غزہ اور لبنان میں جنگ بندی، ثالثی کی کوششوں اور بارہا کی سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اب بھی پائیدار امن سے خاصا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے: ’’ہم نے سیکڑوں سال پرانے وہ ۲۴ لبنانی دیہات تباہ کردیئے جن کے شیعہ باشندے حزب اللہ کی حمایت میں اسرائیل کے دشمن کے طور پر کام کرتے تھے۔ہم نے صرف چند مکانات نہیں بلکہ پورے دیہات مسمار کیے ہیں‘‘۔ اس طرح ۱۵ سے ۲۰ ہزار مکانات منہدم کیے جا چکے ہیں۔ اس بیان کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبادی کو صرف ’حزب اللہ کے حامی‘ نہیں بلکہ ’شیعہ باشندے‘ کہہ کر متعارف کرایا گیا۔ جب کسی فوجی مہم میں مذہبی شناخت کو اس انداز سے نمایاں کیا جائے تو اس سے سیاسی اور عسکری تنازع کو فرقہ وارانہ رنگ ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدیوں سے آباد دودرجن دیہات اور تقریباً ۷۰۰ مربع کلومیٹر علاقے کی تباہی صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے جغرافیے اور آبادیاتی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی بلکہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔
غزہ میں بھی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ۲؍اگست کو دیر البلاح ، خان یونس اور دوسرے شہروں پر بمباری میں آٹھ اور ڈیڑھ سال کی بچیوں سمیت ۱۹؍افراد جاں بحق ہوئے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق جولائی میں ایک سو سے زیادہ شہری اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔ کچے گھروندوں اور خیموں کے ساتھ غزہ شہر میں امدادی خوراک کے گودام پر بھی بمباری کی گئی۔ گویا حیات کے ساتھ اب اسباب حیاتِ کو بھی غارت کیا جارہا ہے۔
اسی نوعیت کی تبدیلی امریکا میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ICCکے وارنٹ کی تعمیل کی کوشش کریں گے۔ ممدانی نے حتمی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے ’کوشش‘ کہا کہ اس حوالے سے مئیر اور شہری انتظامیہ کے اختیارات محدود ہیں۔ ایک سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو امریکا آئیں تو کیا امریکی حکام کو وارنٹ پر عمل کرنا چاہیے؟ تو سروے کے مطابق ۴۹ فی صد امریکیوں نے اس کی حمایت کی، ۲۷ فی صد نے مخالفت کی، جب کہ باقی غیر جانب دار رہے۔ اگرچہ کسی ایک سروے کو امریکی عوام کی حتمی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ نتائج اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل، خصوصاً نیتن یاہو، کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ چند برس پہلے ایسا سوال امریکی سیاست میں تقریباً ناقابلِ تصور تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ ابھی بھی بارود سے بھرا ہوا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں،جب کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبہ زیرِ بحث ہے، لیکن دونوں محاذوں پر وقفے وقفے سے گولہ باری اور فوجی کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی عسکری و داخلی سیاست، امن کی طرف بڑھنے کی سیاسی خواہش سے زیادہ طاقت ور ہے ۔
اس سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ جمعہ ۷؍ اگست کو مزاحمت کاروں نے جنوبی لبنان کے شہر مجدل سلم میں میجرسمیت دواسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور کئی زخمی کردیئے۔ دوسرے دن اسرائیلی فضائیہ نے قریبی گاؤں تبنین کے قبرستان کی مسجد کو نشانہ بنایا جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ سبت یعنی ہفتے کے روز اسرائیلی طیارے جنوبی لبنان کی اس شہری آبادی پر آگ برسارہے تھے۔
نیتن یاہو کے لیے امریکی منصوبہ قبول کرکے اپنے انتہاپسند اتحادیوں کو مطمئن رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ حماس کی اس تزویراتی گھات نے اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے امن کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کیا نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کے دباؤ سے نکل کر امن کے ’پل صراط‘ سے گزرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر تیار ہیں؟
اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سلامتی، عسکری برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔ سرحد کے دوسری جانب رہنے والے انسان اگر مستقل خوف، محرومی اور بے دخلی میں زندگی گزاریں، تو آج کی فوجی کامیابی کل ایک نئی مزاحمت کو جنم دے گی۔ جب اسرائیلی عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ تین برس کی جنگ کے بعد بھی وہ ’مکمل فتح‘ سے دُور ہیں، تو آنے والے انتخابات میں انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کا تسلسل چاہتے ہیں یا ایک نئی سیاسی حکمت ِ عملی؟
_______________
آج کا سوڈان، ایک اور مسلم ملک کی تباہی کا نوحہ بیان کر رہا ہے۔ وہی سوڈان جس کے ایک حصے کوکاٹ کر جنوبی سوڈان کے نام سے ۹جولائی ۲۰۱۱ء کو پہلے ایک عیسائی ریاست بنائی گئی، اور آج باقی سوڈان موت و حیات اور خاک و خون کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ دونوں طرف لڑنے اور مرنے والے مسلمان ہی ہیں۔ عالمی طاقتوں نے بڑی کامیابی سے مسلم ممالک کی تقسیم اور تباہی کے مختلف ماڈل پیش اور نافذ کر رکھے ہیں۔
وہ سوڈان جو کبھی اپنی اسلامی شناخت کے حوالے سے ایک بلندمقام رکھتا تھا، آج اس میں قتل و غارت اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔ ایک طرف ایسی حکومت ہے کہ جس نے اپنی بقا کے لیے کبھی اسرائیل سے تعلقات کا پرچم بلند کیا اور کبھی شریعت کے قوانین سے پسپائی اختیار کی، لیکن اس وقت وہی ہے جو سوڈان کی جغرافیائی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔ دوسری طرف وہ ہیں جو فساد اور موت کو مسلط کرکے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان حالات میں سوڈان کی حکومت کے متعدد ناپسندیدہ اقدامات کے باوجود پاکستان، ترکی اور سعودی عرب اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ تحریک اسلامی ’کم تر بُرائی‘ کے اصول پر اس حکومت کی تائید کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتی کہ اسی طرح ملک کے وجود کو بچانے اور امن قائم کرنے کی اُمید کی جاسکتی ہے، جب کہ دیگر اصولی معاملات بعد میں دیکھے جائیں گے۔
سوڈان کی اس خانہ جنگی کی تباہی کا احوال کسی ایک جگہ پر بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ ہولناک جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے۔ ذرا تصور میں لائیے اس کا تباہ حال دارالحکومت، جو اس وقت مکمل بربادی کے قریب ہے۔اپریل ۲۰۲۳ء میں جنگ شروع ہونے سے پہلے خرطوم تقریباً ۷۰ لاکھ آبادی کا ایک گنجان آباد شہر تھا۔ آج اس کے کوچہ و بازار ویران پڑے ہیں۔ سرکاری عمارتوں کے صرف کھوکھلے ڈھانچے باقی دکھائی دیتے ہیں۔ شاندار گھر اور پُرتعیش ہوٹل کھنڈرات میں بدل چکے ہیں۔ گلیاں لڑائی سے جھلسی ہوئی اور خاموش عمارتوں کا نوحہ پڑھ رہی ہیں۔ اتنی لاشیں پھینکی گئی ہیں کہ عارضی اجتماعی قبروں سے انسانی کھوپڑیاں باہر نکل رہی ہیں۔ اس کے باوجود قتل و غارت جاری ہے۔اس صدی میں افریقہ کے بدترین تنازعات میں سے ایک تنازعے کا زخم خوردہ دل خرطوم شہر ہے۔
اس جنگ نے براعظم افریقہ کے تیسرے سب سے بڑے ملک سوڈان کے وسیع حصے تباہ کر دیے ہیں اور ایک کروڑ ۴۰ لاکھ لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔ لڑائی، قحط اور نسل کشی کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں کہ جن کا حساب رکھنا کسی ادارے اور ایجنسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ حالیہ افریقی جنگوں میں جس کی ہولناکیوں کا اس سے موازنہ کیا جا سکتا ہے وہ کانگو کی جنگ ہے، جس میں ۲۰۰۰ء کے عشرے کے اوائل میں ۵۰ لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ تاہم، جغرافیائی اور سیاسی اثرات کے لحاظ سے سوڈان کی جنگ اس سے بھی کہیں زیادہ تباہ کن اور ہلاکت آفرین ہے۔
اس جنگ نے پڑوسی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے عیسائی ریاست جنوبی سوڈان اور یمن میں خانہ جنگی کو دوبارہ بھڑکنے میں مدد ملی ہے۔ ایتھوپیا اور پورے ’ہارن آف افریقہ‘ میں قتل و غارت کے ایک اور دور کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
بیرونی طاقتوں نے اس تکلیف دہ منظرنامے میں بے حسی کی انتہا دکھائی ہے: ایک یہ کہ لڑائی کو جاری رکھنے کے لیے پیسہ اور اسلحہ دے کر، اور دوسرا اسے دانستہ نظرانداز کر کے۔ مزید آگے بڑھیئے تو بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈال کر سوڈان اور ایران کے جنگی محاذ آپس میں ایک ہو رہے ہیں۔ پھر اس جنگ کے سرپرستوں کے لیے جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھ رہی ہے، اور آخر کار انھیں امن قائم کرنے کی ایک کوشش کی کوئی وجہ بھی مل سکتی ہے۔
بظاہر سوڈان کی جنگ دو اہم متحارب فریقوں کے درمیان تصادم ہے: سوڈانی مسلح افواج (SAF: سوڈانی آرمڈ فورسز)، جو ملک کی باقاعدہ افواج اور بالفعل حکومت ہے، اور ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ (RSF)، محمد حمدان دقلو ’حمیدتی‘ کی سربراہی میں پوری طرح سے مسلح ملیشیا ہے۔ مختلف دوسرے سوڈانی مسلح گروہ بھی دونوں فریقوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ لڑائی افریقہ کے معدنی وسائل اور براعظم میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کرنے والی خطے کی دولت مند طاقتوں کے درمیان ایک ’پراکسی وار‘ (’بالواسطہ جنگ‘)بھی ہے۔ ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ کو متحدہ عرب امارات (UAE) سے ہتھیار، پیسہ اور کرائے کے جنگجو ملتے ہیں، اگرچہ عرب امارات اس کی حمایت فراہم کرنے سے سختی سے انکار کرتا ہے۔ کسی حد تک کم درجے پر، ایس اے ایف (یعنی حکومتی فورسز)کو مصر، قطر، سعودی عرب اور ترکی سے بھی اسلحہ اور مالی مدد ملتی ہے۔
آر ایس ایف نے وقتاً فوقتاً جنگ بندی مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس نے اپنی لوٹ مار سے خود کو ایک قابلِ لحاظ فوجی اور معاشی طاقت میں تبدیل کر لیا ہے، جس کے عزائم ملک پر حکومت کرنا ہیں۔ سوڈان میں ایس اے ایف کے رہنماؤں کے موقف سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ آر ایس ایف کو شکست دے سکتے ہیں اور اسی لیے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہیں۔اس دوران، متحارب فریقوں اور ان کے حامیوں پر دباؤ ڈالنے کی طاقت رکھنے والے بیرونی عناصر کی توجہ یہاں کے بجائے کہیں دوسری جانب بٹی ہوئی ہے۔
یورپ کی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنھوں نے گذشتہ نومبر میں جنگ ختم کرنے کا عہد کیا تھا، ۲۸فروری ۲۰۲۶ء سے ایران میں اپنی تباہ کن مہم میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ بہت سے سوڈانیوں، جنھوں نے اسے ایک لاینحل مسئلہ سمجھ کر قسمت کے لکھے پر سمجھوتہ کر لیا ہے، اور اس مایوسی میں صومالیہ ٹائم لائن کی بات کرنے لگے ہیں: یعنی کئی عشروں پر پھیلا ایک ایسا تنازع، جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔
اب دو پیش رفتوں نے مل کر جنگ کے خاتمے کا ایک موقع پیدا کیا ہے، اگرچہ اس کے امکانات کم ہیں۔ فروری میں امریکا کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے بعد سے، خلیج میں پھیلی افراتفری نے سوڈان کو معمول سے بھی کم درجے میں قابلِ ترجیح بنا دیا ہے۔
امریکا کے ایک سابق صدر آئزن ہاور نے کہا تھا کہ ’’جب کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکے تو اسے وسیع کر دو‘‘۔ اس لیے جیسے جیسے ’امریکا ایران جنگ‘ پھیل رہی ہے، توجہ آبنائے ہرمز سے، جو اس وقت بند ہے، بحیرۂ احمر کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور وہ بھی جلد ہی بند ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں نے سعودی عرب کے لیے سوڈان کے ساحل کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا ہے، جس سے جنگ میں اس کی دلچسپی دوبارہ جاگ اٹھی ہے۔ اس سے اب اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے آر ایس ایف کی مزید پشت پناہی کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
دوسرا عنصر میدان جنگ میں پانسہ پلٹنا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں میں سوڈان کی افواج نے ۱۸ ماہ قبل خرطوم واپسی کے بعد سے اب تک کی اپنی سب سے نمایاں پیش قدمی کی ہے۔ جولائی کے آخر میں اس نے دارالحکومت خرطوم کو العبید سے ملانے والی ایک اہم شاہراہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ العبید ایک اسٹرے ٹیجک علاقائی مرکز ہے، جس پر آر ایس ایف کئی مہینوں سے قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مسلح افواج نے ایتھوپیا کی سرحد پر واقع قصبے کرمک پر بھی دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ اگرچہ اب سرکاری فوج، آر ایس ایف کو شکست دینے کی کوششوں کو دوگنا کرنے پر مائل ہے، اور فوج طویل عرصے سے یہ دلیل دیتی آرہی ہے کہ وہ طاقت کی پوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے، اور اب اسے یہ پوزیشن حاصل ہے۔ ایس اے ایف بخوبی جانتی ہے کہ جیسے جیسے جنگ طوالت اختیار کرے گی، زیادہ سے زیادہ طاقت ان گروہوں کو منتقل ہو جائے گی جن کا مفاد جنگی معیشت کو برقرار رکھنے میں ہے۔ پھر چاہے اقتدار میں کوئی بھی ہو، ملک مزید ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ یہ سچ ہے کہ کامیاب جنگ بندی کے امکانات ابھی کم ہیں۔ لیکن سفارتی کوششوں کا وقت تو بہرحال موجود ہے۔
سعودی عرب، مصر اور ترکی کو ’سوڈانی مسلح افواج‘ پر زور دینا چاہیے کہ وہ اس مطالبے سے باز آجائے کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ’ریپڈ آرمڈ فورسز‘ ہتھیار ڈال دے اور غیرمسلح ہو جائے۔ متحدہ عرب امارات کو آر ایس ایف پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسے جنگ بندی کی اس خواہش پر قائم رکھنا چاہیے جس کا وہ اظہار کرتی رہی ہے، چاہے اس کا مطلب پورے سوڈان پر حکومت کرنے کے عزائم سے دست بردار ہونا ہی کیوں نہ ہو۔ ورنہ صومالیہ طرز پر طویل خانہ جنگی اور تباہی کی طرف جانے والا راستہ سوڈان کے علاوہ پورے غربی افریقہ کے عدم استحکام کو برقرار رکھے گا، جو یہ جنگ پیدا کر رہی ہے۔
_______________