۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کا دن تاریخِ کشمیر میں ایک ایسے تاریک موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے خطے کی جغرافیائی اور سیاسی حرکیات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انڈیا کی جانب سے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کا یک طرفہ خاتمہ محض ایک قانونی ترمیم نہیں تھی، بلکہ یہ وادیِ جموں و کشمیر پر مستقل سیاسی، جغرافیائی اور نظریاتی تسلط قائم کرنے کے اس طویل مدتی ’ہندوتوا ایجنڈے‘ کا نقطۂ آغاز تھا، جس کے سدباب کے لیے نئی دہلی کی حکومت، عشروں سے پَر تول رہی تھی (یہ حکومت بی جے پی کی ہو یا کانگریس کی، دونوں میں بدنیتی کا عنصر غالب طور پر دیکھا جاسکتاہے)۔ آج، برسوں بعد، وادیِ کشمیر ایک ایسے جدید محاصرے میں ہے جہاں گولیوں کی گھن گرج سے زیادہ قانون، بیوروکریسی اور آبادیاتی تبدیلیاں ایک پوری قوم کی شناخت کو خاموشی سے نگل رہی ہیں۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں، تو اگست سے نومبر ۱۹۴۷ء کے دوران پونچھ اور جموں میں ہونے والا مسلمانوں کا لرزہ خیز قتلِ عام یاد آتا ہے، جہاں مسلم اکثریتی خطے کو ہندو اکثریت میں بدلنے کے لیے دو لاکھ سے زیادہ نفوس کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ موجودہ دور میں، ڈیجیٹل میڈیا، سیٹلائٹ نگرانی اور عالمی برادری کی موجودگی کے باعث انڈیا کے لیے وادی میں ایسا ننگا اور براہِ راست فوجی قتلِ عام کرنا سفارتی سطح پر نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن اب یہی کام ’قانونی اور بیوروکریٹک نسل کشی‘ کے ذریعے، مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے مسلسل کیا جارہا ہے۔
نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت لاکھوں غیر کشمیری ہندوؤں، مزدوروں اور ریٹائرڈ انڈین فوجیوں کو وادی کی مستقل شہریت دینا اور مسلم علاقوں میں خصوصی بستیاں قائم کرنا، اسرائیل کے مغربی کنارے والے آباد کاری کے ماڈل کی ہو بہو عکاسی ہے۔ اس مہم کا واحد مقصد مسلم اکثریت کو اپنے ہی گھر میں معاشی اور سیاسی طور پر اقلیت بنانا ہے، تاکہ مستقبل میں استصوابِ رائے یا سیاسی عمل کو ہمیشہ کے لیے بے اثر کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی، کشمیر کی صدیوں پرانی تعلیمی اور رابطہ زبان ’اردو‘ کو بتدریج پسِ پشت ڈال کر، ہندی اور انگریزی کو زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ نئی نسل اپنی تحریری تاریخ اور لٹریچر سے کٹ جائے۔
اس تادیبی رویے کے تحت ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ کے زیرِ انتظام چلنے والے سیکڑوں نجی اسکولوں اور ’جامعہ سراج العلوم‘ جیسے بڑے تعلیمی اداروں اور مدارس کو ’انسدادِ دہشت گردی‘ کے کالے قوانین کے تحت جبراً سیل کر دیا گیا۔ ان اسکولوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے اور ان کی اربوں روپے مالیت کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی و مقامی قائدین اور اساتذہ کو بے بنیاد مقدمات میں جکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ان اسکولوں میں سیکولرازم اور جدید تعلیمی اصلاحات کے نام پر بچوں کو مذہب سے دور کرنے والا مادہ پرستانہ ذہن تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں اسلامی شعائر کو پسماندگی کی علامت اور انڈین قوم پرستی کو ترقی کا واحد راستہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نصاب اور تدریسی سرگرمیوں کا ڈھانچا اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ طلبہ کے دلوں سے کشمیر کے دیرینہ سیاسی کاز اور مذہبی حمیت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ مقامی دانش ور اس عمل کو ’تعلیمی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہیں، جس کے ذریعے لاکھوں کشمیری طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا کر انھیں نفسیاتی طور پر مغلوب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کشمیر کا مسلم اکثریتی تشخص ہمیشہ سے انڈین قوم پرستی کے راستے میں سب سے بڑی نظریاتی دیوار رہا ہے۔ اس دیوار کو گرانے کے لیے حال ہی میں ’وقف بورڈ ترمیمی ایکٹ‘ متعارف کروایا گیا ہے۔ اس کے تحت مساجد، خانقاہوں اور مزارات کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کو انڈین بیوروکریسی کے ماتحت کیا جا رہا ہے، اور ان مسلم بورڈز میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت کا قانونی راستہ بھی ہموار کیا گیا ہے، جسے مقامی علما اپنی مذہبی خودمختاری پر سیدھا حملہ قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔
وادی کی مساجد کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور خطباتِ جمعہ کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جاتی ہے، تاکہ کشمیر کی آزادی یا انسانی حقوق پر کوئی آواز بلند نہ ہو سکے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کی بار بار تالہ بندی اور اہم اسلامی تہواروں پر پابندیاں اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ وادی میں اسلامی راہ نمائی کو ایک سیکیورٹی رسک سمجھ کر دبایا جا رہا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈیا کی اس طویل مدتی مہم کو جس بیرونی عسکری و تکنیکی شراکت داری سے سب سے زیادہ توانائی مل رہی ہے، وہ اسرائیل ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، کشمیر کا خطہ اس وقت اسرائیل کی جدید ترین جنگی ٹکنالوجی اور جنگی نظریات کی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ اسرائیل کی عسکری سرگرمیاں اور اشتراک درج ذیل پانچ بڑے ستونوں پر کھڑا ہے:
۵- تعزیری مسماری (Punitive Demolitions): اسرائیل کی جانب سے فلسطینی حریت پسندوں کے خاندانوں کے گھروں کو بلڈوز کرنے کی عسکری حکمتِ عملی کو بھارتی فوج نے کشمیر میں ہو بہو اپنایا ہے۔ عسکریت پسندی کی حمایت کے شبہ میں کشمیری مسلمانوں کے مکانات، کاروباری دکانوں اور جائیدادوں کو دھماکوں سے اڑانا یا مسمار کرنا، اسی اسرائیلی جارحانہ ماڈل کا حصہ ہے۔
اقوامِ متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، فریڈم ہاؤس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ سالانہ رپورٹیں، مقبوضہ وادی کی مخدوش صورتِ حال پر شدید احتجاج کر رہی ہیں۔ ان عالمی اداروں کے مطابق، عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کے نام پر اب تک ۲۸۰۰ سے زائد صحافیوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کو ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ جیسے کالے قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ معلومات تک رسائی کو مکمل طور پر بلاک کرنے کے لیے۸ہزار سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں اور ۲۵ سے زائد اہم کتابوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ حراستی اموات اور تشدد کے منظم واقعات وادی کے سیاسی منظرنامے کو مزید بھیانک بنا رہے ہیں۔
ایسے وقت میں، جب کہ پاکستانی ریاست اندرونی معاشی و سیاسی عدم استحکام اور بین الاقوامی اسٹرے ٹیجک دباؤ کے باعث کشمیر پالیسی پر ایک غیر معمولی دفاعی خاموشی اختیار کیے ہوئے دکھائی دیتی ہے، پاکستان کی دینی اور نظریاتی تنظیموں کی ذمہ داری دگنی ہو جاتی ہے۔ اس ماحول میں جماعت ِ اسلامی جیسی منظم نظریاتی جماعتیں، جن کا کشمیر کی تحریکِ آزادی کے ساتھ ایک طویل، فکری اور خون کا رشتہ رہا ہے، اپنا یہ تاریخی فرض ادا کر رہی ہے۔ مگر یہ چیلنج جتنا بڑا ہے، اسے دیکھ کر ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کشمیر کے مقدمے کو عوامی اور عالمی فورمز پر زندہ رکھنے کے لیے نئے سرے سے صف بندی کی جائے اور تسلسل قائم رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان کے مذہبی اداروں اور علمائے کرام کو مساجد، منبر و محراب اور عوامی سیمی ناروں کے ذریعے پاکستانی عوام، بالخصوص نئی نسل میں کشمیر کی نظریاتی تڑپ کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی، اوورسیز نیٹ ورکس اور عالمی مسلم تنظیموں کے ذریعے انڈیا کے ’ثقافتی اور تعلیمی جبر‘ کو بے نقاب کرنا، اور آئینی دائرے میں رہ کر ریاستی پالیسی پر پرامن دباؤ قائم رکھنا وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے وادی کے مظلوم مسلمانوں کو تنہائی اور مایوسی کے اندھیروں سے نکالا جاسکتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے۔ اگر عالمی ضمیر، انسانی حقوق کے علَم برداروں ، اُمتِ مسلمہ، خصوصاً مملکت خدا داد پاکستان نے انڈیا کی اس خاموش، قانونی اور آبادیاتی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی برقرار رکھی، تو جغرافیائی نقشے پر وادیِ کشمیر کا نام تو شاید موجود رہے، لیکن اس کا صدیوں پرانا اسلامی، ثقافتی اور تاریخی تشخص ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ یہ وقت سطحی بیانات کا نہیں، بلکہ علمی، قانونی، سفارتی اور عوامی سطح پر اس فکری و جغرافیائی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط اور پائیدار بند باندھنے کا ہے۔
_______________