مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۲۴

 جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

برطانوی جمہوری طرزِ حکومت میں اکثر یتی آبا دی کے نمائندوں کو حکومت سازی کا حق دیا گیا ہے۔ جن ممالک میں اکثریتی رائے کے برعکس ’ملاوٹی جمہوریت‘ کا نظام نافذ ہے، وہاں اقلیتوں کی آبادی مسلسل دبائو میں رہتی ہے، اور اکثریتی آبادی ہی قیادت کرتی ہے۔

ہندوستان میں بھی اکثریتی سسٹم کے تحت انتخابات منعقد کرائے جاتے ہیں اور حکومت سازی کی جاتی ہے۔ مگر انڈیا میں جمہوریت کی یہ دیوی جموں و کشمیر کی سرحد کو پار نہیں کر پاتی؟ فی الوقت جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات میں اَن گنت اقدامات کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ ان انتخابات میں علامہ اقبال کے مذکورہ بالا شعر کی تفسیر پر عمل ہو اور بندوں کو گننے کے بجائے تولا جائے۔ پلڑے میں مسلم آبادی کو ہلکا رکھنے کے پورے سامان کیے گئے ہیں، تاکہ ان انتخابات کے ذریعے وجود میں آنے والی اسمبلی خطے کی اکثریتی آبادی کی نمائندگی نہ کرسکے۔

اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ یہاں کی اکثریتی آباد ی مسلمان ہے۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر میں مسلم آبادی ۶۸ء۳ فی صد اور ہندوؤں کی ۲۸ء۲ فی صد ہے۔مگر ۲۰۲۲ء کے حد بندی کمیشن نے مسلم اکثریتی وادیٔ کشمیر جہاں ریاست کی ۵۶ء۱۵ فی صد آبادی رہتی ہے، کے حصے میں اسمبلی کی ۴۷ نشستیں اورہندو اکثریتی جموں کی ۴۳ء۸۵فی صد آبادی کو ۴۳ نشستیں دے دیں۔

یہ حد بندی تو خود ہی ووٹروں کی مساوات کے بنیادی جمہوری اصول کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ریاست کے سابق وزیر خزانہ حسیب درابو کا کہنا ہے کہ ’’وادیٔ کشمیر کا ایک ووٹر جموں خطے کے ۰ء۸ ووٹروں کے برابر کر دیا گیا ہے۔ یہ انتخابی عصبیت نہیں تو کیا ہے؟‘‘

پھر جموں ڈویژن کے ہندو بیلٹ کی سیٹوں کی تعداد ۲۵ سے بڑھا کر ۳۱ کر دی گئی، تاکہ اقلیتی آبادی کی نمائندگی میں مزید اضافہ ہو۔اگر یہ جمہوریت ہے، تو یہ فارمولا ملک کے دیگر علاقوں میں بھی لاگو کرنا چاہیے، تاکہ جمہوری اداروں میں وہاں کی اقلیتوں کو بھی متناسب نمائندگی مل سکے۔

اس ۹۰ رکنی اسمبلی میں اب ۲۸ فی صد ہندو آبادی کو ۳۴ء۴۴فی صد نشستیں حاصل ہوجائیں گی۔جموں ڈویژن میں اگرچہ ہندو اکثریت میں ہیں، مگر مسلمانوں کی آبادی بھی ۳۴ء۲۱ فی صد ہے۔غیرمنصفانہ حد بندی کے ذریعے اس علاقے کے مسلم اکثریتی حلقوں کو ۱۲ سے کم کرکے اب ۹کر دیا گیا ہے۔ اسمبلی میں اس خطے کی مسلم نمائندگی ۴۳ فی صد سے کم ہو کر ۳۹ فی صد ہوجائے گی۔پچھلی اسمبلی میں جموں کی کل ۳۷  سیٹوں میں سے ۱۲ مسلم اکثریتی نشستیں تھیں۔

جموں میں، نئے ہندو اکثریتی حلقے بنائے گئے، جیسے کہ پاڈر جس کی آبادی صرف ۵۰ہزار ہے، اسمبلی کا ایک حلقہ ہے، جب کہ اس سے تین گنا زیادہ مسلم علاقوں، جیسے پونچھ ضلع میں سورنکوٹ، کو اسمبلی میں جگہ نہیں دی گئی ہے۔ جموں کے پونچھ اور راجوری کے مسلم اکثریتی اضلاع کو کشمیر کے اننت ناگ کے لوک سبھا حلقہ میں شامل کیا گیا ہے۔ادھم پور حلقہ کا ایک گاؤں جاکھایان، جہاں دلت آبادی ۹۲ء۸ فی صد ہے، بی جے پی کے لیے درد سر بنا ہوا تھا، جہاں اس کے اُمیدوار کو ووٹ نہیں ملتے تھے۔ اسے اب سزا کے بطور چینانی کے ساتھ ملایا گیا ہے۔

۲۰۱۴ء میں راجوری سے بی جے پی کا امیدوار ۲ء۸۶ فی صد کے فرق سے ہار گیا تھا۔ راجوری میں مسلمان ۷۰ فی صد اور ہندو ۲۸ فی صد ہیں۔ کمیشن کی جانبداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سیٹ سے سوہنا تحصیل کو الگ کرکے تھانہ منڈی میں شامل کیا گیا۔ سوہنا میں ۹۱ فی صد مسلمان آبادی تھی، جس کی وجہ سے راجوری کی سیٹ بی جے پی کے لیے نکالنا مشکل ہوتا تھا۔ جموں پارلیمانی حلقے کے راجوری اور پونچھ، جو مسلم اکثریتی علاقے ہیں، اکثر بی جے پی کے امیدوار کے لیے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوتے تھے۔

انتخابات کے بعد گورنر منوج سنہا نے پانچ اراکین کو نامزد کرنا ہے، جس سے اسمبلی اراکین کی تعداد ۹۰ سے بڑھ کر ۹۵ ہو جائے گی۔ یہ اراکین دو خواتین، دوکشمیری پنڈت اور ایک رکن ۱۹۴۷ء میں پاکستان سے آنے والوں میں سے ہوگا۔ گویا یہ بھی ہندو ہی ہوں گے۔ نامزد ممبران ہوتے ہوئے بھی ان کو ووٹنگ کا حق حاصل ہوگا۔ اس طرح ایک مخصوص کمیونٹی کو غیر متناسب طور پر فائدہ پہنچانے اور اکثریتی آبادی کو بے اختیار اور لاچار بنانے کی واضح کوششیں کی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ۹۵ رکنی اسمبلی میں اقلیتی آبادی کو ۳۹ نشستیں مل سکتی ہیں، جب کہ ان کاجائز حق ۲۹نشستوں کا بنتا ہے۔

چونکہ مسلم آبادی کے ہی نمائندے کے وزیر اعلیٰ بننے کے امکانات ہیں، اس لیے گورنر کو قبل از انتخاب ہی مزید اختیارات دیے گئے، تاکہ منتخب حکومت برسرِاقتدار آتی بھی ہے، تو وہ لاچار اور بے بس ہو۔ اس حکم نامہ کی رُو سے پولیس، بیوروکریسی، اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر کی خدمات پر لیفٹیننٹ گورنرکا کنٹرول ہوگا۔تقرریوں اور تقرر سے متعلق تمام امور کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری لینی ہوگی اور اس کے فیصلوں پر وزراء کی کونسل نظرثانی نہیں کر سکے گی۔

لیفٹیننٹ گورنر کے نمائندے کو کابینہ کے تمام اجلاسوں میں شرکت کا پابند بنایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ وزراء کی طے شدہ میٹنگوں کے ایجنڈے کو کم از کم دو دن پہلے گورنر کے دفتر میں جمع کرانا ہوگا۔یعنی وزراء اپنی مرضی سے کسی سے مل بھی نہیں سکیں گے۔

ہندو بیلٹ میں نقصان کے اندیشہ کے پیش نظر اب بی جے پی کی نگاہیں، جموں کی مسلم بیلٹ یعنی راجوری اور پونچھ پرلگی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں پہاڑی بولنے والی آبادی کو شیڈیولڈ ٹرائب کا درجہ دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور نوکریوں میں نشستیں مخصوص ہوجائیں گی۔ مگر اس سے گوجر،بکروال برادری جو ’مشمولہ قبائل فہرست‘ ہونے کا فائدہ اٹھاتے تھے، ناراض ہو گئے ہیں۔

جس طرح نیشنل کانفرنس نے اکیلے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اس نے کشمیر کو گرداب سے نکالنے کے اس کے عزم پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ وقت تھا کہ کشمیر کی سبھی پارٹیاں چاہے وہ نیشنل کانفرنس ہو یا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا کوئی اور، ایک ساتھ انتخابی میدان میں اُترتیں۔مگر نیشنل کانفرنس کے مغرور لیڈروں نے ہمیشہ ہی نازک مرحلوں پر غلط فیصلے کیے ہیں، یہ فیصلہ بھی اسی زمرے میں تاریخ میں گنا جائے گا۔

عوامی اتحاد پارٹی کے لیڈر انجینئر شیخ عبدالرشید نے نیشنل کانفرنس اور سجاد غنی لون کی پیپلزکانفرنس کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ انجینئر رشید کی جماعت عوامی اتحاد پارٹی قیدیوں کی رہائی، مسئلہ کشمیر کا حل، پاکستان کے ساتھ بات چیت اور انڈین آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ کی بحالی کاوعدہ کرکے عوام کو لبھا رہی ہے۔ وہ ’ظلم کا بدلہ ووٹ سے‘ اور ’یہ ملک ہمارا ہے، اس کا فیصلہ ہم کریں گے‘ وغیرہ کے نعرے بلند کررہے ہیں۔

بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی جیسی روایتی جماعتوں کی مہم کے مقابلے میں انجینئر رشید کی مہم کو نہ صرف زمینی سطح پر بھاری عوامی تائید حاصل رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اُن ہی کی باتیں وائرل ہوئی ہیں۔ کیونکہ ان کے انتخابی نعروں میں ’ظلم، قید و بند، اظہار رائے پر قدغن، ناانصافی اور مسئلہ کشمیر کے حل‘ کی گونج سنائی دے رہی ہے، جو کشمیری طویل عرصے بعد سن رہے ہیں۔

انجینئر رشید نے حیران کن طور پر جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر لیا۔ جو گو کہ غیرقانونی تنظیم ہے، مگر اس کے چند اراکین بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ جماعت اسلامی نے آخری بار ۱۹۸۷ء میں الیکشن لڑا تھا، اور عسکری جدوجہد شروع ہوتے ہی انتخابات کا بائیکاٹ کرتی آرہی ہے۔حیرت کی بات ہے کہ عمر عبد اللہ سمیت روایتی پارٹیوں نے انجینئر رشید کو بی جے پی کی پراکسی قرار دیا ہے، جو ان کے ووٹ کاٹنے کی سعی کر رہا ہے۔ مگر سوال ہے کہ آخر عمر عبداللہ نے ۲۰۱۹ء میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے بنائے گئے اتحاد سے کیوں کنارہ کشی کی؟ اور پھر جو ایجنڈا لےکر انجینئر رشید میدان میں آئے ہیں، اس کو اپنانے میں عمر عبداللہ کو کیا چیز روک رہی ہے؟

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات کے بعد کشمیر میں خصوصاً پچھلے پانچ سال سے چھائی سیاسی گھٹن کو کم کیا جاسکتا ہے؟ کیا عام کشمیری کو اس گھٹن سے نجات ملے گی، یا پھر یہ چند سانسیں لینے کی ہی آزادی ہوگی؟

’خوراک کے حق‘ سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ مائیکل فخری نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اسرائیل کو قصوروار ٹھہرایا ہے کہ اس کی جانب سے بھوک اور قحط کو فلسطینیوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، تا کہ ان کو مٹا کر فلسطینی زمین پر قبضہ کیا جاسکے‘‘۔ یہ دستاویز ثابت کرتی ہے کہ صہیونی ریاست، فلسطینیوں کی نسل کشی پر کمربستہ ہے اور عالمی استعماری طاقتیں اس جرم میں اسرائیل کی پوری طرح پشت پناہ ہیں، جس کی مثال دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے نہیں دیکھی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس ہوش ربا رپورٹ کے مطابق: ’’اسرائیل کی جانب سے یہ سوچی سمجھی مہم چلائی جا رہی ہے کہ غزہ کی ۲۳لاکھ آبادی اور مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں کو بھوکا پیاسا رکھ کر قتل کر دیا جائے‘‘ ۔

مائیکل فخری کے مطابق: ’’اسرائیل نے غزہ کے ہر شہری کو بھوکوں مارنے کا اپنا منصوبہ چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ سب کے سامنے اس منصوبے پر عملدرآمد ہوا اور پورے غزہ میں قحط کی سی صورت حال پیدا کی گئی۔ جغرافیائی طور پر قحط کے پھیلاؤ اور اسرائیلی ذمہ داروں کے بیانات کو ملا کر دیکھا جائے تو اسرائیلی عزائم بالکل واضح ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے پورے غزہ کا محاصرہ کیا گیا جس نے یہاں تمام فلسطینیوں کو کمزور کیا۔ اس کے بعد شمال کے لوگوں پر قحط مسلط کیا گیا تا کہ انھیں نقصان پہنچایا جائے، جان سے مار دیا جائے یا جنوب کی طرف نقل مکانی پر مجبور کردیا جائے۔ نتیجتاً جنوب میں جو مہاجر کیمپ بنے وہاں لوگوں کو بھوکا رکھ کر یا بمباری کے ذریعے قتل کیا گیا‘‘۔

فخری کا کہنا تھا کہ ’’غزہ میں جتنے لوگ بھوک ، غذائی قلت اور بیماری سے مر رہے ہیں اتنے گولہ بارود سے بھی نہیں مر رہے۔‘‘ اس بیان کی تائید جولائی میں ’دی لینسٹ‘ (The Lancet) میں مطبوعہ اعداد وشمار سے بھی ہوتی ہے، جس کے مطابق اسرائیلی حملے میں اب تک ایک لاکھ ۸۶ ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد فلسطینی اعداد و شمار یعنی ۴۱ہزار سے کہیں زیادہ ہے۔

نازی جرمنی کے ہاتھوں یورپی یہودیوں کی نسل کشی کے ردعمل میں ۱۹۴۸ء کے منظور شدہ کنونشن برائے انسداد نسل کشی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ رپورٹ کہتی ہے:’’نمائندہ خصوصی اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ کس طرح اسرائیل نے قحط کو فلسطینی شہریوں کی کلّی یا جزوی تباہی کے لیے استعمال کیا ہے۔اول، انھیں سنگین جسمانی اور ذہنی ایذاء پہنچا کر۔دوئم، فلسطینیوں کے لیے سوچےسمجھے طریقے سے ایسے حالاتِ زندگی پیدا کر کے جو بالآخر ان کی مکمل یا جزوی تباہی کا باعث بنیں گے‘‘۔

اس رپورٹ میں شریکِ جرم قوتوں کا ذکر ہے: ’’بیرونی ریاستیں اور کمپنیاں عمومی طور پر  قحط مسلط کرنے والوں کا ساتھ دیتی ہیں۔ مثلاً یہ بیرونی استعماری ریاستیں اور کمپنیاں نہ صرف غزہ میں قحط اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے اسرائیل کو غیر قانونی طور پر اسلحہ فراہم کر رہی ہیں بلکہ فلسطین میں پانی اور خوراک کے نظام کی تباہی اور فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضے میں یہ کمپنیاں معاونت کر رہی ہیں‘‘۔

ان جنگی جرائم کے لیے امریکا اور اس کے یورپی اتحادی ممالک کی سیاسی قیادت کو بھی  نیتن یاہو کے ساتھ کٹہرے میں کھڑا کرنا ضروری ہے۔ فخری کے مطابق: ’’۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء سے پہلے غزہ کی تقریباً آدھی آبادی غذائی قلت کا شکار تھی اور ۸۰ فی صد سے زیادہ لوگوں کا گزارہ بیرونی امداد پر تھا۔ اس افلاس میں اسرائیلی محاصرے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔اسرائیل کی جانب سے باربار دیے جانے والے غیر انسانی بیانات اور غزہ کی مکمل تباہی کی خواہش نے یہاں قحط مسلط کرنے کی اسرائیلی کوششوں پر مشتمل فردِ جرم میں درکار دونوں شرائط یعنی ’جرم کی نیت‘ اور ’جرم کا ارتکاب‘ پوری کر دی ہیں۔ چنانچہ کنونشن برائے انسداد نسل کشی ۱۹۴۸ء کے مطابق دیگر ریاستیں انسانیت کے خلاف اس جرم کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں‘‘۔

تاہم، واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادی نہ صرف ذمہ داری سے مفرور ہیں بلکہ انھوں نے اسرائیل کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی مزید تیز رکھی۔ اندرون ملک اس نسل کشی کی مخالفت اور استعماری قوتوں کی شمولیت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ریاستی سطح پر جبر کا نشانہ بنایا گیا اور ہر طرح سے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔

امریکی اور یورپی، فخری کی رپورٹ پر دم بخود ہیں۔ ہر طرف پھیلی بھوک، مہلک بیماریوں اور علاج معالجے کی ناپید سہولیات کا ذکر اگر ہوتا بھی ہے تو یوں کہ فلسطینیوں کو یہ عظیم بحران اس لیے درپیش ہے کہ اسرائیل، حماس کے خلاف ’اپنے دفاع‘ کی جنگ لڑرہا ہے۔

یہ رپورٹ اس لغو موقف کو بھی رَد کرتی ہے :’’آج دنیا میں انسانی آبادی کی ضرورت سے ڈیڑھ گنا زیادہ خوراک پیدا ہوتی ہے، لیکن پھر بھی قحط، غذائی قلت اور بھوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھوک اور قحط کبھی خوراک کی قلت سے جنم نہیں لیتے، بلکہ خوراک تک رسائی میں رکاوٹ بننے والے عوامل ان کا سبب بنتے ہیں۔ اکثر قحط جنگ، معاشی اُتار یا خشک سالی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تمام عوامل دراصل ظلم اور ناانصافی پر مبنی سماجی نظام سے جنم لیتے ہیں۔ چنانچہ طاقت کے ارتکاز اور غذائی نظام میں احتسابی عمل کی غیر موجودگی سے قحط کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چنانچہ قحط کو ہمیشہ ایک خود غرضی پر مبنی سیاسی مسئلہ سمجھنا چاہیے۔

اسرائیل اور استعماری اتحادیوں کی جانب سے غزہ میں قحط کا باعث بننے والے ’اقدامات‘ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے جرائم سے مشابہ ہیں جن میں باقاعدہ منصوبے کے تحت جرمنوں کے لیے سوویت شہریوں سے خوراک چھینی جاتی تھی، تا کہ بڑی تعداد میں سوویت آبادی کو ختم کرکے مشرق میں اپنے لیے وہ زمین حاصل کی جا سکے، جو جرمن قوم کی ’ترقی‘ کے لیے ضروری ہے۔ نازی جنگ کا نشانہ بننے والے۲کروڑ ۷۰ لاکھ سوویت شہریوں کی ہلاکت میں اس منصوبے کا بھی بڑا حصہ ہے۔

آٹھ عشروں بعد صہیونی ’عظیم اسرائیل‘ کے لیے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یہی سلوک کررہے ہیں۔ استعماری قوتیں اس قتل عام میں شریک ہیں۔ واشنگٹن، برلن، پیرس اور لندن کی جانب سے اپنے معاشی اور جیو اسٹرے ٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے مسلط کی جانے والی اس جنگ میں غزہ صرف ایک محاذ کا نام ہے۔ یہ ممالک اس جنگ میں ’مقصد‘ پانے کے لیے کسی بھی حد تک گرنے کو تیار ہیں۔

  اگر آپ بوسنیا کو نہیں سمجھتے تو آپ غزہ کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے مسلمان پہلے بوسنیا کو سمجھیں، تاکہ غزہ کو سمجھ سکیں۔ لہٰذا غزہ کو اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے مکمل مضمون پڑھیں۔

غزہ اور فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر حیران نہ ہوں۔ بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف سربوں نے جو تباہی کی جنگ چھیڑی، اس میں ۳۰۰ ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ ۶۰ ہزار عورتوں اور بچیوں کی عصمت دری کی گئی۔ ڈیڑھ لاکھ لاوارث ہوئے ۔ کیا ہم اس المیے کا کبھی ذکر کرتے ہیںیا ہم بھول گئے ہیں… یا آپ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے!! سی این این کی کرسٹیانا امان پور بوسنیا کی سالگرہ پر تبصرہ کرتی ہیں:

مسلمانوں کا قتل عام، محاصرہ اور فاقہ کشی مگر یورپ نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ ہولوکاسٹ تقریباً چار سال تک جاری رہا، جس کے دوران سربوں نے ۸۰۰سے زائد مساجد کو مسمار کر دیا، جن میں سے کچھ سولھویں صدی عیسوی کی تعمیرشدہ تھیں۔  سربوں نے سرائیوو کی تاریخی لائبریری کو جلا دیا۔ اقوام متحدہ نے مداخلت کی اور اسلامی شہروں جیسے کہ گورجدا، سریبرینیکا، زیبا کے داخلی راستوں پر دو دروازے لگا دیے، لیکن وہ محاصرے اور آگ کی زد میں تھے۔ سربوں نے ہزاروں مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں ڈالا، ان پر تشدد کیا، انھیں بھوکا مارا، یہاں تک کہ وہ ہڈیوں کا ڈھانچا اور بہت سی بیماریوں کا شکار ہوکر رہ گئے۔ جب سربیا کے ایک رہنما نے پوچھا: 'کیوں یہ ظلم کرتے ہو؟ تو اس نے جواب میں کہا: وہ سور کا گوشت نہیں کھاتے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے بوسنیا کے قتل عام کے دنوں میں ایک پورے صفحے کا نقشہ شائع کیا۔ جس میں عصمت دری کے مقامات دکھائے گئے تھے۔

مسلمان خواتین کے ساتھ سربوں نے ۱۷ بڑے کیمپوں میں جو کچھ کیا، اس کے ذکر سے قلم لرزتا ہے۔ _سربوں نے چھوٹی چھوٹی بچیوں تک کی عصمت دری کی۔ دی  گارڈین نے ایک بچی کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا: ’’وہ بچی جس کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہے‘‘۔ قصائی ملادک نے زیبا کے مسلمانوں کے لیڈر کو میٹنگ میں بلایا۔ اس نے اسے سگریٹ دیا، اس کے ساتھ تھوڑا ہنسا، پھر اس پر جھپٹا اور اسے ذبح کر دیا۔  لیکن سب سے مشہور جرم تو سریبرینیکا کا محاصرہ تھا۔ عالمی فوج کے سپاہی سربوں کے ساتھ جشن منا رہے تھے، رقص کر رہے تھے۔ کچھ مسلمان ان کے ساتھ مل کر کھانے کے لیے سودے بازی کر رہے تھے۔ _سربوں نے سریبرینیکا کا محاصرہ کر لیا۔ دو سال تک گولہ باری ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رُکی۔ _سرب، اس قصبے میں پہنچنے والی امداد کا ایک اہم حصہ اُڑا رہے تھے۔ پھر مغرب نے اسے بھیڑیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا: سریبرینیکا کی حفاظت کرنے والی ڈچ بٹالین نے سازش کی۔ سربوں نے مسلمانوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ حفاظت کے بدلے اپنے ہتھیار پھینک دیں۔مسلمان تھکن اور اذیت کے بعد دم توڑ رہے تھے۔

سربوں نے سریبرینیکا پر حملہ کیا، مردوں کو ان کی عورتوں سے الگ کر دیا۔ ۱۲۰۰ مرداور جوان الگ کیے، ان سب کو مار ڈالا۔ _سرب ایک مسلمان مرد کے اوپر کھڑا تھا اور اس کے چہرے پر سوراخ کر رہا تھا (نیوز ویک کی رپورٹ سے)۔ جہاں تک خواتین کا تعلق ہے، ان کی عزّت پر حملہ کیا گیا اور کچھ کو جلاکر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ قتل عام سریبرینیکا میں کئی دن تک جاری رہا۔  یہ جولائی ۱۹۹۵ء کا آخر تھا۔ یہ ہمارے بھائیوں کے خاتمے کی جنگ کا آخری باب تھا۔ ایک ماں نے سرب کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، وہ اس سے التجا کرتی ہے کہ اس کے بچے کو ذبح نہ کرے ، اور اس نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ، اور پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اس بچّے کی گردن کاٹ ڈالی۔ قتل عام ہرجگہ ہم دیکھ سکتے تھے۔ سریبرینیکا کے ذبح خانے کے بعد قصاب راڈووان کاراڈزک شہر کو فتح کرتا اور اعلان کرتا ہوا شہر میں داخل ہوا: ’’سریبرینیکا ہمیشہ سے سربیا رہا ہے اور اب واپس آگیا ہے‘‘۔ پھر سرب ہتھیاروں سے مسلح، مسلمان عورتوں کی عصمت دری کر رہے تھے۔ انھوں نے ان کو ۹ماہ تک بند رکھا جب تک کہ وہ ناجائز بچوں کو جنم نہ دے لیں۔ ایک سرب نے ایک مغربی اخبار کو بتایا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان خواتین سربیا کے بچوں (سربیائی بچوں) کو جنم دیں۔ یاد رکھیں بوسنیا، سرائیوو، بنجا لوکا، سریبرینیکا اور بلقان کو ہم نہیں بھولیں گے۔

بوسنیا میں قتل عام کے دوران، ایک فرانسیسی اخبار نے لکھا: بوسنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی تفصیلات سے یہ بات واضح ہے کہ صرف مسلمانوں کی ثقافت خوب صورت اور مہذب ہے۔ پرانے آرتھوڈوکس (بطرس غالی) کے عہدے، جو اس وقت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل تھے، انھوں نے کھل کر اپنے ساتھی سربوں کا ساتھ دیا۔ یہاں پر یہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ سرب مذہبی اسکالر ایک قدم آگے بڑھ کر مساجد کے اماموں، دانشوروں، تاجروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ وہ کہتے تھے: انھیں باندھ کر ذبح کر کے پھینک دیں گے۔ انھیں دریا میں ڈال دیں گے۔ اگر سرب کسی قصبے میں داخل ہوتے تو اس کی مسجد کو گرانا شروع کر دیتے۔

 ایک برطانوی اخبار نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کو اس جملے کے ساتھ بیان کیا: ’’بیسویں صدی میں یہ جنگ قرون وسطیٰ کے انداز میں چھیڑی گئی ہے..! میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اس ظلم کو بھول نہ جائیں، اور آنے والی نسلوں کو بھی یاد دلاتے رہیں۔ یہ پیغام ان لوگوں کے لیے ہے جو مغربی تہذیب اور جعلی انسانی حقوق سے مرعوب ہیں۔ تاریخ کی کہانیاں بچوں کو سونے کے لیے نہیں سنائی جاتیں، بلکہ یہ جگانے کے لیے سنائی جاتی ہیں۔

بھارتی فوج کے ایک سابق سربراہ جنرل سندر راجن پدمانابھن نے ۲۰۰۴ء میں دہلی میں اپنے ایک ناول کا اجراء کیا تھا۔ یہ ناولWritiing on the Wall پاکستان کے ساتھ ایک خیالی جنگ پر مبنی ہے، جس میں فوجیوں اور ٹینکوں کے بجائے سائنس دانوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت اور پوشیدہ ہتھیاروں کا استعمال کرکے مواصلاتی نظام میں خلل ڈال کر بھارت یہ جنگ جیت جاتا ہے۔ ناول کے اجرا ء کے وقت ان سے پوچھا گیا کہ ’’کیا اس طرح کے ہتھیار وجود میں آچکے ہیں‘‘؟ تو انھوں نے وضاحت کی کہ’’ یہ مصنف کا تخیل ہے، اس کو فوج کی تیاریوں کے ساتھ نہ جوڑا جائے‘‘۔

اسرائیلی سائنس دانوں کا ایک وفد ایک بار دہلی میں تھا، جہاں سفارت خانے نے چند صحافیوں کے ساتھ ان کی نشست رکھی تھی۔ بات چیت کے دوران وفد میں شامل ان میں ایک سائنس دان نے کہا کہ ’’جب بھی مارکیٹ میں کوئی سائنس فکشن آتا ہے، تو ان کا محکمہ اس کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ لیتا ہے اور معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کیا مصنف کے تخیل کو حقیقت میں ڈھالا جاسکتا ہے؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’سائنس دانوں کو سائنس فکشن لکھنے والے مصنّفین رچرڈ مورگن، السٹر ری نالڈس، (جن کے ناولوں کا مرکزی مو ضوع تھیوریٹیکل فزکس ہوتا ہے) اور اَن گنت دیگر مصنّفین کی نگارشات کو پڑھنے کی نہ صرف ترغیب دی جاتی ہے، بلکہ یہ بھی رپورٹ کرنا پڑتا ہے کہ کیا اس کو عملی رُوپ دیا جاسکتا ہے؟‘‘ یعنی ان اسرائیلی سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ ’’ہم جاسوسی تھرلرز کو بھی سنجیدگی سے لیتے ہیں‘‘۔

جنرل پدمانابھن کا تخیل اور اسرائیلی سائنس دانوں کے یہ دعوے اس وقت واقعی حقیقت میںتبدیل ہو گئے، جب لبنا ن کے طول و عرض سے خبریںآنا شروع ہوئیں کہ حزب اللہ کے مواصلاتی آلات ’پیجر‘ اور پھر بعد میں ’واکی ٹاکی‘ میں پے در پے دھماکے ہو رہے ہیں، جن سے پچاس کے قریب افراد ہلاک اور تقریباً ۳ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ موبائل نیٹ ورک کے استعمال کو ترک کرتے ہوئے حزب اللہ نے پیجر نیٹ ورک کو محفوظ مواصلاتی ذریعہ سمجھا تھا، کیونکہ ان کو ہیک کرنے کا کم خطرہ رہتا ہے مگر یہ پیجر خود ہی بم بن گئے ۔

حال ہی میں، حزب اللہ کو پیجرز کی ایک نئی کھیپ موصول ہوئی تھی۔خبروں کے مطابق اسرائیلی ایجنٹو ں نے سمندری جہاز کے ذریعے جانے والی پیجرز کی کھیپ تک رسائی حاصل کی تھی اور بیٹری کے ساتھ ہی اس میں چند گرام بارود رکھ کر ان کو دوبارہ بالکل اسی طرح پیک کر کے ان کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔ مگر ایک روز قبل حزب اللہ سے وابستہ کسی جنگجو کو دو پیجرز پر شک ہو گیا تھا، کہ ان کی پیکنگ کھولی گئی ہے۔ اس سے قبل کہ یہ تنظیم ان پیجرز پر مزید تحقیق کرکے ان کو کوڑے دان میں پھینک دیتی، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے آپریشن کی منظوری دے دی۔

فی الحال حزب اللہ کا محفوظ مواصلاتی نظام، جو حملوں کو مربوط کرنے اور جنگجوؤں کو متحرک کرنے کے لیے ضروری تھا، اس کی کمزوری بن گیا ہے جس کا اسرائیل نے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔  وہ نہ صرف بیروت بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں بمباری کر رہا ہے۔۲۴ستمبر کی دوپہر تک ۵۸۰ ؍افراد لبنان میں شہید ہوچکے ہیں، جن میں ۷۰ بچّے بھی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ جو کبھی نظم و ضبط اور ناقابل تسخیر کے طور پر دیکھی جاتی تھی، اسے ڈیجیٹل اشیا کے ذریعے ہی غیر محفوظ بنایا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ میزائلوں اور جدید اسلحہ سے لیس انتہائی محفوظ فوج کو ڈیجیٹل دور میں ایک تباہ کن خطرے میں ڈالا جاسکتا ہے۔

 اسرائیل کا یہ حملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف بموں اور گولیوں سے نہیں بلکہ ڈیٹا، الگورتھم اور سائبر حکمت عملی سے لڑی جا سکتی ہیں۔ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ حملہ ۲۱ویں صدی میں جنگ کے حوالے سے ایک اہم لمحہ ہے۔سائبر حملے اکثر پوشیدہ ہوتے ہیں، جس میں کوئی نشان، کوئی ملبہ اورگولہ بارود نہیں چھوڑا جاتا ہے۔یہ حملے مواصلاتی نیٹ ورکس، پاور گرڈز، مالیاتی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس سے یہ بھی سنگین اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں کس طرح روز مرہ استعمال کے آلات ہتھیار بن کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔

اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹرجنرل ریفیل فرانکو کے مطابق حزب اللہ کو اس شاک سے نکلنے میں کافی وقت لگے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اب ان کے جنگجو ہرپیجر اور موبائل فون کو شک کی نظر سے دیکھیں گے۔ اسرائیل نے فون اور دیگر آلات کو ہیک کرنے کی ٹکنالوجی کی خاطر خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔ یعنی آپ کے گھر پر روبوٹک جھاڑو کو بھی ہیک کرکے اس کو آپ کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ فرانکو کا کہنا ہے کہ: ’’اسرائیلی خفیہ تنظیم موساد نے حز ب اللہ کی سپلائی چین کا پتہ لگا لیا تھا کہ یہ پیجرز کسی شیل کمپنی سے خریدے گئے ہیں۔ ہم نے ہنگری میں بی اے سی کنسلٹنگ کا پتہ لگایا تھا جس نے ان پیجر ز کو سپلائی کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا۔ ایران جلد ہی حزب اللہ کو جدید مواصلاتی آلات بھیجے گا،مگر اس نئے نظام کو فعال ہونے میں مہینوں نہیں تو ہفتوں لگیں گے‘‘۔ اس لیے پچھلے چند دنوں میں اسرائیل نے لبنان پر شدید بمباری کی ہے۔

اس سائبر وار سے قطع نظر ماضی میں بھی اسرائیلی ایجنٹوں نے ایسے کئی غیر روایتی حملوں سے مخالفین کو ٹھکانے لگایا ہے۔ اسرائیل کی ایجنسی شن بیٹ نے ۱۹۹۶ء میں غزہ میں حماس کے رکن یحییٰ عیاش کو مارنے کے لیے خفیہ طور پر دھماکا خیز مواد سے لیس موبائل فون ان کے پاس پہنچایا۔ جب فون ان تک پہنچ گیا تو انھی کی آواز پر اس کو ریموٹ سے دھماکا کرکے اُڑا دیا گیا۔

یاد رہے ۱۹۹۷ء میں حماس کے لیڈر خالد مشعل کو قتل کرنے کے لیے موساد کے دو خفیہ ایجنٹوں نے ان کی گردن پر زہر چھڑکا تھا، مگر یہ منصوبہ ناکام ہوگیا اور یہ دونوں ایجنٹ پکڑے گئے۔ حماس کو ہتھیارفراہم کرنے والے محمود المبحوح ۲۰۱۰ء میں دبئی کے ہوٹل کے کمرے میں مُردہ پائے گئے تھے۔ اماراتی حکام نے ابتدائی طور پر اسے قدرتی موت قرار دیا تھا ، مگر بعد کی تحقیقات میں موساد کی ایک ہٹ ٹیم کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے پردہ فاش ہوا۔۲۰۱۰ء اور ۲۰۲۰ء کے درمیان، تقریباً نصف درجن ایرانی جوہری سائنس دان پُراسرار انداز سے ہلاک یا زخمی ہوئے۔ایران کے چیف جوہری سائنس دان محسن فخر زادہ کو ۲۰۲۰ء میں تہران کے مضافات میں ایک قافلے میں گاڑی چلاتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ کچھ ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے سیٹلائٹ سے کنٹرول کرنے والی سنائپر رائفل کا استعمال کیا۔ ایسا ہی عمل اسماعیل ہنیہ کے ساتھ برتا گیا۔

بنگلہ دیش میں ۵؍اگست کے ’طلبہ انقلاب‘ نے بنگلہ دیش پاکستان تعلقات کے معاملے کو دونوں ممالک کے درمیان بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ یہ انقلاب اپنی نظریاتی، ملّی اور قومی بنیادوں پر بنگلہ دیش، پاکستان اور اُمت مسلمہ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ صرف پندرہ روز کے اندر اندر پورے بنگلہ دیش کے طول و عرض میں زبردست بیداری اور مزاحمت کے بہائو کا مشاہدہ کیا جائے، تو یہ حقیقت بہت نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے کہ یہ واقعہ خطے میں ہندوستانی بگٹٹ تسلط پسندی کو چیلنج کرنے کا عوامی اظہار ہے، جس کے پیچھے پڑھی لکھی نوجوان نسل پُرعزم کھڑی ہے۔


تاریخی اُمور کے ساتھ ساتھ یہاں پر چند اہم حالیہ واقعات و معاملات پیش ہیں:

  • کہا تو جاتا ہے کہ ’’عوامی لیگ نے جمہوری اور مسلح جدوجہد سے پاکستان توڑا‘‘ مگر ۲۵مارچ ۲۰۲۱ء کو بنگلہ دیش بننے کی پچاسویں سال گرہ پر ڈھاکا میں تقریر کرتے ہوئے انڈین نسل پرست نریندرا مودی نے کہا: ’’بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے ہم نے اور ہمارے انڈین فوجیوں نے خون کی بڑی قربانی دی ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی کی تڑپ کے لیے مَیں جیل میں گیا اور کئی دن سو نہیں سکا‘‘ (ڈیلی اسٹار، ڈھاکہ، ۲۶مارچ ۲۰۲۱ء)۔ایک طرف مودی نے کہا کہ پاکستان سے مشرقی پاکستان کو الگ کرکے بنگلہ دیش کا ’کارنامہ‘ ہم بھارتیوں کا ہے، اور دوسری طرف اسی روز ’’ڈھاکے میں مودی کے دورے اور تقریر کے مخالف نوجوانوں کے مظاہرے پر بنگلہ دیش پولیس نے گولی چلا کر پانچ مظاہرین کو، اور اس سے اگلے روز مظاہرین کو روکتے ہوئے چھے مظاہرین کو شہیدکردیا‘‘۔ (الجزیرہ، ۲۶ مارچ ۲۰۲۱ء)
  • بنگلہ دیشی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل وقار الزماں نے عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے: ’’ہم نے قومی سطح پر بنیادی اصلاحات کے لیے عبوری حکومت کی مکمل تائید، حمایت اور اطاعت کا وعدہ کیا ہے، تاکہ اگلے اٹھارہ ماہ میں عام انتخابات کرائے جاسکیں اور ملک اور قوم جلد از جلد جمہوری عمل میں داخل ہوں، مگر جس طریقے سے چیزیں اتھل پتھل ہوئی ہیں،  ان کو درست کرنے کے لیے کچھ وقت مجبوراً درکار ہے۔ ہم عبوری حکومت سے ہرہفتے ملتے ہیں اور مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ذرّہ برابر سیاسی عزائم نہیں، ہمارا واحد مقصد قوم کو جمہوری شاہراہ پر ڈالنا ہے‘‘۔(روزنامہ سنگرام، ڈھاکا، ۲۴ستمبر ۲۰۲۴ء)
  • ڈاکٹر محمد یونس نے امریکا میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا:’’فی الحال الیکشن منعقد کروانے کا کوئی نظام الاو قات نہیں دیا جارہا۔ آنے والے مہینوں میں اصلاحات کی سفارشات متوقع ہیں ، ان کے بعد انتخاب کی تاریخ دیں گے۔ جرائم کا حساب لینے کے لیے حسینہ واجد کو انڈیا سے لاکر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا‘‘۔(روزنامہ دی سن، ڈھاکا، ۲۷ستمبر ۲۰۲۴ء)
  • بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ۲۶ستمبر کو ڈھاکا میں وکلا کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’اگر عبوری حکومت اپنے اہداف پانے اور اصلاحات کو نافذ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں ’طلبہ انقلاب‘ کامیاب ہوگا۔ ہم ان قومی مقاصد کی تکمیل کے لیے مکمل طور پر حکومت کے حامی اور مددگار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ قوم سے دشمنی کر رہے ہیں۔ تمام اختلافات بھلاتے ہوئے قومی مفاد کے لیے متحد ہوکر ملک کی تعمیر کا حلف اُٹھانا چاہیے‘‘۔ (ڈیلی سن، اسٹار اور سنگرام، ۲۷ستمبر ۲۰۲۴ء)

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا: عوامی لیگ کی باقیات کی جانب سے واویلا ایک بے معنی اور فضول حرکت ہے۔ شیخ حسینہ نے ۱۵ برس کی فسطائی حکمرانی میں ملک، قوم، اداروں اور اپنی پارٹی عوامی لیگ کو برباد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک سے فرار کے بعد ان کی پارٹی میں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو پارٹی کو سنبھال سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوامی لیگ سرے سے کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے بلکہ مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے، جس کا جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام سے کوئی دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے سرکردہ اور بزرگ رہنمائوں کو جھوٹے مقدموں میں ملوث کرکے، انصاف کا خون کیا گیا، پھانسیاں دی گئیں، کئی رہنمائوں کو قید کے دوران موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا، درجنوں کو لاپتا کردیا گیا اور ہزاروں کو قید رکھا گیا ہے۔ پھر غصے میں آکر جماعت پر کئی پابندیاں بھی عائد کردیں۔ بنگلہ دیش کے غیرت مند شہری، جماعت اسلامی کا احترام کرتے ہیں۔ ۱۵برس کے مسلسل جبر کے باوجود شیخ حسینہ حکومت، جماعت اسلامی کو تباہ نہیں کرسکی، جس پر ہم اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر اس مالک و خالق کے حضور سجدئہ شکر ادا کرتے ہیں۔(ایضاً)

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا: ’’عوامی لیگ کی انسانیت کش حکمرانی کے دوران اختلاف کرنے والے دانش وروں، وکیلوں اساتذہ اور صحافیوں کو غائب، قید اور قتل کرنے سے بھی اجتناب نہیں برتا گیا۔ افسوس کہ وکلا کے ایک طبقے نے عدل کے قتل میں قاتل حکومت کا مسلسل ساتھ دیا۔ حکومتی آلہ کاروں نے سارا پیسہ بیرونِ ملک اسمگل کیا اور اپنی بداعمالیوں کی سزا سے بچنے کے لیے لیگ کے لُوٹ مار کرنے والے ملک سے بھاگ گئے ہیں اور بھاگ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تحریک کے دوران شہید ہونے والے تمام نوجوان اور شہری قوم کے ہیرو ہیں۔ انھیں قوم ہی کی نسبت سے یاد رکھنا، خدمات کا اعتراف کرنا اور ان کے پسماندگان کی مدد کرنا ہوگی‘‘۔(ایضاً)


۲۲ستمبر کو بنگلہ دیش کے مشہور انگریزی روزنامہ ڈیلی اسٹار  ،ڈھاکا نے، جو ایک آزاد خیال، سیکولر اور جماعت اسلامی کا مخالف اخبار ہے، اس نے ووٹرز کے سروے پر مبنی دل چسپ اعداد و شمار شائع کیے ہیں، جن کے مطابق: ’’عام طور پر یہی سمجھا جارہا تھا کہ فسطائی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بیگم خالدہ ضیاء کی زیرقیادت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) بھاری اکثریت سے حکومت سنبھال لے گی، مگر حقائق کے مطابق شاید کرسیاں بدل گئی ہیں۔ ۲۹؍اگست سے ۸ستمبر۲۰۲۴ء کے درمیان رائے عامہ کے جائزے سے ووٹروں کے رجحان کا اندازہ سامنے آیا ہے: ۴۶ء۴۴ فی صد حصہ ’فیلڈ سے ۵۱۱۵؍ افراد کے سائنٹفک (sample) سروے پر مبنی ہے۔ ۳۴ فی صد نے کہا کہ آیندہ ’’رائے دہی کے لیے ہم غیریقینی صورتِ حال کا شکار ہیں کہ کس کو ووٹ دیں؟‘‘ جب کہ ۱۰ فی صد نے کہا کہ ’’ہم طلبہ کی قیادت میں سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں گے‘‘۔ مگر جب بنگلہ دیش کے تمام ۶۴ اضلاع میں ’آن لائن‘ ۳۵۸۱؍ افراد پر مشتمل سائنٹفک سیمپل سروے کیا گیا تو اُن میں سے ۳۵ فی صد نے کہا: ’’ہم طلبہ کی زیرقیادت پارٹی کو ووٹ دیں گے‘‘ اور ۱۱فی صد نے کہا: ’’ہم فیصلہ نہیں کرسکے کہ کسے ووٹ دیں گے؟‘‘ یاد رہے ابھی تک طلبہ کی زیر قیادت یا اس سوچ کی نمایندہ سیاسی جماعت وجود میں نہیں آئی۔ اس طرح ’فیلڈ سروے‘ کے ۴۴ فی صد اور ’آن لائن‘ کے ۴۶ فی صد ووٹر غیرفیصلہ کن پوزیشن میں ہیں، جب ان سے پوچھا گیا: ’’آپ غیرفیصلہ کن کیوں ہیں؟‘‘ توزیادہ تر نے کہا: ’’ہم ممکنہ اُمیدواروں سے ناواقف ہیں، اور محض پارٹی نشان کو ووٹ نہیں دینا چاہتے‘‘۔

اس سروے کا دل چسپ پہلو ۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ءکے درمیان پیدا ہونے والی ’زیڈ پود‘ اور اُن سے قبل پیدا ہونے والی ’بزرگ نسل‘ کا طبعی رجحان ہے۔ ’آن لائن‘ سروے میں ’زیڈ پود‘ کے ۳۷ فی صد نے، اور ’بزرگ نسل‘ نے ۳۰ فی صد تعداد میں طلبہ کی سیاسی پارٹی کی حمایت کی۔ دوسری طرف ’آن لائن‘ سروے کے مطابق:۱۹۵۵ء سے ۱۹۶۴ء کے درمیان پیدا ہونے والوں نے ۱۷ فی صد ، ۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۶ء کے درمیان پیدا ہونے والوں نے ۲۴ فی صد اور ’زیڈ پود‘کے ۲۷ فی صد ووٹروں نے کہا کہ ’’ہم جماعت اسلامی کو ووٹ دیں گے‘‘۔ ان نتائج کو دیکھ کر ہر کوئی حیران ہے کہ بالکل نوخیز ’زیڈ پود‘ میں جماعت اسلامی کی اتنی پذیرائی کیونکر سامنے آرہی ہے؟ خواتین آبادی کا ۵۱ فی صد ہیں، ان کی آراء دیکھیں تو ان کی بڑی تعداد تاحال ’غیرفیصلہ کن‘ ہے، یا پھر طلبہ کی طرف جھکائو رکھتی ہے۔ دوسرا یہ کہ خواتین میں جماعت کی مقبولیت کا گراف کم تر ہے۔ ’فیلڈ سروے‘ میں خالدہ ضیاء پارٹی کو ۲۱ فی صد ووٹ ملے، جب کہ جماعت اسلامی کو ۱۴ فی صد۔ مگر ’آن لائن‘ سروے کے مطابق خالدہ ضیاء پارٹی کو ۱۰ فی صد اور جماعت اسلامی کو ۲۵ فی صد ووٹ ملے۔ بی این پی ’فیلڈ سروے‘ میں تمام ڈویژنوں میں آگے ہے، لیکن ’آن لائن‘ سروے میں تمام ڈویژنوں میں جماعت اسلامی آگے ہے۔ دونوں سروے میں بی این پی کو ’زیڈ پود‘ کے برعکس ’بزرگ نسل‘ میں برتری حاصل ہے، مگر نئی نسل میں اس کی مقبولیت کم ہے۔ عوامی لیگ کی پوزیشن یہ ہے کہ ’فیلڈ سروے‘ میں عوامی لیگ کو صرف ۵ فی صد اور ’آن لائن‘ میں ۱۰ فی صد ووٹروں کی حمایت حاصل ہوسکی ہے۔ عوامی لیگی حلقے جماعت اسلامی کی مقبولیت پر سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔


 تاریخ کے اوراق دیکھیں تو خطۂ بنگال سے جڑے چار بڑے موڑ سامنے آتے ہیں، جن کا تعلق پاکستان سے ہے: lپہلا یہ کہ ۱۹۰۵ء میں تقسیم بنگال ہوئی۔ اسے مسلم اکثریتی علاقے کو مذہبی پہچان کی بنیاد پر الگ وجود تسلیم کیا گیا (تاہم، ۱۹۱۱ء کو یہ تقسیم ہندوئوں کے دبائو سے واپس ہوگئی، مگر اس نے تقسیم کا نظریہ پیش کر دیا)۔ l دوسرا یہ کہ دسمبر ۱۹۰۶ء کو ڈھاکہ میں کُل مسلم لیگ قائم ہوئی، جس نے تحریک پاکستان کی قیادت کی۔ lتیسرا یہ کہ ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کی ’قرارداد لاہور‘ کو پیش کرنے کا اعزاز بنگال ہی کے رہنما اے کے فضل الحق (م: ۱۹۶۲ء)کو حاصل ہوا، lاور چوتھا یہ کہ ۶ تا ۹؍اپریل ۱۹۴۶ء کو ہونے والے مسلم لیگ لیجس لیچرز کنونشن دہلی میں، جو قائداعظم کی صدارت میں منعقد ہوا، وہاں پر بنگال ہی سے تعلق رکھنے والے حسین شہید سہروردی (م:۱۹۶۳ء) نے قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ اس میں لکھا ہے: ’قراردادِ لاہور‘ میں پاس کردہ لفظ ’states‘کو ’state‘ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

لفظ ’ریاستوں‘ کو ’ریاست‘ کر نا دُور اندیشی پر مبنی حکمت ِ کار تھی کیونکہ ہندوستان نے مسلم آبادی کے اس علاقے کو تین اطراف سے گھیر رکھا ہے۔ بالکل وہی صورتِ حال آج بھی برقرار ہے۔ انڈیا نے بنگلہ دیش میں ایک انتہائی بھارت نواز انتظامیہ قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن حالیہ انقلاب سے بھارتی مذموم عزائم کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ بنگلہ دیش میں انقلابی قوتیں سفارتی حمایت کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں، اور پاکستان اس انقلاب کو محفوظ بنانے اور جنوبی ایشیا میں انڈیا کی بالادستی اور دھونس کو کم کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ پاکستان اس انقلاب کی حمایت کے لیے یہ اقدامات کر سکتا ہے:

            ۱-         پاکستان ’اسلامی کانفرنس تنظیم‘ (OIC) اور دیگر بین الاقوامی حکومتی پلیٹ فارموں کے ذریعے انقلاب کی حمایت کے لیے سابق سفارت کاروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے۔

            ۲-         یہ کمیٹی سارک (SAARC) کی تنظیم نو کے لیے بنگلہ دیش کی مدد کرے۔ یاد رہے کہ مالدیپ، نیپال اور سری لنکا،ہندوستان کے تسلط پسندانہ عزائم سے پریشان ہیں۔

            ۳-         پاکستانی سیاست دانوں اور این جی اوز کو انقلاب کی حمایت کرنے پر اُبھارا جائے۔

            ۴-         یہ کمیٹی بنگلہ دیشی صحافیوں اور میڈیا کے افراد سے باقاعدہ پیشہ ورانہ سطح پر معاونت لے، تاکہ پاکستانی عوام بنگلہ دیش میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ ہوسکیں۔

            ۵-         پاکستان، بنگلہ دیشی دانش وروں، صحافیوں، مصنّفوں، پروفیسروں اور اساتذہ اور طلبہ کو پاکستان آنے کی دعوت دے اور اسی مقصد کے لیے پاکستانی صحافیوں کو بنگلہ دیش بھیجے۔

             ۶-        پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی اداروں میں بنگلہ دیشی طلبہ اور تعلیمی عملے کے لیے اسی طرح کے تبادلے کے پروگرام تیار کیے جائیں۔

            ۷-         پاکستانی تعلیمی اداروں کو بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے اسکالرشپ پیش کرنے پر اُبھارا جائے۔

             ۸-        سیاسی، معاشی، ثقافتی اور کھیلوں کے میدان میں وسعت لانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر معاہدے کیے اور عمل درآمد کی صورت بنانی چاہیے۔

            ۹-         بنگلہ دیش چیمبرز آف کامرس اور ڈھاکہ و چٹاگانگ کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے قائدین کو پاکستان آنے اور باہم سرمایہ کاری کی سہولت دی جانی چاہیے۔

            ۱۰-      کراچی یونی ورسٹی اور پنجاب یونی ورسٹی میں بنگلہ زبان و ادب کے شعبے کھولے جائیں۔

            ۱۱-      دونوں ملکوں میں ویزا کی نرمی پیدا کی جائے اور اشیاء کی ترسیل اور وصولی کے تیزرفتار نظام کو عملی شکل دی جائے۔ (مجوزہ سفارتی کمیٹی مزید اقدامات تجویز کرسکتی ہے)۔

بنگلہ دیش کے عوام کی اس اُمنگ کے جواب میں ،جو بھارتی تسلط سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ ظاہر کرچکے ہیں، مثبت جواب دینا چاہیے۔ ہمیں خوف کی فضا سے باہر آنا چاہیے اور تاریخ کے اس موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔بنگالی نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں نے سروں پر کفن باندھ کر اس انقلاب کے دوران ہندوستان کو بنگلہ دیش سے باہر نکالنے کے لیے ایک ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دی ہے۔ ہمیں اس کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے۔

ہندوستانی میڈیا، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور خفیہ ایجنسیاں یہ موقف پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں کہ ’’بنگلہ دیشی مسلمان انتہا پسندوں نے کچھ بین الاقوامی قوتو ںکے ساتھ مل کر ہندوستان کو بنگلہ دیش سے اُکھاڑ پھینکنے کی بڑی ’سازش‘ کی ہے‘‘۔ انھیں اس بات پر یقین ہی نہیں آرہا کہ غیرمعروف سے طالب علموں کی قیادت میں ایک ’مقامی کوٹہ تحریک‘ ایسا بلاخیز سیلاب بھی بن سکتی ہے، جو اُن کی گماشتہ ڈکٹیٹر اور اس کے حمایتی ہندوستان کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے کہ ہندو نسل پرست بھارتی دھونس نے بنگلہ دیش کی نئی نسل میں مسلم قومیت کی شناخت اور دفاع کے جذبے کو پروان چڑھایا ہے۔

انڈیا کی رہنمائی اور قیادت میں حسینہ واجد حکومت نے پاکستان کے خلاف شدید نفرت کی فصل کاشت کرنے کی خاطر ایک باقاعدہ وزارت قائم کی، جس نے پندرہ برس تک تعلیم، میڈیا اور صحافت میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی انتہائوں کو چھوا، لیکن وہ سب مذموم پروپیگنڈا دھرے کا دھرا رہ گیا۔ انقلاب کے بعد ۶ستمبر ۲۰۲۴ء کو قائداعظمؒ کی برسی کے موقعے پر ڈھاکہ نیشنل پریس کلب میں بھرپور پروگرام ہوا۔ طلبہ تحریک کے مرکزی رہنما ناہید الاسلام کے اس جملےنے تاریخ کے ۵۴برس پلٹا کر ۱۹۷۱ء سے پہلے کے مشرقی پاکستان سے جوڑ دیا کہ ’’اگر پاکستان نہ بنتا تو آج بنگلہ دیش بھی وجود میں نہ آتا‘‘۔یہ چیز ایک مقبول رہنما کی زبان سے عام لوگوں کو حقیقت کا فہم دینے میں مددگار بنی ہے۔

تاریخ کا یہ عجیب معاملہ ہے کہ ایک طرف تو بنگلہ دیش کی حکومتوں نے پاکستان کے بارے میں جھوٹے، خودساختہ بلکہ بیہودہ موقف کو نئی نسل کے ذہنوں میں اُنڈیلا، تو دوسری طرف پاکستان میں حکام نے مشرقی پاکستان اور بنگالیوں کے ساتھ اپنی چوبیس سالہ رفاقت کو فراموش کرنے، بنگال کے سرفروشوں کے ساتھ وابستگی کی پوری تاریخ کو مٹانے کی دانستہ اور جاہلانہ کوششیں کیں۔

۱۹۷۱ء میں تقسیمِ پاکستان کے المیے نے خود پاکستانی حکومتوں اور اداروں کے شعور کی دُنیا کو بُری طرح عدم توازن کی نذر کر دیا۔ تاہم، پاکستان کے جوہری پروگرام کی کامیابی نے پاکستان کو مستقبل میں ممکنہ جارحیت سے بچانے میں مدد دی ہے۔ بنگالی دانش ور، پاکستان کی تقلید اور پاکستان کے ساتھ تعاون کی ضرورت کے بارے میں بڑی اُمید کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو اپنی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھرپور طریقے سے قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس صورت حال کا نہایت خطرناک پہلو یہ ہے کہ انڈیا کی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں بنگلہ دیش میں مسلسل بدامنی کو ہوا دے رہی ہیں۔ حالات و واقعات سے ظاہر ہے کہ خود ہندوئوں کی املاک پر متعدد حملوں اور عوامی لیگیوں کے چند مقامات پر ہجومی قتل کے پیچھے بھی انڈیا کی یہ حکمت عملی کارفرما ہے کہ اس طرح عبوری حکومت بدنام ہو اور عوامی لیگ ہمدردی حاصل کرسکے۔ ان چیزوں پر میڈیا کو بہت محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔

برطانوی پولیس اس وقت اپنی نوعیت کے پہلے اور ایک انوکھے معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین  کے مطابق ایک سولہ سالہ نوجوان لڑکی نے ’میٹاورس‘ [Metaverse]  میں اپنے ساتھ ہونے والی 'غیر حقیقی اجتماعی زیادتی [Virtual gang rape] کی رپورٹ پولیس کو دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وہ لڑکی ورچول ریلیٹی [Virtual reality ] ھیڈ سیٹ پہنے ’میٹاورس‘ میں ایک 'حقیقت سے قریب [Immersive game] کھیل رہی تھی، جب اس کے ساتھ کھیلنے والے دوسرے کرداروں نے اس کے خاکے یا کارٹون کریکٹر [Digital Avatar] پر حملہ کیا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس لڑکی کو تضحیک یا ٹرولنگ [trolling] کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی نے کہا کہ مختلف کمپیوٹر کھیل کھیلتے ہوئے وہ کھیل ہی کھیل میں مرچکے ہیں، تو کیا وہ اس کے لیے قتل کا مقدمہ درج کرائیں، تو کسی کے خیال میں پولیس کو حقیقی زندگی میں ہونے والے جرائم پر توجہ دینی چاہیے۔ 

’میٹاورس‘ کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا مستقبل کہا جاتا ہے۔ ’میٹاورس‘ کیا ہے؟ اس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے، لیکن اس سے قبل سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو سمجھنا ضروری ہے۔ ویسے تو انٹرنیٹ کا آغاز ہی ایک دوسرے سے کوسوں دُور بیٹھے چند لوگوں کے درمیان کمپیوٹر پر گفتگو سے ہوا تھا، لیکن سوشل میڈیا نیٹ ورکس نے صرف ابلاغ کے ذرائع کو ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ فرد، خاندان، معاشرہ، ٹکنالوجی، حتیٰ کہ زندگی کے فلسفے کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نہ ہوتے تو نہ اسمارٹ فونز کو ہماری زندگی میں یہ اہمیت حاصل ہوتی اور نہ مصنوعی ذہانت (AI)کو ایسا عروج حاصل ہوتا کہ اس کا خطرہ ایٹم بم سے زیادہ بڑھ جاتا۔

فیس بک، ایکس [سابقہ ٹویٹر]، گوگل، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دوسرے بہت سے چھوٹے بڑے سوشل نیٹ ورک ہماری زندگیوں پر کیسے اثرانداز ہورہے ہیں؟ ہمارے سوچنے سمجھنے سے لے کر زندگی بسر کرنے کے طریقے کیسے تبدیل ہورہے ہیں اور مستقبل کیسا ہوگا؟ اگلی سطور میں انھی سوالات کا جواب جاننے کی کوشش کریں گے۔

گلوبل ویلیج سے کنویں کا مینڈک بننے تک کا سفر

کینیڈین مفکر مارشل مک لوہن نے ساٹھ کے عشرے میں میڈیا کی ترقی کو دیکھتے ہوئے ’گلوبل ویلیج‘(عالمی گائوں) کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ ان کے خیال میں الیکٹرانک میڈیا مثلاً ٹیلی ویژن، ٹیلی فون وغیرہ کی ایجاد نے دنیا کے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے۔ نصف صدی قبل پیش کی گئی یہ تھیوری اس وقت بھی بہت مقبول ہوئی تھی، لیکن شاید اس کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس نے قبولِ عام دے دیا اور یہ اصطلاح زبان زد عام ہوگئی۔

بظاہر تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم روایتی میڈیا ہی کی ایک جدید اور ترقی یافتہ شکل نظر آتے ہیں، لیکن ان کے اثرات بالکل مختلف ہیں۔ جہاں میڈیا کو دنیا کو جاننے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا تو سوشل میڈیا کو ایکو چیمبرز سے تشبیہ دی جارہی ہے، کیونکہ بیش تر اوقات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز آپ کو وہی کچھ دکھاتے ہیں جو آپ پسند کرتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، چند الگورتھم کی مدد سے آپ کی پسند ناپسند کو دیکھ کر اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ کی ترجیحات کیا ہیں؟ اور مسلسل صرف وہ چیزیں دیکھ کر جو ہمیں پسند ہیں، ہم محض کنویں کا مینڈک بنتے جارہے ہیں۔

کیا دنیا کو چند الگورتھمز سنبھال رہے ہیں؟

کمپیوٹر کی زبان میں ’الگورتھم‘ ایسی ہدایات یا طریقۂ کار کو کہتے ہیں جس پر عمل کرکے کمپیوٹر کسی مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ جتنا ہی مشکل مسئلہ ہوتا ہے اتنا ہی پیچیدہ ’الگورتھم‘ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے اور انسانی نفسیات سے کھیلنے سے زیادہ پیچیدہ کام شاید ہی اس دنیا میں کوئی ہو۔ لیکن سوشل میڈیا نیٹ ورکس نے اس مسئلے کو نہ صرف اپنی دانست میں حل کرلیا ہے بلکہ انسانیت اب ان ’الگورتھم‘ کے رحم و کرم پر ہی ہے۔ ایک زمانے میں ’فیس بک‘ کا نعرہ تھا کہ ’تیز چلو اور توڑ دو‘ (Move fast and break things') ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر لانے، ان کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنے اور ان سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے چکر میں صورتِ حال پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی رہی اور مصنوعی ذہانت اس پر سونے پر سہاگہ کا کام کررہی ہے۔ یونی ورسٹی کالج لندن کی ماہر حسابیات اور اپنی کتاب 'Being Human in the Age of Algorithms First' کے لیے مشہور حنا فراے (Hannah Fry) کے خیال میں:

These are just some of the dilemmas that we are beginning to face as we approach the age of the algorithm, when it feels as if the machines reign supreme. Already, these lines of code are telling us what to watch, where to go, whom to date, and even whom to send to jail. But as we rely on algorithms...they raise questions about what we want our world to look like? What matters most...We don’t have to create a world in which machines are telling us what to do or how to think, although we may very well end up in a world like that.

الگورتھمز کے اس دور میں جہاں مشینوں کی حکمرانی ابھرتی نظر آرہی ہے۔ یہ چند مخمصے ابتدائے محض ہیں، جن کا سامنا ہم کر رہے ہیں۔ ہم کو کیا دیکھنا ہے، کہاں جانا ہے، کس کو پسند کرنا ہے یہاں تک کہ کس کو جیل بھیجنا ہے، اس کا فیصلہ پہلے ہی یہ الگورتھمز کررہے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے ہمارا بھروسا ان الگورتھمز پر بڑھ رہا ہے، یہ سوال اہم ہوتا جارہا ہے کہ ہم کس قسم کی دنیا چاہتے ہیں اور کیا چیز سب سے اہم ہے؟ ہم کو ایسی دنیا نہیں بنانی جہاں مشینیں ہم کو بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا اور کس طرح سوچنا ہے؟ لیکن شاید ایسی دنیا سے فرار اب ممکن نہیں۔

مصنوعی ذہانت: پیدا شدہ گمبھیر صورت حال

عام طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز آپ کی پسند اور ناپسند کو دیکھتے ہوئے آپ کا ایک نفسیاتی خاکہ بناتے ہیں اور پھر اسی خاکہ کو دیکھتے ہوئے آپ کو مواد دکھایا جاتا ہے۔ یہ ’الگورتھمز‘ ہروقت آپ کے بارے میں اپنی رائے کو بہتر سے بہتر بناتے رہتے ہیں۔ جب تک یہ ’الگورتھمز‘ انسان بنارہے تھے، تب تک ان کو سنبھالنا بھی آسان تھا۔ مثلاً جب سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی بھرمار ہوئی تو ان سے مقابلہ کرنے کے ’الگورتھمز‘ بنائے گئے اور پہلے سے موجود ’الگورتھمز‘ کو بہتر بنایا گیا۔ لیکن اب بہت تیزی سے ان ’الگورتھمز‘ کو مصنوعی ذہانت کی مدد حاصل ہورہی ہے اور مصنوعی ذہانت جب یہ فیصلہ کرنے لگے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں، تو نہ صرف انسان بے اختیار ہوجاتے ہیں بلکہ کسی حد تک آگے ہونے والی غلطیوں سے بری الذمہ بھی۔ یعنی ایک طرف تو یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہماری روزمرہ کی زندگی سے لے کر کس کو حکمران بنانا ہے، تک کے فیصلوں میں دخل دے رہے ہیں، اور دوسری طرف یہ کسی قسم کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں کیونکہ اب یہ فیصلہ کہ کیا دکھانا ہے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ انسان نہیں مصنوعی ذہانت کے ’الگورتھمز‘ کررہے ہیں۔

امریکی صدارتی امیداوار ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی خبر جب پھیلی تو فیس بک نے زخمی ڈونلڈ ٹرمپ کی مکا لہرانے کی تصویر کو اپنے پلیٹ فارم پر سے ہٹانا شروع کردیا، جس کی وجہ سے فیس بک کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کے فیس بک کے سی ای او مارک زکر برگ کو اپنے کاروباری مفاد کے تحفظ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کرکے معافی بھی مانگنی پڑی۔

یہ صورتِ حال اس وقت بھی پیش آئی، جب سابق فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے فوراً بعد فیس بک نے اس خبر کو اپنے پلیٹ فارم پر سنسر کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ ملائشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی تعزیتی پوسٹ بھی ہٹادی گئی، جس پر ملائشیا کی حکومت نے کافی احتجاج کیا۔

آزادیٔ اظہار سے آزادیٔ  انتخاب تک کی بحث

لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سنسرشپ کی یہ مہم نئی نہیں ہے۔ فیس بک، ٹویٹر اور گوگل نے ۲۰۱۶ء کے امریکی انتخابات میں Cambridge Analytica Data Scandal کے سامنے آنے کے بعد ۲۰۲۰ء کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو سنسر کرنا شروع کردیا۔ انھیں 'شیڈوبین الگورتھم [Shadowban Algorithm] کا نام دیا گیا۔ یعنی اگر آپ اپنے پلیٹ فارم پر سے کسی طاقت ور شخصیت یا کسی مقبول نظرئیےکو ہٹا نہیں سکتے تو اس کو اپنے پلیٹ فارم پر ’الگورتھمز‘ کی مدد سے اس طرح پھیلنے سے روک دیں۔ اس بات پر جب ان پلیٹ فارمز کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، وہیں مشہور امریکی کاروباری ایلون مسک نے 'آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے ٹویٹر کو مہنگے داموں خرید لیا۔  اس کے محرک مشہور ٹکنالوجسٹ پیٹر تھیل بنے، جو نہ صرف ایلون مسک کے کاروباری ساتھی رہے ہیں، بلکہ فیس بک کے ابتدائی انویسٹرز میں سے ایک ہیں۔

دُنیا کے دو بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر پیٹر تھیل کس اثررسوخ کا حامل ہے، اس کا اندازہ اس خبر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے اپنے سخت ترین مخالف جے ڈی ونس '(J D Vince' ) کو نامزد کیا جو اس سے قبل 'ٹرمپ دوبارہ نہیں‘ ' یا 'Trump Never Again' کا نعرہ لگاتے تھے۔ ان دونوں کے درمیان مفاہمت کا کردار کسی  سیاست دان یا تجربہ کار بیوروکریٹ نے نہیں بلکہ ارب پتی ٹکنالوجسٹ پیٹرتھیل نے ادا کیا ہے، جو ایک طرف جے ڈی ونس کے کاروباری ساتھی ہیں تو دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر خاص بھی۔ یہ خبر بھی شاید دلچسپی کا باعث ہو کہ حالیہ فلسطین اسرائیل جنگ میں معصوم فلسطینیوں کے قتل عام میں بدترین کردار ادا کرنے والا مصنوعی ذہانت کا سوفٹ ویر بھی پیٹر تھیل کی کمپنی نے بنایا ہے۔

آزادیٔ اظہار مغرب کے لیے محض ایک ہتھیار ہے، اس سے کون ناواقف ہے۔تاہم، ’الگورتھمز‘ کا یہ عروج کتنا خطرناک ہے اور یہ ’الگورتھمز‘ یا ان کے بنانے والے کیسے ہماری نفسیات سے کھیلتے ہیں؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ ایکس پلیٹ فارم کے بانی جیک ڈورسی اب آزادیٔ اظہار کی بحث کو محض توجہ ہٹانے کا ذریعہ کہتے ہیں۔ اور ان کے خیال میں اصل بحث ’الگورتھمز‘ کو استعمال کرنے یا نہ کرنے کی آزادی پر ہونی چاہیے۔ ایک انٹرویو میں جب انھوں نے یہ گفتگو کی تو ایکس پلیٹ فارم کے نئے مالک ایلون مسک بھی اس بات سے انکار نہ کرسکے۔ بقول جیک ڈورسی:

This is going to sound a little bit crazy, but I think that the free speech is a complete distraction right now. I think the real debate should be about free will and we feel it right now because we are being programmed... And I think the only answer to this is... to give people a choice of what algorithm they want to use.

شاید یہ آپ کو عجیب لگے لیکن [آج کے دور میں] میرے خیال میں آزادیٔ اظہار کی باتیں محض توجہ ہٹانے کا طریقہ ہیں۔ میرے خیال میں اصل بحث آزاد یا خود اختیاری سوچ پر ہونی چاہیے۔ اور اب ہم نے اس بات کو محسوس کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ ہماری سوچ یا مرضی کو [سوشل میڈیا الگورتھمز کے ذریعے] بدلا جارہا ہے۔ اور میرے خیال میں اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے لوگوں کو اس بات کی آزادی دی جائے کہ وہ اس بات کا تعین خود کرسکیں کہ وہ کون سا الگورتھم استعمال کرنا چاہتے ہیں اور کون سا نہیں۔

مخالفین کی آواز کو کیسے دبایا جا رہا ہـے؟

تقریباً تمام ہی بڑی اور طاقت ور سوشل نیٹ ورکس کمپنیاں کسی نہ کسی طرح جہاں ایک طرف 'منتخب کردہ نظریات کو پروان چڑھانے کے لیے نہ صرف مکمل آزادی دیتی ہیں بلکہ مختلف ’الگورتھمز‘ کے ذریعے ان کی بات کو اپنے اپنے پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر پھیلاتی ہیں تو دوسری طرف مخالف آواز کو بالکل دبا دیتی ہیں۔ یعنی آپ کو اپنی بات کہنے کی آزادی تو ہے، لیکن اپنی بات کو پھیلانے کی آزادی نہیں ہے۔ اسے 'Freedom of Speech, Not Freedom of Reach' کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی جہاں ایک 'پسندیدہ شخصیت کی پوسٹ ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کو ان کی مرضی کے خلاف دکھائی جاتی ہے، تو دوسری طرف مخالفین کی پوسٹ کو چند سو لوگوں کو بھی نہیں دکھایا جاتا ہے۔

آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر کسی فلسطینی مقصد کی حمایت کرنے والے کی آواز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دبانی ہو تو یہ پلیٹ فارمز اپنے ریکارڈ یا ڈیٹابیس میں اس کے نام کے آگے ایک منفی نشان لگادیں گے اور پھر اس کو اپنی بات کہنے کی تو مکمل آزادی ہوگی لیکن اس کا پیغام بہت کم ہی لوگ دیکھ پائیں گے۔ یہ باتیں کوئی سازشی نظریات نہیں بلکہ ان سوشل نیٹ ورکس کمپنیوں کے بے شمار ملازمین اس موضوع پر خفیہ دستاویزات سامنے لاچکے ہیں کہ یہ کمپنیاں کس طرح آزادیٔ اظہار کے نام پر آزادی اظہار کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔

ان سب میں سب سے توانا اور منظم آواز گوگل کے سابق سوفٹ وئر انجینیر زیک وریز کی ہے، جنھوں نے ۲۰۲۰ء کے امریکی انتخابات میں گوگل کی دھاندلیوں پر سے پردہ اٹھایا ۔ زیک نے ۲۰۲۱ء میں اپنی کتاب 'گوگل لیکس: طاقت ور ٹکنالوجی سنسرسپ کو بےنقاب کرنے کی کہانی یا Google Leaks: A whistleblower's expose of big tech censorship' میں تقریباً ایک ہزار خفیہ دستاویزات کے ذریعے یہ بتایا ہے کہ کس طرح گوگل نے اپنے سرچ انجن اور یوٹیوب پر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن کمپین کو سنسر کرکے جوبائیڈن کے جیتنے کی راہ ہموار کی۔ 

کتاب کے مصنف کے مطابق ۲۰۱۶ء کے انتخابات سے قبل ہی گوگل کے بانیوں نے اپنا تمام وزن ہیلری کلنٹن کے پلڑے میں ڈالا ہوا تھا، لیکن تمام تر محنت کے بعد بھی جب نتائج اس کے برعکس آئے، تو ۲۰۲۰ء کے انتخابات سے قبل دائیں بازو کے 'پروپیگنڈا کو باقاعدہ سنسر کرنے کا آغاز کیا اور پھر یہ سنسرشپ پھیلتی چلی گئی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ زیک وریز کے مطابق ایلون مسک کے دعوؤں کے برعکس ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر دیگر پلیٹ فارمز کی طرح شیڈوبین الگورتھم [Shadow banning algorithm] ابھی بھی اسی طرح فعال ہے جیسا کہ پہلے تھا اور ایلون مسک کے دعوے محض جھوٹ ہیں۔

سوشل میڈیا پر ثقافتی جنگ

ان طاقت ور سوشل نیٹ ورکس کی یہ سنسرشپ مہم امریکا اور یورپ میں جاری ثقافتی جنگ،  (Woke Culture War)میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے، جہاں 'آزادی، تنوع اور مساوات کے نعرے کے مخالفین کو یہ پلیٹ فارمز مکمل طور پر سنسرکررہے ہیں۔ بظاہر خوب صورت نظر آنے والے ان نعروں کے پیچھے امریکا اور یورپ میں ہم جنس پرستی، اپنی جنس خود منتخب کرنے کی آزادی، غیرقانونی مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کی پالیسی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ یہ لبرل ذہنیت کس حد تک گرگئی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیرس اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں انھی نظریات کے تحت نعوذباللہ حضرت عیسٰی علیہ اسلام کی تضحیک کی گئی اور ابتدا میں اس کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خوب پھیلایا گیا، لیکن پھر تنقید کے بعد یہ ویڈیوز کچھ پلیٹ فارمز پر سے ہٹادی گئیں۔ 

مسلم معاشروں کے لیے صورت حال کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ پہلے ہم اپنے بزرگوں سے اسلام سیکھتے تھے پھر یہ کام کتابوں نے لے لیا۔ آج کل یہ کام سوشل نیٹ ورکس نے سنبھالا ہوا ہے اور آگے چل کر یہ کام مصنوعی ذہانت سنبھال لے گی۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ روزانہ دس سے بارہ گھنٹے اپنے اسمارٹ فون پر مختلف سوشل نیٹ ورکس پر گزارنے والی نوجوان نسل کو سنسرشپ کی مہم کے تحت مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنا من پسندیدہ تصورِ اسلام سکھایا جائے اور باقی سارے تصورات سنسر کردیئے جائیں، تو اگلے چند برسوں میں کیسی ہولناک صورت حال بن جائے گی۔ 

اس کی ایک جھلک ایسے دیکھی جاسکتی ہے کہ جب چیٹ جی پی ٹی (Chat GPT) اور ’ایکس‘ [ٹویٹر] کے اے آئی پروگرام گروک 'X AI program GROK' سے ۲۰ بڑی دہشت گرد تنظیموں کے نام اور مذہب کا پوچھا گیا تو ان دونوں پروگرامز نے صرف مسلم تنظیموں کے نام اور اسلام کا نام دکھایا۔ گویا مصنوعی ذہانت کو سکھا دیا گیا ہے کہ دہشتگردی کو اسلام کے ساتھ جوڑنا ہے۔

پہلی پاکستانی ڈیجیٹل خاتون ماڈل کا ظہور

سوشل نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت کے 'گٹھ جوڑ سے اور کیا کیا تباہ کاریاں سامنے آئیں گی؟ اس کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔ لیکن گذشتہ دنوں پاکستانی میڈیا پر چلنے والی اس خبر نے آپ کی توجہ ضرور حاصل کی ہوگی کہ انسٹاگرام پر پہلی پاکستانی اے آئی سوشل میڈیا انفلیوینسر کی پروفائل لانچ کردی گئی ہے۔ 'شبنم ایکسائی (Shabnam Xai') نامی ڈیجیٹل خاتون ماڈل، مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی ہے، اپنی انسٹاگرام پروفائل پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہی اپنی مختلف تصاویر ڈالتی ہے۔ یہ ڈیجیٹل انسان بنانے والا کون ہے؟ اس کی شناخت تو ظاہر نہیں کی گئی لیکن اس پروفائل پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے کبھی مشرقی لباس پہنے تو کبھی مغربی لباس پہنے ایک خاتون کی تصاویر ڈالی جاتی ہیں۔ اس پروفائل کے بنتے ہی ۱۰ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسے فالو کرلیا تھا۔

انسٹاگرام نے جسے عریاں تصاویر (Soft Porn) پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہ پروفائل اس وقت تو اپنے پلیٹ فارم سے نامعلوم وجوہ کی بنا پر ہٹا دی ہے۔ لیکن ڈیجیٹل انسان (Virtual Models') کا تصوّر بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کررہا ہے اور اسے آسان آمدنی کا ایک کامیاب ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان پروفائلز پر جہاں بغیر کچھ محنت کیے مختلف کمپنیوں اور برانڈز کی تشہیر کی جاتی ہے، وہیں مختلف نظریات کو فروغ بھی دیا جاتا ہے۔

لیکن یہ صورت حال زیادہ پیچیدہ اور ہولناک اس لیے ہے کہ یہ سارا کام چند کمپیوٹر پروگرامز کے ذریعے ہورہا ہے جس کی وجہ سے بہت ہی تھوڑی محنت سے بہت سارے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً مصنوعی ذہانت سے لیس ایسے پروفائلز ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بن چکے ہیں جو نہ صرف بالکل انسان لگتے ہیں بلکہ ساتھ میں انسانوں کی طرح گفتگو بھی کرسکتے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی پروفائل کا جائزہ لے کر آپ کا نفسیاتی خاکہ بناکر آپ کی کمزوریوں اور رجحانات پر نظر بھی رکھ سکتے ہیں۔

فحاشی، نفرت اور جھوٹ کا کاروبار

ذرا تصور کریں کہ ایک نوخیز ذہن کو جو ابھی جوانی میں قدم رکھ رہا ہے اور نیا نیا ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنا شروع کرتا ہے، تو وہ ان خطرناک شکاریوں کے لیے کتنا آسان شکار ہے۔ یہ ڈیجیٹل پروفائلز اگر کسی فحش سوشل نیٹ ورک کے فروغ کے لیے بنائے گئے ہیں، تو یہ اس نوجوان کو اس کی مختلف کمزوریوں کا فائدہ اٹھاکر فحاشی کی طرف راغب کرسکتے ہیں، اور کوئی دوسرا پروفائل جو کسی منفی نظرئیے کو پھیلانے کے لیے بنایا گیا ہے اس نوجوان کو کسی نفرت پھیلانے والے نظریے کی طرف بھی بلا سکتا ہے۔

لیکن یہ کام کوئی نیا نہیں ہے۔ اب یہ کام کم خرچ میں چند سوفٹ ویرز کے ذریعے کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ کافی عرصے سے یہی کام نوجوانوں کو بھرتی کرکے کروایا جاتا رہا ہے۔ انڈیا میں بی جے پی اور مودی کے حمایتیوں نے جہاں ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز ویڈیوز پھیلا کر مسلم کش فسادات کو ہوا دی ہے، تو پاکستان میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے چند سال قبل تقریباً تیرہ سو نوجوانوں کو اس کام کے لیے ملازمت پر رکھا تھا کہ وہ کے پی حکومت کا مثبت چہرہ عوام کے سامنے لانے میں مدد دیں۔

برطانیہ میں حال ہی میں پھیلنے والے مسلم مخالف مظاہروں کو سوشل میڈیا پر کیسے بڑھایا گیا؟ اس پر ایک تفصیلی خبر ڈیلی میل نے دی ہے۔ ۴؍ اگست ۲۰۲۴ء کو چھپنے والی اس رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مسلم مخالف مظاہروں کا ایک مرکزی کردار ٹومی رابنسن ہے۔ خبر کے مطابق ایکس [سابقہ ٹویٹر] پر تقریباً ۱۰ لاکھ فالورز رکھنے والا ٹومی رابنسن جس وقت قبرص کے تفریحی مقام پر بیٹھا نفرت پھیلا رہا تھا اور ایکس پلیٹ فارم پر اس کی ایک ویڈیو کو چار کروڑ لوگ دیکھ چکے تھے، اس وقت اس کے 'سوشل میڈیا سپاہی برطانیہ میں لُوٹ مار میں لگے تھے۔ واضح رہے کہ ٹومی رابنسن کا اصلی نام کچھ اور ہے، جو کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے لیکن اس کو پلیٹ فارم پر اس جعل سازی کے باوجود بات کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

ایکس پلیٹ فارم نے جہاں ایک طرف مسلم کش فسادات کو ہوا دینے کے لیے ٹومی رابنسن نامی جعلی اکاؤنٹ کو کھلی آزادی دی ہوئی ہے، وہیں اس پلیٹ فارم پر برطانوی حکومت کا ایکس اکاؤنٹ 'قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر اس وقت بند کردیا گیا جب برطانوی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فسادات پھیلانے والی پوسٹس کو پھیلانے والوں کو گرفتار کرنے کی دھمکی دی۔

ایلون مسک اپنی منفرد حیثیت کو اپنے پلیٹ فارم پر کیسے استعمال کررہا ہے؟ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ برطانیہ میں مسلم کش فسادات کے شروع ہونے کے بعد اس نے ۲۰۱۳ء کی ایک ۱۰سال پرانی خبر کو اپنے پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا جس کے مطابق ایک مسلمان لڑکے نے ایک برطانوی لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ اور اس پوسٹ کو محض چند گھنٹوں میں ۵کروڑ لوگ دیکھ چکے تھے۔

اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ فلسطینی خبررساں ویب سائٹ ’صدا سوشل‘ (Sada Social)، جسے ’الجزیرہ‘ جیسے مؤقر ادارے مدد دیتے ہیں، کے مطابق ان سوشل نیٹ ورکس کے مختلف ملازمین اس بات کی بار بار نشاندہی کرچکے ہیں کہ واٹس ایپ، فیس بک وغیرہ نے فلسطینیوں کا مواد یا ڈیٹا اسرائیل کو دیا ہے اور اسرائیل نے اسی مواد کو استعمال کرتے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

غزہ جنگ اور اسرائیلی پروپیگنڈا مشینیں

بعض محققین ٹومی رابنسن کا تعلق اسرائیل سے جوڑتے ہیں کیونکہ اسے جن مقدمات کا سامنا ہے ان پر ہونے والا خرچہ چند اسرائیلی تنظیمیں اٹھا رہی ہیں۔ اور ان محققین کی نظر میں ٹومی رابنسن جیسے بے شمار سوشل میڈیا انفلوینسرز اسرائیل کے حالیہ جنگی جرائم کو چھپانے اور مسلم عیسائی تعلقات کو خراب کرنے کی منظم کوششوں میں ملوث ہیں۔

اسی طرح کی ایک اور خبر دی ٹائمز نے دی ہے۔ ۶ جون ۲۰۲۴ءکو چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت برائے تارکین وطن (Ministry of Diaspora') نے سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کی تشہیر کرنے والی کمپنی اسٹویک (Stoic') کو دو ملین ڈالر کی ادائیگی کرکے ہزاروں کی تعداد میں جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس بنا کر ان کے ذریعے پروپیگنڈا کرکے سوشل میڈیا پر امریکی کانگریس کے اراکین بالخصوص سیاہ فام ارکان کانگریس کو غزہ جنگ میں اسرائیل کی حمایت کے لیے دباؤ میں لینے کی کوشش کی۔ یہ جعلی اکاونٹس ہولڈر امریکی بن کر ان اراکین کانگریس سے مطالبہ کرتے کہ اسرائیل کی حمایت کرو ورنہ انجام کے لیے تیار رہو۔

ایلون مسک نے ایکس پلیٹ فارم پر جعلی خبروں اور پروفائلز کے خلاف لڑائی کے لیے جس کو رکھا ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ سابق اسرائیلی جاسوس گائے ٹائٹنوچ ہے۔ ان کی ملاقات کا انتظام خود اسرائیلی وزیراعظم نے کیا۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی ان مہمات کا ایک مقصد دنیا کی ہربرائی کی جڑ اسلام کو ثابت کرنا بھی ہے۔ اور یہ صورت حال اتنی گھمبیر ہے کہ خود اسرائیلی کمپنی فیک رپورٹر(Fake Reporter' ) 'کے ملازم شاٹز کو پریشان کردیا۔ ان کے مطابق:

Framing Islam around the world as the problem is not something that our state's supposed to be involved with.It's promoting hate and promoting fear and promoting messages that, at the end of the day, I'm embarrassed by.

اسلام کو دنیا کے سامنے ایک مسئلے کے طور پر پیش کرنا کوئی ایسا کام نہیں ہے جو ہماری ریاست کو کرنا چاہیے۔ یہ سب نفرت پھیلا رہا ہے، خوف پھیلا رہا ہے اور اس طرح کے پیغامات کو پھیلانا میرے لیے باعث شرمندگی ہے۔

آخر ایلون مسک کس کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے؟ غزہ جنگ شروع ہوتے ہی ایکس پلیٹ فارم کے بانی نے اسرائیل کا دورہ کیوں کیا؟ اور کیا اسرائیلی وزیراعظم اور ایلون مسک نے ایکس پلیٹ فارم پر اسرائیلی پروپیگنڈا پھیلانے اور یورپ اور امریکا میں فلسطینیوں سے بڑھتی ہوئی ہمدردی کو دبانے کے لیے سوشل میڈیا کی مدد سے مسلم عیسائی فسادات کا کوئی خفیہ منصوبہ بنایا ہے؟ شاید دنیا اس بارے میں کبھی نہ جان پائے۔

پاکستان: سوشل نیٹ ورکس کی تجربہ گاہ ؟

پاکستان گذشتہ دس برسوں میں ان سوشل نیٹ ورکس کی محض ایک تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ عوام کی اکثریت جو نہ لکھنا پڑھنا جانتی ہے اور نہ جہاں اخبار، ٹی وی اور دوسرے میڈیا تک عام رسائی تھی، اچانک اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکس کی دستیابی نے کیا گل کھلائے ہیں؟ کس طرح یہ پلیٹ فارمز ایک طرف تو سنسرشپ کے تحت مختلف نظریات کا گلا گھونٹتے رہے ہیں، تو دوسری طرف اپنے من پسند نظریات کی ترویج کرنے والوں کو لامحدود رسائی دی گئی ہے۔نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ کہاں تو ریاست ففتھ جنریشن وارفئیر [Fifth Generation warfare] کے تحت اس سب کو پروان چڑھا رہی تھی، تو اب اس سب کو ڈیجیٹل دہشت گردی قرار دے کر مختلف فائروالز کے ذریعے روکنے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے۔ کیا پانی سر سے گزر چکا ہے یا اس انتشار کو روکنے کی کوئی صورت ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

کیا فائر وال مسئلہ حل کر پائے گی؟

تازہ خبروں کے مطابق حکومت پاکستان نے سوشل میڈیا کے شتربےمہار پر قابو کرنے کے لیے دوبارہ فائر وال انسٹال کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۹ء میں بھی حکومت وقت نے ایک فائروال انسٹال کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ 

فائر وال انٹرنیٹ پر ٹریفک کو فلٹر کرنے کا کام کرتی ہے۔ اگر کسی ویب سائٹ کو بلاک کرنا ہو تو اس کا پتہ یا URL فائروال کو بتادیا جاتا ہے اور پھر وہ ویب سائٹ اس ملک یا دفتر یا گھر جہاں بھی وہ فائر وال انسٹال ہو، کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ یہ کام تو تقریباً تمام ہی فائر والز کرلیتی ہیں۔ لیکن اگر کسی ’اپلی کیشن‘ یا ویب سائٹ کو مکمل بند نہ کرنا ہو بلکہ ان پر موجود مخصوص مواد کو ہٹانا ہو، تو اب ایسی ’فائر والز‘ بھی آگئی ہیں، جو ڈیپ پیکیٹ انسپکشن اور ایڈوانس ڈیپ پیکٹ انسپکشن ٹکنالوجی  (Advanced Deep Packet Inspection)کا استعمال کرتے ہوئے کسی ایپ پر کال کو ریکارڈ کرلیتی ہیں، یا مخصوص مواد کو پڑھ کر اس مواد کو شئیر یا پھیلانے والے کا پتہ لگالیتی ہیں۔

اس قسم کی ’فائر والز‘ کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے۔ چین نے اپنے عوام کا ڈیٹا محفوظ بنانے اور مغربی ممالک تک پہنچنے سے روکنے کے لیے نہ صرف فائروال انسٹال کی ہوئی ہے، جسے ’گریٹ فائر وال آف چائینہ‘ کہا جاتا ہے، بلکہ تمام مغربی سوشل نیٹ ورکس پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔  

یہ بات سمجھنے کے بعد یہاں پر بہت اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی دنیا میں جہاں یہ دعویٰ کیا جاتا ہو کہ خدا اور کراماًکاتبین کے بعد آپ کو سب سے زیادہ یہ سوشل نیٹ ورکس جانتے ہیں، اور جہاں دنیا بھر میں موجود ہزاروں ڈیٹا سینٹرز پر دن رات چلنے والی بلامبالغہ لاکھوں کروڑوں طاقت ور مشینوں پر جمع ہونے والا یہ مواد یا ڈیٹا خدائی ذہانت یا Super Intelligence کے حصول کے لیے استعمال ہورہا ہے، کیا ایک فائر وال انسٹال کرلینا کافی ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ایک ایسی جنگ کا سامنا کررہے ہیں جو ہم بغیر لڑے ہی ہار چکے ہیں؟

الحاد کا  فروغ

جب ایک طرف تو مذہب کے ساتھ نفرت، دہشت، جنگ اور فساد کو جوڑ دیا جائے اور دوسری طرف مادیت کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو، تو اس کا لامحالہ نتیجہ خدا اور دین بیزاری کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی کچھ امریکا میں ہوا جہاں نو گیارہ کے بعد اسلام کے خلاف مہم کا نتیجہ امریکی معاشرے میں الحاد یا Atheism کے دوبارہ عروج کی صورت میں نکلا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا نیٹ ورکس نے اس صورت حال کو مہمیز دے کر پوری دنیا میں پھیلا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں پھیلنے والی لادنیت یا الحاد کی بڑی وجہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس ہیں۔ اس صورت حال پر برطانوی پروفیسر اسٹیفن بلیونٹ نے اپنی کتاب [غیر عیسائی امریکا کی تعمیر] یا  Nonverts: The Making of Ex-Christian America میں روشنی ڈالی ہے۔ مصنف کے خیال میں امریکا میں بڑھنے والے الحاد یا Atheism اور سیکولرازم کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہیں:

Given how much more willing people are to talk about religion and politics online than they are in person, you’re therefore probably exposed to all manner of different viewpoints. Sometimes, maybe one of these makes you think differently about a political policy or religious doctrine — or even if not, it makes you a little less sure about it than you used to be.Given the sheer amount of time many people tend to spend on social media platforms, it’s not hard to imagine that the cumulative effect of all this might well be to chip away at lots of hitherto unexamined convictions. And that this, combined with other factors, might help nudge a good number further along the path away from religion — and to shove a few of them down one or another shortcut to Advance Directly to Godlessness.

کیونکہ لوگ عام زندگی کے مقابلے میں انٹرنیٹ پر مذہب اور سیاست کے بارے میں زیادہ بات کرتے ہیں، اس لیے یہاں ان کو مختلف نظریات کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔ اور کبھی کبھی ایسا ہی کوئی نظریہ یا بات آپ کو اپنے اعتقادات کے بارے میں مختلف طریقے سے سوچنے پر مجبور کرسکتی ہے یا کم از کم آپ کو شک میں ضرور ڈال سکتی ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ لوگ کتنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صرف کررہے ہیں، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اس کا لازمی نتیجہ بہت سے کمزور عقائد سے پیچھے ہٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اگر اسی کے ساتھ دوسرے عوامل کو شامل کرلیا جائے تو اس سب سے [لوگوں کی] بڑی تعداد کو مذہب سے دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہاں تک کہ چند لوگ تو خدا پر یقین بھی کھو سکتے ہیں۔گویا کہ کہاں تو سوشل میڈیا نیٹ ورکس ہم کو کنویں کا مینڈک بنا رہے تھے اور اب کہاں ہم خدا بیزار نسل کا ظہور انھی سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی بدولت دیکھ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور دعوت کا میدان

سوشل میڈیا نیٹ ورکس اپنی دعوت کو پھیلانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بن کر سامنے آئے ہیں۔ کسی بھی موضوع پر فوری دستیاب معلومات کے حصول نے لوگوں کے لیے ایک دوسرے کو جاننے اور مختلف نظریات کو پڑھنے یا جاننے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔

گذشتہ دنوں امریکا میں ہونے والے الیکشن سے قبل ری پبلکن پارٹی کے قومی اجلاس میں سکھوں کی جانب سے نمائندگی کرنے والی ہرمیت ڈھلوں نے اپنی تقریر کا آغاز سکھوں کی دعا سے کر کے خبروں میں جگہ بنالی۔ تفصیلات کے مطابق سکھ ری پبلکن امیدوار کا سکھوں کے خدا ’واہ گرو‘ ' کا ذکر امریکا میں موضوعِ بحث بن گیا۔ جہاں ان کے مخالفین نے اسے عیسائی دشمنی کہا تو ان کے حمایتیوں نے اسے دو مذاہب میں محبت بڑھانے کا ذریعہ۔ لیکن جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس تقریر کے بعد اگلے تین دنوں تک گوگل سرچ انجن پر امریکا میں سب سے زیادہ تلاش کیا جانے والا لفظ 'وہی ’واہ گرو‘ بن گیا اور گوگل ٹرینڈز کے مطابق گوگل استعمال کرنے والے ہر سو میں سے ستّر افراد نے اگلے تین دنوں میں اس بارے میں جاننے کی کوشش کی۔

یہ واقعہ اسلام کی دعوت پھیلانے والوں کے لیے ایک امید اور دستیاب مواقعوں کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ کام انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر نہایت ہی غیر منظم انداز میں ہورہا ہے۔ جہاں ایک طرف بعض لوگوں نے ان پلیٹ فارمز پر اسلام کے بجائے اپنے اپنے مسالک کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے، وہیں سنسر شپ بھی زبردست طریقے سے آڑے آرہی ہے۔ مثلاً جب ہم نے گوگل سرچ پر 'اللہ کون ہے؟ (Who is Allah)، 'اسلام میں خدا کا تصور (God In Islam) اور 'محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] کون ہیں؟ ( Who is Muhammad? ) تلاش کیا تو گوگل نے اپنے پہلے صفحے پر ہمیشہ وکی پیڈیا ، برٹانیکا جیسی ویب سائٹس کو اوپر رکھا اور مسلمانوں کی بنائی کسی بھی اسلامی ویب سائٹ کو گوگل کے پہلے صفحے پر بمشکل ہی جگہ مل پائی۔

دوسری طرف اسلام، اللہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جڑے منفی سوالات کے لیے گوگل نے مغربی پروپیگنڈا ویب سائٹس کو پہلے صفحے پر پوری آزادی دی ہوئی ہے۔ یہ سوالات انگریزی زبان میں پوچھے گئے تھے لیکن دوسری زبانوں میں گوگل سرچ پر کیا صورت حال ہوگی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع پر تفصیلی سوچ بچار کے بعد ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے اور اپنی دعوت کو مختلف زبانوں میں بہترین طریقے سے پیش کیا جائے۔ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا نہ صرف دفاع کیا جائے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لایا جائے۔ اسی طرح اسلام اور عیسائیت اور مسلم اور ہندو تصادم کی صورت حال کو بھی دوستانہ اور داعیانہ رخ دے کر نفرت کو محبت سے بدلا جائے۔ 

میٹاورس: سوشل میڈیا  نیٹ ورکس کا مستقبل؟

’میٹاورس‘ ایک ایسی مصنوعی دنیا Virtual World کوکہتے ہیں، جہاں آپ کے بجائے آپ کا کارٹون کیریکٹریا Digital Avatar آپ کی نمائندگی کرتا ہے۔ میٹاورس استعمال کرنے کے لیے آپ کو اپنی آنکھوں پر ایک ڈیجیٹل چشمہ یا Virtaul Reality Headset پہننا پڑتا ہے، جس کے بعد آپ ایک کثیرالجہتی ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں جو حقیقی دنیا کا متبادل ہوگی۔ ابھی یہ ٹکنالوجی اپنی ابتدائی شکل میں ہے لیکن ’میٹاورس‘ کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا مستقبل کہا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کاروبار سے لے کر تفریح تک سارے کام کریں گے۔

ماہرین کے خیال میں ’میٹاورس‘ کی ترقی سے ہم زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اہم تبدیلیاں دیکھیں گے، مثلاً تعلیم، گھر بیٹھے کام کرنا، سیر و تفریح وغیرہ۔ مائیکروسوفٹ نے دفاتر کو ملازمین کے لیے مزید دلچسپ بنانے کے لیے اپنی مختلف ایپس میں ’میٹاورس‘ کو شامل کیا ہے تاکہ دومختلف جگہوں پر بیٹھے لوگ زیادہ فعال طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کرسکیں۔ لیکن ’میٹاورس‘ کا سب سے زیادہ اثر آن لائن گیمنگ پر پڑ رہا ہے۔ اور میٹاورس نے ورچول رئیلیٹی (Virtual Reality )کی مدد سے آن لائن گیمنگ کو پہلے سے زیادہ 'دلچسپ بنادیا ہے جو نوجوانوں کو ان پلیٹ فارمز پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کے لیے ضروری ہے۔

اگر ’میٹاورس‘ قبولِ عام حاصل کرلیتا ہے، تو اس کے اثرات ناقابلِ بیان ہوسکتے ہیں ۔ ہم نے اس مضمون کے آغاز میں جس واقعے کا ذکر کیا ہے وہ پہلا نہیں ہے۔ انڈیپنڈنٹ اخبار کی ایک خبر کے مطابق نینا جین پٹیل، جو ایک ماہر نفسیات اور محقق ہیں، کو بھی اسی قسم کے تجربے سے گزرنا پڑا، جب وہ یہ معلوم کرنے کے لیے فیس بک کے میٹاورس پلیٹ فارم پر گئیں کہ وہ پلیٹ فارم خواتین یا بچوں کے لیے کتنا محفوظ ہے۔ ان کے مطابق محض ۶۰ سیکنڈ میں ہی ان کے کارٹون کردار کو بدترین ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا، اور ان لوگوں یا کرداروں نے ان کے کردار کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ یہ تجربہ ان کے لیے اس لیے بھی خوفناک ثابت ہوا کیونکہ انھوں نے ’ورچول ہیڈ سیٹ‘ کے ساتھ ساتھ ہاتھوں اور کلائیوں میں بھی ایسے آلات [Touch controllers and wrist straps] پہن رکھے تھے، جن کی وجہ سے جب بھی میٹاورس میں ان کے کردار کو کوئی چھوتا تو اسے وہ اپنے جسم میں محسوس کرسکتی تھیں۔ ’فیس بک‘ کو اس خبر کے بعد اپنے میٹاورس پلیٹ فارم پر ذاتی حدود یا Personal boundries کا فیچر متعارف کرانا پڑا تاکہ دو کرداروں کے درمیان کم از کم چار فٹ کا فاصلہ رہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے لیے میٹاورس کیوں ضروری ہے؟ اس موضوع پر عالمی اقتصادی فورم کے مقرر اینڈریو راس سورکن(Andrew Ross Sorkin) روشنی ڈالتے ہیں:

There's going to be people of means who are going to travel, and then there's going to be people maybe of lesser means who might actually be able to use an Oculs or a Magic Leap or some other kind of device to travel to the same place but from their own couch.

ایک طرف امرا ہوں گے جو [حقیقی] سفر کیا کریں گے جو اس سفر کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں اور دوسری طرف عام لوگ جن کے وسائل کم ہیں۔ یہ لوگ اوکلس [فیس بک کا ورچول ریلیٹی ہیڈ سیٹ Facebook Virtual Reality headset] یا میجک لیپ یا کوئی اور دوسری مشین کا استعمال کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنے صوفے پر بیٹھے سفر کیا کریں گے۔

اس سب کا نفسیاتی اثر کیا ہوگا؟ اس پر خود ہی روشنی ڈالتے ہوئے اینڈریو مزید کہتے ہیں:

But in many ways, its acually going to create even more distance between those two people that psycohologically, and I think that we've experienced this through social media, in many ways, its brought people closer in certain ways, but actually created this remarkable divide because it's even more visible.

لیکن مختلف وجوہ کی بنا پر یہ سب [یعنی میٹاورس کا استعمال] ان دو طرح کے لوگوں کے درمیان ایک زیادہ وسیع نفسیاتی خلیج پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔ اور میرے خیال میں ہم یہ سب سوشل میڈیا پر دیکھ چکے ہیں جہاں ایک طرف تو یہ [سوشل میڈیا] لوگوں کوکسی طرح قریب لانے کا باعث بنا ہے، تو دوسری طرف اس نے [لوگوں کے درمیان] ایک گہری خلیج پیدا کردی ہے جو نہایت واضح ہے۔

صحت پر اثرات

شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کون دن بھر ہیڈسیٹ پہنے اپنے صوفے پر بیٹھے زندگی بسر کرنا پسند کرے گا؟ لیکن پریشان کن صورت حال یہ ہے کہ کمپیوٹرز اور پھر اسمارٹ فونز کی ایجاد کی وجہ سے آہستہ آہستہ ان کا استعمال دوسری چیزوں کے مقابلے میں خطرناک حد تک تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق ۲۰ سال قبل دنیا بھر میں لوگ اوسطاً دو گھنٹے ان اسکرینز پر گزارتے تھے جو بڑھ کر آخری دس برسوں میں تقریباً پانچ گھنٹے اور اب تقریباً سات گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ اور نوجوان نسل تقریبا ً۹ گھنٹے اوسطاً روزانہ اپنے اسمارٹ فون پر گزارتی ہے۔

اس کا نتیجہ ہماری توجہ کے بٹ جانے کی صورت میں نکلا ہے۔ امریکی ادارہ برائے نفسیات کی ایک تحقیق کے مطابق ۲۰ سال قبل عام طور پر ایک بندہ اوسطاً ڈھائی منٹ کسی بھی ایک کام پر توجہ مرکوز رکھتا تھا۔ ۲۰۱۳ء میں توجہ کا دورانیہ [Attention span] گر کر ڈیڑھ منٹ تک رہ گیا تھا اور اب توجہ کا دورانیہ محض ۴۷ سیکنڈ رہ گیا ہے۔ اور اس میں بھی ۵۰ فی صد سے زیادہ لوگ کسی بھی کام پر ۴۰  سیکنڈ سے بھی کم توجہ مرکوز کرپاتے ہیں۔

کیلیفورنیا یونی ورسٹی کی پروفیسر گلوریا مارک نے جو اس تحقیق کی سربراہ تھیں، ایک پوڈکاسٹ جس کا موضوع تھا کہ ’ہماری توجہ کا دورانیہ کیوں کم ہورہا ہے؟‘ یا 'Why our attention spans are shrinking?' میں ان تفصیلات سے آگاہی دی۔ ان کے مطابق اس سب کا لازمی نتیجہ خرابی ٔ صحت کی صورت میں نکلا ہے۔ مثلاً بار بار ایک چیز سے دوسری چیز پر توجہ مرکوز کرنے سے تناؤ (Stress) اور بلند فشار خون کے مرض میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ہماری نیند کا دورانیہ بھی کم ہوگیا ہے۔

اس بڑھتے ہوئے ’اسکرین ٹائم‘ (Screen Time)کا سب سے خطرناک اثر بچوں پر پڑرہا ہے۔ جو بچے زیادہ وقت ’یوٹیوب‘ اور ’گیمنگ‘ پر صرف کرتے ہیں، ان کے دماغ کی بڑھوتری نہ صرف بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے بلکہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کے لیے یہ سب بالکل نارمل بن جاتا ہے۔ اور ان کی اس خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت غیرمحسوس طریقے سے کم ہوجاتی ہے۔ اس صورت حال پر ایلون مسک نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے روکیں:

I would say I would urge parents to limit the amount of social media that children are able to see. Because they're being programmed by dopamine-maximizing AI.

میں کہوں گا، [بلکہ] میں والدین پر زور دوں گا کہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا پر صرف ہونے والے وقت کو محدود کریں کیونکہ وہ [بچے] ڈوپامین بڑھانے والی مصنوعی ذہانت کا شکار بن رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے بہتر استعمال کی تربیت

اس ضمن میں سب سے اہم کام جو والدین اور اساتذہ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ خود کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو نہ صرف ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے خطرات سے آگاہی دیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی آن لائن سماجی سرگرمیوں(Online Social activities) پر مختلف ایپس کی مدد سے نظر بھی رکھیں۔

اس کام کو صرف انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کے دین، ایمان ہی نہیں بلکہ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی محفوظ بنایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ جدید ’فائر والز‘ کو صرف اپنے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کو روکنے کے لیے ہی استعمال نہ کرے، بلکہ اس کے ساتھ سوشل نیٹ ورکس پر پھیلی فحاشی، لادینی نظریات اور اخلاق باختہ خیالات کو روکنے کے لیے بھِی استعمال کرے۔ صورت حال کی سنگینی پر مشہور اسرائیلی دانشور نوح ہریری نے کچھ اس طرح روشنی ڈالی ہے:

I also try to take good care of my mind. Our minds were shaped back in Stone Age in a completely different situation, and environment.We are now flooded by enormous amounts of information that we cannot deal with. What the smartest people in the world have been doing in recent years is figuring out how to use these devices in order to hack our brains and press our emotional buttons. And anybody who thinks they are strong enough to resist it is just fooling themselves.It's much, much more powerful than us.So I'm not saying it's impossible to just completely disconnect from the world, but taking some time off to just detoxify the mind and to have a kind of information diet.

میں اپنے دماغ کا اچھا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہمارے دماغ پتھر کے زمانے کے بنے ہوئے ہیں جب [آج کل کے مقابلے میں] بالکل الگ ماحول تھا۔ آج ہم کو معلومات کے ایک سیلاب کا سامنا ہے جس سے نبردآزما ہونا ہمارے بس کی بات نہیں۔ دنیا کے ذہین ترین افراد پچھلے کئی برسوں سے ان مشینوں کو ہمارے دماغوں کو قابو کرنے اور ہمارے جذبات سے کھیلنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اور جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت حال کا مقابلہ کرسکتا ہے، اپنے آپ کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ یہ سب ہم سے بہت زیادہ طاقت ور ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم اس [ڈیجیٹل] دنیا سے بالکل الگ ہوجائیں لیکن کچھ دیرکے لیے اس سے دُور رہنا تاکہ ہم اپنے دماغ کو ان مضر اثرات سے دُور کریں ضروری ہے۔ ساتھ ہی ہم کو اس [بے ہنگم اور بے تحاشا] معلومات سے پرہیز بھی کرنا ہوگا۔

خلاصۂ بحث

کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں ایک بادشاہ کو عوام کو قابو کرنے کا ایک انوکھا طریقہ سوجھا۔ اس نے تجربے کے لیے چند بچوں کو ایک اندھیرے غار میں قید کردیا، جہاں روشنی کا کوئی گزر نہ تھا۔ غار کے بیچ میں آگ جلتی رہتی تھی اور غار کے داخلے کی جگہ پر چند غلام کھڑے پتلی تماشا دکھایا کرتے تھے جس کا عکس غار کی دیوار پر پڑتا تھا۔ وہ بچے جو اس غار میں قید تھے، ان کی دنیا اور سمجھ بوجھ بس یہی غار اور اس میں دکھایا جانے والا وہ پتلی تماشا تھا جس کا عکس وہ غار کی دیوار پر دیکھا کرتے تھے۔ آخر ایک بچے نے ہمت کی اور اس غار سے نکلنے کی کوشش کی لیکن غار سے باہر نکلتے ہی سورج کی روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں اور وہ غار میں واپس آگیا۔ اس کے تجربے کو دیکھتے ہوئے دوبارہ کسی نے اس غار سے نکلنے اور حقیقت پانے کی کوشش نہیں کی۔

افلاطون [م: ۳۴۰ ق م]نے یہ تمثیل اپنی کتاب ریاست ( 'Repulic' ) میں کوئی دوہزار سال قبل بیان کی تھی۔ لیکن اب جدید دنیا کے فلسفی سوشل میڈیا اور اس کے اثرات کو اسی تمثیل کے ذریعے بیان کرتے نظر آتے ہیں۔

جس اطلاعتی دور (Information Age') کے خطرات پر کچھ عرصہ قبل محض گفتگو ہوتی تھی، وہ دور آج ہمارے سامنے ایسی آب و تاب سے آن کھڑا ہے کہ اس نے دیکھنے والی آنکھوں کو خیرہ اور سوچنے والے ذہنوں کو ماؤف کردیا ہے۔ مدہوشی کی ایک کیفیت ہے جو پوری انسانیت پر طاری ہے۔ ایک طرف راتوں رات مشہور اور جلد از جلد امیر بننے کی خواہش نے فرد، خاندان اور معاشرے کو بری طرح تقسیم کردیا ہے، تو دوسری طرف بڑھتی ہوئی لادینیت کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ نہ اس سب سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر آتا ہے اور نہ کوئی راہ فرار۔ المیہ یہ ہے کہ جس اُمت کو ’اُمت وسط‘ کا کردار ادا کرنا تھا اور جس نے دنیا کو خبردار کرنا تھا، وہ بے بسی سے اسی سیلاب میں بہتی نظر آرہی ہے۔

ہم طبقاتی کش مکش کے قائل نہیں ہیں بلکہ دراصل ہم تو طبقاتی حِس اور طبقاتی اِمتیاز کو بھی ختم کردینا چاہتے ہیں۔ ایک معاشرے میں طبقے دراصل ایک غلط نظام سے پیدا ہوتے ہیں۔ اخلاق کی خرابی ان میں امتیازات کو اُبھارتی ہے اور بے انصافی ان کے اندر طبقاتی حِس پیدا کردیتی ہے۔

ہم انسانی معاشرے کو ایک تنِ واحد کے اعضا کی طرح سمجھتے ہیں۔ جس طرح ایک جسم میں مختلف اعضا ہوتے ہیں اور جسم کے اندر ان کا مقام اور ان کا کام جدا جدا ہوتا ہے، مگر ہاتھ کی پائوں سے اور دماغ کی جگر سے کوئی لڑائی نہیں ہوتی، بلکہ جسم زندہ ہی اس طرح رہتا ہے کہ یہ سب اپنے اپنے مقام پر اپنا اپنا کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے کے مختلف اجزا بھی اپنی اپنی جگہ اپنی قابلیت و صلاحیت اور فطری استعداد کے مطابق کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ہمدرد و مددگار اور مونس و غم خوار بنیں،اور ان کے اندر طبقاتی کش مکش تو درکنار طبقاتی حِس اور طبقاتی اِمتیاز ہی پیدا نہ ہونے پائے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہرشخص خواہ وہ اجیر ہو یا مستاجر، اپنے حقوق سے پہلے اپنے فرائض کو پہچانے اور انھیں ادا کرنے کی فکر کرے۔ افراد میں جتنا جتنا احساسِ فرض بڑھتا جائے گا، کش مکش ختم ہوتی جائے گی اور مشکلات کی پیدائش کم ہوتی چلی جائے گی۔

ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کی اخلاقی حِس بیدار کی جائے اور ’اخلاقی انسان‘ کو اس ’ظالم حیوان‘ کے ُچنگل سے چھڑایا جائے جو اس پر غالب آگیا ہے۔ اگر افراد کے اندر کا یہ ’اخلاقی انسان‘ اس غالب حیوانیت سے آزاد ہوکر ٹھیک کام کرنے لگے، تو خرابیوں کا سرچشمہ ہی سوکھتا چلا جائے گا۔ (’مزدوروں کے متعلق جماعت کی پالیسی‘، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۲، عدد۲، اکتوبر ۱۹۶۴ء، ص۴۰

ماضی میں اسرائیل نے ہمیشہ مختصر اور فیصلہ کن جنگیں اسرائیل میں نہیں بلکہ اپنے اردگرد محصور عرب سرزمین پر لڑی ہیں۔ آخری بار ۱۹۷۳ء کی جنگ میں عرب اتحادی فوج کو شکست دینے کے بعد سے، اسرائیل نے کبھی اپنے خلاف مؤثر عرب اتحاد کی تشکیل کی اجازت نہیں دی۔ نتیجہ یہ کہ اسے کبھی مشترکہ عرب اتحاد کی طاقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جس سے اسے متعدد محاذوں پر جنگ کا خطرہ ہو۔

۱۹۷۳ءمیں عرب اتحادی فوج کو شکست دینے کے کئی عشروں بعد، اسرائیل آج نہ صرف غیر ریاستی عناصر اور گروہوں سے بلکہ ’مزاحمت کا محور‘ (حماس) سے نبرد آزما ہے۔ اس بار اسرائیل ایک طویل جنگ لڑ رہا ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔ غزہ میں یہ زمینی اور فضائی کارروائیاں کررہا ہے، اور لبنان میں حزب اللہ کی طرف سے شمالی سرحد پر لاحق خطرہ بھی جنگ میں ڈھل چکا ہے۔ مغربی کنارے کی کارروائیاں بھی اسرائیلی فوجیوں کو وہاں اُلجھاتی رہتی ہیں۔بیرونی طور پر شام سے آنے والے پراکسی گروپوں کا خطرہ اور ایران کے ہوائی حملوں یا یمن سے حوثیوں کی طرف سے بحیرۂ احمر میں فوجی کارروائیوں نے اسرائیل اور اس کی حلیف خلیجی ریاستوں کے مفادات سمیت اس جنگ کو بہت پیچیدہ بنادیا ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل نے اپنی سرزمین کے اندر جنگ شروع کی ہے۔ پھر وہ مختصر اور فیصلہ کن نہیں بلکہ ایک طویل جنگ لڑ رہا ہے، اور اسے متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ اسے ایسے سیکورٹی مخمصے کا سامنا ۱۹۷۳ء میں عرب اتحاد کے خلاف جنگ کے بعد سے نہیں ہوا تھا۔

اس جنگ کی مہلک خامیاں سیاسی اور قانونی دائرے میں ہیں۔ اسرائیل جتنا زیادہ طویل فوجی جدوجہد میں اُلجھتا جائے گا، اس کے سیاسی اور قانونی مسائل میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ واضح سیاسی ہدف کے بغیر، کوئی بھی عسکری حکمت عملی اپنی اہمیت کھودیتی ہے۔ بلاشبہہ جنگ ایک سیاسی عمل ہے۔ چونکہ طاقت کا استعمال سیاسی ہے، اس لیے اسرائیلی سیاست دانوں کو جس چیز پر غورکرنے کی ضرورت ہے، وہ صرف ذرائع نہیں بلکہ انجام بھی ہے۔ غزہ کی جنگ میں سیاست کس طرح اپنا کردار ادا کر رہی ہے؟ کیا اسرائیل کی سیاسی حکمت عملی صرف غزہ میں حماس کو شکست دینے تک محدود ہے؟ کیا فوجی جبر کی یہ حکمت عملی عالمی اثرات پیدا نہیں کر رہی؟ کیا غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی پوری دنیا کو نقصان نہیں پہنچا رہی، جیسا کہ عالم گیریت کی دنیا میں تمام ریاستوں کی معیشتیں ایک دوسرے پر منحصر ہیں؟

اس جنگ میں اسرائیلی حکمت عملی سے پوری دنیا کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ابھی تک ایسا لگتا ہے کہ سیاسی مقصد صرف حماس کی عسکری قوت کا خاتمہ اور پناہ گزینوں کی واپسی نہیں ہے، بلکہ ایک وسیع تر ایجنڈے پر عمل کرنا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ دنیا اس جنگ کے لیے اسرائیل کے حقیقی مقاصد کے بارے میں اندازہ لگانے میں ناکام ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ اسرائیل کا یہ رویہ خطے میں وسیع تر تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسرائیل کا اندازہ ہے کہ حماس کے ۳۰ ہزار جنگجو ہیں اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان میں سے تقریباً ۱۸ ہزار کو مار دیا ہے۔ اس میں جو بات واضح نہیں کی گئی وہ یہ ہے کہ حماس نے اس اسرائیلی ظلم و سفاکیت کے خلاف لڑنے کے لیے مزید کتنے لوگوں کو بھرتی کیا ہے؟ سیاسی طور پر اسرائیل کو عالمی تنہائی کا سامنا ہے اور قانونی طور پر اس کے اقدامات کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں چیلنج کیا گیا ہے، جس نے وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔ دنیا نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے جواز کو چیلنج کیا ہے اور اسرائیلی مسلح افواج کے پاؤں کے نیچے سے قانونی جواز کا قالین کھینچ لیا ہے۔ جنگ کو ختم کرنے کے واضح سیاسی ہدف کے بغیر اسرائیل اپنی معیشت، معاشرے، فوج اور سب سے بڑھ کر ایک قومی ریاست کے طور پر اپنی ساکھ کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے بارے میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے کچھ مفروضوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے:

  • پہلا مفروضہ، اسرائیل کو درپیش خطرے اور اس سے پیدا ہونے والے اضافی خطرات کو ختم کرنے کے لیے اسے ایک طویل جنگ کی ضرورت ہوگی۔ واضح سیاسی ہدف اور اخراج کی حکمت عملی کے بغیر اسرائیل ایک طویل جنگ لڑتا رہے گا۔
  •  دوسرا مفروضہ، اسرائیل کو یہ جنگ لڑنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور اضافی پُرزوں کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال یہ امریکا پر انحصار جاری رکھے گا، لیکن درمیانی اور طویل مدت میں اگر امریکا دیگر مسائل میں اُلجھ گیا تو اسرائیل کی متعدد محاذوں پر بیک وقت فوجی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت تیزی سے کم ہو جائے گی۔ اگر وہ اپنا دفاعی بجٹ بڑھاتا ہے اور اپنی دفاعی صنعتوں کو بڑھاتا ہے، تو یہ صرف اس کی معیشت کی قیمت پر ہوسکتا ہے۔
  •  تیسرا مفروضہ ،اس جنگ میں چین یا روس کا شامل ہوجانا ہے۔ یہ دونوں بڑی طاقتیں غزہ میں جو کچھ ہوتا دیکھتی ہیں، اس کی تائید نہیں کرتی ہیں۔ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر دونوں طاقتیں تنقید کرتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں، بڑی طاقتیں یا تو مقابلہ، ورنہ ان کے اثرات کو کم کرنے کی کوششوں کے تحت بات چیت کرتی ہیں۔ امریکا عالمی بالادستی کے طور پر دونوں عظیم طاقتوں کے خلاف ان کے اثرات کو کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روس اور چین بھی مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں امریکا کو پھنسے ہوئے دیکھ کر خوش ہوں گے کیونکہ اس سے انھیں اپنے دائرۂ کار میں درپیش چیلنجوں کے حوالے سے خطّے میں اپنے جیو پولیٹیکل مقاصد حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ فائدہ اور اسٹرےٹیجک جگہ ملے گی۔

حماس کی جگہ فلسطینی حکومت کا قیام، لبنان میں حزب اللہ کے خطرے سے نمٹنا، ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا، اور یمن میں حوثیوں کے خطرے سے نمٹنا___ وہ تمام چیلنجز ہیں، جن کا اسرائیل کو اس کثیر محاذ جنگ میں سامنا ہے۔