اعمال کے مختلف درجات ہیں۔ ان کے اعتبار سے ان پر حاصل ہونے والے اجروثواب یا سزا و عذاب کے درجات بھی مختلف ہیں۔ کسی نیک عمل پر بڑے اجروثواب کا وعدہ کیا گیا ہے تو کسی پر اس سے کم تر اجروثواب کا۔اسی طرح کسی گناہ کے کام پر دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے تو کسی پر اس سے کم تر عذاب کی۔ لیکن یہ بڑی نادانی کی بات ہوگی کہ کم تر اجروثواب والے عمل کو معمولی اور حقیر سمجھ کر اس پر توجہ نہ دی جائے اور معمولی گناہ کو ہلکا سمجھ کر اس سے بچنے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو عمل بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت حاصل کرلے ، وہ انسان کو روزِ قیامت سرخ رو کرسکتا ہے، خواہ وہ عام لوگوں کی نظر میں کتنا ہی معمولی اور حقیر کیوں نہ ہو۔ اور جو عمل بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہو، وہ انسان کے لیے موجب ِ ہلاکت ہوسکتا ہے خواہ وہ عام لوگوں کی نظر میں کتنا ہی معمولی اور ہلکا کیوں نہ ہو۔ احادیث میں اس پہلو پر بہت زور دیا گیا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر صحابہ کرامؓ کو بہ تاکید نصیحت فرمائی ہے کہ وہ کسی چھوٹے سے چھوٹے نیک عمل کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔
آپؐ نے فرمایا: لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا (مسلم، ترمذی، سنن ابی داؤد، مسنداحمد) ’’اچھے کاموں میں سے کسی کام کو ہرگز معمولی نہ سمجھو‘‘۔
عربی زبان میں یہ اسلوب اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کسی چیز سے سختی سے روکنا مقصود ہو۔ اس اسلوب میں جو زور پایا جاتا ہے ، اسے زبان شناس بخوبی محسوس کرسکتے ہیں۔
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ بطریق اجمال اس طرف توجہ دلائی بلکہ اپنے ارشادات میں ایسے متعدد کاموں کا تذکرہ کیا جنھیں عام طور سے بہت معمولی سمجھا جاتا ہے اور زور دے کر فرمایا کہ انھیں ہرگز معمولی نہ سمجھنا چاہیے۔
لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَلَوْ اَنْ تَلْقٰی أخَاکَ بَوَجْہٍ طَلِقٍ (مسلم) اچھے کاموں میں سے کسی کام کو ہرگز معمولی نہ سمجھو، خواہ یہ تمھارا اپنے بھائی سے خندہ روئی کے ساتھ ملنا ہو۔
کسی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا بظاہر ایک بہت معمولی عمل ہے۔ بسااوقات ہم میں سے کسی کی بھی توجہ اس طرف نہیں جاتی۔ لیکن عملی زندگی میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ اس کا احساس ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی سے گفتگو کرنا یا اس سے کچھ دریافت کرنا چاہیں اور وہ ہماری طرف التفات نہ کرے یا ترش روئی کے ساتھ جواب دے۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر بات کرنے والا یا کچھ دریافت کرنے والا سماجی اعتبار سے کم مرتبے کا ہے تو جواب دینے والا اس کی طرف اس طرح متوجہ نہیں ہوتا جس طرح ہونا چاہیے اور اس کے چہرے پر وہ انبساط نہیں آتا جو مطلوب ہے۔ ایک مومن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اپنے کسی بھائی سے اس حال میں ملے کہ اس کے چہرے پر تکبر اور رعونت کے آثار ہوں یا وہ بالکل سپاٹ اور انبساط، محبت اور اپنائیت کے احساسات سے عاری ہو۔
حضرت ابوجری جابر بن سُلیم الھجیمیؓ بصرہ کے رہنے والے تھے۔ ایک وفد کے ساتھ آں حضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! ہم دیہات کے رہنے والے ہیں۔ ہمیں کچھ کارآمد باتوں کی نصیحت فرمایئے۔ آپؐ نے فرمایا:
لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَلَو اَنْ تَفْرَغَ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ اِنَاءِ الْمُسْتَسْقِیْ ، وَلَوْ اَنْ تَکَلَّم اَخَاکَ وَوَجْھُکَ اِلَیْہِ مُنْبَسِطٌ (مسنداحمد، ۵؍۶۳) اچھے کاموں میں سے کسی کام کو ہرگز معمولی نہ سمجھو، خواہ یہ تمھارے اپنے ڈول سے کسی پیاسے کے برتن میں پانی انڈیلنا ہو، یا تمھارا اپنے بھائی سے خندہ روئی کے ساتھ گفتگو کرنا ہو۔
دوسری روایت میں ابتدائی الفاظ یہ ہیں: لَا تَزْھَدَنَّ فِی الْمَعْرُوْفِ (یعنی کوئی نیک کام کرنے میں بخل سے کام نہ لو)۔
اسے معمولی سمجھ کر چھوڑ نہ دو۔ اس حدیث میں آپؐ نے خندہ روئی سے ملنے کے علاوہ ایک دوسری مثال بھی دی ہے۔ کسی پیاسے کو پانی پلا دینا بظاہر بہت معمولی کام ہے۔ لیکن آپؐ نے تاکید فرمائی کہ اسے بھی انجام دینا چاہیے اور اس پر اجروثواب کی امید رکھنی چاہیے۔ اسے ہرگز معمولی نہ سمجھنا چاہیے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی ہمدردی میں اور محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی میں کیا جانے والا یہ معمولی عمل بھی انسان کو جنت کا مستحق بنا سکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ آں حضرتؐ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک کتے کو شدید پیاسا دیکھ کر ایک عورت کو ترس آیا اور اس نے اسے پانی پلا دیا۔ وہ عورت بدکار تھی۔ اللہ تعالیٰ نے (اس عمل کی وجہ سے) اس کی مغفرت کردی۔(بخاری، کتاب الانبیاء، ترجمہ مسنداحمد، ۲؍۵۰۷)
جب حیوانات کے ساتھ ہمدردی کرنے اور انھیں پانی پلانے کا یہ اجر ہے تو انسانوں کی پیاس بجھانے کا کتنا بڑا اجر ہوگا؟
ہجیمی صحابی ہی سے مروی دوسری روایت میں کسی قدر تفصیل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھے کاموں کے بارے میں دریافت کیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا:
لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا ، وَلَوْ اَنْ تُعْطِیَ صِلَۃَ الْحَبْلِ ، وَلَوْ اَنْ تُعْطِیَ شِسْعَ النَّعْلِ ، وَلَوْ اَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ اِنَاءِ الْمُسْتَسْقِیْ ، وَلَوْ اَنْ تُنَحِّیَ الشَّیْءَ مِنْ طَرِیْقِ النَّاسِ یُؤُ؎ذِیْھِمْ ، وَلَوْ اَنْ تَلْقَی اَخَاکَ وَوَجْھُکَ اِلَیْہِ مُنْطَلِقٌ ، وَلَوْ اَنْ تَلْقَی أَخَاکَ فَتَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، وَلَوْ اَنْ تُؤْنِسَ الْوَحْشَانَ فِیْ الْاَرْضِ
(مسند احمد ؍۴۸۳) اچھے کاموں میں سے کسی کام کو معمولی نہ سمجھو خواہ یہ کام ہوں: کوئی چیز باندھنے کے لیے رسّی دینا، جوتے کا تسمہ دینا ، اپنے برتن سے پانی کسی پیاسے کے برتن میں انڈیلنا، راستے سے لوگوں کو تکلیف پہنچانے والی کوئی چیز ہٹادینا، اپنے بھائی سے خندہ روئی سے ملنا، ملاقات کے وقت اپنے بھائی کو سلام کرنا، بدکنے والے جانوروں کو مانوس کرنا۔
حدیث ِ بالا میں جن کاموں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ دیکھنے میں بہت معمولی ہیں۔ روزمرہ کی ضرورت کی چیز کسی کو دینا، کسی پیاسے کو پانی پلانا، کسی تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا، خوش روئی کے ساتھ کسی سے گفتگو کرنا اور اس طرح کے دیگر کام یوں تو بہت معمولی نوعیت کے ہیں۔ اتنے معمولی کہ بسااوقات ان کی طرف ذہن بھی نہیں جاتا۔ لیکن سماجی اور اخلاقی حیثیت سے ان کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ اس لیے انھیں نظرانداز کرنا اور خاطر میں نہ لانا درست رویہ نہیں ہے۔
سادگی سے دعوت اور معمولی تحفے کو حقیر جاننا :عموماً کسی کو دعوت اس موقعے پر دی جاتی ہے یا کسی کو کھانا اس وقت کھلایا جاتا ہے جب گھر میں معیاری اور اچھے کھانے کا اہتمام ہو، ورنہ ایسا نہیں کیا جاتا۔ اس لیے کہ کھانے کے معیار کو کھلانے والے کی سماجی حیثیت سے جوڑا جاتا ہے۔ آدمی کسی کو گھر کا عام معیار کا کھانا کھلانے میں اپنی سبکی محسوس کرتا ہے۔ اسے اندیشہ ہوتا ہے کہ کھانے والے اس کے بارے میں پتا نہیں کیا کیا باتیں بنائیں اور کیسے کیسے تبصرے کریں؟ اسی طرح جس کو دعوت دی جاتی ہے وہ بھی کھانے کے معیار کو دعوت دینے والے سے اپنے تعلق کا پیمانہ بناتا ہے۔ دعوت کا زبردست اہتمام اس کے نزدیک قربت اور تعلقِ خاطر پر دلالت کرتا ہے اور اس کا عدم اہتمام تعلقات میں سردمہری کا پتا دیتا ہے۔ یہی معاملہ تحفے کے لین دین کا بھی ہے۔ تحفہ دینے والے اور تحفہ لینے والے، دونوں کی نظر اس کے معیار اور مالیت پر ہوتی ہے۔ قیمتی تحفے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور معمولی اور کم قیمت تحفے کو کوئی حیثیت نہیں دی جاتی۔ اللہ کے رسولؐ نے اس رجحان پر تنقید فرمائی ہے اور یہ تعلیم دی ہے کہ اصل اہمیت دعوت یا تحفے کو دینی چاہیے نہ کہ اس کے معیار کو۔ اس لیے کہ ایک دوسرے کو دعوت دینے سے تعلقِ خاطر میں اضافہ ہوتا ہے اور تحائف کا تبادلہ کرنے سے باہم محبت بڑھتی ہے۔ صحابیِ رسولؐ حضرت جابرؓ کی خدمت میں کچھ دوسرے صحابہ ملنے آئے۔ اس وقت ان کے گھر میں صرف روٹی اور سرکہ موجود تھا۔ انھوں نے وہی ان کے سامنے پیش کردیا اور کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
نِعْمَ الْاِدَامُ اَلْخَلُّ، اِنَّہٗ ھَلَاکٌ بِالرَّجُلِ اَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہِ النَّفَرُ مِنْ اِخْوَانِہٖ فَیَحْتَقِرَ مَا فِی بَیْتِہٖ اَنْ یُقَدِّمَہٗ اِلَیْھِمْ ، وَھَلَاکٌ بِالْقَوْمِ اَنْ یَحْتَقِرُوْا مَا قُدِّمَ اِلَیْھِمْ (مسنداحمد، ۳؍۳۷۱) بہترین سالن سرکہ ہے۔ اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس کے پاس اس کے کچھ بھائی آئیں تو اس وقت اس کے گھر میں جو کچھ کھانے کو موجود ہو، اسے ان کے سامنے پیش کرنے میں شرمائے اور ان لوگوں کے لیے بھی ہلاکت ہے جو اس معمولی کھانے کو، جو ان کے سامنے پیش کیا جائے، حقارت سے دیکھیں۔
ایک دوسری حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لَو دُعِیْتُ اِلٰی ذِ رَاعٍ اَوْ کُرَاعٍ لَأَجَبْتُ ، وَلَوْ أُھدِیَ اِلیَّ ذِراعٌ اَوْ کُرَاعٌ لَقَبِلْتُ (بخاری) اگر مجھے کھانے کی دعوت دی جائے تو میں قبول کرلوں گا خواہ کھانے میں دست ہو یا پائے۔ اور اگر مجھے تحفہ دیا جائے تو قبول کرلوں گا خواہ تحفہ میں دست ہو یا پائے۔
شاید عورتوں میں یہ جذبہ دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ پایا جاتا ہے۔ وہ کسی کو کھانا کھلانا یا کسی کے یہاں کھانے کی کوئی چیز بھیجنا اس وقت پسند کرتی ہیں جب ان کے یہاں اہتمام ہو۔ دوسری صورت میں انھیں اپنی حیثیت مجروح ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے یہاں پڑوس سے کھانے کی کوئی معمولی چیز آگئی تو وہ اسے پسند نہیں کرتیں اور اس میں اپنی تحقیر محسوس کرتی ہیں۔ اسی لیے اللہ کے رسولؐ نے خاص طور سے عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کتنی ہی معمولی چیز کیوں نہ ہو، نہ اسے رشتے داروں اور پڑوسیوں کے یہاں بھیجنے میں شرمانا چاہیے اور نہ جس کے یہاں وہ بھیجی گئی ہو، اسے اس کو حقارت کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
یَانِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ! لَا تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِھَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ (مسلم) اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو حقارت سے نہ دیکھے خواہ تحفہ میں بھیجی جانے والی چیز بکری کا کھُر ہو۔
اسی مضمون کی ایک حدیث عمرو بن معاذ الاشہلی کی دادی (حضرت حواء بنت یزید بن سنان الانصاریہؓ) کے واسطے سے مروی ہے جس میں ’محرق‘ کا اضافہ ہے (مسنداحمد، ۶؍۴۳۵)، یعنی اگر کوئی بکری کا جلا ہوا کھُر بھی دے تو اسے حقیر نہ سمجھو۔
اِیَّاکُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ فِاِنَّھُنَّ یَجْتَمِعْنَ عَلَی الرَّجُلِ حَتّٰی یُھْلِکْنَہٗ (مسنداحمد، ۱؍۴۰۲-۴۰۳) معمولی گناہوں سے بچو، اس لیے کہ وہ اکٹھا ہوکر انسان کے لیے موجب ہلاکت بن سکتے ہیں۔
اسی بات کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تمثیل کے ذریعے سمجھایا ہے کہ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کچھ لوگ ایک بیابان میں ٹھیرے۔ وہاں انھیں کھانا پکانے کے لیے ایندھن کی ضرورت پڑی۔ تمام لوگ منتشر ہوگئے اور ایک ایک آدمی ایک ایک لکڑی لے آیا۔ اس طرح انھوں نے ڈھیر سا ایندھن اکٹھا کرلیا اور اس کے ذریعے کھانا تیار کرلیا۔ اسی طرح کہنے کو تو ایک بہت معمولی سا گناہ ہوتا ہے لیکن ایک ایک کرکے انسان بہت سے گناہوں میں لت پت ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہلاکت اور خسران اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ (مسنداحمد، ۱؍۴۰۲- ۴۰۳، ۵؍۳۳۱)
دنیا کی کوئی معمولی سے معمولی چیز بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ انسان جو کچھ یہاں کرتا ہے ، سب اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہے اور اس کے مقرر کردہ فرشتے اسے نوٹ کرتے رہتے ہیں:
وَّ لَاتَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا کُنَّا عَلَیْکُمْ شُھُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ط وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآئِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَ لَآ اَکْبَرَ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ o (یونس۱۰: ۶۱) اور لوگو، تم بھی جو کچھ کرتے ہو، اس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے رب کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو۔( مزید دیکھیے، السبا۳۴ :۳)
قیامت کے دن بارگاہِ الٰہی میں انسان کا نامۂ اعمال اس کے سامنے پیش کیا جائے گا تو وہ دیکھے گا کہ اس کا معمولی سے معمولی عمل بھی خواہ وہ نیکی کا ہو یا گناہ کا، اس میں درج ہوگا اور اس کے مطابق اس کے ساتھ برتائو کیا جائے گا:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ o وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ o (الزلزال ۹۹:۷-۸) پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا۔
اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کو معمولی معمولی گناہوں سے بھی بچنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے اور انھیں ہوشیار کرتے تھے کہ بارگاہِ الٰہی میں ان کا بھی حساب دینا ہوگا۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
یَاعَائِشَۃُ! اِیَّاکِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ ، فَاِنَّ لَھَا مِنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ طَالِبًا (مسنداحمد ، ۶؍۷۰، سنن ابن ماجہ) اے عائشہ! معمولی گناہوں سے بچو، اس لیے کہ اللہ کے یہاں ان کا بھی حساب ہوگا۔
مسند احمد کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کو برابر اس کی تاکید فرماتے رہتے تھے۔
شیطان انسانوں کو بہکانے کے لیے اسی چور دروازے کا سہارا لیتا ہے۔ وہ ان کے سامنے بظاہر معمولی گناہوں کو ہلکا کرکے پیش کرتا ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ ان سے بچنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اچھے اچھے لوگ آسانی سے اس کے اس بہکاوے میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعے پر اپنی اُمت کو جہاں بہت سی چیزوں کی تعلیم دی تھی اور بہت سے معاملات میں انھیں متنبہ کیا تھا، وہاں آپؐ نے اس پہلو سے بھی ان کی رہنمائی فرمائی اور شیطان کے اس ہتھکنڈے سے انھیں ہوشیار کیا تھا۔ حضرت عمرو بن الاحوصؓ سے روایت ہے کہ آں حضرتؐ نے ارشاد فرمایا:
اَ لَا وَ اِنَّ الشَّیْطٰنَ قَدْ أَیِسَ اَنْ یُعْبَدَ فِیْ بِلَادِکُمْ ھٰذِہٖ اَبَدًا ، وَلٰکِنْ سَتَکُوْنُ لَہٗ طَاعَۃٌ فِیْمَا تَحْتَقِرُوْنَ مِنْ اَعْمَالِکُمْ فَسَیَرْضٰی بِہٖ (ترمذی، ابواب الفتن، باب ماجاء فی تحریم الدماء والاموال، مسند احمد ،۲؍۳۶۸) خبردار! شیطان اس سے تو مایوس ہوچکا ہے کہ تمھارے اس علاقے میں اس کی پرستش کی جائے گی لیکن اس کا اندیشہ ہے کہ جن کاموں کو تم بہت معمولی سمجھتے ہو، ان میں اس کی اطاعت کرو گے اور وہ اسی سے خوش رہے گا۔
علما نے لکھا ہے کہ صغیرہ گناہ اگر کثرت سے اور بار بار کیے جائیں تو وہ کبیرہ گناہ بن جاتے ہیں۔ محدث ابن بطال فرماتے ہیں:
اَلْمُحَقَّـــرَاتُ اِذَا کَثُرَتْ صَارَتْ کِبَارًا مَعَ الْاِصْرَارِ (فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، دارالمعرفۃ، بیروت،۱۱؍۳۳۰ ) یعنی معمولی گناہ جب بہت زیادہ ہوجائیں اور انھیں بار بار کیا جائے تو وہ کبیرہ گناہ بن جاتے ہیں۔
حضرات صحابہ کرامؓ اس معاملے میں بہت زیادہ محتاط رہتے تھے۔ وہ جتنی اہمیت کبیرہ گناہوں کو دیتے تھے اور ان سے بچنے کی کوشش کرتے تھے اتنی ہی اہمیت صغیرہ گناہوں کو دیتے تھے اور انھیں بھی موجب ِ ہلاکت و خسران تصور کرتے تھے اور شعوری طور پر ان سے بچنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ نے اپنے شاگردوں میں جب اس معاملے میں تساہل دیکھا تو انھیں ٹوکتے ہوئے فرمایا:
اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالًا ھِیَ اَدَقُّ فِیْ أَعْیُنِکُمْ مِنَ الشَّعْرِ ، اِنْ کُنَّا نَعُدُّھَا عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ مِنَ الْمُوْبِقَاتِ (بخاری) تم لوگ ایسے کام کرتے ہو جو تمھاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک ہیں (یعنی تم انھیں بہت معمولی سمجھتے ہو) لیکن ہم نبیؐ کے عہد میں انھیں موجب ِ ہلاکت تصور کرتے تھے۔
کامیاب انسان وہ ہے جو گناہوں کو صغیرہ اور کبیرہ کے خانوں میں تقسیم کر کے صغیرہ گناہوں کے معاملے میں ڈھیل نہ اختیار کرے بلکہ گناہ کے ہرکام سے بچنے کی کوشش کرے، چاہے وہ بڑے سے بڑا گناہ ہو یا چھوٹے سے چھوٹا۔ اور نیکی کے ہرکام کی طرف لپکے، چاہے وہ بڑے سے بڑا کام ہو یا معمولی سے معمولی کام۔
'’الفاوومن‘ اور’ سپر وومن‘ جیسے افسانوی اور فلمی کردار، پیسہ بٹورنے کی خاطر پاپولر فیمنزم، کارپوریٹ کلچر اور فیشن انڈسٹری میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کا آلۂ کار بننے والی خواتین، دولت اور شہرت تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن اپنی حیثیت، فطرت اور نسوانی شناخت کھو دیتی ہیں۔
’ الفا‘ جانوروں کو عام طور پر کھانے پینے اور دیگر مطلوبہ اشیا و سرگرمیوں تک ترجیحی بنیاد پر رسائی حاصل ہوتی ہے۔ جانوروں کی کچھ انواع میں ’الفا‘ حیثیت مستقل نہیں ہوتی بلکہ 'جو جیتا وہی اسکندر کے مصداق، مستقل طور پر جاری لڑائیوں میں غالب آنے والے کو ہی یہ عہدہ ملتا ہے۔ وہ طاقت ور جانور جو ان لڑائیوں کے آغا ز میں ہی اپنے سے زیادہ قوی جانور کی الفا حیثیت تسلیم کرلیتے ہیں انھیں دوسری پوزیشن (سیکنڈ ان کمانڈ، وزیر) مل جاتی ہے۔ جنھیں حیوانی معاشروںمیں نچلی ذات کے ’بیٹا جانور‘ (Beta)کا نام دیا جاتا ہے۔
اس لیے ’ 'الفاوومن‘ کا اصل وجود حقیقی زندگی میں نہیں بلکہ قصے، کہانیوں میں نظر آتا ہے۔ افسانوی نثر میں دکھایا جاتا ہے کہ الفا خواتین کی زندگی کا اصل محور 'کامیابی کا حصول ہےاور باقی سب چیزیں ثانوی ہیں۔ وہ رشتوں کا جنوں نہیں پالتیں، ہر چیز پر غالب رہنا چاہتی ہیں۔ کہانیوں میں ’الفاگرل‘ کا '’الفامین‘ کے ساتھ رشک، حسد اور مقابلہ تو دکھایا جاتا ہے، لیکن ان کی آپس میں شادی نہیں دکھائی جاتی۔ ناول نگار فے ویلڈن (Fay Weldon) الفا فیمیل کو کارپوریشن چلاتے ہوئے دکھاتی ہے، مگر گھر یلو دائرہ جہاں وہ ’سپرمین‘ سے مختلف نظر آسکتی ہے، وہ اس کو بالکل نظرانداز کردیتی ہے۔
ناول، افسانے اور فلم میں ’الفا وومن‘ اور '’سپر وومن‘ دو الگ کردار ہیں۔ ’سپروومن‘ کردار کی عورت ہر کام کرتی ہے۔ وہ اچھی بیوی ہونےاوراچھی کمائی کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سرانجام دیتی ہے۔ لیکن ’الفا وومن‘ کا گھریلو کاموں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ ان کاموں کے لیے کسی اور کوملازم رکھتی ہے۔ اسے شادی شدہ عورت کے رُوپ میں نہیں دکھایا جاتا، لیکن وہ شادی کی خواہش ضرور رکھتی ہے۔ وہ الفا مردوں کو حقارت سے دیکھتی ہے اور وہ اس سے گھبراتے بھی ہیں۔ اس لیے تنہائی اس کا مقدر ہوتی ہے (ہو سکتا ہے یہ کردار عورت کو تنہا کرنے کے لیے ہی تخلیق کیا گیا ہو؟)۔
’الفا عورت‘ کا کردار شاید ہاتھیوں کی زندگی سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ہو؟ ہاتھیوں کے جنگلی معاشرے کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ہر معاملے میں ہتھنی کا کردار غالب نظر آتا ہے۔ لیکن فیمنسٹ ڈسکورس میں جس طرح افلاطونی ’مدرسری نظام‘ دکھایا جاتا ہے۔ اس کا ہاتھیوں کے معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے، ہاتھیوں کے معاشرے کی قیادت بزرگ ہتھنی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ ایک بہت ہی مضبوط مادہ ہوتی ہے، جسے ’دانش مند اور مہربان‘ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کمال یہ ہے کہ وہ اپنے غول کے ارکان کو مضبوطی سے جوڑ کر رکھتی ہے اور نر ہاتھیوں کا بھی اتنا ہی خیال رکھتی ہے، جتنا مادہ ہاتھیوں کا۔ و ہ اپنی قیادت اور طاقت سے دھونس نہیں جماتی اور نہ لطف اُٹھاتی ہے بلکہ اس میں سب کو شریک کرتی ہے اور اپنےہاتھی معاشرے کے فروغ کے لیے اَن تھک محنت کرتی ہے۔ وہ قدرت کی طرف سے عطا کردہ اپنی جسمانی قوت کو مثبت مقاصد کے لیے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ استعمال کرتی ہے۔ ماہرین حیوانات کے مطابق بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے، وہ ہر وقت سب سے جڑی ہوتی ہے۔ وہ فیمنزم کے ’الفا گرل‘ ماڈل کی طرح نہیں ہوتی کہ شادی اور بچوں سے دُور بھاگے، بلکہ اس کےلیے اس اہم عہدے پر برقرار رہنے کے لیے زچگی کے عمل سے گزرنالازمی شرط ہے۔ وہ زچگی پر نہ کوئی سمجھوتہ کرتی ہے اور نہ اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہاتھیوں کے معاشرے کا کوئی بھی رکن اس پر تصنع، غیر فطری عمل، جعل سازی یا مقابلہ کرنے کا الزام نہیں لگاتا۔ تمام نر ہاتھی اسے دل و جان سے چاہتے اور اس کا بہت احترام کرتے ہیں۔
الفا عورت، فیمنزم اور فیشن انڈسٹری میں
’الفاگرل‘ماڈل کوفیشن انڈسٹری اورپاپولر فیمنزم کے بے ہودہ جنسی نعروں کے ذریعے پروموٹ کرنےکا تجزیہ کرتے ہوئے پروفیسر سارہ بنیٹ ویزرنے لکھا ہے: ’’ہم کسی آئیڈیالوجی کو لطیفوں، چٹکلوں اور نعروں کی شکل میں مقبول عام بنا دیتے ہیں تو وہ سننے یا دیکھنے والے کو وقتی طور پر تو راغب کرتے ہیں، لیکن پھر فوراً اس کے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ سب کچھ پیسے بٹورنے کا دھندہ تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کا تبدیلی کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا‘‘۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ یوٹیوب کی ایک سیریز Girls Who Code کی ایک ڈاکومینٹری GTFO کی مثال دیتی ہیں جس میں ایک لڑکی، مردوں کا مذاق اڑاتے ہوئے، انھیں پاگل قرار دیتی اور متعدد تضحیک آمیز اور فحش جملے کہتی ہے۔
پروفیسر سارہ مزید کہتی ہیں: ’’پاپولر فیمنزم اور فیشن انڈسٹری کے گٹھ جوڑ میں عورتوں کو آلۂ کار کے طور پر استعمال کرنا، جہاں خواتین کی بے توقیری ہے وہاں یہ انسانیت اور تہذیبی اقدار کے بھی خلاف ہے‘‘۔
ثقافتی ماہرین کے مطابق برطانیہ میں مردوں کا عورتوں کا رُوپ دھارنا اور عورتوں کا مردانہ خصوصیات اور اقدار کی نمایش کرنا عام بات ہے۔ لیکن اس کے باوجود برطانوی معاشرے میں ’الفا خاتون‘ کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ ملکہ الزبتھ اول ایک زبردست رہنما، بہت قابل اور اسٹائلش خاتون تھیں، لیکن انھیں مرد رہنمائوں جیسا نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے ان پر ’الفا خاتون‘ کا لیبل لگانا درست بات نہیں اور یہی معاملہ موجودہ ملکہ الزبتھ کا ہے۔
نیکولا ہارلک (Nicola Horlick) برطانیہ میں اعلیٰ مالیاتی حیثیت اور سیاسی مقام و مرتبے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں میڈیا نے انھیں '’سپر خاتون‘ کا خطاب دیا۔ پچھلے سال، ایک روز اپنے گھر سے باہر نکلی ہی تھیں کہ ایک ڈاکو نے انھیں لوٹنے کی غرض سے گھیر لیا۔ ہارلک کے پاس حفاظت کے لیے ذاتی پستول موجود تھا،لیکن گھبراہٹ میں وہ اسے استعمال نہ کر پائیں اورڈاکو نے ان کے سر پر چوٹ ماردی۔ ضرب کھانے کے باوجود انھوں نے ہمت نہ ہاری اورڈاکو کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے ہارلک نے کہا: کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ 'میڈیا مجھے ’سپر خاتون‘ کہتا ہے، لیکن میں اپنے چھے بچوں کو سنبھالنے سے قاصر ہوں، اس کے لیے مجھے دوسروں کی مدد چاہیے ہوتی ہے۔ نچلے طبقے کی کچھ ایسی خواتین بھی ہیں، جو ملازمت کے ساتھ اپنے بچوں کو خود سنبھالتی ہیں۔ میرے ساتھ نوکروں کے علاوہ بچوں کی نانی بھی ہے جو ہروقت ان کا خیال رکھتی ہے۔ ہارلک نے مزید بتایا کہ ’’مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ ’سپرخاتون‘ خودانحصاری کے کس مقام پر فائز ہوتی ہے، لیکن اگر میرے ساتھ ماں، نانی اور شوہر کی طرف سے دیا گیا اعتماد اور دعائیں نہ ہوتیں تو میں شاید ڈاکو کا مقابلہ نہ کر پاتی‘‘ ۔
سوال : میرے ایک عزیز جواَب لامذہب ہوچکے ہیں، عبادات، نماز، روزہ وغیرہ کو صرف بُرائی سے بچنے کے بہترین ذریعہ اور معاشرے کو صحیح ڈگر پر چلانے کا آلہ سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے اس نظریے کی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ میں ان کے مقابلے میں اسلامی احکام و تعلیمات کے دفاع کی کوشش کرتا ہوں۔ میری راہ نمائی اور مدد کیجیے۔
جواب :عبادات کے بارے میں ان کے جو نظریات آپ نے بیان کیے ہیں وہ بھی سخت ژولیدہ فکری (confused thinking)بلکہ بے فکری کا نمونہ ہیں۔ شاید انھوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ نماز، روزہ وغیرہ اعمال صرف اسی صورت میں بُرائی سے بچنے کابہترین ذریعہ اور معاشرے کو صحیح ڈگر پر چلانے کا آلہ ہوسکتے ہیں جب انھیں خلوص کے ساتھ کیا جائے ، اور خلوص کے ساتھ آدمی ان پر اسی صورت میں کاربند ہوسکتا ہے جب وہ ایمان داری سے یہ سمجھتا ہو کہ خدا ہے اور مَیں اس کا بندہ ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسولؐ تھے اور کوئی آخرت آنے والی ہے جس میں مجھے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ان سب باتوں کو خلافِ واقعہ سمجھتا ہو اور یہ خیال کرتا ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اصلاح کے لیے یہ ڈھونگ رچایا ہے، تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس صورت میں بھی یہ عبادت بُرائی سے بچنے کا ذریعہ اور معاشرے کو صحیح ڈگر پر چلانے کا آلہ بن سکے گی؟ ایک طرف ان عبادات کے یہ فوائد بیان کرنا اور دوسری طرف اُن فکری بنیادوں کو خود ڈھا دینا جن پر ان عبادات کے یہ فوائد منحصر ہیں، بالکل ایسا ہے جیسے آپ کسی کارتوس سے سارا گن پائوڈر نکال دیں اور پھر کہیں کہ یہ کارتوس شیر کے شکار میں بہت کارگر ہے۔ (ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۲ء)
سوال : ہمیں یہ کیوں کر معلوم ہو کہ ہماری عبادت خامیوں سے پاک ہے یا نہیںاور اسے قبولیت کا درجہ حاصل ہورہا ہے یا نہیں؟… قرآن و حدیث کے بعض ارشادات جن کا مفہوم یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو روزے میں بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنی نمازوں سے رکوع و سجود کے علاوہ کچھ نہیں پاتے، یا یہ کہ جو کوئی اپنے عابد سمجھے جانے پر خوش ہو تو نہ صرف اس کی عبادت ضائع ہوگئی بلکہ وہ شرک ہوگی، اور اس طرح سے دیگر تنبیہات جن میں عبادت کے بے صلہ ہوجانے اور سزا دہی کی خبر دی گئی ہے، دل کو نااُمید و مایوس کرتی ہیں۔
اگر کوئی شخص اپنی عبادت کو معلوم شدہ نقائص سے پاک کرنے کی کوشش کرے اور اپنی دانست میں کربھی لے پھر بھی ممکن ہے کہ اس کی عبادت میں کوئی ایسا نقص رہ جائے جس کا اسے علم نہ ہوسکے اور یہی نقص اس کی عبادت کو لاحاصل بنادے.... اسلام کا مزاج اس قدر نازک ہے کہ بشریت کے تحت اس کے مقتضیات کو پورا کرنا ناممکن سا نظر آتا ہے۔
جواب : اسلام کا مزاج بلاشبہہ بہت نازک ہے، مگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں فرماتا۔ قرآن و حدیث میں جن چیزوں کے متعلق ذکر کیا گیا ہے کہ وہ عبادات کو باطل یا بے وزن کردینےوالی ہیں، ان کے ذکر سے دراصل عبادات کو مشکل بنانا مطلوب نہیں ہے بلکہ انسان کو ان خرابیوں پر متنبہ کرنا مقصود ہے تاکہ انسان اپنی عبادات کو اُن سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے، اور عبادات میں وہ روح پیداکرنے کی طرف متوجہ ہو جو مقصود بالذات ہے۔ عبادات کی اصل روح تعلق باللہ، اخلاص للہ اور تقویٰ و احسان ہے۔ اس روح کو پیداکرنے کی کوشش کیجیے اور ریا سے، فسق سے، دانستہ نافرمانی سے بچیے۔ ان ساری چیزوں کا محاسبہ کرنے کے لیے آپ کا اپنا نفس موجود ہے۔وہ خود ہی آپ کو بتا سکے گا کہ آپ کی نماز میں، آپ کے روزے میں، آپ کی زکوٰۃ اور حج میں کس قدر اللہ کی رضاجوئی اور اس کی اطاعت کا جذبہ موجود ہے، اوران عبادتوں کو آپ نے فسق و معصیت اور ریا سے کس حد تک پاک رکھا ہے۔ یہ محاسبہ اگر آپ خود کرتے رہیں تو ان شاء اللہ آپ کی عبادتیں بتدریج خالص ہوتی جائیں گی اور جتنی جتنی وہ خالص ہوں گی، آپ کا نفس مطمئن ہوتا جائے گا۔ ابتداء ً جو نقائص محسوس ہوں، ان کا نتیجہ یہ نہ ہونا چاہیے کہ آپ مایوس ہوکر عبادت چھوڑ دیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ اخلاص کی پیہم کوشش کرتے جائیں۔
خبردار رہیے کہ عبادت میں نقص کا احساس پیدا ہونے سے جو مایوسی کا جذبہ اُبھرتا ہے، اُسے دراصل شیطان اُبھارتا ہے اور اس لیے اُبھارتا ہے کہ آپ عبادت سے باز آجائیں۔ یہ شیطان کا وہ پوشیدہ حربہ ہے جس سے وہ طالبین خیر کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ان کوششوں کے باوجود یہ معلوم کرنا بہرحال کسی انسان کے امکان میں نہیں ہے کہ اس کی عبادات کو قبولیت کادرجہ حاصل ہو رہا ہے کہ نہیں۔ اس کو جاننا اور اس کا فیصلہ کرنا صرف اس ہستی کا کام ہے جس کی عبادت آپ کر رہے ہیں ، اور جو ہماری اور آپ کی عبادتوں کے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ ہروقت اس کے غضب سے ڈرتے رہیے اور اس کے فضل کے اُمیدوار رہیے۔ مومن کا مقام بَیْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَاء (خوف اور اُمید کے درمیان)ہے۔ خوف اس کو مجبور کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بہتر بندگی بجا لانے کی کوشش کرے، اور اُمید اس کی ڈھارس بندھاتی ہے کہ اس کا ربّ کسی کا اجر ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن، جنوری، فروری ۱۹۵۱ء)
سوال : توجہ اور حضورِقلب کی کمی کیا نماز کوبے کار بنادیتی ہے؟ نماز کو اس خامی سے کیوں کر پاک کیا جائے؟ نماز میں عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے نہایت بے حضوریٔ قلب پیدا ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ کیوں کہ ہم سوچتے ایک زبان میں ہیں اور نماز دوسری زبان میں پڑھتے ہیں۔ اگر آیات کے مطالب سمجھ بھی لیے جائیں تب بھی ذہن اپنی زبان میں سوچنے سے باز نہیں رہتا۔
جواب : توجہ اور حضورِ قلب کی کمی نماز میں نقص ضرور پیدا کرتی ہے۔ لیکن فرق ہے اس بے توجہی میں جو نادانستہ ہو اور اس میں جو دانستہ ہو۔ نادانستہ پر مؤاخذہ نہیں ہے بشرطیکہ انسان کو دورانِ نماز میں جب کبھی اپنی بے توجہی کا احساس ہوجائے، اسی وقت وہ خدا کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کرے، اور اس معاملے میں غفلت سے کام نہ لے۔ رہی دانستہ بے توجہی، بے دلی کے ساتھ نماز پڑھنا اور نماز میں قصداً دوسری باتیں سوچنا، بلاشبہہ یہ نماز کو بے کار کردینے والی چیز ہے۔
عربی زبان سے ناواقفیت کی بنا پر جو بے حضوری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اس کی تلافی جس حد تک ممکن ہو، نماز کے اذکار کا مفہوم ذہن نشین کرنے سے کرلیجیے۔ اس کے بعد جو کمی رہ جائے، اس پر آپ عنداللہ ماخوذ نہیں ہیں، کیوں کہ آپ حکمِ خدا و رسولؐ کی تعمیل کر رہے ہیں۔ اس بے حضوری پر آپ سے اگر مؤاخذہ ہوسکتا تھا تو اس صورت میں جب کہ خدا و رسولؐ نے آپ کو اپنی زبان میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہوتی اور پھر آپ عربی میں نماز پڑھتے۔(ترجمان القرآن، جنوری، فروری ۱۹۵۱ء)
سوال : کیا ایک عورت روزہ کے دوران کھانا تیار کرتے وقت، کھانا چکھ سکتی ہے، جب کہ اس کا شوہر سخت مزاج بھی ہو اور کھانے کا ذائقہ صحیح نہ ہونے پر غصّہ بھی کرتا ہو؟ اسی طرح ایک ماں اپنے بچے کے لیے غذا تیار کرتے وقت کیا اسے چکھ سکتی ہے؟
جواب : ’کھانے‘ اور ’چکھنے‘ میں فرق ہوتا ہے۔ کسی چیز کا ذائقہ چکھنے کے لیے اس چیز کو بڑی مقدار میں کھانا، چبانا اور نگلنا ضروری نہیں ہے۔ اگر کوئی عورت چمچہ بھر غذا اپنے منہ میں ڈالتی ہے، اس کو چباتی ہے اور نگل لیتی ہے، تو یقینا اس نے اپنے روزے کو ضائع کر دیا۔ اب یہ حرکت خواہ اس نے اپنے شوہر کے غصے کی تلافی کی وجہ سے کی ہو یا کسی اور وجہ سے۔ اس صورتِ حال میں حکم یہی لاگو ہوگا کیونکہ اس نے غذا کو کھا لیا ہے، جو روزے کی حالت میں ممنوع ہے۔
کسی غذا کا ذائقہ چکھنے کے لیے اس کو نگلنا ضروری نہیں۔ ذائقہ چکھنے کا کام زبان کی نوک انجام دیتی ہے۔ اگر ایک عورت غذا کا بہت معمولی سا حصہ منہ میں لیتی ہے اور ذائقہ معلوم کرنے کے بعد غذا حلق تک پہنچنے سے پہلے اس کو تھوک دیتی ہے تو اس کا روزہ برقرار رہے گا۔ علما اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اجازت صرف اس وقت ہے جب اس کی واقعی ضرورت ہو۔ کھانے کے ذائقے پر شوہر کے غصے کا اندیشہ ایسی ہی ایک صورت ہے۔
بچے کے لیے غذا تیار کرتے وقت اسے چکھنے کا مسئلہ کم شدید نوعیت کا ہے۔ بچے کی غذا کے گرم ہونے کا اندازہ ہاتھ سے لگایا جاسکتا ہے، جب کہ اس میں شکر یا نمک کی مقدار اس غذا کے پکانے کے نسخے سے درست رکھی جاسکتی ہے۔ تاہم، اگر اس صورتِ حال میں بھی غذا کا ذائقہ اُوپر بتائے ہوئے طریقےکے مطابق پرکھا جائے تو اس سے روزہ ساقط نہیں ہوگا۔(ڈاکٹر اُمِ کلثوم)
فاضل مؤلف کی اس کتاب کی ماسبق جلدوں پر تبصرہ ترجمان کے انھی صفحات میں شائع ہوچکا ہے۔ اب مؤلف نے جلد۱۰ پیش کی ہے۔ ایک طرح سے یہ قرآنِ حکیم کی تفسیر ہے، جس میں سیرت النبیؐ کے اہم واقعات اور جدوجہد کے مختلف مراحل کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ سرورق کی توضیح کے مطابق یہ ’’نزولِ قرآنِ مجید کے پس منظر میں لکھی گئی حیاتِ طیّبہ کی رُوداد ہے‘‘۔
’پیش لفظ‘ میں ڈاکٹر سیّد زاہد حسین کہتے ہیں: ’’میری نظر میں کاروانِ نبوت صرف سیرت النبیؐ کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ تو اس انقلاب کی رُوداد ہے جو قرآن اور صاحب ِ قرآن کے ذریعے برپا ہوا‘‘۔
مصنف نے ہر باب میں موضوعات کی الگ فہرست دی ہے اور غزوات میں شہدا کے ناموں کا تعین بڑی تحقیق کے بعد مرتب کیا ہے۔ ناشر نے کتاب طباعت کے اعلیٰ معیار پر شائع کی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
قرآن کریم کی روشنی میں روز مرہ زندگی گزارنے کے اصولوں اور دعوت کو دل نشین پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف عربی کے معروف استاد اور انشا پرداز ہیں۔ یہ کتاب ریڈیو پاکستان سے ان کی نشر ہونے والی مختصر تقریروں پر مشتمل ہے۔ جس میں چار سے پانچ صفحات پر مشتمل اکہتر تقاریر اور ایک مقالۂ خصوصی کو کتاب میں شامل کیا ہے۔
مصنف، قرآن کریم سے آیات کا انتخاب کرتے اور ان کی روشنی میں ہماری زندگی کو ہدایت ِ الٰہی سے منور کرنے والے نکات مرتب کرتے ہیں اور پھر تذکیر، انذار اور تبشیر کا فریضہ ادا کرتے ہوئے رواں دواں انداز سے قاری کو قرآن اور زندگی سے جوڑتے ہیں۔
کتاب کی پیش کش ، دل کش ہے اور خاص نکتے کی بات یہ ہے کہ ’’جملہ حقوق غیرمحفوظ‘‘ ہیں، جو چاہے جس شکل میں، اس کا فیض عام کرے۔ (سلیم منصور خالد)
یہ کتاب کسی زمانے میں ایف اے کے طلبۂ اسلامیات کے لیے لکھی گئی تھی۔ بقول مصنف: ’’دینی ذوق اور مذہبی رجحان رکھنے والے حضرات کے لیے بھی مفید ہے۔ امتحانی مقابلے میں بیٹھنے والے حضرات بھی آئینہ اسلام کو مفید پائیں گے‘‘۔ مصنف نے آسان اور واضح انداز میں اجزائے ایمان (توحید، ملائکہ، رسولؑ، آسمانی کتابیں، ایمان بالآخرت)، ارکانِ اسلام (کلمۂ طیبہ، نماز، زکوٰۃ، حج بیت اللہ، روزے)، اسلامی اخلاق (امانت، صدق، ایفائے عہد، ایثار، رحم، عفو) کی تشریح کی ہے۔حضرت موسٰی کے حالات میں واقعات کی زمانی ترتیب ملحوظ نہیں رہی۔ اس وجہ سے مطالعہ کرتے ہوئے ربط کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
’عرضِ ناشر‘ میں وہی باتیں دُہرائی گئی ہیں، جو مصنف نے ’حرفِ اوّل‘ میں کہی ہیں۔ ضرورت تو یہ تھی کہ مصنف کا کچھ تعارف ہوتا اور بتایا جاتا کہ وہ کس پائے کے عالم تھے؟ اور یہ کتاب کس زمانے میں لکھی گئی؟ کتاب خوب صورت چھاپی گئی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ(۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء) کی تصانیف جس طرح علم و معرفت کا مخزن ہوتی ہیں، اسی طرح ان کی مجالس میں بھی حکمت و دانش کے جام لنڈھائے جاتے تھے۔ _ یہ مجالس عموماً لاہور میں مولانا کی رہایش گاہ (۵-اے، ذیلدار پارک ، اچھرہ ) میں ، جو جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی دفتر بھی تھا ، نمازِ عصر کے بعد شروع ہوتی تھیں اور نمازِ مغرب سے کچھ پہلے ختم ہوجاتی تھیں۔ _ نمازِ مغرب وہیں سبزہ زار پر مولانا کی امامت میں ادا کی جاتی تھی _۔
مولانا کی ان عصری مجالس میں ہر عام و خاص بلا جھجک شریک ہوتا اور بے تکلّفی سے ہرقسم کا اور ہر طرح کا سوال پوچھتا اور مولانا اس کا اطمینان بخش جواب دیتے تھے۔ _ بعض حضرات کو وہاں ہونے والی گفتگو اور مولانا مودودی کے فرمودات کی اہمیت کا احساس ہوا ، چنانچہ انھوں نے انھیں ضبطِ تحریر میں لانا شروع کیا ۔ ان حضرات میں ہفت روزہ آئین لاہور کے مدیر جناب مظفر بیگ ، مجلّہ سیارہ کے مدیر جناب حفیظ الرحمٰن احسن اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی قابلِ ذکر ہیں۔ _ ہاشمی صاحب ان مجالس میں شرکت کرتے، نوٹس لیتے اور انھیں مرتب کرکے ہفت روزہ آئین میں اشاعت کے لیے فراہم کرتے۔بعدازاں ان مجالس کا انتخاب ہاشمی نے ۵-اے ذیلدار پارک، دوم کے عنوان سے ۱۹۷۹ء میں شائع کیا، اور اب یہی کتاب مزید اضافوں اور نظرثانی کے بعد مجالسِ سیّد مودودی کے نام سے شائع کی گئی ہے۔
اس کتاب کے مشمولات بہت متنوّع ہیں: قرآن ، حدیث ، فقہ ، تاریخ ، تصوّف ، شخصیات، افکار ، کتب ، ادارے ، مقامات ، سیاسیات ، معاشیات ، سماجیات ، جدید مسائل ، غرض ہر موضوع پر علمی لوازمہ اس میں ملتا ہے۔ _ مولانا مودودی سائل کے سوال کا بہت مختصر ، لیکن دو ٹوک جواب دیتے تھے _۔ فاضل مرتّب نے آخر میں موضوعات ، کتب ، اداروں اور مقامات کا مفصل اشاریہ مرتّب کردیا ہے ، جس سے قارئین کے لیے استفادہ میں بہت سہولت ہوگئی ہے _۔ چند عناوین کا تذکرہ دل چسپی سے خالی نہ ہوگا : آسمان و زمین کی تخلیق ، اجتہاد و تقلید کا مسئلہ ، اسرائیلی انٹیلی جنس اور عرب دُنیا، اسلامی انقلاب کے امکانات ، اسلام میں انفرادی ملکیت ، اسلام میں عورت کی حدود ، ظہورِ مہدی ، تقدیر کی حقیقت ، ائمہ میں سے کسی ایک کی پیروی کیوں؟ ، ایصالِ ثواب کا مسئلہ ، ایک مسجد میں متعدد جماعتیں ، بنک کی ملازمت اور سود ، بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل ، پوسٹ مارٹم اور اسلام ، تعویذ کا جواز؟ ، ٹیلی فون پر نکاح ، جمہوریت اور اسلام ، جہیز اور شریعت ، خاندانی منصوبہ بندی، خفیہ سازشیں اور فوجی انقلاب ، خنزیر کیوں حرام ہے؟ ، عورت کی خود اختیاریت کا مسئلہ ، غائبانہ نمازِ جنازہ ، قادیانی فہمِ قرآن ، مسجد میں نمازِ جنازہ، ملوکیت کے نقصانات ، نمازِ جنازہ میں عورتوں کی شرکت ، وغیرہ _۔ اس کتاب سے مولانا مودودی کی شخصیت ، افکار و تصوّرات اور جدّوجہد کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ (ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
ہمارے ہاں ایسے اساتذہ اور اہلِ قلم دوچار ہی ہوں گے جنھیں ’پاکستانیات‘ پر عبور حاصل ہو اور وہ پاکستان کے ساتھ تحریک ِ پاکستان اور قائداعظم پر بھی توازن کے ساتھ کچھ لکھ سکیں۔ ایسے عالم میں ڈاکٹر صفدر محمود کا دم غنیمت ہے۔ کچھ عرصہ درس و تدریس کے بعد وہ سول سروس میں چلے گئے۔ اب کئی برسوں سے کالم نگاری کرتے ہیں۔
بالعموم کالموں کی زندگی فقط ایک دن کی ہوتی ہے۔ مگر صفدرمحمود کے زیرنظر مجموعۂ بصیرت میں شامل کالم مستقل نوعیت کے حامل ہیں۔ چند عنوانات: آزمایش، بیٹی: اللہ کی رحمت، امارت اور غربت، محبت اور خدمت، استغفار کیوں؟ حضرتِ ابوذر غفاریؓ، ہوس، منکرینِ تصوف۔
مصنف نے چھوٹے چھوٹے کالموں میں بڑی بڑی باتیں کَہ دی ہیں، مثلاً: ’’سچ یہ ہے کہ استغفار کنجی ہے: بخشش کی، دُنیاوی کامیابیوں اور مشکلات و مسائل کے حل کی۔ اور انسان استغفار کی کنجی سے اللہ پاک کے خزانے کھول کر، جو چاہے لے سکتا ہے۔ جن میں مال و دولت بھی شامل ہے‘‘(ص ۱۲۶)۔ایک جگہ مولانا روم کا حسب ِذیل فرمان نقل کیا ہے: ’’خدا تک پہنچنے کے لیے بہت سے راستے ہیں لیکن مَیں نے آسان ترین اور اللہ پاک کا پسندیدہ ترین راستہ چُنا اور وہ راستہ ہے: اللہ کی مخلوق سے محبت اور اللہ کی مخلوق کی خدمت‘‘۔(ص ۶۹)
بصیرت کے کئی معنی ہیں: دانائی، عقل مندی اور ہوشیاری۔ ایک معنی ’دل کی بینائی‘بھی ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے یہی معنی مراد لیا ہے۔ ان کے نزدیک انسان کو ’دل کی بینائی‘ مطلوب ہے۔ ان کے الفاظ میں جب انسان:’’من کی دُنیا میں ڈوب جاتا ہے [تو] قلم بخودبخود لکھنا شروع کر دیتا ہے‘‘___ یہ کتاب ایسی ہی تحریروں پر مشتمل ہے، جو’’ قلب سے نکلیں اور صفحۂ قرطاس پرپھیل گئیں‘‘(ص۱۰)۔(رفیع الدین ہاشمی)
مارچ کا شمارہ متعدد مقالات سے مالا مال ہے۔ ’’پاکستان کا نظریاتی وجود اور تقاضے‘‘ پروفیسر خورشیداحمد صاحب کا مقالہ وقت کی ضرورت کے عین مطابق ہے۔ انھوں نے جہاں ایک طرف پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو اُجاگر کیا ہے، وہیں پاکستان کے عملی مسائل کی نشان دہی بھی کی ہے، خصوصاً پاکستان کے معاشی بحران کے اسباب کو متعین کیا ہے۔ مضمون کے آخر میں انھوں نے جتنے نکات بیان کیے ہیں، ان پر باری باری، ایک ایک جامع مضمون ترجمان میں آنا چاہیے۔
جناب سعادت اللہ حسینی کا مضمون: ’’خاندان اور خواتین: اسلام کی نظریاتی قوت‘‘ (مارچ ۲۰۲۱ء) علمی وسعت اور سماجی بحران کی بہترین بحث اور راہِ عمل پر مشتمل یادگار تحریر ہے۔
’اشارات‘ اور سعادت اللہ حسینی صاحب کے مضمون نے فکرونظر کو روشنی عطا کی۔ اسی طرح عبدالہادی احمد صاحب نے پاکستان میں سود کے خاتمے کے لیے مختلف کاوشوں کا ایک نقشہ پیش کیاہے، جو عام قارئین کے لیے معلومات کا ذخیرہ ہے۔ تاہم، یوں لگتا ہے کہ یہ مضمون کئی حوالوں سے مزید تحقیق، تفصیلات اور تجزیے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر کوئی ماہر معاشیات اس موضوع پر دادِ تحقیق دےتو قیمتی لوازمہ سامنے آئے گا۔
حبیب الرحمٰن چترالی صاحب کے مضمون ’’اصطلاحات اور تحریف کا جادو‘‘ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اس سے پریشان فکری اور مغرب سے مرعوبیت چھلک رہی ہے۔
بلاشبہہ ترجمان کے مضامین بلندپایہ اور قیمتی معلومات سے لبریز ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ مارچ کے شمارے میں محترم حبیب الرحمٰن چترالی صاحب کا مضمون ’’اصطلاحات اور تحریف کا جادو‘‘ کئی حوالوں سے پرچے کے مزاج سے مناسبت نہیں رکھتا۔ مفروضہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ: ’’کورونا عبرانی کا لفظ ہے اور تلمود کی آیت۱۹ میں آیا ہے۔ پھر اس عالمی وبا کو کسی یہودی سازش کا شاخسانہ قرار دے ڈالا گیا ہے۔ اور اس کے لیے عربی، انگریزی ماخذ اور لُغات کا سہارا لیا گیا ہے۔ بات یہ ہے کہ اس وائرس کو۱۹ کہیں یا ۲۰ اور کورونا کہیں یا ’مون‘ ،وائرس کی تباہ کاری میں کچھ فرق واقع نہیں ہوگا۔ سائنس دانوں کی سالہا سال تحقیق کے نتیجے میں اس وائرس کی تباہ کاریاں سامنے آئی ہیں جس کے خاتمے کے لیے وہ دن رات کوشاں ہیں۔
[مضمون کی اشاعت کے وقت یہ پہلو سامنے تھا کہ دُنیا بھر میں ، اس بیماری کے حوالے سے کئی مفروضے گردش میں ہیں۔ اس لیے مثال کے طور پر ایک نقطۂ نظر شائع کیا گیا کہ لوگ یوں بھی سوچتے ہیں اور اس کا ’اینٹی تھیسس‘ شائع کرنے کے لیے بھی ترجمان حاضر ہے۔ دوسری رائے سننا کوئی غیر علمی فعل نہیں۔ اگر کوئی بات خلافِ واقعہ ہے تو اس کی معقول دلائل سے تردید کرنی چاہیے۔ ادارہ]
مارچ کے شمارے میں افتخارگیلانی صاحب نے ایک منفرد کشمیری دانش وَر کی سوچ اور خدمات سے متعارف کرایا ہے، جب کہ ہمیشہ کی طرح جناب وحید مراد نے معلومات افزا مضمون لکھ کر ’بے راہ رویٔ نسواں تحریک‘ کی حقیقت سے پردہ ہٹایا ہے۔ کاش! یہ تحریریں عام اخبارات کی بھی زینت بنیں۔
ہمیشہ کی طرح جناب بشیر جمعہ کا مضمون، زندگی گزارنے کی بہترین ’ٹپس‘ لیے ہوئے ہے۔ پروفیسر وسیم احمد کا مضمون ’دھو پ اور سایہ‘ تذکیر کا دل میں اُترتا پیغام ہے۔ یارا حواری نے اسرائیلی نسل پرست ریاست کی بدباطنی کو بیان کرکے ان دانش وروں اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے، جو اسرائیل پر ریجھے جارہے ہیں۔
رؤیت ِ ہلال کے مسئلے کو حل کرنے کی موزوں ترین صورت یہی ہے کہ پورے شرعی قواعدو ضوابط اور تحقیق و تفتیش کے بعد ملک کے کسی ایک مرکزی مقام سے چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلانِ عام ایسے اصحاب کے ذریعے سے کیا جائے، جن کے دین و تقویٰ پر عام مسلمانوں کو اعتماد ہو، اور جن کی آواز ملک بھر میں پہچانی جائے، اور اس اعلان کو پورے ملک کے لیے معتبر تسلیم کیا جاناچاہیے۔
بہرحال اس ملک کے باشندے دینی معاملات میں جو اعتماد علما پررکھتے ہیں، وہ کسی اور پر نہیں رکھتے۔ برسرِاقتدار لوگوں کو ’مُلّا‘ سے جو بھی نفرت ہے، ہواکرے۔ مگر دینی معاملات میں عام مسلمان بہرحال ’مُلّا‘ ہی پر بھروسا رکھتا ہے۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ریڈیو پرکوئی خبریں سناتے ہوئے چاند ہونے کی اطلاع دے، اور ان کے ارشاد پر ملک میں روزے رکھے اورتوڑے جائیں۔ (’رسائل و مسائل‘ ، ترجمان القرآن، جلد۵۶، عدد۶، اپریل ۱۹۶۱ء، ص۶۰-۶۱)