یہ ہم سب پر بلکہ پوری دنیا پر اللہ کا فضل ہے کہ حماس کی جڑیں ملّت اسلامیہ فلسطین‘ عالم عرب بلکہ عالم اسلام تک پھیل چکی ہیں اور اب یہ ایک ایسی قوت بن چکی ہے جسے نظرانداز کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ کئی ممالک کے ساتھ حماس کے مستقل روابط ہیں۔ عالم اسلام اور عرب‘ دنیا میں ہر جگہ سے انھیں تعاون حاصل ہو رہا ہے۔ ان شاء اللہ اب یہ تحریک بہتر سے بہترین کی جانب گامزن رہے گی۔
یہ لوگ ہم سے شکست تسلیم کرلینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم صلح کا سفید پرچم لہرا دیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہتھیار ڈال دینے والے شکست خوردہ سپاہی کو شکست کی قیمت ضرور چکانا پڑتی ہے اور اگر ان کی بات مان لی جائے تو قضیے کے اختتام پر ہماری بھی یہی حالت ہوگی۔ ہم سے مذاکرات کی میز پر دب کر ‘ شرم ناک صلح کرلینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی صلح سے قوم کے سارے حقوق ضائع ہو جائیں گے۔ جان لینا چاہیے کہ جہاد و مزاحمت ہی کے سبب‘ قوم نے اپنا وجود اور اپنے دفاع کا حق حاصل کیا ہے۔ ماضی میں دشمن ہمارے وجود ہی سے انکاری تھا۔ پہلے بھی انتفاضہ ہی کے نتیجے میں اسے ہمارا وجود تسلیم کرنا پڑا۔ اب بھی یہ موجودہ تحریک ہی کا ثمرہ ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی بات بھی ہونے لگی ہے۔ یہاں تک کہ لیکوڈ پارٹی بھی جو فلسطینیوں کے وجود کی سرے سے ہی انکاری تھی‘ اب فلسطینی مملکت کے قیام کی بات تو کرنے لگی ہے (اگرچہ بغیر کسی سرحد کے)۔ جہاد و مزاحمت کی انھی کارروائیوں کے سبب ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور دشمن پسپائی پر مجبور ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ ہم اسے کچھ مہلت دیں تاکہ وہ قوم کا حوصلہ پست کرسکے۔ قوم نے نام نہاد امن کے اِن جھوٹے نعروں کو مسترد کر دیا ہے۔ قوم کے تمام طبقات میں مزاحمت جاری رکھنے پر مکمل اتفاق ہے۔ اس مزاحمت نے دشمن میں مایوسی اور نااُمیدی کو جنم دیا ہے اور اب وہ اپنی پالیسی پر ازخود نظرثانی کر رہا ہے۔
ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں: مزاحمت یا شکست تسلیم کرلینا۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ مزاحمت کی کوئی متعین شکل نہیں ہوتی۔ دشمن ہم پر حملہ آور ہے اور ہمیں قتل کیے دے رہا ہے۔ کیا اس نے بھی کبھی ہم سے پوچھا ہے کہ جناب ہم آپ کے خلاف کون سا ہتھیار استعمال کریں اور کون سا نہیں؟ بلکہ اس نے تو جنگ کے تمام دروازے ہمارے خلاف کھول رکھے ہیں۔ وہ ہمارے خلاف جنگی طیارے‘ ٹینک‘ میزائل اور کیا کچھ نہیں جو استعمال کر رہا ہے۔ پھر ہمیں سے کیوں مطالبہ ہے کہ ہم لڑائی میں کسی ایک معین طریقے پر کاربند رہیں؟ ہمیں اختیار حاصل ہے کہ ہم اپنے وسائل اور صلاحیتوں کے مطابق لڑائی کا نقشہ خود ترتیب دیں۔ دشمن ہمارے کمزور حصوں پر ضرب لگا رہا ہے‘ ہم بھی اس کے کمزورپہلوئوں کو نشانہ بنائیں گے۔ ہمیں قتل اور خوف کی اذیت میں مبتلا کر کے وہ خود تل ابیب‘ حیفا‘ لدّ اور رملہ میں کیسے محفوظ زندگی گزار سکتا ہے؟ ہمارے لیے امن و سکون نہیں ہے تو اس کے لیے بھی کوئی جاے پناہ نہیںہوسکتی۔
اگر ہم مملکت اسرائیل کو تسلیم کرلیں‘ یہودی نوآبادیوں کو جائز مان کر ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کو مستقل تسلیم کر لیں تو اسے ہماری سیاسی بصیرت کہا جائے‘اور اپنے مکمل حق کے حصول پر اصرار کو ہماری سیاسی بے بصیرتی سے تعبیر کیا جائے‘ تو اس سے زیادہ غیر متوازن اور نامنصفانہ بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ حماس کا اپنا سیاسی اور فوجی نقطۂ نظر ہے جو دنیا کے مسلّمہ اصولوں پر مبنی ہے۔ ہماری فکر‘ دین اسلام کی روشنی سے منور ہے۔ دشمن ہماری سرزمین پر قابض ہے اور ہم اس کی آزادی چاہتے ہیں۔ ہم یہاں سے یہود اور غیر یہود کا اخراج نہیں چاہتے بلکہ ہم اپنی سرزمین پر مملکت اسلامیہ کا قیام چاہتے ہیں۔ ایسی مملکت جہاں مسلمان اور یہود و نصاریٰ سب لوگ اسلام کے جھنڈے تلے زندگی گزاریں جیسا کہ وہ پہلے بھی اسلامی جھنڈے تلے اپنی زندگیاں گزارتے آئے ہیں۔ ہماری سیاسی بصیرت اور ہمارے موقف کے بارے میں جو بھی کوئی حکم لگانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ پہلے حماس کو اچھی طرح سمجھے۔
ہر انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں حکمت عملی سے کام لیتا ہے۔ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ ارضِ مقدس کی آزادی کے لیے تحریکِ مزاحمت کو ہر حال اور ہر انداز سے جاری رکھا جائے۔ کچھ عرصہ قبل ہم نے یک طرفہ طور پر فدائی کارروائیوں کو روکنے کا جو اعلان کیا تھا وہ ہماری جنگی تدبیر کا حصہ تھا۔ یہ تدبیر اگرچہ ہماری بنیادی حکمت عملی کے خلاف تھی‘ تاہم ضرورت اور حالات کے مطابق ایک وقت میں کبھی کارروائی روکی جاتی ہے تو دوسرے وقت میں اسے جاری رکھا جاتا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ سیاسی حکمت عملی کی خاطر اپنے اصل راستے کو ہمیشہ کے لیے چھوڑدیا جائے۔
اس وقت یہ باتیں بے فائدہ اور لاحاصل ہیں۔ ہم نے ہر جگہ اور ہرمحفل میں اپنا یہ موقف دہرایا ہے کہ ہم موجودہ انتظامیہ کا بدل نہیں ہیں۔ ہماری قوم‘ سرزمین اور فلسطینی انتظامیہ کوئی بھی آزاد نہیں ہے۔ غلامی میں اقتدار ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا اور نہ ہم نے کبھی ایسے اقتدار کی خواہش ہی کی ہے۔ قابض قوتیں تو فلسطینی انتظامیہ اس لیے بنانا چاہتی ہیں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر اپنی ہی قوم اور تحریکِ مزاحمت کا قلع قمع کرے اور ان کے دیے ہوئے امن منصوبے کی حمایت کرے۔ البتہ آزادی حاصل کر لینے کے بعد قوم کی مرضی اور بیلٹ بکس کے راستے سے اس پر بھی بات ہو سکتی ہے‘ تاہم فی الحال ہم جہاد و شہادت اور آزادی کے لیے جدوجہد کے مرحلے میں ہیں۔
انتفاضہ نام ہے جدوجہد اور اس کے اعلان کا۔ وال چاکنگ ان سرگرمیوں کو اُجاگر کرنے کا ذریعہ ہے۔ اصل چیز ان ذرائع کا استعمال ترک کرنا نہیں بلکہ مسئلے کی جڑ اور مشکل کا حل تلاش کرنا ہے۔ ہم سب سے بڑھ کر قومی وحدت اور تحریک کے تسلسل کے متمنی ہیں۔ ہم اپنے عوام اور شہدا کے خون کی حفاظت چاہتے ہیں۔ دوسروں کو چاہیے کہ مشکلات کھڑی کرنا چھوڑ دیں اور معاملات کو احسن انداز میں آگے بڑھنے دیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ تحریک کی راہ میں مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں۔ اصل مسئلہ ذرائع ابلاغ کا استعمال نہیں‘ آئے دن کی نئی سے نئی مشکلات ہیں۔ لیکن ہماری بھی یہ سوچی سمجھی پالیسی ہے کہ مواقع کی تلاش میں رہنے والوں کو ہرگز کوئی موقع فراہم نہیں کریں گے۔ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں‘ کش مکش اور جھگڑے میں نہیں پڑیں گے۔ اگر کوئی فرد ایسا کام کرتا بھی ہے تو یہ اس کا انفرادی اور ذاتی فعل ہے۔ یہ حماس کا اجتماعی فیصلہ اور طریقہ ء کار نہیں۔
ہم جب امریکہ سے مذاکرات کرنا چاہیں گے تو کسی سے ڈریں گے نہیں۔ ہم ایک ایسے دشمن سے نبردآزما ہیں جس نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ہم ایک کو ہٹا کر کسی دوسرے کو اپنے اُوپر مسلط نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے مصری سرپرستی میں الفتح سے قاہرہ میں مذاکرات کیے ہیں۔ اگر الفتح خود کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے آڑ بنانا چاہتی ہے تو یہ اس کی اپنی سوچ ہے۔ اس حوالے سے ہمارا موقف سب پر واضح ہے۔ ہم اپنے کسی اقدام سے شرمندہ نہیں ہیں۔ ہم مغلوب اور شکست خوردہ نہیں ہیں۔ ہم اپنا حق کبھی نہیں چھوڑیں گے جو فرد بھی یہ الزام لگا رہا ہے اسے اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ امریکہ کے مقابل ہم ہیں‘ اس سے کوئی بات ہوگی تو برابری کی سطح پر ہوگی نہ کہ اس کے ایجنٹ ‘ خادم اور تابع مہمل بن کر۔
ہم نے الفتح سے مذاکرات اس لیے کیے ہیں کہ ہم دشمن کے مقابلے میں قومی وحدت و مفاہمت چاہتے ہیں۔ دنیا بھر میں جو کوئی بھی چاہے‘ ہم بغیر کسی ڈر اور خوف کے اس سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ہم صہیونی دشمن کے علاوہ کسی کے ساتھ مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں اس لیے کہ ہم اپنے موقف کی سچائی اور مبنی برحق ہونے کا پختہ یقین رکھتے ہیں۔
میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ اسرائیل اور نہ امریکہ ہی بلکہ پوری دنیا بھی اس تحریک کو ختم نہیں کر سکتی۔ دشمن کبھی اتنا قوی نہیں ہو سکتا‘ بشرطیکہ ہماری اپنی قوم کا ایک قلیل حصہ دشمن سے تعاون پر آمادہ نہ ہو جائے۔ دشمن خود بھی اعتراف کر چکا ہے اور اس نے بارہا اقرار کیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کی مدد کے بغیر انتفاضہ کا خاتمہ ممکن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی انتظامیہ بھی دشمن سے تعاون پر آمادہ ہے؟ اگر ہاں‘ تو یہ تعاون کس چیز کے عوض کیا جا رہا ہے؟ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اوسلو معاہدے کے چھ سالہ وعدے کہاں گئے؟ اور کیا شارون ایک ہی وقت میں جنگ اور امن کا بھی چیمپئن بننا چاہتا ہے اور دشمن کے لیے امن وسلامتی کا مظہر بھی؟
اس دنیا میں جس نے بھی آزادی‘ عزت اور عظمت چاہی ہے اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ ہم روے ارض کی قوی ترین قوم ہیں جس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی قربانی دینے کی استطاعت رکھتی ہے۔ اسرائیلی قبضہ زیادہ سے زیادہ دو یا تین عشروں میں ختم ہو جائے گا۔ خود انھوں نے اس کا اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے آثار ابھی سے واضح بھی ہونے لگے ہیں۔ ہمارا کام ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہنا ہے۔
سوال: میری جب شادی ہوئی تو میں نے بیوی سے کہا کہ تم پردہ کرو۔ میری بیوی نے میری بات کو مانتے ہوئے پردہ کرنا شروع کر دیا۔ والدین اور قریبی رشتے داروں کی وجہ سے مجھے بہت طعنے ملے کہ تم دین کے بڑے پابند ہو! لیکن میں اور میری بیوی ڈٹے رہے۔ آخر میںمیرے والدین نے بہت زور دیا یہاں تک کے ناراض ہوگئے۔ ماں باپ کی ناراضی کو مول نہ لیتے ہوئے میں نے اپنی بیوی کا پردہ ترک کروا دیا۔ کیا میں نے صحیح کیا ہے؟ کیا میں اس کے لیے جواب دہ ہوں گا؟
جواب: آپ نے اپنے خط میں جو سوالات اُٹھائے ہیں وہ ہمارے معاشرے میں موجود بعض ناخوش گوار حقیقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عموماً جو حضرات پردہ یا حجاب کی مخالفت کرتے ہیں‘ وہ قیاسی بنیاد پر اپنی طرف سے یہ دلیل تراشتے ہیں کہ اصل پردہ تو دل اور آنکھ کا ہے ۔ اگر انسان کا مقصد بدنگاہی اور بدنیتی نہ ہو تو پردہ کرنے یا نہ کرنے سے فرق نہیں پڑتا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے جذبات اتنے اعلیٰ ہیں کہ ہمارے گھرانے میں پردے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان قیاسی موشگافیوں کی قرآن و سنت میں نہ کوئی دلیل ہے نہ نظیر۔ قرآن کریم میں واضح الفاظ میں حجاب کا حکم یوں بیان ہوا ہے: ’’اے نبیؐ ،اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اُوپر اپنی چادروں کے پلّو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں‘‘ (الاحزاب ۳۳:۵۹)۔ گویا مسلمان عورت کی پہچان ہی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے جسم کو چادر میں چھپا کر اور اُوپر سے پلّو لٹکا کر ان لوگوں کے سامنے جائے جن سے حجاب کا حکم ہے۔ آپ ماشاء اللہ خود حافظ قرآن ہیں اس لیے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ والدین کی اطاعت کا حکم معروف میں ہے‘ منکر میں نہیں۔ حدیث شریف نے اس بات کو یوں واضح کردیا ہے کہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی رُوگردانی ہوتی ہو تو کسی حاکم کی اطاعت نہیں ہوگی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ کے والدین آپ کو اپنے گھر کی عزت بڑھانے کے لیے بیوی سے پردہ کروانے پر اُبھارتے اور اس پر اصرار کرتے۔ لیکن اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا اور ایک غیراسلامی عمل کرنے کا حکم دیا تو ان کے حکم کی پیروی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔ یقینا یہ بات ان کے علم میں نہیں ہوگی ورنہ وہ نہ خودکو اور نہ آپ کو اور آپ کی بیوی کو حکمِ قرآنی کی خلاف ورزی پر مجبور کرتے۔
گو‘ قانون سے لاعلمی انسان کو قانون شکنی کے الزام سے بری نہیں کر دیتی لیکن یہ جان لینے کے بعد کہ والدین نے آپ کو اللہ کے حکم کے منافی کام پر مجبور کیا‘ آپ کا فرض بن جاتا ہے کہ والدین کو بھی عزت و احترام اور محبت کے ساتھ ان کی غلطی سے آگاہ کریں اور خود بھی اپنی اصلاح کرلیں۔ رہا سوال والدین کا آپ سے ایک غلطی کروانے پر جواب دہی کا معاملہ‘ تو اس پر غور کیجیے کہ اگر آپ اپنے والد‘ یا بیوی یا کسی دوست کے دبائو میں آکر اپنے پڑوسی کو لاٹھی مار کر مجروح کر دیں تو کیا ذمہ داری صرف آپ کے والد یا دوست کی ہوگی یا آپ بھی ایک عاقل بالغ شخص ہونے کی بنا پر یکساں اس ظلم کے ذمہ دار ہوں گے؟
واضح قرآنی ہدایات کے بعد یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ اب آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دینی احکام پر چلنے اور جاہلی رسوم و رواج سے بچنے اور انھیں ردّ کر کے خالق کی بندگی میں آنے کی توفیق دے۔ (پروفیسر ڈاکٹرانیس احمد)
س : میں ورکنگ وومن کے بارے میں اسلام کے حوالے سے آپ کی ماہرانہ رائے معلوم کرنا چاہتی ہوں۔ اسلام کا اس حوالے سے کیا نقطۂ نظر ہے کہ اگر خاوند اور بیوی دونوں کما رہے ہوں اور خاوند اپنی کمائی سے اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتا ہے اس لیے کہ وہ ان کا بیٹا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے لیکن اگر بیوی اپنی کمائی سے اپنے والدین کی مدد کرے تو کیا یہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے‘ جب کہ وہ اپنے والدین کی اپنے خاوند کی کمائی میں سے کوئی مدد نہ کر رہی ہو؟ اگر وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے رشتہ داروں کی مدد کرے تو اس کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟ کیا عورت کی ذاتی جایداد کا بھی کوئی تصور ہے؟ اگر عورت کام کرتی ہے تو اس کے خاوند کو کچھ قربانی بھی کرنا پڑتی ہے‘ وہ گھر کی دیگر ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹاتا ہے۔ کیا عورت اس تعاون کی بنا پر اپنی مرضی سے اس پیسے کو اس لیے خرچ نہیں کر سکتی کہ یہ دونوں کی مشترکہ کمائی ہوتی ہے؟ والدین اپنی بیٹی کی تعلیم و تربیت پر رقم صرف کرتے ہیں‘ اسے محبت سے پروان چڑھاتے ہیں‘ اس کی شادی کرتے ہیں لیکن شادی کے بعدوہ ان کی کوئی خدمت کیا محض اس لیے نہیں کرسکتی کہ وہ ان کا بیٹا نہیں ہے؟
ایک اور سوال کی بھی وضاحت فرما دیں کہ اگر کوئی عورت امیر ہے‘ اس کی ملکیت میں گھر‘ زمین اور زیورات ہیں‘ اور اس کی صرف ایک بیٹی ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کے خاوند‘ بیٹی اور رشتے داروں میں یہ جایداد کیسے تقسیم ہوگی؟ وہ اپنی زندگی میں اپنے خاوند یا کسی دوسرے کو کتنا حصہ تحفتاً دے سکتی ہے؟ کیا ایک تہائی؟ کیا وہ اپنے خاوند کی مرضی کے بغیر انفاق فی سبیل اللہ کرسکتی ہے؟
ج : آپ کے سوال کے دو حصے ہیں۔ ایک کا تعلق شوہر اور بیوی دونوں کے ملازمت یا کاروبار کرنے کی صورت میں ملکیت اور حقوق و فرائض سے ہے اور دوسرے کا ملکیت کی تقسیم اور میراث سے۔ یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ قرآن کریم نے خاندان میں شوہر کی سربراہی کو جن وجوہات کی بنا پر فضیلت دی ہے ان میں سے ایک اس کا خاندان کو معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے‘ چنانچہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کی پرورش‘ رہایش‘ تحفظ‘ جسمانی اور اخلاقی ضروریات پوری کرنے کے لیے ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ اس بنیادی حق کے ساتھ جس کی طرف (سورۃ النساء ۴:۳۴) میں اشارہ ہے‘ قرآن کریم نے والدین پر خرچ کرنے کا واضح حکم بھی دیا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں‘ ہم کیا خرچ کریں‘ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین‘ رشتے داروں پر‘ یتیموںاور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے‘ اللہ اس سے باخبر ہوگا‘‘ (البقرہ ۲:۲۱۵)۔ اس خصوصی ہدایت کے ساتھ عمومی اصول یہ طے کر دیا گیا کہ والدین کے ساتھ احسان کا رویہ‘ یعنی احترام‘ محبت اور ان پر خرچ کرنے کا رویہ اختیار کیا جائے (بنی اسرائیل ۱۷: ۲۳-۲۴‘ العنکبوت ۲۹:۸ اور لقمان ۳۱:۱۴)۔ حقوق و فرائض کے بارے میں اسلام کا اصول بڑا واضح ہے اور اس میں مسئلہ کسی انتخاب کا نہیں ہے کہ اگر آدمی نماز پڑھ لے تو روزے سے اپنے آپ کو فارغ سمجھ لے بلکہ اسے چاہیے کہ حقوق الٰہی کے ساتھ حقوق العباد بھی پورے کرے۔ چنانچہ یہ مفروضہ کہ شوہر اپنی کمائی اپنے والدین پر خرچ کرے اور بیوی گھر کا خرچ چلائے اسلامی اصول کے منافی ہے۔ بیوی اور بچوں کو نفقہ فراہم کرنا شوہر کا فرض ہے‘ احسان نہیں۔ ہاں‘ اگر بیوی باہمی مشاورت و اتفاق سے ملازمت یا کاروبار کرتی ہے اور اپنی خوشی سے بغیر کسی مطالبے یا دبائو کے گھر یا بچوں اور شوہر پر خرچ کرتی ہے تو یہ اس کی طرف سے ایک صدقہ ہے۔ وہ اس کے لیے مکلف نہیں ہے۔ ایک صحابیہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہیں اور کچھ صدقہ کرنا چاہتی ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ تمھارا شوہر غریب ہے اس پر خرچ کرو۔ گویا اس طرح ان صحابیہ کو صدقہ کا اجر بھی ملا اور شوہر کی امداد بھی ہوئی۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ چونکہ بیوی معاشی وسائل فراہم کرنے پر مکلف نہیں ہے اس لیے اگر وہ کوئی کام کرتی ہے جس سے اس کی گھریلو ذمہ داریاں‘ یعنی بچوں کی تربیت اور شوہر کے حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اولیت بچوں اور شوہر کے حقوق کی ہوگی۔ مگر جیسا کہ عرض کیا گیا باہمی مشاورت سے اور حقوق کے متاثر ہوئے بغیر وہ کوئی کام کر سکتی ہے تو اسے اس کی پوری آزادی دی گئی ہے اور اس کے حق ملکیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ حق اکتساب کو قرآن کریم نے سورۃ النساء (۴:۳۲) میں تسلیم کیا ہے اور حق ملکیت ہی کی بنا پر مومنات پر زکوٰۃ فرض کی ہے اور نہ ان کے ترکے سے شوہر یا اولاد کوئی حصہ نہ پا سکتے تھے۔
شوہر اور بیوی کے باہمی مشاورت و اتفاق کے بعد ایک خاتون جو کچھ کماتی ہے اس کی مالکہ وہ خود ہی ہوگی‘ شوہر اس کا مالک نہیں بن سکتا۔ اس لیے اگر بیوی اپنی کمائی اپنے والدین پر‘ اولاد پر‘ یا شوہر پر خرچ کرتی ہے تو اسے اس کا پورا حق حاصل ہے۔ شوہر بیوی کو جو کچھ خرچ گھر کے لیے دیتا ہے یا کوئی رقم ہر ماہ بطور جیب خرچ دیتا ہے اور بیوی اس جیب خرچ کو اپنے اُوپر خرچ کرنے کے بجائے اپنے والدین پر یا گھر کے کسی کام پر خرچ کرتی ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ سمجھا جائے گا۔ اسے اپنے جیب خرچ کے صرف کے لیے شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ایسے ہی اگر شوہر ایک مقررہ رقم بیوی کی صوابدید پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اسے گھر میں خرچ کرے یا اپنے اُوپر یا کسی اور پر‘ تو اس شکل میں بھی بیوی پر کوئی اخلاقی یا قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ لیکن اگر شوہر نے متعین طور پر ایک رقم صرف گھر میں کھانے پینے اور کپڑوں وغیرہ کے لیے یا بچوں کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے دی ہے تو وہ اسی کام میں صرف کی جائے گی‘ اسے وہ اپنے والدین پر خرچ نہیں کرسکتی جب تک شوہر بیوی کو اس کی اجازت نہ دے کہ وہ جہاں اور جس طرح چاہے اس کی دی ہوئی رقم کو خرچ کرسکتی ہے۔
اگر بیوی گھر سے باہر کام کرتی ہے اور شوہر گھرکے معاملات میں ہاتھ بٹاتا ہے تو یہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ اس کا فرض ہے اور اس وقت بھی فرض ہے جب بیوی گھر سے باہر کام نہ کررہی ہو۔ حدیث سے ثابت ہے کہ حضور نبی کریمؐ نے اُمہات المومنین کا ہاتھ گھرکے کاموں میں بٹایا‘ جب کہ وہ ورکنگ ویمن نہیں تھیں۔ اس لیے اگر کوئی شوہر گھر کے کاموں میں بیوی کی مدد کرتا ہے تو سنت کی پیروی کرتے ہوئے بیوی سے نہیں اللہ سے اجر کا مستحق بنتا ہے بلکہ اسے بیوی کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی بنا پر اسے ایک سنت نبویؐ پر عمل کا موقع مل سکا۔ اگر گھر کے کام میں مرد کا ہاتھ بٹانا آپ کے خیال میں اتنا بڑا تعاون ہے کہ وہ اپنی بیوی کی محنت کی کمائی میں حق دار بن جائے تو پھر شوہر جو گھر کے باہر کام کرتا ہے اس کی کمائی میں بیوی کو جو اس کی اولاد اور گھر کی نگرانی کرتی ہے شریک اور حق دار کیوں نہ تصور کیا جائے؟
جہاں تک تنہا ایک لڑکی کے وارث ہونے کا سوال ہے سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۱ میں وضاحت ہے کہ ’’اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے‘ (۴:۱۱)۔ رہا ایک فرد کی زندگی میں اپنی ملکیت کو تقسیم کرنا تو وہ اس کے لیے مختار ہے لیکن نیت جائز ورثا کو محروم کرنے کی نہ ہو اور اگر اولاد میں تقسیم کی جائے تو عدل کی بنیاد پر ہو‘کسی کو دوسرے پر فوقیت نہ دی جائے۔ اس میں ۳/۱ کی قید نہیں ہے۔ یہ قید وصیت میں ہے کہ ایک فرد اپنے ترکہ میں حد سے حد ایک تہائی وصیت کرسکتا ہے کہ کسی عزیز کو یا کسی نیک کام میں اسے دیا جائے۔ دو تہائی کی تقسیم بہرحال اسلام کے قانونِ وراثت کے مطابق کی جائے گی۔ ایک خاتون اپنی ملکیت میں سے جتنا چاہے اللہ کی راہ میں خرچ کر سکتی ہے۔ آخر حضرت زینب ؓ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے ہاتھ لمبے تھے‘ یعنی وہ اُمہات المومنین میں انفاق فی سبیل اللہ کرنے والوں میں بڑھ کر تھیں۔ ایک امیرخاتون اپنی زندگی میں اپنی ملکیت میں سے اپنے شوہر یا اولاد یا والدین یا اقربا میں سے جسے چاہتی ہو بلاقید دے سکتی ہے اور ایسے ہی اپنی ملکیت میں سے انفاق فی سبیل اللہ کے لیے کسی اجازت کی محتاج نہیں ہے۔ (ا - ا)
س : ہمارے ہاں ایک رواج ’’سورہ‘‘ معروف ہے جس میں کسی قاتل یا زیادتی کرنے والے شخص کی بیٹی یا بہن کو بطورِ جرمانہ مقتول پارٹی کے کسی فرد کے نکاح میں دے دیا جاتا ہے۔ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
ج : آپ نے پشتونوں کے جس رواج کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کسی بھی جرم کے ارتکاب کے نتیجے میں مجرم کو مالی تاوان کے علاوہ بعض اوقات اپنے گھرانے کی ایک یا زیادہ لڑکیاں بھی بطور تاوان دوسرے فریق کو نکاح میں دینا پڑتی ہیں اور اس کو مقامی اصطلاح میں ’’سورہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رسم اگرچہ مقامی قبائلی لوگوں نے اس لیے قائم کی کہ اس طرح دو خاندانوں کی باہمی رقابت اور دشمنی کو رشتے کے ذریعے سے دوستی میں بدل دیا جائے‘ اور خونی رشتہ قائم ہو جانے کے بعد وہ ایک دوسرے سے مل کر شیروشکر ہو جائیں۔ لیکن اس میں ایک پہلو جو انسانی تحقیرکا ہے وہ قابل توجہ ہے۔ ایک مجرم کے جرم کی سزا اس کی بہن یا بیٹی کو اس طرح دی جاتی ہے کہ وہ چاہے یا نہ چاہے لیکن اس لڑکی کو تاوان کے طور پر دوسرے فریق کے نکاح میں دے دیا جاتا ہے‘ اور بالعموم وہ لڑکی ایک مدت تک بلکہ بعض اوقات تاحیات ایک زرخرید لونڈی سے بھی زیادہ حقیر دیکھی اور سمجھی جاتی ہے۔ بسااوقات اولاد پیدا ہوجانے کے بعد یہ داغ دھل بھی جاتا ہے اور وہ ایک ماں کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔
شریعت اسلامی نے ہمیں ایک ضابطہ اور اصول دیا ہے کہ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط (فاطر۳۵:۱۸)‘ یعنی کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ گویا باپ بیٹے کے کیے کا ذمہ دار نہیں اور اسی طرح بہن بھائی کے کسی فعل کی سزا نہیں پائے گی۔ سورہ کی رسم اس قاعدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے جس میں ایک بیٹی یا بہن اپنے باپ یا بھائی کے جرم کی پاداش میں بیاہی جاتی ہے اور اس طرح اس کے تمام ارمانوں اور حسرتوں کا خون کر دیا جاتا ہے۔ وہ خوشی خوشی بیاہی جانے کے بجائے روتی پیٹتی اور سرمیں خاک ڈالتی دوسرے گھر تاوانِ جنگ کی حیثیت سے منتقل ہو جاتی ہے‘ جب کہ شریعت کی زبان میں کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ رَھِیْنَۃٌ o (المدثر ۷۴:۳۸)‘ یعنی ہر آدمی اپنے کیے کو بھگتتا ہے نہ کہ دوسرے کے کیے کو۔
دوسری بات یہ کہ کسی بھی لڑکی کو شادی کے سلسلے میں اپنے باپ یا بھائی کے فیصلے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سرپرست اور ولی کی مرضی کے ساتھ ساتھ لڑکی کی اپنی مرضی بھی بڑی اہم ہے۔ لیکن اس رسم میں لڑکی کی رائے لینے کا دُور دُور تک کوئی امکان نہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو مجبور پا کر انکار کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
لہٰذا شریعت نے ایک لڑکی کو جس عزتِ نفس سے نوازا ہے اور اس کو جو احترام دیا ہے‘ اس کو ’’سورہ‘‘ کی صورت میں داغ دار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس لیے ’’سورہ‘‘ کی رسم شریعت کی نظر میں ایک انتہائی بھیانک‘ مکروہ اور ناپسندیدہ رسم ہے۔ اسلام کے معاشرتی نظام میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے‘ اور مسلم معاشرے سے اس ناسور کو ختم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ بے شک اللہ اور اس کا رسولؐ اور آپؐ کا لایا ہوا دین اسلام اس ظلم سے بری الذمہ ہیں۔ (مصباح الرحمٰن یوسفی‘ ماہنامہ دعوۃ‘ فروری ۲۰۰۳ئ‘ ص ۴۶‘۴۷)
کتاب کے عنوان سے موضوع کی جامعیت و وسعت اور اس کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا لیکن کتاب کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی سندی تحقیق (پی ایچ ڈی) کے لیے ایک بحرذخار جیسا موضوع انتخاب کیا ہے۔ ایک صدی کے طویل دورانیے کا یہ جائزہ مختلف عنوانات کے تحت لیا گیا ہے: فارسی صحافت۔ اُردو صحافت کا آغاز۔ پہلا دور‘ ۱۸۳۷ء سے ۱۸۵۷ء تک۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی اور اُردو صحافت۔ سرسیداحمد خاں اور مقصدی صحافت۔ سیاسی و سماجی صحافت۔ مذہبی صحافت۔ ذولسانی صحافت۔ طنزیہ و مزاحیہ صحافت۔ روزنامہ صحافت۔ تخصیصی (تعلیمی‘ قانونی‘ تجارتی‘ طبّی‘ ادبی اور خواتینی) صحافت۔
برعظیم میں خبرنویسی کے آغازو ارتقا کی کہانی دل چسپ ہے اور معلومات افزا بھی۔ زمانۂ قدیم سے تیز رفتار گھوڑے اور کبوترنظامِ برید (خبررسانی) کا اہم ذریعہ تھے۔ سلاطینِ دہلی نے اس نظام کو بہتر بنایا اور خبررسانی کے لیے خوب دیکھ بھال کر کے نہایت معتبر نمایندوں کو مقرر کیا۔ ان کے نظامِ سلطنت کی فعالیت اور کامیابی کا انحصار خاصی حد تک اسی نظامِ برید پر تھا۔ بعض سخت گیر اور نسبتاً زیادہ ہوش مند حکمران (غیاث الدین بلبن‘ علاء الدین خلجی‘ شیرشاہ سوری‘ اکبر اور اورنگ زیب) نظامِ برید کو مختلف تدبیروں سے بہتر بناتے رہے۔
ڈاکٹر طاہرمسعود (استاد‘ شعبہ صحافت‘ کراچی یونی ورسٹی) کی تحقیق یہ ہے کہ برعظیم میں اخبار نویسی کے آغاز کو انگریزوں کی آمد سے وابستہ کرنا غلط ہے۔ وقائع نگاری کا ایک موثر اور جدید نظام یہاں صدیوں سے موجود تھا۔ انگریزوںکی آمد کے بعد اس قلمی اخبار نویسی نے مطبوعہ صحافت کی شکل اختیار کرلی۔ اوائل میں بعض اخبارات نے انگریزوں کی لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانیوں کا کچاچٹھا بھی خوب کھولا۔ اس وجہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے وقتاً فوقتاً صحافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش بھی کی۔ سب سے پہلے لارڈ ولزلی نے صحافت کو پابند زنجیرکرنا چاہا اور ’’راہِ راست‘‘ پر نہ آنے والے کئی برطانوی صحافیوں کو واپس انگلستان بھیج دیا گیا۔
ابتدا میں زیادہ تر اخبارات فارسی میںچھپتے تھے۔ کلکتہ سے شائع ہونے والا جام جہاں نما اُردو کا پہلا اخبار تھا۔ مصنف نے اخبارات کے بارے میں تفصیل فراہم کرتے ہوئے اس دور کی صحافت کے مختلف رجحانات اور ان کی مشکلات و مسائل کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹنگ کے انداز و اسلوب اور تبصروں کے نمونے بھی دیے ہیں‘ اور یہ سب کچھ مصنف کی برسوں کی تحقیق کے بعد ممکن ہوا۔ اس سلسلے میں انھوں نے پاکستان کے معروف کتب خانوں کے علاوہ بھارت جاکردہلی‘ پٹنہ‘ کلکتہ‘ علی گڑھ اور لکھنؤ کے کتب خانوں میں بڑی محنت سے چھان بین کی اور ایسی اطلاعات فراہم کی ہیں جن میں سے بعض کا آیندہ ماخذشاید ان کی یہی کتاب ہوگی‘ کیونکہ بوسیدہ اخبارات کا زیادہ دیر تک محفوظ رہنا ممکن نہ ہوگا۔
ڈاکٹر طاہر مسعود کی یہ تحقیق صحافت کے ساتھ ساتھ‘ اُردو زبان و ادب‘ تاریخ‘ تہذیب‘ معاشیات‘ سیاسیات اورعمرانیات کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے بھی بہت اچھا اور قابل مطالعہ لوازمہ مہیا کرتی ہے۔ اس سے ہمیں انگریزوں کی بدعنوانیوں‘ رشوت ستانیوں‘ہوس زر اور فریب کاریوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ انیسویں صدی میں حاکم و محکوم کے رشتوں اور فاصلوں ‘ اسی طرح ہندو مسلم تعلقات کی استواری اور باہم کشیدگی وخرابی‘ نیز زمانۂ محکومی میں ہندستانی معاشرے میں رونما ہونے والی سماجی تبدیلیوں کی نوعیت معلوم ہوتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ غلامی میں دل و دماغ اور ذہنیتیں کیسے بدلتی ہیں اور حکمِ حاکم‘ مرگِ مفاجات بن جاتا ہے۔ مزیدبرآں اُردو نظم و نثرکے مختلف اسالیب بیان‘ بلکہ قدیم املا کے نمونوں تک کا علم بھی ہوتا ہے۔ ۱۸۶۱ء کی ایک دل چسپ خبر دیکھیے: ’’بڑودہ سے بمبئی ریل گاڑی جاری ہوئی۔ ہزارہا آدمی اس کو دیکھنے کے واسطے جمع ہوئے۔ مدت سے اس طرف کے تمام آدمیوں کو اس کے دیکھنے کا انتظار تھا۔ سات بجے صبح کی گاڑی چلنے کے وقت ریلوے کے جنرل مینیجرنے اپنے ہاتھ سے بہ طور شگون کے‘ گاڑیوں کے پہیوں پر شراب کی بھری ہوئی ایک بوتل چھڑکی‘۵۰۰ گاڑیوں کی قطار تھی اور ۴۰۰ آدمی سوار تھے‘‘ (ص ۵۱۷)۔
مصنف نے آخر میں نہایت عرق ریزی سے ۴۰ صفحات کا ایک گوشوارہ مرتب کیا ہے جس سے ایک نظر میں ہر اخبار کے ضروری کوائف سامنے آتے ہیں۔ قدیم اخبارات کے عکس اور اشاریے نے‘ قابلِ ستایش عمدہ معیارِ تحقیق کی اس علمی کتاب کو اور بھی وقیع بنا دیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع پر الزبتھ لیاگن کے مضامین امپیکٹ‘لندن میں پڑھنے کو ملتے تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ مغرب کی یہ دختر تیسری دنیا میں آبادی کے اضافے کو روکنے کی امریکی اور عالمی ایجنسیوں کی امداد اور تعاون کے پس پردہ اصل کھیل سے ہمیں آگاہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے افریقہ کے حوالے سے اس موضوع پر امریکہ کی قومی سلامتی کونسل‘ سی آئی اے‘ ورلڈ بنک اور دوسرے اداروں کی رپورٹوں اور دستاویزوں کا مطالعہ کیا اور سارا کھیل اس کتاب میں کھول کر رکھ دیا۔
مرکزی خیال یہ ہے کہ مغربی دنیا میں گذشتہ صدیوں میں جو ترقی ہوئی‘ وہ ان کے علاقوں میں آبادی میں اضافے کا دور تھا۔ ۱۷۹۰ء میں امریکہ کی آبادی ۴ ملین تھی‘ جو ۱۹ویں صدی کے آخر تک بڑھ کر ۷۶ ملین ہو گئی۔ ۲۰ ویں صدی کے نصف اوّل میں اضافے کی شرح ۳فی صد تھی۔ (ص ۱۶۰)
الزبتھ لیاگن کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ مغربی ملک خاصے عرصے سے اس پریشانی میں مبتلا ہیں کہ اگر ترقی پذیر دنیا میں آبادی کا اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو یہ اپنے اندر اتنی بڑی طاقت رکھتا ہے کہ محض اضافۂ آبادی کی بنا پر ہی مغرب کو مغلوب کرلے گا اور اس کی ٹکنالوجی دھری کی دھری رہ جائے گی۔ ان کی سلامتی کی رپورٹیں اور منصوبے سب اس کے عکاس ہیں۔ وہ اسے صحت کی بہتری اور غربت کو دُور کرنے کے پردے میں چھپاتے ہیں۔ خود سامنے آنے کے بجاے ورلڈ بنک کو سامنے کرتے ہیں۔ جو ممالک یا لیڈر اس پروگرام کو نہ لینا چاہیں‘ ان پر بھی ٹھونستے ہیں‘ اقتصادی قرض اور امداد کو اس سے مشروط کر دیتے ہیں۔ تیسری دنیا کے حکمرانوں کو اپنا آلۂ کار بنا کر‘ ان کے عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی مدد دیتے ہیں اور اس طرح اپنے منصوبے روبہ عمل لاتے ہیں۔ غرض ایک بڑی وحشت ناک تصویر اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ہم سے خود ہی کروایا جا رہا ہے۔
افریقہ کے اس مطالعے میں کچھ حوالہ انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کا بھی آیا ہے۔ اسلامی ممالک اور تہذیبوں کے تصادم کا بھی ذکر ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انھوں نے آنکھیں کھولنے والی یہ کتاب شائع کی۔ اچھا ہو اگر آئی پی ایس ‘پاکستان کے حوالے سے بھی اس موضوع پر اسی انداز کا تفصیلی مطالعہ تیار کر کے شائع کروائے تاکہ امداد دینے والے اداروں اور ملکوں کے اپنے شواہد ہمارے سامنے آئیں کہ یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے؟ اور ہماری خواتین کی صحت اور معاشرے کی غربت کی اتنی فکر عالمی ایجنسیوں کو کیوں ہو گئی ہے؟ (مسلم سجاد)
بیسویں صدی کے دوران مسلم دنیا کے نمایاں ترین اہل قلم میں ایک بڑا نام مولانا سیدابوالحسن علی ندویؒ کا ہے۔ دنیاے فانی سے رخصت ہونے پر ان کی یاد میں دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف سطحوں پر تذکرہ و تجزیہ اور داد و تحسین کی سرگرمی کا ہونا ایک فطری چیز تھی۔ اس حوالے سے ادارہ تحقیقات اسلامی کے فاضل ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے ۲۱فروری ۲۰۰۰ء کو علی میاں کی یاد میں دو روزہ سیمی نار کا انعقاد کیا۔ زیرنظر کتاب کا محرکِ ترتیب وہی سیمی نار بنا۔ ڈاکٹر انصاری لکھتے ہیں: ’’سیمی نار میں پیش کردہ مقالات اہل نظر کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے ادارہ خوشی محسوس کر رہا ہے‘‘ (ص ۱۰)۔ مگر یہ کتاب تمام تر سیمی نار کے مقالات پر مشتمل نہیں ہے۔ فاضل مرتب نے بتایا ہے کہ اس کتاب کی تدوین میں تاخیر کی وجہ سے سیمی نار کے چند مقالات دوسری جگہ چھپ گئے‘ اس لیے انھیں اس مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا (ص ۱۱‘ ۱۲)۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ مرتب نے زیرتبصرہ کتاب میں خاصی تعداد میں پرانی اور چھپی ہوئی تحریریں بھی شامل کردی ہیں‘ مگر ان کی نشان دہی نہیں کی۔ چنانچہ نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیمی نار میں کیا پیش ہوا اور نہ یہ کہ مدتوں پہلے کی چھپی ہوئی چیزیں کون سی ہیں اور کہاںسے اور کس معیار یا جواز کی بنیاد پر شاملِ اشاعت کی گئی ہیں؟ اگر صرف سیمی نار کی چیزوں کو معیار بنایا جاتا تو یہ ایک معقول بات ہوتی اور مطبوعہ غیرمطبوعہ کی اس ’’کراہت اورمرتبانہ پرہیز‘‘ سے بھی بچا جاسکتا تھا‘جو ڈاکٹر انصاری اور فاضل مرتب کے بیانات کے باہم ٹکرائو سے پیدا ہوتا ہے۔
لیکن اس سے قطع نظر‘ یہ اپنے موضوع پر نئی پرانی تحریروں کا ایک معلومات افزا اور عمدہ مجموعہ ہے‘ جو مولانا علی میاں کی شخصیت اور کارناموں کو سمجھنے کے لیے نہایت مفید ہے۔ جن اہل قلم کی تحریریں شامل ہیں ان میں جلیل احسن ندوی‘ ملک نصراللہ خاں عزیز‘ رضوان علی ندوی‘ پروفیسر خورشیداحمد‘ ڈاکٹر خالد علوی‘ ڈاکٹر خورشید رضوی‘ محمد الغزالی‘ سہیل حسن اور خود فاضل مرتب شامل ہیں۔
ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ : ’’دینی حلقے میں ابوالحسن علی ندوی پہلے بلندپایہ عالم ہیں‘ جو اقبال سے متاثر ]ہوئے… اُن کی[ اس کتاب میں فکراقبال کے تمام اہم مباحث آگئے ہیں‘‘ (ص ۱۵۲-۱۵۳)۔ یہ بیان مبالغہ آمیز اور فقط جوشِ عقیدت کا مظہر ہے۔ ایک اور مضمون: ’’برصغیرکی تاریخ اصلاح و جہاد‘‘ باہم ربط و امتزاج سے خالی ہے۔ علی میاں کے فکری ارتقا اور اس باب میں ناہمواری کی متعددمثالوں کے تجزیے سے یہ مضمون خصوصی مطالعے کی بنیاد بن سکتا تھا۔
علی میاں کے جو (زیادہ تر مطبوعہ) مکتوبات کتاب میں شامل کیے گئے ہیں‘ معلوم نہیں ان کے انتخاب میں کیا معیار مدنظر رہا؟ ایک مکتوب میں یہ ذکر آتا ہے کہ دمشق کی ایک کانفرنس میں مولانا مودودی اور علی میاں دونوں شریک تھے۔ علی میاں لکھتے ہیں:’’مودودی صاحب… یونی ورسٹی ہال… میں سٹیج پر آئے تاکہ… مسئلہ فلسطین کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں تو انھوں نے منتظمین جلسہ سے خواہش ظاہر کی کہ ان کی اُردو تقریر کا میں ترجمہ کروں۔ میں بعض وجوہ سے اس کو اچھا نہیں سمجھتا تھا لیکن انھوں نے کئی بار اس کا تقاضا کیا… مجبوراً طبیعت کے انقباض کے ساتھ یہ خدمت انجام دینی پڑی اگرچہ تقریر کا تعلق صرف مسئلہ فلسطین سے تھا اور اس میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو میرے لیے موجب ِ انقباض ہوتی ] پھر بھی[ مجھے اس میں تردد تھا… بس طبیعت پر ایک انقباض طاری ہوگیا ---اور کئی روز اس کا اثررہا‘‘ (ص ۲۹۷-۲۹۸)۔ معلوم نہیں یہ خط کس کی تحسین یا کس کی تنقیص کے لیے‘ خصوصاً اس یادگاری مجموعے میں شامل کیا گیا ہے۔
اس کتاب میں پرانے رسائل سے علی میاں کی کتب پر مطبوعہ تبصرے‘ مکتوبات اور خود ان کی خودنوشت ۵۰ صفحوں پر مشتمل بھی شامل کی گئی ہے‘ لیکن مطبوعہ چیزوں کے ماخذ کا حوالہ دینے سے پہلوتہی کی گئی ہے۔ (سلیم منصورخالد)
زیرنظر کتاب میں: اسلام میں عورت کی حیثیت‘ بعض دائروں میں مرد و زن کے مساوی حقوق‘ مگر بعض (حیاتیاتی‘ نفسیاتی اور دینی) پہلوئوں سے مرد اور عورت کی نوعیت و حیثیت میں تفاوت و تفریق‘ مردوزن کے تعلق کے معاشرتی پہلو‘ ازدواجی زندگی اور حقوق و فرائض‘ پردہ‘ عورت بطور خاتون خانہ‘ اور عورتوں کی گمراہی کا ذمہ دار کون؟ اور مسلمان عورت کیسی ہو؟ --- جیسے امور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ بعض مصنفین کے مشاہداتِ مغرب کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
اپنے موضوع پر اچھی کتاب ہے لیکن‘ اوّل: مترجم نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ مصنف کون ہے؟ ممکن ہے طبقۂ علما میں وہ محتاجِ تعارف نہ ہوں مگر ان کے مختصر تعارف کے لیے‘ قاری کی خواہش فطری ہے۔ دوم: فاضل مصنف نے یہ کتاب اپنے مخصوص ماحول اور (کسی عرب خطے) کے حالات کو سامنے رکھ کر لکھی مگر طبقۂ نسواں کے حوالے سے‘ پاکستانی معاشرہ کن مسائل سے دوچار ہے؟ صورتِ حالات کیا ہے؟ اور جدید ذرائع ابلاغ‘ میڈیا اور اباحیت زدہ سیکولر طبقہ‘ ہمارے خاندانی نظام کو تلپٹ کرنے اور عائلی زندگیوں میں زہرگھولنے اور اسے فتنوں سے دوچار کرنے میں جس غیرمعمولی مستعدی سے سرگرمِ عمل ہے‘ اُس کا دفاع کرنے کی کیا صورت ہے؟--- یہ کتاب اس بارے میں خاموش ہے--- خیال رہے کہ نہ تو محض وعظ و تبلیغ سے فتنوں کا سدِّباب ہوسکتا ہے‘ اور نہ کافروں اور یہودیوں کو برا بھلا کہہ کر‘ اور حکومتی اداروں کی مذمت کر کے اصلاح احوال کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ خوش آیند امرہے کہ مشینی کتابت کے نتیجے میں دینی اور مذہبی حلقوں کی اشاعتی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں مگر تصنیف و تالیف کے جدید اسالیب‘ اصولِ تدوین اور کتاب کے رنگ ڈھنگ (فارمیٹ) کے حوالے سے‘ ابھی بہت کچھ جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حد تو یہ ہے کہ تقریظ کا دوسرا کتابت شدہ صفحہ‘ پیسٹنگ میں کہیں غتربود ہوگیا‘ اور کتاب اِسی طرح چھاپ کر جاری کر دی گئی ہے۔ (ر-ہ)
۹۸ مضامین کا یہ مجموعہ دراصل مجلہ ذکرٰی ‘ رام پور کے اداریوں پر مشتمل ہے۔ یہ مضامین قبل ازیں مختلف مجموعوں کی صورت میں چھپ چکے ہیں۔ اب انھیں یکجا کر کے پیش کیا گیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کل اُمت مسلمہ گوناگوں مصائب و آلام کا شکار ہے۔ ہر چوراہے پر مسلمان ٹکٹی سے بندھے نظر آتے ہیں اور ظلم و جبر اور استحصال کی چکی میں پس رہے ہیں۔ مولانا اصلاحی کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ’’اُمت نے اپنا ]وہ[ فرض بھلا دیا ہے جس کے لیے خدا نے اس کو پیدا کیا تھا‘‘۔ وہ فرض قرآنی اصطلاح میں امربالمعروف ونھی عن المنکرہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ دورِحاضر میں جب انسان اپنے مقاصدِ تخلیق سے ناواقف ہو چکا ہے‘ یہ کتاب اُسے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون کا مفہوم سمجھاتی ہے۔
مصنف نے زندگی کے مختلف اور متنوع پہلوئوں پر قلم اٹھایا ہے۔ خیر کا اصل چشمہ‘ سماجی اصلاح کا گر‘ اسوۂ حسینؓ کا پیغام‘ عیدقربان‘ تلاوتِ قرآن‘ موت کے دروازے پر‘ روزہ کس لیے؟ چند لمحے رسولؐ کی مجلس میں‘ جب آپ کی بیٹی کا پیغام آئے‘فقروفاقہ‘ ایک آزمایش وغیرہ--- زندگی ہی کی طرح اس کتاب کا دائرہ‘ عبادات سے اعمال تک اور معاشرت سے معیشت تک وسیع ہے۔ مصنف کا مقصد یہ ہے کہ قاری کو حقیقی معنوں میں شعورِ حیات حاصل ہو۔
زبان عام فہم اور سادہ ہے۔ انداز و اسلوب‘ تحریر سے زیادہ تقریر کا ہے۔ انفرادی تربیت و تزکیے کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے۔ (قاسم محمود وینس)
’’سامراج کی لغت میں دوستی کا مفہوم‘‘ (مارچ ۲۰۰۳ئ) میں مولانا مودودیؒ نے سامراج کی دوستی کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ آج کے امریکہ کے رویے پر پورا اترتا ہے۔ پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے اس تحریر کا بروقت انتخاب فرمایا۔ البتہ اس مضمون میں بیان کیے گئے مقامات کے نام بدل گئے ہیں۔ سیاسی جغرافیہ تبدیل ہو چکا۔ آج کے قارئین کے لیے وہ معلومات قصہ پارینہ بن چکیں جو گذشتہ صدی میں تاریخ انگلستان اور یورپ کے حوالے سے اسکولوں میں شامل نصاب ہوتی تھیں۔ اس لیے اس مضمون کے عصرِحاضر میں پورے فہم و شعور کے لیے کئی جگہ وضاحتی حاشیوںکی ضرورت محسوس ہوئی۔
’’عالم اسلام کے لیے امریکی منصوبے‘‘ (مارچ ۲۰۰۳ئ) میں جن امریکی عزائم کا ذکر کیا گیا ہے بلاشبہہ وہ کسی انکشاف سے کم نہیں۔ امریکی سامراج پوری مسلم دنیا کو محاصرے میں لینے کی تیاریاں کر چکا ہے اور ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کاش! ہمارے مسلم حکمران ہوش مندی سے کام لیں اور سوچیں کہ عراق پر جس آگ و خون کی بارش ہونے والی ہے کیا اس کی چھینٹیں ان پر نہیں پڑیں گی اور چھینٹیں توکیا‘ خود ان کی باری آنے میں کتنی دیر رہ جائے گی۔ آج عالمی اُفق پر جو گھٹائیں چھا رہی ہیں بلاشبہ ملّت کا درد رکھنے والا ہر فرد اس سے مضطرب‘ دل گرفتہ اور پریشان ہے۔ بے سمتی کا سفر ترک کر کے سمت متعین کرنا اور اُمت کی شیرازہ بندی کرنا وقت کی ضرورت بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی! دیکھیے پردئہ تقدیر سے کیا ظہور ہوتا ہے۔ حبس کے بعد بارش ضرور ہوتی ہے جو نئی زندگی کا جانفزا پیغام ہوتی ہے۔
’’انسانی کلوننگ‘‘ (فروری ۲۰۰۳ئ) پر علامہ یوسف القرضاوی کا مضمون دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ اس مختصر مضمون میں اس پیچیدہ مسئلے کے تقریباً تمام پہلوئوں کا کافی و شافی طریقے سے احاطہ کیا گیا ہے۔ ہر نئی چیز کو بلاسوچے سمجھے ناجائز قرار دے دینے اور ہر نئی چیز کو اس کے نقصان دہ اور غیراخلاقی پہلوئوں سے بھی صرفِ نظر کرکے جائز قرار دے دینے کی دو انتہائوں کے درمیان کم از کم اس معاملے میں یہی عین راہِ صواب نظرآتی ہے۔ میرا احساس ہے کہ مستقبل میں انسانیت کا اجتماعی ضمیر‘ اگر وہ ہے اور میرا خیال ہے کہ ہے‘ کلوننگ کے مضر اورغیراخلاقی استعمال کو قبول کرنے سے انکار کر دے گا اور اس کے صرف مفید اور اخلاقی استعمالات باقی رہ جائیں گے۔ ان شاء اللہ!
’’کتاب نما‘‘ (فروری ‘ ۲۰۰۳ء ) میں لکھا ہے کہ ’’مولانا فراہی قرآنی علوم کے معروف محقق‘ مفسراور ترتیب و نظم قرآن میں ایک نئے مکتب فکر کے بانی تھے‘‘(ص ۹۹)--- نظم قرآن کا مکتب فکربہت پرانا ہے اس کی عمر ایک ہزار دو سو بلکہ تین سو سال ہے۔ مولانا فراہیؒ اس آخری دور میں ہندوپاک میں نظمِ قرآن کے علم بردار ضرور رہے ہیں‘ مگر بانی ہرگز نہیں۔ یہی حقیقت ہے۔
شذرات ’’مفت تعلیم کی طرف قدم‘‘ (فروری ۲۰۰۳ئ) میںاچھی توجہ دلائی گئی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں ماہانہ فیس معاف کر دینے سے تعلیم ہرگز سستی نہیں ہو سکتی۔ اصل فیس تو اسکول کے بعد ٹیوشن پڑھانے کی فیس ہے جو نرسری تا میٹرک عملاً لازم ہوگئی ہے۔ کچھ اساتذہ اسکول میں ملازمت ہی صرف اپنی پرائیویٹ اکیڈمی کو بارونق بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے بھی اساتذہ ہیں جو طلبہ کو زبردستی ٹیوشن پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ حکم عدولی کی صورت میں طرح طرح سے ستایا جاتا ہے‘ مارا پیٹا جاتا ہے‘ اسکول سے نام خارج کر دیا جاتا ہے اور زیرعتاب رکھا جاتا ہے۔ تعلیم و تعلم ایک مقدس فریضہ ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اسے ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اسکول کی فیس معاف کرنے کے ساتھ ٹیوشن کی لعنت سے چھٹکارا بھی ضروری ہے۔ حکامِ بالا اس کے لیے بھی عملی قدم اٹھائیں۔
یوں تو یاد رفتگان کے کالم میں آپ جو کچھ لکھتے ہیں پڑھنے کے لائق ہوتا ہے مگر جنوری ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ڈاکٹر محمدحمیداللہ کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ خاص چیز ہے۔ میں ڈاکٹر صاحب سے اپنی دوملاقاتوں سے متعلق کچھ باتیں سامنے لانا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے میری طرح دوسرے بھی مستفید ہوسکیں۔
پہلی ملاقات دسمبر ۱۹۷۲ء کے تیسرے ہفتے میں ڈاکٹر صاحب کے پیرس والے فلیٹ میں ہوئی تھی۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ کچھ دیر بعد ایک نومسلم نوجوان آگئے‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ ان کو قرآن کریم (ناظرہ) پڑھاتے ہیں اور موعودہ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ اتنا بڑا عالم اور محقق ناظرہ پڑھا رہا تھا‘ میری طبیعت بہت متاثر ہوئی۔
جن مسائل پر ڈاکٹر صاحب سے استفادہ رہا ان میں سے ایک کا تعلق قاضی ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ترجمے اسلام کا نظام محاصل‘ مکتبہ چراغ راہ کراچی ‘ ۱۹۶۶ء اور اسلامک پبلی کیشنز‘ لاہور سے تھا جس کی تفصیل اس وقت سامنے نہیں ہے۔ مگر اہمیت کی بات یہ ہے کہ سیکڑوں صفحات میں سے ڈاکٹرصاحب نے اس ایک مقام پر انگلی رکھ دی جس کا ترجمہ ان کی نظر میں تشفی بخش نہیں تھا اور جس کے بارے میں وہ عرصہ سے تحقیق میں مصروف تھے۔
دوسرا مسئلہ عملی تھا۔ ملاقات سے کچھ عرصہ پہلے امپیکٹ‘ لندن میں ڈاکٹر صاحب کی یہ رائے نظر سے گزری تھی کہ کرئہ ارضی کے انتہائی شمالی علاقوں میں بعض موسموں میں جب رات کے غیرمعمولی طور پر چھوٹی ہو جانے کی وجہ سے مغرب‘ عشا اور فجر کی نمازوں کے اوقات بہت جلد جلد آتے ہیں‘ یا دن کے بہت لمبے ہونے کی وجہ سے روزہ بہت لمبا ہوجاتا ہے‘ نمازوں اور افطار کے اوقات مکّہ مکرمہ کے اوقات کے مطابق یا پھر قریب ترین نارمل علاقوں کے اوقات کے مطابق کیے جاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تو یہی فرمایا تھا کہ بعض لوگ ان کی رائے پر عمل بھی کرتے ہیں مگر آج تک نہ اس کا ثبوت ملا نہ یہ سمجھ میں آیا کہ یہ مشکل کیسے حل ہو۔
ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب سے میری دوسری اور آخری ملاقات اسلام آباد میں فکرِاسلامی پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس‘ منعقدہ جنوری ۱۹۸۲ء کے موقع پر ہوئی۔ ایک موضوع پر کسی کے مقالے سے متعلق آیت قرآنی اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُم(مسلمانوں کے معاملات ان کے درمیان باہمی مشورہ سے طے پاتے ہیں۔ الشوریٰ ۴۲:۳۸) زیربحث آگئی۔ میں نے سوال کیا کہ آیت کے دوسرے اجزا وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ص وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ o (اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں‘ ہم نے جو کچھ بھی رزق انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ الشوریٰ ۴۲:۳۸) میں جس طرح ھم کی ضمیر میں مسلمان مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل کیا ہے ‘کیا اسی طرح شوریٰ سے متعلق بات بھی ان دونوں سے متعلق نہیں ہے؟ بالفاظِ دیگر شوریٰ میں مردوں کی طرح عورتیں بھی شریک ہیں۔ صاحب ِ مقالہ نے تو سوال پر ہی تعجب کا اظہار کیا اور بہرصورت میرے موقف کی تائید نہیں کی مگر ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف میری تائید آیت کے فہم کے سلسلے میں کی بلکہ قرنِ اوّل سے نظائر بھی پیش کیے‘ جن میں سب سے اہم نظیرحضرت عمرؓ کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے سلسلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا بعض خواتین کی رائے معلوم کرنا ہے۔
جو عظیم الشان مقصد ہمارے سامنے ہے اور جن زبردست طاقتوں کے مقابلے میں ہم کو اُٹھ کر اس مقصد کے لیے کام کرنا ہے اس کا اولین تقاضا یہ ہے کہ ہم میں صبر ہو تدبر ہو اور معاملہ فہمی ہو اور اتنا مضبوط ارادہ موجود ہو جس سے ہم دور رس نتائج کے لیے لگا تار ان تھک سعی کر سکیں۔ بے صبری کے ساتھ جلدی جلدی نتائج برآمد کرنے کے لیے بہت سے ایسے سطحی کام کیے جا سکتے ہیں جن سے ایک وقتی ہلچل برپا ہو جائے ، لیکن اس کا کوئی حاصل اس کے سوا نہیں ہے کہ کچھ دنوں تک فضا میں شور رہے اور پھر ایک صدمے کے ساتھ سارا کام اس طرح برباد ہو کہ مد تہائے دراز تک دوبارہ اس کا نام لینے کی بھی کوئی ہمت نہ کرسکے۔ یہ چیز جن لوگوں کو مطلوب ہے ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ ہمیں پریشان کرنے کے بجائے ہو ہم سے الگ ہو جائیں اور آزادی کے ساتھ جو ہنگامہ برپا کرنا چائیں کریں۔ مگر جو لوگ اس مقصد کے لیے واقعی کوئی صحیح کام کرنا چاہتے ہیں انہیں شوق فضول سے مجتنب ہو کر معمار کے سے صبر کی عادت ڈالنی چاہیے جو تعمیر شروع کرنے سے پہلے سامان تعمیر جمع کرتا ہے ، پھر دیوار اُٹھانے سے پہلے بنیادیں کھودنے اور ان کو مضبوطی کے ساتھ بھرنے میں کافی وقت اور محنت صرف کرتا ہے ، پھر ایک ایک اینٹ چنتا ہے اور جب تک این کو مستحکم نہیں کر لیتا دوسر ی اینٹ کو ہاتھ نہیں لگا تا ۔ جس معمار میں اتنا صبر نہیں ہے اور جو بنیاد کھودنے سے پہلے چھت ڈالنا چاہتا ہے اس کے لیے کا م کا صحیح میدان زمین نہیں بلکہ ہوا ہے۔ (,,اشارات ،، ابوالاعلیٰ مودودی ، ترجمان القرآن، جلد ۱۳۶۲ھ اپریل ۱۹۴۳ ئ، ص ۷۳،۷۴)