امجد عباسی


عالمی معاشی بحران سے جہاں بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھی ہے، بڑے بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہورہے ہیں اور عالمی معیشت ہل کر رہ گئی ہے وہاں سرمایہ دارانہ نظام کا مستقبل بھی مخدوش نظر آرہا ہے۔ ماہرین معیشت کا دعویٰ ہے کہ وہ معیشت کو اِس بحران سے نکالنے میںکامیاب ہوجائیں گے اور شاید یہ بحران چند برسوں پر محیط رہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ بحران سرمایہ دارانہ نظام کے حتمی انتشار کی ابتدا ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک منصفانہ اور مستحکم متبادل معاشی نظام کی ضرورت اور مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ چنانچہ متبادل نظام کی تلاش جاری ہے اور مختلف حل بھی پیش کیے جارہے ہیں۔

ایک حل سوشلزم کے تحت اداروں کو قومیانے اور غریب طبقے کے مفادات کے تحفظ کو   یقینی بنانے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو کہ ماضی میں آزمایا جاچکاہے اور سودی معیشت سے پیداشدہ مسائل، ارتکازِ دولت اور امیروغریب کے فرق جیسے مسائل کا کوئی پایدار حل نہیں۔ حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر اور محفوظ بنکاری کے طور پر بھی اسلامی بنکاری کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیرمسلم بھی بڑی تعداد میں اس طرف رجوع کر رہے ہیں۔ امریکا جسے معاشی بحران کا سب سے زیادہ سامنا ہے، وہاں بھی اسلامی بنکاری فروغ پارہی ہے اور اسلامی بنک کھل رہے ہیں۔اسلامی بنکاری سرمایہ دارانہ نظام کے نقائص، مثلاً سود، سٹے کا کاروبار،قرض کی معیشت اور زرپرستی وغیرہ جو معیشت کو سکیڑ دیتے ہیں، دولت کو مرتکز کردیتے ہیں اور بالآخر معاشی بحران کا سبب بنتے ہیں، سے پاک ہے اور موجودہ معاشی بحران کی زد سے بھی بڑی حد تک محفوظ رہی ہے۔ گویا سرمایہ پرستی کا سفینہ ڈوبنے کو ہے اور انسانیت اپنی اصل کی طرف لوٹنے پر مجبورہے! علامہ یوسف قرضاوی کے بقول: سرمایہ داری نظام کا انہدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کا معاشی فلسفہ فروغ پا رہا ہے۔ (دوحا کانفرنس، ۲۰۰۸ء)

  •  عالمی معاشی بحران کا سبب : معروف ماہر معیشت ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے تجزیے کے مطابق موجودہ عالمی بحران کی بنیادی وجوہات بلاقید سودی قرض پر مبنی سرمایہ کاری (debt-financing)، سٹہ، جوا اور خودغرضی اور مفاد پرستی ہے۔ اس کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کا کسی قسم کی اخلاقی قیود اور پابندیوں سے مستثنیٰ ہونا ہے، جیسا کہ جوا اور سٹہ بازی وغیرہ۔ اس کے تدارک کے ضمن میں انھوں نے کہا: معاشی سرگرمیوں سے سود اور جوئے کے عنصر کو ختم کردیں، اور مارکیٹ کو اخلاقی ضوابط کا پابند بنا دیں تو معاشی بحران پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

معاشی بحران کے ایک اور سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سرمایہ داری نظام نے انوسٹمنٹ اور متوقع آمدنی (expected income) کے تصور کو فروغ دیا جس سے سٹے بازی کو فروغ ملا۔ نتیجتاً حقیقی سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے معیشت بیٹھ گئی۔ اس بحران کا ایک اور بڑا سبب کریڈٹ کارڈ کلچر کا فروغ بھی ہے جو کہ سودی معیشت کا تسلسل ہے اور بالآخر کریڈٹ defaultکا سبب بنا۔ (ریڈینس ویوز ویکلی، نئی دہلی، بھارت، ۳۱ جنوری ۲۰۰۹ء)

اسلام ان مسائل کا حل اس طرح پیش کرتا ہے کہ پہلے ہی قدم پر سود اور سودی قرض پر مبنی سرمایہ کاری کو حرام قرار دیتا ہے۔ سودی قرض ایسی ظالمانہ سرمایہ کاری ہے کہ سرمایہ دار کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مقروض قرض کیسے اتارے گا۔ اسے صرف اپنے سرمایے سے غرض ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اسلام نفع و نقصان کی بنیاد پر شراکت کو جائز قرار دیتا ہے اور استحصال کو ختم کرتا ہے۔ اس وقت اسلامی بنکاری میں مرابحہ، اجارہ اور تکافل اسکیموں کے تحت سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ ان میں اسلامک mortgage (رہن رکھنا)، اسلامک کار فنانس، اسلامک کریڈٹ کارڈ ، اسلامک انشورنس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ دنیا بھر میں سرمایہ کاری تیزی سے فروغ پارہی ہے۔

دوسرے یہ کہ اسلام جوئے اور سٹے کو حرام قرار دیتا ہے، اور سرمایہ کاری ذاتی ملکیت اور حقیقی بنیادوں پر کرتا ہے۔ متوقع آمدنی کی سرمایہ کاری پر جوا اور سٹہ ہونے کی وجہ سے پابندی عائد کردیتا ہے۔ تیسرے یہ کہ خود غرضی اور مفاد پرستی کے بجاے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اس کے  نتیجے میں قرض پرمبنی سرمایہ کاری کا بڑی حد تک خاتمہ ہوجاتا ہے، جوکہ سرمایہ داری نظام کا خاصا ہے، اور متوقع آمدنی کی بنا پر معیشت کو درپیش خطرات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام، زکوٰۃ و عشر کا نفاذ، وراثت کی تقسیم، دولت کے حصول میں جائز و ناجائز کی تمیز اور مال میں مستحق اور غریب افراد کے حقوق کا تعین کرکے دولت کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد پر ایک فلاحی معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔

معاشیات کی رو سے مارکیٹ کسی اخلاقی ضابطے یا جائزو ناجائز کی تمیز کی پابند نہیں ہوتی۔ نیوٹرل مارکیٹ کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ موجودہ معاشی بحران کے نتیجے میں اس تصور پر نظرثانی کی ضرورت کو بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ مارکیٹ کو جوئے اور سٹے بازی وغیرہ سے روکنے کے لیے ضوابط کا پابند ہونا چاہیے۔ یہ اسلامی معیشت کا ہی تصور ہے جو جوئے اور سٹے کو حرام قرار دیتا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر اجتماعی مفاد کے پیشِ نظر دولت کے حصول میں جائز و ناجائز کی تمیز کی بنا پر پابندیاں عائد کرتا ہے، جیساکہ شراب، جوئے، سود، رشوت وغیرہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح سے اس بحران کے نتیجے میں اسلام کے مارکیٹ کے اصول و ضوابط کے نفاذ کی طرف بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

  •  اسلامی بنکاری کا رجحان: ایک اندازے کے مطابق اسلامک فنانس، عالمی سرمایہ کاری کا اگرچہ ایک فی صد (ایک ٹریلین ڈالر) ہے لیکن سالانہ ۱۵ سے ۲۰ فی صد بڑھوتری کی شرح کے لحاظ سے تقریباً ۵۰۰ ارب ڈالر سالانہ سرمایہ کاری متوقع ہے۔ موجودہ عالمی بحران سے اس کی شرح میں مزید تیزی آئی ہے۔ مڈل ایسٹ اکانومک ڈائجسٹ کے مطابق ۲۰۱۲ء تک خلیج میں ہونے والی کاروباری ڈیل کا تقریباً ایک تہائی اسلامی بنکاری پر مبنی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ۷۵ ممالک میں کام کرنے والے ۳۰۰ اسلامی بنکوں کا مقابلہ کرنے اور اسلامی بنکاری کی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے عالمی شہرت کے بنک، مثلاً Deutsche Bank، HSBC اور سٹی بنک بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہے ہیں اور اسلامی بنکاری کے لیے کھڑکیاں کھول رہے ہیں۔ برطانیہ میں اسلامک مارٹ گیج مارکیٹ میں سرمایہ کاری ۹۰۰ ملین ڈالر سے بڑھ چکی ہے۔ HSBC کے مطابق گلوبل اسلامک انشورنس مارکیٹ ۲۵ فی صد سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے اور اس میں سرمایہ کاری ۲۰۱۰ء تک ۱۴بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ HSBC نے ملایشیا میں اسلامک مارٹ گیج کا آغاز کیا تو پہلے ہی سال سرمایہ کاری کرنے والوں کی نصف تعداد غیرمسلموں پر مشتمل تھی۔

سنگاپور نے اسلامی فنانس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے فروغ کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اسلامک فنانس کا سنٹر بن سکے۔ مانٹیری اتھارٹی سنگاپور (MAS) پہلا مرکزی بنک ہے جس نے غیرمسلم اکثریتی ملک ہونے کے باوجود اسلامک بانڈ جاری کیا ہے جسے Sukuk (سکوک) کہا جاتا ہے۔ ایم اے ایس کے منیجنگ ڈائرکٹر کے بقول:  یہ بانڈ بڑی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور یہ سنگاپور حکومت کا اسلامی بنکاری میں دل چسپی کا ٹھوس ثبوت ہے۔ اسلامی بنکاری پر ۲۰۰۷ء سے کام ہو رہا ہے۔ یہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک، اسلامک بنک آف ایشیا، ڈی بی ایس بنک سنگاپور کے مشترکہ تعاون سے جاری ہے۔ عبداللہ حسن سیف، چیئرمین اسلامک بنک آف ملایشیا نے کہا کہ یہ جہاں سنگاپور کے لیے ایک نمایاں اسلامک فنانس سنٹر بننے کا سبب ہوگا وہاں دوسرے ممالک اور اداروں کے لیے بھی ایک اچھا کیس اسٹڈی ثابت ہوگا اور اسلامی بنکاری کو فروغ ملے گا (Finance The Islamic Way at Small US Bank، حج اینڈ عمرہ، سعودی عرب، اپریل ۲۰۰۹ء، ص ۲۵)۔ توقع ہے کہ سکوک کریڈٹ کارڈ میں سرمایہ کاری اگلے چند برسوں میں ۱۰۰ بلین ڈالر سے بھی تجاوز کرجائے گی۔

فرانس میں بھی اسلامک بنکاری فروغ پارہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ برس فرنچ سینیٹ نے ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں سیاست دانوں، بنکاروں اور شریعہ اسکالروں نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اسلامک فنانس کے فروغ اور عوام میں آگہی کے لیے حکومتی سطح پر کیا کیا جاسکتا ہے، نیز ٹیکس قوانین میں تبدیلی کے لیے کیا قانون سازی کی جائے۔

امریکا میں بھی اسلامی بنکاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یونی ورسٹی اسلامک فنانشل کارپوریشن کے تحت مشی گن میں پہلا اسلامی بنک، ’یونی ورسٹی اسلامی بنک‘ کے نام سے کھولا گیا ہے جسے حکومت کی تائید بھی حاصل ہے۔ یہ بلاسود بنکاری کر رہا ہے اور دن بدن مقبول ہو رہا ہے۔ کارپوریشن کے ڈائرکٹر جان سکلر کا کہنا ہے کہ آج ہم جس معاشی بحران سے دوچار ہیں، اگر ہم نے اسلامی بنکاری کو بنیاد بنایا ہوتا تو ہمیں اس کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ یہ بنک شراکت کی بنیاد پر دو طرح سے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ ایک مارک اَپ انسٹالمنٹ سیل، اور دوسرے lease to purchaseسیل۔ یونی ورسٹی بنک کے صدر Stephen Razini نے کہا ہے کہ بہت سے بنک  اور مارٹ گیج کمپنیاں ہمارے ساتھ شراکت میں دل چسپی لے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنک نے  گھر کے لیے قرض اور کریڈٹ کمپنیوں کو ملک گیر سطح پر اپنی خدمات پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے (ایضاً، ص ۲۴)۔ اس سے بھی امریکا میں اسلامی بنکاری کے رجحان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

  •  شریعہ فنانس کورسز کا اجرا: جیسے جیسے اس عالمی رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے شریعہ اسکالروں کی کمی بھی محسوس کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعہ اسکالروں کی    اس بڑھتی ہوئی اِس ضرورت کے پیش نظر شریعہ فنانس کورسز کا اجرا کیا جارہا ہے۔ ملایشیا نے جو  شریعہ فنانس کے حوالے سے عالمی سطح پر شہرت رکھتا ہے، ملایشیا سنٹرل بنک اور سعودی عرب کے اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کے تعاون سے شریعہ اسکالروں کی تیاری کے لیے ۵۳ ملین ڈالر کے وظائف مختص کیے ہیں۔ مختلف دینی مدارس کے تحت بھی شریعہ فنانس کورسز کا رجحان سامنے آیا ہے۔ مغرب میں بھی اس کا رواج عام ہو رہا ہے۔

برطانیہ کو شریعہ فنانس کورسز کے اجرا کے حوالے سے شہرت حاصل ہورہی ہے۔   فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق یونی ورسٹی آف ریڈنگ، جنوبی لندن اسلامک فنانس کورسز کے لیے ایک سنٹر قائم کررہی ہے۔ گذشتہ برس یونی ورسٹی نے انوسٹمنٹ بنکنگ اینڈ اسلامک فنانس کی ماسٹر ڈگری کا اجرا کیا تھا۔ بن گور یونی ورسٹی، ویلز نے حال ہی میں اس حوالے سے ماسٹر ڈگری کورس کی ابتدا کی ہے۔ فرانس کی رابرٹ شومان یونی ورسٹی، سٹراس برگ نے بھی اسی طرح کے کورس کا آغاز کیا ہے۔ اسی یونی ورسٹی کے بزنس لا سنٹر کے سربراہ مائیکل سٹارک نے کہا ہے کہ امریکا میں عالمی بحران سے جو کچھ ہوا ہے، اس سے اسلامک فنانس میں لوگوں کی مزید دل چسپی بڑھے گی کیونکہ یہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ (فارن پالیسی، Carla Power، جنوری فروری ۲۰۰۹ء)

اسلامی بنکاری ابھی تشکیلی مراحل میں ہے،لہٰذا علمی اختلاف، عملی مشکلات اور اصولی ہدف کے حصول میں مسائل کا سامنا فطری امر ہے جنھیں علمی انداز اور اعتدال پسندی کے ساتھ بتدریج حل کیاجاسکتا ہے۔ اس عالمی رجحان کا تقاضا ہے کہ اسلام کے معاشی تصورات کو جدید تقاضوں کے پیش نظر مرتب کیا جائے، فنی مہارت اور شریعہ فنانس کے ماہرین کی بڑے پیمانے پر تیاری کا اہتمام ہو۔ اسلامی بنکاری کے حوالے سے جو فکری اختلاف پایا جاتا ہے اور عملاً جو دشواریاں پیش آرہی ہیں ان کا علمی سطح پر بے لاگ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سیمی ناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ کسی مشترکہ حکمت عملی کو آگے بڑھایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی ضرورت ہے، اس لیے کہ اس بنکاری کے ثمرات و برکات سے صحیح معنوں میں استفادہ ایک اسلامی اور فلاحی معاشرے میں ممکن ہے۔

اس سلسلے میں ایک اہم قابلِ غور پہلو یہ ہے اسلامی بنکاری صرف ان سرگرمیوں تک اپنی مساعی کو محدود نہ رکھے جو شریعت کے مطابق ہیں بلکہ شریعت پر مبنی بنکاری کی طرف جرأت مندانہ پیش رفت کرے تاکہ حصص کی بنیاد پر (equity based)  معیشت وجود میں آسکے جو ایک طرف ترقی اور افزایشِ دولت کا ذریعہ بنے گی تو دوسری طرف انصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی طرف معاشرے کو لے جاسکے گی۔

ایک زمانہ تھا جب سود کے بغیر معیشت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ایسے میں مولانا مودودیؒ نے اپنی معرکہ آرا کتاب سود (۱۹۳۶ء) میں پہلی بار سرمایہ داری اور سودی معیشت کا بھرپورانداز میں محاکمہ کیا اور سود سے پاک معیشت اور اسلامی بنکاری کا تصور پیش کیا، اور اس شبہے کو دُور کیا کہ سود کا انسداد قابلِ عمل نہیں ہے۔ آج اسلامی بنکاری ایک حقیقت ہے۔ عالمی معاشی بحران نے سرمایہ داری اور سودی معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے اور متبادل نظامِ معیشت کے لیے اسلام اور اسلامی بنکاری پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔ سود جو کہ سرمایہ داری کی روح اور جان ہے، اس کا خاتمہ دراصل سرمایہ داری کا خاتمہ ہے۔ بلاشبہہ آج سرمایہ داری نظام واشنگٹن میں لرزہ براندام ہے اور سودی معیشت اپنے منطقی انجام سے دوچار ہونے کے قریب ہے۔ دنیا نے جس عالمی نظام کی طرف پیش رفت کی ہے، اس کے نتیجے میں اسلام کے منصفانہ عالمی نظام کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے، اور عالمی اسلامی بنکاری کا فروغ اس کا کھلا ثبوت ہے۔ وہ وقت دُور نہیں جب دنیا کا مستقبل اسلام اور سود سے پاک، منصفانہ اور مستحکم معاشی نظام ہوگا۔

 

نیوزی لینڈ آسٹریلیا کے جنوب مشرق میں واقع ہے جسے طویل سفید بادلوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جنوبی بحرالکاہل کے ۲ بڑے جزائر شمالی آئی لینڈ اور جنوبی آئی لینڈ پر مشتمل ہے۔ ۱۶۴۲ء میں ولندیزی جہازران ایبل تسمان نے اسے دریافت کیا تھا اور پھر یہاں انگریز آباد ہوگئے۔ ۲ دسمبر ۱۹۰۷ء کو نیوزی لینڈ کو برطانیہ سے آزادی ملی۔ اس کا دارالحکومت ولنگٹن ہے۔ ملک میں پارلیمانی نظام رائج ہے۔ گورنر جنرل کا تقرر برطانیہ کرتا ہے، جب کہ عملاً سربراہِ حکومت وزیراعظم ہوتا ہے۔ اس ملک کو یہ تاریخی حیثیت حاصل ہے کہ ۱۸۹۳ء میں سب سے پہلے خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق یہیں دیا گیا۔ اُون، گوشت، ڈیری مصنوعات اور تجارت کے حوالے سے معروف ہے۔ گذشتہ برس چین نیوزی لینڈ فری ٹریڈ معاہدہ ہوا جو تجارت کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ۲۰۰۶ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی ۴۰ لاکھ ۳۰ ہزار ہے۔ اکثریت (۵۶ فی صد) کا مذہب عیسائیت ہے، ۳۵ فی صد بے دین، جب کہ ۵ فی صد آبادی کا تعلق دیگر مذاہب، یعنی ہندومت، بدھ مت اور اسلام سے ہے۔ مسلمانوں کی تعداد اگرچہ کم ہے اور ان کی آبادی بھی منتشر ہے، تاہم ۱۹۷۰ء کے بعد سے مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور وہ زیادہ منظم ہوکر سامنے آئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کی سرگرمیوں کے بارے میں عام طور پر معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے بھی ان کے احوال سے آگاہی دل چسپی کا باعث ہوگی۔

کہا جاتا ہے کہ نیوزی لینڈ میں سب سے پہلے چینی مسلمانوں کی آمد ۱۸۷۰ء میں ہوئی۔ یہ دنستان، اوٹاگو کی سونے کی کانوں میں کھدائی کی غرض سے آئے تھے۔ اس کے بعد ۱۹ویں صدی کے ابتدا میں ہندستان سے گجراتی مسلمانوں کے ۳ اہم خاندان یہاں آئے۔ اس طرح سے مسلمانوںکی آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ ۱۹۵۰ء میں مشرقی یورپ سے ۶۰ سے زیادہ مسلمان  پناہ گزین کے طور پر یہاں منتقل ہوئے۔

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں نے اپنی پہلی تنظیم نیوزی لینڈ مسلم ایسوسی ایشن (NZMA) کے نام سے قائم کی۔گجراتی اور یورپی مسلمانوں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ۱۹۵۹ء میں پہلا اسلامک سنٹر قائم کیا گیا۔ اس سنٹر میں دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نماز کی ادایگی کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی اور باقاعدہ نمازادا کی جانے لگی۔ ایک برس بعد گجرات سے مولانا سعید موسیٰ پٹیل کو بطور امام مدعو کیا گیا۔ یہ نیوزی لینڈ کے پہلے مسلمان امام تھے۔ اس طرح اسلامک سنٹر قائم کرنے کا سلسلہ بتدریج آگے بڑھتا چلا گیا جس میں سائوتھ ایشیا اور سائوتھ ایسٹ ایشیا کے طلبہ کا نمایاں کردار تھا۔

۱۹۷۹ء میں نیوزی لینڈ کے مسلمانوں نے مزید منظم انداز میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں متعدد اقدامات اٹھائے۔ مسلمانوں کی تین علاقائی تنظیموں کو جن کا تعلق کینٹربری، ولنگٹن اور آک لینڈ سے تھا، یک جا کر کے ایک ملک گیر تنظیم فیڈریشن آف اسلامک ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ (FIANZ) قائم کی گئی۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد قرآن وسنت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کا فروغ، تعلیم و تدریس، مسلمانوں کی مختلف سطح کی سرگرمیوں کو منظم کرنا، باہمی تعاون کا فروغ، مسلم کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے تعاون، رفاہی منصوبوں کے لیے عطیات کا حصول اور نیوزی لینڈ سے باہر مسلمانوں کی نمایندگی کرنا ہے۔ اس تنظیم کا مرکزی دفتر ولنگٹن میں ہے۔ اس کی ممبر ۷ مقامی تنظیمیں ہیں جن میں NZMA، سائوتھ آک لینڈ مسلم ایسوسی ایشن، انٹرنیشنل مسلم ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ (IMAN)، اور اس کے علاوہ ہملٹن، پالمرسٹون نارتھ، کرسٹ چرچ اور ڈیونڈن کی ایسوسی ایشنیں بھی شامل ہیں۔

تنظیم کی دیگر سرگرمیوں میں مقامی ایسوسی ایشنوں کو فنڈ کی فراہمی میں تعاون، بیرونِ ملک سے مقررین کے دوروں کا اہتمام، وڈیوز اور لٹریچر کی تقسیم، اور حسنِ قرأت کے مقابلوں کا اہتمام کرنا شامل ہے۔ ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو عید کی تاریخوں کا تعین کرتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی عالمی تنظیموں، مثلاً مسلم ورلڈ لیگ، دی ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (WAMY)اور ریجنل اسلامک دعوۃ کونسل آف سائوتھ ایسٹ ایشیا اینڈ پیسیفک (RISEAP) وغیرہ سے وابستگی بھی ہے اور ان کی سرگرمیوں میں حصہ بھی لیا جاتا ہے۔

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی آبادی میں نمایاں اضافہ ۱۹۷۰ء میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب فجی انڈین مسلمان حصول روزگار کے لیے یہاں آئے۔ اسی طرح ۱۹۹۰ء میں صومالیہ، بوسنیا، افغانستان، کوسووا اور عراق سے بھی بہت سے مسلمان پناہ گزین کی حیثیت سے نیوزی لینڈ آئے جس سے مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس طرح سے مسلمان پناہ گزینوں کی آمد  سے مسلمان مزید مستحکم ہوگئے اور ان کی افرادی قوت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس وقت مسلمانوں کی آبادی میں سب سے زیادہ تناسب چینی مسلمانوں کا ہے (۳ء۲ فی صد)، جب کہ انڈین مسلمانوں کا تناسب ۲ء۱ فی صد ہے۔ نیوزی لینڈ کی مسلم کمیونٹی ۳۵ مسلم ممالک کے نمایندوں پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، فجی انڈین، عرب، ملایشیا، انڈونیشیا، ایران، صومالیہ اور  بلقان کے ممالک نمایاں ہیں۔ کچھ تعداد میں کیوی بھی پائے جاتے ہیں جو کہ مسلمان ہوچکے ہیں۔ ۱۹۹۶ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی ۱۳ ہزار ۵ سو ۴۵ ہے جو کہ کُل آبادی کے ۳۷ء۰فی صد پر مبنی ہے۔ مقامی مسلم قیادت کا دعویٰ ہے کہ ان کی آبادی ۴۰ ہزار ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت آک لینڈ میں رہتی ہے، جب کہ دارالحکومت ولنگٹن اور دیگر چار بڑے شہروں میں بھی مسلمان آباد ہیں۔

۱۹۶۰ء کے لگ بھگ جب مسلمانوں کی تعداد محدود تھی NZMA کے تحت اجلاس گھر     یا دکان میں ہوتے تھے اور عید کی تقریبات کے لیے ہال کرایے پر لیے جاتے تھے۔ ۱۹۷۰ء     کے وسط تک ۳ مزید مسلمانوں کے گروپ تشکیل پا گئے، جن میں فجی انڈین مسلمانوں کی تنظیم   انجمن حمایت الاسلام نمایاں تھی۔ ۱۹۷۶ء میں نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کے ایک وفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو انھیں مشورہ دیا گیا کہ وہ مشترکہ فورم تشکیل دیں تاکہ زیادہ مؤثر انداز میں کام کیا جاسکے۔ چنانچہ انجمن حمایت اسلام اور NZMA نے اجتماعی طور پر نیوزی لینڈ مسلم ایسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی۔ اس تنظیم کا قیام ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء کو عمل میں آیا اور اس کی پہلی ترجیح اسلامک سنٹر کا قیام اور مسجد کی تعمیر تھی۔ چنانچہ ۱۹۸۳ء میں نماز کے لیے مرکزی ہال تعمیر کیا گیا جس میں ۴۰۰ نمازیوں کی گنجایش تھی۔ ۱۹۹۰ء میں میٹنگ ہال اور امام صاحب کی رہایش گاہ تعمیر کی گئی۔

حالیہ برسوں میں NZMA تیزی سے آگے بڑھی ہے اور نمازِ جمعہ میں ۵۰۰ سے زائد نمازی شریک ہوتے ہیں۔ اسی طرح آک لینڈ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کی ایک اور تنظیم IMAN کا قیام ۱۹۶۶ء میں ولنگٹن میں عمل میں لایا گیا۔ یہ بنیادی طور پر مسلمان طلبہ کی تنظیم تھی۔ یہ اسلامک سنٹر قائم کرچکی ہے اور ایک مسجد کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے۔ ولنگٹن میں بھی مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور IMAN ان کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ مختلف مقامات پر نمازِ جمعہ کا باقاعدہ اہتمام کیا جا رہا ہے اور نمازیوں کی تعداد ۵۰۰ سے ۶۰۰ تک ہوتی ہے۔ اسی طرح ملک کے دوسرے حصے شمالی آئی لینڈ میں مسلمان کرسٹ چرچ، ڈیونڈن اور کنٹربری میں پائے جاتے ہیں۔ کینٹبربری میں کینٹربری مسلم ایسوسی ایشن ۱۹۷۷ء میں قائم ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی تعداد اگرچہ کم ہے مگر وہ ۱۹۸۵ء تک مسجد تعمیر کرچکے تھے اور اسلامک سنٹر کے لیے کوشاں ہیں۔

نیوزی لینڈ کی یہ تنظیمیں اپنے اپنے دائرے اور دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہت سی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان میں دعوتِ دین کے فریضے کی ادایگی، دین کی بنیادی تعلیمات سے آگہی، نماز کی ادایگی کے لیے انتظام، رمضان کے موقع پر مختلف تقاریب کا انعقاد، عید و دیگر تقریبات کا اہتمام، قرآن مجید کی تعلیم اور عربی زبان سیکھنے کے لیے کلاسوں کا اجرا اور دیگر    رفاہی و سماجی سرگرمیاں وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح حلال غذا کی فراہمی، شادی بیاہ کے لیے رشتوں کی سہولت اور تدفین کے انتظامات کی خدمات بھی انجام دی جاتی ہیں۔

بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی، اسلامی اقدار سے روشناس کرانے اور تربیت کے لیے اسلامی اسکولوں کے قیام کی طرف بھی توجہ دی جارہی ہے، اگرچہ اس میں بڑے پیمانے پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔ آک لینڈ میں المدینہ اسکول قائم کیا گیا ہے جو اسلامک ایجوکیشن اینڈ دعوۃ ٹرسٹ کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ اس اسکول کا آغاز ۱۹۸۹ء میں بنیادی طور پر ہوم اسکولنگ کے طرز پر   کیا گیا تھا۔ تقریباً ۳۰۰ سے زائد طلبہ و طالبات زیرتعلیم ہیں۔ ۲۰۰۱ء میں طالبات کے لیے     ایک کالج بھی قائم کیا گیا۔ اس دوران ایک مزید کالج کھولا گیا جو فنڈ کی کمی کی بنا پر چلایا نہ جاسکا اور اب اس کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

FIANZ کی کوشش ہے کہ ایسی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جائے جس سے تنظیم کو وافر وسائل فراہم ہوسکیں اور اسے عطیات پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ اس کے لیے بھی کچھ سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسلامی بنک کاری کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ غیرمسلموں میں اسلام کی اشاعت کے لیے ایک تنظیم اسلامک دعوۃ اینڈ کنورٹس ایسوسی ایشن کے نام سے قائم ہے۔ یہ غیرمسلموں کو اسلام کی دعوت دیتی ہے اور قبولِ اسلام کے بعد ان کو پیش آنے والی مشکلات میں تعاون بھی کرتی ہے۔ آک لینڈ میں ان کے ارکان کی تعداد ۱۰۰ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کی یہ منظم اور ہمہ جہت جدوجہد نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے روشن مستقبل کی پیش خیمہ ہے۔ (ماخوذ: wikipedia آن لائن انسائی کلوپیڈیا۔ ’دی مسلمز آف نیوزی لینڈ‘، مجلہ حج اینڈ عمرہ، ریاض، سعودی عرب، اپریل ۲۰۰۹ء)

 

وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا o (المزمل ۷۳:۴)

اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔

[جب حضوؐر کو یہ حکم دیا گیا کہ] آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر، اور قرآن شریف کو آہستہ آہستہ ٹھیر ٹھیر کر، پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے، اس حکم کے بھی حضوؐر عامل تھے۔ حضرت صدیقہؓ کا بیان ہے کہ آپ قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی۔ گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی، صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں: خوب مد کرکے حضوؐر پڑھا کرتے تھے۔ پھر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر سنائی جس میں لفظ اللہ پر، لفظ رحمن پر، لفظ رحیم پر مد کیا۔ ابن جریج میں ہے کہ ہر ہر آیت پر آپ پورا وقف فرمایا کرتے تھے جیسے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھ کر وقف کرتے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھ کر وقف کرتے، اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر وقف کرتے، مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِپڑھ کر ٹھیرتے۔ یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ مسنداحمد کی ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ، جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا۔ تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ یہ حدیث ابودائود و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

[بہت سی] احادیث ہیں جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو، اور ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے، اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی نسبت حضوؐر کا یہ فرمانا کہ اسے آلِ دائود کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے اور حضرت ابوموسٰی ؓ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپؐ سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا، اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلائو اور شعروں کی طرح قرآن کو بے تہذیبی سے نہ پڑھو، اس کے عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جائو اور اس کے پیچھے نہ پڑجائو کہ جلد سورت ختم ہو۔ (بغوی)۔ ایک شخص آکر حضرت ابن مسعود ؓ سے کہتا ہے: میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہوگا، مجھے وہ برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنھیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم      ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ پھر مفصل کی سورتوں میں سے ۲۰ سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے      دو دو سورتیں حضوؐر ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔(تفسیر ابن کثیر، عمادالدین ابوالفدا  ابن کثیر، ص ۳۸۴-۳۸۵)

ترتیلِ قرآن کا مطلب

  • ترتیل کے لفظی معنی کلمے کو سہولت اور استقامت کے ساتھ منہ سے نکالنے کے ہیں (مفردات امام راغب)۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ تلاوتِ قرآن میں جلدی نہ کریں، بلکہ ترتیل و تسہیل کے ساتھ ادا کریں اور ساتھ ہی اس کے معانی میں تدبر و غور کریں (قرطبی)۔ ورتّـل کا عطف قم الّیل پر ہے اوراس میں اس کا بیان ہے کہ رات کے قیام میں کیا کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازِ تہجد اگرچہ قراء ت و تسبیح، رکوع و سجود سبھی اجزاے نماز پر مشتمل ہے مگر اس میں اصل مقصود قراء ت قرآنی ہے۔ اسی لیے احادیثِصحیحہ اس پر شاہد ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بہت طویل ادا فرماتے تھے۔ یہی عادت صحابہ و تابعین میں معروف رہی ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کا صرف پڑھنا مطلوب نہیں، بلکہ ترتیل مطلوب ہے جس میں ہر ہر کلمہ صاف صاف اور صحیح ادا ہو۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ترتیل فرماتے تھے۔ حضرت اُم سلمہؓ سے بعض لوگوں نے رات کی نماز میں آپ کی تلاوتِ قرآن کی کیفیت دریافت کی تو انھوں نے نقل کر کے بتلایا جس میں ایک ایک حرف واضح تھا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، از مظہری)

ترتیل میں تحسینِ صوت، یعنی بقدر اختیار خوش آوازی سے پڑھنا بھی شامل ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی کی قراء ت و تلاوت کو ایسا نہیں سنتا جیسا اُس نبی کی تلاوت کو سنتا ہے جو خوش آوازی کے ساتھ جہراً تلاوت کرے۔ (مظہری)

.....اور اصل ترتیل وہی ہے کہ حروف و الفاظ کی ادایگی بھی صحیح اور صاف ہو ، اور پڑھنے والا اس کے معانی پر غور کر کے اُس سے متاثر بھی ہو رہا ہو، جیساکہ حسن بصریؒ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرایک شخص پر ہوا، جو قرآن کی ایک آیت پڑھ رہا تھا اور رو رہا تھا۔ آپؐ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سنا ہے: وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًابس یہی ترتیل ہے (جو یہ شخص کر رہا ہے) (القرطبی)۔ (معارف القرآن، مفتی محمد شفیع، ج ۸، ص ۵۹۰-۵۹۱)

  • رَتّلکسی چیز کی خوبی، آرایش اور بھلائی کو کہتے ہیں اور رَتّل کے معنی سہولت اور  حسنِ تناسب کے ساتھ کسی کلمے کو ادا کرنا ہے، نیزاس کا معنی خوش آوازی سے پڑھنا، یا پڑھنے میں    خوش الحانی اور حسنِ ادایگی میں حروف کا لحاظ رکھنا، اور ہر لفظ کو ٹھیر ٹھیر کر اور الگ الگ کرکے    پڑھنا ہے۔ اور اس طرح پڑھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہرلفظ کی ادایگی کے ساتھ ساتھ انسان     اس کے معانی پر غور کرسکتا ہے اور یہ معانی ساتھ کے ساتھ دل میں اُترتے چلے جاتے ہیں۔ (تیسیر القرآن، مولانا عبدالرحمن کیلانی، ج ۴، ص ۵۳۹)
  • علامہ قرطبی لکھتے ہیں: ترتیل کا معنی ہے: بڑی خوب صورتی سے منظم اور مرتب ہونا۔   وہ منہ جس کے دانت خوب صورت اور جڑے ہوئے ہوتے ہیں، اسے ثغر رتل کہتے ہیں، یعنی کوئی دانت اُونچا نیچا نہیں، کوئی جگہ خالی نہیں، کوئی دانت ٹوٹا ہوا نہیں۔اسی مناسبت سے     ترتیلِ قرآن کا معنی ہوگا کہ اس کو آہستہ آہستہ، سوچ سمجھ کر پڑھا جائے اور اس کی تلاوت میں تیزی نہ کی جائے۔ اس آیت کی جامع اور دل نشین تفسیر حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے۔ آپ سے اس آیت کا مفہوم پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا..... اس آیت کا معنی ہمارے نبی کریمؐ نے ہمیں بتایا کہ جس طرح تم جلدی جلدی ردی کھجوریں بکھیرتے چلے جاتے ہو، اور بال کاٹتے چلے جاتے ہو، ایسا نہ کرو۔ جب کوئی نادر نکتہ آئے تو ٹھیرجائو، اپنے دل کو اس کی اثرانگیزی سے متحرک کرو۔ تمھیں اس سورت کو جلدی جلدی ختم کرنے کی فکر نہ ہو۔ (ضیاء القرآن، پیر محمد کرم شاہ ازہری، ج ۵، ص ۴۰۲)
  • ترتیل کی تفسیر میں معصومین ؑسے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جن میں سے ہر ایک اس کے وسیع الابعاد وجہات میں سے کسی ایک جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے.....

حضرت امام صادق سے ’ترتیل‘ کی تفسیر میں یہ آیا ہے: جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جنت کا ذکر ہو تو رُک کر خدا سے جنت کا سوال کرو (اور اس کے لیے اپنی اصلاح کرو)، اور جب تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کا ذکر ہو، تو خدا سے اس سے پناہ مانگو (اور خود کو اس سے دُور رکھو)۔

.....ایک اور حدیث میں انھی حضرت سے اس طرح نقل ہوا ہے: قرآن کو جلدی جلدی، سرعت اور تیزی کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہیے۔ جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کا ذکر ہو، تو وہاں رک جائو اور خدا سے جہنم کی آگ سے پناہ مانگو.....

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سے مسلمان اس واقعیت سے بہت دُور ہوگئے ہیں، اور انھوں نے قرآن کے صرف الفاظ پر اکتفا کرلیا ہے، اور ان کا مقصد صرف سورت اور قرآن کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ بغیر اس کے کہ وہ یہ جانیں کہ یہ آیات کس مقصد کے لیے نازل ہوئی ہیں؟ اور کس پیام کی تبلیغ کر رہی ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ یہ قرآن کے الفاظ بھی محترم ہیں، اور ان کو پڑھنا بھی فضیلت رکھتا ہے لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ الفاظ اور تلاوت ان کے مطالب و مضامین کو بیان کرنے کا مقدمہ اور تمہید ہے۔ (تفسیرنمونہ، ج ۲۵، ص ۱۵۱-۱۵۲)

  • [گویا یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ] تیز تیز رواں دواں نہ پڑھو، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھیرو، تاکہ ذہن پوری طرح کلامِ الٰہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات و صفات کا ذکر ہے تو اس کی عظمت و ہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس کی رحمت کابیان ہے تو دل جذباتِ تشکر سے لبریز ہوجائے۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ غرض یہ قراء ت محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کر دینے کے لیے نہیں، بلکہ غوروفکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہیے.....

حضرت حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضوؐر کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپ کی قراء ت کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا، وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دُعا کا موقع آتا، وہاں دعا مانگتے، جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا موقع آتا، وہاں پناہ مانگتے (مسلم، نسائی)۔ حضرت ابوذرؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب حضوؐر اِس مقام پر پہنچے اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ (اگر تو انھیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو تو غالب اور دانا ہے) تو اسی کو دُہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی (مسنداحمد، بخاری)۔ (تفہیم القرآن، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ج ۶، ص ۱۲۶-۱۲۷)

  • [یہاں] قرآن کے پڑھنے کا طریقہ بتایا گیا [ہے] کہ نماز میں اس کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔ چنانچہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضوؐر قرآن لحن اور لَے سے پڑھتے، آیت آیت پر وقف کرتے، کبھی کبھی ایک ہی آیت شدتِ تاثر میں باربار دہراتے۔ علاوہ ازیں کوئی آیت قہروغضب کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے غضب سے پناہ مانگتے اور جو آیت رحمت کی ہوتی، اس پر اداے شکر فرماتے۔ بعض آیتیں جن میں سجدے کا حکم یا اشارہ ہے، ان کی تلاوت کے وقت، فوری امتثالِ امر کے طور پر آپ سجدے میں بھی گرجاتے۔

تلاوتِ قرآن کا یہی طریقہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق بھی ہے اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماثور و منقول بھی ہے۔ قرآن کے مقصدِ نزول کے پہلو سے بھی یہی طریقہ نافع ہوسکتا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ طریقہ صرف اس وقت تک باقی رہا جب تک وہ قرآن کو فکروتدبر کی چیز اور زندگی کی رہنما کتاب سمجھتے رہے۔ بعد میں جب قرآن صرف حصولِ ثواب اور ایصالِ ثواب کی چیز بن کے رہ گیا تو یہ اس طرح پڑھا جانے لگا جس کا مظاہرہ ہمارے حفاظ کرام تراویح اور شبینوں میں کرتے ہیں۔ (تدبر قرآن، امین احسن اصلاحی، ج ۸، ص ۲۳-۲۴)

ترتیل کی حکمت

یہ [دراصل] ایک عظیم مہم کے لیے من جانب اللہ تربیت تھی اور اس تربیت میں ایسے ذرائع استعمال کیے گئے جن کی کامیابی کی ضمانت من جانب اللہ دی گئی تھی۔ قیام اللیل، جس کی زیادہ سے زیادہ حد نصف رات یا دو تہائی سے کم یا ایک تہائی ہے، اس میں صرف ترتیل قرآن اور نماز ہوتی ہے۔ ترتیل قرآن کا مطلب ہے قرآن کو تجوید کے ساتھ قرآن کے اصولوں کے مطابق پڑھنا، جلدی جلدی بھی نہ ہو اور محض گانے بجانے کا انداز بھی نہ ہو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایات وارد ہیں کہ آپؐ نے قیام اللیل کے دوران گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھا تھا لیکن ان گیارہ رکعات میں رات کے دو تہائی حصے سے قدرے    کم وقت گزارتے تھے اور آپؐ قرآن مجید کو خوب رُک رُک کر تجوید کے ساتھ پڑھتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تربیت اس لیے کی جارہی تھی کہ ایک بھاری ذمہ داری آپؐ کے سپرد کی جانے والی تھی..... راتوں کو جاگنا، جب کہ لوگ سورہے ہیں، اور روز مرہ کی زندگی کی کدورتوں سے دُور ہونا، اور دنیاوی جھمیلوں سے ہاتھ جھاڑ کر اللہ کا ہو جانا، اور اللہ کی روشنی اور  اللہ کے فیوض وصول کرنا، اور وحدت مطلقہ سے مانوس ہونا، اور اس کے لیے خالص ہوجانا، اور رات کے سکون اور ٹھیرائو کے ماحول میں ترتیل قرآن، ایسی ترتیل کہ گویا یہ قرآن ابھی نازل ہو رہا ہے اور یہ پوری کائنات اس قرآن کے ساتھ رواں دواں ہے۔ انسانی الفاظ اور عبارات کے سوا ہی یہ پوری کائنات قرآن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ قیام اللیل میں انسان قرآن کے نورکی شعاعیں، اس کے اشارات، نہایت پُرسکون ماحول میں حاصل کرتا ہے اور یہ سب اس دشوارگزار راستے کا سازوسامان ہے۔ کیونکہ اس کٹھن راستے کی مشکلات رسولؐ اللہ کے انتظار میں تھیں اور یہ ہر اس شخص کا انتظار کرتی ہیں، جو بھی اس دعوت کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ جو شخص بھی جس دور میں دعوتِ اسلامی کا کام کرتاہے، شیطانی وساوس اور اس راہ کے تاریک ترین لمحات میں یہی زادِ راہ کسی داعی کے کام آتا ہے اور اس سے اس کی راہ روشن ہوتی ہے (فی ظلال القرآن، سید قطب شہیدؒ، ترجمہ: معروف شاہ شیرازی، ج۶، ص ۶۷۶-۶۷۷)۔ (انتخاب و ترتیب: امجد عباسی)

ڈنمارک میں آزادیِ اظہار کے نام پر ایک بار پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتے ہوئے توہین آمیز خاکوں کو شائع کیا گیا ہے۔ اس پر پوری اُمت مسلمہ میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ستمبر ۲۰۰۵ء کے بعد ڈنمارک کے اخبارات کی ان توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت یہ ظاہر کرتی ہے کہ مغرب کے اس اقدام کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

دنیا کو تہذیب سکھانے کا نعرہ بلند کرنے والا مغرب آج خود تہذیب کا دامن تار تار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک دوسرے کے مذاہب اور مقدس ہستیوں کا احترام دنیا کی مسلمہ اخلاقی اقدار میں سے ایک ہے۔ عالمی سطح پر ایسے قوانین موجود ہیں جن میں مذہبی آزادی کو یقینی بنایا گیاہے۔ آج اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ مغرب اندھے تعصب میں جس عظیم ہستی کی توہین کا مرتکب ہو رہا ہے، اس کے انسانیت پر کتنے احسانات ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا حقیقی معنوں میںاگر کوئی رہنما ہے تو وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی ہی ہے۔ یہ آپؐ ہی ہیں جنھوں نے کسی خاص قوم، نسل یا طبقے کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ تمام نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے آواز اُٹھائی، اور ہرقسم کی قوم پرستی کی حوصلہ شکنی کی۔ یہ آپؐ ہی ہیں جنھوں نے ایسے عالم گیر اور ہمہ گیر اصول پیش کیے جو تمام دنیا کے انسانوں کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ یہ آپؐ ہی ہیں جنھوں نے وہ ابدی ہدایت اور آفاقی نظریۂ حیات پیش کیا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انسانیت کی رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ یہ آپؐ ہی ہیں جنھوں نے اسلام کو صرف ایک نظریۂ حیات کے طور پر ہی پیش نہیں کیا، بلکہ اپنے پیش کردہ نظریات کو عملاً جاری کر کے دکھایا اور ایک جیتی جاگتی سوسائٹی پیدا کر کے دکھا دی۔ گویا اسلام ایک نظریہ ہی نہیں بلکہ ایک نظامِ حیات بھی ہے۔ آج اُمت مسلمہ ان کے اسی مشن کی علَم بردار ہے اور ایک تسلسل سے اسے لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف سرمایہ داری، اشتراکیت، نیشنلزم اور لادینیت کے نتیجے میں انسانیت جس کرب سے گزری اور گزر رہی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ آج بھی دنیا ایک منصفانہ نظامِ زندگی کے لیے ترس رہی ہے جو یقینا اسلامی نظریۂ حیات میں مضمر ہے۔ نبی کریمؐ کے اس عظیم کارنامے کی بنیاد پر مغرب کے دانش ور بھی آپؐ کو دنیا کا عظیم رہنما ماننے پر مجبور ہیں۔

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب ۳۳:۲۱) درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے۔

اسلام کی یہی وہ نظریاتی برتری ہے جو مغرب سے برداشت نہیں ہو رہی، گو آج مسلمانوں کا وہ کردار نہیں جو مطلوب ہے اور دنیا میں کوئی اسلامی ریاست حقیقی معنوں میں موجود نہیں کہ جسے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ اس کے باوجود قبولِ اسلام کا رجحان بڑھتا چلا جارہا ہے۔ روحانی پیاس لوگوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ اسلام کی طرف رجوع کریں۔ خود مغرب جس نے حیران کن سائنسی ترقی کی مگر انسانی زندگی کے مسائل کو مکمل طور پر حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

توہین آمیز خاکوں کی مکرّر اشاعت اس حربے کی مثل ہے جو مشرکینِ مکہ نے اسلام کے پیغام کو روکنے اور رسول کریمؐ کے خلاف مذموم پروپیگنڈے کی صورت میں استعمال کیا تھا۔ مگر دشمن کی یہ چال جس طرح کل اُلٹی پڑی تھی اور نبی کریمؐ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ان کے پیغام کو عام کرنے کا ذریعہ بنا تھا، اسی طرح آج بھی مغرب کی یہ چال ان کے خلاف پڑے گی۔ نائن الیون کے واقعے کے بعد اسلام کو جاننے کے لیے جس بڑے پیمانے پر مغرب میں دل چسپی پائی گئی اس کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ لوگوں میں تجسس پیدا ہوا کہ ’دہشت گرد‘ اسلام آخر ہے کیا؟ اور مسلمان کیوں دہشت گردی کے ملزم قرار دیے جاتے ہیں؟ توہین آمیز خاکے بھی مغرب کو مزید بدنام کرنے اور اشاعت اسلام کا ذریعہ بنیں گے۔

وَ مَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ (اٰل عمرٰن۳:۵۴) اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کرہے۔

مغرب میں جہاں ایک طرف اسلام کے خلاف انتہاپسندی کا رویہ پایا جاتا ہے وہاں ایسی معتدل سوچ اور فکر بھی پائی جاتی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بھی دیگر مذاہب کی طرح مذہبی احترام ملنا چاہیے۔ برطانیہ کے شہزادہ چارلس اور حال ہی میں برطانیہ کے آرک بشپ آف کینٹربری ڈاکٹر رووان ولیم جنھوں نے مسلمانوں کو مذہبی استحقاق کی بنیاد پر علیحدہ شرعی عدالتیں قائم کرنے کے حق میں بیان دیا ہے، اسی معتدل سوچ کے علَم بردار ہیں۔ مسلمانوں بالخصوص مغرب کے مسلمانوں کو اس آواز کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ باہمی مکالمے، سیمی نار، ٹی وی پروگراموں، مراکز دانش سے رابطہ اور معتدل سوچ پر مبنی لٹریچر کی اشاعت وغیرہ کے ذریعے اس سوچ کو آگے بڑھانا چاہیے۔

اُمت مسلمہ کو خود بھی ایک زندہ اُمت کا ثبوت دینا چاہیے۔ دنیا میں امن اور انصاف کی بالادستی بنیادی طور پر اُمت مسلمہ کا فرض منصبی اور نبی کریمؐ کے عالمی مشن کا تقاضا ہے۔ اگر مغرب انتہاپسندی، تعصب اور قوم پرستی کے نشے میں اندھا ہوکر اور اسلام سے خائف ہوکر دنیا کے امن کو برباد کرنے اور اشتعال انگریزی پر تلا بیٹھا ہے تو اس کے سدباب کے لیے ہرسطح پر اقدامات اٹھانا مسلمانوں کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ نائن الیون کے واقعے سے جس طرح پردہ اُٹھ رہا ہے، عراق پر حملے اور افغانستان پر جارحیت کے دعووں کی جس طرح قلعی کھل رہی ہے اور دہشت گردی کے نام پر جس طرح انسانیت کے بجاے مغرب کے مفاد کی جنگ لڑی جارہی ہے، ان سب باتوں سے مغرب کا دہرا معیار کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اب وہ مزید ذلت سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو اشتعال انگیزی کی راہ پر ڈال کر، توڑ پھوڑ، قتل و غارت گری کے ذریعے ’دہشت گرد‘ کے طور پر سامنے لانا اور ’تہذیبوں کی جنگ‘ مسلط کرنا چاہتا ہے جو دراصل خود مغرب کا کھڑا کیا ہوا ہوّا ہے۔ مسلمانوں کو دشمن کی اس چال کو سمجھنا چاہیے اور اپنے حقوق کی سربلندی کے لیے پُرامن جدوجہد کو بنیاد بنانا چاہیے۔

ایک مومن کی فراست کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کوئی بھی اقدام اصولوں سے ہٹ کر اور اخلاق سے گرا ہوا نہ اٹھایا جائے۔ صبرواستقامت اور اسلام کی اخلاقی برتری بالآخر دشمن کے    دل میں گھر کرنے کا باعث بنے گی۔ اس کے علاوہ عالمی اسلامی تنظیم کی سطح پر اقدامات کا اٹھانا، عالمی قوانین کے ذریعے اپنے حقوق کا تحفظ حکومتی سطح پر سفارتی بائیکاٹ اور احتجاج اور دیگر    ذرائع ابلاغ کے ذریعے مکالمے اور اسلام کے آفاقی پیغام کو عام کرنا چاہیے۔ مغرب کا دہرا معیار بالآخر خود اسے اپنی اور دوسروں کی نظروں میں گرا دے گا۔

ایک محاذ معاشی دبائو کا بھی ہے جب چند برس قبل توہین رسالتؐ کی جسارت کرنے پر مسلم دنیا نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا تو اس کی سات بلین کرونا کی تجارت خطرے میں پڑ گئی تھی اور وہاں کی تجارتی کمپنیوں نے اپنی حکومت کو روش بدلنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس مؤثر حربے کو ایک بہتر حکمت عملی کے ساتھ استعمال کر کے بھی مغرب کو اشتعال انگیزی سے روکنے کے لیے دبائو بڑھایا جاسکتا ہے۔

آج مسلمان ایک بڑی تعداد اور وسیع وسائل رکھنے کے باوجود اتنے بے وزن ہیں کہ جو چاہے ان کو ذلیل و رسوا کرکے رکھ دے اور ان کی عزت کو خاک میں ملا دے۔ ایسا کیوں ہے؟ درحقیقت اُمت مسلمہ اپنے فرضِ منصبی کو فراموش کرچکی ہے اور اقامت دین کے لیے خدا سے جو  عہد کر رکھا تھا، اسے پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ نبی کریمؐ سے محبت ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، ان کی حرمت پر ہم جان قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن محبت رسولؐ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ     ہم صحیح معنوں میں خدا کے بندے بن جائیں۔ نبی کریمؐ کے سچے اُمتی بن کر اپنے اخلاق و کردار سے گواہی دیں، اور تڑپتی ہوئی انسانیت کے لیے امن وانصاف کے پیغام کے علَم بردار بن کر اُٹھیں اور قرآن وسنت کی دعوت کو عام کریں۔ نیکی کا حکم دیں برائی سے روکیں، اور اس کے لیے    انتہائی جدوجہد، کوشش اور جہاد کریں۔ مسلمانوں کی طاقت کا راز بھی اسی بات میں مضمر ہے۔   اس کے لیے بس ایک شرط ہے کہ پہلے ہم اپنے پیکرِخاکی میں جان پیدا کریں    ؎

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

اسلام، نبی کریمؐ اور مسلمانوں کو آزادیِ راے، آزادیِ صحافت، انسانی حقوق اور سیکولر جمہوریت کے نام پر تضحیک، تمسخر اور تذلیل کا برابر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی  نہیں کہ اس کا پشت پناہ مغرب ہے اور وہی اس کو تحفظ بھی دیتا ہے۔ بھارتی نژاد ملعون رشدی کے بعد بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین(حال ہی میں ان کی متنازعہ کتاب دوئی کھنڈت پر بھارتی مسلمانوں کے ردعمل کا سامنے آنا)، ڈنمارک کے اخبار اور دیگر اخبارات میں شیطانی خاکوں کی اشاعت، ولندیزی فلم ساز تھیووان گوخھ کی اسلام میں عورت کے مقام کے موضوع پر اشتعال انگیز فلم کی تیاری اور اس کے شدید ردعمل میں اس کی ہلاکت، جرمنی میں توہینِ رسالتؐ پر عامرچیمہ کی شہادت، اور اب سوڈان میں ایک عیسائی مشنری اسکول کی ٹیچر گلین گبنز کا اپنی کلاس کے طلبہ کو ’ٹیڈی بیر‘ کا نام (نعوذ باللہ) محمدصلی اللہ علیہ وسلم رکھنے کے لیے ورغلانے اور توہین رسالتؐ کا مرتکب ہونا ،اسی کا تسلسل ہے۔ گلین گبنزکی سزا ختم کروانے اور تحفظ دینے میں بھی برطانیہ کا ہاتھ نمایاں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب کی طرف سے توہینِ اسلام اور توہینِ رسالتؐ میں کیوں شدت آتی جارہی ہے، اور دوسری جانب اس سب کچھ کو آزادیِ راے اور انسانی حقوق کے حوالے سے تحفظ دینے کی بات بھی کی جارہی ہے، نیز اُمت کے اہلِ علم اس مسئلے کا کس انداز سے جواب دیں؟

مغرب میں چند صدیاں قبل انسانی حقوق کا سوال اس وقت سامنے آیا جب یورپ میں سائنس اور مذہب میں چپقلش سامنے آئی۔ اس سے قبل یورپی تاریخ میں انسان کے بنیادی حقوق کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ عیسائیت نے چند یونانی تصورات کو مذہبی تقدس کا مقام دے دیا اور     سائنسی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے انتہائی اقدامات اٹھائے اور ان عقائد کی خلاف ورزی کرنے پر سائنس دانوں کو پھانسی تک دے ڈالی۔ اس پر شدید ردعمل سامنے آیا اور اہلِ یورپ نے کلیسا کی بالادستی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، نیز انسان کے بنیادی حقوق کے لیے مذہب سے ہٹتے ہوئے قانون سازی کی بنیاد رکھی۔ سائنس کو اُلوہیت کا مقام دے دیا اور تجرباتی سائنس اور تجربہ و مشاہدہ کو علم کی بنیاد ٹھیرایا۔ عیسائیت کے غلط تصورات کی بنا پر مذہب سے بے زار اور بے نیاز ہوکر انسانی زندگی کے معاملات کو طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں انسان کے بنیادی حقوق کے لیے قانون سازی عمل میں آئی۔ اس کا آغاز انگلستان کے میگناکارٹا (۱۲۱۵ئ) سے ہوا ،اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا یہ عمل اقوام متحدہ کے منشورِ انسانی حقوق (۱۹۴۸ئ) پر منتج ہوتا ہے۔

دوسری طرف مغرب اور امریکا کا اپنے مذموم مقاصد اور مفادات کے حصول کے لیے عدل و انصاف اور حقوق انسانی کی دھجیاں اڑا دینا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں افغانستان اور عراق پر حملہ، گوانتاناموبے اور ابوغریب جیل میں تشدد کے انسانیت سوز واقعات، اور ایران پر حملے کی دھمکی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ کھلی حقیقت ہے۔ ایسے میں اقوام متحدہ کے  منشورِ انسانی حقوق، عدل و انصاف اور امن و امان جیسی اقدار پر عمل درآمد ایک سوال بن کر رہ جاتا ہے۔

قانونِ توہینِ رسالتؐ ہی کو لیجیے۔ نیو انسائی کلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق اکثر مشرقی اور یورپی ممالک میں قانونِ توہینِ انبیاؑ(بلاس فیمی لا) کسی نہ کسی صورت میں قابلِ مواخذہ جرم رہا ہے۔ آسمانی صحائف کو ماننے والی اقوام جہاںبھی حکمران رہی ہیں وہاں توہینِ رسالتؐ کی سزا، سزاے موت پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ یورپ اور امریکا اور دیگر سیکولر ریاستوں میں قانونِ توہینِ مسیحؑ (بلاس فیمی لا) اب بھی موجود ہے، اور اس حوالے سے ان ملکوں کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں۔ برطانیہ میں اٹھارھویں صدی تک توہینِ مسیحؑ کی سزا، سزاے موت تھی مگر بعد میں سزاے موت ختم کردی گئی، لہٰذا اب اس کی سزا عمرقید ہے۔

اس ضمن میں ایک معروف مثال یورپی یونین حقوق انسانی کی عدالت کا ۲۵نومبر ۱۹۹۶ء کوبرطانیہ کے حق میں دیا جانے والا فیصلہ ہے۔ اس کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ اس سے مجموعی طور پر مغرب کے نقطۂ نظر کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس مقدمے کے مطابق ایک برطانوی شہری نیگل ونگرو نے حضرت عیسٰی ؑکے حوالے سے ایک فلم دکھانے کی اجازت طلب کی۔ مگر یورپی یونین حقوق انسانی کی عدالت نے اس کی اجازت نہ دی کہ اس سے عیسائیوں کے جذبات مشتعل   ہوں گے اور توہینِ عیسٰی ؑ ہوتی ہے۔ مگر جب اس کیس میں سلمان رشدی کے خلاف توہینِ رسالتؐ  کا مسئلہ اٹھایا گیا تو اسے خارج از بحث قرار دے دیا گیا (دیکھیے: ناموسِ رسولؐ اور قانونِ توہین رسالتؐ، محمد اسماعیل قریشی، ص ۲۳۴-۲۳۹)۔ یہاں مغرب کا دہرا معیار، انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کے تمام تر دعووں کے باوجود واضح طور پر محسوس کیا جاسکتاہے۔

اسلام میں انسانی حقوق کا تصور مغرب سے بہت پہلے ۱۴ سو سال سے موجود ہے اور اس کا خلاصہ نبی کریمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع ہے۔ اسلام بلاامتیاز مذہب و ملّت تمام انسانوں کے حقوق کی  نہ صرف ضمانت دیتا ہے، بلکہ قوتِ نافذہ رکھتا ہے، اور قانونی چارہ جوئی کا حق بھی دیتا ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے منشورِ انسانی حقوق کی حیثیت محض ایک اعلان سے بڑھ کر نہیں اور نہ اس کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ضمانت دی گئی ہے۔

اسلام نے جہاں رنگ و نسل کے فرق کی بنیاد پر انسانی تفاوت کو مٹایا ہے، وہاں تمام انسانوں کو اولادِ آدم ہونے پر برابر قرار دیا اور نیکی اور تقویٰ کو وجۂ امتیاز ٹھیرایا ہے۔ آزادیِ اظہارِ راے کو شہریوں کا بنیادی حق ہی نہیں، بلکہ درپیش مسائل پر اظہارِ راے کو مغرب کے تصور سے بڑھ کر، حق سے زیادہ فرض ٹھیرایا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ بھلائی کی دعوت دے اور برائی سے روکے۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اسی کا نام ہے۔ اس سے غفلت برتنا نہ صرف نفاق ہے، بلکہ اسے ملّت کے زوال کا ایک سبب بھی بتایا گیا ہے، جیساکہ بنی اسرائیل کی روش تھی کہ انھوں نے ایک دوسرے کو برے افعال سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔ (المائدہ ۵:۷۹)

اسلام نے ضمیر اور اعتقاد کی آزادی کا حق دیا ہے۔ ہرشخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کفروایمان میں سے جو راہ چاہے اختیار کرلے۔ اسلام نے لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (البقرہ ۲:۲۵۶) کااصول دیا ہے۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی قوم کو جبراً مسلمان نہیں کیا، بلکہ ذمی کی حیثیت سے ان کو مذہبی آزادی دی ہے اور ان کا تحفظ کیا ہے۔ اسلام نے تو مذہبی دلآزاری سے بھی منع کیا ہے۔

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (الانعام ۶:۱۰۸) ان کو برا بھلا نہ کہو جنھیں یہ لوگ اللہ کے ماسوا معبود بناکر پکارتے ہیں۔

خیال رہے کہ جہاں مذہبی دلآزاری سے منع کیا گیا ہے وہاں برہان، دلیل اور معقول طریقے سے مذہب پر تنقید کرنا اور اختلاف کرنا آزادیِ اظہار کے حق میں شامل ہے۔ خود مسلمانوںکو ہدایت کی گئی ہے کہ اہلِ کتاب اور دیگر مذاہب کے حاملین سے اگر گفتگو کی جائے تو  تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کیا جائے اور احسن انداز اپنایا جائے:

وَ لَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْـکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (العنکبوت ۲۹:۴۶) اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر احسن طریقے سے۔

اسلام میں رواداری کا تصور یہ نہیں ہے کہ مختلف اور متضاد خیالات کو درست قرار دیا جائے۔ بقول سید مودودی: ’’رواداری کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کے عقائد یا اعمال ہمارے نزدیک غلط ہیں، ان کو ہم برداشت کریں، ان کے جذبات کا لحاظ کر کے ان پر ایسی نکتہ چینی نہ کریں جو ان کو رنج پہنچانے والی ہو، اور انھیں ان کے اعتقاد سے پھیرنے یا ان کے عمل سے روکنے    کے لیے زبردستی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ اس قسم کے تحمل اور اس طریقے سے لوگوں کو اعتقاد و عمل کی آزادی دینا نہ صرف ایک مستحسن فعل ہے، بلکہ مختلف الخیال جماعتوں میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اگر ہم خود ایک عقیدہ رکھنے کے باوجود محض دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے مختلف عقائد کی تصدیق کریں، اور خود ایک دستورالعمل کے پیرو ہوتے ہوئے دوسرے مختلف دستوروں کا اتباع کرنے والوںسے کہیں کہ آپ سب حضرات برحق ہیں، تو اس منافقانہ اظہارِ راے کو کسی طرح رواداری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ مصلحتاً سکوت اختیار کرنے اور عمداً جھوٹ بولنے میں آخر کچھ تو فرق ہونا چاہیے‘‘۔ (تفہیمات، اوّل، ص ۱۱۴-۱۱۵)

حقیقت یہ ہے کہ آزادیِ راے، آزادیِ صحافت، انسانی حقوق اور لادین جمہوریت جیسی مغربی اقدار بظاہر دل کو بھاتی ہیں، عقل کو اپیل کرتی ہیں لیکن عملاً جب مفادات آڑے آئیں، نسلی و مذہبی تعصب سے واسطہ پڑے، انسانی حقوق اور عدل و انصاف پر زد پڑے تویہ اقدار غیرجانب داری کے بجاے جانب داری کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ محض عقلِ انسانی کو بنیاد بناکر آزادیِ راے اور آزادیِ صحافت جیسی اقدار کے تحت توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا جائے، اور اس کے نتیجے میں خواہ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اور مسلمانوں کی دل آزاری اور فساد کا اندیشہ ہو مگر انسان کسی تحدید پر تیار نہ ہو___ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اگر ٹھیر کر نہیں سوچتا تو قرآن کے مطابق انسان کی اس روش سے زمین میں فساد برپا ہوسکتا ہے۔ ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (الروم ۳۰:۴۱) ’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے‘‘۔ تہذیبوں کی جنگ کا واویلا بھی مچایا جارہا ہے اور اسلام کو ہدف بنایا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو آزادیِ اظہار کے تحت نہ صرف معقول اور منطقی انداز میں اختلافِ راے کا حق دیتا ہے، بلکہ عقیدے کی آزادی اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اس مسئلے کا اصولی حل یہی ہے کہ مغرب نے مذہبی تعصب کی وجہ سے عقل اور سائنس کو جس طرح خدا بنا رکھا ہے اور اسے اُلوہیت کا درجہ دے رکھا ہے، اس پر نظرثانی کرے۔ اگر یہ ماضی کے عیسائیت اور اہلِ کلیسا کے غلط نظریات کا ردعمل ہے تو اسلام کے حوالے سے ایسا سوچنا مناسب نہیں۔ اسلام ایک روایتی مذہب نہیں، بلکہ ایک دین اور ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو ہر شعبۂ زندگی بہ شمول سائنس کے لیے ہدایات اور رہنمائی رکھتا ہے۔ اصولی طور پر بھی دیکھا جائے تو آزادیِ راے، انسانی حقوق اور انسانیت کی فلاح کے لیے اسلام کی تعلیمات زیادہ جامع ہیں جنھیں عقل تسلیم کرنے پر مجبور ہے، جب کہ عیسائیت و دیگر مذاہب کی تعلیمات اس معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ اگرچہ روسو نے یہ کہا تھا کہ انسان آزاد پیدا ہوا مگر اسے ہرجگہ زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے، تاہم یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے ۱۴سو سال پہلے یہ فرمایا تھا کہ تم نے انسانوں کو غلام کب سے بنا لیا؟ ان کی مائوں نے تو انھیں آزاد جنا تھا۔ مگر اس جرأت کے لیے خدا سے ڈرنے والا دل اور  وحیِ الٰہی پر ایمان لانے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اسلام اپنی تعلیمات اور منطقی استدلال کی بنا پر غالب نہ آجائے۔ اسلام کی نظریاتی بالادستی اور اسلامی تحریکوں کے تحت احیاے اسلام کے لیے برپا منظم جدوجہد، اور قبولِ اسلام کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کی بنا پر، مغرب کو یہ خدشہ یقین میں بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ بقول اقبال  ع

ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبرؐ کہیں

فرانس‘ یورپ میںمسلمانوں کی آبادی (۵۰ لاکھ) کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک تصور کیا جاتا ہے جہاں مسلمان سیکولرزم اور مذہبی آزادی کی بنیاد پر مسلم تشخص کی بقا کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اسکارف پر حالیہ پابندی کے قانون نے اس جدوجہدمیں مزید سرگرمی پیدا کی ہے۔ فرانس میں اسلام اور مسلمانوں پر اس کے آیندہ کیا اثرات مرتب ہوںگے‘ اس کا ایک اندازہ اگلے برس اپریل میں ہونے والے فرانسیسی کونسل براے مسلم فیتھ (French Council of the Muslim Faith- CFCM) کے انتخابی نتائج سے بھی لگایا جا سکے گا۔

CFCM بنیادی طور پر فرانسیسی مسلمانوں کا نمایندہ حکومتی ادارہ ہے جو ۲۰۰۳ء میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کے صدر دلیل بوبکر ہیں جو پیرس کی قدیم مسجد کے جدید ذہن کے حامل ریکٹر ہیں اور ان کی تعیناتی وزیرداخلہ نکولس سارکوزی (Nicolos Sarkozy) سے مذاکرات کے بعد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ کونسل کے دو نائب صدر ہیں جن میں سے ایک کا تعلق یونین آف اسلامک آرگنائزیشن آف فرانس (UOIF) سے ہے اور دوسرے کا نیشنل فیڈریشن آف فرنچ مسلمز (FNMF) سے‘ دونوں ہی سخت موقف کے حامل گروپ شمار کیے جاتے ہیں۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ محتاط قیادت کے تحت فرانسیسی مسلمانوں کی اجتماعی طور پر نمایندگی ہوسکے۔

اس مرتبہ خیال کیا جارہا ہے کہ انتخاب کھلے ماحول میں ہوں گے۔ ایک انتخابی حلقہ مسجد یا نماز کے لیے مختص جگہ پر مشتمل ہوگا۔ ۴ ہزار نمایندے تقریباً ۹۰۰انتخابی حلقوں سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ موجودہ ۴۱ رکنی CFCM میں ۷۰ فی صد ارکان کا تعلق UOIFیا FNMFسے ہے‘ جب کہ صرف ۱۵ فی صد کا تعلق بوبکر کے کیمپ سے ہے۔ اس بار مزید دو سخت گیر جماعتوں کا انتخاب میں حصہ لینے کا امکان ہے۔ دوسرے لفظوں میں‘ مروجہ قوانین کے تحت موجودہ صدر کو بآسانی شدت پسند گروپ کی اکثریت ہٹاسکتی ہے۔

بوبکر نے اس خدشے کے پیش نظر دھمکی دی ہے کہ اگر مروجہ انتخابی قوانین کو تبدیل نہ کیا گیا تو وہ انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔ ووٹنگ کی بنیاد مسجد کے رقبے کو بنایا گیا ہے۔ ان کے خیال میں قدیم اور جدید مساجد کو رقبے کی بنیاد پر برابر شمار کرنا ناانصافی ہے۔ حالانکہ پیرس کی مسجد قدیم ترین مسجد ہے جو ۱۹۲۰ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے مقابلے میں مخالفین کا اصرار ہے کہ قوانین میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ یہ بحث شدت پکڑ رہی ہے۔

کچھ لوگوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس طرح سخت گیر موقف کے حامل گروہ کونسل پر چھا جائیں گے۔ وہ اس کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ موجودہ صدر کی قیادت میں کونسل اسکارف کی سرکاری پالیسی کی حمایت کرتی ہے اور مسلمانوں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ اس قانون کی پابندی کریں‘ جب کہ اس کے برعکس UOIFاسکول کی بچیوں کو اسکارف پہننے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

UOIF اگرچہ کسی بیرونی تنظیم سے تعلق کی نفی کرتی ہے لیکن یہ بنیادی طور پر اخوان المسلمون سے متاثر ہے جو اسلامی نظام کے نفاذ کی علم بردار ہے۔ UOIF کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ لڑکیوں کی تیراکی کے لیے الگ تالاب کا بھی ہے جس سے ان کی فکر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مسلمانوں کے باہمی اختلافات بھی ایک اہم موضوع ہے۔ اس سے وہ سیاست دان جو شدت پسند اسلام کے مخالف ہیں‘ ان کی تشویش میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ ان اختلافات کے ساتھ امن و امان سے کس طرح رہا جا سکتا ہے۔

وزیرداخلہ سارکوزی اور ماڈریٹ مسلمانوں کے خیال میں مسلمانوں کے مختلف طبقات کی نمایندگی پر مشتمل ایک مضبوط کونسل کا قیام اس لحاظ سے مفید ہوگا کہ اس طرح مسلم راے عامہ کے تمام نقطہ ہاے نظر کی نمایندگی ممکن ہوسکے گی۔ فرانسیسی سیاست دانوں میں بھی دونوں آرا کے حامی پائے جاتے ہیں۔ وزیر داخلہ اگرچہ اسکارف پر پابندی کے حامی ہیں لیکن انھوں نے UOIF کی سالانہ کانفرنس میں بھی شرکت کی جو اس پابندی کی مخالف ہے۔

فرانسیسی وزیرداخلہ اس نقطۂ نظر کی نمایندگی بھی کر رہے ہیں جن کے خیال میں فرانس کو ۱۹۰۵ء کے قانون میں تبدیلی کرنی چاہیے جس کے تحت مذہب اور ریاست کو جدا جدا کیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک تازہ کتاب میں مطالبہ کیا ہے کہ جب حکومت ثقافتی اور کھیل پر مبنی گروہوں کی مالی اعانت کرتی ہے تو مذہبی گروہوں کی اعانت کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر مذہبی گروہوں کی حمایت کی جائے تو بیرونی ممالک کی مداخلت کو جو مساجد اور مذہبی اسکولوں کی بہت بڑی تعداد کی اعانت کرتے ہیں‘ روکا جا سکتا ہے۔ یاد رہے عراق میں (اگست ۲۰۰۴ئ) فرانسیسی صحافیوں کو اغوا کرنے والوں کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ فرانس میں اسکارف پہننے پر پابندی ہٹائی جائے۔

فرانسیسی مسلم کونسل کا متوقع انتخاب‘ مسلمانوں کے لیے متفقہ مؤقف اور یک جہتی کے مظاہرے کا تاثر پیش کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔ اختلاف راے اپنی جگہ لیکن اجتماعی مفاد پر اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔ (ماخوذ: اکانومسٹ‘ ۳۰ اکتوبر ۲۰۰۴ئ)

صوبہ سرحد کی مجلسِ عمل کی حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ برس میں نفاذِ شریعت اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے کئی اہم اور بنیادی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان میں نفاذِ شریعت بل‘ سود سے پاک اسلامی بنک کاری‘ عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے حسبہ ایکٹ‘ پرائمری تک طلبہ و طالبات کو مفت کتب اور یونیفارم کی فراہمی‘ میٹرک تک مفت تعلیم‘ خواتین یونی ورسٹی کا قیام‘ پانچ مرلہ مکانات پر ٹیکس کا خاتمہ‘ فحاشی و بے حیائی سے پاک معاشرے کے لیے مختلف اقدامات‘ سادگی اور میرٹ کلچر کا فروغ‘ ہسپتالوں میں شام کی او پی ڈی کا آغاز جس سے محض پانچ روپے کی فیس پر ہرطرح کے علاج معالجے کی سہولت اور مفت ایمرجنسی خدمات کی فراہمی اور خیبر میڈیکل کالج کو  یونی ورسٹی کا درجہ دینا اور طالبات کے لیے گرلز کیمپس کا قیام نمایاںہیں۔ یقینا یہ اقدامات اپنی جگہ بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے نتیجے میں اسلامائزیشن کے عمل کو آگے بڑھانے میں اور عوام کے مسائل حل کرنے میں بڑی مدد ملے گی اور سرحد کی سیاسی تاریخ میں یہ تاریخ ساز اقدامات گردانے جائیں گے۔ البتہ حال ہی میں نظامِ صلوٰۃ کا نفاذ نہایت اہمیت کا حامل اقدام ہے۔

مجلسِ عمل سرحد نے اپنے انتخابی منشور میں صوبہ سرحد کے عوام سے صوبے میں نفاذِ شریعت کا وعدہ کیا تھا اور بڑے پیمانے پر عوامی تائید کے حصول میں یہ ایک اہم پہلو تھا۔ چنانچہ سرحدحکومت نے اسی تناظر میں اور اپنے اس وعدے کی تکمیل اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے صوبے بھر میں نظامِ صلوٰۃ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پورے صوبے میں ایک ہی وقت پر اذان اور نماز ادا کی جائے گی اور نماز کے اوقات میں سرکاری دفاتر اور تمام کاروباری ادارے بند کر دیے جائیں گے۔ آیندہ ہرنجی و سرکاری عمارت میں مسجد کی تعمیر کے لیے جگہ مختص کی جائے گی‘ نیز خواتین کی سہولت کے پیشِ نظر تمام بس اڈوں اور دیگر پبلک مقامات پر وضوگاہ اور بیت الخلا کی تعمیر کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔ اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ نظامِ صلوٰۃ کے نفاذ کے لیے قوت کے استعمال کے بجاے تلقین اور تبلیغ کو ترجیح دی جائے گی۔ مزید عملی اقدام اٹھاتے ہوئے سرحد حکومت نے علما و ائمہ کرام‘ خطبا حضرات اور تاجر برادری کو اعتماد میں لیتے ہوئے آزمایشی طور پر صوبائی دارالحکومت پشاور میں نمازِ جمعہ کے یکساں اوقات مقرر کر دیے ہیں جس کے تحت ایک بجے نمازِ جمعہ کی اذان ہوگی اور ڈیڑھ بجے نمازِ جمعہ ادا کی جائے گی‘ جب کہ ایک بجے سے لے کر دو بجے تک نمازِ جمعہ کے لیے وقفہ ہوگا جس کے دوران تمام دفاتر‘تجارتی ادارے‘ مارکیٹیں بند رہیں گے۔ اس تجربے کے بعد دیگر نمازوں کے اوقات کا تعین کیا جائے گا اور پھر اس عمل کو پورے صوبے تک بڑھا دیا جائے گا۔ اس حکم کے تحت پشاور میں نمازِ جمعہ خوش اسلوبی سے ادا کی جا رہی ہے اور تنفیذ صلوٰۃ کے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

صوبہ سرحد میں مجموعی طور پر مذہبی رنگ نمایاں ہے اور عوام کی موجودہ منتخب حکومت اور عوامی تائید کے ذریعے اسلامی نظام کے نفاذ کے امکانات روشن ہیں۔ البتہ بقول مولانا مودودیؒ ہرتجدیدی تحریک کے لیے تاریخ کا یہ سبق ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے:

اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ جس سیاسی انقلاب کی جڑیں اجتماعی ذہنیت‘ اخلاق اور تمدن میں گہری جمی ہوئی نہ ہوں وہ نقش برآب کی طرح ہوتا ہے۔ کسی عارضی طاقت سے ایسا انقلاب واقع بھی ہوجائے‘ تو قائم نہیں رہ سکتا‘ اور جب مٹتا ہے تو اس طرح مٹتا ہے کہ اپنا کوئی اثر چھوڑ کر نہیں جاتا۔ (تجدید و احیاے دین‘ ص ۱۲۳)

صوبہ سرحد میں نفاذِ شریعت کے حوالے سے اسی تاریخی حقیقت کو شاہ اسماعیل شہیدؒ اور سیداحمد شہیدؒ کی برپا کردہ تجدید و احیاے دین کی تحریک سے سمجھا جاسکتا ہے۔ وہ اور ان کے ساتھی ایسی پاکباز نفوس اور ہستیاں تھیں جن کو دیکھ کر عہدِ رسالتؐ اور عہدِ صحابہؓ کی یاد تازہ ہوجاتی تھی لیکن انھوں نے عوام الناس کو ذہنی و اخلاقی طور پر نفاذِ شریعت کے لیے تیار کیے بغیر شریعت کو نافذ کردیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے اسے قبول نہ کیا اور تجدید و احیاے دین کی اتنی عظیم تحریک برگ و بار نہ لاسکی۔ ماضی قریب میں صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں سطحی انداز میں اور عوام کی ذہنی و اخلاقی تربیت کے بغیر نظامِ صلوٰۃ نافذ کرنے کی کوشش کی گئی جو نقش برآب ثابت ہوئی اور آج وہ ماضی کا حصہ ہے۔ لہٰذا مجلسِ عمل جو ایک بار پھر سرحد میں نفاذِ شریعت کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے‘ جو بہت خوش آیند و مبارک اقدام اور ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے‘ اسے اس پہلو کو خاص طور پر اہمیت دینا چاہیے اور پیشِ نظر رکھنا چاہیے تاکہ نفاذِ شریعت کا یہ عمل خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل کو پہنچے اور دیرپا اثرات کا باعث ثابت ہو۔

اسلام اپنی معاشرت کی بنیاد خدا کی مکمل اطاعت و بندگی‘ خوفِ خدا‘ فکرِآخرت اور اس اصول پر رکھتا ہے کہ مسلمانوںکے معاشرے میں خیر اور بھلائی پھیلے اور شر اور بدی مٹ جائے۔ فرد کی اصلاح کے لیے اسلام نے جو نظامِ تربیت وضع کیا ہے وہ اسی فکر کو پروان چڑھاتا ہے اور اس میں اقامتِ صلوٰۃ اور نظامِ صلوٰۃ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے اور نبی کریمؐ جیسی ہستی نے جو رحمۃ للعالمین ہیں‘ نماز قائم کرنے پر اس شدت سے زور دیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ اپنی جگہ کسی اور کو امام بنائوں اور ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو اذان سننے کے بعد بھی گھروں میں پڑے سو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز اسلام کا وہ شعار ہے اور وہ پیمانہ ہے جس سے فوری طور پر اندازہ ہوجاتا ہے کہ کتنے لوگ خدا کی عملاً اطاعت کے لیے تیار ہیں اور اسی بات سے معاشرتی بگاڑ کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ یہی بات منافقین کو بھی نماز ادا کرنے پر مجبور کرتی تھی۔

اسلام میں عبادت کا تصور محض چند مراسم عبادت کی ادایگی کا نام نہیں بلکہ انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک ہر معاملے اور ہر شعبۂ زندگی میں خدا کی اطاعت و فرماں برداری اور خدا کے قانون کی بالادستی کا نام ہے۔ لہٰذا محض نماز کی ادایگی مقصود نہیں بلکہ روحِ نماز پیشِ نظر رکھنا مطلوب ہے۔ چنانچہ اس کے لیے ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر ذہنی و اخلاقی تربیت اور راے عامہ ہموار کی جائے۔

فریضہ اقامت دین کے تین بنیادی اور ناگزیر تقاضوں میں خدا کی اطاعت و بندگی‘ صالح افراد کی تنظیم اور امربالمعروف ونہی عن المنکر(یعنی خیر اور بھلائی پھیلے اورشروفساد اور بگاڑ مٹے) شامل ہیں۔ نبی کریمؐ کے اسوہ سے بھی یہی رہنمائی ملتی ہے۔ آپؐ نے بھی انھی بنیادوں اور خطوط پر اسلامی معاشرے کی تشکیل و تعمیر فرمائی تھی۔ آپؐ نے لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر جس  تحریکِ اصلاح کی بنیاد رکھی تھی‘ اس کا مطلب خدا کی مکمل اطاعت و بندگی اور غلبۂ دین تھا (مزید مطالعے کے لیے: فریضہ اقامت دین‘ مولانا صدر الدین اصلاحی)۔ لہٰذا نظامِ صلوٰۃ کے نفاذ میں ان تینوں پہلوئوں اور عبادت اور نماز کی روح کو پیشِ نظر رکھنا لازم ہے۔

معاشرتی صورت حال

نظامِ صلوٰۃ کے کامیابی سے نفاذ کے لیے پہلی ضرورت بڑے پیمانے پر اس کے حق میں راے عامہ کی ہمواری اور تیاری ہے۔ اس کے لیے معاشرے اور معاشرتی صورت حال کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگرچہ لوگ مسلمان ہیں لیکن ان کی عملی زندگی جدید نظریات‘ مغربی تہذیب یا روایتی مذہب پسندی میں بٹی ہوئی ہے۔

جدید ذہن مغرب سے متاثر ہے اور اس کے نزدیک مذہب ذاتی مسئلہ ہے اور اس کا چند مراسم عبادت سے زیادہ عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں‘یعنی لادینیت یا سیکولر ذہنیت کا شکار ہے۔ مذہب پسند ایک بڑا طبقہ تقلید کا شکار ہے۔ وہ نماز‘ روزہ‘ رسوم و رواج اور اپنے مسلک تک محدود ہے اور اس سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے علاوہ جدید ذرائع ابلاغ اور دوسری قوتیں بھی معاشرتی بگاڑ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بحیثیت مجموعی شر اور بگاڑ کا پہلو غالب نظرآتا ہے۔ اب معاشرے کا صرف وہ صالح عنصر یا اہلِ خیر ہی رہ جاتے ہیں جن کے دل میں اسلام کے لیے محبت ہے اور وہ دل و جان سے خدا کی اطاعت اور اسلام کی سربلندی کے لیے خواہاں ہیں۔ یہی امید کی کرن ہیں اور یہی وہ قوت ہے جس کے ذریعے نفاذِ شریعت اور نظامِ صلوٰۃ کا نفاذ اور اسلامی نظام کا قیام عملاً ممکن ہے۔

معاشرہ خدا کی اطاعت کے لیے کس حد تک تیار ہے۔ اس کا ایک اندازہ نماز پڑھنے کے رجحان سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی تعداد میں لوگ نماز ادا کرتے ہیں جومقابلتاً بہت تھوڑی تعداد ہے۔ وہ لوگ جو نماز کے دیگر تقاضے پورے کرتے ہیں ان کی تعداد تو اور بھی کم ہے‘ تاہم صوبہ سرحد میں بحیثیت مجموعی ادایگی نماز کا رجحان مقابلتاً بہترہے۔ اس معاشرتی صورت حال کو سامنے رکھنا بھی ناگزیر ہے۔

صالح عنصر پر مبنی صلوٰۃ کمیٹیاں

ان حالات میں فطری طور پر پہلی ترجیح وہ افراد یا گروہ یا عنصر ہونا چاہیے جو خود اسلام پر عمل پیرا ہے‘ اسلامی نظام کے نفاذ کا خواہاں ہے اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ اس صالح عنصر کو منظم کرنے اور ایک مؤثر قوت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک عملی شکل صلوٰۃ کمیٹیوں کا قیام ہے۔ گلی‘ محلے اور بستی کی سطح پر صلوٰۃ کمیٹیاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کے ارکان وہ لوگ ہونے چاہییں جو نمازی ہوں‘ نیک اور صالح ہوں‘ صاحبِ کردار ہوں اور خلقِ خدا کی اصلاح و بہتری کے لیے فکرمند ہوں اور دل دردمند رکھتے ہوں‘ نیز انھیں لوگوں کی تائید وحمایت حاصل ہو۔

کمیٹی کا بنیادی مقصد لوگوں کو خدا کی بندگی و اطاعت‘ آخرت کی فکر اور مقصدِ زندگی اور حقوق و فرائض کے حوالے سے توجہ دلانا اور نماز جو خدا کی اطاعت کی عملی مشق ہے‘ اس کے لیے تیار کرنا ہونا چاہیے۔ دین کے علم کے بغیر دین کی اطاعت ممکن نہیں ہوسکتی اور ہر آن بھٹکنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لہٰذا کمیٹی کا یہ بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ حکومتی سرپرستی سے کمیٹی زیادہ مؤثر انداز میں کام کرسکے گی اور بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ ارکان کمیٹی کے پاس اسلام کی بنیادی تعلیمات اور نماز سے متعلق عام فہم زبان میں کتابچے اور لٹریچر بھی موجود ہونا چاہیے جو ملاقات اور گفتگو کے بعد لوگوں کو مطالعے کے لیے دیے جاسکیں۔ اس کے لیے تحریک اسلامی کا بنیادی لٹریچر: خطبات‘ دینیات‘ شہادتِ حق‘ سلامتی کا راستہ وغیرہ مفید رہے گا۔ مزید غور کے بعد ایک دعوتی سیٹ تیار کیاجاسکتا ہے جو ممبران صلوٰۃ کمیٹیوں کو فراہم کیا جائے۔ ہر صلوٰۃ کمیٹی کو ایک مختصر دارالمطالعہ یا لائبریری بھی قائم کرنی چاہیے جہاں سے مطالعے اور عام لوگوں کے مطالعے کے لیے کتب فراہم کی جاسکیں۔ دارالمطالعوں کے قیام اور تقسیم لٹریچر سے عوام میں مطالعے کے ذوق اور فہمِ دین کے حصول کے لیے ایک تحریک پیدا ہوسکے گی جو راے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔

کمیٹی ہفتہ وار اجلاس منعقد کرے جس میں علاقے کی صورت حال کا جائزہ‘ نمازیوں کی کیفیت اور کام کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز اور لائحہ عمل پر غور کیا جائے۔ اس کے علاوہ   ہفتہ وار درس قرآن یا دعوتی اجتماع منعقد کیا جاسکتا ہے جس میں دینی شعور کی آبیاری کی کوشش کی جائے اور لوگوں کی بھرپور شرکت کو ممکن بنایا جائے۔ کمیٹی کا ایک خصوصی ہدف فرقہ واریت کا خاتمہ‘ مذہبی جھگڑوں کو روکنا‘ باہمی تعاون اور اتفاق و یک جہتی کی فضا قائم کرنا اور لوگوں کو اس کش مکش کے نقصانات کا احساس دلانا ہونا چاہیے۔

صلوٰۃ کمیٹی کا فطری دفتر تو مسجد ہی ہے۔ اسلام میں مسجد بستی کا مرکز ہوا کرتی ہے۔ فکری رہنمائی‘ تزکیہ و تربیت‘ تعلیم وتدریس‘ معاشرتی مسائل کا حل‘ عدل و انصاف کی فراہمی‘ مالی معاونت‘ دارالمطالعہ‘ مسافروں کے لیے قیام گاہ‘ شفاخانہ‘ ثقافتی مرکز (کمیونٹی سنٹر) وغیرہ--- یہ تمام امور مسجد میں ادا کیے جاتے رہے ہیں اور کیے جانے چاہییں۔ تاہم‘ اب مسجد کو وہ مقام حاصل نہیں رہا جو ماضی میں اسے حاصل تھا (مزید مطالعے کے لیے: تعمیرمعاشرہ میں مسجد کا کردار‘ مولانا امیرالدین مہر‘ دعوہ اکیڈمی‘ اسلام آباد)۔ لہٰذا صلوٰۃ کمیٹی کا ایک اہم مقصد مسجد کے اس مقام و مرتبے اور حیثیت کی بحالی کی کوشش ہونا چاہیے۔ اگر کسی جگہ مسجد میں کمیٹی کے دفتر کا قیام ممکن نہ ہو وہاں صلوٰۃ کمیٹی کا دفتر الگ سے قائم کیا جانا چاہیے تاکہ کام مربوط و منظم انداز میں آگے بڑھ سکے اور مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔

فواحش و منکرات کا خاتمہ

نماز کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد فواحش و منکرات سے روکنا اور ان کا خاتمہ  ہے:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِط (العنکبوت ۲۹:۴۵)

یقینا نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

لہٰذا صلوٰۃ کمیٹی کا ایک اہم مقصد فواحش کی روک تھام اور ان کے خلاف عوامی ضمیر اور احساسِ شرافت کو بیدار کرنا ہونا چاہیے۔ اسلام میں فواحش و منکرات کا تصور کوئی محدود معنوں میں نہیں ہے۔ اس لیے فواحش کے سلسلے میں کسی ایک ہی پہلو پر نظرنہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے تمام سرچشموں پر نگاہ رہنی چاہیے۔

فواحش کا دائرہ: قحبہ خانے‘ شراب خانے‘ سینما کی پبلسٹی‘ دکان پر عریاں تصاویر اور سائن بورڈ‘ ٹورنگ اور تھیٹریکل کمپنیاں‘سرکس‘ مخلوط تعلیم‘ اخبارت و رسائل میں فحش اشتہارات و تصاویر اور فلمی مضامین‘ ریڈیو پر فحش گانوں کے پروگرام‘ دکانوں اور مکانوں پر فحش گانوں کی ریکارڈنگ‘ ٹیلی ویژن پر فحش و بے ہودہ موسیقی کے پروگرام اور ڈرامے‘ فحش فلمیں‘ قماربازی کے اڈے‘ رقص کی مجالس‘ فحش لٹریچر اور عریاں تصاویر‘ جنسی رسائل‘ آرٹ اور کلچر کے نام سے بے حیائی پھیلانے والی سرگرمیاں‘ مینابازار‘ عورتوں میں روز افزوں بے پردگی کی وبا وغیرہ پر محیط ہے۔ (تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل‘ ص ۲۲-۲۳)

گویا فحش و منکر سے مراد تمام بیہودہ اور شرمناک افعال اور ہر وہ برائی ہے جسے انسان بالعموم برا جانتے ہیں‘ ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں‘ اور تمام شرائع الٰہیہ نے جس سے منع کیا ہے (تفہیم القرآن‘ ج ۲‘ ص ۵۶۶)۔ یہ تمام پہلو بھی سامنے رہنے چاہییں۔

نظامِ صلوٰۃ کے قیام کا یہ فطری تقاضا ہے کہ معاشرے میں ہر قسم کے فواحش و منکرات کا استیصال و خاتمہ ہو۔ لہٰذا صلوٰۃ کمیٹی کی ایک اہم ذمہ داری فواحش و منکرات کے خاتمے کی کوشش ہونا چاہیے۔ اس کے لیے لوگوں میں ان کی اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس اجاگر کرکے انھیں  معاشرتی بگاڑ کو روکنے اور فواحش و منکرات کے خاتمے کے لیے مل جل کر اجتماعی جدوجہد کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔ لوگوں میں اس کا احساس بھی موجود ہے لیکن منظم نہ ہونے کی وجہ سے غیر مؤثر ہیں۔ اگر لوگوں کو ان معاشرتی خرابیوں کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور منظم انداز میں  لے کر چلا جائے تو اس کے نتیجے میں یہ فضا قائم ہوسکتی ہے کہ جہاں کوئی غلط اقدام ہو فوری طور پر لوگ ایک دوسرے کو توجہ دلا کر اس کا سدباب کر دیں۔ اسلامی معاشرے کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ جہاں شریا منکر سر اٹھائے وہیں اسے دبا دیا جائے۔ اُمت مسلمہ کا مقصدِ وجود بھی یہی ہے۔ کمیٹی کے اس اقدام سے فطری انداز میں شروفساد اور بدی کے پھیلائو کا راستہ رک جائے گا اور لوگ عملاً برائی سے روکنے کے فریضے کو ادا کرنے لگیں گے۔ نتیجتاً معاشرہ اخلاقی لحاظ سے بہت بلند سطح پر لے جایا جا سکے گا اور نماز کا ایک اہم مقصد فحش و منکر کا خاتمہ بھی پوراہوسکے گا۔

جذبۂ ہمدردی اور خدمت خلق

نفسانفسی‘ خودغرضی‘ مفاد پرستی‘ دوسروں سے لاتعلقی اور صرف اپنی ذات تک محدود رہنا‘ مادیت کے شاخسانے ہیں۔ یہ اسلامی معاشرت کے لیے سم قاتل ہیں۔ اسلام اجتماعیت کو فروغ دیتا ہے۔ اُمت کا تصور‘ جسدواحد کا تصور‘ مسلمان کا مسلمان کا بھائی ہونا‘ اخوت و محبت‘ ہمدردی و خیرخواہی‘ یہ سب تصورات اسی سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے ہیں۔ نماز فطری انداز میں اسلامی معاشرت کے اس پہلو کے فروغ کا ذریعہ ہے۔

مسلمان نماز کی ادایگی کے لیے جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کے احوال سے آگہی ہوتی ہے۔ کوئی پریشان حال ہے‘ کوئی فاقہ زدہ ہے‘ کوئی بیمار ہے‘ کوئی بے بس و لاچار ہے‘ کوئی کسی مصیبت میں پھنسا ہوا ہے‘ کوئی مالی مشکلات کا شکار ہے‘ کوئی کسی صدمے سے دوچار ہے‘ کسی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے‘ غرض یہ سب باتیں ایک دوسرے کو قریب کرنے والی‘ ایک دوسرے سے محبت اور تعلق بڑھانے والی‘ جذبہ ہمدردی و خیرخواہی کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کا مددگار بنانے والی ہیں۔ معاشرے کی عمومی صورت حال تو جو ہے‘ سو ہے‘ خود نمازی حضرات جو ایک عرصے سے اکٹھے نماز ادا کرتے ہیں‘اس پہلو سے غفلت برتتے ہیں۔ (مزید مطالعے کے لیے: اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر‘ مولانا مودودیؒ)

صلوٰۃ کمیٹی کو نماز کی اس روح کو بیدار کرنے‘ اجتماعیت کے فروغ‘ جذبۂ ہمدردی و خیرخواہی کے احیا کے لیے خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس غرض کے لیے نہ صرف لوگوں کو توجہ دلائی جائے اور اخلاقی تلقین کی جائے بلکہ آگے بڑھ کر اہلِ علاقہ کے مسائل میں بھی دل چسپی لی جائے ۔ ان کے حل کے لیے شریف وصالح عناصر کو منظم کرکے اجتماعی جدوجہد کی جانی چاہیے۔

خدمتِ خلق کے چند اہم پہلو

اس ضمن میں درج ذیل امور خصوصی توجہ چاہتے ہیں:

اخلاقی حوالے سے:

۱- غنڈہ گردی کا انسداد  ۲- ہر قسم کے فواحش کا تدارک ۳- رشوت و خیانت (کرپشن) کی روک تھام۔

معاشی حوالے سے:

۱- سرکاری محکموں اور اداروں سے عام لوگوں کی شکایات رفع کرانا اور داد رسی حاصل کرنے کے معاملے میں جس حد تک ممکن ہو ان کی مدد کرنا۔

۲-  اپنی مدد آپ کا جذبہ بیدار کرنا تاکہ لوگ خود ہی مل جل کر بستیوں کی صفائی‘ راستوں کی درستی اور حفظانِ صحت کا انتظام کرلیں۔

۳-  توخذ من اغنیاء ھم فترد علٰی فقراء ھم کے شرعی اصول پر بستیوں کے غریبوں‘ محتاجوں اور معذوروں کی باقاعدہ اعانت کا انتظام اور اس کے لیے انھی بستیوں کے   ذی استطاعت لوگوں سے مدد لینا۔ اس غرض کے لیے زکوٰۃ‘ عشر اور صدقات کی رقوم کی تنظیم اور بیت المال کے ذریعے ان کی تحصیل اور تقسیم کا انتظام کرنا۔ (تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل سے ماخوذ)

صلوٰۃ کمیٹی کے ان اقدامات کے نتیجے میں جذبہ خیرخواہی و ہمدردی کو فروغ ملے گا۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے رجوع کریں گے۔ معاشرتی انتشار و ابتری میں کمی واقع ہوگی۔ وہ لوگ جو اپنے مسائل کے ہاتھوں پریشان ہوکر اور کسی پُرسانِ حال کے نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کے مارے خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں‘ انھیں ایک نیا حوصلہ‘ امید کی کرن اور زندگی کی اُمنگ ملے گی۔ حکومتی سرپرستی کے علاوہ بہت سے ہاتھ ایک دوسرے کو سنبھالنے کے لیے میسرآئیں گے۔

تنازعوں کا تصفیہ

چھوٹے چھوٹے جھگڑے ابتدا ہی میں گلی محلے کی سطح پر اگر حل کر لیے جائیں تو بڑے جھگڑوں کی بنیاد نہیں بنتی۔ ان مسائل پر توجہ دینے سے صلوٰۃ کمیٹی کے ذریعے پنچایت کے انداز میں فراہمی انصاف کی سبیل بھی پیدا ہو سکے گی اور مسجد جو کبھی عدل و انصاف کی فراہمی کا ذریعہ تھی‘ ایک بار پھر اس کا یہ مقام بھی بحال ہوسکے گا۔ اس طرح حکومتی سرپرستی سے بآسانی لوگوں کے مسائل گھر کی دہلیز پر حل ہوسکیں گے اور عدل و انصاف کی فراہمی میں بہتری اور آسانی پیدا ہوگی۔

فروغِ تعلیم و تدریس

اسلام حصولِ علم پر بہت زور دیتا ہے۔ قرآن مجید سے رہنمائی اور نماز سے صحیح استفادے کے لیے نماز کا مفہوم سمجھنا اور قرآنی و دینی تعلیمات کا جاننا بھی ضروری ہے۔ لہٰذا تعلیم کا فروغ نظامِ صلوٰۃ کا فطری تقاضا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلے مدرسہ صفّہ کے نام سے مسجدنبویؐ میں نبی کریمؐ کے ہاتھوں قائم ہوا تھا۔ مسجد ہمیشہ سے تعلیم و تدریس کا مرکز اور فروغِ دین کا ذریعہ رہی ہے۔ آج بھی بڑی تعداد میں مدارس موجود ہیں۔ لوگوں میں تعلیم کے فروغ‘  شرح خواندگی میں اضافہ‘ ذہنی شعور کی آبیاری‘ اسلامی تعلیمات سے آگہی کے لیے مسجد کو بطورِ مکتب و مدرسہ بآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے۔

صلوٰۃ کمیٹی مساجد کے ذریعے مسجد مکتب اسکیم کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ ایک مدرس کی بنیاد پر محدود پیمانے پر اسکول قائم کیا جا سکتاہے۔ حکومت سرحد تعلیم کے فروغ اور بے روزگاری کے مسئلے کے حل کے لیے ۲۰ہزار مراکزتعلیمِ بالغاں قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ مراکز بھی مساجد کی بنیاد پر بآسانی قائم کیے جا سکتے ہیں۔مساجد میں کوچنگ سنٹر قائم کر کے طلبہ کو بلامعاوضہ ٹیوشن کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ جہاں سرکاری نصاب پڑھانے کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت کا بھی انتظام ہو۔ اسی طرح مسجد میں دارالمطالعہ قائم کیا جا سکتا ہے جو ذوق مطالعہ کے فروغ اور تسکین کا باعث بن سکتاہے۔ تعلیم کے فروغ کے لیے یہ اقدامات صلوٰۃ کمیٹی کے ذریعے اٹھائے جانے چاہییں۔ اسی طرح شعور‘ آگہی اور تعلیم کے میدان میں بتدریج انقلاب برپا کیا جاسکتاہے۔

صحت و صفائی اور ماحول کی بہتری

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ اسلام میں صفائی اور حفظانِ صحت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ صحت مند مسلمان (قوی مسلمان) کو کمزور مسلمان سے بہتر کہا گیا ہے۔ نماز کی ادایگی کے لیے لباس کی صفائی اور ذوقِ جمال کا اہتمام‘ وضو اور غسل کے احکامات‘ خوشبو کا استعمال وغیرہ اسی حکمت کے غماز ہیں۔ لہٰذا نظامِ صلوٰۃ کے نفاذ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ لوگوں کو صفائی ستھرائی‘ ماحول کی بہتری اور حفظانِ صحت کے اصولوں سے آگاہ کیا جائے۔ ماحولیاتی آلودگی‘ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر‘ صاف پانی کا میسر نہ ہونا‘ کھلے ہوئے مین ہول اور گندے پانی کا بہنا‘ راستے کی مختلف رکاوٹیں‘ اسٹریٹ لائٹ کا روشن نہ ہونا‘ یا نصب نہ ہونا‘ گلی اور سڑک کے اطراف میں درختوں کے سائے کی کمی وغیرہ--- اس نوعیت کے اور بہت سے مسائل ہیں جن کا عوام کو سامنا ہے اور جو ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث ہیں۔یہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی ہیں اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہیں۔

جس طرح مسجد کی تزئین و آرایش اور صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے اسی طرح اگر گلی محلوں کی صفائی اور ماحول کی بہتری پر بھی توجہ رہے اور حفظانِ صحت کے اصولوں سے بھی آگہی ہو تو بہت سی بیماریوں‘ وبائوں اور تکالیف سے بھی نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر علاج معالجے پر اٹھنے والے اخراجات سے معمولی تدابیر پر عمل کر کے بچا جا سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈھائی لاکھ بچے ہیضے کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ شرح صحیح طرح ہاتھ دھونے اور دیگر حفظانِ صحت کے اصولوں کو اپنانے سے ۵۰ فی صد تک بآسانی کم کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ کھانے سے قبل ہاتھ دھونا سنت ہے۔اگر مسجد کے ساتھ ایک مختصر شفاخانہ یا ڈسپنسری بھی قائم کر لی جائے تو عوام کو علاج معالجے کی سہولت بھی میسرآسکتی ہے جہاں حفظانِ صحت کے اصولوں کے علاوہ ابتدائی طبی امداد وغیرہ کے اصول بھی سکھائے جاسکتے ہیں۔

اگر صلوٰۃ کمیٹی اس پہلو پر بھی توجہ دے اور اسلامی تعلیمات کے پیشِ نظر لوگوں کو توجہ دلائے اور ان کی اصلاح و تربیت کرے‘ اور اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے تو اس کے نتیجے میں تھوڑے ہی عرصے میں ان مسائل کو حل کیا جا سکے گا‘ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے گا اور ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

نظامِ صلٰـوۃ اور خواتین

خواتین ہماری آبادی کے کم و بیش نصف پر مشتمل ہیں۔ معاشرے کی تعمیر میں خواتین کا بنیادی کردار ہے اور اسے فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اگرچہ خواتین پر نماز باجماعت کی پابندی تو عائد نہیں کی‘ تاہم نمازِ جمعہ اور عیدین کے اجتماع میں خواتین کی شرکت کی تاکیداس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خواتین کی تربیت کے لیے ناگزیر ہے اور اس کا اہتمام بھی ہونا چاہیے۔ مجلسِ عمل کی حکومت نے اس پہلو کو بھی نظامِ صلوٰۃ کے نفاذ کے وقت پیشِ نظر رکھا ہے اور خواتین کے لیے الگ وضوگاہوں اور نماز کے لیے الگ جگہ کا تعین و اہتمام اس کا ثبوت ہے۔

اسلامی تعلیمات کے فروغ و اشاعت اور تعمیر و تطہیرافکار کے لیے جس طرح مردوں پر مشتمل صلوٰۃ کمیٹیوں کے ذریعے ہفتہ وار درس قرآن اور تربیتی اجتماعات کا اہتمام کیا جانا چاہیے‘ اسی طرح خواتین کی سطح پر خواتین کی کمیٹیاں بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کا بنیادی مقصد خواتین میں اسلامی تعلیمات کا فروغ اور جمعہ اور عیدین کی نمازوں کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اس غرض کے لیے گلی محلے کی سطح پر ہفتہ وار درس کے حلقے بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔ شرکا خواتین میں لٹریچر تقسیم کیا جا سکتا ہے اور دارالمطالعوں سے کتب کے حصول اور استفادے کی کوئی سبیل نکالی جاسکتی ہے۔ طالبات میں تعلیم کے فروغ کے لیے بچیوں کے لیے مسجد مکتب اسکول قائم کیے جاسکتے ہیں اور دستکاری اور ووکیشنل تعلیم بھی دی جاسکتی ہے۔

خواتین کا نماز اور دیگر مواقع پر جمع ہونے سے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شرکت‘ مسائل میں دل چسپی‘ مالی معاونت (صلوٰۃ کمیٹی کے تحت جمع زکوٰۃ و صدقات کی مدد سے)   جذبۂ محبت و خیرخواہی کے فروغ کا باعث بھی ہوگا جو اسلامی معاشرت کا ایک اہم تقاضا ہے۔

خواتین کی ان سرگرمیوں کا مرکز بھی مسجد کو ہونا چاہیے۔ اس طرح خطبات جمعہ‘ ہفتہ وار درس قرآن کے حلقوں‘ تقسیم لٹریچر‘ مطالعہ کتب‘ دارالمطالعوں سے استفادے اور باہمی محبت و خیرخواہی کے نتیجے میں خواتین کے لیے فہم دین‘ تعلیم و تربیت اور اخوت و محبت کا ایک مربوط‘ منظم اور ہمہ گیر نظام فطری انداز میں آگے بڑھنے لگے گا۔ یہ بھی نماز اور نظامِ صلوٰۃ کی برکتوں سے ممکن ہوسکے گا۔

رمضان میں خصوصی اہتمام

خوش قسمتی سے رمضان المبارک کے مبارک ماہ کی بھی آمد آمد ہے۔ رمضان میں فطری انداز میں بحیثیت مجموعی ماحول پر اسلامی رنگ غالب ہوتا ہے۔ لوگوںمیں خدا کی اطاعت و بندگی‘ نیکی و پرہیزگاری‘ صلہ رحمی اور برائیوں سے بچنے کا جذبہ فزوں تر ہوتا ہے۔ نیکیوں کے اس موسمِ بہار میں نظامِ صلوٰۃ کو اس کی روح اور اس کے تمام تر تقاضوں کے پیشِ نظر نافذ کرنا سہل بھی ہوگا اور عوامی تائید اور تعاون بھی بآسانی حاصل ہوسکے گا۔ لہٰذا اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ترجیحاً اہمیت دی جائے اور خصوصی اہتمام کیا جائے۔

رمضان میں خاص طور پر فواحش اور منکرات کے خاتمے اور معاشرتی برائیوں کے انسداد کے لیے نظامِ صلوٰۃ کے ذریعے باقاعدہ ایک مہم چلائی جانی چاہیے۔ جس طرح لوگ روزے کے احترام میں برسرِعام خدا کے احکامات کی نافرمانی نہیں کرتے‘ اسی طرح نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ لڑائی جھگڑا‘ ظلم و زیادتی‘ رشوت ستانی‘ فحاشی کے ارتکاب‘ بے حیائی و بے پردگی وغیرہ کے خاتمے کے لیے بھی اجتماعی جدوجہد کریں۔ عوام الناس کے مسائل کے حل میں دل چسپی لیں بالخصوص ماحول کو آلودگی سے بچانے‘گلی محلے کی صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دیں کہ یہ بھی نماز کا ایک اہم تقاضا ہے۔ یوں بحیثیت مجموعی نیکی فروغ پائے گی اور بدی مٹے گی‘ اور معروف کا چلن عام ہوگااور منکرات دبیں گے۔جہاں خرابی سر اٹھائے گی وہیں اس کی سرکوبی ہوسکے گی‘ اور صحیح اسلامی معاشرت کا نمونہ سامنے آئے گا جس کے اثرات رمضان کے بعد بھی قائم رہ سکیں گے۔

دعوت عمل

سرحد نے تو راستہ دکھایا ہے۔ پورے ملک میں‘ سرکاری سرپرستی کے بغیر بھی‘ اہل محلہ اس نظام کو قائم کرسکتے ہیں اور بلدیاتی سطح پر یونین کونسل اور ٹائون کا نظم اسے اختیار کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے حکومت رکاوٹ نہیں۔ سماجی تنظیمیں‘ اصلاح معاشرہ کی تحریکیں‘ سیاسی و دینی جماعتیں اپنی اپنی جگہ پر نظامِ صلوٰۃ کے نفاذ کے لیے کوشش کریں تو ملک گیر اصلاح معاشرہ اور ملک و ملت کی تعمیر کی ایک تحریک برپا کی جا سکتی ہے۔

نظامِ صلوٰۃ کے نفاذ کے حوالے سے اگر ان امور کو پیشِ نظر رکھا جائے اور محض مراسمِ عبادت سے آگے بڑھتے ہوئے روحِ نماز اور اس کے تقاضوں پر نظر رہے تو صرف نظامِ صلوٰۃ کی برکت سے ہی معاشرے کی صورت حال کافی حد تک بدل سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے بڑے پیمانے پر تطہیروتعمیر افکار کا عمل آگے بڑھے گا‘ اسلامی تعلیمات سے آگہی کے نتیجے میں دینی شعور عام ہوگا۔ صلوٰۃ کمیٹیوں کے قیام کے ذریعے اسلام کے لیے مخلص اور تن من دھن سے قربانی دینے والے اور معاشرے کے صالح اور شریف عنصر کو منظم کرنے میں مدد ملے گی‘ نیز فواحش و منکرات‘ شراور بدی دبے گی اور نیکی‘ خیر اور معروف کو فروغ ملے گا۔ معاشرتی بگاڑ کے اضافے میں روک لگے گی۔ جذبہ ہمدردی و خیرخواہی کے فروغ پانے سے  عوام الناس کی پریشانیوں اور مسائل میں کمی واقع ہوگی‘ اپنی مدد آپ کے تحت مسائل حل ہوں گے۔ بہت سے ہاتھ بیک وقت ایک دوسرے کو سنبھالنے اور دکھ درد بانٹنے اور سہارا بننے کے لیے موجود ہوں گے۔ مسجد مکتب‘ دارالمطالعوں اور درس کے حلقوں کے ذریعے تعلیم عام ہوگی اور شرح خواندگی اور ذہنی شعور میں اضافہ ہوگا۔ صحت و صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو اپنانے کے نتیجے   میں ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ حل ہوگا اور بیماریوں اور وبائوں سے نجات بھی ملے گی۔ ایک طرح سے راے عامہ کی ہمواری‘ معاشرے کی تنظیم‘ معاشرتی بگاڑ کا سدباب‘ جان و مال کے تحفظ‘     عدل و انصاف کی فراہمی‘ معاشی آسودگی‘ تعلیم و صحت کی سہولت جیسے بنیادی مسائل کے حل کی طرف پیش رفت ہوسکے گی جو ایک اسلامی ریاست کے بنیادی فرائض ہیں۔

نظامِ صلوٰۃ کو اگر اس کی پوری روح کے ساتھ نافذ کیا جائے تو اس کے نتیجے میں اسلامی نظام کے قیام ‘ فریضہ اقامت دین کے مراحل (خدا کی اطاعت و بندگی‘ تنظیم معاشرہ‘ امربالمعروف ونہی عن المنکر) کی تکمیل‘ اصلاح معاشرہ اور اصلاح حکومت کا عمل فطری انداز میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے جو بتدریج پایدار اور دیرپا اثرات کی حامل تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس طرح نظامِ صلوٰۃ کے نفاذ کے ذریعے دراصل اصلاح معاشرہ اور اسلامائزیشن کی ایک تحریک ہے جو جاری و ساری ہوجاتی ہے۔

خدا کرے کہ یہ مبارک اقدام اسلامی انقلاب کی منزل کو قریب لانے کا باعث بنے اور بتدریج غلبۂ اسلام کا مرحلہ بھی آجائے۔ یقینا نظامِ صلوٰۃ کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن پاک نے فرمایا ہے:

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط (الحج ۲۲:۴۱)

یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے منع کریں گے۔

عام طور پر اس قسم کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ یہ دور نفسانفسی‘ مادیت اور مفاد پرستی کا دور ہے۔لوگوں میں بے حسی پائی جاتی ہے۔ رہی سہی کسر ثقافتی یلغار‘میڈیا اور کیبل وغیرہ نے پوری کر دی ہے۔ لوگ معاشی مسائل میں اس بری طرح جکڑے گئے ہیں کہ انھیں کسی اور کام کے متعلق سوچنے یا کرنے کی فرصت ہی نہیں۔

ایسے میں‘ گذشتہ دنوں لاہور میں فہم قرآن کلاس کے ذریعے سے ایک خوش گوار اور ایمان افروز منظر دیکھنے میں آیا۔ کیفیت یہ تھی کہ لوگ بلامبالغہ جوق در جوق فہم قرآن کلاس میں شرکت کے لیے امڈے چلے آرہے تھے‘ شدید گرمی اور حبس کے باوجود ہزاروں لوگوں نے اس میں شرکت کی۔ خواتین‘ حاضری میں سبقت لے گئیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کے شعبہ فہم دین کے تحت ۱۰ روزہ فہم قرآن کلاسوں کا سلسلہ گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ ملک کے مختلف شہروں اور قصبات میں پروگرام ہو چکے ہیں۔ لاہور میں ۱۰ روزہ فہم قرآن کلاس کے تین پروگرام: وحدت روڈ‘ سمن آباد اور گلشن راوی میں ماہ مئی اور جون میں ترتیب دیے گئے۔ پروفیسر عرفان احمد چودھری اس کے روح رواں ہیں۔ ان پروگراموں کی تشہیر کے لیے بڑی تعداد میں دعوت نامے‘ ہینڈبل اور اشتہارات پھیلائے گئے۔ مناسب جگہوں پر بینر آویزاںکیے گئے اور بڑے پیمانے پر دعوت دی گئی۔ کارکنان جماعت متحرک ہوئے‘ عوام سے رابطہ کیا گیا اور ان پروگراموں میں ان کی شرکت ممکن بنانے کے لیے بھرپور کوشش کے ساتھ جہاں ممکن ہوا آمدورفت کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ ۱۰ روزہ کلاس کے لیے خصوصی نصاب میں شامل آیات اور احادیث کا انتخاب ایک خاص ترتیب اور حکمت کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ تمام شرکا کو اس کا کتابچہ فراہم کیا گیا جو دوران کلاس ان کے سامنے رہا۔ کلاس کے اوقات بعد نماز فجر ۱۵:۵ تا ۳۰:۶ مقررکیے گئے‘ جب کہ عام طور پر فجر کے بعد پروگراموں میں شرکت ایک مشکل امر خیال کیا جاتا ہے۔ارزاں نرخوں پر لٹریچر کی فراہمی کے لیے اسٹال لگائے گئے اور شرکا کو حقیقت اسلام تحفے میں دی گئی۔

اس کلاس کی خاص بات یہ ہے کہ ہر روز حاضرین کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ آخری پروگرام‘ حاضری اور شرکا کے اعتبار سے اپنی جگہ ایک تاریخ ساز اجتماع ثابت ہوا کہ اس نوعیت کا اتنا بڑا دعوتی اجتماع لاہور میں کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔

پروفیسر عرفان احمد نے اسلام کی دعوت اور قرآن کا پیغام نہایت موثر پیرایے میں پیش کیا۔ ان کی کوشش تھی کہ وہ مخاطبین کا تعلق قرآن سے قائم کر دیں۔ ۱۰ روزہ نصاب میں دین کے تقریباً تمام بنیادی موضوعات شاملِ گفتگو رہے۔ آخری روز غُلِبَتِ الرُّوْم کی تفسیر میں حالاتِ حاضرہ خصوصاً اُمت مسلمہ پر امریکی یلغار اور اسلام کے روشن مستقبل پر بھی خوب تبصرہ ہوگیا۔

درس قرآن کے ساتھ حدیث‘ فقہ اور تجوید کا مختصر پروگرام بھی رکھا جاتا ہے۔ یوں قرآن کی دعوت کو قرآن و حدیث‘ اسوہ رسولؐ اور سیرت صحابہؓ کی روشنی میں اس طرح سے پیش کیا گیا کہ وہ حالات کا تقاضا اور ضرورت محسوس ہوئی۔ سننے والوں کو اپنا ایمان بڑھتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ شرکا محض سامع نہ تھے بلکہ شریکِ گفتگو تھے۔ انھوں نے جانا کہ داعی دین کی حیثیت سے  ان کا فرض ہے کہ قرآن کی دعوت انھیں دوسروں تک پہنچانا ہے۔ لہٰذا سب شرکا اپنی اپنی جگہ داعی بن گئے جس کا ایک واضح اظہار حاضری میں روزانہ اضافہ تھا۔لوگوں میں اس احساس کا بیدار ہونا ہی اس تمام جدوجہد کا حاصل ہے۔

گلشن راوی میں فہم قرآن کلاس کے آخری روز قیم جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ اصل کش مکش معروف و منکر کی ہے۔ ہماری تمام تر توانائیاں اسی جدوجہد میں کھپنا چاہییں۔ یہ پیغام عملاً اقامت دین کا پیغام ہے اور شرکاے قرآن کلاس کے لیے ’ہوم ورک‘ بھی‘ جو اس ایمان پرور پروگرام کے اختتام کے بعد عمربھر انھیں انجام دیتے رہنا ہے۔

آخری روز سب شرکا نے بآواز بلند ایک عہدنامے: ’عزم و دعا‘ کو پڑھا اور اس پر دستخط کیے جس میں ہر ایک نے یہ عزم کیا اور خدا سے استعانت کی دعا مانگی کہ:

میری زندگی کا واحد نصب العین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ کے مطابق اللہ کی بندگی‘ اقامت دین اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کے ذریعے اس کی رضا اور جنت کا حصول ہے۔

میں‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت‘ وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھوں گا۔ فرائض کا پابند اور کبائر سے دُور رہوں گا۔ عدل و احسان اور صلہ رحمی کے رویے پر قائم رہوں گا‘ اور ہر قسم کے کھلے اور چھپے فواحش اور ظلم و زیادتی کے کاموں سے بچوں گا۔

سوچنے کی باتیں

اس دعوتی تجربے سے فکروعمل کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں:

  • قرآن کی کشش: قرآن مجید کی کشش آج بھی اسی طرح ہے‘ جس طرح پہلے دن تھی۔ قرآن جس طرح اپنے پہلے سننے والوں کو متاثر کرتا تھا‘ ان پر اثرانداز ہوتا تھا‘ دلوں کی کیفیت کو بدل دیتا تھا‘ لوگ لرز جاتے تھے‘ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے تھے‘ آج بھی یہ اسی طرح اثرانداز ہوسکتا ہے‘ دلوں کی دنیا کو بدل کر آن کی آن میں ایک نیا انسان بنا سکتا ہے۔ کل بھی لوگ قرآن سننے کے منتظر رہتے تھے اور مخالفین رسولؐ بھی چھپ چھپ کر قرآن سنا کرتے تھے کہ اس کی اپنی ایک لذت ہے۔ آج بھی یہ کیفیت موجود ہے‘ بشرطیکہ قرآن کو اس طرح سے پیش کیا جائے جس طرح کہ اسے پیش کرنے کا حق ہے۔

انسان جن مسائل سے دوچار ہے‘ وہ ان سے نجات کے لیے کسی پایدار حل کی تلاش میں ہے۔ قرآن مجید مختصر جملوں میں ان کا ایسا حل پیش کرتا ہے کہ دل ٹھک کر رہ جاتا ہے۔ یہ قرآن کی تعلیمات ہیں جو انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلاتی ہیں‘ اس کی کمزوریوں سے اسے آگاہ کرتی ہیں اور پھر اس کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی بھی دیتی ہیں۔ دراصل قرآن انسان کی فطرت کی پکار کا جواب ہے۔ یہی اس کی کشش کا راز ہے۔

  • مدرس کا انداز: اس دعوتی تجربے کی کامیابی کا بڑا سبب پیغام کو پیش کرنے کا مدرس کا مؤثر انداز ہے۔ قرآن کا اسلوب خود تقریری ہے اور اگر سامعین کی نفسیات‘ ذہنی کیفیت‘ علمی سطح‘ دل چسپی‘ پریشانیوں و الجھنوں اور درپیش مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے عام فہم لیکن جدید اسلوب میں قرآنی تعلیمات پیش کی جائیں تو وہ لازماً اثرانداز ہوتی ہیں۔ سامعین اپنے آپ کو قرآن کا براہِ راست مخاطب سمجھیں‘ اور آیاتِ قرآنی موجودہ حالات پر منطبق ہوں‘ بلکہ یوں محسوس ہو کہ جیسے قرآن آج ان کے لیے نازل ہو رہا ہے‘ یہ کیفیت پیدا کرنے میں مقرر کا انداز بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
  • عملی جدوجہد میں شرکت: یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جو بڑی تعداد ذوق شوق سے قرآن فہمی کے پروگراموں میں آئی ہے وہ قرآن سن کر اور واہ واہ کر کے نہ رہ جائیں‘ بلکہ یہ دعوت ان کی زندگیوں میں انقلاب برپا کرے۔ نہ صرف ذاتی کردار کی اصلاح ہو‘ معاملات درست ہوں‘ حقوق کی ادایگی ہو‘ بلکہ اسوہ رسولؐ کی پیروی میں اقامت دین کی منظم جدوجہد میں ان کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ مقامی نظم پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ اس بڑی تعداد کو ساتھ لے اور اپنے ساتھ چلائے۔
  • دعوت عمل: کیا اسی انداز سے قرآن کا پیغام آبادی کے بڑے حصے تک نہیں پہنچایا جا سکتا؟ ہم جانتے ہیں کہ اس اُمت کو عروج اگر نصیب ہونا ہے تو قرآن کے ذریعے ہی ہونا ہے۔ یہی ہمارے مسائل کے حل کی شاہ کلید ہے۔ پھر کیوں نہ قرآن سے شغف رکھنے والے اعلیٰ درجے کے مقرر نوجوان‘ اپنی زبان و بیان کی صلاحیت کو قرآن کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے میں لگائیں‘ اور اسے اپنی زندگیوں کا مشن بنائیں۔ قوم نے قرآن سے تعلق قائم کر لیا‘ توحید و آخرت زندہ تصورات بن گئے تو معاشرے کی خرابیاں بھی دُور ہوں گی اور افراد کو زندگی کا چین اور سکھ بھی ملے گا۔
  • خیر کا عنصر : اس پروگرام میں جس ذوق و شوق سے لوگ بالخصوص خواتین اور نوجوان شریک ہوئے ہیں وہ اس کا ثبوت ہے کہ معاشرے میں‘ ہر طرح کے مفاسد کے باوجود خیر کا عنصر موجود لیکن منتشر ہے۔ ضرورت صرف اسے منظم کرنے اور قوت بنانے کی ہے تاکہ منکر کو شکست دی جائے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ منکر کو پھیلانے میں جس طرح بزور مصروف ہیں‘ اس سے حوصلہ شکنی ہوتی ہے‘ لیکن ایسے پروگرام امید کا پیغام ہیں۔ خیر کے علم بردار گھروں میں بیٹھ کر حالات پر تبصرے کرنے کو کافی نہ سمجھیں‘ میدان میں آئیں اور خیر کو منظم اور طاقت ور کریں۔
  • وسائل کی قلت کا مسئلہ : دعوت دین اور فریضہ اقامت دین کی ادایگی کے لیے وسائل کی کمی کو ایک رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے‘ جو اپنی جگہ ایک حقیقت بھی ہے۔ اس پروگرام میں یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ دعوت کے کام کے لیے وسائل کی کمی کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں۔ فہم قرآن کلاس کے لیے وسیع پیمانے پر انتظام و اہتمام کیا گیا‘ دعوت نامے‘ ہینڈبل‘ اشتہارات‘ بینر‘ شامیانوں اور کرسیوں وغیرہ کا انتظام‘ ٹرانسپورٹ کا اہتمام‘ لٹریچر اور اسناد و تحائف وغیرہ کی تقسیم--- لاکھوں روپے کے اخراجات تھے جن کے لیے بظاہر وسائل کی فراہمی عملاً ناممکن نظر آتی تھی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے شرکاے کلاس و دیگر اہل ثروت نے خود سے دل کھول کر عطیات دیے اور وسائل کی فراہمی کا انتظام غیرمحسوس طور پر خود بخود ہوگیا۔ لہٰذا اصل ضرورت دعوتی منصوبہ عملاً برپا کرنے کی ہے۔ اگر کام ہوتا ہوا نظر آئے تو وسائل بھی من جانب اللہ فراہم ہو جاتے ہیں۔

قرآن سے تعلق کی اصل بنیاد تو مسلم معاشرے کی یہ روایت ہے کہ ہر بچے کو ابتدا میں ہی قرآن ضرور پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن بعد میں عموماً عملی زندگی میں اس سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ روز کا مطالعہ بھی کم خوش نصیبوں کے حصے میں آتا ہے۔ فہم قرآن کا یہ پروگرام‘ اور اس نوعیت کے ہونے والے دوسرے تمام پروگرام جو مختلف افراد‘ تنظیموں اور اداروں کی جانب سے ہو رہے ہیں‘ انتہائی قابلِ تحسین اور وقت کی ضرورت ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ایک عام مسلمان قرآن کو خود سمجھے اور اسے اپنی زندگی کا راہنما بنائے۔ مکہ کے باشندوں نے جب قرآن کی یہ دعوت قبول کی تو عرب و عجم ان کے زیرنگیں آگئے‘ آج ہم قرآن کے نام لیوا تو ہیں لیکن ضرورت ہے کہ اس کی دعوت کو قبول بھی کیا جائے۔

ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد کے انسداد کے پیشِ نظر پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کے لیے ’’مسودہ قانون انسداد گھریلو تشدد پنجاب مصدرہ ۲۰۰۳ئ‘‘ پیش کیا گیا ہے تاکہ شادی کے تقدس اور عورتوں اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرہ فرد کے لیے کوئی کارگر قانونی دادرسی کی صورت نکل سکے۔

ہمارے معاشرے میں خواتین پر تشدد ایک حقیقت ہے۔ آئے دن اخبارات میں اس حوالے سے خبریں دیکھنے میں آتی ہیں۔ معمولی معمولی باتوں پر جھگڑا‘ گالم گلوچ‘ تضحیک‘ مارپیٹ‘ روز مرہ استعمال کی ضروریات کو پورا نہ کرنا یا ہاتھ تنگ رکھنا ‘ مرضی کے بغیر یا کم عمری میںشادی کرنا‘دولت اور جایداد کے لیے بڑی عمر کے مرد سے نکاح‘ غیرت کے نام پر قتل‘ کاروکاری‘ قرآن سے شادی‘ وراثت سے محروم رکھنا--- ایک طویل فہرست بنائی جاسکتی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک کرب ناک پہلو ہے‘ اس پر جتنا بھی دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ خواتین پر روا رکھا جانے والا یہ تشدد اسلام کی تعلیمات کے بھی صریحاً خلاف ہے۔ اس کا کوئی جواز نہیں۔ گھریلو تشدد کے انسداد کے بل کا بنیادی محرک بھی غالباً یہی جذبہ ہے کہ اس ظالمانہ اور غیر اخلاقی رویے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ گھریلو تشدد کا ایک پہلو خواتین کے ہاتھوں مردوں کو مختلف قسم کے معاشی و ذہنی دبائو کا سامنا بھی ہے جو ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔ البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے جو طریق کار وضع کیا جا رہا ہے وہ کس حد تک قابلِ عمل ہے اور آیا اس کے نتیجے میں گھریلو تشدد کا خاتمہ ہو سکے گا اور گھریلو اور ازدواجی زندگی سکون کا باعث بن سکے گی‘ یا ایک مسئلے کا حل نکالتے نکالتے کوئی نیا بگاڑ یا انتشار پیدا ہوجائے گا۔

یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ محض قانون سازی سے اگر معاشرتی فساد کا خاتمہ ہو سکتا تو جدید تہذیب کے حامل ترقی یافتہ ممالک یورپ اور امریکہ میں خواتین پر تشدد کا خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا جہاں خواندگی کی شرح تقریباً۱۰۰ فی صد اور قانون کی بالادستی معاشرے کا شعار ہے۔ عملاً صورت حال کیا ہے؟ اس کا اندازہ امریکہ کے محکمہ سراغ رسانی کی اس رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں ہر تیسری بیوی شوہر سے مار کھاتی ہے۔یہاں تک کہ حاملہ بیوی کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ ہر دوسری حاملہ عورت پٹتی ہے اور ایک تہائی بچے مار کا اثر لیے پیدا ہوتے ہیں (نواے وقت‘ ۱۲ نومبر ۲۰۰۳ئ)۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ایک ٹیلی فون کال پر پولیس گھرپہنچ کر خاوند کو گرفتار کرکے لے جاتی ہے‘ جیل میں بند کر دیا جاتا ہے اور قید یا جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جانے والا انسداد گھریلو تشدد بل بھی کچھ اسی نوعیت کی قانون سازی چاہتا ہے۔ اس بل کے تحت تجویز کیا گیا ہے کہ ہر تھانے کی سطح پر پروٹیکشن افسر کی تعیناتی کی جائے جس کا عہدہ پولیس انسپکٹر یا گزٹیڈ افسر کے برابر ہو۔ دیہی اور شہری علاقوں کے لیے فیملی مصالحتی کونسل تشکیل دی جائے گی جو پانچ ممبران پر مشتمل ہوگی جن میں سے ایک ممبرخاتون ہوگی۔ گھریلو تشدد کی اطلاع ملنے پر یا ازخود پروٹیکشن افسر فوری طور پر موقع پر پہنچے گا۔ اسے اختیار حاصل ہوگا کہ متاثرہ فرد کو کسی ’’محفوظ جگہ‘‘ (رشتے دار‘ فیملی فرینڈ یا خدمات فراہم کنندہ کی طرف سے تیار کردہ محفوظ مقام یا دارالامان) منتقل کر دے۔ خیال رہے کہ ازخود اقدام کا اختیار تو مغرب میں بھی نہیں دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں نجی زندگی کا تصور بری طرح مجروح ہوجائے گا۔

مصالحتی کونسل مصالحت کے لیے اقدام کرے گی اور معاملہ جوڈیشل مجسٹریٹ درجہ اول کے سپرد کرسکتی ہے۔ مجسٹریٹ دیگر اقدامات کے علاوہ‘ مجوزہ بل کی شق ۶-ii اور ۶-iii کے تحت اگر وہ گھریلوتشدد کا محض شائبہ پائے تو ضمانت طلب کر سکتا ہے اور پروٹیکشن آرڈر کے ذریعے مجرم کو اپنی ہی رہایش گاہ یا کسی دیگر حصے میں داخل ہونے سے منع کر سکتا ہے اور متاثرہ فرد کو گھر اور گھریلو اشیا کے استعمال کا حق دلوائے گا۔ اس قسم کے ’’محفوظ مقام‘‘ کا تعین اور اس پر عمل درآمد کی نوعیت‘ جھگڑے کے تصفیے کے دوران اہلِ خانہ کی ضروریات پورا کرنا یا بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات وغیرہ جیسے پہلو بھی بہت اہم ہیں۔ یہ اقدامات بجاے بہتری کے گھرکے انتشار کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ یہ بل اسلام کے قانون ازدواج اور اس کی روح مودت و رحمت سے بھی کئی حوالوں سے متصادم ہے۔ اس کی شرعی حیثیت کا تعین بھی ایک اہم پہلو ہے۔البتہ بظاہر یہ تشدد سے بچائو کے لیے ایک اچھا اقدام لگتا ہے لیکن اس کے دُور رس اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

دُور جانے کی ضرورت نہیں خود مغرب کا تجربہ اس کا کھلا ثبوت ہے۔ مغرب نے اپنے تمدن کی بنیاد مرد و عورت کی مساوات‘ عورت کے معاشی استقلال‘ مردوزن کا آزادانہ اختلاط اور عورت کے قانونی تحفظ پر رکھی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گھر جو تمدن کی بنیاد ہے بکھر کر رہ گیا ہے اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اگرچہ عورت کو قانونی تحفظ حاصل ہے مگر اس کے باوجود خواتین کا مردوں کے ہاتھوں پٹنا‘ طلاق کی کثرت‘ جنسی تشدد‘ فواحش کی کثرت‘ شہوانیت اور بے حیائی کا فروغ‘ سرے سے نکاح کرنے سے اجتناب اور بلانکاح ساتھ رہنے کا رجحان‘ نسل کشی اور تحدید آبادی‘ بچوں اور نئی نسل کی بے راہ روی‘ جسمانی قوتوں کا انحطاط‘ ذہنی و نفسیاتی امراض کا اضافہ جیسے مسائل کا مغرب کو سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مرد اور عورت کے باہمی تعلق یا قانون ازدواج کی بے اعتدالی ہے۔ ہمارے ہاں بھی مادیت کے اثرات اور دیگر عوامل کی بنا پر رشتۂ ازدواج متاثر ہو رہا ہے۔ اس کا اندازہ فیملی کورٹس میں طلاق‘ خلع اور بچوں کے مسائل کے حوالے سے پیش ہونے والے مقدمات میں روز افزوں اضافے سے لگایا جا سکتاہے۔    انسدادِ گھریلوتشدد کے اس بل کے حوالے سے معاشرتی انتشار کا یہ پہلو خاص طور پر غورطلب ہے۔

معاشرے کی پایدار بنیادوں پر اصلاح کے لیے ایک ٹھوس اساس و بنیاد اور متوازن و معتدل نظریۂ حیات اور لائحہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر اس کو معاشرے کا چلن بننا چاہیے اور ان اصول و ضوابط سے انحراف کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ امیروغریب سب کے لیے اصول ایک ہو‘ خلاف ورزی تادیب کی مستحق ٹھیرے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔ آپ ؐ نے جب اصلاح معاشرہ کی تحریک کا آغاز کیا تو قانون سازی کو بنیاد نہیں بنایا تھا بلکہ ایک کلمے کے اقرار کو بنیاد بنایا تھا جو اس بات کا اعلان تھا کہ ایک خدا کے سوا ہم کسی کی اطاعت نہ کریں گے۔ پسند وناپسند کا معیار اور کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی بنیاد خدا کی ذات اور رسولؐ اللہ کا طریقہ ہوگا۔ یہ محض ایک اعلان نہیں تھا بلکہ ایک عہد وپیمان تھا کہ اگر کوئی معیار یا اصول ہے تو وہ قرآن و سنت ہیں۔ یہ وہ اصول اور ضابطہ تھا جس پر آپؐ نے معاشرے کی اصلاح کی بنیاد رکھی‘ اور اسلام کی متوازن اور ابدی تعلیمات وہ لائحہ عمل تھا جس پر عمل کرنا ایمان‘ حبِ رسولؐ اور قانون ٹھیرا۔

اس کے نتیجے میں وہ معاشرہ قائم ہوا جہاں گھر کی بنیاد مودت و رحمت تھی نہ کہ ظلم و تشدد اور جبر۔ اچھا خاوند وہ شمار ہوتا جو اہل خانہ کے ساتھ بہتر رویہ رکھتا ہو‘ ان کے جذبات کا احترام کرتا ہو اور ان کی ضروریات کو اپنا فرض جان کر پورا کرتا ہو۔خاوند اپنے فرائض خوشدلی سے ادا کرے اور بیوی خاوند کے حقوق۔ اگر کسی کو فکر تھی تو یہ کہ کسی کوتاہی کے مرتکب ہوکر خدا کے ہاں پکڑ نہ ہو جائے۔ میاں بیوی کے تنازعات کے حل کے لیے ایک منصفانہ اورمعتدل قانون ازدواج تھا۔ زوجین ہزار کوشش کے باوجود ساتھ نہ رہ سکیں اور حدود اللہ ٹوٹنے کا خدشہ ہوتا تو خوشدلی سے الگ ہو جاتے اور عدالتی چارہ جوئی کے لیے مواقع یکساں تھے۔ فرائض کی ادایگی اور جواب دہی کا احساس ہی وہ محرک تھا جو لوگوں کو حدود کا پابند بناتا تھا نہ کہ محض پولیس مداخلت یا قانون سازی۔

لہٰذا اصلاحِ معاشرہ کے لیے اور گھریلو تشدد کے انسداد کے لیے ہمارے لیے بھی بنیاد اسی اصول کو بننا چاہیے‘ یعنی خدا کی اطاعت‘ فرائض کی ادایگی اور جواب دہی کا احساس!

پہلی ضرورت شعور کی بیداری ہے کہ ہم خدا کے بندے ہیں اور ایک مسلمان مرد اور عورت کے یہ یہ فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جنھیں ادا کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ذرائع ابلاغ کے ذریعے وسیع پیمانے پر ’’اصلاح اخلاق‘‘ کی مہم چلائی جانی چاہیے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا‘ رسائل و جرائد‘ سماجی تنظیمیں‘ سب کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اُبھارا جانا چاہیے۔   نظامِ تعلیم اسی فکر کو پروان چڑھانے اور تربیت کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے حکومت اقدامات اٹھائے۔ معاملات کی بنیاد ذاتی پسند ناپسند نہیں بلکہ قرآن و سنت اور دین کی تعلیمات کو ٹھیرایا جانا چاہیے۔ یہ بہت مضبوط بنیاد ہے۔

اسلام چاہتا ہے کہ گھریلو تنازعات گھر کی سطح پر ہی حل ہوں۔ اس لیے خاندان کے بزرگوں اور بڑے بوڑھوں کو اپنا کردار خوش اسلوبی سے نبھانا چاہیے۔ اس کا احساس اُجاگر کرنے‘ نیز بزرگوں کے احترام کی معاشرتی قدر کو بھی مضبوط بنانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

محلے کی سطح پر کمیٹی یا معززین کی پنچایت کے ذریعے محلے اور علاقے کے تنازعات کوحل کرنا پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ بلدیاتی سطح پر مصالحتی عدالت ایک منتخب فورم ہونے اور اہلِ علاقہ کے معاملات سے باخبر ہونے کے لحاظ سے زیادہ موثر کردار ادا کر سکتی ہے اور پولیس تھانے میں جانے سے پہلے مصالحت کی بنا پر معاملات بخوبی نمٹائے جا سکتے ہیں۔ مقامی سطح پر کیے جانے والے فیصلوں کو قانونی حیثیت دی جانی چاہیے اور عدالت ان کو تسلیم کرے تو عدلیہ پر بڑھتا ہوا دبائو بھی کم ہو سکتا ہے۔ مصالحتی عدالت کے ہوتے ہوئے مجوزہ بل کے تحت ’’فیملی مصالحتی کونسل‘‘ کا قیام اضافی امرہے۔

سب سے اہم پہلو جو توجہ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ بے حسی ختم ہونا چاہیے۔ اگر کہیں بھی کسی کی حق تلفی ہو‘ کسی قسم کی زیادتی کی جائے ‘ تو اس پر خاموش تماشائی نہ بنا جائے۔ گھر کے افراد‘ خاندان کے بزرگ‘ برادری‘ ہمسایہ‘ اہلِ محلہ و علاقہ‘ معززین علاقہ‘ منتخب کونسلر‘ سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران‘ سب سماجی و اخلاقی دبائو کے تحت زیادتی کرنے والے کا آگے بڑھ کر ہاتھ روکیں اور اس کو اخلاقی ذمہ داری اور فرائض سے کوتاہی کی طرف توجہ دلا کر اصلاح کی بھرپور کوشش کریں۔ ماضی کی طرح آج بھی یہ سماجی دبائو بہت سی اخلاقی خرابیوں کے سدّباب کے لیے موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسلام برائی کو دیکھ کر اسے برداشت کرنے کی نہیں بلکہ حسب ِ استطاعت قوت کے ذریعے مٹانے پر زور دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود اگر گھریلو تشدد کا راستہ نہ رکے تو پھر قانون ازدواج کے تحت عدالت کا دروازہ بھی کھلا ہے۔

جس معاشرے میں خرابی اور بگاڑکا سدّباب نہ ہو اور بہتری کی کوشش ساتھ ساتھ جاری نہ رہے تو بگاڑ بالآخر انحطاط اور اجتماعی خودکشی پر منتج ہوتا ہے۔ لہٰذا معاشرے کی اصلاح اور گھریلو تشدد کے انسداد کے لیے جہاں قانونی اقدامات کو موثر بنانے کی ضرورت ہے‘وہاں عوامی سطح پر شعور کی بیداری اور اخلاقی خرابیوں کے سدّباب کے لیے اپنا فرض ادا کرنے کی فکر اور تڑپ کے چلن کو عام کرنا بھی ناگزیرہے۔ حکومت کو اپنی اس ذمہ داری کو بھی محسوس کرنا چاہیے۔

وسطی ایشیا کے مسلمان آزمایش کے مرحلے میں

وسطی ایشیا‘ پانچ ریاستوں(قازقستان‘ کرغیزستان‘ ازبکستان‘ترکمانستان اور تاجکستان) پرمشتمل ۱۵ کروڑ سے زائد مسلمان آبادی کا یہ خطہ تیل‘گیس اور قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ امریکہ اور یورپ کی حریص نگاہوں کا مرکزبنا ہوا ہے جو کسی نہ کسی طور جلد از جلد یہاں رسائی حاصل کرکے اس کے قدرتی وسائل کو من مانے طریقے پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت کے اس خطے میں ان کے عزائم کی راہ میں اگر کوئی بڑی رکاوٹ ہے تو وہ اسلام پسند مسلمان ہیں جو ان کی نگاہوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔

۱۹۹۱ء میں سابق سوویت یونین سے رسمی آزادی حاصل کرنے کے بعد سے یہ ریاستیں جمہوری لبادے میں کمیونسٹ آمریت کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں۔ مقتدرطبقے کو روس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ آج بھی یہ خطہ باقی دنیا اور اس کی مارکیٹوں سے زمینی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کٹا ہوا ہے‘ اور اس کی معیشت کا بڑی حد تک انحصار روس پر ہی ہے۔ ۱۹۹۵ء اور ۲۰۰۲ء کے درمیان باقی دنیا کے مقابلے میں ان کی برآمدات بہت ہی محدود ہیں۔ قازقستان کی صورتِ حال استثنائی ہے ‘اس لیے کہ بحیرئہ کیسپین سے تیل کی برآمد سے اس کی معیشت میں تیزی سے بہتری آئی ہے لیکن یہاں کے عوام کو جابرانہ آمریت کا سامنا ہے۔ (رپورٹ‘ یورپین بنک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ‘ برطانیہ‘  امپیکٹ انٹرنیشنل‘ جون- جولائی ۲۰۰۳ئ)

مسلمانوں کی دلی خواہش نفاذِ اسلام ہے۔ آزادی کے بعد ہی سے اس پورے خطے میں احیاے اسلام کی ایک لہر پائی جاتی ہے اور اس کا ثبوت بڑے پیمانے پر مساجد کا قیام اور دین اسلام کو سیکھنے کا جذبہ اور اسلام سے بڑھتی ہوئی دل چسپی ہے۔ مگر اس جذبے کے علی الرغم ایک اجنبی کلچرمسلط کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ظلم و تشدد‘ ریاستی جبر‘قیدوبند اور ہر طرح کا جبرواستبداد روا رکھا جا رہا ہے۔ عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کی آزادی نہیں۔ احتجاج کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ اس طرح وسطی ایشیا میں ایک مسلسل جدوجہد اور کش مکش جاری ہے۔

ازبکستان : ازبکستان وسائل سے مالا مال ہے لیکن اس کی کیفیت عملاً ’’جیلستان‘‘ کی سی ہے۔ صدر اسلام کریموف کے دورِ امارت میں ایک اندازے کے مطابق ۵۰ ہزار سے زائد افراد قیدوبند سے دوچار ہیں۔ ان میں سے بیش تر اسلام پسند ہیں اور اپنے مذہبی و سیاسی نظریات کی بنا پر گرفتار ہیں۔ حزب التحریر خلافت کی علم بردار اسلامی تحریک ہے۔ ازبک جیلوں میں پابندسلاسل ۶ ہزار ۵سو افراد میں سے نصف کا تعلق اسی تحریک سے ہے۔ بیش تر کا قصور یہ ہے کہ وہ پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے یا ان کے گھر سے عربی عبارت پر مبنی اوراق ملے ہیں۔ تحریک اسلامی ازبکستان(IMU) کو۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے شدید دبائو کا سامنا ہے۔ کارکن خوف و ہراس کی بنا پر منتشرہیں‘ سامنے آنے کی جرأت نہیں کرپاتے۔ حکومتی جبر اور آزادی اظہار کا یہ عالم ہے کہ ’’آزادی مذہب آرڈیننس‘‘ کے تحت باپردہ خواتین کو تو پابندسلاسل کر دیا جاتا ہے‘ جب کہ مسیحی راہبات اپنے مذہبی لباس میںامن و آزادی کے ساتھ گھومتی پھرتی ہیں۔ ازبکستان کے مفتی محمد صادق کا کہنا ہے کہ غیر حکومتی اسلام کی اجازت نہیں ہے۔

کرغیزستان اور ترکمانستان: کرغیزستان کس ابتری کا شکار ہے اور اس سے اس کی عملاً صورتِ حال کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہاں ۲۰ فی صد عوام فقروفاقہ کی حالت سے دوچار ہیں‘ جب کہ نصف آبادی کو قحط و افلاس کا سامنا ہے۔ ترکمانستان بھی کم و بیش ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ اس کی معاشی ترقی کا بڑی حد تک انحصار گیس کی برآمد پر ہے۔

تاجکستان: تاجکستان میں بظاہر جمہوریت ہے مگر روس نواز صدر امام علی رحمانوف کی ذات میں تمام اختیارات مرتکز ہیں۔ آزادی کے پہلے روز ہی سے مسلمانوں نے اس جبر کے خلاف آواز اٹھائی اور بتدریج یہ تحریک مسلح جدوجہد میں بدل گئی۔ بالآخر ۱۹۹۷ء میں ایک معاہدے کے تحت اسلامک ریوائیول پارٹی (IRP)کو قانونی جواز دیا گیا۔ انتخابات کے ذریعے حکومت کا قیام عمل میں لایاگیا۔ لیکن صدر اختیارات کے ارتکاز کے لیے جو دستوری ترامیم کر رہے ہیں اس پر اپوزیشن کو تشویش ہے اور وہ جمہوریت کی بحالی‘ آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کی بازیابی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔


وسطی ایشیا کے مسلمان فی الواقع کن حالات سے دوچار ہیں اور عملاً انھیں کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے‘ اس کی ایک واضح تصویر قازقستان کے حوالے سے دیکھی جا سکتی ہے۔

بحیرئہ کیسپین کے کنارے واقع قازقستان میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں ۱۰ بلین ٹن تیل اور ۲ ٹریلین کیوبک میٹر گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ کل ذخائر کا ایک حصہ ہے (روس کے کل تیل کے ذخائر ۶.۷ بلین ٹن ہیں)۔ گیس کے کل معلوم ذخائر ۷.۵ ٹریلین کیوبک میٹر ہیں‘ جب کہ نامعلوم کا اندازہ ۳۰ ٹریلین کیوبک میٹر ہے (ترکمانستان میں تیل کے ذخائر ۳۷ بلین بیرل ہیں)۔ انھی ذخائر پر امریکہ‘ مغرب اور روس کی نظریں ہیں۔

قازقستان آزادی کے بعد ۱۹۹۱ء سے مسلسل سیاسی بحران کا شکار ہے۔ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا استحصال عام ہے۔ صدر نورسلطان نذربایوف کا دورِ حکومت اس کی بدترین علامت ہے۔ ظلم و جبر‘ قیدوبند‘ اذیت‘ غیرقانونی گرفتاریاں‘ ماوراے عدالت قتل‘ اپوزیشن رہنمائوں پر حملے اور میڈیا کو مختلف حربوں سے خوف و ہراس میں مبتلا رکھنا‘ روز مرہ کا معمول ہے۔

صدر نذربایوف کی شہرت ایک بدعنوان‘ نااہل اور غیرمقبول صدر کی ہے۔ ایک عالمی سروے کے مطابق قازقستان کو دنیا کے ۲۰ کرپٹ ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

وسطی ایشیا کی دیگر ریاستوں کی طرح یہاں بھی آمریت کا دور دورہ ہے۔ حکومت کو اگر کسی سے کوئی خطرہ ہے تو وہ اسلام پسند ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر نے مسلمانوں اور اسلام کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ قومی سطح پر حکومت کی طرف سے نامزد کردہ مفتی کی سربراہی میں ایک نیشنل باڈی بنائی گئی ہے۔ اس باڈی کے دائرے سے باہر اسلامی تنظیموں کو حکومتی غضب اور قہر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کے اس رویے کے ہاتھوں تنگ آکر جون ۲۰۰۱ء میں نیشنل باڈی کے سربراہ نے استعفا دے دیا۔

ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد حکومت نے بیرونی اشارے پر کئی اقدامات اٹھائے۔ دہشت پسندوں کی گرفتاری کی آڑ میں مقدس مقامات اور مساجد کی توہین کی گئی۔ بیرونِ ملک دینی تعلیم پانے والے تمام قازق طلبہ کو ملک واپس بلا لیا گیا۔ نومبر ۲۰۰۲ء میں سنٹرل ایشین کوآپریشن آرگنائزیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر نذر بایوف نے مذہبی انتہاپسندی اور بنیاد پرستی کے نام پر اسلام پسندوں کے خلاف خفیہ ایجنسیوں اور فوج کے ذریعے مزید اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔

اسلامی تحریک کو قازقستان میں کن مصائب کا سامنا ہے‘ اس کا کچھ اندازہ ان واقعات سے ہو سکتا ہے۔

۱۹۹۹ء میں‘ تاراز میں پولیس نے ایک اسلامی تنظیم کے ان ۷۰ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا جنھیں عارضی طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔ گذشتہ دو برسوں میں حزب التحریر کے ۲۵ سے زائد کارکنان کو محض پمفلٹ تقسیم کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ انھیں چار سال تک سزا سنائی گئی اور بھاری جرمانے کیے گئے۔ ازبکستان سے وابستگی رکھنے والی تنظیموں کے کارکنان کو گرفتار کر کے ازبکستان بھیج دیا گیا جہاں انھیں قیدوبند اور جبروتشدد کا سامنا ہے۔

قید کیے جانے والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے‘ اس کا اندازہ نومبر ۲۰۰۱ء میں حزب التحریر کے ایک کارکن Kanat Beiembetov کی تشدد کی وجہ سے ہسپتال میں ہلاکت ہے۔ خود Beiembetovکے بیان اور اس کے اہل خانہ کے دستخط شدہ بیان کے مطابق اس کی موت کا سبب KNB (خفیہ ایجنسی)کے اہل کاروں کا تشدد ہے۔ اب بھی کے این بی والے اس کے گھر والوں کی نگرانی کرتے ہیںاور اس کے بچوں کو ہراساں کرتے ہیں۔

ملکی وسائل کو نذر بایوف اور ان کے اہل خانہ کے ہاتھوں اس بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے کہ قازقستان کو ’’نذربایوف اینڈ سنز لمیٹڈ‘‘کا نام دیا جا سکتا ہے۔ تمام اہم سرکاری محکموں اور عہدوں پر اس کے گھرانے کے افراد یا اقربا متمکن ہیں۔ سرکاری ٹیلی وژن اور کانگرس آف قازقستان جرنلسٹ کی سربراہ صدر کی بیٹی ڈوریگو ہیں۔ اس طرح انکم ٹیکس‘کسٹم دیگر اہم سرکاری ادارے بھی اقربا پروری کے کھلے ثبوت ہیں۔

ملکی سرمایہ بیرونِ ملک میںکس طرح منتقل کیا جا رہا ہے‘ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکی تیل کمپنی Exxon Mobil سے وصول کردہ تیل اور گیس کے ایک ارب ڈالر ریونیو کو نذربایوف اور ان کے رشتے داروں کے سوئس بنک اکائونٹس میں خاموشی سے منتقل کر دیا گیا۔ کچھ سوئس اکائونٹس منجمد کیے جانے پر صدر نذر بایوف نے خود دورہ کیا اور کہا جاتا ہے کہ سرکاری خرچ پر کیا جانے والا یہ دورہ دراصل اکائونٹس کی بحالی کے لیے کیا گیاتھا۔ اسے ’’قازق گیٹ‘‘ سکینڈل کہا جاتا ہے۔

اپوزیشن کو ہراساں کرنا معمول ہے۔ اپوزیشن رہنمائوں کی نگرانی کی جاتی ہے اور فون ٹیپ کیے جاتے ہیں۔ مخالفین کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور نمایاں رہنمائوں کو جلاوطن کر دیا گیا ہے۔ ۱۹۹۹ء کے انتخاب میں صدر دوبارہ منتخب ہوئے لیکن کھلی دھاندلی سے۔

اپوزیشن کو غیرمستحکم کرنے کے لیے بھی صدر نذر بایوف نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ۱۹۹۸ء میں انتخابی ضابطے میں تبدیلی کی گئی جس کے نتیجے میں نمایاں اپوزیشن رہنمائوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ اسی سال آرٹیکل ۷ کے تحت مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اکتوبر ۱۹۹۹ء میں پارٹی رجسٹریشن کے قانون میں تبدیلی کردی گئی۔ نمایندوں کے لیے قازق زبان کا ایک امتحان لازم قرار دے دیا گیا۔ رجسٹریشن کے لیے بہت بھاری فیس عائد کر دی گئی۔ ۲۰۰۲ء میں سیاسی پارٹیوں کے قانون میں مزید تبدیلی کر کے پارٹی کی رجسٹریشن کے لیے ۵۰ ہزار ممبران کی شرط لازم قرار دے دی گئی۔ اس طرح ملک کی نمایاں جماعتوں‘ جیسے ڈیموکریٹک چوائس آف قازقستان اور ری پبلکن نیشنل پارٹی آف قازقستان پر عملاً پابندی عائد ہو گئی۔ اس کے علاوہ مختلف حربوں اور دبائو سے جماعتوں اور ان کے سربراہوں کو ہراساں کیا گیا‘ جرمانے عائد کیے گئے‘جیل میں ڈالا گیا اور قاتلانہ حملے کیے گئے۔ سابق وزیراعظم اور RNPK کے سربراہ پر ہتھیار رکھنے کا الزام لگایا گیا اور انھیں بھاری جرمانہ کیا گیا۔

اپوزیشن کی سرگرمیوں کو جبراً روکا گیا۔ اپوزیشن رہنمائوں کو گھروں میں نظربند کر دیا گیا اور گھروں پر حملے کروائے گئے۔ ۱۹۹۹ء میں اپوزیشن رہنما الیکسی مورٹینوف کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں ‘ مجبوراً انھیں ملک چھوڑنا پڑا۔ قازقستان کے پریس اور میڈیا کو ہراساں کرنے کا حکومتی ریکارڈ بھی اچھا خاصا طویل ہے۔

ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت نے جرنلسٹ ایڈوائزری کونسل تشکیل دی تاکہ آزاد میڈیا کو کنٹرول کیا جا سکے۔ گذشتہ چند سالوں میں کئی اخبارات‘ پرائیویٹ ٹی وی چینل اور ریڈیو اسٹیشن پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ معروف صحافی لوزی مفک ایک ٹریفک حادثے کی نذر کر دیے گئے اور ان کی جان چلی گئی۔ محض اس لیے کہ وہ ’’قازق گیٹ‘‘ سکینڈل کے کئی رازوں سے واقف تھے۔ صحافیوں کا اغوا‘ تشدد‘ قتل اور مختلف پابندیوں کی ایک طویل فہرست ہے جو اس ضمن میں بیان کی جا سکتی ہے۔

قازقستان انٹرنیشنل بیورو فار ہیومن رائٹس اور رول آف لا کی رپورٹس کے مطابق پولیس گردی اور قید میں جبروتشدد بہت عام ہے۔ امن و امان کی صورت حال دگرگوں ہے۔ حکومت توجہ دلانے کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔ ۲۰۰۱ء میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تسلیم کیا کہ نصف سے زیادہ گرفتاریاں غیرقانونی تھیں۔ ۲۰۰۱ء کے ابتدائی چند ماہ میں ۳ ہزار ۵ سو افراد کو بغیر کسی جرم کے قید کر دیا گیا۔ اسی طرح ۴ ہزار ۳ سو افراد کو ابتدائی تفتیشی مراکز میں گرفتار کر لیا گیا۔

حکومت کی اس تمام تر غیر جمہوری‘ غیرانسانی اور غیر اخلاقی روش کو امریکہ کی مکمل   پشت پناہی حاصل ہے۔ حکومت پر کسی قسم کا کوئی بیرونی دبائو نہیں ہے۔ نذر بایوف نے امریکی نائب صدر ڈک چینی سے ملاقات کے بعد کہا: ’’انھوں نے ہماری کامیابی کو سراہا ہے اور ہمیں امریکی حکومت کی تائید حاصل ہے‘‘۔ امریکہ نے حکومت سے کئی معاہدے بھی کیے ہیں۔ اسے امریکہ کا مکمل فوجی تعاون حاصل ہے۔ امریکہ نے وسطی ایشیا میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے قازقستان میں مستقل اڈے بنا رکھے ہیں‘ فوجی مشقیں کی جاتی ہیں۔ اکتوبر۲۰۰۲ء میں پنٹاگون نے کئی ملین ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ نومبر ۲۰۰۲ء میں امریکی کامرس سیکرٹری اور قازقستان کے ڈپٹی وزیراعظم کے درمیان ایک ملاقات بھی ہوئی جس میں تیل کے معاہدے‘ امریکی تیل کمپنی Charron Texaco Corp کا قازقستان میں کردار بھی زیربحث آیا۔

قازقستان میں نذر بایوف حکومت کی امریکہ کی مکمل پشت پناہی بہت سے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔ اس نوعیت کی پالیسیاں دنیا بھرمیں بگاڑ اور عدمِ توازن کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ روش زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ وسطی ایشیا کے مسلمان اپنے حقوق کی جنگ بڑی ہمت‘ صبرواستقامت اور ثابت قدمی و پامردی سے لڑ رہے ہیں۔ ان کی یہ جدوجہد ایک روز ضرور رنگ لائے گی۔ ان شاء اللہ! (ماخوذ:  کریسنٹ انٹرنیشنل‘ ۱۶-۳۰ جون ۲۰۰۳ئ‘ اکانومسٹ ۱۷مئی ۲۰۰۳ئ)