کشمیر کی تحریک جہاد ایک بڑے نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بھارت کے حکمرانوں‘ امریکی سیاست کاروں اور خود ہماری قیادت کی طرف سے جس نوعیت کے سگنل مل رہے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ عالمی رجحانات‘ سامراجی سیاست کے پیچ و خم اور خود ملکی حالات کی روشنی میں تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا جائے اور ان خطرات کی نشان دہی کی جائے جو پاکستانی قوم اور جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک کو درپیش ہیں۔ نیز ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ حکمت عملی کے خدوخال بھی واضح کیے جائیں تاکہ مستقبل کے امکانات سے فائدہ اٹھایاجا سکے۔
مذاکرات‘ مگر کس قیمت پر: کشمیر کا مسئلہ محض کسی زمین اور علاقے کا جھگڑا نہیں‘ یہ پاکستان کی شہ رگ کی حفاظت اور سوا کروڑانسانوں کی آزادی‘ سلامتی اور ان کے نظریاتی اور دینی مستقبل کا سوال ہے۔ جس اصول پر اور جس فارمولے کے تحت ۱۹۴۷ء میں پاکستان اور بھارت انگریزی اقتدار سے آزاد ہوئے ہیں‘ انھی کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر کی مستقل حیثیت پر ہوتا ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خود اپنے قول و قرار کے علی الرغم ریاست کے بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور ۵۳ سال سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو ظلم کے شکنجے میں کس کر تعذیب کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے‘ جن کی عظیم اکثریت مسلمان ہے اور پاکستان سے محبت کرنے والی ہے‘ اس سامراجی قبضے کو ایک لمحے کے لیے بھی قبول نہیں کیا۔ وہ روزِ اوّل سے اس کے خلاف سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔ جولائی ۱۹۴۷ء میں مسلم کانفرنس نے ‘ جو جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی نمایندہ جماعت تھی‘ کھلے بندوںپاکستان سے الحاق کا اعلان کیا اور جب ڈوگرہ حکمرانوں اور بھارت کی قیادت نے سازش کے ذریعے ان پر فوج کشی کے ذریعے بھارت کا تسلّط قائم کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے عملی بغاوت کے ذریعے ریاست کے ایک تہائی حصے کو آزاد کرا لیا۔ اقوام متحدہ کی واضح قراردادوں اور عالمی ادارے کے تحت جنگ بندی اور استصواب کے وعدے کے بعد مزاحمت کی تحریک عوامی سیاسی جدوجہد کی شکل میں جاری رہی لیکن جب جبر و ظلم کے نظام نے ایسی صورت پیدا کر دی کہ عملی جہاد کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو ۱۹۸۹ء سے جہاد کا آغاز کیا گیا جو اب تک جاری ہے۔اسی جہاد کا نتیجہ ہے کہ اب بھارت کے حکمران کسی حل کی بات کرنے لگے ہیں‘ گو اپنی روایتی مکّاری اور چال بازی کے ساتھ۔ اس پورے زمانے میں عالمی رائے عامہ اور انسانیت کے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن مفاد پرستی اور سامراجی عزائم نے بڑی طاقتوں اور عالمی اداروں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں اور ضمیر پر بے حسّی طاری کیے رکھی۔ بھارت کی ۷ لاکھ افواج کے مظالم کو روکنے کے لیے کوئی موثر کارروائی نہ کی گئی۔ پاکستانی قوم اور حکومتوں نے اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہد میں مقدور بھر ان کا ساتھ دیا اور یہ کشمیری مجاہدین کی قربانیاں اور مسلمانان جموں و کشمیر کے صبر واستقلال کا نتیجہ ہے کہ اب بھارت کو ’’رمضان‘‘ اور ’’جنگ بندی‘‘ کا احساس ہونے لگا ہے ورنہ‘ نہ رمضان اس سال پہلی مرتبہ آیا ہے اور نہ جہاد کا آغاز سنہ ۲۰۰۰ء میں ہوا ہے اور نہ حریت کانفرنس کوئی نئی مخلوق ہے جس کی دریافت (وہ بھی جزوی اور selective) اب ہو رہی ہے!
پاکستانی قوم اور کشمیری مسلمان دل و جان سے امن کے خواہاں ہیں لیکن امن محض حالت جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں۔ امن تو حق و انصاف ہی کی بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلہ جنگ بندی نہیں‘ ان اسباب اور حالات کو تبدیل کرنا ہے جن سے مجبور ہو کر مسلمانان جموں و کشمیر بھارت کی فوجی یلغار کے خلاف جہاد بستہ ہوئے ہیں۔ بھارت کی دل چسپی صرف جہادی دبائو سے نجات میں ہے‘ جب کہ جہادی اور عوامی قوتوں کا ہدف مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہے تاکہ ا ہلِ کشمیر اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اپنی آزاد مرضی سے بین الاقوامی اہتمام میں منعقد ہونے والے استصواب کے ذریعے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کر سکیں۔ اس طرح اصل ایشو یہ نہیں کہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ مذاکرات تو پچھلے ۵۰ برسوں میں بارہا ہو چکے ہیں اور لاحاصل رہے ہیں۔ مذاکرات وہی مفید ہو سکتے ہیں جو اصل مسئلے کے بارے میں ہوں اور اس فریم ورک میں ہوں جو مسئلے کے حل پر منتج ہو سکیں۔ پاک بھارت تعلقات کی ۵۰ سالہ تاریخ شاہد ہے کہ بھارت نے جنگ بندی یا مذاکرات کا سہارا صرف اسی وقت لیا ہے جب اس پر دبائوناقابل برداشت ہوا اور محض اس دبائو سے نجات کے لیے یہ حربے استعمال کیے گئے ہیں۔ ۱۹۴۹ء اور ۱۹۶۲ء میں بھارت نے یہی کھیل کھیلا تھا اور اقوام متحدہ اور امریکہ اور برطانیہ نے اسے وہ چھتری فراہم کی جس کے تحت اس نے پناہ لی۔ تاشقند اور شملہ کے معاہدات میں مذاکرات کے راستے مسئلہ کشمیر کے حل کا وعدہ کیا گیا مگر ۳۵ اور ۲۸ سال محض طفل تسلیوں میں گنوا دیے گئے اور کوئی نتیجہ خیز بات چیت واقع نہ ہو سکی۔ ان سارے تجربات کی روشنی میں اگر کسی قابل عمل نظامِ کار کے بغیر محض امریکہ کے اثر و رسوخ یا بھارت کے وعدوں کی بنیاد پر جہادی دبائو کو ختم یا کم کیا گیا تو نتائج ماضی سے مختلف نہیں ہو سکتے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ حالات کا صحیح صحیح جائزہ لیا جائے اور اپنے اور دنیا کے دوسرے تجربات کی روشنی میں موثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
تشویش کے پہلو : مسئلہ کشمیر کے موجودہ مرحلے اور آیندہ کے خطرات اور امکانات کی تفہیم کے لیے سب سے پہلے بنیادی حقائق کو ذہن میں تازہ کرنا ضروری ہے۔
اوّل: اصل مسئلہ جموں و کشمیر کی ریاست کے مستقبل اور مستقل حیثیت کا ہے۔ بھارت کی
’’اٹوٹ انگ‘‘ کی رٹ کے باوجود اصل حقیقت یہی ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جسے اقوام متحدہ ‘ یوروپین یونین‘ او آئی سی سب نے متنازع تسلیم کیا ہے‘ خود بھارت نے ماضی میں تصفیہ طلب مانا ہے اور سب سے بڑھ کر جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے خون سے گواہی دے کر اسے متنازع تسلیم کرا لیا ہے۔ پھر معاملہ لائن آف کنٹرول اور اسے بین الاقوامی سرحد بنانے کا نہیں‘ بلکہ پوری ریاست جو ایک سیاسی اکائی تھی اور ہے‘ اسے اپنے مستقبل کو طے کرنے کا موقع فراہم کرنے کا ہے۔ اس طرح اس تنازع کے چار فریق ہیں: بھارت‘ پاکستان‘ کشمیری عوام اور اقوام متحدہ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں وہ قانونی‘ سیاسی اور اخلاقی فریم ورک فراہم کرتی ہیں جس کے ذریعے کشمیری عوام اپنا مستقبل طے کر سکتے ہیں۔ سہ فریقی مذاکرات ضروری ہیں لیکن ان کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تنفیذ کے لیے مطلوبہ اقدام ہونا چاہیے‘ کسی نئی بحث کاآغاز یا کسی نئے سامراجی کھیل کی صف بندی نہیں۔
دوم: ہمیں اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر آج بھارت ‘ اور خصوصیت سے اس کی بی جے پی کی متعصب قیادت کسی درجے میں بات چیت کا عندیہ دے رہی ہے تو اس کی وجہ نہ دل کی تبدیلی ہے اور نہ دل کی آرزو میں کوئی تغیر۔ یہ محض ان معروضی حالات کا نتیجہ ہے جو جہادی جدوجہد کے نتیجے میں رونما ہوئے ہیں اور جن کے تین پہلو ہیں:
۱- ۵۳ سال تک جبری قبضے اور گذشتہ بارہ سال میں خصوصی طور پر غیر معمولی عسکری قوت کے بے محابا استعمال اور ۷۰‘ ۸۰ ہزار بے گناہ انسانوں کے قتل کے باوجود بھارت محض عسکری قوت سے اہل جموں و کشمیر کو دبانے میں ناکام رہا ہے اور اب ہر سطح پر اس حقیقت کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ جموں و کشمیر کے مسلمان بھارت کے ساتھ کسی صورت میں اور کسی شرط پر بھی رہنے کو تیار نہیں۔ بھارت کے لیے مسئلے کا عسکری حل ممکن نہیں۔ اس کی فوجی قیادت بار بار اس کا برملا اعلان کر رہی ہے‘ اور خود فوج کے بارے میں جو رپورٹیں آرہی ہیں وہ صاف ظاہر کر رہی ہیں کہ فوج میں بغاوت‘ اضطراب‘ نفسیاتی دبائو‘ بے اطمینانی روز بروز بڑھ رہی ہے اور ملک میں بحیثیت مجموعی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ محض قوت سے کشمیر کو قابو میں نہیں رکھا جا سکتا۔ نیز معاشی اعتبار سے یہ کھیل روز بروز مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت کے مشہور ماہنامہ سیمی نار نے اپنا دسمبر ۲۰۰۰ء کا پورا شمارہ کشمیر میں پائے جانے والے ان زمینی حقائق کے لیے مخصوص کیا ہے۔ دی ہندو‘ ہندستان ٹائمز اور فرنٹ لائنکے مضامین اس بڑھتے ہوئے احساس کا مظہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب مختلف سطح پر کوئی نہ کوئی راستہ نکالنے کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن صاف اور سیدھا راستہ اختیار کرنے کے بجائے ساری توجہ اس پر ہے کہ کسی طرح جہادی دبائو ختم ہو جائے اور پھر کوئی ایسا کھیل کھیلا جا سکے جس کا سیاسی فائدہ بھارت کو ہو‘ اور اہل کشمیر کسی دوسرے جال میں پھنس جائیں۔ نیز پاکستان کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ صرف جہادی دبائو اور کشمیر کو قبضے میں رکھنے کی قیمت کا ناقابل برداشت بنتے جانا ہے جو بھارت کو مذاکرات کی طرف لا رہا ہے اور مزید لائے گا۔
۲- پاکستان کا اس مسئلے کے بارے میں مضبوط اصولی‘ موقف اور بھارت کے ساتھ پاکستان کا کھل کر ایک نیوکلیر قوت بن جانا ہے جس کی وجہ سے بھارت یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ جنگ کے دائرے کو بڑھا کر وہ اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتا۔
۳- عالمی رائے عامہ کا نیا رجحان اس علاقے کو نیوکلیر جنگ کے خطرے سے محفوظ کرنے کے لیے اسے کشمیر کے مسئلے میں دل چسپی پر مجبور کر رہا ہے۔ دنیا کا ضمیرسو رہا تھا۔ یہ صرف نیوکلیر استعداد کا اظہار تھا جس نے پی-۵ اور جی-۷ اورسلامتی کونسل اور خصوصیت سے امریکہ کو اس مسئلے میں دل چسپی لینے پر مجبور کیا اور جس کا اظہار حال ہی میں امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ہنری ہیوگ شیلٹن نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ: ’’ایشیا کے مستقبل کا فیصلہ کشمیر کی اونچی سرحدوں‘ ٹوکیو کے اسٹاک ایکسچینج کے فلور اور شنگھائی اور ہانگ کانگ کے خصوصی اقتصادی خطوں میں ہوگا‘‘۔ اس احساس کے باوجود کوشش یہ نہیں ہے کہ اصل مسئلے کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے بلکہ کوشش یہی ہے کہ کوئی ایسا متبادل راستہ نکال لیا جائے جس سے مسئلہ تحلیل (diffuse) ہو جائے۔لیکن بہرحال عالمی دبائو ایک عامل کی حیثیت سے رونما ہو رہا ہے اور اگر جہادی دبائو جاری رہتا ہے اور پاکستان کوئی کمزوری نہیں دکھاتا تو یہ عالمی دبائو بھی لازماً بڑھے گا۔ وقت جہاد کشمیر کی تحریک کے حق میں ہے۔
ان تینوں عوامل کا نتیجہ ہے کہ بھارت‘ امریکہ اور متعلقہ حلقوں میں کسی نہ کسی حل کی تلاش کی باتیں ہو رہی ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان پر روز بروز دبائو بڑھ رہا ہے جسے خصوصیت سے دو وجوہ نے تشویش ناک بنا دیا ہے۔ ایک پاکستان کی معیشت اچھی حالت میں نہیں ہے۔ قرضوں کا بوجھ‘ مہنگائی کا طوفان‘ بے روزگاری کا سیلاب‘ بیرونی پابندیوں کی کاٹ‘ ان سب کا فائدہ اٹھا کر ورلڈ بنک‘ آئی ایم ایف اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک حکومت کو گھیرنے اور کارنر کرنے میں مصروف ہیں اور پھر فوجی حکومت اپنی بین الاقوامی قبولیت میں اضافہ کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہے۔ دربدر کی ٹھوکریں کھائی جا رہی ہیں‘ مجرموں کو فرار کی راہیں دکھائی جا رہی ہیں‘ امریکہ کی خوشنودی کے لیے وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ میٹنگیں کر رہے ہیں۔ اگرچہ چیف ایگزیکٹو نے کشمیر کے مسئلے پر اصولی موقف پر قائم رہنے کا بار بار اعلان کیا ہے‘ لیکن اس کے ساتھ بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنا‘ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کنٹرول لائن سے فوجوں کی واپسی‘ بھارت کی نام نہاد یک طرفہ جنگ بندی (جب کہ مظالم کا سلسلہ جاری ہے) کے اعلان پر maximum restraint (انتہائی صبروتحمل) کا اعلان‘ ملک میں جہادی تنظیموں کے گرد دائرہ تنگ کرنے کی کوشش‘ بھارت سے تجارت کی پینگیں بڑھانے کی سعی‘ حریت کانفرنس کو بھارت سے دو طرفہ مذاکرات کی شہہ‘ وزارت خارجہ کے ترجمان کا حریت کانفرنس کو ایک قسم کے مینڈیٹ دینے کا اعلان‘ وزیر خارجہ کے پھسپھسے اور ڈانواں ڈول بیانات‘ اعلان لاہور سے نئی وابستگی اور بھارت کی طرف سے ٹریک ٹو اور ٹریک تھری ڈپلومیسی کرنے والے سابق فوجیوں‘ دانش وروں اور خواتین کی یلغار اور خود ہماری طرف سے نیازنائیک اور ڈاکٹر مبشر جیسے حضرات کی بھاگ دوڑ اور مخصوص دانش وروں اور کالم نگاروں کا ’’لچک‘‘ (flexibility) اور ’’حقیقت پسندی‘‘ (realism) کا درس --- یہ سب وہ چیزیں ہیں‘ جو تشویش میں اضافہ کرتی ہیں اوراصولی موقف کو کمزور کرنے والی ہیں۔
اوسلو ماڈل : اس پورے تناظر میں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس چیز کو اوسلو عمل (Oslo process) کہا جاتا ہے وہ ہے کیا؟ اور اس کے مسئلہ کشمیر کے لیے کیا مضمرات ہیں۔
فلسطین کا مسئلہ بھی کشمیر کے مسئلے کی طرح اقوام متحدہ کا عطیہ اور ۵۲ سال پرانا ہے۔ کشمیر اور فلسطین دونوں کے سلسلے میں تین بار جنگ کی نوبت آ چکی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ فلسطین کے میدانِ جنگ میں اسرائیل کو ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۷ء میں مکمل بالادستی اور ۱۹۷۲ء میں جزوی بالادستی رہی جب کہ پاکستان کو ۱۹۷۱ء میں ضرور شکست ہوئی مگر ۱۹۶۵ء اور پھر ۱۹۸۷ء کی جنگی مشقوں اور ۱۹۹۸ء میں نیوکلیر استعداد کے اظہار کے نتیجے میں ہماری اور عربوں کی عسکری کارکردگی (performance) بڑی مختلف رہی ہے اور الحمدللہ پاکستان ایک مستحکم پوزیشن میں ہے جو بھارت کی کسی بھی جارحیت کے خلاف ایک دفاعی حصار ہے۔
کیمپ ڈیوڈ کا عمل ۱۹۷۸ء میں اور اوسلو ۱۹۹۳ء میں شروع ہوا اور ۲۰۰۰ء میں عملاً اس پورے کھیل نے دم توڑ دیا اور بالآخر فلسطینیوں کو انتفاضہ الاقصیٰ کا آغاز کرنا پڑا جس نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین میں ایک نئی روح پھونک دی ہے‘ اور اسرائیل کے ٹینک اور ہیلی کاپٹر نوجوان کے پتھروں کے آگے بے بس ہوتے جا رہے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل کے اہم پہلوئوں کی مختصر وضاحت کردی جائے تاکہ فلسطین کے اس تجربے سے سبق لیا جا سکے جسے کیمپ ڈیوڈ / اوسلو عمل کہا جاتا ہے۔ اس کے اہم نکات یہ ہیں:
۱- مسئلہ فلسطین کے ایک جامع اور ہمہ جہتی حل (comprehensive solution) کے بجائے قدم بہ قدم (step by step) اور ایک ایک جزو کو الگ الگ لے کر (piecemeal) مرکزی مسئلے/ مسائل کے حل کی طرف مراجعت کی جائے۔ مرکزی مسئلے اور مستقل حیثیت کو سب سے آخر میں لیا جائے۔ اعتماد قائم کرنے والے اقدام کیے جائیں۔ زمین کے ٹکڑوں کے بدلے امن کی ٹکڑیاں حاصل کی جائیں اور اسی طرح ایک لمبے عرصے میں آہستہ آہستہ کوئی حل نکالا جائے۔
۲- اقوام متحدہ اور اس کی قراردادوں کو پس پشت رکھا جائے اور مذاکرات کے ذریعے نئے حل تلاش کیے جائیں۔
۳- عالمی اداروں اور دوسری حکومتوں کو باہر رکھا جائے۔ صرف اسرائیلی اور فلسطینی مسئلے کا حل نکالیں۔ صرف امریکہ مددگار اور مصالحت کا کردار ادا کرے۔ دوسرے عرب ممالک کو ایک ایک کر کے الگ کر دیا جائے۔ البتہ ان سب ممالک سے اسرائیل کے الگ الگ معاہدے ہوں۔ ان سے اسرائیل کے امن معاہدے ہو جائیں اور اسرائیل کے جواز کو وہ قبول کر لیں۔ سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کیے جائیں اور اس طرح فلسطینیوں اور مسئلہ فلسطین پوری عرب اور اسلامی دنیا سے کاٹ کر ایک کونے میں لگا کر تنہا کر دیا جائے۔ اس طرح فلسطین کے حل میں ان کا کوئی کردار نہ ہو بلکہ مسئلے کو دو فریقی مذاکرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے جنھیں اسرائیل جس طرح چاہے جوڑ توڑ کر کے اپنے حق میں استعمال کرے۔
۴- فلسطینی ریاست کا قیام‘ بیت المقدس کی حیثیت اور حاکمیت اعلیٰ (sovereignty) کے مسائل کو مؤخر کیا جائے اور ساری توجہ محدود بلدیاتی اختیارات‘ جزوی کنٹرول اور معاشی ترقی و تجارت پر مرکوز کی جائے۔
۵- ’’تشدد کا خاتمہ‘‘ کو سب سے زیادہ اہمیت کا مسئلہ بنا دیا جائے۔ اس کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی ذمہ داری ہو کہ وہ اسرائیل کے تحفظ کی ضامن بنے اور جہادی قوتوں کو قابو میں کرے۔ آزادی کی تحریک کو تشدد (terrorism)قرار دے کر‘ امن اور اسرائیل کے تحفظ کو سلامتی کی مشترک حکمت (joint security strategy) کے تابع کیا جائے۔
۶- امن کے اس طویل عمل کے دوران اسرائیل کو یہ موقع حاصل رہا کہ عربوں کے علاقوں میں نئی نئی آبادیاں بنا لے اور پورے فلسطین کے ۷۸ فی صد پر تو اسے پہلے ہی (یعنی ۱۹۷۶ء سے قبل سے) مکمل قبضہ اور حاکمیت حاصل ہے البتہ رہے سہے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر مشتمل ۲۲ فی صدمیں سے بھی پہلے صرف ۳ فی صد اور پھر آہستہ آہستہ مزید ۲۷ فی صد پر صرف قبضہ (بغیر حاکمیت) فلسطینیوں کو دیا جائے۔ عملاً اس وقت بھی مغربی کنارے پر ۴۰ فی صد اور غزہ کی پٹی میں ۸۰ فی صد فلسطینیوں کے تحت آیا ہے۔ باقی پر اسرائیل ہی کا قبضہ ہے اور ان علاقوں میںاسرائیلی آبادکاروں (settlers) کی تعداد میں کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو کے معاہدوں کے بعد ۲ لاکھ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ نیز تمام سڑکوں اور راستوں پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ ہے قدم بہ قدم حل کی عملی شکل!
۷- ہر نئے مرحلے پر فلسطینیوں سے نئی مراعات (concessions) کا مطالبہ۔
۸۔ فلسطینیوں کی اسرائیل پر سیاسی‘ عسکری اور معاشی محتاجی (dependence)۔
۹- پہلے آخری سمجھوتے کے لیے ۱۹۹۹ء کی حد طے کی گئی تھی مگر اب آخری مراحل کو مزید تین سے
چھ سال کے لیے مؤخر کرنا اور کیمپ ڈیوڈ کے ۲۲ برس بعد بھی اصل مسئلے یعنی فلسطینی حاکمیت‘ بیت المقدس کی حیثیت اور ۵۰ لاکھ فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے حق کے مسئلے کو لٹکائے رکھنا۔
۱۰- اس پورے عمل میں نئے نئے تصورات پیش کیے گئے ہیں مثلاً اقتدار بغیر حاکمیت اعلیٰ(control without sovereignty)‘مشترک حاکمیت اعلیٰ (joint sovereignty) ‘منقسم حاکمیت اعلیٰ (divided sovereignty) ۔حالانکہ یہ سب محض خوش نما الفاظ اور صریح دھوکہ ہیں۔
دو عشروں کے تجربات کے بعد فلسطینیوں کو اور خود مغربی اقوام کو تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ یہ تجربہ صرف اسرائیل کے مفاد میں تھا اور عربوں کو شکست اور ہزیمت کے سوا اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ حال ہی میں خود شیرون نے اعلان کیا ہے کہ ’’اوسلو اب مردہ ہے‘‘ (Oslo is dead!)۔ چند مغربی تجزیہ نگاروں کی رائے بھی قابل ملاحظہ ہے۔
رابرٹ فسک (Robert Fisk) لندن کے روزنامہ انڈی پنڈنٹ کا شرق اوسط کا نمایندہ ہے اور عالمی سیاست کا ایک ماہر شمار ہوتا ہے وہ لکھتا ہے:
یہ سال تھا کہ جھوٹ بالکل واضح ہو گئے۔ امن کا عمل (peace process)‘ پس قدم (back track)‘ متنازع (disputed) اور ایک طرح کی حاکمیت اعلیٰ (sort of sovereignty) کی اصطلاحیں اتنی ہی بے معنی ثابت ہوئیں جتنا کہ ان کا ضرورت سے زیادہ استعمال امریکی محکمۂ خارجہ کے سفارت کاروں اور صحافیوں نے کیا۔ اوسلو کے معاہدہ امن کی ناانصافی‘ عرب سرزمین پر مسلسل جاری قبضہ‘ عربوں کو مشرقی یروشلم واپس کرنے سے اسرائیل کا صاف انکار‘ عرب سرزمین پر یہودی آباد کاری کی پُرجوش توسیع بالآخر اس سب کے خلاف فلسطینی اٹھ کھڑے ہوئے (۲۹ دسمبر ۲۰۰۰ء)۔
ایک عیسائی فلسطینی مصنف اور دانش ور پروفیسر ایڈورڈ سعید (Edward Said) بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا:
فلسطینیوں کی حیثیت سے ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ اس اوسلو باب کو جتنی تیزی سے ممکن ہو‘ بند کر دیں اور اپنے اصل کام کی طرف لوٹ آئیں جو آزادی کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہے جو اہداف سے قریب تر اور اپنے طریقۂ کار میں واضح ہو۔ جنوبی افریقہ میں نسلی تفریق کو اس لیے شکست ہوئی کہ کالوں کے ساتھ ساتھ گوروں نے بھی اس کے خلاف لڑائی لڑی (روزنامہ ‘ ڈان‘ جنوری ۸‘ ۲۰۰۰ء)۔
فلسطین کے مسئلے کا حل اوسلو نہیں‘ انتفاضہ ہے۔ دی گارڈین کا شرق اوسط کا نمایندہ پوری عرب دنیا کا فیصلہ یوں بیان کرتا ہے:
اس دوسری انتفاضہ نے کئی برسوں میں پہلی بار فلسطینیوں کو موقع دیا ہے کہ اسرائیل سے اقدامی کارروائی(initiative) چھین لیں۔ اس طرح اب فلسطینی قیادت زیادہ توانا بھی ہے اور زیادہ متحمل بھی۔ فلسطینی بالعموم اور خاص طور پر بعض زیادہ انقلابی نوجوان رہنما اور بنیاد پرست بھی‘ سب
حالیہ مہینوں کی قربانیوں کے بعد زیادہ پُرعزم ہیں کہ ایسی کوئی چیز قبول نہ کریں جو ایک سیل آئوٹ (sell out)سمجھی جائے (دی گارجین مارٹن‘وولاکاٹ‘ ۲۹ دسمبر ۲۰۰۰ء)۔
فلسطین کے بارے میں اوسلو کا یہ حشر اور انتفاضہ کا پُرجوش احیا کشمیر کی تحریک آزادی کے لیے بھی ایک انتباہ اور جہادی تحریک کے تحفّظ اور ترقی کے لیے ایک نشان راہ ہے۔ اسرائیل کے سابق وزیراعظم یازک رابن کی بیوی لیہ رابن (Leah Rabin) نے اپنے شوہر کی سوانح (Rabin: Our life, His Legacy) میں صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ رابن نے بحیثیت کمانڈر اِن چیف عرب انتفاضہ کے خلاف جبر و قوت کا ہر حربہ استعمال کیا لیکن بالآخر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسرائیل ایک ایسی قوم پر حکمرانی نہیں کر سکتا جو اس کے اقتدار میں رہنے کے لیے تیار نہ ہو اور یہی وہ چیز ہے جس نے اسے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا قائل کیا۔
تاریخ کا یہی فیصلہ ہے کہ صرف آزادی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے والے ہی آزادی حاصل کر سکتے ہیں اور اس کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے: لا یقطع الحدید الا الحدید۔ یعنی لوہا ہی لوہے کو کاٹتا ہے۔ جہاد ترک کر کے مذاکرات لاحاصل ہوتے ہیں۔ جہاد کمزور کر کے آپ دشمن کے لیے صرف تر نوالا بن سکتے ہیں۔ ہاں اگر آپ کا عسکری دبائو موثر ہو‘ اصولی موقف مضبوط ہو‘ آپ کی صفوں میں اتحاد اور آپ کی فکر میں پختگی ہو تو مذاکرات کی میز پر بھی آپ غالب اور کامیاب رہ سکتے ہیں ورنہ جنگ کے میدانوں میں حاصل کی ہوئی بالادستی امن کے مذاکرات کی میز پر شکست میں بدل سکتی ہے۔
مسئلہ کشمیر میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی دل چسپی اور اس کے ساتھ امریکہ کی بھارت سے دوستی اور روز افزوں تزویری شراکت (strategic partnership) حتیٰ کہ نیوکلیر تجربے کے بعد عائد ہونے والی پابندیوں میں تخفیف (جب کہ پاکستان پر یہ پابندیاں اور بھی سخت کر دی گئی ہیں) اور بھارت اور اسرائیل کے تعلقات اور ان کے درمیان معاشی ہی نہیں عسکری اور خفیہ معلومات کے امور میں تیزی سے اضافہ‘ اہم شخصیات کے دورے‘ اور نام نہاد تشدد کے خلاف تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کی تیاری کے پس منظر میں کشمیر پر اوسلو عمل مسلّط کرنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ فلسطینی تو اوسلو کو دفن کر رہے ہیںاور کچھ کشمیری اور پاکستانی دانش ور اوسلو عمل کے پرچارک بن رہے ہیں۔ آج فلسطین کا چپہ چپہ اور اہل فلسطین کا ہر ہر زخم پکار پکار کر کہہ رہا ہے ؎
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنھیں چاہ کے ارماں ہوں گے
پس چہ باید کرد: پاکستانی حکومت‘ قوم اور کشمیری قیادت اگر اس سبق کو سمجھ لے اور بھارت سے اوسلو نہیں‘ جہاد کی قوت کے سائے تلے اپنے حقوق حاصل کرنے کی بات کرے تو ان شا ء اللہ کامیاب ہو گی۔ عرب نیوز کے نمایندے نے سری نگر کے ایک ۲۱ سالہ نوجوان طالب علم الطاف حسین کا بھارت کی یک طرفہ جنگ بندی پر تبصرہ شائع کیا ہے جو ہماری وزارت خارجہ اور بہت سے دانش وروں کی نکتہ سنجیوں پر بھاری ہے:
بھارتی حکومت کے اقدام کو کشمیری گروپوں نے جس طرح حقارت سے ٹھکرایا ہے‘ الطاف حسین نے اس کی بڑی تحسین کی ہے: ’’ہماری جدوجہد آزادی کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھارتی اقدام کا یہ بہت اچھا توڑ ہے۔ ہمارے لیے تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بھارت پر بھروسا نہ کریں‘‘ (عرب نیوز‘ نومبر ۲۴‘ ۲۰۰۰ء)۔
ہم حکومت‘ وزارت خارجہ‘ مجاہد رہنمائوں اور حریت کانفرنس کے قائدین کو یہی مشورہ دیں گے مذاکرات ضرور کریں مگر:
--- فلسطینیوں کے اوسلو تجربے سے سبق سیکھ کر‘
--- جہادی دبائو کو مطلوبہ سطح پر برقرار رکھ کر‘
--- اپنے اتحاد اور سیاسی قوت کو مجتمع رکھ کر‘
--- اپنے اصولی موقف پر مضبوط رہ کر‘
--- اپنی قانونی اور سیاسی بنیاد سے انحراف کیے بغیر‘
--- اپنے عوام کو اعتماد میں لے کر ‘اور
--- جزوی‘ قدم بہ قدم طریقے کے بجائے اصل اور مرکزی مسئلے پر توجہ مرکوز کر کے‘
___ ایک جامع اور مکمل پیکج پر
___ اور دو فریقی نہیں سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے!
ہمیشہ یاد رکھیے:
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
پاکستان کی ۵۳ سالہ تاریخ میں قومی سطح پر ہماری قیادتوں نے غلطیاں‘ زیادتیاں‘ قانون کی خلاف ورزیاں اور مظالم‘ تو بے شمار کیے ہیںلیکن یہ سانحہ پہلی بار موجودہ حکومت کے ہاتھوں رونما ہوا ہے کہ ایک بااثر قومی مجرم اور اس کے پورے گھرانے کو اسلامی اصول و احکام‘ ملکی دستور و قانون‘ قومی رائے اور جذبات و احساسات اور عالمی سطح پر جرم و سزا کے معروف ضابطوں کو یکسرنظرانداز کر کے شرم ناک سودے بازی کر کے ملک سے فرار کرا دیا گیا بلکہ فرار کی شاہانہ سہولتیں مہیا کی گئیں اور المیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ موجودہ حکومت کے ہاتھوں ہوا اور عدالتوں کی دی ہوئی سزائوں کو ’’معاف‘‘ یا نظرانداز کر کے اسے ’’ملک و قوم کے بہترین مفاد میں فیصلہ‘‘ قرا ردینے کی جسارت کی گئی۔
بلاشبہ ۱۰ دسمبر ۲۰۰۰ء ہماری تاریخ کا ایک تاریک ترین دن تھا۔
یہ اقدام ایک ناقابل معافی قومی اور اخلاقی جرم ہے۔ معاملہ افراد کا نہیں‘ اصولوں کا ہے‘ ہمیں نہ نوازشریف سے کوئی دشمنی ہے اور نہ پرویز مشرف سے کوئی پرخاش۔ لیکن یہ قوم اور ملک ہمیں عزیز ہیں۔ اسلام کے اصول و احکام اور ملک کا دستور اور قانون ہماری نگاہ میں وہ میزان ہیں جن پر ہر کسی کے عمل کو پرکھا جانا چاہیے اور جو بھی ان اقدار کو پامال کرے جن پر ہمارا ایمان‘ ہماری آزادی اور ہماری سلامتی کا انحصار ہے اس پر گرفت ایک دینی اور قومی فریضہ ہے۔ اس سلسلے میں کسی بھی درجے کی مداہنت دنیا میں بربادی اور آخرت میں خسارے کا باعث ہو گی۔ یہی جذبہ ہے جو ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اس گھنائونے اقدام کا بھرپور محاسبہ کریں‘ اس کے مضمرات سے ملک و ملت کو آگاہ کریں اور قوم کو مزید تباہی سے بچنے کے راستے کی نشاندہی کریں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسلام کی تعلیمات اور انسانی تاریخ کے تجربات کا نچوڑ ایک جملے میں بیان فرما دیا ہے کہ ’’معاشرہ کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتاہے لیکن انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاے کرام اور پھر اپنے آخری پیامبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی زمین پر جس مقصد و ہدف کے حصول کے لیے بھیجا وہ تھا: تعلیم کتاب و حکمت کے ساتھ انسانوں کے درمیان عدل وانصاف کا قیام اور اسی بنیاد پرمعاشرے اور ریاست کی تعمیرو تشکیل ۔
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج (الحدید ۵۷:۲۵)
ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا ‘اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
حضور اکرمؐ کی زبانی صاف الفاظ میں اعلان فرمایا :
فَلِذٰلِکَ فَادْعُ ج وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ ج وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ ج وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ ج وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ ط (الشوریٰ ۴۲:۱۵)
اے محمدؐ ‘ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو‘ اور جس طرح تمھیں حکم دیا گیا ہے اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائو‘ اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو‘ اور ان سے کہہ دو کہ: اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں۔
مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے :
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط (النساء ۴:۵۸)
مسلمانو‘ اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔
اسلام اس معاملے میں اتنا حسّاس ہے کہ خود اپنی ذات‘ باپ بیٹے‘ امیر غریب اور دوست و دشمن میں بھی کوئی تمیز گوارا نہیں کرتا۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ ج اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا قف فَلاَ تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا ج وَاِنْ تَلْوٗآ اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا o (النساء ۴:۱۳۵)
اے لوگو‘ جو ایمان لائے ہو ‘ انصاف کے علم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتے داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب‘ اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو‘ اللہ کو اس کی خبر ہے۔
ایک مسلمان ہمیشہ عدل و انصاف کا علم بردار ہوتا ہے--- دوست ہی نہیں دشمن سے بھی عدل سے پیش آنا مسلمان کا شیوہ ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِ ز وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْا قف ھُوَ اَقْرَبُ لِلتّٰقْوٰی ز وَاتَّقُوْا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ o (المائدہ ۵:۸)
اے لوگو‘ جو ایمان لائے ہو‘ اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو‘ یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتاہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
انصاف کے معاملے میں اسلام کی حسّاسیت کا ایک بڑا ہی اہم اور نازک پہلو یہ ہے کہ وہ جرم و سزا کو قانون کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے اور اس میں نہ کوئی اضافہ گوارا کرتا ہے اور نہ کمی۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی جا رہی ہے :
اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰک اللّٰہُ ط وَلاَ تَکُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًا O وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا O وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا O (النساء ۴:۱۰۵-۱۰۷)
اے نبیؐ‘ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمھاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہِ راست اللہ نے تمھیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ تم بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو‘ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے۔ جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں تم ان کی حمایت نہ کرو۔ اللہ کوایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔
جرم کے ثبوت کے بعد اس کے مرتکبین کے لیے نرمی اور رعایت کی بات انصاف کے منافی اور جرم و سزا کے قانون کو غیر موثر کرنے کے مترادف ہے۔ زنا کی سزا کے باب میں قرآن کا صاف ارشاد ہے:
وَّلَاتَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ج (النور۲۴:۲)
اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔
یہی اصولی بات قتل کے سلسلے میں بیان فرمائی:
یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ط اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی ط فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْ ئٌ فَاتِّبَاعٌم بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ط ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ ط فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ O وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ O (البقرہ ۲:۱۷۸-۱۷۹)
اے لوگو‘ جو ایمان لائے ہو‘ تمھارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے‘ غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے‘ اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص لیا جائے۔ ہاں‘ اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو‘ تو معروف طریقے کے مطابق خوں بہا کا تصفیہ ہونا چاہیے اور قاتل کولازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے۔یہ تمھارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے‘ اس کے لیے دردناک سزا ہے--- عقل و خرد رکھنے والو‘ تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔
واضح رہے کہ خوں بہا کا حق واختیار حکومت کو نہیں‘ جس کا حق مارا گیا ہے اس کو حاصل ہے۔ جرم و سزا کے بارے میں امیر غریب‘ عالی نسب اور عامی‘ بااثر اور کمزور میں تمیز و فرق اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
’’لوگو‘ تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں‘ وہ ہلاک ہو گئیں اس لیے کہ جب ان کا کوئی عزت والا چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے تھے‘‘۔ اور آپؐ نے فرمایا کہ ’’اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ قطع کر دیے جاتے‘‘۔ سزا میں تخفیف اور اضافہ بھی انصاف کے منافی ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ:
’’قیامت کے روزایک حاکم لایا جائے گا جس نے حد میں ایک کوڑا کم کر دیا تھا۔ پوچھا جائے گا کہ یہ حرکت تو نے کیوں کی تھی؟ وہ عرض کرے گا کہ آپ کے بندوں پر رحم کھا کر۔ ارشاد ہو گا تو ان کے حق میں مجھ سے زیادہ رحیم تھا؟ پھر حکم ہوگا لے جائو اسے دوزخ میں۔ ایک حاکم لایاجائے گا جس نے حد پر ایک کوڑے کا اضافہ کر دیا تھا۔ پوچھا جائے گا تو نے یہ کس لیے کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا تاکہ لوگ آپ کی نافرمانی سے باز رہیں۔ ارشاد ہوگا: اچھا تو ان کے معاملے میں مجھ سے زیادہ حکیم تھا؟ پھر حکم ہوگا لے جائو اسے دوزخ میں (بحوالہ تفسیر کبیر ‘ ج ۶‘ ص ۲۳۵ ‘ تفہیم القرآن‘ ج ۳‘ ص ۳۴۴)
ان احادیث کا تعلق حدود سے ہے لیکن اس سے یہ اصول نکلتا ہے کہ مجرم کا جرم ثابت ہونے کے بعد انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں۔ اس کو بلادلیل اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر نہ چھوڑ دیا جائے--- اور اس کی سزا میں کمی نہ کی جائے بلکہ پورا عمل عدل و انصاف کے مطابق ہو اور جس پر جو حق واجب ہے اسے بلاکم و کاست وصول کیا جائے اور حق داروں کوپہنچایا جائے۔ اسی لیے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے فرمایا تھا کہ ان کی نگاہ میں ہر قوی کمزور ہے جب تک کہ اس سے حق دار کے حق واپس نہ لے لیں اور ہر محروم قوی ہے جب تک کہ اس کا حق اسے دلوا نہ دیں۔
جس سرزمین پر عدل کا نظام موجود نہ ہو‘ جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو‘ جہاں طاقت ور محض اپنی دولت اور اثر و رسوخ کی بنا پر حق داروںکا حق مار کر دندناتا پھرے اور مظلوم اپنے حق سے محروم رہے اُسے اسلامی تو کیا‘ ایک مہذب معاشرہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ چرچل نے دوسری جنگ کے عین ان لمحات کے موقع پر جب برطانیہ کا ہر گھر جرمنی کی توپوں کی زد میں تھا‘ کہا تھا : ’’یہ ملک محفوظ ہے اگر اس کا عدالتی نظام ٹھیک ٹھیک کام کر رہا ہے اور لوگوں کو انصاف مل رہا ہے‘‘۔
جس معاشرے سے انصاف اٹھ جائے سمجھ لیجیے کہ اس کی زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں۔
موجودہ حکومت نے نواز شریف اور ان کے خاندان کو جس طرح معافی دی ہے اور اعزاز کے ساتھ ملک سے رخصت کر دیا ہے اس عمل میں اس نے ایک نہیں حسب ذیل سات بڑے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور اسے ان سب ہی کے بارے جواب دہی کرنا ہو گی:
۱- عدلیہ کی تضحیک اور قوم سے بے وفائی: پہلا جرم یہ کہ ایک ایسے شخص کو ‘جسے ملک کی عدالتوں نے کم از کم دو مقدمات میں مجرم قرار دے کر سنگین سزائیں دی تھیں‘ بلاجواز و اختیار معافی دے کر انصاف کا خون کیا ہے۔ حکومت خود ان معاملات میں مدعی تھی اور ایک مقدمے کے بارے میں عدالت سے سزا میں کمی نہیں‘ مزید اضافے کی درخواست کر رہی تھی۔ نیز مختلف عدالتوں میں اسّی (۸۰) کے قریب دوسرے مقدمات دائر ہو گئے تھے یا دائر کیے جانے کے مراحل میںتھے۔ ایک خاندان جس کے بارے میں ملک اور عالمی اخبارات اور رسائل میں اربوں روپے کے غبن اور لوٹ مارکی شہادتیں پیش کی جا رہی تھیں اور خود حکومت ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے اقدام کے جواز میں جن جرائم کا شب و روز ذکر کر رہی تھی اور جن کی بنیادپر عدالت عالیہ نے ۱۲ اکتوبر کے اقدام کو ایک گونہ جواز (validation) فراہم کیا تھا‘ ان سب سے بیک چشم صرفِ نظر کرکے محض چند ایسے اثاثوں کو اپنی تحویل میں لے کر‘ جن کی مالیت اصل لوٹ کھسوٹ کاعشر عشیر بھی نہیں‘ اس نے شدید ترین بدعنوانی اور بے انصافی کاارتکاب کیا ہے۔ جرم کرنے والے اس جرم پر پردہ ڈالنے یا مجرم کو بچانے والے اور حق دار کو (جو اس معاملے میں پوری پاکستانی قوم ہے محض کوئی حکمران نہیں) اپنے حق سے محروم کر دینے والے بھی جرم میں اسی طرح شریک اور ذمہ دار ہیں جس طرح اس کا اصل ارتکاب کرنے والے۔ نواز شریف ہوں یا بے نظیر یا کوئی اور سابق حکمران--- ان پر الزام ہی یہ ہے اور عدالتوں اور قوم کے اجتماعی ضمیر نے اس الزام کی توثیق کی ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے دورِ اقتدار میں امانتوں میں خیانت کی ہے‘ اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے‘ دستور اور قانون کی دھجیاں بکھیر دی ہیں‘ قومی خزانے کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور ملکی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ ملکی دولت بیرون ملک منتقل کی ہے اور ملک و قوم کو اپنے ہی وسائل سے محروم کر کے غربت اور افلاس اور بے روزگاری کے جہنم میں دھکیل دیا ہے۔
نواز شریف صاحب ۱۹۸۱ء سے کسی نہ کسی صورت میں برسرِ اقتدار رہے ہیں۔ اس زمانے میں ان کا خاندان ملک کا پانچواں امیر ترین خاندان بن گیا۔ ان بیس سال میں محض چند لاکھ کی حیثیت والے اس خاندان کے اثاثوں کی مالیت ۱۰ ارب روپے سے زیادہ ہو گئی اور ۵ سو ملین ڈالر سے زیادہ (ایک اندازے کے مطابق ایک بلین ڈالر) ملک کے باہر منتقل کرنے کا مرتکب ہوا۔ اس عرصے میں اس خاندان کے ۳۴ صنعتی یونٹ وجود میں آئے جو ۳۰ چھوٹے بڑے مالیاتی اداروں سے قرض لے کر اور قرض کی بڑی بڑی رقوم معاف کرا کر قائم کیے گئے۔ صرف ایک حبیب بنک سے ایک ارب روپے قرض لیے گئے۔ دوسرے بنکوں اور مالیاتی اداروں کے واجب الادا قرضوں کی مالیت ۵ ارب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ ارب روپے سرکاری خزانے کے ٹیکسوں کی شکل میں واجب الادا بتائے جا تے ہیں (ملاحظہ ہو‘ جنگ‘ ۱۱ دسمبر ۲۰۰۰ء- جو لندن کے اخبارات گارڈین اور انڈی پنڈنٹ کی رپورٹوں پر مبنی ہیں جن کی صحت پر اخبارات نے شریف خاندان کوعدالتی کارروائی کا چیلنج دیا تھا مگر انھوں نے ان اخبارات کے خلاف کوئی عدالتی چارہ جوئی نہیں کی)۔
جس خاندان نے ملک و قوم کو اس بے دردی سے لوٹا ہو‘ اسے معافی دینے اور ملک سے فرار کی اجازت دینے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں تھا۔ یہ اقدام اسلام‘ دستورِ پاکستان‘ قانونِ احتساب اور سب سے بڑھ کر پاکستان اور پاکستانی قوم سے کھلی کھلی بے وفائی ہے۔ معافی اور فرار کا ڈراما رچا کر موجودہ حکومت بھی ان جرائم میں اتنی ہی شریک اور ذمہ دار ہو گئی ہے جتنا ان کا ارتکاب کرنے والے ہیں۔
۲- دستور کی کھلی خلاف ورزی: دوسرا جرم دستور کی کھلی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دستور پاکستان کی دفعہ ۴ میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ: ہر شہری خواہ کہیں بھی ہو‘ اور کسی دوسرے شخص کا جو فی الوقت پاکستان میں ہو‘ یہ ناقابل انتقال حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ حاصل ہو اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔
اسی طرح دفعہ ۱۵ میں ہر شہری کے لیے نقل و حرکت اور پاکستان میں کہیں بھی قیام کا حق تسلیم کیا گیا ہے الا یہ کہ کسی قانون کے تحت کسی کو اس سے محروم کیا جائے۔ دستور میں ملک بدری (deportation) کا کوئی حق حکومت کو نہیں دیا گیا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی شخص کو اس کی شہریت سے محروم کیے بغیر ملک سے نہیں نکالا جا سکتا اور یہ عمل بھی عدالتی فیصلے کے تحت ہو سکتا ہے ‘محض انتظامی حکم (executive order) سے نہیں۔ دفعہ ۲۵ میں تمام شہریوں کی برابری اور قانون کے مساوی تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ اسی طرح دستور کی دفعہ ۴۵ میں معافی یا سزا میں کمی کا جو حق دیا گیا ہے وہ صرف عدالتوں کے آخری فیصلے کے بعد ہے اور دستوری اور قانونی عرف کے مطابق بالعموم صر ف موت کی سزاکے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اب دیکھیے اس اقدام کی صورت میں کس طرح دستور کی ان تمام دفعات کی کھلی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
(i) جن دو مقدمات کی سزائیں معاف کی گئی ہیں وہ ابھی عدالتوں میں زیرِغور ہیں اور حکومت اور ملزم دونوں کی طرف سے اپیل کے درجے میں ہیں۔ دستور کی دفعہ ۴۵کا اطلاق ایسے معاملات پر نہیں ہوتا۔
(ii) ابھی ان ملزموں کے خلاف ۸۰ کے لگ بھگ مقدمات احتساب کی اور دوسری عدالتوں میں پیش ہونے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان سارے معاملات میں یک طرفہ طور پر ملزمان کو فرار کی راہ دکھانا (بلکہ عملاً فرار کرانا) دستور اور قانون کا خون کرنے اور جرم کی سرپرستی اور اس میں شرکت کے مترادف ہے۔
(iii) ایک ہی جرم میں شریک مختلف مجرموں کے درمیان تمیز اور فرق دستور اور اسلامی اصول کے منافی ہے۔
(iv) ملک بدری کی کوئی سزا کتاب قانون میں موجود نہیں۔ ایسی کوئی سزا دینے کا کوئی مجاز نہیں جو قانون کی نگاہ میں سزا نہ ہو۔ اسی طرح ملک بدر کرنے یا ملک میں واپسی کے حق سے کسی کو عدالتی کارروائی کے بغیر محروم نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ یہ بھی مشتبہ ہے کہ عدالتی فیصلے کے ذریعے بھی کسی کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ آنے والے کو قانون کے مطابق گرفتار تو کیا جا سکتا ہے لیکن ایک شہری کو ملک میں داخلے کے حق سے محروم کرنے کا اختیار دستور اور قانون کے تحت کسی کو حاصل نہیں۔
(v) اگرچند ملزموں کو اس طرح سودا بازی کے ذریعے سرکاری اہتمام میں ملک کے‘ باہر عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے لیے بھیجا جا سکتاہے تو پھر کس قاعدے اور قانون کے مطابق دوسروں کو اس ’’حق‘‘ سے محروم رکھا جا سکتا ہے یا ان افراد کو زبردستی ملک میں لایا جا سکتا ہے جو ایسے ہی جرائم کا ارتکاب کر کے ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ خود دوسرے ممالک سے ایسے لوگوں کے بطور ملزم حوالگی (extradition) کا بھی کیا اخلاقی جوازباقی رہ جاتا ہے؟
یہ وہ چند پہلو ہیں جن کے بارے میں دستور اور خود اسلام کے اصول انصاف کی کھلی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
۳- بااثر اور کمزور میں فرق کی شرم ناک مثال : تیسرا بڑا جرم اس اقدام کے ذریعے یہ کیا گیا ہے کہ امیر اور غریب‘ بااثر اور کمزور‘ بیرونی سرپرستی رکھنے والے اور بیرونی سرپرستی سے محروم انسانوں کے درمیان فرق کی ایک شرم ناک مثال قائم کی گئی ہے۔ نیز مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے کے درمیان تمیز و فرق کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ ایک ہی جرم کے مرتکب انسانوں کے درمیان تمیز اور فرق کا جو رواج ازمنہ قدیم کے براہمنی‘ یا ایسے ہی دوسرے ظالمانہ اور جابرانہ نظاموں میں پایا جاتا تھا اور جسے اسلام اور خود دورِحاضر کے قانونی نظاموں نے ختم کر دیا تھا اس کا بدقسمتی سے ہمارے ملک میں احیا کیا جا رہا ہے۔ بے نظیر‘ الطاف اور ایسے دوسرے بہت سے افراد تو خود ملک سے بھاگ گئے ہیں لیکن یہ ’’اعزاز‘‘ اس حکومت کو اور امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے بادشاہوں کے منظورنظر اس گھرانے کو جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں حاصل ہوا ہے کہ قومی مجرموں کو قانون اور انصاف کی گرفت سے نکال کر لوٹی ہوئی دولت سے شادکام ہونے کے لیے شاہی انتظام میں رخصت کر دیا گیا ہے۔ چند ہزار روپوں کا غبن کرنے والے تو جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور موٹر سائیکل پر محض دہری سواری کرنے والے تو پابند سلاسل ہیں لیکن اربوں روپے لوٹنے والے اور پوری قوم کو غلام بنانے والوں کے لیے آرام کے ساتھ سرکاری سرپرستی میں فرار کا اہتمام کیا گیا ہے۔ قانون صرف کمزوروں اور چھوٹے لوگوں کے لیے ہے۔ بڑی مچھلیوں پر اسے کوئی اختیار حاصل نہیں۔ یہ انصاف کا خون اور فرعونی روایات کا فروغ ہے۔ تفو!بر تو چرخ گرداں تفو!
۴- احتساب کے نام پر مذاق: فوجی حکومت اس دعوے کے ساتھ وجود میں آئی تھی کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے گی‘ لوٹی ہوئی دولت ہی واپس نہیں لائے گی بلکہ لوٹنے والوں کو بھی دنیا کے کونے کونے سے پکڑ کر قانون کی گرفت میں لے کر قرار واقعی سزادے گی۔ لیکن اس اقدام کے ذریعے اس نے قومی دولت کو لوٹنے والے سب سے بڑے ٹولے کو باعزت معافی دے کر ملک سے خود ہی رخصت کر دیا۔ اب دوسروں کی گرفت کا کیا جواز باقی رہا ہے؟ اس اقدام نے احتساب کے پورے عمل کو محض ایک ڈھونگ اور تماشے میں بدل دیا ہے۔ اب احتساب کے موجودہ نظام کا کوئی سیاسی‘ قانونی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ ملک اور ملک سے باہر اس نظام پر کوئی اعتماد نہیں کر سکتا۔ ایک طرف عدالتی نظام اور قانون کی حکمرانی کے اصول کو پامال کیا گیا ہے تو دوسری طرف احتساب کے پورے نظام کو ایک مضحکہ بنا کر غیر موثر کر دیا گیا ہے جس پر ] اعتماد اور بھروسے والی کوئی بات[ اب باقی نہیں رہی۔ یہ ایک ایسا ظلم ہے جس کی تلافی مشکل ہے۔
۵- ملکی وقار اور خود مختاری پر شدید ضرب: اس اقدام کے لیے کھلے اور چھپے جو قوتیں کام کرتی رہی ہیں اور جس جس بیرونی دبائو کے آگے ہتھیار ڈالنے کی یہ حکومت مرتکب ہوئی ہے اس نے ملک کے وقار اور خودمختاری پر شدید ضرب لگائی ہے۔ ایک عرب ملک کا کردارتو بہت نمایاں ہے جس کا اعتراف خود سرکاری اعلان میں موجود ہے لیکن بات ایک ملک کی نہیں‘ کئی ملکوں کی ہے۔ اب تو وائٹ ہائوس کے ترجمان نے صاف اعتراف کر لیا ہے کہ ہم اس سلسلے میں برابر دبائو ڈال رہے تھے اور اس اقدام پر خوش ہیں۔ اس طرح کلنٹن صاحب نے ان خدمات کا حساب چکا دیاہے جو سابق وزیراعظم نے بھارت نوازی‘ کارگل سے پسپائی‘ ورلڈ بنک اور امریکہ کی معاشی بالادستی‘ افغانستان پر حملوں میں درپردہ معاونت‘ کانسی کی ملک بدری‘ جوہری صلاحیت کی تحدید اور نہ معلوم کس کس شکل میں انجام دی تھیں۔ سوال صرف سابق حکمرانوں کی مغربی اقوام کی کاسہ لیسی ہی کا نہیں‘ موجودہ حکمرانوں کا ان کے مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیک دینے کا بھی ہے--- اور اس میں جو خطرات آیندہ کے لیے مضمرہیں‘ وہ ہوش اڑا دینے والے ہیں۔ مغرب کے ایجنڈے میں افغانستان پر دبائو‘ اسامہ بن لادن کی گرفتاری‘ کشمیرمیں جنگ بندی اور بھارت اور امریکہ کی شرائط پر سمجھوتہ کاری‘ قرضوں کی غلامی اور معاشی محتاجی میں اضافے اور بالآخر نیوکلیر صلاحیت سے محرومی اور اسلام سے بنیاد پرستی (فنڈمنٹلزم) کے نام پر عملی دست برداری آگے کے اہداف ہیں۔ جو حکومت قومی مجرموں کو اپنے دستور اور قانون کے مطابق اپنے دائرہ اختیارمیں نہ رکھ سکی اس سے قومی سلامتی کے دوسرے محاذوں پر مضبوطی کی توقع عبث ہے۔ فوجی قیادت کے بارے میں قوم کو توقع تھی کہ وہ سیاسی قیادتوں کے مقابلے میں بیرونی اثرات سے ملک کو محفوظ رکھنے میں زیادہ مستعد ہو گی لیکن یہ بڑی تشویش ناک بات ہے کہ خود فوجی قیادت اس محاذ پر کمزوری اور پسپائی دکھا رہی ہے۔ گویا ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘۔ اس طرح حکومت نے اپنی ساکھ (credibility) کو بالکل ختم کر کے رکھ دیا ہے۔
۶- حکومت کا جواز سے محروم ہو جانا: ایک اور اہم پہلو اس اقدام کا یہ ہے کہ اس کے ذریعے موجودہ حکومت نے خود اپنے کو اس جواز (legitimacy) سے محروم کر دیا ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے اسے حاصل ہو گیا تھا۔ ۱۲ اکتوبر کے اقدام کا اگر کوئی جواز تھا تو وہ سابقہ حکومت کے کرتوت اور ان کو قرار واقعی سزا دیے جانے کا امکان اور انتظام تھا۔ اسی وعدے کے ساتھ جنرل صاحب نے یہ اقدام کیا تھا اور انھی پہلوئوں کو سامنے رکھ کر سپریم کورٹ نے انھیں سند جواز مرحمت کی تھی۔ لیکن اگر اس مجرم ہی کو معافی دے دی گئی ہے اور اس کے سارے جرائم پر نہ صرف یہ کہ پردہ ڈال دیا گیا ہے بلکہ ساری لوٹ کھسوٹ کو بھی ایک طرح تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے تو پھر اسے ہٹانے والوں کے باقی رہنے کا کیا جواز ہو سکتا ہے۔ اس اقدام کی شکل میں جنرل صاحب نے وہ کام کیا ہے جو اس بڑھیا نے کیا تھاجس نے جو سوت کاتا اسے اپنے ہی ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ویسے بھی حکومت کی ۱۴ ماہ کی کارکردگی ہر میدان میں نہایت مایوس کن ہے لیکن اس اقدام کے بعد تو اب اس کے باقی رہنے اور سپریم کورٹ کی عطا کردہ مدت پوری کرنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ جلد از جلد اقتدار عوام کے اصل نمایندوں کی طرف منتقل کیا جائے۔
۷- اسلام کے اصول انصاف سے انحراف: ساتواں اور ان سب جرائم کا جامع جرم اسلام کے اصول انصاف اور جرم وسزا کے درمیان نسبت اور تعلق کے نظام کو درہم برہم کر دینا ہے۔ پاکستان بہت سے دوسرے ممالک کی طرح‘ محض ایک ملک نہیں‘ ایک اسلامی ملک ہے۔ اس کے دستور نے قرآن و سنت کی بالادستی کے اصول کو تسلیم کیا ہے۔اس قوم کی منزل اسلامی ریاست اور معاشرے کا قیام ہے۔ ہم نے اپنی معروضات کا آغاز اسلام کے اصول انصاف کے خلاصے ہی سے کیا ہے۔ ۱۰ دسمبر کا اقدام اسلام کے ہراصول سے انحراف اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے کھلے احکام کی بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ خلاف ورزی ہے۔ اس میں پاکستان کی حکومت اور عرب ممالک کی مسلمان حکومتیں برابرکی شریک ہیں۔ نواز شریف کی فیملی بھی اپنے اصل جرائم کے ساتھ خدا کے قانون جرم و سزا سے بغاوت کی مرتکب ہوئی ہے۔ انسان سے غلطی ہو سکتی ہے لیکن مسلمانوں کا رویہ غلطی پر ندامت اور اللہ سے عفو و درگزرکی طلب ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس یہاں جرم پر کوئی ندامت کہیں دور دور نظر نہیں آ رہی بلکہ چوری اور سینہ زوری کی روش اختیار کی جا رہی ہے جو خدا اور خلق دونوں کے خلاف بغاوت کی ایک صورت ہے۔ مجرموں کو بچانے کی خدمت جو جو افراد اور قوتیں انجام دے رہے ہیں وہ سب اس بغاوت میں شریک اور معاون ہیں۔ جرم کا ارتکاب کرنے والا اور جرم میں معاونت کرنے والے دونوں قانون اور انصاف کی نگاہ میں مجرم ہیں۔ مجرم کو تحفظ دینا بھی ایک جرم ہے۔ ۱۰ دسمبر کے اقدام نے ان سب کو مجرموں کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے اور اب ان سب ہی مجرموں سے نجات میں ہماری بقا اور ترقی کا راز ہے۔
اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ جنرل صاحب اور ان کی ٹیم مستعفی ہو‘ عدلیہ کے تحت غیر جانب دارانہ مگر قابل اعتماد افراد پر مشتمل عبوری انتظام بنایا جائے ‘ مکمل طور پر آزاد انتخابی کمیشن مقرر کیا جائے اور ایک معقول مدت میں نئے انتخابات کے لیے قوم کو اپنی نئی قیادت منتخب کرنے کا موقع دیا جائے جو ملک کے حالات کو سدھارنے کی جدوجہد کرے اور ملک و قوم کے مجرموں کو بھی قرار واقعی سزا دینے کا اہتمام کرے۔ یہ کئی وجوہ سے ضروری ہے:
اولاً‘ موجودہ حکومت ناکام رہی ہے اور اسے جو موقع ملا تھا ‘اس نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑی چلا کر اسے ضائع کر دیا ہے۔ یہ حکومت نہ احتساب کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ اس پر اب احتساب کے باب میں کسی درجے میں بھی اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ معیشت بھی خراب سے خراب تر ہوئی ہے ۔ اسٹیٹ بنک کی تازہ رپورٹ اس کا ثبوت ہے جو آیندہ بھی اشیاے صرف کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے اور مزید بے روزگاریوں کی بھیانک پیشن گوئیاں کر رہی ہے۔
اس حکومت نے اپنی ہی قوم کے مختلف عناصر سے غیر ضروری محاذ آرائی کا راستہ اختیار کر کے حالات کو خراب کیا ہے۔ جس نئے نظام کی یہ نوید سناتی رہی ہے‘ اسے عوام میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی ہے جس کا ثبوت بلدیات کے انتخابات میں عوام کی مکمل عدم دل چسپی ہے جسے ایک حد تک اس نظام اور اس حکومت کے خلاف ریفرنڈم قرار دیا جا سکتا ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر جس طرح اس نے اپنے آپ کو بیرونی دبائو کے لیے نرم نوالہ بنا دیا ہے‘ اس سے تو اس کا اعتبار بالکل ہی غارت ہو گیا ہے۔ اس کی یہ کمزوری اپنے اندر بڑے خطرات لیے ہوئے ہے۔ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ نئی‘ قابل اعتماد اور عوام کی معتمد علیہ قیادت جلد از جلد زمام کار سنبھالے۔ یہ اب وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن گئی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ جو کچھ ۱۰ دسمبر کو ہوا ہے اور جو کچھ اس سے پہلے ہوتا رہا‘ یعنی ۱۹۷۱ء کا سانحہ‘ کارگل کی پسپائی وغیرہ‘ خواہ فوجی حکمران برسرِاقتدار ہوں یا مفاد پرست سیاست دان‘ اس کی بڑی وجہ موثر شورائی نظام کا فقدان‘ حکمرانوں کے ہاتھ میں آمرانہ اختیارات کا ارتکاز اور کسی موثر جواب دہی اور ضروری احتساب کے نظام کی کمی ہے۔
بات ایوبی دور کی ہو ‘جس میں تین دریائوں کے پانی سے دست برداری‘ بھارت چین جنگ کے موقع پر کشمیر پر پیش قدمی سے اجتناب‘ اور تاشقند میں بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے سانحے وقوع پذیر ہوئے یا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی کا دور ہو‘ نواز شریف کا زمانہ ہو یا یحییٰ اور ضیا الحق کا اور یا اِس وقت کے جنرل پرویز مشرف کا--- جب بھی اختیارات کسی شخص واحد کی ذات میں مرکوز ہوئے ہیں اور وہ سیاہ و سفید کا مالک بنا ‘ ایسی ہی خوف ناک اور بھیانک غلطیاں (blunders) رونما ہوئیں۔ ستم ظریفی ہے کہ ۱۰ دسمبر کے اقدام کے لیے خود چیف ایگزیکٹو کی اپنی بنائی ہوئی کابینہ تک سے مشورے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور نواز شریف کی رخصتی کے چار دن بعد اس واقعے پر کابینہ میں بحث ہوئی اور اس نے آمنا وصدقنًا کی سند جاری کر دی! ہمارے ملک کی سیاست کا اصل المیہ ہی یہ ہے کہ فیصلہ کرنے والے ادارے موجود نہیں اور جو ادارے بنائے گئے ہیں وہ صرف وزن بیت کے لیے ہیں--- حقیقی اختیارات سے محروم! نواز شریف ہو یا بے نظیر‘ نہ ان کی جماعتوں میں کسی مشورے اور جواب دہی کا نظام ہے اور نہ کبھی ان کی کابینہ یا اسمبلیوں نے ایسا کوئی کردار ادا کیا۔
آج بھی بے نظیر بھارت سے دوستی‘ مشترک کرنسی‘ کشمیر میں جنگ بندی‘ مسام دار (porous) سرحدوں اور نہ معلوم کیا کیا باتیں کر رہی ہیں مگر ان کی پارٹی میں کوئی نہیں کہ اس کی زبان کو لگام دے یا اس کے خلاف آواز اٹھائے۔ نواز شریف مسلم لیگ کو گھر کی لونڈی بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔ جسے چاہیں نامزد کر دیں‘ جسے چاہے نکال دیں۔ کوئی نہیں جو ان کے اس رویے پر گرفت کر سکے اور ان کے دامن کو پکڑ کر ان سے پوچھ سکے۔ یہ تمام صورتیں آمریت کی شکلیں ہیں‘ انھیں جمہوریت سے کوئی نسبت نہیں۔ قوم کی ضرورت صرف فوجی اقتدار ہی سے نجات نہیں‘ آمریت کی ہر شکل سے بغاوت کر کے حقیقی جمہوریت‘ قانون کی بالادستی‘ مشاورت کے موثر نظام کا قیام‘ پالیسی سازی کے لیے افراد کی جگہ اداروں پر انحصار اور سب کے لیے جواب دہی کے نظام کا قیام ہے۔
آج پاکستان ہی نہیں‘ پوری مسلم دنیا کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ فوجی حکومت ہو یا ’’جمہوری تماشا‘‘ اقتدار کسی فردِ واحد کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے‘ کرتا ہے اور اس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے۔ عبرت کے لیے مسئلہ فلسطین کے بگاڑنے میں مصر کے کردار پر ایک نظر ڈالیے۔ کیمپ ڈیوڈ جس نے شرق اوسط کی سیاست کا رخ بدل دیا اور مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے بگاڑ دیا‘اس کا بڑا سبب فیصلوں کے لیے موثر شورائی نظام اور قومی جواب دہی کا فقدان ہے۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے وقت انورالسادات نے نہایت خود رائی اور خودسری کا مظاہرہ کیا اور عقل کل بن کر اپنے تمام وزیروں اور مشیروں تک کو نظرانداز کر کے صدر کارٹر پراعتماد کی ترنگ میں اس طرح معاملات نمٹائے کہ آج بھی فلسطین میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور فلسطین اتھارٹی اور عرب حکومتیں دم بخود ہیں۔ اس وقت کے مصری وزیر خارجہ عصمت کمال نے اپنی کتاب Camp David Accrod: A Testimony (مطبوعہ ۱۹۸۶ء) میں جو حالات بیان کیے ہیں وہ آنکھیں کھولنے والے اور خون کھولا دینے والے ہیں۔ افسوس کہ یہی کھیل ہے جو برابر کھیلا جا رہا ہے اور کم و بیش ہر ملک میں کھیلا جا رہا ہے۔ انورالسادات کا ایک ہی مطالبہ تھا:
براہ کرم ‘ مجھ پر اعتماد کیجیے۔ کیا آپ کو مجھ پربھروسا نہیں ہے؟
عصمت کمال لکھتا ہے کہ:
اصل مسئلہ نہ اسرائیل کا غیر لچک دار رویہ تھا اور نہ امریکہ کا اسرائیل کے آگے موم کی ناک بن کر ہر معاملے میں سپرانداز ہوجانا (spineless surrender)۔ اصل مسئلہ تو صدر سادات خود تھے۔ انھوں نے صدر کارٹر کے آگے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے تھے اور صدر کارٹر نے بیگن کے آگے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اب جو معاہدہ بھی ہوتا ‘ مصر کے لیے‘ فلسطینیوں کے لیے اور کل عرب قوم کے لیے تباہ کن ہی ہوتا ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں سادات کے عزائم اور رویے کی کیا توجیہ کروں۔ شاید انھوںنے اپنے آپ کو امریکہ سے اس درجے مضبوطی سے وابستہ کر لیا تھا کہ انھیں اس مرحلے پر اس سے باہر نکلنا مشکل محسوس ہوتا تھا (ص ۳۵۸-۳۵۹)۔
امریکہ پر انحصار‘ اس کے ہاتھوں میں کھلونا بن جانا اور فردِواحد کے ہاتھوں میں قوم کی قسمت کو دے دینا ساری خرابی کا اصل سبب تھا۔ اور یہی دو بلائیں ہیں جو مسلمان ملکوں کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔گھر میں آمریت اور باہر کی قوتوں پر انحصار ہی ہمارااصل روگ ہیں۔ ہم ہی نہیں‘ غیر بھی اس کمزوری کو دیکھ رہے ہیں اور خوب خوب اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ڈیوٹ ہرسٹ اور ارنے بی سن نے سادات کی سوانح عمری میں بڑی پتے کی بات کہی ہے جو بدقسمتی سے خود ہمارے حالات پر پوری طرح صادق آتی ہے:
ایک فرد‘ ان اداروں کے بالمقابل جن کا وہ سربراہ ہو‘ جتنا زیادہ خود پالیسی بنائے گا اتنا ہی زیادہ ان کے بنانے میں اس کی ذاتی نفسیات ایک معروضی سیاسی حقیقت کے طورکارفرما ہوگی۔ سادات کسی طرح بھی دنیا کے سب سے زیادہ مطلق العنان حکمران نہ تھے لیکن ان کی سیاسی زندگی بہت ہی نمایاں طور پر اس کی مثال تھی کہ کس طرح سیاسی امور میں ذاتی رجحان کو غلبہ حاصل رہتا ہے۔ اور جب ذاتی رجحان اتنا ہی مخصوص طرح کا ہو جیسا کہ ان کا تھا‘ تو پالیسی کے نام پر کیا کیا بگاڑ رونما ہوسکتے ہیں (ص ۳۵۴)۔
فردِ واحد کی حکمرانی اپنے اندر ایسے ایسے خطرات رکھتی ہے جو برسوںکی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل شدہ آزادی‘ عزت‘ دولت اور امکانات کو لمحوں میں غتربود کر سکتے ہیں!
دستور اور قانون کی حکمرانی‘ موثر شورائی نظام اور جمہوری اداروں کا وجود‘ جواب دہی اور پالیسی سازی کا ادارتی انتظام ہی اچھی حکمرانی کے ضامن ہو سکتے ہیں۔ فوجی حکومت ہو یا جمہوریت کے لبادے میں شخصی حکومت--- دونوں مطلوبہ نظام کی ضد ہیں۔ یہ نہ صرف ملک کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ خود فوج کی دفاعی صلاحیتوں کے لیے بھی سم قاتل ہے۔ اس لیے جتنی جلد ممکن ہو‘ حقیقی جمہوری نظام کی طرف مراجعت ہی میں ہماری نجات ہے۔
یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ قوم کی قسمت سے کھیلنے کا حق اور اختیار کسی کو حاصل نہیں۔ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے اور اس کے اصل امین اس ملک کے عوام ہیں۔ ہم اس بات کا اظہار بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جہاں ہماری فوجی اور سیاسی دونوں قیادتیں ناکام رہی ہیں وہیں عوام بھی اس ناکامی میں اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔
انتخاب کے موقع پر اپنا کردار ادا نہ کرنا‘ یا برادری اور مفاد کی بنیاد پر غلط لوگوں کو برسرِاقتدار آنے میں مدد دینا بھی ایک قومی جرم اور اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ آخری ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ اپنے ایمان اور ملکی مفاد کے پیش نظر اچھی قیادت کو بروئے کار لائیں اور سیاسی شعبدہ بازوں سے بار بار دھوکا نہ کھائیں۔
غربت‘ تعلیم کی کمی اور جمہوری روایات کا فقدان راہ کے موانع ہیں لیکن جمہوری عمل کا کوئی متبادل نہیں۔ اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود اس عمل کے ذریعے بالآخر بہتر قیادت ابھرے گی اور عوام اپنا حقیقی کردار ادا کرنے کے لائق بن سکیں گے۔
ہمارے ملک کے حالات کی روشنی میں نظام انتخاب کی اصلاح اور آزاد انتخابی کمیشن کا قیام اس کے لیے ضروری ہیں۔ موجودہ حکومت سے اب احتساب کی کوئی توقع نہیں رہی۔اگر یہ ملک کے اچھی شہرت رکھنے والے افراد کے مشورے سے ضروری انتخابی اصلاحات نافذ کر کے نئے انتخابات کا اہتمام کرے اور اقتدار قوم کی طرف لوٹا دے تو یہ اس کے لیے بھی بہتر ہے اور اس میں ملک و ملّت کے لیے بھی خیر ہے۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں--- سوال اتنا ہے کہ یہ کام افہام و تفہیم اور خیرسگالی اور قومی مفاہمت کے ذریعے ہوتا ہے یا ایک نئی کش مکش اور عوام اور حکومت کے درمیان ٹکرائو کے نتیجے میں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت دانائی کا راستہ اختیار کرے گی اور اپنے اخلاقی جواز کو کھو دینے کے بعد اپنے اقتدارکو طول دینے کی کوشش نہیں کرے گی‘ نوشتہ دیوار کو بروقت پڑھ لے گی اور اصلاح احوال کا وہ راستہ اختیار کرے گی جس سے ملک اس دلدل سے نکل آئے اور فوج کا بھی اعتماد باقی رہے تاکہ وہ دفاع وطن کے کام کے لیے یکسو ہو کر سرگرم ہو سکے۔ پاکستان کو اس دلدل سے نکالنے کا راستہ ہی یہ ہے کہ نظام حکومت ایسے ایمان دار اور باصلاحیت عوامی نمایندوں کے ہاتھوں میں آجائے جو خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہوں اور جو اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد کے تابع رکھ سکیں۔ سابق حکمرانوں کے حشر سے سبق سیکھیں اور اس سے عبرت پکڑیں کہ کس طرح دو دو بار وزیراعظم بننے والوں اور بڑے بڑے مینڈیٹ کا دعویٰ کرنے والوں کو ملک سے فرار کی راہ اختیار کرنی پڑی اور ملک کے عوام کس طرح ان سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ دونوں کا حال یہ ہے کہ نہ صرف ’’بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے‘‘ بلکہ ملک کو ایسا بدحال کر کے نکلے کہ بہ ادنیٰ تصرف یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ’’بڑے بے آبرو کر کے ترے کوچے سے ہم نکلے‘‘۔ لیکن نکلنے کا آبرومندانہ راستہ بھی موجود ہے۔ وہ محاذ آرائی کا نہیں بلکہ حق دار کو اس کا حق دینے کا راستہ ہے۔ فوجی قیادت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ فوج کا کام ملک پر حکمرانی کرنا نہیں‘ ملک و ملت کا دفاع ہے۔ سیاست میں الجھ کر فوج نہ اچھی حکمرانی کا نمونہ پیش کر سکتی ہے کہ اس کی نہ یہ تربیت ہے‘ نہ صلاحیت اور نہ اس طرح یہ اپنی دفاع کی صلاحیت ہی کو باقی رکھ سکتی ہے۔ اگر فوج متنازع بن جائے یا اس کے لوگوں کو بھی بدعنوانی کا خون یا اقتدار کی چاٹ لگ جائے تو پھر وہ قوم کی امیدوں اور دعائوں کا مرکز نہیں رہ سکتی۔ پھر تووہ شکایتوں اور نفرتوں کا ہدف ہی بنتی جاتی ہے اور جس فوج پر اس کی اپنی قوم کا اعتماد نہ ہو‘ وہ دفاع کی خدمت کیسے انجام دے سکتی ہے۔ موجودہ قیادت اس حقیقت کو جتنی جلد تسلیم کرلے ‘ اتنا ہی اس کے اور ملک کے لیے بہتر ہے۔
تحریک اسلامی اور ملک کے تمام بہی خواہوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو بیدار کریں‘ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں‘ قوم کا خون چوسنے والوں کے چنگل سے قوم کو نکالیں اور اس ملک خداداد کو ایک اچھی اور ایمان دارانہ قیادت فراہم کریں جو اسے امت کے خوابوں اور تمنائوں کے مطابق ڈھالنے کی جدوجہد کو اپنی منزل بنا لے اور اقبال‘ قائداعظم اور ملت اسلامیہ ہند کے تصور کا پاکستان اس پاک دھرتی پر ایک زندہ حقیقت بن سکے۔ یہی امت مسلمہ کے لیے بھی ایک روشن مینار بن سکتا ہے۔ یہ صلاحیت اور یہ امکان آج بھی موجود ہے‘ اس کے لیے مسلسل جدوجہد اور اللہ پر بھروسا‘ خود اپنی قوم پر اعتماد‘ اپنے وسائل کا صحیح استعمال اور معاشرے کے تمام اچھے عناصر کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے:
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی!
a