مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۲۶

غزہ اور لبنان میں جنگ بندی، ثالثی کی کوششوں اور بارہا کی سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اب بھی پائیدار امن سے خاصا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے: ’’ہم نے سیکڑوں سال پرانے وہ ۲۴ لبنانی دیہات تباہ کردیئے جن کے شیعہ باشندے حزب اللہ کی حمایت میں اسرائیل کے دشمن کے طور پر کام کرتے تھے۔ہم نے صرف چند مکانات نہیں بلکہ پورے دیہات مسمار کیے ہیں‘‘۔ اس طرح ۱۵ سے ۲۰ ہزار مکانات منہدم کیے جا چکے ہیں۔ اس بیان کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبادی کو صرف ’حزب اللہ کے حامی‘ نہیں بلکہ ’شیعہ باشندے‘ کہہ کر متعارف کرایا گیا۔ جب کسی فوجی مہم میں مذہبی شناخت کو اس انداز سے نمایاں کیا جائے تو اس سے سیاسی اور عسکری تنازع کو فرقہ وارانہ رنگ ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدیوں سے آباد دودرجن دیہات اور تقریباً ۷۰۰ مربع کلومیٹر علاقے کی تباہی صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے جغرافیے اور آبادیاتی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی بلکہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔

غزہ میں بھی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ۲؍اگست کو دیر البلاح ، خان یونس اور دوسرے شہروں پر بمباری میں آٹھ اور ڈیڑھ سال کی بچیوں سمیت ۱۹؍افراد جاں بحق ہوئے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق جولائی میں ایک سو سے زیادہ شہری اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔ کچے گھروندوں اور خیموں کے ساتھ غزہ شہر میں امدادی خوراک کے گودام پر بھی بمباری کی گئی۔ گویا حیات کے ساتھ اب اسباب حیاتِ کو بھی غارت کیا جارہا ہے۔

  • جنگ کی تلخیوں میں شہد کا ذکر:تباہی و مایوسی کے ان لمحات میں بھی اہل غزہ اُمید کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ جنگ سے پہلے غزہ میں تقریباً ۳۰ ہزار شہد کے چھتے تھے، جن سے ہر سال سیکڑوں ٹن شہد حاصل ہوتا تھا۔ اب یہاں سات سو سے بھی کم چھتے باقی رہ گئے ہیں اور پیداوار صرف ۱۰ فی صد تک محدود ہو چکی ہے۔ باغات تباہ ہو چکے ہیں، اور شہد کی مکھیوں کے لیے پھول بھی نایاب ہو گئے ہیں۔اس کے باوجود غزہ کے شہد بان ہمت ہارنے پر آمادہ نہیں۔  
  •  غربِ اُردن: زمین کی خاموش جنگ:غربِ اردن میں حملے، بے دخلی اور قبضے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ الخلیل (Hebron) کے گاؤں صوریف پر صہیونی قبضہ گردوں نے حملہ کرکے مکانوں، گاڑیوں اور فصلوں کو آگ لگادی اور قبریں مسمار کردیں۔ نابلوس کے علاقے تل پر ایسے ہی ایک حملے میں ۶؍ افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس طرح اسرائیلی آبادکاری کا دائرہ اب صرف نجی فلسطینی زمینوں تک محدود نہیں رہا۔ 
  • اسرائیلی فوج میں اثرات:  گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے متعدد فوجیوں نے اپنے کمانڈر سے اختلاف کے بعد عارضی طور پر فوجی اڈہ چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ بغاوت نہیں، تاہم اسرائیلی فوج میں اجتماعی احتجاج یا ڈیوٹی سے انکار کا واقعہ، ریزرو اہلکاروں کی جانب سے احتجاج، اجتماعی استعفے اور غیر حاضری کی خبریں تین برس سے جاری جنگ کے نفسیاتی اثرات کا مظہرہیں۔ یقینی بات ہے کہ طویل جنگیں صرف دشمن کو ہی نہیں تھکاتیں، اپنی فوج کے اعصاب بھی آزماتی ہیں۔
  •  مغرب میں بدلتی ہوئی فضا:جنگ کا اثر عالمی رائے عامہ پر بھی واضح طور پر نظرآرہا ہے۔ برطانیہ کے مشرقی لندن میں واقع ہیکنی کونسل (Hackney Council) نے حال ہی میں اسرائیلی شہر حیفہ کے ساتھ اپنی ’ٹوئن سٹی‘ (Twin City) شراکت داری ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کے حامی ارکان کا مؤقف تھا کہ غزہ میں انسانی بحران کے تناظر میں معمول کے تعلقات برقرار رکھنا ان کے ووٹروں کے جذبات اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ اب صرف سفارتی یا عسکری معاملہ نہیں رہی، بلکہ یورپ کی مقامی سیاست اور عوامی رائے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

اسی نوعیت کی تبدیلی امریکا میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ICCکے وارنٹ کی تعمیل کی کوشش کریں گے۔ ممدانی نے حتمی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے ’کوشش‘ کہا کہ اس حوالے سے مئیر اور شہری انتظامیہ کے اختیارات محدود ہیں۔ ایک سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو امریکا آئیں تو کیا امریکی حکام کو وارنٹ پر عمل کرنا چاہیے؟ تو سروے کے مطابق ۴۹ فی صد امریکیوں نے اس کی حمایت کی، ۲۷ فی صد نے مخالفت کی، جب کہ باقی غیر جانب دار رہے۔ اگرچہ کسی ایک سروے کو امریکی عوام کی حتمی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ نتائج اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل، خصوصاً نیتن یاہو، کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ چند برس پہلے ایسا سوال امریکی سیاست میں تقریباً ناقابلِ تصور تھا۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ ابھی بھی بارود سے بھرا ہوا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں،جب کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبہ زیرِ بحث ہے، لیکن دونوں محاذوں پر وقفے وقفے سے گولہ باری اور فوجی کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی عسکری و داخلی سیاست، امن کی طرف بڑھنے کی سیاسی خواہش سے زیادہ طاقت ور ہے ۔

  •  لبنان: مذاکرات اور میدانِ جنگ:لبنان کے معاملے میں ایک بنیادی پیچیدگی یہ ہے کہ حزب اللہ، جو اس تنازع کا ایک اہم عسکری فریق ہے، مذاکرات کی میز پر موجود نہیں۔ امریکا کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔خبروں کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے کی نگرانی کے لیے کسی تیسرے فریق کی موجودگی جیسے امور پر اتفاق ہوچکاہے۔ حالیہ پیش رفت میں دونوں جانب سے نگرانی امن کے لیے ممکنہ ممالک کی ایک فہرست پر اتفاق بھی سامنے آیا ہے، تاہم حزب اللہ نے غیر مسلح ہونے سے انکار کردیا ہے۔ 

اس سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ جمعہ ۷؍ اگست کو مزاحمت کاروں نے جنوبی لبنان کے شہر مجدل سلم میں میجرسمیت دواسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور کئی زخمی کردیئے۔ دوسرے دن اسرائیلی فضائیہ نے قریبی گاؤں تبنین کے قبرستان کی مسجد کو نشانہ بنایا جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ سبت یعنی ہفتے کے روز اسرائیلی طیارے جنوبی لبنان کی اس شہری آبادی پر آگ برسارہے تھے۔

  •  غربِ اُردن: جنگ کا تیسرا محاذ:غزہ اور لبنان کے ساتھ غرب اردن میں اس ہفتے بھی فلسطینیوں پر حملے اور بے دخلی کا سلسلہ جاری رہا۔ نابلوس کے علاقے جالود پر مسلح قبضہ گردوں نے گاڑیوں اور مکانوں کو آگ لگادی اور پولیس نے وہاں پہنچ کر اپنے اثاثوں کا دفاع کرنے والے کئی فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔ادھر کچھ عرصے سے گھر خالی کرانے کے لیے مکینوں کو یرغمال بنانے کی واردات بھی شروع ہوچکی ہے۔ نابلوس کے قصبے قصرہ میں یوسف حسن کا گھر گذشتہ کئی دنوں سے صہیونی مسلح قبضہ گردوں کے محاصرے میں ہے۔ انھوں نے گھرکے مرکزی دروازے کے سامنے ایک عارضی ڈھانچا کھڑا کردیا ہے جس کے باعث حسن، ان کی اہلیہ اور دو کم سن بیٹیاں، جن کی عمریں صرف دو اور چار سال ہیں، گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اور کوئی شخص اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ یوسف نے گھر کے اندر سے فون پر بتایا کہ بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی گئی ہیں۔
  •  ملبے سے نکلتی ہوئی لاشیں:حالات نسبتاً پرسکون ہونے پر غزہ شہر کے محلے الصبرہ میں نومبر ۲۰۲۳ء کی اسرائیلی بمباری سے زمیں بوس ہونے والی عمارت کے ملبے سے لاشوں کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ کارکنوں نے ابو شریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے ۱۱۲؍ افراد کی لاشیں بازیاب کرلیں، جن کی ۴؍ اگست کو اجتماعی تدفین کی گئی۔ صرف دو خاندان کی میتوں کی تعداد ۱۰۰ سے زیادہ۔عینی شاہدین کے مطابق ان خاندانوں کا کوئی فرد بھی زندہ نہ بچا۔
  • اسرائیلی رائے عامہ کا بدلتا ہوا منظرنامہ:ایک طرف بمباری اور حملوں کی شدت دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی چینل ۱۲ کے تازہ سروے نے زمینی صورتِ حال کی  حیران کن تصویر پیش کی ہے۔ تین برس سے جاری جنگ، ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور غزہ کی مکمل تباہی کے باوجود ۶۲ فی صد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو غزہ کو فتح نہیں کر سکتا، جب کہ صرف ۲۵ فی صد اس دعوے پر یقین رکھتے ہیں۔ جائزے کے مطابق اکثریت کا خیال ہے کہ حماس اور نہ حزب اللہ مستقبل قریب میں رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالیں گے۔ 
  •  نیتن یاہو کے بعد کون؟:اگر اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگی اہداف کو ناقابل حصول اور قیادت کی کارکردگی کو غیرتسلی بخش سمجھتی ہے تو سوال یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں تھکن، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی، اسرائیلی ووٹروں کو نسبتاً معتدل اور مفاہمت پسند قیادت کی طرف مائل کر سکتی ہے یا نہیں؟ اسرائیل کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی قومی سلامتی کا احساس شدید ہو،عوام تبدیلی کے بجائے ایسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں، جسے وہ سخت گیر اور سلامتی کے معاملات میں زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی ممکن ہے کہ نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی کے باوجود کوئی اور انتہاپسند لیڈر اسرائیلی عوام کی پہلی ترجیح بن جائے۔
  •  غزہ: مزاحمت کی تزویراتی چال؟:امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے منصوبہ امن کو تسلیم کرتے ہوئے حماس، انتظامی اختیار سے دست بردار اور اسرائیلی انخلا کے بعد غیرمسلح ہونے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے، لیکن نیتن یاہو اپنے انتہاپسند اتحادیوں کے دباؤ میں اس منصوبے کی شرائط قبول کرنے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل روزن نے کہا ہے کہ حماس نے ۱۵ نکاتی منصوبہ قبول کرنے کے باوجود اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے نظریے سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ حماس نے گیند اسرائیل کے کورٹ میں پھینکنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے تو اسے مبینہ طور پر Strategic Ambush  یعنی تزویراتی گھات قرار دیا ہے کہ حماس کا معاہدے پر دستخط کرنا وقت حاصل کرنے اور اسرائیل کوغزہ میں فوجی کارروائی روکنے کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔
  • امن کا بل یا جنگ کا تسلسل؟: امریکی حمایت یافتہ منصوبے کو قبول کرنے کا مطلب غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلا اور غزہ کی پٹی کی مکمل آزادی ہے۔انتہاپسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموتریخ ، وزیر اندرونی سلامتی اور دوسرے اتحادی نیتن یاہو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ۱۵ نکاتی منصوبے کو مسترد کرکے غزہ میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرے لیکن دوسری طرف ان کے لیے حماس کی اس پیش کش کو مسترد کرنے کا کوئی اخلاقی و سیاسی جواز نہیں۔ 

نیتن یاہو کے لیے امریکی منصوبہ قبول کرکے اپنے انتہاپسند اتحادیوں کو مطمئن رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ حماس کی اس تزویراتی گھات نے اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے امن کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کیا نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کے دباؤ سے نکل کر امن کے ’پل صراط‘ سے گزرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر تیار ہیں؟

اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سلامتی، عسکری برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔ سرحد کے دوسری جانب رہنے والے انسان اگر مستقل خوف، محرومی اور بے دخلی میں زندگی گزاریں، تو آج کی فوجی کامیابی کل ایک نئی مزاحمت کو جنم دے گی۔ جب اسرائیلی عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ تین برس کی جنگ کے بعد بھی وہ ’مکمل فتح‘ سے دُور ہیں، تو آنے والے انتخابات میں انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کا تسلسل چاہتے ہیں یا ایک نئی سیاسی حکمت ِ عملی؟

 _______________

آج کا سوڈان، ایک اور مسلم ملک کی تباہی کا نوحہ بیان کر رہا ہے۔ وہی سوڈان جس کے ایک حصے کوکاٹ کر جنوبی سوڈان کے نام سے ۹جولائی ۲۰۱۱ء کو پہلے ایک عیسائی ریاست بنائی گئی، اور آج باقی سوڈان موت و حیات اور خاک و خون کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ دونوں طرف لڑنے اور مرنے والے مسلمان ہی ہیں۔ عالمی طاقتوں نے بڑی کامیابی سے مسلم ممالک کی تقسیم اور تباہی کے مختلف ماڈل پیش اور نافذ کر رکھے ہیں۔

وہ سوڈان جو کبھی اپنی اسلامی شناخت کے حوالے سے ایک بلندمقام رکھتا تھا، آج اس میں قتل و غارت اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔ ایک طرف ایسی حکومت ہے کہ جس نے اپنی بقا کے لیے کبھی اسرائیل سے تعلقات کا پرچم بلند کیا اور کبھی شریعت کے قوانین سے پسپائی اختیار کی، لیکن اس وقت وہی ہے جو سوڈان کی جغرافیائی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔ دوسری طرف وہ ہیں جو فساد اور موت کو مسلط کرکے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان حالات میں سوڈان کی حکومت کے متعدد ناپسندیدہ اقدامات کے باوجود پاکستان، ترکی اور سعودی عرب اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ تحریک اسلامی ’کم تر بُرائی‘ کے اصول پر اس حکومت کی تائید کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتی کہ اسی طرح ملک کے وجود کو بچانے اور امن قائم کرنے کی اُمید کی جاسکتی ہے، جب کہ دیگر اصولی معاملات بعد میں دیکھے جائیں گے۔

سوڈان کی اس خانہ جنگی کی تباہی کا احوال کسی ایک جگہ پر بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ ہولناک جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے۔ ذرا تصور میں لائیے اس کا تباہ حال دارالحکومت، جو اس وقت مکمل بربادی کے قریب ہے۔اپریل ۲۰۲۳ء میں جنگ شروع ہونے سے پہلے خرطوم تقریباً ۷۰ لاکھ آبادی کا ایک گنجان آباد شہر تھا۔ آج اس کے کوچہ و بازار ویران پڑے ہیں۔ سرکاری عمارتوں کے صرف کھوکھلے ڈھانچے باقی دکھائی دیتے ہیں۔ شاندار گھر اور پُرتعیش ہوٹل کھنڈرات میں بدل چکے ہیں۔ گلیاں لڑائی سے جھلسی ہوئی اور خاموش عمارتوں کا نوحہ پڑھ رہی ہیں۔ اتنی لاشیں پھینکی گئی ہیں کہ عارضی اجتماعی قبروں سے انسانی کھوپڑیاں باہر نکل رہی ہیں۔ اس کے باوجود قتل و غارت جاری ہے۔اس صدی میں افریقہ کے بدترین تنازعات میں سے ایک تنازعے کا زخم خوردہ دل خرطوم شہر ہے۔ 

اس جنگ نے براعظم افریقہ کے تیسرے سب سے بڑے ملک سوڈان کے وسیع حصے تباہ کر دیے ہیں اور ایک کروڑ ۴۰ لاکھ لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔ لڑائی، قحط اور نسل کشی کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں کہ جن کا حساب رکھنا کسی ادارے اور ایجنسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ حالیہ افریقی جنگوں میں جس کی ہولناکیوں کا اس سے موازنہ کیا جا سکتا ہے وہ کانگو کی جنگ ہے، جس میں ۲۰۰۰ء کے عشرے کے اوائل میں ۵۰ لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ تاہم، جغرافیائی اور سیاسی اثرات کے لحاظ سے سوڈان کی جنگ اس سے بھی کہیں زیادہ تباہ کن اور ہلاکت آفرین ہے۔ 

اس جنگ نے پڑوسی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے عیسائی ریاست جنوبی سوڈان اور یمن میں خانہ جنگی کو دوبارہ بھڑکنے میں مدد ملی ہے۔ ایتھوپیا اور پورے ’ہارن آف افریقہ‘ میں قتل و غارت کے ایک اور دور کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

بیرونی طاقتوں نے اس تکلیف دہ منظرنامے میں بے حسی کی انتہا دکھائی ہے: ایک یہ کہ لڑائی کو جاری رکھنے کے لیے پیسہ اور اسلحہ دے کر، اور دوسرا اسے دانستہ نظرانداز کر کے۔ مزید آگے بڑھیئے تو بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈال کر سوڈان اور ایران کے جنگی محاذ آپس میں ایک ہو رہے ہیں۔ پھر اس جنگ کے سرپرستوں کے لیے جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھ رہی ہے، اور آخر کار انھیں امن قائم کرنے کی ایک کوشش کی کوئی وجہ بھی مل سکتی ہے۔

بظاہر سوڈان کی جنگ دو اہم متحارب فریقوں کے درمیان تصادم ہے: سوڈانی مسلح افواج (SAF: سوڈانی آرمڈ فورسز)، جو ملک کی باقاعدہ افواج اور بالفعل حکومت ہے، اور ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ (RSF)، محمد حمدان دقلو ’حمیدتی‘ کی سربراہی میں پوری طرح سے مسلح ملیشیا ہے۔ مختلف دوسرے سوڈانی مسلح گروہ بھی دونوں فریقوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ لڑائی افریقہ کے معدنی وسائل اور براعظم میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کرنے والی خطے کی دولت مند طاقتوں کے درمیان ایک ’پراکسی وار‘ (’بالواسطہ جنگ‘)بھی ہے۔ ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ کو متحدہ عرب امارات (UAE) سے ہتھیار، پیسہ اور کرائے کے جنگجو ملتے ہیں، اگرچہ عرب امارات اس کی حمایت فراہم کرنے سے سختی سے انکار کرتا ہے۔ کسی حد تک کم درجے پر، ایس اے ایف (یعنی حکومتی فورسز)کو مصر، قطر، سعودی عرب اور ترکی سے بھی اسلحہ اور مالی مدد ملتی ہے۔

آر ایس ایف نے وقتاً فوقتاً جنگ بندی مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس نے اپنی لوٹ مار سے خود کو ایک قابلِ لحاظ فوجی اور معاشی طاقت میں تبدیل کر لیا ہے، جس کے عزائم ملک پر حکومت کرنا ہیں۔ سوڈان میں ایس اے ایف کے رہنماؤں کے موقف سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ آر ایس ایف کو شکست دے سکتے ہیں اور اسی لیے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہیں۔اس دوران، متحارب فریقوں اور ان کے حامیوں پر دباؤ ڈالنے کی طاقت رکھنے والے بیرونی عناصر کی توجہ یہاں کے بجائے کہیں دوسری جانب بٹی ہوئی ہے۔

یورپ کی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنھوں نے گذشتہ نومبر میں جنگ ختم کرنے کا عہد کیا تھا، ۲۸فروری ۲۰۲۶ء سے ایران میں اپنی تباہ کن مہم میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ بہت سے سوڈانیوں، جنھوں نے اسے ایک لاینحل مسئلہ سمجھ کر قسمت کے لکھے پر سمجھوتہ کر لیا ہے، اور اس مایوسی میں صومالیہ ٹائم لائن  کی بات کرنے لگے ہیں: یعنی کئی عشروں پر پھیلا ایک ایسا تنازع، جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔

اب دو پیش رفتوں نے مل کر جنگ کے خاتمے کا ایک موقع پیدا کیا ہے، اگرچہ اس کے امکانات کم ہیں۔ فروری میں امریکا کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے بعد سے، خلیج میں پھیلی افراتفری نے سوڈان کو معمول سے بھی کم درجے میں قابلِ ترجیح بنا دیا ہے۔ 

امریکا کے ایک سابق صدر آئزن ہاور نے کہا تھا کہ ’’جب کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکے تو اسے وسیع کر دو‘‘۔ اس لیے جیسے جیسے ’امریکا ایران جنگ‘ پھیل رہی ہے، توجہ آبنائے ہرمز سے، جو اس وقت بند ہے، بحیرۂ احمر کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور وہ بھی جلد ہی بند ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں نے سعودی عرب کے لیے سوڈان کے ساحل کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا ہے، جس سے جنگ میں اس کی دلچسپی دوبارہ جاگ اٹھی ہے۔ اس سے اب اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے آر ایس ایف کی مزید پشت پناہی کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

دوسرا عنصر میدان جنگ میں پانسہ پلٹنا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں میں سوڈان کی افواج نے ۱۸ ماہ قبل خرطوم واپسی کے بعد سے اب تک کی اپنی سب سے نمایاں پیش قدمی کی ہے۔ جولائی کے آخر میں اس نے دارالحکومت خرطوم کو العبید سے ملانے والی ایک اہم شاہراہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ العبید ایک اسٹرے ٹیجک علاقائی مرکز ہے، جس پر آر ایس ایف کئی مہینوں سے قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مسلح افواج نے ایتھوپیا کی سرحد پر واقع قصبے کرمک پر بھی دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ اگرچہ اب سرکاری فوج، آر ایس ایف کو شکست دینے کی کوششوں کو دوگنا کرنے پر مائل ہے، اور فوج طویل عرصے سے یہ دلیل دیتی آرہی ہے کہ وہ طاقت کی پوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے، اور اب اسے یہ پوزیشن حاصل ہے۔ ایس اے ایف بخوبی جانتی ہے کہ جیسے جیسے جنگ طوالت اختیار کرے گی، زیادہ سے زیادہ طاقت ان گروہوں کو منتقل ہو جائے گی جن کا مفاد جنگی معیشت کو برقرار رکھنے میں ہے۔ پھر چاہے اقتدار میں کوئی بھی ہو، ملک مزید ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ یہ سچ ہے کہ کامیاب جنگ بندی کے امکانات ابھی کم ہیں۔ لیکن سفارتی کوششوں کا وقت تو بہرحال موجود ہے۔ 

 سعودی عرب، مصر اور ترکی کو ’سوڈانی مسلح افواج‘ پر زور دینا چاہیے کہ وہ اس مطالبے سے باز آجائے کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ’ریپڈ آرمڈ فورسز‘ ہتھیار ڈال دے اور غیرمسلح ہو جائے۔ متحدہ عرب امارات کو آر ایس ایف پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسے جنگ بندی کی اس خواہش پر قائم رکھنا چاہیے جس کا وہ اظہار کرتی رہی ہے، چاہے اس کا مطلب پورے سوڈان پر حکومت کرنے کے عزائم سے دست بردار ہونا ہی کیوں نہ ہو۔ ورنہ صومالیہ طرز پر طویل خانہ جنگی اور تباہی کی طرف جانے والا راستہ سوڈان کے علاوہ پورے غربی افریقہ کے عدم استحکام کو برقرار رکھے گا، جو یہ جنگ پیدا کر رہی ہے۔

 _______________