا ہم بائبل میں پاتے ہیں۔ رسولؐ اللہ یہودیوں سے معاملہ کرنے میں بہت آگے تک گئے‘ اور پوری تاریخ میں مسلمانوں نے ان سے ہمیشہ بہت اچھا سلوک کیا۔
اس کا اصل مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہودیوں کی مذمت کرنا معلوم نہیں ہوتا‘ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دراصل تمام زمانوں کے مسلمانوں کے لیے آئینہ فراہم کیا گیا ہے‘ تاکہ وہ اسے اپنے سامنے رکھ کر اپنے حالات اور تقدیر کا صحیح عکس دیکھ سکیں۔ قرآن کا بیان بنی اسرائیل کی اپنے مشن کو پورا کرنے میں ناکامی کے بارے میں فیصلہ بھی صادر کرتا ہے اور اس طرح اللہ کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے محمد رسولؐ اللہ کی قیادت میں ایک نئی مسلم اُمّت کو ان کی جگہ دینے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
قرآن میں تاریخ کا بیان تاریخ کی خاطر نہیں ہے۔ مخصوص اقوام کے نام دیے گئے ہیں لیکن یہ نام محض عنوانات ہیں۔ ان کے حالات کا تذکرہ دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ ان اقوام کے ساتھ کیا گزری اور کیوں گزری۔ ان سے دوسرے لوگوں کو سبق سیکھنا چاہیے۔
مسلمان ایک نئی ظہور پذیر اُمّت تھے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے امین اور انبیاے کرام‘ خصوصاً آخری نبی ؐ کے مشن کے علم بردار کی حیثیت سے مقرر کیے گئے تھے جیسا کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل تھے۔ ان کی تاریخ کو ابھی ظاہر ہونا تھا اور مستقبل کی تاریخ کے بارے میں کوئی پیش گوئی‘ مثال‘ سبق یا تنبیہ نہیں ہوسکتی تھی۔ عاد و ثمود کے لوگ مسلمان نہیں تھے لیکن بنی اسرائیل نے تو مسلمانوں کی طرح توحید کا پیغام قبول کیا تھا۔ وہ مسلمانوں کی طرح اس پیغام کی گواہی کے مشن پر سرفراز کیے گئے تھے۔ درحقیقت وہ اپنے وقت کی مسلم اُمّت تھے لیکن زوال کی حالت میں۔ اس لیے ان کی تاریخ اور رویّے مطالعے کے لیے بہترین موضوع تھے جو مسلمانوں کے سامنے شروع ہی میں رکھے جاتے۔ وہ اس آئینے میں وہ سب کچھ دیکھ سکتے تھے جو ان کے ساتھ پیش آسکتا تھا۔ مقصد یہودیوں کو موردالزام ٹھیرانا نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر نہ چلیں۔ یہ آئینہ مسلمانوں کو دکھاتا ہے کہ کیا‘ کہاں اور کیوں غلطی ہوسکتی ہے اور اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ جیساکہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: تم بنی اسرائیل کے راستوں پر چلو گے‘ قدم بہ قدم۔ (مسلم)
اس لیے اگرچہ خطاب بنی اسرائیل سے ہے‘ اصل مخاطب مسلمان ہیں جو حامل قرآن اور اس کے امین ہیں۔ اس روشنی میں پڑھیے‘ کُل کی کُل ۸۴ آیات زندہ ہوکر سامنے آجاتی ہیں۔ وہ ابھی اور اسی وقت ہم مسلمانوں کے لیے پُرمعانی ہوجاتی ہیں۔ ہمیں نظرآتا ہے کہ اسرائیلی تاریخ کے مخصوص واقعات‘ مثلاً سنہرا بچھڑا ہمارے ماضی اور حال کے واقعات ہیں۔
اگر ہم اس حصے کا زیادہ غور سے مطالعہ کریں تو اسے باہم مربوط تین ذیلی حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ اس طرح تو ہم اسے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
پہلا ذیلی حصہ (آیات ۴۰- ۴۶) بنی اسرائیل سے ایک عام دعوتی خطاب ہے۔ یہ حصہ اس بارے میں نہایت قیمتی ہدایت فراہم کرتا ہے کہ ایک زوال پذیر مسلم اُمّت کے سامنے دعوت کس طرح پیش کی جائے۔ یہ بتاتا ہے کہ موضوعات کیا ہوں‘ انداز کیا ہو‘ ترجیحات کیا ہوں‘ اور کن امور پر زور دیا جائے۔یہ ایسی اُمّت کے احیا کے طریقے اور پروگرام کے لیے نشاناتِ راہ بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ کھول کھول کر بتاتا ہے کہ دعوت و اصلاح کے کام میں کس حکمت کو اختیار کیا جائے۔ دیکھیے کہ بنی اسرائیل پر کسی بڑے حملے کے بغیر‘ ان کی بڑی بڑی کمزوریاں واضح ہو جاتی ہیں۔
قرآن سب سے پہلے اس نعمت کو یاد دلاتا ہے جو اللہ نے ہدایت کی صورت میں انھیں عطا کی اور انھیں اُبھارتا ہے کہ وہ اس کے لیے اللہ کے شکرگزار ہوں۔ پھر وہ انھیں پُرزور طریقے پر دعوت دیتا ہے کہ اس ہدایت کے حوالے سے اللہ سے اپنے عہد کو پورا کریں۔ ہماری اُمّت کے احیا کے لیے بھی اگر کوئی تحریک ہو تو یہ یاددہانی اور دعوت اس کا آغاز اور حقیقی بنیادی پتھرہونا چاہیے۔ پھر وہ ان کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے مسلمان ہونے کے دعوے کی بنا پر ‘انھیں ایمان کا راستہ اختیار کرنے والوں کا ہراول دستہ ہونا چاہیے۔ یہ ایمان‘ آخری رسولؐ اور جو کتاب انھیں دی گئی ہے اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے پر مرکوز ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ایمان کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو‘ نفاق کو بھی جڑ سے اُکھاڑ پھینکو‘ اس لیے کہ نفاق ایمان کے لیے سرطان کی طرح ہے۔ لیکن دیکھیے کہ منافقوں سے الزامی انداز :تم منافق ہو‘ کے بجاے کیا تم …؟کا استفہامی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ آخر میں‘ عہد پورا کرنے کے عظیم کام کو انجام دینے کے لیے جس استقامت کی ضرورت ہے‘ اس کے راز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے‘ یعنی صبر اور صلوٰۃ۔ دونوں صرف اس صورت میں حاصل کیے جا سکتے ہیں کہ اللہ سے روزِ قیامت ملاقات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔
زیادہ گہرا غوروفکر کیا جائے تو اس خطاب کی‘ اُس خطاب سے جو پوری سورۃ البقرہ میں مسلم اُمّہ سے کیا گیا ہے‘ غیرمعمولی مماثلت نظرآئے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سات آیات میں بعد کے تفصیلی بیان کا خلاصہ آگیا ہے۔
دوسرا ذیلی حصہ‘ جو ۴۷ تا ۷۴ آیات پر مشتمل ہے‘ بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے اہم نشاناتِ منزل اور ان مواقع پر ان کے رویوںکو یاد دلاتا ہے۔ ہر واقعہ محض ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک اہم سبق ہے جو ان کی زندگی کے کسی اہم پہلو سے بحث کرتا ہے۔ غوروفکر کیا جائے تو ہر واقعہ اپنے سبق‘ اپنے قیمتی معانی‘ فکروعمل کے کسی اہم مرض یا کسی انحراف پر روشنی ڈالتا ہے جس کی وہ علامت ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ان واقعات کو منتشر طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے‘ بلکہ مربوط کر کے بامعنی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر سنہرے بچھڑے کا واقعہ اس دنیا کی اشیا سے محبت کو پرستش کے لائق قرار دینے کی علامت ہے (آیت:۵۱)۔ یہ واقعہ فرعون سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کی بہت بڑی نعمت کے معاً بعد پیش آیا۔ کتاب کا ملنا اور عہدوپیمان ابھی نہیں ہوئے تھے۔ یہ محبت جب اللہ سے محبت کے مقابلے پر آئے اور اس پر غالب ہوجائے تو زوال کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔ من و سلویٰ کا انکار‘ اللہ سے اپنے عہد کو پورا کرنے کے لیے جہاد کی زندگی سے انکار کی علامت تھا جس میں پُرآسایش‘ آرام دہ اور جمی جمائی زندگی کے بجاے سختیاں اور قربانیاں ہوتیں۔
ترکِ جہاد سے بالآخر ذلّت و مسکنت مسلّط ہو جاتی ہے (آیت: ۶۱)۔ اسی طرح اصحاب سبت نے اللہ کے ساتھ جو چالیں چلیں (آیت:۶۵)‘ اور گائے کی قربانی کے معاملے میں جس طرح بال کی کھال نکالنے کا اور حجت بازی کا مظاہرہ کیا‘ اس کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ یہ شریعت اور اطاعت کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔ جب شریعت ایک بے وقعت چیز ہوجائے‘ جس کی پیروی کرنے کے بجاے اس سے کسی طرح بچنے کی فکر کی جائے‘ تو انسان کے اندر کا متحرک وجود جمود کا شکار ہوتا ہے اور دل پتھر سے زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ (آیت:۷۴)
یہ دیکھنا بالکل مشکل نہ ہونا چاہیے کہ ہماری اُمّت کے شریعت اور جہاد کو اسی طرح ترک کرنے سے غیرملکی اقوام (خواہ وہ منگول ہوں یا مغرب) کی غلامی اور دلوں کے پتھر ہوجانے کی کیفیت سامنے آتی ہے۔
تیسرا ذیلی حصہ جو ۷۵ تا ۱۲۳ آیات پر مشتمل ہے‘ بنی اسرائیل کی تاریخ سے آگے بڑھ کر ان کے قلب و ذہن‘ ایمان و عمل اور طریقوں اور رویوں کی موجودہ کیفیت کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ خاص طور پر جو بات بیان کی گئی ہے وہ ان کا اللہ کے آخری رسولؐ کا انکار اور مخالفت ہے۔ مگر بتایا گیا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے‘ اسی طرح کے رویوں کی طویل تاریخ کا تسلسل ہے۔
اب آپ ہر الزام کو‘ چارج شیٹ کے ہر نکتے کو‘ الگ الگ لیں اوران پر غور کریں۔ آپ اُمّت مُسلمہ کے زوال وا حیا میں نہ صرف ان کا کلیدی کردار پائیں گے‘ بلکہ گذشتہ زمانوں میں مسلم اُمّت کی جو حالتیں رہی ہیں ان سے بہت زیادہ مشابہت بھی پائیں گے۔ بنی اسرائیل نے حق کو جاننے اور قبول کرنے سے جان بوجھ کر انکار کیا۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی کیا۔ یہود‘ خدا کی کتاب کے معانی اور پیغام سے مکمل طور پر انجان بن گئے اور اس کے بجاے خیالی دنیا میں رہنے لگے (آیت:۷۸)۔ یہی حال مسلمانوں کا ہوا۔ ان کے فاضل علما نے مقدس کتاب کے متن کو اس طرح توڑا مروڑا کہ مفیدِ مطلب معانی نکلیں اور انھیں اس دنیا کے انعام ملیں۔ مسلمان بھی ایسا ہی کرتے ہیں (آیت:۷۹)۔ ان کے اندر فرقہ پرستی خوب پھولی پھلی۔ ایمان اور عمل صالح کے بجائے انھوں نے مذہبی لیبلوں کو اہمیت دی۔ وہ کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لاتے تھے اور جو اُن کے مفیدِمطلب نہ ہو اسے ایک طرف رکھ دیتے تھے۔ مسلمان بھی اس سے مختلف نہیں۔ ہم جتنا بھی آگے بڑھیں اور دیکھیں‘ہر پہلو سے اسی طرح کی مشابہت دیکھیں گے۔
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے‘ وہ اسے اُس طرح پڑھتے ہیں جیساکہ پڑھنے کا حق ہے۔ وہ اس (قرآن) پر سچے دل سے ایمان لے آتے ہیں۔ اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہ کریں‘ وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (آیت: ۱۲۱)
اُمّت مسلمہ کو پیغمبرانہ مشن سونپنا (آیات: ۱۲۴-۱۵۲)
مسلمانوں کو فریضہ رسالتؐ سپرد کرنے سے پہلے (آیت ۱۴۳) حضرت ابراہیم ؑ کی مقدس تاریخ اور اللہ کی مکمل اور خالص اطاعت میں گزاری ہوئی ان کی خدا پرستانہ زندگی بیان کی گئی (آیات: ۱۲۳- ۱۳۳)۔ حضرت ابراہیم ؑکو کعبۃ اللہ کا متولّی اور انسانیت کا امام اس لیے مقررکیا گیا کہ انھیں جس آزمایش سے بھی گزارا گیا وہ اس سے سرخ رُو نکلے۔ ان کو یہ اعزاز وراثت میں نہیں ملے اور نہ کسی کو ملیں گے۔ (آیات: ۱۲۴- ۱۲۵)
نئی اُمّت‘ حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کی تکمیل ہے جو آپ نے بیت اللہ کی تعمیر کرتے ہوئے کی تھی: اے اللہ! ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مُسلم ہو (آیت:۱۲۸)۔ مسلمان‘ حضرت ابراہیم ؑکے ورثے اور مشن کے بھی وارث ہیں‘ جو توحید اور خدا پرستی کی بہترین روایات کا نمونہ ہے۔ یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ کوئی ایسا لقب نہیں تھا جو نسل در نسل ورثے میںمنتقل ہوتا۔ اسرائیل نے اس ورثے پر اپنے حق کو ساقط کر دیا‘ اس لیے کہ انھوں نے حضرت ابراہیم ؑکے برخلاف اللہ سے بے وفائی کی‘ انھیں حضرت یعقوب ؑنے جو مشن اپنے بستر مرگ پر سونپا تھا وہ اسے پورا کرنے میں ناکام رہے۔ (آیت:۱۳۳)
اس اصول پر بہت زور دیا گیا ہے کہ مذہبی لیبل کسی مصرف کے نہ ہوں گے۔ اصل قدروقیمت ایمان‘ اللہ کے آگے اپنے آپ کو ڈال دینے اور صرف اسی سے پُرخلوص وابستگی کی ہوگی۔ ہر قوم کو اس کے ایمان اور اعمال کے مطابق جانچا جائے گا۔ یہ پورا بیان اس ذمہ داری کو بنی اسرائیل سے لے کر اُمّت مُسلمہ کو منتقل کرنے کے سیاق کو واضح کرتا ہے۔
نماز کی سمت‘ یعنی بیت المقدس سے کعبے کی طرف قبلے کی منتقلی (آیات: ۱۴۴-۱۵۰) دراصل اُمّت مُسلمہ کی طرف فریضہ رسالتؐ کی منتقلی کی علامت ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کو اللہ کی ہدایت اور کتاب کی نعمت کو اللہ کے خاص عطیے کے طور پر یاد دلایا گیا تھا‘ اسی طرح اختتام پر مسلمانوں کو بھی یاد دلایا گیا ہے:
تم مجھے یاد رکھو‘ میں تمھیں یاد رکھوں گا‘ اور میرا شکر ادا کرو‘ کفرانِ نعمت نہ کرنا۔ (آیت:۱۵۲)
دیکھیے‘ بنی اسرائیل کو اسی طرح کی دعوت دی گئی تھی۔
کلیدی انفرادی خصائص اور دین کے بنیادی اصول (آیات: ۱۵۳ -۱۷۷)
۱۵۳ سے ۱۶۲ آیات ان کلیدی انفرادی صفات کی نشان دہی کرتی ہیں جو عہد پورا کرنے کے لیے مطلوب ہیں۔ یہ صرف اس مفہوم میں انفرادی ہیں کہ یہ ایک فرد کے باطنی وجود میں پیدا کی جاسکتی ہیں‘ لیکن عملاً یہ سب اجتماعی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور مؤثر انداز سے اجتماعیت پیدا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر نماز‘ جماعت کے ساتھ ہے۔ اسی طرح روزہ‘ حج اور جہاد۔
سب سے اہم صفت یہ ہے کہ آپ کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا شعور رہے‘ گویا آپ اس کے حاضروناظر ہوتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں‘ آپ کو ہرچیز ایسے نظر آتی ہے جیسے اس کی طرف سے ہے اور اس کی وجہ سے ہے۔ آپ کو ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ آپ فیصلے کے دن اس سے ملاقات کریں گے۔ مختصراً یہ کہ آپ ہر لمحے اور ہر موقعے پر جتنی کثرت سے اور جتنا زیادہ اسے یاد کرسکتے ہیں‘ کرتے رہیں۔ یہ بات آیت ۱۵۲ میں وضاحت سے بیان کر دی گئی ہے۔ یہ کیفیت حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ذکر کو زندگی کا حصہ بنا لینا چاہیے۔ نماز اسی مقصد کے لیے فرض کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت ۱۵۲ کے بعد فوراً ہی یہ ہدایت دی گئی کہ صبر اور نماز سے مدد لو (آیت: ۱۵۳)۔
صبر کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ یہ اس لیے کہ نماز‘ انفرادی ہو یا اجتماعی‘ صبر کے بغیر نہ ادا کی جاسکتی ہے نہ قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ نماز ہی ہے جو عزم‘ استقلال اور تحمل‘ یعنی صبر کی صفت کو پیدا کرتی ہے‘ ترقی دیتی ہے‘ تقویت دیتی ہے اور برقرار رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک منطقی عمل میں باہم مربوط ہیں۔ دونوں (یعنی صبر اور نماز) فرد کو اور جماعت کو اللہ سے قریب تر لاتے ہیں۔ نماز‘ فرد اور جماعت دونوں ہی کی زندگیوں اور دلوں کو اللہ کے ذکر سے بھر دیتی ہے۔ اللہ ان لوگوں سے قریب ہے جو صبر کی صفت رکھتے ہیں جیسا کہ آیت ۱۵۳ میں وعدہ کیا گیا ہے: اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
دیکھیے کہ ایسی ہی ہدایت بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ (آیت:۴۵)
صبر کی اہمیت اس حقیقت کا اظہار ہے کہ عہد پورا کرنے کے لیے قربانیاں مطلوب ہوں گی۔ ان قربانیوں کی کچھ تفصیل دی گئی ہے (آیت:۱۵۵)۔ آخری قربانی جو مطلوب ہے وہ جان کی قربانی ہے۔
آزمایشوں اور قربانیوں کے موقع پر ثابت قدم رہنے کے لیے صبر کی کلید اللہ کا ذکر ہے: یہ ایمان رکھنا کہ ہم کُل کے کُل اسی سے وابستہ ہیں‘۱ سی کی طرف پلٹ کر جائیں گے اور اُسی کو اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ نماز یہی احساسات پیدا کرتی اور پرورش کرتی ہے۔
صفا اور مروہ کے بارے میں آیت ۱۵۸ غیرمتعلق نہیں ہے‘ اگرچہ کہ ایسا محسوس ضرور ہوتا ہے۔ اسے یہاں اس لیے رکھا گیا ہے کہ کعبے کے قریب یہ دو پہاڑیاں صفا اور مروہ صبر‘ اُمید اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کی ایک عظیم اور جذبہ انگیز داستان کی علامت ہیں۔ یہ ایک بڑی قربانی کی کہانی بھی ہے‘ یعنی حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کی کہانی۔ جب کوئی ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی کی طرف چلتا ہے تو اسے یاد آتا ہے کہ کس طرح تن تنہا ایک عورت نے ایک شیرخوار بچے کے ساتھ مکہ میں رہنا منظور کیا‘ کس طرح اس نے اُمید اور اعتماد کے ساتھ کوشش کی‘ اور کس طرح اللہ نے ایک ایسی وادی میں پانی کا چشمہ جاری کر دیا جہاں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔
آخر میں قرآن کے ساتھ عہد توڑنے کے سنگین نتائج بتائے گئے ہیں: اللہ کی طرف سے‘ اس کے فرشتوں کی طرف سے‘ اور تمام انسانوں کی طرف سے لعنت‘ اور آخرت میں دائمی عذاب (آیت: ۱۵۹-۱۶۲)۔ یہ کھری کھری تنبیہ پوری بات کو اپنے سیاق میں واضح کر دیتی ہے۔ اُمّت کو جو مشن سونپا گیا ہے اس کو پورا کرنے کے لیے اللہ کا ذکر‘ نماز‘ قربانی اور صبر سب ضروری ہیں۔ ہر شخص کو یہ مشن پورا کرنے کی اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ (آیات: ۱۶۳-۱۷۷)
آیات ۱۶۳ تا ۱۷۷ میں دین اور شریعت کی اہم بنیادوں کا بیان ہے‘ یعنی اللہ پر ایمان جو ایک ہے‘ یعنی توحید۔ اس کے ساتھ ہی کائنات میں اس کی نشانیاں جو یہ ایمان پیدا کرتی اور اسے مضبوط کرتی ہیں (آیات: ۱۶۳-۱۶۴)۔ اللہ تعالیٰ سے مضبوطی سے جڑے رہنا دین اور صراط مستقیم پر رہنمائی کی اصل اور بنیاد (اٰل عمرٰن ۳:۱۰۱)‘ جہاد کا کلیدی ذریعہ (الحج ۲۲:۷۸) ‘اور وہ حق ہے جس کی گواہی دینا ہے۔
توحید کے فوراً بعد قرآن‘ اللہ سے محبت کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ تم اللہ سے اس سے زیادہ محبت کرو جتنا کسی بھی دوسری چیز سے کرتے ہو۔ اس طرح قرآن ذکر اور صبر کے بعد اللہ سے محبت کو سب سے اہم صفت کے طور پر بیان کرتا ہے‘ اس لیے کہ ایسی محبت ہی ایمان کو حقیقی اور بامعنی بناتی ہے (آیت: ۱۶۵)۔ محبت ہی ایمان کو شخصیت کا حصہ بناتی ہے اور اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے طاقت فراہم کرتی ہے۔
ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تمام دوسرے رہنمائوں کے بجاے اللہ کے رسولؐ کی پیروی اور اطاعت کی جائے (آیت:۱۶۶-۱۶۷)۔ محبت بھی یہی تقاضاکرتی ہے کہ ’’محبوب‘‘ کے احکام کو بجا لایا جائے۔
اس کے بعد شریعت کے کچھ اہم اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اوّل: دنیا کی تمام اچھی چیزیں مباح ہیں سوائے ان کے جو منع کی گئی ہیں (آیت:۱۶۸)۔ بنیادی طور پر یہ اہم اصول صرف کھانے پینے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام دائروں کی تمام باتوں کے لیے ہے۔دوم: اشیا کو ممنوع قرار دینے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے‘ کسی اور کے پاس نہیں ہے (آیت:۱۶۹)۔ سوم: جو چیزیں ممنوع ہیں انھیں اللہ نے بیان کر دیا ہے‘ باقی سب جائز ہیں (آیت: ۱۷۳)۔ چہارم: سنگین انسانی ضرورت کے موقع پر ممنوعات میں گنجایش دی جاسکتی ہے (آیت: ۱۷۳)۔پنجم: اخلاقی پابندیاں زیادہ اہم ہیں۔ اگر وہ دوسرے انسانوں سے حقوق سے متعلق ہیں تو ان میں رعایت نہیں۔ مثال کے طور پر عہد توڑنے کا جرم کوئی حرام چیز کے کھانے کے مقابلے میں زیادہ بڑا گناہ ہے۔(آیت: ۱۷۴)
بہرحال زندگی میںہر طرح کی اطاعت کی بنیاد تقویٰ ہی ہے۔ آیت۱۷۷ تقویٰ کی جامع تعریف بیان کرتی ہے۔ یہ آیت ۲ تا ۵ کی توسیع ہے اور آنے والے حصے کی تمہید ہے۔ اس لیے تقویٰ‘ جیساکہ یہاں تعریف کی گئی ہے‘ جو کچھ آگے بیان کیا جا رہا ہے اس کی بنیاد اور محرّک ہے۔ یہاں ایمان اور انفاق‘ یعنی خرچ کرنے کی مزید تفصیل دی گئی ہے۔ وعدوں اور معاہدوں کی پابندی اور ہر طرح کے حالات میں صبر بنیادی صفات ہیں۔
اجتماعی زندگی: اصول اور ادارے (آیات: ۱۷۸- ۲۴۲)
اجتماعی زندگی‘ دو وجوہ سے بنیادی اہمیت رکھتی ہے‘ اوّل: انفرادی صفات کی مضبوطی اور نَمُو کے لیے مناسب زمین اور ماحول فراہم کرنے کے لیے۔ دوم: اُمّہ کے مشن کو پورا کرنے کے لیے اجتماعی طاقت فراہم کرنے کے لیے۔ قلوب کی طرح‘ اجتماعی زندگی بھی تقویٰ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہونی چاہیے۔ اس لیے اس حصے میں قرآن ان قوانین‘ اصول اور تعلیمات کو بیان کرتاہے جن سے تقویٰ کو نشوونما ملتی ہے۔
معاشرے میں نظم و ضبط اور ہم آہنگی کے لیے جان و مال کا تحفظ جڑواں بنیادیں ہیں۔ آیات ۱۷۸ سے ۱۸۲ تک انھیں بیان کیا گیا ہے۔ ان کے فوراً بعد رمضان میں روزوں کے احکام دیے گئے ہیں تاکہ تقویٰ یا انفرادی ضبط نفس حاصل ہو اور اللہ نے ’دوسروں‘ کے ساتھ انسانی تعلقات کی جو حدود مقرر کی ہیں ان سے آگے بڑھنے‘ یا ان کو توڑنے سے آدمی اپنے آپ کو روکے (آیات: ۱۸۳-۱۸۷)۔ کھانے پینے اور جنسی تعلقات سے بچنا مقصد نہیں ہے‘ مقصود وہ باطنی قوت پیدا کرنا ہے جو انسان کو اس قابل بنائے کہ وہ دوسروں کی جان‘ مال یا آبرو پر ہاتھ نہ ڈالے۔ اسی لیے حکم ہے: ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو۔ (آیت: ۱۸۸)
حج کو جہاد سے جوڑا گیا ہے (آیات: ۱۹۶-۲۱۸)۔ دونوں کی نوعیت ایک ہے۔ دونوں تقاضا کرتے ہیں کہ ہم قربانیاں دیں‘ اپنے گھر‘ اعزہ اور چیزوں کو چھوڑیں‘ منزل تک پہنچنے کے لیے سفر کریں اور اپنا مال و دولت خرچ کریں۔ جہاد پر خرچ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ معاشرے کی زندگی‘ توانائی اور بقا کے لیے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے جہاد کی کلیدی حیثیت ہے۔ اس لیے معاشرے کو تباہی اور زوال سے محفوظ رکھنے کے لیے جہاد پر خرچ کرنا ضروری ہے (آیت:۱۹۵)۔ یہاں لڑنے کی صرف اجازت دی گئی ہے‘ جب کہ جہاد کا مقصد آیات ۱۹۰ تا ۱۹۲ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے معاً بعد حج اور اس کے نمایاں پہلوئوں کے بارے میں اہم ہدایات دی جاتی ہیں۔ (آیات: ۱۹۶-۲۰۳)
اس کے ساتھ ہی جہاد کا مقصد زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ انسانیت کو ان بدعنوان رہنمائوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے جنھیں سیاسی طاقت حاصل ہے‘ جو ہٹ دھرم ہیں اور اپنی اصلاح کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ زمین میں فساد‘ بدعنوانی اور قتل و غارت پھیلاتے ہیں اور عوام کو پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں۔ (آیات: ۲۰۴-۲۰۶)
جہاد کی ضرورت اور نوعیت اور اس کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں۔ جہاد کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے آپ کو کُل کا کُل اللہ کے آگے پیش کر دیں (آیات:۲۰۷-۲۰۸)۔ جہاد بڑی سختی سے ہماری جانچ کرے گا اور غیرمعمولی قربانیوں کا تقاضا کرے گا۔ قربانیاں دیے بغیر‘ جیسی کہ اس سے پہلے مسلم اُمّتوں نے دیں‘ ہم ہرگز بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ (آیت: ۲۱۴)
خون بہانا یقینا ناپسندیدہ ہے‘ لیکن عقیدے اور ضمیر کے لیے جبر اس سے زیادہ بڑی برائی ہے (آیات:۲۱۶-۲۱۷)۔ اس کے بعد اس سورت میں شراب اور جوئے کا ذکر ہے (آیت: ۲۱۹)۔ شراب نوشی سے دنیاوی ذمہ داریوں اور محنت سے فرار کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ جوا لالچ اور بغیر محنت مال حاصل کرنے کی خواہش بڑھاتا ہے۔ دونوں بذات خود برائی ہیں‘ لیکن انھیں یہاں اس لیے بیان کیا گیا کہ یہ جہاد کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔
اس کے بعد کلام کا رخ معاشرے کے مظلوم طبقات‘ بچوں اور خواتین کی طرف مڑجاتا ہے۔ عائلی زندگی کے بارے میں تعلیمات اور ضابطے بہت تفصیل سے دیے گئے ہیں (آیات: ۲۲۰-۲۴۲)۔ اس لیے کہ یہ معاشرے اور تمدن کی بنیادی اساس ہے۔ خاندان اجتماعی یک جہتی برقرار رکھتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ مقاصد‘ اقدار اور روایات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوں۔ مضبوطی سے جڑی ہوئی ایک منصفانہ عائلی زندگی معاشرے کو جہاد کے لیے تیار ہی نہیں کرتی‘ جہاد کے مقصد کو بھی پورا کرتی ہے‘ یعنی افراد کے درمیان انصاف کا قیام۔
جھاد اور انفاق۔ مشن کی تکمیل کے ذرائع (آیات: ۲۴۳-۲۸۳)
قوموں اور معاشروں کو کیا چیززندہ‘ مضبوط اور کامیاب بناتی ہے؟ آخری حصہ اس اہم سوال کے بارے میں تفصیل سے بحث کرتا ہے۔ یہ سوال سورت کے مرکزی موضوع‘ یعنی اُمّت کے مشن کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ آغاز میں‘ عمومی اصولوں پر بحث کی گئی ہے۔اوّل‘ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی مقصد اور مشن کا ہونا ہی جہاد کی زندگی کا تقاضا کرتا ہے۔ مقصد اور مشن کے لیے جدوجہد اور سرگرم کوشش جہاد ہے۔ جہاد کا تقاضا ہے کہ قربانیاں دی جائیں۔ خاص طور پر مال اور جان اللہ کے راستے میں قربان کیے جائیں۔ یوں جہاد اور انفاق‘ اُمّت کے عروج و زوال اور زندگی اور موت میں کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ دونوں کا تقاضا ہے کہ لوگ موت سے بے خوف ہوجائیں۔ حوصلے‘ صبر اور نظم و ضبط سے کام لیں اور دنیوی چیزوں خاص طور پر مال کی محبت پر قابو پائیں۔ ان موضوعات کو آیات ۲۴۳ سے ۲۸۳ تک مسحورکن تصورات اور جذبہ انگیز کلام کے ذریعے سامنے لایا گیا ہے۔
موت کا خوف اور اس دنیا کی چیزوں کی بہت زیادہ محبت کسی معاشرے کی توانائی کو چوس لیتی ہیں اور تباہ کر دیتی ہیں۔ اگر لوگ موت سے ڈرتے ہیں تو موت ہی ان کے معاشرے کا مقدر ہوجاتی ہے۔ جو موت سے نہیں ڈرتے‘ زندگی ان کی تقدیر بن جاتی ہے۔ اسی بات کو آیت ۲۴۳ میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے واقعے کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے۔ قرآن پکارتا ہے: اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جو کچھ دے سکتے ہو‘ دو۔ اللہ تعالیٰ تمھارے انفاق کو اپنے لیے قرض تصور کرے گا اور کئی گُنا بڑھا کر واپس کرے گا۔ (آیات: ۲۴۴-۲۴۵)
۱- دائود اور جالوت کا واقعہ (آیات: ۲۴۶-۲۵۱)۔ ۲- ایک مردہ بستی کا دوبارہ جی اٹھنا (آیت: ۲۵۹) ۳- اس بارے میں حضرت ابراہیم ؑکی پریشانی کے جواب کا واقعہ۔ (آیت:۲۶۰)
صبر اور نظم و ضبط کے ساتھ (روزے اور جہاد کا جو ذکر پہلے آیا ہے اسے بھی سامنے رکھیے)۔ وہ لوگ جو تعداد میں کم ہوں‘ اور وسائل اور طاقت بھی کم رکھتے ہوں بہت زیادہ طاقت اور وسائل رکھنے والوں پر فتح حاصل کرسکتے ہیں جس طرح بنی اسرائیل حضرت دائود ؑ کی قیادت میں جالوت کے خلاف کامیاب ہوئے۔ (آیات: ۲۴۶-۲۵۳)
انفاق‘ یعنی اپنے اموال‘ اشیا یا جس چیز کی بھی ضرورت ہو‘ اللہ کے لیے دے دینے کے مختلف پہلو آیت ۲۶۱ سے ۲۷۴ تک کے طویل حصے میں بیان کیے گئے ہیں۔ سود کی ممانعت اور مالی معاملات کو تنازعوں سے بچانے کے لیے اقدامات مال و دولت کے بارے میں عمومی رویّے سے متعلق ہیں۔ (آیات: ۲۷۴-۲۸۳)
ان کے درمیان آیت الکرسی رکھی گئی ہے‘ جیسے جواہر اور موتیوں کے نیکلس کے وسط میں جڑا نگینہ۔ اس آیت میں وہ سب کچھ ہے جو اللہ پر ایمان کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے اور جوجہاد اور انفاق دونوں کو طاقت بخشتی ہے۔ آپ کو نہ اپنے دشمنوں کی طاقت اور دولت سے خوف کھانے کی ضرورت ہے اور نہ زندگی کھونے یا غریب ہونے سے ڈرنے کی‘ اس لیے کہ اللہ حّی و قیوم ہے‘ ہمیشہ رہنے والا ہے‘ ہر زندگی کا سرچشمہ ہے‘ خود قائم ہے اور سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اس کا علم اور طاقت زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اس پر محیط ہے۔
وہ کون سے خصائص ہیں جو افراد اور گروہوں کو وہ ضروری قوت فراہم کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی کا بوجھ ہنسی خوشی اٹھائیں اور جو مشن اللہ نے ان کے سپرد کیا ہے اسے پورا کریں؟
آخری تین آیات ان کو اختصار سے بیان کرتی ہیں۔ یہاں وہ ضروری اخلاقی اور روحانی سرچشمے بتا دیے گئے ہیں جن کے بغیر یہ عظیم کام مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی سرچشمے ہمیں اس قابل بناتے ہیں کہ سورۃ البقرہ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے جس باطنی قوت‘ وابستگی‘ عزم ‘ حوصلہ اور صبر کی ضرورت ہے وہ ہمارے اندر پیدا ہوں۔
سب سے اہم صفت اور دوسری تمام صفتوں کا سرچشمہ ایمان ہے۔ ایمان محض زبانی اقرار نہیں ہے‘ یہ اللہ کو زندگی کی تمام امیدوں اور اندیشوں کا مرکز بنانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خالق‘ مالک اور آقا ہونے کی حیثیت سے گہرا مضبوط اور ہمہ جہت تعلق رکھا جائے۔ اس تعلق کو مضبوط ر کھنے سے وہ طاقت اور ذرائع فراہم ہوتے ہیں جو صراط مستقیم پر چلنے کے لیے (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰) ‘نیز اس کی راہ میں جہاد کے لیے (الحج ۲۲:۷۸) ضروری ہیں۔
ان تین آیات میں ہمیں اس تعلق کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ بہت خوب صورت اور جذبہ اُبھارنے والی ہیں۔ ان کو یاد کرنا اور لوح قلب پر کندہ کرنا آسان ہے۔ آیئے دیکھیں کہ یہ ہمیں کیا تعلیم دیتی ہیں۔
اوّل: یہ کہا گیا ہے کہ یہ بات یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ یہ چند الفاظ اگر پوری طرح جذب کر لیے جائیں تو یہ کائنات کی ہر چیز‘ حتیٰ کہ خود ہماری ذات کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات‘ رویوں اور نقطۂ نظر کو بالکل تبدیل کر دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے اندر جس باطنی قوت کی ضرورت ہے اسے پیدا کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے یہ کافی ہیں۔ اس میں یہ مطالب پوشیدہ ہیں:
۱- ہم امین ہیں‘ مالک نہیں۔ اللہ ہر چیز کا مالک ہے۔ ہماری جانیں‘ ہمارے جسم‘ ہماری املاک اور تعلقات اس کے ہیں‘ ہمارے نہیں۔ یہ ذہن میں رکھیں تو ہمیں وہ طاقت مل جاتی ہے کہ ہم اس کے ہوجائیں اور ایسی زندگی گزاریں اور رویے اختیار کریں جیسے کہ ہم صرف اسی کے ہیں۔
۲- مالک نہ ہونے اور امین ہونے کی حیثیت سے ہمیں ہر چیز اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ اس سے ہمیں ہر معاملے میں اس کی اطاعت کی طاقت فراہم ہوتی ہے۔
۳- ہمیں زندگی میں جو کچھ ملتا ہے یا جو کچھ ہم کرپاتے ہیں‘ اس کی طرف سے ہے‘ اس کی وجہ سے ہے۔ یہ احساس ہو تو ہم ہمیشہ اس کے شکرگزار رہتے ہیں۔
۴- یہ احساس ہم کو تمام مخالفتوں اور آزمایشوں کا سامنا کرنے کے لیے صبر دیتا ہے۔
۵- یہ تمام اشیا اور معاملات ہماری امانت میں دیے گئے ہیں‘ امین ہونے کی حیثیت سے یقینا ہم سے ہمارے اچھے اور بُرے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ہم اپنے دل کے عمیق ترین گوشے میں جو کچھ چھپائیں ہمیں اس کا بھی جواب دینا ہے۔ یہ احساس ہو تو ہماری نگاہیں ہمیشہ یومِ آخرت پر ہوتی ہیں اور ہم اس وقت کے لیے تیاری کرتے ہیں جب ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
۶- صرف وہی‘ کوئی اور نہیں‘ ہماری غلطیوں اور گناہوں کو معاف کرنے یا ان پر سزا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ احساس ہمیں اپنے جیسے انسانوں کے فیصلوں سے بے خوف کر دیتا ہے۔
۷- اگر ہماری آخری تقدیر کا فیصلہ اسی کے فیصلے سے ہونا ہے تو ہم اپنی تمام اُمیدیں اور خوف اللہ کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں‘ اور جب ہم کسی امتحان میں ناکام ہوتے ہیں یا کسی گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تو اسی کی طرف مغفرت کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
یہ تمام باتیں آپ کو ان تین آیات میں ملیں گی۔
دوم: ایمان کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جو کچھ وحی کیا گیا ہے اس پر‘ اللہ پر‘ اس کے فرشتوں پر‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان۔
سوم: ایمان کو ٹھوس شکل دے دی گئی ہے۔ اب یہ ایک مابعد الطبیعیاتی معاملہ نہیں ہے۔ ایمان کا مطلب ایک عہد اور وعدہ ہے اللہ اور رسولؐ کی سننے اور اُن کی اطاعت کرنے کا۔
چہارم: اپنے عہد کے مطابق زندگی گزارنے کے عظیم کام کی ذمہ داری‘ اور دوسری طرف گناہ کی طرف انسان کے رجحان کی وجہ سے ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ اپنی ہر طرح کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے خاص طور پر‘ اور عموماً بھی‘ اللہ کی طرف پلٹتے رہیں اور اس سے بخشش مانگتے رہیں۔ اس سے ہمارے بوجھ ہلکے ہوجاتے ہیں اور ہم ذاتی اصلاح‘ ذاتی جائزے اور چوکنے رہنے کی کیفیت میں رہتے ہیں۔
تسلی‘ سکون اور حمایت و تائید کے مزید خزانے ہمیں آخری آیت (۲۸۶) میں دیے گئے ہیں:
۱- نہایت اہم بیان‘ جو ایک وعدہ بھی ہے ‘ کہ شریعت کی پیروی کرنے میں جہاد کی کوشش میں یا قربانیاں دینے میں‘ اللہ تعالیٰ ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالے گا یا ہمیں ایسی آزمایش میں مبتلا نہیں کرے گا جو ہماری برداشت سے باہر ہو۔ اس طرح ہم ان تمام وسوسوں سے بَری ہوجاتے ہیں جو ہمارے دل کی گہرائیوں میں گزرتے ہیں‘ جب تک ہم خود ہی اپنے ارادے سے ان کو پیدا نہ کریں۔
۲- جو کچھ ہم ایک فرد کی حیثیت سے کریں گے اس پر‘ نہ کہ دوسروں کے کسی کام پر‘ ہمارا حساب اور فیصلہ ہوگا۔
۳- شریعت کے احکام‘ یا جن آزمایشوں سے ہمارا امتحان لیا جائے ایسی نہیں ہوں گی جن پر عمل کرنا ہماری طاقت سے باہر ہو۔
۴- ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ ہم اللہ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے جو کچھ کریں ہمیشہ اس پر معافی‘ رحم اور بخشش کی درخواست کیا کریں۔ اللہ پر یہ بھروسا ذہن سے یہ خیال نکال دیتا ہے کہ ہم خود اپنے برتے پر کچھ کرتے ہیں۔
آخری بات یہ کہ ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ فتح کے لیے ہاتھ دراز کریں۔ اس سے اُمّت کو جو مشن سپرد کیا گیا ہے اُس میں جہاد کی مرکزیت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
یہ تمام تعلیمات ایک مختصر دعا کی شکل میں دی گئی ہیں۔ اللہ ہمیں جو کچھ مانگنے کی تعلیم دے رہا ہے یقینا وہ عطا بھی کرے گا۔ کسی شک و شبہے کے بغیر‘ یہ اللہ کے وعدے ہیں۔
(نوٹ: اس مطالعے کے کچھ صفحات ابھی باقی ہیں‘ تاہم اس کو مختصر کتاب کی شکل میں البقرہ کی کلید کے نام سے منشورات (منصورہ‘ لاہور) شائع کررہا ہے۔ شائقین مکمل مطالعے کے لیے اسے حاصل کرسکتے ہیں۔ ادارہ)
سورۂ بقرہ قرآن کی دوسری اور طویل ترین سورت ہے۔ اس میں ۲۸۶ آیات ہیں اور یہ تقریباً اڑھائی پاروں پر مشتمل ہے۔ البقرہ کو قرآن کے آغاز ہی میں رکھا گیا ہے۔ الفاتحہ کے فوراً بعد ہی ہم اس میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح شمار کیا جائے تو یہ دوسری سورت ہے لیکن کئی لحاظ سے یہ پہلی ہے۔ اگر ہم الفاتحہ کو قرآن کا مقدمہ سمجھیں تو البقرہ اس کا پہلا باب ہے۔ اگر الفاتحہ انسانی قلب کی گہرائیوں سے اپنے خالق کے سامنے نکلنے والی پکار ہے جو اس زمین پر درست زندگی گزارنے کی ہدایت کے لیے اپنی فوری ضرورت اور انحصار کا اظہار ہے___ جو کہ یہ ہے ___ تو البقرہ اس انسانی طلب کا اللہ کی جانب سے پہلا جواب‘ درست زندگی گزارنے کا پہلا سبق اور صراطِ مستقیم پر پہلا قدم ہے۔ اگر الفاتحہ کی آیات مکمل قرآن کا بیج‘ بنیاد‘ کُل اوراصل ہیں___ جیسی کہ وہ ہیں___ تو البقرہ اس نئے بیج کا پہلا پھل ہے اور کیا ہی عمدہ پھل ہے! ایک پاک درخت جس کی جڑیں مضبوط ہیں‘ جس کی شاخیں آسمان تک پہنچتی ہیں‘ جو اپنے مالک کی اجازت سے اپنے پھل ہر موسم اور ہر زمانے میں دیتا ہے۔ (ابرٰھیم ۱۴: ۲۴-۲۵)
گو کہ اسے قرآن کے شروع ہی میں رکھا گیا ہے‘ لیکن زمانی اعتبار سے البقرہ کی آیات مدنی دور کے بعد کے زمانے میں مختلف موقعوں پر نازل ہوئیں‘ یہاں تک کہ الواحدی کی روایت کے مطابق آیت ۲۸۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے موقع پر‘ یعنی اتنی تاخیر سے نازل ہوئی۔
آخر البقرہ کو قرآن کے بالکل آغاز میں کیوں رکھا گیا ہے؟ خاص طور پر‘ جب کہ اس کے مضامین بنیادی عقائد کے بجاے‘ جو اوّلیت رکھتے ہیں اور اس لیے ابتدائی دور کی وحی میں بنیادی اور نمایاں اہمیت رکھتے ہیں‘ مسلم اُمّت کی برادری اور اس کی اجتماعی زندگی کے گرد گھومتے ہیں۔ آیئے سب سے پہلے اسی سوال پر غور کریں۔
اس کی کوئی وجہ ہونی چاہیے اور اس کے جواب کو ہمیں اس سورت کے معانی کو سمجھنے کے لیے اہم کلید فراہم کرنا چاہیے‘ اس لیے کہ قرآن میں کوئی بات بھی بغیر وجہ اور مقصد کے نہیں ہے۔ اس اصول کو قرآن فہمی کے لیے ہمارے انداز اور طریقۂ کار میں بنیادی باتوں میں سے ایک ہونا چاہیے۔ ہم ہر موقع پر سوال: ’’کیوں‘‘ کا جواب حاصل نہ کرسکیں‘ ہر بات میں پوشیدہ معنی معلوم نہ کرسکیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ہر نکتے پر یہ سوال اٹھائیں۔لیکن ایسا کرتے ہوئے ہمیں دو باتیں یاد رکھنی چاہییں:
اوّل: جس مطلب تک بھی ہم پہنچیں‘ یہ بہت اہم ہے کہ ہم ہمیشہ اس کو ایک انسانی کوشش سمجھیں جس میں غلطی ہوسکتی ہے اور ہرگز اسے من جانب اللہ قرار نہ دیں۔
دوم: کوئی ایسا جواب قبول نہ کیا جائے جو اُمّت کے متواتر اجماع سے یا قرآن کے مجموعی مزاج سے ٹکراتا ہو۔
یہ دو تنبیہات ذہن میں ہوں تو قرآن سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہر ہر قدم پر سوال: ’’کیوں‘‘ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔
البقرہ کے بارے میں مذکورہ بالا سوال اس وسیع تر سوال کا حصہ ہے کہ قرآن کو نزولی ترتیب کے مطابق کیوں مرتب نہیں کیا گیا‘ موجودہ ترتیب کیوں ہے‘ جب کہ اس کا زمانی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ نیز موجودہ ترتیب کی کیا حیثیت ہے؟
بعض علما کے مطابق صحابہؓ نے سورتوں کو اپنے اجتہاد کے مطابق ترتیب دیا ہے۔ وہ اس سے بہتر ترتیب قائم نہ کر سکتے تھے کہ سب سے طویل کو شروع میں رکھیں اور بتدریج سب سے مختصر کو آخر میں۔ دوسروں کے مطابق‘ رسولؐ اللہ نے خود اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں یہ ترتیب دی‘ جسے توقیفی کہا جا سکتا ہے۔ یہ ترتیب موضوعاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ شواہد حتمی طور پر دوسری رائے کی تائید کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر مستند روایت کے مطابق جب کوئی نئی وحی آتی تھی تو رسولؐ اللہ کاتبین وحی کو بتاتے تھے کہ اسے کہاں رکھیں (سیوطی)۔ علاوہ ازیں سورتوں کو بھی ان کی موجودہ شکل رسولؐ اللہ کے اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے ہی دے دی گئی تھی اور یہ بھی زمانی نہیں ہے۔ وہ نمازوں میں ان کی تلاوت اور ان کی تعلیم اسی شکل اور ترتیب میں کرتے تھے جس میں وہ اب ہیں۔ یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ رسولؐ اللہ رمضان میں جبریل علیہ السلام کی موجودگی میں پورے قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے (سیوطی)۔ علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی سورتوںکے اختتام اگلی سورت سے واضح موضوعاتی ربط رکھتے ہیں۔
اوّل: گو کہ قرآن کو زمان و مکان کے ایک خاص موقع پر‘ ایک خاص مقام پر اور کچھ خاص لوگوں میں نازل کیا گیا‘ مگر قرآن آنے والے تمام زمانوں کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے اللہ کی طرف سے مستقل ہدایت ہے۔ اس کی تاریخی ترتیب کومکمل طور پر نظرانداز کرکے اور اس ترتیب کا پتا بھی نہ چلنے سے‘ جو بہت سے مستشرقین کے لیے مایوسی اور غصے کا سبب ہے‘ یہ زمان و مکان کے مخصوص تاریخی حوالے سے بلند کر دیا گیا ہے اور لا زمان (timeless) بنادیا گیا ہے۔ اس طرح یہ تمام مواقع کے لیے بامعنی اور قابلِ عمل ہوجاتا ہے۔ اگر اسے زمانی ترتیب دی گئی ہوتی تو یہ وقت اور مقام کے ساتھ قید ہوجاتا اور اس کی افادیت ختم ہوجاتی۔ پھر یہ محض ایک تاریخی واقعہ ہوتا‘ یہ زمانے سے ماورا نہ رہتا۔
وحی کا موقع‘ یعنی شان نزول موجود ہے۔ اس کی اپنی افادیت ہے۔ جہاں ضروری ہو‘ یہ کسی مخصوص وحی کا تاریخی پس منظر بتانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ہمیں اسے اپنے سیاق میں سمجھنے میں مدد دیتے ہیں‘ اس سے پہلے کہ ہم اس کو ایک عمومی مفہوم دیں یا اس کو ایک نئے سیاق میں سمجھنے کی کوشش کریں‘ یہ قرآن کو اس کے وقت اور مقام کے ساتھ جوڑے بھی رکھتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں برعظیم کے مشہور عالم‘ شاہ ولی اللہ دہلویؒ (۱۷۰۲ئ-۱۷۶۳ئ) کی رائے جاننا چاہیے۔ تفسیر کے اصولوں پر اپنی اہم تصنیف میں وہ یہ رائے بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے کسی بھی حصے کی ’شانِ نزول‘ ، ’انسانیت کو درست عقائد اور عمل کی طرف رہنمائی کرنا‘ ہے۔ ان کے مطابق جو شانِ نزول بیان کی جاتی ہیں‘ ان میں سے بیشتر قرآن کا مطلب سمجھنے کے لیے بالکل ضروری نہیں ہیں۔ ان میں بہت سوں کی سند بھی مشتبہ ہے۔ (الفوز الکبیر فی اصول التفسیر)
دوم: جس وقت قرآن نازل ہو رہا تھا تو اس کے پہلے مخاطب غیر مسلم اور وہ لوگ تھے جو اس کا انکار کرنے پر مصر تھے‘ یا وہ تھے جو ایمان لائے تھے اور مطلوبہ اُمّت مُسلمہ کی شکل میں تشکیل دیے جا رہے تھے۔ تکمیلِ وحی کے بعد‘ اور اُمّت مُسلمہ کی تشکیل کے بعد اور اُس وقت جو انکار اور اختلاف تھا اس کے ختم ہونے کے بعد‘ آنے والے تمام وقتوں کے لیے اس کا پہلا مخاطب اُمّت مُسلمہ کو ہونا تھا۔ اس لیے کہ یہ کتاب اُمّت مُسلمہ کی امانت میں دی گئی ہے اور اسے یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ اس کی حفاظت کرے‘ اس کو سمجھے‘ اس کی تعبیر کرے‘ اس کے مطابق زندگی گزارے اور دوسروں کو بھی دعوت دے کہ وہ اس کے مطابق زندگی گزاریں۔ اس لیے نزولِ وحی کے وقت بنیادی پیغام‘ عقائد اور قرآن کی جو مخالفت کی جارہی تھی‘ اسے اور ساتھ ہی مسلم شخصیت اور مسلم برادری کی تشکیل کے بہت بڑے کام کو اوّلیت دی جانی چاہیے تھی‘ مگر تکمیل کے بعد اُمّت مُسلمہ‘ اس کا مقصد‘ منزل‘ ضروریات اور اجتماعی معاملات کو اوّلیت دی جانی چاہیے۔ یہ اُمّت جو قرآن پر ایمان رکھتی ہے اور قرآن سے اپنی شناخت حاصل کرتی ہے‘ اسے آنے والے تمام زمانوں میں موجود رہنا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں سب سے پہلے ہونا تھا۔
اگر ہم البقرہ کے مضامین کو اس روشنی میں دیکھیں‘ تو اسے قرآن کے آغاز میں رکھنے کی وجہ بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن البقرہ میں اُمّت مُسلمہ کا مشن بیان کرتا ہے‘ اس کو جذبہ اور تحرک دیتا ہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے اسے جن بنیادی وسائل اور اداروں کی ضرورت ہے وہ فراہم کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے البقرہ کے فضائل اور خوبیوں کا بہت اچھی طرح ذکر کیا ہے۔ حضرت سہل ابن سعدؓ سے آپؐ نے فرمایا: ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے۔ جو کوئی اپنے گھر میں دن میں اس کی تلاوت کرے گا‘ شیطان اس کے گھر میں دن کو داخل نہیں ہوگا‘ اور جو رات کو اس کی تلاوت کرے گا شیطان اس کے گھر میں تین راتیں داخل نہیں ہوگا ۔ (ابن کثیر‘ طبرانی)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو۔ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس گھر میں البقرہ کی تلاوت ہوتی ہے۔ (مسلم‘ ابن کثیر)
حضرت ابوعمامہؓ الباہری روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو‘ یہ اپنے ساتھیوں کی شفاعت کرے گا۔ دو روشن سورتوں البقرہ اور آل عمران کی تلاوت کرو اس لیے کہ قیامت کے دن وہ دو بادلوں یا روشنی سے بھرے ہوئے دو شامیانوں یا پرندوں کے دو غولوں کی طرح آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کر رہی ہوں گی۔ البقرہ کی تلاوت کرو‘ اس لیے کہ اس کے سیکھنے میں برکت ہے اور اس کو نظرانداز کرنے میں بڑا پچھتاوا ہے۔ صرف کاہل اور تن آسان اس کی تلاوت نہیں کرتے۔ (مسلم‘ ابن کثیر)
حضرت ابی بن کعبؓ سے آپؐ نے فرمایا: جو اس کی تلاوت کرتا ہے اس پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔اس کو وہ مقام حاصل ہوگا جو اللہ کی راہ میں ایک سال تک استقامت کے ساتھ جہاد کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔مسلمانوں کو ہدایت کرو کہ وہ سورۃ البقرہ سیکھیں۔ (قرطبی)
البقرہ معانی کا سمندر ہے‘ جتنا کوئی اس کے اوپر سوچتا اور غور کرتا ہے اتنا ہی اس کو ہدایت‘ دانش اور روشنی کے بیش قیمت جواہر ملتے ہیں۔ اس میں موجود معانی کے سمندر کے بارے میں‘ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ انھیں صرف سورۃ البقرہ سیکھنے میں آٹھ برس سے زیادہ لگے۔ (سیوطی)
ہر سورت ایک وحدت ہے۔ بظاہر ایک نظر میں اس کے مضامین کتنے ہی منتشر لگیں‘ اس میں معانی اور پیغامات ایک مربوط اور مرتب انداز سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہر سورت کا ایک مرکزی موضوع ہوتا ہے جس کے گرد اس کے تمام مضامین بُنے ہوئے ہوتے ہیں۔ البقرہ کا مرکزی موضوع کیا ہے؟ میری رائے میں اس کا مرکزی موضوع اُمّت مُسلمہ کا مشن ہے: اس کی تعریف کرنا‘ اسے بیان کرنا‘ اُمّت کو اس کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا‘ اُبھارنا اور تیار کرنا‘ اور اس مشن کو ترک کرنے یا اس سے انحراف کرنے کے خلاف تنبیہ کرنا اور تحفظ فراہم کرنا۔ یہ موضوع آیت نمبر ۱۴۳ میں بیان کیا گیا ہے:
ہم نے تم کو اُمّت وَسَط بنایا ہے تاکہ تم انسانیت کے لیے گواہ ہو جائو جیسے کہ رسولؐ تمھارے اُوپر گواہ ہو۔
کس بات کے گواہ؟ ___اللہ کی دی ہوئی ہدایت اور حق کے گواہ‘ اس بات کے کہ اللہ ہی واحد الٰہ ہے (توحید)‘ قرآن اللہ کی کتاب ہے‘ آخری نبی سچے نبی ہیں‘ اس پیغام کے گواہ جو وہ لے کر آئے (رسالت)‘ اور آخرت کے گواہ۔
مسلمانوں کی برادری ایمان کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے‘ اس لیے یہ عقیدے کی برادری ہے۔ ایمان کا مطلب ہے اللہ اور اس کے پیغام کے ساتھ ذاتی طور پر باعمل مکمل وابستگی۔ اس کا تقاضا ہے کہ اپنے آپ کو کُل کا کُل اللہ کو دے دیا جائے (آیت ۲۰۸)۔ اور جو قربانی وہ طلب کرے وہ دی جائے‘ حتیٰ کہ جان کی قربانی بھی۔ ایمان‘ اُمّت کی شناخت ہے۔ ایمان انفرادی اور اجتماعی طاقت کی بنیاد ہے۔ شھداء علٰی الناس کا منصب بھی اس لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ایمان کا آخری تقاضا ہے۔ اس لیے‘ ایمان کی دعوت پوری سورت میں جابجا پھیلی ہوئی ہے۔
خطاب اجتماعی ہے: یاایھا الذین اٰمنوا۔حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی جگہ قرآن کسی شخص کو ذاتی حیثیت میں مخاطب نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کو اپنی حقیقت کے لحاظ سے ایک اجتماعی وجود پیدا کرنا چاہیے۔ پس‘ مخاطب اُمّت ہے۔ جہاں کسی طویل سلسلہ آیات (آیات: ۴۰ تا ۱۲۳) میں بنی اسرائیل سے خطاب کیا گیا ہے‘ وہاں بھی اصل مقصد یہ ہے کہ ایمان کی بنیاد پر وجود میں آنے والی نئی برادری کو بتایا جائے کہ ایسی برادری کہاں کہاں ٹھوکر کھا سکتی ہے۔ قلب و ذہن کے‘ اخلاق و آداب کے‘ معاملات اور رویوں کے کون کون سے امراض داخل ہوسکتے ہیں جو برادری کے ڈھانچے کو تباہ کرسکتے ہیں۔
غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ البقرہ کو کچھ متعین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جن کے اپنے موضوع ہیں لیکن ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ ان حصوں کو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بتائی گئی ہے‘ لیکن غوروفکر اور تفہیم کو بہت آسان کردیتی ہے۔ میری فہم کے مطابق سورت کے ایسے سات حصے ہیں:
حصہ اوّل: آیات ۱ تا ۳۹ (۳۹ آیات)۔ ہدایت کی بنیادیں۔
حصہ دوم: آیات ۴۰ تا ۱۲۳ (۸۴ آیات)۔ بنی اسرائیل‘ ایک مسلم اُمّت زوال کی کیفیت میں‘ عہدشکنی اور قلب و عمل کے امراض۔
حصہ سوم: آیات ۱۲۴ تا ۱۵۲ (۲۹ آیات)۔ پیغمبرانہ مشن اُمّت مُسلمہ کے سپرد کرنا۔
حصہ چہارم: آیات ۱۵۳ تا ۱۷۷ (۲۵ آیات)۔ کلیدی انفرادی خصائص‘ دین اور شریعت کے بنیادی اصول۔
حصہ پنجم: آیات ۱۷۸ تا ۲۴۲ (۶۵ آیات)۔ اجتماعی زندگی کے اصول‘ قوانین اور ادارے (عبادت‘ جان‘ مال اور خاندان کا تقدس)۔
حصہ ششم: آیات ۲۴۳ تا ۲۸۳ (۴۱ آیات)۔ مشن کی تکمیل کی کلید: جہاد اور انفاق۔
حصہ ہفتم: آیات ۲۸۴ تا ۲۸۶ (۳ آیات) ۔اخلاقی اور روحانی ذرائع۔ (جاری)