جولائی ۲۰۲۱

فہرست مضامین

کتاب نما

| جولائی ۲۰۲۱ | کتاب نما

 

The Last Prophet Muhammad and The West [پیغمبر آخرالزماںؐ اور مغرب]: پروفیسر محمد اکرم طاہر۔ ناشر: سکسز ڈیزائنرز، ۳۷-رانا نرسری، اوکاڑہ۔ صفحات: ۴۹۹۔ قیمت: ۱۵۰۰، بیرونِ ملک ۲۰ ڈالر۔

زیرنظر کتاب پروفیسر محمد اکرم طاہر مرحوم (م: ۱۱؍اپریل ۲۰۲۱ء) کی آخری تالیف ہے۔ کچھ عرصہ قبل ان کی کتاب محمدؐ رسول اللہ ، مستشرقین کے خیالات کا تجزیہ  شائع ہوئی تھی۔ زیرنظر اُسی اُردو کتاب کا انگریزی رُوپ ہے۔مرحوم اُردو اور انگریزی ادبیات کے استاد تھے۔

رسولِ اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ صدیوں سے مستشرقین اور مغربی مصنّفین کا موضوعِ بحث و تقریر رہا ہے۔ معدودے چند: مستشرقین کو چھوڑ کر، باقی حضرات سیرتِ طیبہ پر چھینٹیں اُڑانے اور اس سے کیڑے نکالنے میں مشغول رہے۔ سرسیّد احمد خاں سے پروفیسر محمد اکرم طاہر تک بیسیوں مسلم اہلِ قلم نے مغربیوں کے ایسے سوقیانہ لٹریچر کی مدلل تردید میں کتابیں لکھی ہیں۔

کتاب تین حصّوں پر مشتمل ہے: پہلے حصے میں عربوں کے جاہلانہ تصورات کے پس منظر میں آں حضوؐر کی بعثت کا تذکرہ ہے۔ دوسرے حصے میں آں حضوؐر کی شخصیت کی چند جھلکیوں کے بعد اسلامی نظامِ زندگی کی تشریح و توضیح کی گئی ہے، جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کے لیے آں حضوؐر نے کیا کیا نشانِ راہ بتائے ہیں۔ غربت اور جرائم کے خاتمے، انصاف کی فراہمی اور خواتین کے حقوق وغیرہ کے بارے میں مغرب ہمیں جو کچھ آج بتا رہا ہے، مصنف نے عمدگی سے واضح کیا ہے کہ آں حضوؐر صدیوں پہلے ان مسائل کا بہترین حل بتا چکے ہیں۔ تیسرے حصے میں چھے نامور مستشرقین (واشنگٹن ارونگ، کارلائل، مائیکل ہارٹ،  منٹگمری واٹ، برنارڈلیوس، لیزے بیزل ٹون) کے اعتراضات کا تجزیہ کیا ہے۔

آخر میں حواشی و توضیحات، اُردو، انگریزی اور عربی کتابیات، اشاریۂ اشخاص شامل ہیں۔ کتاب اچھے معیار پر شائع کی گئی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)

 


حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،  علی اصغر چودھری۔ ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۵۰۱-۰۴۲۔ [صفحات:حصہ اوّل:ص ۱۸۴ ، حصہ دوم،ص ۲۹۲، حصہ سوم: ص۳۱۰]۔ قیمت: اوّل، ۳۵۰ روپے، دوم: ۵۵۰ روپے، سوم: ۶۵۰ روپے۔

سیرتِ پاک پر ہرلمحہ، کوئی نہ کوئی صاحب ِ ایمان اپنی محبت کا نذرانہ سپردِ قلم کر رہا ہوتا ہے۔ مضمون، کتاب یا لغت ، یعنی سبھی اصناف میں اور بیش تر زبانوں میں یہ کارِعظیم انجام دیا جارہا ہے: ورفعنا لک ذکرک۔ اس وقت سیرتِ پاک ؐ کی جس کتاب کا ذکر کیا جارہا ہے، اسے  علی اصغر چودھری مرحوم نے گذشتہ صدی کے آخری عشروں میں لکھا۔ کتاب کا اسلوب بیانیہ ہے۔ حتی الوسع کوشش کی گئی ہے کہ تمام باتیں کسی مستند مآخذسے چُنی جائیں۔ مصنف نے حیاتِ طیّبہؐ اور سیرتِ مطہرہؐ کو ایک مربوط رواں دواں بیان کی شکل میں مرتب کیا ہے۔سادہ اور پُراثر نویسی کے باعث یہ کتاب اسکولوں، کالجوں اور بالخصوص عام لوگوں میں بہت مقبول ہوئی ۔

ایک عرصے سے دستیاب نہیں تھی، اب ادارے نے دوبارہ شائع کی ہے۔ یقینا یہ ایک قیمتی تحفہ ہے، سیرت کے مطالعے کے شوق کو اُبھارنے اور سیرت سے سبق لینے کے لیے۔ (س م خ)

 


یادداشت پارلیمانی معرکہ، حکیم عبدالرحیم اشرف۔ تدوینِ نو: ڈاکٹر زاہد اشرف۔ ناشر:مکتبہ المنبر، فیصل آباد۔ ملنے کا پتا:کتاب سرائے، الحمد مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ فیصل آباد: ۸۸۴۷۶۰۱-۰۴۱۔ صفحات:۲۲۴۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

مغربی سامراج کو قابلِ قبول بنانے اور اسلام کے تصورِ جہاد کو مسخ کرنے کے لیے انگریز کی سرپرستی میں قادیانیت کا خاردار پودا کاشت کیا گیا، جس کے کانٹوں نے برعظیم پاکستان و ہند کے مسلمانوں میں بے چینی، اضطراب اور صدمے کو گہرائی تک پہنچا دیا۔

اگرچہ انیسویں صدی کے آخری عشرے ہی سے اس ضمن میں اہلِ حق آواز بلند کرتے رہے، تاہم بیسویں صدی کے پہلے نصف میں اس فتنے کی تردید میں علمی و مجلسی اور عدالتی و صحافتی سطح پر بڑے پیمانے پر کام ہوا۔ مئی ۱۹۷۴ء سے شروع ہونے والی تحریکِ ختم نبوت کے دوران پاکستان کی پارلیمنٹ نے بطورِ عدالت، اس حوالے سے تمام فریقوں کو پارلیمان میں آکر اپنا موقف پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس موقعے پر ممتاز عالمِ دین، محترم مولانا عبدالرحیم اشرف صاحب نے بھی ایک مفصل یادداشت، قادیانیت سے متعلق جملہ اُمور کی وضاحت کے لیے پارلیمنٹ میں  پیش کی۔ یہ کتاب اسی تاریخی یادداشت پر مشتمل ہے، جسے محترم ڈاکٹر زاہد اشرف صاحب نے بہت عمدہ انداز میں مرتب و مدّون کرکے، خوب صورت انداز سے شائع کیا ہے۔ (س م خ)


مکالماتِ فراقی، مرتب: ڈاکٹر طاہر مسعود۔ ناشر: دارالنّوادر، کتاب سرائے، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔فون:۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔  صفحات: ۲۹۳۔ قیمت: درج نہیں۔

اگر آپ موجودہ زمانے میں اُردو دُنیا کے متبحر عالموں کی ایک فہرست بنائیں تو ڈاکٹر تحسین فراقی کا نام شروع کے دو تین ناموں میں ضرور شامل ہوگا۔ منتخب مصاحبوں [انٹرویو] پر مشتمل، زیرنظر کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر فراقی صاحب فقط اُردو ادب کے نام وَر نقّاد اور ادیب ہی نہیں، اور اُردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی نوشت و خواند کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، بلکہ عربی اور ہسپانوی زبانوں پر بھی مناسب دسترس رکھتے ہیں۔ ان کی دیگر تصانیف سے قطع نظر اِنھی مصاحبوں کو دیکھیے، تو ان کے تبحرعلم کی تصدیق ہوتی ہے۔

زیرنظر مصاحبوں سے نہ صرف فراقی صاحب کے احوالِ زندگی بلکہ ادب، تحقیق، تنقید، سیاست، فلسفہ، سائنس، تعلیم، تہذیب اور ثقافت وغیرہ کے بارے میں ان کے نظریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ مرتب ’ پیش لفظ‘ میں لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر تحسین فراقی کا شمار ان نابغۂ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے، جنھوں نے اپنی فکرو دانش سے اُردو زبان و ادب اور اُردو شاعری کو وہ کچھ دیا ہے، جس کی توقع ان ہی سے کی جاسکتی تھی اور اس ’وہ کچھ‘ کی تفصیل اس کتاب میں آپ کو مل جائے گی‘‘۔

بلاشبہہ اس مجموعے سے تحقیق و تنقید کے مختلف موضوعات اور شاعری کی مختلف اصناف پر ان کے نظریات اور ان کی اپنی تخلیقات کا پتا چلتا ہے۔ انھوں نے مشرق و مغرب کے نام وَر مصنّفوں اور شاعروں کا مطالعہ کیا، ان سے کچھ نہ کچھ اخذ بھی کیا مگر وہ ان سے مرعوب نہیں ہوئے۔ اسی طرح اپنے مطالعے اور مشاہدات کے اظہار میں انھوں نے اعتدال اور توازن ملحوظ رکھا۔

یہ مصاحبے پڑھتے ہوئے ایک تنوع کا احساس ہوتا ہے۔ کہیں تو علمی بحث ہے، کہیں کسی سفر کی رُوداد ہے اور کہیں پاکستانی سیاست کی نیرنگیوں کا ذکر ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے یہ انٹرویو مرتّب کرکے بڑا اہم کام کیا ہے۔ لیکن اگر وہ تدوین کے دوران مکررّات نکال دیتے اور حسب ِ موقع و ضرورت تواریخ و سنین درج کرنے کا اہتمام بھی کرتے تو مجموعہ زیادہ وقیع ہوجاتا۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ بہت عرصہ پہلے شیداکاشمیری مرحوم نے فراقی صاحب کا نہایت مفصّل انٹرویو لیا تھا (جو ان کی کسی کتاب میں شامل ہے۔) وہ بھی زیرنظر مجموعے میں شامل کرلیا جاتا تو بہتر تھا۔(رفیع الدین ہاشمی)


عمر رواں، ڈاکٹر فرید احمد پراچا۔ ناشر: قلم فائونڈیشن، یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔ فون: ۰۵۱۵۱۰۱- ۰۳۰۰۔ صفحات: ۴۱۴۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

پاکستان میں ایسے سیاست دان کم ہی ہوں گے، جو قلم و قرطاس سےراہ و رسم رکھتے ہیں اور فریداحمد ایسے ہی کم یاب لوگوں میں شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت پیشِ نظرہے۔ اسے ایک سیاست دان کی آپ بیتی سمجھیے یا تحریکی کارکن کی یادداشتوں کا مجموعہ۔آغاز خاندان کے تعارف سے ہوتا ہے، جس میں انھوں نے اپنے دُور و نزدیک کے اعزہ (مردو زن) کا تعارف کرایا ہے (اور ۱۶صفحات میں سب کی تصاویر دی ہیں)۔ ان تعارفی سطور میں بسااوقات وہ اس قدر تفصیل میں جاتے ہیں کہ اپنی، دوسری اور تیسری نسل کی عمروں (تاریخ ہائے ولادت)، تعلیم اور مصروفیات تک سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ ابّا جی (مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم) کے حالات نسبتاً مفصل ہیں۔

ذاتی اور شخصی حالات و احوال کے ساتھ، انھوں نے تحریکی افراد کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اسی طرح ملکی سیاست کے اُتارچڑھائو ، مختلف سیاست دانوں کی خوبیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔ بظاہر زمانی ترتیب رکھی گئی ہے، مگر داستان در داستان کی طرز پر وہ ایک موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے یادوں کی وادیوں میں دائیں یا بائیں دُور نکل جاتے ہیں اور پھر وہاں سے پلٹتے ہوئے واپس ماضی میں چلے جاتے ہیں۔بایں ہمہ کتاب سے تاریخ کے ایک خاص دور کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں۔

اس دل چسپ کتاب میں قومی اور ملّی نشیب و فراز کی تفصیل معلومات افزا بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔تاہم، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ کی اس رائے سے اتفاق مشکل ہے کہ یہ ’خودنوشت اُردو ادب میں ہی نہیں، آٹوبائیوگرافی کے عالمی لٹریچر میں بھی ایک گراں قدر اضافہ ہے‘۔(رفیع الدین ہاشمی)