اپریل ۲۰۲۱

فہرست مضامین

کتاب نما

| اپریل ۲۰۲۱ | کتاب نما

روح الامین کی معیت میں کاروانِ نبوتؐ، (جلد۱۰)، پروفیسر ڈاکٹر تسنیم احمد۔ ناشر: مکتبہ دعوۃ الحق، ۹۳-اے، اٹاوہ سوسائٹی، احسن آباد، کراچی۔ ۷۵۳۴۰- فون مدیر:  ۹۲۴۲۶۰۶-۰۳۰۰۔ صفحات: ۴۰۸۔ قیمت: ۸۵۰ روپے۔

فاضل مؤلف کی اس کتاب کی ماسبق جلدوں پر تبصرہ ترجمان کے انھی صفحات میں شائع ہوچکا ہے۔ اب مؤلف نے جلد۱۰ پیش کی ہے۔ ایک طرح سے یہ قرآنِ حکیم کی تفسیر ہے، جس میں سیرت النبیؐ کے اہم واقعات اور جدوجہد کے مختلف مراحل کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ سرورق کی توضیح کے مطابق یہ ’’نزولِ قرآنِ مجید کے پس منظر میں لکھی گئی حیاتِ طیّبہ کی رُوداد ہے‘‘۔

’پیش لفظ‘ میں ڈاکٹر سیّد زاہد حسین کہتے ہیں: ’’میری نظر میں کاروانِ نبوت صرف سیرت النبیؐ کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ تو اس انقلاب کی رُوداد ہے جو قرآن اور صاحب ِ قرآن کے ذریعے برپا ہوا‘‘۔

مصنف نے ہر باب میں موضوعات کی الگ فہرست دی ہے اور غزوات میں شہدا کے ناموں کا تعین بڑی تحقیق کے بعد مرتب کیا ہے۔ ناشر نے کتاب طباعت کے اعلیٰ معیار پر شائع کی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


قولِ مبین، ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم۔ ناشر: مثال پبلشرز،رحیم سنٹر، پریس مارکیٹ، امین پورہ بازار، فیصل آباد۔ فون: ۶۵۰۶۵۸۵-۰۳۳۳۔ صفحات: ۴۰۰ ۔ قیمت، مجلد: ۷۰۰ روپے۔

قرآن کریم کی روشنی میں روز مرہ زندگی گزارنے کے اصولوں اور دعوت کو دل نشین پیرایے میں بیان کیا گیا  ہے۔ فاضل مصنف عربی کے معروف استاد اور انشا پرداز ہیں۔ یہ کتاب ریڈیو پاکستان سے ان کی نشر ہونے والی مختصر تقریروں پر مشتمل ہے۔ جس میں چار سے پانچ صفحات پر مشتمل اکہتر تقاریر اور ایک مقالۂ خصوصی کو کتاب میں شامل کیا ہے۔

مصنف، قرآن کریم سے آیات کا انتخاب کرتے اور ان کی روشنی میں ہماری زندگی کو ہدایت ِ الٰہی سے منور کرنے والے نکات مرتب کرتے ہیں اور پھر تذکیر، انذار اور تبشیر کا فریضہ ادا کرتے ہوئے رواں دواں انداز سے قاری کو قرآن اور زندگی سے جوڑتے ہیں۔

کتاب کی پیش کش ، دل کش ہے اور خاص نکتے کی بات یہ ہے کہ ’’جملہ حقوق غیرمحفوظ‘‘ ہیں، جو چاہے جس شکل میں، اس کا فیض عام کرے۔ (سلیم منصور خالد)


آئینہ اسلام، پروفیسر عبدالقیوم۔ناشر:  بزمِ اقبال، ۲- کلب روڈ، لاہور۔ صفحات:۱۱۶۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

یہ کتاب کسی زمانے میں ایف اے کے طلبۂ اسلامیات کے لیے لکھی گئی تھی۔ بقول مصنف: ’’دینی ذوق اور مذہبی رجحان رکھنے والے حضرات کے لیے بھی مفید ہے۔ امتحانی مقابلے میں بیٹھنے والے حضرات بھی آئینہ اسلام کو مفید پائیں گے‘‘۔ مصنف نے آسان اور واضح انداز میں اجزائے ایمان (توحید، ملائکہ، رسولؑ، آسمانی کتابیں، ایمان بالآخرت)، ارکانِ اسلام (کلمۂ طیبہ، نماز، زکوٰۃ، حج بیت اللہ، روزے)، اسلامی اخلاق (امانت، صدق، ایفائے عہد، ایثار، رحم، عفو) کی تشریح کی ہے۔حضرت موسٰی کے حالات میں واقعات کی زمانی ترتیب ملحوظ نہیں رہی۔ اس وجہ سے مطالعہ کرتے ہوئے ربط کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

’عرضِ ناشر‘ میں وہی باتیں دُہرائی گئی ہیں، جو مصنف نے ’حرفِ اوّل‘ میں کہی ہیں۔ ضرورت تو یہ تھی کہ مصنف کا کچھ تعارف ہوتا اور بتایا جاتا کہ وہ کس پائے کے عالم تھے؟ اور یہ کتاب کس زمانے میں لکھی گئی؟ کتاب خوب صورت چھاپی گئی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


مجالسِ سیّد مودودی، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی۔ ناشر: منشورات، منصورہ، لاہور۔فون: ۰۰۳۴۹۰۹-۰۳۳۲۔ صفحات: ۲۷۶۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

  مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ(۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء) کی تصانیف جس طرح علم و معرفت کا مخزن ہوتی ہیں، اسی طرح ان کی مجالس میں بھی حکمت و دانش کے جام لنڈھائے جاتے تھے۔ _ یہ مجالس عموماً لاہور میں مولانا کی رہایش گاہ (۵-اے، ذیلدار پارک ، اچھرہ ) میں ، جو جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی دفتر بھی تھا ، نمازِ عصر کے بعد شروع ہوتی تھیں اور نمازِ مغرب سے کچھ پہلے ختم ہوجاتی تھیں۔ _ نمازِ مغرب وہیں سبزہ زار پر مولانا کی امامت میں ادا کی جاتی تھی _۔

مولانا کی ان عصری مجالس میں ہر عام و خاص بلا جھجک شریک ہوتا اور بے تکلّفی سے ہرقسم کا اور ہر طرح کا سوال پوچھتا اور مولانا اس کا اطمینان بخش جواب دیتے تھے۔ _ بعض حضرات کو وہاں ہونے والی گفتگو اور مولانا مودودی کے فرمودات کی اہمیت کا احساس ہوا ، چنانچہ انھوں نے انھیں ضبطِ تحریر میں لانا شروع کیا ۔ ان حضرات میں ہفت روزہ آئین لاہور کے مدیر جناب مظفر بیگ ، مجلّہ سیارہ کے مدیر جناب حفیظ الرحمٰن احسن اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی قابلِ ذکر ہیں۔ _ ہاشمی صاحب  ان مجالس میں شرکت کرتے، نوٹس لیتے اور انھیں مرتب کرکے ہفت روزہ آئین میں اشاعت کے لیے فراہم کرتے۔بعدازاں ان مجالس کا انتخاب ہاشمی نے ۵-اے ذیلدار پارک، دوم کے عنوان سے ۱۹۷۹ء میں شائع کیا، اور اب یہی کتاب مزید اضافوں اور نظرثانی کے بعد مجالسِ سیّد مودودی کے نام سے شائع کی گئی ہے۔

اس کتاب کے مشمولات بہت متنوّع ہیں: قرآن ، حدیث ، فقہ ، تاریخ ، تصوّف ، شخصیات، افکار ، کتب ، ادارے ، مقامات ، سیاسیات ، معاشیات ، سماجیات ، جدید مسائل ، غرض ہر موضوع پر علمی لوازمہ اس میں ملتا ہے۔ _ مولانا مودودی سائل کے سوال کا بہت مختصر ، لیکن دو ٹوک جواب دیتے تھے _۔ فاضل مرتّب نے آخر میں موضوعات ، کتب ، اداروں اور مقامات کا مفصل اشاریہ مرتّب کردیا ہے ، جس سے قارئین کے لیے استفادہ میں بہت سہولت ہوگئی ہے _۔ چند عناوین کا تذکرہ دل چسپی سے خالی نہ ہوگا : آسمان و زمین کی تخلیق ، اجتہاد و تقلید کا مسئلہ ، اسرائیلی انٹیلی جنس اور عرب دُنیا، اسلامی انقلاب کے امکانات ، اسلام میں انفرادی ملکیت ، اسلام میں عورت کی حدود ، ظہورِ مہدی ، تقدیر کی حقیقت ، ائمہ میں سے کسی ایک کی پیروی کیوں؟ ، ایصالِ ثواب کا مسئلہ ، ایک مسجد میں متعدد جماعتیں ، بنک کی ملازمت اور سود ، بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل ، پوسٹ مارٹم اور اسلام ، تعویذ کا جواز؟ ، ٹیلی فون پر نکاح ، جمہوریت اور اسلام ، جہیز اور شریعت ، خاندانی منصوبہ بندی، خفیہ سازشیں اور فوجی انقلاب ، خنزیر کیوں حرام ہے؟ ، عورت کی خود اختیاریت کا مسئلہ ، غائبانہ نمازِ جنازہ ، قادیانی فہمِ قرآن ، مسجد میں نمازِ جنازہ، ملوکیت کے نقصانات ، نمازِ جنازہ میں عورتوں کی شرکت ، وغیرہ _۔ اس کتاب سے مولانا مودودی کی شخصیت ، افکار و تصوّرات اور جدّوجہد کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ (ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)


بصیرت، ڈاکٹر صفدر محمود۔ناشر: قلم فائونڈیشن، یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔ فون: ۰۵۱۵۱۰۱- ۰۳۰۰۔ صفحات:۲۸۷۔ قیمت: ۷۰۰ روپے

ہمارے ہاں ایسے اساتذہ اور اہلِ قلم دوچار ہی ہوں گے جنھیں ’پاکستانیات‘ پر عبور حاصل ہو اور وہ پاکستان کے ساتھ تحریک ِ پاکستان اور قائداعظم پر بھی توازن کے ساتھ کچھ لکھ سکیں۔ ایسے عالم میں ڈاکٹر صفدر محمود کا دم غنیمت ہے۔ کچھ عرصہ درس و تدریس کے بعد وہ سول سروس میں چلے گئے۔ اب کئی برسوں سے کالم نگاری کرتے ہیں۔

بالعموم کالموں کی زندگی فقط ایک دن کی ہوتی ہے۔ مگر صفدرمحمود کے زیرنظر مجموعۂ بصیرت میں شامل کالم مستقل نوعیت کے حامل ہیں۔ چند عنوانات: آزمایش، بیٹی: اللہ کی رحمت، امارت اور غربت، محبت اور خدمت، استغفار کیوں؟ حضرتِ ابوذر غفاریؓ، ہوس، منکرینِ تصوف۔

مصنف نے چھوٹے چھوٹے کالموں میں بڑی بڑی باتیں کَہ دی ہیں، مثلاً: ’’سچ یہ ہے کہ استغفار کنجی ہے: بخشش کی، دُنیاوی کامیابیوں اور مشکلات و مسائل کے حل کی۔ اور انسان استغفار کی کنجی سے اللہ پاک کے خزانے کھول کر، جو چاہے لے سکتا ہے۔ جن میں مال و دولت بھی شامل ہے‘‘(ص ۱۲۶)۔ایک جگہ مولانا روم کا حسب ِذیل فرمان نقل کیا ہے: ’’خدا تک پہنچنے کے لیے بہت سے راستے ہیں لیکن مَیں نے آسان ترین اور اللہ پاک کا پسندیدہ ترین راستہ چُنا اور وہ راستہ ہے: اللہ کی مخلوق سے محبت اور اللہ کی مخلوق کی خدمت‘‘۔(ص ۶۹)

بصیرت کے کئی معنی ہیں: دانائی، عقل مندی اور ہوشیاری۔ ایک معنی ’دل کی بینائی‘بھی ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے یہی معنی مراد لیا ہے۔ ان کے نزدیک انسان کو ’دل کی بینائی‘ مطلوب ہے۔ ان کے الفاظ میں جب انسان:’’من کی دُنیا میں ڈوب جاتا ہے [تو] قلم بخودبخود لکھنا شروع کر دیتا ہے‘‘___ یہ کتاب ایسی ہی تحریروں پر مشتمل ہے، جو’’ قلب سے نکلیں اور صفحۂ قرطاس پرپھیل گئیں‘‘(ص۱۰)۔(رفیع الدین ہاشمی)