مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۲۱

ہمارے اور آپ کے بچےسوشل میڈیااورموبائل کے دور میں بڑےخطرے میں گھرے ہوئے ہیں۔ بے راہ روی نے مغربی معاشرے کو بے شمار خباثتیں تحفے میں دی ہیں۔ اس بے لگام جنسی آزادی کے نتائج اُن کے سامنے ہیں۔اب ہمارے یہاں بھی وہ چیزیں ہورہی ہیں کہ جن کا معاشرتی بگاڑ کی راہیں ہموار کرنے میں کلیدی کردار ہے۔

پاکستانی معاشرے میں جہاں سیاسی اور معاشی مسائل موجود ہیں، وہیں بڑھتا ہوا اخلاقی انحطاط ہمارے لیے بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔ جنسی اخلاقی جرائم مغربی دنیا کے لیے تو زیادہ تعجب کا باعث نہ تھے، مگر ہمارے معاشرے میں ان مکروہ افعال کی وجہ سے معاشرتی تنزلی عیاں ہوتی جارہی ہے۔ عام آدمی تو کجا، مذہبی ذہن رکھنے والا بھی محفوظ نہیں۔ یہ مغربی تہذیب اور جدیدیت کے اثرات کا شاخسانہ ہے۔ معروف ادیب اور جدید فلسفے پر گہری نظر رکھنے والے دانش وَر احمدجاوید صاحب کا یہ فرمان گہری معنویت رکھتا ہے:’’جدیدیت ہمارے مذہبی حلیے کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیں اندر سے ماڈرنائز کرچکی ہے‘‘۔

اس سے بڑھ کر صدمہ انگیز یہ بات ہے کہ احساسِ زیاں کا بھی شعور ختم ہوتا جارہا ہے۔ جدیدیت کی مصنوعی دنیا میں بے لگام ٹیلی ویژن اور اس کے بعد اب آزاد اور کسی اخلاقی ضابطے کی پابندی کے بغیر سمارٹ فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا وہ تباہی مچارہے ہیں، جس کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو پاکستان کا اخلاقی و سماجی مستقبل خطرے میں ہے۔ ہرروز ٹیلی ویژن اسکرین پرجنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں، حالانکہ ان واقعات کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے، جو رپورٹ نہیں کی جاتی ہے۔۱۷جون ۲۰۲۱ء کی خبر کے مطابق: ’’بنوں میں دو افراد نے بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس کے والد سے ۷۰ ہزار روپے مانگے اور نہ دینے پر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی‘‘۔ بظاہر یہ صرف ایک واقعہ ہے۔اس سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کو نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کر کے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ایک گروہ کا انکشاف ہوا تھا جس کا سرغنہ مبینہ طور پرایک پولیس اہلکار نکلا تھا، جس میں ملزم اپنے ہدف بچوں کو پہلے چپس اور کولڈ ڈرنک پلا کر دوستی کرتا تھا۔ایسے واقعات کم و بیش ہرچھوٹے بڑے شہر اور دیہات و قصبات تک میں کسی نہ کسی شکل میں رُونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے طاقت ور نیٹ ورک سے منسلک ہوتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح کچھ عرصے بعد رہا ہوجاتے ہیں ۔

معاصر انگریزی اخبار ڈان کی اردو ویب سائٹ نےماضی میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس کے مطابق بچوں سے زیادتی کو دنیا بھر میں اہم مسئلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک کروڑ ۵۰ لاکھ ۱۵سے ۱۹ برس کی لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایشیا میں ۱۰ لاکھ سے زیادہ بچوں کو جنسی طور پر ہراساں یا زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جسم فروشی ایک ایسا ناسور ہے جو غربت کے شکار علاقوں میں بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ بچوں کا بہت بڑی تعداد میں لاوارث ہونا بھی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ملکوں کے بچوں کی قابلِ لحاظ تعداد بھی اس ناسور کا شکار ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ ایک لاکھ ۷۰ہزار بچے ’جنسی تجارت‘ میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ متاثرہ بچے بہت سے دوسرے بچوں کے لیے بھی عصمت فروشی کی ترغیب کا باعث بن جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ گھناؤنا کام صرف انفرادی بگاڑ اور ہوس کے نتیجے میں نہیں ہورہا بلکہ معاملہ اس سے بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ اب یہ کام پیسے کمانے کے لیے ہورہا ہے ،پوری دنیا میں ایک انڈسٹری بن گئی ہے ۔

پاکستان میں بھی اس وقت جسم فروشی کا منظم کاروبار ہورہا ہے، یہاں تک کے اس کاروبار میں بچوں کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان واقعات میں تیزی سے اضافے کا سبب کیا ہے ؟اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بچوں کی عریاں اور زیادتی پر مبنی فلموں کی صنعت ہر روز پھیل رہی ہے۔ اگرچہ کسی بھی ملک میں اس گھنائونے فعل کی اجازت نہیں، لیکن اس کے باوجود بدقسمتی سے یہ کاروبار ایک سو کھرب سے زائد سالانہ رقم کے ساتھ دُنیا بھر میں روز افزوں ہے۔چائلڈ پروٹیکشن فنڈ کے مطابق گھروں تک محدود انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کے لیے ایسے منفی رجحانات رکھنے والے افراد کی موجودگی بڑا خطرہ ہے اور خود انٹرنیٹ بچوں کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہوگیا ہے۔

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کی اخلاق باختہ فلموں کی تیاری کے لیے ترقی پذیر دنیا کے ممالک کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ ان میں نیپال، بنگلہ دیش، بھارت، افغانستان اور پاکستان سمیت کئی ممالک شامل ہیں۔ صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا، جو چند بچوں کو ناروے لے کر جا رہا تھا۔ یہ شخص اس کاروبار میں ملوث تھا۔ اس شخص کے قبضے سے ۶۵ہزار وڈیو کلپس اور تصاویر برآمد ہوئی تھیں۔اسی طرح فروری ۲۰۲۱ء کے مہینے میں ایکسپریس نیوزکے مطابق ایف آئی اے سائبرکرائم سرکل نے ’چائلڈ پورن‘ کاروبار سے منسلک ملزم کومتاثرہ بچے کی نشان دہی پر ایک اہم ہاؤسنگ سوسائٹی سے چھاپہ مارکر گرفتارکیا اورملزم کے قبضے سے سیکڑوں کی تعداد میں بچوں کی نازیبا تصاویراورویڈیوکلپ برآمد کیے تھے۔

یہ امرواقعہ ہے کہ کسی بھی قسم کی جنسی زیادتی کے حوالے سے بچے مجرموں کا ایک آسان شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال بچوں کے ریپ، اور ریپ کے بعد قتل کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ پاکستان میںزیادتی کا شکار ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمر اوسطاً ۵ سے ۱۱سال ہوتی ہے۔ اس گندے کھیل سے وابستہ لوگ بچوں کو بہلا پھسلا کر نہ صرف غلط تصاویر لیتے ہیں، بلکہ بچوں سے یہ بھی معلوم کرتے ہیں کہ اں کی رہایش کہاں ہے ،والدین گھر میں موجود ہیں یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

بچوں سے زیادتی کرنے والوں کی نفسیات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ امریکا کی دی نیویارک سوسائٹی فارچائلڈ ابیوز (NSCA) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر میری ایل کہتی ہیں کہ ’’بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کی نفسیات کو حتمی طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔ ایک جنسی حملہ آور کسی بھی وجہ سے متحرک ہوسکتا ہے۔ اس کی بایولوجیکل وجوہ بھی ہوتی ہیں، حملہ آور کی نفسیات منتشر ہوتی ہے، اسے بچوں کے چہرے متوجہ کرتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر میری ایل مزید بتاتی ہیں کہ ’’بچپن میں جنسی حملے کا شکار بھی کسی دوسرے بچے کو شکار بنا سکتا ہے۔اور پھر اخلاق باختہ ویڈیوز دیکھنا بھی اس جانب متوجہ کرسکتا ہے۔ پھر نشے کے شکار افراد، معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگ انتقاماً اس چیز میں ملوث ہوسکتے ہیں، لیکن ان سب محرکات کے باوجود آپ کسی ایک بھی وجہ کو اہم یا بنیادی وجہ نہیں کہہ سکتے۔ بچوں پر اخلاق باختہ ویڈیو میں ملوث افراد بھی بچوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ عمومی طور پر یہ لوگ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور بچے کے کسی واقف کار کو اُکسا کر اس کام پر لگا دیتے ہیں‘‘۔

اب سوال یہ ہے کہ مغرب کے اس ’عطاکردہ عذاب‘ سے بچنے کا علاج کیا ہے؟ جنسی تعلیم کو اس مسئلے کا حل قرار دیا جارہا ہے۔ کیا یہ علاج ہے یا جرائم کے اصل سبب سے فرار کا راستہ؟کیونکہ امریکا، لاطینی امریکا، اور یورپ وغیرہ میں جہاں جنسی تعلیم دی جاتی ہے، وہاں بھی بہت خوفناک صورتِ حال ہے ،یعنی جہاں یہ تعلیم ہے، وہاں بچوںکا زیادہ استحصال ہے۔

وزیراعظم عمران خان ٹیلی فون کے ذریعے عوام کے سوالات کے جوابات دینے کے پروگرام میں دیہی سندھ سے ایک شہری نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ ’’آئے روز بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہورہے ہیں، آپ کی حکومت نے کون سا قانون بنایا ہے؟ اور آج تک کسی کو سرعام پھانسی ملتی نہیں دیکھی‘‘۔ اس پر وزیراعظم نے بتایاکہ ’’زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت آرڈننس لائے ہیں، لیکن اس گھنائونے رویے اور جرائم کی روک تھام کے لیے صرف آرڈننس کافی نہیں، معاشرے کو بھی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ فیملی سسٹم کو بچانے کے لیے دین اسلام نے ہمیں پردے کا درس دیا۔ اسلام کے پردے کے نظریے کے پیچھے فیملی سسٹم بچانا اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جب آپ معاشرے میں فحاشی پھیلائیں گے تو جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ یورپ میں اب فیملی سسٹم تباہ ہوچکا ہے۔ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے میں نے صدرایردوان سے بات کی اور ترک ڈرامے کو یہاں لایا‘‘۔

وزیر اعظم کی بات بالکل درست ہے کہ محض آرڈننس اور ’زینب الرٹ‘ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جہاں ایک عام آدمی کو اپنا کردار ادا کرنا ہے، وہیں سب سے بڑی ذمہ داری ریاست کی بنتی ہے۔ ریاست کی ناک کے نیچے گھنائونے جرائم ہورہے ہیں، بین الاقوامی جرائم پیشہ افراد پاکستان میں کھل کھیل رہے ہیں۔ ہمارے بچے اُن کے نشانے پر ہیں،فحش لٹریچر کی بھرمار ہے،فحش فلموں پر مشتمل سی ڈیز سرعام بکتی ہیں، انٹرنیٹ پر بھی فحش مواد بکثرت موجود ہے ،اوران کی روک تھام کے لیے مجرموں پر ہاتھ ڈالنا اور انھیں سزا دلوانا ضروری ہے۔پھراس کے ساتھ بے لگام میڈیا پر ہاتھ ڈالنا اور فحش جنسی مواد کی روک تھام کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔دوسری طرف والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کے قریب رہیں۔ ان کے دوست بنیں۔ ماں ،باپ اور اولاد کے درمیان دُوری ہوتی ہے تو جرائم پیشہ ان کے قریب ہوتے ہیں۔لہٰذا، یہ بات طے ہے کہ معاشرے میں اخلاقی بگاڑ اور جنسی جرائم کو ختم کرنے کے لیے ریاست اور معاشرے دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

جرأتِ عمل اوراقامت ِدین

سوال : اگر ہم سے پہلے لوگ،  لغزشوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے، تو ہمارا دامن کیسے پاک رہ سکتا ہے اور اقامت ِ دین کے لیے ہم میں جرأت عمل کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟

جواب :انسان جب تک انسان ہے، اس کی سعی بشریت کے تقاضوں اور محدودیتوں سے پاک نہیں ہوسکتی۔ ہرشخص کو اپنی حد تک اپنا فرض بہتر سے بہتر طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے، اور ساتھ ہی ساتھ اللہ سے دُعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمیں ارادی لغزشوں سے بچائے اور غیرارادی لغزشوںکو معاف فرمائے۔ (سیّدابوالاعلٰی مودودیؒ)


جماعت کے پیچھے تنہا نماز کا حکم

سوال : تنہامقتدی اگر جماعت میں سب سے پیچھے نماز ادا کرے تو کیا اس کی نماز صحیح ہوگی؟

جواب :امام احمدؒ اورابن ماجہؒ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جماعت میں سب سے پیچھے تنہا نماز پڑھتے دیکھا۔ جب وہ شخص جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنی نماز کا اعادہ کرو کیونکہ تنہا پیچھے نماز پڑھنے والے کی نماز نہیں ہوتی ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ کی ایک دوسری روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے اس شخص کی نماز کے بارے میں دریافت کیا جو جماعت میں سب سے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اسے اپنی نماز کا اعادہ کرنا چاہیے۔

یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ ان کے علاوہ بھی دوسری صحیح احادیث ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت میں سب سے پیچھے تنہا نماز پڑھنے والے کی نماز صحیح نہیں ہوتی ہے۔ چنانچہ سلف صالحین اور امام احمد بن حنبلؒ کا یہی مسلک ہے۔البتہ ان کے علاوہ تینوں ائمہ، یعنی امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کا مسلک یہ ہے کہ اس کی نماز ادا ہوجائے گی مگر کراہت کے ساتھ۔

مذکور احادیث کی روشنی میں امام احمد بن حنبلؒ کا مسلک زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ حکمت اور اسلامی تعلیمات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تنہا نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہ ہو کیونکہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے ، جو اتحاد کی تعلیم دیتا ہے، جماعت کی رغبت دیتا ہے۔جماعت سے کٹ کر رہنا اور شذوذ کا راستہ اختیار کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی دراصل مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق سکھانے کی عملی تربیت ہے۔ اب ظاہر ہے جو شخص اتحاد و جماعت کا راستہ چھوڑ کر شذوذ و انفرادیت کا راستہ اختیار کرے گا تو اس کا یہ عمل اسلامی تعلیمات کے عین خلاف ہے اور اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔

بہرحال، یہ حکم اس حال میں ہے کہ جب کوئی شخص بے عُذر اور بغیر کسی سبب کے جماعت میں سب سے پیچھے تنہا نماز ادا کرے۔ البتہ اگر کسی عُذر کی بناپر ایسا کرتا ہے، مثلاً یہ کہ صف مکمل ہوچکی ہو اور کوئی جگہ نہ ہو اور مجبوراً پیچھے تنہا ہی نماز ادا کرتا ہے، تو اس صورت میں اس کی نماز صحیح ہوگی۔ بعض علما کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں یہ بہتر ہوگا کہ وہ اگلی صف سے کسی شخص کو کھینچ کر پیچھے اپنے برابر میں کرلے، تاکہ اس صف میں ایک کے بجائے دو ہوجائیں۔ مگر بعض علما یہ بھی کہتے ہیں کہ اس طرح اگلی صف سے کسی نمازی کو کھینچ کر پچھلی صف میں نہیں لانا چاہیے، اس سے اُس کی نماز میں توجہ متاثر ہوتی ہے۔(ڈاکٹر محمد یوسف قرضاوی)


پٹی بندھی ہونے کی حالت میں وضو

سوال : ہاتھوں میں یا انگلیوں میں پٹی بندھی ہو تو کیا اس پر وضو کرنا جائز ہے؟ کیونکہ پٹی کھول کر وضو کرنے کی صورت میں زخم کے بڑھنے یا مزید تکلیف دہ ہونے کا اندیشہ ہے؟

جواب :اگروضو کی جگہ پر کٹنے، جلنے یا ایسی ہی کسی وجہ سے پٹی بندھی ہو تو اس پر مسح کرکے وضو کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔

فقہاء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ پٹی باندھنے سے قبل وضو کرنا ضروری ہے یا نہیں۔ لیکن میری نظر میں راجح قول یہ ہے کہ پٹی باندھنے سے قبل وضو شرط نہیں ہے۔ اگر اس نے وضو کے بغیر ہی پٹی باندھ لی ہوتو اس پر بھی مسح کرسکتا ہے۔(ڈاکٹر محمد یوسف قرضاوی)

 

The Last Prophet Muhammad and The West [پیغمبر آخرالزماںؐ اور مغرب]: پروفیسر محمد اکرم طاہر۔ ناشر: سکسز ڈیزائنرز، ۳۷-رانا نرسری، اوکاڑہ۔ صفحات: ۴۹۹۔ قیمت: ۱۵۰۰، بیرونِ ملک ۲۰ ڈالر۔

زیرنظر کتاب پروفیسر محمد اکرم طاہر مرحوم (م: ۱۱؍اپریل ۲۰۲۱ء) کی آخری تالیف ہے۔ کچھ عرصہ قبل ان کی کتاب محمدؐ رسول اللہ ، مستشرقین کے خیالات کا تجزیہ  شائع ہوئی تھی۔ زیرنظر اُسی اُردو کتاب کا انگریزی رُوپ ہے۔مرحوم اُردو اور انگریزی ادبیات کے استاد تھے۔

رسولِ اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ صدیوں سے مستشرقین اور مغربی مصنّفین کا موضوعِ بحث و تقریر رہا ہے۔ معدودے چند: مستشرقین کو چھوڑ کر، باقی حضرات سیرتِ طیبہ پر چھینٹیں اُڑانے اور اس سے کیڑے نکالنے میں مشغول رہے۔ سرسیّد احمد خاں سے پروفیسر محمد اکرم طاہر تک بیسیوں مسلم اہلِ قلم نے مغربیوں کے ایسے سوقیانہ لٹریچر کی مدلل تردید میں کتابیں لکھی ہیں۔

کتاب تین حصّوں پر مشتمل ہے: پہلے حصے میں عربوں کے جاہلانہ تصورات کے پس منظر میں آں حضوؐر کی بعثت کا تذکرہ ہے۔ دوسرے حصے میں آں حضوؐر کی شخصیت کی چند جھلکیوں کے بعد اسلامی نظامِ زندگی کی تشریح و توضیح کی گئی ہے، جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کے لیے آں حضوؐر نے کیا کیا نشانِ راہ بتائے ہیں۔ غربت اور جرائم کے خاتمے، انصاف کی فراہمی اور خواتین کے حقوق وغیرہ کے بارے میں مغرب ہمیں جو کچھ آج بتا رہا ہے، مصنف نے عمدگی سے واضح کیا ہے کہ آں حضوؐر صدیوں پہلے ان مسائل کا بہترین حل بتا چکے ہیں۔ تیسرے حصے میں چھے نامور مستشرقین (واشنگٹن ارونگ، کارلائل، مائیکل ہارٹ،  منٹگمری واٹ، برنارڈلیوس، لیزے بیزل ٹون) کے اعتراضات کا تجزیہ کیا ہے۔

آخر میں حواشی و توضیحات، اُردو، انگریزی اور عربی کتابیات، اشاریۂ اشخاص شامل ہیں۔ کتاب اچھے معیار پر شائع کی گئی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)

 


حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،  علی اصغر چودھری۔ ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۵۰۱-۰۴۲۔ [صفحات:حصہ اوّل:ص ۱۸۴ ، حصہ دوم،ص ۲۹۲، حصہ سوم: ص۳۱۰]۔ قیمت: اوّل، ۳۵۰ روپے، دوم: ۵۵۰ روپے، سوم: ۶۵۰ روپے۔

سیرتِ پاک پر ہرلمحہ، کوئی نہ کوئی صاحب ِ ایمان اپنی محبت کا نذرانہ سپردِ قلم کر رہا ہوتا ہے۔ مضمون، کتاب یا لغت ، یعنی سبھی اصناف میں اور بیش تر زبانوں میں یہ کارِعظیم انجام دیا جارہا ہے: ورفعنا لک ذکرک۔ اس وقت سیرتِ پاک ؐ کی جس کتاب کا ذکر کیا جارہا ہے، اسے  علی اصغر چودھری مرحوم نے گذشتہ صدی کے آخری عشروں میں لکھا۔ کتاب کا اسلوب بیانیہ ہے۔ حتی الوسع کوشش کی گئی ہے کہ تمام باتیں کسی مستند مآخذسے چُنی جائیں۔ مصنف نے حیاتِ طیّبہؐ اور سیرتِ مطہرہؐ کو ایک مربوط رواں دواں بیان کی شکل میں مرتب کیا ہے۔سادہ اور پُراثر نویسی کے باعث یہ کتاب اسکولوں، کالجوں اور بالخصوص عام لوگوں میں بہت مقبول ہوئی ۔

ایک عرصے سے دستیاب نہیں تھی، اب ادارے نے دوبارہ شائع کی ہے۔ یقینا یہ ایک قیمتی تحفہ ہے، سیرت کے مطالعے کے شوق کو اُبھارنے اور سیرت سے سبق لینے کے لیے۔ (س م خ)

 


یادداشت پارلیمانی معرکہ، حکیم عبدالرحیم اشرف۔ تدوینِ نو: ڈاکٹر زاہد اشرف۔ ناشر:مکتبہ المنبر، فیصل آباد۔ ملنے کا پتا:کتاب سرائے، الحمد مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ فیصل آباد: ۸۸۴۷۶۰۱-۰۴۱۔ صفحات:۲۲۴۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

مغربی سامراج کو قابلِ قبول بنانے اور اسلام کے تصورِ جہاد کو مسخ کرنے کے لیے انگریز کی سرپرستی میں قادیانیت کا خاردار پودا کاشت کیا گیا، جس کے کانٹوں نے برعظیم پاکستان و ہند کے مسلمانوں میں بے چینی، اضطراب اور صدمے کو گہرائی تک پہنچا دیا۔

اگرچہ انیسویں صدی کے آخری عشرے ہی سے اس ضمن میں اہلِ حق آواز بلند کرتے رہے، تاہم بیسویں صدی کے پہلے نصف میں اس فتنے کی تردید میں علمی و مجلسی اور عدالتی و صحافتی سطح پر بڑے پیمانے پر کام ہوا۔ مئی ۱۹۷۴ء سے شروع ہونے والی تحریکِ ختم نبوت کے دوران پاکستان کی پارلیمنٹ نے بطورِ عدالت، اس حوالے سے تمام فریقوں کو پارلیمان میں آکر اپنا موقف پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس موقعے پر ممتاز عالمِ دین، محترم مولانا عبدالرحیم اشرف صاحب نے بھی ایک مفصل یادداشت، قادیانیت سے متعلق جملہ اُمور کی وضاحت کے لیے پارلیمنٹ میں  پیش کی۔ یہ کتاب اسی تاریخی یادداشت پر مشتمل ہے، جسے محترم ڈاکٹر زاہد اشرف صاحب نے بہت عمدہ انداز میں مرتب و مدّون کرکے، خوب صورت انداز سے شائع کیا ہے۔ (س م خ)


مکالماتِ فراقی، مرتب: ڈاکٹر طاہر مسعود۔ ناشر: دارالنّوادر، کتاب سرائے، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔فون:۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔  صفحات: ۲۹۳۔ قیمت: درج نہیں۔

اگر آپ موجودہ زمانے میں اُردو دُنیا کے متبحر عالموں کی ایک فہرست بنائیں تو ڈاکٹر تحسین فراقی کا نام شروع کے دو تین ناموں میں ضرور شامل ہوگا۔ منتخب مصاحبوں [انٹرویو] پر مشتمل، زیرنظر کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر فراقی صاحب فقط اُردو ادب کے نام وَر نقّاد اور ادیب ہی نہیں، اور اُردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی نوشت و خواند کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، بلکہ عربی اور ہسپانوی زبانوں پر بھی مناسب دسترس رکھتے ہیں۔ ان کی دیگر تصانیف سے قطع نظر اِنھی مصاحبوں کو دیکھیے، تو ان کے تبحرعلم کی تصدیق ہوتی ہے۔

زیرنظر مصاحبوں سے نہ صرف فراقی صاحب کے احوالِ زندگی بلکہ ادب، تحقیق، تنقید، سیاست، فلسفہ، سائنس، تعلیم، تہذیب اور ثقافت وغیرہ کے بارے میں ان کے نظریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ مرتب ’ پیش لفظ‘ میں لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر تحسین فراقی کا شمار ان نابغۂ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے، جنھوں نے اپنی فکرو دانش سے اُردو زبان و ادب اور اُردو شاعری کو وہ کچھ دیا ہے، جس کی توقع ان ہی سے کی جاسکتی تھی اور اس ’وہ کچھ‘ کی تفصیل اس کتاب میں آپ کو مل جائے گی‘‘۔

بلاشبہہ اس مجموعے سے تحقیق و تنقید کے مختلف موضوعات اور شاعری کی مختلف اصناف پر ان کے نظریات اور ان کی اپنی تخلیقات کا پتا چلتا ہے۔ انھوں نے مشرق و مغرب کے نام وَر مصنّفوں اور شاعروں کا مطالعہ کیا، ان سے کچھ نہ کچھ اخذ بھی کیا مگر وہ ان سے مرعوب نہیں ہوئے۔ اسی طرح اپنے مطالعے اور مشاہدات کے اظہار میں انھوں نے اعتدال اور توازن ملحوظ رکھا۔

یہ مصاحبے پڑھتے ہوئے ایک تنوع کا احساس ہوتا ہے۔ کہیں تو علمی بحث ہے، کہیں کسی سفر کی رُوداد ہے اور کہیں پاکستانی سیاست کی نیرنگیوں کا ذکر ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے یہ انٹرویو مرتّب کرکے بڑا اہم کام کیا ہے۔ لیکن اگر وہ تدوین کے دوران مکررّات نکال دیتے اور حسب ِ موقع و ضرورت تواریخ و سنین درج کرنے کا اہتمام بھی کرتے تو مجموعہ زیادہ وقیع ہوجاتا۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ بہت عرصہ پہلے شیداکاشمیری مرحوم نے فراقی صاحب کا نہایت مفصّل انٹرویو لیا تھا (جو ان کی کسی کتاب میں شامل ہے۔) وہ بھی زیرنظر مجموعے میں شامل کرلیا جاتا تو بہتر تھا۔(رفیع الدین ہاشمی)


عمر رواں، ڈاکٹر فرید احمد پراچا۔ ناشر: قلم فائونڈیشن، یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔ فون: ۰۵۱۵۱۰۱- ۰۳۰۰۔ صفحات: ۴۱۴۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

پاکستان میں ایسے سیاست دان کم ہی ہوں گے، جو قلم و قرطاس سےراہ و رسم رکھتے ہیں اور فریداحمد ایسے ہی کم یاب لوگوں میں شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت پیشِ نظرہے۔ اسے ایک سیاست دان کی آپ بیتی سمجھیے یا تحریکی کارکن کی یادداشتوں کا مجموعہ۔آغاز خاندان کے تعارف سے ہوتا ہے، جس میں انھوں نے اپنے دُور و نزدیک کے اعزہ (مردو زن) کا تعارف کرایا ہے (اور ۱۶صفحات میں سب کی تصاویر دی ہیں)۔ ان تعارفی سطور میں بسااوقات وہ اس قدر تفصیل میں جاتے ہیں کہ اپنی، دوسری اور تیسری نسل کی عمروں (تاریخ ہائے ولادت)، تعلیم اور مصروفیات تک سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ ابّا جی (مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم) کے حالات نسبتاً مفصل ہیں۔

ذاتی اور شخصی حالات و احوال کے ساتھ، انھوں نے تحریکی افراد کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اسی طرح ملکی سیاست کے اُتارچڑھائو ، مختلف سیاست دانوں کی خوبیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔ بظاہر زمانی ترتیب رکھی گئی ہے، مگر داستان در داستان کی طرز پر وہ ایک موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے یادوں کی وادیوں میں دائیں یا بائیں دُور نکل جاتے ہیں اور پھر وہاں سے پلٹتے ہوئے واپس ماضی میں چلے جاتے ہیں۔بایں ہمہ کتاب سے تاریخ کے ایک خاص دور کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں۔

اس دل چسپ کتاب میں قومی اور ملّی نشیب و فراز کی تفصیل معلومات افزا بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔تاہم، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ کی اس رائے سے اتفاق مشکل ہے کہ یہ ’خودنوشت اُردو ادب میں ہی نہیں، آٹوبائیوگرافی کے عالمی لٹریچر میں بھی ایک گراں قدر اضافہ ہے‘۔(رفیع الدین ہاشمی)

نعیم غنی ، سری نگر / ڈاکٹر نعمان مراد، لاہور / راجا محمد عاصم، موہری شریف

مسئلہ کشمیر اسلامی، انسانی، قومی اور ملّی مسئلہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے اہل حل و عقد افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر دوٹوک اور جرأتِ اظہار پر مبنی ’اشارات‘ کے لیے قوم ترجمان القرآن  کی شکرگزار ہے۔


نعمان سلیمان  ، راولا کوٹ، آزاد کشمیر

جناب افتخار گیلانی نے دہلی سے ایک مسلمان لیڈر کی مسلمانوں کے حوالے سے فکری کج روی پر نہایت سبق آموز مضمون لکھ کر، سادہ لوح احباب کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اسی طرح غازی سہیل خاں نے جناب محمداشرف صحرائی کی خدمات اور تعارف پرمبنی معلومات افزا مضمون لکھ کر ایمان افروز گواہی دی ہے۔


آمنہ حسن  ، کراچی / زبیر اسماعیل، پشاور

شہزاد اقبال شام صاحب نے تعلیم پر مسلط کردہ سیکولر عذاب و نصاب اور عدالتی کھیل کے خدوخال  پیش کرکے، اور پاکستان کی اقلیتوں کے جذبات سے واقفیت بہم پہنچا کر منفردکارنامہ انجام دیا ہے۔ ڈاکٹرمشتاق الرحمٰن صدیقی صاحب نے عصرحاضر میں استاد کو درپیش چیلنج سے مؤثر انداز سے آگاہ کیا ہے۔


صہیب عمر، اسلام آباد / سعیداحمد، کراچی

عبدالرقیب صاحب کی جانب سے دینی مدارس کے فاضلین کی معاشی زندگی کو خودانحصار بنانے کا قیمتی لائحہ عمل، دراصل موجودہ زمانے کا معاشی اور سماجی شعور ہے۔ اسی طرح جناب ولید منصور نے اسرائیلی جارحیت پر بالکل مختلف زاویے سے بھرپور معلومات کو مرتب کیا ہے۔


عائشہ علی ، پشاور / سیّد علیم احمد، لاہور

ترجمان القرآن میں ظفر سیّد صاحب ایک نیا نام ہیں۔ منگول یلغار کی مناسبت سے ان کے مختصر، معلومات سے بھرپور، نہایت شُستہ اور عام فہم زبان میں اعلیٰ درجے کے مضمون نے ماضی کے المیے کو حال کے المیے سے جوڑ دیا ہے۔ اسی طرح جناب وحید مراد نے خواتین کے نام پر جدیدیت کے خصوصی مراکز کا کچاچٹھا بیان کرکے قیمتی معلومات سے آگاہی فرمائی۔نیز عبدالمتین اور ڈاکٹر سلیم خان کی تحریریں نہایت قیمتی ہیں۔


اخوندزادہ نصراللہ ، ایون، چترال

مئی اور جون کے شماروں میں تعلیمی نصاب میںتبدیلی کے حوالے سے سیکولروں کے ناپاک عزائم، نااہل حاکموں اور سپریم کورٹ جیسے حساس ادارے کا رویہ تشویش کا باعث ہے۔ تحریک اسلامی کے علَم برداروں کو آگے بڑھ کر ان سازشوں کو دلیل اور تعلیم کے ذریعے ناکام بنانا ہوگا۔

[وَنَفَخَ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ (السجدہ ۳۲:۹) اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی]

’روح‘ سےمراد محض وہ زندگی نہیں ہے، جس کی بدولت ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے، بلکہ اس سے مراد وہ خاص جوہر ہے، جو فکروشعور اور عقل و تمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے۔ جس کی بدولت انسان تمام دوسری مخلوقاتِ ارضی سے ممتاز ایک صاحب ِ شخصیت ہستی، صاحب ِ اَنا ہستی، اور حاملِ خلافت ہستی بنتا ہے۔

اِس ’روح‘ کو اللہ تعالیٰ نے ’اپنی روح‘ یا تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اُسی کی مِلک ہے اور اس کی ذاتِ پاک کی طرف اس کا انتساب اُسی طرح کا ہے، جس طرح ایک چیز اپنے مالک کی طرف منسوب ہوکر اُس کی چیزکہلاتی ہے۔

یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر علم، فکر، شعور، ارادہ، فیصلہ، اختیار اور ایسے ہی دوسرے جو اوصاف پیدا ہوئے ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات کے پرتو ہیں۔ ان کا سرچشمہ مادّے کی کوئی ترکیب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ کے علم سے اس کو علم ملا ہے، اللہ کی حکمت سے اس کو دانائی ملی ہے، اللہ کے اختیار سے اس کو اختیار ملا ہے۔

یہ اوصاف کسی بے علم،بے دانش اور بے اختیار ماخذ سے انسان کے اندر نہیں آئے ہیں۔(تفہیم القرآن، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، جلد۵۶،عدد ۴،جولائی ۱۹۶۱ء، ص ۲۱-۲۲)