مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۲۲

جون ۱۹۴۷ء کو تقسیم ہند کے قانون کے تحت برطانوی ہند کی ریاستوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہاں کے حکمران پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے وقت ریاستی عوام کی خواہشات کو پیش نظر رکھیں گے۔ ریاست جموں و کشمیر کا حکمران غیرمسلم تھا، جس پر مظلوم، محکوم اور اکثریتی مسلمانوں کا اعتماد نہیں تھا کہ اُس نے ان پر زندگی تنگ کر دی تھی۔ چنانچہ، قیامِ پاکستان سے قبل ہی ۱۹جولائی ۱۹۴۷ء کو ریاستی مسلمانوں کی نمایندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سرینگر میں سردار محمد ابراہیم خان جوکہ ریاستی اسمبلی کے ممبر اور مسلم کانفرنس کے چیف وہپ تھے، اُن کی رہایش گاہ پر اپنے اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد کےذریعے مہاراجا سے الحاقِ پاکستان کا مطالبہ کیا۔

 ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو قیامِ پاکستان کے بعد مہاراجا نے بظاہر پاکستان سے ’معاہدہ قائمہ‘ کیا، لیکن درونِ خانہ بھارت سے معاہدہ کرنے میں مصروف ہوگیا۔ بیدارمغز کشمیری قیادت نے ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کو ہی مہاراجا کے خلاف راولاکوٹ کے مقام پر ۳۰ہزار نیشنل گارڈز کی موجودگی میںبغاوت کا اعلان کرکے مسلح جدوجہد آزادی کا آغاز کردیا۔ اس طرح پہلے مرحلے میں مختصر علاقے کی آزادی حاصل کرکے ۲۴؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو ایک جانشین انقلابی حکومت کے قیام کااعلان کردیا، اور پلندری کو دارالحکومت سے قرار دیا۔

مجاہدین کی یلغار اور ریاستی اقتدار سے محروم ہوتے مہاراجا کی طرف سے سازباز کرتے ہوئے ایک نام نہاد دستاویز ہندستان کے ساتھ الحاق کرکے اور مجاہدین آزادی کی سرکوبی کی غرض سے بھارتی فوج سے مدد کی درخواست کی۔ بھارت نے ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو اپنی فوجیں ریاست جموں و کشمیر میں داخل کردیں اور خودمعاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا۔ بھارتی اور پاکستانی نمایندوں کے ساتھ کشمیریوں کے نمایندہ اور انقلابی حکومت کے صدرسردار محمدابراہیم خان کا موقف سننے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ قراردادیں منظور کیں، جن کے ذریعے بھارت سے مہاراجا کے الحاق کو غیرقانونی اور غیرمؤثر قرار دیتے ہوئے پوری ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرکے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی استصواب رائے کے لیے ایڈمنسٹریٹر کا تقرر بھی کردیا۔ فائربندی اور سیزفائر لائن کےتعین کے لیے بھی کمیشن مقرر کیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے عالمی برادری کے سامنے اُن قراردادوں کو تسلیم کیا۔

 آزاد علاقوں کے نظم و نسق اور دفاع کے لیے آزادحکومت جموں و کشمیر کو لوکل اتھارٹی تسلیم کرتے ہوئے ’آزاد جموں و کشمیر فورسز‘ (AJKF)کو بحال رکھنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا۔ بھارت،  اقوام متحدہ کے کمیشن کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے رائے شماری کے لیے اقدامات سے گریزاں رہا۔ چنانچہ، حکومت ِ پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کا نظام بہتر طورپرچلانے اور بقیہ ریاست کی آزادی کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تسلیم شدہ ’لوکل اتھارٹی آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر‘ کے تحت ۲۸مارچ ۱۹۴۹ء کو کراچی میں ایک معاہدہ کیا، جو ’معاہدۂ کراچی‘ کے نام سے معروف ہے۔ اس معاہدے پر حکومت پاکستان کی جانب سے مشتاق احمد گورمانی ،صدر آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار محمد ابراہیم خان اور صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس چودھری غلام عباس نے دستخط کیے۔ جس کے تحت گلگت بلتستان کی انتظامی نگرانی حکومت پاکستان کے سپرد کردی گئی، جب کہ آزاد جموں و کشمیر میں قائم حکومت کو مستحکم کیاگیا۔ اس وقت سے یہ لوکل اتھارٹی اپنے دارالحکومت مظفرآباد میں ساڑھے چار ہزار مربع میل کے علاقے پر اس صورت میں قائم ہے کہ اس حکومت کا اپنا صدر،وزیراعظم، سپریم کورٹ، آئین، ریاستی پرچم،ریاستی ترانہ اور قانون ساز اسمبلی موجود ہے۔ تاہم، گلگت بلتستان میں معقول، فعال اور عادلانہ نظام تشکیل نہیں دیا جاسکا، جس پر یہاں کے عوام میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔

’معاہدۂ کراچی‘ کے علاوہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان معاملات کو چلانے کے لیے رولز آف بزنس ۱۹۵۰ء، ۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۸ء ترتیب دیے گئے۔ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۰ءکے صدارتی انتخاب میں کے ایچ خورشیدصدر منتخب ہوئے۔ ۱۹۶۴ء میں ایک ایکٹ منظور کیا گیا، جسے بعد میں ایکٹ ۱۹۶۸ء میں تبدیل کیا گیا۔ یہ ایکٹ کسی طور پر بھی  ایک ریاستی حکومت کے شایانِ شان نہیں تھا۔ پھر اس کو ایکٹ ۱۹۷۰ء کے ذریعے تبدیل کیا گیا اور آزاد ریاست جموں و کشمیر میں ۱۹۷۰ء میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ ۲۵رکنی ریاستی اسمبلی اور براہِ راست انتخاب کے ذریعے صدر ریاست نے نظامِ حکومت سنبھالا۔

بھارت نے ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء کو پاکستان کا مشرقی بازو کاٹ کر بنگلہ دیش بنادیا۔ اس کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب فوجی اور سول پاکستانی بھارت کے جنگی قیدی بن گئے۔ اُس صورتِ حال میں، صدرِ پاکستان ذوالفقار علی بھٹو، شملہ گئے اور جولائی ۱۹۷۲ء میں بھارت کے ساتھ ’معاہدۂ شملہ‘ پردستخط کیے۔ جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں سیزفائرلائن کو کنٹرول لائن تسلیم کرلیا گیا، اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو باہم بات چیت کے ذریعے حل کرنا طے پایا۔

۱۰جون ۱۹۷۴ء کو آزاد ریاست جموںو کشمیر میں بھی پارلیمانی طرزِ حکومت کے لیے، کشمیری قیادت نے حکومت پاکستان سے ’معاہدئہ اسلام آباد‘ کیا۔ اس کے تحت آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے ۲۴؍اگست ۱۹۷۴ء کو ’عبوری آئین ایکٹ‘ پاس کیا، جو فوری طور پر نافذالعمل ہوا۔ اس ایکٹ میں پہلی بار وزارتِ اُمور کشمیر پاکستان کی موجودگی میں ۱۴رکنی کشمیر کونسل کا وجود تخلیق کیا گیا، جس کا چیئرمین وزیراعظم پاکستان/چیف ایگزیکٹو کو رکھا گیا، جب کہ چھ ممبران کا انتخاب آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی قانون سازاسمبلی نے کرنا مقرر کیا۔ پھر پانچ ممبران کو چیئرمین کونسل، پاکستان کی پارلیمنٹ سے نامزد کرتا ہے۔ وزیراُمورِ کشمیر کو بربنائے عہدہ ممبرقرار دیتے ہوئے ووٹ کا حق دیا گیا۔ صدر آزاد جموں و کشمیر کو، کشمیر کونسل کا وائس چیئرمین قرار دیا گیا۔ یہ کونسل، ایکٹ ۱۹۷۴ء کی دفعہ ۲۱ کےتحت معرضِ وجودمیں آئی، تاہم مختلف آئینی ترامیم کے ذریعے اس کے اختیارات میں رَد وبدل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ ۱۹۷۴ء میں تیرھویں ترمیم کے بعد کشمیر کونسل کے بیش تر اختیارات حکومت ریاست جموں و کشمیر، قانون ساز اسمبلی اوروزیراعظم پاکستان کو منتقل کر دیے گئے۔ یوں کونسل کی حیثیت محض ایک مشاورتی ادارے کی سی رہ گئی۔اس طرح آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا پارلیمانی نظام بے اختیار ہوکر رہ گیا۔

پھر  ’آزاد جموںو کشمیر آئین ایکٹ ۱۹۷۴ء‘ میں ۱۳ویں ترمیم ’ایکٹ ۲۰۱۸ء‘ کے نام سے وفاقی کابینہ نےاپنے اجلاس میں منظوری دے کر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اورکونسل کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے منظور کرا لیا۔ ہائوس میں اسمبلی کے ۴۹ ممبران، کشمیر کونسل کے ۶ممبران اور وزیر اُمورکشمیر ایک ووٹ ڈالتے ہیں۔ یکم جون ۲۰۱۸ء کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے۵۶ میں سے ۳۵ ووٹروں کی اکثریت سے ترمیم منظور کی۔ اس طرح سیکشن ۳۱ ،اور ۳۳ میں بڑی تبدیلیاں کر دی گئیں۔ حزبِ اختلاف کے ممبران نے سیکشن ۳۱ میں تبدیلیوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے بطورِ احتجاج واک آؤٹ کیا۔

آرٹیکل ۶ میں پہلے صدر ریاست پر عدم اعتماد کے لیے مشترکہ اجلاس بلایا جاتا تھا، مگر اب قانون ساز اسمبلی کی ایک تہائی تعداد یعنی ۱۷ ممبران اسمبلی عدم اعتماد کی تحریک پیش کرسکتےہیں۔ آرٹیکل ۱۴ کی شق کے تحت وزرا کی تعداد کل ممبران اسمبلی کا ۳۰فی صد طے کی گئی ہے۔ آرٹیکل ۱۴-اے کے تحت اب وزیراعظم آزاد کشمیر، پانچ پارلیمانی سیکرٹریوں اور دو معاون خصوصی یا مشیر بھی تعینات کرسکتے ہیں۔ آرٹیکل۱۷ کی شق ۳ کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کی عدم موجودگی میں سینئر وزیر، قائم مقام وزیراعظم ہوتا تھا۔ آرٹیکل ۱۸ کی ایک شق میں ترمیم کے بعدوزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کل ممبران کا ۲۵ فی صد یعنی ۱۳ ممبران پیش کریں گے۔ قبل ازیں   ایک ممبر بھی تحریک پیش کرسکتا تھا۔ اسی طرح بہت سی جگہوں پر ’جائنٹ سیشن‘ کے بجائے ’حکومت آزاد کشمیر اور قانون ساز اسمبلی‘ سے تبدیل کر دیا گیا۔ آرٹیکل ۱۹ میں نئی شقیں شامل کی گئیں، جس کے مطابق حکومت پاکستان کی وزارت ڈویژن یا ادارے کے ذریعے ریاست کے اندر قانون کے تحت ہی اقدامات کرسکےگی، اور دوسری شق میں آزاد کشمیر حکومت کو ۱۱مئی ۱۹۷۱ء کے وفاقی کیبنٹ ڈویژن کے مراسلے کے تحت رکھا گیا ہے۔

عبوری آئین ایکٹ ۱۹۷۴ء کے آرٹیکل ۲۱ میں کشمیر کونسل کے اختیارات کا تعین واضح تھا۔ جس میں ترامیم کے بعد ۱۴ میں سے ۷ شقیں نکال دی گئیں اور کونسل کو ایک مشاورتی باڈی بنادیا گیا ہے۔ آرٹیکل ۲۲ میں ترمیم کرکے اسمبلی کی نشستیں ۴۹ سے بڑھا کر ۵۳ کردی گئیں۔ ۴۵ پر براہِ راست، جب کہ پانچ خواتین، ایک علماء مشائخ /ٹکنوکریٹ اور ایک سمندرپار کشمیریوں کے لیے مختص ہے۔ یہ بات خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ ۴۵ نشستوں میں ۱۲نشستیں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی نمایندگی کے لیے رکھی گئی ہیں، جن پر وادیٔ کشمیر سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین چھ نشستوں پر، جب کہ جموں کے علاقوں سے آنے والے مہاجرین چھ نشستوں پر ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔

 آرٹیکل ۲۷ میں بھی ترمیم کی گئی، جس کے مطابق تین ماہ میں ایک دفعہ اسمبلی کا اجلاس بلانا ضروری تھا، جو اَب سال میں ۶۰ دن ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ترمیم کی گئی ہے کہ ’جائنٹ سیشن‘ کے بجائے ’اسمبلی دو تہائی اکثریت سے‘ آئینی ترمیم کرسکتی ہے۔ آرٹیکل۳۷ کو بھی ختم کیا گیا، جس کے تحت کشمیر کونسل اپنے پاس ریونیوجمع کیا کرتی تھی۔ اسی طرح آرٹیکل ۴۲-اے کے تحت سپریم کورٹ  رولز بنانے کے لیے اب کشمیر کونسل کے بجائے حکومت آزاد کشمیر سے مشاورت کرے گی۔ آرٹیکل ۴۳ میں نئی شقوں کے تحت صدر آزاد کشمیر، وزیراعظم آزاد کشمیر کی مشاورت سے شریعت بنچ میں عالم جج مقرر کرسکیں گے۔ آرٹیکل ۵۰ میں الیکشن کمشنر کے بجائے اب الیکشن کمیشن ہوگا، جو تین ارکان، چیئرمین اور دو ممبران پر مشتمل ہوگا۔  آرٹیکل۵۱-اے کے تحت کونسل کے   جملہ اثاثہ جات اور فنڈز آزاد کشمیر حکومت کو منتقل کیے گئے ہیں اور آرٹیکل ۵۲-سی کے تحت ریاست کے قدرتی وسائل پر حکومت پاکستان کو اختیارات دیئے گئے ہیں۔

۱۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو بھارت نے دفعہ ۳۷۰ کو ختم کرتے ہوئے پوری ریاست جموں و کشمیر کو انڈین یونین ٹیرٹری،(بھارتی مملکت کا حصہ) قرار دیا اور دفعہ ۳۵-اے ختم کرکےغیر ریاستی غیرمسلم افراد کو ریاست جموں و کشمیر میں آباد کرنے اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرکے یہ پیغام دیا کہ اب ہمیں کشمیریوں کی نہیں صرف کشمیر کی ضرورت ہے۔ اس طرح کشمیریوں کی نسل کشی کو نقطۂ عروج پر پہنچا دیا ہے اور انھیں ’ریڈ انڈینز‘ کی طرح اقلیت بنانے کا گیٹ کھول دیا گیا ہے۔ ۷۳برسوں میں ایک طرف بھارت نے متعدد کشمیری لیڈروں کو مراعات دے کر اور شریکِ اقتدار کرکے بھارتی بنانا چاہا، کچھ لوگوں کو خرید کر مرکزی حکومت میں وزارتیں اور ریاستی حکومت میں اہم ذمہ داریاں بھی دیں، مگر دوسری طرف چھ لاکھ کشمیریوں کو شہید کرکے بھی کشمیریوں کو ریاستی دہشت گردی سے بھارتی نہیں بناسکا۔

افسوس کہ بھارت کے اس اقدام کے خلاف کوئی جوابی لائحہ عمل دینے کے بجائے ۱۵ویں ترمیم کے ذریعے آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرنے اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوششوں میں مصروف لوگ یہ بات بھول گئے کہ آج ہم چین کے ساتھ عظیم اور لازوال دوستی کی بات کرتے ہیں اور معاشی ترقی کے لیے ’سی پیک‘ ریڑھ کی ہڈی قراردےرہے ہیں، تو جب ہم نے ۱۹۶۳ء میں ریاست جموں و کشمیر کا ۱۲ہزار مربع میل کا علاقہ ’بائونڈری ٹریٹی‘ کے ذریعے چین کے حوالے کیا تھا، اس وقت بھارت معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ پاکستان، ریاست کے کسی حصے کو کسی دوسرے کے حوالے نہیں کرسکتا۔ اب، جب کہ بھارت نے ریاست جموں و کشمیر کو باقاعدہ بھارت کا آئینی حصہ قرار دے دیا ہے اور ہم خاموش تماشائی ہیں تو بھارت گلگت کو صوبہ بنانے کے عمل پر کیونکر خاموش رہ سکتا ہے۔ درحقیقت یہ خاموشی دونوں ممالک کے درمیان ریاست جموں و کشمیر کی بندربانٹ کے علاوہ اور کوئی پیغام نہیں دے سکے گی۔

ان حالات میں اس وقت آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے اندر ایک بااختیار حکومت کو  پوری دُنیا کے سامنے پیش کرنے کے بجائے ۱۵ویں ترمیم کے ذریعے ایک بلدیاتی ادارہ بنانے کی کوشش نے آزاد ریاست کے اندر ایک ہیجانی کیفیت پیدا کردی اور تمام سیاسی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس کے اندر متفقہ طور پر ریاستی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور اختیارات واپس کشمیر کونسل کے حوالے کیے جانے کے لیے ۲۶صفحات پر مشتمل ۱۵ویں ترمیم کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اور پوری ریاست کے اندر عوام سراپا احتجاج ہیں۔ بھارت اسی احتجاج کو پاکستان کے خلاف سفارتی سطح پر استعمال کر رہا ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے کسی بھی مرحلے پر وہ اقوام متحدہ سے رائے شماری کے لیے کہتے ہوئے پوری ریاست پر اپنے ناجائز قبضہ کو جائز قرار دلوانے کی طرف بڑھ سکتا ہے، جب کہ عاقبت نااندیش پاکستانی حکمران محض گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر قناعت کرتے نظر آرہے ہیں۔

سری لنکا کے حالات خود ان سری لنکائیوں کے لیے غیر متوقع ہیں، جو اپنے ملک کو ’غیربودھوں‘ سے پاک کرنا چاہتے تھے۔انھوں نے یہ ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت دیکھ کر ہی راجا پاکسا خاندان کو ملک کی باگ ڈور تھمائی تھی۔

یہ ملک نیم جمہو ری ہے۔ یہاں وزیر اعظم توہوتا ہے، لیکن حکومت کا سربراہ صدر ہی ہوتا ہے۔صدر ہی وزیر اعظم اور کابینہ کے مشوروں سے ’ عاملہ اختیارات‘ کا استعمال کرتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔ جس وقت سری لنکائی عوام پاکسا خاندان کو منتخب کر رہے تھے، ان کے سامنے اس خاندان کا اور خاص طور پر ’گوٹابیا راجا پاکسا‘ کا ماضی اپنی کریہہ شکل کے ساتھ موجود تھا۔انھیں علم تھا کہ یہی شخص ہزاروں شہریوں کو گھیر کر ان پر بمباری کرکے موت کے گھاٹ اتارنے کا ’اعزاز‘ رکھتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر گوٹابیا کی بدنامی کے باوجود ووٹروں نے انھیں منتخب کیا۔ گوٹابیا ۲۰۰۹ء میں جب ڈیفنس سیکریٹری تھے تو انھوں نے پہلے ہزاروں تملوں کو امان دینے کے وعدہ پر ’نوفائر‘ زون میں دھکیلا اور پھر دھوکے سے ۴۰ ہزار لوگوں کو گیس سے گلا گھونٹ کر اور بمباری کرکے ماردیا۔ اس وقت ان کے بھائی مہندا راجا پاکسا صدر تھے۔ اسی دوران انھوں نے ایل ٹی ٹی اے کے لیڈر وی پربھاکرن کو بھی ماردیا تھا۔پاکسا خاندان نے سری لنکا کو ذاتی ملکیت میں بدل کر رکھ دیا تھا اور اس وقت بھی اس کے ۱۲ممبران ہی حکومت چلارہے تھے۔

سری لنکا ایک عرصے تک ’لبریشن ٹائیگرز آف تمل ایلم‘ (ایل ٹی ٹی ای) نامی تنظیم کی خونی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔’ایل ٹی ٹی ای‘ شمال مشرقی سری لنکا میں قائم تھی۔اس کا دعویٰ تھا کہ وہ ۱۷فی صد تمل ہندوئوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے‘‘۔یہ تنظیم شمال مشرقی سری لنکا میں تملوں کے لیے ایک الگ ریاست ’تمل ایلم‘ قائم کرنا چاہتی تھی۔اس تمل قوم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھیں انگریز اپنے چائے کے باغات میں محنت مزدوری کرانے کے لیے ہندستان سے لائے تھے۔ ان کا اعتراض تھا کہ ’’سری لنکا کی اکثریتی آبادی اور حکومت ان کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے‘‘۔

تملوں اور (اکثریتی آبادی) بودھوں کے درمیان ہمیشہ کش مکش رہی۔اس کش مکش کا سبب لسانی اور ثقافتی فرق بھی تھا۔ تمل ہندو، سری لنکائی لہجے میں تمل زبان بولتے ہیں اور بودھ زیادہ تر سنہالی زبان بولتے ہیں۔سری لنکا کے بودھ اپنی زبان کے حوالے سے اتنے متعصب ہیں کہ پارلیمنٹ میں سرکاری زبان کے ایکٹ (۱۹۵۶کی شق ۳۳) کے مطابق یہ قانون پاس کردیا گیا تھا کہ ’’سیلون (سری لنکا کا پہلا نام) میں انگریزی کے بجائے صرف سنہالی زبان ہی بولی جائے گی‘‘۔ اس کے بعد تملوں کابڑے پیمانے پر قتل عام ہوا۔’تمل سینٹر فار ہیومن رائٹس‘ (TCHR) کے مطابق ۱۹۸۳ء سے ۲۰۰۴ء تک دو لاکھ سے زیادہ عام تمل مارے گئے یا لاپتہ ہوگئے‘ جب کہ ۵۰ہزار جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔

۱۹۸۷ءمیں حکومت ہند کے دبائو کے تحت سری لنکا نے زبان کے ایکٹ میں ترمیم کی اور سنہالی کو پہلی سرکاری زبان‘ تمل کو دوسری اور انگریزی کو رابطہ کی زبان قرار دیا گیا۔لیکن اس وقت تک زبان اور ثقافت کی بنیاد پر نفرت کا درخت تناور ہوچکا تھا۔ بھارتی وزیراعظم راجیوگاندھی کے زمانے میں سری لنکا میں ہندستان نے ’امن فوج‘ بھیجی تھی۔اس پر تمل ٹائیگرز ناراض تھے۔ سری لنکا کے دورہ کے دوران جب راجیو گاندھی ’گارڈ آف آنر‘ کا معائنہ کر رہے تھے تو ان پر ایک ناراض سپاہی نے بندوق کے بٹ سے حملہ کیا تھا۔پھر تامل ناڈو کے سری پیرمبدور میں ان پر خود کش حملہ کرکے تمل دہشت گردوں نے انھیں ہلاک کردیا تھا۔

تمل ٹائیگرز کو یہ بھی شبہہ تھا کہ سری لنکا کے مسلمان ان کی مخبری کرتے ہیں اور ان کے مخالف ہیں، جب کہ دوسری طرف سری لنکا کے بودھوں کی تنظیم ’بودو بالا سینا‘ بھی مسلمانوں سے نفرت کرتی تھی۔اس طرح ۱۰فی صد کے آس پاس سری لنکائی مسلمان چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس کر رہ گئے۔ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان شمال مشرقی سری لنکا کے مختلف علاقوں سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔حالانکہ بعد میں ایل ٹی ٹی اے کے لیڈر ویلو پلی پربھاکرن نے مسلمانوں سے یہ کہہ کر معافی مانگ لی تھی کہ مسلمانوں کو باہر نکالنے کی مہم ہماری بہت بڑی سیاسی غلطی تھی‘‘۔ لیکن ان کے برعکس بودھوں نے مسلمانوں سے نفرت کا کھیل جاری رکھا۔

گوٹابیا کے آنے کے بعد مسلم مخالف مہم میں حکومت بھی شامل ہوگئی۔۳؍اگست ۱۹۹۰ء کو ’کٹن کوڑی‘ کی مسجد میں جب تین سو لوگ عشاء کی نماز میں مصروف تھے تو ۳۰ مسلح دہشت گردوں نے اندھا دھند گولیاں برساکر ۱۴۷ مسلمانوں کو شہید کردیا تھا۔ حکومت‘ عینی شاہدین اور بچ جانے والوں نے تمل ٹائیگرز کو مورد الزام قرار دیا۔ لیکن خود ایل ٹی ٹی ای نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ’’یہ کام بودو بالا سینا کا ہے‘‘۔

۲۰۱۲ء کی مردم شماری کے مطابق سری لنکا میں ۲۰ لاکھ مسلمان ہیں، جب کہ تملوں کی تعداد ۳۰ لاکھ ہے۔ان میں سری لنکن‘ انڈین اور مورس تمل شامل ہیں۔۱۹۸۱ء میں مسلمانوں کے ایک دانشور گروپ نے ’سری لنکن مسلم کانگریس‘ قائم کی تھی۔یہ ایک سیاسی پارٹی تھی اور اس کا منشور ہر مکتب فکر کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہر سری لنکائی کی فلاح کے لیے کام کرنا تھا۔اس گروپ نے اکثریتی آبادی ’بودھوں‘ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ ’’۲۱ویں صدی کے سری لنکا کی تعمیر و ترقی میں مسلمان بھی برابر کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں‘‘۔اس کے قائد ایم ایم ایچ اشرف تھے۔ حالانکہ اس جماعت کے قیام سے پہلے بھی کچھ مسلمان سیاست میں متحرک تھے۔ایم اے بکیر مارکر ۱۹۷۷ءسے ۱۹۸۳ء تک پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر رہے۔

مسلمانوں کی ایک اور پارٹی ’مسلم نیشنل الائنس ‘(MNA) قائم ہوئی۔نویں پارلیمنٹ میں دونوں مسلم جماعتوں کا ایک ایک ممبر الیکشن جیت کر پہنچا تھا۔لیکن ’بودو بالا سینا‘ نے مسلسل نفرت بھری مہم چلائی اور مسلمانوں کے لیے سیاسی مہم میں حصہ لینا مشکل ہوگیا۔اس کے باوجود وہاں مسلمان اپنے دین و مذہب پر قائم اور عامل رہے۔ سری لنکا میں سرکاری طور پر دینی مدارس کو ریگولیٹ نہیں کیا جاتا، لیکن وہاں ۲۰۰ سے زائد مدارس کے ساتھ ساتھ ۸۰۰ کے قریب مسلم اسکول بھی قائم تھے۔ اس کے علاوہ بیرووالا میں ایک اسلامک یونی ورسٹی بھی کام کر رہی تھی۔

 ۱۳ مارچ ۲۰۲۱ءکو راجا پاکسا انتظامیہ نے مسلم خواتین کے برقعہ اوڑھنے اور ایک ہزار سے زیادہ مدارس اور اسکولوں پر پابندی کا اعلان کردیا۔ یہی نہیں برقعہ اور مدارس کے خلاف متنازعہ انسداد دہشت گردی قانون (پی ٹی اے) کے استعمال کا بھی اعلان کردیا۔’پی ٹی اے‘ کو حقوق انسانی کی تنظیمیں ایک خوفناک سیاہ قانون قرار دیتی ہیں۔ اتفاق یہ ہے کہ یہ قانون بھی ہندستان کے یواے پی اے کی طرح ہے، جو ملزم کو دوسال تک انصاف طلبی کے حق سے محروم رکھتا ہے۔اس قانون کے تحت پولیس کسی کو بھی مشتبہ بتاکر گرفتار کرکے جیل میں ڈال سکتی ہے۔

نومبر۲۰۱۹ء میں جب گوٹابیا نے الیکشن لڑا تھا، تو ہم وطنوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ’انتہاپسندوں‘ کی جڑ پر حملہ کرکے انھیں مٹادیں گے۔سری لنکا کے بودھوں کو ان کی یہ ادا پسند آئی تھی۔ نہیں معلوم کہ تمل ہندوئوں نے کیا رویہ اختیار کیا، لیکن اپریل ۲۰۱۹ء میں ایسٹر کے موقع پر مبینہ طور پر آئی ایس آئی ایس کی دہشت گردانہ بمباری کے بعد سری لنکا کے مسلمانوں سے نفرت میں قومی سطح پر اضافہ ہوگیا تھا۔

یہ نفرت اس وقت عروج پر پہنچی جب کورونا کے دوران وفات پاجانے والے مسلمانوں کو قبرستان میں یہ کہہ کردفن ہونے نہیں دیا گیا کہ اس سے زیر زمین پانی خراب ہوگا۔ایسی اموات کے لیے ’نذرآتش‘ کرنے کو لازمی قرار دے دیا گیا۔پولیس نے مسلم علاقوں میں ایک خوفناک مہم چلاکر اس امر کو یقینی بنایا کہ کورونا سے مرنے والے مسلمانوں کی لاشیں جلائی جائیں۔حقوق انسانی کے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کے دبائو کے بعد حکومت نے یہ متنازعہ حکم واپس لیا۔

کولمبو سے انڈین ایکسپریس کے صحافی شبھاجیت رائے نے لکھا ہے کہ گوٹابیا اور مہندا مسلسل ’سنہالافخر‘ کی مہم کو آگے بڑھاتے رہے، جس سے بودو بالا سینا کو مسلمانوں کے خلاف تشدد برپا کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی۔ ۲۰۰۹ء میں جس وقت گوٹابیا نے ایل ٹی ٹی ای کے لیڈر وی پربھاکرن کو ہیبت ناک طور پر ہلاک کیا تھا تو دانش علی کی عمر ۱۸سال تھی۔دانش کا کہنا ہے کہ گوٹابیا کو اس وقت ہر سری لنکائی ہیرو مان رہا تھا۔ لیکن میں اور میرے اہل خانہ اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ گوٹابیا ایک نسل پرست ہے، جو اقلیتی مسلمانوں پر اکثریتی سنہالا کو غالب دیکھنا چاہتا ہے۔

دانش علی اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا چلے گئے تھے۔آج ان کی عمر ۳۱ سال ہے اور اس وقت وہ ’ارگلایا‘ مہم کا نمایاں چہرہ ہیں۔دراصل سری لنکا کے عوام کی یہی وہ متحدہ مہم ہے جس نے پاکسا خاندان کو حکومت چھوڑنے پر مجبور کردیا۔گوٹابیا نے اپنے مخالفوں کو ہی نہیں بلکہ نکتہ چینوں تک کو اپنے آہنی ہاتھوں سے خاموش کردیا۔ایسے تمام صحافیوں کو ’سفید وین‘ کے ذریعے اغوا کرکے ٹھکانے لگادیا، جنھوں نے گوٹابیا پر تنقید کرنے کی جرأت کی۔

سفید وین کا واقعہ بہت مشہور ہے۔اس میں سنڈے لیڈر کے ایڈیٹر ’لتھانسا وکرما تنگے‘ کو ۲۰۰۹ء میں ہلاک کردیا گیا تھا۔۲۸ سالہ فائنانسر’سنکاجیا سیکرے‘ کا کہنا ہے کہ گوٹابیا کو اس کے ’اعمال بد‘ نے زمین دوز کردیا۔اس نے کہا کہ یہ المیہ ہی ہے کہ جس لیڈر نے ’سنہالا فخر‘ کے نام پر سری لنکا کے عوام کو آپس میں بانٹ دیا تھا، آج انھی عوام کے اتحاد کے سبب وہ روبہ زوال ہوگیا۔

’گوٹابیا کہانی‘ کا ایک پہلو سری لنکا کی معیشت کا ڈوب جانا بھی ہے۔لوگ ’سنہالافخر‘ کا نشہ کرکے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا کھیل کھیلتے رہے اور گوٹابیا چین اور ہندستان سے قرض در قرض لے کر’سری لنکا کی تعمیر‘ کے نام پر اپنے خاندان کی تجوریاں بھرتے رہے۔جب سری لنکا مختلف منصوبوں میں چین کے قرض تلے دب گیا تو ایک وقت وہ آیا کہ گوٹابیا حکومت نے اپنی سب سے بڑی بندرگاہ اور اس سے ملحق زمین کو چین کو ۹۹سال کی لیز پر دے دیا۔اس کے عوض چین نے اسے ۱ء۱ بلین ڈالر دیئے، جس سے حکومت ملک کی معیشت کو چلارہی تھی۔

گوٹابیا نے قرض لے کرایک ساتھ بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کردیئے، جو کبھی پورے نہ ہوسکے۔ یہاں تک کہ ۱۹۰ملین ڈالر سے تعمیر کردہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ رُوبہ عمل نہ آسکا اور آج وہاں گائوں والے کالی مرچ کی فصل پھیلاکر خشک کرتے ہیں۔سری لنکا کی اس کہانی میں آپ کو کچھ اور دیکھنے اور موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔صرف یہ سمجھنا کافی ہے کہ دنیا بھر میں جو حکمران قوم پرستی کے نام پر اپنے شہریوں کو لڑائیں‘ اپنی خواہشات کے مطابق دیو قامت تعمیرات کرائیں اور جو ملک کی معیشت کی طرف سے بے فکر ہوجائیں، آج نہیں تو کل ان کا انجام گوٹابیا جیسا ہونا ہے۔

معاشرے کے وہی طبقات جنھیں بانٹ کر وہ اپنے اقتدار کو جلا بخشتے ہیں، ایک دن حکمرانوں کے ہی خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجاتے ہیں۔انگریزی ناول The Spire کے مصنف ولیم گولڈنگ نے ۱۹۶۴ءمیں لکھا تھا: ’’خدا کی مرضی کے خلاف جو طاقت ور حکمران اپنی خواہشات کی پیروی کا انتخاب کرتا ہے، اس کا بنایا ہوا سونے کا محل ڈوب جاتا ہے‘‘۔

ذکرِ الٰہی کے مختلف طریقے؟

سوال : حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے اپنے بعض شاگردوں کو دیکھا کہ وہ ذکر کے لیے ایک مقررہ جگہ پر جمع ہوا کرتے ہیں، تو غصے میں فرمایا کہ ’’کیا تم اصحابِ رسولؐ اللہ سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟‘‘ دوسری روایت میں ہے: حضر ت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ’’رسولؐ اللہ کے زمانے میں تو مَیں نے اس طرح کا ذکر نہیں دیکھا، پھر تم لوگ کیوں یہ نیا طریقہ نکال رہے ہو؟‘‘دوسری طرف صحیح البخاری اور مسلم میں ہے کہ ’’فرشتے ذکر ِ الٰہی کی مجالس کو ڈھونڈتے ہیں اور ان میں بیٹھتے ہیں‘‘۔ ان احادیث کی روشنی میں ’حلقۂ ذکر‘ کا بدعت ہونا سمجھ میں نہیں آتا؟

جواب : لفظ ’ذِکر‘ کا اطلاق بہت سی چیزوں پر ہوتا ہے: اس کے ایک معنی ’دل میں اللہ کو یاد کرنے‘، یا ’یاد رکھنے‘ کے ہیں۔ دوسرے معنی ’اُٹھتے بیٹھتے ہرحال میں طرح طرح سے اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں، مثلاً: موقع بہ موقع الحمدللہ، ماشاء اللہ، ان شاء اللہ، سبحان اللہ وغیرہ کہنا۔ بات بات میں کسی نہ کسی طریقے سے اللہ کا نام لینا، رات دن کے مختلف احوال میں اللہ سے دُعا مانگنا، اور اپنی گفتگوئوں میں اللہ کی نعمتوں اور حکمتوں اور اس کی صفات اور اس کے احکام وغیرہ کا ذکر کرنا‘۔ تیسرے معنی ’قرآن مجید اور شریعت ِ الٰہیہ کی تعلیمات بیان کرنے کے ہیں، خواہ وہ درس کی شکل میں ہوں، یا باہم مذاکرہ کی شکل میں، یا وعظ و تقریر کی شکل میں‘۔ چوتھے معنی’تسبیح و تہلیل و تکبیر کے ہیں‘۔

جن احادیث میں ذکر ِ الٰہی کے حلقوں اور مجلسوں پر حضوؐر کے اظہارِ تحسین کا ذکر آیا ہے، اُن سے مراد تیسری قسم کے حلقے ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے جس چیز پر اظہارِ ناراضی کیا ہے، اس سے مراد چوتھی قسم کا حلقہ ہے ، کیونکہ رسول ؐ اللہ کے عہد میں حلقے بنا کر تسبیح و تہلیل کا ذکر جہری کرنا رائج نہ تھا، نہ حضورؐ نے اس کی تعلیم دی، اور نہ صحابہؓ نے یہ طریقہ کبھی اختیار کیا۔ رہا پہلے دو معنوں میں ذکر ِ الٰہی ، تو ظاہر ہے کہ وہ سرے سے حلقے بنا کر ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وہ لازماً انفرادی ذکر ہی ہوسکتا ہے۔ (ترجمان القرآن، مئی ۱۹۶۶ء)

حقیقی توبہ کیسے؟

سوال : اس سے قبل میں مبتلائے کبائر تھا، مگر اس کے بعد توبہ نصوح کرلی ہے اور اب آپ کی تحریک سے متاثر ہوکر اللہ کا شکر ہے کہ ایک ’شعوری مسلمان‘ ہوگیا ہوں۔ لیکن دن رات اپنے اُخروی انجام سے ہراساں رہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آخرت کے بجائے دُنیا ہی میں اپنے کیے کی سزا بھگت لوں، مگر افسوس کہ اسلامی سزا کا قانون رائج نہیں ہے۔ آپ میری مدد کریں اور کوئی مناسب راہ متعین فرمائیں۔

جواب : اللہ تعالیٰ ہر اس گناہ کو بخش دیتا ہے جس پر ایک مومن سچّے دل سے نادم ہو کر تائب ہو اور پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے۔ توبہ کے ساتھ ساتھ اگر آدمی راہِ خدا میں کچھ صدقہ بھی کرے یا اللہ کی راہ میں کوئی قربانی اس نیت سے کرے کہ اللہ اپنی رحمت سے اس کا گناہ معاف فرما دے، تو یہ چیز توبہ کی قبولیت میں اور زیادہ مددگار ہوتی ہے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول فرمائے اور آپ کو استقامت بخشے۔ (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۶۲ء)

لاہور ایک شہر بے مثال-۱، پروفیسر احمد سعید۔ ناشر: شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور۔ کتب فراہمی کے لیے رابطہ :۳۷۲۴۱۳۸۲-۰۴۲۔ صفحات (مجلاتی قالب): ۳۳۳۔ قیمت(مجلد): ۸۰۰ روپے۔

پروفیسر احمد سعید (م: ۱۳جنوری ۲۰۲۱ء) کی شخصیت علم، تحقیق اور پاکستان کے لیے قربان تھی۔ اس مشن کے لیے انھوں نے سماجی زندگی، صحت اور تمام مادی وسائل نچھاور کردیے تھے۔ صلے، شہرت اور اعتراف کی طلب سے بے نیاز سراپے اور اعلیٰ کردار کے ساتھ ’ایک فرد ہی ایک ادارہ‘ کے عنوان سے زندگی گزار دی۔ افسوس کہ بے قدری سے بار بار سابقہ پیش آیا۔ اُردو میں ۳۱ ،اور انگریزی میں ۷کتب کے علاوہ متعدد قیمتی مسودات بطور قومی اثاثہ چھوڑ گئے ہیں۔

زیرنظر کتاب بظاہر ایک شہر کا تذکرہ ہے جو دُنیا کے ہزاروں شہروں میں ایک شہر ہے۔ تاہم، احمد سعید صاحب نے لاہور کی پرانی تاریخ کھوجنے کے بجائے بیسویں صدی کے نصف اوّل کو تہذیبی، علمی، سماجی، سیاسی اور پیشہ ورانہ تاریخ کے سانچے میں رواں دواں انداز میں پیش کیا ہے، جس سے واقعی لاہورشہر مسلم تہذیب کا ایک درخشاں مرکز بن کر دل و نگاہ میں سما جاتا ہے۔ وہ شہر کہ جو برطانوی غلامی میں تڑپ بھی رہا تھا اور آزادی کی تحریک میں اپنا کردار بھی ادا کررہا تھا۔ کتاب کا ہرباب باریک بینی اور معلومات کی مصدقہ پیش کاری کا نمونہ ہے، جس میں زندگی کا جدل اور تہذیب و ثقافت کا ہررنگ اپنے جوبن پر نظر آتا ہے۔ آخری باب (۲۷۵-۳۳۰) میں ادبی حلقوں کا احوال پڑھیں تو شہر کا ثقافتی اور تخلیقی رُوپ روشن ہوجاتا ہے۔

اللہ کرے کہ اس کتاب کا دوسرا حصہ بھی جلد شائع ہو۔ آج کے پیروجواں اس کتاب کا مطالعہ کرکے تاریخ کے ضرب و کرب کی ٹیس محسوس کرسکتے ہیں۔ (س م  خ)


ارمغانِ خالد علوی ، مرتبہ: پروفیسر جمیلہ شوکت، ڈاکٹر شاہدہ پروین۔ ناشر: ادارہ علومِ اسلامیہ، جامعہ پنجاب، لاہور۔ کتاب خریدنے کے لیے رابطہ: ۰۵۱۵۱۰۱-۰۳۰۰۔ صفحات: ۴۲۶۔ قیمت (مجلد): ۹۰۰ روپے۔

 پنجاب یونی ورسٹی کے ادارہ علومِ اسلامیہ نے سابق جیّد اساتذہ کرام کی علمی، تدریسی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف کے لیے، فرداً فرداً منسوب ارمغان شائع کرنے کا قابلِ قدر اہتمام کیا ہے۔ زیرنظر کتاب اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔

پروفیسر خالد علوی (نومبر ۱۹۴۰ء، خوشاب- ۱۸نومبر ۲۰۰۸، لاہور) ایک ہردل عزیز استاد، خوش گوار رفیق،پُرعزم رہنما، اَن تھک محقق، راست رو مصنف اور جرأت مند خطیب تھے۔ اندرونِ پاکستان اور برطانیہ میں ان سے فیض یافتگان کا ایک وسیع حلقہ موجود ہے۔

زیرنظر کتاب، جناب خالد علوی کی حیات و خدمات سے منسوب ۱۶مضامین اور علمی حوالے سے گیارہ موضوعات پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں پروفیسر ڈاکٹر سفیراختر کے دونوں مشمولات نہایت مؤثر ہیں۔ انھوں نے ایک مضمون ’علوی صاحب کے علمی وفکری کارنامے‘ کے بارے میں بڑے نپے تلے انداز میں لکھا ہے، اور دوسری چیز ،علوی صاحب کے ایک علمی مکالمے کا شُستہ اور رواں اُردو ترجمہ ہے۔ اسی طرح ملک محمد حسین اور ڈاکٹر سیّد عزیز الرحمٰن ، ڈاکٹر خالد ظفراللہ اور دیگر احباب نے یادوں کا معطر گلدستہ سجایا ہے۔ کتاب کا دوسرا حصہ مقالات پر مشتمل ہے، جن میں علمی اور روایتی دونوں طرح کے رشحات موجود ہیں۔

ارمغان میں، پروفیسر موصوف کے مقالات اور مطبوعات کی ممکن حد تک مکمل فہرست شامل ہوتی تو ایک قیمتی اضافہ ہوتا۔ دوسرے یہ کہ خدمات پرلکھے گئے مضامین میں ان کی کتابوں کے تعارف کی تکرار کھٹکتی ہے۔ اسی طرح یادداشتی مضامین اورمقالات کو تدوین و ترتیب کی مزید ضرورت تھی۔ بلاشبہہ مرتبین نے خدمت انجام دے کر اس یادگارکو پیش کیا۔ (س م خ)


سربکف، سربلند، حافظ محمد ادریس۔ ناشر: قلم فائونڈیشن، یثرب کالونی، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔ فون:۰۵۱۵۱۰۱- ۰۳۰۰۔ صفحات: ۱۹۱۔ قیمت: درج نہیں۔

حافظ محمد ادریس ایک ہشت پہلو شخصیت ہیں: خطیب، ادیب، مؤرخ، مترجم ،خاکہ نویس، افسانہ نویس، لیڈر اور منتظم۔ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ۲۰۰۳ء میں شائع ہوا تھا، جس پر پروفیسر آسی ضیائی صاحب نے لکھا تھا کہ اس مجموعے کے تحریکی اور نصب العینی نقطۂ نظر رکھنے والے یہ سب افسانے اپنے پلاٹ اور اندازِ بیان کے اعتبار سے فن افسانہ نگاری کے معیار پر پورے اُترتے ہیں۔

مصنف نے لکھا ہے کہ ان افسانوں میں جتنے بھی کردار آپ کو نظر آئیں گے وہ کسی نہ کسی پہلو سے جدوجہد کررہے ہیں۔ کوئی مقصد حاصل کرنا ان کے پیش نظر ہے، اس کے لیے جو بھی وسائل ان کو میسر ہیں، انھیں استعمال کرتے ہیں۔ کٹھن اور مشکل حالات میں بھی اپنے مقصد کی لگن سینے میں سجائے منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر افسانے اور دیگر تحریریں دلچسپ اور قابلِ مطالعہ ہیں۔ طباعت و اشاعت معیاری ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


ارقم (کشمیر نمبر) شمارہ نمبر۶، مدیراعلیٰ: ڈاکٹر ظفرحسین ظفر۔ ناشر: بزمِ ارقم، القدس بلڈنگ، کچہری روڈ، راولاکوٹ۔ فون: ۵۱۸۷۶۸۶-۰۳۰۱۔ صفحات: ۶۱۶۔ قیمت:۱۲۰۰ روپے۔

رسالہ ارقم   کی نوعیت علمی، ادبی اور تعلیمی ہے۔ زیرنظر خاص نمبر نہایت خوب صورت اور دیدہ زیب ہے۔ صرف صوری اعتبار سے خوب صورت نہیں، بلکہ معنوی اعتبار سے بھی فکرانگیز اور معلومات افزا مضامین پر مشتمل ہے۔ کشمیر کی تاریخ، تحریک آزادی جموں و کشمیر، کشمیر میں زبان و ادب کا ارتقا، کشمیر میں سیاحت اورثقافت کا تذکرہ، چند اہم مکاتیب اور کتابوں پر تعارف ۲۱۲ صفحات میں سمو دیا گیا ہے۔ کشمیر پر یہ قیمتی دستاویز اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ ہم کشمیر ، اہلِ کشمیر کو بھولتے جارہے ہیں۔ یہ نمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ارقم کی تدوین کے لیے ڈاکٹر ظفر حسین ظفر اور ڈاکٹر فیاض نقی شکریے کے مستحق ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)

رزق کی کمی و بیشی، اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ اس کی رضا سے۔ مشیت ِ الٰہی کے تحت اچھے اور بُرے، ہرطرح کے انسانوں کو رزق مل رہا ہے۔ خدا کا اقرار کرنے والے بھی رزق پارہے ہیں اور اس کا انکار کرنے والے بھی۔ نہ رزق کی فراوانی اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی خدا کا پسندیدہ بندہ ہے، اور نہ اس کی تنگی اس امر کی علامت ہے کہ آدمی اُس کا مغضوب ہے۔ مشیت کے تحت ایک ظالم اور بے ایمان آدمی پھلتا پھولتا ہے، حالانکہ ظلم اور بے ایمانی خدا کو پسند نہیں ہے۔ اور اس کے برعکس مشیت ہی کے تحت ایک سچا اور ایمان دار آدمی نقصان اُٹھاتا اور تکلیفیں سہتا ہے، حالانکہ یہ صفات خدا کو پسند ہیں۔

لہٰذا، وہ شخص سخت گمراہ ہے جو مادّی فوائد و منافع کو خیروشر کا پیمانہ قرار دیتا ہے۔ اصل چیز خدا کی رضا ہے اور وہ ان اخلاقی اوصاف سے حاصل ہوتی ہے جو خدا کو محبوب ہیں۔ ان اوصاف کے ساتھ اگر کسی کو دُنیا کی نعمتیں حاصل ہوں تو یہ بلاشبہہ خدا کا فضل ہے جس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن اگر ایک شخص اخلاقی اوصاف کے لحاظ سے خدا کا باغی و نافرمان بندہ ہو، اور اس کے ساتھ دُنیا کی نعمتوں سے نوازا جارہا ہو، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سخت بازپُرس اور بدترین عذاب کے لیے تیار ہورہا ہے۔

رازق، صانع، مُوجد، مُعطی اور ایسی ہی دوسری بہت سی صفات ہیں، جو اصل میں تو اللہ تعالیٰ  ہی کی صفات ہیں، مگر مجازاً بندوں کی طرف بھی منسوب ہوجاتی ہیں۔ مثلاً ہم ایک شخص کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے فلاں شخص کے روزگار کا بندوبست کر دیا، یا اس نے یہ عطیہ دیا، اس نے فلاں چیز بنائی یا ایجاد کی۔ اسی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ’خیرالرازقین‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یعنی جن جن کے تم گمان رکھتے ہو کہ وہ روزی دینے والے ہیں، اُن سب سے بہتر روزی دینے والا اللہ ہے۔(تفہیم القرآن، سورئہ سبا،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۸، عدد۶، ستمبر ۱۹۶۲ء، ص ۲۵)