عرفان احمد بھٹی


’’میں ا س وقت سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کونے کونے میں جا رہا ہوں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے سیلاب کی تباہ کاریوں کے دردناک مناظر دیکھے ہیں۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں ان کی تفصیل بیان کرسکوں‘‘___ یہ الفاظ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ اشتہارات میں دیے گئے ہیں۔ یہ دردناک مناظر ہمارے حکمران آج نہیں بلکہ گذشتہ کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ صرف گذشتہ چار سالوں میں ہی تین مرتبہ ہمارا ملک سیلاب کی تباہی کا شکار ہوچکا ہے، یعنی ۲۰۱۰ء، ۲۰۱۱ء، ۲۰۱۲ء ۔ ماضی میں جھانکیں تو ۱۹۵۵ء اور پھر ۱۹۷۳ء، ۱۹۷۶ء، ۱۹۸۸ء، ۱۹۹۲ء سے اب تک ۲۰سیلاب پاکستان کو زبردست نقصان پہنچا چکے ہیں۔ یہ سیلابی سلسلے اب تک ۱۱ہزار سے زائد لوگوں کی جان لے چکے، اور ایک لاکھ ۸۰ہزار سے زائد دیہات اور ۵لاکھ مکانات متاثر ہوچکے ہیں۔

 ہماری معیشت کا بڑی حد تک انحصار زراعت پر ہے کیوں کہ ہماری مجموعی قومی پیداوار کا ۲۱فی صد، روزگار کا ۴۵ فی صد اور برآمدات کا ۶۰ فی صد انحصار زراعت پر ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق حالیہ سیلاب سے تقریباً ۲ لاکھ ۳۰ ہزار ایکڑ کپاس ، ۲لاکھ ۶۰ہزارایکڑ دھان، ۶۵ہزار ایکڑ گنا کی فصل، جب کہ ۳۵ہزار ایکڑ پر سبزیاں،۲۵ سے ۳۰ہزار ایکڑ پر چارہ جات تباہ ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ ۲۵۰ کے قریب پولٹری فارم اور ۲۵ سے ۳۰ہزار جانور اِس سے متاثر ہوئے۔ ماہرین معیشت ۲۴۰؍ ارب روپے کے نقصان کا اندازہ کر رہے ہیں۔

سیلاب کے اس موسم میں آپ ان علاقوں کی جانب جائیں جہاں سیلاب سے متاثر غریب کسان اور بے آسرا دیہاتی بے سروسامانی کی کیفیت میں اپنے گھربار لُٹ جانے کے بعد کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ یہ خانماں برباد لوگ جن کی بربادی پر حکومت، انتظامیہ، سیاسی و سماجی ادارے ہر سال ماتم کرتے ہیں اور پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔حالانکہ اللہ نے اس کائنات کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے کہ خلافت ِ ارضی کے بہترین انتظام کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروے کار لائے اور اس کا بہتر انتظام اور انصرام کرے۔

اگر ہم سیلابوں کے حوالے سے دنیا میں ہونے والے معاملات کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے بے شمار مثالیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کی بدولت دنیا نے ایسی بہت سی آفات اور تباہیوں سے کافی حد تک محفوظ کرلیا ہے۔ ۲۰۰۲ء میں یورپ میں سیلاب آیا تو یورپین یونین کے ممالک کوپن ہیگن میں اکٹھے ہوئے۔ ان سب ممالک نے اس کا جائزہ لے کر اپنے اپنے ممالک میں ڈائرکٹر واٹر مقرر کیے۔فرانس، ہالینڈ کے نمایندوں پر مشتمل ایک گروپ نے جامع دستاویز تیار کی۔ ۲۰۰۳ء میں ان تمام ممالک کے نمایندوں نے اس دستاویز کو منظور کیا۔ سیلابوں سے نمٹنے کے بارے میں منصوبہ بندی کی جس میں پانی کو جمع کرنے کی تدابیر اور تعمیراتی اقدامات (یعنی ڈیم وغیرہ بنانے کے مسائل)، حتیٰ کہ سیلاب سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا سدباب اور علاج و صحت سے متعلق تدابیر، عوامی شرکت سے اس کے سدباب کی تدابیر جیسے اقدامات کو زیربحث لایا گیا ہے۔ جاپان نے بھی اس بارے خصوصی منصوبہ سازی کی ہے۔ ان میں دریائوں کے کناروں کی مضبوطی اور بلندی ، نکاسی آب کے بہتر انتظامات اور پانی کے اخراج کے لیے پمپ اسٹیشن، متبادل حکمت عملی،  آبادی کا انخلا، متبادل آبادکاری جیسے اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ ہالینڈ نے سیلابوں کے دریائی پانی کو تقسیم کرنے اور زور گھٹانے کے لیے نہریں کھودی ہیں۔۱۹۷۰ء کے سیلاب کے بعد بنگلہ دیش نے اس طرح سے کام کیا ہے کہ وہاں بڑے بڑے تالابوں، سیلابی علاقوں کی درجہ بندی، متبادل راستوں کی تعمیر، ڈیموں اور بیراجوں کی توسیع اور اجتماعی حکمت عملی کی وجہ سے ۱۹۹۸ء میں وہاں سیلاب کے نقصانات ۱۰ فی صد سے بھی کم رہ گئے۔ ۱۹۶۸ء میں لکھی گئی ایک رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ پاکستان کو ہرسال بعد ایک تربیلا جیسے ڈیم کی ضرورت ہے۔

بھارت اب تک ۴۱۹۲ ڈیم اور بیراج بناچکا ہے،جب کہ ہمارے ہاں گذشتہ چھے عشروں سے ڈیموں کے قیام پر جھگڑے ہورہے ہیں اور پاکستان میں جو ڈیم یا بیراج بنے ہیں ان کی تعداد ۶۲ ہے۔ بھارت میں ۲۱۵ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے، جب کہ پاکستان میں فاضل پانی ذخیرہ کرنے کی حد صرف ۱۸ ملین ایکڑفٹ ہے۔

یہ سب کچھ پڑھ سن کر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ہمارے ملک میں بھی اس پر کوئی کام ہوا؟ یقینا ہوا لیکن بدقسمتی سے یہ سب کام فائلوں کا پیٹ بھرنے اور فائلوں کے انبار لگانے کے علاوہ کسی عملی قدم کی طرف بڑھتا شاید اس لیے دکھائی نہیں دیتا کہ ہمارے ہاں نہ قانون کی عمل داری ہے اور نہ انصاف اور احتساب کا کوئی تصور۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ایک محکمہ ناکام ہوا تو دوسرا محکمہ اور وہ ناکام ہوا تو پھر تیسرا۔ ہمارے ہاں اس وقت سیلاب اور پانی کے معاملات پر پانچ محکمے کام کررہے ہیں۔ اگر ۱۹۵۵ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد ہی عملی اقدام کر لیے جاتے تو آج ہم یقینا اپنے ہونے والے نقصانات سے کافی حد تک محفوظ ہوچکے ہوتے۔

سیلابوں کی روک تھام کے لیے جنگلات کا جو کردار ہے اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن ہمارے ہاں جنگلات میں اضافہ تو کجا نہروں، راجباہوں، کھالوں کے کنارے لگے درخت پچھلے چند برسوں میں مکمل طور پر غائب ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی پانی کا تھوڑا دبائو آتا ہے ہماری نہریں اور کھالے جو محکمہ آب پاشی کی  ملی بھگت اور کرپشن سے پہلے ہی کمزور ہوچکے ہیں، پانی کے بہائو کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔

شاہرائوں کی تعمیر کے دوران برساتی نالوں کی گزرگاہوں کے لیے پُل نہیں بنائے جارہے۔ اس لیے ایسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے شاہرائوں میں نقب لگائے جاتے ہیں اور پھر ہمارے منتخب نمایندوں کے قریبی، ٹھیکے دارحضرات ان شاہرائوں کی تعمیرومرمت کے لیے نئے سرے سے ٹینڈر دیتے ہیں۔ اربوں روپے کے ٹھیکے من پسند لوگوں کو دیے جاتے ہیں۔ ہر آنے والے سیلاب اور قدرتی آفات کے بعد ان لوگوں کی چاندی ہوتی ہے۔ کچھ نام نہاد کمیشن قائم کردیے جاتے ہیں جن کی سفارشات کبھی نہ سامنے لائی جاتی ہیں اور نہ عمل درآمد کرنے کی کوئی کوشش ہی کی جاتی ہے۔ ۲۰۱۰ء کے سیلاب میں بھی چند لوگوں کے مفادات کے تحفظ کی خاطر لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا گیا۔ ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا، جو شاید ابھی تک بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکے۔ تحقیقات ہوئیں لیکن کبھی دوبارہ زیربحث نہ آئیں اور نہ ان پر  عمل ہی ہوا۔ آج پھر ہم سیلاب کی لپیٹ میں ہیںتو جسٹس منصور کمیشن کی رپورٹ کے تذکرے کیے جارہے ہیں۔ کوئی اس کو جھوٹ قرار دے رہا ہے اور کوئی سچ۔

ہر سال ہونے والی بارشوں کا ۷۵ فی صد صرف چار ماہ میں (جون تا ستمبر) ہوتا ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ہر سال ہمارا ۸۰۰ ملین ڈالر کا نقصان صرف قدرتی آفات کی وجہ سے ہوتا ہے اور ہم مسلسل ان خطرات کی زد میں ہیں۔ انٹرنیشنل ریڈکراس کے مطابق ۲۰۲۵ء تک ترقی پذیر ممالک کے ۵۰ فی صد لوگ سیلابوں اور طوفانوں کے خطروں سے دوچار ہوں گے۔ سائنس دانوں نے تحقیق کی ہے کہ گرم آب و ہوا ہمالیہ کے بڑے بڑے دریائوں پر آنے والے سالوں میں بہت اثرانداز ہوگی۔ ان دریائوں میں ۲۰۵۰ء تک پانی کے بہائو میں اضافے کا ہی امکان ہے۔ہم یہ بات مانیں یا نہ مانیں لیکن حقیقت ہے کہ سیلابوں پر دنیا بھر میں شخصیات اور کیمروں کی چکاچوند نے نہیں اداروں نے قابو پایا ہے۔

سیلاب، سماوی اور قدرتی آفات میں سے ہے۔ جس طرح ایک سمجھ دار انسان اور ذمہ دار معاشرہ اور فرض شناس انتظامیہ اس مقصد کے لیے کوشاں رہتی ہے کہ بیماریوں سے بچائو کے لیے حفاظتی تدابیر کرے اور علاج معالجے کے بندوبست کی فکر کرے، اسی طرح ایسی آفات و آزمایشوں سے بچائو کے لیے بروقت، قابلِ عمل اور مؤثر حکمت عملی کو بروے کار لانا ایک ذمہ دار ریاست کے لیے ضروری ہے۔

سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائو، فاضل پانی کو محفوظ یا ایسے سیلابی اور آبی راستوں کو بنانے کا اہتمام کیا جانا چاہیے، جس سے یہ پانی تباہی کے بجاے زندگی کے لیے مفید ثابت ہوسکے۔ اسی طرح دریائی یا برساتی گزرگاہوں کو گہرا کرنے، سیلابی راستوں سے تجاوزات کو ختم کرنے اور سیلاب کا نشانہ بننے والے علاقوں میں مکانات کی تعمیر کے لیے رہنمائی اور مدد دی جائے۔ موسمی اور سیلابی اطلاعات کی ترسیل کے مراکز کی جانب سے بروقت اطلاع دینے کا بندوبست کیا جائے اور اب تک مقرر کیے گئے سیلابی کمیشنوں کی رپورٹوں پر عمل درآمد کے لیے ایکشن پلان منظور کیے جائیں۔ ایک یا دو سال کی تباہی سے پہنچنے والے نقصان کے برابر رقم سے آیندہ بہت سے نقصان سے محفوظ رہنے کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔