تحریکِ آزادیِ جموں و کشمیر اس وقت اپنے تاریخی سفر کے ایک ایسے سنگ میل پر کھڑی ہے جہاں روایتی اسلوبِ سیاست اور معاصر عالمی حرکیات کے درمیان ایک گہرا تصادم دکھائی دیتا ہے۔ اگست ۲۰۱۹ء میں دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵-اے کے یکطرفہ خاتمے، کشمیری مقتدرہ کے تاریخی جغرافیائی بکھراؤ، اور بعد ازاں ستمبر ۲۰۲۱ء میں قائد ِ تحریک سید علی شاہ گیلانیؒ کی رحلت نے وادی کے سیاسی اُفق پر بظاہر ایک بڑا خلا پیدا کیا۔ اس خلا کو بنیاد بنا کر اور نوآبادیاتی حصار کے بل بوتے پر انڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوچکا ہے۔ مگر تاریخِ انسانی کا یہ مسلمہ قانون ہے کہ جب جبر کا دباؤ حد سے بڑھ جائے، تو حق کی تحریکیں فنا نہیں ہوتیں بلکہ معاصر تقاضوں کے تحت اپنا رنگ، زبان اور حکمتِ عمل تبدیل کر لیتی ہیں۔ یہ دراصل اس قرآنی اصول کا مظہر ہے کہ حق کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے، لیکن اسے مٹایا نہیں جاسکتا۔
کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو امید اور مایوسی کی داخلی کش مکش سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ سطحی طور پر دیکھا جائے تو وادی کے اندر ایک گہرا جمود اور فکری گھٹن موجود ہے۔ ’آل پارٹیز حریت کانفرنس‘ (APHC) کی بنیادی قیادت، برسوں سے تہاڑ جیل جیسی عقوبت گاہوں میں اسیر ہے اور ان کا روایتی تنظیمی ڈھانچا مفلوج ہو چکا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کی سرگرمیاں بھی شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔ عوامی سطح پر سخت ترین مواصلاتی نگرانی اور جدید ترین ٹکنالوجی کے باعث روایتی سرگرمیاں کم ترین سطح پر آ چکی ہیں۔ مسلسل جانی و مالی نقصان اور طویل مواصلاتی بندشوں نے عام کشمیری میں ایک عارضی تھکن ضرور پیدا کی ہے، جسے بعض مبصرین مایوسی کا نام دیتے ہیں۔
لیکن اس تزویراتی خاموشی کے بطن سے ایک گہری امید جنم لے رہی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کے سیاسی منظرنامے نے ثابت کیا کہ کشمیری عوام نے بائیکاٹ کی روایتی لکیر سے ہٹ کر انتخابی اور آئینی محاذ کو غاصبانہ ایجنڈے کے خلاف ایک ’دفاعی ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ روایتی جماعتوں کو دیا جانے والا عوامی مینڈیٹ یا جیلوں سے اُبھرنے والے متبادل چہروں پر اعتماد کا اظہار، دراصل اس بیانیے پر کاری ضرب ہے کہ کشمیریوں نے یک طرفہ اقدامات کو دل سے قبول کر لیا ہے۔
- سیاسی و فکری تبدیلی:کشمیر کی آزادی کی تحریک اس وقت ایک اہم ’سیاسی و فکری ارتقاء‘ سے گزر رہی ہے۔ یہ ارتقاء جذباتی نعروں سے نکل کر اسٹرے ٹیجک پختگی کی طرف سفر ہے:
- نوجوان نسل کی نئی سوچ: مقبوضہ کشمیر کی موجودہ نوجوان نسل اب گلیوں میں جذباتی احتجاج کے بجائے قلم، قانون، اور علم کو اپنا ہتھیار بنا رہی ہے۔ وہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹرز، اور جنیوا کنونشن کا گہرا مطالعہ کر کے دلیل کی زبان میں دنیا سے مخاطب ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ فکری اور علمی طور پر مضبوط ہوئے بغیر جدید استعمار کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔
- تحریک کا تنظیمی منظرنامہ: عالمی مالیاتی قوانین، بین الاقوامی معاشی دباؤ، اور خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس نے روایتی سیاسی و تنظیمی ڈھانچے کے لیے کئی نئی حدود متعین کردی ہیں۔ اب تحریک کو ایسے دانش وروں، قانون دانوں اور سفارت کاروں کی ضرورت ہے جو عالمی فورمز پر حقائق کی بنیاد پر دباؤ بڑھا سکیں۔
- سماجی بقا کا سب سے بڑا چیلنج: آبادیاتی تبدیلی:آج کشمیر کا سب سے بڑا اور سنگین ترین ایشو ان کی اپنی آبادیاتی بقا (Demographic Survival) ہے۔ نئے ڈومیسائل قوانین کے ذریعے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کی شہریت دینا، مقامی لوگوں سے زمینیں چھین کر نوآبادیاتی مقاصد کے لیے منتقل کرنا، اور انتخابی حلقہ بندیوں کے ذریعے مسلم اکثریت کی سیاسی طاقت کو اقلیت میں بدلنا، یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جو کشمیریوں کے وجود کو مٹانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ اب محض ایک سیاسی آزادی کی جنگ نہیں، بلکہ اندلس اور فلسطین کی طرح اپنی دھرتی پر اپنی اسلامی و تاریخی شناخت برقرار رکھنے کی فکری معرکہ آرائی ہے۔
- ابلاغی صورتِ حال اور نمائندگی کا تضاد:خارجی میڈیا کے بیانیے اور کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کو پیش کرنے کے انداز میں ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے:
- مواصلاتی قدغنیں: وادی کے اندر طویل ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اور آن لائن سنسرشپ نے نوجوانوں کو شدید تعلیمی اور معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے اندر بھی معاشی و سیاسی مطالبات پر مبنی حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران طویل انٹرنیٹ کی بندش اور زمینی مشکلات نے عام زندگی اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کیے رکھا۔
- عالمی میڈیا کی خاموشی: بین الاقوامی ابلاغی ادارے صرف اس وقت سرگرم ہوتے ہیں جب کشمیر میں کوئی اچانک بڑا بحران پیدا ہو۔ وہ اس پیچیدہ انسانی حقوق کے بحران کو محض دو پڑوسیوں کے درمیان ایک روایتی ’دو طرفہ سرحدی تنازعے‘ کے محدود فریم ورک میں پیش کرتے ہیں۔
- پاکستانی میڈیا کی حدود: یہ میڈیا مستقل سفارتی و اخلاقی موقف تو برقرار رکھتا ہے، لیکن کشمیری نوجوانوں کے داخلی، سماجی و معاشی ارتقاء یا خود آزاد جموں و کشمیر کے اندرونی عوامی مظاہروں کی باریکیوں کو اس گہرائی سے پیش کرنے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
- مختلف محاذوں کے تقاضے:اگر آزادی کی تحریک کو عالمی دھارے میں شامل کرنا ہے اور موجودہ سیاسی خلا کو پُر کرنا ہے، تو میڈیا تنظیموں اور کارکنان کو درج ذیل اہم محاذوں پر کام کرنا ہوگا:
- بین الاقوامی قانون کا فریم ورک: کشمیر کے مسئلے کو چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت ’سیٹلر کولونیل ازم‘ (Settler Colonialism) کے تحت اسے نوآبادیاتی نظام کے طور پر پیش کیا جائے، جہاں ایک طاقت مقامی آبادی کا تناسب زبردستی بدل رہی ہے۔
- محفوظ فکری اشتراکِ عمل (انکرپٹڈ ماڈل): وادی کے اندر موجود وکلا اور صحافی زمینی شواہد اور اعداد و شمار کو جدید ترین محفوظ ڈیجیٹل ایپس (جیسے Signal یا Session وغیرہ) کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن تک پہنچائیں۔ بیرونی گروپس ان کا انٹرنیٹ کا حوالہ ختم کر کے اسے اپنے نام سے عالمی میڈیا کے سامنے پیش کریں، تاکہ وادی کا نوجوان بھی محفوظ رہے اور پیغام بھی عام ہو۔
- ہمہ جہت ذمہ داریاں:تحریکِ کشمیر کے اس جدید دور میں، مختلف جغرافیائی خطوں میں موجود نوجوانوں اور بین الاقوامی ڈائیسپورا پر الگ الگ اور انتہائی اہم فریضہ عائد ہوتا ہے:
- مقبوضہ کشمیر کے نوجوان (ڈیجیٹل بقا اور فکری حصار): وادی کے اندر موجود نوجوانوں کے لیے سب سے پہلا اصول ’حفاظت اوّل‘ ہے۔ انھیں گمنام ڈیجیٹل شناختوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ ان کی بنیادی ذمہ داری مقامی تاریخ، دستاویزی شواہد، اور زمینی حقائق کو محفوظ کرنا اور انھیں محفوظ ترین خفیہ ذرائع سے بیرونی دنیا تک منتقل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انھیں تعلیمی اور علمی میدانوں میں خود کو اس حد تک مضبوط کرنا ہے کہ وہ نوآبادیاتی نظام کی فکری و تہذیبی غلامی کا شکار نہ ہوں۔
- آزاد جموں و کشمیر کے نوجوان (تحریک کا ابلاغی توازن):ان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی آواز کو عالمی سطح پر بلند کرنے کے لیے ایک پُل کا کردار ادا کریں۔ جہاں وہ اپنے مقامی معاشی، سیاسی اور انتظامی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، وہیں انھیں یہ توازن برقرار رکھنا ہوگا کہ ان کی مقامی تحریکیں مقبوضہ وادی کی بنیادی تحریکِ آزادیِ کشمیر کے عظیم تر مقصد اور عالمی مقدمے سے اوجھل نہ ہوں۔
- پاکستان میں موجود نوجوان (تکنیکی پشت پناہی اور علمی دفاع): پاکستانی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ روایتی نعرے بازی یا انٹرنیٹ پر بھارتی آئی ٹی سیل کے ساتھ لاحاصل بحثوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے وادی کے نوجوانوں کو سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن کی تکنیکی تربیت فراہم کریں۔ انھیں انگریزی، عربی اور فرانسیسی زبانوں میں معلوماتی بلاگز اور فیکٹ شیٹس بنا کر عالمی تھنک ٹینکس تک پہنچانی چاہئیں۔
- عالمی لابنگ اور قانونی چارہ جوئی: بیرونِ ملک مقیم کشمیری تارکینِ وطن اس تحریک کی عالمی سفارتی چھتری ہیں۔ ڈائسپورہ کے نوجوانوں اور قانون دانوں کو چاہیے کہ وہ مغربی دنیا کی یونی ورسٹیوں میں علمی بیانیے کو عام کریں۔ وہ عالمی انسانی قوانین (IHL) کے تحت بیرونی عدالتوں میں انسانی حقوق پامال کرنے والے حکام کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کریں اور معاشی و تکنیکی استحکام کے لیے قانونی فاؤنڈیشنز قائم کریں۔
- پاکستان - اسٹرے ٹیجک فریضہ:پاکستان اس وقت جیو پولیٹیکل، معاشی اور بیرونی محاذوں پر شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ملکی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے لیے مسئلہ کشمیر پر سرد مہری، خاموشی یا عارضی مفاہمت پسندانہ منصوبوں کو قبول کرنا ایک فاش تزویراتی اور تاریخی غلطی ہوگی۔
- دفاع اور جغرافیے کا مستقل خطرہ: کشمیر پر کسی بھی قسم کی پسپائی یا خاموشی سے غاصبانہ عزائم تھمیں گے نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اپنے جغرافیائی اور دفاعی حدود پر مستقل خطرات اور سیکیورٹی دباؤ میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
- مذہبی و سماجی جماعتوں کے لیے رہنما خطوط : پاکستانی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر ایک مستقل اور اٹل ’قومی اتفاقِ رائے ‘ (National Consensus) پیدا کریں۔ موجودہ ملکی دباؤ کا حل سرد مہری یا لاپروائی نہیں، بلکہ اسمارٹ اور ڈیٹا پر مبنی سفارت کاری ہے۔ پاکستان کی مذہبی اور سماجی تنظیموں کو اپنے ملک گیر اور بیرونی نیٹ ورکس کو متحرک کر کے عالمی فورمز پر ’سیٹلر کولونیل ازم‘ کے خلاف قانونی و فکری پشت پناہی فراہم کرنی چاہیے، تاکہ وادی کی نئی نسل کو ایک مضبوط اور پائیدار سفارتی تحفظ میسر آ سکے۔ یہ دراصل اُمتِ مسلمہ کے اس فریضے کی ادائیگی ہے جس کا حکم قرآن نے مظلوموں کی نصرت کے لیے دیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی اپنے روایتی دور کو پیچھے چھوڑ کر ایک جدید، علمی اور ٹکنالوجیکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ شخصیات کی وفات یا گرفتاری سے پیدا ہونے والا خلاعارضی ہے، کیونکہ کشمیریوں کا جذبۂ خودارادیت اب ان کی اپنی بقا کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہ معرکہ اب صرف روایتی مزاحمت کا نہیں، بلکہ مستند ڈیٹا، عالمی قانون کی کتاب، اور اسٹرے ٹیجک ابلاغی مہم کا ہے۔ مقبوضہ وادی کی خاموش مزاحمت، آزاد کشمیر کی بیداری، پاکستان کے نوجوانوں کی تکنیکی پشت پناہی، اور بین الاقوامی سطح پر لابنگ مل کر ایک ایسا تزویراتی تال میل بناسکتے ہیں، جو مایوسی کے اندھیروں کو چیر کر مستقبل کی تاریخ کا رخ موڑنے کا اہل ٹھیرے گا۔
_______________