مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۱۴

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو پہچانیے، مؤلف: انجینیرمحمدامان اللہ سدید۔ ناشر:اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ فون: ۳۶۳۴۹۸۴۰-۰۲۱۔ صفحات:۲۱۸۔ قیمت:۳۰۰روپے۔

مؤلف نے اس کتاب کی تالیف کا مقصد یوں تحریر کیا ہے کہ: ’’شاید یہ اپنے قارئین کو     اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی صحیح شناخت دے سکے اور ہماری بودوباش اور طرزِ زندگی اس حقیقت کی گواہ   بن جائے کہ ہم اللہ مالک الملک کو وہ مقام دینے والے ہیں جو اس کا حق ہے‘‘۔ لہٰذا اس کتاب میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ۹۹؍اسماے حسنیٰ، یعنی وہ تمام الفاظ جو اللہ رب العزت کی صفات اور خصوصیات کو بیان کرتے ہیں اور جن کا ترجمہ اُردو زبان میں ’سب سے اچھے‘ یا ’بہترین ناموں‘ سے کیا جاتا ہے، ان کو بیان کیا گیا ہے۔ عام طور پر چیزوں کی ہر صفت اپنے اندر اچھی اور بُری دونوں کی خصوصیات رکھتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے اسماے حسنیٰ کو سب سے اچھا اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ تمام اسما اپنے اندر ذرا بھی بُری خصوصیات نہیں رکھتے۔ ساری صفات صرف اچھی ہی اچھی اور بہترین ہیں۔ پھر ان ساری کی ساری صفات کے لیے کوئی حدود و قیود نہیں۔ ان اسما کا مقصد یہ ہے کہ انھیں سمجھ کر یاد رکھا جائے، ذہن میں ہر وقت تازہ رکھا جائے تاکہ شیطان کے پیدا کردہ وساوس اور بہکاوے میں آکر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی طرف رُخ کرنے سے بھی بچا رہے۔ یہ اسما دعا بھی ہیں، لہٰذا ان کا ورد کرتے وقت ان کی گنتی پوری کرنے کے بجاے ان کے مفہوم کو ذہن میں تازہ رکھا جائے۔

کتاب میں ہر نام کا مفہوم قرآن اور حدیث ِ مبارکہ کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے اور   یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قرآن میں یہ نام کہاں کہاںاور کتنی بار آیا ہے اور کس کس لفظ کے ساتھ یا اکیلا آیا ہے، مثلاً اَللّٰہُ ۹۸۰ بار، اللّٰہَ ۵۹۲ بار، اللّٰہِ ۱۱۲۵ بار، اور اَللّٰھُمَّ  ۵ بار، اس طرح کُل تعداد ۲۶۰۲ ہوئی۔

کتاب بڑی محنت اور توجہ سے سلیس اُردو میں تالیف کی گئی ہے اور قرآن اور حدیث کے سارے حوالے صحت کے ساتھ دیے گئے ہیں۔ یوں تو الاسماء الحسنیٰ کے حوالے سے کئی کتب تحریر کی گئی ہیں مگریہ ان سب میں منفرد ہے۔ (شہزادالحسن چشتی)


مجموعہ رسائل عقیدہ ، نواب سیّد محمد صدیق حسن خان، تسہیل و تخریج: حافظ عبداللہ سلیم،      حافظ شاہدمحمود۔ ناشر: دارابی الطیّب، گِل روڈ، حمیدکالونی ،گلی نمبر۵، گوجرانوالہ۔ فون: ۳۸۲۳۹۹۰-۰۵۵۔ صفحات، جلداوّل: ۶۱۸، جلددوم:۵۷۶، جلد سوم: ۶۰۹۔ قیمت: درج نہیں۔

نواب سیّد محمد صدیق حسن خان (۱۸۳۲ء-۱۸۹۰ء) انیسویں صدی کے جیدعلماے دین میں شمار ہوتے ہیں۔ سیّدصاحب نے اپنے قلم کی روانی اور دولت کی فراوانی کو دین اسلام کی اشاعت کے لیے خوب استعمال کیا۔ ریاست بھوپال کے صدرالمہام کے اپنے منصب کو انھوں نے دنیاوی جاہ و جلال کے اظہار کے بجاے دینِ حنیف کی تعلیم و تبلیغ کا ذریعہ بنائے رکھا۔ اُن کے اپنے بیان کے مطابق اُن کی تصانیف ۳۳علوم میں تالیف ہوئی ہیں۔ انھوں نے خود بھی دین کی نصرت و حمایت اور خدمت و اشاعت کے جذبے سے ۲۰۰ سے زائد کتب تالیف کیں۔ دیگر علما کو بھی اس طرف متوجہ کیا اور اُن کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کر کے اُن سے تصنیف و تالیف کا کام لیا۔ برعظیم پاک و ہند میں کتب ِ حدیث کی اشاعت کا وسیع اہتمام آپ کی توجہ سے ہوا۔ زیرنظر کتاب مسائل عقیدہ کی بحثوں پر مشتمل ہے جو تین مجلدات (تقریباً ۱۸۰۰صفحات) پر محیط ہے۔

یہ کتاب مصنف کے طبع زاد اور ترجمہ شدہ دونوں طرح کے ۱۵ سے زائد رسائل، یعنی کتابچوں کا مجموعہ ہے۔ جلداوّل:سات رسائل، جلد دوم:چار رسائل اور جلدسوم بھی چار رسائل پر مشتمل ہے۔توحید و شرک ان رسائل کا بنیادی موضوع ہے اور اسی موضوع کی جملہ تفصیلات میں سیکڑوں ذیلی عنوانات کے تحت عقائد سے متعلق مسائل پر جان دار علمی بحثیں کی گئی ہیں۔    بیش تر رسائل عربی کتب یا کتابوں کے تراجم، ماخوذات، اختصارات اور استفادات ہیں۔ نواب سیّد محمدصدیق حسن خان نے ان رسائل عقیدہ میں اہلِ سنت کے متفقہ عقائد کو علماے سلف و خلف کی آرا  کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ نواب صاحب کے قائم کردہ عنوانات رسائل سے محمد بن عبدالوہاب کی کتاب التوحید کی شرح فتح المجید (تالیف:عبدالرحمن بن حسن) کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ تاہم اس مجموعے میں اُن کے تحریر کردہ تمام رسائل عقیدہ کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ اس مجموعے میں شامل رسائل کے عنوانات عربی میں دیے گئے ہیں، جو مصنف ہی کے قائم کردہ ہیں۔ مجموعہ رسائل عقیدہ کی تسہیل و تخریج کنندگان نے زبان و بیان کی قدامت کو قدرے آسان کیا ہے مگر صرف نہایت ضروری مقامات پر۔ طلبہ و علما کے لیے ان رسائل کا مطالعہ بہت اہمیت اور فائدے کا حامل ہے۔ جاذبِ نظر سرورق کے ساتھ کتاب کی عمدہ اشاعت قابلِ تحسین ہے۔(ارشاد الرحمٰن)


اسلام کی دعوت، مولانا سیّد جلال الدین عمری۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۵، بلاک۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی-۷۵۹۵۰۔ صفحات:۳۱۸۔ قیمت مجلد:۲۵۰روپے۔

دین، یعنی اسلام کی دعوت اسلامی تاریخ کے ہر عہد کا زندہ موضوع رہا ہے۔ بیسویں صدی اس اعتبار سے نسبتاً نمایاں اور منفرد رہی کہ اس دوران عالمِ اسلام کے متعدد ممالک کے اندر  اسلامی تحریکیں برپا ہوئیں جن کا مقصود و مطلوب اسلام کی دعوت اور اس کے نتیجے میں اسلامی نظام کا قیام تھا۔ سرزمینِ ہند بھی اس اعتبار سے زرخیز خطۂ ارضی ثابت ہوا لیکن یہ سفر ابھی جاری ہے۔ برعظیم میں اس کا کوئی منطقی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آسکا، تاہم پیش رفت ضرور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی تحریکوں کے قائدین اور علما نے اسلام کی دعوت کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ ہندستان کے معروف عالمِ دین اور امیرجماعت اسلامی مولانا سیّد جلال الدین عمری نے بھی اس موضوع پر نہایت سادہ پیرایۂ اظہار میں اسلام کی دعوت کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی جو ۴۰برس سے مسلسل شائع ہورہی ہے۔ پاکستان میں اس کی اشاعت باعث ِ مسرت ہے۔

یہ کتاب نہایت سلیس زبان میں ہے۔ چار بڑے مباحث کے اندر سیکڑوں ذیلی عنوانات کے تحت موضوع سے متعلق ہر اہم اور ضروری نکتے پر رہنمائی دی گئی ہے۔ پہلے بحث میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے پیغمبر کیوں آتے اور کس طرح اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ دوسری بحث اسلام کی دعوت سے متعلق ہے۔ اس بحث میں اس کام کی صحیح حیثیت، اسلام کے اتباع پر زور، دعوت کی ترتیب، اس کے اصول و آداب پر بات کی گئی ہے۔ تیسری بحث میں وہ خاص اوصاف بیان کیے گئے ہیں جن کا پایا جانا اس دعوت کے حاملین میں لازمی ہے۔ چوتھی بحث میں دعوت اور تنظیم کے تعلق کو واضح کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کسی اسلامی تنظیم کو مضبوط کرنے والی خوبیاں کیا ہیں؟

یہ کتاب ایک جامع خاکہ پیش کرتی ہے جس کی مدد سے دعوتِ دین کے اس پورے مضمون کو سمجھنا نہایت آسان ہوجاتا ہے جو دعوتی کارکن کا موضوع ہی نہیں بلکہ نصاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ تحریک سے وابستہ ہر فرد کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔(ارشاد الرحمٰن)


حضرت خضر ؑ ، تحقیق کی روشنی میں، ڈاکٹر غلام قادر لون۔ ناشر: القلم پبلی کیشنز،ٹرک یارڈ،  بارہ مولا-۱۹۳۱۰۱، [مقبوضہ]کشمیر۔ صفحات: ۱۶۵۔ قیمت:۱۰۰ بھارتی روپے ۔

قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’[موسٰی ؑ نے] ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا‘‘۔ مذکورہ بندے (عبداً) کا نام احادیث ِ مبارکہ میں ’خضر‘ بتایا گیا ہے۔حضرت خضر ؑ کا تذکرہ اکثر روایات و حکایات میں موجود ہے۔ شاید ہی کوئی مسلمان ہو جو ان کے نام سے ناواقف ہو۔ فارسی اور اُردو ادب میں خضر، آبِ حیات اور حیاتِ جاوداں جیسی تلیمحات اسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ زمانۂ قدیم سے حضرت خضر ؑ کی ذات ایک رہنما ہی کی ہے۔

زیرنظر کتاب میں ڈاکٹر غلام قادر لون نے قرآنِ مجید،احادیث، تفاسیر، دیگر کتب سماوی اور مفکرین کے حوالے سے حضرت خضر ؑ کے بارے میں اُٹھنے والے سوالات کے مدلل جوابات دیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ان کے بارے میں ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ نبی تھے، جب کہ دوسری جماعت ان کو ولی کہتی ہے۔ دونوں طرف کے دلائل نقل کرنے کے بعد وہ اس بنیاد پر کہ حضرت موسٰی ؑ حضرت خضر ؑ سے جس طرح مخاطب ہوتے ہیں وہ کوئی غیرنبی نہیں کرسکتا، ان کو نبی قرار دیتے ہیں۔

مصنف ان کی حیاتِ جاوداں کے قائلین اور منکرین کے دلائل پیش کرتے ہیں اور بہت سی احادیث کے حوالے سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔خضر ؑ کس زمانے کی شخصیت تھے؟ مصنف کے مطابق : قرآن مجید سے ان کی ملاقات حضرت موسٰی ؑسے ثابت ہے تو پھر ان کا زمانہ وہی ہے۔ مصنف نے اس خیال کو باطل قرار دیا کہ حضرت خضر ؑ اور حضرت الیاس ؑ ایک ہی شخصیت ہیں۔ آبِ حیات، حیاتِ جاوداں اور سکندر والے قصے کو مصنف نے محض داستان قرار دیا ہے۔ تصوف والے ان کو اپنا رہبر قرار دیتے ہیں اور مشکل وقت میں ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں حضرت خضر ؑ بھولے بھٹکے لوگوں کو راستہ بتاتے ہیں۔

ڈاکٹر غلام قادر لون نے عالمانہ اور محققانہ انداز اختیار کرتے ہوئے دونوں طرف کے دلائل دیے ہیں اور منطقی اور استدلالی نتائج اخذ کیے ہیں۔ غالباً حضرت خضر ؑ کی ذات اور شخصیت پر اُردو زبان میں، تحقیقی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے۔(قاسم محمود احمد)


مولانا ابوالکلام آزاد: علمی و تصنیفی خدمات، عبدالرشید عراقی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، خالق آباد، ضلع نوشہرہ۔ صفحات:۱۰۳۔ قیمت: درج نہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد (۱۸۸۸ء-۱۹۵۸ء) برطانوی ہند میں ایک عظیم الشان عالم کی طرح قومی اُفق پر نمودار ہوئے۔ انھوں نے تحریر، خطابت اور صحافت کے ذریعے مسلمانوں کو بالخصوص اور دیگر مذاہب کے حاملین ہندیوں کو بالعموم جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اُن کی توانا پکار نے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کو مجتمع کیا۔ تحریکِ آزادیِ ہند کے مسلم اور غیرمسلم ہم راہی، ان کی صداے رستاخیز پر کشاں کشاں کھنچے چلے آئے۔

یہ مختصر مقالہ اپنے دامن میں وسعت کا سامان لیے ہوئے ہے۔ جس میں جناب عبدالرشید عراقی نے مولانا ابوالکلام کے احوال و خدمات کے ساتھ، مولانا کی چھوٹی بڑی ۱۴۱کتابوں کا مختصر تعارف بھی پیش کیا ہے ۔ اس تعارف نامے میں اگر وہ ناشرین کے نام بھی دے دیتے تو عشاقِ مطالعہ کے لیے سہولت رہتی۔ اسی طرح چند الحاقی آثار بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جیسے ’انسانیت موت کے دروازے پر‘۔ وہ اس کے الحاقی ہونے کے خدشے کو رد ، اور عبدالرزاق ملیح آبادی سے اس کے انتساب کی حقیقت واضح کرسکتے تھے۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے مذہبی تفردات اور سیاسی عملیات پر اختلاف کی گنجایش موجود ہے، اور اس حرفِ اختلاف سے تو کسی کو بھی مفر نہیں۔ تاہم مولانا آزاد کے عزم و استقلال سے انکار کی جرأت کوئی نہیں کرسکتا۔(سلیم منصور خالد)


مسلمان عورت اور اس کا اخلاقی و معاشرتی کردار، مؤلف: دکتور محمدعلی الہاشمی، مترجم: مولانا سلیم اللہ زمان۔ ناشر: مسلم پبلی کیشنز، ۱۲-عثمان غنی روڈ، سنت نگر، لاہور۔ صفحات: ۴۹۶۔ قیمت: درج نہیں۔ فون: ۴۰۴۴۰۱۳-۰۳۲۲

دین اسلام نے بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے ایسی تعلیمات دی ہیں جو آج بھی قابلِ عمل ہیں۔ اسلام انسانوں کے لیے بہترین ضابطۂ حیات ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے عہدِرسالتؐ کی مسلم سوسائٹی نے انسانی فضیلت کی ایسی بے نظیر مثالیں قائم کیں، جو قیامت تک روشنی کا مینار بنی رہیں گی۔ اسلام میں مردوں کے ساتھ ساتھ طبقۂ نسواں کے لیے بھی ہدایات موجود ہیں۔ خواتین کے حقوق و فرائض متعین کیے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور حضوراکرمؐ کی تعلیمات نے خواتین کے مرتبہ و مقام کو اس حد تک بلند کیا ہے کہ اس سے زیادہ بلندی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

زیرتبصرہ کتاب میں مسلمان عورت کے اخلاقی اور معاشرتی کردار کی بہترین ترجمانی کی گئی ہے۔ قرآن و سنت اور اسلامی روایات کے حوالوں سے ۱۰؍ ابواب میں ۱۸۶ عنوانات کے تحت مسلمان خواتین کی زندگی کے مختلف دائروں کی خصوصیات، ان کے فرائض اور حدودِ کار کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مسلمان خواتین کی زندگی کا کوئی گوشتہ نہیں چھوڑا گیا جس کے متعلق قرآنی اور نبویؐ روایات نہ دی گئی ہوں۔ اس تذکرے میں جدید دنیاے اسلام کے محققین کی نگارشات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ (ص ۱۱۷-۱۱۸)

اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک مسلمان عورت کا تعلق، عقیدہ اور رویہ کیا ہونا چاہیے؟ ایک مسلمان عورت کو زندگی میں جن اُمور سے واسطہ پڑتا ہے، ان سب کاموں کے بارے میں اسے جو ہدایات دی گئی ہیں، یہ کتاب ان تعلیمات کا احاطہ کرتی ہے۔ زیرنظر کتاب میں مسلمان عورت کے فرائض و کردار کو جس جامعیت ، حُسنِ ترتیب اور مستند و معتبر حوالوں سے بیان کیا گیا ہے، اس کے مطالعے کے بعد کسی نوع کی تشنگی محسوس نہیں ہوتی۔ ایسی جامع کتاب ہرمسلمان عورت کے   مطالعے میں رہنی چاہیے۔ کتاب کا ترجمہ رواں، شُستہ اور عام فہم  ہے۔(ظفرحجازی)


یہی تو جنت کا راستہ ہے، قانتہ رابعہ۔ ناشر: البدر پبلی کیشنز، ۲۳-راحت مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۲۵۰۳۰-۰۴۲۔ صفحات:۲۰۰۔ قیمت:۲۵۰ روپے۔

ادیب معاشرے کی تعمیر و ترقی اور تہذیب و تمدن اور معاشرت کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ افسانہ وہ دل چسپ صنف ہے جس کے ذریعے معاشرتی مسائل اور اقدار و روایات کی نہ صرف نشان دہی کی جاتی ہے بلکہ تہذیب و معاشرت کی بھرپور عکاسی بھی کی جاتی ہے۔ قانتہ رابعہ افسانہ نویسی کے ذریعے ایسی ہی کامیاب کاوش کررہی ہیں اور بامقصد ادب تخلیق کررہی ہیں۔  ثقافتی یلغاراور معاشرتی مسائل و انتشار کے پیش نظر اہلِ ادب کی ذمہ داریاں دوچند ہوگئی ہیں، بالخصوص تحریکِ اسلامی کو عصری تقاضوں کے پیش نظر معیاری ادب کی تخلیق پر ترجیحاً توجہ دینی چاہیے۔ علمی و ادبی حلقوں کے قیام اور نئے لکھنے والوں اور شعرا کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے۔

زیرتبصرہ کتاب قانتہ رابعہ کے افسانوں کا چھٹا مجموعہ ہے۔ ان افسانوں میں معاشرتی انتشار، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ، جدید رجحانات اور معاشرتی اقدار و روایات کی نشان دہی اور گرفت کی گئی ہے۔ یہی تو جنت کا راستہ ہے، جہاں افسانوں کے مجموعے کا نام ہے، وہاں واقعتا کتاب کا حاصل بھی ہے اور زندگی کا حاصل بھی۔زبان اور اسلوبِ بیان عمدہ اور افسانہ قاری کو اپنی گرفت میں لیے رکھتا ہے۔انگریزی الفاظ جابجا استعمال کیے گئے ہیں، جو ہمارے ہاں اُردو کے ساتھ رواج پاتے جارہے ہیں۔ بہتر ہوتا اپنی تہذیب کی عکاسی کرتے ہوئے متبادل اُردو الفاظ استعمال کیے جاتے۔ کتاب کی پیش کش عمدہ اور سرورق دیدہ زیب ہے۔(امجد عباسی)


کیریئر گائڈ: ۱- میڈیکل سائنسز ۲- انجینیرنگ ۳-مینجمنٹ سائنسز، یوسف الماس۔ معاونین: صہیب احمد خان، مریم باجوہ۔ ناشر: ایجو ویژن، اسلام آباد۔ صفحات( علی الترتیب): ۹۳،۱۲۷، ۱۲۸۔ قیمت( علی الترتیب): ۲۰۰، ۳۰۰،۳۰۰ روپے۔

کیریئر کونسلنگ طلبہ و طالبات اور والدین کے لیے ایک نہایت اہم شعبہ ہے، جس کی ضرورت پاکستان میں بڑے عرصے سے محسوس کی جارہی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات اور والدین کو پاکستان میں دستیاب تعلیمی مضامین اور عملی کیریئر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ درست فیصلہ کرسکیں اور انفرادی اور اجتماعی مستقبل بہتر بنایا جاسکے۔ ایجوویژن کے ادارے نے اپنے کتابچوں کی اشاعت اور کیریئر کونسلنگ کے ذریعے بڑی عمدگی سے اس ضرورت کو پورا کیا ہے۔

کیریئر گائڈ پر مختلف مضامین کی معلومات کے لیے اب تک مذکورہ کتب سمیت ۱۲کتابچے شائع ہوچکے ہیں۔ ہرمضمون کے متعلق پاکستان کے حوالے سے تمام متعلقہ قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی گئی ہیں اور تعلیمی اداروں کی تفصیلات بھی دی ہیں۔ میڈیکل سائنسز کی کتاب میں میٹرک اور ایف ایس سی (پری میڈیکل) کے طلبہ کے لیے ۱۸۴ تعلیمی پروگرام ہیں اور ۴۰میڈیکل اور الائیڈ ہیلتھ کیریئر، ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لیے داخلہ گائڈ اور دیگر معلومات ہیں۔ اسی طرح انجینیرنگ گائڈ میں ۳۶؍ انجینیرنگ کیریئر، ۱۱۵تعلیمی پروگرام، داخلہ گائڈ براے انجینیرنگ یونی ورسٹیز اور  کالجز کی تفصیلات ہیں۔ مینجمنٹ سائنسزگائڈ میں ۲۴ مینجمنٹ کیریئر، ۴۶مینجمنٹ سائنسز کی اسپیشلائزیشنز داخلہ گائیڈ براے بی بی اے اور ایم بی اے اور مینجمنٹ کی تعلیم کے بارے میں تعلیمی اداروں کی نشان دہی کی گئی ہے۔طلبہ و طالبات کو کیریئر کونسلنگ کے حوالے سے رہنمائی بھی دی جاتی ہے۔ متعلقہ طلبہ و طالبات اور والدین کو ایجوویژن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ (شہزاد الحسن چشتی)


جزیرے کا خواب، ڈاکٹر زاہد منیرعامر۔ ناشر: مکتبہ قاسم العلوم، ڈسٹری بیوٹر: ملک اینڈ کمپنی، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۱۲۸۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔

ڈاکٹر زاہد منیرعامر معروف ادیب ہیں۔ ان کے ادبی سفر کی کئی جہات ہیں۔ وہ ایک اچھے شاعر، نقاد، شخصیت نگار اور سفرنگار ہیں۔ اب تک ان کی ۳۰سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔ زیرنظر کتاب جزیرے کا خواب ان کا ایک مختصر مگر دل چسپ اور معلومات افزا سفرنامہ ہے۔

بحرہند کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع ماریشس ایک خوب صورت جزیرہ ہے۔ مصنف کو ایک ادبی مجلس کی دعوت پر وہاں جانا پڑا تو ان کا تحقیقی ذوق کروٹ لے کر جاگ پڑا۔ انھوں نے ماریشس کے سرکاری ریکارڈ تک رسائی حاصل کی۔ اس کے ماضی کا کھوج لگایا، حال کا جائزہ لیا۔ ماریشس کے باشندوں کی جدوجہدِ آزادی اور فرانسیسی اور برطانوی سامراج کے مظالم کا ذکر کیا۔ مصنف نے ماریشس کی تحریکِ آزادی اور تحریکِ آزادیِ ہند کی مماثلتیں تلاش کیں اور کالاپانی اور اسیرانِ مالٹا کا تذکرہ بھی کیا۔

مصنف نے ماریشس کا سفر ایک ادبی مجلس کی تقاریب میں اقبال کے فیض کو عام کرنے کے لیے کیا۔ انھوں نے موقع غنیمت جانا اور ماریشس کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے سلطان ٹیپو اور نپولین بوناپارٹ کی خط کتابت کا سراغ لگایا اور اسے منظرعام پر لائے۔ انھوں نے ماریشس کی تاریخ، جغرافیے اور ثقافت کا جائزہ لے کر اسے عمدگی سے پیش کیا ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)

افشاں نوید ، کراچی

فروری کے شمارے کے مضامین کے انتخاب پر آپ کو مبارک باد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ اہم اُمور پر ہم ترجمان کے ’اشارات‘ (اداریے) کا انتظار کرتے ہیں کہ ہمارے پاس دلیل کی قوت آجاتی ہے۔ وزیرستان پر ’اشارات‘ وقت کی ضرورت تھے۔ محمدبشیر جمعہ ہمیشہ عام فہم اور عملی باتیں بتاتے ہیں جس سے ہرکس و ناکس رہنمائی لے سکتا ہے۔ ان کی تحریریں بہت عمدہ ہوتی ہیں۔ ’احوالِ عالم‘ پڑھ کر تو دیر تک سکتے کی کیفیت رہی۔ ذہن کے بند دریچے جیسے وا ہوگئے۔ ’ہِگز بوسن یا خدائی ذرّہ‘ بہت عمدہ تھا! مضمون نگار اسے انگریزی میں    ترجمہ کرکے انگریزی اخبارات کو ضرور بھیجیں۔سوشل میڈیا میں بلاگز پر بھی ڈالیں۔ یہ چشم کشا حقائق ایک عجب ایمانی کیفیت سے سرشار کرگئے۔ فاطمہ سابقہ لکشی بائی کی تحریر ایمانی جذبوں کی جِلا کا باعث بنی۔ ’اخباراُمت‘ اُمت بھر کی جدید سرگرمیاں اور حالات سے آگہی کاسبب بنتا ہے۔


احمد علی محمودی ، حاصل پور

’آپریشن شمالی وزیرستان ___ بے لاگ انتباہ!‘(فروری ۲۰۱۴ء) میں پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے چشم کشا حقائق بیان کیے ہیں۔ یہ امریکا کی شکست نہیں بلکہ اس نظام کی شکست ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر نظامِ جبر قائم ہوا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں (ناٹو افواج) کو اب صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ان کا برپا کیا ہوا نظام زمیں بوس ہونے کو ہے۔ اس شکست و ریخت سے عالمی سطح پر تبدیلیاں رُونما ہوں گی۔


عبدالغافر الصلاح ، لاہور

’جمہوریت یا اسلامی انقلاب؟‘ (فروری ۲۰۱۴ء) کے تحت مولانا مودودیؒ کی رہنمائی سے اُمید و استقامت کا وہ پہلو نمایاں ہوتا ہے جو کسی بھی پُرامن اور انسانیت کی خیرخواہ جماعت یا فرد کی جدوجہد کا لازمی اور ناگزیر حصہ ہے۔ اسی درسِ استقامت کی عملی مثال محترمہ فاطمہ کے قبولِ اسلام اور پھر اُن کی کاوش سے پورے گھرانے کے قبولِ اسلام میں دکھائی دیتی ہے۔ دعوتِ دین اور اشاعت ِ دین کی ہر تحریک اور اس تحریک سے وابستہ ہرفرد کے لیے لائحہ عمل یہی ہے کہ وہ مسلسل اور پیہم پیغام دین کے ابلاغ کا حق ادا کرے اور اس کے لیے جس قدر پُرامن ذرائع اور وسائل میسر ہوں اُن سے کام لے۔


عقیل امین احمد لون ، جہلم

’افغانستان میں جنگ کے اثرات و نتائج‘ (فروری ۲۰۱۴ء) پروفیسر امان اللہ شادیزئی کا چشم کشا مضمون پڑھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ویت نام میں شکست کھانے کے بعد امریکی استعمار اِس وقت افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار ہے۔ امریکا کو یہ شکست اس حال میں ہورہی ہے کہ اس کے تمام ایٹمی حلیف اپنے پورے سازوسامان سمیت اس کے ہم نوا ہیں۔ امریکا کی شکست کی وجہ سے پورا نظامِ سرمایہ داری لرزہ براندام نظرآرہا ہے یہ اس وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ مسلم مجاہدین نے عزیمت اور پامردی دکھائی ہے۔ اب وقت آرام سے بیٹھنے کا نہیں ہے بلکہ اگلے مرحلے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کا ہے تاکہ جہادافغانستان کے ثمرات کو پوری طرح سمیٹا جاسکے۔ ہمارا سیکولرمیڈیا اور بیوروکریسی اس بات پر ’انعام‘ کے حق دار ہیں کہ انھوں نے اُمت مسلمہ کو امریکا سے خوف زدہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔


عمران ظہور غازی ، لاہور

’قبولِ اسلام اور دعوت کی تڑپ‘ (فروری ۲۰۱۴ء) میں فاطمہ (سابقہ لکشمی بائی) کی داستان بہت ایمان افروز ہے اور دعوتِ دین کے لیے تڑپ اور تحریک کا باعث ہے۔ ’افغان: جنگ کے اثرات اور نتائج‘ نیز ’بنگلہ دیش جماعت اسلامی نشانہ کیوں؟‘ مفید معلومات پر مبنی ہیں۔


٭تصحیح٭

  • آپریشن شمالی وزیرستان__ بے لاگ انتباہ‘ (’اشارات‘ ،فروری ۲۰۱۴ء) میں طباعت کی دو ایسی غلطیاں ہوگئی ہیں جن کی تصحیح ضروری ہے۔ صفحہ ۲۲ پر آخری سطر اور صفحہ ۲۳ پر دوسرے پیراگراف کی پہلی سطر میں ’قبائلی علاقہ جات‘ کی جگہ ’شمالی علاقہ جات‘ شائع ہوگیا ہے جس سے غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔ مقصد فاٹا کے علاقے کی اصلاحات ہیں۔ اسی طرح صفحہ ۲۳ پر پیراگراف کی دوسری سطر میں FATA شائع ہوا ہے حالانکہ وہاں مقصود PATA ہے جسے صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرلیا گیا ہے اور صوبے کی حکومت اور اسمبلی وہاں کے معاملات کی اب اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح باقی صوبے کی۔
  • کلامِ نبویؐ کی کرنیں (فروری ۲۰۱۴ء) میں درج ذیل دعا سہواً مکمل شائع نہ ہوسکی۔ اب تصحیح کے بعد پیش ہے:  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُرَدَّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَاَعُوْذُبِک مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا  وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ (بخاری، حدیث ۲۸۲۲) ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ گھٹیا عمر تک لوٹا دیا جائوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں عذابِ قبر سے‘‘۔

سوال یہ رہ جاتا ہے کہ الاخوان المسلمون خلافِ قانون کیوں قرار دی گئی؟ اور یہ سازش اور   یہ منصوبہ کس لیے؟

میری نگاہ میں اس کی دو بڑی وجوہ ہیں:

  1. ایک وجہ ___ اور فوری وجہ ___ تو یہ ہے کہ انگریزوں سے دب کر صلح کرنے اور امریکا سے منہ مانگی امداد لینے کی راہ میں الاخوان المسلمون حائل تھی۔ یہ لمبی چوڑی باتیں کرنے والے  فوجی سورما انگریزوں اور امریکیوں کے سامنے جس طرح سرِتسلیم خم کر رہے ہیں اُس کا حال عام لوگوں کو نہیں معلوم لیکن آہستہ آہستہ معلوم ہوجائے گا۔ درحقیقت ’اخوان‘ پر سازباز کا الزام رکھنے والے خود سازباز کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔۱؎
  2. دوسری ___ اور اصل وجہ___ یہ ہے کہ آمریت، اور خصوصاً فوجی آمریت، اپنا حریف نہیں دیکھ سکتی۔ پھر حریف بھی ایسا حریف ہے جو بااصول ہو، منظم ہو اور راے عام پر اثرانداز ہوسکتا ہو۔۲؎

ٹائمز لندن کے نامہ نگار نے فوج کے عزائم کا خلاصہ جن الفاظ میں دیا ہے ہم اُن پر تحریر کو ختم کرتے ہیں: ’’ہم دین کے نام پر آیندہ کسی رجعت پسندانہ ٹریجیڈی کا اعادہ نہیں ہونے دیں گے!‘‘(’الاخوان المسلمون کا جرم‘، مولانا مسعود عالم ندوی٭، ترجمان القرآن،جلد۴۱، عدد۶، جمادی الثانی ۱۳۷۳ھ، مارچ ۱۹۵۴ء، ص۶۶-۶۷)

________________________________________________________________

۱-            جیسے جماعت اسلامی پر ’امریکی امداد‘ کا الزام دھرنے والے وہ ہیں جو خود ’امریکی امداد‘ کے لیے بے چین تھے۔

۲-            تیسری وجہ__ اور مستقل__ وجہ یہ بھی ہے کہ مصر کے انقلابی فوجی افسر مصری معاشرے کی تعمیر جس غیراسلامی فرنگی نقشے پر کرنا چاہتے ہیں اور عوام کے ذہن و کردار کو آرٹ اور کلچر کے جس رنگ میںرنگنا چاہتے ہیں،    اس میں کسی اسلامی دعوت و تحریک کا وجود رخنہ انداز ہوتا ہے، لہٰذا یہ کانٹا راستے سے ہٹائے بغیر چارہ نہ تھا۔

٭             مولانا مسعود عالم ندوی کا انتقال اسی سال ۱۶مارچ۱۹۵۴ء کو ہوا۔