خوب سمجھ لیجیے کہ ہمارا مقصد اقامت ِ دین ہے، محض تبلیغِ دین نہیں۔ جس طرح اقامت ِ صلوٰۃ نماز ادا کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں مسجد کی تعمیر و تیاری، نماز کے لیے صفوں کی فراہمی اور پانی کا انتظام بھی شامل ہے، اسی طرح اقامت ِ دین بھی محض تبلیغِ دین نہیں ہے بلکہ یہ کام تبلیغ سے بہت آگے کا ہے۔ اس میں یہ ذمہ داری بھی شامل ہے کہ دین کا نفاذ سب سے پہلے خود ہماری زندگی پرہو، پھر ہمارے ملک پر اور آخر میں پوری دُنیا پر۔ تبلیغ کا کام انفرادی طور پر بھی ہوسکتا ہے، لیکن اقامت ِ دین کا کام اجتماعی سعی کے بغیر ممکن نہیں۔ دین کے قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا قانون نافذ ہو۔ ایسی انتظامیہ اور پولیس ہو، جو صحیح اسپرٹ کے ساتھ اس کا نفاذ کرے۔ ایسی عدالتیں ہوں جو اس کی صحیح روح کے مطابق فیصلے دیں۔ ایسی مقننہ کی ضرورت ہے جو دین کے منشاء کے عین مطابق قانون سازی کرے۔ جب دین اپنے حدود میں پوری طرح نافذ ہوجائے گا، تب کہا جائے گا کہ اب دین قائم ہوگیا ہے۔
مقصد جس نوعیت کا ہوتاہے، طریقِ کار بھی اسی کے مطابق اختیار کرنا پڑتاہے۔ چونکہ اقامت ِ دین کا مقصد ہمارا ذاتی مقصد بھی ہے اور جماعتی بھی، اس لیے ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ہم دونوں حیثیتوں میں کیسی روش اور کیا طرزِعمل اختیار کرتے ہیں؟ اگر ہم نے اپنا طرزِعمل اپنے ذاتی و جماعتی مقصد کے مطابق اختیار نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں اپنے مقصد پر خود ہی یقین نہیں ہے، اور ہم نے اپنا مقصد اختیار کرنے میں غلطی کی ہے۔ لیکن جب ایک مقصد کو اختیار کرلیا ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا ہے، تو لازم ہے کہ ہماری پوری زندگی کا طرزِعمل اپنے مقصد کا علَم بردار ہو۔
اقامت ِ دین جب ہمارا ذاتی مقصد بھی ہے، تو ضروری ہے کہ ہم اس کے تقاضوں کو ذاتی حیثیت سے بھی پورا کرنے کی کوشش کریں۔
۱- ضروری علم دین کا حصول:پہلی چیز ہے ضروری علمِ دین اور فہمِ دین کا حصول۔ اللہ کے احکام محض تلاوت کے لیے نہیں، تعمیل کے لیے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ کے احکام کا کماحقہٗ علم حاصل کریں، اور دین کا اتنا فہم رکھیں کہ اس کا منشاء خود ہم پر بھی واضح رہے اور دوسروں پر بھی واضح کرسکیں۔ ضروری نہیں کہ یہ علم و فہم بہت اعلیٰ درجے کا ہو، تاہم اتنا ضرور ہو کہ مقصد ہمارے سامنے آئینہ بنا رہے، اور ہم میں اتنی استعداد پیدا ہوجائے کہ ہم اپنے گردوپیش میں اپنے مقصد کو پھیلا سکیں، اور جتنے آدمی بھی زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ ملا سکتے ہوں، ملا لیں۔
۲- احکامِ دین کی خلاف ورزی سے بچیں:پھر جن احکامِ خداوندی کا علم حاصل ہوجائے، اس کی پابندی کی کوشش کیجیے، اور اس چیز کا خیال رکھیے کہ ان کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ خلاف ورزی کم از کم دانستہ نہ ہو، دانستہ خلاف ورزی بغاوت کے مترادف ہے اورآدمی کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس خالق و مالک کی سرتابی کر رہا ہے، جس کی گرفت سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ اس کے ساتھ دین کو اپنی زندگی میں جہاں تک ممکن ہو نافذ کریں اور حرام سے بچیں۔
۳- اپنا احتساب کرتے رہیں: اقامت ِدین کو مقصد ِ زندگی بنانے والے کے لیے تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ وہ اپنا مسلسل جائزہ لیتارہے کہ اس نے اپنے وسائل کو کس حد تک اپنے مقصد ِزندگی کے حصول کے لیے استعمال کیا ہے؟ وسائل، زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن خود زندگی مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ آپ دیکھیے کہ آپ نے اپنی قوت، صلاحیت ، قابلیت اور وسائل سے اپنے مقصد کے لیے کتنا کام لیا ہے؟ اس کا صحیح جائزہ جماعت نہیں لے سکتی، یہ جائزہ آپ خود لے سکتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرنفس کو اس کا اپنا محتسب مقرر کر دیا ہے: بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِہٖ بَصِيْرَۃٌ۱۴ۙ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَہٗ۱۵ۭ (القیامۃ ۷۵:۱۴-۱۵) ’’انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے‘‘۔آپ کا نفس آپ کو حساب کرکے خود ہی بتا دے گا کہ آپ نے اپنے مقصد کے لیے کتنا کچھ صرف کیا اور اپنے نفس کے لیے کتنا کچھ؟ جب آپ پر اپنی کوتاہیاں واضح ہوجائیں، تو پھر آپ ان کو معلوم کرکے نہ رہ جائیں، بلکہ ان کو رفع کرنے کی کوشش کریں۔ جتنی کچھ کمی آپ کی جانب سے اپنے مقصد کے حصول میں رہ گئی ہو، اس کو پورا کرنے کی سعی کریں۔
جب ہمارا مقصد صرف تبلیغِ دین نہیں بلکہ اقامت ِ دین ہے، تو پھر یہ احتساب بے حد ضروری ہے کہ ہم نے اس فریضے کو کہاں تک ٹھیک ٹھیک ادا کیا ہے اور ہمارا طریقِ کار کیا ہے؟ کیا ہم اپنے مقصد کی سمت میں صحیح قدم اُٹھا رہے ہیں اور ہمارا انداز موزوں و مناسب ہے یا نامناسب ہے؟
دعوتِ دین پہنچانے کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی جو بھی قدم اُٹھائے اور جو بھی بات کرے وہ ’حکمت‘ اور ’موعظۃ حسنہ‘ کے مطابق ہو:
۱- حکمت:آپ پہلے یہ دیکھیے کہ آپ کے مخاطب کن رجحانات کے مالک ہیں؟ ان کا تعلیمی پس منظر کیا ہے اور وہ کس ماحول میں پلے بڑھے ہیں؟ ان کی سماجی زندگی کے مسائل اور مشکلات کیا ہیں؟ کیا عوامل ہیں، جو ان کی زندگی پر اثرانداز ہورہے ہیں اور وہ کن قدیم یا جدید تصورات سے متاثر اور مسحور ہیں؟ جب تک آپ ان کے انحرافِ دین کے وجوہ و اسباب اور معاشرتی و اجتماعی زندگی کے تضادات سے آگاہ نہیں ہوں گے، اُس وقت تک آپ ان کو دین کے قریب نہیں لاسکیں گے۔ وہ آپ کی بات اسی وقت سمجھیں گے، جب آپ ان کی زبان اور ان کی بولی میں اور اُن کی ذہنی سطح پر اُتر کر بات کریں گے۔ یہ جائزہ آپ کو ایک طبیب کی طرح لینا ہوگا، جو علاج سے پہلے مریض کے مزاج سے واقفیت پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ کسی شخص کا جسم اُس وقت تک آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا، جب تک کہ اس کا دل و دماغ آپ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہو۔ کسی شخص کا قدم جہاد پر نہیں اُٹھ سکتا، جب تک اس کے گہرے جذبات حرکت میں نہ آئیں، اور یہ لطیف جذبات اسی وقت حرکت میں آتے ہیں جب دل مطمئن ہوتا ہے، دماغ مطمئن ہوتا ہے اور آدمی یقین حاصل کرلیتا ہے کہ یہی اصل حق ہے۔اور اسی کی اشاعت و اقامت میرا مقصد ِ زندگی ہے۔
۲- موعظۃ حسنہ:حکمت کے ساتھ دوسری چیز ہے ’موعظۃ حسنہ‘ ۔ جس طرح ایک طبیب کسی مریض کی غیرمعمولی حرکات پر طیش میں نہیں آتا، یا اس کی بیماری پر اسے غصہ نہیں آتا، بلکہ اس کی تمام تر نگاہ اس پر لگی ہوتی ہے کہ کسی طرح مریض کی جان بچ جائے، وہ شفایاب ہوجائے۔ بالکل اسی طرح اقامت ِ دین کا مقصد رکھنے والے شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے گردوپیش عزیزوں اور معاشرے کے دوسرے لوگوں میں دردمندی سے اپنی دعوت کو پہنچائے۔ اس کو اس بات پر غصہ نہیں آنا چاہیے کہ یہ لوگ کیسی کیسی گمراہیوں میں مبتلا ہیں، بلکہ اس کی تمام تر توجہ اس پر رہے کہ وہ لوگوں کو کس طرح حق سے روشناس کرائے اور کس طرح انھیں دین کی طرف مائل کرے۔ وہ ان کی گمراہیوں پر ان سے لڑے جھگڑے گا نہیں، بلکہ ایسے سوز اور ایسی محبت سے انھیں دین کی طرف بلائے گا کہ بدترین مخالف بھی دوست بننے پر مجبور ہوجائے گا۔
آں حضوؐر کی سیرت کا مطالعہ کیجیے۔ آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا بات تھی جس سے دشمن بھی آپؐ کے جانثار خادم بن گئے۔ حضرت حمزہؓ کا قاتل وحشی کیوں حلقہ بگوش اسلام ہوا؟ یہ سب ’موعظۃ حسنہ‘ کے کرشمے تھے۔ اس لیے اپنی دعوت پھیلانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ عہد جدید کی گمراہیوں اور ضلالتوں سے اچھی طرح سے روشناس ہوں اورماضی کی گمراہیوں اور جہالتوں سے بھی آگاہ ہوں۔ اس لیے ان کے اسباب و محرکات کو سمجھیں اور جس قسم کی گمراہی میں کوئی مبتلا ہو، اس سے اسی حوالے سے ہمدردانہ اور مدلل انداز سے گفتگو کریں۔ یہ تمام چیزیں حکمت اور ’موعظۃ حسنہ‘ سے تعلق رکھتی ہیں اور کامیابی کا بیش تر دارومدار انھی خوبیوں کے فہم و بصیرت پر ہے۔
۳- جہاد اور تنظیم: دین کی دعوت پھیلانے کے لیے جس طرح ’حکمت‘ اور ’موعظۃ حسنہ‘ کی ضرورت ہے، اسی طرح اقامت ِ دین کے لیے جہاد کی ضرورت ہے۔ جہاد کا مفہوم قتال یا جنگ نہیں بلکہ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد ہے، لیکن جہاد کوئی اکیلا فرد نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے اجتماعیت اورتنظیم کی ضرورت ہے۔ جہاد بغیر تنظیم کے ممکن نہیں۔ باطل کی جن قوتوں کے مقابلے میں دین کو قائم کرنا ہے، وہ انتہائی منظم ہیں اورجس درجے کی تنظیم ان کی ہے، اس کے مقابلے کے لیے اس سے کہیں طاقت ور،منظم اور مربوط تنظیم درکار ہے۔ اور ایسی مطلوب تنظیم کی طاقت کا پیمانہ یہ ہے کہ اس کے ارکان اپنے فرض کا کتنا احساس رکھتے ہیں؟ وہ تنظیم کے اصول و قواعد کی کتنی پابندی کرتے ہیں، اور اس عمل اور اقدام کے لیے ان کے دل میں روایات کا کتنا احترام موجود ہے؟ ایک مشین کے پُرزے جتنے کسے ہوئے ہوں گے، اور ان میں جتنا نظم و ضبط ہوگا، مشین اتنی ہی مؤثر اور فعال ہوتی ہے۔
تنظیم کے ساتھ ساتھ ارکان و کارکنان کی تربیت کا بھی معقول انتظام ہونا چاہیے کیونکہ تنظیم کی اثرانگیزی کا بیش تر انحصار تربیت پر ہے۔ محض تعداد پر انحصار سے منزل کا حصول ممکن نہیں۔ تعداد میں وسعت بہت ضروری ہے، مگر اس تعداد میں دینی، اخلاقی اور تنظیمی تربیت اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ تربیت وہ بنیادی چیز ہے جو کارکنوں کے اندر مقصد کو تازہ رکھتی ہے اور ان کو ایک تحریک میں باہم پیوست رہنے کی عادت ڈالتی ہے۔
۴- توسیع دعوت:تنظیم کے بعد اگلا قدم ’توسیع دعوت‘ کا ہے۔ تنظیم ہوتی ہی اس غرض کے لیے ہے کہ اس سے دعوت کو توسیع دی جائے۔ اس لیے تنظیم کے بعد دوسرا مرحلہ دعوت کو وسیع تر حلقوں میں پھیلانے کا ہے۔ تنظیم کو کارکن میسر نہیں آسکتے، جب تک دعوت وسیع تر نہ ہوگی۔ دعوت جس تناسب سے پھیلے گی، کارکن اسی شرح سے ملیں گے۔ آپ کو دس بیس کارکن مل نہیں سکتے، جب تک آپ کی دعوت ایک ہزار تک نہ پہنچے گی۔ معاشرے کا کوئی طبقہ آپ کے پیغام سے ناآشنا نہ رہنے پائے۔ آپ کی دعوت پہنچ جانے کے بعد آپ کو اگر معاشرے میں کوئی مثبت مدد نہیں ملی، لیکن آپ کی مخالفت بندہوگئی ہے، تب بھی اسے کامیابی کا ایک مرحلہ جانیے۔
۵- دین دشمن عناصر کی قوت میں کمی :دعوت کے جڑ پکڑنے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول کے اندر مخالف دین عناصر میں کمی آئے۔ خلافِ اسلام خیالات اور رجحانات جتنا پھیلیں اور فروغ پائیں گے، اقامت ِ دین کا کام اتنا ہی مشکل ہوجائے گا۔ جس معاشرے میں حرام بڑھے گا اس میں حلال کیسے مقبول ہوگا؟ جہاں بے حیائی اور بداخلاقی پھیلے گی، وہاں دین کی پاکیزگی کیونکر اپنی جگہ بناسکے گی؟ اس لیے اقامت ِ دین کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ آپ دین کی دعوت پہنچائیں، بلکہ آپ کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ دعوتِ دین کے جڑ پکڑنے کے لیے یہاں زمین موجود ہے بھی یا نہیں؟ اس لیے معاشرے کو اخلاقی اور دینی زندگی کی طرف لانے کی بھی فکر آپ کو کرنی ہوگی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقامت ِدین کے فرائض، تبلیغ دین سے مختلف اور بھاری ہوجاتے ہیں۔ تبلیغ دین میں ماحول کو بدلنے کی فکر شامل نہیں، لیکن اقامت ِ دین میں یہ فکر ضروری عنصر کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ زراعت مقصد ہو تو زمین کی تیاری، اس کو جھاڑجھنکار سے صاف کرنا اور فصل کو اس کے تمام مراحل میں بنانا سنوارنا ضروری ہے۔ اسی طرح اقامت ِ دین کے لیے ناگزیر ہے کہ معاشرے کی اخلاقی حالت اور ماحول کی کج روی پر نگاہ رہنی چاہیے، پھر دعوتِ دین کے ساتھ ساتھ اس کی اصلاح کی تدبیر بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔
۶- موافق دین قیادت:اقامت دین کی جدوجہد کے سلسلے میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اجتماعی قیادت کیسی ہے؟ کیا وہ اقامت ِ دین کی مؤید ہے یا اس کی مخالف؟ اقامت ِ دین کی تکمیل میں یہ عنصر بہت بڑا حصہ رکھتا ہے۔ جو لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے، وہ اسے سیاست کانام دیتے ہیں، حالانکہ ظاہر ہے کہ اگر اجتماعی قوت حرام کی پشت پناہی اور حلال کی حوصلہ شکنی پر تل جائے، تو دین کیسے قائم ہوسکتا ہے؟ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ دین کے حلال کو فروغ دینے اور اسے معاشرے کی پسندیدہ قدر بنانے اور حرام کو ناپسندیدہ اور مردُود قرار دلوانے کے لیے اجتماعی دباؤ کو کیوں غیرضروری سمجھا جاتاہے۔ اگر حکومت اور پولیس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا مطالبہ نہ کریں گے، تو یہاں پر معروف کیسے پھیلے گا اور منکر کیسے رُکے گا؟ اس کے لیے کوشش کرنا اگر سیاست ہے ، تو یہ ناگزیر ہے۔ اگر آپ دین کا درد رکھتے ہیں اور منکر کو پھیلتا ہوا دیکھتے ہیں، تو ناگزیر ہے کہ آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ یہاں پر کوئی ایسی انتظامیہ ہونی چاہیے ، جو منکر کو روکے اور معروف کا حکم دے۔ سود مٹانا ہے تو اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ملک کے نظام مالیات کو بدلا جائے۔ اقامت ِ دین اگر مقصودہے تو اس کے لیے ان تمام محاذوں پر پتہ مار کر یہ سب کچھ کرنا پڑے گا۔ اگربعض کی نگاہ میں یہ سیاست ہے تو یہ سیاست غیرمستحسن نہیں، کیونکہ یہ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے ہے، اس لیے مطلوب ہے۔
اقامت ِ دین کے لیے اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ حالاتِ حاضرہ پر کڑی نگاہ رہے۔ ملک کا نظام کیا ہے؟ اس کا مزاج کیا ہے اور اس کے اثرات کیا ہیں؟ یہ کیسے موافقِ دین بنے گا؟ اس کے لیے کیا اقدام اُٹھانے ہوں گے؟ ان تمام چیزوں پر نگاہ رکھنی پڑے گی، اور یہ موضوعات غیرمتعلق نہیں ہیں بلکہ اقامت ِ دین کے ضروری لوازمات ہیں۔
پاکستان دین اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔پارلیمانی دور کے سیاست دانوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ملک میں اسلامی نظام رائج کریں گے۔ہم نے تشکیل ملک کے وقت جو راستہ اختیار کیا تھا ، وہ یہ تھا کہ اربابِ اختیار کو قائل کیا جائے کہ اس ملک کی زندگی اسلام سے وابستہ ہے اور ان پر بہ دلائل واضح کیا کہ پاکستان کے لیے ازروئے ایمان اور ازروئے مصلحت، اسلامی نظام ہی سلامتی کا واحد راستہ ہے۔ ہم نے ہرطریقے سے ان پر حجت تمام کی اور ان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بہت جلد معلوم ہوگیا کہ اقتدار کی اصل کنجیاں سیاست دانوں کے ہاتھوں میں نہیں، بلکہ بدقسمتی سے سرکاری ملازموں کے ہاتھوں میں تھیں۔ سیاست دان اگر اسلامی نظام قائم کرنا بھی چاہتے تو نہ کرسکتے تھے، جب تک سول سروسز اور آرمڈ سروسز ان کا ساتھ نہ دیتیں۔
اس کے بعدہم نے اپنے طریق کار میں تبدیلی کی اور اسلامی نظام کی فکری اور ذہنی بنیادیں مضبوط کرنا شروع کردیں۔ اس مقصد کے لیے ہم نے علم، عقل اور دلیل سے، اور جدید ذہنی سانچے کے مطابق اس کا حق اور مفید ہونا ثابت کیا۔ اسلامی نظام کے بارے میں کوئی شبہ ایسا نہ چھوڑا، جس کو صاف نہ کردیا ہو۔ فضا میں طمانیت رچ گئی۔ کسی کے دل میں کوئی اضطراب رہ گیا ہو تو الگ بات ہے۔ اس طرح شبہات پھیلانے والوں کی تمام زبانیں بند ہوچکی تھیں۔
۱۹۵۶ء میں ملک کا ایک دستور بن گیا ، جو بہرحال سب کے لیے قابلِ قبول تھا اور اس سے دین کے نفاذ کا راستہ کھلتا تھا۔ لیکن سروسز کی آنکھ میں یہ کانٹا بن کر کھٹک رہا تھا۔ وہ اس پر تلے ہوئے تھے کہ اس دستور کو ناکام بنایا جائے۔ انھوں نے طے کیا کہ اگر پاکستان میں سیکولر دستور نہیں بنتا تو پھر اسلامی دستور بھی نہ بننے پائے۔ آخرکار اکتوبر ۱۹۵۸ء میں فوج نے اس دستور کو اُٹھا کر پھینک دیا اور عام انتخابات، جن کی تاریخ مقرر ہوچکی تھی، منسوخ کردیئے گئے۔
اگر آپ اقامت ِ دین کا مقصد رکھتے ہیں اور یہ فریضہ آپ کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہے، تو پھر ناگزیر ہے کہ حالات کی تمام کروٹوں سے آپ باخبر ہوں۔ آپ کو معلوم ہو کہ حالات کس رُخ پر جارہے ہیں اور یہ تبدیلیاں اقامت ِدین کے راستے میں کیا اُلجھن پیدا کرتی ہیں؟ آج ملک ایسی حالت کو پہنچ چکا ہے کہ اختیارات ان عوام کے ہاتھ میں نہیں ہیں جو دین اسلام کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ لازم ہے کہ آپ کوشش کریں کہ یہ اختیارات ان کے ہاتھوں میں ہوں، جو دین کو دل سے چاہتے ہیں۔
ہم نے صحیح معنوں میں جمہوریت کی بحالی کے لیے اسی غرض سے جدوجہد کی ہے۔ اہل دین اور جماعت اسلامی کے لیے یہ سخت آزمائش کا وقت ہے۔ طرح طرح کے شکوک و شبہات اور اُلجھنیں پیدا کی جارہی ہیں تاکہ ذہنوں کی یکسوئی ختم ہوجائے۔ کبھی ہوسِ اقتدار کے طعنے دیئے جاتے ہیں اور کبھی سیاست بازی کے۔ میں آپ سے کہتا ہوں، آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے اس صورتِ حال کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ ان حالات میں اقامت ِ دین کے لیے کیا اس کے سواکوئی اور راستہ ہوسکتا ہے؟(۱۹۶۸ء میں حیدرآباد، سندھ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں سے خطاب)
_______________
ارشاد ربانی ہے: النَّبِيُّ أَوْلَٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (الاحزاب۳۳:۶)’’بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں پر اُن کی اپنی جانوں سے زیادہ مقدم ہیں‘‘۔ اس آیۂ کریمہ میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین، خاتم النبیّین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے خصوصی ذہنی، قلبی، روحانی، فکری اور عملی تعلق اور رشتہ کو نہایت ہی پیارے ،مختصر لیکن جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔
اس مضمون میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے اس آیت مبارکہ کے ان تمام معانی کو اللہ سبحانہٗ نے قرآن کریم کی دیگر آیات میں ، رسولؐ اللہ نے اپنے ارشادات میں کتنے تاکیدی انداز میں اجاگر کرتے ہوئے رسولؐ اللہ کے مسلمانوں سے تعلق کی کیا خصوصی نوعیت متعین کی ہے اور یہ خصوصی نوعیت کا تعلق قرآن وسنت ہی کے نصوص میں ہر مسلمان سے رسولؐ اللہ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلق کا تقاضا کرتا ہے؟اور اس خصوصی نوعیت کےتعلق کے ہرمسلمان سےکیا تقاضے ہیں؟ اور محقق مفسرین اور محدثین نے تفاسیر اور حدیث کی شروح میں اس خصوصی نوعیت کےتعلق اوراس تعلق کے ہر مسلمان سے تقاضوں کو کس طرح سمجھا اور بیان کیا ہے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں ایمان والوں سے اپنے سب سے زیادہ قریبی تعلق کو یوں بیان فرمایا:ما مِن مُؤْمِنٍ إلَّا وأنا أوْلَى النَّاسِ به في الدُّنْيا والآخِرَةِ ، اقْرَؤُوا إنْ شِئْتُمْ:﴿النبيُّ أوْلَى بالمُؤْمِنِينَ مِن أنْفُسِهِمْ﴾، فأيُّما مُؤْمِنٍ تَرَكَ مالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَن كانُوا، فإنْ تَرَكَ دَيْنًا، أوْ ضَياعًا فَلْيَأْتِنِي فأنا مَوْلاهُ،’’مومنوں میں سے کوئی مومن ایسا نہیں کہ دنیا اور آخرت میں میرا اس سے تعلق تمام انسانیت سے زیادہ قریبی نہ ہو، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (الاحزاب۳۳:۶)، پس جو مسلمان ترکہ میں مال چھوڑ ے تو اس کے جو کوئی بھی عصبہ (ایسے قریبی رشتہ دار جن کا وراثت میں حصہ مقرر ہے) ہوں وہ اس مال کے وارث ہوں گے، اور جو مسلمان اس حال میں فوت ہوجائے کہ اس کے ذمہ قرض ہو یا اس کے بچے چھوٹے ہوں تو وہ میرے پاس آئیں کہ میں اس کا مولیٰ ہوں (یعنی اس قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمے ہے)‘‘۔(صحیح بخاری و سنن ابی داؤد، تفسیر ابن کثیر)
سیّدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مومن کے ساتھ اپنے اس خصوصی قریبی اور نافع تعلق کو یوں بھی بیان فرمایا: عَن أَبی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا،’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (۱۸ ق ھ-۵۹ھ)نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: میری مثال اور انسانیت کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے کہ جس نے آگ جلائی، جب اس آگ نے اپنے گردا گرد ماحول کو روشن کر دیا تو پروانے اور آگ میں گرنے والے پتنگے اس میں گرنے لگے، تو وہ آدمی انھیں آگ سے ہٹانے (کی سر توڑ کوشش کرنے) لگا لیکن وہ اس پر غالب آ کر آگ میں ہی گرتے رہے۔ اسی طرح میں کمر سے پکڑ پکڑ کر تمھیں آگ سے دور کھینچ رہا ہوں لیکن لوگ ہیں کہ اس میں گرنے پر ہی مصر ہیں‘‘۔(صحیح البخاری،تفسیر ابن کثیر، تفسیر صراط الجنان)
امام القرطبیؒ (۶۰۰-۶۴۳ھ)نے فرمایا کہ یہ حدیث جابر ؓ (۱۶ ق ھ- ۷۸ھ)سے بھی منقول ہے، جس میں آخری الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں روایت ہوئے ہیں: وأنتم تفلتون من يدي ’’اور تم ہو کہ میرے ہاتھوں سے مسلسل نکلے جا رہے ہو‘‘۔ (تفسیر القرطبی) لہٰذا اس آیت کے معنی کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ نبی ؐمومنین پر اُن کی جانوں سے زیادہ نرمی، رحمت اور لطف و کرم فرمانے والے اور انھیں سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں۔
اسی حقیقت کو امام ابن عطيۃؒ (۴۸۱-۵۴۱ھ)نے بعض علماء عارفينؒ کے حوالے سے یوں بیان فرمایا: هو أولى بهم من أنفسهم، لأن أنفسهم تدعوهم إلى الهلاك، وهو يدعوهم إلى النجاة، ’’وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ان (مومنین) پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مہربان اور شفیق ہیں کیونکہ ان کے نفس/ذات انھیں ہلاکت کی دعوت دیتے ہیں اور وہؐ انھیں نجات کی طرف دعوت دیتے ہیں‘‘(تفسیر المحرر الوجیز)۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے ساتھ ان کی اپنی جان/ذات سے بھی زیادہ قریبی اور نافع تعلق رکھتے ہیں۔
مزید یہ کہ انسان اگر نیکی کی طرف مائل بھی ہو تو بھی اس کی اپنی ذات کی نفع رسانی اس کے لیے رسولؐ اللہ کی نفع رسانی کے برابر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اسے مصالح و مضار کا پورا علم نہ ہونے کی وجہ سے خیر و شر اور مصلحت و مضرت میں مغالطہ بھی ہو سکتا ہے لیکن رسولؐ اللہ کے ناطق بالوحی وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیO اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی اور نہیں کہتے وہ کوئی بات اپنی خواہش سے۔ وہ تو وحی ہے جو ان پر اتاری جاتی ہے‘‘۔ (النجم۵۳:۳-۴) کے ارفع مقام پر فائز ہونے کی بنا پر آپؐ کی تعلیمات میں کسی قسم کے مغالطہ کا کوئی خطرہ وامکان نہیں رہتا۔ اس لیے اپنی زندگی کے تمام معاملات کو رسولؐ اللہ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہر ایک کے لیے نافع ہی نافع اور خیر ہی خیر ہے۔ اور جب نفع رسانی میں رسولؐ اللہ ہمارے لیے خود ہماری جان/ذات سے بھی زیادہ نافع ہیں تو پھر ان کا حق بھی ہم پر ہماری جان سے زیادہ ہے۔( مفتی محمد شفیع،تفسیر معارف القرآن)
سید مودودیؒ (۱۹۰۳-۱۹۷۹ء)نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمانوں سے تعلق کے ان کی اپنی جانوں سے زیادہ نافع ہونے کے سبب کی تشریح یوں فرمائی کہ یہ تعلق دوسرے تمام انسانی تعلقات سے ایک بالاتر نوعیت کا تعلق ہے۔ کوئی رشتہ اس رشتے سے اور کوئی تعلق اس تعلق سے جو نبی ؐاور اہل ایمان کے درمیان ہے ، ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا ۔ نبیؐ مسلمانوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر ان کے خیرخواہ ہیں۔ ان کے ماں باپ اور ان کے بیوی بچے ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں، ان کو گمراہ کر سکتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ارتکاب کرا سکتے ہیں، ان کو جہنم میں دھکیل سکتے ہیں، مگر نبی ؐان کے حق میں صرف وہی بات کرنے والے ہیں جس میں ان کی دنیا وآخرت کی حقیقی فلاح ہو۔ وہ خود اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مار سکتے ہیں، حماقتیں کر کے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر سکتے ہیں،لیکن نبی ؐان کے لیے وہی کچھ تجویز کریں گے جو فی الواقع ان کے حق میں نافع ہو۔ (تفہیم القرآن)
سورئہ توبہ آیت۲۴ ، اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ اگر (تمھارے دلوں میں ) اللہ سبحانہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ سبحانہ (کی اطاعت پر قائم رہنے) کے رستے میں جدوجہد کی محبت تمام محبتوں، آباء واجداد ، ابناء، ازواج، قبیلہ وبرادری، اموال، تجارتوں اور مرغوب گھروں کی محبتوں، پر غالب نہ ہوپائے تو پھر اللہ کی رحمت و عنایات کی بجائے اللہ کا غضب وعذاب نازل ہونے کے فیصلے کا ہی انتظار کرو: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۲۴ ’’اے نبیؐ، بتا دیجئے کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں ، اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کاتم کو خوف رہتا ہے اور تمھارے وہ گھر جو تمھیں پسند ہیں ، تمھیں اللہ اور اس کے رسُول اور اس (اللہ) کی راہ میں جہاد و جدوجہد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا‘‘۔یعنی اللہ سبحانہٗ رسول ؐاللہ کی راہ میں جہاد و جدوجہد کرنے کو دنیا کی ہر چیز، ماں باپ، اولاد، مال، منصب، حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب و عزیز رکھنا ایمان کی لازمی شرط ہے۔لہٰذا النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (الاحزاب۳۳:۶) کے معنی کے دوسرے پہلو کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہرمسلمان رسولؐ اللہ کو دنیا کی ہر چیز، ماں باپ، اولاد، مال، منصب، حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب و عزیز رکھے اور یہ ایمان کی لازمی شرط ہے ۔ سیّد مودودی نے مسلمانوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطلوب حقِ تعلق کے تقاضوں کو ہم (مسلمان) اپنی پسند وناپسند پر آپ ؐکی پسند وناپسند کو، اپنی رائے پر آپ ؐکی رائے کو اور اپنے فیصلے پر آپ ؐکے فیصلے کو مقدم رکھیں، اور آپ ؐکے ہر ہر حکم وہدایت کے آگے سرتسلیم خم کر دیں۔غرض اپنے ہر ہر معاملے میں اور ہر ہر حال میں آپ ؐہی کو سند وأسوۃ (رول ماڈل) بنائیں اور ہر ہر کام میں آپ ؐکی مکمل اطاعت واتباع کریں۔(تفہیم القرآن)
امام شہاب الدین محمود الآلوسی (۱۲۷۳-۱۳۴۲ھ)نے سورئہ احزاب کی آیت ۶ کی تفسیر میں اس تعلق کے تقاضوں اور حقیقت کو یوں بیان فرمایا: وإذا كان صلّى الله عليه وسلّم بهذه المثابة في حق المومنين، يجب عليهم أن يكون أحب إليهم من أنفسهم، وحكمه- عليه الصلاة والسلام- عليهم أنفذ من حكمها، وحقه آثر لديهم من حقوقها، وشفقتهم عليه أقدم من شفقتهم عليها، ’’اور جب آپ ؐمومنوں کے حق میں (خیر خواہی اور شفقت اور نفع رسانی کے) اس (عظیم) مقام و مرتبہ پر فائز ہیں، تو مومنین پر واجب ہے کہ آپ ؐبھی انھیں ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہوں، اور ان پر آپ ؐکا حکم ان کی اپنے ذاتی فیصلوں سے زیادہ نافذ (اور مؤثر) ہو، اور آپ ؐ کا حق ان کے نزدیک ان کی اپنی جانوں کے حقوق پر ترجیح رکھتا ہو، اور آپ ؐ کے ساتھ ان کی عقیدت و خیرخواہی ان کی اپنی جانوں کے ساتھ خیرخواہی پر مقدم ہو‘‘۔ (تفسیر روح المعانی)
امام البیضاویؒ (ت:۶۸۵ھ) نے اس تعلق کے تقاضوں اور حقیقت کو یوں بیان فرمایا: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ في الأمور كلها… فلذلك أطلق فيجب عليهم أن يكون أحب إليهم من أنفسهم وأمره أنفذ عليهم من أمرها وشفقتهم عليه أتم من شفقتهم عليها، ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام معاملات میں مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب اور اولیٰ ہیں… اسی لیے مطلق حکم دیا گیا ہے کہ نبی ؐمومنوں کو ان کی جانوں سے بھی زیادہ پیارے ہوں، آپ کا حکم ان کے اپنے ذاتی حکم سے زیادہ ان پر نافذ ہو، اور آپ کے ساتھ ان کی محبت اور شفقت ان کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر ہو‘‘۔ (تفسیر البیضاوی)
امام ابو بکر الجصاصؒ (۳۰۵-۳۷۰ھ) نے (النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ) کی تفسیر میں ان تقاضوں کی توجیہہ یوں فرمائی: إنَّهُ أَحَقُّ بِأَنْ يَخْتَارَ مَا دَعَا إلَيْهِ مِنْ غَيْرِهِ وَمِمَّا تَدْعُوهُ إلَيْهِ أَنْفُسُهُمْ. وَقِيلَ: إن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يَحْكُمَ فِي الْإِنْسَانِ بِمَا لَا يَحْكُمُ بِهِ فِي نَفْسِهِ لِوُجُوبِ طَاعَتِهِ; لِأَنَّهَا مَقْرُونَةٌ بِطَاعَةِ اللَّهِ تَعَالَی، بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حق دار ہیں کہ نبی ؐکے علاوہ کسی بھی مطالبہ یا چاہت یا جس طرف ان (مومنین) کے اپنے نفس انھیں راغب کریں، کے مقابلہ میں جس امر کی طرف نبی ؐدعوت دیں یا جو مطالبہ وہؐ کریں اسے ہی اختیار کیا جائے۔ اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا گیا کہ کسی شخص کے خود اپنے معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے سے نبی کریم ؐ کو اس کے تمام معاملات کے بارے میں احکام دینے کا زیادہ حق حاصل ہے، اس لیے کہ آپؐکی اطاعت اس پر واجب ہے کیونکہ آپؐ کی اطاعت ہی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (أحكام القرآن للجصاص) ۔رسولؐ اللہ کی مکمل اطاعت ہی در اصل اللہ کی اطاعت ہے اور زندگی کے کسی بھی معاملے میں آپ ؐکی نافرمانی ومعصیت اللہ کی نافرمانی ومعصیت ہے۔
یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور میں نبی ؐ کا ہر حکم ہر مسلمان کے تمام انفرادی اور مسلمانوں کے تمام اجتماعی معاملات میں ہر حال میں نافذ العمل ہے اور زندگی کے ہرہر دائرے کے ہر ہر معاملے میں اور ہر ہر حال میں آپ ؐکی اطاعت ہرمسلمان مرد و عورت پر واجب ہے اور آپ ؐکے حکم وسنت سے مطابقت نہ رکھنے والی اپنی خواہشات، اپنے میلانات اور اپنی چاہتوں کو ترک کر دینا بھی ہرمسلمان مردوعورت پر واجب ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما (۲۵ ق ھ- ۶۳ھ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ، ’’تم میں سے کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا، جب تک کہ اس کی ہوائے نفس (اس کی دلی خواہشات، رجحانات اور پسند ناپسند) اس ہدایت و شریعت کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔ (شرح السنہ، للبغوی؛ الحجة على تارك المحجة لأبي نصر المقدسي، امام نووی نے الحجة على تارك المحجة میں روایت کردہ اس حدیث کی سند کو صحیح کہا)۔ امام أبونصر المقدسیؒ (۴۱۰ھ-۴۹۰ھ) نے فرمایا: ومعنى هواه أي محبته وميله ،’’ ھواہ کا معنی اس کی محبت وچاہت اور میلان وپسند ہے۔
رسولؐ اللہ کے مومنین کے ساتھ تعلق کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ثمرات: حقیقی ایمان جو دل میں راسخ ہو، جس کا حصول واجب ہے، جب ہی نصیب ہو سکتا ہے، کہ آدمی کے نفسی میلانات اور اس کی جی کی چاہتیں کلی طور پر ہدایاتِ نبوی کے تابع اور ماتحت ہوجائیں۔ هوى (یعنی نفسی میلانات اور جی کی چاہتیں) اورهدى (یعنی انبیا علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایات و تعلیم) یہی دو چیزیں ہیں جن پر خیر و شر کے سارے سلسلہ کی بنیاد ہے اور جن سے انسانوں کی سعادت یا شقاوت وابستہ ہے۔ ہر گمراہی اور بدعملی اتباعِ ھوی کا نتیجہ ہے، اور ہرخیر اور ہر نیکی اتباعِ ھدیٰ سے پیدا ہوتی ہے، لہٰذا حقیقی ایمان جس کا حاصل کرنا واجب ہے جب ہی نصیب ہو سکتا ہے کہ هوى کو ھدی کے تابع کر دیا جائے اور جس نے ھدیٰ کو چھوڑ کر ھویٰ کی غلامی اختیار کی اور بجائے ربانی ہدایت کے وہ نفسانی خواہشات کے تابع ہوگیا، تو گویا خود ہی اس نے مقصد ِ ایمان کو پامال کر دیا۔ قرآن حکیم میں ایسوں ہی کے متعلق فرمایا گیا ہے، کہ انھوں نے خواہشاتِ نفس کو اپنا الٰہ بنا لیا ہے: اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ (الفرقان ۲۵:۴۳) ’’کیا تم نے اُن بدبختوں کو دیکھا، جنھوں نے اپنے نفس کی خواہشوں کو اپنا الٰہ (معبود) بنالیا ہے‘‘۔ دوسری جگہ فرمایا گیا ہے: وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ (القصص ۵۰:۲۸) جو شخص اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنے جی کی چاہت پر چلے اس سے زیادہ گمراہ اور غلط اور کون ہو سکتا ہے، اللہ ظالم لوگوں کو اپنی راہ پر نہیں لگاتا(معارف الحدیث، کتاب الایمان)۔ یعنی جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام اور فیصلوں پر مکمل خود سپردگی نہ ہو آدمی مومن نہیں ہوتا۔ (تفسیر احسن البیان)
امام سھل بن عبدالله التستریؒ (۲۰۰-۲۸۱ھ) نے اس حقیقت کے باطنی پہلو کو یوں بیان فرمایا:مَنْ لم يرَ ولاية الرسول صلی اللہ علیہ وسلم عليه في جميع الأحوال، ويرى نفسه في ملكه صلی اللہ علیہ وسلم لا يذوق حلاوة سنته؛ لأنّٰ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من نفسه. الحديث ،’’جب تک کوئی انسان اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت اور اپنے آپ کو آپ ؐکی کامل ولایت و حاکمیت کے تابع نہ سمجھے، اور اپنے تمام معاملات و احوال میں آپ ؐکے فیصلے کو خود پر مقدم نہ جانے، تب تک اسے سنت (پر عمل کرنے کی حقیقی) لذت اور حلاوت محسوس نہیں ہوتی۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن ہو ہی نہیں سکتا جب تک میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اسے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (الشفا بتعريف حقوق المصطفٰی، للقاضی عیاض،۲/۱۹، تفسیر کشف الرحمٰن)
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (الاحزاب۳۳:۶)کے معنی کے دوسرے پہلو کے لازمی تقاضے، یعنی زندگی کے ہر دائرے کے ہر معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع واطاعت کی مزید تاکید سورۃ الاحزاب میں ہی یوں فرمائی :لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا۲۱(الاحزاب۳۳:۲۱)’’یقیناً تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ (کی رضا) اور یوم آخر میں کامیابی کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے طرزِ زندگی) میں اسوۂ حسنہ (بہترین نمونہ،رول ماڈل) ہے‘‘۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے رسولؐ اللہ کی پوری زندگی کو مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا اسلامی تعلیمات کا خلاصہ وتقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے ہر انفرادی واجتماعی معاملہ میں آپ ؐکے طرزِ زندگی کو ہی اپنے لیے أسوۃ (رول ماڈل) بنائیں اور اس کے مطابق اپنے فکر وعمل، سیرت و کردار، پسند وناپسند اور ترجیحات کو ڈھالیں۔ کیونکہ دنیا وآخرت میں کامیابی، اللہ رب العزت کے فضل واحسان اور اس کی عنایات اور تمام بھلائیوں کا سارا انحصار ہی اس پر ہے کہ انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کس حد تک رسولؐ اللہ کی سنت وسیرت کے مطابق ہے۔(تفہیم القرآن)
سورۃ الاحزاب کی آیت النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ہرمسلمان پر اپنے زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو ہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ِ مطہرہ اور سیرتِ طیبہ کے تابع کرنا واجب کرتی ہے۔ یہ مقصد صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ ہرمسلمان قرآن وسنت کا وہ بنیادی علم جس کو اللہ الرحمٰن الرحیم الحکیم نے قرآن کریم کی پہلی وحی میں نازل ہونے والی پانچ آیات اور دیگر متعدد آیات کے علاوہ رحمۃ للعالمینؐ کی زبان مبارک سے ادا کروائے گئے الفاظ: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابْنُ مَاجَهْ) ’’علم حاصل کرنے کی طلب و جدوجہد کرنا ہر مسلمان (مرد وعورت) پر فرض ہے‘‘ کے ذریعےبھی فرض فرمایا ہے،جس کو حاصل کر کے علیٰ وجہ البصیرت اپنے تمام فکری، عملی ، ذاتی، خانگی، سماجی، معاشرتی، معاشی، اقتصادی، سیاسی، تنظیمی، تحریکی، ریاستی، عدالتی، قومی، بین الاقوامی، صلح وجنگ اور قومی سلامتی کے معاملات کو سنتِ مطہرۃ اور سیرتِ طیبہؐ کے مطابق انجام دیا جاسکے، مثلاً اگر انسان کی ذاتی زندگی کے معاملا ت ہی کو لیا جائے تو ایک مسلمان کے لیے جن امور کا سنتِ مطہرۃ کے مطابق علم سیکھنا فرض ہے ان میں سے چند یہ ہیں کہ:اس کا مزاج کیسا ہونا چاہیے؟ غصے کی حقیقت کیا ہے؟ غصے کو رفو کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ سچ کیسے بولنا ہے اور سچ پر عمل کیسے کرنا ہے؟ گفتگو کے آداب کیا ہیں؟ صحت کی حفاظت کیوں واجب ہے اور صحت کی حفاظت کے اصول کیا ہیں؟ کون سی ذاتی صفات مطلوب ومحمود ہیں اور کن صفات سے توبہ اور چھٹکارا فرض ہے ؟ ہرمسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس جدوجہد و جہاد میں آخری سانس تک لگا رہے، تا کہ حکم ربانی: وَاعْبُدْ رَبِّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ، ’’اور اپنے رب کی عبادت (زندگی کے ہرہر معاملے میں اپنے خالق، رازق اور الٰہ کی مکمل اطاعت) کرتے رہو یہاں تک کہ تمھیں موت (یقین) آ لے‘‘ (الحجر ۱۵:۹۹) کی تعمیل ہوسکے۔
_______________
سیرتِ نبویؐ اسلامی علوم کے کسی ایک گوشے تک محدود نہیں۔ وہ قرآن، حدیث، تاریخ، فقہ، دعوت، اخلاق، تہذیب اور انسانی کردار کے متعدد دائروں کو باہم مربوط کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیرتِ رسولؐ قرآنِ کریم کے فہم کی ایک بنیادی کلید ہے اور قرآن سیرت کی معنوی روح۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور سیرتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کلام کی سب سے کامل انسانی تفسیر۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے کیا چاہتا ہے، اور سیرت ہمیں دکھاتی ہے کہ اس الٰہی ہدایت کو ایک کامل انسانی زندگی میں کس طرح برتا گیا۔ قرآن اصول عطا کرتا ہے اور سیرت ان اصولوں کو زندگی کے واقعات میں مجسم کرکے ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے۔
قرآنِ کریم کا وہ نور جو الفاظ کے پردوں میں پوشیدہ ہے، سیرت کے آئینے میں اپنی بہت سی شعاعوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ آیات کے نزولی پس منظر، مخاطبین کے حالات، مکی و مدنی زندگی کے مختلف اَدوار، دعوت کے نشیب و فراز، صحابۂ کرامؓ کی تربیت، اہلِ مکہ کی مزاحمت، مدینہ میں اسلامی معاشرے کی تشکیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی فیصلوں کو جانے بغیر قرآن کی متعدد آیات کے تاریخی اور معنوی پہلو پوری طرح روشن نہیں ہوتے۔ اسی طرح قرآن سے بے نیاز ہوکر سیرت کا مطالعہ بھی واقعات کو ان کے اصل مقصد اور وحی کے وسیع تر نظام سے کاٹ دیتا ہے۔
اس لیے سیرت کے طالب علم کے لیے قرآن محض مطالعے کا پہلا زینہ نہیں بلکہ پورے سفر کا مرکزی محور ہونا چاہیے۔ قرآن سے سیرت کی طرف اور سیرت سے قرآن کی طرف بار بار رجوع کرنا چاہیے۔ قرآن واقعے کو ہدایت سے جوڑتا ہے اور سیرت ہدایت کو واقعے میں دکھاتی ہے۔ یوں دونوں ایک دوسرے کی شرح بن جاتے ہیں اور طالب علم کے سامنے نبوی زندگی کا وہ مربوط نقشہ ابھرتا ہے جس میں وحی اور عمل، قول اور کردار، دعوت اور تربیت، فرد اور معاشرہ ایک ہی وحدت کے مختلف پہلو بن جاتے ہیں۔
اسی حقیقت کی روشنی میں امام ابن حزمؒ کا یہ معروف قول نہایت معنی خیز معلوم ہوتا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی سیرت کے سوا کوئی معجزہ نہ ہوتا، تو آپؐ کی سیرت ہی آپؐ کی صداقت کے اثبات کے لیے کافی ہوتی۔ یہ محض عقیدت کا ایک بلیغ جملہ نہیں، بلکہ نبوی کردار کی اس غیر معمولی جامعیت کی طرف اشارہ ہے جس میں صدق و امانت، صبر و استقامت، عبادت و بندگی، شجاعت و رحمت، عدل و عفو، تدبیر و توکل اور انسانوں کی تربیت و اصلاح کے بے شمار پہلو ایک ہی زندگی میں جمع ہوگئے تھے۔
سیرت کو عام تاریخ کے پیمانے سے دیکھنا بھی اس کے حقیقی مقام کو محدود کردیتا ہے۔ سیرت تاریخ ضرور ہے، مگر محض تاریخ نہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کیا واقعہ ہوا، سیرت اس کے ساتھ یہ بھی پوچھتی ہے کہ وہ کیوں واقع ہوا، کن حالات میں واقع ہوا، اس کے پس پردہ کیا حکمت تھی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر کون سا طرزِ عمل اختیار فرمایا، اور اس واقعے سے امت کے لیے کون سی دائمی رہنمائی نکلتی ہے۔ تاریخ ماضی کو محفوظ کرتی ہے، سیرت ماضی کو حال کے لیے زندہ کردیتی ہے۔ تاریخ واقعات کا بیان ہے، سیرت واقعات کی معنویت کا انکشاف بھی ہے۔
اسی لیے سیرت کا مطالعہ نہ محض قصہ خوانی ہے، نہ واقعات کی یاد داشت اور نہ صرف تاریخی معلومات کا حصول۔ اس کے لیے روایت کی صحت، تاریخی شعور، عربی زبان سے واقفیت، قرآن و حدیث کا فہم اور واقعات کے باطن تک پہنچنے کی صلاحیت درکار ہے۔ سیرت کے طالب علم کو آہستہ آہستہ یہ ملکہ پیدا کرنا چاہیے کہ وہ کسی مشہور واقعے کو محض اس لیے قبول نہ کرلے کہ وہ کسی کتاب میں درج ہے۔ اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ روایت کا ماخذ کیا ہے، اس کی سند کیا ہے، متن کی حیثیت کیا ہے، دوسرے طرق کیا کہتے ہیں، اور وہ قرآن و سنت کے مجموعی مزاج سے کس حد تک ہم آہنگ ہے؟
یہاں روایت اور درایت کا توازن بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سیرت کا بڑا حصہ حدیثی، مغازی اور تاریخی روایات کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، اور ان روایات کا درجہ یکساں نہیں۔ صحیح، حسن، ضعیف، مرسل اور مختلف نوعیت کی روایات اس ذخیرے میں موجود ہیں۔ امام طبریؒ کا تاریخی روایت کے بارے میں یہ اصول کہ ماضی کے واقعات تک رسائی معتبر نقل کے ذریعے ہی ممکن ہے، سیرت کے طالب علم کے لیے بھی ایک بنیادی علمی رہنما اصول ہے۔ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ کیا منقول ہے،جب کہ درایت اس کے فہم، سیاق اور تاریخی وزن کو متعین کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ پختہ مطالعہ انھی دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔
اس بنیادی اصول کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیرت کا مطالعہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کس ترتیب سے آگے بڑھا جائے؟ میرے خیال میں اس سفر کو تین بڑے مدارج میں تقسیم کرنا زیادہ مفید ہے:
ابتدائی مرحلہ، جس میں سیرت سے انس اور اس کا جامع خاکہ پیدا ہو۔ متوسط مرحلہ، جس میں مصادر، روایات اور واقعات کی تفہیم کی طرف پیش قدمی ہو۔ اعلیٰ مرحلہ وہ ہے جس میں تحقیق، تحلیل، تقابل اور سیرت کے فکری و دعوتی مضمرات کا مطالعہ کیا جائے۔ یہ تقسیم کوئی جامد نصاب نہیں۔ طالب علم کی استعداد، عربی زبان سے واقفیت اور علمی پس منظر کے لحاظ سے اس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
اس کے ساتھ صحیح احادیث کے منتخب ابواب کا مطالعہ ہونا چاہیے، کیونکہ حدیث سیرت کے واقعات کو تفصیلات اور عملی جزئیات کے ساتھ روشن کرتی ہے۔ قرآن اگر اسوہ کا اصول ہے، تو حدیث اس اسوہ کی تفصیل۔ قرآن نبویؐ دعوت کے بنیادی مضامین بیان کرتا ہے اور حدیث ہمیں اس دعوت کے عملی اسلوب، نبوی اخلاق، معاشرت، عبادت، معاملات اور فیصلوں سے روشناس کراتی ہے۔
اردو خواں طالب علم کے لیے اس مرحلے میں ایک یا دو معتبر اور نسبتاً آسان سیرت کی کتابیں منتخب کرنا مناسب ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ ابتدا ہی میں سیرت کے تمام جزئیات اور اختلافات میں داخل ہوا جائے، بلکہ پہلے حیاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واضح اور مربوط نقشہ ذہن میں قائم کیا جائے: بعثت سے پہلے کا عرب، آغازِ وحی، ابتدائی دعوت، دارِ ارقم، مظالمِ قریش، ہجرتِ حبشہ، شعبِ ابی طالب، عام الحزن، طائف، معراج، بیعتِ عقبہ، ہجرتِ مدینہ، مواخات، میثاقِ مدینہ، غزوات، صلح حدیبیہ، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم۔ جب یہ مجموعی تصویر ذہن میں واضح ہوجاتی ہے تو بعد کی تفصیلات اپنی جگہ خود متعین ہونے لگتی ہیں۔
اس ابتدائی مرحلے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی سیرتِ سرورِ عالمؐ خاص طور پر مفید ہے۔ مولانا مودودیؒ نے سیرت کو محض تاریخی واقعات کے تسلسل کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اس کے اندر موجود دعوتی، فکری، اخلاقی اور اجتماعی پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ ان کی سیرت نگاری کا ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو انسانی زندگی کی جامع اصلاح کے ایک عظیم منصوبے کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ فرد کی تربیت سے معاشرے کی تشکیل، دعوت سے اقامتِ دین اور اخلاقی انقلاب سے اجتماعی نظم تک سیرت کے مختلف پہلو ان کے ہاں باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ علمی مطالعے میں اسے ایک مخصوص فکری و دعوتی منہج کے طور پر پڑھنا چاہیے، نہ کہ سیرت کے تمام مصادر کا قائم مقام سمجھنا چاہیے۔
حدیثی مآخذ کی طرف رجوع بھی اسی مرحلے میں شروع ہونا چاہیے۔ موطا امام مالک، مسند احمد، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ ، سنن دارمی، صحیح ابن حبان ، معاجمِ طبرانی اور سنن بیہقی وغیرہ میں سیرت سے متعلق بے شمار مواد محفوظ ہے۔ ان تمام کتابوں کو مکمل طور پر پڑھ لینا ہر طالب علم کے لیے نہ ضروری ہے نہ ممکن، لیکن سیرت کے مختلف ابواب اور واقعات کے سلسلے میں ان کی طرف رجوع کرنے سے طالب علم کو یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ سیرت کسی ایک مصنف کی مرتب کردہ داستان نہیں، بلکہ قرآن، حدیث، مغازی، طبقات اور تاریخ کے متعدد ذخائر میں پھیلی ہوئی ایک وسیع علمی روایت ہے۔
اس مرحلے کے بعد مطالعہ کا رُخ واقعات سے ان کے مفاہیم اور حکمتوں کی طرف ہونا چاہیے۔ یہاں ابن کثیر کی السیرۃ النبویۃ، ابن قیم کی زاد المعاد، قاضی عیاض کی الشفا، سہیلی کی الروض الانف اور ابن سید الناس کی عیون الاثر جیسی کتابیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کتابوں کے ذریعے طالب علم سیرت کو حدیث، فقہ، لغت، شمائل، اخلاق اور دعوت کے مختلف زاویوں سے دیکھنا سیکھتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں محمد الغزالی کی فقه السيرة اور سعید رمضان البوطی کی فقه السيرة النبوية کا مطالعہ خاص فائدہ دیتا ہے۔ دونوں کتابوں میں سیرت کے واقعات کو محض تاریخی تسلسل میں بیان کرنے کے بجائے ان کے فقہی، دعوتی، تربیتی اور فکری مضمرات پر غور کیا گیا ہے۔ محمد الغزالی کا اسلوب زیادہ دعوتی، اصلاحی اور عصری ذہن سے مکالمہ کرنے والا ہے۔ وہ واقعات کے اندر سے ایسے اصول اخذ کرتے ہیں جو آج کے انسان، معاشرے اور دعوتی کارکن کے لیے رہنمائی فراہم کرسکیں۔ البوطی کے ہاں سیرت کے واقعات کا فقہی، اصولی اور منہجی تجزیہ زیادہ نمایاں ہے۔ ان دونوں کتابوں کا مطالعہ طالب علم کو ایک اہم تبدیلی سے گزارتا ہے: اب وہ صرف یہ نہیں پوچھتا کہ ’’کیا ہوا؟‘‘ بلکہ یہ بھی پوچھتا ہے کہ ’’اس سے کیا سمجھا جائے؟‘‘
اردو زبان میں اسی علمی ارتقا کا ایک بلند مقام علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کی سیرۃ النبیؐ ہے۔ برصغیر کی سیرت نگاری میں اس کتاب کی حیثیت بنیادی ہے۔ شبلیؒ نے سیرت کے مطالعے کو جدید تاریخی سوالات، تحقیقی منہج اور استدلالی اسلوب سے جوڑنے کی بنیاد رکھی، اور سید سلیمان ندویؒ نے اسے غیر معمولی علمی وسعت، تاریخی بصیرت اور ادبی حُسن کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں عقیدت تحقیق کی راہ میں حجاب نہیں بنتی اور تحقیق عقیدت کی حرارت سے محروم نہیں ہوتی۔ روایت، تاریخ، تنقید، استدلال اور ادب ایک دوسرے سے مربوط ہوکر سیرت کا ایک وسیع علمی منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔
اسی سلسلے میں مولانا ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کی سیرت نگاری کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ ان کے ہاں سیرت کا اخلاقی، دعوتی اور روحانی پہلو پوری قوت سے سامنے آتا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو محض ایک تاریخی عہد کے طور پر نہیں بلکہ ہر عہد کے انسان کے لیے زندہ رہنمائی کے طور پر پیش کیا۔ ان کی تحریروں میں سیرت کا علم دل سے مخاطب ہوتا ہے اور انسان کو اپنے کردار، دعوت اور تعلق باللہ پر نظر ثانی کی دعوت دیتا ہے۔ اگر شبلی نعمانی اور سلیمان ندوی کا امتیاز تحقیقی وسعت ہے اور سیّد مودودی کا امتیاز فکری و دعوتی تجزیہ، تو علی میاںؒ سیرت کے قلبی، اخلاقی اور روحانی اثرات کو نمایاں کرنے میں ممتاز ہیں۔
اعلیٰ عربی مطالعے کے مرحلے میں طہٰ حسین کی على هامش السيرة بھی ایک مختلف اور قابلِ مطالعہ تجربہ فراہم کرتی ہے۔ یہ روایتی معنوں میں بنیادی سیرت کا ماخذ نہیں، نہ اسے حدیثی و تاریخی مصادر کا قائم مقام سمجھا جاسکتا ہے، لیکن جدید عربی ادب میں سیرت کے مواد سے ادبی و فکری استفادے کی ایک نمایاں مثال ضرور ہے۔ طہٰ حسین نے جاہلی عرب کے ماحول اور سیرت کے ابتدائی واقعات کو ایک ادبی اسلوب میں برتا ہے، جس سے طالب علم کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ سیرت کا مواد جدید عربی ادب اور فکری روایت میں کس طرح نئے اسلوب اور نئے سوالات کے ساتھ سامنے آیا۔ اعلیٰ درجے کے طالب علم کے لیے یہ مطالعہ سیرت نگاری کے مناہج اور ادبی تعبیرات کے تقابلی فہم میں مفید ہوسکتا ہے۔
یہاں ایک اہم علمی احتیاط ضروری ہے۔ سیرت کی تمام کتابیں ایک ہی نوعیت کی نہیں ہوتیں اور ان سب کا علمی وزن بھی یکساں نہیں۔ ابن ہشام اور ابن سعد بنیادی روایتی مصادر کے طور پر پڑھے جائیں۔ ابن کثیر اور ابن قیم حدیثی و فقہی بصیرت کے ساتھ۔ شبلی نعمانی اور سلیمان ندوی جدید تحقیقی اور تاریخی منہج کے ساتھ، جب کہ سیّد مودودی دعوتی و اجتماعی زاویے سے۔ محمدالغزالی اور البوطی فقہی، فکری اور تربیتی زاویے سے، علی میاں اخلاقی، دعوتی اور روحانی پہلو سے، اور طہٰ حسین ادبی و فکری زاویے سے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھنا علمی دیانت کا تقاضا ہے۔
اسی مرحلے میں جدید سیرت نگاری، مستشرقین کے مباحث اور معاصر تاریخی مناہج کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے ترتیب کا لحاظ بہت ضروری ہے۔ جو طالب علم ابھی بنیادی اسلامی مصادر سے واقف نہیں ہوا، اس کے لیے براہِ راست اعتراضات اور شبہات کی دنیا میں داخل ہونا ذہنی انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔ پہلے اسے قرآن، حدیث، سیرت، مغازی اور اسلامی تاریخی روایت کے اصولوں سے مضبوط واقفیت حاصل کرنی چاہیے، پھر جدید تاریخی مناہج اور مستشرقین کے اعتراضات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ نہ مرعوب ہوگا، نہ محض جذباتی دفاع پر اکتفا کرے گا، بلکہ علمی نقد، تقابل اور تجزیے کی صلاحیت پیدا کرسکے گا۔
سیرت کے مطالعے میں ایک نہایت اہم اصول روایت اور درایت کا امتزاج ہے۔ محض روایت جمع کرلینا تحقیق نہیں، اور صرف عقلی مناسبت کی بنیاد پر روایات کو رد کردینا بھی تحقیق نہیں۔ سند، متن، سیاق، تاریخی قرائن، مختلف طرق، قرآن و سنت کے مجموعی مزاج اور محدثین کے اصول، ان سب کو سامنے رکھ کر سیرت کے مواد کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسی توازن سے سیرت ایک طرف افسانوی قصہ خوانی سے محفوظ رہتی ہے اور دوسری طرف ایسی خشک تاریخی تنقید سے بھی جس میں نبوت کے روحانی اور اخلاقی پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔
سیرت کے طالب علم کے لیے تاریخ، حدیث، لغت اور ادب کی باہمی نسبت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ حدیث روایت کی بنیاد مضبوط کرتی ہے، تاریخ زمان و مکان اور اجتماعی حالات کا شعور عطا کرتی ہے، لغت الفاظ کے دقیق مفاہیم کھولتی ہے، اور ادب اس عہد کی تہذیبی اور ذہنی فضا سے آشنا کرتا ہے۔ یہ علوم سیرت سے باہر کے معاون مضامین نہیں، بلکہ اس کے فہم تک پہنچنے کے مختلف راستے ہیں۔
اس پورے علمی سفر میں استاد کی صحبت کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے۔ کتاب معلومات فراہم کرسکتی ہے، لیکن معلومات کو بصیرت میں تبدیل کرنا استاد کا کام ہے۔ کتاب روایت پیش کرتی ہے، استاد اس کے درجۂ اعتبار اور محلِ استعمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کتاب واقعہ بیان کرتی ہے، استاد اس کے پس منظر، حکمت اور معنویت کو واضح کرتا ہے۔ اس لیے ممکن ہو تو سیرت کا مطالعہ کسی ایسے صاحبِ علم کی نگرانی میں کیا جائے جو قرآن و حدیث، سیرت اور اسلامی تاریخ کے بنیادی مصادر سے واقف ہو اور روایت و درایت کے درمیان علمی توازن قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اس تمام علمی سفر کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جسے اگر نظر انداز کردیا جائے تو سیرت کا مطالعہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ سیرت کا مقصد صرف معلومات میں اضافہ نہیں، اس کا مقصد انسان کی تعمیر ہے۔ اگر ہم نے سیرت کی درجنوں کتابیں پڑھ لیں، مصادر کی فہرستیں یاد کرلیں اور روایات کی تخریج سے واقف ہوگئے، لیکن ہمارے اخلاق، معاملات، عبادت، دعوت اور تعلق باللہ میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو ابھی ہم نے سیرت کے ظاہر کو تو پڑھا ہے، اس کی روح کو نہیں چھوا۔ سیرت کا حقیقی اثر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب صبر ہمارے لیے محض ایک لفظ نہ رہے بلکہ زندگی کا طریقہ بنے۔ رحمت ہمارے معاملات میں اترے، عدل ہماری قوت بنے، عفو ہماری شخصیت کا حصہ بنے، اختلاف کے باوجود اخلاق باقی رہے، دعوت میں حکمت پیدا ہو، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ ہمارے اندر محبت ِ رسولؐ کو محض جذبات نہیں بلکہ اتباع کی تحریک بنا دے۔
اسی لیے سیرت کو ایک مرتبہ پڑھ کر ختم کردینے والا نصاب نہیں سمجھنا چاہیے۔ انسان خود بدلتا رہتا ہے، اور سیرت کے وہی واقعات زندگی کے مختلف مرحلوں میں نئے معنی کے ساتھ اس کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ طالب علمی میں جو واقعہ تاریخ معلوم ہوتا ہے، عملی زندگی میں وہ حکمت بن جاتا ہے۔ سیرتؐ کا مطالعہ آزمائش میں صبر کا نمونہ، دعوت میں منہج، خاندان میں حسنِ معاشرت، اقتدار میں عدل، اختلاف میں اخلاق، اور عمر کے کسی مرحلے میں محبت اور تعلق کا سرمایہ بن جاتا ہے۔
چنانچہ اگر سیرت کے مطالعے کے لیے ایک جامع ترتیب تجویز کی جائے تو اسے یوں کہا جاسکتا ہے: ابتدا قرآنِ کریم اور صحیح حدیث سے ہو، پھر معتبر اردو کتب کے ذریعے حیاتِ نبویؐ کا جامع نقشہ ذہن میں قائم کیا جائے۔ مولانا مودودیؒ کی سیرتِ سرورِ عالمؐ کے ذریعے دعوتی و اجتماعی زاویہ سمجھا جائے۔ اس کے بعد ابن ہشام، ابن سعد اور دیگر بنیادی عربی مصادر کی طرف رجوع کیا جائے۔ ابن کثیر، ابن قیم، قاضی عیاض، سہیلی اور ابن سید الناس کے ذریعے روایت کے ساتھ فہم و تحلیل پیدا کی جائے۔ شبلی نعمانی اور سلیمان ندوی کی سیرۃ النبیؐ سے تحقیقی و تاریخی بصیرت حاصل کی جائے۔ محمد الغزالی اور البوطی کی فقه السيرة کے ذریعے فقہی، دعوتی اور تربیتی معانی کو سمجھا جائے۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی تحریروں سے سیرت کے اخلاقی، روحانی اور دعوتی اثرات کو محسوس کیا جائے، اور اعلیٰ درجے میں طہٰ حسین کی على هامش السيرة اور جدید عربی و مغربی سیرت نگاری کے تقابلی مطالعے کے ذریعے سیرت کے مختلف ادبی و فکری مناہج سے واقفیت حاصل کی جائے۔
اس ترتیب کی غرض کتابوں کی تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ مطالعے کو ایک فکری ارتقا عطا کرنا ہے: واقعات سے مصادر تک، مصادر سے فہم تک، فہم سے تحلیل تک، اور تحلیل سے بصیرت و عمل تک۔
آخرکار سیرت کا اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کتنے واقعات یاد کرلیے یا کتنی کتابیں پڑھ ڈالیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس مطالعے نے ہماری اپنی زندگی کو کتنا بدل دیا۔ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آپؐ کیسے تھے؟ اپنے رب کے ساتھ کیسے، اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کیسے، اپنے اصحاب کے ساتھ کیسے، مخالفین کے ساتھ کیسے، کمزوروں کے ساتھ کیسے، فتح کے وقت کیسے اور ابتلا کے وقت کیسے تھے؟
سیرت کا حُسن یہ ہے کہ وہ تاریخ کو زندگی سے جوڑ دیتی ہے۔ جب ہم اسے اس نظر سے پڑھتے ہیں تو ماضی محض ایک گزرے ہوئے زمانے کی تصویر نہیں رہتا، بلکہ وہ ہمارے حال کو پرکھنے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ پھر سیرت کا مطالعہ کتاب ختم کرنے کا عمل نہیں رہتا، بلکہ اپنے آپ کو اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنے کا عمل بن جاتا ہے۔
شاید سیرت کے مطالعے کی حقیقی منزل یہی ہے کہ علم محبت کو جنم دے، محبت اتباع کی طرف لے جائے، اور اتباع کردار کو بدل دے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہوجائے تو سیرت محض ایک علمی موضوع نہیں رہتی، وہ ایمان کی حرارت، فکر کی روشنی، کردار کی تعمیر، دعوت کی سمت اور زندگی کا معیار بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے شوقِ مطالعہ کو علمِ نافع، صحیح فہم اور محبت ِ رسول ؐکا ذریعہ بنائے، اور سیرت کے مصادر و مآخذ سے صحیح استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے جن کے لیے سیرتِ طیبہ ماضی کی ایک داستان نہیں، بلکہ حال کی رہنمائی، کردار کی تعمیر، مستقبل کی امید اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
_______________
جب ہم دینِ اسلام کی سربلندی چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم سب سے پہلے دینِ اسلام کے تقاضوں کو بھی سمجھیں اور ان ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں جو اس ضمن میں ہم پر عائد ہوتی ہیں۔
ان ذمہ داریوں سے آگاہی اور کماحقہٗ ادائیگی کی فکری و عملی اساس ان اُمور پر مشتمل ہے: ۱- یقین ۲- علم ۳- عمل ۴-توکّل علی اللہ اور ۵- دعوتِ دین۔
۱- تصورِ دین:سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا اس بات پر مکمل یقین ہے یا نہیں کہ ہم جس تصورِدین کے مطابق کام کر رہے ہیں، یہ دراصل وہی تصورِ دین ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا۔ ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر ہم دینِ اسلام کو پوری زندگی میں غالب کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی حکومت کا نظام بھی اسلام کے مطابق چلے، تو یہ ہماری کوئی اختراع نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ہم اس تصورِدین کے بارے میں پوری طرح یکسو ہوں گے کہ صرف یہی اللہ اور اس کے رسول ؐ کا تعلیم کردہ تصورِ دین ہے، تو بے یقینی کبھی ہمارے قریب بھی نہ آسکے گی اور غیراسلامی ازموں کا کوئی جھوٹ ہمیں فریب نہیں دے سکے گا۔ ہم جدوجہد کریں گے تو صرف اسلامی نظام کے لیے اور ہماری زندگی کا کوئی نصب العین ہوگا تووہ صرف اسلام کی سربلندی ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ سیّد مودودیؒ کے لٹریچر اور ان کی تحریروں نے تصورِ دین کے اس پہلو کو اس حد تک واضح کر دیا ہے کہ ان کا مطالعہ کرنے والے، ان شاء اللہ، کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتے اور نہ اپنے کام سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔
ب: رضائے الٰہی کا حصول:جس طرح رضائے الٰہی کا حصول فریضۂ اقامت ِ دین کے بغیر ممکن نہیں، اسی طرح ہمیں اس بات کا بھی یقین ہونا چاہیے کہ اگر فریضۂ اقامت ِ دین ادا نہ کیا جائے تو زندگی بے مقصد و بے کار ہے۔ یعنی ہمیں اپنے خالق و مالک کی رضا کبھی حاصل نہیں ہوسکتی اگر ہم اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد نہیں کرتے۔
میں آپ سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مجھے یہ سمجھا دے کہ اقامت ِ دین کے لیے جدوجہد کیے بغیر بھی رضائے الٰہی حاصل کرسکتا ہوں، تو میں جماعت اسلامی میں رہ کر اسلامی نظام کے دشمنوں کی گالیاں سننے کے بجائے الگ تھلگ بیٹھ کر عبادت کروں گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا، کہ میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ پر عمل کیے بغیر اللہ کی رضا کیسے حاصل کرسکتا ہوں، اور دین کی راہ میں کام کرتے ہوئے جو سکون اور آرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ملا وہ کسی اور کو کیسے میسر آجائےگا؟
ج: آخرت:ہمیں آخرت کے معاملے میں بھی یہ یقین ہونا چاہیے کہ جو کچھ دُنیا میں ہورہا ہے یہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اگر یہاں ہمارے ہاتھوں دین کی تھوڑی بہت خدمت انجام پارہی ہے تو بنیادی طور پر یہ آخرت میں ہمارے کام آئے گی۔ آخرت پر یہ یقین اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر صرف دُنیا میں اپنے کام کے نتائج دیکھنے کی آرزو کی جائے گی تو ممکن ہے یہ چیز مایوسی پیدا کردے، کیونکہ دُنیا میں تو ہم اس کام کا صلہ عام طور پر پتھروں، گالیوں، الزام تراشیوں، جھوٹے پروپیگنڈا اور قیدوبند کی سزائوں بلکہ پھانسیوں تک کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ اگر اسی منظر کو اس کام کا کُل نتیجہ سمجھ لیا جائے تو انسان نہ اقامت ِ دین پر استقامت کی دولت سے مالا مال ہوسکتا ہے اور نہ وہ اقامتِ دین کے لیے اَن تھک جدوجہد کرسکتا ہے۔ لیکن یہ یقین کہ دیکھنے والا سب کچھ دیکھ رہا ہے، اور ایک دن ہربات اس کے حضور میں پیش ہونی ہے، ایسی کوئی مایوسی اور مردنی طاری نہیں ہونے دیتی۔ یہ ہے آخرت پر یقین کی اہمیت۔
اللہ کو منظور ہو اور دُنیا میں ہماری آنکھوں کے سامنے دین حق کی سربلندی کے لیے ہمارے کام کے نتائج نکل آئیں تو یہ اس کی رحمت ہوگی۔ لیکن ہمیں جو چیز بہرحال اپنے سامنے رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمارے لیے بنیادی معیار ہماری دُنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اقامت ِ دین کے لیے ہماری استقامت ہے۔
اس عمل کی بنیاد یہ ہے کہ ہم وہ کام کریں جواللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہے، اور ان کاموں سے بچیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہیں۔ عمل کی اس بنیاد کے مطابق چل کر ہی آپ اپنی عملی زندگی میں اور اپنی ذات پر اللہ کے دین کو غالب کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے جن دو نکات پر عمل ناگزیر ہے، وہ یہ ہیں:
الف: داعی الی اللہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے معاشرے کو اللہ کی طرف بلانے والوں میں شامل ہوں اور اقامت ِ دین کا فریضہ انجام دے رہے ہوں۔ آپ جب یہ کام کریں گے اور اسلام کے سپاہی بن کر آگے بڑھیں گے، تو آپ کے سامنے سب سے پہلا سوال یہی آئے گا کہ آپ کی زندگی میں قول و فعل کا تضاد نظر نہ آئے۔ اس تضاد سے بچنے کے لیے آپ زندگی کے ہرشعبے میں اسلام پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، اور جتنا زیادہ آپ کا تعلق اپنے اللہ سے مضبوط ہوگا اور جتنی زیادہ آپ معیت ِ الٰہی کی دولت رکھتے ہوں گے، اتنے ہی زیادہ آپ قول و فعل کے تضاد کو دُور کرنے میں کامیاب رہیں گے۔
ب: معیتِ الٰہی:اقامت ِ دین کے لیے میدانِ عمل میں آتے ہی اللہ کا دین آپ کے اپنے اُوپر نافذ ہونا شروع ہوجائے گا لیکن اسے پوری طرح غالب کرنے کے لیے آپ کو اپنی خواہشاتِ نفس اور شیطان کا سخت مقابلہ کرنا ہوگا اور انھیں مکمل شکست دینی ہوگی۔
اس جدوجہد کے لیے تین چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں:
۱- نماز کو صرف پڑھیے نہیں بلکہ اسے قائم کیجیے اور باجماعت ادا کیجیے۔یاد رکھیے، اور زندگی کے ایک ایک قدم پر یاد رکھیے، کہ نماز کے مقصد کو نماز سے باہر کی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ اس عبادت کے بنیادی مقاصد کے حصول کے لیے نماز باجماعت ادا کرنے کی تگ و دو کیجیے۔ اس کے لیے محنت کیجیے اور اسے عادت بنا لیجیے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اگر کبھی کسی وجہ سے آپ باجماعت نماز سے رہ بھی جائیں تو آپ کی نماز قضا ہرگز نہیں ہوگی۔
۲- دوسری چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے گہری دلی محبت کا رشتہ قائم کیجیے۔ صرف ’قانونی رشتہ‘ کافی نہیں ہے۔ محبت کا یہ رشتہ قائم کرنے کے لیے ان باتوں پر عمل کیجیے:
ہفتہ میں کم از کم ایک رات تہجد کی نماز ضرور ادا کیجیے۔ ذرا تہجد کی نماز تک پہنچ کر تو دیکھیے، ان شاء اللہ آپ اپنے ربّ کے بہت قریب آجائیں گے۔
تہجد کی نماز کے بعد دُعا کرنے لگیں تو اپنی خامیوں، کوتاہیوں، غلطیوں اور گناہوں کو یاد کر کے اس کے حضور میں گڑگڑا کر توبہ کیجیے۔ اس سے معافی مانگیے اور آئندہ ایسی ہر غلطی و کوتاہی سے بچنے کا عزم کیجیے۔
یہ دُعا بھی کیجیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے غلاموں اور فرمانبردار بندوں میں شامل رکھے اور غلامی کی اس نعمت سے کبھی محروم نہ کرے۔
عالمِ اسلام کے لیے، تحریک اسلامی کے لیے اور ساری دُنیا کے مسلمانوں کے لیے دُعا کیجیے اور یہ دُعا مانگتے ہوئے اپنے ان بھائیوں کو کبھی نہ بھولیے جو اپنے دین و ایمان، اپنی عزّت و آبرو اور وطن کے تحفظ کے لیے باطل قوتوں سے برسرِپیکار ہیں، جو شہید ہوگئے ہیں ان کے بلند درجات کے لیے، جو زندہ ہیں ان کی استقامت کے لیے، اور جو جیلوں میں ہیں یا وہاں دوسرے مصائب میں مبتلا ہیں، ان کی بہتری اور بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دُعا کیجیے۔ یہ دُعا کیجیے کہ ہمارا آقا، ہمارا مالک اور ہمارا خالق اس ملک کو اسلامی نظام کی نعمت سے نوازے اور قوم کو اس نظام کا مستحق بنائے۔
۳- ہر معاملے میں، ہر وقت، اپنی ہر ضرورت کے لیے اللہ تعالیٰ سے مانگئے۔ کوئی کام اللہ کو یاد کیے بغیر نہ کریں۔ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دُعائیں سکھائی ہیں وہ اذکارِمسنونہ سے بآسانی یاد ہوسکتی ہیں۔ جب تک عربی میں یاد نہ ہوں ان کے مفہوم کو اپنی زبان میں ادا کریں۔
ان تین کاموں سے آپ کے اندر قربِ الٰہی کا جذبہ پیدا ہوگا اور آپ اس چیز کو حاصل کرسکیں گے جسے میں ’معیت الٰہی‘ کہتا ہوں۔
_______________
نزول عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسا عقیدہ ہے جو قرآن کریم کی نصوص اور احادیثِ متواترہ سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ اس عقیدے پر ائمہ و محدثین کرام نے اجماع نقل کیا ہے، سوائے چند فلاسفہ اور چند غیرمعتدل معتزلہ کے۔ اُمت مسلمہ کے تمام مکاتب ِ فکر کا اجماع ہے کہ یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے زمانۂ نبوت کے دوران اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنی طرف زندہ اُٹھالیا اور وہ اللہ کی اس وسیع و عریض کائنات میں اللہ سبحانہٗ کے مقرر کردہ مقام پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زندہ، جسمانی اور حقیقی طور پر نازل ہوں گے، محض روحانی یا تمثیلی طور پر نہیں۔ وہ زمین پر عدل و انصاف قائم کریں گے، دجال کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے اور اسلام کو تمام باطل ادیان پر غالب کر دیں گے۔ یہ عقیدہ کوئی علامتی شے نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے واضح نصوص سے ثابت شدہ ہے جس کا عملی وقوع قیامت کے نزدیک ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ابنِ مریم علیہ السلام نازل نہ ہوں، جو حق کے ساتھ فیصلہ کریں گے، ظلم و جبر کو مٹائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے‘‘۔(سنن ترمذی، باب نزول عیسیٰ بن مریم ؑ)
آج کے مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً شام، فلسطین اور بیت المقدس کے حالات کے تناظر میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ قربِ قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں، جیسے ظہورِ دجال، خروجِ مہدی، نزولِ مسیح علیہ السلام اور یاجوج و ماجوج کا ظہور قریب آ چکے ہیں۔ اصل حقیقت اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ قربِ قیامت کی یہ نشانیاں کب اور کیسے پوری ہوں گی؟ انسان اپنے محدود علم کے مطابق موجودہ حالات سے صرف قیاس ہی کر سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں غزہ کی صورتِ حال اس قیاس کو یقین میں بدلتی محسوس ہوتی ہے۔ جس طرح اہلِ غزہ آج بھی ظلم، محاصرے اور قحط کے باوجود عزم و ایمان کی چٹان بنے ہوئے ہیں، اس نے دُنیا بھر کے باضمیر انسانوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا اور دُنیا بھر میں بشمول ریاست ہائے متحدہ امریکا، رائے عامہ یکسر بدل رہی ہے۔ اگرچہ اہل غزہ کے چاروں طرف سے محصور ہونے، خوراک، ادویات اور بچوں کی غذا تک بند کردیے جانے کے باوجود عالمِ اسلام تقریباً خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ایران و لبنان کو جنگ میں اُلجھادیا گیا ہے۔ عرب دنیا امریکی اشاروں پر درپردہ اسرائیل کی مدد کر رہی ہے، جب کہ مغربی حکومتوں کے ’انسانی حقوق‘ اور سیکولر’جمہوریت‘ کے کھوکھلے نعروں کی قلعی پوری طرح کھل چکی ہے۔ اہل غزہ پر آسمان سے بارود برسایا گیا ہے، زمین ان کے خون سے رنگین کر دی گئی ہے، مگر ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔
ان کے عزم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان اور قربانی کے دور کی یاد تازہ کردی ہے۔ اہلِ فلسطین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس جہاد کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ عوام و خواص کے ساتھ ساتھ، غزہ و فلسطین کے صفِ اول کے قائدین نے بھی شہادتیں پیش کی ہیں۔ دجالی طاقتیں انھیں انبیاؑ کی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں، مگر وہ پرعزم ہیں کہ خون کے آخری قطرے تک بیت المقدس کی حفاظت کریں گے۔
دوسری طرف، اسرائیل اپنی بزدلی کو معصوموں کے خون میں رنگ کر ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہرقسم کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے میں پوری ڈھٹائی سے مصروف ہے۔ بار بار جنگ بندی اور معاہدے ہوتے ہیں، مگر اسرائیل انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں مسلسل سبوتاژ کرتا رہا۔ ہر بار اسرائیل ہی جنگ بندی کا مذاق اڑاتا نظر آتا ہے۔ تمام عالمی اصولوں، جیسے اقوام متحدہ کا چارٹر، جنگی قوانین ،جنیوا کنونشنز اور انسانی حقوق کو بالائے طاق رکھ کر ظلم و سفاکیت ہی نہیں بلکہ اسرائیل تمام عالمی اصولوں کی پامالی کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی ریاست کی حدود دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلیں گی، اور ان کا ’مسیحِ موعود‘ تمام دنیا پر حکومت کرے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مسیحِ موعود نہیں بلکہ مسیح الدجال ہوگا، جسے عیسیٰ علیہ السلام اپنے مومن لشکر کے ساتھ لدّ کے مقام (موجودہ تل ابیب کے قریب) ہلاک کریں گے۔
یہ تمام حالات بظاہر ان پیش گوئیوں سے مطابقت رکھتے ہیں جو صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ جیسے جیسے قربِ قیامت کی نشانیوں کے ظہور کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، ویسے ویسے فتنہ و فساد، دجل و فریب، اور خیر و شر کا معرکہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان گمراہی کے نت نئے فتنوں اور باطل نظریات کی یلغار بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ انکارِ حدیث، انکارِ نزولِ مسیحؑ، اور انکارِ معجزات جیسے گمراہ کن نظریات پھیلاکر اُمتِ مسلمہ کے اندر فکری و اعتقادی انتشار پیدا کیا جارہا ہے۔ یہ سب دراصل دینِ اسلام کے مسلمہ حقائق پر حملے اور امت کو فکری طور پر کمزور کرنے کی ایک منظم چال ہے۔
بعض گمراہ لوگ (نعوذ باللہ) یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں، اور دجال، مہدی اور نزولِ مسیحؑ محض قصے کہانیاں ہیں۔ یہ موقف قرآن و سنت کے واضح دلائل اور اجماعِ امت سے صریحاً انحراف ہے۔ بدقسمتی سے، آج کے کچھ نام نہاد دانش وَر، مفکرین اور مغرب زدہ افراد مصلحین و مبلغین کے رُوپ میں دانستہ یا نادانستہ طور پر ان عقائد میں تشکیک پیدا کر کے اسرائیلی عزائم کو تقویت پہنچا رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف صہیونی طاقتیں ان ہی پیشین گوئیوں پر یقین رکھتے ہوئے اپنی عالمی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔
اطلاعات اور مشاہدات کے مطابق متعدد مسلم دانش ور بھی ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے کے لیے فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کر رہے ہیں۔ان دانش وروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو بظاہر خود کو مولانا فراہیؒ اور مولانا اصلاحیؒ سے منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کا تمام تر استدلال ’گریٹر اسرائیل‘ کی وکالت کرتا نظر آتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ اسرائیلی مفادات کے لیے فکری اور نظریاتی منصوبہ بندی میں شریک ہیں۔
رینڈ کارپوریشن، اسلام کی فکری وحدت کو توڑنے کے لیے ایک عرصے سے سرگرمِ عمل ہے۔ ماضی میں یہ ادارہ ’عقلی اسلام‘،’ترقی پسند اسلام‘، ’روشن خیال اسلام‘، ’اعتدال پسند اسلام‘ اور ’سیاسی اسلام‘ جیسی اصطلاحات متعارف کروا چکا ہے، تاکہ مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا کیا جا سکے۔
ان دانش وروں کا موقف یہ ہے کہ شمالی عرب پر اسرائیل کا ’فطری حق‘ ہے، جب کہ جنوبی عرب مسلمانوں کے حصے میں آتا ہے۔ وہ اس تقسیم کو ابراہیم علیہ السلام کی دو ازواجِ مطہراتؑ سارہ علیہا السلام اور ہاجرہ علیہا السلام اور ان کے فرزندان اسحاق علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام سے جوڑتے ہیں، تاکہ ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور کے لیے ایک مبینہ ’اسلامی جواز‘ پیش کیا جا سکے۔
یوں یہ دانش وَر، اسلامی فکر کا نمائندہ ہونے کے دعوے کے لبادے میں درپردہ ایسے نظریات کی ترویج میں مصروف ہیں جو صہیونی عزائم کو تقویت دیتے ہیں۔
کم علم اور کم فہم لوگ اس گمراہی کے جال میں پھنس کر غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ لہٰذا اُمتِ مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد، ایمان اور تاریخ و روایات کی بنیادوں کی طرف لوٹے۔ کیونکہ حق و باطل کا معرکہ اب صرف فلسطین کی سرزمین پر ہی نہیں بلکہ ہرمسلمان کے دل و دماغ میں برپا ہوگا۔ یہی وقت ہے کہ امت بیدار ہوکر پہچانے کہ کیا واقعی قربِ قیامت کے آثار سامنے ہیں، اور اگر واقعی ایسا ہے تو اُمت کا ہرفرد خود اس عظیم معرکے کا حصہ بنے جس کا انجام بالآخر ایمان والوں کے حق میں ہونا ہے۔
کچھ افراد یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لَانَبِیَّ بَعْدِیْ، ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘، لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام بھی دوبارہ نہیں آ سکتے۔ یہ ایک کج فہمی اور علمی بددیانتی ہے۔’خاتم النبیین‘ ہونے کا مطلب، اجماعِ امت کے مطابق، یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے شخص کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل منصبِ نبوت پر فائز کوئی نبی دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتا۔ یہ بھی واضح رہے کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب دوبارہ اس دُنیا میں آئیں گے، مگر نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کے طور پر۔ یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے اس وقت کے امام کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے، جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
مسیح علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کر دینے کے یہودی دعویٰ کا رَد کرتے ہوئے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے فرمایا:
وَّقَوْلِـہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللہِ۰ۚ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰكِنْ شُـبِّہَ لَہُمْ۰ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْہِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْہُ۰ۭ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ۰ۚ وَمَا قَتَلُوْہُ يَقِيْنًۢا۱۵۷ۙ بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَيْہِ۰ۭ وَكَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا۱۵۸ (النساء۴:۱۵۷-۱۵۸)اور وہ (یہود) کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا، بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جو لوگ اس پر اختلاف کر رہے ہیں وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی کر رہے ہیں۔ انھوں نے مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ زبردست طاقت والا اور حکیم ہے۔
رفعِ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریح کرتے ہوئے ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ’’یہ آیت یہود و نصاریٰ کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے کہ انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا یا صلیب پر چڑھا دیا، اور اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے انھیں جسم اور روح سمیت زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ وہ زندہ ہیں، انھیں موت نہیں آئی، اور وہ آخرالزمان میں نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کریں گے اور شریعتِ محمدی ؐپر عمل کریں گے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر)
امام ابو عبداللہ محمد القرطبیؒ اپنی تفسیر الجامع لأحكام القرآن میں لکھتے ہیں: ’’اللہ نے انھیں اپنی طرف اٹھایا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھیں جسم اور روح سمیت زندہ اٹھایا گیا، نہ انھیں قتل کیا گیا اور نہ انھیں موت ہی آئی۔ وہ اللہ کے پاس زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، خنزیر کو ماریں گے، صلیب توڑ دیں گے، عدل قائم کریں گے اور شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کریں گے۔ (تفسیر القرطبی)
تفسیر جلالین میں ہے کہ: ’’نہ انھوں (یہود) نے انھیں قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا، بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا … اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے انھیں زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے گمان کیا کہ انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا، مگر اللہ نے انھیں اٹھا لیا۔ اور گمان حقیقت کی جگہ نہیں لے سکتا‘‘۔ (تفسیر جلالین)
علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسیؒ تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں: ’’اللہ نے انھیں اپنی طرف اٹھایا، یعنی آسمان پر جسم اور روح سمیت زندہ اٹھایا۔ وہ باقی ہیں یہاں تک کہ آخر الزمان میں نازل ہوں گے، مومنوں کے لیے نشانی بن کر اور کافروں کے لیے عبرت۔ دجال کو قتل کریں گے، عدل قائم کریں گے، فتنوں کا خاتمہ کریں گے اور شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کریں گے‘‘۔
مولانا مودودیؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’یہ اس معاملے کی اصل حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔ اس میں جزم اور صراحت کے ساتھ جو چیز بتائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے میں یہودی کامیاب نہیں ہوئے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اب رہا یہ سوال کہ اٹھا لینے کی کیفیت کیا تھی، تو اس کے متعلق کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی۔ قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرۂ زمین سے اُٹھا کر آسمانوں پر کہیں لے گیا، اور نہ یہی صاف کہتا ہے کہ انھوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی روح اٹھائی گئی۔ اس لیے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے اور نہ اثبات۔ لیکن قرآن کے انداز بیان پر غور کرنے سے یہ بات بالکل نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اٹھائے جانے کی نوعیت و کیفیت خواہ کچھ بھی ہو، بہرحال مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ نے کوئی ایسا معاملہ ضرور کیا ہے جو غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ اس غیر معمولی پن کا اظہار تین چیزوں سے ہوتا ہے:
اس کے جواب میں قرآن سے اگر کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ صرف یہ ہے کہ سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے مُتَوَفِّیْکَ کا لفظ استعمال کیا ہے (آیت ۵۵)۔ لیکن جیسا کہ وہاں ہم حاشیہ نمبر۵۱ میں واضح کر چکے ہیں، یہ لفظ طبعی موت کے معنی میں صریح نہیں ہے بلکہ قبضِ روح، اور قبضِ روح و جسم، دونوں پر دلالت کر سکتا ہے۔ لہٰذا یہ اُن قرائن کو ساقط کردینے کے لیے کافی نہیں ہے جو ہم نے اوپر بیان کیے ہیں۔ بعض لوگ جن کو مسیحؑ کی طبعی موت کا حکم لگانے پر اصرار ہے، سوال کرتے ہیں کہ تَوَفّی کا لفظ قبضِ روح و جسم پر استعمال ہونے کی کوئی اور نظیر بھی ہے؟ لیکن جب کہ قبضِ روح و جسم کا واقعہ تمام نوعِ انسانی کی تاریخ میں پیش ہی ایک مرتبہ آیا ہو تو اس معنی پر اس لفظ کے استعمال کی نظیر پوچھنا محض ایک بے معنی بات ہے۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ آیا اصل لغت میں اس استعمال کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو ماننا پڑے گا کہ قرآن نے رفعِ جسمانی کے عقیدے کی صاف تردید کرنے کی بجائے یہ لفظ استعمال کر کے ان قرائن میں ایک اور قرینے کا اضافہ کر دیا ہے جن سے اس عقیدے کو اُلٹی مدد ملتی ہے، ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ موت کے صریح لفظ کو چھوڑ کر وفات کے محتمل المعنیین لفظ کو ایسے موقع پر استعمال کرتا جہاں رفعِ جسمانی کا عقیدہ پہلے سے موجود تھا اور ایک فاسد اعتقاد، یعنی اُلوہیتِ مسیحؑ کے اعتقاد کا موجب بن رہا تھا۔ پھر رفعِ جسمانی کے اس عقیدے کو مزید تقویت ان کثیر التعداد احادیث سے پہنچتی ہے جو قیامت سے پہلے عیسیٰ ابنِ مریم ؑ کے دوبارہ دنیا میں آنے اور دجال سے جنگ کرنے کی تصریح کرتی ہیں (تفسیر سورۂ احزاب کے ضمیمہ میں ہم نے ان احادیث کو نقل کر دیا ہے)۔ ان سے حضرت عیسیٰؑ کی آمدِ ثانی تو قطعی طور پر ثابت ہے۔ اب یہ ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ ان کا مرنے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں آنا زیادہ قرینِ قیاس ہے، یا زندہ کہیں خدا کی کائنات میں موجود ہونا اور پھر واپس آنا؟‘‘ (تفہیم القرآنج۱،ص ۴۲۰-۴۲۱)
اس آیت کے دو الفاظ الْعَزِیْز اور الْحَکِیْم خود اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش، نبوت، آسمان پر اٹھایا جانا، دوبارہ نزول، دجال کا خاتمہ، اور اسلام و شریعتِ محمدیؐ کا کامل نفاذ، یہ سب اللہ کی بے پناہ طاقت اور حکمت کے مطابق ہے۔ یوں اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو سراپا نشانی بنا دیا، جو مومنوں کے لیے ایک علامت اور کافروں کے لیے عبرت ہے۔ یہ تمام واقعات اللہ کی صفات الْعَزِیْز اور الْحَکِیْم کی واضح مثالیں ہیں۔
اس کے بعد سورۃ النساء کی درج ذیل آیت میں اس کی مزید وضاحت ہے:
وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۰ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكُوْنُ عَلَيْہِمْ شَہِيْدًا۱۵۹ۚ (النساء۴:۱۵۹ )اور اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس [عیسیٰؑ]کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا، اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔
ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ’’یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰؑ قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے۔ اُس وقت تمام اہلِ کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے، کیونکہ نہ وہ جزیہ قبول کریں گے اور نہ اسلام کے سوا کسی دین کو ہی قبول کریں گے‘‘۔
مولانا مودودیؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اس فقرے کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں اور الفاظ میں دونوں کا یکساں احتمال ہے۔ ایک معنی وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ’’اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیحؑ پر ایمان نہ لے آئے‘‘۔ اہلِ کتاب سے مراد یہودی ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ عیسائی بھی ہوں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ مسیحؑ کی طبعی موت جب واقع ہوگی، اس وقت جتنے اہلِ کتاب موجود ہوں گے وہ سب ان پر (یعنی ان کی رسالت پر) ایمان لا چکے ہوں گے‘‘۔ (تفہیم القرآن، جلد۱، سورۃ النساء، آیت ۱۵۹ کی تفسیر)
سورۂ آلِ عمران کی درج ذیل آیت اسے مزید واضح کرتی ہے:
اِذْ قَالَ اللہُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَہِرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ۰ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْہِ تَخْتَلِفُوْنَ۵۵ (اٰلِ عمرٰن۳:۵۵) جب اُس [اللہ] نے کہا کہ ’’اے عیسٰیؑ ، اب میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اُٹھا لوں گا اور جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے اُن سے (یعنی اُن کی معیّت سے اور اُن کے گندے ماحول میں اُن کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کردوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک اُن لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے۔ پھر تم سب کو آخرکار میرے پاس آنا ہے، اُس وقت میں اُن باتوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تمھارے درمیان اختلاف ہوا ہے۔
ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا، پھر بعد میں تجھے وفات دوں گا‘‘۔ مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یعنی میں تجھے دنیا سے پورا پورا واپس لینے والا ہوں، نہ کہ موت کے ذریعے واپس لینے والا‘‘۔ ابن کثیرؒ یہ اقوال درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں مُتَوَفِّيْكَ سے مراد نیند ہے کیونکہ سورۃ الزمر آیت ۴۲ میں موت کو نیند سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر حسن بصریؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو نیند کی حالت میں آسمانوں کی طرف اُٹھایا۔ پھر سورۃ النساء کی آیات ۱۵۶ تا ۱۵۹ کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۰ۚ (النساء۴:۱۵۹) سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے قبل ہے اور یہ اس وقت ہوگا جب عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل زمین پر اُتارے جائیں گے، اس وقت تمام اہل کتاب اسلام قبول کرلیں گے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کسی سے قبولِ اسلام کے بجائے جزیہ دینا قبول ہی نہیں کریں گے۔ پھر حسن بصریؒ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو کہا: اِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ وَ اِنَّہٗ رَاجِعٌ اِلَیْکُمْ ،’’یقینا عیسیٰ علیہ السلام پر موت واقع نہیں ہوئی اور وہ قیامت سے قبل تمھاری طرف واپس آنے والے ہیں‘‘۔ جہاں تک ابن عباسؓ سے منسوب قول کا تعلق ہے، امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں تصریح کی ہے کہ حسن بصری ؒ، ابن زیدؒ اور ابن عباسؓ سے مروی صحیح قول یہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں کی طرف بغیر موت اور بغیر نیند کے اُٹھایا، اور امام طبریؒ نے بھی اسی کو صحیح کہا ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ تَوَفَّىٰ سے یہاں مراد عیسیٰ ؑ کا رفع (اٹھا لیا جانا) ہے۔
ابن ابی حاتم ؒنے حسن بصریؒ سے اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ کی تفسیر میں یہ روایت کیا ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں اٹھا لیا۔ (تفسیر ابن ابی حاتم)
ابن جریر الطبریؒ نے بھی نقل کیا ہے کہ حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ ؑ مرے نہیں، وہ تمھاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ (تفسیر طبری)
مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’اصل میں لفظ مُتَوَفِّيْكَ استعمال ہوا ہے۔ تَوَفّٰی کے اصل معنی لینے اور وصول کرنے کے ہیں، روح قبض کرنا اس لفظ کا مجازی استعمال ہے نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ To recall کے معنی میں مستعمل ہوا ہے، یعنی کسی عہدے دار کو اس کے منصب سے واپس لینا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے، بار بار کی تنبیہوں اور فہمائشوں کے باوجود ان کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا ؑ کو قتل کر چکے تھے اور ہر اس بندۂ صالح کے خون کے پیاسے ہوجاتے تھے جو نیکی اور راستی کی طرف انھیں دعوت دیتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت تمام کرنے اور انھیں ایک آخری موقع دینے کے لیے حضرت عیسٰی اور حضرت یحییٰ علیہم السلام جیسے دوجلیل القدر پیغمبروںکو بیک وقت مبعوث کیا جن کے ساتھ مامور مِنَ اللہ ہونے کی ایسی کھلی کھلی نشانیاں تھیں کہ ان سے انکار صرف وہی لوگ کر سکتے تھے جو حق و صداقت سے انتہا درجہ کا عناد رکھتے ہوں اور حق کے مقابلے میں جن کی جسارت و بے باکی حد کو پہنچ چکی ہو۔ مگر بنی اسرائیل نے اس آخری موقع کو بھی ہاتھ سے کھو دیا اور صرف اتنا ہی نہ کیا کہ ان دونوں پیغمبروں ؑ کی دعوت رد کر دی، بلکہ ان کے ایک رئیس نے علی الاعلان حضرت یحییٰ ؑ جیسے بلند پایہ انسان کا سر ایک رقاصہ کی فرمائش پر قلم کرا دیا، اور ان کے علما و فقہا نے سازش کر کے حضرت عیسیٰ ؑ کو رومی سلطنت سے سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی فہمائش پر مزید وقت اور قوت صرف کرنا بالکل فضول تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو واپس بلا لیا اور قیامت تک کے لیے بنی اسرائیل پر ذلت کی زندگی کا فیصلہ لکھ دیا۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کی یہ پوری تقریر دراصل عیسائیوں کے عقیدہٴ اُلوہیتِ مسیح کی تردید و اصلاح کے لیے ہے اور عیسائیوں میں حضرت مسیح ؑکی الوہیت کے عقیدے کے بنیادی اسباب تین تھے:
قرآن نے پہلی بات کی تصدیق کی اور فرمایا کہ حضرت مسیح ؑ کا بے باپ پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا۔ اللہ جس کو جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یہ غیر معمولی طریقِ پیدائش ہرگز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مسیح خدا تھا یا خدائی میں کچھ بھی حصہ رکھتا تھا۔
دوسری بات کی بھی قرآن نے تصدیق کی اور خود مسیحؑ کے معجزات ایک ایک کر کے گنائے، مگر بتادیا کہ یہ سارے کام اُس نے اللہ کے اِذن سے کیے تھے،باختیارِ خود کچھ بھی نہیں کیا، اس لیے ان میں سے بھی کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے تم یہ نتیجہ نکالنے میں کچھ بھی حق بجانب ہو کہ مسیح ؑکا خدائی میں کوئی حصہ تھا۔
اب تیسری بات کے متعلق اگر عیسائیوں کی روایت سرے سے بالکل ہی غلط ہوتی تب ان کے عقیدۂ اُلوہیتِ مسیح ؑکی تردید کے لیے ضروری تھا کہ صاف صاف کہہ دیا جاتا کہ جسے تم الٰہ اور ابن اللہ بنارہے ہو، وہ مر کر مٹی میں مل چکا ہے، مزید اطمینان چاہتے ہو تو فلاں مقام پر جا کر اس کی قبر دیکھ لو۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے، قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی موت کی تصریح نہیں کرتا، اور صرف یہی نہیں کہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو زندہ اٹھائے جانے کے مفہوم کا کم از کم احتمال تو رکھتے ہی ہیں، بلکہ عیسائیوں کو الٹا یہ بتا دیتا ہے کہ مسیح ؑ سرے سے صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے، یعنی وہ جس نے آخری وقت میں ایلی ایلی لما شبقتانی کہا تھا اور وہ جس کی صلیب پر چڑھی ہوئی حالت کی تصویر تم لیے پھرتے ہو، وہ مسیح نہ تھا، مسیح کو تو اس سے پہلے ہی خدا نے اٹھا لیا تھا‘‘۔(تفہیم القرآن،ج۱،ص ۲۵۷-۲۵۸)
مولانا ابوالکلام آزاد نے تفسیر ترجمان القرآن میں تصریح کی ہے کہ ’’حضرت عیسیٰ ؑکے مخالفین نے انھیں سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے والے تھے ان میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہم شکل بنا دیا، اور مخالفین نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دھوکے میں اسے سولی پر چڑھا دیا۔ آیت کا جو ترجمہ یہاں کیا گیا ہے وہ عربی لفظ توفٰی کے لغوی معنی پر مبنی ہے، اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں تَوفّٰی کے یہی معنی مراد لیے ہیں‘‘۔
مولانا عبدالرحمٰن کیلانی نے تفسیر تیسیر القرآن میں لکھا ہے کہ ’’آپ رفع عیسیٰ ؑکے متعلق غور فرمائیے۔ منکرین کا سارا زور لفظ تَوفّٰی پر ہوتا ہے جس کے لغوی معنی ’پورے کا پورا وصول کر لینا‘ ہیں۔ اس لفظ کو قرآن ہی نے نیند اور موت کے موقع پر قبض روح کے لیے استعمال کیا۔ حالانکہ نیند کی حالت میں پوری روح قبض نہیں ہوتی بلکہ جسم میں بھی ہوتی ہے۔ پھر اگر اس لفظ کو روح اور بدن دونوں کو وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو لغوی لحاظ سے یہ معنی اور بھی زیادہ درست ہیں۔ رَافِعُکَ اِلَیَّ کے الفاظ اس معنی کی مزید تائید کرتے ہیں اور دوسرے مقام پر تو اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں فرمایا: وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰكِنْ شُـبِّہَ لَہُمْ۰ۭ (النساء۴:۱۵۷)۔ اس آیت میں آپ کی زندگی اور رفع پر تین دلائل دیے گئے ہیں:
یہ یقینی بات ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کو مار نہ سکے۔
پھر مزید صراحت یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔
مولانا کیلانی نے مزید لکھا ہے کہ ’’منکرینِ معجزات، خارقِ عادت امور کا انکار اور پھر ان کی تاویل اس لیے کرتے ہیں کہ یہ [معجزات]موجودہ زمانے کے مادی معیاروں پر پورے نہیں اُترتے۔ لہٰذا، تمام عقل پرستوں نے حضرت عیسیٰؑ کی بن باپ پیدائش، ان کے دیگر تمام معجزات اور آسمانوں پر اٹھائے جانے کی تاویل کر ڈالی۔ البتہ، ان میں مرزا غلام احمد قادیانی متنبی منفرد ہیں جو باقی تمام معجزات کے تو قائل ہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانے اور پھر قیامت سے پہلے اس دنیا میں آنے کے منکر ہیں۔ وہ اس لیے کہ اس نے خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور اگر وہ رفعِ عیسیٰؑ کو تسلیم کر لیتا تو اس کی اپنی بات نہیں بنتی تھی۔ گویا یہ کام اس نے دوسری وجہ یعنی اتباعِ ہوائے نفس کے تحت سرانجام دیا ہے‘‘۔ (تفسیر تیسیر القرآن)
سورۂ زخرف کی آیت ۶۱ میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ۰ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ۶۱ (الزخرف ۴۳:۶۱) اور بے شک وہ (عیسیٰ علیہ السلام ) قیامت کی ایک نشانی ہیں، پس تم اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔
یہاں وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ کا مطلب نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہونا ہے۔ اہلِ سنت کے تمام مفسرین جیسے ابن کثیرؒ، طبریؒ، قرطبیؒ، جلالینؒ، آلوسیؒ وغیرہ کا اجماع ہے کہ یہاں عِلْمٌ سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے زندہ نزول ہے، جو قربِ قیامت میں ہوگا۔
ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: ’’مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں، یعنی وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ ا بوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوالعالیہؒ، ابومالکؒ، عکرمہؒ، الحسنؒ، قتادہؒ اور الضحاکؒ سے بھی یہی مروی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قیامت کے قریب آنے کی علامت اور دلیل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت سے پہلے نازل فرمائے گا جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ روایت ہونے والی احادیث سے ثابت ہے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر)
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر احادیث مجموعی طور پر ۹۰ طریقوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں جو صحیح یا حسن درجہ کی ہیں اور یہ احادیث مجموعی طور پر تواتر کے درجے کو پہنچ جاتی ہیں۔ سیّد مودودیؒ نے سورئہ اَحزاب کے ضمیمہ میں ان میں سے ۲۱ ؍احادیث بیان کردی ہیں۔ امام الشوکانیؒ نے نزولِ مسیحؑ پر ۳۹ ؍احادیث بیان کی ہیں۔ ان میں کچھ احادیث یہ ہیں:
۱- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ تمھارے درمیان ابن مریم (حضرت عیسیٰ ؑ) ایک منصف عادل کے طور پر نازل ہوں گے۔ وہ صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، مال اتنا زیادہ ہوگا کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا، یہاں تک کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے ایک سجدہ بہتر ہوگا‘‘۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمھارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمھارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
۳- ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ تم میں ابن مریم عادل و منصف حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے، صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کریں گے اور مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا‘‘۔ (صحیح بخاری ، راوی: ابوہریرہؓ)
۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ یقیناً وہ نازل ہوں گے۔ جب تم انھیں دیکھو تو پہچان لینا: درمیانہ قد کے، سرخی مائل سفید رنگت والے ہوں گے، دو ہلکے زرد کپڑوں میں ہوں گے۔ یوں لگے گا جیسے ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو حالانکہ وہ تر نہ ہوگا‘‘۔ (سنن ابو داؤد، صحیح الاسناد حسن، راوی: نواس بن سمعان ؓ)
۵- ’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ پھر عیسیٰ ابن مریمؑ نازل ہوں گے۔ ان کا امیر کہے گا: آئیے ہمیں نماز پڑھائیں۔ وہ فرمائیں گے: نہیں، تم میں سے بعض بعض کے امیر ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے اس امت کی عزّت ہے‘‘۔ (سنن ابو داؤد، صحیح، راوی: نواس بن سمعان ؓ)
۶- ’’عیسیٰؑ ابن مریم ؑنازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے۔ زمین میں چالیس سال قیام کریں گے، پھر وفات پائیں گے، مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے اور انھیں دفن کریں گے‘‘۔ (مسند احمد بن حنبل، صحیح، راوی: نواس بن سمعانؓ)
۷- ’’عیسیٰ ابن مریمؑ مشرقی دمشق کے سفید منارہ پر دو زرد کپڑوں میں نازل ہوں گے…‘‘ (سنن کبریٰ للبیہقی ، حسن، راوی: نواس بن سمعان ؓ)
۸- ’’عیسیٰ ؑشام کی زمین پر نازل ہوں گے، کافروں سے لڑیں گے اور عدل قائم کریں گے‘‘۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ،حسن، راوی: ابو ہریرہؓ)
ان تمام احادیثِ صحیحہ میں قربِ قیامت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے اور چالیس سال تک حکومت کرنے کے بعد وفات پانے کی صراحت کے بعد بھی کوئی ابہام یا شبہ باقی رہ جاتا ہے؟ اس کے باوجود جو شخص یہ کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے، وہ قرآن و حدیث کو جھٹلاتا ہے اور صحیح بخاری، صحیح مسلم اور تواتر کی حد کو پہنچنے والی دیگر صحیح احادیث کا کھلا انکار کرتا ہے۔ قرآن و احادیث میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا، نہ صلیب پر چڑھایا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں موت دیے بغیر اپنی جانب اٹھا لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی یہی مفہوم سمجھا، اور صحیح احادیث نے بھی اسی کی تائید کی۔ اسلام کے دورِ اوّل سے لے کر موجودہ دور تک تمام معتبر مفسرین، محدثین، علما اور فقہا نے بھی یہی عقیدہ بیان کیا ہے۔ لیکن افسوس کہ دورِ جدید کے بعض نام نہاد مفکرین، دانش ور اور متجدّدین اپنی عقل پر ایسا فخر کرتے ہیں کہ گویا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علما و مفسرینِ سلف و خلف سے زیادہ فہمِ دین رکھتے ہیں اور زیادہ عربی داں ہیں، اور پھر صہیونی ایجنڈے کی اُمت مسلمہ میں ترویج کے لیے گمراہ کن دعویٰ کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔
_______________
گذشتہ دنوں پاکستان کے ایک ممتاز دینی اسکالر کی جانب سے ’کرپٹو کرنسی‘ سے متعلق دیے گئے فتویٰ پر بحث مباحثہ رہا۔ ہر دوسرے فرد نے اس پر اپنی رائے دی۔ جہاں سوشل میڈیا پر اس فتویٰ کے حق اور مخالفت میں گرما گرمی چلتی رہی، وہیں بہت سے سنجیدہ لوگوں نے اس موضوع پر زیادہ تفصیل سے لکھ کر اپنے دلائل پیش کیے۔ لیکن یہ بحث صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ ان دنوں امریکا میں بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی [CNBC] کی ۱۳ جولائی ۲۰۲۶ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینیٹ سے اپیل کی ہے کہ ’’ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ کے حوالے سے وضاحت کا قانون [Digital Asset Market Clarity Act] جلد از جلد پاس کیا جائے، ورنہ چین اور روس اس میدان میں امریکا پر برتری حاصل کرلیں گے‘‘۔
یہ قانون امریکا میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کو قانون کے دائرے میں لانے سے متعلق ہے۔ اور ہوسکتا ہے جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں یہ بل منظور یا مسترد ہوچکا ہو۔ اس بل کے ناقدین کے خیال میں کیونکہ امریکی صدر ’خود کرپٹو کرنسی‘ کے کاروبار سے منسلک ہیں، اس لیے ان کو مفادات کے ٹکراؤ [Conflict of Interest] کے پیش نظر اس بل کو مؤخر کردینا چاہیے۔ دوسری طرف اس بل کے حمایتی اس ساری صورتِ حال کا ذمہ دار امریکا کے بینکاری کارٹیلز کو ٹھیراتے ہیں۔ جن کے خیال میں اگر یہ قانون منظور ہوگیا تو ڈالر پر قائم ان بینکوں کی صدیوں پرانی اجارہ داری ختم ہوجائے گی، جو ان بینکوں کو عوام کی دولت پر اندھا منافع کمانے کا موقع دیتی ہے۔
عام خیال یہی ہے کہ امریکی بینک جے پی مارگن [ J.P. Morgan] کے سی ای او جیمی ڈائمن [Jamie Dimon] نے وائٹ ہاؤس اور امریکی سینیٹ میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے اس بل کو منظور ہونے سے رکوا رکھا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر یہ بل منظور ہوگیا تو آنے والے دنوں میں ان بینکوں سے تقریباً چار ٹریلین ڈالرز تک نکل کر کرپٹوکرنسیز میں داخل ہوجائیں گے، جو ان بینکوں کی اجارہ داری توڑنے کا باعث بنے گا۔
آخری خبریں آنے تک کافی حد تک معاملات طے ہوگئے تھے ، لیکن ابھی تک اس بات پر تعطل موجود تھا کہ عوامی منصب پر فائز لوگوں کی حدود کیا ہونی چاہئیں اور جس طرح بنک کے بچت اکاؤنٹ یا [Saving Account] میں رکھے گئے پیسوں پر صارف کو سود دیا جاتا ہے، اسی طرح اسٹیبل کوائن [Stable Coins] پر سود دیا جانا چاہیے یا نہیں؟ بینکاری کارٹیل کو خطرہ ہے کہ اگر اسٹیبل کوائن [Stable Coins] پر منافع بھی ملنا شروع ہوگیا تو روایتی بینکاری سے پیسہ بہت تیزی سے نکل کر کرپٹو کرنسیوں میں آنا شروع ہوجائے گا۔
ہم اس مضمون میں مستقبل میں آنے والی معاشی تبدیلیوں، عام فرد پر ان کے اثرات، اور ڈیجیٹل کرنسیوں کی مختلف شکلوں پر گفتگو کریں گے۔ اگرچہ یہاں ہمارا موضوع کرپٹو کرنسیوں کی حلت و حرمت پر بات کرنا نہیں ہے لیکن کیونکہ ’بٹ کوائن‘ اور دیگر ’کرپٹو کرنسیاں‘ آنے والے نظام کی پہلی کڑی بھی ہیں اور رائج الوقت بھی،لہٰذا ہم اس پر تھوڑی تفصیلی گفتگو کریں گے۔
’بٹ کوائن‘ ہو، ’اسٹیبل کوائن‘ ہو، کوئی ٹوکن ہو یا پیسہ کی کوئی دوسری ڈیجیٹل شکل، یہ سب پیسہ کی نجکاری کی طرف ایک قدم ہیں۔ پیسہ کی نجکاری [Privatization of Money] کا تصور سب سے پہلے آسٹریا کے مشہور نوبل انعام یافتہ معیشت دان فریڈرک ہائیک [Friedrich Hayek] نے ۱۹۷۶ء میں اس وقت دیا تھا، جب امریکا کی جانب سے سونا کے معیار [Gold Standard] ہونے کے خاتمے کے اثرات نظر آنا شروع ہوئے۔ فریڈرک نے اپنی کتاب دولت کی نجکاری [The Denationalisation of Money] میں اس موضوع پر بحث کی اور مختلف تاریخی مثالوں سے یہ بتایا کہ کس طرح مختلف حکومتی اقدامات افراط زر اور دیگر مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔
جہاں دنیا بھر میں ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ (IMF) کی سربراہی میں مرکزی بنکوں کو حکومتی کنٹرول سے آزاد کرایا جانا پیسہ کی نجکاری کی طرف پیش رفت لگتا ہے، اسی طرح ’مصنوعی ذہانت‘ (AI)کے میدان میں ملنے والی تیز رفتار ترقی نے اس مطالبےمیں شدت پیدا کردی ہے۔ اس وقت صرف ’بٹ کوائن‘ یا کرپٹو کرنسیاں ہی نہیں بلکہ پروگرام کے تحت سرمایے کی حرکیات [Programmable Money]، باقاعدہ جمع کرائی گئی رقوم [Tokenized Deposits]، ’مرکزی بنک سے وابستہ ڈیجیٹل رقوم‘ [Central Bank Digital Currencies]، [Quantum Money] جیسی بہت سی ڈیجیٹل کرنسیوں کی شکلیں منظر عام پر آنے کو تیار ہیں۔ اور بے شمار ملکوں کی حکومتیں مختلف نجی کمپنیوں کے ساتھ مال کی ان بدلتی شکلوں پر کام کررہی ہیں۔
مؤرخین کے لیے یہ فیصلہ کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے کہ تاریخ کو طاقت کی نظر سے دیکھا جائے یا معیشت کی نظر سے، یا دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں؟ طاقت کے ساتھ ساتھ مال و دولت کی بحث بالکل مرغی اور انڈے والی بحث کی طرح ابھی تک حل طلب ہے کہ طاقت اگر ہتھیار سے حاصل ہوئی، تو وہ ہتھیار مثلاً تلوار جس دھات سے بنی وہ دھات اس وقت کے اعتبار سے مال یا دولت تھی، اور اگر طاقت ذہانت سے حاصل ہوئی تو دراصل ذہانت خود مال کی ایک شکل ہے۔
پھر جس طرح یہ بحث حل طلب رہی ہے، اسی طرح وسائل کا استعمال و اختیار بھی ہمیشہ سے ایک بحث طلب موضوع رہا ہے۔ بالکل اوّلین دور میں، جسے مغربی مؤرخین پتھروں کا دور [Stone Age] کہتے ہیں ، انسان بذاتِ خود طاقت و معیشت کا مرکز و محور تھا۔ جس میں جتنی طاقت تھی، وہ اتنا ہی شکار کرتا اور اپنے لیے خوارک کا بندوبست کرتا۔ یہیں سے خاندان کی ابتدائی شکل اُبھری۔ جسمانی طور پر طاقت ور انسان کے گرد لوگ اکٹھا ہونا شروع ہوئے، گروہ بنے، مل کر شکار شروع ہوا اور پھر خاندان سے قبائل بننا شروع ہوئے۔ گویا خوراک، مال کی پہلی شکل بنی۔
یہیں سے انسان نے زیادہ خوراک کے حصول کے لیے زمین کا استعمال شروع کیا۔ پھر دنیا ’زرعی دور‘ میں داخل ہوگئی، جس میں زمین کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، جس کے پاس زیادہ زمین تھی وہ زیادہ طاقت ور تھا۔ یہیں سے جاگیردارانہ نظام زندگی شروع ہوا۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’زرعی دور‘ میں زمین کو مال کی حیثیت حاصل تھی۔ پھر وقت کا پہیہ گھوما اور انسان ’زرعی دور‘ سے ’صنعتی دور‘ میں داخل ہوگیا۔ جہاں مشین، فیکٹری اور توانائی کے مختلف ذرائع مرکزی حیثیت اختیار کرگئے۔ اور ساتھ ہی مشینوں اور توانائی کو مال کی حیثیت بھی حاصل ہوگئی۔
جب انسان نے وسائل پر قابو پانا شروع کیا تو اس کے ساتھ ہی ان وسائل کے استعمال اور باہمی تبادلے کے لیے مختلف معیار مقرر ہوگئے۔ مثلا ’زرعی دور‘ میں سب سے پہلے ’بارٹر سسٹم‘ [Barter System] یعنی اشیاء کے تبادلے سے کاروبار شروع ہوا۔ ضرورتیں بدلیں تو کچھ اشیاء مثلاً نمک، اجناس وغیرہ کو اپنی اپنی مخصوص خوبیوں کے باعث زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی اور یہ اشیاء مالی تبادلے کا معیار مقرر ہوئیں۔ وقت آگے بڑھا اور انسانوں نے قبیلوں اور ریاستوں کی شکل اختیار کرلی، تو اپنے اپنے جھنڈوں کے ساتھ سونے، چاندی کے سکّے جاری کیے۔
دنیا کا نظام زندگی کافی عرصہ مختلف دھاتی سکّوں پر چلتا رہا، لیکن وزنی سکوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہا، جس کے حل کے لیے کاغذی رسیدوں یا بنک نوٹ وغیرہ کا رواج شروع ہوا۔ ایک عرصے تک یہ بنک نوٹ محض ایک ضمانت کی حیثیت رکھتے رہے، یعنی آپ جب چاہیں یہ بنک نوٹ دے کر سونا وصول کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کے استعمال میں آسانی نے بظاہر ان نوٹوں ہی کو مال کی شکل دے دی۔
انسانی تاریخ میں طاقت اور دولت کے ملاپ نے ہمیشہ دوسروں کے استحصال کو بڑھاوا دیا۔ ذات پات کے مختلف نظام ہوں یا جاگیرداری نظام، اشتراکیت ہو یا سرمایہ دارانہ نظام، تقریباً ہر نظام ہی انسان کے نجات دہندہ کے طور پر پیش ہوا، اور پھر استحصال کی ایک شکل بنتا چلا گیا۔ لیکن جب کاغذی نوٹوں نے مال کی حیثیت اختیار کرلی تو استحصال کی بدترین شکل ’جزوی ذخائر پر مبنی بینکاری ‘ [Fractional Reserve Banking] کی شکل میں ظاہر ہوئی۔
یعنی جب بنکوں کو اندازہ ہوا کہ ان کے جاری کردہ نوٹ رسید کے بجائے خود ایک مضبوط ضمانت بن گئے ہیں، اور کم ہی لوگ ان کاغذی رسیدوں یا نوٹوں کے بدلے سونا لینے آتے ہیں، تو انھوں نے اپنے پاس موجود سونے سے زیادہ مالیت کے کاغذی نوٹ جاری کرنا اور بطور قرض دینا شروع کردیے۔ یوں دولت یا مال کی پیدائش بغیر محنت کے ہونا شروع ہوگئی۔
جب بغیر محنت پیسہ بننا یا چھپنا شروع ہوا تو اس کا لامحالہ نتیجہ پیسے کی بے قدری کی صورت میں نکلا۔ جسے ہم افراط زر یا [Inflation] یا عام لفظوں میں مہنگائی کہتے ہیں۔ کسی چیز کی قیمت میں اضافے اور کمی کی بنیادی وجہ طلب و رسد [Demand and Supply] کے اصول کے گرد گھومتی ہے، یعنی اگر ایک چیز کی طلب زیادہ ہے مگر رسد کم ہے تو وہ چیز مہنگی ہوجاتی ہے، یا پھر اسی طرح کسی چیز کی مانگ کم مگر رسد زیادہ رہے تو اس کی قیمت گرنا شروع ہوجاتی ہے۔ لیکن جب پیسے کی رسد بڑھنا شروع ہوئی تو اس کا اثر پوری معیشت پر پڑنا شروع ہوگیا۔ کیونکہ کاغذی نوٹ کی طباعت تو ہوگئی یعنی دولت تو پیدا ہوگئی، لیکن اس دولت کے پیچھے کوئی حقیقی اثاثہ موجود نہ تھا، جس کا نتیجہ ہر دوسری دستیاب چیز کے مہنگے ہونے کی صورت میں نکلا۔
لیکن حقیقت میں یہ مہنگائی یا افراط زر سب کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔ جب نیا پیسہ یا نوٹ چھپتا ہے تو یہ سب سے پہلے حکومت کے ہاتھ میں آتا ہے، اور وہ اس پیسے کو استعمال کرتی ہے۔ حکومت کے بعد بینک کے پاس پہنچتا ہے جو یہ پیسہ قرضے کی صورت میں سرمایہ دار کو دے دیتے ہیں اور سرمایہ دار اس کو کسی کاروبار میں لگا کر نفع کماتا ہے۔ اس کے بعد سب سے آخر میں یہ پیسہ ایک مزدور یا محنت کش طبقے کے پاس پہنچتا ہے۔ اس طرح جیسے جیسے یہ پیسہ ہاتھ بدلتا ہے ویسے ویسے مہنگائی بھی بڑھتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس پیسے کا سب سے زیادہ فائدہ اس کو ہوتا ہے جو اسے سب سے پہلے استعمال کرتا ہے اور سب سے زیادہ خسارے میں وہ رہتا ہے، جس کے پاس یہ پیسہ سب سے آخر میں پہنچتا ہے ۔ معیشت کی زبان میں یا معیشت کا آسٹریوی مسلک [Austrian School of Thought] اسے کینٹیلن اثر [Cantillon Effect] کہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افراطِ زر کو معاشی قتل یا چھپا ہوا ٹیکس بھی کہا جاتا ہے۔
اگرچہ کاغذی نوٹ نے صدیوں کے استعمال کے بعد بطور مال اپنی حیثیت تو منوالی تھی، لیکن پھر بھی ایک عام تصور یہی تھا کہ اس کاغذی نوٹ کے پیچھے سونا بطور معیار موجود ہے۔ چاہے سونے کی ’مقدار جزوی ذخائر پر مبنی بینکاری‘ [Fractional Reserve Banking] کے باعث کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ لیکن ۱۹۷۱ء میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے سونا کا بطور معیار [Gold Standard] کے خاتمہ کا اعلان کردیا کہ اب ڈالر کے پیچھے سونے کی طاقت نہیں ہوگی۔
بغیر کسی محنت یا وسائل کے پیسے چھاپنے کے اس عمل نے افراطِ زر میں کس قدر اضافہ کیا ہے، اس کا اندازہ دنیا کی سب سے طاقت ور کرنسی ڈالر کی آج بے قدری سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے سو سال میں ڈالر اپنی ۹۷ فی صد قدر کھو چکا ہے۔ یعنی آج سے سو سال پہلے جو چیز محض تین ڈالر کی تھی، آج سو ڈالر میں ملتی ہے۔
چونکہ امریکی ڈالر دنیا کی ایک عالمی ریزرو کرنسی [Reserve Currency] بھی ہے جو عالمی تجارت میں استعمال ہوتی ہے، لہٰذا اس کے افراطِ زر کا اثر دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ پیسہ یا ڈالر چھاپنے کا یہ کام کتنا بڑھ گیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ امریکا کا کل قرضہ ۴۰ٹریلین ڈالر تک پہنچ رہا ہے۔ جو ۱۹۷۱ء میں سونے کے معیار کے خاتمے سے قبل محض ۴۰۰بلین ڈالر تھا۔ یعنی قرض کی رفتار دگنی یا تگنی نہیں بلکہ سو گنا بڑھ گئی ہے۔
اس سب کا نتیجہ بالآخر ۲۰۰۸ء کے عالمی معاشی بحران کی صورت میں نکلا جو ۱۹۲۹ء کے عظیم معاشی بحران [Great Depression] کے بعد سب سے بدترین معاشی بحران ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تقریباً آٹھ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ تقریباً ۹۰لاکھ لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہوگئے اور ۴۰ لاکھ لوگ اپنے مکانوں کا قرض ادا نہ کرسکے۔
امریکی ڈالر کی غیرمعمولی طباعت کے باعث، جس کی سب سے بڑی وجہ امریکا کی دُنیابھر میں شروع کردہ جنگیں تھیں، بیشتر ماہرین نے ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کی پیش گوئی کافی پہلے سے ہی شروع کردی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کو ’عظیم چوری‘ [Great Theft] بھی کہا گیا جس کے باعث پیسہ نہ صرف غریبوں کے ہاتھ سے نکل کر امیروں کے پاس گیا بلکہ خود حکومتوں نے اس بحران کے ذمہ دار بنکوں کو تو ’مالی مدد‘ [Bail out] دے کر بچا لیا، لیکن جو لوگ اپنے مکانوں اور نوکریوں سے محروم ہوگئے تھے ان کے لیے کوئی خاص حل نہیں نکالا۔
جزوی ذخائر پر مبنی بینکاری [Fractional Reserve Banking] کے ان ہولناک نتائج کو دیکھتے ہوئے اس کے مقابلے میں ۲۰۰۹ء میں ’بٹ کوائن‘ [Bitcoin]، جو کہ اپنی نوعیت کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی ہے، کو بطور حل پیش کیا گیا۔ ’بٹ کوائن‘ کے بنانے والوں نے اپنی شناخت کو مخفی رکھتے ہوئے ایک فرضی نام ’ستوشی نکاموتو‘ [Satoshi Nakamoto] سے ایک مقالہ لکھا، جس کے ذریعے بٹ کوائن اور اس کے نظام کو واضح کیا گیا تھا۔
’بٹ کوائن‘ بنانے والوں نے مال کی نئی اور پرانی شکلوں اور ٹکنالوجی کے ملاپ سے اس کو ایک مکمل مالیاتی نظام کے ایسے دعویٰ کے طور پر پیش کیا، جو موجودہ بینکاری نظام کی تمام کمزوریوں کو حل کرتا ہے۔ مثلاً جس طرح سونے جواہرات کی اہمیت، ان کی رسد کم یا محدود ہونے کی وجہ سے ہے اور ان کی پرنٹنگ نہیں کی جاسکتی، اسی طرح بٹ کوائن کی زیادہ سے زیادہ حد ۲۱ ملین تک رکھی گئی۔ جس طرح سونا زمین سے مائننگ کے عمل سے گزر کر نکلتا ہے، اسی طرح جدید ٹکنالوجی، حساب کے مشکل سوالات کو حل کرکے، برقی توانائی کے استعمال کے بعد ’بٹ کوائن‘ حاصل ہوتا ہے اور کاغذی کرنسیوں کی طرح اس کی پرنٹنگ نہیں ہوسکتی۔
گوکہ ’بٹ کوائن‘ کو روپے پیسے کی طرز پر انٹرنیٹ پر باہمی تبادلہ کے لیے بطور مال پیش کیا گیا تھا لیکن اس کی محدود تعداد، مخصوص شرائط اور مضبوط نظام کے باعث ایک عام کرنسی کے بجائے ’بٹ کوائن‘ کا استعمال سونے یا ہیرے جواہرات کی طرح مال کی قدر کو محفوظ کرنے کے ذریعے [Store of Value] کے طور پر شروع کردیا گیا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ موجودہ بینکاری کا نظام ہے، جہاں پیسہ کو بے دریغ چھاپا جارہا ہے۔ چونکہ دنیا بھر میں پیسہ مستقل چھپ رہا ہے لیکن ’بٹ کوائن‘ کی تعداد ۲۱ ملین سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ چنانچہ کاغذی نوٹ خواہ کسی بھی ملک کا ہو اس کے مقابلے میں ’بٹ کوائن‘ کی قیمت بہت تیزی سے بڑھی ہے۔
دنیا بھر میں جہاں جہاں کاغذی نوٹ یا پیسہ بے وقعت ہوا ہے، وہاں لوگوں نے تیزی سے سونے اور چاندی کے ساتھ ساتھ ’بٹ کوائن‘ میں بھی اپنی دولت کو رکھنا شروع کردیا ہے، تاکہ محنت سے کمائی اپنی دولت کو بے وقعت ہونے سے بچایا جاسکے۔ اس کی بڑی مثال ارجنٹائن ہے، جہاں تیزی سے بڑھتے افراط زر کے مقابلے کے لیے لوگوں نے ’بٹ کوائن‘ میں اپنی دولت رکھنی شروع کی۔ اسی طرح ’روس یوکرین جنگ‘ کے بعد بہت سارے یوکرینی شہریوں نے ’بٹ کوائن‘ کا استعمال شروع کیا۔ کیونکہ سونا لے کر ایک ملک سے دوسرے ملک جانا تقریباً ناممکن ہے، اس لیے بھی ’بٹ کوائن‘ کا نسبتاً آسان استعمال ان ممالک میں لوگوں کے لیے پہلی ترجیح بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا سمیت کئی ممالک میں ’بٹ کوائن‘ کو سونے کی طرح قومی خزانے کا حصہ [State Reserves] بنانے کا مطالبہ زوروں پر ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ’بٹ کوائن‘ کی قیمت جتنی تیزی سے بڑھتی ہے اتنی ہی تیزی سے گرتی بھی ہے۔ اور قیمت کے اس زبردست اتار چڑھاو کی وجہ سے روزمرہ کے لین دین میں بطور کرنسی اسے کوئی استعمال نہیں کررہا، ساتھ ہی اس کی قیمتوں میں مستقل اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بطور سرمایہ کاری بھی یہ قیاس آرائیوں پر مبنی سرمایہ کاری [Speculative Risk Asset] بن کر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’بٹ کوائن‘ کی قیمت آخری پندرہ برسوں میں کم از کم چار دفعہ ۷۵ فی صد سے نیچے گر کر پھر اوپر اٹھی ہے۔
اسی طرح ہر ایک کے لیے نئی ٹکنالوجی استعمال کرنا آسان نہیں ہوتا، لہٰذا لوگ ’بٹ کوائن‘ کو اپنی ذاتی تحویل میں رکھنے کے بجائے جس ’کرپٹو کرنسی‘ ایکسچینج سے خریدتے ہیں، وہیں پر محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اپنا پیسہ بنک میں رکھا جائے، جہاں اس عمل سے آپ ذاتی تحویل کی پیچیدگیوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں، وہیں قیمتوں کے بڑھنے یا گرنے کی صورت میں فوری فیصلہ کرنے اور خریدنے یا بیچنے کا اختیار بھی رہتا ہے۔ اگرچہ بٹ کوائن خود تو حکومتی دسترس سے باہر ہے لیکن یہ کرپٹو ایکسچینج خود کسی نہ کسی حکومت کے زیر سایہ کام کرتے ہیں۔ نتیجتاً اگر کوئی حکومت کسی پر روک ٹوک لگانا چاہے تو یہ ممکن ہوجاتا ہے۔
اسی طرح اس نئی ٹکنالوجی کی مشکلات اور کرپٹو ایکسچینج کی ہیکنگ(Hacking) کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر ایک اندازے کے مطابق ۱۵؍ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان صارفین کو برداشت کرنا پڑا ہے۔
جہاں ’بٹ کوائن‘ کے چاہنے والے بہت ہیں وہیں بہت سے محتاط تجزیہ نگار اس کو ایک ’معاشی بلبلہ‘ کہتے ہیں، کیونکہ ’بٹ کوائن‘ اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بعض سازشی نظریات سے متاثر حضرات تو اس کو مال پر ریاستی جبر کی ابتدائی شکل کہتے ہیں۔ ان کے خیال میں حکومت پہلے ’بٹ کوائن‘ کو ایک مقبول تحریک بنا کر ڈیجیٹل کرنسیوں کو عوام میں قبولیت دلوائے گی اور اس کے بعد اپنی ڈیجیٹل کرنسی [Central Bank Digital Currency] جاری کرکے نقد رقوم [Cash] کے لین دین کا مکمل خاتمہ کردے گی۔
اس سب کی جھلک دیکھنی ہو تو آپ چین کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔ چین نے آخری عشروں میں ٹکنالوجی کے استعمال کے ذریعے کافی حد تک اپنے معاشرے کو نقدی سے آزاد معاشرہ [Cashless Society] بنادیا ہے ۔ آپ اسمارٹ فون پر موجود ایپلی کیشن کے ذریعے جب چاہیں، جہاں چاہیں ادائیگی کرسکتے ہیں۔ اگرچہ فی الوقت چین میں نقدی کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں، اور نہ موجودہ چینی نظام ’بلاک چین‘ (Block chain)پر مشتمل ہے لیکن پرائیویسی کے ماہرین اس نظام پر شدید تحفظات رکھتے ہیں کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے حکومت کے لیے عوام کی نگرانی کرنا نہایت آسان ہوجاتا ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکا جہاں آزادیٔ اظہار پر کوئی پابندی نہیں، وہاں ’بٹ کوائن‘ پر تو کوئی پابندی نہیں لگائی گئی کیونکہ اس کی ساری نقل و حرکت [Transactions] عوام کی طرح حکومت کی نظروں میں بھی رہتی ہے۔ لیکن بعض دوسرے کوائن پر، جو Privacy Coin کہلاتے ہیں اور اپنی نقل و حرکت صارف کے تحفظ کے لیے چھپاتے ہیں، امریکا میں آزادیٔ اظہار کے تمام نعروں کے برعکس غیر علانیہ پابندی بھی ہے اور بعض سافٹ وئیر انجینئرز کو ایسے سافٹ وئیر بنانے پر سزا بھی مل چکی ہے، جو ان کوائن کی نقل و حرکت کو دوسروں کی نظر سے پوشیدہ رکھنے کا کام کرتے ہیں۔
لیکن یہاں اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ نہ تو تمام کرپٹو کرنسیاں بٹ کوائن کی طرح کام کرتی ہیں اور نہ ان میں ’بٹ کوائن‘ کی تمام خصوصیات ہی موجود ہیں، اور نہ ان کو وہ وسیع پذیرائی حاصل ہے جو ’بٹ کوائن‘ کو حاصل ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں کرپٹو کرنسیاں یا ٹوکن موجود ہیں جن میں سے بیش تر کا مقصد سادہ لوح لوگوں کو راتوں رات امیر ہونے کا خواب دکھا کر مال کمانا اور پھر غائب ہوجانا ہے۔
اسی طرح تمام کرپٹو کرنسیوں یا ٹوکنز کو روایتی معنوں میں کرنسی سمجھنا بھی غلطی ہے۔ مثلاً دنیا کی دوسری مقبول ترین کرپٹو کرنسی ایتھریم [Ethereum] روایتی معنوں میں ایک کرنسی نہیں ہے۔ جس طرح ہم کمپیوٹر کو استعمال کرنے کے لیے ’مائیکروسافٹ‘ کے بنے ’ونڈوز آپریٹنگ سسٹم‘ [Windows Operating System] کا استعمال کرتے ہیں اور پھر اس آپریٹنگ سسٹم پر ہرکام کے لیے مختلف سوفٹ وئیر بنائے جاتے ہیں۔ یا اسمارٹ فون کو استعمال کرنے کے لیے ’اینڈرائیڈ‘ [Andriod] یا ’ایپل کمپنی‘ کا بنایا ہوا ’آئی او ایس‘ [Apple's iOS] درکار ہوتا ہے، جن پر ہم مختلف کاموں کے لیے مختلف ایپس [Apps] انسٹال کرتے ہیں۔ اسی طرح ایتھریم [Ethereum] بھی بلاک چین [Blockchain] پر مبنی ایک آپریٹنگ سسٹم کہلاسکتا ہے جو مختلف ایپس، جنھیں [dApps] کہا جاتا ہے، بنانے کی سہولت دیتا ہے۔
اور جس طرح ہمیں ونڈوز استعمال کرنے کے لیے ایک الگ لائسنس درکار ہوتا ہے اور ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے کسی بھی دوسرے سوفٹ وئیر مثلاً ایم ایس آفس [Microsoft Office] کے لیے ایک مختلف لائسنس درکار ہوتا ہے، اسی طرح ایتھریم [Ethereum] پر بننے والی مختلف ایپس یا [dApps] ایتھریم کی ’کرپٹو کرنسی‘ کو بطور لائسنس [Gas Fees] کا استعمال کرتی ہیں اور خود ’اپنی ایپ‘ [dApps] کے لیے ایک الگ لائسنس بناتی ہیں، جسے ٹوکن کہتے ہیں۔
ایتھریم [Ethereum] پر بنی دو سب سے مقبول ایپس [dApps] یا ٹوکن [Token] امریکی ڈالر کی کرپٹو شکل یو ایس ڈی ٹی [USDT] اور یو ایس ڈی سی [USDC] ہیں، جنھیں اسٹیبل کوائن یا Stable Coin بھی کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کے پیچھے اصل میں ڈالر ہی کام کرتا ہے، یعنی آپ کا ڈالر یو ایس ڈی ٹی [USDT] یا یو ایس ڈی سی [USDC] بنانے والی کمپنی کے اکاؤنٹ میں چلا جاتا ہے اور وہ کمپنی آپ کو اس کے بدلے ڈالر کی ڈیجیٹل شکل اپنے ٹوکن کی شکل میں دے دیتی ہے۔ یہ اس لیے مفید ہے کہ بنک تو صرف دن کے آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں، لیکن اگر آپ کے پاس یو ایس ڈی ٹی [USDT] یا یو ایس ڈی سی [USDC] موجود ہوں تو آپ ان کو کسی بھی وقت دن ہو یا رات استعمال کرسکتے ہیں۔ گوکہ یہی کام مختلف بنکوں کی موبائل ایپس بھی کرتی ہیں لیکن ان دونوں ٹوکن [Stable Coins] کو آپ دنیا بھر میں کہیں بھی کسی بھی وقت بلاتاخیر اور نہایت ہی کم خرچ کے ساتھ بھیج سکتے ہیں۔
ان اسٹیبل کوائن [Stable Coins] کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگالیں کہ یوایس ڈی سی [USDC] بنانے والی کمپنی سرکل [Circle] نے امریکا میں اب اپنا بینکاری ٹرسٹ لائسنس حاصل کرلیا ہے۔ یہ کسی اسٹیبل کوائن کمپنی کو ملنے والا پہلا لائسنس ہے ، جس کی وجہ سے سرکل [Circle] کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ کمپنی اب امریکا کے دیگر بنکوں کی طرح امریکی حکومتی نگرانی میں کام کرے گی۔ لہٰذا، اب اسے تمام وہی قوانین بھی ماننے ہوں گے جو دیگر امریکی بنک مانتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک ایران کے مختلف کرپٹو اثاثوں پر امریکی پابندی سے دیکھی جاسکتی ہے اور یہی وہ خطرہ تھا، جس کا اظہار ’بٹ کوائن‘ اور کرپٹو کرنسیوں کے ناقدین اب تک کرتے آرہے ہیں۔ اسی طرح یو ایس ڈی ٹی [USDT] پر فریکشنل ریزرو بینکاری کے طور طریقے استعمال کرنے کے الزام لگتے رہتے ہیں۔
_______________
تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے۔وہ خود کو کبھی حرف بہ حرف نہیں دہراتی، لیکن اس کے کردار بار بار نئے رُوپ میں اسٹیج پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔ نام بدل جاتے ہیں، جھنڈے بدل جاتے ہیں، سلطنتوں کے نقشے بدل جاتے ہیں، جنگی ہتھیاروں کی شکلیں بدل جاتی ہیں، مگر طاقت کا مزاج نہیں بدلتا۔ ہر دور کی بزعمِ خود سوپر پاور کو ایک نہ ایک مرحلے پر یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا اس کے ارادوں کے سامنے زیادہ دیر ٹھیر نہیں سکتی۔
قدیم زمانے میں یہ یقین ’رستم‘ کو تھا۔پھر رومی قیصروں کو ہوا۔کبھی منگولوں نے یہی گمان کیا۔برطانوی سلطنت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ آج یہی اعتماد امریکا کی حکمرانی میں جھلکتا ہے۔
طاقت جب مسلسل کامیابی کی سمت بڑھتی رہتی ہے تو وہ صرف اپنے مخالف کی طاقت کا اندازہ لگانا نہیں چھوڑتی، بلکہ اس کے حوصلے کو بھی کم تر سمجھنے لگتی ہے۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس کے جہاز صرف آسمان میں نہیں اڑتے، بلکہ مخالف کے اعصاب پر بھی پرواز کرتے ہیں۔ اس کے بحری بیڑے صرف سمندر کی موجوں کو نہیں چیرتے، بلکہ حکومتوں کے عزم و ارادے بھی توڑ دیتے ہیں۔ اس کا اقتصادی دباؤ صرف معیشت کو نہیں، بلکہ سیاسی قیادت کے اعتماد کو بھی منہدم کردیتا ہے۔
شاید اسی نفسیات کے ساتھ امریکی قیادت نے ایران کو بھی دیکھا۔
یہ گمان کیا گیا کہ جب جنگی بیڑے حرکت میں آئیں گے، جب مسلسل دھمکیاں دی جائیں گی، جب اقتصادی پابندیوں کا شکنجا مزید سخت ہوگا، جب فضاؤں میں بمبار طیاروں کی گھن گرج سنائی دے گی، تو بالآخر تہران کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی وہی خاموشی اتر آئے گی، جو دنیا کے کئی دوسرے دارالحکومتوں میں اترتی رہی ہے۔لیکن اس بار منظرنامہ مختلف تھا۔ دھمکیوں کے جواب میں خاموشی نہیں آئی۔فوجی دباؤ کے جواب میں پسپائی نہیں ہوئی،اور مسلسل خطرات کے باوجود ایک جملہ بار بار سنائی دیتا رہا:’’ہم جھکیں گے نہیں‘‘۔یہ جملہ صرف ایران کا سیاسی موقف نہیں تھا۔ یہ طاقت کی اس پوری نفسیات کے لیے ایک غیر متوقع جواب تھا، جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ خوف ایک ایسی زبان ہے جسے دنیا کی ہر قوم لازماً سمجھتی ہے۔
یہ صرف زبانی مزاحمت نہیں تھی۔ جب امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایرانی سرزمین پر براہِ راست حملے کیے، جب تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جب ٹرمپ کی جانب سے کھلی دھمکیاں دی گئیں کہ اگر ایران نے ہتھیار نہ ڈالے تو نتائج مزید سنگین ہوں گے، تو یہاں سے وہی امتحان شروع ہوا، جو تاریخ میں ہر مزاحم قوم کو درپیش رہا ہے: کیا نقصان اٹھانے کے بعد حوصلہ بھی ٹوٹ جاتا ہے، یا نقصان کے باوجود موقف قائم رہتا ہے؟ ایران نے جانی و مالی نقصان اٹھایا، تنصیبات متاثر ہوئیں، مگر سیاسی و عسکری قیادت کی زبان سے وہی جملہ دہرایا گیا جو صدیوں سے استقامت کی علامت رہا ہے: ’ہم جھکیں گے نہیں!‘
یہاں سوال صرف ایران کا نہیں رہتا۔اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جو بعض قوموں کو ایسے مواقع پر خوف کے بجائے استقامت عطا کرتی ہے؟یہ صرف فوجی طاقت کا سوال نہیں۔اگر جنگیں صرف اسلحے سے جیتی جاتیں تو تاریخ میں چھوٹی قومیں کبھی بڑی سلطنتوں کے سامنے کھڑی نہ ہوتیں۔ اگر میزائل ہی سب کچھ ہوتے تو ویت نام کی جنگ تاریخ کا حصہ نہ بنتی، افغانستان تین سوپر پاورز کے لیے قبرستان نہ بنتا، اور نوآبادیاتی سلطنتیں دنیا کے نقشے سے اس طرح رخصت نہ ہوتیں۔
یہاں ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے۔
ہر جنگ دو محاذوں پر لڑی جاتی ہے۔ایک محاذ زمین پر ہوتا ہے، جہاں ٹینک، میزائل، طیارے اور بحری بیڑے ہوتے ہیں۔ دوسرا محاذ انسان کے دل کے اندر ہوتا ہے، جہاں خوف، اُمید، یقین، مقصد اور قربانی کا جذبہ آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔پہلے محاذ پر ہتھیار فیصلہ کرتے ہیں اوردوسرے محاذ پر ایمان، نظریہ اور حوصلہ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب یہ دوسرا محاذ شکست کھا جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی فوج بھی کسی قوم کو زیادہ دیر تک سہارا نہیں دے سکتی۔ لیکن اگر دل کے اندر یقین زندہ ہو، تو وسائل کی کمی بھی ہمیشہ فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں چودہ سو سال پیچھے لے جاتی ہے۔
فارس کی عظیم سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ اس کے دربار کی شان و شوکت، اس کی فوجوں کی کثرت، اس کے خزانے، اس کے محل اور اس کا غرور، سب کچھ اس یقین سے لبریز تھا کہ دنیا میں اس کے مقابلے کی کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔پھر ایک دن اس کے دربار میں ایک ایسا شخص داخل ہوا جس کے لباس میں کوئی شاہانہ جاہ و جلال نہ تھا، جس کے ہاتھ میں کوئی سونے کا عصا نہ تھا، اور جس کے پیچھے ہزاروں محافظ نہ تھے۔ لیکن اس کی آنکھوں میں وہ اعتماد تھا جو دنیا کے بڑے بڑے تاجداروں کے پاس بھی نہیں تھا۔وہ حضرت رِبعی بن عامرؓ تھے۔
رستم نے اس دن صرف ایک آدمی کو نہیں دیکھا۔اس نے پہلی مرتبہ ایک ایسے انسان کو دیکھا تھا جس نے خوف سے آزادی حاصل کر لی تھی۔اور جب کوئی انسان خوف سے آزاد ہوجائے، تو پھر تاریخ کا رخ بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
رستم کے دربار میں آنے والے اس اجنبی کے ہاتھ میں نہ کوئی شاہی فرمان تھا، نہ کسی سلطنت کا پروانہ، نہ دولت کا غرور اور نہ لشکروں کی تعداد کا فخر۔ اس کے پاس اگر کچھ تھا تو صرف ایک ایسا یقین تھا جسے نہ خریدا جا سکتا تھا، نہ چھینا جا سکتا تھا۔
یہی یقین ہر دور کی طاقت کے لیے سب سے بڑا معمہ رہا ہے۔
طاقت ور قومیں ہمیشہ اپنے مخالف کی فوج گنتی ہیں، اس کے ٹینک شمار کرتی ہیں، اس کے جہازوں کا جائزہ لیتی ہیں، اس کے خزانے کا اندازہ لگاتی ہیں، مگر اکثر وہ ایک چیز کو نظر انداز کردیتی ہیں___ انسان کے عقیدے اور ایمان کی قوت!اسی لیے تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ طاقت ور سلطنتیں اپنے حساب میں سب کچھ شامل کرتی رہیں، لیکن ایک ایسا عنصر بھول گئیں جس کا کوئی ریاضیاتی فارمولا نہیں ہوتا۔ وہ عنصر تھا ایمان، مقصد اور قربانی کا جذبہ۔
اسی غلطی نے رستم کو حیران کیا تھا،اور اسی غلطی نے بعد کی بہت سی سلطنتوں کو بھی حیران کر دیا۔ یہ صرف فارس کی داستان نہیں۔نپولین بھی روس کی برف سے زیادہ روسی عزم کو نہ سمجھ سکا۔برطانوی سلطنت ہندوستان پر حکومت تو کر سکی، لیکن آزادی کی خواہش کو ہمیشہ کے لیے ختم نہ کر سکی۔ سوویت یونین افغانستان میں اپنی عسکری قوت لے آیا، مگر وہاں کے قبائلی معاشرے کی مزاحمتی نفسیات اور جذبۂ ایمان کو پوری طرح نہ پڑھ سکا۔امریکا نے ویت نام میں جدید ترین اسلحہ استعمال کیا، لیکن یہ اندازہ نہ لگا سکا کہ جب ایک قوم جنگ کو صرف زمین کی جنگ نہیں بلکہ اپنے وجود کی جنگ سمجھنے لگے، تو اس کے فیصلے بدل جاتے ہیں۔یہ مثالیں ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہیں، لیکن ان میں ایک مشترک سبق موجود ہے___ تاریخ کا سبق!
اسی اصول کو سمجھے بغیر حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی کش مکش کو بھی پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد رہیں۔ اس کی معیشت پر دباؤ ڈالا گیا۔ اسے عالمی تنہائی سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے جوہری پروگرام پر مسلسل تنازعات رہے، اور اس کی علاقائی پالیسیوں پر شدید مخالفت ہوتی رہی۔
ان تمام عوامل نے یقیناً ایران کو نقصان پہنچایا۔مگر ایک حقیقت اپنی جگہ موجود رہی کہ دباؤ کے باوجود اس کی ریاست مکمل طور پر ٹوٹ نہیں گئی، اور نہ اس نے ہر موقع پر وہ راستہ اختیار کیا جس کی توقع اس کے مخالفین کر رہے تھے۔
اصل سوال یہ ہے کہ وہ مسلسل دباؤ کے باوجود نفسیاتی طور پر شکست خوردہ کیوں نہیں دکھائی دیتا؟یہ سوال صرف ایران کے بارے میں نہیں۔یہ ہر اس قوم کے بارے میں ہے، جو اپنے آپ کو کسی بڑے مقصد سے وابستہ سمجھتی ہے۔کیونکہ جب کسی معاشرے میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس کی جدوجہد صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک شناخت یا ایک تاریخی ذمہ داری کا حصہ ہے، تو اس کے فیصلوں کا معیار بدل جاتا ہے۔ ایسے معاشرے نقصان ضرور اٹھاتے ہیں، لیکن ہر نقصان کو شکست نہیں سمجھتے۔
یہاں طاقت اور استقامت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔
طاقت دوسروں کو خوف زدہ کر سکتی ہے،استقامت خود خوف کو شکست دیتی ہے۔ طاقت کا تعلق وسائل سے ہوتا ہے،استقامت کا تعلق یقین سے۔طاقت دوسروں پر اثر ڈالتی ہے، استقامت پہلے اپنے ماننے والوں کے دلوں کو مضبوط کرتی ہے، پھر اس کا اثر مخالف پر بھی پڑنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر بڑی عسکری طاقت صرف ہتھیار نہیں بناتی، بلکہ نفسیاتی جنگ بھی لڑتی ہے۔ دھمکیاں، اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ، میڈیا کی مہمات، یہ سب اسی لیے ہوتے ہیں کہ مخالف پہلے اپنے دل میں ہار جائے۔کیونکہ اگر دل ہار جائے تو میدانِ جنگ میں فتح نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔لیکن اگر دل نہ ہارے، تو جنگ کا نقشہ بدلنے لگتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں رستم کے دربار کی وہ مختصر ملاقات ایک دائمی سبق بن جاتی ہے۔ رستم کے سامنے کھڑا شخص صرف ایک سپاہی نہیں تھا۔وہ ایک ایسے تصورِ حیات کا نمائندہ تھا جس نے انسان کو یہ سکھایا تھا کہ عزت کا سرچشمہ طاقت نہیں، حق ہے۔ زندگی کا مقصد صرف زندہ رہنا نہیں، بلکہ سچ پر قائم رہنا ہے۔ اور موت کا خوف اس انسان کو غلام بنا سکتا ہے جس نے زندگی کو ہی اپنی آخری منزل سمجھ لیا ہو۔رستم نے اس دن ایک لشکر نہیں دیکھا تھا۔اس نے ایک ایسی فکر کو دیکھا تھا جسے شکست دینا تلواروں سے ممکن نہیں تھا۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ہمیں حضرت رِبعی بن عامرؓ اور رستم کے درمیان ہونے والے اس تاریخی مکالمے کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، کہ اس مختصر گفتگو میں طاقت، آزادی، ایمان اور انسانی وقار کا وہ فلسفہ پوشیدہ ہے۔
ذرا تصور کیجیے۔ایک طرف فارس کی عظیم سلطنت ہے۔محلوں کی شان و شوکت، قیمتی قالین، ریشمی پردے، سونے چاندی سے مزین ستون، درباریوں کی قطاریں، جرنیلوں کی تلواریں اور ایک ایسا سپہ سالار جسے یقین ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کی سلطنت کو چیلنج نہیں کرسکتی۔ دوسری طرف عرب کے صحرا سے آنے والا ایک شخص۔سادہ لباس،سادہ ہتھیار،کوئی ظاہری جاہ و جلال نہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت رِبعی بن عامرؓ اپنے گھوڑے سمیت دربار میں داخل ہوئے۔ درباریوں نے شاہی آداب کا تقاضا کیا، مگر انھوں نے اس تکلف کو قبول نہ کیا۔ ان کے لیے اصل عظمت محل کی نہیں، اس پیغام کی تھی جس کے وہ نمائندہ تھے۔ رستم حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔وہ شاید یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آخر اس اعتماد کا سرچشمہ کیا ہے؟ یہ شخص کس طاقت کے سہارے ایک عظیم سلطنت کے قلب میں اس بے خوفی کے ساتھ کھڑا ہے؟
رستم نے سوال کیا:’’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘یہ بظاہر ایک سفارتی سوال تھا، لیکن حقیقت میں یہ دو تہذیبوں کا مکالمہ تھا۔ایک تہذیب جو طاقت کو انسان کی برتری کا معیار سمجھتی تھی،اور دوسری تہذیب جو انسان کو اللہ کا بندہ سمجھ کر ہر دوسری غلامی سے آزاد کرنا چاہتی تھی۔
حضرت رِبعی بن عامرؓ نے جواب دیا:
الله ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد إلٰى عبادة الله، ومن ضيق الدنيا إلٰى سعتها، ومن جور الأديان إلٰى عدل الإسلام ،اللہ نے ہمیں اس لیے بھیجا ہے کہ ہم لوگوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے آئیں، دنیا کی تنگی سے اس کی وسعت کی طرف، اور ظلم پر قائم نظاموں سے اسلام کے عدل کی طرف۔
یہ چند جملے بظاہر مختصر ہیں، مگر ان کے اندر ایک پوری تہذیب بول رہی تھی۔
ذرا غور کیجیے۔حضرت رِبعیؓ نے یہ نہیں کہا کہ ہم زمینیں فتح کرنے آئے ہیں۔انھوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ ہم دولت حاصل کرنے آئے ہیں۔انھوں نے سلطنت، خزانے یا اقتدار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔انھوں نے انسان کی آزادی کی بات کی۔وہ آزادی جو کسی بادشاہ سے نہیں، اللہ کی بندگی سے حاصل ہوتی ہے۔یہی وہ جواب تھا جس نے رستم کو خاموش کر دیا۔کیونکہ اس کے پاس ہر سوال کا عسکری جواب تھا، مگر اس سوال کا نہیں کہ اگر کوئی قوم اپنے مقصد کو جان و مال سے زیادہ عزیز سمجھنے لگے تو اسے کس ہتھیار سے شکست دی جائے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ حال سے آ کر ملتی ہے۔
ہر دور کا ’رستم‘ یہی سمجھتا ہے کہ طاقت کا سب سے بڑا اظہار دوسروں کو خوف زدہ کر دینا ہے۔لیکن ہر دور کے رِبعیؓ دنیا کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ خوف سے آزاد انسان کو زیر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسلام نے انسان کو سب سے پہلے اس کے دل میں موجود خوف سے آزاد کیا۔ اسے بتایا کہ عزّت، رزق، زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ جب یہ یقین دل میں اتر جائے تو پھر بڑی سے بڑی طاقت انسان کے جسم کو تو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس کے ارادے کو نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہر زمانے میں طاقت کے ایوانوں کو سب سے زیادہ حیران کرتی رہی ہے۔ کیونکہ ہتھیاروں کا مقابلہ ہتھیاروں سے کیا جا سکتا ہے، لیکن ’یقین‘ کا مقابلہ صرف ’یقین ‘سے ہوتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس کی روشنی میں ہمیں آج کی عالمی سیاست، طاقت کی نفسیات اور مزاحمت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
گذشتہ کئی عشروں سے ایران مسلسل دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، سائنسی اور عسکری سرگرمیوں پر نگرانی، علاقائی کش مکش، اور بارہا فوجی تصادم کا خطرہ۔ ان تمام حالات نے ایران کی معیشت، عوام اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈالے۔ اس کے باوجود ایک حقیقت نے عالمی مبصرین کو متوجہ کیا کہ مسلسل دباؤ کے باوجود ایرانی ریاست اور معاشرہ مکمل نفسیاتی انہدام کا شکار نہیں ہوا۔ اختلافات اپنی جگہ، مشکلات اپنی جگہ، لیکن ریاستی سطح پر مزاحمت کا بیانیہ برقرار رہا۔ آخر کیوں؟اس سوال کا جواب صرف میزائلوں میں تلاش کرنا کافی نہیں۔صرف ڈرون ٹکنالوجی اور عسکری حکمت ِ عملی میں بھی نہیں۔ہر فوج کے پیچھے ایک معاشرہ کھڑا ہوتا ہے، اور ہر معاشرے کے پیچھے ایک تصورِ حیات۔
یہاں ایک اور پہلو قابلِ غور ہے:دنیا کی بڑی طاقتیں صرف فوجی برتری قائم نہیں رکھتیں، بلکہ نفسیاتی برتری بھی قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے عسکری طاقت، اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ، میڈیا کی حکمت ِ عملی اور مسلسل دھمکیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ مخالف یہ محسوس کرنے لگے کہ مزاحمت بے سود ہے۔ اس لیے کسی بھی جنگ میں پہلا ہدف اکثر انسان کا حوصلہ ہوتا ہے۔اگر حوصلہ ٹوٹ جائے تو ہتھیار بعد میں گرتے ہیں۔لیکن اگر حوصلہ باقی رہے تو نقصان کے باوجود مزاحمت جاری رہ سکتی ہے۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے___ بدر میں مسلمانوں کے پاس تعداد کم تھی۔احزاب میں مدینہ چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا۔اندلس کی فتح سے پہلے مسلمانوں کے پاس سمندر پار کرنے کے وسائل محدود تھے۔صلاح الدین ایوبی کے سامنے صلیبی افواج زیادہ منظم تھیں۔ ان مثالوں میں ہر واقعہ اپنی جگہ منفرد ہے، لیکن ان سب میں ایک مشترک حقیقت موجود ہے: نتیجہ صرف ظاہری وسائل سے متعین نہیں ہوتا۔
قرآن اسی حقیقت کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے:
كَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِيْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً كَثِيْرَۃًۢ بِـاِذْنِ اللہِ۰ۭ (البقرہ ۲:۲۴۹)کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ چکی ہیں۔
یہ آیت صرف جنگ کا بیان نہیں، بلکہ ایک فکری اصول ہے۔ یہ انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وسائل اہم ہیں، منصوبہ بندی ضروری ہے، تیاری ناگزیر ہے، لیکن فیصلہ کن قوت صرف مادی اسباب نہیں ہوتے۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کسی ایسی قوم کو دیکھتی ہے جو شدید دباؤ کے باوجود اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوتی، تو حیرت صرف اس کی عسکری صلاحیت پر نہیں ہوتی، اصل حیرت اس کے اجتماعی حوصلے پر ہوتی ہے۔ یہاں پر ہمیں ایک اور سوال اپنے آپ سے بھی پوچھنا چاہیے۔کیا استقامت صرف جنگ کے میدان میں مطلوب ہے،یا یہ ہر اس معاشرے کی ضرورت ہے جو اپنے دین، اپنی تہذیب، اپنی آزادی اور اپنی اخلاقی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتا ہو؟
یہ سوال صرف ایران کا نہیں۔یہ سوال ہر اس قوم کا ہے جو قرآن کو اپنی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما مانتی ہے۔اگر ہم صرف اسلحے کی زبان میں تاریخ کو پڑھیں تو شاید بہت سے سوالوں کا جواب کبھی نہ مل سکے۔
ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ فلاں سلطنت کے پاس زیادہ فوج تھی، فلاں کے پاس جدید ہتھیار تھے، فلاں کے پاس مضبوط معیشت تھی، پھر بھی وہ شکست کھا گئی۔لیکن جب ہم تاریخ کو انسان کی روح، اس کے عقیدے اور اس کے اخلاق کی روشنی میں پڑھتے ہیں، تو منظر بدلنے لگتا ہے۔قرآن بار بار ایک حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال صرف مادی وسائل سے وابستہ نہیں ہوتا۔ ان کی اندرونی کیفیت، ان کا اخلاق، ان کا عدل، ان کی امانت اور ان کا اللہ سے تعلق بھی ان کی تقدیر میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔اسی لیے اسلام نے جنگ جیتنے سے پہلے انسان کی تعمیر پر زور دیا۔مدینہ کی ریاست بدر سے پہلے وجود میں آئی، لیکن بدر سے بھی پہلے مکہ میں تیرہ برس تک انسانوں کی تعمیر ہوئی۔ ایمان پیدا کیا گیا، کردار سنوارا گیا، امانت، صبر، قربانی اور آخرت کا یقین دلوں میں اتارا گیا۔ گویا اسلام نے پہلے انسان کو فتح کیا، پھر میدان فتح ہوئے۔یہی وہ سبق ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔
ہم طاقت کو صرف میزائلوں، ٹینکوں، معیشت اور فوجی بجٹ میں تلاش کرتے ہیں، جب کہ قرآن طاقت کا ایک اور سرچشمہ بھی بتاتا ہے:’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم جما دے گا‘‘۔یہ وعدہ کسی خاص زمانے یا کسی ایک قوم کے لیے نہیں، بلکہ ایک ابدی اصول ہے۔لیکن یہاں ایک غلط فہمی سے بھی بچنا ضروری ہے۔ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ اسباب اختیار نہ کیے جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر میں صفیں بھی درست کروائیں، احد میں حکمت ِ عملی بھی اختیار کی، خندق بھی کھدوائی، صلح حدیبیہ بھی کی اور ریاست کی منصوبہ بندی بھی فرمائی۔گویا ایمان اور تدبیر ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ معاون ہیں۔
آج اگر کوئی مسلم معاشرہ مضبوط ہونا چاہتا ہے تو اسے صرف جذبات نہیں، بلکہ علم، تحقیق، صنعت، ٹکنالوجی، اقتصادی خود انحصاری، نظم و ضبط اور اعلیٰ اخلاق، سب کو ایک ساتھ اختیار کرنا ہوگا۔ ایمان انسان کو مقصد دیتا ہے، اور علم اسے اس مقصد تک پہنچنے کے وسائل فراہم کرتا ہے۔اس نکتے پر ہمیں سب سے زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کسی قوم کے پاس جدید ہتھیار ہوں مگر اس کے اندر کرپشن عام ہو، انصاف کمزور ہو، امانت ناپید ہو، علم کی قدر ختم ہو جائے اور اجتماعی اخلاق زوال پذیر ہو جائیں، تو اس کی ظاہری طاقت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر کوئی معاشرہ اپنے افراد میں مقصد، ذمہ داری، نظم، قربانی اور اخلاق پیدا کر دے، تو محدود وسائل کے باوجود وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔ یہ اصول صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، پوری انسانی تاریخ کے لیے سچ ہے۔
آج دنیا جس اخلاقی اضطراب سے گزر رہی ہے، اس کے آثار مختلف صورتوں میں نمایاں ہیں۔ طاقت ور معاشروں کے اندر بھی اعتماد کا بحران، سیاسی تقسیم، اخلاقی سوالات اور قیادت کی ساکھ پر اٹھنے والے شکوک اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ صرف معاشی خوش حالی یا عسکری برتری کسی تہذیب کو دائمی استحکام نہیں دے سکتے۔شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب رستم کے دربار میں ایک صحابیؓ نے چودہ سو برس پہلے دے دیا تھا، مگر انسانیت ابھی تک اس جواب کی گہرائی کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
_______________
ستمبر ۱۹۷۹ء کو سیّدابو الاعلیٰ مودودیؒ کی وفات کے بعد جماعت اسلامی کے تاسیسی ارکان میں شامل مولانا محمدمنظور نعمانی (م: ۵مئی ۱۹۹۷ء) نے ماہ نامہ الفرقان کی نومبر، دسمبر ۱۹۷۹ تا جنوری ،فروری ۱۹۸۰ء کی اشاعت میں ’’مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سر گزشت اور اب میرا موقف ‘‘ کے عنوان سے قسط وار مضامین شائع کیے، جو دراصل مولانا کی حیات میں ہی لکھے جاچکے تھے، مگر اشاعت ان کی وفات کے بعد ممکن ہو سکی۔
چند ماہ بعد یہی مضامین جب الفرقان بک ڈپو، نظیر آباد، لکھنؤ سے مولاناابو الحسن علی ندوی (م:۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء )کے پیش لفظ کے ساتھ باضابطہ کتابی صورت میںمنظر عام پر آئے، تواس ’فرد جرم‘ سے لاہور اور پھر دار الاسلام، پٹھان کوٹ میں مولانا مود ودی کے نوجوان شاگرد خواجہ اقبال احمد ندویؒ (۴ جنوری ۱۹۲۳ء - ۹؍ اپریل ۲۰۰۷ء) کے دل پر چوٹ لگی۔ اضطراب اور کرب کے عالم میں اُن کا قلم حرکت میں آیا اور انھوں نے ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی رفاقت میں گزارے ماہ و سال کے چشم دید احوال اور تلخ و شیریں یادوں پر مبنی مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا جوماہ نامہ زندگی، رام پور میںدسمبر ۱۹۸۳ء سے مئی۱۹۸۵ء تک ۱۴ قسطوں میںشائع ہوئے۔ کچھ عرصے بعد سیّداحمد عروج قادری [۲۲مارچ ۱۹۱۳ء- ۱۷مئی ۱۹۸۶ء] نےان کے مضامین کومارچ ۱۹۸۶ء کی خصوصی اشاعت: میں بھی حاضر تھا وہاں کے عنوان سے کتابی شکل میںیکجا کردیا۔ زندگی کی اسی خصوصی اشاعت کو حرا پبلی کیشنز، لاہور نے ۱۹۸۷ء میں بدلتے نصب العین کے نام سے شائع کیا ۔تاہم، اس میں متن کے حوالے سے بحث ہے، مگر ذاتی احوال و مشاہدات شامل نہیں ہیں۔
یہ مضامین شائع ہوئے تومولانا محمدمنظور نعمانیؒ اور مولاناابو الحسن علی ندویؒ حیات تھے، مگر ان کی طرف سے کسی رد عمل یا اختلاف کا اظہار نہیں کیا گیا ۔ یہ کتاب خواجہ اقبال ندوی کے ایمانی تقاضے ،جذبۂ شہادت حق ،اورتحریکی حمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اس مجمو عے کامطالعہ تحریک اسلا می سے وابستہ بزرگ و جواں کو لازماً کرنا چاہیے ۔
۱۹۹۸ء میں سلیم منصور خالد نے خواجہ اقبال ندوی کے مضامین اور تحریروں کا ایک دوسرا مجموعہ کچھ اضافوں کے ساتھ مولانا مودودی کی رفاقت میں کے عنوان سے پہلے تذکرہ سیّد مودودی میں اور پھر کتابی صورت دے کر ۲۰۰۷ء میں منشورات، لاہور سے شائع کیا۔ پھر یہ کتاب ملّت پبلی کیشنز ، سری نگر نے بھی نومبر ۲۰۲۰ء میں شائع کی۔
خواجہ اقبال صاحب کے متعلق زندگی کے سابق مدیر سید احمدعروج قادری نے لکھا ہے: ’’دنیا میں ایسے بہت سے جوہر و گوہر ہو ئے ہیں جو اپنی جگہ چھپے رہتے ہیں اور لوگ ان کی قدر و قیمت سے ناواقف رہ جاتے ہیں ،حکیم خواجہ اقبال احمد ندوی بھی ایسے ہی ایک جوہر ہیں ۔ ہندستان میں ایسے لوگ شاید ہی موجودہوں جنھوں نے مولانا سیدابو الاعلیٰ مودودی ؒکی خدمت میں ان کے ایک شاگرد کی حیثیت سے کچھ وقت گزارا ہو۔ حکیم صاحب غیر منقسم جماعت اسلامی کے پہلے بحرانی دور میں مولانا مودودی کے پاس ہی مقیم تھے ۔وہ تشکیل جماعت سے کچھ پہلے ہی مولانا مودودی کی خدمت میں پہنچ گئے تھے اور دوسال سے کچھ زیادہ عرصہ مولانا کی خدمت میں رہے ‘‘۔(ماہ نامہ زندگی نو، نئی دہلی ۲،مارچ ۱۹۸۶ء ، ص۷)
ضلع سلطان پور کی تحصیل جگدیش پور میں واقع موضع کِشنی خواجہ اقبال احمدندوی کا وطن ہے۔ ولادت ۴ جنوری ۱۹۲۳ء کو ہوئی ۔ والد خواجہ اشفاق احمد (وفات ۱۹۷۵ء) حافظ قرآن تھے ۔ان کا سلسلۂ نسب لکھنؤ کے معروف علمی خانوادے ’فرنگی محل‘ سے ملتا ہے ۔اردو اور فارسی کی ابتدائی گھریلو تعلیم کے بعدنزدیکی موضع ’زینب گنج‘ کے گورنمنٹ اسکول سے مڈل یعنی آٹھویں کے بعد۱۹۳۸ء میںدار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں عربی اول میںداخلہ ہوا۔ وہاں پر وہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سے عربی ادب کی کتابیں پڑھتے اور جمعرات کو ظہر کے بعد ان کے ساتھ تبلیغی گشت پر نکل جاتے اور جمعہ کی شام تک واپس آتے۔تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاسؒکے نہج پر تبلیغ کے اس کام میںخواجہ صاحب تقریباً ڈیڑھ برس تک مولانا علی میاں کی رہنمائی میں کام کرتے رہے۔اسی زمانے میں وہ مولانا عبد الماجد دریابادی (م:۶جنوری ۱۹۷۷ء) کی عصری مجالس میں بھی شریک ہوا کرتے ۔خواجہ صاحب اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں :
یہ تبلیغی سفر ہم لوگوں کے لیے چلتا پھرتا مدرسہ بھی تھا اور متحرک تربیت گاہ بھی ۔ راستے میں مولانا موصوف کبھی ہم لوگوں کو صحابہ کرام ؓکی زندگیو ںکے ایمان افروز واقعات سناتے اور کبھی سیّد صاحب اور دوسرے مجاہدین کی سرفروشی اور جاں سپاری کے کارنامے ۔ کبھی جذبۂ جہاد بیدار کرنے والی آیات و احادیث کی تشریح فرماتے اور کبھی خانقاہوں کے شب و روز پر جہاد کی تیاریوں کی فضیلت بتاتے ۔ کبھی اپنے پسندیدہ مصنّفین کی کتابوں کے پسندیدہ مقامات کی نشان دہی فرماتے ، کبھی خارج میں ہم لوگوں کے مطالعہ کے لیے کتابیں تجویز فرماتے اور کبھی ہم لوگوں کے زیرمطالعہ کتابوں کے مشکل مقامات کی تشریح فرماتے ۔ اور مجھے یاد ہے کہ ندوہ پہنچنے کے دوسرے سال ہی مولانا کی ہمت افزائیوں کے سہارے میں نے خود سے ابن جوزی کی تلبیس ابلیس اور صفوۃ الصفوۃ کا مطالعہ کرلیا تھا ‘‘۔ (ماہ نامہ زندگی نو، نئی دہلی ۲،مارچ ۱۹۸۶ء ، ص ۱۳، مولانا مودودی کی رفاقت میں، ص۲۰)
خواجہ صاحب ندوہ میں پہلے ہی سال ترجمان القرآن کے ذریعے ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ان کی فکر سے متعارف ہوئے اورجنوری ۱۹۴۱ء میں مولانا کے سفرلکھنؤ کے موقع پر ان سے بالمشافہ ملاقات، تفصیلی گفتگو اور استفادہ کا راستہ کھلا۔ (مولانا مودودی کے سفر ندوہ کی تفصیلی رُوداد کے لیے زندگی کے اس خصوصی شمارے کے علاوہ نومبر ۱۹۷۴ء میں منعقد جماعت اسلامی ہندکے پانچویں کل ہند اجتماع دہلی کی رُوداد پر مشتمل روز نامہ دعوت، دہلی کے اجتماع نمبر میں حکیم محمد عطاء الرحمٰن ندوی کا مضمون ’حنا بند عروس لالہ ہے زخم جگر میرا ‘کا مطالعہ بھی مفید ہے )
ندوہ میں خواجہ اقبال صاحبؒ نے درجات کے باہر دارالاقامہ میں مولانا جلیل احسن ندویؒ (۲۵جنوری ۱۹۱۴- ۸جولائی ۱۹۸۱ء) سے دیوان الحماسہ کے علاوہ منفلوطی کی العبرات اور النظرات بھی پڑھی ۔ اس کے علاوہ مولانا علی میاں کی خصوصی اجازت سے ادب کے درجات میں بیٹھ کر سبقاً سبقاً نہج البلاغہ اور مختارات پڑھا کرتے ۔
ترجمان القرآن کی ستمبر ۱۹۳۹ء کی اشاعت میں جب مولانا مودودی کا مضمون ’ایک اہم دینی تحریک کا تعارف ‘ شائع ہوا تو مولانا علی میاںؒ کے دل میں مولانا الیاس صاحبؒ کے کام کو سمجھنے کا اشتیاق پیدا ہوا، چنانچہ اپنے متعدد شاگردوں کے ساتھ ان سے ملاقات کے لیے سہارنپور کا سفر کیا ، خواجہ صاحب بھی ان کے ساتھ تھے ۔وہاں انھیں مولانا الیاس صاحبؒ اور ان کی دعوت کو قریب سے دیکھنے ،سمجھنے اور ان کی خدمت کا موقع ملا۔ایک روز انھوں نے مولانا الیاسؒ سے مولانا مودودیؒ کی دعوت کے متعلق سوال کیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے ۔ جب مولانا موصوف کی طبیعت سنبھلی تو فرمایا:
اصل کام تو وہی ہے جس کی مولانامودودی دعوت دے رہے ہیں، یہ تو ابتدائی کام ہے۔ ان شاء اللہ اس کا بھی وقت آئے گا ۔ ‘‘ ان کے رفیق مولانا عبد الغفار ندوی (سابق سکریٹری جماعت اسلامی ہند ، یوپی) بھی اس سفر میں ان کے ساتھ تھے ۔ (ماہ نامہ زندگی نو،نئی دہلی ۲،مارچ ۱۹۸۶ء ، ص ۴۴)
اسی دوران خواجہ صاحب کا اپنے استادمولانا ابو الحسن علی ندویؒ سے مولانا محمد الیاسؒ کی دعوت، مولانا مودودیؒ ، ان کی فکر اور ان کی دینی تعبیرات کے موضوع پر باضابطہ مباحثہ ہونے لگا۔ کچھ دنوں بعد، جب ماحول زیادہ خوش گوار نہ رہا توخواجہ صاحب ندوہ کے دار الاقامہ سے نکل کر محلہ پان دریبہ میں مقیم مولانا مودودی ؒکے ایک معتقد اور پر جوش حامی محمد سرور کے گھر منتقل ہوگئے، جو لکھنؤ میں ٹی ٹی آئی تھے۔ تقریباً دو ماہ ان کے گھر سے ہی سبق پڑھنے کے لیے ندوہ جاتے رہے،اور پھرایک روز اپنے استاد مولانا علی میاں ندوی کی مرضی کے خلاف سیّد مودودی کی خدمت میں حاضری کے لیے لکھنؤ سے ٹرین میں سوار ہو کر لاہور پہنچ گئے۔ خواجہ صاحب کے قیام لاہور کی تفصیلات سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
مولانا مودودی کے دستر خوان پر یا ان کی مجلس میں جہاں پر ذی حیثیت لوگ بھی موجود رہتے تھے ،میری کم حیثیتی میرے لیے کبھی کسی خفت کا باعث نہیں بنی ۔ مولانا کبھی کسی تقریب میں جاتے تو مجھے ساتھ لے جاتے اور اپنے قریب ہی بٹھاتے۔ کوئی میرے متعلق دریافت کرتا تو وہ ہمیشہ یہ فرماتے: یہ میرے سفر ندوہ کی یادگار ہیں۔ (مولانا مودودی کی رفاقت میں ، خواجہ اقبال احمد ندوی ، منشورات، لاہور ص۲۴)
۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو جماعت اسلامی کے قیام سے قبل ہی وہ لاہور اور پھر جون ۱۹۴۲ء میںمولانا مودودی کے ساتھ دار الاسلام، پٹھان کوٹ چلے گئے۔ وہاں انھوں نے مولانا کی صحبت اور اُن کی نگرانی میں باضابطہ ایک نصاب کے تحت مطالعہ کا آغاز کیا ۔وہ ظہر سے عصر تک ترجمان القرآن کے دفتر میں کام کرتے اور باقی اوقات مطالعے میں صرف کرتے۔ انھیںذاتی اخراجات اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے پندرہ روپے ماہانہ کی رقم بھی ملتی تھی۔ اس زمانے میں وہاں مقیم مستری محمد صدیق ؒ ،قمر الدین خانؒ ، مولانا محمد منظور نعمانی ؒ(مدیر الفرقان، بریلی)،اور شاہ محمد جعفر پھلوارویؒ کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ،جو کچھ عرصہ بعد ہی جماعت سے علیحدہ ہو کر اس کے خلاف پروپیگنڈا میں مصروف ہو گئے تھے ۔
۱۹۴۳ء میں مولانا مودودی نے ترجمان القرآن کے منیجر سید محمد شاہ کو ذمہ داری سے سبکدوش کیا تو عارضی طور پر منیجر کی ذمہ داری خواجہ اقبال ندوی کے سپرد کی ۔ یہ وہی زمانہ ہے جب جنگ عظیم دوم کے سبب مولانا نے کاغذ کی قلت بلکہ عدم دستیابی کے سبب ترجمان کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
مولانا احمد عروج قادری کے نام اپنے ایک خط میں انھوں نے اس زمانے کے احوال لکھے ہیں :
تشکیل جماعت سے چند ماہ قبل مولانا نے مجھے اپنے پاس بلایا تھا اور یہ میری خوش نصیبی تھی کہ وہ ساری مدت جو مولانا کی خدمت میں گزری ، مجھے ان کی ذات سے زیادہ سے زیادہ استفادے کے مواقع حاصل رہے اور مولانا کو ہمیشہ اس کا احساس رہا کہ جس طالب علم کو انھوں نے اپنے پاس خودبلایا ہے، اس کا وقت ضائع نہ ہونے پائے۔ میں نے مولانا کی رہ نمائی میں شاہؒ ولی اللہ، ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ ، اور سیرت و تاریخ کی بعض کتابوں کا مطالعہ کیا ، پھر اُن سے سبقاً سبقاً قرآن کا کافی حصہ پڑھا ۔ مطالعہ کے علاوہ میرے ذمہ دفتر کا کچھ کام رہتا تھا ۔ اہم خطوط کی نقل بھی میرے ذمہ تھی، اور وقتاً فوقتاً مولانا کے دیے ہوئے جوابات کی نقل بھی کرتا تھا۔ یہ میرا بہت بڑا نقصان تھا کہ پٹھان کوٹ کی آب و ہوا مجھے راس نہیں آئی اور شدید علالت کے باعث مجھے وطن واپس آجانا پڑا ۔( ماہ نامہ زندگی نو،نئی دہلی، ۲مارچ ۱۹۸۶ء ، ص ۷)
ڈاکٹر عبد الباری (شبنم سبحانی: ۷ستمبر ۱۹۳۷ء - یکم ستمبر۲۰۱۳ء) کے ایک سوال کے جواب میں خواجہ صاحب نے وہاں اپنی تعلیمی مصروفیات کے بارے میں بتایا :
اپنی شدید مصروفیات کے عالم میں بھی مولانا مودودی مہینوں میرے لیے کس طرح وقت نکالتے رہے ، یہ تو مجھے معلوم نہیں ، البتہ پڑھاتے وقت مولانا جس سکون اور اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھاتے تھے، اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ اب پڑھانے کے سوا مولانا کا کوئی اور کام باقی نہیں ہے۔ جب تک میں سوالات کرتا رہتا مولانا بیٹھے رہتے اور اٹھنے سے پہلے ایک بار پھر دریافت کرلیتے کہ کوئی چیز سمجھنے کی باقی تو نہیں رہ گئی ہے ؟
مولانا دس بجے کے قریب تشریف لاتے اور درس ختم ہوتے ہوتے بالعموم دو پہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا تھا ۔ مولانا کواس بات کا بڑا احساس تھا کہ ایک طالب علم جو اپنی تعلیم مکمل کیے بغیر ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہے ،اس کی تعلیم نامکمل نہ رہنے پائے ۔ میں جب بھی مولانا کی خدمت میںکوئی مبحث سمجھنے کے لیے حاضر ہوتا اور اپنی دشواری پیش کرتا تو مولانا کتاب کو ہاتھ لگائے بغیر تشریح وتوضیح فرمادیتے ۔ معلوم ہوتا کہ مولانا نے شاہؒ ولی اللہ ، ابن تیمیہؒ ، اور ابن قیمؒ وغیرہ کی کتابوں کو اس قدر توجہ اور انہماک سے پڑھا تھا کہ ان کتابوں کے پورے پورے مباحث انھیں یاد تھے۔ درس میں ناغہ صرف انھی ایام میں ہوتا جب مولانا لاہور سے باہر گئے ہوتے یا کبھی ناسازیٔ طبع میں مبتلا ہوتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ درس کے وقت کوئی دوسرا پروگرام بن جاتا تو مجھے شام کو ہی بتا دیتے کہ ’’ کل صبح آپ آٹھ بجے ہی اپنی کتابیں لے کر آجائیے گا‘‘۔ (ایضاً، ص ۲۰۳، ۲۰۵،۲۰۶ )
خواجہ اقبال احمد ندوی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جو۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو تشکیل جماعت اسلامی کے وقت وہاں موجود تھے۔ لکھتے ہیں : ’’ اس اجلاس میں، میں نے لوگوں کے شدت جذبات کی یہ کیفیت دیکھی تھی کہ بڑے بڑے علما اور دانش وروں کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہو گئی تھیں‘‘۔ (ایضاً، ص ۲۱۱ )
خواجہ صاحب نے لاہور اور پٹھان کوٹ میں تقریباً ڈھائی برس مولانا کے ساتھ گزارے۔ ۱۹۴۴ء میں وہ اپنے وطن واپس لوٹے ۔ ملک کی تقسیم سے قبل ۵- ۷ ؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو الٰہ آباد میں ہروارہ کے مقام پر منعقد کل ہند اجتماع سے قبل خواجہ صاحب ضلع بارہ بنکی میں قصبہ ُسوبیہا کے باشندے جناب یعقوب صاحب کی دختر صفیہ صاحبہ کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے ۔ خواجہ صاحب نے اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے :
دار الاسلام سے میرے واپس آنے کے بعد ہروارہ، الٰہ آباد کے اجتماع میں جب مجھے مولانا مودودی کی والدہ کی تشریف آوری کی اطلاع ملی اور میں نے انھیں سلام کہلا بھیجا، تو وہ دروازے کے قریب تشریف لائیں اور دیر تک خیریت دریافت کرتی رہیں ۔دوران گفتگو جب انھوں نے مجھ سے میری شادی کے بارے میں دریافت کیا اور میں نے اثبات میں جواب دیا تو فرمانے لگیں : ’’بیٹا اقبال! تم نے اچھا نہیں کیا جو اپنی بیوی کو یہاں ساتھ نہیں لائے ۔ تم اسے یہاں لائے ہوتے تو ملاقات ہوجاتی ، اب اسے کیا دیکھوں گی ، اب اس سے کیا ملاقات ہو گی ؟ (ایضاً، ص ۵۳)
ملک کی تقسیم کے بعد الٰہ آباد میں جماعت اسلامی کے رکن حکیم محمد خالد کے یہاںکچھ عرصہ مقیم رہے اوران کی صحبت میں رہ کر طب اور حکمت کی عملی تعلیم حاصل کی ۔۱۹۵۰ء کے بعد مستقل رہائش کے لیے سلطان پور منتقل ہوئے ،محلہ خیر آباد میں رہائش تھی ۔ ۶دسمبر ۱۹۹۲ء کو شہادت بابری مسجدکے بعدجماعت اسلا می پر پابندی عائد ہوئی تو گرفتار ی کے لیے پولیس ان کے گھر آگئی ۔ انسپکٹر اور محکمہ خفیہ کے اہل کارجو اُن کی شرافت ، ایمان داری ،اور بزرگی کے قائل تھے ، پریشان ہو گئے ۔ انھوں نے یہ مطالبہ رکھا کہ’’ خواجہ صاحب لکھ کر دے دیں کہ وہ جماعت اسلامی سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں اور آئندہ اس کے پروگراموں میں شرکت نہیں کریں گے ‘‘۔بچوں نے بمشکل جب یہ مطالبہ ان کے سامنے رکھا تو انھوں نے اس نازک موقع پر عزیمت کی راہ اختیار کی اورصاف انکار کرتے ہوئے بولے: لاؤ میری شیروانی ،اور ٹوپی ۔اور پھر فوراً ہی تیار ہو کر انسپکٹر کے ساتھ چلے گئے ۔
خواجہ اقبال احمد ندوی غالباً واحد ایسی شخصیت ہیں،جنھوں نے ابو الحسن علی ندوی اور سیّدابوالاعلیٰ مودودی جیسے عبقری اساتذہ سے طویل عرصے تک باضابطہ تعلیم حاصل کی اور ان کے شاگردرہے۔ یہ شرف ان کے علاوہ کسی دوسرے فرد کو شایدحاصل نہ ہو سکا ۔ قومی اور ملکی سطح پر ان کی تحریکی سرگرمیوںاور خدمات کا ذکر زیادہ نہیں ملتا ، مگروہ مقامی طور سے سلطان پور کی سطح پر ایک رہنما ، مدرس ، مفکر اوراسلامی حلقہ کے ایک سرپرست کی حیثیت سے اپنی ناسازیٔ طبع کے باوجود تاحیات اپنی موجودگی درج کرواتے رہے ۔زندگی، رام پور ، اور زندگی نو ، دہلی میں شائع ان کے قسط وار مضامین کے سبب ہی عالمی سطح پر پہلی باراُن کی شخصیت متعارف ہوئی ۔
خواجہ صاحب کی بیٹی محترمہ ثمینہ خواجہ ( مقیم لکھنؤ ) نے بتایا :’’ابو ہم لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے بہت فکر مند رہا کرتے تھے ۔ انھیں مغرب کے بعد گھر سے باہرنکلنا بالکل پسند نہیں تھا، بھائیوں کو بھی اس کی تاکید کرتے تھے ۔وہ اپنی بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بہت محتاط تھے ۔ایک غیر مسلم یتیم بچے کی ہمارے گھر پرور ش ہوئی تھی، اس نے باضابطہ اسلام قبول کرلیا تھا ۔ابو نے اس کی دینی تعلیم کا انتظام کیا ،حتیٰ کہ اس نے حفظ بھی کرلیاتھا ۔ دینی کتابوں کے علاوہ دعوت اخبار کا مطالعہ بہت پابندی سے کرتے تھے۔ان کے مطب میں مریضوں سے زیادہ علم دوست احباب اور اہل علم و دانش کی محفل جمی رہتی۔ بہت سے لوگ اخبارات و رسائل وہیں آکر پڑھتے تھے‘‘ ۔ (گفتگو ،۷؍اگست۲۰۲۶ء)
فرزند خواجہ شعیب اقبال نے اپنے والد کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بتایا :’’ وہ ایک عملی انسان تھے ، ٹو دی پوائنٹ( مختصر اور دو ٹوک انداز میں) بات کرتے تھے ۔مولانا مودودی ؒ سے بے پناہ عقیدت تھی ،لاہور اورپٹھان کوٹ میں گزارے ایام کو ہمیشہ یاد کرتے رہے۔ لکھنؤ میں جماعت اسلامی کے ذمہ دار مولانا عبد الغفار ندوی ان کے ہم عمرساتھی تھے، لکھنؤ جاتے تو ان سے ضرور ملاقات کرتے۔ مولاناابو الحسن علی ندوی ابوکے استاد تھے مگر اُن سے بہت محبت کرتے تھے ۔ ہمیشہ ان کی خیریت دریافت کرتے، اور لکھنؤجاتے تومولانا انھیں تحفہ ضرور دیتے تھے ۔ڈاکٹر عبد الباری (شبنم سبحانی) سے بھی بڑی قربت تھی۔ وہ اکثر ابّو کے پاس آیا کرتے تھے ۔ عامر عثمانی سے بڑے اچھے مراسم رہے ، ان کے مجلّے تجلّی کا ہمارے گھر میں بڑا انتظار رہتا تھا۔ ابو ہم لوگوں کوکبھی پوسٹ مین کے پاس اور کبھی اس کے لیے ڈاک خانے بھیجتے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی سے خط کتابت رہتی تھی ۔ ان کے اخبارکے مستقل قاری تھے‘‘۔ (گفتگو، ۸؍اگست۲۰۲۶ء)
ایڈووکیٹ ہمام احمد صدیقی کہتے ہیں : ’’ خواجہ صاحب مقامی طور پر ایک حکیم کی حیثیت سے معروف تھے۔ ہم نے اپنی کم عمری میں انھیں مختلف مواقع پر قریب سے دیکھا ہے ۔ وہ کبھی کبھی و الد گرامی ڈاکٹر انصار الحسن سے ملاقات کے لیے ہمارے غریب خانے پر تشریف لایا کرتے تھے۔ کرتا ، علی گڑھی پاجامہ ،اونچی ٹوپی اور شیروانی زیب تن کرتے ۔ ہمارے یہاں پان دان سے وہ بطور خاص استفادہ کرتے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ دسمبر ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعدپولیس نے انھیں بھی گرفتار کیا تھا ، مگر بعد میں ان کی بزرگی اور خرابیٔ صحت کو دیکھتے ہوئے مچلکہ پر رہا کردیا تھا ۔ وہ شہر کے معروف ادارے ’خیر البشر اسلامک جونیئر ہائی اسکول‘ کے بانیوں میں سے ہیں۔مولانا مودودی پر الزامات، جماعت اسلامی پر تنقید اور اپنی جوابی تصنیف میں بھی حاضر تھاوہاں کے باوجود خواجہ صاحب مولانا منظور نعمانی اور علی میاں ندوی وغیرہ کا ذاتی گفتگو کے دوران بے حد احترام کرتے تھے‘‘۔ (گفتگو، ۹؍اگست۲۰۲۶ء )
سلطان پور میںجماعت اسلامی کے مقامی امیر ڈاکٹر کمال الدین خاںکہتے ہیں: ’’خواجہ صاحب کا مطب شہر میں تحریک کا مرکز تھا ،اہل علم کی وہاں روزانہ بیٹھک ہوتی تھی، ہرقسم کے اُمور ومسائل وہاںزیر بحث آتے ۔ ان کے مشورے بہت ٹھوس اور مستحکم ہوتے تھے۔ جماعت کے لوگوں کی سرپرستی کرتے اور سبھی لوگوں سے مستقل ربط ضبط رکھتے تھے ۔لوگوں کو اور بطور خاص علما کو تحریک کا لٹریچر مطالعہ کے لیے دینا ان کا معمول تھا ۔ علوم قرآنی سے خاص شغف تھا۔ قرآن کی تفسیر ہمیشہ ان کے مطالعہ میں رہتی تھی ۔ درس اور مطالعہ قرآن کی نشستوں میں پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ اُردو ، فارسی ، عربی اور انگریزی زبانوں پرانھیں عبور حاصل تھا۔
دار المصنّفین ، اعظم گڑھ اور مدرسۃ الاصلاح سے خصوصی تعلق تھا ، آمدو رفت کے علاوہ وہاں سے کتابیں منگوایا کرتے تھے ۔ عامر عثمانی اور ان کے رسالے تجلّی ،دیوبند کے بڑے دلدادہ تھے۔ علی گڑھ میں حکیم افہام اللہ صاحب سے بھی خصوصی تعلق تھا۔ خط کتابت کا سلسلہ تو رہتا ہی تھا ، ان کے یہاں جایا بھی کرتے تھے ۔ کتابوں کے شوقین تھے ، علمی ذوق بلند تھا۔ گھر پہ اُردو، عربی، فارسی ، ادب اور تاریخ وغیرہ کی کتابوں کا بڑا ذخیرہ تھا ۔سیرت پرنو مسلم انگریز مصنف ابوبکر سراج الدین (سابق نام مارلٹن لنگس) کی تصنیف حیات سر ور کائناتؐ کے مترجم سیّدمعین الدین احمد قادری (سلطان پور) ان کے خاص دوستوں میں شامل تھے۔ ضلع عدالت میں انتظامی اُمور کے سینئر افسر افتخار الحسن اور ڈاکٹر انصار الحسن وغیرہ بھی ان کے احباب میں شامل تھے ۔
سلطان پورشہر میںچوک کے نزدیک میجر گنج میںمطب تھا۔ خواجہ صاحب کو اللہ نے تین بیٹے اور تین بیٹیوں سے نوازا تھا۔ اہلیہ نے ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو وفات پائی ۔بچوں میں اس وقت ماشاء اللہ خواجہ زبیر اقبال(مقیم بھوپال) اور خواجہ شعیب اقبال( مقیم ممبئی) کے علاوہ بیٹی ثمینہ خواجہ (مقیم لکھنؤ) موجودہیں ۔ عمرکے آخری پڑاؤ میں جب اعضا و جوارح کمزور ہو گئے تو اپنی بڑی بیٹی کے پاس رائے بریلی منتقل ہو گئے تھے ، پی جی آئی لکھنؤ میں علاج جاری تھا مگر ۹؍ اپریل ۲۰۰۷ء کو رائے بریلی میں ہی اللہ کو پیارے ہوئے ۔ تدفین کے لیے سلطان پور لے جایا گیا اور وہیں عیدگاہ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں ؎
سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
_______________
مکہ مکرمہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ ایک بہترین ظاہری تاثر اور مثبت سفارتی منظرنامہ پیش کرتا ہے ۔لیکن اس معاہدے کو عملی طور پر فعال بنانے کے لیے، اگلا منطقی قدم بنیادی عسکری معاہدوں کے ایک سلسلے کو طے کرنا ہے، جو تینوں افواج کو امن اور جنگ کے حالات میں ایک ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کو یقینی بناسکیں۔ یہ مرحلہ ایک ایسا پیچیدہ، تکنیکی اور قانونی عمل ہے، جس کی تکمیل میں مہینوں بلکہ برسوں لگ سکتے ہیں۔ جب تک یہ ممالک بنیادی قانونی اور آپریشنل فریم ورکس کو حتمی شکل نہیں دیتے، اس وقت تک ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ کی حیثیت صرف ایک سیاسی اعلامیے کی رہے گی۔ عسکری تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ کو ایک بیان سے بڑھ کر عملی فوجی اتحاد میں تبدیل کر نے کے لیے چاربنیادی عسکری معاہدات پر دستخط ہونے ضروری ہیں۔ ان میں:
یہ چاروں معاہدے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کو محفوظ طریقے سے انٹیلی جنس شیئر کرنے، مشترکہ تعیناتیوں کو برقرار رکھنے، بلا تعطل مواصلات قائم کرنے اور درست ترین آپریشنز انجام دینے کے قابل بنائیں گے۔ اگرچہ یہ ممالک تمام علاقائی امور پر مکمل طور پر ایک پیج پر نہیں ہیں اور ان کی ترجیحات میں فرق ہے، لیکن وہ شام اور عراق میں استحکام، فلسطینی ریاست کے قیام، لیبیا میں سیاسی مفاہمت، سوڈان کے اداروں کی بحالی، صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور یمن کی یکجہتی پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔
اس اتحاد کو اپنا پہلا بڑا امتحان بحیرہ احمر کی سیکیورٹی اور سعودی عرب و حوثی تصادم کے تناظر میں دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف مکمل کشیدگی کی دھمکیوں کے بعد، اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ ریاض ایک بڑے بحری اور زمینی آپریشن پر غور کر رہا ہے۔ چونکہ ترکیہ اور پاکستان دونوں ہی ایران یا حوثیوں سے راست تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، اس لیے یہ دیکھنا ہے کہ وہ ان کی کس حد تک عملی عسکری امداد کر سکیں گے۔ پاکستان اپریل میں سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر جنگی طیاروں کا ایک اسکواڈرن اور چین کا تیار کردہ فضائی دفاعی نظام پہلے ہی تعینات کر چکا ہے۔ اب ترکیہ کی ممکنہ عسکری اور بحری پیش رفت اس اتحاد کے دائرۂ کار کو باب المندب اور شاخِ افریقہ تک پھیلا سکتی ہے، جہاں پر ترکیہ کا صومالیہ میں سب سے بڑا غیر ملکی عسکری اڈہ موجود ہے۔
یہ اتحاد تین ایسی طاقتوں کو یکجا کرتا ہے جو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا کام کرتے ہیں۔ پاکستان مسلم دُنیا کی واحد تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، جس کے پاس ۶ لاکھ ۶۰ہزار پیشہ ورانہ اور جنگی تجربے سے لیس فوج اور انتہائی جدید میزائل ٹکنالوجی ہے۔ ترکیہ نیٹو (NATO) کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ۱۰؍ ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات والی جدید ترین دفاعی صنعت کا مالک ہے، جس کے جنگی ڈرونز، بحری جہاز اور الیکٹرانک سسٹمز دنیا بھر میں ماننے جاتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب جی۲۰ کا اہم رکن اور دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، جس کے مالیاتی وسائل اس اتحاد کی معاشی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
مکہ مکرمہ میں دستخط ہونے والا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ۱۹۵۵ء کے بغداد پیکٹ کی یاد تازہ کرتا ہے، جسے بعد میں مرکزی معاہدہ ’تنظیم سنٹو‘ کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم، کسی بھی تاریخی واقعے کا جائزہ اس کے مخصوص دور کے تناظر میں ہی لیا جانا چاہیے۔ ماضی کا سنٹو دو قطبی عالمی نظام، امریکا کی طرف سے سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوششوں اور ایران کے مغرب شاہی نظام کی شراکت داری کا نتیجہ تھا۔اس کے برعکس، ’مکہ معاہدہ‘ امریکا کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ترجیحات کی تبدیلی اور بتدریج واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خالی پن کا نتیجہ ہے۔ امریکا کی ترجیح یہ رہی ہے کہ وہ خطے سے نکلتے وقت ایسا نظام رکھے جو بالخصوص ان کے حلیفوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔ تاہم، ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی ناکامی اور امریکا-اسرائیل عسکری اقدامات کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے خطے کے تمام ممالک کو شدید معاشی نقصان پہنچایا اور سیکیورٹی خدشات کو تاریخی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں اس معاہدے کے دستخط ہونے کے بعد سے ہی ملاجلا اور گہرا ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’خطے کے ممالک نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ سیکیورٹی کوئی ایسی جنس نہیں ہے جسے جھوٹے دلالوں یعنی امریکا سے خریدا جا سکے‘‘۔ انھوں نے واضح کیا کہ تہران کے لیے اس معاہدے سے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہ معاہدہ بیرونی طاقتوں کے بجائے خطے کے ممالک کے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اس خطے کو باہر سے آنے والے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہے، اور خطے کو امریکا کے ذریعے سیکیورٹی حاصل کرنے کے وہم میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ امریکا خود خطے کی عدم سیکیورٹی کا بنیادی سبب ہے‘‘۔
تاہم، اس سرکاری موقف کے برعکس، ایرانی سیاسی ایوانوں کے اندر ایک گہری تزویراتی بحث چھڑ چکی ہے۔ ایرانی تجزیہ کار احمد زید آبادی نے سوشل میڈیا پر اپنے تجزیے میں ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’’سعودی عرب کی سیکیورٹی اب ایران کے دو مغربی اور مشرقی پڑوسیوں ترکیہ اور پاکستان کے لیے ایک سرخ لکیر بن چکی ہے ۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ ’’اگرچہ انقرہ اور اسلام آباد امریکا اور ایران تصادم میں سفارتی حل کے خواہاں ہیں، لیکن اگر سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو یہ دونوں طاقتیں مداخلت کے لیے تیار ہوں گی‘‘۔
دوسری جانب، ایران کے سخت گیر حلقے اس معاہدے کو اہمیت دینے سے گریزاں ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن ابراہیم رضائی نے اس معاہدے کو ’محض ایک کاغذی کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدہ اسے سیکیورٹی فراہم نہیں کرے گا، بالکل اسی طرح جیسے امریکا کے ہاتھوں سالہا سال تک استعمال ہونے سے اسے سیکیورٹی نہیں مل سکی‘‘۔ یہ تضاد اس تزویراتی اُلجھن کو ظاہر کرتا ہے جس کا تہران کو سامنا ہے۔ ایران غیر روایتی طریقوں، گائیڈڈ میزائلوں اور علاقائی اتحادیوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ جتنا بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، اس کے پڑوسی ممالک اتنے ہی زیادہ مجبور ہو کر دفاعی بلاک بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
سابق سفیر مدحت رندے نے اس معاہدے کی افادیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا: ’’یہ ایک ایسا دفاعی معاہدہ معلوم ہوتا ہے جس کی خواہش امریکا نے کی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ اتنے اہم فیصلے میں ترکیہ نے مغربی اتحادیوں سے منظوری ضرور لی ہوگی۔ مگر اسی کے ساتھ انھوں نے اندیشہ بھی ظاہر کیا کہ یہ معاہدہ کہیں ترکیہ کو خلیج یا جنوبی ایشیا کی سیاست میںدھکیلنے کا کام نہ کرے اور وہ اپنے اصلی میدان مغرب سے کٹ کے رہ جائے گا۔ لندن سے وابستہ بین الاقوامی سیکیورٹی اور دفاعی ماہر برجو اوزچیلک کے مطابق اس معاہدے کو ایک پسِ امریکا (Post-American) مشرقِ وسطیٰ کا ثبوت سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے، اور نہ اسے ایک اُبھرتی ہوئی’اسلامی ناٹو‘ قرار دینے کا دعویٰ کرنا چاہیے۔ اگر کچھ ہے تو یہ امریکا کی اس وسیع تر ترجیح کے عین مطابق ہے جس کے تحت علاقائی طاقتیں اپنی سیکیورٹی اور دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھاتی ہیں، جب کہ وہ امریکا کے زیرِ اثر سیکیورٹی فریم ورک کا حصہ بھی رہتی ہیں۔ یہ انقرہ کی طویل المدتی پالیسی ’علاقائی مسائل کا علاقائی حل‘ سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔یہ معاہدہ ترکیہ کے لیے اپنی دفاعی صنعت، ٹکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ پیداوار اور ملٹری آپریشنل صلاحیتوں کو خلیج میں پھیلانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے‘‘۔
انڈین دفاعی امور کی معروف تجزیہ کار سواتی راؤ کا کہنا ہے :’’یہ دفاعی معاہدہ ایک نیا سیکیورٹی خاکہ ہے، جو خلیج کے سیکیورٹی نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا کو اب ایک قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضامن نہیں سمجھا جا رہا، چاہے خلیجی ممالک امریکی ہتھیاروں پر جتنا بھی خرچ کریں۔ یہ ترکیہ کو نہ صرف دفاعی صنعت بلکہ جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ میں ایک بڑا میدان فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اپنی ایٹمی چھتری اور ملٹری ہیومن ریسورس کے ذریعے سعودی سرمایے کی مدد سے اپنے وجود کو زیادہ وسعت دینے کا موقع ہے۔ یہ انڈیا کے لیے ایک بے حد ناگوار اور تشویش ناک پیش رفت ہے، جس پر کسی وہم میں رہنے کے بجائے باخبر اور سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے‘‘۔
تاہم، مکہ کا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دستاویزات تبدیل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج اور جنوبی ایشیا کی جیواسٹرے ٹیجک سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وہ ممالک جو کچھ سال پہلے تک ایک دوسرے کے خلاف سیاسی اور نظریاتی مسابقت میں مصروف تھے، آج امریکی غیر یقینی پالیسیوں، ایران-امریکا جنگ کے بعد پیدا ہونے والی غیر مستحکم صورتِ حال اور علاقائی خطرات کے پیشِ نظر ایک سیکیورٹی فریم ورک پر جمع ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کا حقیقی مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیا یہ تینوں ممالک اپنے سیاسی بیانات کو حتمی عملی صورت دے پاتے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ تینوں افواج مستقبل قریب میں عسکری معلومات کی حفاظت، لاجسٹک تبادلے، مواصلاتی مطابقت اور جیوسپیٹل انٹیلی جنس جیسے چار بنیادی معاہدات کو طے کر کے اپنے کمانڈ سٹرکچر کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، تو یہ معاہدہ واقعی علاقائی بااختیاری اور ایک نئے سیکیورٹی آرکیٹیکچر کی بنیاد ثابت ہوگا۔ بصورتِ دیگر ’مکہ معاہدہ‘ بھی ماضی کے ’بغداد پیکٹ‘ کی طرح تاریخ کے اوراق میں صرف ایک سیاسی کوشش کے طور پر رہ جائے گا۔
_______________
شیاماپرساد مکھرجی کے زمانے سے ’ہندوتوا‘ کے حامیوں کا دعویٰ تھا کہ کشمیر کو جو خصوصی حیثیت دی گئی ہے وہ اس کے انڈیا میں انضمام میں رکاوٹ ہے۔ ہندوتوادی یہ نعرہ برسوں لگاتے رہے اور آخرکار ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کی حکومت نے ۵؍اگست۲۰۱۹ء کو ان کا خواب پورا کردیا۔ آئین کے آرٹیکل۳۷۰ کو یکلخت ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی اور اعلان کیا گیا کہ اب کشمیر کے مسائل حل ہوجائیں گے، دہشت گردی ختم ہو جائے گی اور وہ انڈیا کا صحیح معنوں میں حصہ بن جائے گا۔ اس اقدام سے پہلے ہی وہاں گورنر راج قائم کردیا گیاتھا، یعنی جتنے بھی جمہوری حقوق اور آزادیاں تھیں ان کا خاتمہ کردیا گیا، اور مرکزی حکومت کی براہِ راست حکومت وہاں قائم کردی۔
آرٹیکل۳۷۰ کے خاتمے کے ساتھ مودی حکومت نے کشمیر کے حصے بخرے بھی کردیئے۔ زمینی لحاظ سے کشمیر کے سب سے بڑے حصے لداخ کو ریاست سے کاٹ کر ایک الگ یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا، اور خود جموں و کشمیر کے ریاست کا درجہ ختم کر کے اس کو بھی یونین ٹیریٹری بنا دیا گیااور اس پر دہلی سے براہ راست حکومت ہونے لگی ۔ کشمیر کے خصوصی اور مقامی قوانین ختم ہوگئے اور ان کی جگہ تمام انڈین قانون وہاں یکلخت نافذ ہونے لگے۔ کشمیر میں فوج کو ۱۹۹۰ء سے ہی ’افسپا‘(The Armed Forces Special Powers Act) قانون کے تحت خصوصی اختیارات حاصل تھے، جس کے تحت کسی بھی ظلم، زیادتی، قتل اور بلاتکاری (جنسی بے حُرمتی) کے لیے فوج پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے۔ اب آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد گورنر کا براہِ راست حکم چلنے لگا۔ لوگوں سے زمینیں چھینی جانے لگیں، معمولی معمولی باتوں پر لوگوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکالا جانے لگا۔ جیل رسیدہ کشمیریوں کی تعداد بڑھنے لگی ، میڈیا پر پابندیاں مزید سخت ہوگئیں۔ اب تاناشاہی کی یہ حالت ہے کہ پوری ریاست میں گھر گھر اور لائبریری لائبریری کتابوں کو کھنگالا جا رہا ہے اور اگر کسی کتاب میں سرکار کے لحاظ سےکوئی ’قابل اعتراض‘ بات لکھی ہے تو اسے ضبط کر کے جلا دیا جاتا ہے اور کتاب رکھنے والے کو سزا دی جاتی ہے ۔ یہ انڈین قانون کی واضح خلاف ورزی ہے کیونکہ بھارتی نیای سنہیتا [نیا انڈین پینل کوڈ] کے سیکشن ۹۸ کے مطابق مرکزی یا ریاستی حکومت کسی متعینہ کتاب پر بندش لگاسکتی ہے اور اس کے بعد ہی پولیس اس متعینہ کتاب کو ضبط کرسکتی ہے، لیکن اب کشمیر میں کسی متعینہ کتاب پر سرکاری بندش کے بغیر اندھادھند طریقے سے گھروں اور لائبریریوں سے کتابیں ضبط ہورہی ہیں۔
آرٹیکل۳۷۰ کو ختم ہوئے اب سات سال ہو گئے ہیں۔ ظلم اور بہیمیت اپنی انتہا پر ہے، لیکن میڈیا پر سخت بندش کی وجہ سے اس کی رپورٹنگ نہیں ہوتی ہے۔ کیا آرٹیکل۳۷۰ یا دوسرے لفظوں میں ریاست کی خودمختاری (اٹانومی) ختم کرنے سے کشمیر کے حالات ٹھیک ہوگئے ہیں؟ اور کشمیری ’قومی دھارے‘ میں مدغم ہو گئے ہیں؟ جواب مکمل طور پر نفی میں ہے بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اب حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں۔ ساری بندشوں کے باوجود عسکریت جاری ہے، لوگوں کے مظاہرے جاری ہیں، ہزاروں لوگ برسوں سے جیلوں میں بند ہیں،اور لکھنے بولنے پر مکمل پابندی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آرٹیکل۳۷۰ کا خاتمہ بذات خود ایک غیرآئینی اور غیرقانونی اقدام تھا۔ آئین کے اسی آرٹیکل (۳۷۰) کے تحت اس کا خاتمہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب جموں و کشمیر کی اسمبلی کی اکثریت اس کے خاتمے کی سفارش کرے۔ عملاً ایسا بالکل نہیں ہوا بلکہ اس آرٹیکل کے خاتمے سے پہلے ہی کشمیر اسمبلی تحلیل کی جا چکی تھی اور گورنر راج نافذ ہو چکا تھا۔ مرکزی سرکار کے نمائندے (گورنر)نے لکھ کر بھیجا کہ آرٹیکل۳۷۰ کو ختم کر دیا جائے۔ یہ سفارش غلط اور غیرقانونی تھی۔ یہی نہیں بلکہ گورنر نے یہ سفارش مرکزی سرکار کے دباؤ میں آ کر لکھی تھی جیساکہ اس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک نے بعد میں خود بتایا۔
آرٹیکل۳۷۰ انڈین آئین کی وہ شق ہے جو کسی نہ کسی طرح کشمیر پر قبضے کے روزِ اوّل سے اس سارے معاملے کا حصہ رہی ہے۔ جیساکہ بتایا جاتا ہے، ’وثیقۂ انضمام‘ (Instrument of accession) پر مہا راجا ہری سنگھ نے ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کودستخط کیے اور اگلے دن گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اسے قبول کر لیا۔ اس کے تحت مہاراجا نے صرف تین اختیارات انڈیا کو منتقل کیے تھے یعنی دفاع، خارجہ امور اور وسائل اطلاعات۔ دوسرے لفظوں میں یہ الحاق مشروط تھا اور صرف تین امور میں ہوا تھا،جب کہ داخلی طور پر کشمیر خودمختار تھا۔ الحاق کے خط کے جواب میں گورنر جنرل نے ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو اپنے خط میں مہا راجا ہری سنگھ کو لکھا کہ حالات معمول پر آنے پر ریاست کے الحاق کے مسئلے کو عوام میں رائے شماری کرا کے طے کیا جائے گا۔ گویا ہندوستان نے ریفرنڈم کرانے کا وعدہ روزِ اوّل سے ہی کردیا تھا اور اس طرح قبول کیا تھاکہ یہ الحاق درست نہیں ہے بلکہ اس کے لیے عوام سے ان کی مرضی پوچھنی پڑے گی۔ ریفرنڈم کرانا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ برطانیہ اور امریکا کی حکومتوں کی قانونی رائے تھی کہ وثیقۂ انضمام کافی نہیں ہے بلکہ مہاراجا کشمیر کے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ حالت قائمہ (Standstill) پر قائم رہنے کے معاہدے کی موجودگی میں ’انضمام‘ باطل( Invalid) ہے۔
انڈیا، خود کشمیر کے مسئلے کو جنوری۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ لے گیا اور وہاں حالات درست ہونے پر ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا، لیکن اس وعدے کو کبھی پورا نہیں کیا گیا۔ انڈیا کو کم از کم اپنے زیرقبضہ علاقے میں ریفرنڈم کرا کے دنیا کو دکھا دینا چاہیے تھا کہ اس نے اپنا وعدہ وفا کر دیا ہے۔
اسی پس منظر کے تحت انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا احترام کرتے ہوئے آئین ہند میں آرٹیکل۳۷۰ داخل کیا تھا، جس کے تحت جموںوکشمیر کو اندرونی امور میں خود مختاری (Autonomy) دی گئی تھی۔ اس طرح کی استثنائی صورتیں بعض دوسری انڈین ریاستوں کو بھی حاصل ہیں۔ آئین کے اس حصے میں یہ بھی لکھ دیا گیا کہ یہ شق اسی وقت ختم کی جا سکتی ہے جب جموں و کشمیر کی اسمبلی اکثریت رائے سے اس کی در خواست کرے۔ کسی اسٹیٹ کو زیب نہیں دیتا کہ آئینی طور پر ایک وعدہ کرنے کے بعد اس سے مکر جائے۔
شیخ عبداللہ کو، جنھوں نے کشمیر کے انڈیا سے الحاق کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، ۵ مارچ ۱۹۴۸ کو جموں و کشمیر کا وزیر اعظم بنایا گیا۔ لیکن جلد ہی انڈیا کو لگا کہ ان کی ’وفاداری مشکوک‘ ہے کیونکہ وہ معاہدۂ الحاق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بولنے لگے تھے۔ اس لیے ان کو ۸؍اگست۱۹۵۳ء کو صدر ریاست کرن سنگھ نے بر طرف کر دیا ۔ اگلے دن ہی ان کو گرفتار کر لیا گیا اور اگلے گیارہ سال تک جیل میں رکھا گیا۔ شیخ عبد اللہ کو ۸؍ اپریل ۱۹۶۴ء میں سارے الزامات واپس لینے کے بعد رہا کر دیا گیا لیکن مئی ۱۹۶۴ء میں نہرو کے انتقال کے بعد ایک بار پھر شیخ عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ دوبارہ ۱۹۶۵ء سے ۱۹۶۸ء تک جیل میں رہے ۔ پھر ۱۹۷۱ء-۱۹۷۲ء کے دوران ان کو کشمیر سے جلا وطن کر دیا گیا۔ ان کو برطرف کرنے کے بعد مرکز نے اپنے من مانے لوگ وہاں چیف منسٹر بنانے شروع کردیے، الیکشن میں کھلی دھاندلی شروع کردی اور عملاً مرکزی وزارت داخلہ نے کشمیر کو براہ راست چلانا شروع کر دیا۔
مرکزی دخل اندازی کا یہ حال تھا کہ نیشنل کانفرنس کو ۱۹۶۴ء کے انتخابات میں کل ۷۵ سیٹوں میں سے ۷۰ سیٹیں ملیں، لیکن ۱۹۶۷ء کے انتخابات میں اسے صرف ۸ سیٹیں ملیں اور ۱۹۷۲ء میں اسے ایک سیٹ بھی نہیں ملی، حالانکہ شیخ عبداللہ کشمیر کے سب سے قد آور لیڈر تھے اور ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس کا اس وقت تک کشمیر میں کوئی مد مقابل نہیں تھا۔حقیقت یہ ہے کہ پچھلے سات عشروں میں ۲۰۱۹ء سے بہت پہلے ہی کشمیر کی ’خودمختاری‘کو دھیرے دھیرے کھوکھلا کر دیا گیا تھا۔
۱۹۷۵ء میں اندرا- شیخ عبداللہ معاہدے کے بعد شیخ عبداللہ انڈین آئین کے تحت چیف منسٹر بنے اور ۱۹۸۲ء تک اس منصب پر رہے۔ اس سے پہلے ان کا عہدہ وزیراعظم کا تھا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے فاروق عبد اللہ چیف منسٹر بنے۔
کشمیر میں ۱۹۸۷ء کے بعد سے حالات اس وقت بہت خراب ہوگئے جب الیکشن میں مرکز نے کھلی دھاندلی کی اور جیتے ہوئے امید واروں کو ہرایا گیا، جن میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے جمہوری طریقۂ کار سے مایوس ہونے کے بعد بندوق اٹھالی۔ اس کے بعد سے کشمیر میں پُرامن حالات کبھی واپس نہیں لوٹے۔ وہاں ایک طرح سے ہمیشہ کرفیو رہتا ہے۔ فوج کے سامنے عوام کی تو کیا پولیس کی بھی نہیں چلتی ہے۔
کشمیر میں ۱۹۹۰ء میں ’افسپا‘قانون نافذ کیا گیا اور تب سے آج تک نافذ ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہاں مارشل لا نافذ ہے جس کے تحت فوج کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے اور بڑے سے بڑے دل سوز واقعات جیسے کونن پوش پورہ کی اجتماعی آبروریزی اور چھتی سنگھ پورہ کے قتل عام پر بھی کوئی انصاف نہیں ملا۔ شہروں اور دیہات میں ہر جگہ فوج کے چیک پوائنٹ ہیں۔ فوج جس کو چاہتی ہے شک کا اظہار کرکے اُٹھا لیتی ہے۔
ان حالات میں ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو آرٹیکل ۳۷۰ کو اچانک ختم کردیا گیا جس سے رہی سہی خودمختاری بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد سے وہاں لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے مرکز کی ڈائرکٹ حکومت قائم ہے۔ سختیاں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ میڈیا کی آزادی پوری طرح سلب کرلی گئی ہے، جس کی وجہ سے نہ وہاں صحیح خبریں چھپتی ہیں اور نہ باہر آتی ہیں۔
وعدے کے سات سال کے بعد اور سپریم کورٹ کو مرکزی حکومت کی یقین دہانی کے باوجود آج تک جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ (Statehood) واپس نہیں کیا گیا ہے۔یہ انڈیا کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے کہ کسی اسٹیٹ کو یونین ٹیریٹری بنادیا جائے۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں برسوں سے سڑ رہےہیں۔ نفرت کا یہ حال ہے کہ جموں کے ایک میڈیکل کالج میں مسلمانوں کے زیادہ داخلے ہونے پر وہ کورس ہی ختم کر دیا گیا۔ مظلومہ آصفہ کے دردناک اغوا،ریپ اور قتل پر آبادی کے ایک حصے نے جشن منایا۔ مبینہ طور پر دس ہزار کے قریب لوگ کشمیر میں آج بھی ’غائب‘ ہیں۔ جگہ جگہ ’مجہول قبریں‘ ہیں جن کے مکینوں کے بارے میں کوئی کچھ بھی یقینی طور پر نہیں جانتا۔ وہاں لاتعداد ’نصف بیوائیں‘ (Half Widows)ہیں، جن کے شوہر برسوں پہلے غائب کر دیے گئے تھے اور حکومتی ادارے ان کو بتاتے بھی نہیں کہ ان کے شوہروں کے ساتھ کیا ہوا؟ ذرا سے شک پر گھر بلڈوز کردیے جاتے ہیں۔
اس اندھیری رات کے خاتمے اور عوام کے فوری اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ کو دوبارہ بحال کیا جائے۔
_______________