فاضل مرتب نے اس موضوع پر ۲۰۰۲ء میں اپنے مطالعے کو پیش کیا تھا، تاہم ۱۱برس بعد دوبارہ یہ موضوع ایک نئی کتاب کے رُوپ میں نظرنواز ہوا ہے، جس میں بیسویں صدی میں شائع ہونے والے اُردو رسائل و جرائد کے ۱۰۱خصوصی قرآن نمبروں کا تعارف ہے۔
قرآن خالق کائنات کا اَبدی پیغام ہے۔ اس پر غوروفکر کے ہزاروں اسلوب ہیں اور لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے بے شمار ڈھنگ اسلام کے پرستاروں نے اختیار کیے ہیں۔ انھی میں ایک طریقہ رسائل و جرائد کے قرآن پر خصوصی شمارے ہیں۔ پروفیسر اقبال جاوید نے اس ضمن میں اپنے انتخاب کا آغاز سیّد حسن بقائی کے ماہ نامے پیشوا، دہلی (جنوری ۱۹۳۳ء) سے کیا اور خالد سیف اللہ رحمانی کے سہ ماہی حرا ، حیدرآباد دکن (جولائی ۲۰۰۰ء) پر تمام کیا ہے۔
مرتب نے اس چیز کا خاص خیال رکھا ہے کہ اس کتاب سے عام قاری استفادہ کرسکے، اور وہ تحقیق و تجزیے کے بوجھل دائرے میں جانے کے بجاے یہ جان سکے کہ: ان خصوصی اشاعتوں میں قرآن سے محبت اور قرآن کی خدمت کن رنگوں اور کن لہجوں میں کی گئی ہے۔ کس اشاعت نے کس پہلو کو فوقیت دی اور کس پہلو پر غوروفکر کے لیے ندا بلند کی۔ گویا کہ یہ مجموعہ ہمیں بیسویں صدی میں، اُردو خواں طبقے کی حب ِ قرآن کی ایک جھلک دکھا دیتا ہے۔(سلیم منصور خالد)
اس کتاب میں فاضل مصنف نے ۳۰موضوعات کے تحت روزے کے انقلابی پہلوئوں کو بیان کیا ہے۔ رب سے تعلق، خود اپنی تربیت اورتزکیہ، اور پھر انسانی زندگی کے ہرہر پہلو اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہرہردائرے میں روزے کا جو کردار ہے اسے سادہ زبان میں اور نہایت محکم دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک آئینہ ہے جس میں اسلامی زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے اور قرآن اور اسوہ نبویؐ کی روشنی میں پوری زندگی کی صحیح خطوط پر تعمیروتشکیل کی جاسکتی ہے۔ اس میں جس جامعیت کے ساتھ زندگی کے روحانی، اخلاقی، معاشرتی اور تہذیبی، غرض ہمہ پہلوئوں پر روزے کے اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے وہ اسے ایک منفرد علمی اور دعوتی کاوش بنا دیتا ہے۔ اس مجموعے کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں رمضان المبارک کے دوران جو اہم تاریخی واقعات رُونما ہوئے ہیں انھیں بھی بڑے ایمان افروز انداز سے ایک خوب صورت یاد دہانی کے طور پر بیان کردیا گیا ہے اور اس طرح سندھ میں اسلام کی آمد، غزوئہ بدر کا فیصلہ کن تاریخی موڑ اور قیامِ پاکستان بھی اس سنہری سلسلے کی کڑیاں بن جاتی ہیں۔(مسلم سجاد)
رمضان المبارک آتا ہے تو روزے کے حوالے سے مختلف امراض کے بارے میں رسائل میں مضامین پر نظر پڑتی ہے لیکن یہ غالباً پہلی دفعہ ہے کہ اس موضوع پر ایک جامع کتاب ایک ماہرفن نے پیش کی ہے۔ ڈاکٹر محمد واسع شاکر اعصابی امراض کے ماہر ہیں اور آغا خان یونی ورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ ان کے وہ ۳۰لیکچر ہیں جو رمضان ۲۰۱۲ء میں ویب ٹی وی چینل ’راہ‘ ٹی وی سے نشر ہوئے۔ پہلے دو باب اسلامی تصورِ عبادت اور سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں صحت و غذا کے بارے میں ہیں۔ صحت پر تراویح کے اثرات پر ایک الگ باب ہے۔ صحت کے حوالے سے روزے کے بارے میں جو عام غلط تصورات رائج ہیں ان کا بھی بیان ہے، پھر روزے کے جسمانی اثرات اور مختلف امراض: بلڈپریشر، امراضِ قلب، ذیابیطس، گردے، جگر، معدے اور آنتوں کی بیماریاں، نفسیاتی بیماریاں، جوڑوں کی بیماری، حتیٰ کہ دانتوں پر اس کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کا بیان ہے۔ طبی ثمرات کے عنوان کے تحت مثبت اثرات بیان کیے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا اور یورپ میں اس موضوع پر بہت ریسرچ ہورہی ہے اور اسے مختلف امراض کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کتاب صرف ڈاکٹروں اور مریضوں کی رہنمائی نہیں کرتی، بلکہ عام افراد کے لیے بھی اس میں ضروری بنیادی معلومات موجود ہیں۔ (مسلم سجاد)
اگر دورِحاضر کی مسلم نابغۂ عصر شخصیات کی ایک فہرست بنائی جائے تو چند ابتدائی ناموں میں ڈاکٹر محمدحمیداللہ کا نام ضرور موجود ہوگا۔ علومِ اسلامیہ کے یہ نام وَر اسکالر اور محقق ۱۲برس پہلے ۱۷دسمبر ۲۰۰۲ء کو انتقال کرگئے تھے۔ زیرنظر کتاب کے مرتب محمد راشد شیخ کے الفاظ میں: ’’ڈاکٹر صاحب مرحوم کا انتقال صرف ایک انسان کا گزرنا نہیں بلکہ دراصل یہ ایک طویل اور علمی خدمات سے بھرپور عہد کا بھی خاتمہ تھا‘‘۔ گذشتہ ۱۲برسوں میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے عقیدت مندوں نے ان کے خطوط اور ان کے سوانح اور علمی خدمات پر لکھے جانے والے سیکڑوں مضامین پر مشتمل متعدد مجموعے تیار کر کے شائع کیے ہیں۔
محمد راشد شیخ صاحب نے ڈاکٹر محمد حمیداللہ سے اپنی عقیدت و ارادت کا ثبوت زیرنظر کتاب کی شکل میں پیش کیا ہے۔ جیساکہ کتاب کے ضمنی عنوان سے ظاہر ہے، پہلا حصہ بعنوان: ’احوالِ ذاتی‘ سوانحی تفصیلات پر مشتمل ہے جس میں مرحوم کے بھتیجے احمد عطاء اللہ کے ساتھ خود ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے تین مضمون شامل ہیں جن کی نوعیت خودنوشت کی سی ہے۔ دوسرے حصے میں مرحوم کی تحریروں کی فہرست کو کتابیات کے اصول پر خود راشد شیخ صاحب نے مرتب کیا ہے۔ تقریباً ۳۰۰ صفحات پر مشتمل تیسرے حصے میں مرحوم کی علمی اور ادبی خدمات، ان سے ملاقاتوں کی یادداشتوں اور ان کی وفات پر لکھے جانے والے تاثراتی مضامین جمع کیے گئے ہیں۔ اس حصے کی حیثیت ایک طرح سے ’یادنامہ‘ کی ہے۔ لکھنے والوں میں علومِ اسلامیہ ، عربی زبان، اُردو ادب اور صحافت سے تعلق رکھنے والے بعض نام وَر اور ثقہ نام (ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ، ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی، ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر محموداحمد غازی، مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، حکیم محمد سعید، پروفیسر محمد منو ر اور محمد صلاح الدین وغیرہ) نظر آتے ہیں۔آخری حصے میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے ۱۵۰ سے زائد منتخب خطوط جمع کیے گئے ہیں اور مرتب نے ان پر مختصر حواشی بھی تحریر کیے ہیں۔
علمی دنیا میں ڈاکٹر حمیداللہ کے سیکڑوں عقیدت مند موجود ہیں، اور وہ مرحوم سے غیرمعمولی لگائو اور محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں مگر مرحوم کے بارے میں بہت کم لوگوں نے اچھی، یادگار تحریریں لکھی/کتابیں تیار کی ہیں۔ راشد شیخ کی مرتبہ زیرنظر ایک ایسی جامع کتاب ہے جس میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے بارے میں تمام ضروری معلومات و کوائف یک جا مل جاتے ہیں اور ان کی علمیت اور علمی کارنامے کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
خلافت ِ اسلامیہ کا دور، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے روزِ انتخاب (۶۳۲ء) سے شروع ہوکر اتاترک کے ہاتھوں عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی کی معزولی (۱۹۲۴ء) تک قائم رہا۔ یہ عرصہ ۱۳۳۱ سالوں پر محیط ہے۔
اتاترک کے ہاتھوں تنسیخ خلافت (۱۹۲۴ء) کے دو سال بعد ۱۹۲۶ء میں ملت اسلامیہ کے چند بزرگ: سلطان عبدالعزیز والی سعودی عرب، سیّد سلیمان ندوی، علامہ رشید رضا، مفتی امین الحسینی، محمد علی جوہر، مفتی کفایت اللہ دہلوی، موسیٰ جار اللہ، محمد علی علوبہ پاشا اور رئیس عمر (انڈونیشیا) حج کے موقعے پر مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے اور ’موتمرالعالم اسلامی‘ کا قیام عمل میں آیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے اس کا صدر دفتر کراچی میں ہے۔ موتمر کے مرحوم سیکرٹری ڈاکٹر انعام اللہ خان نے تقریباً ۲۵ سال پہلے ایک فاضل شخصیت مولانا عبدالقدوس ہاشمی سے فرمایش کرکے یہ کتاب لکھوائی تھی۔ اپنے موضوع پر بہت عمدہ اور حوالے کی کتاب ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کا اختصار اور جامعیت ہے۔خلافت کی ۱۳۳۱ سالہ تاریخ کو پونے تین سو صفحات میں بیان کر کے گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا گیاہے۔ ’خلافت‘ کے تحت خلافت کے اصولوں، خلافت کی افادیت اور ادارہ خلافت کی عدم موجودگی میں اُمت مسلمہ کے نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا کے تقریباً ۵۰مسلم ممالک اگر آج بھی مل کر ادارہ خلافت قائم کرلیں تو مصنف کے بقول: ’’شاید دنیا کی تقدیربدل جائے‘‘۔ مصنف نے خلافت کے قیام کے لیے چند تجاویز بھی دی ہیں۔ دوسرے حصے میں ۲۰صفحات کا ایک گوشوارہ خلفاے اسلام کے ناموں، ان کے زمانۂ خلافت اور ان کے دارالخلافوں کے ناموں پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور کے چند اہم واقعات (زکوٰۃ کی ادایگی سے انکار، سرحدوں پر حملے اور پانچ افراد کے نبوت کے دعوے وغیرہ) کا ذکر ہے۔ اسی طرح ایک ایک کر کے جملہ مابعد خلفا کے حالات، ان کے دورِ خلافت کے عام اقدامات، طرزِ حکومت، فتوحات اور ان کے کارناموں کا بیان ہے۔ اُموی اور عباسی خلفا (وہ خود کو ’خلفا‘ کہتے تھے، حالانکہ تھے: ’بادشاہ‘)کا تذکرہ اور ان کے عہد کے واقعات نسبتاً مختصر ہیں۔ کتاب میں تفصیل کی گنجایش ہی نہ تھی تاہم چیدہ چیدہ واقعات اور اہم باتیں شامل ہیں۔ آخر میں عثمانی خلفا کے حالات اور ان کی فتوحات کامختصر ذکر ہے۔
اس کتاب کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ ۱۳۳۱ برسوں کے حالات و واقعات کا زمانی گوشوارہ (chronology) ہے جس میں ممکن حد تک ہرخلیفہ کی تاریخ پیدایش، تاریخِ وفات اور عہدخلافت کا زمانہ، اسی طرح اس کی مدتِ خلافت کا تعین کیا گیا ہے۔ حوالے کی یہ کتاب بہت سی ضخیم کتابوں کا نچوڑہے۔ پونے تین سو صفحات کے کوزے میں ساڑھے تیرہ سو سال کی طویل مدت کا دریا بند کرنا آسان نہ تھا مگر فاضل مصنف نے یہ کردکھایا۔(رفیع الدین ہاشمی)
ادبیات میں تخیل کی رفعت تاثیر اور تخلیقی حُسن فن پارے کی بقا اور مقبولیت کا ضامن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم و نثر کے ظہور کے ساتھ ہی زمانے کی نظریں اس کے حُسن و قبح، فنی معیار اور ادبی محاسن پر مرتکز ہوجاتی ہیں۔ تحسینِ نظم و نثر کے پیمانوں پر پورا اُترنے والے ادب پاروں کو قبولِ عام کی سند سے نوازا جاتا ہے۔ یہی ادب پارے زندہ رہتے ہیں، جب کہ غیر معیاری تحریریں زمانے کی گرد میں دب کر فراموش کردی جاتی ہیں۔
زیرتبصرہ کتاب میں جدید اُردو شاعری اور نثر کے میلانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تنقیدی مضامین گذشتہ ۲۵ ، ۲۶ برسوں میں لکھے گئے، تاہم ان مباحث کی تازگی اور اسلوبِ بیان کی شگفتگی آج بھی قائم ہے۔ ان میں بعض مضامین کتابوں پر تبصرے کے ذیل میں آتے ہیں اور بعض نگارشات علمی، تنقیدی اور تجزیاتی ہیں۔ مجیدامجد کی شاعری کا زمان و مکان کے حوالے سے جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مجیدامجد کے ہاں وقت مجتمع ہوکر لمحہ موجود میں سمٹ آیا ہے۔ مجیدامجد کے ہاں زمانے کے حوالے سے مسلسل ایک ارتقائی سفر پایا جاتا ہے(ص ۲۳)۔ وقت کی بحث وزیرآغا کی تین کتابوں: شام اور سایـے، دن کا زرد پہاڑ اور نردبان کے جائزے میں بھی جاری رہتی ہے۔ وہی وقت جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ کائناتی تغیر کا احساس ہے (ص ۲۵)، مضمون ’زمان و مکان کی صلیب‘ میں ماضی، حال اور مستقبل کے الفاظ میں ڈھل جاتا ہے (ص ۹۱)۔ شعری مطالعے کے ۱۲ مضامین ہیں۔ پاکستان میں لکھی گئی اُردو کی جدید شاعری کے رجحانات، میلانات اور امکانات کا جائزہ لے کر اُردو شاعری کے روشن مستقبل کی نوید سنائی گئی ہے۔
نثری مطالعے میں بھی کتابوں پر تنقید، محاکمہ اور مبصرانہ نکتہ طرازیان ملتی ہیں۔ول ڈیورانٹ اور ان کی اہلیہ کی تصنیف The Lessons of History کا تنقیدی جائزہ مصنف کی وسیع النظری، ژرف نگاہی اور ان کی عادلانہ نکتہ آفرینیوں کا ثبوت ہے۔ انھوں نے مصنفین کی جانب داری، تعصب اور اسلام دشمنی کی نشان دہی کرتے ہوئے مدلل و مسکت جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ قرآنِ مجید کو یہودیت سے ماخوذ قرار دینے والے ان بے خبر مصنفین کو مضمون نگار نے سورئہ فرقان کی آیت ۴،۵ کے حوالے سے حقیقت حال سے باخبر کیا ہے۔ سیرت النبیؐ پر لکھنے والوں کے لیے یہ مسئلہ ہمیشہ زیربحث رہا ہے کہ وہ ضعیف اور مرفوع روایات سے دامن کیسے چھڑائیں۔ مضمون نگار نے سوال اُٹھایا ہے کہ ہمیںفیصلہ کرنا ہے کہ ترجیح کس کو دیں؟ حدیث کو یا تاریخ کو؟ (ص۱۷۹)۔ ہمارے خیال میں شبلی نعمانی نے اس سوال کا جواب سیرت النبیؐ (جلداوّل) میں دینے کی کوشش کی ہے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ کتاب کے صفحہ ۱۱۴ اور صفحہ ۱۱۵ پر دی گئی قرآنی آیات، پاک وہند میں متداول قرآنِ مجید کے عربی متن کے مطابق نہیں ہیں۔(ظفرحجازی)
عبدالقادر مُلّاؒ کی شہادت بلاشبہہ اہلِ اسلام کے لیے ایک المیہ ہے، مگر اصل المیہ یہ ہے کہ پورا عالم اسلام (چند مستثنیات کے سوا) سویا ہوا ہے۔ دوسروں کا تو کیا گِلہ، خود پاکستان جس کی بقا اور تحفظ کے لیے مُلّا عبدالقادر اور ان کے ساتھیوں نے جان کے نذرانے تک پیش کردیے، اسی پاکستان کی حکومت اور اسی حکومت کے ذمہ داران اپنی مصلحتوں اور ناقابلِ فہم مجبوریوںکی بنیاد پر مُہربہ لب ہیں۔
پاکستان کا شاید ہی کوئی اخبار یا رسالہ ہوگا جس نے عبدالقادر مُلّا کی شہادت کے سانحے پر تبصرہ نہ کیا ہو اور بہت کم کالم نگار ایسے ہوں گے جو اس موضوع سے بے نیازانہ گزرے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اتنی بڑی زیادتی، بے انصافی، بے اصولی اور بددیانتی کو ’غیر جانب دار‘ لوگ بھی برداشت نہیں کرسکے، مگر آفریں ہے پاکستان کی ایک بڑی ’عوامی‘ پارٹی کے مرکزی راہ نما پر جنھوں نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ جو کچھ بنگلہ دیش میں ہو رہا ہے، وہ یہاں بھی ہونا چاہیے۔ یہ فرمان اُس ہونہار راہ نما کا ہے جس کے نانا نے کہا تھا: ’اُدھر تم اِدھر ہم‘ اور یہ کہ: ’’اسمبلی کا جو رکن اجلاس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی‘‘۔ اس نوخیز نادان کو یہ اندازہ نہیں کہ غیرذمہ دارانہ اور اُوٹ پٹانگ بیانات کے نتائج افراد اور جماعتوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ملکوں اور قوموں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ بہرحال عبدالقادر مُلّا تو ؎
یہ رُتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدّعی کے واسطے دار و رَسن کہاں
کی مثال قائم کرگئے۔ اب انصاف اور انسانیت کے سفاک قاتلوں کا یومِ حساب زیادہ دُور نہیں ہے___ اور: ’لہو پکارے گا آستیں کا‘‘۔
پاکستان کی تاریخ میں غالباً کسی سانحے پر ایسا کم ہی ہوا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مضامین اور کالم اور اداریے لکھے گئے ہوں۔ سلیم منصور خالد نے بڑی جستجو کے ساتھ یہ ساری تحریریں جمع کیں، اور انھیں نہایت سلیقے اور خوش اسلوبی سے مرتب کردیا۔ کتاب کا مقدمہ پروفیسر خورشیداحمد کے قلم سے ہے۔ اشاریے نے کتاب کی وقعت بڑھا دی ہے۔ یہ کتاب ایک ایسا آئینہ ہے جس میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے حکمرانوں اور اہلِ اقتدار و اختیار کو بہت کچھ نظر آئے گا۔ ہمارا مؤرخ اس کتاب کی مدد سے تاریخ دعوت و عزیمت کا ایک اہم باب مرتب کرسکے گا۔ تادمِ تحریر، دو اڑھائی ماہ کی قلیل مدت میں اس کتاب کا چوتھی بار شائع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اہلِ پاکستان اس المیے سے کس درجہ قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)
ماہ نامہ فانوس کی زیرنظر اشاعت ِ خاص کا بڑا حصہ زاہدہ خاتون شیروانیہ کی کلیات پر مشتمل ہے (ص۹ تا ۴۰۴)۔ مرتب خالد علیم نے کلیات کے ابتدا میں ۳۲صفحات کا مقدمہ بھی شامل کیا ہے۔
زاہدہ خاتون شیروانیہ بیسویں صدی کے ربع اوّل کی معروف شاعرہ تھیں۔ انھوں نے اپنی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کے باعث دنیاے ادب پر اپنے اثرات ثبت کیے۔ اکبر الٰہ آبادی اور علامہ اقبال جیسی شخصیات نے بھی ان کی خدمات کو سراہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دنیاے ادب نے زاہدہ خاتون شیروانیہ کو فراموش کردیا۔ خالد علیم صاحب نے انھیں دریافت کر کے اور بزمِ فانوس نے اسے شائع کر کے علم دوستی کا ثبوت دیا ہے۔
زاہدہ خاتون فکرِاقبال سے متاثر تھیں۔ ہم انھیں حالی، اکبر اور اقبال جیسے اکابر کا تسلسل کہہ سکتے ہیں۔ ان کی شاعری میں سوز و گداز اور اُمت مسلمہ کا درد واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وہ غلامیِ فرنگ اور اس پر قانع مسلمانوں سے نالاں نظر آتی ہیں۔ وہ خداے ذوالجلال کے حضور فریاد کرتی ہیں۔ اہلِ اسلام کو جھنجھوڑتی ہیں کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں۔
اپنے دور کی مقامی اور عالمی سیاسی صورت حال پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ انھوں نے تقسیم بنگال کی تنسیخ، جنگِ طرابلس، جنگ ِ بلقان، شہادتِ مسجد کان پور اور پہلی جنگ عظیم جیسے سانحات کو بنظر تعمق دیکھا، محسوس کیا اور ان پر اپنا شعری ردعمل ظاہر کیا۔
زاہدہ خاتون ۲۷سال اور دو ماہ کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جاملیں۔ زندگی میں انھوں نے نہ صرف شاعر بلکہ اُمت مسلمہ کی راہنما کے طور پر بلند مقام حاصل کیا۔ اس مختصر مدت میں انھوں نے شاعری کا ایسا ذخیرہ چھوڑا جو اُردو کے بعض کہنہ مشق اور بزرگ شعرا کے مقابلے میں پیش کیا جاسکتا ہے، خصوصاً ملّی شاعری کے حوالے سے۔
خالد علیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں کہ انھوں نے محنت اور دیدہ ریزی سے اس کلیات کو مرتب کیا ہے۔ اسے الگ کتابی صورت میں بھی شائع کرنے کی ضرورت ہے۔(قاسم محمود احمد)
’مصر: انتخابی ڈراما‘ (جون ۲۰۱۴ء) میں عبدالغفار عزیز صاحب نے مصر کے حالیہ صدارتی انتخابات کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔ سیسی آمریت نے جس طرح اخوان کی اعلیٰ قیادت کو سزائیں سنائیں، بڑی تعداد میں کارکنوں کو جیل میں ڈالا، ہزاروں کو شہید کیا اور جس سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امریکا نواز مصری فوجی قیادت نے اخوان کی منتخب حکومت پر شب خون مارا، ایسی سفاکیت کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پھر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے انتخابات کا ڈھونگ رچایا۔ اس سب کے باوجود اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ انھوں نے اللہ کے بھروسے پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا کہ باطل تو مٹنے ہی کے لیے ہے اور حق کو بالآخر غالب آکر رہنا ہے۔
’رسائل و مسائل‘ (جون ۲۰۱۴ء) میں ایک بہن نے اپنے شوہر کی دوسری شادی کے حوالے سے سوال اُٹھایا تھا، جس کے جواب کی تفصیل سے یہ بات مترشح ہورہی ہے کہ گویا اسلام یک زوجگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اس حوالے سے قرآن کی آیت اور اصول لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا(البقرہ ۲:۲۸۶)سے استدلال بھی درست نہیں ہے، اس لیے کہ انسانی مزاج مختلف ہیں اور کسی شخص کے لیے تکلیف بما لایطاق کا فیصلہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ جواب میں لکھا گیا ہے: ’’اس پس منظر میں سوال کے پہلے پہلو پر غور کیا جائے تو یوں نظر آتا ہے کہ سورئہ نساء میں چار کی حد تک اجازت کا سیاق و سباق عموم کا نہیں بلکہ حالت ِ اضطرار کے قریب تر ہے۔ چنانچہ اصلاً زور اس بات پر ہے کہ ایک کے ساتھ نکاح ہو اور اس کے ساتھ عدل کا رویہ اختیار کیا جائے۔ یہ عدل محض مادی معاملات میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں نفسیاتی، دینی اور روحانی تعلق کے ساتھ تمام معاشرتی پہلوئوں سے عدل شامل ہے‘‘۔ (ص ۹۹)
جس آیت میں نکاح کے لیے آغاز مَثْنٰی سے کیا جا رہا ہے اس سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ چار کی اجازت حالت ِ اضطرار کے قریب تر ہے، یا پھر ’’اصلاً سارا زور اس پر ہے کہ ایک کے ساتھ نکاح ہو‘‘، یہ استدلال محل نظر ہے۔ درست بات یہ ہے کہ اسلام نہ تو یک زوجگی پر اصرار کرتا ہے اور نہ ایک سے زیادہ شادیوں ہی پر اصرار کرتا ہے بلکہ اسے مختلف مزاج، طبیعتوں اور عدل کرسکنے کی صورت پر چھوڑ دیا ہے۔
’اسلامی نظام: سیاسی ذرائع سے قیام ممکن ہے؟‘ (اپریل ، مئی ۲۰۱۴ء) بہت اہم ہے۔ یہ مضمون اُن لوگوں کی اُلجھنوں کو صاف کردے گا جو ملک میں ہونے والے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد جماعت اسلامی کی اِس میدان میں کوششوںسے مایوس ہوکر نئے نئے طریقۂ انقلابات پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے باطل ہونے کا پروپیگنڈا کرتے ہیں، لیکن جمہوریت سے ہٹ کر اس سے بہتر نظام کو مدلل طریقے سے پیش نہیں کرپاتے۔ یہ مضمون غوروفکر کا متقاضی ہے، نیز اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔
ماہِ جون کا شمارہ بہت پسند آیا۔ ’اشارات‘ ، ’عمرانی علوم: حقیقت ِ حال اور مستقبل‘، ’مغرب میں مسلم آبادی: اضافہ اور اثرات‘ اور اخباراُمت کے تحت ’مصر: انتخابی ڈراما‘___ تمام ہی مضامین بہت اچھے ہیں۔ تجویز ہے کہ ’رسائل و مسائل‘ کو کتابی شکل میں شائع کرنے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے۔
’اسلامی نظام: سیاسی ذرائع سے قیام ممکن ہے؟‘ (اپریل ، مئی ۲۰۱۴ء) کے تحت اہم نکات کو زیربحث لایا گیا ہے۔ تاہم سوال یہ رہ جاتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ (جو مجلس شوریٰ کا مقام رکھتی ہے) میں ایسے افراد کیسے لائے جائیں جو اہل، امانت دار اور دین کا علم رکھنے والے ہوں؟ اس سلسلے میں دستور کی دفعات ۶۲-۶۳ کچھ حدود قائم کرتی ہیں لیکن ان کو بروے عمل لانے کے لیے جو قواعد و ضوابط ہونے چاہییں وہ منظرعام پر نہیں آئے۔ دستور کی ہردفعہ کے تحت تفصیلی ہدایات، قواعد و ضوابط نافذ ہوتے ہیں۔ ان قواعد و ضوابط کے نفاذ اور عام کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اہلِ علم و دانش اور ارباب اقتدار کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ پاکستان کو واقعتا اسلامی جمہوری ریاست کا عملی نمونہ بنایا جاسکے۔
ایک فی صد برسرِاقتدار طبقہ مغرب زدگی کے کوڑھ کواس ملک کی ۹۹ فی صد مسلم آبادی پر مسلط کردینے پر بضد ہے۔ حد یہ کہ راے عام کے دبائو کے تحت قراردادِ مقاصد میں اسلام کا کلمہ پڑھ لینے کے بعد ، پھر اس کے متوازی یہ روش بھی جاری رہی ہے کہ اخلاقی و معاشرتی لحاظ سے قوم کو اسلامی معیار سے اور زیادہ نیچے گرا دیا جائے۔ پھر مسودۂ دستور میں اسلام کے نمایاں اجتماعی تقاضوں کو صاف صاف لفظوں میں جذب کرلینے کے بعد بھی یہ الٹی مہم چلائی جارہی ہے کہ آرٹ اور کلچر اور ترقی کی اصطلاحات کے پردے میں عریانی اور فحاشی کا ایک ایسا طوفان اُٹھا دیا جائے جس کا پانی دستوری فیصلوں کے سر سے گزر جائے.....
اس موقعے پر جماعت اسلامی کی مجلسِ شوریٰ نے اپنی ایک قرارداد کے ذریعے اربابِ اقتدار کو بھی اس بارے میں متنبہ کیا ہے اور عوام کو بھی توجہ دلائی ہے۔ قراردادمنفی نوعیت کی نہیں، مثبت طور پر اسلامی ماحول بنانے کے لیے تعمیری تجاویز بھی سامنے لاتی ہے۔ اِن تجاویز میں ریڈیو اور سینما اور دوسری تفریحات کو اخلاق سوز سرگرمیوں سے ہٹاکر تعمیری مقاصد کے تابع کرنے، جائز تفریحات کے لیے شہروں اور قصبوں اور خاص طور پر نئی آبادیوں میں مناسب انتظامات کرنے، ملکی اور غیرملکی لٹریچر پر احتساب کی کڑی نگاہ جمائے رکھنے، مخلوط تعلیم کا سدِّباب کرنے، آرٹ اور کلچر کے نام سے ہونے والی سرگرمیوں میں وزرا اور سرکاری افسروں کے لیے حصہ لینے کی ممانعت کرنے اور زناکاری کے اڈّوں کا ملک بھر میں استیصال کرنے کے مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ وہ مفاسد ہیں جنھوں نے ہردور میں انسانیت کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہے اور جن کے مضر نتائج بار بار کے عالم گیر تجربوں سے نمایاں ہوچکے ہیں۔ خاص طور پر اسلامی نظامِ اخلاق ومعاشرت تو ان کے ہوتے ہوئے کسی درجے میں بھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔ پس ہر معقول آدمی ان تجاویز کی اہمیت کو محسوس کرسکتا ہے۔ ان میں خطاب صرف حکومت ہی سے نہیں کیا گیا بلکہ عوام سے بھی دردمندانہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی اپنے آپ کو اور اپنے بھائیوں کے اخلاق کو بچانے کی سعی کریں۔ (’اشارات‘ ، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۴۲، عدد۴، شوال ۱۳۷۳ھ،جولائی ۱۹۵۴ء، ص۷-۸)