حج کے معنی عربی زبان میں زیارت کا قصد کرنے کے ہیں۔ حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کعبے کی زیارت کا قصد کرتے ہیں، اس لیے اس کا نام حج رکھا گیا۔سب سے پہلے اس کی ابتدا جس طرح ہوئی اس کا قصہ بڑا سبق آموز ہے۔ اس قصے کو غور سے سنیے، تاکہ حج کی حقیقت اچھی طرح آپ کے ذہن نشین ہو جائے، پھر اس کے فائدوں کا سمجھنا آپ کے لیے آسان ہو گا۔
عام لوگ ان کے پھندے میں ایسے پھنسے ہوئے تھے کہ انھی کو اپنی اچھی اور بری قسمت کا مالک سمجھتے تھے۔ انھی کے اشاروں پر چلتے تھے اور بے چون وچرا ان کی خواہشات کی بندگی کرتے تھے، کیوں کہ ان کا گمان تھا کہ دیوتائوں کے ہاں ان پجاریوں کی پہنچ ہے۔ یہ چاہیں تو ہم پر دیوتائوں کی عنایت ہو گی، ورنہ ہم تباہ ہو جائیں گے۔ پجاریوں کے اس گروہ کے ساتھ بادشاہوں کی ملی بھگت تھی۔ عام لوگوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے میں بادشاہ پجاریوں کے مددگار تھے اور پجاری بادشاہوں کے۔ ایک طرف حکومت ان پجاریوں کی پشت پناہی کرتی تھی اور دوسری طرف یہ پجاری لوگوں کے عقیدے میں یہ بات بٹھاتے تھے کہ بادشاہِ وقت بھی خدائوں میں سے ایک خدا ہے، ملک اور رعیت کا مالک ہے، اس کی زبان قانون ہے اور اس کو رعایا کی جان ومال پر ہر قسم کے اختیارات حاصل ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بادشاہوں کے آگے پورے بندگی کے مراسم بجا لائے جاتے تھے، تاکہ رعایا کے دل ودماغ پر ان کی خدائی کا خیال مسلّط ہو جائے۔
پھر جب ان سب کا یہ حال ہے تو ان میں سے کوئی رب کیسے ہو سکتا ہے؟ جب ان میں سے کسی نے مجھ کو پیدا نہیں کیا، نہ کسی کے ہاتھ میں میری موت اور زیست کا، اور نفع اور نقصان کا اختیار ہے، نہ کسی کے ہاتھ میں رزق اور حاجت روائی کی کنجیاں ہیں، تو میں ان کو رب کیوں مانوں اور کیوں ان کے آگے بندگی واطاعت میں سر جھکائوں؟ میرا رب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں اور جس کے اختیار میں سب کی موت وزیست اور سب کا نفع ونقصان ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑنے قطعی فیصلہ کر لیا کہ جن معبودوں کو میری قوم پوجتی ہے ان کو میں ہرگز نہ پوجوں گا اور اس فیصلے پر پہنچنے کے بعد انھوں نے علی الاعلان لوگوں سے کہہ دیا کہ:
اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّـمَّاتُشْرِكُوْنَ۷۸ (الانعام ۶:۷۸) جن کو تم خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو، میں اُن سب سے بیزار ہوں۔
اِنِّىْ وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۷۹ۚ (الانعام ۶:۷۹) میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
پھر جب اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو آگ میں جلنے سے بچا لیا تو وہ اپنے گھر بار، عزیزواقارب، قوم اور وطن سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی بیوی اور ایک بھتیجے کو لے کر غریب الوطنی میں ملک ملک کی خاک چھاننے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ جس شخص کے لیے اپنے گھر میں مہنت کی گدّی موجود تھی، جو اس پر بیٹھ کر اپنی قوم کا پیر بن سکتا تھا۔ دولت وعزت دونوں جس کے قدم چومنے کے لیے تیار تھیں، اور جو اپنی اولاد کو بھی اس مہنتی کی گدّی پر مزے لوٹنے کے لیے چھوڑ سکتا تھا، اس نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے جلاوطنی اور بے سروسامانی کی زندگی پسند کی، کیوں کہ دنیا کے جھوٹے خدائوں کے جال میں پھانس کر خود مزے کرنا اُسے گوارا نہ تھا اور اس کے مقابلے میں یہ گوارا تھا کہ ایک سچے خدا کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلائے اور اس جرم کی پاداش میں کہیں چَین سے نہ بیٹھ سکے۔
ان لوگوں کے درمیان وہ شخص کہاں چَین سے بیٹھ سکتا تھا جو نہ صرف خود ہی خدا کے سوا کسی کی خدائی ماننے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ دوسروں سے بھی علانیہ کہتا پھرتا تھا کہ ایک اللہ کے سوا تمھارا کوئی مالک اور آقا نہیں ہے۔ سب کی آقائی وخداوندی کا تختہ الٹ دو، اور صرف اس ایک کے بندے بن کر رہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو کسی جگہ قرار نصیب نہ ہوا۔ سالہا سال بے خانماں پھرتے رہے، کبھی کنعان کی بستیوں میں ہیں تو کبھی مصر میں اور کبھی عرب کے ریگستان میں۔ اسی طرح ساری جوانی بیت گئی اور کالے بال سفید ہو گئے۔
اس قول وقرار کو اس سچے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نباہ کر دکھا دیا۔ اس نے ربّ العالمین کی خاطر صدیوں کے آبائی مذہب اور اس کی رسموں اور عقیدوں کو چھوڑا، اور دنیا کے ان سارے فائدوں کو چھوڑا، اپنی جان کو آگ کے خطرے میں ڈالا، جلا وطنی کی مصیبتیں سہیں، ملک ملک کی خاک چھانی، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ ربّ العالمین کی اطاعت اور اس کے دین کی تبلیغ میں صَرف کر دیا، اور بڑھاپے میں جب اولاد نصیب ہوئی تو اس کے لیے بھی یہی دین اور یہی کام پسند کیا۔
سب سے بڑی آزمائش! مگر ان آزمائشوں کے بعد ایک اور آخری آزمائش باقی رہ گئی تھی جس کے بغیر یہ فیصلہ نہ ہوسکتا تھا کہ یہ شخص دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ربّ العالمین سے محبت رکھتا ہے، اور وہ آزمائش یہ تھی کہ اس بڑھاپے میں، جب کہ پوری مایوسی کے بعد اسے اولاد نصیب ہوئی ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو ربّ العالمین کی خاطر قربان کر سکتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ یہ آزمائش بھی کر ڈالی گئی، اور جب اشارہ پاتے ہی وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا، تب فیصلہ فرما دیا گیا کہ ہاں، اب تم نے اپنے مسلم ہونے کے دعوے کو بالکل سچا کر دکھایا۔ اب تم اس کے اہل ہو کہ تمھیں ساری دنیا کا امام بنایا جائے۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ:
وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّہُنَّ۰ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۰ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ۰ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَہْدِي الظّٰلِــمِيْنَ۱۲۴ (البقرہ۲:۱۲۴) اور جب ابراہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اُتر گیا، تو فرمایا کہ میں تجھے انسانوں کا امام (پیشوا) بنانے والا ہوں۔اس نے عرض کیا اور میری اولاد کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب دیا: ان میں سے جو ظالم ہوں گے انھیں میرا عہد نہیں پہنچتا۔
اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّۃَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ۹۶ۚ فِيْہِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِيْمَ۰ۥۚ وَمَنْ دَخَلَہٗ كَانَ اٰمِنًا۰ۭ (اٰل عمرٰن۳:۹۶-۹۷) یقیناً پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا، برکت والا گھر، اور سارے جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت۔ اس میں اللہ کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ؑہے اور جو اس میں داخل ہو جاتا ہے اس کو امن مل جاتا ہے۔
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ۰ۭ (العنکبوت ۲۹:۶۷)کیا لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کیسا پُرامن حرم بنا یا ہے، حالانکہ اس کے گرد وپیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں۔
یعنی، جب کہ عرب میں ہر طرف لوٹ مار، قتل وغارت گری اور جنگ وجدل کا بازار گرم تھا، اس حرم میں ہمیشہ امن ہی رہا۔ حتیٰ کہ وحشی بدّو تک اس کے حدود میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ پاتے تو اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرتے۔
وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا۰ۭ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّى۰ۭ وَعَہِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَہِّرَا بَيْـتِىَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۱۲۵ وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۰ۭ ..... وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۰ۭ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۱۲۷ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّكَ۰۠ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا۰ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۱۲۸ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۱۲۹ۧ (البقرہ ۲:۱۲۵-۱۲۹) اور، جب کہ ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرکز ومرجع اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے مقامِ عبادت کو جائے نماز بنا لو، اور ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ کو ہدایت کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والے اورٹھیرنے والے اور رکوع وسجدہ کرنے والے لوگوں کے لیے پاک صاف رکھو۔ اور، جب کہ ابراہیم ؑنے دُعا کی کہ پروردگار، اس شہر کو پُرامن شہر بنا دے اور یہاں کے باشندوں کو پھلوں کا رزق بہم پہنچا، جو ان میں سے اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لانے والا ہو… اور جب ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے کہ پروردگار! ہماری اس کوشش کو قبول فرما، تو سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ پروردگار! اور تُو ہم دونوں کو اپنا مسلم (اطاعت گزار) بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو، اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہم پر عنایت کی نظر رکھ کہ تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ پروردگار! اور تُو ان لوگوں میں انھی کی قوم سے ایک ایسا رسول اُٹھائیوجو انھیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔ یقیناً تو بڑی قوت والا ہے اور بڑا حکیم ہے۔
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ۳۵ۭ رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ۰ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّہٗ مِنِّىْ۰ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۳۶ رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ۰ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِيْٓ اِلَيْہِمْ وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ يَشْكُرُوْنَ۳۷(ابراہیم ۱۴: ۳۵-۳۷) اور، جب کہ ابراہیم ؑنے دعا کی کہ پروردگار! اس شہر کو پُرامن شہر بنا اور مجھ کو اور میرے بچوں کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار! ان بتوں نے بہتیرے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سوجو کوئی میرے طریقے کی پیروی کرے تو میرا ہے اور جو میرے طریقے سے پھر جائے تو یقینا تُو غفور اور رحیم ہے۔ پروردگار! میں نے اپنی نسل کے ایک حصے کو تیرے اس عزّت والے گھر کے پاس اس بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا ہے تاکہ یہ نماز کا نظام قائم کریں۔ پس اے رب! تو لوگوں کے دلوں میں ایسا شوق ڈال کہ وہ ان کی طرف کھنچ کر آئیں اور ان کو پھلوں سے رزق پہنچا۔ امید ہے کہ یہ تیرے شکر گزار بنیں گے۔
وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۲۶ وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۲۷ۙ لِّيَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ۰ۚ فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَ۲۸ۡ (الحج ۲۲: ۲۶-۲۸ ) یاد کرو وہ وقت، جب کہ ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی، (اس ہدایت کے ساتھ کہ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمھارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں، تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں۔ خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔
یہ ہے اس حج کی ابتدا کا قصہ جسے اسلام کا پانچواں رکن قرار دیا گیا ہے۔ اس سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دنیامیں سب سے پہلے جس نبی کو اسلام کی عالم گیر دعوت پھیلانے پر مامور کیا گیا تھا، مکہ اس کے مشن کا صدر مقام تھا۔ کعبہ وہ مرکز تھا جہاں سے یہ تبلیغ دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچائی جاتی تھی، اور حج کا طریقہ اس لیے مقرر کیا گیا تھا کہ جو لوگ خدائے واحد کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کی اطاعت میں داخل ہوں، خواہ وہ کسی قوم اور کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے سب اس ایک مرکز سے وابستہ ہو جائیں اور ہر سال یہاں جمع ہو کر اس مرکز کے گرد طواف کریں۔ گویا ظاہر میں اپنی اس باطنی کیفیت کا نقشہ جما لیں کہ ان کی زندگی اس پہیے کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنے دُھرے (Axis: محور)کے گرد ہی گھومتا ہے۔
_______________
برادرانِ اسلام! پچھلے خطبے میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ حج کی ابتدا کس طرح اور کس غرض کے لیے ہوئی تھی۔ یہ بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکے کو اس اسلامی تحریک کا مرکز بنایا تھا اور یہاں اپنے سب سے بڑے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو بٹھایا تھا تاکہ آپ کے بعد وہ اس تحریک کو جاری رکھیں۔
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت اسمٰعیل ؑکے بعد اُن کی اولاد کب تک اس دین پر قائم رہی جس پر ان کے باپ ان کو چھوڑ گئے تھے۔ بہرحال چند صدیوں میں یہ لوگ اپنے بزرگوں کی تعلیم اور ان کے طریقے سب بھول بھال گئے اور رفتہ رفتہ ان میں وہ سب گمراہیاں پیدا ہو گئیں جو دوسری جاہل قوموں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اسی کعبے میں جسے ایک خدا کی پرستش کے لیے دعوت وتبلیغ کا مرکز بنایا گیا تھاسیکڑوں بت رکھ دیے گئے تھے اور غضب یہ ہے کہ خود حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسمٰعیل ؑکا بھی بت بنا ڈالا گیا جن کی ساری زندگی بتوں ہی کی پرستش کو مٹانے میں صَرف ہوئی تھی۔ ابراہیم ؑحنیف کی اولاد نے لات، منات، ہبل، نسر، یغوث، عزیٰ، اساف، نائلہ اور خدا جانے کس کس نام کے بت بنائے اور ان کو پوجا۔ چاند، عطارد، زہرہ، زحل، اور معلوم نہیں کس کس ستارے کو پوجا۔ جن، بھوت، پریت، فرشتوں اور اپنے مردہ بزرگوں کی روحوں کو پوجا۔ جہالت کا زور یہاں تک بڑھا کہ جب گھر سے نکلتے اور اپنا خاندانی بت انھیں پوجنے کو نہ ملتا تو راستہ چلتے میں جو اچھا سا چکنا پتھر مل جاتا اسی کو پوج ڈالتے، اور پتھر بھی نہ ملتا تو مٹی کو پانی سے گوندھ کر ایک پنڈا(جسم کی شکل) سا بنا لیتے اور بکری کا دودھ چھڑکتے ہی وہ بے جان پنڈا اُن کا خدا بن جاتا۔ جس مہنت گری اور پنڈتائی کے خلاف ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام نے عراق میں لڑائی کی تھی وہ خود انھی کے گھر میں گھس آئی۔ کعبے کو انھوں نے ہر دواریا بنارس بنا لیا، خود وہاں کے مہنت بن کر بیٹھ گئے۔ حج کو تیرتھ جاترا بنا کر اس گھر سے جو توحید کی تبلیغ کے لیے بنا تھا بت پرستی کی تبلیغ کرنے لگے، اور پجاریوں کے سارے ہتھکنڈے اختیار کرکے انھوں نے عرب کے دورونزدیک سے آنے والے جاتریوں سے نذر چڑھاوے وصول کرنے شروع کر دیے۔ اس طرح وہ سارا کام برباد ہو گیا جو ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام کر گئے تھے، اور جس مقصد کے لیے انھوں نے حج کا طریقہ جاری کیا تھا۔ اس کی جگہ کچھ اور ہی کام ہونے لگے۔
اس جاہلیت کے زمانے میں حج کی جوگت بنی اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ یہ ایک میلہ تھا جو سال کے سال لگتا تھا۔ بڑے بڑے قبیلے اپنے اپنے جتھوں کے ساتھ یہاں آتے اور اپنے اپنے پڑائو الگ ڈالتے۔ ہر قبیلے کا شاعر یا بھاٹ اپنی اور اپنے قبیلے والوں کی بہادری، نام وَری، عزت، طاقت اور سخاوت کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتا اور ہر ایک ڈینگیں مارنے میں دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتا۔ یہاں تک کہ دوسرے کی ہجو تک نوبت پہنچ جاتی۔
پھر فیاضی کا مقابلہ ہوتا۔ ہر قبیلے کے سردار اپنی بڑائی جتانے کے لیے دیگیں چڑھاتے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اونٹ پر اونٹ کاٹتے چلے جاتے۔ اس فضول خرچی سے ان لوگوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اس میلے کے موقع پر ان کا نام سارے عرب میں اونچا ہو جائے اور یہ چرچے ہو ں کہ فلاں صاحب نے اتنے اونٹ ذبح کیے اور فلاں صاحب نے اتنوں کو کھانا کھلایا۔ ان مجلسوں میں راگ رنگ، شراب خوری، زنا اور ہر قسم کی فحش کاری خوب دھڑلے سے ہوتی تھی اور خدا کا خیال مشکل ہی سے کسی کو آتا تھا۔
کعبے کے گرد طواف ہوتا تھا، مگر کس طرح؟ عورت مرد سب ننگے ہو کر گھومتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت میں خدا کے سامنے جائیں گے جس میں ہماری مائوں نے ہمیں جنا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی مسجد میں عبادت ہوتی تھی، مگر کیسی؟ تالیاں پیٹی جاتیں، سیٹیاں بجائی جاتیں اور نرسنگھے پھونکے جاتے۔ خدا کا نام پکارا جاتا، مگر کس شان سے؟ کہتے تھے:
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَا مَلَکَ۔،یعنی میں حاضر ہوں میرے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، مگر وہ جو تیرا ہونے کی وجہ سے تیرا شریک ہے۔ تُو اس کا بھی مالک ہے اور اس کی ملکیت کا بھی مالک ہے۔
خدا کے نام پر قربانیاں کرتے تھے، مگر کس بدتمیزی کے ساتھ؟ قربانی کا خون کعبے کی دیواروں سے لتھیڑا جاتا اور گوشت دروازے پر ڈالا جاتا، اس خیال سے کہ نعوذ باللہ یہ خون اور گوشت خدا کو مطلوب ہے۔
حرام مہینوں کی بے حرمتی
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حج کے چار مہینوں کو حرام ٹھیرایا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ان مہینوں میں کسی قسم کی جنگ وجدل نہ ہو۔ یہ لوگ اس حرمت کا کسی حد تک خیال رکھتے تھے، مگر جب لڑنے کو جی چاہتا توڈھٹائی کے ساتھ ایک سال حرام مہینے کو حلال کر لیتے اور دوسرے سال اس کا بدلہ کردیتے تھے۔
پھر جو لوگ اپنے مذہب میں نیک نیت تھے، انھوں نے بھی جہالت کی وجہ سے عجیب عجیب طریقے ایجاد کر لیے تھے۔ کچھ لوگ بغیر زادِ راہ لیے حج کو نکل کھڑے ہوتے اورمانگتے کھاتے چلے جاتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ نیکی کا کام تھا۔ کہتے تھے:’’ہم متوکل ہیں، خدا کے گھر کی طرف جا رہے ہیں، پھر دنیا کا سامان کیوں لیں؟‘‘
عموماً حج کے سفر میں تجارت کرنے یا کمائی کے لیے محنت مشقت کرنے کو ناجائز سمجھا جاتا تھا۔ بہت سے لوگ حج میں کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے اور اسے بھی داخلِ عبادت سمجھتے تھے۔ بعض لوگ حج کو نکلتے تو بات چیت کرنا ترک کر دیتے۔ اس کا نام ’حج مُصمِت ‘، یعنی ’گونگا حج‘ تھا۔ اسی قسم کی اور غلط رسمیں بے شمار تھیں جن کا حال بیان کرکے میں آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔
یہ حالت کم وبیش دو ہزار برس تک رہی۔ اس طویل مدت میں کوئی نبی عرب میں پیدا نہیں ہوا، نہ کسی نبی کی خالص تعلیم عرب کے لوگوں تک پہنچی۔ آخر کار حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کے پورا ہونے کا وقت آیا جو انھوں نے کعبے کی دیواریں اٹھاتے وقت اللہ سے مانگی تھی:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُo(البقرہ۲:۱۲۹) یعنی، پروردگار! ان کے درمیان ایک پیغمبر خود انھی کی قوم میں سے بھیجیو، جو انھیں تیری آیات سنائے اور کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔
چنانچہ حضرت ابراہیم ؑکی اولاد سے پھر ایک انسانِ کامل اٹھا جس کا نامِ پاک محمد بن عبداللہ تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم !
جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے پنڈتوں اور مہنتوں کے خاندان میں آنکھ کھولی تھی، اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُس خاندان میں آنکھ کھولی جو صدیوں سے کعبہ کے تیرتھ کا مہنت بنا ہوا تھا۔ جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے اپنے ہاتھ سے خود اپنے خاندان کی مہنتی پر ضرب لگائی، اسی طرح آنحضرتؐ نے بھی اس پر ضرب لگائی اور محض ضرب ہی نہیں لگائی بلکہ ہمیشہ کے لیے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پھر جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے تمام باطل عقیدوں اور جھوٹے خدائوں کی خدائی مٹانے کے لیے جدوجہد کی تھی اور ایک خدا کی بندگی پھیلانے کی کوشش کی تھی، بالکل وہی کام آنحضرتؐ نے بھی کیا اور پھر اُسی اصلی اور بے لوث دین کو تازہ کر دیاجسے حضرت ابراہیم ؑلے کر آئے تھے۔ ۲۱ سال کی مدت میں جب یہ سارا کام آپؐ مکمل کر چکے تو اللہ کے حکم سے آپؐ نے پھر اُسی طرح کعبے کو تمام دنیا کے خداپرستوں کا مرکز بنانے کا اعلان کیا اور پھر وہی منادی کی کہ سب طرف سے حج کے لیے اس مرکز کی طرف آئو:
وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَo (اٰل عمرٰن ۳:۹۷) اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو کوئی اس گھر تک آنے کی قدرت رکھتا ہو، وہ حج کے لیے آئے، پھر جو کوئی کفر کرے (یعنی قدرت کے باوجود نہ آئے) تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔
اس طرح حج کا ازسرِ نو آغاز کرنے کے ساتھ ہی جاہلیت کی وہ ساری رسمیں بھی یک قلم مٹادی گئیں جو پچھلے دو ہزار برس میں رواج پا گئی تھیں:
کعبے کے سارے بت توڑے گئے، خدا کے سوا دوسروں کی جو پرستش وہاں ہو رہی تھی وہ قطعاً روک دی گئی، سب رسمیں مٹا دی گئیں، میلے ٹھیلے اور تماشے بند کر دیے گئے اور حکم دیا گیا کہ اب جو طریقہ عبادت کا بتایا جا رہا ہے اسی طریقے سے یہاں اللہ کی عبادت کرو:
وَاذْكُرُوْہُ كَـمَا ھَدٰىكُمْ۰ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَo(البقرہ ۲:۱۹۸) اللہ کو یاد کرو اس طرح جیسی تمھیں اللہ نے ہدایت کی ہے ورنہ اس سے پہلے تو تم گمراہ لوگ تھے۔
تمام بے ہودہ افعال کی سخت ممانعت کر دی گئی:
فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ۰ۙ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ۰ۭ ( البقرہ۲:۱۹۷ )حج میں نہ شہوانی افعال کیے جائیں، نہ فسق وفجور ہو، نہ لڑائی جھگڑے ہوں۔
شاعری کے دنگل، باپ دادا کے کارناموں پر فخر، بھٹئی(تعریف کرنا) اور ہجو گوئی کے مقابلے سب بند کر دیے گئے:
فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللہَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا۰ۭ (البقرہ۲:۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجدادکا ذکر کرتے تھے، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔
فیاضی کے مقابلے، جو محض دکھاوے اور نام وَری کے لیے ہوتے تھے ان سب کا خاتمہ کردیا گیا اور اس کی جگہ وہی حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے کا طریقہ پھرزندہ کیا گیا کہ محض اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں تاکہ خوش حال لوگوں کی قربانی سے غریب حاجیوں کو بھی کھانے کا موقع مل جائے:
وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ o(الاعراف ۷:۳۱) اور کھائو پیو مگر اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
فَاذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَيْہَا صَوَاۗفَّ۰ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُہَا فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ۰ۭ(الحج۲۲:۳۶)ان جانوروں کو خالص اللہ کے لیے اسی کے نام پر قربان کرو، پھر جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹھہر جائیں (یعنی جب جان پوری طرح نکل چکے اور حرکت باقی نہ رہے) تو خود بھی ان میں سے کھائو اوران کو بھی کھلائو جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں۔
قربانی کا خون کعبہ کی دیواروں سے لتھیڑنا اور گوشت لا کر ڈالنا موقوف کیا گیا اور ارشاد ہوا:
لَنْ يَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاۗؤُہَا وَلٰكِنْ يَّنَالُہُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ۰(الحج ۲۲: ۳۷) اللہ کو ان جانوروں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ تمھاری پرہیز گاری وخدا ترسی پہنچتی ہے۔
برہنہ ہو کر طواف کرنے کی قطعی ممانعت کر دی گئی اور فرمایا گیا:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ (الاعراف۷:۳۲ )اے نبی! ان سے کہو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی تھی (یعنی لباس)۔
قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ (الاعراف۷:۲۸) اے نبیؐ! کہو کہ اللہ تو ہرگز بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔
یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف۷:۳۱)اے آدم زادو! ہرعبادت کے وقت اپنی زینت (یعنی لباس) پہنے رہا کرو۔
حج کے مہینوں کا الٹ پھیر کرنے اور حرام مہینوں کو لڑائی کے لیے حلال کر لینے سے سختی کے ساتھ روک دیا گیا:
اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ط (التوبہ۹:۳۷)نسی تو کفر میں اور زیادتی ہے (یعنی کفر کے ساتھ ڈھٹائی کا اضافہ ہے)۔ کافر لوگ اس طریقے سے اور زیادہ گمراہی میں پڑتے ہیں۔ کسی ایک سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال اس کے بدلے میں کوئی دوسرا مہینہ حرام کر دیتے ہیں تاکہ جتنے مہینے اللہ نے حرام ٹھیرائے ہیں ان کی تعداد پوری کر دیں، مگر اس بہانے سے دراصل اس چیز کو حلال کر لیا جائے جسے اللہ نے حرام کیا تھا۔
زادِ راہ لیے بغیر حج کے لیے نکلنے کو ممنوع ٹھیرایا گیا اور ارشاد ہوا:
وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى۰ۡ (البقرہ۲:۱۹۷ )زادِ راہ ضرور لے لو، (دنیا میں زادِ راہ نہ لینا زادِ آخرت نہیں ہے)بہترین زادِ راہ تو تقویٰ ہے۔
سفر حج میں کمائی نہ کرنے کو جو نیکی کا کام سمجھا جاتا تھا، اور روزی کمانے کو ناجائز خیال کیا جاتا تھا، اس کی تردید کی گئی:
لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ط (البقرہ ۲:۱۹۸) کوئی مضائقہ نہیں اگر تم کاروبار کے ذریعے سے اپنے رب کا فضل تلاش کرتے جائو۔
’گونگے حج‘ اور بھوکے پیاسے حج سے بھی روکا گیا، اور اس طرح جاہلیت کی دوسری تمام رسموں کو مٹا کر حج کو تقویٰ، خدا ترسی، پاکیزگی اور سادگی ودرویشی کا مکمل نمونہ بنا دیا گیا۔حاجیوں کو حکم دیا گیا کہ جب اپنے گھروں سے چلو تو اپنے آپ کو تمام دنیوی آلائشوں سے پاک کر لو، شہوات کو چھوڑ دو، بیویوں کے ساتھ بھی اس زمانے میں تعلق زن وشو نہ رکھو۔ گالی گلوچ اور تمام بیہودہ اعمال سے پرہیز کرو۔
کعبہ کی طرف آنے والے جتنے راستے ہیں، ان سب پر بیسیوں میل دور سے ایک ایک حد مقرر کر دی گئی کہ اس حد سے آگے بڑھنے سے پہلے سب لوگ اپنے اپنے لباس بدل کر احرام کا فقیرانہ لباس پہن لیں، تاکہ سب امیر وغریب یکساں ہوجائیں، الگ الگ قوموں کے امتیازات مٹ جائیں، اور سب کے سب اللہ کے دربار میں ایک ہو کر، فقیر بن کر عاجزانہ شان کے ساتھ حاضر ہوں۔
احرام باندھنے کے بعد انسان کا خون بہانا تو درکنار، جانور تک کا شکار کرنا حرام کر دیا گیا، تاکہ امن پسندی پیدا ہو، بہیمیت دور ہو جائے اور طبیعتوں پرروحانیت کا غلبہ ہو۔ حج کے چار مہینے اس لیے حرام کیے گئے کہ اس مدت میں کوئی لڑائی نہ ہو، کعبہ کو جانے والے تمام راستوں میں امن رہے اور زائرینِ حرم کو کوئی نہ چھیڑے۔ اس شان کے ساتھ جب حاجی حرم میں پہنچیں تو ان کے لیے کوئی میلہ ٹھیلہ، کھیل تماشا، ناچ رنگ وغیرہ نہیں ہے۔ قدم قدم پر خدا کا ذکر ہے، نمازیں ہیں، عبادتیں ہیں، قربانیاں ہیں، کعبہ کا طواف ہے، اور کوئی پکار ہے تو بس یہ ہے کہ:
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَاشَرِیْکَ لَکَ، حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیر ا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، یقیناً تعریف سب تیرے ہی لیے ہے، نعمت سب تیری ہے۔ ساری بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔
ایسے ہی پاک صاف، بے لوث اور مخلصانہ حج کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَّلَدَتْہُ اُمُّہٗ (متفق علیہ)جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں شہوات اور فسق وفجور سے پرہیز کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔
اب قبل اس کے کہ آپ کے سامنے حج کے فائدے بیان کیے جائیں، یہ بھی بتا دینا ضروری ہے کہ یہ فرض کیسا ہے؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَo (اٰل عمرٰن۳:۹۷)اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے اور جس نے کفر کیا تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔
اس آیت میں قدرت رکھنے کے باوجود قصدًاحج نہ کرنے کو ’’کفر‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے،اور اس کی شرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو حدیثوں سے ہوتی ہے:
مَنْ مَّلَکَ زَادًا وَّرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہٗ اِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلاَ عَلَیْہِ اَنْ یَّمُوْتَ یَھُوْدِیًّا اَوْنَصْرَانِیًّا (مشکوٰۃ حدیث : ۲۴۰۷) جو شخص زادِ راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو، اور پھر حج نہ کرے تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا یکساں ہے۔
مَنْ لَّمْ یَمْنَعْہُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَۃٌ ظَاھِرَۃٌ اَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ اَوْمَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ اِنْ شَآءَ یَھُوْدِیًّا وَّاِنْ شَآئَ نَصْرَانِیًّا (دارمی) جس کو نہ کسی صریح حاجت نے حج سے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے، نہ کسی روکنے والے مرض نے، اور پھر اس نے حج نہ کیا ہو، اور اسی حالت میں اسے موت آ جائے تو اسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر۔
اسی کی تفسیر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی جب کہا:جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے، میرا جی چاہتا ہے کہ ان پر جزیہ لگا دوں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں، وہ مسلمان نہیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم وخلیفۂ رسولؐ کی اس تشریح سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ فرض ایسا فرض نہیں ہے کہ جی چاہے تو ادا کیجیے اور نہ چاہے تو ٹال دیجیے، بلکہ یہ ایسا فرض ہے کہ ہر اس مسلمان کو جو کعبے تک جانے آنے کا خرچ رکھتا ہو، اور ہاتھ پائوں سے معذور نہ ہو، عمر میں ایک مرتبہ اسے لازماً ادا کرنا چاہیے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، اور خواہ اس کے اوپر بال بچوں کی اور اپنے کاروبار یا ملازمت وغیرہ کی کیسی ہی ذمہ داریاں ہوں۔ جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کرکرکے سال پر سال یونہی گزارتے چلے جاتے ہیں ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ حج بھی کوئی فرض ان کے ذمے ہے۔ دنیا بھر کے سفر کرتے پھرتے ہیں، کعبۂ یورپ کو آتے جاتے حجاز کے ساحل سے بھی گزر جاتے ہیں جہاں سے مکہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، اور پھر بھی حج کا ارادہ تک ان کے دلوں میں نہیں گزرتا، وہ قطعاً مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اور قرآن سے جاہل ہے جو انھیں مسلمان سمجھتا ہے۔ ان کے دل میں اگر مسلمانوں کا درد اٹھتا ہے تو اٹھا کرے۔ اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ تو بہرحال ان کے دل میں نہیں ہے۔
ایران پر جاری بلاجواز اسرائیلی اور امریکی حملے اُس وقت شروع کیے گئے جب کہ ایران، امریکا ہی کی دعوت پر اس کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھا۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ء سے ان حملوں میں ایران کی شہری آبادی، فوجی تنصیبات اور تاریخی مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آغاز ہی میں ان دہشت گردانہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ان کے اہل خانہ سمیت شہید کر دیا گیا۔ ایران کی فوجی قیادت اور دیگر ذمہ دارانِ ریاست کو نشانہ بناتے ہوئے بچیوں کے ایک اسکول پر حملہ کرکے ۱۸۰ معصوم بچیوں کو بھی شہید کردیا گیا۔
جوابی کارروائی میں ایران نے مقبوضہ فلسطین میں واقع اسرائیل کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ اُن امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جو مختلف عرب ریاستوں میں قائم ہیں۔ اس دوران پٹرول کی ریفائنریوں، جاسوسی کے مراکز اور بحری جہازوں کو زبردست نقصان پہنچا اور عملاً مسلم دُنیا کی سیاسی قیادت تقسیم ہوکر رہ گئی۔ اس عظیم فساد کی بنیاد اسرائیل کاوہ شیطانی منصوبہ ہے، جس کا ہدف مسلم دُنیا کے اتحاد میں دراڑ ڈال کر انھیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا، مسلم دُنیا کے وسائل کو ایک ایک کرکے بربادکرنا، اور شہری سطح پر نفرت کو فروغ دے کر ان کی دفاعی قوت کو تباہ کرتے ہوئے وسیع تر اسرائیل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ افسوس کہ مسلم ممالک کی ریاستی اور سیاسی قیادتیں اس پھندے میں سادگی، مجبوری یا حماقت میں پھنستی چلی جاتی نظر آرہی ہیں۔ اگرچہ دُور اندیش حلقے اپنے حکمرانوں کو برابر خبردار کررہے ہیں، مگر افسوس کہ ان آوازوں پر کان کم ہی دھرا جارہا ہے۔
ایران کم از کم گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے براہِ راست امریکی اور اسرائیلی یلغار کا نشانہ بناہوا ہے، اور اس کا واحد قصور ان دو بدمعاش (Rogue) ریاستوں کی نظر میں صرف یہ ہے کہ اس نے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا، اور شیعہ سُنّی کی تفریق سے بالاتر رہ کر اہل غزہ کی حمایت کا برملا اظہار کیا۔ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی سمجھ دار حکمران کا سا رویہ اپنانے کے بجائے ایک کھلنڈرے، بددماغ، دروغ گو اور ’اپسٹین فائلز‘ کے مطابق اوباش حکمران کی مانند دُنیا کے امن کو مسلسل خطرے میں ڈالنے کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ آج پوری دُنیا امن، توانائی اور انصاف کے بحران میں مبتلا ہے۔ جنگ کے پھیل کر بدترین تیسری عالم گیر جنگ میں تبدیل ہوجانے کا خطرہ مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتاہے تو اس کی براہِ راست ذمہ داری امریکا، اسرائیل اور ان بلاواسطہ یا بالواسطہ حلیف یا خاموش طرف دار ریاستی قیادتوں پر آئے گی۔
یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ مسلم دُنیا میں تباہی کے اس سفر کی ایک تاریخ ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ ایران پر امریکی، اسرائیلی حملے کے فوراً بعد کم از کم پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقے نے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی و اسرائیلی ریاستی درندگی کا استقبال کیا، اس چیز نے مسلم دُنیا میں متحرک ففتھ کالم کو بے نقاب کرنے میں مدد کی (حالانکہ دوسری طرف ایران میں حزبِ اختلاف کے لوگ، حکومت کے ساتھ مل کر دفاع کی راہ پر چل رہے ہیں)۔
تاریخ سے بے خبر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اہل مغرب یا مغرب سے متاثر ’جدید انسان‘ مسلمانوں کو تہذیب اور دُنیا کے ساتھ چلنے، بسنے کا سلیقہ سکھانا چاہتا ہے۔ پھر اسی کج فہمی اور مغربی این جی اوز کے زیراثر کچھ نام نہاد ’عالم‘ کہلائے جانے والوں کا ایک ایسا گروہ مسلم دُنیا میں موجود ہے، جو کبھی قرآن کا مفہوم بدلنے کی جسارت کرتا ہے اور کبھی احادیث کے ذخیرے کی بے قدری کرکے مسلمانوں کو اس اثاثے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ گروہ اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم میں، فلسطین پر صہیونیت کے قبضے کو جائز قراردینے کی حماقت کا ارتکاب بھی کرتا رہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ’مغربی اقدار‘ یا مغربی جبر کے زیراثر مسلم آبادیوں میں تابع مہمل حکمران طبقے، اس کے سوا کوئی پہچان نہیں رکھتے کہ ذاتی شہرت و اقتدار اور اس کے تحفظ کے لیے یہود و نصاریٰ کی بستہ برداری کریں۔ اس مقصد کے لیے، ایسے عناصر کی باتوں، گھاتوں اور وارداتوں کا ایندھن اپنے بے اختیار اور مجبور مسلم عوام ہی بنتے ہیں۔
مغرب جو صلیبی جنگوں کے زمانے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گہری نفرت کی آگ بھڑکاتا چلا آرہا ہے، اس کی سیاسی و مذہبی مقتدرہ کے لیے ہر وہ مسلمان گالی اور تباہی کا مستحق ہے، جو یہود و نصاریٰ کی اس نفرت کا رمز شناس ہے اور اسے سمجھتا ہے۔ مسلم آبادیوں اور مسلم اقوام میں مجموعی طور پر ، اہل مغرب کے اس طرزِعمل کے بارے میں گہرا ذہنی تحفظ پایا جاتا ہے۔ ان کا ضمیر اپنے ہاں پائے جانے والے ایسے لوگوں کی حکمرانی، قیادت اور نام نہاد راہ نمائی کو قبول کرنے کے لیے کبھی دل سے تیار نہیں ہوتا۔
جو مذموم طبقہ، مغرب کی زبان بولتا ہے، اور مغرب ہی کی عینک سے دیکھتے ہوئے اپنے لوگوں پر دھونس جماتا ہے، سازشیں کرتا ہے اور دشمن کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اپنوں ہی کو مارتا، تباہ کرتا اور دشنام کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسے مقتدر مگر دشمن کے بالواسطہ یا بلاواسطہ مددگاروں کے نزدیک ہر وہ باشعورمقامی فرد، جو ایسی ڈاکازانی کو جانتا ہے، اس کے لیے مغربی پالیسی سازوں اور ان کے مقامی طرف داروں نے چند گالیاں تجویز کر رکھی ہیں، جن میں شامل ہیں: انتہاپسند، قدامت پرست، رجعت پسند، بنیادپرست، دقیانوس، اسلامسٹ وغیرہ وغیرہ۔ یہ لیبل چسپاں کرنے کے لیے وہ خود مسلمانوں کے معاشروں سے ایسے افراد تلاش کرتے یا تیار کرلیتے ہیں جو اُن کی ایسی اصطلاحوں کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں۔ انھی میں سے بعض گروہ اسلام کے صحیح تصور کے بجائے گروہی، فرقہ وارانہ، اور انتہاپسندانہ حد تک ظاہر پرستانہ طرزِعمل اختیار کرکے تشدد کا راستہ بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے منصوبہ سازوں کو کئی گماشتے میسر آجاتے ہیں۔
مغربی جاہلیت اور حاکمیت کی غلامی نہ ماننے والے مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنے دین و تہذیب کے تحفظ اور اپنے حقِ اختیار کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، اور اپنے قومی و قدرتی وسائل کو دشمن کا نوالۂ تر بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر وہ دشمن کے طرف داروں بلکہ غدارچہروں کو بھی اچھی طرح جانتے، پہچانتے اور اس پہچان کو اپنی آیندہ نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔
آج ہمارے گردوپیش عالمی سامراجیوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کی بھڑکائی ہوئی آگ سے بلند ہوتے شعلوں میں یہ افسوس ناک منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔ اسی منظرکا :lایک شاخسانہ مسلم دُنیا کے ممالک پر آمریتوں اور نام نہاد جمہوریتوں کا دور دورہ ہے، جس میں یہاں کے عوام کی کوئی حصہ داری اور مرضی شامل نہیں۔ lدوسری جانب بین الاقوامی سامراجی اور مالیاتی لیڈروں کی نمائندگی و سہولت کاری کے لیے ہروقت اور ہرقیمت پر حاضر نااہل قیادت و سیاست کی حاکمیت ہے۔ lتیسری جانب مسلم دنیا کے مختلف حصوںپر استعماریوں کی قبضہ گیری کی خونیں رات ہے۔ lچوتھی جانب مراکز دانش و تحقیق میں بے عملی اور ابلاغ وراہ نمائی کی فرسودگی ہے۔ lپانچویں طرف علما کے طبقے میں ایک گروہ کی فرقہ پرستانہ سوچ اور فساد گردی ہے___ یہ صورتِ حال آگے بڑھتی ہے تو غزہ میں قتل عام، بلقانی مسلم ریاستوں میں خونِ مسلم کی اَرزانی، افریقہ میں مسلم بستیوں کی پامالی اور کشمیر کی طرح کئی مسلم خطوں پر ہونے والے عشروں کا ظلم، خون کی ندیاں بہاتا نظر آتا ہے۔ یہ طغیان بڑھتے بڑھتے ۲۸فروری ۲۰۲۶ء کو ایران پر امریکا و اسرائیل کی وحشیانہ یلغار میں بدل گیا ہے۔
ایران پر صہیونی و مسیحی سیاسی قیادتوں اور فوجی قوتوں کا حملہ بدترین سفاکیت، عالمی مروجہ اصولوں کی پامالی اور انسانیت کی تذلیل کا ایک الم ناک باب ہے۔ یاد رہنا چاہیے کہ ایران ۴۶سالہ عالمی پابندیوں کے باوجود ایک دفاعی قوت اور قومی یکجہتی کی علامت بن کر اُبھرا ہے۔ تاحال جنگ جاری ہے، اور حتمی نتائج تک پہنچنے میں وقت لگے گا، مگر فی الوقت صاف ظاہر ہے کہ ایران نے ایسی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر دُنیا بھر کو حیران و ششدر کردیا ہے کہ جس میں کوئی بھی مسلم ملک ایران کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی نہیں دیتا (چند مسلم ممالک محض فاصلے پر رہ کر اظہارِ ہمدردی تک محدود ہیں)۔ لیکن اس کے برعکس مسلم ممالک کے عوام رنگ و نسل اور شیعہ سُنّی کی تفریق سے بالاتر ہوکر ایران کے ساتھ ہم آواز ہیں۔ مسلم دُنیا ہی نہیں، مغرب اور مشرق کے عوام بھی ایران کے حقِ دفاع کے طرف دار اور اس ظلم کی مذمت میں اس کے ہم قدم ہیں۔
اسرائیل نے درحقیقت پہلے مصر، سوڈان، امارات، اُردن اور خلیجی ریاستوں کو رام کرکے مسلم یک جہتی کو توڑا، پھر عراق، لیبیا، شام وغیرہ کی فوجی و سیاسی قوت کو ملیامیٹ کیا۔ عالمی صہیونیت کے کاسہ لیس بعض مسلم حکمرانوں نے ’اسلامی تعاون تنظیم‘(OIC) کو ایک مُردہ گھوڑا بنا کر رکھ دیا ہے۔ عرب ممالک کے معدنی وسائل کی دولت کو اُونچی عمارتوں کی تعمیر، تجارتی کشاکش، عیاشانہ زندگی کے چلن اور نسل پرست انڈیا کے ہاتھوں معیشت و نظم ریاست کو جکڑنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ حاکم تصور کرتے آئے کہ، ہم توامریکا و یورپ کے محبوبِ نظر بن رہے ہیں، حالانکہ وہ سب اس راہ پر چلتے ہوئے اپنے مستقبل کو قبر میں اُتارنے کا عمل ہی کرتے رہے ہیں۔ اسی دوران انھوں نے اخوان المسلمون اور حماس کو کچلنے کا سامان فراہم کیا، حالانکہ یہی وہ قوت ہے، جس میں مسلمان ملّت کے قدرتی وسائل کو مغربی جاہلیت کے خون آشام منصوبوں سے بچانے کا شعور ہے۔ ان کے برعکس اُن لبرل، سیکولر، قوم پرست طبقوں پر اعتبار کیا جارہا ہے، جو پہلے ہی دین و ایمان مغرب کو بیچ چکے ہیں۔ایسے ہی منافقین نے ایران کی فکری، سیاسی، اور علمی قیادت کو قتل کرنے کے لیے اسرائیل و امریکا کی مدد کی۔ایسے لوگ نقابوں کے پیچھے چھپے ہوئے آستین کے سانپ ہیں۔
ہمارے نزدیک یہ جنگ سامانِ عبرت ہے، جس نے واضح کر دیا ہے کہ:
۱- امریکا، صلیبیت اور صہیونیت کا طرف دار ہے، جس کے شانہ بشانہ برہمنیت کھڑی ہے۔
۲- اہلِ مغرب کی قیادتیں خود غرضی، سنگ دلی، بداخلاقی اور بدعہدی کی شرمناک سطح پر کھڑی ہیں۔
۳- ’صہیونیت‘ (نہ کہ تمام یہودی) مغربی اور مسلم دُنیا کی پالیسی سازی میں دخیل ہے۔
۴- صہیونیت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے دولت، دھوکے، میڈیا، جنسی بے راہ روی اور پروپیگنڈا کو بطورِ ہتھیار برتتی چلی آرہی ہے۔
۵- مسلم دُنیا کی معدنی دولت کو تعلیمی ترقی، سائنسی جستجو اور دفاعی آلات و حکمت عملی کو اسلامی تعلیمات کے تناظر میں پروان چڑھانے پر صرف کرنے کے بجائے آسائشوں کے پھیلائو اور بے جان عمارتی ڈھانچوں کی تعمیر اور اسلامی شعائر کی بے حُرمتی پر صرف کرنے کو کامیابی بناکر پیش کیا جارہا ہے۔
۶- اپنے عوام کو پالیسی سازی میں شرکت دینے کے برعکس، خوف کی حکمرانی قائم کر کے اپنے خانگی اقتدار کے استحکام ہی کو زندگی کا حاصل سمجھا گیا ہے۔
۷- اسلامی قوتوں کو کچلنے اور ان کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششوں کو فروغ دیا گیا ہے۔
۸- اسرائیل سے قربت اور امریکا کے سامنے خود سپردگی کا راستہ اپنایا گیا ہے۔
یہ اور اسی نوعیت کے مزید درجن بھر اُمور فساد، خرابی و کج فہمی کا نصاب ہیں۔ اس فساد بھرے منظرنامے میں دانش کی یہی بات ہے کہ:
۱- ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC)کو حق اور عدل کی بنیاد پر واقعی اُمت کی ترجمان تنظیم بنانے اور اُمت کے معاملات کا اَزسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
۲- اسرائیل اور امریکا کی دھونس (dictation)کو تسلیم کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
۳- براہِ راست جنگ کے خطرے سے دوچار ملکوں کو اَناپرستی کی قید سے نکل کر آگے بڑھتے ہوئے امن کا پرچم اُٹھانا، اور اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دیانت دار مسلم اہل دانش کا کمیشن مقرر کرنا چاہیے۔
۴- فلسطین کے مسئلے پر جامع، دو ٹوک اور منصفانہ موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
۵- اس افسوس ناک جنگ کا روشن پہلو یہ ہے کہ جون ۱۹۶۷ء سے قائم اسرائیل کے اس دعوے اور ہوّےکا دامن تار تار ہوگیا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے (اس کارنامےکے لیے اہلِ ایران کی جرأت اور قربانی واقعی سنہرے حروف سے لکھی جائے گی)۔
۶- اقوام متحدہ کے غیرمؤثر ہونے کی وجہ سے لازم ہے کہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ ایک ’اُمۃ عدالت انصاف‘ قائم کرے، جس کے ارکان مسلم دُنیا کے قابل جج ہوں اور وہی مسلم دُنیا کے مابین تنازعات اور شکایات کو دُور کریں۔
۷- ’مسلم مالیاتی فنڈ‘ (مسلم مانیٹری فنڈ)تشکیل دیا جائے، جو مغرب اور یورپ میں بکھرے مسلم مالی ذخائر کو ایک جگہ منتقل کرکے، مسلم دُنیا کی تحقیقی، تعلیمی، تجارتی، صنعتی، سائنسی، سماجی، دفاعی، طبّی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے باہمی تعاون کا مستحکم نظام بنائے۔
۸- ’پاکستان ایران پائپ لائن معاہدے‘ پر عمل درآمد شروع کیا جائے اور امریکا کی جانب سے بے جا طور پر مسلط کردہ معاشی و تجارتی غلامی سے نکلا جائے۔
یہ جان لینا چاہیے کہ بیسویں صدی کے ابتدا میں یہودیوں، برطانویوں اور فرانسیسیوں کے اشتعال دلانے سے جس ’عرب قوم پرستی‘ کے بُت کو تراشا اور اس کو پوجا گیا تھا، اُس نے کمزور عثمانی خلافت کے پرخچے تو اُڑائے ہی تھے، مگر عرب دُنیا کو سوائے چند مجبور مملکتوں کے، کوئی قابلِ فخر اثاثہ نہ دیا۔ کیا ایک سو سال کے اس تلخ تجربے سے سبق سیکھنے کا ابھی وقت نہیں آیا؟
اسرائیل اور امریکا کی پوری کوشش یہی ہے کہ وہ کسی طرح خود اس جنگ کی آگ سے باہر نکل جائیں اور اس کے بجائے ایران اور بعض مسلم ممالک کے درمیان ایک خوںریز تصادم شروع کرا دیں۔ایسی صورتِ حال امتِ مسلمہ کے لیے تباہ کن، اسرائیل کے لیے بہت بڑی راحت اور امریکی اسلحہ ساز صنعت کے لیے سنہری موقع ثابت ہو گی۔اب مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کی اس عیارانہ سازش کو سمجھیں، تصادم کے پھندے میں نہ پھنسیں اور امت کو اس خطرناک جال سے بچا کر کامیاب بنائیں۔
اس ماحول میں پاکستان کے لیے بہت گہرے چیلنج اُبھر کر سامنے آئے ہیں، جن میں حکومت ِ پاکستان بظاہر پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے ہوئے ’تزویراتی توازن‘ (Strategic Balance) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے:
۱- اصولی مذمت اور خود مختاری کا دفاع:پاکستان نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
۲- ایران سے تعلقات: پاکستان کی ہرلحاظ سے یہ ضرورت ہے کہ ایران سے سرحدی کشیدگی پیدا نہ ہو، اور عرب دُنیا سے تعاون صرف عرب سرزمین کی جغرافیائی حدود تک محدود رہے، نہ کہ اقدامی اور جارحانہ شکل اختیار کرے۔پاکستان کو ایران کے خلاف ’امریکی، اسرائیلی مہم جوئی‘ میں اپنی زمین یا فضائی حدود فراہم کرنے سے ہر حالت میں سختی سے انکار کرنا چاہیے۔ یہی غیرجانب داری اور اصولی موقف پاکستان کے بقا کی ضمانت ہے۔
۳- سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ :ایک طرف ایران پڑوسی ملک ہے، تو دوسری طرف پاکستان نے ۲۰۲۵ء میں سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدہ کررکھا ہے۔ سعودی پاک دفاعی معاہدے کے بارے میں محترم حافظ نعیم الرحمٰن (امیر جماعت اسلامی پاکستان) نے جماعت اسلامی کی پالیسی، مؤقف اور اتحادویکجہتی کے فروغ کے لیے دُور اندیشی پر مبنی راہ نمائی دیتے ہوئے کہاہے کہ ’’اس معاہدے میں توسیع لاتے ہوئے سب سے پہلے ایران اور ترکیہ کو اس میں شامل کیا جائے، اور پھر مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ جس روز اس وسعت کے ساتھ یہ معاہدہ معرضِ وجود میں آگیا، اسی روز سے اسرائیلی اور سامراجی مداخلت اور بلیک میلنگ کا باب بند ہونے کا آغاز ہوجائے گا۔
۴-سفارتی پُل کا کردار: پاکستان خود کو ایکBridge Builder کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور تہران، ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انصاف، عدل اور غیرجانب داری کی بنیاد پر یہ کوششیں آگے بڑھتی ہیں، تو پاکستان کے لیے اعزاز کا درجہ رکھیں گی۔ مناسب ہوگا کہ پاکستان، ترکیہ،انڈونیشیا اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایسا ’سفارتی بلاک‘ بنائے جو تہران اور ریاض کے درمیان غلط فہمیوں کو دُور کرے۔
۵- تــزویراتی خود مـختاری :پاکستان کو کسی بھی صورت میں مشرقِ وسطیٰ کی ’گروہی سیاست‘ (Bloc Politics) کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی ’محدود ہم آہنگی، اور ’عسکری مداخلت سے گریز‘ پر مبنی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سفارتی طور پر ایران کے ساتھ ہے، اور دفاعی طور پر سعودی عرب کے ساتھ، مگر عسکری طور پر غیرجانب دار رہنا چاہتا ہے۔تاہم ’سلامتی کونسل‘ میں ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری کے دوران پاکستان کا کردار سفارتی حلقوں کے خیال میں ناقابلِ فہم رہا، اور یہی معاملہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ میں ایران کے خلاف یک طرفہ موقف کے دوران دیکھنے میں آیا۔
پاکستان پر حددرجہ نازک ذمہ داری ہے، جس میں وہ دُنیا اور عالم اسلام کو ناقابلِ تصور صدمے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اصولی، اخلاقی اور قانونی موقف پر جم کر بات کرنے کے بجائے اگر دولت اور طاقت کی دھونس میں آکر کمزور ناقابلِ فہم لب و لہجہ اختیار کیا گیا تو یہ چیز ملک و ملّت اور دُنیا کے لیے خسارے کا سودا ہوگا۔
کیا اس بات میں کوئی شک رہ گیا ہے کہ امریکا نے ایران کو مذاکرات میں اُلجھا کر، اس پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی جاری رکھی، اور حملہ کرکے سیاسی قیادت کو ختم کرنے کا راستہ اپنایا۔ وہ ایران کہ جس کے ۹کروڑ انسانوں پر ۳۶برس سے معاشی، تجارتی، سماجی پابندیاں عائد کیے رکھیں۔ ساتھ ہی مسلم ممالک کے درمیان جنگوں کو بھڑکایا، اور جب ۲۸فروری کو مجرمانہ حملہ کیا تو بوکھلاہٹ میں مسلسل جھوٹ بولے اور پینترے بدل بدل کر جہالت اور دھوکا دہی کا ارتکاب کیا۔ کیا یہ کسی معقول یا مہذب ریاست کا رویہ ہوسکتاہے؟ کیا یہی ملک ہے مغربی تہذیب کا نمائندہ اور چہرہ؟ (س م خ)
۱۲فروری ۲۰۲۶ء کو بنگلہ دیش میں منعقدہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی ایک بڑا سنگ ِ میل ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے ڈالے گئے ووٹوں میں سے ۳۱ء۷۶ فی صد (۲ کروڑ ۴۲ لاکھ) ووٹ حاصل کیے۔جماعت اسلامی کے یہ ووٹ ایک غیرمعمولی پیش رفت کا ثبوت ہیں۔ خاص طور پر ان حالات میں، جب کہ پندرہ سولہ سال مسلسل ان کے خلاف ظلم و جبر اور سفاکیت کی انتہا کردی گئی۔ جماعت کی پوری مرکزی قیادت شہید کردی گئی، ان کو پھانسیاںدے دی گئیں۔ پھر دوسری صف کی قیادت کو قید کردیا گیا۔ جماعت سے وابستہ خواتین کو بھی ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کیا گیا۔ اسلامی جمعیت طالبات کی کارکنان کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ طلبہ کی تنظیم اسلامی چھاتروشبر کو بُری طرح ظلم، تشدد، قتل و غارت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند اور داخلے منسوخ کیے گئے۔ ایک بڑی تعداد کو ڈگریوں سے محروم کیا گیا۔
صرف اسی پر بس نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے تعلیمی، رفاعی، طبّی اور معاشی اداروں تک کو تباہ کردیا گیا، یا ان پر ناجائز قبضہ جمایا گیا۔ ساتھ ہی عام عوام خصوصاً نوجوان نسل کی ذہن سازی کے لیے ہرجبری اور ابلاغی ذریعہ استعمال کیا۔ نصاب میں ایسی چیزیں شامل کیںجو جماعت اسلامی کے خلاف پراپیگنڈے پر مشتمل تھیں۔ ان کو یہ تک کہا گیا کہ یہ وہ غدار ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف لڑائی کی، یوں لفظ ’رضاکار‘ کو ایک گالی بنادیا گیا۔ یونی ورسٹیوں میں ٹاپ پوزیشن پر جو پروفیسر تھے یا ایڈمنسٹریشن کے بیشتر افسران اور اکثراہل کار عوامی لیگ کے تھے یا پھر جماعت اسلامی سے سخت نفرت کے جذبات پالنے کی شہرت رکھتے تھے۔ بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ صرف عوامی لیگ کے نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی صورتوں میں انڈین لابی کے نمائندے بھی تھے۔ ایسے استاد، شاعر، ادیب اور صحافی انھیں بڑے پیمانے پر غدار قرار دے رہے تھے۔
ظلم و جبر کی اس طویل کالی رات میں زندگی کا ثبوت دیتے ہوئے، ایک ڈیڑھ سال میں یوں جماعت اسلامی کا قومی سطح پر اُبھر کر آنا ایک کرشمۂ قدرت کے سوا کچھ نہیں۔ اس فضا میں جماعت اسلامی نے نظریے کو اور اپنی وابستگی کو برقرار رکھا۔پابندیوں اور زیادتیوں کے باوجود وہ عوام اور نوجوانوں کے ساتھ جڑے رہے۔ خواتین میں بڑے پیمانے پر دعوت،تنظیم اور تربیت کا کام پھیلایا ۔ جب ۵؍اگست ۲۰۲۴ء کو عوامی لیگ کا اقتدار ختم ہوا تو اس کے چند مہینوں میں ہی انھوں نے ایک بڑی زبردست اور ہمہ گیر انتخابی مہم کھڑی کر دی۔ یہ طاقت ہے ایک نظریاتی پارٹی کی، ایسی پارٹی جو کسی شخصیت کے بجائے نظریے پر، ڈسپلن پر اور تنظیم پر یقین رکھتی ہے۔
ہم ایسی کئی مثالیں پاکستان اور پاکستان سے باہر دیکھتے ہیں، جس میں سیاست افراد کے گردگھومتی ہے۔ بعض اوقات افراد مسائل سے دوچار ہوتے ہیں تو پارٹی ختم ہوجاتی ہے یا پھر سکڑ کر رہ جاتی ہے اور کئی کئی گروپوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کون قیادت کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا؟ لیکن بنگلہ دیش جماعت اسلامی وہ پارٹی ہے کہ جس کے امیر، نائب امیر، سیکرٹری جنرل اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل تک کو پھانسی کی سزا دی گئی اور جس کے سابق امیر کا جنازہ بھی جیل سے اُٹھا۔ ان کے ٹاپ کے لوگوں کے ساتھ نہ ختم ہونے والا بہیمانہ سلوک برتا گیا، مگر انھوں نے دوبارہ سے اپنے آپ کو کھڑا کرلیا، الحمدللہ! یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
اس کامیابی میں بہت اہم پہلو نوجوانوں کا کردار ہے۔ یہ منظر ہم نے بنگلہ دیش میں دیکھا ہے کہ کس طرح نئی نسل، جنریشن زی نے دیوانہ وار جماعت اسلامی کا ساتھ دیا ہے۔
لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ جماعت اسلامی کو اپنا نام بدل لینا چاہیے۔لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ انھیں تنظیم سے ’اسلام‘ کا نام ہٹا دینا چاہیے۔ ہمیں ایسے ناصحین کے تجزیے بھی یاد ہیں، جو کہتے تھے کہ تحریکوں کی ایک عمر ہوتی ہے، اور ۷۰، ۷۵ سال بعد تحریکیں ختم یا تحلیل ہوجاتی ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اخوان المسلمون کو دیکھیے کہ تحلیل ہوکر رہ گئی ہے لیکن اللہ کا کرنا دیکھیے کہ حالات تبدیل ہوئے۔ ’عرب بہار‘ آئی اور پھر اس کے بعد اخوان المسلمون نے مصر میں ایک سال کے دوران پانچ مرتبہ عوام کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کی: ریفرنڈم میں، پارلیمانی انتخابات میں، صدارتی انتخاب میں ، رن آف الیکشن میں اور سینیٹ میں۔ اس طرح اخوان المسلمون نے عوامی رائے کے اعتبار سے بھی اپنے آپ کو مستحکم جماعت ثابت کر دکھایا۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو اب جو کامیابی ملی ہے، یہ درحقیقت سیّدابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے اُس وژن کی عملی صورت ہے، جسے انھوں نے قرآن و سنت سے اخذکیا ہے اور جو اصل اسلامی فکر ہے، اور یہ سب اسی فکر کی کامیابی ہے۔ بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ عالمِ عرب ہو، مشرق بعید ہو یا افریقا، جہاں جہاں بھی آپ جائیں گے، اسی فکر پر مبنی تحریکیں عوام میں جڑیں گہری کر رہی ہیں اور کامیابی کی سمت بڑھ رہی ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا مودودی کا وژن اور فکر درحقیقت ہے کیا؟
سادہ لفظوں میں یہ اسلام کی دعوت ہے اور اسلام کا بھی وہ تصور جو اصل اسلام ہے کہ جس میں فروعیات، ظاہر پرستی اور مقامی روایات کو اسلام قرار دینا شامل نہیں ہے۔ اس تصور میں مسلک پرستی، فرقہ پرستی جیسے معاملات سے کہیں بلند ہوکر اسلام کی بات کی جاتی ہے۔ آج کل بعض لوگ کج فکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ’پولیٹیکل اسلام‘ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مغربی نظریہ ساز من پسند اصطلاحات سازی کرکے اپنے مذموم مقاصد کی آبیاری کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنی اصل میں جہاں فرد اور معاشرے کی روحانی اور اخلاقی تعمیر کرتا ہے، وہیں پر سماجی اور اخلاقی میدان میں بھی راہ نمائی کرتا ہے۔ اسلام معیشت کو بھی پیش کرتا ہے، اسلام عدالت کا نظام بھی سامنے رکھتا ہے۔ اسلام تو پورا ایک نظامِ حیات اور پوری تہذیب ہے۔ وہ ریاست کو ، حکومت کو، خاندان کو اور سوسائٹی کو بھی مخاطب کرتا ہے اور اپنے آپ کو محض عبادات تک محدود نہیں رکھتا۔
اسلامی تحریکیں اصل میں وہی ہیں جو اسلام کی اس مکمل دعوت کو پیش کریں۔ مقامی مسائل اور معاملات سے لے کر بین الاقوامی حالات تک پر نظر رکھیں، اور اپنے ممالک کے حالات کے مطابق حکمت عملی بنائیں ۔ فرقوں،علاقوں، نسلوں، مسلکوں اور گروہوں کی تنگنائیوں سے باہر نکل کر بلندتر مقاصد کے لیے کام کریں۔ اسلامی تحریکیں آفاقی اور عالمی منظر میں سوچتی ہیں، جب کہ مقامی سطح پر عمل کی راہیں کشادہ کرتی ہیں۔ یہی کارنامہ بنگلہ دیش جماعت نے بحسن و خوبی سرانجام دیا۔
یہ وہ پیغام ہے جس کو مولانا مودودی نے سمجھانے اور پھیلانے کے ساتھ اجتماعیت قائم کی ہے اور ایک جماعت بھی منظم کی ہے۔ یہ شعور دینے کے ساتھ انھوں نے بار بار ذہن نشین کرایا ہے کہ آپ کے لیے حتمی راہ نمائی کا ذریعہ صرف قرآن و سنت ہیں۔
استعماریت، آمریت، اباحیت، لادینیت، مادہ پرستی، نسل پرستی اور سرمایہ داری کے گلے سڑے نظام سے انسانیت بے زار ہے۔ اس منظرنامے میں انسانیت ایک نئے نظام کی پیاس واضح طور پر محسوس کرتی ہے، اور اس پیاس کو بجھانے کا واحد ذریعہ اسلام ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ سامراجی طاقتوں اوراُن کے پٹھو حکمرانوں کی سازشوں سے پیدا شدہ فساد کے اس ماحول میں اسلام ایک طاقت، ایک نظریے، ایک تحریک اور ایک نظام کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے گا، ان شاء اللہ! ان حالات میں جس طرح سے جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں انتخابات کے بعد جمہوریت کے استحکام، عدل و انصاف کے قیام اور اصولی سیاست کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ قدم اسلامی نظام کے احیا اور اسلامی تحریک کے فروغ کا ذریعہ ثابت ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے، اس پیغام کو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ اس کے لیے تن، من، دھن اور ذہن کی قوتوں کو کھپادیں۔خصوصاً اس دور میں جب پوری نسل ذرائع ابلاغ خصوصاً سوشل میڈیا کے زیراثر پروان چڑھ رہی ہے، اسلامی تحریکوں کی کوئی کامیابی خلا میں نہیں ہوسکتی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ فلسطین، عالمِ عرب اور بنگلہ دیش میں تو نوجوان اِن تحریکوں کو قبول کرلیں،اس کے لیے قربانیاں دیں، اپنی توانائیاں لگائیں اور پاکستان میں ایسا نہ ہو۔
لہٰذا، یہ ناگزیر ہے کہ تحریک اسلامی کا عوام بالخصوص نوجوان نسل (جنریشن زی) سے رابطہ اور تعلق بڑھے۔ انھیں احساسِ شراکت ملے۔ خواتین، تحریک سے اجنبیت محسوس نہ کریں اور وسیع تر تناظر میں انھیں ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت حاصل کریں، تو ان شاء اللہ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی غیرمعمولی نتائج حاصل کرسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے سب کو ایمانی قوت و بصیرت اور عملی جدوجہد سے وابستہ ہونا ہوگا۔
اسلامی زندگی کی عمارت کو قائم ہونے اور قائم رہنے کے لیے جن سہاروں کی ضرورت ہے، ان میں سب سے مقدم سہارا یہ ہے کہ مسلمانوں کے افراد میں فرداً فرداً اور ان کی جماعت میں بحیثیت مجموعی وہ اوصاف پیدا ہوں جو خدا کی بندگی کا حق ادا کرنے اور دنیا میں خلافت ِ الٰہی کا بار سنبھالنے کے لیے ضروری ہیں۔
وہ غیب پر سچا اور زندہ ایمان رکھنے والے ہوں۔ وہ اللہ کو اپنا واحد فرماں روا تسلیم کریں اور اس کے فرض شناس اور اطاعت کیش بندے ہوں۔ اسلام کا نظامِ فکرونظریۂ حیات ان کی رَگ رَگ میں ایسا پیوستہ ہوجائے کہ اسی کی بنیاد پر اُن میں ایک پختہ سیرت پیدا ہو، اور ان کا عملی کردار اسی کے مطابق ڈھل جائے۔ اپنی جسمانی اور نفسانی قوتوں پر وہ اتنے قابو یافتہ ہوں کہ اپنے ایمان واعتقاد کے مطابق ان سے کام لے سکیں۔ ان کے اندر منافقین کی جماعت اگر پیدا ہوگئی ہو یا باہر سے گھس آئی ہو تو وہ اہلِ ایمان سے الگ ہوجائے۔ ان کی جماعت کا نظام اسلام کے اجتماعی اصولوں پر قائم ہو، اور ایک مشین کی طرح پیہم متحرک رہے۔ ان میں اجتماعی ذہنیت کارفرما ہو۔ ان کے درمیان محبت ہو، ہمدردی ہو، تعاون ہو، مساوات ہو، وحدتِ روح اور وحدتِ عمل ہو۔ وہ قیادت اور اقتدار کے حدود کو جانتے اور سمجھتے ہوں اور پورے نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ یہ تمام مقاصد چونکہ نماز کی اقامت سے حاصل ہوتے ہیں، لہٰذا اس کو دین اسلام کا ستون قرار دیا گیا۔ یہ ستون اگر منہدم ہوجائے تو مسلمانوں کی انفرادی سیرت اور اجتماعی ہیئت دونوں مسخ ہوکر رہ جائیں اور وہ اس مقصد ِعظیم کے لیے کام کرنے کے اہل ہی نہ رہیں جس کی خاطر جماعت وجود میں آئی ہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا کہ نماز عماد الدین ہے، یعنی دین کا سہارا ہے جس نے اس کو گرایا اس نے دین کو گرا دیا۔
ان مقاصد کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ ان کو حاصل کرنے کے لیے صرف نماز کو کافی نہ سمجھا گیا بلکہ اس رکن کو مزید تقویت پہنچانے کے لیے ایک دوسرے رکن روزے کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ نماز کی طرح یہ روزہ بھی قدیم ترین زمانے سے اسلام کا رُکن رہا ہے۔ اگرچہ تفصیلی احکام کے لحاظ سے اس کی شکلیں مختلف رہی ہیں مگر جہاں تک نفسِ روزے کا تعلق ہے وہ ہمیشہ الٰہی شریعتوں کا جزولاینفک ہی رہا۔ تمام انبیا علیہم السلام کے مذہب میں یہ فرض کی حیثیت سے شامل تھا۔ جیساکہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (البقرہ ۲:۱۸۳) تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑکے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔
اس سے یہ بات خودبخود مترشح ہوتی ہے کہ اسلام کی فطرت کے ساتھ اس طریقِ تربیت کو ضرور کوئی مناسبت ہے۔
زکوٰۃ اور حج کی طرح روزہ ایک مستقل جداگانہ نوعیت رکھنے والا رُکن نہیں ہے بلکہ دراصل اس کا مزاج قریب قریب وہی ہے جو رکنِ صلوٰۃ کا ہے اور اسے رکنِ صلوٰۃ کے مددگار اور معاون ہی کی حیثیت سے لگایا گیا ہے۔ اس کا کام انھی اثرات کو زیادہ تیز اور زیادہ مستحکم کرنا ہے جو نماز سے انسانی زندگی پر مترتب ہوتے ہیں۔ نماز روزمرہ کا معمولی نظامِ تربیت ہے جو روز پانچ وقت تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے آدمی کو اپنے اثر میں لیتا ہے اور تعلیم و تربیت کی ہلکی ہلکی خوراکیں دے کر چھوڑ دیتا ہے، اور روزہ سال بھر میں ایک مہینے کا غیرمعمولی نظامِ تربیت (special training course) ہے جو آدمی کو تقریباً ۷۲۰ گھنٹے تک مسلسل اپنے مضبوط ڈسپلن کے شکنجے میں کَسے رکھتا ہے تاکہ روزانہ کی معمولی تربیت میں جو اثرات خفیف تھے وہ شدید ہوجائیں۔ یہ غیرمعمولی نظامِ تربیت کس طرح اپنا کام کرتا ہے، اور کس کس ڈھنگ سے نفسِ انسانی پر مطلوب اثر ڈالتا ہے ، اس کا تفصیلی جائزہ ہم ان صفحات میں لینا چاہتے ہیں۔
روزے کا قانون یہ ہے کہ آخر شب طلوعِ سحر کی پہلی علامات ظاہر ہوتے ہی آدمی پر یکایک کھانا پینا اور مباشرت کرنا حرام ہوجاتا ہے اور غروبِ آفتاب تک پورے دن حرام رہتا ہے۔ اس دوران میں پانی کا ایک قطرہ اور خوراک کا ایک ریزہ تک قصداً حلق سے اُتارنے کی اجازت نہیں ہوتی اور زوجین کے لیے ایک دوسرے سے قضائے شہوت کرنا بھی حرام ہوتا ہے۔ پھر شام کو ایک خاص وقت آتے ہی اچانک حُرمت کا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ سب چیزیں جو ایک لمحے پہلے تک حرام تھیں یکایک حلال ہوجاتی ہیں اور رات بھر حلال رہتی ہیں، یہاں تک کہ دوسرے روز کی مقررہ ساعت آتے ہی پھر حُرمت کا قفل لگ جاتا ہے۔ ماہِ رمضان کی پہلی تاریخ سے یہ عمل شروع ہوتا ہے اور ایک مہینے تک مسلسل اس کی تکرار جاری رہتی ہے۔ گویا پورے ۳۰دن آدمی ایک شدید ڈسپلن کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔ مقرر وقت تک سحری کرے، مقرر وقت پر افطار کرے، جب تک اجازت ہے، اپنی خواہشاتِ نفس پوری کرتا رہے اور جب اجازت سلب کرلی جائے تو ہر اس چیز سے رُک جائے جس سے منع کیا گیا ہے۔
اس نظامِ تربیت پر غور کرنے سے جو بات سب سے پہلے نظر میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اس طریقے سے انسان کے شعور میں اللہ کی حاکمیت کے اقرار و اعتراف کو مستحکم کرنا چاہتا ہے، اور اس شعور کو اتنا طاقت ور بنادینا چاہتا ہے کہ انسان اپنی آزادی اور خودمختاری کو اللہ کے آگے بالفعل تسلیم (surrender) کردے۔ یہ اعتراف و تسلیم ہی اسلام کی جاں ہے، اور اسی پر آدمی کے مسلم ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے۔
دین اسلام کا مطالبہ انسان سے صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ بس وہ خداوندعالم کے وجود کو مان لے، یا محض ایک مابعد الطبیعی نظریے کی حیثیت سے اس بات کا اعتراف کرلے کہ اس کائنات کے نظام کو بنانے اور چلانے والا صرف اللہ واحد قہار ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی اس امرواقعی کو ماننے کے ساتھ ہی اس کے منطقی اور فطری نتیجے کو بھی قبول کرے۔ یعنی جب وہ یہ مانتا ہے کہ اس کا اور تمام دنیا کا خالق، پروردگار، قیام بخش اور مدبرِ امر صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور جب وہ تسلیم کرتا ہے کہ نہ تخلیق میں کوئی اللہ کا شریک ہے، نہ پرورش میں، نہ قیام بخش میں اور نہ تدبیر امر میں، تو اس تسلیم و اعتراف کے ساتھ ہی اسے اللہ کی حاکمیت و فرماں روائی کے آگے سپرڈال دینی چاہیے۔ اپنی آزادی و خودمختاری کے غلط اِدعا سے خیال اور عمل دونوں میں دست بردار ہوجانا چاہیے، اور اللہ کے مقابلے میں وہی رویّہ اختیار کرلینا چاہیے جو ایک بندے کا اپنے مالک کے مقابلے میں ہونا لازم ہے۔
یہی چیز دراصل کفر اور اسلام کے درمیان فارق ہے۔ کفر کی حالت اس کے سوا کچھ نہیں کہ آدمی اپنے آپ کو اللہ کے مقابلے میں خودمختار اور غیرجواب دہ سمجھے اور یہی سمجھ کر اپنے لیے زندگی کا راستہ اختیار کرے، اور اسلام کی حالت اس کے سوا کسی اور چیز کا نام نہیں کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کا بندہ اور اس کے سامنے جواب دہ سمجھے اور اسی احساسِ بندگی و ذمہ داری کے ساتھ دُنیا میں زندگی بسر کرے۔ پس حالت ِ کفر سے نکل کر حالت ِ اسلام میں آنے کے لیے جس طرح اللہ کی حاکمیت کا سچا اور قلبی اقرار ضروری ہے، اسی طرح اسلام میں رہنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کے دل میں بندگی کا احساس و شعور ہردم تازہ، ہروقت زندہ اور ہر آن کارفرما رہے ۔ کیونکہ اس احساسِ شعور کے دل سے دُور ہوتے ہی خود مختاری و غیرذمہ داری کا رویّہ عود کرآتا ہے، اور کفر کی وہ حالت پیدا ہوجاتی ہے جس میں آدمی یہ سمجھتے ہوئے کام کرتا ہے کہ نہ اللہ اس کا حاکم ہے اور نہ اسے اللہ کو اپنے عمل کا حساب دینا ہے۔
جیساکہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے، نماز کا اوّلیں مقصد انسان کے اندر ’اسلام‘ کی اسی حالت کو پے درپے تازہ کرتے رہنا ہے ، اور یہی روزے کا مقصد بھی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ نماز روزانہ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے اس کو تازہ کرتی ہے، اور رمضان کے روزے سال بھر میں ایک مرتبہ پورے ۷۲۰گھنٹوں تک پیہم اس حالت کو آدمی پر طاری رکھتے ہیں، تاکہ وہ پوری قوت کے ساتھ دل و دماغ میں بیٹھ جائے اور سال کے باقی ۱۱مہینوں تک اس کے اثرات قائم رہیں۔ اول تو روزے کے سخت ضابطے کو اپنے اُوپر نافذ کرنے کے لیے کوئی شخص اس وقت تک آمادہ ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ کو اپنا حاکم اعلیٰ نہ سمجھتا ہو اور اس کے مقابلے میں اپنی آزادی و خودمختاری سے دست بردار نہ ہوچکا ہو۔ پھر جب وہ دن کے وقت مسلسل ۱۲،۱۲؍۱۳،۱۳گھنٹے کھانے پینے اور مباشرت کرنے سے رُکا رہتا ہے، اور جب سحری کا وقت ختم ہوتے ہی نفس کے مطالبات سے یکایک ہاتھ کھینچ لیتا ہے، اور جب افطار کا وقت آتے ہی نفس کے مطلوبات کی طرف اس طرح لپکتا ہے کہ گویا فی الواقع اس کے ہاتھوں اور اس کے منہ اور حلق پر کسی اور کی حکومت ہے، جس کے بند کرنے سے وہ بند ہوتے اور جس کے کھولنے سے وہ کھلتے ہیں، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس دوران میں اللہ کی حاکمیت اور اپنی بندگی کا احساس اس پر ہروقت طاری ہے۔ اس پورے ایک مہینے کی طویل مدت میں یہ احساس اس شعور یا تحت الشعور سے ایک لمحے کے لیے بھی غائب نہیں ہوا۔ کیونکہ اگر غائب ہوجاتا تو ممکن ہی نہ تھا کہ وہ ضابطے کو توڑنے سے باز رہ جاتا۔
احساسِ بندگی کے ساتھ خود بخود جو چیز لازمی نتیجے کے طور پر پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جس کا بندہ سمجھ رہا ہے اس کے حکم کی اطاعت کرے۔
ان دونوں چیزوں میں ایسا فطری اور منطقی تعلق ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتے، نہ ان کے درمیان کبھی تناقض (inconsistency) کے لیے گنجایش نکل سکتی ہے۔ اس لیے کہ اطاعت دراصل نتیجہ ہی اعترافِ خداوندی کا ہے۔ آپ کسی کی اطاعت کر ہی نہیں سکتے جب تک کہ اس کی خداوندی نہ مان لیں، اور جب حقیقت میں کسی کی خداوندی آپ مان چکے ہیں، تو اس کی بندگی و اطاعت سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتے۔ انسان نہ اتنا احمق ہے کہ خواہ مخواہ کسی کا حکم مانتا چلا جائے درآں حالیکہ اس کے حقِ حکمرانی کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ اور نہ انسان میں اتنی جرأت موجود ہے کہ وہ فی الواقع اپنے قلب و روح میں جسے حاکمِ ذی اقتدار سمجھتا ہو، اور جسے نافع و ضار اور پروردگار مانتا ہو، اس کی اطاعت سے منہ موڑ جائے۔ بس درحقیقت خداوندی کے اعتراف اور بندگی و طاعت کے عمل میں لازم و ملزوم کا تعلق ہے، اور یہ عین عقل و منطق کا تقاضا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ہر پہلو سے کامل توافق ہو۔
آقائی و خداوندی میں توحید لامحالہ بندگی و طاعت میں توحید پر منتج ہوگی، اور آقائی و خداوندی میں شرک کا نتیجہ لازماً بندگی و اطاعت میں شرک ہوگا۔ آپ ایک کو خدا سمجھیں گے تو ایک ہی کی بندگی بھی کریں گے۔ دس کی خداوندی تسلیم کریں گے تو بندگی و طاعت کا رُخ بھی ان دسوں کی طرف پھرے گا۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ آپ خداوندی دس کی تسلیم کر رہے ہوں اور اطاعت ایک کی کریں۔
ذاتِ خداوندی کا تعین لامحالہ سمت ِ بندگی کے تعین پر منتج ہوگا۔ آپ جس کی خداوندی کا اعتراف کریں گے لازماً اطاعت بھی اسی کی کریں گے۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ خداوند ایک کومانیں اور اطاعت دوسرے کی کریں۔ تعارض کا امکان زبانی اعتراف اور واقعی بندگی میں تو ضرور ممکن ہے، مگر قلب و روح کے حقیقی احساس و شعور اور جوارح کے عمل میں ہرگز ممکن نہیں۔ کوئی عقل اس چیز کا تصور نہیں کرسکتی کہ آپ فی الحقیقت اپنے آپ کو جس کا بندہ سمجھ رہے ہیں اس کے بجائے آپ کی بندگی کا رُخ کسی ایسی ہستی کی طرف پھر سکتا ہے جس کا بندہ آپ فی الحقیقت اپنے آپ کو نہ سمجھتے ہوں۔ بخلاف اس کے عقل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ جس طرف بھی آپ کی بندگی کا رُخ پھر رہا ہے اُسی کی خداوندی کا نقش دراصل آپ کے ذہن پر مرتسم ہے، خواہ زبان سے آپ اس کے سوا کسی اورکی خداوندی کا اظہار کررہے ہوں۔
خداوندی کے اعتراف اور بندگی کے احساس میں کمی بیشی لازماً اطاعت ِامر کی کمی بیشی پر منتج ہوگی۔ کسی کے خدا ہونے اور اپنے بندہ ہونے کا احساس آپ کے دل میں جتنا زیادہ شدید ہوگا اسی قدر زیادہ شدت کے ساتھ آپ اس کی اطاعت کریں گے، اور اس احساس میں جتنی کمزوری ہوگی اتنی اطاعت میں کمی واقع ہوجائے گی، حتیٰ کہ اگر یہ احساس بالکل نہ ہو تو اطاعت بھی بالکل نہ ہوگی۔
ان مقدمات کو ذہن نشین کرنے کے بعد یہ بات بالکل صاف، واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کا مدّعا اللہ کی خداوندی کا اقرار کرانے اور اس کے سوا ہر ایک کی خداوندی کا انکار کرا دینے سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بندگی و اطاعت نہ کرے۔ جب وہ اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ط [آگاہ رہو اللہ ہی کے لیے ہے اطاعت ِ خالص۔الزمر۳۹:۳] کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اطاعت خالصاً و مخلصاً صرف اللہ کے لیے ہے، کسی دوسری مستقل بالذات اطاعت کی آمیزش کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ جب وہ کہتا ہے:
وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّيْنَ۰ۥۙ (البینہ۹۸:۵) اور نہیں حکم دیے گئے سوائے اس کے کہ اللہ کی بندگی کریں خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین۔
تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صرف اللہ ہی کی بندگی کرنے پر انسان مامور ہے اور اس کی بندگی کرنے کی شرط یہ ہے کہ انسان اس کی اطاعت کے ساتھ کسی دوسرے کی اطاعت مخلوط نہ کرے۔ جب وہ کہتا ہے:
وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج (الانفال ۸:۳۹) لڑتے رہو اُن سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے۔
تو اس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسلمان کی اطاعت پوری کی پوری اللہ ہی کے لیے وقف ہے اور ہر اس طاقت سے مسلمان کی جنگ ہے جو اس اطاعت میں حصہ بٹانا چاہتی ہو۔ جس کا مطالبہ یہ ہو کہ مسلمان خداوندعالم کے ساتھ اس کی اطاعت بھی کرے، یا خداوندعالم کے بجائے صرف اسی کی اطاعت کرے۔ پھر جب وہ کہتا ہے:
ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط (الفتح ۴۸: ۲۸) وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ غالب کردے اسے سارے دین پر۔
تو اس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی اطاعت تمام اطاعتوں پر غالب ہو، اطاعت اور بندگی کا پورا نظام اپنے تمام شعبوں اور سارے پہلوئوں کے ساتھ اطاعت ِ الٰہی کے نیچے آجائے، جس کی فرماں برداری بھی ہو، خداوندعالم کی اجازت کے تحت ہو، اور جس فرماں برداری کے لیے وہاں سے حکم یا سند ِ جواز نہ ملے اس کا بند کاٹ ڈالا جائے، یہ اس دین حق اور اس ہدایت کا تقاضا ہے جو اللہ اپنے رسولؐ کے ذریعے سے بھیجتا ہے۔
اس تقاضے کے مطابق خواہ انسان کے ماں باپ ہوں، خواہ خاندان اور سوسائٹی ہو، خواہ قوم اور حکومت ہو، خواہ امیر یا لیڈر ہو، خواہ علما اور مشائخ ہوں، خواہ وہ شخص یا ادارہ ہو جس کی انسان ملازمت کرکے پیٹ پالتا ہے، اور خواہ انسان کا اپنا نفس اور اس کی خواہشات ہوں، کسی کی اطاعت بھی خداوندعالم کی اصلی اور بنیای اطاعت کی قید سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتی۔ اصل مطاع اللہ تعالیٰ ہے۔ جو اس کی خداوندی کا اقرار کرچکا اور جس نے اس کے لیے اپنی زندگی کو خالص کرلیا، وہ جس کی اطاعت بھی کرے گا، اللہ ہی کی اطاعت کے تحت رہ کر کرے گا۔ جس حد تک جس کی بات ماننے کی وہاں سے اجازت ہوگی اسی حد تک مانے گا، اور جہاں اجازت کی حد ختم ہوجائے گی وہاں وہ ہرایک کا باغی اور صرف اللہ کا فرماں بردار نکلے گا۔
روزے کا مقصد آدمی کو اسی اطاعت کی تربیت دینا ہے۔ وہ مہینے بھر تک روزانہ کئی کئی گھنٹے آدمی کو اس حالت میں رکھتا ہے کہ اپنی بالکل ابتدائی (elementary) ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی اس کو خداوندعالم کے اذن و اجازت کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ غذا کا ایک لقمہ اور پانی کا ایک قطرہ تک وہ حلق سے گزار نہیں سکتا جب تک کہ وہاں سے اجازت نہ ملے۔ ایک ایک چیز کے استعمال کے لیے وہ شریعت ِ خداوندی کی طرف دیکھتا ہے۔ جو کچھ وہاں حلال ہے وہ اس کے لیے حلال ہے، خواہ تمام دنیا اُسے حرام کرنے پر متفق ہوجائے ، اور جو کچھ وہاں حرام ہے وہ اس کے لیے حرام ہے، خواہ ساری دنیا مل کر اُسے حلال کردے۔ اس حالت میں خدائے واحد کے سوا کسی کا اذن اس کے لیے اذن نہیں، کسی کا حکم اس کے لیے حکم نہیں، اور کسی کی نہی اس کے لیے نہی نہیں۔ خود اپنے نفس کی خواہش سے لے کر دنیا کے ہرانسان اور ہر ادارے تک کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جس کے حکم سے مسلمان رمضان میں روزہ چھوڑ سکتا ہو یا توڑسکتا ہو۔ اس معاملے میں نہ بیٹے پر باپ کی اطاعت ہے، نہ بیوی پر شوہر کی، نہ ملازم پر آقا کی، نہ رعیّت پر حکومت کی، نہ پیرو پر لیڈر یا امام کی۔ بالفاظِ دیگر اللہ کی بڑی اور اصلی اطاعت تمام اطاعتوں کو کھاجاتی ہے اور ۷۲۰گھنٹے کی طویل مشق و تمرین سے روزے دار کے دل پر کالنقش فی الحجر یہ سکّہ بیٹھ جاتا ہے کہ ایک ہی مالک کا وہ بندہ ہے ، ایک ہی قانون کا وہ پیرو ہے، اور ایک ہی اطاعت کا حلقہ اس کی گردن میں پڑا ہے۔
اس طرح یہ روزہ انسان کی فرماں برداریوں اور اطاعتوں کو ہر طرف سے سمیٹ کر ایک مرکزی اقتدار کی جانب پھیر دیتا ہے اور ۳۰ دن تک روزانہ ۱۲،۱۲؍ ۱۴،۱۴ گھنٹے تک اسی سمت میں جمائے رکھتا ہے، تاکہ اپنی بندگی کے مرجع اور اپنی اطاعت کے مرکز کو وہ اچھی طرح متحقق کرے اور رمضان کے بعد جب اس ڈسپلن کے بند کھول دیے جائیں تو اس کی اطاعتیں اور فرماں برداریاں بکھر کر مختلف مرجعوں کی طرف بھٹک نہ جائیں۔
اطاعت ِ امر کی اس تربیت کے لیے بظاہر انسان کی صرف دو خواہشوں (یعنی غذا لینے کی خواہش اور صنفی خواہش) کو چھانٹ لیا گیا ہے اور ڈسپلن کی ساری پابندیاں صرف انھی دو پر لگائی گئی ہیں۔ لیکن روزے کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی پر اس حالت میں خدا کی خداوندی اور بندگی و غلامی کا احساس پوری طرح طاری ہوجائے اور وہ ایسا مطیع امر ہوکر یہ ساعتیں گزارے کہ ہراُس چیز سے رُکے جس سے خدا نے روکا ہے، اور ہراُس کام کی طرف دوڑے جس کا حکم خدا نے دیا ہے۔ روزے کی فرضیت کا اصل مقصد اسی کیفیت کو پیدا کرنا اور نشوونما دینا ہے نہ کہ محض کھانے پینے اور مباشرت سے روکنا۔ یہ کیفیت جتنی زیادہ ہو، روزہ اتنا ہی مکمل ہے، اور جتنی اس میں کمی ہو اتنا ہی وہ ناقص ہے۔ اگر کسی آدمی نے اس احمقانہ طریقے سے روزہ رکھا کہ جن جن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا ہے ، ان سے تو پرہیز کرتا رہا اور باقی تمام ان افعال کا ارتکاب کیے چلاگیا جنھیں خدا نے حرام کیا ہے، تو اس کے روزے کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک مُردہ لاش کہ اس میں اعضا تو سب کے سب موجود ہیں، جن سے صورتِ انسانی بنتی ہے مگر جان نہیں ہے جس کی وجہ سے انسان انسان ہے۔ جس طرح اس بے جان لاش کو کوئی شخص انسان نہیں کہہ سکتا اسی طرح اس بے روح روزے کو بھی کوئی روزہ نہیں کہہ سکتا۔ یہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی:
مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِی اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ (بخاری، کتاب الصوم) جس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو خدا کو اس کی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔
جھوٹ بولنے کے ساتھ ’جھوٹ پر عمل کرنے‘کا جو ارشاد فرمایا گیا ہے یہ بڑا ہی معنی خیز ہے۔ دراصل یہ لفظ تمام نافرمانیوں کا جامع ہے۔ جو شخص خدا کو خدا کہتا ہے اورپھر اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ حقیقت میں خود اپنے اقرار کی تکذیب کرتا ہے۔ روزے کا اصل مقصد تو عمل سے اقرار کی تصدیق ہی کرنا تھا، مگر جب وہ روزے کے دوران میں اس کی تکذیب کرتا رہا تو پھر روزے میں بھوک پیاس کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ حالانکہ خدا کو اس کے خلوئے معدہ کی کوئی حاجت نہ تھی۔ اسی بات کو دوسرے انداز میں حضوؐر نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
کَمْ مِنْ صَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ اِلَّا الظَّمَاُوَکَمْ مِنْ قَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ اِلَّا السَّھَرُ (سنن الدارمی) کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا، اور کتنے ہی راتوں کو کھڑے رہنے والے ایسے ہیں جنھیں اس قیام سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
یہی بات ہے جس کو قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح تر الفاظ میں ظاہر فرما دیا کہ:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo (البقرہ۲:۱۸۳) تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔ توقع ہے کہ اس ذریعے سے تم تقویٰ کرنے لگو گے۔
یعنی روزے فرض کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو۔ تقویٰ کے اصل معنی حذر اور خوف کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد خدا سے ڈرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہے۔ اس لفظ کی بہترین تفسیر جو میری نظر سے گزری ہے، وہ ہے جو حضرت ابی ابن کعبؓ نے بیان کی۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا: تقویٰ کسے کہتے ہیں؟ انھوں نے عرض کیا: امیرالمومنینؓ! آپؓ کو کبھی کسی ایسے رستے سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے جس کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں ہوں اور راستہ تنگ ہو؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: بارہا۔ انھوں نے پوچھا: تو ایسے موقعے پر آپ کیا کرتے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں دامن سمیٹ لیتا ہوں اور بچتا ہوا چلتا ہوں کہ دامن کانٹوں میں نہ اُلجھ جائے۔ حضرت ابی ؓ نے کہا: بس اسی کا نام تقویٰ ہے۔
زندگی کا یہ راستہ جس پر انسان سفر کر رہا ہے، دونوں طرف افراط و تفریط ، خواہشات اور میلاناتِ نفس، وساوس اور ترغیبات (temptations) ، گمراہیوں اور نافرمانیوں کی خاردار جھاڑیوں سے گھِرا ہوا ہے۔ اس راستے پر کانٹوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے چلنا اور اطاعت ِ حق کی راہ سے ہٹ کر بداندیشی و بدکرداری کی جھاڑیوں میں نہ اُلجھنا، یہی تقویٰ ہے، اور یہی تقویٰ پیدا کرنے کے لیے اللہ نے روزے فرض کیے ہیں۔ یہ ایک مقوّی دوا ہے جس کے اندر خداترسی و راست رَوی کو قوت بخشنے کی خاصیت ہے، مگر فی الواقع اس سے یہ قوت حاصل کرنا انسان کی اپنی استعداد پر موقوف ہے۔
اگر آدمی روزے کے مقصد کو سمجھے ، اور جو قوت روزہ دیتا ہے اس کو لینے کے لیے تیار ہو، اور روزے کی مدد سے اپنے اندر خوفِ خدا اور اطاعت ِ امر کی صفت کو نشوونما دینے کی کوشش کرے، تو یہ چیز اس میں اتنا تقویٰ پیدا کرسکتی ہے کہ صرف رمضان ہی میں نہیں بلکہ اس کے بعد بھی سال کے باقی ۱۱مہینوں میں وہ زندگی کی سیدھی شاہراہ پر دونوں طرف کی خاردار جھاڑیوں سے دامن بچائے ہوئے چل سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کے لیے روزے کے نتائج، ثواب اور منافع (اجر) کی کوئی حد نہیں۔ لیکن اگر وہ اصل مقصد سے غافل ہوکر محض روزہ نہ توڑنے ہی کو روزہ رکھنا سمجھے اور تقویٰ کی صفت حاصل کرنے کی طرف توجہ ہی نہ کرے، تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے نامۂ اعمال میں بھوک پیاس اور رت جگے کے سوا اور کچھ نہیں پاسکتا۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کُلُّ عَمَلِ اِبْنِ اٰدَمَ یُضَاعِفُ ، الْـحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّہٗ لِی وَاَنَـا اَجْزِیْ بِہٖ (متفق علیہ) آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہے۔ ایک نیکی ۱۰ گنی سے ۷۰۰ گنی تک پھلتی پھولتی ہے۔ مگر اللہ فرماتا ہے کہ روزہ مستثنیٰ ہے، وہ میری مرضی پر موقوف ہے، جتنا چاہوں اس کا بدلہ دوں۔
یعنی روزے کے معاملے میں بالیدگی و افزونی کا امکان بے حد و حساب ہے۔ آدمی اُس سے تقویٰ حاصل کرنے کی جتنی کوشش کرے اتنا ہی وہ بڑھ سکتا ہے۔ صفر کے درجے سے لے کر اُوپر لاکھوں، کروڑوں، اربوں گنے تک وہ جاسکتا ہے بلکہ بلانہایت ترقی کرسکتا ہے۔ پس یہ معاملہ چونکہ آدمی کی اپنی استعدادِ اخذ وقبول پر منحصر ہے کہ روزے سے تقویٰ حاصل کرے یا نہ کرے، اور کرے تو کس حد تک کرے۔ اس وجہ سے آیت مذکورہ بالا میں یہ نہیں فرمایا کہ روزے رکھنے سے تم یقینا متقی ہوجائو گے، بلکہ لَعَلَّکُمْ کا لفظ فرمایا جس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ توقع کی جاتی ہے، یا ممکن ہے کہ اس ذریعے سے تم تقویٰ کرنے لگو گے۔
یہ تقویٰ ہی دراصل اسلامی سیرت کی جان ہے۔ جس نوعیت کا کیرکٹر اسلام ہرمسلمان فرد میں پیدا کرنا چاہتا ہے اس کا اسلامی تصور اس تقویٰ کے لفظ میں پوشیدہ ہے۔ افسوس ہے کہ آج کل اس لفظ کا مفہوم بہت محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک خاص طرز کی شکل و وضع بنالینا، چند مشہور و نمایاں گناہوں سے بچنا اور بعض ایسے مکروہات سے پرہیز کرنا جنھوں نے عوام کی نگاہ میں بہت اہمیت اختیار کرلی ہے، بس اسی کا نام تقویٰ ہے۔ حالانکہ دراصل یہ ایک نہایت وسیع اصطلاح ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔
قرآنِ مجید انسانی طرزِخیال و طرزِعمل کو اصولی حیثیت سے دو بڑی قسموں پر تقسیم کرتا ہے:
ایک قسم وہ ہے جس میں انسان:
۱- دنیوی طاقتوں کے ماسوا کسی بالاتر اقتدار کو اپنے اُوپر نگران نہیں سمجھتا، اور یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہے کہ اسے کسی فوق البشر حاکم کے سامنے جواب دہی نہیں کرنی ہے۔
۲- دنیوی زندگی ہی کو زندگی، دنیوی فائدے ہی کو فائدہ اور دنیوی نقصان ہی کو نقصان سمجھتا ہے اور اس بنا پر کسی طریقے کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صرف دنیوی فائدے اور نقصان ہی کے لحاظ سے کرتا ہے۔
۳- مادی فائدوں کے مقابلے میں اخلاقی و روحانی فضائل کو بے وقعت سمجھتا ہے، اور مادی نقصانات کے مقابلے میں اخلاقی و روحانی نقصانات کو ہلکا خیال کرتا ہے۔
۴- کسی مستقل اخلاقی دستور کی پابندی نہیں کرتا، بلکہ موقع و محل کے لحاظ سے خود ہی اخلاقی اصول وضع کرتا ہے اور دوسرے موقعے پر خود ہی ان کو بدل دیتا ہے۔
دوسری قسم وہ ہے جس میں انسان:
۱- اپنے آپ کو ایک ایسے بالاتر حکمران کا تابع اور اس کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے جو عالم الغیب والشہادت ہے، اور یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہے کہ اسے ایک روز اپنی دنیوی زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دینا ہوگا۔
۲- دُنیوی زندگی کو اصل حیاتِ انسانی کا صرف ایک ابتدائی مرحلہ سمجھتا ہے اور ان فوائد و نقصانات کو جو اس مرحلے میں ظاہر ہوتے ہیں عارضی اور دھوکا دینے والے نتائج خیال کرتا ہے، اور اپنے طرزِ عمل کا فیصلہ ان مستقل فائدوں اور نقصانات کی بنیاد پر کرتا ہے جو آخرت کی پائیدار زندگی میں ظاہر ہوں گے۔
۳- مادی فائدوں کے مقابلے میں اخلاقی و روحانی فضائل کو زیادہ قیمتی سمجھتا ہے، اور مادی نقصانات کی بہ نسبت اخلاقی و روحانی نقصانات کو شدید تر خیال کرتا ہے۔
۴- ایک ایسے مستقل اخلاقی دستور کی پابندی کرتا ہے جس میں اپنی اغراض و مصالح کے لحاظ سے اس کو ترمیم و تنسیخ کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔
ان میں سے پہلی قسم کے طرزِخیال و طرزِعمل کا جامع نام قرآن نے فجور رکھا ہے، اور دوسرے طرزِ خیال و عمل کو وہ تقویٰ{ FR 2438 } کے نام سے یاد کرتا ہے۔ یہ دراصل زندگی کے دو مختلف راستے ہیں جو بالکل ایک دوسرے کی ضد واقع ہوئے ہیں اور اپنے نقطۂ آغاز سے لے کر نقطۂ انجام تک کہیں ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ فجور کے راستے کو اختیار کرکے آدمی کی پوری زندگی اپنے تمام اجزا اور تمام شعبوں کے ساتھ ایک خاص ڈھنگ پر لگ جاتی ہے جس میں تقویٰ کی ظاہری اشکال تو کہیں نظر آسکتی ہیں مگر تقویٰ کی اسپرٹ کا شائبہ تک نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ فجور کے تمام فکری اجزا ایک دوسرے کے ساتھ منطقی ربط رکھتے ہیں اور تقویٰ کے فکری اجزا میں سے کسی جُز کو بھی ان کے مربوط نظام میں راہ نہیں مل سکتی۔ برعکس اس کے تقویٰ کا راستہ اختیار کرکے انسان کی پوری زندگی کا ڈھنگ کچھ اور ہوتا ہے، وہ ایک دوسرے ہی طرز پر سوچتا ہے۔ دنیا کے ہرمعاملے اور ہرمسئلے کو ایک دوسری ہی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور ہرموقع و محل پر ایک دوسرا ہی طرز اختیار کرتا ہے۔
ان دونوں راستوں کا فرق صرف انفرادی زندگی ہی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اجتماعی زندگی سے بھی اس کا اتنا ہی تعلق ہے۔ جو جماعت فاجر افراد پر مشتمل ہوگی یا جس میں فاجرین کی اکثریت ہوگی اور اہلِ فجور کے ہاتھ میں جس کی قیادت ہوگی، اس کا پورا تمدن فاجرانہ ہوگا۔ اس کی معاشرت میں، اس کے اخلاقیات میں، اس کے معاشیات میں، اس کے نظامِ تعلیم و تربیت میں، اس کی سیاست میں، اس کے بین الاقوامی رویے میں، غرض اس کی ہرچیز میں فجور کی روح کارفرما ہوگی۔ یہ بہت ممکن ہے کہ اس کے اکثر یا بعض افراد ذاتی خود غرضیوں اور منفعت پرستیوں سے بالاتر نظر آئیں، مگر زیادہ سے زیادہ جس بلندی پر وہ چڑھ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کو اس قوم کے مفاد میں گم کردیں۔ جس کی ترقی سے ان کی اپنی ترقی اور جس کے تنزل سے ان کا اپنا تنزل وابستہ ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخصی سیرت میں فجور کا رنگ کم بھی ہو تو اس سے کوئی فرق واقع نہ ہوگا۔ قومی رویہ بہرحال افادیت، ابن الوقتی، مصلحت پرستی اور مادہ پرستی ہی کے اصولوں پرچلے گا۔
اسی طرح تقویٰ بھی محض انفرادی چیز نہیں ہے۔ جب کوئی جماعت متقین پر مشتمل ہوتی ہے یا اس میں اہلِ تقویٰ کی کثرت ہوتی ہے، اور متقی ہی اس کے رہنما ہوتے ہیں، تو اس کے پورے اجتماعی رویے میں ہرحیثیت سے خدا ترسی کا رنگ ہوتا ہے۔ وہ وقتی اور ہنگامی مصلحتوں کے لحاظ سے اپنا طرزِعمل مقرر نہیں کرتی بلکہ ایک مستقل دستور کی پیروی کرتی ہے اور ایک اٹل نصب العین کے لیے اپنی تمام مساعی وقف کردیتی ہے، قطع نظر اس سے کہ دنیوی لحاظ سے قوم کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے یا کیا نقصان پہنچتا ہے۔ وہ مادی فائدوں کے پیچھے نہیں دوڑتی بلکہ پائیدار اخلاقی و روحانی منافع کو اپنا مطمح نظر بناتی ہے۔ وہ مواقع کے لحاظ سے اصول توڑتی اور بناتی نہیں ہے بلکہ ہرحال میں اصولِ حق کا اتباع کرتی ہے۔ کیونکہ اسے اس کی پروا نہیں ہوتی کہ اس کی مدِّمقابل قوموں کی طاقت کم ہے یا زیادہ، بلکہ اُوپر جو خدا موجود ہے و ہ اس سے ڈرتی ہے اور اس کے سامنے کھڑے ہوکر جواب دہی کرنے کا جو وقت بہرحال آنا ہے اس کی فکر اسے کھائے جاتی ہے۔
اسلام کے نزدیک دنیا میں فساد کی جڑ اور انسانیت کی تباہی و بربادی کا اصلی سبب ’فجور‘ ہے۔ وہ اس فجور کے سانپ کو ہلاک کردینا چاہتا ہے یا کم سے کم اس کے زہریلے دانت توڑ دینا چاہتا ہے، تاکہ اگر یہ سانپ جیتا رہے تب بھی انسانیت کو ڈسنے کی طاقت اس میں باقی نہ رہے۔ اس کام کے لیے وہ نوعِ انسانی میں سے ان لوگوں کو چُن چُن کر نکالنا اور اپنی پارٹی میں بھرتی کرنا چاہتا ہے جو متقیانہ رجحانِ طبع رکھتے ہوں۔ فجور کی جانب ذہنی رجحان (Bent of Mind) رکھنے والے لوگ اس کے کسی کام کے نہیں، خواہ وہ اتفاق سے مسلمانوں کے گھر میں پیدا کیے گئے ہوں اور مسلم قوم کے درد میں کتنے ہی تڑپتے ہوں۔
اسے دراصل ضرورت ان لوگوںکی ہے جن میں خود اپنی ذمہ داری کا احساس ہو، جو آپ اپنا حساب لینے والے ہوں، جو خود اپنے دل کی نیتوں اور ارادوں پر نظر رکھیں، جن کو قانون کی پابندی کے لیے کسی خارجی دبائو کی حاجت نہ ہو بلکہ خود اُن کے اپنے باطن میں ایک محاسب اور آمر بیٹھا ہو جو انھیں اندر سے قانون کا پابند بناتا ہو اور ایسی قانون شکنی پر بھی ٹوکتا ہو جس کا علم کسی پولیس، کسی عدالت اور کسی رائے عام کو نہیں ہوسکتا۔ وہ ایسے افراد چاہتا ہے جنھیں یقین ہو کہ ایک آنکھ ہرحال میںا نھیں دیکھ رہی ہے، جنھیں خوف ہو کہ ایک عدالت کے سامنے بہرحال انھیں جانا ہے، جو دنیوی منافع کے بندے، ہنگامی مصالح کے غلام اور شخصی یا قومی اغراض کے پرستار نہ ہوں۔ جن کی نظر آخرت کے اصلی و حقیقی نتائج پر جمی ہوئی ہو، جن کو دنیا کے بڑے سے بڑے فائدے کا لالچ یا سخت سے سخت نقصان کا خوف بھی خداوندعالم کے دیے ہوئے نصب العین اور اس کے بتائے ہوئے اصولِ اخلاق سے نہ ہٹا سکتا ہو، جن کی تمام سعی و کوشش صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، جنھیں اس امر کا پختہ یقین ہو کہ پایانِ کار بندگیِ حق ہی کا نتیجہ بہتر اور بندگیِ باطل ہی کا انجام بُرا ہوگا، چاہے اس دنیا میں معاملہ برعکس ہو۔
پھر اس کو جن آدمیوں کی تلاش ہے وہ ایسے آدمی ہیں جن کے اندر اتنا صبر موجود ہو کہ ایک صحیح اور بلند نصب العین کے لیے برسوں بلکہ ساری عمر لگاتار سعیِ بے حاصل کرسکتے ہوں، جن میں اتنی ثابت قدمی ہو کہ غلط راستوں کی آسانیاں، فائدے اور لطف و لذت کوئی چیز بھی ان کو اپنی طرف نہ کھینچ سکتی ہو، جن میں اتنا تحمل ہو کہ حق کے راستے پر چلنے میں خواہ کس قدر ناکامیوں، مشکلات، خطرات، مصائب اور شدائد کا سامنا ہو، ان کا قدم نہ ڈگمگائے، جن میں اتنی یکسوئی ہو کہ ہرقسم کی عارضی اور ہنگامی مصلحتوں سے نگاہ پھیر کر اپنے نصب العین کی طرف بڑھے چلے جائیں، جن میں اتنا توکّل موجود ہو کہ حق پرستی و حق کوشی کے زیرطلب اور دُور رس نتائج کے لیے خداوندعالم پر بھروسا کرسکیں، خواہ دنیا کی زندگی میں اس کام کے نتائج سرے سے برآمد ہوتے نظر ہی نہ آئیں۔ ایسے ہی لوگوں کی سیرت پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ، اور جو کام اسلام اپنی پارٹی سے لینا چاہتا ہے اس کے لیے ایسے ہی قابلِ اعتماد کارکنوں کی ضرورت ہے۔
تقویٰ کی اس صفت کا ہیولیٰ (ابتدائی جوہر) جن لوگوں میں موجود ہو ان کے اندر اس صفت کو نشوونما دینے اور اسے مستحکم کرنے کے لیے روزے سے زیادہ طاقت ور اور کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ روزے کے ضابطے پر ایک نگاہ ڈالیے، آپ پر خود منکشف ہونے لگے گا کہ یہ چیز کس مکمل طریقے سے ان صفات کو بالیدگی اور پائیداری بخشتی ہے۔ ایک شخص سے کہا جاتا ہے کہ روزہ خدا نے تم پر فرض کیا ہے۔ صبح سے شام تک کچھ نہ کھائوپیو۔ کوئی چیز حلق سے اُتارو گے تو تمھارا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ لوگوں کے سامنے کھانے پینے سے اگر تم نے پرہیز کیا اور درپردہ کھاتے پیتے رہے، تو خواہ لوگوں کے نزدیک تمھارا شمار روزہ داروں میں ہو، مگر خدا کے نزدیک نہ ہوگا۔ تمھارا روزہ صحیح اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ خدا کے لیے رکھو، ورنہ دوسری کسی غرض، مثلاً صحت کی درستی یا نیک نامی کے لیے رکھو گے تو خدا کی نگاہ میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ خدا کے لیے اپنا روزہ پورا کرو گے تو اس دنیا میں کوئی انعام نہ ملے گا اور توڑو گے یا نہ رکھو گے تو یہاں کوئی سزا نہ دی جائے گی۔ مرنے کے بعد جب خدا کے سامنے پیش ہو گے اسی وقت انعام بھی ملے گا اور اسی وقت سزا بھی دی جائے گی۔ یہ چند ہدایات دے کر آدمی کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کوئی سپاہی، کوئی ہرکارہ، کوئی سی آئی ڈی کا آدمی اس پر مقرر نہیں کیا جاتا کہ ہروقت اس کی نگرانی کرے۔ زیادہ سے زیادہ رائے عام اپنے دبائو سے اس کو اس حد تک مجبور کرسکتی ہے کہ دوسروں کے سامنے کچھ نہ کھائے پیے، مگر چوری چھپے کھانے پینے سے اس کو روکنے والا کوئی نہیں، اور اس بات کا حساب لینا تو کسی رائے عام، یا کسی حکومت کے بس ہی میں نہیں کہ وہ رضائے الٰہی کی نیت سے روزہ رکھ رہا ہے یا کسی اور نیت سے۔
ایسی حالت میں جو شخص روزے کی تمام شرائط پوری کرتا ہے، غور کیجیے کہ اس کے نفس میں کس قسم کی کیفیات اُبھرتی ہیں:
۱- اس کو خداوندعالم کی ہستی کا، اس کے عالم الغیب ہونے کا، اس کے قادرمطلق ہونے کا، اور اس کے سامنے اپنے محکوم اور جواب دہ ہونے کا کامل یقین ہے، اور اس پوری مدت میں، جب کہ وہ روزے سے رہا ہے اس کے یقین میں ذرا تزلزل نہیں آیا۔
۲- اس کو آخرت پر، اس کے حساب کتاب پر اور اس کی جزا اور سزا پر پورا یقین ہے۔ اور یہ یقین بھی کم از کم ان ۱۲،۱۴ گھنٹوں میں برابر غیرمتزلزل رہا ہے، جب کہ وہ اپنے روزے کی شرائط پر قائم رہا۔
۳- اس کے اندر خود اپنے فرض کا احساس ہے۔ وہ آپ اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے۔ وہ اپنی نیت کا خود محتسب ہے، اپنے دل کے حال پر خود نگرانی کرتا ہے۔ خارج میں قانون شکنی یا گناہ کا صدور ہونے سے پہلے جب نفس کی اندرونی تہوں میں اس کی خواہش پیدا ہوتی ہے اسی وقت وہ اپنی قوتِ ارادی سے اس کا استیصال کردیتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ پابندیِ قانون کے لیے خارج میں کسی دبائو کا وہ محتاج نہیں ہے۔
۴- مادیت اور اخلاق و روحانیت کے درمیان انتخاب کا جب اسے موقع دیا گیا تو اس نے اخلاق و روحانیت کو انتخاب کیا۔ دنیا اور آخرت کے درمیان ترجیح کا سوال جب اس کے سامنے آیا تو اس نے آخرت کو ترجیح دی۔ اس کے اندر اتنی طاقت تھی کہ اخلاقی فائدے کی خاطر مادی نقصان و تکلیف کو اس نے گوارا کیا، اور آخرت کے نفعے کی خاطر دنیوی مضرت کو قبول کرلیا۔
۵- وہ اپنے آپ کو اس معاملے میں آزاد نہیں سمجھتا کہ اپنی سہولت دیکھ کر اچھے موسم، مناسب وقت اور فرصت کے زمانے میں روزہ رکھے، بلکہ جو وقت قانون میں مقرر کردیا گیا ہے اسی وقت روزہ رکھنے پر وہ اپنے آپ کو مجبور سمجھتا ہے خواہ موسم کیسا ہی سخت ہو، حالات کیسے ہی ناسازگار ہوں اور اس کی ذاتی مصلحتوں کے لحاظ سے اس وقت روزہ رکھنا کتنا ہی نقصان دہ ہو۔
۶- اس میں صبر، استقامت، تحمل، یکسوئی، توکّل اور دنیوی ترغیبات و تحریصات کے مقابلے کی طاقت کم از کم اس حد تک موجود ہے کہ رضائے الٰہی کے بلند نصب العین کی خاطر وہ ایک ایسا کام کرتا ہے جس کا نتیجہ مرنے کے بعد دوسری زندگی پر ملتوی کیا گیا ہے۔ اس کام کے دوران میں وہ رضاکارانہ اپنی خواہشاتِ نفس کو روکتا ہے۔ سخت گرمی کی حالت میں پیاس سے حلق چٹخا جا رہا ہے، برفاب سامنے موجود ہے، آسانی سے پی سکتا ہے، مگر نہیں پیتا۔ بھوک کے مارے جان پر بن رہی ہے، کھانا حاضر ہے، چاہے تو کھا سکتا ہے، مگر نہیں کھاتا۔ جوان میاں بیوی ہیں، خواہشِ نفس زور کرتی ہے، چاہیں تو اس طرح قضائے شہوت کرسکتے ہیں کہ کسی کو پتا نہ چلے، مگر نہیں کرتے۔ ممکن الحصول فائدوں سے یہ صرفِ نظر، اور ممکن الاحتراز نقصانات کی یہ پذیرائی اور خود اپنے منتخب کیے ہوئے طریقِ حق پر ثابت قدمی کسی ایسے نفعے کی اُمید پر نہیں ہے جو اس دنیا کی زندگی میں حاصل ہونے والا ہو، بلکہ ایسے مقصد کے لیے ہے جس کے متعلق پہلے ہی نوٹس دے دیا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے اس کے حاصل ہونے کی اُمید ہی نہ رکھو۔
یہ کیفیات ہیں جو پہلے روزے کا ارادہ کرتے ہی انسان کے نفس میں اُبھرنی شروع ہوتی ہیں۔ جب وہ عملاً روزہ رکھتا ہے تو یہ بالفعل ایک طاقت بن جاتی ہیں۔ جب ۳۰دن تک مسلسل وہ اسی فعل کی تکرار کرتا ہے تو یہ طاقت راسخ ہوتی چلی جاتی ہے، اور بالغ ہونے کے بعد سے مرتے دم تک تمام عمر ایسے ہی ۳۰،۳۰ روزے ہرسال رکھنے سے وہ آدمی کی جبلّت میں پیوست ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے نہیں ہے کہ یہ صفات صرف روزے ہی رکھنے میں اور صرف رمضان ہی کے مہینے میں کام آئیں، بلکہ اس لیے ہے کہ انھی اجزا سے انسان کی سیرت کا خمیر بنے۔ وہ فجور سے یکسر خالی ہو اور اس کی ساری زندگی تقویٰ کے راستے پڑجائے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس مقصد کے لیے روزے سے بہتر کوئی طریقِ تربیت ممکن ہے؟ کیا اس کے بجائے اسلامی طرز کی سیرت بنانے کے لیے کوئی دوسرا کورس تجویز کیا جاسکتا ہے؟(اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، ص۶۴-۹۲)
ایک مسلمان جب دعوتِ اقامت ِدین کا نیک اور مقدس ارادہ لے کر اُٹھتا ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کا آغاز کس طرح کرے؟ کیا وہ چھوٹتے ہی مخاطب کو پہلے اپنی ساری بات سنا دے اور پھر اسے اعتراضات کا موقع دے، یا مخاطب کو پہلے اپنی اُلجھنوں اور پریشانیوں کو بیان کرنے کی دعوت دے، اور پھر اُن کی روشنی میں اُس سے تبادلۂ خیالات کیا جائے؟
دعوتِ دین کے لیے نقطۂ آغاز معلوم کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے، جس سے دعوت کا کام کرنے والا ہرشخص زندگی میں ایک بار یا چند بار نہیں بلکہ ایک دن میں کئی کئی بار دوچار ہوتا ہے۔ جو لوگ مزدوروں اور کسانوں میں کام کرتے ہیں، وہ بھی اس معاملے میں وہی دقّت محسوس کرتے ہیں جو علمی کام کرنے والوں کوپیش آتی ہے۔ دعوت کے کام اور ذمہ داری سے وابستہ ہر کارکن کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اگرچہ کوئی لگابندھا ضابطہ یا طریقہ تو طے نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس مسئلے کے حل کے لیے متعین قاعدہ کلیہ ہی بنایا جاسکتا ہے، لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے متعلق چند بنیادی باتیں پیش کی جاتی ہیں:
بعض حضرات کا اس بارے میں یہ خیال ہے کہ جذبہ ہی درحقیقت اس معاملے میں بہترین رہنما ہے۔ جب ایک شخص کے دل میں کسی نصب العین یا مقصد کے لیے سچی طلب پیدا ہوجاتی ہے، تو وہ اپنی بات کہنے کے طریقے اور راہیں خود بخود نکال لیتا ہے۔ اس ’جذبِ اندروں‘ میں یہ قدرت اور طاقت موجود ہے کہ وہ نئے نئے طریقے ایجاد اور اختیار کرے اور اپنے عمل کے نتائج پر غوروفکر کرکے حسب ِ ضرورت ان میں ترمیم و تبدیلی کرتا رہے۔ منزلِ مقصود تک پہنچنے کی آرزو جتنی شدید اور گہری ہوگی، راستے کی مشکلات اسی تناسب سے آسان ہوتی چلی جائیں گی۔ لہٰذا، اصل ضرورت دعوت کے طریقے معلوم کرنا نہیں، بلکہ دین کے لیے سچی محبت اور لگن پیدا کرنا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ دعوت کے طریق کار کا بہترین فیصلہ اسی شخص کا وجدان اور ذوق کرسکتا ہے جو خود یہ کام انجام دے رہا ہو۔ اس معاملے میں کسی لگے بندھے ضابطے یا طریقے کی پابندی نہیں کی جاسکتی، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی کچھ کم قابلِ لحاظ نہیں ہے کہ دعوت و تبلیغ کی حکمت سے واقف ہونا اور اُن لوگوں کے طریق کار سے سبق لینا، اس وجدان و ذوق کی رہنمائی کے لیے بہت مفید ہے جو اس سے پہلے یہ کام بہترین طریقے سے کرچکے ہیں۔ اس غرض کے لیے دیکھنا ہوگا کہ کسی شخص یا گروہ کے سامنے دعوتِ دین پیش کرنے کے لیے آغاز کہاں سے کیا جائے؟
اردگرد کی پھیلی ہوئی وسیع دُنیا میں آباد انسانوں پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہاں ہرشخص مضطرب اور پریشان ہے۔ اگر ایک شخص معاشی حیثیت سے غیرمطمئن ہے، تو دوسرا سیاسی اعتبار سے بے چین۔ اسی طرح اگر ایک فرد کی جسمانی ضروریات پوری ہورہی ہیں تو اس کی روح پیاسی رہ جاتی ہے۔ الغرض دُنیا میں ہرفرد کسی نہ کسی لحاظ سے پریشان نظر آتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ بڑے ملک اور بڑی قومیں تک اس کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ دُنیا کی کئی اقوام غیرملکی سامراج کے استبداد میں ہیں اور انھیں یہ فکر لاحق ہے کہ کسی طرح اس لعنت سے نجات حاصل کی جائے۔ دوسری طرف غالب قوتیں اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح ان مظلوموں کو زیادہ سے زیادہ مدت تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا جائے اور اس دوران جس قدر ممکن ہو ان کا خون نچوڑا جاسکے۔ کسی کو ملک گیری کی ہوس کھائے جارہی ہے اور کسی کے سر پر ایک عالم گیر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
پھر یہ کش مکش صرف قوموں اور ملکوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ ہر قوم کے اپنے اندر ایک زبردست ہیجان اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اگر ایک طبقے کے لوگ ایک طرزِ فکر اختیار کرتے ہیں، تو اُس سے عجیب و غریب نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں اور جب اس کو بدل کر دوسری راہ پر چلتے ہیں، تو دوسرے مسائل پریشان کرنے لگتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب معیشت کو آزاد کیا جائے تو اس سے ایک گروہ کے لیے ناجائز استحصال کا میدان ہموار ہو جاتا ہے۔ بے روزگاری بڑھتی ہے اور طبقاتی تقسیم معرضِ وجود میں آتی ہے۔ اس کے برعکس جب پیدائش دولت اور تقسیم دولت کو حکومت اپنی تحویل میں لے لے، تو انسان کو ایک نہایت ہی جابرانہ نظام کی جکڑبندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں، جس میں نہ کسی شخص کو ضمیر کی آزادی حاصل ہوتی ہے، نہ اظہار رائے کی آزادی۔ وہ بے چارا اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ نہ صرف حکومتی معاشی منصوبہ بندی کے تحت زندگی گزارے، بلکہ اپنے جذبات و احساسات اور افکار و تصورات کو بھی ایک لگے بندھے منصوبے کے مطابق ڈھال لے۔
یہ اضطراب انگیز کیفیات اور یہ پریشان کُن حالات ہیں جن میں سے ہر فرد گزر رہا ہے اور انھیں وہ نہایت شدت سے محسوس بھی کرتا ہے۔ یہ دعوتِ دین کا بڑی آسانی کے ساتھ نقطۂ آغاز بن سکتے ہیں۔ ان حالات میں اپنے مخاطب کو بغیر کسی دقّت کے یہ بات سمجھائی جاسکتی ہے کہ جس چیز پر وہ مضطرب ہے، وہ اصل بگاڑ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی بگاڑ کا محض ایک رُخ ہے۔ جب تک تم مجموعی خرابی کو اوراس کے بنیادی سبب کو نہ سمجھ لو، اس کے محض ایک جُز یا چند اجزا کو بدل دینے میں اوّل تو کامیاب نہیں ہوسکتے اور اگر کامیاب ہو بھی جائو تو اس سے اضطراب کے وجوہ ختم ہوجانے کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ اس طریقے سے جب آدمی کا ذہن ایک مرتبہ عمومی مظاہر کے اُلجھائو سے نکل کر حقائق کا سرا تلاش کرنے پر آمادہ ہوجائے تو اسے بآسانی اس بنیادی اصلاح کو سمجھنے کے قابل بنایا جاسکتاہے۔
اس وقت ملک کی معاشی صورتِ حال سے ایک عام اضطراب ہر طرف برپا ہے۔ یہاں دولت کی تقسیم نہ صرف غیر مساوی ہے بلکہ غیر عادلانہ بھی۔غریب اور متوسط طبقے اشیاء کی روز افزوں گرانی کی وجہ سے بُری طرح پس رہے ہیں۔ ان کے برعکس ایک چھوٹا سا طبقہ ناجائز طریقوں سے حیرت انگیز تیزی کے ساتھ امیر ہورہا ہے۔ چونکہ اس طبقہ کو دولت بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہورہی ہے، اس لیے وہ اسے نہایت بے پروائی سے خرچ کرتا ہے ۔اس طبقے کے اس طرزِعمل سے ملک میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے رجحان کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس طرح یہاں بے راہ روی اور دھونس اور دھاندلی کا بازار گرم ہے۔ لوگ جب اس صورتِ حال کو سرسری نظر سے دیکھتے ہیں تو اُن کو یہ صرف معاشی مسئلہ نظر آتا ہے۔ ایک آدمی فوراً یہ کہہ سکتا ہے کہ اس صورتِ حال کو ہم معاشی پالیسی میں تبدیلی کر کے بدل سکتے ہیں، مثلاً اس معاملے میں وہ آپ کو یہ بتائے گا کہ منافعوں پر بڑھتی ہوئی شرح پر ٹیکس عائد کرنے سے اور اخراجات پر پابندی لگادینے سے حالات درست ہوسکتے ہیں۔
کیا حالات کا یہ صحیح تجزیہ ہے؟ اگر منافعوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا دیتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وصول کرنے والے کارندے ایمان داری سے اُس کو وصول کریں اور ٹیکس ادا کرنے والے بغیر کسی ہیرپھیر کا طریقہ اختیار کیے پوری دیانت داری سے یہ ٹیکس دیں۔ اسی طرح ہمارے پاس اس قدر زرِمبادلہ نہیں ہے کہ ہم آزاد تجارت کی پالیسی پر عمل پیرا ہوسکیں اور نہ آزاد تجارت کے نتائج بھگتنے کی ہم سکت ہی رکھتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ اپنی بیرونی تجارت کو محدود رکھیں۔ زیادہ سے زیادہ ہم جو کرسکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ جن لوگوں پر ریاستی غفلت یا محکمانہ پشت پناہی سے عنایات جاری ہیں اُن کی یہ عنایات بند کردی جائیں یا حکومت موزوں لوگوں کو منتخب کرے۔ اب ہمارے پاس اس امر کی کیا گارنٹی ہے کہ اربابِ حکومت یا وہ دوسرے لوگ اس معاملے میں بڑی دیانت داری سے کام لیں گے۔ جہاں تک اخراجات پر پابندی عائد کرنے کا سوال ہے تو اس معاملے میں بھی خارج سے کوئی حد نہیں لگائی جاسکتی ۔ آپ اخراجات کی اگر ایک شکل کو ناجائز قرار دیں گے تو وہ فوراً انھیں دوسری شکل میں ڈھال لیں گے۔
ان گزارشات پر اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آئین و ضوابط کی تبدیلیاں خواہ بڑی اہم ہی سہی، لیکن وہ اس وقت تک کوئی قابلِ قدر نتائج پیدا نہیں کرسکتیں، جب تک انسان کے زاویہ ہائے فکرونگاہ کو نہ بدلا جائے اور یہ معاملہ معاشی نہیں بلکہ اخلاقی ہے، یا دوسرے الفاظ میں خارجی نہیں بلکہ داخلی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اخلاق کا وہ کون سا ضابطہ اختیار کریں جس سے صورتِ حال میںبامعنی تبدیلی پیدا ہو سکے؟
اس کے لیے ایک تو اخلاق کی وہ شکل ہے جو مغربی قوموں میں نظر آتی ہے۔ اس اخلاق کو ہم ’مصلحت پرستانہ قومی اخلاق‘ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں یعنی جس طرزِعمل میں ملک اور قوم کا فائدہ دکھائی دیا، اُسے ہی اخلاقی ضابطہ بنا لیا۔ اخلاق کی یہ قسم معروضی اقدار پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ وہ سیمابی اخلاق ہے جس کی قدریں خارجی حالات کے تبدیل ہونے سے ہرآن تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ممکن ہے اس اخلاق سے ایک گروہ، قوم یا ملک کو وقتی طور پر کچھ فائدہ حاصل ہوجائے، لیکن اس سے مجموعی طور پر قوم کی اخلاقی سطح بلند نہیں ہوتی۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ برطانیہ کے وہ نام نہاد اخلاق پرست جو حُریت اور شرفِ انسانیت کا پرچار کرتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے۔ وہ جب ہندستان پر قابض ہوئے تو یہاں خوں ریزی اور سفاکی برتنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو زیردستوں کی آزادی کے دیوتا ثابت کرنے کے دعویدار دکھائی دیئے۔ وہ لوگ جو اخلاقِ انسانی کے اصولوں کی حفاظت اور پاسبانی کے دعویدار تھے انھوں نے استعماری عزائم کے ساتھ یہاں کے کروڑوں مظلوم بندگانِ خدا کو ہلاک و پامال کرڈالا۔
اخلاق کی اس قسم کو کوئی انسان جسے انسانیت کا ذرا بھی پاس ہے، قبول کرنا گوارا نہیں کرسکتا۔ وہ ہمیشہ اُن اخلاقی اقدار کو تسلیم کرے گا، جو آفاقی ہوں، جو ’من و تو‘ کے ساتھ بدلتی نہ رہیں، جن کے پیچھے پوری نوعِ انسانی کی بلندی کا جذبہ کام کر رہا ہو۔ آپ جب اس معاملے پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ اخلاق اس وقت تک معرضِ وجود میں نہیں آسکتا، جب تک ایک انسان کائنات اور اُس کے خالق کے ساتھ اپنے رشتے کا صحیح صحیح تعین نہ کرلے۔
قرآن عظیم میں متعدد مقامات ایسے ملتے ہیں، جہاں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ انسان کی انفرادی، اجتماعی اور سماجی زندگی سے اضطراب اُسی وقت دُور ہوسکتا ہے جب انسانوں کا اپنے خالق کے ساتھ رشتہ درست ہو۔ جب تک اس رشتے کو صحیح نہیں کیا جائے گا، اُس وقت تک زندگی سے بُرائی کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو ایک عادتِ بد سے باز رہنے کی دعوت دی، تو سب سے پہلے انھیں اس بات کی نصیحت کی کہ تم اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خوف کے مٹ جانے سے ہی فسق و فجور کے سارے چشمے پھوٹتے ہیں:
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِۨ الْمُرْسَلِيْنَ۱۶۰ۚۖ اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ۱۶۱ۚ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۱۶۲ۙ فَاتَّــقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۱۶۳ۚ (الشعراء ۲۶:۱۶۰-۱۶۳) قومِ لوط نے پیغام لانے والوں کو جھٹلایا جب اُن کے بھائی لوطؑ نے اُن سے کہا: کیا تم ڈرتے نہیں، میں تمھارے لیے پیغام لانے والا امین ہوں، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
پھر اسی طرح حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو لین دین میں دیانت داری کا سبق دینے سے پہلے اُسے یہ ذہن نشین کرایا ہے کہ تمھارا اپنے خالق و مالک سے تعلق درست ہونا چاہیے:
اِذْ قَالَ لَہُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ۱۷۷ۚ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۱۷۸ۙ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۱۷۹ۚ وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ۰ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱۸۰ۭ ۞ اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ۱۸۱ۚ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ۱۸۲ۚ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۱۸۳ۚ وَاتَّقُوا الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِيْنَ۱۸۴ۭ (الشعراء ۲۶: ۱۷۷-۱۸۴) یاد کرو، جب کہ شعیبؑ نے اُن سے کہا تھا:’’کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمے ہے۔ پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دو۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو اور اُس ذات کا خوف کروجس نے تمھیں اور گذشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔
اسی قسم کی بہت سی آیات ہمیں قرآنِ حکیم میں ملتی ہیں، جن میں اس بنیادی حقیقت کی طرف نہایت واضح الفاظ میں رہنمائی کی گئی ہے کہ اُس وقت تک اصلاح کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی جب تک انسان اُن نسبتوں کو درست نہ کرے، جو اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان اور انسان اور اس کائنات کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ حضرت جعفرؓ بن ابی طالب نے نجاشی کے دربار میں دعوتِ دین کے لیے جو فصیح و بلیغ تقریر ارشاد فرمائی، وہ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے۔ اس تقریر کے دوحصے ہیں: ایک میں انھوں نے یہ بتایا ہے کہ جب ہمارے خالق کے ساتھ تعلق کی نوعیت صحیح نہ تھی، تو ہم میں کون کون سی بُرائیاں پائی جاتی تھیں۔ اس کے بعد جب ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ نمائی میں خداوندتعالیٰ سے صحیح تعلق قائم کرنے کی توفیق حاصل ہوئی تو پھر ہماری زندگی کے سارے گوشوں میں،خواہ ان کا تعلق اُمورِ دُنیا سے تھا یا اُمورِ آخرت سے___ ایک خوش گوار انقلاب آیا۔ انھوں نے فرمایا:
اے بادشاہ! ہماری قوم کی یہ حالت تھی کہ ہم سب جاہل تھے، بتوں کی پرستش کرتے، مردار کھاتے، بُرے کاموں کے مرتکب ہوتے، رشتے ناتے توڑ دیتے، پڑوسیوں سے بُرا سلوک کرتے تھے۔ ہم میں سے طاقت ور، کمزور کو کھا جاتے تھے۔ ہماری اس بُری حالت کا یہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب ہمیں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ جس کے نسب، سچائی، امانت اور پاک دامنی کو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس نے ہمیں تعلیم دی کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانیں اور اُسی کی عبادت کریں۔ ہم اور ہمارے بزرگوں نے اس کو چھوڑ کر پتھروں اور بتوں کی جو پرستش شروع کر رکھی تھی اس کو ترک کردیں۔ اس رسولؐ نے ہمیں صداقت، امانت، صلہ رحمی اور پڑوسیوں سے حُسنِ سلوک، حرام باتوں اور قتل و خوں ریزی سے باز رہنے کا حکم دیا اور ہمیں بُری باتیں، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع فرمایا۔ اُس نے ہمیں حکم دیا کہ خدائے واحد کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں۔ اس نے ہمیں نماز، زکوٰۃ اور روزوں کا حکم دیا۔ ہم نے اس شخص کی تصدیق کی اور اس پر ایمان لے آئے۔(سیرت ابن ہشام، ص ۳۵۸)
یہ تقریر اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا تعلق درست نہ ہو تو اس سے نہ صرف اس کی روحانی زندگی میں، بلکہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، لیکن جب اس تعلق کو درست کردیا جائے تو اس سے پوری زندگی تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس سے نہ صرف فکر میں سلجھائو، طبیعت میں سلامتی اور روح میں لطافت پیدا ہوتی ہے، بلکہ معاشرت میں حُسنِ سلوک، تمدن میں توازن اور معیشت میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پارس ہے جس کی تاثیر اگر کوئی ٹھیک ٹھیک قبول کرے تو کندن بن جائے۔ اور یہی وہ طرزِ فکر ہے جو دعوت کے طریق کار کو مؤثر اور باثمر بناسکتا ہے۔ (ادارہ)
الحمدللہ، جماعت اسلامی پاکستان کا ملک گیر سطح پر اجتماع عام ۲۱ تا ۲۳ نومبر ۲۰۲۵ء لاہور میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں لاکھوں مردو خواتین، بزرگوں، نوجوانوں اور بچوں نے شرکت کی اور ایک بڑی تعداد آن لائن اس کی کارروائی کی سماعت سے وابستہ رہی۔ اس موقعے پر جن بہت سے اُمور کی طرف متوجہ کیا گیا، ان میں سے چند پہلوئوں کی طرف یہاں پر متوجہ کیا جارہا ہے:
مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں یہ بات قرآن و سنت سے اخذ کر کے بتائی اور سمجھائی کہ اقامت ِ دین کی جدوجہد ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں اس جدوجہد کے لیے تحریک اسلامی کی صورت میں یہ اجتماعیت مل گئی۔ ہماری زندگی کا مقصد اللہ ربّ العالمین کے دین سے وابستہ ہو کر اس کی سربلندی اور اس نظام کو غالب کرنے کے لیے آخری دم تک جدوجہد کرنا ہے۔
اقامت ِ دین کی اس جدوجہد کے ذریعے جب ہم پورے نظام کو بدلنے جیسا بڑا کام لے کر اُٹھے ہیں تو اس میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ سب لوگ جو اس کارِعظیم سے وابستہ ہیں وہ نماز کو قائم کریں یعنی نمازوں کو پابندی سے اور نماز کی روح کے مطابق ادا کریں۔
ہماری اُمنگوں کا مرکز یہ ہونا چاہیے کہ قرآن کریم ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔ جب کھائے پیئے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن کے بغیر اسلام کی دعوت کے علَم بردار کی زندگی گزر رہی ہو۔ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کریں، اسے سمجھ کر پڑھیں اور اس کا فہم حاصل کریں۔ ہر وہ شخص جسے قرآن پاک پڑھنا نہیں آتا،آج سے قرآن حکیم کو سیکھنے کا آغاز کرے۔ ایک ایک فرد کم از کم اگلے چار پانچ مہینوں میں کسی ایک فرد کو قرآن حکیم پڑھنا سکھا دے۔ اس طرح ایک تو قرآن حکیم کی تعلیم پھیلتی ہے اور دوسرا دعوتی رابطہ بڑھتا ہے۔ قرآن پاک کو اپنی گفتگوؤں میں اور اپنی تنہائیوں میں ہم سب یاد رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارا ہاتھ پکڑ لے گا۔ یہ قرآن تو ہماری آنکھوں کا نُور ہے، دل کا سرور ہے، ہمارے اخلاق کو سنوارتا ہے اور ہمیں راہ نمائی دیتا ہے۔
اسی طرح اپنے معاملات کی اصلاح فرمائیے۔ ایک قسم کے معاملات وہ ہوتے ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے اور دوسری قسم کے معاملات وہ ہیں جن کا تعلق حقوق العباد یعنی آپ کے لین دین سے ہے، آپ کے رشتوں اور تعلقات سے ہے۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فرائض اپنے اہل خانہ اور دیگر رشتہ داروں کے لیے عائد ہوتے ہیں، ان سب کا اہتمام کریں۔ لین دین میں کوتاہی نہ کریں۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی وجہ سے تعلقات کو خراب نہ کریں۔ جب بھی کوئی معاملہ کریں تو اسے صاف لفظوں میں لکھ لیا کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
اسی طرح مقامی حالات، مسائل اور مشکلات سے واقفیت ہماری ذمہ داری ہے۔ جماعت اسلامی ہرسطح پر پائے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گی، لیکن جماعت اسلامی اور دوسروں میں ایک بنیادی فرق ہے کہ ہم اس راستے پر چلتے ہوئے قوم پرست نہیں بنیں گے۔ ہمارے لہجے میں نفرتیں نہیں ہوں گی۔ ہم آبادیوں کو تقسیم نہیں کریں گے۔ ہم بلوچستان کو پنجاب اور پنجاب کو خیبرپختونخوا اور سندھ سے نہیں لڑائیں گے۔ ہم پاکستان سے شکوہ کیوں کریں؟ پاکستان پہ تو چندعاقبت نااندیش طبقوں کا قبضہ ہے۔ پاکستان لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بنا ہے اور پاکستان کے ۲۵ کروڑ عوام کا ہے۔
یاد رکھیے،جہاں عدل نہیں ہوتا وہاں محرومی پیدا ہوتی ہے۔ نفرت لوگوں، قومیتوں یا علاقوں سے نہیں، بلکہ نفرت ظلم کے نظام سے ہونی چاہیے۔ ہمارے کسی رویے سے پاکستان پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے طریق کار کے مطابق ہی ہم اپنے مقامی مسائل اور مشکلات کو اُجاگر کریں گے۔ درحقیقت حق اور سچ اور عدل کی بنیاد پر ہی بات ہونی چاہیے۔
اسی مقصد کے لیے ہم نے ’بدل دو نظام تحریک‘ کا آغاز کیا ہے۔ اس کا لائحہ عمل اور اہم اہداف درج ذیل ہیں:
کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ پاکستان کی حکومت پر ہم زور دیتے ہیں کہ وہ اپنا فریضہ انجام دے۔پورا پاکستان کشمیریوں کا بیس کیمپ ہے، صرف آزاد کشمیر بیس کیمپ نہیں ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، جن کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ اس مطالبے سے ہم ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ثالثی کی باتیں کرنے والوں سے ہم کہتے ہیں کہ کشمیر پر ثالثی تسلیم کرنے کا مطلب مسئلہ کشمیر کو دفن کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس لیے اس راستے کا کسی کو سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ اہل کشمیر کی اخلاقی، سفارتی اور ہر ممکن مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
فلسطین کا مسئلہ ہمارے لیے ایمان کا مسئلہ ہے۔ ہم اہل فلسطین کے لیے کسی دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے۔ فلسطین کے حوالے سے ہم اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کو اور نام نہاد ابراہیم اکارڈ کو قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح غزہ میں کسی بھی صورت میں پاکستان کی فوج نہیں بھیجنی چاہیے۔ پاکستان کا اصولی موقف قائداعظم محمد علی جناحؒ سے لے کر آج تک واضح طور پر ایک ہی ہے کہ فلسطین ایک ریاست ہے اور اسرائیل کو ہم ناجائز قبضہ سمجھتے ہیں اور اس کے لیے وہاں پر کسی علاقے میں ریاست قائم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں نوجوان طبقے پر تعلیم،روزگار اور آگے بڑھنے کے دروازے بند ہیں۔ ۸۰،۹۰ فی صد نوجوانوں کی راہ میں طبقاتی نظامِ تعلیم ایک دیوار بن کر کھڑا ہے۔ یہی حال ہماری قوم کی بچیوں کا ہے۔ این جی اوز ان کا نام لے کر نعرے تو لگاتی ہیں، مگر ان کے پاس ان کے لیے کوئی مثبت پروگرام نہیں ہے۔
دنیا بدل رہی ہے۔ اس لیے ہم ’بدل دو نظام‘ کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ’زی کنیکٹ‘ پروگرام کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہم آئی ٹی ایجوکیشن میں جو کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔ ہم ریاست اور حکومت تو نہیں ہیں، لیکن ہم عوام کے ذریعے اور عام لوگوں کے وسائل سے ان شاءاللہ اپنی نوجوان نسل کو ’بنوقابل پروگرام‘ کے تحت آئی ٹی کے کورسز بھی کرائیں گے۔ اور ان کو اس قابل بنائیں گے کہ یہ اپنا روزگار حاصل کر سکیں۔
اسی طرح ہم ’ووکیشنل ٹریننگ‘ کا اہتمام بھی کریں گے، جس میں نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے جائیں گے اور ان کے روزگار کی فراہمی کی راہ ہموار کریں گے۔اسی طرح ہمارا مائیکرو فنانسنگ کا پروگرام بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔
ہم لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ’ٹیلنٹ ہنٹ ‘ پروگرام کے ذریعے اسپورٹس کی سہولت فراہم کرنے کے لیے آواز اُٹھائیں گے اور اہتمام کریں گے۔ حدود و قیود میں رہتے ہوئے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ اسپورٹس سرگرمیاں ہوں تو یہ جائز ہیں۔ اسپورٹس کا بھی بُرا حال ہے۔ گراؤنڈز عام لوگوں کو مہیا نہیں ہیں اور جو کلب ہیں، وہ بہت پیسے لیتے ہیں۔ جس طرح تعلیم طبقات میں تقسیم ہو گئی ہے، اسی طرح کھیل بھی طبقات میں تقسیم ہوگئے ہیں۔
اس ’جنریشن زی‘ کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کی کسی چیز پر زیادہ دیر توجہ نہیں رہتی۔ جس کا ایک سبب معلومات کا زبردست بہائو بھی ہے۔ جب توجہ مرکوز نہیں رہتی تو اس کے نتیجے میں اس نسل کے لیے کسی ایک کام مرکوز ہوکر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ’جنریشن زی‘ کی زندگی کو بامقصد بنانے کے لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان کی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کی فکری، اخلاقی، سماجی اور فنی تربیت کی جائے۔ اخلاقیات، تربیت اور راہ نمائی کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندہ اور قابلِ عمل اور سدابہار تعلیمات موجود ہیں۔ہم اس مقصد کے لیے یہ اہتمام کریں گے کہ عالمی اسلامی تحریکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راہیں نکالیں۔
اسلامی تحریک تمام مسلّمہ اسلامی فقہا اور مکاتب ِ فکر کا احترام کرتی ہے اور ان کی راہ نمائی سے استفادہ کرتی ہے۔ یہ تحریک کسی ایک فقہی مکتب ِ فکر کی علَم بردار نہیں بلکہ سبھی مسلّمہ مکاتب ِ فکر کے وابستگان کو ساتھ لے کر چلنے کی داعی ہے۔اس لیے حکمت کی زبان، دین کی ترجیحات کی زبان اور دعوت میں وسعت اور اختلافات میں گنجائش پیدا کرنا ہی درحقیقت اسلامی تحریک کا خاصہ ہے۔ سیّدمودودی جیسے عظیم مفکر، مدبر اور داعی تحریک نے بھی جماعت اسلامی کو اپنی فقہی رائے کا پابند نہیں بنایا۔
پاکستان، کسی زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں ہے۔پاکستان ایک نظریے کا نام ہے۔ مشرقی پاکستان میں ہمارے رفقا نے اسی نظریے کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی تھیں۔ وہ حق اور سچ کی بنیاد پر کھڑے رہے، کیونکہ ان کے نزدیک پاکستان جغرافیہ کے لیے نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا، اور اسی عقیدے کی بنیاد پر انھوں نے اس کی حفاظت کی تھی۔ اسی لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا اور قربانیاں دیں، ظلم و ستم سہتے رہے، اور پھانسیوں کے پھندوں پہ جھولتے رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حق کو حق کردکھایا اور باطل کا باطل ہونا واضح کردیا۔ ہم برادر مسلم ملک بنگلہ دیش کی سالمیت، آزادی اور ترقی کے لیے دُعاگو ہیں۔
ہم یہ بھی واضح کردیں کہ ہمارے ہاں سیاسی اتحادوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہم نے ملک و ملّت کے مفاد میں سیاسی اتحادوں میں بھرپور کردار ادا کیا ہے لیکن سیاسی جماعتوں نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ اب ہم مزید کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ تاریخ کے اس سبق کے نتیجے میں ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہم اتحاد کریں گے، مگر عوام سے اور عوام کے مختلف طبقات سے، نوجوانوں سے، مزدوروں سے، کسانوں سے، انجینئروں سے، ڈاکٹروں سے اور علما سے۔ہرمعاشرے کی طرح ہمارے ملک میں بھی خواتین کا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ ہم اُن کو ساتھ لے کر چلیں گے، ان شاء اللہ۔ یہی اتحاد پاکستان کو مسائل سے نجات دلائے گا۔
البتہ ہم تمام سیاسی قوتوں سے گفتگو، بات چیت، ملنے ملانے کا عمل اور تبادلۂ خیال اور مشترک موقف کے خلاف نہیں ہیں ۔ ہم سیاست میں وضع داری اور رواداری کے قائل ہیں۔ ہم نفرت، گالی اور گولی کی سیاست نہیں کرتے بلکہ اختلاف کو ایک دائرے میں رہتے ہوئے کرتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کا سیاسی کارکن ہمارے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ سیاسی کارکن چاہے وہ کسی بھی جماعت کا ہو، بہت قیمتی ہے۔ مگر افسوس کہ سیاسی جماعتیں سب سے زیادہ اپنے ہی سیاسی کارکن کا استحصال کرتی ہیں۔ خاندانوں اور دولت کی بنیاد پر چلتی ہیں، نچلی سطح پر انھیں اختیارات نہیں دیتیں اوراپنی پارٹیوں میں انتخاب نہیں کراتی ہیں۔ بلدیاتی انتخاب ہو یا تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کا انتخاب، یہ انھیں بہت بُرا لگتا ہے۔ ہم ہرسیاسی کارکن کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر عوام کے حق کے لیے جدوجہد کرے۔
ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ سول، مالیاتی اور انتظامی معاملات کے لیے بیوروکریسی بلدیاتی منتخب نمائندوں کے ماتحت کام کرے۔ اسی طرح آپ سے آپ اس نظام میں نوکرشاہی کا کردار ختم ہوگا اور عوام کے منتخب لوگ گراس روٹ لیول پر کام کریں گے۔ نچلی سطح پر جو لوگ منتخب ہوں گے وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوں اور سارے اختیارات نچلی سطح پر منتخب لوگوں کو منتقل ہوں۔ مقامی حکومتوں کے وجود کو آئین کے حصے کے طور پر شامل کیا جائے۔
صوبہ پنجاب میں ۲۰۱۵ء کے بعد سے آج تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ صوبہ سندھ میں مقامی حکومتوں کا نظام تباہ حال ہے۔ جماعت اسلامی کے پاس کراچی میں نو ٹاؤنز ہیں۔ الحمدللہ، بغیر اختیار کے تعمیر و ترقی کا سفر شروع کر دیا ہے۔ محدود اختیار کے ساتھ اپنا کام آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہمیں میئر سے محروم کیا گیا، مگر اس کے باوجود ہم کام کر رہے ہیں۔ دراصل اختیارات جاگیردار اور وڈیرے اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں، منتخب لوگوں کو منتقل نہیں کرتے۔ ہم خیبر پختونخوا کی حکومت سے بھی کہتے ہیں کہ بلدیاتی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کریں۔ قومی زندگی کو صحت مند بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے مقامی شہری حکومتوں کا نظام ناگزیر ہے۔ اس کے لیے عوام سے رابطے کی تحریک چلائیں گے۔ اپنے حق کے لیے ہم آگے بڑھیں گے، ان شاءاللہ۔ یہ ’بدل دو نظام تحریک‘ کا ایک اہم حصہ ہوگا۔
سرمایہ کاری، صنعت کاری اور سرمایہ دارانہ ذہنیت میں فرق ہے۔ اسلام، سرمائے کی مخالفت نہیں کرتا اور سرمایہ کاری کو اہمیت دیتا ہے،البتہ سرمایہ دارانہ ذہنیت مختلف چیز ہے، جس کے تحت سرمایہ دار، سرمائے کی طاقت سے لوگوں کا استحصال کرتا ہے۔ اسلامی حکومت اور اسلامی تہذیب و معاشرت میں بنیادی ضروریات کی فراہمی اور تعلیم اور روزگار کے مواقع سب کو یکساں ملتے ہیں۔جس کی جتنی قابلیت ہوتی ہے، اس کے مطابق وہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر سرمایہ دارانہ ذہنیت، سرمائے کی طاقت سے چھوٹے سرمایہ کاروں، چھوٹے کسانوں، کاٹیج انڈسٹری اور غریبوں اور مڈل کلاس کو تباہ کرتی ہے اور چند ہاتھوں میں دولت مرتکز ہوجاتی ہے، ہم ظلم کے اس شیطانی نظام کے خلاف ہیں۔سرمایہ داری کا یہ نظام صرف ہمارے ملک میں نہیں بلکہ مغرب میں بھی سب سے بڑا مسئلہ ہے اورمغرب کے عام لوگ بھی اس سرمایہ دارانہ نظام کے چنگل سے نکلنا چاہتے ہیں۔
ایسی ہمہ گیر جدوجہد وقت کا تقاضا ہے۔ اس جدوجہد کے لیے وقت دینا ہوگا، صلاحیتیں لگانی ہوں گی اور جان کھپانی ہوگی۔ہم اس کام کو سیاسی نعرہ بازی کے لیے نہیں کرتے بلکہ ہم سیاست کو عبادت سمجھ کے کرتے ہیں۔ معاشرے کی بہتری کا کام عبادت ہے، یہ تو تمام انبیاءؑ کی بعثت کا مقصد ہے (الحدید۵۷:۲۵)۔ ہمارے نزدیک اس نسبت سے اسلامی سیاست ایک افضل کام ہے، جس پر چند غاصبوں نے قبضہ کرکے سیاست کو بدنام کررکھا ہے اور پورے معاشرے کو استحصالی نظام کا یرغمالی اور محکوم و مجبور بنا رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں بصیرت بھی دی ہے اور بصارت بھی۔الحمدللہ، ہمارے کارکنوں کو خلوص بھی دیا ہے۔ ہمیں رابطوں کو بڑھانا، گلی گلی جانا اور ان تمام سیاسی مافیات سے جان چھڑانا ہے، جوایک طرف نعرہ بازی کرتے ہیں اور پھر آخرکار اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جاگرتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہے۔ مگر ہم اصولوں کی بالادستی چاہتے ہیں اور اس کلچر کے فروغ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں۔
پاکستان میں کسی سیاسی پارٹی پرپابندی نہیں ہونی چاہیے اور کسی کو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر قیدخانوں میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ ہمارے نزدیک سارے سیاسی کارکن قابلِ قدر ہیں اور ہم سب کو دعوت دیتے ہیں کہ ’بدل دو نظام تحریک‘ کے اس ایجنڈے پر ہمارا ساتھ دیں۔اس نظام کو بدلنا پاکستان کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ جماعت اسلامی اس عزم کے ساتھ اُٹھی ہے کہ اس نظام کو بدل کر رہیں گے۔
اسی طرح ہم نے کارکنانِ جماعت اسلامی کو دو اہداف دیے ہیں:
ممبرشپ مہم میں پچھلے برس ۲۰ لاکھ ممبرز بنے تھے۔ اگر ان کے ساتھ رابطے کی صورت نہ بنائی جائے تو کوئی بڑا انقلاب اور کوئی بڑی تبدیلی نہیں آسکتی۔ لہٰذا، ان کے ساتھ رابطے کے ساتھ ساتھ اگلے ایک سال میں ہمیں اپنی ممبرشپ کو ۵۰ لاکھ تک پہنچانا ہے۔
دوسرا کام یہ ہے کہ ہرمقام پر جماعت اسلامی کی تنظیم عوامی کمیٹیاں بنائے، محلوں کی سطح پر اور دیہاتوں کی سطح پر۔ ان کمیٹیوں کی تعداد کو ہم اگلے ایک سال میں ۵۰ ہزار تک لے کر جائیں گے۔
اس تحریک کا ناگزیر تقاضا ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت پر اعتماد کیا جائے۔ آپ کی قیادت بڑی چھلنیوں سے گزرکر آتی ہے۔ مگر اس کے باوجود کسی بھی فرد سے غلطی اور کوتاہی ہوسکتی ہے، جسے بروقت ٹھیک کرنے کے لیے ہمارا احتسابی نظام متحرک رہتا ہے، اوراس نظام کو متحرک رہنا چاہیے۔ احتساب اور نگرانی کا یہ نظام ہماری قوت ہے اور ہماری فعالیت کا ضامن ہے۔ ہماری کوششوں، کاوشوںاور جدوجہد کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ اس لیے ہمیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر منزل کی طرف گامزن رہنا ہے اور ہمہ وقت ربِّ کریم سے مدد اور راہ نمائی کے لیے دُعا کرتے رہنا ہے۔
دین سے وابستگی اور دین کی خدمت کی توفیق، اللہ تعالیٰ کے بہترین انعامات میں سے ایک انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر میںبہت سے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ سعادت عطا فرمائی ہے۔ انھی خوش نصیب قافلوں میں ایک معتبر قافلے کا نام جماعت اسلامی ہے، جو دُنیا بھر میںمعروف ہے۔
جماعت اسلامی اپنی دعوت اور اپنی منزل کے حصول کی جدوجہد میں، انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قافلے کے اِتباع اور صلحائے امتؒ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنے والی ایک منظم تحریک ہے۔
جماعت اسلامی آج سے ۸۵ برس قبل ۲۶؍اگست۱۹۴۱ء کو لاہور میں قائم ہوئی تھی۔ آج یہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت پورے جنوب مشرقی ایشیا میں اپنا گہرا اثر و نفوذ رکھتی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر اور ان کی قیادت میں جب اس قافلے نے سفر کا آغاز کیا تو اس میں صرف ۷۵ افراد شامل تھے۔ مگر ان کے خلوص اور دینی جذبے نے اس تحریک کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ رفتہ رفتہ یہ کارواں عالم گیر صورت اختیار کرتے ہوئے فکروعمل کی دُنیا میں گہرے نقوش ثبت کرتا آرہا ہے۔
جماعت کی تاسیس کے وقت بمشکل ۷۴ روپے سے بیت المال قائم ہو سکا۔ مگر اس قافلے کی رفتارِکار کی راہ میں نہ مالی وسائل آڑے آئے اور نہ افرادی قوت کی کمی کوئی نفسیاتی رکاوٹ پیدا کرسکی۔ اسلام کے یہ جاں نثار پورے ہند میں پھیل گئے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کے متعین کردہ مقاصد کے شعور سے مالا مال اور حکمت عملی سے وابستہ کارکنان کی اجتماعیت دنیا کے مختلف حصوں میں مصروفِ عمل ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد کے ذریعے، اللہ کی رضا کے حصول اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں لاکھوں مرد و زن اور پیروجوان متحرک ہیں۔
جماعت اسلامی نے اسلام کی جو دعوت پیش کی اس کو قبول کرتے ہوئے ایک تعداد اس سے عملاً وابستہ ہوئی۔ دوسری بڑی تعداد نے اسے اچھا تو سمجھا، لیکن اس کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ نہ کرپائی۔ اسی طرح ایک تیسری تعداد نے اس کا راستہ روکنے کے لیے الزام تراشی، اِتہام بازی اور ظلم و زیادتی کا طرزِعمل اپنایا۔ ان سبھی کے لیے ہم خیروعافیت کی دُعا کرتے ہیں۔ بہرحال، زندگی کے ان مختلف دائروں کے پہلو بہ پہلو جماعت اسلامی آج دنیا میں ایک حوالہ ہے، خیر، تعمیر اور حق کی گواہی کا، خدمت، خلوص اور امانت داری کا۔ اسی جماعت کا کل پاکستان اجتماع عام ۲۱-۲۳ نومبر ۲۰۲۵ء کو لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔
مسلم اُمہ اس وقت جن مصائب، بحرانوں اور غلامی کی نئی قسموں سے دوچار ہے، ان میں یہ اجتماع، زندگی بخش راہوں کو کشادہ کرسکتا ہے۔ وطن عزیز جن اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے، اُن میں ہم آہنگ جذبۂ عمل دے سکتا ہے۔ سیاسی ابتری، معاشی فساد اور ماورائے دستور حکمرانی کی حقیقت کو آشکار کرسکتا ہے۔ مخصوص این جی اوز کے ذریعے ملک و ملّت کی فکری و نظریاتی تخریب کا جو سامان کیا جارہا ہے اور شریعت ِ اسلامی پر حملہ آور ہونے کے لیے جس ’میٹھے زہر‘ کو نام نہاد ’مذہبی اسکالروں اور اصلاح پسندوں‘ کی سرپرستی کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے، اس فکری ارتداد سے باخبر رہنے کا اسلوب دیا جاسکتا ہے۔
آنے والا کل جن فکری، علمی اور کلامی چیلنجوں کے ساتھ یلغار کرتا چلا آرہا ہے، اس تباہی کا احساس بیدار کرنا پہلی ضرورت ہے۔ اس کا جواب دینے کے لیے میدانِ عمل میں آنا دوسری ضرورت ہے، اور عمل و رَدعمل سے بڑھ کر مثبت انداز سے ایک نظامِ فکر اور لائحہ عمل پیش کرنا تیسری اور سب سے اہم ضرورت ہے۔
جماعتوں اور پارٹیوں کے اجتماعات میں مذہبی یا سیاسی ہنگامے ہوتے ہیں، لیکن ان سب سے بالکل مختلف انداز اور امتیازی شان کے ساتھ جماعت اسلامی کا اجتماع عام منعقد ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیمی اور تحریکی زندگی میں مرکزی اجتماع کی کیا اہمیت ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں سے ۱۶۶کلومیٹر کے فاصلے پر دارالاسلام میں منعقد ہونے والے پہلے کُل ہند اجتماع میں ۱۹؍اپریل ۱۹۴۵ء کو فرمایا تھا:
مختلف گوشوں سے، موجودہ زمانے کے پُر صعوبت سفر کی تکلیفیں برداشت کرکے یہاں جمع ہو کر آپ نے میری طاقت میں بھی اضافہ کیا ہے اور اپنی طاقت میں بھی۔ [اگر آپ] ایسا نہ کرتے تو میں اپنی جگہ کم زور ہو جاتا اور آپ اپنی جگہ۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہماری یہ تحریک جو ایک بڑے عزم کا اظہار ہے، آپ اپنی جگہ ٹھٹھر کر رہ جاتی۔ آپ جب کسی ایک شخص کو، ایک مقصدِ عظیم کے لیے خود اپنا امیر بناتے ہیں، تو اس کی اطاعت کر کے دراصل اپنی ہی طاقت کو مضبوط کرتے ہیں، اور جتنی کم اطاعت کا ا ظہار آپ سے ہوگا، اس کمزوری کی وجہ سے آپ کی جماعت کی طاقت ضعیف ہوگی۔ [مگر] اس کے برعکس جس قدر زیادہ آپ کے قلب و دماغ پر اپنا مقصد حاوی ہوگا، اور جتنا زیادہ اپنے مقصد کی خاطر اطاعتِ امر کا صدور آپ سے ہوگا، اُسی قدر زیادہ آپ کا مرکز قوی ہوگا اور آپ کی تنظیمی طاقت زبردست ہوگی۔
مولانا محترمؒ نے اپنے خطاب میں اس چیز کی طرف توجہ دلائی ہے کہ: lآپ نے مالی، سفری اور صحت کی مشکلات برداشت کرکے یہاں جمع ہونے کا قدم اٹھایا lاس طرح آپ نے نظم جماعت، جماعت اور خود اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے lیوںآپ نے مقصدِ عظیم سے وابستگی کا اظہار کیا ہے lاوراطاعتِ نظم کا قدم اٹھا کر مقصد کی قوت میں اضافہ کیا ہے ___ دراصل یہی ہے وہ روح، جس کے تحت جماعت کے نظم کی دعوت پر ہم تمام کارکنان لبیک کہتے ہوئے اس اجتماع میں شرکت کریں گے۔ اس طرح ہم نظم ہی کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی مضبوط بنائیں گے، ان شاء اللہ۔
جماعت اسلامی، قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر چھوٹے بڑے تنظیمی اجتماعات کا انعقاد معمول کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اور یہی ذیلی اجتماعات جماعت کی ہم آہنگی، ترقی، تربیت اور ہمہ پہلو پھیلائو کا ذریعہ ہیں۔ مگر قومی سطح پر بڑے اجتماع کا انعقاد فکری، تربیتی، روحانی اور تحریکی تجدید کا طاقت ور مظہر بھی ہوتاہے اور ذریعہ بھی۔ اس بڑے اجتماع سے متعدد فوائد حاصل ہونے کی اُمید ہوتی ہے:
دوسرے لفظوں میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام کوئی روایتی میلہ یا جلسۂ عام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچر کا روحانی و انقلابی عکس ہوتا ہے۔ اس لیے ہر سطح کےکارکنوں پر لازم ہے کہ وہ اجتماع میں شرکت کے لیے خود بھی شعوری طور پر تیار ہوں، اور اپنے اہل خانہ ، خاندان اور قریبی لوگوں کو بھی تیار کریں۔
سیّد مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپریل ۱۹۴۵ء میں اسی طرح کے ملکی اجتماع میں فرمایا تھا:
آپ کے اجتماعات میں خواہ کتنا ہی بڑا مجمع ہو، مگر خیال رکھیے کہ بھیڑ اور ہڑبونگ، اور شوروہنگامہ کی کیفیت کبھی رونما نہیں ہونی چاہیے۔
جو کام ہم نے اپنے ہاتھ میںلیا ہے، یعنی اخلاقی اصولوں پر دنیا کی اصلاح کرنا، دنیا کے نظم کو درست کرنا، اس کا تقاضا ہے کہ اخلاقی حیثیت سے ہم اپنے آپ کو دنیا کا صالح ترین گروہ ثابت کر دکھائیں۔
جس طرح ہمیں دنیا کے بگاڑ پر تنقید کا حق ہے، اسی طرح دنیا کو بھی یہ دیکھنے کا حق ہے کہ ہم انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کیسے رہتے ہیں؟ کیا برتائو کرتے ہیں؟ کس طرح جمع ہوتے ہیں اور کس طرح اپنے اجتماعات کا انتظام کرتے ہیں؟
اگر دنیا نے یہ دیکھا کہ ہمارے اجتماعات میں بدنظمی ہے، ہمارے مجمعوں میں انتشار اور شوروغل ہوتا ہے۔ ہمارے رہنےا ور بیٹھنے کی جگہیں بدسلیقگی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اور جہاں مشورے کے لیے جمع ہوتے ہیں، وہاں مذاق، قہقہے اور جھگڑے برپا ہوتے ہیں، تو دنیا خدا کی پناہ مانگے گی۔
اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے اجتماعات کے دوران نظم، باقاعدگی، سنجیدگی و وقار، صفائی و طہارت اور حسنِ اخلاق اور خوش سلیقگی کا ایسا مکمل مظاہرہ کریں، جو دنیا میں نمونہ بن سکے.... ایک منظم گروہ کی طرح اٹھیے اور بیٹھیے، کھائیے اور جمع ہو جائیے اور منتشر ہو جائیے۔
جہاں آپ جمع ہوں، وہاں آپ کی دیانت و امانت بالکل ایک محسوس و مشہود شکل میں نظر آنی چاہیے۔ [وہاں]کسی شخص کو اپنے سامان کی حفاظت کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت پیش نہ آئے۔ جس کا مال اور سامان جہاں رکھا ہو، بغیر کسی نگران اور محافظ کے محفوظ پڑا رہے۔
بانی ٔ جماعت کے ان الفاظ میں اجتماع اور شرکائے اجتماع کے اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی پہلو کو انفرادیت بخشنے کا بہترین سبق موجود ہے۔
اسی طرح سیّد مودودی علیہ الرحمہ نے معاشرے، ماحول، سوچ کے زاویے اور عمل کی دُنیا کی تبدیلی کا درس دیتے ہوئے فرمایا تھا:
اس وقت ہماری حقیقی ضرورت یہ ہے کہ وہ سارانظامِ زندگی تبدیل کیا جائے، جو انگریز نے سرمایہ داری، استعماریت اور مادہ پرستی کی بنیاد پر قائم کیا تھا اور جو آج بھی جوں کا توں ہمارے ملک پر قائم ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، کوئی تکلیف، کوئی شکایت اور کوئی خرابی کُلی طور پر رفع ہونا ممکن نہیں ہے۔ خرابیوں کا اصل علاج یہ ہے کہ سارا نظام اپنی نظریاتی اور اخلاقی بنیادوں کے ساتھ بدلا جائے اور اس کو اسلامی، اخلاقی و نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا جائے، جو اجتماعی انصاف کی ضامن ہوں۔ جب نظامِ زندگی بدلے گا تو عدل و انصاف خود قائم ہوجائے گا اور لوگوں کی مشکلات اور شکایات آپ سے آپ دُور ہوجائیں گی۔
اجتماع میں شرکت اور اجتماع کی تمام تر کارروائی اسی فرسودہ نظامِ کار کو بدلنے کی تمہید ہے۔ جب کہ اجتماع کے بعد کارکنوں اور شرکائے اجتماع کی اپنے اپنے مقامات پر واپسی ، ان شاء اللہ نظام کو بدلنے کی واضح حکمت عملی سے آگاہی اور جذبہ و تحرک کی سرشاری کا عنوان بنے گی۔
نام نہاد جدید تہذیب، بدترین بے عملی کا مظہر اقوام متحدہ اور شرمناک غلامی کی منہ بولتی تصویر ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) کے سامنے غزہ دم توڑ رہا ہے، مگر جدید تہذیب اور ان اداروں کی طرف سے چند قراردادیں اور منافقت پر مبنی تقریروں کے سوا کچھ سامنے نہ آسکا۔ امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل قتل عام اور نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ استاد وصفی عاشور ابوزید قرآن و سنت کی روشنی میں اس صورتِ حال کے تناظر میں لکھتے ہیں:
زندگی میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں کہ جن سے گزرتے ہوئے انسان محسوس کرتا ہے کہ زمین اس کے قدموں کے نیچے سے نکل گئی ہو۔ ایسی صورتِ حال میں انسان آرزو کرتا ہے کہ کاش! زمین اس کو نگل لیتی، یا اس کی ماں نے اس کو جنم ہی نہ دیا ہوتا۔ قرآن مجید حضرت مریم ؑ پر طاری ہونے والی ایسی ہی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:
يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْـيًا مَّنْسِـيًّا۲۳ (مریم ۱۹:۲۳) کاش! میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔
اس حالت میں زبان پر جاری الفاظ میں کوئی ترتیب ہوتی ہے نہ ذہن میں معانی و مفاہیم کا احساس باقی رہتا ہے۔ سینہ تنگ اور زبان گنگ ہوجاتی ہے۔قرآنِ مجید نے اس حالت کو ایک جامع لفظ’زلزلہ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ زلزلہ محض زمین کی تھرتھراہٹ اور ہلچل کا نام نہیں بلکہ یہ پورے وجدان و شعور کی اُس سنسناہٹ کا نام بھی ہے، جو ابتلا و تعذیب کی شدت سے پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۰ۭ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰى نَصْرُ اللہِ۰ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيْبٌ۲۱۴ (البقرہ ۲:۲۱۴) پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوں ہی جنّت کا داخلہ تمھیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ اُن پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، وہ ہلا مارے گئے، حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اُس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اُٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ (اُس وقت اُنھیں تسلی دی گئی کہ) ہاں، اللہ کی مدد قریب ہے۔
یہ آیت دو افق ہمارے سامنے لاتی ہے:
۱- حقیقت:یہ حقیقت کہ ’ایمان‘ ایک آسمانی عطیہ ہے مگر اس کی جانچ اور پرکھ زمین پر ہوتی ہے۔ یہ ’لفظ‘ بہت بڑی قیمت ادا کر کے اور بہترین قربانیاں پیش کر کے اپنی تکمیل کوپہنچتا ہے۔
۲- عزیمت: عزیمت کا یہ درس کہ ابتلا و آزمائش اور تعذیب و تشدد کسی شخص یا فرد کی انفرادی حالت نہیں ہوتی جو صرف اسی کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ یہ ہراُس فرد کی قسمت اور تقدیر ہے جو بھی اس راہِ نبوت پر گامزن ہوگا۔ یہ ’زلزلہ‘ امتحان کی چوٹی ہے۔ وہ دروازہ ہے جس پر فتح و نصرت کے دروازے کھلنے سے پہلے دستک دینا پڑتی ہے۔ کوئی فتح اور کوئی نصرت اس تجربے کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔
اس آیت میں کوئی سختی نہیں ہے، بلکہ اللہ کی رحمت ہے اور اس کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے جو مومن کو اپنی کمزوری و عاجزی کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اُسے یہ معلوم رہے کہ اللہ کے سوا اُس کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے اور مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ ؟ ’اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘یہ سوال بیزاری و اُکتاہٹ سے تنگ آچکے دل سے نہیں بلکہ تعذیب کی شدت سے پھٹ جانے کے قریب دل سے نکلنے والا سوال ہے۔ ایسا دل اپنے سوال کو اُس ذاتِ باری کے حضور میں دُعا بنالیتا ہے، زمین و آسمان کی کنجیاں جس کے دست ِ قدرت میں ہیں اور وہی ذات ہے جو کسی کام کے ہوجانے کے لیے ’کُن‘ کہتا ہے تو وہ کام ہوجاتا ہے۔
زلزلہ، فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے اور جماعت کے شعور کی بھی تربیت کرتا ہے کہ آپ نے کب تک صبر کرنا ہے؟ کن لوگوں کی صف میں کھڑے ہونا ہے؟ کتنی بڑی قیمت ادا کرنے کی تیاری کرنی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ قرآنی مفاہیم، فرد کی حد تک محدود نہیں ہوتے بلکہ تاریخ اور اُمت کے شعور تک ان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ ’زلزلہ‘ زبانوں پر جاری ہونے والا محض ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک مدرسہ ہے، تربیت گاہ ہے، جو صبر کرنے والوں، شہادتِ حق کا اظہار کرنے والوں، اور استقامت و عزیمت کی راہ اختیار کرنے والوں کی ایک نسل کی تیاری ہے۔ اس تربیت گاہ میں صبر کی آزمائش ہوتی ہے، شہادت کی بنیاد استوار کی جاتی ہے، عزیمت کی بلندوبالادیواروں کی تعمیر کی جاتی ہے۔اسی لیے آیت کا اختتام اس وعدے پر ہوا ہے: اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ! یہ زمانی فاصلے سے قریب نصرت کی بات نہیں ہے بلکہ یہ موقف کی سچائی اور راستے کی استقامت کے اعتبار سے نصرت کی بات ہے۔ اس معنی میں قریب ہے کہ مظلوم کی دُعا کبھی رَد نہیں ہوتی۔ اس مفہوم میں قریب ہے کہ باطل کی عمر بہت محدود ہے اور حق کو ایک لامحدود مدت حاصل ہے۔
زلزلے کے مفہوم کا یہ ادراک کوئی تفسیری خیال آرائی نہیں ہے بلکہ یہ اُس امتحان کا شعور اور احساس ہے جو نسلوںسے دُہراتا چلا آرہا ہے اور آیندہ بھی چلتا رہے گا۔ جو شخص اس مفہوم کو سمجھ لے گا وہ تھرتھراہٹ کی رفتار کا معائنہ کرتے رہنے پر بس نہیں کرے گا بلکہ وہ ملبے کے درمیان سے نکل کر راستے پر آکھڑا ہوگا اور اندھیروں میں روشنی کی شمع جلائے گا۔
غزہ صرف ایک شہر کا نام نہیں، بلکہ وہ خونیں آئینہ ہے جو انسان کے وجدان کو ہلا کر رکھ دینے والے الٰہی امتحان کا عکس پیش کر رہا ہے۔ غزہ میں جو کچھ پیش آیا ہے یہ قرآنی لفظ ’زلزلہ‘ کی ایک مکمل جھلک ہے۔جہاں لفظ و آتش کا ملاپ ہوتا ہے، جہاں معنی خون سے بغل گیر ہوتا ہے، اور جہاں تفسیر کی حقیقی صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ اہل غزہ قحط اور بھوک کی اُس آخری حد تک پہنچ گئے ہیں، جس کی جدید فلسطین، بلکہ انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
اقوام متحدہ کے ادارے ’یونیسیف‘ کی غذائی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ غزہ کے ۹۰ فی صد باشندے اتنی سی غذا سے بھی محروم ہیں جو زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچّے ضروری غذا کی کمی کا بُری طرح شکار ہیں۔ بھوک یہاں شماریات کے گراف میں بیان نہیں ہوسکتی بلکہ اسے بھوک سے بلکتے بچّے کی اُس نحیف آواز کا نام دیا جاسکتا ہے جس کی ماں کے سینے میں بچّے کے لیے ایک گھونٹ دودھ بھی موجود نہیں ہے۔ اسے اُس باپ کی چیخ کہا جاسکتا ہے، جو اپنے بچّے کو روٹی کے ایک ٹکڑے کی کمی کے سبب موت کا شکار ہوتے دیکھتا ہے۔
پانی زندگی کی بنیاد و بقا کا مدار ہے، غزہ میں سونے سے بھی زیادہ مہنگا ہوگیا ہے۔ عالمی ادارئہ صحت بیان کرتا ہے کہ روزانہ ایک آدمی کو بمشکل ہی کچھ پانی میسر آتا ہے۔ یہ محض شماریاتی حد تک بیان کردہ کمی نہیں ہے بلکہ اُس ماں کی کیفیت کا حقیقی منظر ہے، جو پیاس سے لرزتے بچّے کا ہاتھ تھامے کھڑی ہو اور اسے ایک گھونٹ پانی نہ مل سکے، جو اس کے بچّے کی زندگی بچا سکے۔
جب بھوک اور پیاس جسم ہی کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے تو پھر محاصرہ جسموں کا نہیں روحوں کا ہونے لگتا ہے۔ ۲۳ لاکھ انسان دُنیا کے تنگ ترین خطۂ زمین میں بستے ہیں۔ ایک طرف سے انھیں سمندر نے گھیر رکھا ہے اور دوسری طرف سے اسرائیلی دیوار نے، آسمان ہی رہ جاتا ہے وہاں سے بھی اُن کے اُوپر ڈرون اور بم برسائے جاتے ہیں۔ ہسپتال تباہ کر دیے گئے ہیں، مساجد منہدم کردی گئیں، یونی ورسٹیاں برباد کردی گئیں، اسکول بچوں کی تعلیم کے بجائے قبرستان بنادیے گئے۔ اقوام متحدہ نے توثیق کی ہے کہ ۵۰۰ سے زائد اسکول اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، یا انھیں استعمال کے قابل ہی نہیں چھوڑا گیا۔
جبری بے دخلی اس سانحے کا ایک دوسرا سنگین پہلو ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی اُمور کے رابطہ دفتر نے یقینی طور پر بتایا ہے کہ ۱ء۷ ملین سے زائد انسان ان کےگھروں سے نکال دیے گئے۔ ایک بچّہ صبح اپنی ماں کے ساتھ نکلتا ہے تو پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے واپس نہیں آتا۔ بوڑھے ضعیف نے پچاس برس جس مسجد میں نماز ادا کی اُس کی آنکھوں کے سامنے اُسے شہید کر دیا جاتا ہے۔ یہ محض جسمانی انخلا اور بے دخلی نہیں ہے جو مکانوں اور گھروں سے کی جارہی ہے بلکہ اپنی یادداشت، شناخت اور مستقبل سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا جبری عمل ہے جو اہل غزہ پر مسلط کیا گیا ہے۔
اسی پر بس نہیں، اس کے بعد اس سے بھی بڑی آفت ٹوٹتی ہے۔ اجتماعی طور پر نیست و نابود کرنے کا وحشیانہ مظاہرہ ہوتا ہے۔ غزہ میں وزارتِ صحت نے ۷۰ ہزار سے زائد شہداء کی تعداد رپورٹ کی ہے، جن میں آدھی عورتیں اور بچّے ہیں۔ انٹرنیشنل جرنلٹس یونین نے اعلان کیا ہے کہ ایک سو سے زیادہ صحافی قتل کیے گئے ہیں، جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ عالمی قانون کی رُو سے محفوظ ہیں۔ غزہ، جنگ کا میدان نہیں رہا بلکہ مسلّمہ رپورٹوں کے مطابق اجتماعی نسل کشی کا تھیٹر بن گیا ہے۔
مگر اس تمام تر اسرائیلی ظلم وتعدی اور سفاکی و درندگی کے باوجود غزہ کا شہری پہاڑ جیسی استقامت سے کھڑا ہے۔ چھوٹا بچہ انگلی اُٹھاتاہے اور اس کے ہونٹوں پر ’اللہ اکبر‘ کی مدہم آواز اُبھرتی ہے۔ عورت ملبے کے ڈھیر میں سے پتھر اُٹھاتی ہے اور دُنیا سے کہتی ہے کہ ’ہم ہمت نہیں ہاریں گے‘۔ بوڑھا شخص شہید مسجد کے دروازے پر بیٹھا لرزتی آواز میں قرآنِ مجید پڑھتا ہے مگر ثابت قدم ہے۔ یہ لوگ زلزلۂ آزمائش کے آخری درجے پر پہنچ چکے ہیں مگر انھوں نے اپنے دلوں کی ’لرزش‘ کو اپنے موقف کی ’ثابت قدمی‘ میں بدل لینے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
آج غزہ محض جغرافیہ نہیں ہے بلکہ مذکورہ آیت کی زندہ تفسیر ہے۔ ان کی بھوک ہماری سیرشکمی کا محاسبہ کرے گی، ان کی پیاس ہماری خاموشی کی مذمت کرے گی، ان کی جبری بے دخلی ہماری نرم روی کا پردہ چاک کردے گی، ان کی شہادتیں ہمیں تاریخ و ضمیر کے سوال کے سامنے لاکھڑا کریں گی کہ کب؟ تم کب اُٹھو گے؟ تم کب ظلم سے کہو گے: بہت ہوگیا، اب بس؟ تم کب یہ ثابت کرو گے کہ انسانیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے؟
عین اس دوران جب غزہ میں بچوں کے چیتھڑے اُڑ رہے ہیں، گلیوں، بازاروں میں خون بہہ رہا ہے، دُنیا پر گہری خاموشی طاری ہے۔ کالے دھوئیں سے زیادہ گہری اور محاصرے کی شدت سے بھی زیادہ سخت خاموشی! اس دور میں صرف بموں کے دھماکے عظیم ترین زلزلہ نہیں ہیں بلکہ عالمی خاموشی کی وہ سنسناہٹ بھی زلزلہ ہے جس نے قاتلوں کو بھی دبا رکھا ہے اور مظلوم کو بھی بے یارومددگار بنادیا ہے۔
یورپ، جو یوکرین کے دفاع کے لیے چھلانگیں لگاتا ہوا آیا تھا، غزہ کے مسئلے پر اسے سانپ سونگھ گیا ہے اور وہ خاموش ہے،یا امن وسلامتی کے ذاتی دفاع کے دلائل دے رہا ہے۔ برلن، پیرس اور لندن میں فلسطین کی حمایت و تائید میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو روکا گیا، جب کہ اُدھر اسرائیل کی جنگی مشین بے گناہوں کے سروں کی فصل کاٹنے میں لگی ہوئی ہے۔ یوں مغرب کے اُن دُہرے معیارات کی حقیقت کھل گئی ہے جس کو فلسطینی خون کے اندر وہ چیز نظر نہیں آتی جو دوسرے انسانی خون میں نظر آتی ہے۔
آج غزہ صرف اسرائیل کے راکٹوں میں محصور نہیں ہے بلکہ قریب والوں کی غداری، مسلم ممالک کی خاموشی اور متمدن دُنیا کی ریاکاری میں گھرا ہوا ہے۔یہ امتحانِ اکبر ہے: اُس اُمت کا امتحان، جس کو وحی الٰہی نے بہت پہلے اخوت کی طرف بلایا تھا، اور مغرب کا امتحان ہے جس کو حقوقِ انسانی میں عالم گیریت کا دعویٰ ہے۔ دونوں اس امتحان میں ناکام ہیں، مگر تاریخ حقیقت نگاری میں کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ تاریخ عنقریب لکھے گی کہ غزہ پر زلزلہ آیا تو اہل غزہ نے صبر کیا، جب کہ اس کے اردگرد کے انسانوں کے دلوں میں خون جم گیا اور وہ اخوت و نصرت کے امتحان میں کامیاب نہ ہوسکے۔
غزہ کی چیخ پکار اب مقامی صورتِ حال اور علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ پوری انسانیت کو جانچنے کی آواز اور پکار بن گئی ہے۔ یہ ملبے کے ڈھیروں تلے سے اُٹھتی اور کہتی ہے: عالمی ضمیر کہاں ہے؟ اخوت اسلامی کہاں ہے؟ عدل و انصاف کہاں ہے؟ اس کا جواب ٹھنڈے ٹھار ڈپلومیٹک بیانات نہیں ہیں بلکہ اس کا جواب ایسا اجتماعی رَدعمل ہے، جو ظلم و جَور کے پیمانوں کو بدل دے اور بغاوت و سرکشی کی غاصب قوت کو توڑ کر رکھ دے۔
۱- محفوظ انسانی گزرگاہوں کو کھلوایا جائے۔
۲- اسرائیلی جرائم کو ریکارڈ پر لاکر عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کیا جائے۔
۳- مشترکہ مالی اور امدادی بنک قائم کیے جائیں۔
۴- آزاد عالمی میڈیا کو بلا کر جنگی مجرم اسرائیل کے جرائم بے نقاب کیے جائیں۔
یہ اقدامات محض سیاسی کارروائیاں نہیں ہیں بلکہ یہ انسانی اور شرعی فریضہ بن گیا ہے۔ اس لیے جو بھی ظلم پر خاموش رہے گا وہ اس ظلم میں برابر کا شریک ہوگا، اور جس نے ایک لفظ کے ذریعے بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف مزاحمت کی آواز بلند کی گویا اس نے گواہی کی امانت ادا کردی۔
تاریخ ایک عظیم کتاب ہے۔ یہ نہ سرکشوں پر ترس کھاتی ہے نہ جابروں کو بخشتی ہے۔ یہ ان کے انجام کو پوری دیانت کے ساتھ ریکارڈ اور قوموں کے لیے بطورِ عبرت محفوظ کردیتی ہے۔ کتنی ہی تہذیبیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں، اور کتنی ہی شہنشاہتیں خاک میں مل گئیں۔آج اسرائیل بھی طاقت کے نشے میں بدمست ہوکر ظلم و جبر کے اسی راستے پر چل رہا ہے۔ اس نے ظالموں پر جاری ہونے والے قوانین الٰہی سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
آج غزہ پر جو بیتی ہے، یہ اکیلے اہل فلسطین کا امتحان نہیں ہے، یہ ساری انسانیت کا امتحان ہے۔ یہ ایک بہت بڑا آئینہ ہے جس میں ہرفرد کا چہرہ سامنے آجائے گا۔ ہر رہنما کا ضمیر بے نقاب ہوجائے گا۔ ہر قوم کی فطرت اور سرشت کا پول کھل جائے گا۔ وہاں غزہ کے کھنڈرات تلے سوال لکھا جاتا ہے اوریہاں ہمارے ضمیروں پر اس کا جواب تحریر ہوتا ہے کہ تم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوگے اور ان کی مدد کرو گے، یا ظالم کے کندھے سے کندھا ملائو گے اور خاموشی اختیار کرتے ہوئے اس کی تائید و حمایت کرو گے؟
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا۷۲ۙ (احزاب ۳۳:۷۲) ہم نے اِس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اُٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اُس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اُسے اُٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔
غزہ کے یتیم بچّوں کے آنسو ہم سے پوچھتے ہیں: تمھاری نصرت و مدد کہاں ہے؟ اپنے بچّے کو کھودینے والی ماں کی سسکی ہمارا پیچھا کرتی ہوئی کہتی ہے: کیا تمھارے اندر رحم دلی کی رمق باقی نہیں ہے؟ شہداء کا خون ہمارے نامۂ اعمال میں یہ سوال ثبت کر رہا ہے: تم کس جگہ کھڑے ہو، حق و صداقت کی حمایت میں یا ظلم و جَور کی تائید میں؟
ہرانسان خواہ مسلم ہو یا غیرمسلم، مومن ہو یا غیرمومن، اس کی انسانیت کا امتحان ہورہا ہے کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کرتا ہے، خواہ دُعا اور ان کی حمایت کا موقف اختیار کرنے کی صورت میں ہو، یا پھر وہ ضمیر کے امتحان میں فیل ہوجاتا ہے اور اسے غفلت کے شکار اور خاموشی کے مارے لوگوں کی صف میں شمار کیا جاتا ہے۔ قیامت کے روز اس کا نام خسارہ پانے والوں میں پکارا جائے گا جنھوں نے دُنیا بھی گنوائی اور آخرت بھی برباد کی،اور یہی سب سے بڑا اور کھلا کھلا خسارہ ہے۔
انسانیت کو نعروں سے نہیں ناپا جاتا، بلکہ اُس مقدار سے ناپا جائے گا جتنی ہم مظلوم کی مدد کرتے ہیں اور ظالم کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور انسان ہونے کے ہردعویدار پر یہ فرض ہے کہ وہ غزہ کے امتحان میں اپنی صداقت کو ثابت کرے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پوچھے گا اور اُس روز کوئی تنہا نہیں آئے گا۔ پوچھا جائے گا: جب اہل غزہ ہلا مارے جارہے تھے (زُلزِلُوا) تو تم نے اس موقع پر کیا کردار ادا کیا؟ کیا تم نے مدد و نصرت کا حق ادا کیا یا عدم نصرت کا رویہ اپنایا؟ کیا تم نے خون ریزی اور قتل و غارت کو روکا یا صرف خاموشی اختیار کیے رکھی؟ یاد رکھیے وہاں کوئی عُذر کام نہیں آئے گا، اور یہ ساعت ِندامت آیا ہی چاہتی ہے۔
اپنا مقام منتخب کر لیجیے۔ اے انسان، اے رہنما، اے مسلم! اے دنیا بھر کے آزادی پسندو! تاریخ میں اپنے لیے ، اپنے نام کے اندراج کے لیے اپنا مقام منتخب کر لیجیے اور یہی اللہ کے حضور تمھارے مقام کا تعین ہوگا۔ گویا وہاں بھی تمھارا مقام تمھارے اپنے ہی ہاتھوں متعین ہوگا ۔ اس لیے یا تو آپ کا تذکرہ نُورانی حروف میں اُن شرفاء کے اندر ہوگا جنھوں نے مظلوم کی حمایت و نصرت کا فریضہ ادا کیا، یا پھر خفت و ذلت کے اُس خانے میں آپ کا اندراج ہوگا جو غداروں اور گونگے شیطانوں کے لیے مخصوص ہوگا۔
غزہ، چھوٹا سا محصور، محدود اور بدترین تباہی پر مشتمل زمینی قطعہ نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑا کینوس ہے جس نے ہم سب کے موقف و آراء کو اپنی حدود میں سمو رکھا ہے کہ کیا ہم ضمیر کے ساتھ زندہ ہیں، یا خاموشی کے ساتھ مُردہ جسم بن کے رہ گئے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے کسی سوال سے قیامت کے روز جان چھڑا پائیں گے، یا ہم شرم و ندامت اور بہت بڑی رُسوائی کے ساتھ ناکام و نامراد لوگوں میں شامل کیے جائیں گے؟ (ادارہ)
ایک ’غزہ‘ کا مقتل ساری دُنیا کے سامنے ہے، دوسرے ’غزہ‘ کے بارے میں خود اس کے ہمسائے میں بسنے والے بھی بے خبر، لاتعلق یا مجرمانہ غفلت کاشکار ہیں۔ اس غزہ سے مرادہے مقبوضہ جموں و کشمیر پر ٹوٹنے والی قیامت اور لمحہ بہ لمحہ مسلط کی جانے والی برہمنی توسیع پسندانہ درندگی!
دُنیا بھر میں عام لوگ بجاطور پر اہل غزہ کے غم کی ٹیسیں روح کی گہرائیوں تک محسوس کررہے ہیں، جو انسانی دردمندی کا ایک قیمتی پہلو ہے، جب کہ انھی قوموں کے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمران، سنگ دلی کے عنوان اور ہرجگہ ظلم کے معاون ہیں۔ برہمنی سامراج نے دُنیا کے سامنے جھوٹ، دھوکے اور مادی مفادات کے لالچ پھیلا کر ان حکمرانوں پر اندھا پن مسلط کررکھا ہے۔ دوسری طرف قلم اور کیمرے نے بھی اپنی گواہی پیش کرنے کے بجائے اس سفاکیت کو بیان کرنے سے رخصت لے رکھی ہے۔ انڈیا نے ہمیشہ عالمی بحرانی حالات میں اپنےایجنڈے کے حصول کی کوشش کی ہے۔ نائن الیون کے افسوس ناک واقعے کے بعد، جب امریکی سربراہی میں دُنیا کی ریاستی قیادتیں، مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں تو انڈیا نے ایک طرف کشمیر میں حُریت اور آزادی کی جدوجہد کو کچلنے میں شدت برتی، تو دوسری طرف خود انڈیا کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف ’ہندوتوا گردی‘ کی درندگی کو پروان چڑھایا۔
اس تحریر میں جموں و کشمیر میں ایک خاص انداز سے انڈین حکومت اور فوج کی اس پالیسی کو دیکھنے کے لیے کچھ تفصیلات دی جارہی ہیں، جو گذشتہ ڈیڑھ دو ماہ میں اخبارات اور ابلاغ کے دیگر ذرائع سے سامنے آئیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف یہی کچھ روا رکھا گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ محض چندمثالیں ہیں۔ ان اطلاعات اور خبروں کو چند لفظوں کا مجموعہ سمجھ کر نظرانداز کرکے، سرسری طور پر دیکھ کر آگے بڑھ جانا انتہائی غفلت اور سنگ دلی ہوگی۔ کاش! پڑھنے اور جاننے والے، ان مظلوم کشمیری بھائیوں کے روز افزوں دُکھ کو محسوس کرسکیں۔
ان تفصیلات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس انداز سے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے صبح و شام گزر رہے ہیں:
۲۲؍اگست ۲۰۲۵ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا:
’’چونکہ وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند نے ۲۸ فروری ۲۰۱۹ء اور بعدازاں ۲۷فروری ۲۰۲۴ء کے تحت جماعتِ اسلامی ، جموں و کشمیر کو ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیا تھا۔ چونکہ ایجنسیوں نے ایسے متعدد اسکولوں کی نشان دہی کی جو براہِ راست یا بالواسطہ جماعت ِ اسلامی / ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ سے منسلک پائے گئے، اور چونکہ ان ۲۱۵؍ اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کے بارے ایجنسیوں کی جانب سے ان پر منفی رپورٹ دی گئی ہے۔جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ: ان ۲۱۵؍ اسکولوں کی انتظامی کمیٹیاں، متعلقہ ضلع مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر کے زیرانتظام لی جائیں۔ متعلقہ ضلع مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر، ان اسکولوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں‘‘۔
نسل پرست انڈین حکومت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں، رفاہی سلسلوں اور اخباروں پر پابندیاں لگانے کے ساتھ انھیں تباہ کرنے اور قبضے میں لینے کے لیے جارحیت کا ارتکاب کر رہی ہے، اور اسرائیل کے ماڈل پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے۔ مذکورہ بالا حکم نامے میں جن تعلیمی اداروں پر قبضہ جمانے کا اعلان کیا گیا ہے، یہ تعلیمی ادارے عام لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیے ہیں اور ان میں پڑھایا جانے والا نصاب کوئی خفیہ کتابوں پر مشتمل نہیں۔ ان کے معیاری تعلیمی، تربیتی اور تدریسی ماحول سے یہاں کے لوگ خوش بھی ہیں اور اعتماد بھی کرتے ہیں۔ لیکن انڈین حکومت ہرسطح پر اور ہردرجے میں کشمیری مسلمانوں کو کچلنے کے لیے، ایک کے بعد دوسرا قدم اُٹھاتی چلی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حالیہ فیصلے کے خلاف کشمیر بھر میں غم و غصے کی لہردوڑ گئی ہے۔
پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (PDP)کی سربراہ، سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نئی دہلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے: ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کے ۲۱۵؍اسکولوں پر قبضے کا حکم فوری طور پر واپس لیا جائے۔ یہ قدم بدترین ظلم کی ایک شکل ہے، جس کا مقصد کشمیری نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل کو سبوتاژ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ زمین، وسائل اور ملازمتوں پر من مانی کرنے کے بعد اب اہل کشمیر کی تعلیم کو نشانہ بنانے سے ہمارے مستقبل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ ان اداروں میں ۵۱ہزار سے زیادہ معصوم بچوں کا مستقبل اور تعلیمی ترقی خطرے میں پڑگئے ہیں۔ حکومت اپنا یہ انتقامی فیصلہ فوری طور پر منسوخ کرے اور ٹرسٹ کو بغیر کسی مداخلت کے دوبارہ تعلیمی انتظام سنبھالنے اور تدریسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے‘‘۔
جموں و کشمیر میں ’اپنی پارٹی‘ کے سربراہ الطاف بخاری نے ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کے اسکولوں پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’جماعت اسلامی سے کسی کا سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن یہ بات ناقابلِ تردید ہے کہ ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ اسکولوں نے کئی عشروں کے دوران تعلیم کے شعبے میں مثبت اور قابلِ ستائش کردارادا کیا ہے، اس لیےموجودہ بلاجواز قدم کو واپس لیا جائے اور بچوں کے مستقبل سے نہ کھیلا جائے‘‘۔
’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ فرنٹ‘ نے اس قدم کو ’انتظامی زیادتی، انتقامی کارروائی اور عوامی اعتماد کی پامالی‘ قرار دیا۔ ’عوامی اتحاد پارٹی‘ کے لیڈر انعام النبی نے الزام لگایا: ’حکومت ۵۱ہزار سے زیادہ بچوں کے تعلیمی اور سماجی مستقبل سے کھیل رہی ہے‘‘۔ ’عوامی کانفرنس‘ کے صدر سجاد لون نے ان تعلیمی اداروں کو ’غریب طلبہ کے خدمت گار اور معیاری ادارے‘ قرار دیتے ہوئے، ان کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
گذشتہ ڈیڑھ دو ماہ کے دوران جن واقعات کی مختصر تصویر مضمون کے پہلے حصے میں پیش کی گئی ہے، اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کے زمینی حقائق کا ایک معمولی حصہ سمجھاجائے کہ جو کسی نہ کسی صورت میں لوگوں کے سامنے آگیا ہے۔ ورنہ سلسلہ وار طریقے سے پورے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ ظالمانہ واقعات نہایت تسلسل، بڑی تیزی سے اور وسیع پیمانے پر،سخت بے رحمی سے ہورہے ہیں۔ جن سے دُنیا بھی بے خبر ہے، اور ’بیس کیمپ‘ (آزاد کشمیر) اور پاکستان بھی مجموعی طور پر احساسِ ذمہ داری کے معاملے میں بے حسی کی صورت پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
ریاست پاکستان اور آزاد کشمیر کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم و زیادتی کے بارے میں عوامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر، ابلاغی، سفارتی اور رفاہی سرگرمیوں میں اپنا قرارِواقعی کردار ادا کریں۔ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے اور دفاعی نظام پر بہرصورت یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار پوری قوت اور مکمل احساسِ ذمہ داری سے ادا کریں۔ یہی ذمہ داری تمام سیاسی اور دینی پارٹیوں کو ادا کرنی چاہیے۔ ابلاغِ عامہ کے اداروں اور یونی ورسٹیوں کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان کے عوام جس طرح اُمت مسلمہ کے ہرملّی مسئلے پر تڑپتے اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں، اسی طرح پوری اُمت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر مظلوم اہلِ کشمیر کا ساتھ دیں۔یہ نہ ہو کہ ’دوسرا غزہ‘ تڑپتا رہ جائے اور راوی اپنی اپنی جگہ سُکھ، چین، فتح کے شادیانے بجاتا رہے۔
ملک عزیز بڑی اُمنگوں اور کاوشوں سے وجود میں آیا۔ بڑی محنتوں اور بڑی قربانیوں سے آزادی کی منزل اور الگ وطن نصیب ہوا۔ خوش قسمتی سے ہمیں اُس نسل سے براہِ راست حالِ دل سننے اور پڑھنے کاموقع بھی ملا، جس نسل نے آزادی کا معرکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جس کے افراد خون اور آگ کا دریا پار کر کے اپنی منزلِ پاکستان پر پہنچے تھے۔ بے بہا جذبوں سے لبریز اور ٹوٹے ہوئے خوابوں سے چُور، ان گواہوں میں کچھ کو دل برداشتہ پایا، کچھ کو حالات کا دھارا موڑنے کے لیے پُرعزم دیکھا۔ کچھ ایسے بھی تھے اور شاید ان کی تعداد زیادہ تھی، جنھوں نے سب کچھ بھلا کر آسائش و مال کی دوڑ کو اپنا مقصد ِ زندگی بنالیا۔ تحریک آزادی کے گواہوں پر مشتمل یہ تینوں طبقے اسی معاشرے میں متحرک اور فعال کردار ادا کرکے، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں ربّ العالمین کی عدالت میں پہنچ گئے اور ہم انھیں سننے، دیکھنے والے بھی منزلِ وداع کے قریب آن لگے ہیں۔
بنیادی سوال اپنی جگہ ہے کہ وطن عزیز کا کیا بنا؟ کیسے بنا؟ اور کون کس درجے میں ذمہ دار ٹھیرا؟
امرواقعہ ہے کہ بڑی جاں گسل جدوجہد کے بعد ملک کو آزادی نصیب ہوئی، اور پہلی نسل کے ایک حصے نے بے پناہ محنت کرکے ٹوٹتے خوابوں کو سنبھالا، بکھری اینٹوں کو اکٹھا کیا، قربانیاں دے کر دوسروں کو جینے کا درس بھی دیا اور عمل کرکے قوم کو سنبھالنے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ اس چھوٹی سی اقلیت کے احسانات کا پھل یہ ہے کہ وہ پاکستان جسے تحریک ِ پاکستان کے دوران دیوانے کا خواب کہا جاتا تھا، خواب سے حقیقت میں ڈھلتا ڈھلتا اقوامِ عالم کے نقشے پر ایک باوقار ملک کی صورت میں اُبھرا۔
محنت، دانش اور عزم سے سرشار اس اقلیت کے کارنامے برگ و بار لا رہے تھے کہ ان کے پیچھے تعاقب کرتے ٹڈی دَل فصل کو چاٹنے لگے۔ قربانیوں کے ہیکل اور ابتدائی تعمیری کاوشوں کی قوت نے گاہے ان حشرات کا منہ موڑا، اور ان کی تباہ کن رفتار کو روکا، مگر پھر بھی کئی بار یہ غالب آگئے۔ آج تک قوم، ملک اور سلطنت پاکستان اسی داخلی کش مکش سے گزر رہے ہیں، جب کہ بیرونی قوتیں مثل گدھ (Vulture) کوئی نہ کوئی حصہ اُڑانے کے لیے تاک لگائے بیٹھی ہیں۔ کچھ کامیاب رہی ہیں اور کچھ منتظر ہیں۔
ہمارے مشاہدے و تجزیے کے مطابق اس المیے کو جنم دینے اور مسلسل تقویت فراہم کرنے والوں میں سیاسی، انتظامی، سول، عسکری، عدالتی، صحافتی اور تعلیمی قیادتوں نے غیرذمہ داری کا راستہ اختیار ہی نہیں کیا بلکہ غیرذمہ داری کی بیماری کو چھوت کی طرح پورے معاشرے میں پھیلا دیا اور چھوت کی طرح پھلنے والی یہ بیماری اُس جاں باز اقلیت کی کاوشوں کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔
ملک ِ عزیز بنا تو واضح چیلنج کے طور پر معاشی بحران سے بچنا ممکن دکھائی نہ دیتا تھا، لیکن قائداعظم محمدعلی جناحؒ اور لیاقت علی خانؒ کی قیادت میں بننے والی پہلی حکومت نے بے پناہ محنت سے ملکی اقتصادی گاڑی چلانے کے لیے حیران کن کرشمے دکھا کر ثابت کیا کہ وہ اخلاص اور وژن کی دولت سے سرشار ہیں۔ تاہم، اسی قیادت کے دائیں اور بائیں، آگے اور پیچھے، خود انھی سے تعلق رکھنے والے مفاد پرست افراد اور گروہوں نے وہ دھماچوکڑی مچائی کہ تباہی کے آثار اور تھور کے زہریلے پودے اُگنے شروع ہوگئے۔
قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے پہلی دستور ساز اسمبلی میں ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو تقریر میں بڑے دردِ دل سے اور واضح الفاظ میں چند بنیادی اُمور پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
دو چیزیں میرے ذہن میں ہیں، وہ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں: پہلی اور سب سے اہم بات جو زور دے کر کہوں گا،وہ یہ ہے کہ آپ خودمختار قانون ساز ادارہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ کس طرح فیصلے کرتے ہیں۔ ایک حکومت کا پہلافریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے، تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور اُن کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت ہندستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دُنیا کے دوسرے ممالک اس سے پاک ہیں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہماری حالت بہت ہی خراب ہے، وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے۔ دراصل یہ ایک زہر ہے، اور ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہیے۔
چور بازاری دوسری لعنت ہے۔مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ آپ کو اس لعنت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑاجرم ہے۔ جب کوئی شہری چور بازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھنائونے جرم کا ارتکاب کرتاہے۔ یہ چور بازاری کرنے والے افراد باخبر، ذہین اور عام طور پر ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں، اور جب یہ چور بازاری کرتے ہیں تو میرے خیال میں انھیں بہت کڑی سزا ملنی چاہیے۔ اس بُرائی کو سختی سے کچل دینا ہوگا۔ یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربا پروری کو برداشت کروں گا، اور نہ کسی اثرورسوخ کو قبول کروں گا، جو مجھ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ پر، ہرگز ہرگز اسے گوارا نہیں کروں گا۔
اگر ہم مملکت پاکستان کو خوش و خرم اور خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کردینی چاہیے، بالخصوص عوام الناس اور غریبوں کی جانب۔ اگر آپ باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں گے تو کامیابی یقینا آپ کے قدم چُومے گی۔
اسی خطاب میں آگے چل کر قائداعظمؒ نے ملک میں بڑے پیمانے پر پھیلے ہندو مسلم خونیں فسادات کے ہولناک منظرکو پیش نظر رکھتے ہوئے، یہ فرمایا:
اب اس مملکتِ پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ آپ مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب ، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔
یہ خطبہ پاکستان کے قیام سے تین روز قبل دیا گیا ، اور اپنے پیغام و تصور کے اعتبار سے یہ ایک بہترین خطبہ تھا۔ لیکن ایک آنکھ سے دیکھنے والی ’دانش‘ نے اس کے ایک حصے پر اپنی توجہ مرکوز کرکے اسے من مانے معانی پہنانے کا کاروبار شروع کر دیا، اور قائد ِ محترم کی ۱۱؍اگست کی اس تقریر کے مجموعی پیغام کو نظرانداز کرکے اور اس کے آخری حصے کو سیاق وسباق سے کاٹ کر من مانا مطلب اخذ کرکے پیش کرنے کا کاروبار مسلسل چلایا جارہا ہے۔
قائد نے ۱۱؍اگست کی اس تقریر میں کرپشن، بدعنوانی، امن و امان، چور بازاری اور اقربا پروری کے ناسوروں پر جس شدت سے نشتر چلایا، وہ اس مخصوص ’دانش‘ کو بالکل یاد نہ رہا یا اچھا نہیں لگا۔ حالانکہ اسی چیز نے ملک کے سیاسی،سماجی، معاشی اور آخرکار جغرافیائی منظرنامے کو بدنُما اور داغ دار بناکر رکھ دیا ہے۔ قائد نے قیامِ وطن سے پہلے ہی انگلی رکھ کر اُن امراض کی نشاندہی کی اور انھیں مٹانے کے لیے سخت ایکشن اور کچل دینے کا پیغام دیا۔ لیکن حیران کن حد تک ہماری سیاسی، فکری، عسکری، سول، عدالتی، انتظامی اور صحافتی قیادت کو ان میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی، اور کبھی کسی کو قائد کے یہ الفاظ دُہراتے نہ دیکھا گیا اور نہ سنا گیا۔
البتہ اس خطبے کے آخر میں ’مسلم، ہندو رواداری‘ پر جو فرمایا، اس کے بارے میں یہ مقتدر طبقے بلائیں لیتے اور نہال ہوتے ضرور نظر آتے ہیں۔ جو غنیمت ہے کہ چلیے کسی حوالے سے قائد کے لیے کچھ توجہ اور کچھ تحسین کی گنجائش پیدا ہوئی۔
قائد محترم کی اسی ۱۱؍اگست کی تقریر میں اسمبلیوں کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میںدی گئی ہدایات کی نسبت سے، ہمارے مخصوص دانش وَر طبقے میں مکمل خاموشی اور تغافل پایا جاتا ہے۔ آج ان اسمبلیوں کی جو حالت ِ زار ہے، اُن کے بارے میں سقراط کی معاصر یونانی اسمبلیوں جیسی کیفیت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، جو بقول سقراط: عوام کے مفاد میں سوچنے کے بجائے، ارکانِ اسمبلی کے مفادات کی نگہبان، اور ایسی ایسی تدابیر سوچنے کے اڈے ہیں کہ کس طرح اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنائیں۔
ان اسمبلیوں کو قائد کے وہ جملے اپنی دیوار پر کندہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، جس میں اُنھوں نے بدعنوانی کے ان محافظوں کی سرزنش کی تھی۔ اَدھورے پن کا یہی تضاد ہماری قومی و سماجی زندگی کا گہرا ناسور ہے، جو رِستے رِستے سرطان بن چکا ہے۔
اسی تسلسل میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ہمارے ہاں پائے جانے والے مخصوص سیکولر دانش وروں کو پاکستان کے بانیان پر مشتمل اسی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’قرارداد مقاصد‘ بھی سخت ناپسند ہے، جو اپنی جگہ جمہوریت، انصاف، رواداری اور تحفظ کی ضامن تاریخی دستاویز ہے۔ اس قراردادِ مقاصد کی بنیاد پر نہ تو کسی ظالم، غاصب اور بدعنوان فرد یا طبقے کو تحفظ ملا اور نہ اس قرارداد نے انھیں تحفظ دینے کا جھنڈا اُٹھایا۔ اس کے برعکس ان ’کرم فرمائوں‘ کو ۱۱؍اگست کو قائد کا وہ ہوشیار باش پیغام نظر نہیں آیا جس میں انھوں نے ’کرپشن‘ اور ’بدعنوانی‘ پر خبردار کیا تھا۔
آج پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ یہی بدعنوانی ہے۔ بدعنوانی ایک کثیرالجہتی شیطانی وجود کا نام ہے۔ بدعنوانی کے جسم سے: مالی بدعنوانی، میرٹ تباہ کرنے کی بدعنوانی، اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے کی بدعنوانی، اپنی منصبی ذمہ داری کو محنت و دیانت سے ادا کرنے کے بجائے دوسری ذمہ داریوں میں ٹانگ اُڑانے کی بدعنوانی، حق کی گواہی نہ دینے کی بدعنوانی، سچائی پر قائم نہ رہنے کی بدعنوانی اور مالی و مادی خوف میں مبتلاہونے کی بدعنوانی شامل ہے۔
ذرا چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھیے کہ قائد کے اس فرمان کی دھجیاں کون کون اور کس کس حیلے سے اُڑا رہا ہے؟ شاید ہی کوئی چہرہ اس میزان پہ سرخرو نظر آئے۔ اگر رویہ یہی ہے اور یقینا ایسا ہی ہے، تو پھر ’یومِ آزادی‘ کو بطور ’یومِ تجدید ِ عہدو احتساب‘ منانا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ کہ پاکستان کی ’نظریہ ساز‘ سیکولر اقلیت کے نزدیک قائداعظمؒ کی ذات، کلام، فکر میں کوئی اور بات قابلِ ذکر نہیں۔ ظاہر ہے کہ قائداعظمؒ ۱۱؍اگست سے پہلے بھی زندہ، پوری تحریکِ آزادی چلا رہے تھے اور اس کے بعد بھی ایک برس زندہ رہے۔ انھوں نے تحریکِ پاکستان کے دوران بہت کچھ کہا اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی فکری راہ نمائی دی۔ ایک سوچار مرتبہ ’اسلامی شریعت‘ سے وابستگی کو بطورِ دلیل اور بطورِ عہد دُہرایا۔ ان کی وہ تمام تقاریر ہر خاص و عام کی دسترس میں ہیں مگر مجال ہے کہ ہماری یہ ’فکری مقتدرہ‘ ان باتوں کو کچھ وزن دے۔
قائد نے مذکورہ تقریر قیامِ پاکستان سے تین روز پہلے کی تھی اور اسی قائد کی آخری تقریر یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو ہوئی، جس میں انھوں نے کراچی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا:
معاشرتی اور معاشی زندگی کے اسلامی تصورات سے بنکاری کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں آپ جو کام کریں گے، میں دلچسپی سے اس کا انتظار کروں گا۔ اس وقت مغربی معاشی نظام نے تقریباً ناقابلِ حل مسائل پیدا کر دیئے ہیں، اور شاید کوئی کرشمہ ہی دُنیا کو اس بربادی سے بچاسکے، جس کا اسے اس وقت سامنا ہے۔ یہ نظام افراد کے اور قوموں کے درمیان ناچاقی دُور کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ مغربی دُنیا اس وقت میکانکی اور صنعتی اہلیت کے باوصف جس بدترین ابتری کا شکار ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔مغربی اقدار، نظریئے اور طریقے، خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا، اور دُنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی اساس و بنیاد انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچّے اسلامی تصور پر کھڑی ہو۔ اس طرح ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کرسکیں گے، اور بنی نوع انسان تک امن کا پیغام پہنچا سکیں گے۔ صرف یہی راستہ انسانیت کو فلاح و بہبود اور مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔
یہ تقریر درحقیقت قوم کے نام قائد کی آخری وصیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دیجیے کہ قائد کا ایک ایک لفظ کیا پیغام دے رہا ہے؟ کیا یہ تقریر کوئی انتخابی خطبہ ہے؟ یا پھر یہ تقریر ایک معاشی لائحہ عمل پر چلنے کی پکار، دعوت اور حکم ہے؟ اور یہ بھی گواہی دیجیے کہ کیا اس تقریر کا منشا پاکستانی معیشت کو سود اور معاشی استحصال سے پاک اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کا پیغام نہیں؟
درحقیقت قائد کی ۱۱؍اگست کی تقریراسلامی ریاست کے ذمہ دار کی حیثیت سے بیان کی گئی ریاستی پالیسی تھی، جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق تھی اور اس کا آخری حصہ اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہریوں کے تحفظ اور مذہبی اور سماجی حقوق کے بارے میں اسلامی تعلیمات ہی کا اعادہ ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضع کردہ ’میثاقِ مدینہ‘ میں موجود ہیں۔
۱۱؍اگست کو دستور ساز اسمبلی میں قائد کی صدارتی تقریر تھی، جب کہ تین روز بعد ۱۴؍اگست کودستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائدمحترم نے اپنے موقف کی مزید وضاحت فرما دی، جس میں وائسرائے ہند ماؤنٹ بیٹن نے قائد کو مغل بادشاہ اکبر کی مثال دے کر ’رواداری کا درس‘ دینے کی کوشش کی۔
قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے اس باقاعدہ افتتاحی اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن کی تقریرکا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
شہنشاہ اکبر نے تمام غیرمسلموں کے ساتھ رواداری اور حُسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس کی ابتدا آج سے تیرہ سو سال پہلے ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کردی تھی۔ آپؐ نے زبان سے ہی نہیں، بلکہ عمل سے یہودیوں اور مسیحیوں پرفتح پانے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کے ساتھ رواداری برتی اور ان کے عقائد کا احترام کیا۔ مسلمان جہاں بھی حکمران رہے، ایسے ہی رہے۔ ان کی تاریخ دیکھی جائے تو وہ ایسی انسانیت نواز اور عظیم المرتبت اصولوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، جن کی ہم سب کو تقلید کرنا چاہیے۔ (بحوالہ اسٹار آف انڈیا، ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء، قائداعظم: تقریر و بیانات، چہارم، مرتبہ: اقبال احمد صدیقی، بزمِ اقبال، لاہور، ۱۹۹۸ء، ص ۳۶۳، ۳۶۴)
قائداعظم نے اس خطاب میں اپنا موقف بالکل واضح فرما دیاکہ یہ بات مَیں کوئی آج نہیں کہہ رہا، اور نہ وائسرائے کی مثال کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں، بلکہ یہ بات میں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی براہِ راست سنت سے اخذ کرکے کہہ رہا ہوں۔ قائد محترم کا یہ خطاب نوآموز سیکولر ’دانش‘ کی طرف سے ۱۱؍اگست کی تقریر کے اس حصے کو بنیاد بناکر پھیلائے جانے والے ابہام کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
قائدمحترم نے زندگی بھر فتوے کی زبان استعمال نہیں کی۔ وہ مشورے، راہ نمائی اور دعوتِ فکر دیتے تھے، ان سب چیزوں کا مرکز اپنی ذات کے بجائے ہمیشہ اسلام، قرآن، سیرتِ پاکؐ، اسلامی تہذیب، اسلامی شریعت اور قانون کو ہی قرار دیتے تھے۔
بلاشبہ اسلام اور اسلامی شریعت کی تعبیر و تشریح کے لیے، شریعت کے مآخذ قرآن و سنت ہی ہمارے عمل کی بنیاد ہوں گے۔ علّامہ محمد اقبال ؒ ہوں یا قائداعظم محمد علی جناح ؒ، دونوں میں سے کسی نے اپنے آپ کو کبھی دین و شریعت سے بالاتر نہیں قرار دیا۔ ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلام اور تعمیرِ پاکستان کی منزل کے حصول کے لیے انھی مآخذ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔(س م خ(
ہرسال محرم میںکروڑوںمسلمان شیعہ بھی اورسنی بھی،امام حسینؓ [شہادت:۱۰محرم ۶۱ھ] کی شہادت پراپنے رنج وغم کااظہارکرتے ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ ان غم گساروںمیںسے بہت ہی کم لوگ اس مقصد کی طرف توجہ کرتے ہیں،جس کے لیے امامؓ نے نہ صرف اپنی جانِ عزیزقربان کی، بلکہ اپنے کنبے کے بچوںتک کوکٹوادیا۔کسی شخص کی مظلومانہ شہادت پراس کے اہل خاندان کا، اوراس خاندان سے محبت وعقیدت یاہمدردی رکھنے والوںکااظہارِغم کرناتوایک فطری بات ہے۔ ایسارنج وغم دُنیا کے ہرخاندان اوراس سے تعلق رکھنے والوںکی طرف سے ظاہرہوتاہے۔ اس کی کوئی اخلاقی قدروقیمت اس سے زیادہ نہیںہے کہ اس شخص کی ذات کے ساتھ اس کے رشتہ داروںکی اور خاندان کے ہمدردوںکی محبت کاایک فطری نتیجہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ امام حسینؓ کی وہ کیاخصوصیت ہے [اتنی مدت] گزر جانے پر بھی ہرسال ان کا غم تازہ ہوتارہے؟ اگر یہ شہادت کسی مقصدِعظیم کے لیے نہ تھی تومحض ذاتی تعلق کی بنا پر صدیوں اس کاغم جاری رہنے کے کوئی معنی نہیںہیں۔اورخودامام کی اپنی نگاہ میںاس محض ذاتی وشخصی محبت کی کیا قدرو قیمت ہوسکتی ہے؟ انھیں اگراپنی ذات اس مقصدسے زیادہ عزیز ہوتی تووہ اسے قربان ہی کیوں کرتے؟ ان کی یہ قربانی توخوداس بات کاثبوت ہے کہ وہ اس مقصد کو جان سے بڑھ کر عزیزرکھتے تھے۔ لہٰذا، اگرہم اس مقصدکے لیے کچھ نہ کریں،بلکہ اس کے خلاف کام کرتے رہیں، تومحض ان کی ذات کے لیے گریہ وزاری کرکے، اوران کے قاتلوں پر لعن طعن کرکے قیامت کے روزنہ توہم امام ہی سے کسی دادکی اُمیدرکھ سکتے ہیںاورنہ یہ توقع رکھ سکتے ہیںکہ ان کاخدااس کی کوئی قدرکرے گا۔
اب دیکھناچاہیے کہ وہ مقصدکیاتھا؟کیاامام تخت وتاج کے لیے اپنے کسی ذاتی استحقاق کا دعویٰ رکھتے تھے اوراس کے لیے انھوںنے سردھڑکی بازی لگائی؟
کوئی شخص بھی جوامام حسینؓ کے گھرانے کی بلنداخلاقی سیرت کوجانتاہے،یہ بدگمانی نہیںکرسکتاکہ یہ لوگ اپنی ذات کے لیے اقتدارحاصل کرنے کی خاطرمسلمانوںمیںخوں ریزی کرسکتے تھے۔اگرتھوڑی دیرکے لیے ان لوگوںکانظریہ ہی صحیح مان لیاجائے جن کی رائے میںیہ خاندان حکومت پراپنے ذاتی استحقاق کادعویٰ رکھتاتھا،تب بھی حضرت ابوبکرؓسے لے کرامیرمعاویہؓ تک، پچاس برس کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حکومت حاصل کرنے کے لیے لڑنااورکشت وخون کرناہرگز ان کامسلک نہ تھا۔اس لیے لامحالہ یہ مانناہی پڑے گاکہ امام عالی مقام کی نگاہیںاس وقت مسلم معاشرے اوراسلامی ریاست کی روح اوراس کے مزاج اوراس کے نظام میںکسی بڑے تغیر کے آثاردیکھ رہی تھیں،جسے روکنے کی جدوجہدکرناان کے نزدیک ضروری تھا، حتیٰ کہ اس راہ میں لڑنے کی نوبت بھی آجائے تونہ صرف جائزبلکہ فرض سمجھتے تھے۔
وہ تغیرکیاتھا؟ظاہرہے کہ لوگوںنے اپنادین نہیںبدل دیاتھا۔حکمرانوںسمیت سب لوگ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورقرآن کواسی طرح مان رہے تھے، جس طرح پہلے مانتے تھے۔ مملکت کا قانون بھی نہیںبدلاتھا۔عدالتوںمیںقرآن اورسنت ہی کے مطابق تمام معاملات کے فیصلے بنی اُمیہ کی حکومت میںبھی ہورہے تھے، جس طرح ان کے برسراقتدارآنے سے پہلے ہوا کرتے تھے، بلکہ قانون میںتغیرتوانیسویںصدی عیسوی سے پہلے دُنیاکی مسلم حکومتوںمیںسے کسی کے دور میں بھی نہیںہوا۔
بعض لوگ یزیدکے شخصی کردارکوبہت نمایاںکرکے پیش کرتے ہیں، جس سے یہ عام غلط فہمی پیداہوگئی ہے کہ وہ تغیرجسے روکنے کے لیے امام کھڑے ہوئے تھے، بس یہ تھاکہ ایک بُرا آدمی برسرِاقتدارآگیاتھا۔لیکن یزیدکی سیرت وشخصیت کاجوبرے سے بُرا تصور پیش کرناممکن ہے، اسے جوںکاتوںمان لینے کے بعدبھی یہ بات قابلِ تسلیم نہیںہے کہ اگرنظام صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو محض ایک بُرے آدمی کابرسراقتدارآجاناکوئی ایسی بڑی بات ہوسکتی ہے، جس پرامام حسینؓ جیسا دانا وزیرک اورعلم شریعت میںگہری نظررکھنے والاشخص بےصبر ہوجائے۔ اس لیے یہ شخصی معاملہ بھی وہ اصل تغیر نہیںہے جس نے امام کوبے چین کیاتھا۔
تاریخ کے غائرمطالعے سے جوچیزواضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ یزیدکی ولی عہدی اور پھراس کی تخت نشینی سے دراصل جس خرابی کی ابتداہورہی تھی، وہ اسلامی ریاست کے دستور، اوراس کے مزاج اور اس کے مقصدکی تبدیلی تھی۔اس تبدیلی کے پورے نتائج اگرچہ اس وقت سامنے نہ آئے تھے، لیکن ایک صاحب ِنظرآدمی گاڑی کارُخ تبدیل ہوتے ہی یہ جان سکتاہے کہ اب اس کاراستہ بدل رہاہے، اورجس راہ پریہ مڑرہی ہے وہ آخرکاراسے کہاںلے جائے گا۔ یہی رخ کی تبدیلی تھی، جسے امام نے دیکھااورگاڑی کوپھرسے صحیح پٹڑی پرڈالنے کے لیے اپنی جان لڑا دینے کافیصلہ کیا۔
اس چیزکوٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیںدیکھناچاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کی سربراہی میںریاست کاجونظام چالیس سال تک چلتا رہا تھا، اس کے دستور کی بنیادی خصوصیات کیاتھیں،اوریزیدکی ولی عہدی سے مسلمانوںمیںجس دوسرے نظامِ ریاست کاآغازہوا،اس کے اندرکیاخصوصیات تھیں، جو دولت بنی امیہ وبنی عباس اور بعد کی بادشاہیوں میں ظاہر ہوئیں؟اسی تقابل سے ہم یہ جان سکتے ہیںکہ یہ گاڑی پہلے کس لائن پرچل رہی تھی، اور اس نقطۂ انحراف پرپہنچ کرآگے وہ کس لائن پرچل پڑی اوراسی تقابل سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسیدئہ فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی آغوش میںتربیت پائی تھی اورجس نے صحابہؓ کی بہترین سوسائٹی میںبچپن سے بڑھاپے تک کی منزلیں طے کی تھیں،وہ کیوںاس نقطۂ انحراف کے سامنے آتے ہی گاڑی کواس نئی لائن پرجانے سے روکنے کے لیے کھڑاہوگیا،اورکیوںاس نے اس بات کی بھی پروانہ کی کہ اس زوردارگاڑی کارخ موڑنے کے لیے اس کے آگے کھڑے ہوجانے کاکیانتیجہ ہوسکتاہے؟
اسلامی ریاست کی اولین خصوصیت یہ تھی کہ اس میںصرف زبان ہی سے یہ نہیںکہاجاتا تھا بلکہ سچے دل سے یہ مانابھی جاتاتھا،اورعملی رویے سے اس عقیدے ویقین کاپورا ثبوت بھی دیا جاتا تھا کہ ملک خداکا ہے، باشندے خداکی رعیت ہیں،اورحکومت اس رعیت کے معاملے میں خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ حکومت اس رعیت کی مالک نہیںہے اوررعیت اس کی غلام نہیں ہے۔ حکمرانوںکاکام سب سے پہلے اپنی گردن میںخداکی بندگی وغلامی کاقلادہ ڈالناہے، پھر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ خدا کی رعیت پر اس کا قانون نافذ کریں۔ لیکن یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہی کا مسلمانوں میں آغاز ہوا، اس میں خدا کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی اعتراف تک محدود ہوکر رہ گیا۔ عملاً اس نے وہی نظریہ اختیارکرلیا جو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہی کا رہاہے، یعنی ملک بادشاہ اور شاہی خاندان کا ہے اور وہ رعیت کی جان، مال، آبرو ، ہر چیز کا مالک ہے۔ خدا کا قانون ان بادشاہتوں میں نافذ ہوا بھی تو صرف عوام پر ہوا، بادشاہ اور ان کے خاندان اور امرا اور حکام زیادہ تر اس سے مستثنیٰ ہی رہے۔
اسلامی ریاست کامقصد خدا کی زمین میں ان نیکیوں کو قائم کرنا اور فروغ دیناتھا جو خدا کو محبوب ہیں اور ان برائیوں کو دبانا اور مٹانا تھا جو خدا کو نا پسند ہیں۔ مگر انسانی بادشاہت کا راستہ اختیار کرنے کے بعد حکومت کا مقصد فتح ممالک اور تسخیر خلائق اور تحصیل باج و خراج اور عیشِ دُنیا کے سوا کچھ نہ رہا۔ خدا کا کلمہ بلند کرنے کی خدمت بادشاہوں نے کم ہی کبھی انجام دی ۔ ان کے ہاتھوں اور ان کے امرااور حکام اور درباریوں کے ہاتھوں بھلائیاں کم اور برائیاں بہت زیادہ پھیلیں۔ بھلائیوں کے فروغ اور برائیوں کی روک تھام اور اشاعتِ دین اور علومِ اسلامی کی تحقیق و تدوین کے لیے جن اللہ کے بندوں نے کام کیا، انھیں حکومتوں سے مدد ملنی تو درکنار اکثر وہ حکمرانوں کے غضب ہی میں گرفتا ر رہے اور اپنا کام وہ ان کی مزاحمتوں کے علی الرغم ہی کرتے رہے۔ ان کوششوں کے برعکس حکومتوں اور ان کے حکام و متوسلین کی زندگیوں اور پالیسیوں کے اثرات مسلم معاشرے کو پیہم اخلاقی زوال ہی کی طرف لے جاتے رہے ۔ حد یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر اسلام کی اشاعت میں رکاوٹیں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا، جس کی بدترین مثال بنو اُمیہ کی حکومت میں نو مسلموں پر جزیہ لگانے کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
اسلامی ریاست کی روح تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری کی روح تھی، جس کا سب سے بڑا مظہر خود ریاست کا سربراہ ہوتاتھا۔ حکومت کے عمال اور قاضی اور سپہ سالار، سب اس روح سے سرشار ہوتے تھے ، اور پھر اسی روح سے وہ پورے معاشرے کو سرشار کرتے تھے، لیکن بادشاہی کی راہ پر پڑتے ہی مسلمانوں کی حکومتوں اور ان کے حکمرانوں نے قیصر و کسریٰ کے سے رنگ ڈھنگ اور ٹھاٹھ باٹھ اختیار کرلیے۔ عدل کی جگہ ظلم وجور کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔ پرہیز گاری کی جگہ فسق و فجور اور راگ رنگ اور عیش و عشرت کا دور دورہ شروع ہوگیا۔ حرام و حلال کی تمیز سے حکمرانوں کی سیرت و کردار خالی ہوتی چلی گئی ۔ سیاست کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹتا چلا گیا۔ خدا سے خود ڈرنے کے بجائے حاکم لوگ بندگانِ خدا کو اپنے آپ سے ڈرانے لگے اور لوگوں کے ایمان و ضمیر بیدار کرنے کے بجائے ان کو اپنی بخششوں کے لالچ سے خریدنے لگے۔
یہ تو تھا روح و مزاج اور مقصد اور نظریے کا تغیر۔ ایسا ہی تغیر اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں میں بھی رُونما ہوا۔ اس دستور کے ساتھ اہم ترین اصول تھے ، جن میں سے ہر ایک کو بدل ڈالا گیا۔
۱- آزادانہ انتخاب:دستور اسلامی کا سنگ بنیاد یہ تھاکہ حکومت لوگوں کی آزادانہ رضامندی سے قائم ہو۔ کوئی شخص اپنی کوشش سے اقتدار حاصل نہ کرے بلکہ لوگ اپنے مشورے سے بہتر آدمی کو چُن کر اقتدار اس کے سپرد کردیں ۔ ’بیعت‘، اقتدار کا نتیجہ نہ ہوبلکہ اس کا سبب ہو۔ ’بیعت‘ حاصل ہونے میں آدمی کی اپنی کسی کوشش یا سازش کا دخل نہ ہو۔ لوگ ’بیعت‘ کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں پوری طرح آزاد ہوں ۔ جب تک کسی شخص کو ’بیعت‘ حاصل نہ ہو وہ برسرِاقتدار نہ آئے اور جب لوگوں کا اعتماد اس پر سے اٹھ جائے تو وہ اقتدار سے چمٹا نہ رہے۔ خلفائے راشدینؓ میں سے ہر ایک اسی قاعدے کے مطابق برسرِاقتدار آیاتھا۔
امیرمعاویہ ؓ کے معاملے میں پوزیشن مشتبہ ہوگئی۔ اسی لیے صحابی ہونے کے باوجود ان کا شمار خلفائے راشدین میں نہیں کیاگیا۔ لیکن آخر کاریزید کی ولی عہدی وہ انقلابی کارروائی ثابت ہوئی جس نے اس قاعدے کو الٹ کر رکھ دیا۔ اس سے خاندانوں کی موروثی بادشاہتوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا، جس کے بعد سے آج تک پھر مسلمانوں کو ’انتخابی خلافت‘ کی طرف پلٹنا نصیب نہ ہوسکا۔ اب لوگ مسلمانوں کے آزادانہ اور کھلے مشورے سے نہیں بلکہ طاقت سے برسراقتدار آنے لگے۔ اب بیعت سے اقتدار حاصل ہونے کے بجائے اقتدار سے بیعت حاصل کی جانے لگی۔ اب بیعت کرنے یا نہ کرنے میں لوگ آزاد نہ رہے اور بیعت کا حاصل ہونا اقتدار پر قائم رہنے کے لیے شرط نہ رہا۔ لوگوں کی اوّل تو یہ مجال نہ تھی کہ جس کے ہاتھ میں اقتدار تھا اس کی بیعت نہ کرتے۔ لیکن اگر وہ بیعت نہ بھی کرتے تو جس کے ہاتھ میں اقتدار آگیا تھا وہ ہٹنے والا نہ تھا۔ اسی جبری بیعت کو کالعدم قرار دینے کا قصور جب منصور عباسی کے زمانے میں اما م مالکؒ سے سرزد ہوا تو ان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے گئے اور ان کے ہاتھ شانوں سے اکھڑوا دیے گئے۔
۲- شورائی نظام:دوسرا اہم ترین قاعدہ اس دستور کا یہ تھاکہ حکومت مشورے سے کی جائے اور مشورہ ان لوگوں سے کیا جائے جن کے علم، تقویٰ اور اصابت رائے پر عام لوگوں کو اعتماد ہو۔ خلفائے راشدینؓ کے عہد میں جو لوگ شوریٰ کے رکن بنائے گئے ، اگرچہ ان کو انتخابِ عام کے ذریعے سے منتخب نہیںکرایا گیاتھا۔ جدید زمانے کے تصور کے لحاظ سے وہ نامزد کردہ لوگ ہی تھے۔ لیکن خلفا نے یہ دیکھ کر ان کو مشیر نہیں بنایاتھا کہ یہ ہماری ہاں میں ہاں ملانے، اور ہمارے مفاد کی خدمت کرنے کے لیے موزوں ترین لوگ ہیں بلکہ انھوںنے پورے خلوص اور بے غرضی کے ساتھ قوم کے بہترین عناصر کو چنا تھا، جن سے وہ حق گوئی کے سوا کسی چیز کی توقع نہ رکھتے تھے، جن سے یہ اُمید تھی کہ وہ ہر معاملے میں اپنے علم و ضمیر کے مطابق بالکل صحیح ایمان دارانہ رائے دیں گے، جن سے کوئی شخص بھی یہ اندیشہ نہ رکھتاتھاکہ وہ حکومت کو کسی غلط راہ پر جانے دیں گے ۔ اگر اس وقت ملک میں آج کل کے طریقے کے مطابق انتخابات بھی ہوتے تو عام مسلمان انھی لوگوں کو اپنے اعتماد کا مستحق قرار دیتے۔
لیکن شاہی دور کاآغاز ہوتے ہی شوریٰ کا یہ طریقہ بدل گیا۔ اب بادشاہ استبداد اور مطلق العنانی کے ساتھ حکومت کرنے لگے۔اب شہزادے اور خوشامدی اہل دربار، اور صوبوں کے گورنر اور فوجوں کے سپہ سالار ان کی کونسل کے ممبر تھے ۔ اب وہ لوگ ان کے مشیر تھے جن کے معاملے میں اگر قوم کی رائے لی جاتی تو اعتماد کے ایک ووٹ کے مقابلے میں لعنت کے ہزار ووٹ آتے اور اس کے برعکس وہ حق شناس و حق گواہل علم وتقویٰ، جن پر قوم کو اعتماد تھا وہ بادشاہوں کی نگاہ میں کسی اعتماد کے مستحق نہ تھے، بلکہ الٹے معتوب یا کم ازکم مشتبہ تھے۔
۳- اظہار رائے کی آزادی:اس دستور کا تیسرا اصول یہ تھاکہ لوگوں کو اظہار رائے کی پوری آزادی ہو۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو اسلام نے ہر مسلمان کا حق ہی نہیں بلکہ فرض قرار دیا تھا۔ اسلامی معاشرے اور ریاست کے صحیح راستے پر چلنے کا انحصار اس بات پر تھاکہ لوگوں کے ضمیر اور ان کی زبانیں آزاد ہوں، وہ ہر غلط کام پر بڑے سے بڑے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کہہ سکیں۔
خلافت راشدہؓ میں صرف یہی نہیں کہ لوگوں کا یہ حق پوری طرح محفوظ تھا، بلکہ خلفائے راشدینؓ اسے ان کافرض سمجھتے تھے اور اس فرض کے ادا کرنے میں ان کی ہمت افزائی کرتے تھے۔ ان کی مجلس شوریٰ کے ممبروں ہی کو نہیں ، قوم کے ہر شخص کو بولنے اور ٹوکنے اور خود خلیفہ سے باز پُرس کرنے کی مکمل آزادی تھی ، جس کے استعمال پر یہ لوگ ڈانٹ اور دھمکی سے نہیں بلکہ داد اورتعریف سے نوازے جاتے تھے ۔ یہ آزادی ان کی طرف سے کوئی عطیہ اور بخشش نہ تھی، جس کے لیے وہ قوم پر اپنا احسان جتاتے ، بلکہ یہ اسلام کا عطا کردہ ایک دستوری حق تھا، جس کا احترام وہ اپنا فرض سمجھتے تھے ، اور اسے بھلائی کے لیے استعمال کرنا ہر مسلمان پر خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عائد کردہ ایک فریضہ تھا، جس کی ادائیگی کے لیے معاشرے اور ریاست کی فضا کو ہر وقت ساز گار رکھنا ان کی نگاہ میں فرائضِ خلافت کا ایک اہم جزتھا۔
لیکن بادشاہی دور کاآغاز ہوتے ہی ضمیروں پر قفل چڑھادیے گئے اور منہ بند کردیے گئے۔ اب قاعدہ یہ ہوگیاکہ زبان کھولو توتعریف میں کھولو،ورنہ چپ رہو ۔ اور تمھارا ضمیر ایسا زور آور ہے کہ حق گوئی سے تم باز نہیں رہ سکتے تو قید یا قتل کے لیے تیار ہوجائو ۔ یہ پالیسی رفتہ رفتہ مسلمانوں کو پست ہمت، بزدل اور مصلحت پرست بناتی چلی گئی ۔ خطرہ مول لے کر سچی بات کہنے والے ان کے اندر کم سے کم ہوتے چلے گئے ۔ خوشامد اور چاپلوسی کی قیمت مارکیٹ میں چڑھتی اور حق پرستی و راست بازی کی قیمت گرتی چلی گئی۔ اعلیٰ قابلیت رکھنے والے ایمان دار اور آزاد خیال لوگ حکومت سے بے تعلق ہوگئے اور عوام کا حال یہ ہوگیاکہ کسی شاہی خاندان کی حکومت برقرار رکھنے کے لیے ان کے دلوں میں کوئی جذبہ باقی نہ رہا۔ ایک کو ہٹانے کے لیے جب دوسرا آیا تو انھوںنے مدافعت میں انگلی تک نہ ہلائی، اور گرنے والا جب گرا تو انھوںنے ایک لات اور رسید کرکے اسے زیادہ گہرے گڑھے میں پھینکا۔ حکومتیں جاتی اور آتی رہیں ، مگر لوگوں نے تماشائی سے بڑھ کر اس آمدورفت کے منظر سے کوئی دلچسپی نہ لی۔
۴- خدا اور خلق کے سامنے جواب دہی: چوتھا اصول، جو اس تیسرے اصول کے ساتھ لازمی تعلق رکھتاتھا، یہ تھاکہ خلیفہ اور اس کی حکومت خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہے۔ جہاں تک خدا کے سامنے جواب دہی کا تعلق ہے، اس کے شدید احساس سے خلفائے راشدینؓ پر دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہوگیاتھااور جہاں تک خلق کے سامنے جواب دہی کاتعلق ہے، وہ ہر وقت ،ہر جگہ اپنے آپ کوعوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔
ان کی حکومت کا یہ اصول نہ تھاکہ صرف مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں نوٹس دے کر ہی ان سے سوال کیاجاسکتاہے، وہ ہر روز پانچ مرتبہ نماز کی جماعت میں اپنے عوام کا سامنا کرتے تھے ۔ وہ ہرہفتے جمعہ کی جماعت میں عوام کے سامنے اپنی کہتے اور ان کی سنتے تھے ۔ وہ شب و روز بازاروں میں کسی باڈی گارڈ کے بغیر،کسی ہٹو بچو کی آواز کے بغیر عوام کے درمیان چلتے پھرتے تھے۔ ان کے گورنمنٹ ہائوس (یعنی ان کے کچے مکان ) کادروازہ ہر شخص کے لیے کھلا تھا اور ہر ایک ان سے مل سکتاتھا۔ ان سب مواقع پر ہر شخص ان سے سوال کرسکتاتھا اور جواب طلب کرسکتاتھا۔ یہ محدود جواب دہی نہ تھی بلکہ کھلی اور ہمہ وقتی جواب دہی تھی ۔ یہ نمائندوں کے واسطے سے نہ تھی بلکہ پوری قوم کے سامنے براہ راست تھی۔ وہ عوام کی مرضی سے بر سراقتدار آئے تھے اور عوام کی مرضی انھیں ہٹاکر دوسرا خلیفہ ہر وقت لا سکتی تھی۔ اس لیے نہ تو انھیں عوام کا سامنا کرنے میں کوئی خطرہ محسوس ہوتاتھا اور نہ اقتدار سے محروم ہونا ان کی نگاہ میں کوئی خطرہ تھا کہ وہ اس سے بچنے کی کبھی فکر کرتے۔
لیکن بادشاہی دور کے آتے ہی جواب دہ حکومت کاتصور ختم ہوگیا۔ خدا کے سامنے جواب دہی کا خیال چاہے زبانوں پر رہ گیا ہو، مگر عمل میں اس کے آثار کم ہی نظر آتے۔ رہی خلق کے سامنے جواب دہی، تو کون مائی کا لال تھا جوان سے جواب طلب کرسکتا۔ وہ اپنی قوم کے فاتح تھے ۔ مفتوحوں کے سامنے کون فاتح جواب دہ ہوتاہے۔ وہ طاقت سے برسرِاقتدار آئے تھے اور ان کا نعرہ یہ تھاکہ جس میں طاقت ہو، وہ ہم سے اقتدار چھین لے۔ ایسے لوگ عوام کا سامنا کب کیا کرتے ہیں اور عوام ان کے قریب کہاں پھٹک سکتے تھے؟ وہ نماز بھی پڑھتے تھے تو نتھو خیرے کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے محلوں کی محفوظ مسجدوںمیں، یا باہر اپنے نہایت قابلِ اعتماد محافظوں کے جھرمٹ میں۔ ان کی سواریاں نکلتی تھیں تو آگے اور پیچھے مسلح دستے ہوتے تھے اور راستے صاف کردیے جاتے تھے۔ عوام کی اور ان کی مڈ بھیڑ کسی جگہ ہوتی ہی نہ تھی۔
۵- بیت المال، ایک امانت:پانچوا ں اصول اسلامی دستور کا یہ تھاکہ بیت المال خدا کا مال اور مسلمانوں کی امانت ہے، جس میں کوئی چیز حق کی راہ کے سوا کسی دوسری راہ سے آنی نہ چاہیے ، اور جس میں سے کوئی چیز حق کے سوا کسی دوسری راہ میں جانی نہ چاہیے۔ خلیفہ کا حق اس مال میں اتنا ہی ہے جتنا قرآن کی رُو سے مالِ یتیم میں اس کے ولی کا ہوتاہے کہ وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفُ ج وَمَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاکُلُ بِالْمَعْرُوْفِ ط (جواپنے ذاتی ذرائع آمدنی اپنی ضرورت بھر رکھتا ہو وہ اس مال سے تنخواہ لیتے ہوئے شرم کرے، اور جو واقعی حاجت مند ہو وہ اتنی تنخواہ لے جسے ہر معقول آدمی مبنی بر انصاف مانے ۔ النساء۴:۶)۔ خلیفہ اس کی ایک ایک پائی کے آمد وخرچ پر حساب دینے کا ذمہ دار ہے اور مسلمانوں کو اس سے حساب مانگنے کا پورا حق ہے۔
خلفائے راشدینؓ نے اس اصول کو بھی کمال درجہ دیانت اور حق شناسی کے ساتھ برت کر دکھایا۔ ان کے خزانے میں جو کچھ بھی آتاتھا ٹھیک ٹھیک اسلامی قانون کے مطابق آتاتھا، اور اس میں سے جو کچھ خرچ ہوتاتھا، بالکل جائز راستوں میں ہوتاتھا۔ ان میں سے جو غنی تھا اس نے ایک حبہ اپنی ذات کے لیے تنخواہ کے طور پر وصول کیے بغیر مفت خدمت انجام دی، بلکہ اپنی گرہ سے قوم کے لیے خرچ کرنے میں بھی دریغ نہ کیا۔ اور جو تنخواہ کے بغیر ہمہ وقتی خدمت گار نہ بن سکتے تھے، انھوںنے اپنی ضروریاتِ زندگی کے لیے اتنی کم تنخواہ لی کہ ہر معقول آدمی اسے انصاف سے کم ہی مانے گا ، زیادہ کہنے کی جرأت ان کا دشمن بھی نہیں کرسکتا۔ پھر اس خزانے کی آمد و خرچ کا حساب ہروقت ہر شخص مانگ سکتاتھا اوروہ ہر وقت ہرشخص کے سامنے حساب دینے کے لیے تیار تھے۔ ان سے ایک عام آدمی بھرے مجمع میں پوچھ سکتاتھا کہ خزانے میں یمن سے جو چادریں آئی ہیں ان کا طول و عرض تو اتنا نہ تھا کہ جناب کا لمبا کُرتہ بن سکے، یہ زائد کپڑا آپ کہاں سے لائے ہیں؟
مگر جب خلافت بادشاہی میں تبدیل ہوئی تو خزانہ خدا اور مسلمانوں کانہیں بلکہ بادشاہ کا مال تھا، ہرجائز و ناجائز راستے سے اس میں دولت آتی تھی اور ہر جائز و ناجائز راستے میں بے غل و غش صرف ہوتی تھی ۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کے حساب کا سوال اٹھاسکے ۔ سارا ملک ایک خوانِ یغما تھا جس پر ایک ہر کارے سے لے کر سربراہ مملکت تک ، حکومت کے سارے کل پرزے حسب توفیق ہاتھ مار رہے تھے ، اور ذہنوں سے یہ تصور ہی نکل گیاتھاکہ اقتدار کوئی پروانۂ اباحت نہیں ہے، جس کی بدولت یہ لُوٹ مار ان کے لیے حلال ہو، اور پبلک کا مال کوئی شیرِ مادر نہیں ہے، جسے وہ ہضم کرتے رہیں اور کسی کے سامنے انھیں اس کا حساب دینا نہ ہو۔
۶- قانون کی حکومت:چھٹا اصول اس دستور کا یہ تھاکہ ملک میں قانون (یعنی خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون) کی حکومت ہونی چاہیے۔ کسی کوقانون سے بالاتر نہ ہوناچاہیے۔ کسی کو قانون کے حدودسے باہر جا کر کام کرنے کا حق نہ ہونا چاہیے۔ ایک عامی سے لے کر سربراہ مملکت تک، سب کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے اور سب پر اسے بے لاگ طریقے سے نافذ ہونا چاہیے۔ انصاف کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہونا چاہیے اور عدالتوں کو انصاف کرنے کے لیے ہر دبائو سے بالکل آزاد ہونا چاہیے۔
خلفائے راشدینؓ نے اس اصول کی پیروی کابھی بہترین نمونہ پیش کیاتھا۔ بادشاہوں سے بڑھ کر اقتدار رکھنے کے باوجود وہ قانونِ الٰہی کی بندشوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ نہ ان کی دوستی اور رشتہ داری قانون کی حد سے نکل کر کسی کو کچھ نفع پہنچا سکتی تھی اور نہ ان کی ناراضی کسی کو قانون کے خلاف کوئی نقصان پہنچا سکتی تھی۔ کوئی ان کے اپنے حق پر بھی دست درازی کرتا تو وہ ایک عام آدمی کی طرح عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے، اور کسی کو ان کے خلاف شکایت ہوتی تو وہ استغاثہ کرکے انھیں عدالت میں کھینچ لا سکتا تھا۔ اسی طرح اُنھوںنے اپنی حکومت کے گورنروں اور سپہ سالاروں کو بھی قانون کی گرفت میں کس رکھاتھا۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ عدالت کے کام میں کسی قاضی پر اثر انداز ہونے کا خیال بھی کرتا۔ کسی کا یہ مرتبہ نہ تھا کہ قانون کی حد سے قدم باہر نکال کر مواخذے سے بچ جاتا۔
لیکن خلافت سے بادشاہی کی طرف انتقال واقع ہوتے ہی اس قاعدے کے بھی چیتھڑے اڑ گئے۔ اب بادشاہ اور شہزادے اور امرا اورحکام اور سپہ سالار ہی نہیں ، شاہی محلات کے منہ چڑھے لونڈی غلام تک قانون سے بالا تر ہوگئے۔ لوگوں کی گردنیں اور پیٹھیں اور مال اور آبروئیں، سب ان کے لیے مباح ہوگئیں۔ انصاف کے دومعیار بن گئے: ایک کمزور کے لیے اور دوسرا طاقت ور کے لیے۔ مقدمات میں عدالتوں پر دبائو ڈالے جانے لگے اور بے لاگ انصاف کرنے والے قاضیوں کی شامت آنے لگی، حتیٰ کہ خدا ترس فقہا نے عدالت کی کرسی پر بیٹھنے کے بجائے کوڑے کھانا اور قید ہوجانا زیادہ قابلِ ترجیح سمجھا،تاکہ وہ ظلم و جور کے آلہ ٔ کار بن کر خدا کے عذاب کے مستحق نہ بنیں۔
۷-حقوق اور مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات:مسلمانوں میں حقوق اور مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات ، اسلامی دستور کا ساتواں اصول تھا، جسے ابتدائی اسلامی ریاست میں پوری قوت کے ساتھ قائم کیاگیاتھا۔ مسلمانوں کے درمیان نسل، وطن، زبان وغیرہ کاکوئی امتیاز نہ تھا ۔قبیلے اور خاندان اور حسب و نسب کے لحاظ سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ تھی۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے سب لوگوں کے حقوق یکساں تھے اور سب کی حیثیت برابر تھی۔ ایک کو دوسرے پر ترجیح اگر تھی تو سیرت واخلاق اور اہلیت و صلاحیت، اور خدمات کے لحاظ سے تھی۔
لیکن خلافت کی جگہ جب بادشاہی نظام آیا تو عصبیت کے شیاطین ہر گوشے سے سراُٹھانے لگے۔ شاہی خاندان اور ان کے حامی خانوادوں کا مرتبہ سب سے بلند و برتر ہوگیا۔ ان کے قبیلوں کو دوسرے قبیلوں پر ترجیحی حقوق حاصل ہوگئے۔ عربی اورعجمی کے تعصبات جاگ اُٹھے اور خود عربوں میں قبیلے اور قبیلے کے درمیان کش مکش پیدا ہوگئی۔ ملت اسلامیہ کو اس چیز نے جو نقصان پہنچایا اس پر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں۔
یہ تھے وہ تغیرات جو اسلامی خلافت کو خاندانی بادشاہت میں تبدیل کرنے سے رونما ہوئے۔ کوئی شخص اس تاریخی حقیقت کا انکار نہیںکرسکتا کہ یزید کی ولی عہدی ان تغیرات کا نقطۂ آغاز تھی، اور اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ اس نقطے سے چل کر تھوڑی مدت کے اندر ہی بادشاہی نظام میں وہ سب خرابیاں نمایاں ہوگئیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ انقلابی قدم اٹھایا گیاتھا، اس وقت یہ خرابیاں اگرچہ بہ تمام و کمال سامنے نہ آئی تھیں، مگر ہرصاحبِ بصیرت آدمی جان سکتاتھاکہ اس اقدام کے لازمی نتائج یہی کچھ ہیں اور اس سے ان اصلاحات پر پانی پھر جانے والا ہے جو اسلام نے سیاست و ریاست کے نظام میں کی ہیں۔
اسی لیے امام حسینؓ اس پر صبر نہ کرسکے اور انھوںنے فیصلہ کیا کہ جو بدترسے بدتر نتائج بھی انھیں ایک مضبوط جمی جمائی حکومت کے خلاف اٹھنے میں بھگتنے پڑیں، ان کاخطرہ مول لے کر بھی انھیں اس انقلاب کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کوشش کا جوانجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ مگر امام نے اس عظیم خطرے میں کود کر اور مردانہ وار اس کے نتائج کو انگیز کرکے جوبات ثابت کی وہ یہ تھی کہ اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات اُمت مسلمہ کا وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں، جسے بچانے کے لیے ایک مومن اپنا سربھی دے دے اور اپنے بال بچوں کو بھی کٹوا بیٹھے تو اس مقصد کے مقابلے میں یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے، اور ان خصوصیات کے مقابلے میں وہ دوسرے تغیرات جنھیں اوپر نمبروار گنایا گیاہے، دین اور ملت کے لیے وہ آفتِ عظمیٰ ہیں جسے روکنے کے لیے ایک مومن کو اگر اپنا سب کچھ قربان کردینا پڑے تو اس میں دریغ نہ کرناچاہیے۔
کسی کا جی چاہے تو اسے حقارت کے ساتھ ایک سیاسی کام کہہ لے، مگر حسینؓ ابن علیؓ کی نگاہ میں تو یہ سراسر ایک دینی کام تھا، اسی لیے انھوںنے اس کام میں جان دینے کو شہادت سمجھ کر جان دی۔
بلاشبہ ۷مئی ۲۰۲۵ء کی پاک انڈیا جنگ کے بعد پوری قوم یکجاہو گئی ہے۔ ہر سطح پر یہ نظر آیا کہ عوام سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور سارے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر لوگوں نے پاکستان کی سالمیت کےلیے دینی جذبے سے سرشار ہو کر افواج پاکستان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔
طویل عرصے سے پاکستان میں یہ صورتِ حال رہی ہے کہ لوگ منقسم نظر آتے ہیں۔ علاقائیت، قوم پرستی، مسلک پرستی اور سیاسی تقسیم کے مظاہر بہت نمایاں طور پر مشاہدے میں آتے رہے ہیں، اور اسی بنیاد پر پاکستان کے حال اور مستقبل سے مایوسی کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔ مگر اس بیرونی جارحیت کے نتیجے میں پوری قوم متحد ہوئی ہے، جو اپنی جگہ بڑا قابلِ قدر پہلو ہے۔
پاکستان کے وجود اور ترقی کےلیے بنیادی قوت اسلام ہی ہے۔ ایک چیز جو پاکستان کو اور پاکستان کے ۲۵ کروڑ عوام کو جوڑ سکتی ہے وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ افواج پاکستان بھی اسلام اور جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت کے حوالے سے سامنے آتی ہیں تو لوگ اُن سے جڑتے ہیں اور اگر کوئی ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ لگاتا ہے، جو بظاہر ’پاکستانیت‘ ہے، لیکن درحقیقت جب وہ نعرہ امریکا نوازی کے موسم اور اسی مہم کی توسیع میں لگایا گیا، تو اس پر قوم منقسم تھی، متحد نہیں تھی۔ ہم نے دیکھا کہ ۲۰۰۱ء سے جو جنگ امریکا کے کہنے پر لڑی گئی، اس میں لوگ اپنی ہی فوج سے دُور یا لاتعلق رہے، اور ساتھ نہیں دیا،لیکن جب جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت کو سامنے رکھ کر اور دشمن کو ٹھیک طریقے سے متعین کیا گیا کہ ہمارا حقیقی دشمن کون ہے؟ اور فوج بھی اسلام کے جذبۂ جہاد سے سرشار ہوکر بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ کی طرح سیسہ پلائی دیوار میں ڈھل گئی، تو پوری قوم بھی متحد ہوگئی۔
ابھی تین چار سال پہلے تک یہ کہا جاتا تھا کہ ’’قوم منتشر ہے‘‘، مگر آج جب قیادت نے یکسوئی دکھائی تو پوری قوم متحد ہو گئی۔ دشمن کے ۸۰ سے زائد ڈرون مار گرائے گئے اور وہ طیارے جو ناقابلِ شکست سمجھے جاتے تھے، تباہ کر دیے گئے۔ انڈیا کا گھمنڈ، جو برسوں سے بڑھتا جا رہا تھا، الحمدللہ اب زمین بوس ہوا۔
انڈیا جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا، وہ پاکستان کے مؤثر دفاع، اتحاد اور جذبۂ ایمان کے سامنے ٹھیر نہیں سکا۔ دشمن نے تکبر کیا، پاکستان نے تدبر سے جواب دیا۔فرانس سے خریدے گئے رافیل طیارے گرے، روس سے لی گئی دفاعی ٹکنالوجی تباہ ہوئی، اسرائیل سے لیے گئے ڈرون خاک میں ملے۔ جسے طاقت ور سمجھا جاتا تھا، وہ پاکستان سے شکست کھا گیا۔ وہ حالات کہ جن میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی پھیل رہی تھی اور جگہ جگہ ایسے مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے، جیسے بغاوت کے آثار نمودار ہورہے ہوں۔لیکن بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان کی فتح نے قوم کو پھر سے متحد اور یکجا کر دیا ہے۔
گویا اسلام ہی واحد قوت ہے، جو پوری پاکستانی قوم کو متحد کرسکتی ہے۔ یہ بات تو خود پاکستان کے وجود کا حصہ ہے۔ پاکستان تو بنا ہی اس بنیاد پر ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے اور دو قومی نظریہ ہماری اساس ہے۔ ہندوؤں سے ہماری کوئی نسلی دشمنی نہیں ہے۔ ان کا عقیدہ الگ ہے، ان کا طرزِ زندگی الگ ہے، ان کی بودو باش الگ ہے، اور اس کی بنیاد پر ان کا معاشرہ الگ ہے، اور مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں۔ اگرچہ ملک میں بلوچ اور پختون بھی ہیں، پنجابی، سندھی اور مہاجر بھی ہیں، ہرزبان اور ہرعلاقے کے رہنے والے ہیں، لیکن ہم لاالٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک امت ہیں۔ لہٰذا نظریۂ پاکستان ہی وہ قوت ہے جو ہمیں جوڑ سکتا ہے۔ اب بھی اس نے ہمیں جوڑا ہے ، آئندہ بھی یہی چیز جوڑے گی۔ یہ تاریخ کا ایک سبق ہے ، اس کو ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیے۔
جب انڈیا کو شرمناک جارحیت کے بعد جوابی کارروائی کے نتیجے میں شکست اور ذلّت کا سامنا ہوا تو اس نے امریکا سے مداخلت کی درخواست کی۔ انڈیا کے کہنے پر امریکی صدر ٹرمپ نے مداخلت کی اور جنگ بندی کروائی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ جب انڈیا پٹنے لگتا ہے تو دوڑا دوڑا اقوام متحدہ چلا جاتا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں بھی یہی ہوا تھا کہ جموں و کشمیر میں اس کو شکست ہو رہی تھی اور مجاہدین سری نگر تک پہنچ گئے تھے۔ آج جو گلگت، بلتستان، آزاد کشمیر ہے، یہ بھی جذبۂ جہاد کے نتیجے میں آزاد کرایا گیا ہے۔ اور جب انڈیا اقوام متحدہ میں گیا اور اس نے کسی طرح جنگ بندی کروائی، اور پوری دُنیا کے سامنے استصواب رائے کا وعدہ کیا ، مگر اس نے آج تک وہ وعدہ پورا نہیں کیا۔
جب پہلگام میں انڈیا نے ’فالس فلیگ آپریشن‘ کیا، اس وقت امریکی نائب صدر انڈیا کے دورے پر تھے۔ انھوں نے انڈیا کی حمایت میں بیان جاری کیا جیسے انڈیا کوئی بہت بڑی طاقت ہے اور اس کو امریکا کی سرپرستی حاصل ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ ٹکنالوجی میں بہت آگے ہے، اور ایک بڑی اور طاقت ور فوج رکھتا ہے۔
انڈیا نے اسی زعم میں ۷مئی ۲۰۲۵ء کو آدھی رات کے وقت پاکستان پر میزائل کے حملے کرکے جارحیت کا ارتکاب کیا۔ پاکستان نے بہت بالغ نظری سے، پوری جرأت ایمانی اور استقامت سے جب منہ توڑ جواب دیا تو اس کے نتائج پوری دُنیا کے سامنے روزِ روشن کی طرح واضح ہوئے۔ پاکستان نے انڈیا کی طرح شہری آبادی اور عبادت گاہوں کو نشانہ نہیں بنایا، بچوں اور عورتوں پر بم نہیں برسائے، بلکہ ان کی فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔پاکستان کی ریاست اور افواج نے جذباتی ہوکر فوری طور پر ایسی کوئی کارروائی نہیں کی جس سے افراتفری پھیلے بلکہ انتظار کیا، ٹارگٹ کو دیکھا اور بروقت نپی تلی کارروائی کی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ اللہ کے فضل و کرم سے وہ ایک قوت ہے۔ وہ صرف نام کی ایٹمی قوت نہیں ہے بلکہ اس کی فوجی طاقت اور جنگی مہارت بھی زبردست ہے ، جس میں پاک فضائیہ کی برتری بھی واضح اور تاریخ ساز ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایک ایٹمی قوت کے مسلط کردہ جنگی منصوبے کو پاکستان نے ہرمیدان میں شکست دی ہے۔
اب سفارتی محاذ پر جامع اور بھرپور انداز سے کام کی ضرورت ہے۔ پوری دُنیا پر واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف انڈیا کا غیرذمہ دارانہ رویہ ہے اور دوسری طرف پاکستان کا ذمہ دارانہ رویہ۔ ہم حملے کا جواب بھی دیتے ہیں تو پوری ذمہ داری کے ساتھ، مگر انڈیا ہمارے ڈیموں کو نشانہ بنارہا ہے، ہمارے بچوں کو نشانہ بنارہا ہے۔
انڈیا نے یکطرفہ طور پر’ سندھ طاس معاہدہ‘ معطل کرنے کا غیرقانونی اعلان کیا ہے۔ اس نے ’فالس فلیگ آپریشن‘ کیا ہے اور جب پاکستان نے غیرجانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تو اس سے انڈیا بھاگ گیا۔ اس لیے جب تک انڈیا اپنے غیرذمہ دارانہ اقدامات اور رویوں پر ندامت کا اظہار نہیں کرتا، اور سندھ طاس منصوبے کو معطل کرنے جیسے فیصلے کو واپس نہیں لیتا، امن کی ضمانت کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہوسکتا۔
پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ ہم ایک اچھے پڑوسی کی طرح انڈیا کے ساتھ رہنا چاہتے تھے۔ لیکن پہلے دن سے جو مسئلہ ہمیں پیش آیا وہ کشمیر ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بنیادی وجۂ تنازع کشمیر ہے۔ کشمیر میں انڈیا کی اس وقت بھی ۱۰ لاکھ ملٹری اور پیراملٹری فورسز موجود ہیں، ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ تعذیب خانوں میں نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،ان کے بنیادی حقوق سلب ہیں۔ ان کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش ہورہی ہے۔ مگر حکومت پاکستان کی طرف سے وہ کردار ادا نہیں کیا جارہا جو کرنا چاہیے۔
ہمیں اس بات پر افسوس ہے کہ انڈیا نے جب آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو ختم کیا تھا۔ اس وقت پاکستان کی حکومت اور اس کے آرمی چیف نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، بلکہ مایوسی کی باتیں کی جارہی تھیں، بزدلانہ باتیں پھیلائی جارہی تھیں۔ پھر دیکھیے کہ اس کے نتیجے میں ہمیں کیا حاصل ہوا؟ اس کے برعکس آج اگر ہم نے ہمت دکھائی، جرأت و استقامت کا مظاہرہ کیا، قومی غیرت اور حمیت کی بات کی، فورسز بھی کھڑی ہو گئیں اور پوری قوم بھی کھڑی ہوگئی، تو اس پورے عمل کے نتیجے میں پوری قوم یک جان بھی ہوگئی اور کشمیر کا مسئلہ ایک حقیقی مسئلہ بن کر عالمی سطح پر اُجاگر ہوگیا ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اصل مسئلہ تو کشمیر ہے اور اسے ہرصورت میں حل ہونا چاہیے۔ یہ معاملہ عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی منظورشدہ قراردادوں کے تحت حل کیا جائے، اور اس کے لیے سفارتی محاذ پر کامیابی ضروری ہے۔ لہٰذا اسے پوری قوم کا ایشو بننا چاہیے اور بھرپور سفارت کاری کے ذریعے عالمی سطح پر اُجاگر کیا جانا چاہیے۔
بے شک مزاحمت زندگی ہے۔ اسی میں نجات اور عزّت و توقیر ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلسطینیوں کی مزاحمت ،انھیں پوری دنیا میں سرخرو کر رہی ہے۔ فلسطینی تو پہلے بھی شہید ہو رہے تھے ، ۱۰۰ سال سے شہید کیے جارہے تھے، مگر اس مرتبہ تو حد ہوگئی ہے، لیکن ان کی مزاحمت نے پوری دنیا میں ان کے ہمدرد پیدا کر دیے ہیں۔ ’حماس‘ جس کے خلاف دہشت گردی کا لیبل لگایا گیا ، اس سے امریکا بھی مذاکرات کر رہا ہے اور اسرائیل کو بھی کرنا پڑ رہے ہیں۔ حماس نے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ آج مغربی ممالک میں فلسطینیوں کے لیے جتنے سروے آرہےہیں، ان کے مطابق خود ’حماس‘ سے ہمدردی ۵۰ فی صد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ افراد کے لحاظ سے ایک چھوٹی سی طاقت، جب مزاحمت کا راستہ اختیار کرتی ہے، حق اور سچ پر کھڑی ہوجاتی ہے، قربانیاں دیتی ہے، تو وہ پوری دنیا میں اپنے ہمدرد پیدا کر لیتی ہے اور بالآخر طاغوتی قوتوں کو جھکنا پڑتا ہے۔
مزاحمت میں زندگی کا یہ تاریخی سبق موجود ہے۔ ہم اندھی جنگ نہیں لڑنا چاہتے۔ بحیثیت قوم ہم تو کسی سے بھی تصادم نہیں چاہتے، لیکن ہم اپنی آزادی اور خودمختاری اور قومی وقار کا سودا بھی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا جب ہم نے بھارتی جارحیت کے خلاف ردعمل دیا ہے اور صحیح طریقے سے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، تو پوری دنیا میں ہماری عزّت و وقار میں اضافہ ہوا ۔
اسلام ہماری بنیاد ہے اور پاکستان محض ایک جغرافیے کا نام نہیں ہے۔ پاکستان ایک نظریے اور عقیدے کا نام ہے۔ پاکستان کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے خون کا دریا عبور کیا تھا۔ علامہ اقبال ؒنے محض خواب نہیں دیکھا تھا بلکہ ایک زندہ تصور دیا تھا۔ قائد اعظم ؒ کی قیادت بے داغ تھی۔ وہ سچے اور مخلص انسان تھے ، پوری قوم ان کی قیادت میں یکجا ہوگئی تھی۔ اس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے پاس قائداعظمؒ اور اُن کے جانثار ساتھیوں کے پاس جو مدلل لٹریچر تھا جسے نوجوان اور طلبہ گلی گلی، اور قریہ قریہ جا کر تقسیم کرتے تھے اور مسلمانوں کو قیامِ پاکستان کے لیے ترغیب دیتے تھے، تو وہ دو قومی نظریے پر مشتمل مسئلہ قومیت تھا، جو سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے لکھا تھا۔ مولانا مودودیؒ نے لوگوں کو علم اور تجزیے کے اعتبار سے، اور تاریخ کے حوالوں سے، یہ بات سمجھائی کہ مسلمان کسی رنگ اور نسل کی بنیاد پر قوم نہیں ہیں بلکہ وہ ایک عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر اُمت ہیں اور ان کی اپنی تہذیب ہے، ان کی اپنی ثقافت اور کلچر ہے۔
پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کبھی معاندانہ رویہ اختیار نہیں کیا گیا، اور یہ سب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کا نتیجہ ہے۔ اور اگر کہیں، کبھی کوئی افسوسناک واقعہ سامنے آیا، تو پوری قوم نے اس کی مذمت کی، کبھی حکومت نے اور انتظامیہ نے اس کی سرپرستی نہیں کی۔ دوسری طرف انڈیا ہے جو اپنے آپ کو دُنیا کی بڑ ی اور ایک سیکولر جمہوریت کہتا ہے، وہاں آر ایس ایس اور بی جے پی ’ہندوتوا‘ کے پرچم تلے ریاستی اور حکومتی فسطائیت کا دن رات مظاہرہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے زندگی اجیرن ہے، مسیحیوں کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں اور سکھ قیادت کو چُن چُن کر قتل کیا جارہا ہے۔ کسی نہ کسی صورت میں اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا گیا ہے۔ ’اوقاف‘ کو سلب کرنے کی موجودہ قانون سازی نے بدترین برہمنی درندگی کا دروازہ کھول دیا ہے، جس کے متاثرین مسلمان، مسیحی، سکھ، جین اور بدھ مت کے پیروکار ہیں۔
اس جنگ کے نتیجے میں درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے:
جماعت اسلامی میں اور دوسری پارٹیوں میں یہی بنیادی فرق ہے۔ جماعت اسلامی کا حکومت سے اختلاف بلکہ شدید اختلاف بھی ہوتا ہے ، حکومت سے مطالبہ اور احتجاج بھی ہوتا ہے اور آئینی بالادستی کی جدوجہد بھی ہوتی ہے، مگر اس بنیاد پر ملک کی مخالفت کے خیال کی رمق پیدا نہیں ہوسکتی۔ مولانا مودودیؒ ۱۹۴۸ء اور ۱۹۵۳ء میں گرفتار ہوئے، اور ۱۹۶۴ء میں جماعت اسلامی پر پابندی لگادی گئی اور مرکزی مجلس شوریٰ سمیت ساری قیادت کو گرفتار کرلیا گیا۔ آمروں کے مقابلے میں کھڑے رہے، ڈکٹیٹروں کا مقابلہ کیا، لیکن جب ملک کی سالمیت کا معاملہ پیش آیا تو جماعت اسلامی نے حکومت سے تعاون کیا۔اگر اتفاق اور اختلاف اصولی بنیادوں پر ہو اور اصولی بنیادوں پر سیاست کی جائے تو روایات و اقدار فروغ پاتی ہیں اور ملک مستحکم ہوتا ہے۔ اگرشخصی بنیاد پر اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر اتفاق یا اختلاف کیا جائے تو یہ خطرناک رجحان ہے۔ اس کے نتیجے میں قومیں برباد ہو جاتی ہیں۔
پاکستان پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے امید کا چراغ ہے۔ حالیہ پاک انڈیا جنگ کے مثبت نتائج سے نہ صرف ملکی وقار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پاکستان کا عالمی کردار بھی اُجاگر ہوا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تحریک پاکستان کے جذبے کو دوبارہ زندہ کریں اور ہرسطح پر، ہر میدان میں پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست بنانے کی کوشش کریں۔