مضامین کی فہرست


اگست ۲۰۱۷

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جنوبی ایشیا کے پہلے سربراہ مملکت ہیں، جنھوں نے اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھا۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعلقات کی داغ بیل ۱۹۷۱ءکی بھارت-پاکستان جنگ کے دوران ہی پڑی تھی، البتہ حساس اداروں کے درمیان اشتراک ۱۹۵۳ء سے ہی جاری تھا، جب ممبئی میں اسرائیل کو قونصل خانہ کھولنے کی اجازت مل گئی تھی، مگر ان تعلقات میں سیاسی عنصر کی عدم موجودگی اسرائیل کو بُری طرح محسوس ہو رہی تھی۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی سیکورٹی کے انچارج رامیشور ناتھ کائو (جو بعد میں خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ انالیسز وِنگ یعنی ’را‘ کے پہلے سربراہ بنے) نے ۵۰کے عشرے میں ہی افریقی ملک گھانا میں قیام کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے تھے۔باضابطہ سفارتی تعلقات کی پراو کیے بغیر ، ۱۹۷۱ءکی جنگ میں اسرائیل نے فوجی ماہرین کے ساتھ اسلحے کی ایک بڑی کھیپ بھارت روانہ کی۔ چوںکہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں بھارتی فوجی آپریشن کی قیادت ایک یہودی افسر میجر جنرل جے ایف آر جیکب کے سپرد تھی، تب اسرائیلی وزیر اعظم گولڈ امیئر نے ایران جانے والے اسرائیلی اسلحے کے ایک بڑے ذخیرہ کوبھارت کی طرف موڑ دیا۔

حال ہی میں عام کی گئی دستاویزات کے مطابق، اگست ۱۹۷۱ء میں ’را‘ کے سربراہ کاؤ نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مشیر پی این ہکسر کو لکھے ایک تفصیلی خط میں بتایا کہ: ’’اسرائیلی اسلحے کو فوج اور مکتی باہنی کے گوریلا دستوں میں تقسیم کیا گیا ہے‘‘۔یاد رہے جنرل جیکب کا پچھلے سال ہی انتقال ہوا ۔ اکثر نجی ملاقاتوں میں جنرل جیکب بتایا کرتے تھے کہ: ’’اسرائیلی اسلحے کے بغیر مشرقی پاکستان میں آپریشن کی کامیابی ممکن نہ تھی‘‘۔ وہ اندرا گاندھی سے سخت ناراض تھے، کہ: ’’ایک تو اس نے مجھے فوجی سربراہ بننے نہیں دیا، اور دوسرا یہ کہ پاکستانی جنرل نیازی سے ہتھیار ڈلوانے کی تقریب کے لیے ایک سکھ افسر جنرل جگجیت سنگھ ارورا کو ڈھاکہ بھیجا، جب کہ ملٹری آپریشنز کی کمان میرے سپرد تھی‘‘۔ جنرل جیکب کے مطابق اندراگاندھی کو اسرائیل سے معاونت لینے میں کوئی لیت و لعل نہیں تھا، مگر اس ضمن میں وہ ایک یہودی افسر کی تشہیر نہیں چاہتی تھیں۔ انھیں اندیشہ تھا کہ پاکستان اس چیز کو عرب ممالک میں بھارت کے خلاف استعمال کرسکتا تھا۔

۷۰ءکے عشرے کے اواخر تک دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا اشتراک اور محور پاکستان کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنا تھا۔ بھارت کے لیے تو پاکستانی ایٹمی پروگرام خطرہ تھا ہی، مگر اسرائیل اس کو ’اسلامی بم‘ سے تشبیہ دیتا تھا۔ فرانس کے اشتراک سے پاکستان میں ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کی خبر تو سبھی کو تھی،مگر چھن چھن کر یہ خبریں گشت کر رہی تھیں کہ: ’’پاکستانی سائنس دان یورونیم کی افزودگی پر بھی کام کر رہے ہیں، مگر کہاں او ر اس کا پلانٹ کدھر ہے؟ یہ پتا نہیں چل رہا تھا‘‘۔ منصوبہ یہ تھاکہ پلانٹ کا پتا چلتے ہی ’موساد‘ بھارتی سرزمین سے فضائی کارروائی کرکے اس کو تباہ کردے گا، جیساکہ بعد میں ۱۹۸۱ء میں اس نے اسی طرح کا آپریشن کرکے عراقی ایٹمی ریکٹر کو تباہ کردیا تھا۔

’را‘ کے ذمے اس پاکستانی پلانٹ کا پتا لگانا تھا۔ جب کئی آپریشنز ناکام ہوگئے، تو بتایا جاتا ہے کہ بھارتی خفیہ اہل کاروں نے پاکستان کے مختلف علاقوں سے حجاموں کی دکانوں سے بکھرے بالوں کے نمونے اکٹھے کرنے شروع کر دیے۔ ان کو ٹیسٹ ٹیوبوں میں محفوظ اور لیبل لگا کر بھارت بھیجا جاتا تھا، جہاں انتہائی باریک بینی سے ان میں جوہری مادہ یا تابکاری کی موجودگی کی جانچ ہوتی تھی۔ سالہا سال پر پھیلے اس آپریشن میں ایک دن ایک سیمپل میں یورینیم-۲۳۵  کی تابکاری کے ذرات پائے گئے۔ حالاں کہ یہ سیمپل اسلام آباد کے نواح میں کہوٹہ کے پاس ایک حجام کی دکان سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ تقریباً ثابت ہوگیا کہ پاکستان ۹۰ فی صد افزودگی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر چکا ہے، جو بم بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ نیوکلیر پاور پلانٹ کے لیے ۴/۵فی صد افزودگی ہی کافی ہوتی ہے، مگر یہ خبر ہونے تک بھارت میں اندرا گاندھی حکومت سے بے دخل ہوگئی تھی۔

۱۹۷۷ء میں نئے بھارتی وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی کے پاس جب ’را‘ کے افسران یہ منصوبہ لے کر پہنچے، تو انھوں نے نہ صرف اس کی منظوری دینے سے انکار کیا، بلکہ پاکستانی صدرجنرل محمدضیاء الحق کو فون کرکے بتایا کہ ’’بھارت کہوٹہ پلانٹ کی سرگرمیوں سے واقف ہے‘‘۔’را‘ نے ڈیسائی کو اس کے لیے کبھی معاف نہیں کیا کہ اس کے مطابق مرارجی ڈیسائی نے پاکستانی صدر کو یہ بتاکر ’را‘ کے ایجنٹوں کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں۔ اس کے بعد برسوں تک ’را‘ اس طرح کا نیٹ ورک پاکستان میں دوبارہ قائم نہیں کرسکا۔ پھر پاکستان نے کہوٹہ کو فضائی حملوں سے بھی محفوظ بنالیا۔

پاکستانی صدرجنرل پرویز مشرف کے دور میں جب بھارت اور امریکا کے درمیان ’سویلین جوہری معاہدے‘ کے خدو خال طے ہورہے تھے، تو واشنگٹن میں طاقت ور یہودی لابی کو اس کی حمایت سے باز رکھنے کے لیے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے استنبول میں ملاقات کی تھی۔ ۲۰۱۵ء میں قصوری صاحب نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ: ’’یہ میٹنگ کسی جیمز بانڈ فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں تھی۔ ترکی میں اس وقت کے وزیر اعظم (اور موجودہ صدر) رجب طیب اردوان نے یہ میٹنگ طے کی تھی‘‘۔ قصوری صاحب کے مطابق: ’’میرا جہاز پاکستان سے لیبیا کے لیے روانہ ہوا، بعد میں مالٹاسے ہوتا ہوا استنبول میں اُترا۔ جہاز کو ایئرپورٹ کی بلڈنگ سے دُور لینڈنگ کی اجازت مل گئی، جہاں پر طیب اردوان کے ایک معتمد نے میرا استقبال کیا۔  اسی دوران پورے استنبول شہر کی بتیاں گل کر دی گئیں۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ پاور سپلائی میں خرابی آگئی ہے۔ گھپ اندھیرے میں پاکستانی اور اسرائیلی وزراے خارجہ کی میٹنگ ہوئی۔ خدشہ تھا کہ اگر یہ خبر میڈیا تک پہنچ گئی، تو پاکستان میں سیاسی اور عوامی سطح پر قیامت آجائے گی۔ قصوری صاحب کے بقول: ’’یہ میٹنگ کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ اسرائیل نے فوجی اور دیگر ٹکنالوجی دینے کی پیش کش کی،مگر مَیں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتے، جب تک وہ مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے اُردن کے شاہ عبداللہ کے فارمولے کو تسلیم نہیں کرتا‘‘۔

اسرائیلوں کا کہنا ہے: ’’جب عرب ممالک اس کے ساتھ رشتے بنا سکتے ہیں، تو باقی ممالک کو آخر کیوں اعتراض ہے؟ تل ابیب سے ۱۵کلومیٹر دور سوریک کا سمند ر سے صاف پانی کشید کرنے کا پلانٹ ہی اردن کو پانی مہیا کرتا ہے۔ مصر صحراے سینا میں سیکورٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیل سے اشتراک کر رہا ہے۔گوکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں، مگر کچھ عرصے سے خبریں گشت کر رہی ہیں کہ پس پردہ دونوں ممالک کے درمیان سلسلہ جنبانی جاری ہے۔ اور یہ خبر عام ہے کہ سعودی حکومت بطور خادمِ حرمین، قبلہ اوّل کی خدمت کا ذمہ لینا چاہتی ہے (یاد رہے اس وقت مسجد اقصیٰ کی خدمت اُردن کے محکمہ اوقاف کے تحت ہے)۔

اب سوال یہ ہے، کہ آخر مودی کے اسرائیل دورے سے اس خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ وہ بھارت کے ایسے پہلے سیاسی لیڈرہیں، جو اس دورے کے دوران فلسطینی لیڈروں سے نہیں ملے۔ ماضی میں چاہے بھارتی وزیرداخلہ لال کشن ایڈوانی ہو یا بھارتی صدر پرناب مکرجی، سبھی اسرائیلی دورے کے دوران فلسطینی علاقوں میں بھی جاتے تھے۔ بھارت اور چین نے تقریباً ایک ہی سال، یعنی۱۹۹۲ء میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔ دونوں ممالک کو اسرائیل سے دفاعی ٹکنالوجی درکار تھی، جو انھیں امریکا براہِ راست فراہم نہیں کرسکتا تھا۔ اگر موجودہ عالمی صورت حال کا جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کو بھی اس وقت بھارت کی ضرورت ہے۔ یورپی ممالک میں اسرائیل کا قد خاصا چھوٹا ہے۔ فلسطینیوں پر اس کے مظالم کی آوازیں یو رپی شہروں میں اب واضح طور پر سنائی دے رہی ہیں۔ ایسے وقت، عالمی اداروں میں اسرائیل کو سیاسی اور سفارتی دوستوں کی اشد ضرورت ہے۔ پھر اسلحے کی خریداری میں بھارت، اسرائیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور یوں اس کی اقتصادیات کا ایک بڑا سہارا ہے۔

اسرائیل میں طرزِ زندگی خاصا مہنگا ہے۔ یورپی ممالک اسرائیل سے اس لیے بھی خار کھائے ہوئے ہیں، کہ وہ ’القاعدہ‘ اور ’داعش‘ (ISIS) کو لگام دینے میں اتنی مستعدی نہیں دکھا رہا ، جتنا کہ ’حماس‘ یا ’حزب اللہ‘ کے خلاف اس کی ایجنسیاں برسر پیکار ہیں۔ جب یہی سوال میں نے دہلی میں اسرائیلی سفیر ڈینیل کارمون سے کیا تو موصوف کا برجستہ جواب تھا: ’’ان کی مستعدی ان تنظیموں کے خلاف ہے، جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں‘‘۔ دو سال قبل یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا علاج ایک اسرائیلی ہسپتال میں چل رہا تھا۔میں نے اس حوالے سے جب اسرائیلی سفیر سے استفسار کیا ، تو ان کا گو ل مول جواب تھا کہ: ’’ہمارا ملک ڈاکٹری اصولوں کے مطابق کسی بھی زخمی یا بیمار شخص کے علاج کا پابند ہے، جو سرحد عبور کرکے اسرائیل کی پناہ میں آیا ہو‘‘۔ تاہم، اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوسکتا کہ: ’’کیا     یہ ڈاکٹری اصول حزب اللہ یا حماس کے زخمیوں پر بھی لاگو ہوگا؟‘‘

بھارت اور اسرائیل تعلقات کے حوالے سے ایک اور بحث کشمیر پر اس کے اثرات کی مناسبت سے زبانِ زد خاص و عام ہے۔ بھارت میں سخت گیر عناصر کشمیر میں اسرائیلی طرز اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ۲۰۱۰ء میں کشمیر میں حالات انتہائی خراب تھے۔ اسی دوران بھارت کے سینر صحافیوں کے ہمراہ مجھے اسرائیل اور فلسطین کے دورے کا موقع ملا۔ تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے مشیر ڈیوڈ رائزنر بریفنگ دے رہے تھے۔ وہ اسرائیلی فوج میں اہم عہدے دار رہ چکے تھے، لبنان کی جنگ میں ایک بریگیڈ کی کمان بھی کی تھی۔ اس کے علاوہ ’انتفاضہ‘ [’حماس‘ کی عوامی تحریکِ آزادی] کے دوران بھی فوج اور پولیس میں اہم عہدوں پر براجمان رہ چکے تھے، اس لیے بھارتی صحافی ان سے یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ آخر وہ غیرمسلح فلسطینی مظاہرین سے کیسے نمٹتے ہیں؟ ڈیوڈ رائزنر نے کہا:’’ ۱۹۸۷ء کے ’انتفاضہ‘ کے دوران ہماری فوج اور پولیس نے پوائنٹ ۴ کے پیلٹ گن استعمال کیے تھے، مگر اس کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے بعد  ان پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ان ہتھیاروں کی کھیپ اسلحہ خانے میں زنگ کھا رہی تھی ۔ جس کمپنی نے یہ ہتھیار بنائے، اس نے حکومت کو پیش کش کی تھی کہ وہ پوائنٹ ۹ کے پیلٹ سپلائی کرے گی، جو نسبتاً کم خطرناک ہوں گے، مگر اس وقت تک اسرائیلی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا‘‘۔ رائزنر نے تسلیم کیا کہ مسلح جنگجوؤں کے برعکس مظاہرین سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب عالمی میڈیا اس کی رپورٹنگ بھی کر رہا ہو‘‘۔

 حیرت کی بات ہے کہ ہمارے دورے کے چند ماہ بعد ہی یہ ہتھیا ر،جو اسرائیل کے اسلحہ خانوں میں زنگ آلود ہو رہے تھے،کشمیر میں استعمال کرنے کے لیے بھارت کی وزارت داخلہ نے درآمد کر لیے۔ اور لائسنس ایگریمنٹ کے تحت خود بھارت کے دفاعی ادارے اب یہ تیار کرتے ہیں۔ ڈیوڈ رائزنرنے بتایا تھا کہ : ’’ہم نے ربر سے لپٹی ہوئی اسٹیل کی گولیوں اور بے ہوش کرنے والی گیس کا بھی تجربہ کیا تھا، مگر نشانہ بننے والے بچوں پر ان کے مہلک اثرات کے سبب ان پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ بھارت میں پیلٹ گنوں کے بعد اب یہ دونوں ہتھیارکشمیر میں استعمال ہورہے ہیں‘‘۔ اس اسرائیلی افسر نے بھارتی صحافیوں کو ششدر اور رنجیدہ کردیا، جب اس نے کشمیر میں تعینات ’بھارتی فوج کے افسروں کے کارنامے‘ سنانے شروع کیے۔ اس نے کہا: ’’بھارتی افسر اس بات پر سخت بے زاری کا اظہار کرتے ہیں کہ:’’ شورش زدہ علاقوں میں مسلح اور غیر مسلح کی تفریق کیوں کی جائے؟ حال ہی میں اسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے ایک بھارتی جنرل نے مجھ کو بتایا کہ کشمیر میں ہم پوری آبادی کوگھیرکرگھروں میں گھس کر تلاشی لیتے ہیں، کیوںکہ    ان کے لیے کشمیر کا ہردروازہ دہشت گردکی پناہ گاہ ہے‘‘۔ ڈیوڈ رائزنر نے سلسلۂ کلام جوڑتےہوئے کہا: ’’ہم نے بھارتی جنرل کو جواب دیا کہ اسرائیل پوری دنیا میں بدنام سہی، مگر اس طرح کے آپریشن اور وہ بھی بغیر کسی انٹیلی جنس کے، ہماری جوابی کارروائیوں میں شامل نہیں ہیں‘‘۔ یاد رہے رائزنر، اسرائیلی وزیراعظم یہود برک کے اس وفد کے بھی رکن تھے، جس نے کیمپ ڈیوڈ میں فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ جولائی ۲۰۰۰ء میں گفت و شنید کی تھی۔

مارچ۲۰۱۶ءمیں ایک اسرائیلی سپاہی ایلور ارزانیہ نے زمین پر گرے ایک فلسطینی زخمی شخص کے سرکو نشانہ بناکر ہلاک کردیا تھا۔ اگرچہ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ شخص ان پر حملہ کرنے کی نیت سے آیا تھا اور اس کی شناخت ایک دہشت گرد کے طور پر کی گئی تھی، مگر ارزانیہ پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلا اور اس کو ۱۸ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر پورے اسرائیل میں دائیں بازو کی جماعتوں نے ہاہا کار مچادی، کہ ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے کے الزام میں فوجی کو کس طرح سزا ہوسکتی ہے۔ اس ہا ہا کار میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی شریک تھے، مگر اسرائیلی فوج نے عوامی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی۔

ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد کسی بھی طور پر اسرائیلی جرائم کا دفاع کرنا نہیں بلکہ صرف یہ باورکرانا ہے کہ کشمیرکس حد تک عالمی ذرائع ابلاغ میں اور سفارتی سطح پر ناقص ابلاغِ عامہ (under reporting) کا شکار رہا ہے اور فوجی مظالم کی تشہیرکس قدر کم ہوئی ہے۔ ڈیوڈ رائزنرنے جنرل کا نام تو نہیں بتایا مگر کہا کہ: ’’ہم نے بھارتی فوجی وفد کو مشورہ دیا تھا کہ : عسکری اور غیرعسکری میں تفریق نہ کرکے آپ کشمیر میں صورت حال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں‘‘۔

نوعِ انسانی کی خاطر برپا ہونے والی امت کے احوال دیکھ کر ایک سوال ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا ہے کہ آخر ہم کیوں پیچھے رہ گئے؟ اُمتِ مسلمہ آج اس زبوں حالی کا شکار کیوں کر ہوئی ہے اور اس زبوں حالی سے نکلنے کا کیاکوئی راستہ بھی ہے؟ اس نوعیت کے سوالات ہمیں جوابات تلاش کرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ اُمتِ مسلمہ جسے ’خیر اُمت‘ کا لقب حاصل ہے اور جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی امین بھی ہے اور جانشین بھی ۔ یہ ایک ایسی امت جسے بجا طور پر سیادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہونا چاہیے تھا، اپنے آپ کو مظلوم و محکوم پاتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ  مشرقِ وسطیٰ سے لے کر کشمیر، برما ، فلسطین، بھارت میں اس امت کی بد حالی، مظلومیت اور مفلوجیت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایک ایسی امت جو عددی اعتبار سے دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر مشتمل ہو، جو جغرافیائی اعتبار سے اسٹرے ٹیجک علاقوں میں سکونت پذیر ہو اور جس کی سرزمین قدرتی و معدنی وسائل سے مالا مال ہو، آخر ایسا کیوں ہے کہ آج اُمتِ مسلمہ کی حیثیت ایک ایسے بے حس جان دار کی سی ہو گئی ہے، جس پر جو چاہے اپنی اجارہ داری قائم کر سکتا ہے۔انسانیت کو اندھیروں سے نور کی طرف لے آنے والی امت آج خود پستی کی دلدل میں دھنسی نظر آتی ہے۔

عالمی سطح پر ۵۶ سے زیادہ اسلامی ممالک کا وزن پانی پر جھاگ کے ماند بھی نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں مسلم ممالک خود کو بے وزن محسوس کرتے ہیں۔ ان کی راے کی کوئی حیثیت نہیں۔ سارے عالمی معاملات جی سیون، جی ففٹین وغیرہ سے منسوب ممالک طے کرتے ہیں۔ امریکا اور اس کے حواری اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی آڑ میںبین الاقوامی مسائل کو اپنی اغراض کے مطابق طے کرتے ہیں۔ الغرض اُمتِ مسلمہ پر ذلت اور مسکنت کا دور جاری و ساری ہے اور عذابِ الٰہی کے کوڑے بڑی شدت کے ساتھ اس اُمت پر برس رہے ہیں۔ ایسی حالتِ زار میں اگر یہ وعدہ پیش نظر رکھا جائے: اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ [اٰلِ عمرٰن ۳:۱۳۹]،   ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو‘‘، اگر قرآن میں اہلِ ایمان کے لیے غلبے کی بشارتیں ہیں تو اُمت کیوں کر پستی اور جمود کا شکار ہو کے رہ جائے؟آخر اس پستی کے اسباب کیا ہوئے اور اس سے نکلنے کی کیا راہ ہے؟              

اگر غور سے اس مسئلے پر سوچا جائے تو ہمیں اس بات کے اعتراف میں کوئی باک نہیں رہتا کہ یہ امت خیر اُمت کی تاویل میں غلطی کر گئی ہے ۔ اہل یہود کی طرح شاید ہم مسلمان بھی مدت سے کچھ اسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اپنی تمام کج فکریوں کے باوجود بھی ہم ہی تا قیامت دنیا کی سیادت پر مامور کر دیے گئے ہیں۔ چوں کہ خیر اُمت ہم ہیں، لہٰذا اقوامِ عالم کی سیادت پر فائز بھی ہمیں ہی کیا گیا ہے۔ اب چاہے کوئی ہماری اقتدا کرے یا نہ کرے ۔ کوئی کہتا ہے کہ غلبے سے مراد سیاسی، تہذیبی یا معاشی غلبہ نہیں بلکہ روحانی غلبہ ہے۔دراصل ’خیر‘ کا لفظ ان تمام کاموں پر محیط ہے، جس سے نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود وابستہ ہے۔ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہماری ساری توانائی ان باتوں میں خرچ ہوتی ہے کہ لائوڈاسپیکر پر اذان دی جائے یا نہیں، قرآن کی تلاوت جائز قرار دی جائے یا نہیں، موبائل پر بنا وضو قرآن پڑھا جائے یا نہیں، گھڑی دائیں ہاتھ میں پہننی جائز ہے یا بائیں ہاتھ میں، ہوائی جہاز میں کس سمت ہو کر نماز پڑھی جائے؟ ہم نئی ٹکنا لوجی کے خریدار ضرور ہیں، مگر اس کی پیداوار میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔ جہاں دوسری قوموں نے دیانت یا محنت کے نتیجے میں اپنا قائدانہ تفوق برقرار رکھا اور اس سمت میں اپنی پیش رفت جاری رکھی، وہیں ہم خیر کے ان کاموں سے یکسر کٹ کر رہ گئے۔ اس سے بڑی کرب ناک اور اذیت دینے والی بات کیا ہو سکتی ہے کہ جب ہمارے سرکردہ علما کسی سائنسی تحقیق [جسے غیر اقوام نے انجام دیا ہو] کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ’’یہ ہمارے قرآن میں ساڑھے چودہ سو سال پہلے اشارات میں واضح کیا جا چکا ہے‘‘۔ اس بات سے انکار نہ کرنے کے باوجود لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو وہ اشارے اور ارشادات تب تک نظر کیوں نہیں آتے جب تک کہ غیر اقوام کسی سائنسی تحقیق کو سامنے نہیں لے آتیں۔

آج اُمتِ مسلمہ کے ذہن مفلوج ہو گئے ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ صلاحیت سے عاری ہیں، بلکہ شاید اس لیے کہ امت نے ان سے کام لینا بند کر دیا ہے۔ اُمت ’ توکل‘ میں اس حد تک غلو کی مرتکب ہوئی کہ عقل کو طاقِ نسیاں میں رکھ دیا۔ ’محرک اور نتیجے‘ کے اصول کا سرے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اس اصول سے آیاتِ آفاق وانفس کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ امت مسلمہ ’فکرودانش کی خودکشی‘ کے دہانے پر آکھڑی ہوئی۔ امت اب اونٹوں کو کھلا چھوڑ کر ’توکل‘ کا فریضہ انجام دیتی ہے۔

نیال فرگوسن نے اپنی کتاب Civilization: The West and the Rest  (۲۰۱۲ء) میں مغربی طاقت کے چھے بنیادی محرکات کو واضح کیا ہے، جو اسے تمام دنیا کی اقوام پر غلبہ اور سیادت بخشتے ہیں۔ان چھے محرکات میں فرگوسن پہلے نمبر پر مقابلے اور مسابقت کو جگہ دیتا اور کہتا ہے کہ یورپ میں مقابلے و مسابقت کی سوچ کے پیدا ہوتے ہی مادی اور فوجی طاقتوں میں حد درجہ اضافہ ہو گیا جو یورپی طاقتوں کے غلبے کا سبب بنا۔اس مسابقت سے نہ صرف معیار میں اضافہ ہوا بلکہ مقدار میں بھی حد درجہ اضافہ ہوا۔ پھر پیداوار اور اس کی کھپت میں انقلابی سطح کی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔فرگوسن کی اس بات کو ہمارا طرزِفکر یہ کہہ کر خارج کر دیتا ہے کہ: ’’اسلام مقابلے کا نہیں بلکہ تعاون کا خواہاں ہے‘‘۔ لیکن فرگوسن کے باقی کے پانچ وجوہ(طب، ملکیت، سائنس، محنت اور کھپت) تو ایسی ہیں، جن سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں۔ ان میں وہ سائنسی میدان میں یورپ کی ترقی کو دوسری بنیادی وجہ سمجھتا ہے۔

اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ جب یورپ پر تہذیبی زبوں حالی کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے، اُمتِ مسلمہ علوم و فنون کے میدان میں اپنے عروج پر تھی۔ لیکن جب یورپی قومیں اپنی شکست خوردگی سے بیدار ہونی شروع ہوئیں، انھی ایام میں اُمتِ مسلمہ پر ایسی گہری نیند چھائی کہ اب تک بیدار ہونے کانا م نہیں لیتی۔ دورِ رسالت اوردور خلافت وہ   شان دار اَدوار تھے، جب اُمتِ مسلمہ ایک تعمیری اُمت ہوا کرتی تھی۔علوم و فنون کی افزایش و ترقی میں اس امت کا ایک کلیدی کردار تھا۔ لیکن جوں جوں مسلم ذہنوں پر سُستی اور کاہلی چھاتی گئی، اس بنیادی کام میں ہمارا حصہ گھٹتا گیا اور آج حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ نہ صرف علمی ترقی میں ہمارا کوئی خاص حصہ نہیں ہے، بلکہ علم کے جذب و اجتہاد میں بھی یہ امت بخل سے کام لیتی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ پرمُسلم ہے کہ اس سائنسی ترقی کا ایک اور رخ بھی ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ جہاں علم کی ترقی نے انسان کو ایٹمی طاقت پر دسترس عطا کی، وہیں وحی سے کٹ کر انسان نے ایٹم بم بنا کر انسانیت کو ایک دہکتے ہوئے آتش فشاں پر دھکیل دیا ہے۔ انسانیت کی فوز وفلاح کے لیے صرف نت نئی ٹکنالوجی کافی نہیں بلکہ مشفق اور محسن اور آخرت کی جواب دہی سے سرشار انسانوں کی ضرورت ہے، جو اس ٹکنا لوجی کو انسانیت کی بقا کے خاطر استعمال کرسکیں ۔ انسانیت کو اس فساد سے نکال کر امن کی شاہراہ پر صرف اُمتِ مسلمہ ہی ڈال سکتی ہے۔

اُمتِ مسلمہ ایک بانجھ امت نہیں ہے اور نہ کبھی بانجھ رہی ہے۔ اس امت نے علوم و فنون کے ہر شعبے میں اعلیٰ صلاحیت اور امتیازی حیثیت رکھنے والے افراد کو جنم دیا ہے۔ حسن بصریؒ،   امام بخاریؒ، امام مسلم ؒ ،امام ابو حنیفہؒ، امام غزالیؒ ، امام ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ، علّامہ محمداقبالؒ، سیّدقطب شہیدؒ اور مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ، اس اُمت کے وہ موتی ہیں، جنھوں نے نہ صرف اس امت کے احیا کے لیے کام کیا، بلکہ تمام انسانیت کی فلاح کے لیے ان کے دل ہمیشہ تڑپتے رہے۔ آج ضرورت ایسے ہی ذہنوں کی ہے، جو اسلامی علوم کی تشکیل جدیدکا بیڑا اٹھائیں اور اس سمت میں اپنی خدمات انجام دیں۔ عشروں کی محنت سے ہم صرف جامعۃ الازہر ،دارالعلوم دیوبند جیسے گنتی کے چند اعلیٰ اداروں کا قیام عمل میں لاسکے ہیں، جب کہ غیر مسلم قومیں علم اور تحقیق کے ایسے ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں، جن کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ ایسے ہی تحقیقی اداروں سے ایسے کافرانہ نظریات بھی جنم لیتے ہیں جو نہ صرف اسلام دشمن ہوتے ہیں بلکہ انسانیت کے دشمن بھی۔ غرض مغربی ممالک علم وتحقیق کو غلبے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس غلبے سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس تحقیقی کلچر کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے جو سابقون الاولون میں دیکھنے کو  ملا تھا۔ اس ناکامی کی اصل جڑ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو دو بڑے خانوں میں تبدیل کر دیا: دُنیوی تعلیم اور دینی تعلیم۔ دنیاوی تعلیم کو ہم نے سرے سے ہی وحی سے کاٹ دیا اور دینی تعلیم کو دنیا سے کاٹ دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے [دینی یا دنیوی] صرف اور صرف ’یک رُخا انسان‘ تیار اور فراہم کرتے ہیں، جن میں بنیادی طور پر منقسم شخصیت ہی پیدا ہوسکتی ہے، اسلام کے انسانِ مطلوب کا تصور محال ہے۔

سوال : ’اسلامی بنیاد پرستی‘ کی جو لہر گذشتہ عشروں سے شدت پکڑتی جارہی ہے، اس پر انڈیا میں ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کی صورت میں بڑا سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ ’’اگر دوسرے مذاہب اپنے سیکڑوں سال پرانے قوانین پر اصرار کرتے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہ کریں؟‘‘ اس عمل اور ردعمل کے باعث آج بھارت جیسی ریاست میں ۲۰کروڑ سے زائد مسلمانوں کے مستقبل کی تباہی اور گذشتہ ہزار برس کے تمام مسلم تہذیبی نشانات مٹ جانے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس صورتِ حال میں برعظیم پاک و ہند کے کچھ ’روشن خیال‘ دانش وروں کا خیال ہے کہ برعظیم کے تمام مذاہب کے سرکردہ رہنما مل کر مذہبی بنیادوں پر سیاسی نظام نافذ کرنے پر اصرار کرنے کے بجاے سیکولر کلچر کو رواج دیں، مذہبی حوالے سے پُرامن بقاے باہمی کو عام کریں، اور اسی حوالے سے اپنے مذاہب کی صرف تبلیغ و اشاعت اور محض رفاہِ عامہ کا کام کریں اور بھارت میں یرغمال مسلمانوں کو بچانے اور ان کا مستقبل سنوارنے کا کام کریں؟

جواب:اگر یہی کام کرنا تھا تو پھر پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سوال میں پوشیدہ ’ہمدردانہ مشورہ‘ قیامِ پاکستان کی بنیادی اپروچ ہی سے متصادم ہے۔ یہ بات بھی غلط فہمی پر مبنی ہے کہ بھارت میں جس چیز کو آپ ’ہندو بنیاد پرستی‘ کہہ رہے ہیں، اس کی تاریخ ولادت، شاید قیامِ پاکستان یا پاکستان میں اسلامی نظام کی بات یا پھر اسلامی نشاتِ ثانیہ کی تحریک کے وجود میں آنے سے متعلق ہے۔ مَیں بڑے ادب سے کہوں گا کہ جو حضرات یہ بات کہتے ہیں وہ اس برعظیم کی تاریخ سے واقف نہیں۔ یہاں برعظیم میں ’شدھی‘ کی تحریک انیسویں صدی کے آخر میں دیاندا سرسوتی (م:۱۸۸۳ء) نے شروع کی، جب کہ اس سے قبل ’سنگھٹن‘ وغیرہ کی تحریکیں بھی ’رام راج‘ ہی کی پکار تھیں۔ سیّداحمد شہید کی تحریکِ جہاد کا توڑ کرنے کے لیے جو برعظیم پاک و ہند میں مغربی استعمار اور ’سکھاشاہی‘ کے لیے مزاحمت کی سب سے بڑی قوت تھی، جو مختلف فتنے جنم دیے گئے ہیں، اِن میں ایک ’قادیانیت‘ کا فتنہ بھی تھا۔ مذہبی فرقہ پرستی کا فتنہ بھی تھا اور اسی تسلسل میں ہندو احیا پرستی کا اقدام بھی تھا۔

انیسویں صدی میں ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی کے بعد اور خصوصیت سے تحریک ِ مجاہدین کے مقدمات اور ۱۸۸۴ء میں ان کا جو آخری مقدمہ قائم ہوا، اس میں آپ دیکھیں گے کہ برہمنوں کی زیرقیادت ہندو قوم پرستی کا بخار پروان چڑھ چکا تھا۔ ’دھرتی ماتا‘ کی محبت اور دھرم سے شیفتگی کے اس نسل پرستانہ نعرے کی رہنمائی اور آبیاری انگریزوں نے کی تھی۔ اس وقت سے لے کر پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد تک ہندو بنیاد پرستی اور ٹھیٹ ہندو قوم پرستی سے سرشار پُرتشدد تحریک اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں ہندو مسلم فسادات رُونما ہوئے اور ہندوئوں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا۔ اسی دوران مسٹرگاندھی کے باطن میں چھپا ہوا برہمن بے نقاب ہوا تھا۔ یاد رہے کہ ۱۹۲۴ء سے پہلے برعظیم کی تاریخ میں مسلمانوں کے ۹۰۰سالہ دورِاقتدار اور انگریز کے سوسالہ دور میں کبھی ہندو مسلم فساد رُونما نہیں ہوئے تھے۔

برہمنی نفرت کے انھی شعلوں کی بنیاد پر ۱۹۲۵ء کو پہلے تو ’راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ ‘ (RSS) قائم ہوا۔ اگرچہ اس کے بانی کیشوو ہیڈگوار [م: ۱۹۴۰ء] تھے مگر پنڈت مدن موہن مالویہ اس کے فکری لیڈروں میں سے تھے، جو پہلے پہل تو ہمارے ہندستانی مسلم قائدین مولانا محمدعلی جوہر، عبدالباری فرنگی محل، قائداعظم اور دوسرے اکابر مسلمانوں کے ممدوح تھے،لیکن مسلمان قائدین کی وسعتِ قلبی اور وسیع المشربی بھی گاندھی جی اور موہن مالویہ جی کے ذہن میں جمے ہوئے برہمنی تعصب اور تنگ نظری کو نہ دھو سکی۔ یہ پارٹی ہندو مذہبی انتہاپرستی اور ہندو قوم پرستی پر مبنی تھی اور اس نے غیرمنقسم ہند میں باقاعدہ مسلح جتھے منظم کررکھے تھے۔ پھر اس پارٹی نے ۱۹۵۱ء میں اپنے سیاسی بازو ’بھارتیہ جن سنگھ‘ کو جنم دیا اور آخرکار ۱۹۸۰ء میں ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کا رُوپ سامنے آیا۔ اب اگر برہمنی تعصب اور مسلمانوں سے نفرت کے ارتقا کو کچھ لوگ پاکستان میں اسلامی نظام کی تحریک کا ردعمل قرار دیتے ہیں تو یہ ان کی علمی بددیانتی ہے۔ لیکن جو مسلمان ان کی ایسی باتیں سن کر اسلامی احیا کی تحریک کی مذمت کرتے ہیں تو دراصل وہ اپنے مطالعۂ تاریخ کی نفی کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں پورے معاملے کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ بھارت میں ہندو تعصب اور انتقام کی موجودہ لہر کا کوئی تعلق قیامِ پاکستان اور پاکستان کی تحریک نفاذِاسلام کے ردعمل میں نہیں، بلکہ یہ سرتاپا Anti Muslim تحریک ہے، جس کی جڑیں انیسویں صدی میں مضبوط کی گئی تھیں۔ ایک پہلو اور بھی قابلِ غور ہے۔ تمام اہم سیاسی تجزیہ نگار اس امر پر متفق ہیں کہ ہندو انتہاپسندی کی تازہ لہر کو پروان چڑھانے میں خود اندراگاندھی اور راجیوگاندھی کا غیرمعمولی حصہ ہے۔ ۱۹۸۰ء کے دوران جنوبی بھارت میں مسلمانوں کی دعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں نچلی ذات کے لوگ جب اسلام کی دعوت کی طرف متوجہ ہوئے، تو خود اندراگاندھی اور بھارت کی برہمن اسٹیبلشمنٹ نے تب باقاعدہ ہندو انتہاپسندی کی حوصلہ افزائی کی۔ خصوصیت سے شمالی بھارت کی ہندو پٹی (belt) میں مسلم کش فسادات کی ایک رَو چل پڑی۔ بابری مسجد کا مسئلہ اُٹھایا گیا۔ مسلمانوں کے عائلی قوانین کو متنازع بنایا گیا اور محض سیاسی فائدہ اُٹھانے کے لیے مذہبی تعصب کی فضا پیدا کی گئی، لیکن تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ کانگریس جس نے اس فضا کو پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، وہ اس سے فائدہ نہ اُٹھا سکی اور اصل فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہنچا___  فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ ۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ہندوئوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ اب ردعمل کے طور پر بھارتی مسلمانوں کا خود اپنے اُوپر اعتماد بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے ووٹ کا سیاسی دبائو استعمال کر رہے ہیں۔ خصوصاً بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے ۱۹۷۵ء میں جب ایمرجنسی لگائی۔ اس دوران مسلمانوں کی ’نس بندی‘ کا مسئلہ بھی بنیادی موضوع بنا۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف جدوجہد کی اور مسلم ووٹ نے کانگریس کی پہلی شکست اور جنتاپارٹی کی کامیابی میں بڑا کلیدی کردار ادا کیا۔ دراصل یہی ہے وہ مقام جہاں پر ہندو انتہاپسندی نے خاص سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی اور اس کی بھی فکری بنیادیں انیسویں صدی سے اُٹھائی جارہی تھیں، اور یہ چیز یکایک نہیں ہوئی۔

اسی طرح میری نگاہ میں یہ بہت طویل عرصے تک رہنے والی چیز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوازم میں اجتماعی معاملات کے لیے کوئی واضح تصورِحیات موجود نہیں ہے۔ معاشرت اور عدل کے بارے میں ان کے ہاں کوئی قابلِ لحاظ رہنمائی نہیں ملتی۔ مجھے مولانا مودودیؒ کی وہ تحریر یاد آرہی ہے جس میں انھوں نے ایک ہندو سے یہ کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس حقیقی الہامی مذہبی ہدایت موجود ہو، اور آپ اس کے مطابق معاملات چلانا چاہیں اور واقعی اللہ کی بندگی پر مبنی کوئی راستہ اختیار کرلیں تو اس میں آپ کی خیر ہوگی، لیکن آپ کے پاس ایسی کوئی چیزنہیں ہے تو پھر آپ کو تعصب سے کام نہیں لینا چاہیے، بلکہ جس مذہب کے پاس الہامی ہدایت پر مبنی نظامِ زندگی موجود ہے، اسے اختیار کرنا چاہیے کہ اسی میں انسانیت کی خیر ہے۔ دراصل یہی وہ شعور ہے جس پر پاکستان کی تحریک وجود میں آئی۔

اگر ہمیں خوش نما لفظوں اور مفروضوں پر مبنی سیکولرزم کے سائے تلے کوئی نظام بنانا تھا، تو اس کے لیے پاکستان قائم کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ پھر یہ بھی ایک معروضی حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب نے آج انسان، معاشرے، اسٹیٹ اور قوم کے جو تصورات دیے ہیں، وہ ایک ایک کر کے منہدم ہورہے ہیں۔ کمیونزم نے اس کے مقابلے میں جو بند کھڑا کرنے کی کوشش کی تھی، وہ بھی تنکے کی طرح بہہ گیا۔ ان حالات میں وہ ہدایت، وہ اصول اور وہ نظام جس کی بنیاد پر انسانیت کے مسائل فی الحقیقت حل ہوسکیں ، صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسلام صرف پاکستانیوں کا دین نہیں ہے، اسلام پر محض نسلی مسلمانوں کی اجارہ داری نہیں ہے، بلکہ اسلام تو وہ پیغام ہے جو انسانیت کو زندگی، بقا اور تہذیب کا راستہ سکھانے کا نمونہ پیش کرتاہے۔ یہی ہمارا دعویٰ ہے اور یہی پیغام۔

آ پ نے سوال میں ہندو انتہاپسندی کے علاج کے لیے جو دوا تجویز کی ہے، وہ تو دراصل مسلمانوں کے پورے نظام کو دریا برد کرنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے ہم اس نوعیت کی ’ہمدردانہ اور دانش ورانہ‘ تجاویز کو مسترد کرتے ہیں۔ گو آج کے انسان نے فضائوں میں پرندوں کی طرح اُڑنا اور سمندر میں مچھلیوں کی طرح تیرنا سیکھ لیا ہے، لیکن بدقسمتی سے زمین پر انسانوں کی طرح رہنا نہیں سیکھا۔ اسلام ہی دراصل زمین پر انسانوں کی طرح رہنا سکھاتا ہے اور ہم یہی معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ قائم ہوجاتا ہے تو پھر ان شاء اللہ اس کے اچھے اثرات ہندو ذات پات کی شکار اقوام پر بھی پڑیں گے اور وہاں کے مظلوم مسلمانوں اور مقہور ہریجنوں تک بھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا جائے گا، کیوں کہ اسلام میں مذہبی رواداری کا ان لوگوں نے ابھی تک نظارہ نہیں کیا، بلکہ اس وقت، جب کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ بھی نہیں ہے، تب بھی پاکستان کا اپنی اقلیتوں کے ساتھ رویّہ کسی بھی دوسرے ایشیائی ملک سے بہتر، بلکہ بہت زیادہ بہتر ہے۔(پروفیسر خورشیداحمد)

 

دربرگِ لالہ وگُل (جلد اوّل)۔ افضل رضوی، ناشر : بقائی یونی ورسٹی کراچی۔ تقسیم کنندہ: کتاب سرائے، الحمد مارکیٹ ،اردو بازار لاہور۔ صفحات :۴۲۷۔ قیمت :۶۵۰۔

اس کتاب کا ضمنی عنوان ہے :’کلام اقبال میں مطالعۂ نباتات ‘(سرورق )۔

کلامِ اقبال میں تقریبا ً ایک سو نباتات (درختوں،پودوں، پھلوں وغیرہ ) اور تقریباً ۶۰(پرندوں، درندوں، جانوروں ) کا ذکر ملتا ہے۔ مگر یہ ذکر فقط تذکرے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس تذکرے کے عقب میں کوئی مقصد اور معنویت ہے، جیسے ’شاہین‘ کا ذکر فقط ایک پرندے کے طور پر نہیں ،بلکہ قوت، بلند پروازی،سخت کوشی اور فقر ودرویشی کی علامت یا استعارے کے طور پر ہے۔

زیر نظر کتاب کے مصنف بنیادی طور پر سائنس دان ہیں اور آج کل آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ اقبالیات کا ایک منفرد اور اچھوتا موضوع تلاش کر کے، رضوی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں : [اقبال ] نے شاعری کو احیاے ملت کے ابلاغ کا ذریعہ بنایا ، قوم کو اُمید وارتقاکا پیغام دیا اور جہدِ مسلسل کی ترغیب دلائی۔ نیا آہنگ ، نیا لہجہ ، نئے موضوعات اور نیا فلسفہ دیا.... انوکھی تراکیب سے جدت اور ندرت پیدا کی....  ان سب کے لیے وہ عناصر فطرت (پانی، ہوا، آگ ) کو کبھی مشکَّل، کبھی مجسّم، کبھی مرئی ، کبھی غیرمرئی اور کبھی طبّی خواص کے حوالے سے کام میں لاتے ہیں۔ وہ زمین اور زیر زمین جمادات (موتی ، گوہر، الماس، زمرد، یاقوت، لعل اور دیگر قیمتی پتھر ) کی چمک دھمک ، آب وتاب، رنگ وروپ، خوب صورتی،کمیابی،اور مضبوطی کو کبھی استعاراتی صورت میں ، کبھی علامتی انداز میں، کبھی تلمیحات کے طور پر ، کبھی محاوراتی طرز پر اور کبھی تراکیب کے نئے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ (ص ۲)

افضل رضوی صاحب کے تحقیقی کام کی زیر نظر جلد اول، میں انھوں نے ۱۸ نباتات (ارغوان، انگور، افیون، انار، انجیر، ببول، باغ، لالہ، گل، بید،برگ، بوستاں، چمن، چنار، دانا، گندم، گھاس، گلِ رعنا ) پر اپنے مختصر مضامین جمع کیے ہیں۔ ہر عنوان کے تحت پہلے وہ اس کی بناتاتی یا تخلیقی نوعیت کا تعارف کرواتے ہیں۔ پھر وہ پھل یا پودا کلام اقبال میں جہاں جہاں آیا ، متعلقہ اشعار درج کرتے ہیں اور پھر ان کی تشریح کرتے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے کلام اقبال کی نثر اور بطورِ خاص ان کے خطوط سے بھی متعلقہ حوالے یا اقبال کے جملے شاملِ تحقیق کیے ہیں۔

یہ کتاب اقبالیات کے ایک نادر موضوع کے ساتھ اقبال کے منتخب کلام کی تشریح بھی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی )


صحیفہ ،مکاتیب نمبر حصہ اول، مدیر: افضل حق قرشی ۔ناشر : مجلس ترقی ادب ،۲ کلب روڈ لاہور۔ ۵۴۰۰۰۔شمارہ جولائی ۲۰۱۶تا دسمبر ۲۰۱۶ء۔صفحات :۴۱۲۔قیمت ۴۰۰ روپے ۔

مشاہیر کے خطوط نہ صرف ان کی شخصیت بلکہ افکاروتصورات اور ذہنی وفکری ارتقا کی تفصیل بھی پیش کرتے ہیں، غالباً اسی اہمیت کے پیشِ نظر گذشتہ چند برسوں میں یکے بعد دیگر مکاتیب کے متعدد مجموعے شائع ہوئے ہیں، اور بعض جرائد (مجلہ تحقیق سندھ یونی ورسٹی ،مجلہ تعبیر علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی وغیرہ ) نے مکتوبات نمبر شائع کیے ہیں۔ زیر نظر صحیفہ کا مکاتیب نمبر حصہ اول اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے جو اردو عربی اور فارسی تحقیق وتنقید کی نام ور شخصیات کے مکاتیب پر مشتمل ہے۔

اس نمبر میں مولانا عبدالماجد دریا بادی کے ۷۷،مشفق خواجہ کے ۵۳ + ۲۹ ،غلام بھیک  نیرنگ کے ۳۲، ڈاکٹر شوکت سبزواری کے ۲۲ ،غلام رسول مہر کے ۲۰ ، اور رشید احمد صدیقی کے ۹خطوط شامل ہیں۔ مزید دسیوں مشاہیر کے ایک ایک ،دو دو اور چار چار خط شامل ہیں۔ بعض اصحاب (محمد راشد شیخ ،ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا مظہر محمود شیرانی ،ڈاکٹر تحسین فراقی ،محبوب عالم ،زاہد منیر عامر) نے خطوط کم وبیش حواشی وتعلیقات کے ساتھ مرتب کیے ہیں،اور بعض خطوط حواشی وتعلیقات کے بغیر شائع کیے گئے ہیں۔

بحیثیت مجموعی سارے خطوط بہت علمی ، دل چسپ اور معلومات کا خزانہ ہیں۔ مجلس ادارت نے بڑے سلیقے اور کاوش سے یہ خاص نمبر مرتب کیا ہے ۔ امید ہے حصہ دوم اس سے بھی بہتر معیار پر شائع ہوگا۔ (رفیع الدین ہاشمی )

غمِ آرزو کا حسرتؔ ، سبب اور کیا بتائوں

میری ہمتوں کی پستی ، مرے شوق کی بلندی

پاکستان کی ۷۰سالہ تاریخ حسرت موہانی کے اس شعر کی شرح کہی جاسکتی ہے۔ نصف صدی سے زائد اس عرصے کو ہم اِن عنوانات کے ذیل میں دیکھ سکتے ہیں:

۱- سیاست اور سیاست دان: ۲۰ویں صدی کے ۴۰ کے عشرے میں، جب برصغیر ہند کے ۱۰کروڑ سے زائد مسلمانوں کی اکثریت نہایت جذباتی انداز میں برصغیر کی تقسیم اور خلافت ِ راشدہ کے نمونے کی ایک مسلم ریاست کے خواب کی تعبیر کے لیے نہایت جوش و خروش سے حصہ لے رہی تھی، بعض گوشوں سے یہ ضعیف آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں کہ یہ تحریک درست نہیں۔ ان میں  بعض مذہبی طبقے بھی تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ کُل ہند مسلم لیگ کی قیادت اس نصب العین کو پورا کرنے کی اہل نہیں۔ لیکن اکثریت نے ان کے تحفظات کو رَد کر دیا اور ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو برصغیر تقسیم ہوگیا۔ ’پاکستان‘ کے نام سے ایک ’اسلامی‘ (مسلم) ریاست وجود میں آگئی۔

لیکن اس تحریک کے قائدین کی اکثریت، اسلامی اصول یا سیاست و ریاست سے کس قدر واقفیت رکھتی تھی؟ ان قائدین کی اپنی ذاتی زندگی میں اسلامی ثقافت اور سماجی اقدار کی کیفیت کیا تھی؟ فکری طور پر وہ اسلام کے سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اصولوں سے کس قدرواقفیت رکھتے تھے؟ یہ سوالات قابلِ توجہ ہیں۔

۲- سرزمینِ      بـے آئین : اس میں شک نہیں کہ اس نوزائیدہ مملکت کو بہت سے مسائل کا سامنا تھا، لیکن آئین سازی کے لیے ایک چھوٹی سی کمیٹی ہی کافی تھی۔ میری یادداشت کے مطابق اس کمیٹی میں مولانا سیّد سلیمان ندوی، مولانا ظفر احمد انصاری، ڈاکٹر محمدحمیداللہ اور بعض دوسرے لوگ شامل تھے۔۱ ڈاکٹر حمیداللہ اس کی کارکردگی سے مایوس ہوکر یورپ لوٹ گئے۔ آخر ’قراردادِ مقاصد‘   منظور ہوئی، جس میں پاکستان کو اسلام کی راہ پر ڈالنے کا عزم تھا (پروفیسر خورشیداحمد کی کتاب: پارلیمنٹ، دستو ر اور عدلیہ  کا مطالعہ اس سلسلے میں نہایت مفید ہوگا)۔

دنیا کے دساتیر کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ دستور سازی کوئی ایسا مشکل کام نہیں تھا: مقنّنہ ایک ایوانی ہو یا دو ایوانی، صدارتی /پارلیمانی (وزیراعظم)، ایوان کی مدتِ انتخاب، حلقے، حقوق اور ذمہ داریاں ___ ان سب معاملات پر دنیا کے دساتیر سے رہ نمائی مل سکتی تھی، مگر اس دستور سازی کے لیے جماعت اسلامی اور بعض جماعتوں کو ایک مہم چلانی پڑی (’اپنا مقصد اپنی منزل، اسلامی دستور‘)۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے ایک سال میں دستور مرتب کر کے نافذ کرلیا،۲ مگر ہم ۹سال تک بلادستور ۱۹۳۵ء کے برطانوی قانون کے تحت حکومت چلاتے رہے۔ پہلا دستور ۱۹۵۶ء، پھر تنسیخ کے بعد ۱۹۶۲ء اور پھر تنسیخ کے بعد ۱۹۷۳ء میں نیا دستور بنا اور نافذہوا۔

۳- نظریاتی انحراف : کہا جاتا ہے کہ ۲۰ویں صدی کی نصف دہائی کے قریب دنیا کے نقشے پر دو’نظریاتی ریاستیں‘ وجود میں آئیں۔۳  ۱۹۴۷ء میں پاکستان اور ۱۹۴۸ء میں اسرائیل۔ پاکستان پورے برصغیر ہند کے مسلمانوں کی اکثریت کی خواہش اور جدوجہد سے وجود میں آیا تھا۔ لیکن قائد کا یہ فرمان تاریخ کا حصہ ہے کہ: ہندستان میں مقیم مسلمان اب ہندستان کے وفادار شہری بن کر رہیں ۔ یہ ہندستان کے مسلم کُش ہندو مسلم فسادات کے دوران کہا گیا تھا۔ دہلی میں دی گئی  اس ’اذان‘ کا مقابلہ اسرائیل کی قیادت کی اس پالیسی سے کیجیے، جس کے مطابق دنیا میں کہیں بھی آباد یہودی، ہر وقت ریاست ِ اسرائیل کا شہری بن سکتا ہے۔ اس پر اسرائیل کی شہریت اختیار کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔۴

۴- غلامی کا  آغاز : قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد دنیا کی دو بڑی طاقتوں اشتراکی روس اور امریکا کی طرف سے ہند اور پاکستان کے سربراہوں کودوستانہ دوروں کی دعوت دی گئی۔ پاکستان میں اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکا کی دعوت کو قبول کیا اور وہاں کا خاصا طویل دورہ کیا۔ کئی معاہدے ہوئے اور اس طرح دوستی کی جگہ جو طوقِ غلامی، امداد (US Aid) کی شکل میں امریکا سے آکر پاکستان کی زینت بنا، اس کی گرفت روز بروز مضبوط ہوتی گئی۔ اس کے اثرات و شواہد بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔ روزمرہ کی خبروں سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے (ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکا کو حوالگی، اسامہ بن لادن کو پاکستان میں دراندازی کرکے ہلاک کر دینا، افغانستان کی بربادی، ڈرون حملوں کا تسلسل، ریمنڈ ڈیوس کی ’فاتحانہ‘ رہائی، پاکستان کی اعلیٰ قیادت پر اس کی طعن و تشنیع)۔ امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جو وظائف دیے جاتےہیں ان میں تعلیم سے فارغ اکثریت امریکا ہی کے مفاد میں کام کرتی نظر آتی ہے۔

۵- مذہبی قیادت : چوں کہ پاکستان کا قیام ایک اسلامی ریاست کے قیام کے وعدے پر کیا گیا تھا، اس لیے فطری طور پر یہاں اسلامی جماعتوں کے اثرواقتدار کو فروغ ہونا چاہیے تھا۔ اسلامی جماعتوں میں سب سے زیادہ منظم اور متحرک جماعت اسلامی تھی۔ اس کے علاوہ دوسری مذہبی و سیاسی جماعتیں جو میدان میں آئیں وہ جمعیۃ العلماے اسلام اور جمعیۃ العلماے پاکستان تھیں۔ جماعت اسلامی نے پاکستان کی سیاست (انتخابی سیاست) میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ کراچی اور پنجاب کے بعض حلقے اس کے زیراثر آئے، یہاں تک کہ ۱۹۷۰ء کی انتخابی مہم کے دوران میں ’شوکت ِ اسلام‘ کے مظاہروں سے یہ گمان ہوا کہ یہ اب اقتدار کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے، مگر نتیجہ   اس کے برعکس تھا۔ کارکنان پُراُمید تھے کہ اگر انتخابات باقاعدگی سے منعقد ہوتے رہے تو ایک دن جماعت اسلامی ضرور اقتدار سنبھال کر معاشرے کی اسلامی تشکیل و تعمیر کا فریضہ انجام دے گی، مگر اس کے بعد حالات زیادہ ہی نامساعد ہوتے گئے۔ دوسری طرف جمعیۃ العلماے اسلام اور جمعیۃ العلماے پاکستان کبھی قابلِ ذکر اراکین پارلیمان میں نہ بھیج سکیں۔

مذہبی جماعتوں کے انتخابی نتائج سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی جڑوں میں اسلام کا کتنا اثر موجود ہے۔ نیز یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ مذہبی قیادتیں اپنے وژن میں کس قدر معاشرے سے مطابقت رکھتی ہیں۔

۶- ثقافت : کسی قوم کی قدر کی پیمایش کا ایک طریقہ اس کی ثقافت، رسوم و رواج ، رہن سہن اور آدابِ زندگی کی جانچ پڑتال بھی ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے بھی مسلمانوں میں امیر، غریب اور متوسط طبقے موجود تھے، لیکن پچھلے چند برسوں کے دوران میں اس تفاوت میں اضافہ ہی نظر آیا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات، آرایش، لباس اور خوراک اور طرزِ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ لباس، مکانات اور سواریوں میں اور طرزِ زندگی میں تکلف، نمایش اور دکھاوا عروج پر ہیں۔ اسلامی مساوات اور سادگی جیسی قدریں، جو دینِ اسلام کا طرئہ امتیاز تھی، بڑی تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبوں میں صرف ’شادی ہال‘ کے کرائے لاکھوں میں ہوتے ہیں۔ کھانوں کا اسراف اور ضیاع ایک الگ مسئلہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علما اور اَئمہ کرام ، خود بھی سادگی کو اپنائیں اور اس کی مؤثر تلقین بھی کریں۔

اعلیٰ قیادت کس طرح خود کو نچلے معاشی طبقے کے ساتھ ہم آہنگ کرکے کرشمے دکھا سکتی ہے، اس کی ایک مثال مشرقِ بعید کی ایک چھوٹی سی ریاست ویت نام میں نظر آئی۔ دنیا کی سب سے بڑی فوجی/ اقتصادی قوت امریکا نے جب ویت نام پر حملہ کیا تو امریکا کے پاس تو جدید جنگی ٹکنالوجی تھی، جس سے ویت نام محروم تھا، مگر اس کے سربراہ ہوچی منہ ، جو ٹائر کی تراشی ہوئی چپل اور سفید پاجامے میں ایک عام شہری کی طرح زندگی گزارتے تھے، امریکا کے آگے سر نگوں نہ ہوئے۔ جنگ ہوئی اور آخر امریکا کو اپنی تاریخ کی پہلی (اب تک کی آخری) شکست کھاکر ویت نام سے ذلّت کے ساتھ پسپا ہونا پڑا۔

ہمارے ٹی وی پروگرام اور اشتہارات میں جس بے محابانہ انداز میں عورتوں اور پُرتعیش زندگی کو دکھایا جاتا ہے، وہاں عریانی کے فروغ اور اس کی اجازت بھی ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

۷- تعلیم : انگریزوں کے زیرتسلط برصغیر میں ابتدائی تعلیم (چوتھی جماعت) تقریباً مفت تھی۔ متوسط اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی نہایت سادگی سے ارزاں تعلیمی نظام رائج تھا۔ یہ کیفیت پاکستان کے بننے کے بعد بھی جاری رہی۔ لیکن رفتہ رفتہ حکومت، تعلیم کی ذمہ داری سے دست کش ہوتی نظر آئی اور نجی تعلیمی اداروں کا فروغ شروع ہوا۔ آج پاکستان میں تعلیم باقاعدہ نفع بخش اور نقدآور کاروبار بن چکی ہے۔ ابتدائی (پرائمری) اسکولوں میں بچوں کے بستے، فضول، بے کار، نہایت گراں اسٹیشنری اور کتابوں سے بھرے ہوتے ہیں کہ ان کا اُٹھانا بھی ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے بیش تر علاقوں میں سرکاری تعلیمی ادارے (اسکول /کالج) تقریباً خالی یا زبوں حالی کا شکار ہیں۔ مؤثر نظامِ معائنہ نہ ہونے سے اساتذہ، سرکاری اداروں سے مشاہرے تو وصول کرتے ہیں، لیکن اپنے نجی تعلیمی اداروں یا ٹیوشن سنٹرز میں مصروف ہیں۔

دوسری طرف ’انگلش میڈیم‘ اور دوسرے نجی تعلیمی اداروں نے تعلیم کو ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر اپنا لیا ہے۔ ابتدائی جماعتوں کے بچوں کی فیس ہزاروں میں وصول کی جاتی ہے۔ غریب کے لیے اچھی/معیاری تعلیم کا حصول تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ انگلش میڈیم اسکولوں میں درسی کتابیں زیادہ تر اوکسفرڈ یا ایسے ہی دوسرے اداروں کی شائع کردہ استعمال ہوتی ہیں۔ ان سے ثقافت، زبان اور ذہنیت کی ساخت کے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، کم ہی لوگوں کی اس پر نظر ہے۔

وزارتِ تعلیم اس سلسلے میں کیا کر رہی ہے؟ اس کی ایک مثال یہ ہے: ایک عرصے سے گریجویشن کی سطح کے تعلیمی نصاب میں ’اسلامیات‘ ایک لازمی مضمون کے طور پر شامل تھا (جامعہ کراچی نے اس کے لیے پروفیسر خورشیداحمد سے ایک نہایت عمدہ کتاب اسلامی نظریۂ حیات تالیف کروائی تھی)۔ اب ’ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) جو اعلیٰ تعلیمی نصاب اور طریقِ تدریس کی نگرانی کا ذمہ دار ہے، اسلامیات کے اس ’کانٹے‘ کو تو نہیں نکال سکا، تاہم اس کی جگہ ’اسلامیات اور پاکستانیات‘ (Islamic & Pakistan Studies) کے عنوان سے ایک مضمون رکھ دیا گیا ہے، جس میں پاکستان کی تاریخ تو ہے، مگر اسلام کا کہیں نام و نشان نہیں۔

نئے تعلیمی نظام کے ذریعے نئی نسل اسلامی اور روایتی اعلیٰ ثقافتی اقدار اور اپنی قومی زبان سے دُور ہوتی جارہی ہے۔ اُردو صرف بولنے کی زبان رہ گئی ہے۔ صرف انگریزی کو علم کی زبان تصور کرلیا گیا ہے۔ پوری قوم اُردو کے رسم الخط اور حروف تک سے بے بہرہ ہوتی جارہی ہے۔ اُردو بھی اب رومن حروف میں لکھنے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے (خصوصاً اشتہاروں اور مختصر اعلانات میں)۔ یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اپنی زبان کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ چین، جاپان، کوریا، نیز یورپی ممالک نے اپنی زبان میں تعلیم دے کر ہی نئی نسلوں کو علوم و فنون کی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ انگریزی بے شک ایک عالمی زبان ہے، اس سے شناسائی (بلکہ عبور) میں کوئی حرج نہیں، لیکن وہ اُردو ہی ہے جس کے ذریعے ہم ملک کے گوشے گوشے تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں،اور اسی کے ذریعے کم محنت سے علوم کو وسیع حلقوں میں پھیلا سکتے ہیں ۔ جامعہ عثمانیہ (حیدرآباد دکن) نے اس سلسلے میں جو کام کیے، ان کی نظیر بھی سودمند ہوگی۔ تمام عصری و سائنسی علوم، طب، انجینیرنگ کی اعلیٰ تعلیم اُردو ہی میں دی جاتی تھی،اور وہاں کے طلبہ نے اپنی قابلیت کا لوہا منوا لیا تھا۔

۸- پس چہ باید کرد : پاکستان کی مذہبی جماعتوں، بالخصوص جماعت اسلامی نے اپنے جتنے وسائل، روپیا، صلاحیتیں، افرادی قوت اور وقت انتخابات کے ذریعے کامیابی میں صرف کیا، اگر وہ نئی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت کے لیے استعمال کرتیں تو شاید اس ملک کی صورتِ حال کچھ اور ہوتی۔۵ انتخابی سیاست کے نتیجے میں برسرِاقتدار آجانے کے بعد بھی کیا ہوسکتا ہے، اس کی ایک حالیہ مثال مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کا استیصال اور بغاوت کرکے جنرل سیسی کا برسرِاقتدار آنا ہے۔ لیکن اگر عوام کی اکثریت کی تعلیم و تربیت ایک مختلف انداز میں ہو، تو ایسی کسی سازش کا کامیاب ہونا ممکن نہیں، جو ہمارے ملک میں بار بار کی گئی اور اس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا۔

نفسیات کے تجربوں میں ’آموزش بہ سعی وخطا (Learning by Trial and Error) ایک دل چسپ تجربہ ہے۔ ایک چوہے کو ’بھو ل بھلیوں‘ (maze) میں چھوڑ دیتے ہیں، جس کے دوسرے سرے پر پنیر کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ چند مرتبہ غلطی کرکے وہ اندھے راستوں سے واقف ہوجاتا ہے، اُدھر نہیں جاتا اور پھر سیدھا (بغیر غلطی کیے) پنیر کے ٹکڑے تک پہنچ جاتا ہے۔ اس حقیرجانور نے صحیح راستہ دریافت کرلیا ہے۔ ہمارے قائدین صحیح راستہ کب دریافت کریں گے؟

ضرورت ہے کہ اہلِ دانش سر جوڑ کر بیٹھیں، حالات کا معروضی انداز میں جائزہ لیں، اور ایک نئے طریق /نئے لائحۂ عمل کو تلاش کر کے اس پر عمل پیرا ہوں۔ بہرحال، ہمیں حالات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ علامہ اقبال (مفکرِ پاکستان) کہتے ہیں کہ اُمید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنا چاہیے۔

حواشی [ادارہ]

۱-            غالباًمقالہ نگار کی مراد ’تعلیماتِ اسلامی بورڈ‘ سے ہے ، جو قراردادِ مقاصد کی منظوری ۱۲مارچ ۱۹۴۹ء کے بعد ’دستور کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘ (بیسک پرنسپلز کمیٹی: BPS )کے تحت قائم کیا گیا تھا، جس کے سربراہ سیّد سلیمان ندوی تھے، جب کہ ارکان میں مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا شبیراحمد عثمانی، مولانا محمد اکرم خان، مولانا ظفراحمد انصاری، مفتی جعفرحسین، پروفیسر عبدالخالق اور ڈاکٹر محمد حمیداللہ شامل تھے۔

۲-            بھارت کا دستور ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ء کو منظور ، اور۲۴جنوری ۱۹۵۰ء کو نافذالعمل ہوا۔

۳-            یہ بات اصولی طور پر درست نہیں ہے کہ ’اسرائیل نظریاتی مملکت کے طور پر وجود میں آیا‘۔ اس ضمن میں مولانا مودودی نے ۱۹۴۴ء میں وضاحت فرمائی تھی:’’میرے نزدیک پاکستان کے مطالبے پر یہودیوں کے قومی وطن کی تشبیہہ چسپاں نہیں ہوتی۔ فلسطین فی الواقع یہودیوں کا قومی وطن نہیں ہے۔ ان کو وہاں سے نکلے ہوئے دو ہزار برس گزرچکے ہیں۔ اُسے اگر ان کا قومی وطن کہا جاسکتا ہے تو اس معنی میں، جس معنی میں جرمنی کی آریہ نسل کے لوگ وسط ایشیا کو اپنا قومی وطن کہہ سکتے ہیں۔ اب ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم کو دنیا کے مختلف گوشوں سے سمیٹ کر وہاں لا بسایاجائے اور اسے بزور ہمارا قومی وطن بنادیا جائے۔ بخلاف     اس کے مطالبۂ پاکستان کی بنیاد یہ ہے کہ جس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے، وہ بالفعل مسلمانوں کا قومی وطن ہے‘‘(ترجمان القرآن، جولائی-اکتوبر ۱۹۴۴ء)۔ اسرائیل کا کسی طرح بھی پاکستان کے قیام سے موازنہ نہیں بنتا، کیوں کہ پاکستان ایک جمہوری عمل اور کسی نسلی عصبیت کے بغیر وجود میں آیا، جب کہ اسرائیل،مغربی سامراج کی دھونس، دھاندلی، قدیم فلسطینی باشندوں کی بے دخلی اور قتل و غارت کے بل پر، اور سب سے بڑھ کر یہودی نسل پرستی کے اصول پر وجود میں آیا۔

۴-            قائداعظم نے دہلی میں نہیں، بلکہ کراچی میں ۱۱؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو مسلح افواج کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’ہندستان میں مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں، میرا انھیں یہ مشورہ ہے کہ وہ مملکت کے ساتھ بلاجھجک وفاداری (unflinching loyalty)کا اظہار کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ خود کو دوبارہ منظم کریں اور صحیح قسم کی قیادت پیدا کریں، جو اس خطرناک زمانے میں ان کی ٹھیک طور پر رہنمائی کرسکے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ ہندستان کی حکومت ان لوگوں کی غیردانش مندانہ کارروائیوں کے باعث اپنا نام بدنام نہیں ہونے دے گی، جو ظالمانہ اور غیرانسانی طریقوں سے مسلمانوں کے انخلا یا انھیں فنا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر اقلیتوںکے مسئلے کا حتمی حل عوامی سطح پر تبادلہ آبادی کے ذریعے ہی ہونا ہے، تو پھر اس کا تصفیہ حکومتوں کی سطح پر ہونا چاہیے، اس معاملے کو خون خوار عناصر پر نہیں چھوڑنا چاہیے‘‘ (Speeches, Statements & Messages of the Quaid-e-Azam، جلد۴، مرتبہ: خورشیداحمد خاں یوسفی، بزمِ اقبال، لاہور، ص ۲۶۲۸)۔ اس خطبے میں قائداعظم نے قطعاً یہ نہیں کہا کہ ’’تم مت پاکستان آئو‘‘۔ یاد رہے، کم و بیش ۱۹۶۵ء تک بھارت سے مسلمان نقل مکانی کر کے پاکستان آتے رہے اور انھیں بجاطورپر شہریت دی جاتی رہی۔ پھر اصولی طور پر یہ بات ذہن نشین رہےکہ ہرملک کے شہری کو، جب تک وہ متعلقہ وطن کا شہری ہے یا اس نے متعلقہ ملک کا شہری بننا قبول کرلیا ہے تو اسے اسی ملک کا وفادار رہنا چاہیے، جس طرح اہلِ پاکستان چاہتے ہیں، کہ پاکستانی ہندو برادری، پاکستان کی وفادار رہے۔

۵-            جماعت اسلامی نے بہ حیثیت جماعت تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ذمہ داری اس لیے نہیں لی کہ وہ زیرتعلیم طلبہ اور ان کے مستقبل کو پاکستان کی مخصوص صورتِ حال میں سیاسی وابستگی کے رنگ سے متاثر نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم، اس کے حلقۂ اثر میں بہت سے افراد نے نجی سطح پر تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، جن کی تعداد اس وقت سیکڑوں میں ہے۔

حضرت علیؓ کی عالی ظرفی

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو نہایت صحیح اور معتبر روایتیں کتب ِ حدیث میں وارد ہوئی ہیں، وہ ملاحظہ ہوں: بخاری میں حضرت علیؓ کے صاحب زادےمحمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ ’میں نے اپنے والد ماجد سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟‘ فرمایا: ’ابوبکرؓ‘۔ میں نے عرض کیا: ’پھر کون؟‘ فرمایا: ’عمرؓ‘۔ اس کے بعد مجھے اندیشہ ہوا کہ میں پھر یہی سوال کروں گا تو یہ کہہ دیں گے : ’عثمانؓ‘۔ اس لیے میں نے پوچھا: ’اُن کے بعد کیا آپ ہیں؟‘ فرمایا:’ مَا اَنَـا اِلَّا رَجُلٌ  مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ،[بخاری، کتاب المناقب، حدیث ۳۴۸۹](میں کچھ نہیں ہوں مگر بس مسلمانوں میں سے ایک آدمی)۔ یہ جواب ٹھیک اُس بلند اور پاکیزہ سیرت کے مطابق ہے جو سیّدنا علیؓ کی تھی۔ اُن جیسے عالی ظرف انسان کا یہی مقام تھا کہ اپنے مرتبےکی فضیلت بیان کرنے سے اجتناب فرماتے اور اپنی ذات کو عام مسلمانوں کی صف ہی میں رکھتے۔

بیہقی [المدخل اِلی السنن الکبریٰ] اور مسنداحمد [فضائلِ صحابہؓ]میں حضرت علیؓ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ: مَا کُنَّا نُبْعِدُ اَنَّ السَّکِیْنَۃَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ (ہم لوگ اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ سکینت عمر کی زبان سے بولتی ہو)۔

بخاری و مسلم اور مسنداحمد میں ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ: جب حضرت عمرؓ کا انتقال ہوگیا اور آپ کو غسل دینے کے لیے تختے پر لاکر رکھا گیا، تو چاروں طرف لوگ کھڑے ہوئے ان کے حق میں دُعاے خیر کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک شخص پیچھے سے میرے شانے پر کہنی ٹیک کر جھکا اور کہنے لگا: ’’اللہ تم پر رحمت فرمائے، تمھارے سوا کوئی ایسا نہیں ہے، جس کے متعلق میرے دل میں یہ تمنا ہو کہ میں اُس کا سا نامۂ اعمال لے کر اپنے اللہ کے حضور حاضر ہوں۔ مَیں اُمید رکھتا ہوں کہ اللہ تم کو ضرور اپنے دونوں رفیقوں (یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ہی رکھے گا، کیوں کہ میں اکثر حضوؐر کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ فلاں جگہ مَیں اور ابوبکرؓ و عمرؓ تھے۔ فلاں کام میں نے اور ابوبکرؓ و عمرؓ نے کیا۔ فلاں جگہ مَیں اور ابوبکرؓ و عمرؓ گئے۔ فلاں جگہ سے مَیں اور ابوبکرؓ و عمرؓ نکلے‘‘۔ ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ: ’میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ علیؓ بن ابی طالب تھے‘۔(’رسائل و مسائل‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۴۸، عدد۵، ذی قعد ۱۳۷۶ھ، اگست ۱۹۵۷ء، ص ۵۶-۵۹)