میربابر مشتاق


یمن اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی جھڑپ سے آغاز ہونے والی لڑائی اب جنگ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ عراق اور افغانستان میں جاری امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا اگلا ہدف یمن ہوگا۔ مسئلے میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب نائیجیریا کے ایک مسلمان نوجوان نے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم سے امریکا جاتے ہوئے ایک جہاز کو فضا میں تباہ کرنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نوجوان کا تعلق القاعدہ سے ہے اور اس نے یمن میں تربیت حاصل کی تھی۔ امریکا نے یمن پر یہ الزام بھی لگایا کہ القاعدہ افغانستان سے پسپائی اختیار کرکے یمن کو اپنا مرکز بنارہی ہے اور یمن القاعدہ کی محفوظ جنت ہے۔ اس واقعے کے فوری ردعمل کے طور پر امریکا نے جہاں سکیورٹی اقدامات میں اضافے کے نام پر یمن، پاکستان، سعودی عرب اور ایران سمیت ۱۴ ممالک کے مسافروں کی اسکیننگ  کا اعلان کیا، جو بے لباس کرنے اور انتہائی تذلیل کے مترادف ہے، وہاں یمن میں القاعدہ کے خاتمے کے لیے اپنی افواج بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔ بعدازاں عوامی ردعمل اور دبائو کی بناپر اس موقف میں تبدیلی کے بعد فوج بھیجنے کے بجاے ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔
یمن دنیا کے قدیم ترین تہذیبی مراکز میں سے ایک ہے اور اس خطے کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ محلِ وقوع کے اعتبار سے یمن مشرق وسطیٰ میں جزیرہ نماے عرب کے جنوب مغربی کونے میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں بحیرۂ عرب، شمال مشرق میں سلطنت عمان، شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرۂ احمر اور جنوب مغرب میں خلیج عدن واقع ہے۔ ملک کا سرکاری نام جمہوریہ یمن ہے اور کُل رقبہ ۵ لاکھ ۲۷ ہزار ۹ سو ۷۰ مربع کلومیٹر ہے، جب کہ دارالحکومت صنعا ہے۔ ملک میں معدنیات، گیس اور تیل کے وافر ذخائر پائے جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے مسلم ممالک کے حکمرانوں کی طرح یمن کے حکمران صدر علی عبداللہ صالح کی آمرانہ حکومت کو امریکا کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہے۔ علی عبداللہ صالح پچھلے ۳۱سال سے یمن پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ۱۹۷۸ء سے ۱۹۹۰ء تک شمالی یمن کے سربراہ رہے اور ۱۹۹۰ء میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد سے وہ یمن کے صدر ہیں۔ یہی وہ پہلے مسلمان سربراہ ہیں جنھوں نے نائن الیون کے سانحے کے بعد ’دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ‘ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
عملاً صورت حال یہ ہے کہ یمن اسامہ بن لادن کا مسکن رہا ہے اور آج بھی یمن کے غریب اور بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اسامہ بن لادن کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ موجودہ صدر اور حکومت کی کرپشن اور امریکا کی بے جا حمایت کی بناپر عوام میں نفرت کی لہر پائی جاتی ہے۔ ماضی میں امریکی سفارت خانے پر حملہ بھی ہوچکا ہے، جب کہ بدنامِ زمانہ جیل گوانتانامو میں ۹۰ سے زائد قیدیوں کا تعلق یمن سے ہے۔ جنوبی یمن میں سوشلسٹ عناصر کے اثرات گہرے ہیں اور شمالی یمن کے مقابلے میں احساسِ محرومی بھی پایا جاتا ہے۔ شمال میں زیدی شیعہ سعودی عرب کی سرحد کے قریب رہتے ہیں جہاں ایران کے اثرات زیادہ ہیں اور اسی علاقے میں سرحدی جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ صدرصالح اگرچہ امریکا کی حمایت پر ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ملک کی اندرونی صورت حال کی بنا پر ان کے لیے امریکا کی حمایت میں  کوئی بڑا قدم اٹھانا آسان نہیں۔ امریکا کو خود بھی بہت سے خدشات لاحق ہیں۔ خدشہ ہے کہ   اس کے کسی بڑے اقدام کے نتیجے میں القاعدہ کے اثرات یمن سے افریقہ تک نہ پھیل جائیں۔ صومالیہ کے بارے میں امریکا کو تشویش ہے اور ۱۹۹۳ء میں جس ذلت کے ساتھ اس کو یہاں سے نکلنا پڑا تھا اس کا بھی اسے تلخ تجربہ ہے۔ امریکا کے خلاف ردعمل کے نتیجے میں یمن میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے جو صدرصالح کی حکومت کے لیے بھی خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔
دوسری طرف یمن جہاں علما کا اثرورسوخ ہے، ان کی طرف سے بھی بھرپور ردعمل سامنے آیا ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں یمن کی علما کونسل کا ایک اجلاس ہوا جس میں ۱۵۰علما نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد علما کونسل نے اعلان کیاہے کہ ملک میں القاعدہ کے خلاف آپریشن میں کسی غیرملکی فوج کے داخل ہونے کی صورت میں جہاد کریں گے۔ اسلامی احکامات کے مطابق کسی غیرملکی فوج کے ملک میں داخل ہونے کی صورت میں جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ اس لیے کسی غیرملکی حملے کی صورت میں جہاد کا اعلان کیا جائے گا۔
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے بھی امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے میں اجارہ داری چاہتا ہے اور یمن کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے۔ وہ اپنے اسلحے کے زور پر اس خطے میں مسلمانوں کی خون ریزی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران سمیت خطے کے تمام ممالک امریکی عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ صدر احمدی نژاد نے سعودی عرب پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ خطے میں امریکی اجارہ داری کے خلاف اپنا کردار ادا کرے۔
یمن میں عوامی ردعمل کے پیش نظر یمنی وزیرخارجہ نے بی بی سی ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو میں اس بات کی وضاحت کی کہ یمن القاعدہ کی محفوظ جنت نہیں ہے اور یہاں امریکیوں کی آمد مسئلے کے حل کے بجاے نئے مسائل پیدا کرے گی۔ امریکا یمن کو ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے کے لیے صرف امداد فراہم کرے۔ امریکا کے لیے بھی عراق اور افغانستان کی جنگوں میں ۳ئ۱ ٹرلین ڈالر کے اخراجات اُٹھانے اور بڑی تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد، جب کہ اس کی معیشت بھی زبوں حالی کا شکار ہے، یمن میں فوج بھیج کر ایک نیا محاذ کھولنا بظاہر آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے یمن میں فوج بھیجنے کے موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے مسلم عسکریت پسندوں کے خلاف یمن کو دفاعی امداد دینے کا اعلان کیا ہے جس میں ماہرین کا تعاون، اسلحے اور دیگر جنگی سازوسامان کی فراہمی شامل ہے۔ اس ضمن میں امریکا کے چیف آف سنٹرل کمانڈ ملٹری فورسز جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے صدر صالح سے ملاقات کے بعد امریکی امداد کو فوری طور پر دگنا، یعنی ۶۷ملین ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غالباً امریکا کے پیش نظر سردست براہِ راست فوجی مداخلت کرنے کے بجاے امریکی امداد اور ڈرون حملوں کے ذریعے ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کی حکمت عملی ہے۔
امریکا اور برطانیہ یمن میں فوجی کارروائی کو فی الحال مسترد کررہے ہیں لیکن مستقبل میں ان سے کسی مہم جوئی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی سطح پر استعماری طاقتوں کی کوشش ہے کہ عالمِ اسلام میں فساد پھیلاکر اسلامی ممالک میں برسرِاقتدار طبقے کو ان اسلام پسند قوتوں سے ٹکرا دیں جو ان کے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اُمت مسلمہ کے لیے بھی چیلنج ہے کہ وہ باہمی اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سامراجی عزائم کو ناکام بنا دے۔ خاص طور پر یمن کی  اسلام پسند قوتوں کو ان حالات میں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ عالمِ عرب میں سعودی عرب کو نمایاں مقام حاصل ہے، لہٰذا اسے بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم، یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر امریکا یمن میں نیا محاذ کھولتا ہے اور افغانستان میں جس طرح اسے پسپائی کا سامنا ہے، ’دہشت گردی‘ کے خلاف جاری اس نام نہاد جنگ کی دلدل میں وہ مزید دھنستا چلا جائے گا۔
بنگلہ دیش: اسلامی پارٹیوں کے نام پر پابندی؟
سلیم منصور خالد
مسلم دنیا کی سیکولر قوتوں کا عجب معاملہ ہے۔ دنیا بھر کے وسائل، بڑی طاقتوں کی سرپرستی اور ذرائع ابلاغ کی معاونت کے باوجود، میدان میں کھلے اور پُرامن مقابلے سے جی چرانا ان قوتوں کا کلچر ہے۔ ریاستی مشینری پر قبضہ جماکر مدمقابل قوتوں کو باندھ کر اُکھاڑے میں اُترنا،ان سورمائوں کا طرزِ حکمرانی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کا ہے۔
وہ عوامی لیگ جو پاکستان توڑنے کے لیے بھارت کی فوجی امداد کے ساتھ میدان میں اُتری، اب اسی عوامی لیگ نے مقامی ہندو آبادی کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک اور   اوچھا ہتھکنڈا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایک جانب مغربی ملک سویزرلینڈ میں اینٹوں سے بنے چند فٹ بلند میناروں سے یورپی سیکولرزم لرزہ براندام ہے تو دوسری جانب بنگلہ دیش جیسے مشرقی اور مسلم اکثریتی ملک میں لفظ اسلام کی پہچان سے کام کرنے والی سیاسی یا دینی پارٹیوں کا وجود ناقابلِ قبول ہے۔ کیا یہ اتفاقِ زمانہ ہے یا شرارِ بولہبی کی نفرت بھری آگ؟
عوامی لیگ نے اگرچہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لیے ہندوئوں، کمیونسٹوں اور بھارت کی مدد لی تھی، مگر اس پارٹی کے دل میں یہ خوف گہری جڑیں پیوست کرچکا ہے کہ اس نے اسلامیانِ بنگال سے بے وفائی کرکے اسے بھارت کا طفیلی ملک بنایا ہے، سو اس کے خلاف ردعمل بہرحال اسلامی قوتوں ہی کی جانب سے اُٹھے گا۔ اس لیے ان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کرنے کے بعد اگست ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیش کی منظم ترین اسلامی پارٹی: جماعت اسلامی کے کارکنوں پر ۳۷ سال پہلے سقوطِ مشرقی پاکستان کے دنوں میں پاکستان کا ساتھ دینے کے اقدام کے خلاف مقدمے چلائے گی۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد بدترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والی عوامی لیگ سے کچھ اور بن نہ پایا تو اس نے اعلان کر دیا: بنگلہ دیش میں کوئی پارٹی، مذہبی پہچان کا نام نہیں    رکھ سکے گی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ۴؍جنوری ۲۰۱۰ء کو عوامی لیگ حکومت کے وزیرقانون شفیق احمد نے کہا: ’’سپریم کورٹ نے ۵ویں ترمیم کو غیر قانونی قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو قانون سے ماورا قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں جو پارٹی بھی مذہبی پہچان کا نام رکھے گی، اس پر پابندی عائد کردی جائے گی‘‘۔ اس اعلان پر بنگلہ دیش کے عام شہری ششدر رہ گئے۔
وہ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی بنیاد دوقومی نظریے پر وجود پانے والی تقسیم بنگال کے فیصلے پر رکھی گئی ہے۔ دو قومی نظریے کا مرکزی نکتہ ہی یہ ہے کہ مسلم اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، اور اسی مقصد کے حصول کے لیے ۱۹۰۶ء میں خود ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ گویا کہ اس آزادی کو وجود بخشنے والی پارٹی کا نام ہی مذہبی پہچان، یعنی ’مسلم‘ کے لفظ سے موسوم ہے۔ پہلے پہل، یعنی قیامِ پاکستان کے بعد انھی بنگالی قوم پرستوں کا ایک دھڑا جب مسلم لیگ سے الگ ہوا تو اس نے اپنا نام ’عوامی مسلم لیگ‘ رکھا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہندوئوں کے زیراثر لفظ ’مسلم‘ کو اُڑا کر اسے عوامی لیگ بنا دیا۔
خود عوامی لیگ بھی یہ جانتی ہے کہ ۹۱ فی صد مسلم آبادی کے اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے کسی مذہب کے حوالے سے کوئی سیاسی پارٹی موجود نہیں ہے، اور بجاطور پر مسلمان وطن عزیز کی بنیاد اور پہچان کی مناسبت سے اپنی پارٹیوں کے ناموں میں ’اسلام‘، ’مسلم‘، ’اسلامی‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جو ان کا آئینی اور دنیابھر میں مانا ہوا مسلّمہ حق ہے۔ اس خانہ زاد فیصلے کی روشنی میں، جو بہرحال سیاسی دبائو میں کیا گیا ہے، عوامی لیگ چاہتی ہے کہ دنیا میں آبادی کے   لحاظ سے تیسرے سب سے بڑے مسلم ملک میں مذکورہ پارٹیوں پر پابندی عائد کرے۔
’اسلام‘ نہ عوامی لیگ کا وضع کردہ ہے اور نہ لفظ ’مسلمان‘عوامی لیگ کی ٹکسال میں گھڑا گیا ہے۔ یہ لفظ اللہ، اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن عظیم نے عطا کیا ہے اور انھی   کے احکام کی اِتباع میں دنیا کے گوشے گوشے میں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اسلام اپنا ایک مکمل نظامِ عبادات، بھرپور نظامِ فکر، قابلِ عمل نظام زندگی رکھتا ہے۔ جس کے نفاذ کی کوشش کرنے اور  ان کی تنظیم و رہنمائی کے لیے اجتماعی کوششوں کی پہچان بہرحال اسلام،اسلامی اور مسلم وغیرہ الفاظ ہی سے متعین ہوگی۔ اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ چند سیاسی طالع آزما اپنے دل کے چور کی تسکین کے لیے اسلامیانِ عالم اور اسلامیانِ بنگلہ دیش اپنے حقِ شناخت سے دست بردار ہوجائیں؟
دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیرقانون کے اسی بیان میں یہ حصہ متضاد حوالہ رکھتا ہے کہ: ’’دستور کے آغاز میں ’بسم اللہ‘ اور ریاست کے مذہب کا ’اسلام‘ ہونا برقرار رکھا جائے گا‘‘۔ ایک جانب اسلامی پہچان کے ناموں سے پارٹیوں پر پابندی اور دوسری جانب ان دو چیزوں کو برقرار رکھنے کی بات، اسلامیانِ بنگلہ دیش کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ دراصل وزیرموصوف کے  اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی لیگ، اسلامی افکار و اقدار کی علَم بردار جماعتوں کو قومی زندگی اور سیاست سے باہر نکال دینے کے شیطانی منصوبے پر عمل کرنا چاہتی ہے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے اس اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’اگر بہت سے نظریات پر مشتمل سیاسی پارٹیاں کام کرسکتی ہیں تو صرف اسلام کے مقاصد حیات اور طرزِ زندگی کو پیش کرنے والی پارٹیوں پر کیوں پابندی لگائی جائے گی؟ خود بنگلہ دیش کے ہمسایے میں بھارت اور یورپ کے کتنے ممالک میں، برطانیہ و جرمنی میں مذہب کی شناخت سے پارٹیاں برسرِکار ہیں۔ اس لیے ایسی کوئی بھی حکومت، جو جمہوریت اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہو، بنگلہ دیش میں اسلامی پارٹیوں پر پابندی عائد نہیں کرسکتی، جہاں متعدد پارٹیاں سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ یہ ایسا ملک ہے جس کے شہریوں نے جمہوریت کے پودے کو سینچنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس لیے یہاں کے شہری ایسے کسی غیرجمہوری فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے‘‘۔
_______________

ناشپاتی شکل کا جزیرہ سری لنکا، بھارت کے جنوب مشرقی ساحل سے ۳۱ کلومیٹر دُور واقع ہے۔ رقبہ ۶۵ ہزار ایک سو ۶۰ مربع کلومیٹر، جب کہ آبادی ۲ کروڑ سے زائد ہے۔ ۴۵ فی صد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ ملک میں شرح خواندگی ۹۱ فی صد سے زیادہ ہے۔ کولمبو دارالحکومت ہے۔ ملک میں ۶۵ فی صد بدھ، ۱۵ فی صد ہندو، ۹ فی صد مسلمان اور ۸ فی صد عیسائی ہیں۔ نسلی اعتبار سے سنہالی ۷۴ فی صد، تامل ۱۷ فی صد اور عربی النسل مسلمان ۷ فی صد ہیں۔

سری لنکا کے مسلمانوں کے بارے میں مسلم دنیا کا عام طور پر یہ تاثر ہے کہ وہ وہاں امن و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو چین، برما، بھارت، تھائی لینڈ جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہے۔ بلاشبہہ حکومتی پالیسی میں مذہباً اور نسلاً کوئی تعصب نہیں پایا جاتا مگر سنہالی بدھ اور ہندوئوں نے عملاً مسلمانوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد مسلمان گھروں سے بے گھر ہوکر  گذشتہ کئی برس سے خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔

سری لنکا سے مسلمانوں کا تعلق پہلی صدی ہجری ہی میں قائم ہوگیا تھا اور مسلمان عربوں نے یہاں ساحل پر بستیاں قائم کیں۔ سندھ پر محمد بن قاسم کے حملے کی وجہ سری لنکا کے مسلمان ہی بنے تھے جن کے جہاز کو سندھ کے ساحل پر راجا داہر کے ڈاکوئوں نے لوٹ لیا تھا۔

سری لنکا کی ایک اور وجۂ شہرت حضرت آدم علیہ السلام سے منسوب پائوں کا ایک نشان بھی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں اسلام سری لنکا میں تیزی سے پھیلنے لگا۔ شروع میں وہ عورتیں مسلمان ہوئیں جنھوں نے عرب تاجروں سے شادی کی۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں برطانوی اور ولندیزی حملہ آوروں کے ذریعے ملایا اور انڈونیشیا سے بھی مسلمان یہاں لائے گئے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں ہندستان سے بھی مسلمان یہاں پر آئے۔

نسلی طور پر عرب مسلمان سری لنکا میں کُل مسلم آبادی کا ۹۵ فی صد ہیں اور ان کا تعلق شافعی مسلک سے ہے۔ سری لنکا کے مشرقی علاقے میں آباد یہ مسلمان تامل زبان بولتے ہیں، جب کہ مغربی ساحل پر آباد مسلمان، سنہالی اور انگریزی بولتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر تجارت اور زراعت سے وابستہ ہیں۔ مشرقی ساحل پر آباد مسلمان ماہی گیر اور تاجر ہیں۔ ملائی مسلمانوں کی تعداد ۵۰ہزار سے زیادہ ہے جو زیادہ تر ملایا سے ولندیزی فوج میں بھرتی ہوکر آئے اور یہیں آباد ہوگئے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں یہ کُل مسلم آبادی کا ۵ فی صد تھے۔

سری لنکا میں آئینی طور پر مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے اور اہم مذہبی تہواروں پر سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو اپنے مذہبی قانون کے مطابق شریعت کورٹس میں تنازعات کے فیصلے کرانے کا حق بھی حاصل ہے۔ حکومت نے اسکولوں میں اسلامی تعلیم کی تدریس کا بھی اہتمام کیا ہے۔ مسلمانوں کی اپنی سیاسی جماعتیں بھی ہیں اور وہ دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی شامل ہیں۔

مسلمانوں، تامل ہندوئوں اور سنہالی بدھوں میں صدیوں تک کسی قسم کے نسلی اور مذہبی تنائو کا ذکر نہیں ملتا۔مذہبی و نسلی تعصب کا بیج یورپی حملہ آوروں نے بویا اور سب سے پہلا مسلم کش فساد جون ۱۹۱۵ء میں ہوا اور یہ مرکزی صوبوں سے مغربی اور شمال مشرقی صوبوں تک پھیل گیا۔ اس فساد کے دوران ۱۴۶ مسلمانوں کو شہید، اور ۴۰۰ سے زائد مسلمانوں کو زخمی کر دیا گیا، کئی سو خواتین کی عصمت دری ہوئی۔

۴ فروری ۱۹۴۸ء کو آزادی کے بعد سنہالی، بدھ حکومت نے جو پالیسی بنائی اس سے تامل مطمئن نہ تھے مگر مسلمانوں نے کسی بھی تنازع سے دُور رہنے کی پالیسی اپنائی۔ اور یہی پالیسی ان کے لیے آنے والے دنوں میں وبالِ جان بن گئی۔

سنہالی حکومت میں تنازع کی ابتدا اس وقت شروع ہوگئی جب تامل زبان کو نظرانداز کرکے سنہالی کو قومی اور سرکاری زبان قرار دیا گیا۔ سنہالی تعصب کا مزید مظاہرہ اُس وقت ہوا جب جزیرے کا نام سیلون کی جگہ سنہالی زبان میں سری لنکا رکھ دیاگیا۔ تاملوں نے آزادی کی تحریک شروع کر دی اور بھارت نے اس کی پشت پناہی کی کیونکہ بھارت میں ۶۳ ملین تامل ہیں۔

حکومت نے ایک خاص پالیسی کے تحت سنہالیوں کو مسلمان علاقوں میں آباد کرنا شروع کردیا۔ اس اقدام کو مسلمانوں نے اپنے لیے خطرہ سمجھا اور انھوں نے بھی تامل علیحدگی پسندوں کی حمایت کردی۔ ۱۹۷۶ء میں تامل یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ بنا۔ اس کے بعد لبریشن ٹائیگرز آف تامل وجود میں آگئی جس نے بلاامتیاز تمام مذاہب کی نمایندہ تنظیم ہونے کا دعویٰ کیا۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی اِن میں شامل ہوگئی۔ مسٹر گاندھی کی کانگریس کی طرح لبرشن ٹائیگرز کا یہ دعویٰ بھی   غلط نکلا اور تامل مسلمان مایوس ہوگئے۔

کولمبو حکومت نے بھی تامل ہندوئوں اور تامل مسلمانوں میں خلیج بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی۔ اس طرح تامل ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات شروع ہوگئے۔ مسلمان بستیوں پر حملے، قتل، اغوا اور لوٹ مار شروع ہوگئی۔

۱۹۸۰ء کی دہائی میں حکومت نے مسلمانوں کا تحفظ کرنے کے بجاے مسلمانوں سے کہا کہ تاملوں کے حملوں کے خلاف خود اپنی حفاظت کریں۔ اس سلسلے میں حکومت نے مسلمانوں کو ہتھیار بھی فراہم کیے۔ ان ہتھیاروں کی فراہمی کا ایک مقصد تامل ہندوئوں میں خلیج کو بڑھانا تھا۔ تامل ہندوئوں اور سنہالی بدھوں نے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک اور بعض مسلمان تنظیمیں مسلمانوں کی عسکری تربیت کے لیے اسلحہ اور رقوم فراہم کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اپنی حفاظت کے نقطۂ نظر سے عسکری گروپوں نے جنم لیا جس سے مسلمانوں تامل ہندوئوں اور سنہالی بدھوں کے درمیان فسادات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مسلمانوں کو اقلیت میں ہونے کی وجہ سے بھی مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ پُرامن رہنے والے مسلمانوں کو ایک اندھی جنگ میں جھونک دیا گیا اور اب مسلمانوں کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ عسکریت پسند مسلمانوں کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ ان حالات میں جہاں سری لنکا کے مسلمانوں کو صبر اور حکمت سے معاملات کو لے کر چلنے کی ضرورت ہے وہاں اپنے مسائل کے حل کے لیے اسلامی دنیا کی بھی توجہ چاہتے ہیں۔

اسلام کے خلاف مغرب کا بڑھتا ہوا تعصب تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔ سیاست ہو یا معیشت، تعلیمی میدان ہو یا شعبہ طب، غرض ہر میدان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے ساتھ نسلی اور مذہبی تعصب بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ درج ذیل واقعات سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔

  •  بلجیم کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان خاتون کے منتخب ہونے کے بعد یہ تنازعہ اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اسے اسکارف کے ساتھ حلف اُٹھانے دیا جائے یا نہیں۔ اسکارف کی مخالف سیاسی جماعتیں اس حوالے سے یہ موقف رکھتی ہیں کہ بلجیم کے قوانین کی رُو سے کوئی بھی باحجاب خاتون رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے حلف نہیں اُٹھا سکتی، اس لیے انھیں نااہل قرار دیا جائے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والی مسلمان خاتون ماہ نور ازدمیر کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف حلف اُٹھاتے وقت اسکارف پہنے رہیں گی بلکہ پارلیمنٹ میں بھی اسکارف پہن کر آئیں گی۔

برسلز کے مشہور عرب جریدے الشرق الاوسط کے نمایندے کے مطابق اس نے بلجیم کے انتخابات سے ایک روز قبل ماہ نور سے پوچھا کہ کیا انھیں یہ خدشہ نہیں کہ برسلز کی پارلیمنٹ میں انھیں اسکارف کے ساتھ داخلے کی اجازت نہیں ملے گی؟ جواب میں ماہ نور نے نہایت سکون کے ساتھ کہا کہ وہ انتخابات یا پارلیمنٹ کی وجہ سے اپنا اسکارف ہرگز نہیں اُتاریں گی۔ لوگوں کو اِن کے کام کی طرف دیکھنا چاہیے نہ کہ اسکارف کی طرف۔ ماہ نور کی کامیابی سے بلجیم کی مسلمان کمیونٹی اور سیکولر کمیونٹی کے درمیان ایک سردجنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ نااہل قرار دینے والوں کا کہنا ہے کہ وہ بلجیم کی ثقافت کو تباہ کرنا چاہتی ہیں، اس لیے اُن کو نمایندگی کا کوئی حق نہیں۔

بلجیم شمال مغربی یورپ میں واقع ہے اور یورپی یونین کا رکن ہے۔ آن لائن انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اِس ملک میں رہنے والوں کی اکثریت رومن کیتھولک چرچ کے زیراثر ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں مسلمان بھی رہتے ہیں جن کی تعداد ۴۰ سے ۵۰ لاکھ کے درمیان ہے۔ گویا ملک کی تین سے چار فی صد آبادی مسلمان ہے۔

ماہ نور ازدمیر ۳۶ سالہ ترک نژاد مسلمان ہیں۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد اُن کی پارٹی بھی ان کی مخالفت کر رہی تھی کہ وہ اسکارف اُتار دیں۔ وہ پارٹی کے لیے ایک عرصے سے کام کر رہی ہیں اور اس سے پہلے وہ پارٹی کے ٹکٹ پر کونسلر کا انتخاب بھی جیت چکی ہیں۔ انتخابات کے دوران پارٹی کی جانب سے جاری پوسٹر سے اُن کی تصویر سے اسکارف غائب کر دیا گیا۔ اس پر اُنھوں نے پارٹی قیادت سے احتجاج کیا جس پر پارٹی نے باقاعدہ طور پر اِن سے معذرت کی۔

الشرق الاوسط کے نمایندے نے اِن سے پوچھا کہ پارلیمنٹ میں جاکر وہ ترجیحاً  کن مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گی تو اِن کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی ختم کرانا اِن کی ترجیحِ اول ہوگی۔ اسی طرح عیدالضحیٰ اور بعض دوسرے مواقع پر مسلمانوں کو اپنے گھروں میں جانور ذبح کرنے کی اجازت، نیز مسلمان تنظیموں کے عطیات جمع کرنے پر پابندی کے خلاف بھی وہ آواز اٹھانا چاہتی ہیں۔

۱۹۹۵ء میں بلجیم کی پارلیمنٹ کے پہلے مسلمان رکن کا اعزاز حاصل کرنے والے محمدالضیف کا کہنا تھا کہ بلجیم کی اکثریت اسلام کی دیانت اور سچائی کی قائل ہوچکی ہے۔ اس  صورت حال میں یہاں کے مسلمانوں کو متحد ہوکر پہلے سے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ ماہ نور ازدمیر کو ابھی بہت کام کرنا ہے اور وہ اپنے نیک مقاصد کے حصول کے عزم کے ساتھ پارلیمنٹ میں حلف اُٹھائیں گی۔ اب دیکھیے کہ اس کش مکش کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے!

  •  دوسرا واقعہ برطانیہ کی خاتون مسلمان ڈاکٹر سیدہ مسرت شاہ کی ملازمت سے برطرفی سے متعلق ہے۔ اُن کو محض اس لیے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا کہ وہ ہرجمعہ کو باقاعدگی کے ساتھ ہسپتال کے قریب واقع مسجد میں نماز کی ادایگی کے لیے جاتی تھیں۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ہسپتال کی انتظامیہ نے نماز کی ادایگی کے لیے اُن کو صرف پانچ منٹ کا وقت دیا کہ وہ نماز ادا کر کے ڈیوٹی پر واپس آجائیں یا نماز کی ادایگی ترک کر دیں۔ نمازِ جمعہ کی ادایگی  ترک کرنے سے انکار پر ملازمت سے نکالی جانے والی ڈاکٹر مسرت شاہ کا کہنا ہے کہ اُنھیں نماز سے دُوری قبول نہیں۔ اِس حوالے سے وہ کسی قسم کا دبائو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

۳۱ سالہ ڈاکٹر مسرت شاہ برطانوی علاقے لیڈز کے ایک ہسپتال میں بطور سرجن کام کرتی ہیں۔ ایمپلائر ٹربیونل میں اپنی برطرفی کے خلاف دائر کیے جانے والے مقدمے میں اِن کا کہنا تھا کہ اُن کو مسلمان ہونے کی وجہ سے نسلی تعصب اور مذہبی امتیاز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اُن کے قریبی ساتھیوں نے بھی ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔ اِس کے چار ساتھی ڈاکٹروں کو اِن کی یہ روش پسند نہ تھی کہ وہ ہرجمعے کو باقاعدگی سے مسجد جائیں اور شہربھر سے آئی ہوئی مسلمان خواتین کے ساتھ نمازِ جمعہ کی ادایگی کا شرف حاصل کریں، جب کہ جمعہ کے روز اِن کے حصے میں کسی بھی سرجری کا کوئی شیڈول نہیں ہوتاتھا۔ لیکن ساتھی ڈاکٹروں کے اعتراض کے بعد نماز کے وقت سرجری کا کام تفویض کر دیا جاتا تھا جس سے اِن کو دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔ حالانکہ اس سے پہلے کئی برس تک ایسا نہیں ہوا۔ ڈاکٹروں کے مسلسل اصرار پر انھوں نے ۸؍ اگست ۲۰۰۸ء سے نمازِ جمعہ کی ادایگی کے لیے جانا ترک کردیا اور ہسپتال میں انفرادی طور پر نماز ادا کرنا شروع کر دی لیکن اس کے باوجود انتظامیہ اور ساتھی ڈاکٹروں کی تشفی نہ ہوئی اور ان کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ انچارج ڈاکٹر مارکوس جولیر نے کہا کہ دنیا کا کوئی کام یا نماز، سرجری سے زیادہ اہم نہیں۔ اس لیے سرجری کے لیے نماز ترک کر دینا چاہیے۔ دوسری طرف یہی مغرب ہے جو انسان کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ کیا یہ تضاد اور دہرا معیار نہیں؟

  • یکم جولائی ۲۰۰۹ء جرمنی کے شہر ڈرلیٹرن میں ایک مسلمان خاتون ۳۲سالہ مروہ الشربینی کو بھری عدالت میں اس وقت شہید کردیا گیا جب اُس نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اُس کے ساتھ اُس کا شوہر علوی عکاظ اور ڈھائی سالہ بیٹا مصطفی بھی عدالت    میں موجود تھے۔شہید ِ حجاب مروہ الشربینی کی شہادت کا دل خراش واقعہ ہر مہذب اور باشعور شخص کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے جو دلوں کو گداز اور آنکھوں کو تادیر نمناک کر دیتا ہے۔

اگست ۲۰۰۸ء میں مروہ الشربینی جو کہ مصری نژاد ہیں اپنے بیٹے مصطفی کے ساتھ ایک پارک میں تھی کہ ملعون ایگزل ڈبلیو نامی شخص نے مروہ کو حجاب میں دیکھ کر ’دہشت گرد‘ کہا۔ جب مروہ نے اسے جواب دیا تو اس نے اللہ رب العزت اور نبی مہرباںؐ کی شان میں گستاخی کی اور اسلام کی توہین اور مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ پارک میں اس ہونے والے جھگڑے کی شکایت مروہ الشربینی نے مقامی عدالت میں کی۔ عدالت نے شربینی کے دعوے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے مذکورہ شخص کو جرمانہ کیا لیکن اس ملعون نے دوسری عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کر دیا۔

عدالت نے دونوں کو طلب کیا۔ سب سے پہلے مروہ الشربینی سے واقعے کی تفصیلات معلوم کیں اور اس کے بعد جرمن باشندے ایگزل سے کہا کہ وہ واقعہ بتائے تو اس نے کہا میرا بس چلے تو میں اس عورت کو حجاب پہننے کی ایسی سزا دوں کہ ہمیشہ یاد رکھے۔ اس پر عدالت نے اس کو مسلمان عورت کو گالی گلوچ کرنے اور قتل کی دھمکی دینے پر ۷۸۰ جرمن مارک یا ۲۸۰۰ یورو کا جرمانہ کر دیا اور اُسے گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ یہ سنتے ہی جنونی ملعون ایگزل ڈبلیو نے بھری عدالت میں اسلام کی باحجاب بیٹی پر خنجر سے حملہ کردیا، اس کا حجاب نوچ ڈالا اور اس کے جسم پر خنجر سے وار کرنے شروع کر دیے۔ پولیس یہ خونی منظر دیکھنے کے باوجود مروہ الشربینی کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھی۔ مروہ کے شوہر علوی عکاظ نے چیخ چیخ کر عدالت میں کھڑی مسلح پولیس سے کہا کہ وہ اس کی بیوی کو بچائیں۔ مروہ کو بچانے کے بجاے پولیس نے اس کے شوہر کو دو گولیاں ماریں جس سے اس کی ٹانگیں شدید متاثر ہوئیں، حالاں کہ وہ اپنی بیوی کو بچانے کے لیے آگے بڑھا تھا۔ اس دوران جنونی قاتل نے مروہ کے شوہر پر بھی خنجر برسائے۔ زخمی علوی عکاظ اپنی باحجاب بیوی کو نہ بچا سکا۔ اسلام کی بیٹی نے بھری عدالت میں دم توڑ دیا۔ اسکندریہ میں جب شہیدہ کی میت پہنچی تو لاکھوں لوگوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ مصری حزب اختلاف اخوان المسلمون نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ جرمنی کے ساتھ سفارتی تعلقات فی الفور ختم کیے جائیں اور ۳۲ سالہ مروہ الشربینی کو شہید ِ حجاب قرار دیا۔ افسوس کہ ہمارے بے حس حکمران صداے احتجاج بھی نہ بلند کرسکے۔

جرمن اخبار برلن نیوز کی رپورٹ کے مطابق مروہ کے قاتل کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ سرکاری پراسیکیوٹر نے قاتل کو دماغی امراض میں مبتلا ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے طبی معائنہ کرانے کی استدعا کی جس کو عدالت نے مسترد کر دیا اور اس کو دماغی طور پر درست قرار دیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ شخص انٹرنیٹ بلاگز پر مسلمانوں، اسلام اور حجاب کے متعلق سخت کلمات لکھنے اور ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا حامی پایا گیا ہے۔ مروہ کے بیٹے مصطفی کو جرمن حکومت نے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ شہیدِحجاب کی بڑی بہن اپنے ڈھائی سالہ بھانجے کے حصول کے لیے جرمنی میں عدالتی چارہ جوئی کر رہی ہیں۔

مصری اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین میں اس واقعہ کا اصل ذمہ دار فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کو ٹھیرایا گیا ہے جس نے حجاب کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ نکولس سرکوزی نے باقاعدہ طور پر فرانس میں حجاب کے خلاف اپنی مہم کے دوران متعصبانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ برقع اور حجاب آمرانہ اقدام، نسل پرستی اور تعصب کا آئینہ دار ہے۔ برقع پوش خاتون کسی قیدی کی طرح نظر آتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مغرب تیزی سے بڑھتے ہوئے نومسلموں سے خوف زدہ ہے جو مغرب کے منافقانہ طرزِعمل اور مغربی تہذیب کی چکاچوند سے مایوس ہوکر اسلام کی آغوش میں اپنے آپ کو محفوظ اور ذہنی طور پر آسودہ محسوس کرتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے والوں میں خواتین کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ وہ مغربی خواتین ہیں جو مغرب کی نام نہاد تہذیب سے بیزار ہوکر اسلام کو اپنی جاے پناہ اور اپنے دکھوں کا مداوا سمجھتی ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے سامنے برطانوی صحافی ای وان رِڈلے کی مثال موجود ہے جو مغرب میں پلی بڑھی، مگر طالبان کے حُسنِ سلوک سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ برطانوی صحافی نے طالبان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ طالبان بہترین بھائی اور بیٹے ہیں۔ مجھے مغربی اور مغربی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے باپ، بھائی، بیٹے کی آنکھوں میں وہ تقدس اور احترام نظر نہیں آیا جو مجھے طالبان کی قید کے دوران دیکھنے  کو ملا۔ مغرب حجاب میں لپٹی پاکیزہ زندگی گزارنے والی خواتین سے خوف زدہ ہے۔ اس لیے حجاب اور اسلامی رہن سہن کے خلاف ایک مہم چلا رکھی ہے۔مغرب کا یہی تضاد، دہرا معیار اور تعصب ہے جو ہر حسّاس اورانصاف پسند انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ واقعتا خداے واحد پر ایمان اور اسلام ہی انسانی حقوق کے تحفظ کو ممکن بناتا ہے اور تعصب سے پاک منصفانہ زندگی کا ضامن ہے۔ یہی احساس اسلام کی مقبولیت کا سبب بھی ہے۔