ڈاکٹر مصطفےٰ السباعی


شام میں الاخوان المسلمون کے مؤسس ڈاکٹر مصطفےٰالسباعی [۱۹۱۵ء-۱۹۶۴ء]نے ۱۹۶۳ء میں جرمنی کا دورہ کیا۔ جب واپس آئے تو ان سے جرمن ماہر اُمورِ شرق اوسط گستائوفشرورلگ نے انٹرویو کیا۔ فشر، جرمن ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے خصوصی نمایندے تھے۔ یہ انٹرویو شام کے علمی مجلے الحضارہ الاسلامیہ نے شائع کیا۔ عربی سے ترجمہ جناب حبیب الرحمان ندوی نے کیا ہے اور اس پر حواشی بھی لکھے ہیں۔ادارہ

w  فشر :

آزادی کی اُن تحریکوں اور اجتماعی آرا کے متعلق اسلام کا کیا خیال ہے جن کے ذریعے مسلمان ، سامراج اور اس کے اجتماعی غلبے دونوں سے آزاد ہونا چاہتے ہیں ؟

r  السباعی :

اسلام آزادی اور حریت کا دین ہے۔ اس طرح اسلام، مسلمان کو کسی بھی سامراجی طاقت کا غلام بننے سے روکتا ہے۔ اسلام زندگی کے کسی شعبے میں بھی پیچھے رہنے کا مویّد نہیں۔ اسلام نے اپنی تعلیمات کے ذریعے ۱۴ سو برس قبل عرب کو تمام بُری چیزوںکی غلامی سے آزاد کیا تھا اور دنیا کی راہبری کے لیے ان کو مشعلِ راہ بنا دیا تھا کہ وہ دنیا کو عدالت ، حُریت اور انصاف کا پیغام دیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ انھوں نے وحشی قوموں کو تہذیب کی روشنی بخشی، جاہلوں کا علم کا سبق پڑھایا، اور انسانیت کو خداے واحد کی عبادت کے سوا ہر غلامی وعبودیت سے آزاد کردیا۔ اس طرح انسانوں میں اس اخوت اور بھائی چارگی کا پرچار کیا کہ آج تک کوئی بھی قدیم وجدید دین یا فلسفہ انسانوں میں اس طرح ہمدردی ومحبت کو پیدا نہ کر سکا۔

w  فشر :

پھر عصر حاضر میں مسلمان دوسری قوموں سے تمدن میں پیچھے کیوں رہ گئے ہیں؟

r  السباعی :

اس کے بہت سے اسباب ہیں اور سب سے اہم سبب یہ ہے کہ مسلم حکومتیں اس وقت سامراجی فکر سے متاثر ہیں اور سامراج، جب سے اسلامی حکومتیں اس کی آزمایش میں مبتلا ہوئی ہیں، برابر اسلام کی جڑوں کو کاٹنے کی کوشش میں مصروف ہے اور اسلام کی تعلیمات کو کتربیونت کر کے پیش کر رہا ہے، اور نئی پود کو اسلامی روح اور تعلیمات سے یکسر غافل بنانے کی پوری اسکیم پر عمل پیرا ہے۔ اس سلسلے میں ان تمام وسائل کو اختیار کیے ہوئے ہے جو اس کے پاس موجود ہیں۔ اس لیے مغربی حکومتیں ہی ہمیشہ مسلمانوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتی ہیں۔

w  فشر :

مغربی حکومتیں تو مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے سے نہیں روکتیں۔ میرا خیال ہے کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس تو اسلام سے دشمنی روا نہیں رکھتے۔

r  السباعی :

مشرق سے مغرب کی اور پھر خاص طور پر مغرب کی اسلام سے یہ دشمنی ہمارے نزدیک ایک واضح مسئلہ ہے، جس میں شک کی ایک فیصدی بھی گنجایش نہیں۔ میں صرف ایک معمولی سی مثال دیتا ہوں۔ ابھی جب آپ کے ملک جرمنی سے واپس آرہا تھا تو میں نے وہاں اسلام کی حقیقتوں کے سلسلے میں اسی طرح افترا پردازی دیکھی اور اسلام کو بگاڑ کر پیش کرنے کی ایسی تنظیمی کوششیں دیکھیں کہ میں حیران اور ششدر رہ گیا، اور یہ چیزیں علمی یونی ورسٹیوں ، مذہبی پہچان کے حامل گرجاگھروں، تفریحی کلبوں ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور ہر فکری مرکز پر موجود تھیں۔

w  فشر :

آپ درست کہتے ہیں لیکن اس کا سبب یہ بھی ہے کہ آپ تمدن وترقی میں پیچھے ہیں۔

r  السباعی :

آپ کے تمدّن سے ہم لوگ کس چیز میں آپ کو پیچھے نظر آتے ہیں؟

w  فشر :

مثال کے طور پر عورت کا مسئلہ ہے کہ آپ مسلمان لوگ اب تک عورت کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ کلبوںاور رقص گاہوں میں جاکر برابر کی تفریح کرسکے یا دفتروں اور کارخانوں میں کھلے عام کام کرے۔

r  السباعی :

کیا آپ کے ملک میں جب عورت گھر سے بالکل باہر نکل گئی تو اجتماعی زندگی میں کوئی نقصان پیش آیا یا نہیں؟ عورت کے اس عمل سے آپ کے ہاں خاندانوں کا وجود سکڑ نہیں گیا ہے۔ گھریلو زندگی اُجڑ گئی، اخلاقی جرم بڑھ گئے۔ عیاشی و بے راہ روی کی راہیں کھل گئیں اور حرامی بچوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہو گیا۔ میرا خیال ہے کہ ان باتوں کی واقعاتی حقیقت کے بارے میں شاید آپ انکار نہ کر سکیں ۔

w  فشر :

میں اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ ہماری گھریلو زندگی اپنے پورے وسیع مفہوم کے ساتھ اجیرن بن چکی ہے اور ہم اس کی وجہ سے بہت سے نقصانات بھگت رہے ہیں۔  ہمارا خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے اور نفسیاتی عارضے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ دراصل اس علمی ترقی کی قیمت ہے جو ہم کو ادا کرنا پڑرہی ہے، وہ علمی ترقی جو ہم نے انسانیت کو عطا کی ہے۔ 

r  السباعی :

اگر آپ کو خود عورت کے باہر نکلنے سے مشکلات پیش آرہی ہیں اور آپ کو اس کا علم واندازہ بھی ہے، تو پھر کیوں اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم اپنے اُس ایمانی فلسفے اور اخلاقی اقدار سے ہاتھ دھو بیٹھیں، جن کی وجہ سے ہمارا گھریلو نظام اب تک منظم ومتحد ہے۔

w  فشر :

آپ لوگ اس بات کے محتاج ہیں کہ ہماری سائنسی ترقی سے استفادہ کریں اور ہم اس بات کے لیے پوری طرح تیار ہیں کہ ہرمعاملے میں آپ کی مدد کریں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ آپ یہ نہیں کر سکتے کہ ہماری تہذیب وترقی کا ایک رخ اپنا لیں اور دوسرا رخ چھوڑ دیں، بلکہ یہ تہذیب تو آپ کو بھی اپنی اچھائیوں اور برائیوں دونوں کے ساتھ لینی پڑے گی اور آپ لوگوں کو بھی وہی قیمت ادا کرنی پڑے گی، جو اس ترقی کے لیے ہم نے ادا کی ہے۔

r  السباعی :

آپ ذرا ایک بات بتائیے کیا آپ کے ہاں کارخانوں کے قیام اور صنعتی ترقی کے لیے عورت کا گھر سے باہر نکلنا واقعی ایک ایسا ضروری امر تھا؟

w  فشر :

جب ہمارے ہاں صنعتی انقلاب آیا تو اس وقت مردوں کی تعداد کم تھی اور ہم پورے صنعتی توازن کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔ اس لیے افرادی قوت کی کمی کو دُور کرنے کے لیےہم عورت کو کام پر لگانے کے لیے مجبور تھے۔

r  السباعی :

مطلب یہ کہ  جس چیز کی طرف آپ لوگوں نے مجبوراً قدم اٹھایا ہے، اب ہم کو اس کی آپ بن مانگے کیوں دعوت دے رہے ہیں؟ حالاںکہ ہمارے یہاں مردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہم عورت کو کارخانوں میں لگانے کے لیے ابھی مجبور نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم، میری راے یہ ہے کہ مغرب میں عورت کو گھر سے باہر نکالنے کے دو سبب ہیں:

ایک تو یہ کہ آپ لوگ یہ بات پسند کرتے ہیں کہ ہر وقت عورت آپ کی نظروں کے سامنے رہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ لوگ عورت کو بیوی ، ماں یا بیٹی بنا کر اس کا خرچ برداشت کرنا پسند نہیں کرتے، اوریہ دراصل ہوشیاری وکام چوری اور اپنی فرض شناسی سے فرار ہے۔ اس لیے بے چاری عورت کو کام کرنے پر آپ لوگوں نے اُبھارا تا کہ اس طرح اپنی روزی کما سکے۔

اس کے برعکس ان دونوں چیزوں کا وجود ہمارے اسلامی معاشرے میں نہیں ۔ کیوںکہ اولاً تو اسلام میں اختلاط مرد و زن کو پسند نہیںکیا گیا، اور دوم یہ کہ ہمارے یہاں کے مرد ہر جگہ عورتوں کو دیکھنے کے مشتاق نہیں، اور اسلام میں نفقہ (عورت کے خرچ )کاقانون ایسا سلیم الفطرت ہے کہ اس میں ہر شخص پر اپنی بیوی ، ماں یا غیر شادی شدہ بیٹی کا خرچ واجب ہے۔

اس لیے عورت کو اپنے فرائضی منصبی کی طرف پوری طرح متوجہ رہنے کا وقت ملتا ہے اور وہ اپنے بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ ہم آپ سے سائنسی ترقی لیں لیکن اپنی گھریلو زندگی کو نہ بگاڑیں اور اپنے اخلاق کو نہ بگاڑیں ۔ آپ کے مشہور جرمن ہفت روزہ Stren  کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جرمنی میں کام کرنے والی اکثر لڑکیوں نے بتایا کہ وہ کام اس لیے کرتی ہیں کہ اگر وہ کام نہ کریں تو ان پر خرچ کرنے والا کوئی نہیں، یا پھر اس لیے کام کرتی ہیں کہ اپنے لیے شوہر تلاش کریں، اور عورت کو ان دونوں چیزوں کی ضرور ت ہماری مسلم سوسائٹی میں بالکل نہیں۔

w  فشر :

مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ ہماری مغربی تہدیب کے بُرے پہلوئوں سے بچ نہیں سکتے ہیں۔

r  السباعی :

مجھے یقین ہے کہ ہم بچ سکتے ہیں، مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہماری مسلم حکومتیں اسلامی اقدار کی محافظ ہوں، اور ہماری اس مادی ترقی کی صحیح توجیہ ونگرانی کریں اور اپنے تشخص کی حفاظت کے معاملے میں فکرمند ہوں اور مغرب کی کورانہ تقلید سے باز آ جائیں۔

w  فشر :

چلیے ، دوسرے موضوع پر بات کرتے ہیں۔ یہ تو واضح ہے کہ یورپ میں کیتھولک گرجاگھروں نے دلوں میں اپنی جگہ باقی رکھی ہے،کیوں کہ اس نے زمانے کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کردیا ہے، تو کیا اسلام میں ا س کی کوئی گنجایش ہے کہ وہ زمانے کے تقاضوں کا ساتھ دے؟

r  السباعی :

پہلے آزادی اور زمانے کے تقاضوں کا صحیح مفہوم متعین کر لیں تو بہتر ہے۔ مغربی گرجاگھروں نے تو یہاں تک زمانے کا ساتھ دیا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے مخلوط کلبوں کاافتتاح کیا جس میں رقص وشراب کا ہنگامہ ہو اور یہ سب پادری کی زیر نگرانی ہو، بلکہ وہ خود ہی اس ’ترقی پسندانہ‘ کام کی ابتدا بھی کرے۔ اسی طرح جوان عورتوں اور مردوں کے مخلوط تفریحی سفر (tours) وغیرہ بھی کرائے، جن کے ساتھ ان اخلاقی گناہوں سے بچنانا ممکن ہے جن کو تمام مذاہب نے منع کیا ہے۔ اس لیے اگر آپ کا خیال ہے کہ اسلام اس حد تک ، زمانے کا ساتھ دے سکتا ہے تو یہ بالکل خام خیالی ہے کیوںکہ اسلام کے اپنے آداب ، اخلاق اور قوانین ہیں اور ان سے نکلنے کے بعد انسان اسلام سے گویا خارج ہو جاتا ہے ۔ اور اس مذہب و عقیدے کا کیا فائدہ جو شہوات وخواہشات کے اژدھے کو نظم و ضبط کا پابند نہ بنا سکے اور گناہ وفسق کے ارادوں کی حدبندی کو نہ پامال کر سکے۔ 

w  فشر :

ایسی صورت میں تو آپ لوگوں کو ہی بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیوںکہ گرجے نے تو بہت سی چیزوں سے چشم پوشی کر لی۔

r  السباعی :

یہ بات بتائیے : زنا کاری اور شراب نوشی آپ کی نظر میں بُری چیز ہے یا نہیں ؟

w  فشر :

صرف بُری چیز ہی نہیں بلکہ دونوں حرام ہیں۔

r  السباعی :

لیکن گرجا نے اس ضمن میں پسپائی اور لاتعلقی کا رویہ اختیار کیا ہے۔ جرمنی کا مشہور جشن ’کارنیوال‘ (Carnival)جو شہر مانیر میں تین دن تک جاری رہتا ہے اور بڑے روزے سے قبل تین دن تک اس میں ہرانسان ہر اخلاقی ودینی قید سے باہر رہتا ہے، اور اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ہر سال دوسرے سال کے مقابلے میں اس جشن کے بعد کنواری لڑکیوں کے حاملہ ہونے کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب بتائیے کہ اس کے بعد گرجا کا کیا اثر دلوں میں باقی رہ گیا؟  کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسلام بھی اسی طرح زمانے کے ساتھ چلنے لگے؟

یہ بات آپ کو معلوم ہو گی کہ آپ کے یورپ میں عوام گرجے کی پیروی اس طرح نہیں کرتے جس طرح گرجا چاہتا ہے اور باوجود یہ کہ حکومتیں گرجے کا خیال رکھتی ہیں اور اس کے نام سے ایک ٹیکس لیا جاتا ہے، لیکن اس سب کے بعد بھی عوام الناس گرجے سے بدظن اور متنفر ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے بدھ مت قبول کر لیا ہے اور یہ آپ کو معلوم ہو گا کہ   بدھ مت ایک بت پرست مذہب ہے ۔انسانی عقل نے ظلمت وجہالت کے دور میں اسے قبول کیا تھا ۔ لیکن جرمنی اور یورپ کی عقل اسے بیسویں صدی میں کیوں کر قبول کرتی ہے۔ اس لیے آپ ہی بتائیے کہ مغربی معاشرت میں اس پسپائی پسند گرجے کے اثرات کہاں ہیں؟ بہرحال، اسلام اس قسم کی کوئی نرمی نہیں برت سکتا جس کی رو سے شہوات وخواہشات کو جائز کر دیا جائے۔ اسلام زمانے کا ساتھ اس حد تک دیتا ہے کہ ہرمفید اور نفع بخش چیز سے استفادہ کرتا ہے اور علم کو وسائل اخذ کرنے کے بعد فکری ترقی کا ساتھ دیتا ہے۔ الحمدللہ ہمارے مسلم نوجوان یورپ وامریکا کی یونی ورسٹیوں میں جا کر اعلیٰ تعلیم بھی پاتے ہیں اور آپ کے تمدن کے بیچ میں رہ کر بھی اپنے اخلاق و کردار کی حفاظت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے پڑوسی اور اساتذہ سب ان کا احترام کرتے ہیں۔ میں نے جرمنی میں خود یہ بات اپنے کانوں سے سنی کہ لوگ ان کے حُسنِ کردار پر حیران ہوتے ہیں اور بعض نے مجھ سے انھی چند با اخلاق وبا عصمت نوجوانوں کے متعلق کہا کہ ’’یہ فرشتے ہیں اور ہم چیلنج کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں ایسے با اخلاق، پاک باز اور اچھے نوجوان نہیں مل سکتے‘‘۔

یہ ہے اسلام میں نرمی اور زمانے کے ساتھ چلنے کی مثال کہ کسی بھی دوسرے کی تعلیمی، فکری اور تعمیری صلاحیتوں سے پورا استفادہ کرنے، اور شر کی دوزخ میں رہ کر بھی شعلۂ شر سے محفوظ رہنا اور اخلاقی سیلاب بلا سے اس طرح پار ہوجانا کہ سردامن بھی تر نہ ہو جائے۔یہ واضح مثال اس بات کی ہے کہ مغربی تمدن کی خرابیوں سے اگر مسلمان چاہیں اور پختہ عزم وارادے کے ساتھ چاہیں تو بچ سکتے ہیں۔

w  فشر :

یہ بات درست ہے ۔ مجھے بھی جرمنی میں بعض ایسے نوجوانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جو مسلمان ہیں اور وہ ہر قسم کی گندگی سے محفوظ ہیں اور تہذیب جدید کی دل لبھانے والی جنّت کی تباہ کن رعنائیوں سے بہت دُور ہیں۔ اس ضمن میں جب مَیں نے اپنی ایک ریڈیائی تقریر میں یہ کہا تھا کہ بعض ایسے نوجوان بھی جرمنی میں رہتے ہیں جو اپنی عمر کی پچیس بہاریںطے کر چکے ہیں، لیکن جنسی اتصال و تجربے سے اب تک قطعاً محروم اور کنارہ کش ہیں، تو میری اس بات کو سچ ماننے سے لوگوں نے انکار کر دیا، بلکہ میری اس بات کو سرے سے جھٹلا ہی دیا گیا، حالاں کہ یہ ایک واقعاتی حقیقت ہے۔۲ آپ نے کارنیوال کے جشن کا جو تذکرہ کیا ہے، اس کا سبب کیتھولک گرجا میں ’اعتراف‘ (Confession) ہے۳  اور اسلام میں اس قسم کا کوئی عقیدہ نہیں پایا جاتا، اور اسی وجہ سے وہ جنسی بے راہ روی سے بڑی حد تک کنارہ کش رہتے ہیں۔

r  السباعی :

میں یہی بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے ملک میں کسی اجتماعی یا اخلاقی فضیلت تلاش کرنے نہیں جاتے کیونکہ اس کی کامل قدریں ہمارے پاس موجود ہیں، بلکہ ہم صرف سائنس اور علمی ترقی کے تجربوں سے استفادہ کرنے جاتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ غلطیوں میں نہ پڑیں۔

w  فشر :

آپ کا بہت شکریہ ، آپ نے مجھے ہماری سوسائٹی کی بعض اجتماعی خامیوں سے آگاہ کیا اور اس حقیقت کا پتا بھی دیا کہ آپ لوگ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اس بات کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے اسلام کی اصولی آراسے متعلق ایسی معلومات دیں کہ میرا سابق نظریہ بدل گیا ۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ اسلام اور اسلامی تمدن، نیز مسلم ملکوں کی تہذیبی مشکلات کے بارے میں ، میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ۔ لیکن اب مجھے اندازہ ہوا کہ میں بہت سی چیزوں سے ناواقف ہوں۔

حواشی

  1. مغربی دُنیا میں گرجا کی سرپرستی میں عصمت فروشی کے واقعات، تاریخ کا ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے۔ اس مناسبت سے علّامہ محمد اقبال کا شعر کتنا موزوں ہے:

حاضر ہیں کلیسا میں کباب ومئے گُلگلُوں

مسجد میں دھرا کیا ہے بجز مَوعظہ وپند 

 یہ ایک عجیب وغریب حقیقت ہے کہ اسلام کے سوا دنیا کے تمام قدیم عبادت خانوں کے زیر سایہ عصمت فروشی اور حرام کاری کا دھندہ جاری رہا۔ جب دنیا نے ذرا ترقی کر لی تو یہ کام ذرا چھپ کر ہونے لگے ۔ کبھی یہ  حرام کاری کا جشن ، معبود وتمو زیااو ڈیون کے معبودہ عشٹروٹ سے اتصال کے وقت جب زمین پر بہار آئی تھی تو منایا جاتا، یا مصر کے معبود آبیس (جو بچھڑا تھا ) کے سامنے دین کا جزو سمجھ کر باہمی جنسی اتصال کیا جاتا تھا۔ اس حرام کاری کو گناہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ایک مقدس ومحبوب فریضہ سمجھ کر اس کو ادا کیا جاتا تھا ۔ پروفیسر فلپ کے ہٹی[م: دسمبر ۱۹۷۸ء] کے بیان کے مطابق یہ قدیم قوموں میں سے بابل ، قبرص، یونان، سسلی، کارتھیج وغیرہ میں عام تھا۔ گستائو لی بان [م: دسمبر ۱۹۳۱ء]اپنی کتاب ’آشور وبابل کا تمدن ‘ میں اس رسم کے سلسلے میں عظیم یونانی مؤرخ ہیروڈٹ کے حوالے سے رقم طراز ہیں: ’’ بابلی عورت پر ایک عجیب وغربب شرمناک چیز واجب تھی اور وہ یہ کہ زندگی میں ایک بار وینس (زہرہ ) کے مندر میں جا کر اپنا جسم کسی بھی اجنبی مرد کے حوالے کر دے اور اکثر ایسی لڑکیاں جو سمجھ دار اور حیا دار ہوتی تھیں اس عادت سے ان کو نفرت ہوتی تھی، تو وہ معبد تک زبردستی کرکے سواری میں بٹھا کر لے جائی جاتی تھیں اور معبد کے مقدس احاطے میں ان کو بٹھایا جاتا تھا اور جو شخص بھی ان کی جھولی میں کچھ رقم ڈال دے، ان کو اس کے ساتھ جنسی اتصال کرنا ضروری ہوتا تھا اور یہ رسم گویا ایک مذہبی جزو تھی‘‘۔

 اس عادت کے مطابق کتاب مقدس نبی ؑ بنی اسرائیل حزقی ایل ؑ کو جب یروشلم کی سیر کرائی گئی اور یہ بتایا گیا کہ وہاں کے لوگ دین سے کس طرح پھر چلے ہیں اور باطل عادتوں میں مشغول ہیں تو وہیں اس عادت کی طرف اشارہ کیا گیا: ’’پھر وہ مجھے خدا وند کے گھر کے شمالی پھاٹک پر لایا اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں کی عورتیں بیٹھیں تموز پر نوحہ کر رہی ہیں (حزقی ایل ۸:۱۴)۔ اور اس عادت کے پیش نظر ہی سفراستثناء میں حضرت موسیٰ ؑ نے اعلان کر دیا تھا کہ ’’کسی فاحشہ کی آمدن یا کتے کی اُجرت کسی منت کے لیے، حتیٰ کہ  اپنے خدا کے گھر میں نہ لانا۔ کیوںکہ یہ دونوں تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہیں (۲۳:۱۸)۔ لیکن ان تمام ممانعتوں کے باوجود تاریخ انسانیت میں ہمیشہ معبدوں کے زیر سایہ اس حرام کاری کو فروغ دیا گیا اور اکثر مسیحی گرجے تاریخی طور پر زمانۂ وسطیٰ میں اخلاقی انحطاط کے اڈے سمجھے جاتے تھے، حتیٰ کہ تاریخ پاپائیت میں بعض پوپوں کی غیر شرعی اولاد تک پائی جاتی ہے جو پاپائیت کے لیے باعث ِ شرمندگی ہے۔خصوصی طور پر مسیحیت میں جب سے گریگوری ہفتم [زمانہ: ۵مئی ۱۰۴۵ء-۲۰دسمبر۱۰۴۶ء] نے گیارھویں صدی میں راہبوں اور پادریوں کی شادی بالکل بند کردی تو اس فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ہر قسم کی بندشوں کو گرجا والوں نے توڑڈالا اور گرجا اس اخلاقی فساد میں پڑ گیا، جس کو دیکھ کر مارٹن لوتھر [م: نومبر ۱۴۸۳ء] جیسا مذہبی شخص شمشیر برہنہ ہو گیا ۔

  1. بہرحال، کارنیوال وغیرہ قسم کے جشن اس جاہلیت قدیمہ کی تقلید ہے اور گرجے نے زمانے کا ساتھ دیتے ہوئے اسے بھی جائز کر دیا ہے ۔ لیکن اسلام کا اجتماعی نظام اتنا متوازن ہے کہ اس نے شروع ہی سے فرد کے فطری تقاضوں کا پورا خیال رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے پہلے دن سے اخلاقی زندگی کی دعوت دی، حرام کا ری کو ہر جگہ منع کیا ، چاہے وہ تنہائی میںہو یا سب کے سامنے ، معبد کے اندر ہو یا کلب کے زیر سایہ ، غنڈوں کی سرپرستی میں ہو یا کاہن، راہب اور عالم کی نگرانی میں ہو۔ اسلام میں حرام وحلال کا معیار صرف کتاب الٰہی او ر سنت رسولؐ اللہ ہے۔ کسی کمیٹی ، کسی گرجا ، کسی عالم وفقیہ کو کسی ایسی بدعت ایجاد کرنے کی اجازت نہیں ہے، جو حکمِ الٰہی کے خلاف ہو۔ اسی لیے اسلام میں نہ گرجا ہے اور نہ پاپائیت اور نہ معبد کا وہ گھٹیا تصور جو قدیم تہذیبوں میں ملتا ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر مردوں اور عورتوں کے مخلوط اجتماع کرتے ہیں اور بدعتوں کو رواج دیتے ہیں اور اسلام کے نام پر اس نوعیت کے جشن مناتے ہیں جہاں محارم شریعت چیزیں رُونما ہوتی ہیں، اسلام ان سب سے بری ہے۔ دراصل یہ بدعتیں، رعایتیں اور خباثتیں قدیم پاپائی مزاج کی پیدا کردہ ہیں ۔ اسلام کا معمولی سا شعور رکھنے والے خواتین و حضرات ان سے کوسوں دُور بھاگتے ہیں۔
  2. اور یہ انکار کرنے والے جرمن عوام وہ ہیں کہ جو بداخلاقی اور عریانی وبرہنگی اور شہوت رانی کے درجۂ اسفلی پر پہنچ چکے ہیں، اور حرام کاری ان کی سوسائٹی میں اس درجہ عام ہو چکی ہے کہ اگر کسی کے متعلق ان سے یہ کہا جائے کہ وہ گناہ نہیں کرتا تو وہ اس کو اپنے آئینہ کردار میں دیکھ کر جھٹلاتے ہیں اور اس بات پر ان کو یقین ہی نہیں آتا۔ یہ مسیحی امت جو کسی کو اخلاقی بد کردار ی سے محفوظ نہیں سمجھتی ، وہ ہے جس کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے زندگی بھر حرام کاری جیسے گناہ کی بات تو ایک طرف رہی، جائز طور پر شادی کے ذریعے بھی جنسی اتصال نہ کیا۔ بہرحال، ترقی وتہذیب نے کہاں جا کر دم توڑا ہے کہ وہ قوم اور معاشرہ اور مذہب جس کو ہر ہر جگہ زنا اور حرام کاری سے روکا گیا تھا، وہ اب اس بات کی تصدیق کرنے سے بھی انکار کردیتا ہے کہ روے زمین پر کوئی سوسائٹی اس حیوانی کردار سے محفوظ ہو گی ۔ گرجے کی تعلیم کس طرح عام ہوتی، جب کہ اس کے پاسبانوں نے اپنے اعمال کے ذریعے تعلیم موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام سے رُو گردانی کی۔ یہ اس اُمت کا حالِ زار اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے، جس کو بائبل میں حضرت موسٰی نے ’وصاے عشرہ‘ میں سے ایک اہم وصیت یہ کی تھی کہ ’تو زنا نہ کرنا‘(خروج ۲۰:۱۴)، اور انبیا   بنی اسرائیل نے بار بار اس ممانعت کو دہرایا تھا ، اور حضرت مسیح علیہ السلام کہ جن کے نام پر ہر مسیحی بظاہر قربان ہو جاتا ہے کن واضح الفاظ میں زنا کی لعنت کے متعلق ارشاد فرمایا تھا: ’’ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زنانہ کرنا۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جس کسی نے بُری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کر چکا ۔ پس، اگر تیری داہنی آنکھ تجھے ٹھوکر لگائے تو اسے نکال کر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ تیرے اعضامیں سے ایک جاتا رہے اور تیرا بدن جہنم میں نہ ڈالا جائے‘‘ (متی۵:۲۷تا ۲۹)۔ حضرت مسیحg کے ماننے والوں نے ترقی وتہذیب اور تمدن کے نام پر بداخلاقی وحیا سوزی، عریانی وبرہنگی اور شہوت رانی اور لذت جسمانی کے جو نئے نئے طریقے ایجاد کیے ہیں، ان پر شرم وحیا ہی نہیں بلکہ وحشی درندگی بھی اپنا منہ چھپا لیتی ہے اور ایسے ہی انسانوں کے متعلق شاید اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’ وہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ‘‘۔
  3. ’اعتراف‘ (Confession ) کے معنی ’اقرار‘ کے ہیں، لیکن مشرقی ومغربی گرجا، یعنی کیتھولک اور آر تھو ڈوکس کے نزدیک یہ گرجا کے ’سات رازوں‘ میں سے ایک ہے۔ صرف پروٹسٹنٹ نے اس کو رازوں میں شمار نہیں کیا ۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ معافی کے تصوّر سے اپنے گناہوں کا اعتراف سرکاری کاہن یا پادری کے سامنے کرنا کہ اس اقرار ہی کے ذریعے گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ کیتھولک گرجا کی تعلیم کے مطابق یہ ’اعتراف واقرار‘ ہر اس شخص پر واجب ہے جس نے معمودیت (یہ بھی سات رازوں میںسے ایک ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ کاہن سر پر تیل مل کر گویا مسیحیت میں داخل کرے ) کے بعد کوئی گناہ کبیرہ کیا ہو، اور چھوٹی غلطیوں کے سلسلے میں ’اعتراف‘ ایک مفید چیزہے ۔ مجمع لاٹران نے ۱۲۱۵ء کے قانون میں کہا ہے کہ: ’’جو لوگ بھی بڑے گناہوں کے خطا کار ہیں، ان پر سال میں ایک بار اعتراف واجب ہے اور مرنے والے شخص پر بھی، یا وہ جو کسی ایسے کام پر جا رہا ہو جس میں مرجانے کا امکان ہو۔ کاہن کسی صورت میں بھی اعتراف کرنے والے کے راز کو فاش نہیں کر سکتا، اگرچہ عدالت بھی اس سے پوچھے اور اگر اس نے ایسا کیا تو گرجا اس کو سخت تادیبی سزا دے گا‘‘۔ یہی اعتراف مغفرت کے پروانوں کا سبب بنا اور ’پوپ‘ پیسے لے کر جنت کے ٹکٹ تقسیم کرنے لگے۔ اس تحریک کے تاریخی اُتار چڑھائو سے مسیحیت کو نقصان پہنچا اور یورپ کی وحدت جس طرح ختم ہوئی اس سے سب ہی واقف ہیں۔ اس اعتراف کے سلسلے میں پادریوں کے حوالے سے عقیدہ ہے کہ وہ علمِ غیب اور پردے کی چیزیں بھی جاننے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں خبر ملاحظہ ہو: ’’پادری صاحب نے گرجا میں جماعت کو مخاطب کرکے کہا کہ ہمارے اس مجمعے میں ایک شخص ایسا موجود ہے جو دوسرے کی بیوی سے چھیڑ چھاڑ رکھتا ہے۔ اسے چاہیے کہ گرجا کے امدادی بکس میں فوراً پانچ ڈالر کی رقم ڈال دے، ورنہ اس کا نام میں اسپیکر پر سے پکار دوں گا ۔ کچھ دیر بعد جب وہ بکس کھولا گیا تو      کُل ۲۰کلیسائوں کے مجمعے سے ۱۹ کی طرف سے ۵،۵ ڈالر کے نوٹ نکلے اور ایک طرف سے دو ڈالر کا نوٹ مع اس پرچی کے ساتھ نکلا کہ بقیہ ۳ ڈالر پہلی کو تنخواہ ملنے پر ‘‘(صدق جدید، ۱۲نومبر ۱۹۶۵ء، مدیر: مولانا عبدالماجد دریابادی)۔ یعنی گرجا کے پجاریوں میں سو فی صدی ضمیر فروش اور بد باطن ثابت ہوئے اور گناہ سے اس لیے نہیں بچتے کہ وہ گناہ ہے، بلکہ پادری کے خوف سے اس کا اقرار کرتے ہیں او ر صرف پانچ ڈالر ادا کرنے کے بعد ان کے گناہ سے چشم پوشی بھی ہو جاتی ہے اور گویا اس کی اجازت بھی ۔

اس کے برخلاف اسلام نے صرف خدا سے توبہ واستغفار کا مطالبہ کیا اور کسی بھی انسان کے سامنے  اعتراف گناہ وغیرہ کا ناقص ومضر عقیدہ نہیں رکھا اور نہ اس سے گناہ معاف ہوں گے ۔ گناہ کا کفارہ صرف اچھے اعمال اور اللہ سے توبہ ہے۔ جو شخص بھی بلا کسی وسیلے کے اللہ ہی کی جناب سے تائب ہو گا اور دل کی تڑپ کے ساتھ اللہ ہی سے مانگے، اس کے لیے توبہ کا دَر کھلا ہے اور اس کی تعلیم انسانوں کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر اس طرح دعا کی:’’اگر میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں۔ پکارنے والے کی پکا رکو سنتا ہوں جب وہ پکارے ، تو مجھ سے ہی مانگو اور مجھ ہی پر ایمان لائو‘‘ (البقرہ ۲:۱۸۵ )۔ اس بات کا یقین کہ خدا شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں اور سننے والے، معاف کرنے والے ، قدرت والے ہیں، ہر قسم کے باطل عقیدوں ، اعتراف واقرار کے افسانوں اور مغفرت کے پروانوں سے مسلمان کو محفوظ رکھتا ہے۔