حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارت کے سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا۔ ان کے جانے کے بعد یہ خبر اڑ گئی کہ: ’’قریش نے ان کو شہید کر دیا ہے‘‘۔یہ وہ ظلم تھا جسے ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہ کیا جا سکتا تھا۔ حضوؐر اور آپؐ کے ساتھی سب زیادتیوں کو گوارا فرما رہے تھے لیکن اعلیٰ مقصد کے لیے___ اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جو حضوؐر کے سفیر تھے، شہید کردیا گیاہے، تو یہ کھلا کھلا اعلان جنگ ہے۔ امن پسندی اور عفوورحم اسلام کا شعار ہے لیکن ظالم جب ساری حدود کو پھاند جانے کے در پے ہو تو پھر انصاف کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ظالم کا ہاتھ پکڑ لیا جائے اور جو تلوار مظلوموں پر اُٹھی ہے اسے توڑ ڈالاجائے۔
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سارے ساتھیوں کو جمع کیا اور ان سے حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کی بیعت کی۔ یہ بیعت مر مٹنے کے وعدے پر تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’عثمانؓ کے خون کا قصاص لینا فرض ہے ‘‘۔ ایک ببول کے درخت کے نیچے بیٹھ کر آپؐ نے صحابہؓ سے جاں نثاری اور آخری سانس تک لڑنے کی بیعت لی۔ اس بیعت میں مردوزن سبھی شامل تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے جوش اورولولے کا یہ عالم کہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے کوشاں اور بے چین اور بڑھ چڑھ کر آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کرتے گئے۔ خدا قرآن میں اس کا ذکر اس طرح کرتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْج (الفتح ۴۸:۱۰) اے نبیؐ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ(الفتح ۴۸:۱۸)
اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا اس لیے اُس نے ان پر سکینت نازل فرمائی۔
دعوتِ اسلامی کی خصوصیت ہے کہ آزمایش کے وقت اس کے پیروکاروں کے جذبۂ عمل اور شوقِ قربانی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے، فدا کاری کی ایک لہر صرف افراد کے سراپے ہی میں نہیں، بلکہ ان کی اجتماعیت تک میں دوڑ جاتی ہے، حق کے لیے جان کی بازی لگادینے کا ولولہ ہر فرد میں پیدا ہوجاتا ہے___ اور یہ وہ ادا ہے جو حق تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ اس نے ایسے لوگوں کے لیے اپنی رضا مندی اور جنت لکھ دی ہے ؎
نگاہ یار جسے آشناے راز کرے
وہ اپنی خوبیِ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
محبوب کی رضا طلبی کی خواہش اور اس کی خوشی پر فخر ونازہی کی کیفیت میں حضرت براء رضی اللہ عنہ نے محبت میں ڈوبے ہوئے تاریخی الفاظ کہے تھے جو بخاری میں مرقوم ہیں:
’’ تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور ہم بیعت رضوان کو (اصل فتح ) سمجھتے ہیں‘‘۔
اس بیعت نے مسلمانوں کے جذبات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا تھا۔ ہر شخص کفن سر سے باندھے، حق کے لیے جان کی بازی کھیل جانے کے لیے تیار تھا اور اس میں کیف وسرشاری محسوس کر رہا تھا ؎
دست از طلب ندارم تاکار من برآید
یاتن رسد بہ جاناں یا جاں زتن برآید
[میں نے کام میں ہاتھ اس لیے نہیں ڈالا کہ میری غرض پوری ہو بلکہ یہ کام اس عزم کے ساتھ کر رہا ہوں کہ مَیں محبوب تک پہنچ جائوں یا اسی کام میں اپنی جان ہار دوں۔]
عزم واستقلال کے اس مظاہرے نے قریش کے ہوش اڑا دیے___ اپنی ساری اکڑفوں اور کبرواستکبار کے باوجود وہ صلح پر آمادہ ہو گئے۔
لیکن، مسلمانوں کے لیے ابھی کچھ اور آزمایشیں بھی تھیں ۔ دارورسن کے لیے تو وہ آمادہ وتیار تھے ہی۔ لیکن نئی آزمایش ایک اور ہی نوعیت کی تھی!
اب انھیں ایک ایسی صورت کے لیے تیار ہونا تھا جس میں کمزوری اور شکست خوردگی کی سی کیفیت کا نمایاں اظہار تھا، جس کی وجہ سے کعبۃ اللہ کے دیدار سے آنکھوں کے مشرف ہونے کا جو امکان پیدا ہو گیا تھا، اس سے محرومی تھی۔ جذبۂ جہاد میں جو قدم آگے بڑھے تھے، ان کو حکمت الٰہی کے تحت پیچھے ہٹانا تھا___
یہ آزمایش جان لٹانے سے بھی زیادہ سخت تھی !
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر غلط نکلی ! عروہ بن مسعود ثقفی قریش کے نمایندے کی حیثیت سے آیا اور صلح کی گفت وشنید کی۔ بظاہر عروہ بہت رکھ رکھائو سے معاملات طے کر رہا تھا۔ قریش کا سراُونچا رکھنے ، ان کی ضد پر پردے ڈالنے اور ان کی مٹی میں ملتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لیے اس نے ہر ممکن جتن کیے۔ اپنی بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے بہت سی نازیبا حرکتیں بھی کیں ۔ کبارصحابہ ؓ سے، جن میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت مغیرہ ؓ شامل تھے بدزبانی تک سے باز نہ آیا لیکن داعیانِ حق کے اس کیمپ میں جو منظر اس نے دیکھا، اس نے اس کے دل کو مسخر کر لیا ۔ کم تعداد اور نہتے مسلمانوں کا رعب اس کے دل ودماغ پر قائم ہو گیا، اور قریش کو شرائط پر آمادہ کرنے کے لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی اور بالآخر کامیاب رہا۔
وہ کیا چیز تھی جس نے اس کے دل ودماغ کو مائوف کر دیا ؟ وہ کون سی قوت تھی جس کے آگے اس نے ہتھیار ڈال دیے ؟ صحابہ کرامؓ کی وہ کون سی خصوصیت تھی، جس نے مخالفین کو بھی خاموشی کے ساتھ مسخر کر لیا؟ عروہ ہی کی زبانی سنیے۔ قریش میں واپس جا کر وہ کہتا ہے:
اے قریش! میں نے کسریٰ اور قیصر اور نجاشی جیسے باد شاہوں کے دربار دیکھے ہیں ۔ مگر خدا کی قسم! میں نے اصحابِ محمدؐ کو جس طرح محمدؐ کا فدائی دیکھا ہے، ایسا منظر کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے ہاں نہیں دیکھا۔ ان لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ جب محمدؐ وضو کرتے ہیں تو صحابہؓ آپؐ کے وضو کے پانی کی ایک بوند بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے ___ پس، اب تم لوگ سوچ لو کہ تمھارا مقابلہ کس سے ہے؟ (سیرت ابن ہشام ، ص ۴۵۱)
قریش کے ہاں سنّاٹا چھا گیا ___ وہ کہنے لگے: ’’اے چچا ، جیسے تم مناسب سمجھتے ہو کرو‘‘۔
دیکھیے ! وہ کیا چیز ہے جس نے دلوں کو فتح کر لیا، مادی قوت نہیں، اسلحے کی سج دھج نہیں ، فوج کی تعداد نہیں ، ظاہری رعب ودبدبہ نہیں___ وہ چیز ہے اخلاقی قوت ، باہمی محبت___ یک رنگی، وحدت اور نظم واطاعت ! اخلاق کی قوت مادی طاقت اور ابلیسی سیاست پر غالب آئی اور بحث کے لیے صفحۂ تاریخ پر یہ فیصلہ ثبت کر گئی کہ :’’آخر ی فتح اخلاق ہی کی قوت کو حاصل ہوتی ہے ‘‘۔
اب آزمایش کا ایک دوسرا ورق کھلتا ہے۔ انسان کی نگاہ چند قدم ہی تک دیکھتی ہے لیکن حکمت الٰہی کے لیے زمان ومکان کی کوئی حد اور قید نہیں۔ انسان اپنی سمجھ اور خواہشات اور تمنّائوں کے مطابق فیصلے چاہتا ہے، لیکن مشیّت ربانی کی جو حکمت بالغہ کار فرما ہے وہ ہماری تمنّائوں کی پابند نہیں۔
مسلمانوں کا دل اب صلح سے زیادہ معرکے اور زیارت بیت اللہ کے لیے بے تاب تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی کسی اور ہی طرف اشارہ کر رہی تھی۔
مسلمانوں کے لیے ایک بڑا ہی دل پاش پاش کر دینے کا لمحہ آیا، آزمایش نے ایک نیا رُوپ دھارا۔ صلح کی شرائط طے ہو گئیں، قریش کی طرف سے سُہیل بن عَمرو، ایک وفد کے ساتھ آیا اور حضوؐر سے گفت وشنید کے بعد منجملہ اور چیزوں کے یہ طے پایا کہ:
۱- دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی، اور ایک دوسرے کے خلاف خفیہ یا علانیہ کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔
۲- اس دوران میں قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] کے پاس جائے گا، اسے آپؐ واپس کردیں گے، اور آپؐ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا، اسے وہ واپس نہ کریں گے۔
۳- قبائلِ عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا، اسے اس کا اختیار ہوگا ۔
۴- محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] اس سال واپس جائیں گے اور آیندہ سال وہ عمرے کے لیے آکر تین دن مکّہ میں ٹھیر سکتے ہیں، بشرطیکہ نیاموں میں صرف ایک ایک تلوار لے کر آئیں، اور کوئی سامانِ جنگ ساتھ نہ لائیں۔ ان تین دنوں میں اہلِ مکّہ، ان کے لیے شہر خالی کردیں گے (تاکہ تصادم نہ ہو) مگر واپس جاتے ہوئے وہ یہاں کے کسی شخص کو اپنے ساتھ لے جانے کے مجاز نہ ہوں گے۔
ان شرائط پر مسلمانوں میں ایک خاموش اضطراب ، ایک دبی ہوئی بے چینی اور ایک شدید گھٹن کی سی فضا پیداہوگئی تھی۔ کوئی شخص ان مصلحتوں کو نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ جنھیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُور رس نگاہیں دیکھ رہی تھیں۔ پھر جب معاہدہ لکھنے کا آغاز ہوا توحضرت علی ؓ نے لکھنا شروع کیا: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سہیل نے کہا: ’’ہم اس کو پسند نہیں کرتے باسمِکَ اللّٰھم لکھو ‘‘۔
آپؐ نے فرمایا: ’’اچھا یہی سہی‘‘ ___
دوسرا جملہ تھا: من محمد رسول اللہ ___ سہیل نے پھراختلاف کیااور کہا: ’’اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو جھگڑا ہی کیا تھا، ’’محمد بن عبداللہ ‘‘ لکھیے۔ مسلمانوں کے لیے یہ اعتراض ناقابلِ برداشت تھا۔ ان کی بے چینی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔
حضور ؐ نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ ’رسول اللہ کے لفظ مٹا دو‘___ لیکن حضرت علی ؓ کے ہاتھوں کی جنبش رُک گئی۔ حضوؐر نے حکم دیا، مگر علی ؓ تعمیل نہیں کر پاتے ! آہ! محبت میں ایک ایسا مقام بھی آتا ہے کہ محبوب کی عزت اور مقامِ نبوت کی عظمت وعصمت کی خاطر اطاعت کیش ہاتھ پائوں بھی رُک گئے___ یہ عدم اطاعت نہیں تقدیس اور عظمت وعقیدت کا وہ نازک مقام ہے کہ جہاں اطاعت بھی محبت کے آگے سپر ڈال دیتی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ان الفاظ کو، جن کے لیے ساری دنیا کو چھوڑا تھا، کیسے مٹا سکتے تھے؟
حضوؐر اس پر خفا نہیں ہوئے، اپنے دست مبارک سے وہ الفاظ مٹا دیے اور محمد بن عبداللہ لکھ دیا گیا۔ یہ تھی نبیِؐ برحق کی حکمت عملی ___ !
باطل پرستوں کی نادانی پر زمین وآسمان کی قوتیں خندہ زیرلب کے ساتھ گویا تھیں کہ ان الفاظ کے مٹانے سے کہیں حق مٹ سکتا ہے ! یہ تو محض ایک قانونی وسیلہ ہے تمھاری اس چھچھوری حرکت پر، اس میں کیا فرق پڑجائے گا۔ ایسے قانونی کرتب کہیں دعوت اسلامی کو بھی متاثر کرتے ہیں!
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ(الفتح ۴۸:۲۹ ) محمدؐ، اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفّار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔
یہ زور دار اعلان قریش کی اوچھی حرکت کی کلّی تردید ہے ! قرآن کے ان تین اہم ترین مقام میں سے ایک، جہاں نام لے کر حضور ؐ کی رسالت کا اثبات واظہار نہایت قوت وتہدی کے ساتھ کیا گیا ہے ۔
لیکن یہ ساری باتیں تو کچھ بعد کی ہیں، فوری طور پر تو مسلمانوں کے جذبات میں شدید ارتعاش پیدا ہو گیا ۔ ان کی نگاہیں مستقبل کے دھندلکوں میں پوشیدہ کامیابیوںکو دیکھنے سے قاصر تھیں۔ وہ ان حکمتوں سے بھی ناواقف تھے، جو اللہ کے فیصلوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں ___ ان کے سامنے تو غلبے کی اُمید کے بعد ظاہری کم زوری یا کھلے لفظوں میں ناکامی کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ وہ تو زیارتِ کعبہ کی توقعات کو ہوا میں تحلیل ہوتا دیکھ رہے تھے۔ وہ تو ظالموں کی بات کے وقتی طور پر بظاہر حاوی ہوجانے پر مضطرب تھے۔ وہ اپنی امیدوں کے ٹوٹنے پر پریشان اوربے چین تھے___ وہ آئے تو اس ارادے سے تھے کہ متکبروں کی اکڑی ہوئی گردن کو جھکا دیں گے یا قلم کر دیں گے ___ لیکن بظاہر انھیں نظر ا ٓ رہا تھا کہ اس گردن کے خم میں تو کچھ اور بھی کجی رُونما ہو گئی ہے۔
ابھی صلح نامے پر آخری دستخط نہ ہوئے تھے کہ ایک مسلمان حضرت ابو جندل ؓ آئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ سہیل ان پر سخت مظالم کر رہا تھا۔ اس وقت بھی ہاتھ اور پائوں میں زنجیریں تھیں اور انھوں نے مسلمانوں کے سارے مجمعے کے سامنے اپنے زخم اور دھنکی ہوئی کمر دکھائی___ یہ منظر دیکھ کر سب کے دل دہل گئے، خون جوش میں آگیا۔ حضوؐر نے ابو جندل ؓ کو معاہدے سے مستثنیٰ کرانے کی بہترین کوشش کی، لیکن سہیل بن عَمرو اڑ گیا۔ بالآخر آپؐ نے معاہدے کی پابندی کی اور فرمایا:
’’ابو جندلؓ ، چند روز اور صبر کرو، اجر کی اُمید رکھو، عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے اور دوسرے مظلوموں کے لیے کشادگی پیدا کرے گا۔ میں مجبور ہوں کہ میں نے عہد کر لیا ہے اور عہد کے خلاف نہیں کر سکتا ‘‘۔ اور حضرت ابو جندلؓ کو پابہ زنجیر واپس جانا پڑا ۔
یہ آزمایش مسلمانوں کے لیے بہت کڑی تھی___ ذلت گوارا کریں اور پھر اپنے بھائیوں کو آنکھوں دیکھے ظالموں کے ہاتھ میںدے دیں۔
ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں ؟
ان واقعات پر سب ہی مضطرب تھے، لیکن زبان کھولنے کی ہمت کسی میں نہیں ہورہی تھی، بالآخر حضرت عمر ؓ کو ضبط کا یارانہ رہا اور وہ بے چین ہوکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور بوجھل دل سے کہا: ’’کیا حضوؐر، اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ پھر آخر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ ذلّت کیوں اختیار کریں؟‘‘
ابوبکر صدیقؓ نے جواب دیا: ’’اے عمر، وہ اللہ کے رسولؐ ہیں ، اور اللہ ان کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا‘‘۔
حضرت عمرؓ کا اضطراب ختم نہ ہوا، اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے :
عمر ؓ : یا رسولؐ اللہ ! کیا آپ پیغمبرؐ برحق نہیں ہیں؟
حضور ؐ نے فرمایا : ہاں، ہوں۔
عمر ؓ : کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟
فرمایا : ہاں، ہم حق پر ہیں۔
عمر ؓ : تو ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟
فرمایا : میںخدا کا پیغمبرؐ ہوں اور خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتا ، خدا میری مدد کرے گا۔
عمرؓ: کیا آپؐ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم لوگ کعبہ کا طواف کریں گے؟
فرمایا: ہاں، لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اس سال ہی کریں گے۔ (بخاری، سیرت النبی ؐ ، از شبلی نعمانی، ص ۴۵۵-۴۵۶)
معاہدے کی تکمیل کے بعد آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاکہ یہیں قربانی کی جائے لیکن جو کعبہ کی زیارت کی ولولہ انگیزتوقعات کے ساتھ نکلے تھے، جوببول تلے ابھی جاں نثاری کی بیعت کر چکے تھے، جو شہادت کو چشم تصور سے دیکھ رہے تھے اور خوش ہو رہے تھے، جو پرشوق اُمیدوں کے سہارے تخیل ہی تخیل میں معلوم نہیں کتنی بار کعبہ کا پروانہ وار طواف کر چکے تھے___ سکتے کے عالم میں تھے ___ ہر شخص دل شکستہ ، ہر جانباز پژمُردہ اور نااُمید ___ حضوؐر نے قربانی کے لیے کہا، مگر کوئی نہیں اٹھا ۔ تین بار زبانِ رسالتؐ سے اس خواہش کا اظہار ہوا، لیکن پرستارانِ حق اور عازمین حرم کی توقعات ابھی بالکل نہیں ختم ہوئی تھیں۔ وہ ابھی تک سوچ رہے تھے کہ شاید اب بھی زیارت کی کوئی صورت نکل آئے ! حضوؐر بے چین ہوکر اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ اُم المومنین حضرت اُمِ سلمہؓ سے فرمایا: میرے ان ساتھیوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ حضرت اُمِ سلمہؓ نے مشورہ دیا کہ آپؐ کچھ خیال نہ فرمائیںبلکہ خود اپنی قربانی کر دیں اور احرام اتارنے کے لیے بال منڈوا لیں۔ آپ نے باہر نکل کر اپنی قربانی کر دی___ اب آخری توقع بھی ٹوٹ گئی اورسب کو یقین ہوگیا کہ خدا کا فیصلہ آ چکا ہے۔ ہماری توقعات وخواہشات کچھ بھی ہوں لیکن اس سال ہم اپنے محبوب کی زیارت سے محروم ہی رہیں گے ___ ابھی کچھ دن اور صبر کرناہوگا، ابھی ہجر کی کچھ اور گھڑیاں باقی ہیں۔ زیارت محبوب کی تمنّا کو ابھی سوزِ قلب کی بھٹیوں میںاور پکانا ہوگا ؎
نالہ ہے بلبل شوریدہ، ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
جب یہ یقین ہو گیا تو اطاعت کا دریا پھر جوش میں آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے بعد سب نے اپنی اپنی قربانیاں پیش کر دیں اوراحرام اتار دیے۔
یہاں پر یہ گمان نہ ہو کہ اس نازک لمحے میں جاں نثارانِ محمد ؐ میں عدم اطاعت کا مرض پیدا ہوگیاتھا۔ ہرگز نہیں، اطاعتِ رسولؐ تو ان کا ایمان اور ان کی معراج تھی۔ اس کی وجہ صرف اضطراب اور پریشانی کے عالم میں زیارت کعبہ کی ایک آخری امید تھی___ توقعات ٹوٹ رہی تھیں، اضطراب بڑھ رہا تھا، لیکن اس اُمید شکن ماحول میں بھی بار بار یہ خواہش ابھر رہی تھی کہ کاش! کوئی صورت نکل آئے ___ اور اسی لیے قربانی کرنے میں ہچکچاہٹ تھی۔ لیکن جب یہ توقع بالکل ختم ہو گئی تو اس کے باوجود اطاعت میں کوئی کمی نہ رہی۔
ان سخت صبر آزما حالات میںبھی اطاعت کی مثال اگر دیکھنی ہے تو صلح نامے پر دستخط کرنے والوں کی فہرست پر نگاہ ڈالیے۔ جب حضوؐر کی مہر اس پر ثبت ہوئی تو وہی عمر ؓ جو سخت مضطرب تھے، انھوں نے ایک اشارے پر اس معاہدے پر بطورِ گواہ دستخط کر دیے ہیں۔کیا اس اطاعت شعاری کا کوئی جواب ہو سکتا ہے!
جسے تم ذلّت سمجھ رہے ہو !
مسلمانوں کا یہ اضطراب حق کے جوش اور اس کی محبت میں تھا ، کسی جاہلی جذبے کی بنا پر نہیں تھا۔ اس لیے دیکھیے حق تعالیٰ اس پر نکیر فرمانے کے بجاے کس کس پیار سے ان کو سمجھاتا ہے۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے اور اس میں بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ ہم ہی نے تم کو ان کافروں پر فتح یاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے تھے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس کو دیکھ رہا ہے:
وَھُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْھِمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاo (الفتح ۴۸: ۲۴) وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، حالاں کہ وہ ان پر تمھیں غلبہ عطا کر چکا تھا، اور جو کچھ تم کر رہے تھے، اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
پھر سمجھایا جارہا ہے کہ اہل مکہ میںبہت سے چھپے ہوئے مسلمان ہیں جو اس وقت جنگ کی شکل میں مشکل میں پھنس جاتے بلکہ تمھارے ہی ہاتھوں قتل ہو جاتے۔ ہم نے تاخیر اس لیے کی ہے کہ وہ کھل کر دائرۂ حق میں داخل ہو جائیں:
وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآئٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْھُمْ اَنْ تَطَئُوْھُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْھُمْ مَّعَرَّۃٌ م بِغَیْرِ عِلْمٍ ج لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ج (الفتح ۴۸: ۲۵) اگر [مکّہ میں] ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنھیں تم نہیں جانتے، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انھیں پامال کردو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی۔ روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔
حضوؐر نے ایک مختصر جملے میں کتنی بلیغ بات ارشاد فرمائی کہ ’’ میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ اس سال ہی عمرہ کریں گے‘‘، یعنی خدا کا وعدہ سچا ہے ، لیکن اس کا وقت بھی متعین ہے۔ بے صبری اور جلدبازی اس راہ میں حرام ہے۔ اپنے وقت پر اس کا وعدہ لازماً پورا ہو گا۔ ہمارا یہ کام نہیں کہ خدا کے فیصلوںکے لیے وقت متعین کریں___ وہ اپنے ہر کام کو اس کے مناسب وقت پر خود انجام دیتاہے۔
مسلمانوں کو اس کا یقین دلایا جا رہا ہے کہ تمھاری مدد اور منکرین حق کی تعذیب کے لیے خدا کے لشکر ہر وقت تیار ہیں، پلک جھپکتے میںوہ فیصلہ کر دیں گے___ تاخیر خدانخواستہ کسی کمزوری کی بنا پر نہیں تھی، مصلحت اور حکمت اس کی وجہ تھی اور خدا کی ساری حکمتیں تمھارے سامنے نہیں تھیں:
وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًاo (الفتح ۴۸: ۴) زمین اور آسمان کے سب لشکر اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے۔
پھر بڑے لطیف انداز میں ان کو متوجہ کیا گیا کہ اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے، دنیا میں غلبہ ملانہ ملا___ یہ تو کوشش اور جدوجہد کا زمانہ ہے۔ اس میں نتائج کے بارے میں اتنے نازک طبیعت نہ ہو جائو ۔
ایمان واطاعت کی راہ میں بہت سے مراحل آئیں گے، تمھاری نگاہ ہر مرحلے میں رب کی رضا اور آخرت کی کامیابی پر ہونی چاہیے ___ یہی اصل کامیابی ہے:
لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَیُکَفِّرَ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ ط وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًاo(الفتح ۴۸: ۵) (اس نے یہ کام اس لیے کیا ہے)تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اُن کی بُرائیاں اُن سے دُور کر دے___ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔
سمجھایا جا رہا ہے کہ اسلام نام ہے خوشی اور ناخوشی میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی پیروی کا۔ تمھاری توجہات کا مرکز یہ نہ ہو کہ کیا پایا ؟ یہ ہو کہ حکم کی اطاعت کہاں تک اور کس جذبے سے کی___ اگر تلوار اٹھانے کا حکم ہے تو اس وقت تلوار اٹھانا نیکی ہے،اور اگر تلوار کھینچ لینے کا حکم ہے تو اس وقت تلوار کھینچ لینا نیکی ہے۔ اگر زیارت کے لیے چلنے کا حکم ہے تو محبوب کی زیارت کا شوق دل ونگاہ کی تسکین کا سامان ہے، اور اگر حکم مزید انتظار کا ہے تو سکون وراحت کا منبع ہجر اور لذتِ انتظار کو بن جانا چاہیے ع
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
نگاہ ہمیشہ اصل جو ہر پر رہے اور وہ یہ ہے کہ :
وَّمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ج وَمَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًاo (الفتح ۴۸: ۱۷) جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا، اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی اور جو منہ پھیرے گا، اسے وہ دردناک عذاب دے گا۔
اس محبت بھری تفہیم کے بعد یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ تمھارے خلوص کی بنا پر ہم نے تمھارے دلوں پر سکینت نازل کر دی ہے، تا کہ پریشانی اطمینانِ قلب میں بدل جائے اور پھر جمعیت خاطر کی نعمت سے تم مالا مال ہو جائو ۔ یہ خدا کی مددونصرت کا ایک پہلو ہے___ اور نادانو! تم جس چیز کو ذلت سمجھ رہے ہو، وہ صرف تمھاری کوتاہ بینی ہے ، یہ تو ہم نے فتح کے لیے زمین تیار کی ہے۔ دعوت کے پھیلنے کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ غلبے کے امکانات روشن کیے ہیں اور ایک نہیں کئی کئی فتوحات تمھارے لیے مقرر کر دی ہیں ۔ بہت جلد تم کو خیبر میں فتح حاصل ہو گی، مال ودولت بھی ہاتھ آئے گا، اور پھر قریش پر غلبہ بھی حاصل ہو گا:
فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ وَاَثَابَھُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا o وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا o (الفتح ۴۸: ۱۸-۱۹ ) اور جو (صدق وخلوص ) ان کے دلوں میں تھا، وہ اس نے معلوم کر لیا تو ان پر تسلی اور سکینت نازل فرمائی اور انھیں جلد فتح عنایت کی___ اور بہت سی غنیمتیں جو انھوں نے حاصل کیں اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔
خلوصِ دل ، اطمینان قلب، دنیوی فتح اور مالی خوش حالی میں جو ربط وتعلق ہے، وہ ان آیات میں پوری طرح ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ توقعات کے حسین تاج محل اس لیے منہدم کیے جاتے ہیں کہ خلوص اور دل کی کیفیت معلوم کر لی جائے۔ اگر اس میں کھوٹ نہیں ہے تو پھر انعامات کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ دل میں اطمینان القا کیا جاتا ہے، مادی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، اور بالآخر فتح وغلبہ عطا کیا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، اور ہمیشہ رہے گی:
وَلَوْ قٰتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا o سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا o (الفتح ۴۸: ۲۲-۲۳)
یہ کافر لوگ اگر اِس وقت تم سے لڑ گئے ہوتے تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے اور کوئی حامی و مددگار نہ پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پائو گے۔
اپنے پیغمبر ؐ کو اس نے دین حق اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اور اس لیے بھیجا ہے کہ اس دین کو تمام نظاموں پر غالب کر دے اور یہ ہو کر رہے گا ۔ حق ظاہر کرنے کے لیے اللہ ہی کافی ہے:
ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًاo(الفتح ۴۸: ۲۸) وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔
اس لیے وہ چیز جسے مسلمان کمزوری سمجھ رہے تھے اور جس میں دین کی ذلت دیکھ رہے تھے، حق تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اسے ’فتح مبین ‘قرار دیا:
اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا(الفتح ۴۸: ۱) اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی۔
یعنی وہ صلح جس کو شکست سمجھا جارہا تھا، اللہ کے نزدیک وہ فتح عظیم تھی۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا: ’’آج مجھ پر وہ چیز نازل ہوئی ہے، جو میرے لیے دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی ہے‘‘۔ پھر یہ سورت تلاوت فرمائی اور خاص طور پر حضرت عمرؓ کو بلا کر سنایا، کیوںکہ وہ سب سے زیادہ رنجیدہ تھے۔
اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سن کر حضوؐر سے پوچھا : ’’یارسولؐ اللہ!کیا یہی فتح ہے ‘‘۔
ایک اور صحابیؓ حاضر ہوئے اور انھوں نے بھی یہی سوال کیا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے، یقینا یہ فتح ہے‘‘۔(مسنداحمد، ابوداؤد)
یہی ارشاد تھا جس نے مضطرب دل کو مطمئن کر دیا ___ ایمان اور ہے ہی کیا ؟ اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات پر یقین واطمینان ___ اس کی تائید وتصدیق ___اور اس کے وعدے پر اعتماد اور پھر بھروسا!
اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (یونس ۱۰:۵۵) اللہ کا وعدہ سچا ہے، مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں۔
بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے ! یہی صلح جو بظاہر ذلت کا نشان معلوم ہوتی تھی دراصل فتح کا سبب ، اس کا پیش خیمہ اور ذریعہ بنی ___ ایک نہیں، متعدد فتوحات کا !
کفار نے یہ افواہ اڑا دی تھی کہ مسلمان کمزور ہو گئے ہیں۔ اسی لیے حکم ہوا کہ طواف میں جب ان مقامات سے گزر و جو مشرکین کے سامنے ہیں تو تیز تیز چلو ، سینہ تان کر چلو، کندھے ہلائو ، اور اپنی قوت اور شان وشوکت کا مظاہرہ کرو ___ آج تک یہ چیز مناسک حج کا جزو ہے ۔
مکہ میں مسلمانوں کا یہ داخلہ فتح مکہ کی ریہرسل تھا___ ایک ہی سال بعد مسلمان فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور اللہ کا وعدہ پورا ہو گیا ___ اور یہ چھٹی فتح تھی!
فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا(النساء۴:۱۹) ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔
o
میں سورئہ فتح کا مطالعہ نہیں کر رہا تھا، تاریخ میری آنکھوں کے سامنے گردش کر رہی تھی اور دل ودماغ کے فتحِ ابواب کا کام انجام دے رہی تھی۔ نئے نئے گوشے میرے سامنے ابھر رہے تھے۔ میں نے ذرا غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سفر زیارت بیت اللہ کے لیے تھا، اسی کا اہتمام تھا، لیکن جو معاہدہ ہوا وہ خالص سیاسی تھا۔ دینی سفر کا سیاسی پہلو، زیارتِ کعبہ اور معاہدۂ صلح؟
اسلام میں دین وسیاست کس طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں___ طواف کے وقت بھی مسلمانوں کے دبدبے کو قائم کرنے کا خیال___ معروف اصطلاح میں سیاست، لیکن اس مقدس مقام پر بھی اس کا لحاظ ! قربانی کے اونٹ لائے گئے تو ان میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، تا کہ مسلمانوں کی قوت معلوم ہو اور مشرکین کو کڑھن ہو___کیا اسے بھی سیاست کہیں گے؟___ افسوس ! اسلام کا جو امتیاز تھا، اب اس پر کچھ کور ذہنوں کو وحشت و شرمندگی ہونے لگی۔ نبیِؐ برحق نے تو دین اور سیاست کو ایک وحدت میں اس طرح سمو دیا تھا کہ ان میں کوئی فرق باقی نہ رہا تھا، وہ ایک ہی حقیقت کے دوپہلو بن گئے تھے۔ اور حیرت اس بات پر کہ ’ کم کوشوں ‘ نے اس حقیقت کو گم کر دیا۔
منافقین کا رول اس موقعے پربھی وہی تھا، جیسا ہمیشہ رہا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کا رسولؐ اور اس کے یہ ساتھی اب کیا واپس آئیں گے ___ خوش ہو رہے تھے___ چلو قصہ ختم ہوا، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہ آئے بھی اور فاتح بھی ہوئے اور منافقین آگ پر لوٹنے لگے۔ مخالفینِ حق کے اندازے اللہ تعالیٰ ہمیشہ غلط کرا دیتا ہے اور بالآخر ان کو ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔
اہلِ حق کی محبت کا اصل سر چشمہ اللہ اور اس کے آخری رسولؐ کی اطاعت ہے۔ ان کی طاقت باہمی محبت واخوت اور باطل اور ظلم کے لیے سختی میں ہے۔ ان کی کامیابی کا راز اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے ، اس سے مغفرت طلب کرنے اور صرف اسی پر بھروسا کرنے میں ہے۔ فتح کی خوش خبری کے ساتھ ہی ان کے جو اوصاف بتائے جا رہے ہیں، وہ یہی ہیں:
اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ تَرٰھُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاھُمْ فِیْ وُجُوْہِھِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ط (الفتح ۴۸: ۲۹) وہ کفّار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے اُنھیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوش نودی کی طلب میں مشغول پائو گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔
یہی وہ ہتھیار ہیں جن سے اہل حق اپنی لڑائی لڑتے اور بالآخر بازی جیتتے ہیں۔
o
میں سورۃ الفتح کو پڑھ رہا تھا___ کئی بار اس کی تلاوت کی، میرے ذہن پر سے بوجھ اَب اُتر چکا تھا، تاریکیوں اور مایوسیوں کا ایک ایک پردہ اٹھ گیا اور اجالا پھیلنے لگا۔ میرے دل نے گواہی دی کہ حق کا پیغام باطل پرستوں کی ریشہ دوانیوں کے باوجود پھیلے گا اور ان شا اللہ غالب ہوکر رہے گا۔ یہ نام کہیں مٹائے سے نہیں مٹتا !___ راہ میں نشیب وفراز تو بہت سے ہیں، لیکن آخری کامیابی حق ہی کی ہے___ اور ایک نہیں بہت سی کامیابیاں ہیں۔
حق سے وابستگی اور اس پر استقامت خود اپنی جگہ ایک کامیابی ہے۔ مایوسیوں کے عالم میں اللہ کی ذات بابرکات پر اطمینان اور اس کی سکینت کا نازل ہونا بھی ایک کامیابی ہے۔ نتائج سے بے پروا ہو کر حق کے لیے ڈٹ جانا ایک کامیابی ہے، پھر غلبۂ حق بھی ان شاء اللہ اس سلسلے کی ایک کامیابی ہے ___ لیکن سب سے بڑی اور اصولی کامیابی تو اللہ کا راضی ہو جانا ہے۔ اگر وہ حاصل ہو جائے تو سب کچھ حاصل ہو گیا !
غم اورپریشانی کے بادل اَب چھٹ چکے تھے، اطمینان اور سکون کی ایک نئی دولت سے دل مالا مال تھا، فَالْحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔
تصحیح: ’جدید فرعون کی جیل میں‘ (جولائی ۲۰۱۷ء) محمد حامد ابوالنصر کی تحریر کا ترجمہ حافظ محمد ادریس صاحب نے کیا تھا۔ ان کا نام درست شائع نہ ہوسکا جس پر ادارہ معذرت خواہ ہے۔ ادارہ
الحمدللہ، قیامِ پاکستان کو۷۰برس بیت گئے ہیں۔ تخلیقِ پاکستان کے لیے ہمارے آباواجداد نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ فی الحقیقت وہ خون کا دریا عبور کرکے اس خطۂ ارضی تک پہنچے۔ انھوں نے اپنے گھربار چھوڑے، رشتے ناتے توڑے، اور صدیوں سے آباد اپنے مسکن ہندو اور سکھ بلوائیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ آئے۔ اتنی بڑی قربانی اور اتنی بڑی ہجرت کی غرض محض ’مادی ترقی کا خواب‘ نہیں تھا، (یہ کیسی ’مادی ترقی‘ کی دوڑ تھی کہ سب کچھ جلتا چھوڑ دیا اور عزت و آبرو بھی قربان کر دی؟) نہیں، بلکہ مادی ترقی سے بالاتر ایک خواب تھا کہ ہم دو قومی نظریے کی بنیاد پر، یہ وطن حاصل کررہے ہیں، جہاں دینِ اسلام کی منشا کے مطابق زندگی بسر کرنے کی طرح ڈالیں گے۔
ان میں ایک تو وہ تھے جنھوں نے بے پناہ قربانی دی۔ دوسرے وہ تھے جنھوں نے اپنے اِن لُٹے پٹے بہن بھائیوں کو مشرقی بنگال، مغربی پنجاب اور سندھ بشمول وفاقی دارالحکومت کراچی میں خوش آمدید کہا۔ پھر تیسرے وہ ہیں جو پاکستان کے لیے قربانی دیتے ہوئے بھارت میں، برہمنی استبداد کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہے ہیں۔
ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن نے قربانی، ہمت، کامیابی اور ناکامی کے ان ۷۰ برسوں کی تکمیل پر ایک قلمی مذاکرے کا اہتمام کیا ہے، جس میں مختلف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہلِ دانش کو دعوت دی ہے کہ وہ مختصراً ۷۰برسوں کا جائزہ لے کر، بہتر مستقبل کے لیے رہنما خطوط متعین کریں۔ ہماری دعوت پر قلیل وقت میں جن کرم فرمائوں نے قلمی تعاون فرمایا، ان میں سے چند تحریریں آیندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہیں ، جب کہ دیگر تحریریں آیندہ اشاعت ستمبر ۲۰۱۷ء میں پیش کی جائیں گی۔ پیش کردہ تحریروں کے متن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بعض نکات سے اختلاف کے باوجود من و عن پیش کی جارہی ہیں۔ (ادارہ)
قیامِ پاکستان کے ۷۰ سال ایک اہم سنگ ِ میل ہیں۔ جہاں ایک لمحے کے لیے رُک کر یہ سوچنا کہ کیا کھویا، کیا پایا؟ قوموں کی زندگی میں ایک فطری اور عقلی مطا لبہ ہے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ حَاسِبُوْا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوْا [اپنا احتساب کرلو قبل اس کے کہ تمھارا حساب کیا جائے] لیکن احتساب نفس کا یہ عمل اس شعور کے ساتھ ہونا چاہیے کہ نشانِ منزل تک پہنچنے کے لیے کتنی قوت، صلاحیت اور کوشش کی ضرورت ہے، تاکہ یہ احتسابی عمل اُمید ، یقین اور حرکت میں اضافے کا باعث ہو ۔ کفِ افسوس ملتے رہنا زندہ قوموں کی صفت نہیں۔ اسی طرح ایک فرد کی ۷۰سالہ عمر کو ایک قوم کی عمر پر قیاس کرنا بھی تاریخ کا صحیح مطالعہ نہیں کہا جاسکتا۔ ۲۷رمضان المبارک ۱۹۴۷ء کو آزادی کا سانس لینے والی اس پہلی اسلامی نظریاتی مملکت کے قیام سے بہت پہلے قا ئد اعظم محمد علی جناح نے مملکت کے مقصد وجود کو ۱۲جون ۱۹۴۵ءکو سرحد مسلم اسٹوڈٹنس ایسوسی ایشن کے نام اپنے پیغام میں واضح الفاظ میں یوں کہا تھا:
Pakistan not only means freedom and independence but the Muslim Ideology which has to be preserved, which has come to us as a precious gift and treasure and which, we hope others will share with us (S.M. Zaman , Quaid -e-Azam and Education, National Institute of Historical and Cultural Research, Islamabad, 1995, p384(.
پاکستان کا مطلب نہ صرف آزادی اور خودمختاری ہے، بلکہ ’مسلم نظریہ‘ بھی ہے، جسے ہمیں محفوظ رکھنا ہے، جو ایک بیش قیمت تحفے اور سرمایے کے طور پر ہم تک پہنچا ہے، اور ہم اُمید کرتے ہیں اور لوگ بھی اس میں ہمارے ساتھ ہیں۔
اسی پیغام اور عزم کی توثیق قائدنے پاکستان میں ہونے والی پہلی تعلیمی کانفرنس منعقدہ ۲۷نومبر تا یکم دسمبر۱۹۴۷ء ، کراچی کے نام اپنے پیغام میں ان الفاظ میں فرمائی :
In short, we have to build up the character of our future generations which means highest sense of honour, integrity, selfless service to the nation, and sense of responsibility, and we have to see that they are fully qualified or equipped to play their part in the various branches of economic life in a manner which will do honour to Pakistan.
الغرض ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے کردار کی تعمیر کرنی ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ ان میں وقار، راست بازی اور قوم کی بے لوث خدمت کا بے پناہ جذبہ اور احساسِ ذمہ داری پیدا کر دیا جائے، اور اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ ان میں معاشی زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کی اہلیت اور صلاحیت بدرجۂ اَتم موجود ہو، اور وہ اس طرح کام کریں جو پاکستان کے لیے نیک نامی کا باعث بن جائے۔(کتاب مذکورہ بالا، ص ۴۳۲)
اس تحریر کا حاصل یہ ہے کہ تعلیمی پالیسی کو ہمارے ملک کے دستور کی نہ صرف شق 2-A بلکہ آرٹیکل نمبر۱اور ۲ (جس میں ریاست کے مذہب کو متعین کر دیا گیا ہے کہ یہ صرف اسلام ہو گا)، باب دوم میں ان انسانی حقوق کا ذکر جو اسلام دیتا ہے ، آرٹیکل۲۹ تا ۴۰ میں ریاست کے راہنما اُصولوں کی شکل میں جو واضح ہدایات ہیں ، ان سب کا مکمل اظہار تعلیمی پالیسی میں ہونا ایک دستوری تقاضا ہے ۔ اس کے خلاف پالیسی بنانا دستور پاکستان کی خلاف ورزی ہے ۔ دستور کے آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ میں جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے، انھیں کون پیدا کرے گا ؟ اگر تعلیم اس کا ذریعہ نہیں ہو گی اور قائد کے قول، یعنی ’ تعمیر کردار‘ پر عمل نہیں کیا جائے گا تو کیا سو سال بعد بھی آرٹیکل۶۲ اور ۶۳پر عمل ہو سکتا ہے؟
مختصر یہ کہ دستو ر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور قائداعظم دونوں کی واضح ہدایات کو تعلیمی پالیسی کی بنیاد بنا لیا جائے، تو ہمارے ہاں کے وہ تضادات جو بیک وقت تین یا چار قسم کے انسان پیدا کررہے ہیں، ان کی جگہ یکساں نظام تعلیم ملکی وحدت ، اسلامی تشخص، پاکستانی ثقافت اور ایک باہمت، غیور ، آزاد ذہن رکھنے والی ، خود انحصاری پر عمل پیرا نوجوان نسل پیدا کرے گا جو وہ کام کرسکتی ہے، جس کو ۷۰ سال اس کے بزرگوں نے نظر انداز کیا ۔
ہماری بری فوج نے ملک کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، لیکن ہماری اعلیٰ عسکری قیادت نے اپنی نا اہلی کے سبب ان قربانیوں کو ضائع کر دیاہے اور ملک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ مثلا قیام پاکستان کو ۱۰سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ جنرل ایوب خان نے امریکا کو اپنا آقا بنا لیا اور پچھتانے پر کتاب لکھ ڈالی لیکن اس کمبل نے آج تک ہماری جان نہیں چھوڑی۔ ایوب خان مایوس ہوئے تو اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا، جنھوں نے ایسی حکمت عملی اپنائی کہ ملک دولخت ہوگیا۔ ۱۹۷۱ء میں لیفٹیننٹ جنرل نیازی نے سقوط ڈھاکہ کے معاہدے پر دستخط کر نے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے آقاوں کی خوش نودی میں منتخب وزیراعظم کو پھانسی دینے میں کسی ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے ملکی سلامتی کو دائو پر لگادیا، اور برادر پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف امریکا کی جنگ میں شامل ہونے سے نہ صرف پاکستان پر دہشت گردی کا عذاب نازل ہوابلکہ افغانستان کے ساتھ ایک نیا محاذ بھی کھل گیا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ اس جرم میں ہماری عدلیہ، انتظامیہ، کچھ سیاسی جماعتیں اور اشرافیہ برابر کے شریک رہے ہیں۔
جنرل مشرف کی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری فوج افغانستان کی جنگ آزادی سے لاتعلق ہوچکی ہے اور ہم بھی نہیں سوچتے کہ ۴ کروڑ ۵۰ لاکھ پختون ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب رہتے ہیں۔ ان میں سے ۶۰ فی صد پاکستان میں ہیں، ۴۰ فی صد افغانستان میں اور ۱۰ فی صد پاکستان کے دل، یعنی کراچی میں آباد ہیں، جنھوں نے گذشتہ تین دہائیوں میں دنیا کی بڑی سے بڑی قوتوں کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ ان کی اس جدوجہد آزادی میں پاکستانی پختونوں نے ان کی بھرپور مدد کی ہے اور یہ مدد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ وہ غاصب قوتوں سےاپنی آزادی چھین نہیں لیتے۔ایک عرصے سے پختون قوم کو تقسیم اور علیحدہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ گذشتہ ایک سو پچیس سال سے ڈیورنڈ لائن اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہواہے اور اب قائد اعظم کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کاوقت آگیا ہے۔ قائد اعظم نے پختون قوم کو متحد رکھنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے فوج کو ہٹا لیاتھا اور اس کی نگرانی پختونوں کو سونپی تھی۔قائد اعظم کا ویژن پختون قوم کی یک جہتی اور اس کے پھیلائو سے متعلق تھا جوڈیورنڈ لائن سے آگے کوہ ہندوکش تک اوراس سے آگےآمو دریا تک پھیلی ہوئی ہے۔یہی وہ حقیقت ہے جسےجھٹلانے کی کوشش میں ہم نے ان سرحدوں پر دوسرا محاذ کھول لیاہے۔
ان تمام ترغلطیوں کے باوجود ہماری فوج نے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں وہ صلاحیت حاصل کرلی کہ جس کے سبب اسے دنیا کی بہترین افواج میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی دور میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو ہمارے تجدیدی عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں Armed Forces War College کی بدولت ہماری عسکری قیادت اعلیٰ عسکری تعلیم سے آراستہ ہو چکی تھی اور فوجی فارمیشنوں،اداروں اور اکثر عسکری شعبوں کی سربراہی وار کالج کے فارغ التحصیل افسروں کے ہاتھوں میں تھی، جنھوں نےبّری فوج کے تمام نظام کو ترقی یافتہ بنانے کا جامع منصوبہ بنایا تاکہ مستقبل میں پیش آنے والے کثیرالجہتی خطرات سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔دوسری بڑی تبدیلی چین کے ساتھ ہماری دفاعی شراکت مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد نوعیت حاصل کر چکی تھی۔اسی شراکت کی بدولت ہماری فوج ۱۹۷۱ء کی جنگ کے بعد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ ہماری عسکری قیادت اب اعلیٰ عسکری تعلیم سے مزین ہے اور ساتھ ہی ہمیں چین کی غیرمشروط مدد بھی حاصل ہے، جسے ہم رحمتِ ایزدی سمجھتے ہیں۔یہی دو اہم عوامل ہیں جن کی بدولت پاکستانی فوج ایک جدید ترین فوج بننے کے اہداف حاصل کرسکی ہےاور ۹۰فی صدتک خودانحصاری اور چالیس دنوں تک جنگ لڑنے کی صلاحیت بھی حاصل ہے،الحمد للہ۔
ہماری فوج کا ترویجی عمل ایک تزویراتی حقیقت ہے جو دشمنوں کے عزائم کے خلاف مضبوط چٹان کی مانندہے، قومی سلامتی اورترقی و کمال کی ضمانت بھی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اس اشتراک کی بدولت ہمارا تزویراتی محور (Strategic Pivot)قائم ہے۔ الحمدللہ ہم نےاب وہ صلاحیت حاصل کر لی ہےجس کی بدولت اپنی تزویراتی سوچ کوجنگی منصوبوں سے ہم آہنگ کیاہے،یعنی پہلے حملہ کرنے (Pre-emption)اور جارحانہ دفاع کی صلاحیت (Offensive Defence) میں حقیقت کا رنگ بھرنے اورحریف قوت کے خلاف فیصلہ کن جنگ جیسے اہداف حاصل کیےہیں۔یہ ایسی صلاحیت ہے جو بذاتِ خود مزاحمت(deterrence ) بھی ہے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فتح یاب ہونے کی نویدبھی۔ یہ اَمر باعث اطمینان ہے کہ جدوجہد کی اس گھڑی میں ہم تنہا نہیں ہیں، قوم ہمارے ساتھ ہے۔ یہ ہماری قوم ہی ہے جس نے انتہائی مشکل حالات کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کیا ہے بلکہ عزت و وقار سے زندگی گزارنا بھی جانتی ہے۔
دوسری اہم بات جو ہمارے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے وہ ہماری مغربی سرحدوں کے پار افغانستان میں حریت پسندوں کی جدوجہدآزادی کی کامیابی ہے جواب اپنے منطقی انجام کے قریب ہے۔سوپر پاورز کے توسیع پسندانہ عزائم کے دن گزر چکے ہیں اور عنقریب افغانیوں کے غلبے کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔
ہماری فوج کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا احساس ہے اور اپنی قومی ذمہ داریوں کا بھی ادراک ہے لیکن ہماری سب سے بڑی کمزوری ہماری قوم کی پراگندا سوچ ہے جوبے حد خطرناک ہے۔ اس خطرے سے ترکی کے صدر نے پاکستان کے دورے کے موقعے پر قوم کو آگاہ کیا تھاکہ: ’’پاکستان کی سلامتی کو فتح اللہ گولن طرز کے خطرات کا سامنا ہے‘‘ جس سے نمٹنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سیاسی و نظریاتی تفریق خطرناک ہوتی جا رہی ہے جو فوری تدارک کی متقاضی ہے۔ہماری نظریاتی تفریق اور نظریات سے عاری موجودہ سیاسی نظام ان مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو ایک خطرناک صورت حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظام حکومت منتخب کرنے کااختیاردیا ہے جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصول ہیں۔یہی ہمارا نظریۂ حیات ہے جس کی تشریخ ۱۹۷۳ء کے آئین میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: ’’پاکستان کا نظامِ حکومت جمہوری ہوگا، جس کی بنیادقرآن و سنت کے اصولوں پرقائم ہو گی‘‘۔
لیکن بدقسمتی سے ہم نےقرآن و سنت کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف جمہوریت کو ہی ترجیح دی ہے۔نہ ماضی کی کسی حکومت کو، نہ موجودہ حکومت کو اور نہ متعدد مذہبی جماعتوں کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ قوم کی نظریاتی شناخت کو محفوظ بنانے کی طرف توجہ دیتیں۔ ہم اپنے بچوں کو مسلم شناخت دینے میں ناکام ہوئے ہیں، کیوںکہ ہمارا نظام تعلیم قرآن و سنت کے اصولوں سے یکسر عاری ہے۔ ہماری سیاسی و نظریاتی تفریق کاسبب ہمارا برسرِ اقتدار طبقہ ہے، جس نےہمارے معاشرے کولبرل ’سیکولر‘ روشن خیال اور قوم پرست گروپوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ مذہبی طبقات نظرانداز ہونے کے سبب نمایاں سیاسی مقام نہیں رکھتےاور نہ حکمرانی سے ہی متعلق معاملات یا پالیسی سازی کے عمل میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔وہ تو بذات خود زیادتی کا شکار ہیں اور ہمارے عوام انھیں ووٹ نہیں دیتے۔ ہماری دینی جماعتیں اپنی ظاہری اور باطنی کاوشوں کے باوجود جن کا پرچار میڈیا پر دن رات ہوتا ہے، پاکستانی قوم کے رخ کودرست سمت میں رکھنے میں ناکام ہیں۔
ہمارے قومی نظریۂ حیات کے دونوں عناصر کے مابین توازن پیدا کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، یعنی جمہوریت ہمارا نظام حکمرانی ہوگا اور قرآن و سنت اس نظام کو نظریاتی تحفظ فراہم کریں گے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار جنھوں نے ’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحفظ اوردفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے‘‘، وہی قومی نظریۂ حیات کے تقدس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ لہٰذا،موجودہ ابتر صورت حال کے تدارک کی ذمہ داری جہاں ارباب اختیار پر عائد ہوتی ہے وہاں سیاسی اور دینی جماعتوں کی بھی اوّلین ذمہ داری ہے، کیوںکہ لبرل اور سیکولر عناصر ملکی معاملات سے دینِ اسلام کو الگ کر دینا چاہتے ہیں۔ ان کی دانست میں ’’انسانی بقا کا محور اللہ تعالیٰ کی ذات کے بجاے ترقی پسندانہ نظام ہے جو شخصی خودمختاری کا قائل ہے۔اوّلیت اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہیں بلکہ انسان کو حاصل ہے‘‘( نعوذ باللہ)۔ بنگلہ دیش اس امر کی واضح مثال ہے لیکن پاکستان کا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔خدانخواستہ اگر ویسی صورت حال پیدا ہوئی تو پاکستان ایک طوفان میں گھر جائے گا۔ کچھ ایسے ہی حالات۶۶-۱۹۶۵ء میں انڈونیشیا کو درپیش تھے جب سوشلزم اور کمیونزم کی تبلیغ کی جارہی تھی، جس کےخلاف وسیع پیمانے پراحتجاجی تحریک چلی اور خانہ جنگی ہوئی، جو ڈیڑھ ملین عوام کی موت کا سبب بنی اورآخر کار صدر سہارتو نے اقتدار سنبھالا۔ خدانخواستہ اگر ہم اس گرتی ہوئی صورتِ حال کا تدارک کرنے میں ناکام رہے توہمیں تباہ کن خطرات کا سامنا ہوگا کیوںکہ پاکستان انڈونیشیا کی طرح جزیرہ نہیں ہے۔ہمارے پڑوس میں انقلابی ایران اور افغانستان جیسے جہادی ممالک ہیں جو خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوگا جسے سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
آج ہم اس مقام پر ہیں جہاں ہماری افواج اپنی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن ہماری سیاسی و مذہبی قیادت اپنی نظریاتی سرحدوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ہمارا نظریۂ حیات کمزور ہو چکا ہے اور جب نظریۂ حیات کمزور ہو جائے تو قوم باوقار زندگی گزارنے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ہمارے ایک دانش ور کے بقول: ’’ہماری قوم آج ان مسائل کے بجاے اپنے آپ سے برسرِپیکار ہے جو ایک تباہ کن شغف ہے۔ اس میں جیت ہی ہماری سب سے بڑی ہار ثابت ہوگی‘‘۔
پاکستان اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کی گئی نعمت ہے۔۱۹۴۷ء میں جب پاکستان قائم ہوا ، برصغیر پاکستان اور ہندستان کی صورت میں تقسیم ہوا تو اس وقت برصغیرمیں مسلمانوں کی حالت اجتماعی طورپر خاصی خستہ تھی، خصوصاًمسلمانوں کی معاشی حالت بہت ہی خراب تھی ۔یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کے باشندوںکی فی کس سالانہ آمدنی بہت کم تھی ۔صحت کے شعبے میںبھی حالات دگر گوں تھے ،اوسط عمر بھی بہت طویل نہیںتھی۔
اگر ہم اس صورتِ حال کو سامنے رکھیں تو ہمیں یہ صاف نظرآرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کم ازکم ان معاملات میں اپنی رحمت سے نوازا ہے اور ہماری فی کس آمدنی میں بھی ۳۰، ۴۰ گنا اضافہ ہوا ہے۔ اوسط عمر میں بھی دگنے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔پیدا ہونے والے بچوں کی اموات کی شرح بھی کم ہوگئی ہے ۔تعلیم کے شعبے میں قیام پاکستان کے وقت جہاں چند اعلیٰ تعلیمی ادارے تھے اب ملک بھر میں ۲۰۰ کے قریب یونی ورسٹیاں بن گئی ہیں ،اعلیٰ درجے کے اسپتال بن گئے ہیں ۔ دفاعی پیداوار کے شعبے میں جہاں ہم تھری ناٹ تھری کی گولیاں تک غیروں سے خریدنے پر مجبور تھے، اب ماشاء اللہ ہم اپنے زور بازو سے بین براعظمی میزائل ،ایٹمی ہتھیار، فائٹر ائر کرافٹ تیار کررہے ہیں ۔یہ سب اس لیے ہوا کہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔
پاکستان کے قیام ہی نے ایک غریب مسلمان بچے کو یہ موقع دیاکہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پاکستان کی ترقی میں شریک ہوسکے۔ متحدہ ہندستان میں یہ ممکن نہیں تھا کہ کسی غریب مسلمان بچے کو اتنی آسانی سے اعلیٰ تعلیم کا موقع مل سکے۔ پہلے صرف نوابوں کے بچے ہی سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرکے وہاں سے مزید تعلیم کے لیے اوکسفرڈ جایا کرتے تھے۔ یہ صرف پاکستان کا فیض ہے کہ آج غریب کا بچہ بھی اپنی صلاحیتوں کو منوا سکتا ہے ۔ الحمد للہ، آج ہم خود انحصاری کی سمت سفر کررہے ہیں۔ ہم شاید اس طرف نہ جاتے لیکن ہمارے دشمن ہمیں اس جانب دھکیل رہے ہیں ۔میرا بچپن لاہور میں گزرا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ لاہور میں بجلی امرتسر سے آتی تھی، لیکن ایک بار کسی مسئلے پر پنڈت جواہرلال نہرو پاکستان سے خفا ہوگئے تو لاہور کو امرتسر سے بجلی کی فراہمی روک دی گئی ۔ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ہم کیسی حالت میں تھے اور ہمارا دشمن ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتا تھا ۔ہم اس مجبوری سے نجات پانے کے لیے آج خودمختاری کی کیفیت میں پہنچے ہیں ۔آج پھر بھارت ہمیں اپنا باج گزار بنانا چاہتا ہے اورہمیں اس کی سازشوں کو سمجھنا چاہیے اورہمیں اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنا چاہیے کہ ہم اس کے محتاج نہیں ہیں ۔
ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کرکے پاکستان حاصل کیا تھا کہ ہم اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزاریں گے۔ اس وعدے کو ہمیں پورا کرنا ہے اور ہمیں اس عہد کو یاد رکھنا چاہیے، تاکہ پاکستان مزید ترقی کرسکے ۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی جھولی میں یہ آزادی خود بخود نہیں آن گری تھی ، اس کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی زندگیوں کے نذرانے دیے تھے ۔یہ آزادی اسی وقت قائم رہ سکتی ہے کہ ہم اپنے اُس وعدے پرقائم رہیں، جو ہم نے قیام پاکستان کے وقت اللہ تعالیٰ سے کیا تھا اور اس کو پوراکرنے کے لیے کوشاں رہیں ۔ اپنی معیشت کو مضبوط رکھیں ، یہاں پر صاف ستھری زندگی گزاریں اور ایمان داری کی زندگی گزاریں ، ملک میں نہ کرپشن ہو اور نہ ریا کاری ۔ کسی قسم کی بدی نہ ہو۔یہ سب کچھ اس وقت ہوگا جب ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان ایک مسجد کا صحن ہے جہاں کوئی برائی نہیں ہوسکتی ، جہاں جھوٹ نہیں بولا جاسکتا، جہاں پر گالی نہیں دی جاسکتی ۔ ہمیں پاکستان کو پاک سرزمین ہی بنانا ہے اور ان شاء اللہ پاکستان دنیا کی بہترین ریاستوں میں ہوگا بشرطیکہ ہم نظریہ پاکستان کو نہ بھولیں۔ یادرکھیں، پاکستان دوقومی نظریے کی بنا پروجود میں آیا تھا اور ہم نے پاکستان اس لیے حاصل کیا تھا کہ یہاں پر ہم قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزاریں گے ۔
پاکستان انتہائی نامساعد حالات میں وجود میں آیا۔ غیر منقسم ہندستان کے جن علاقوں پر یہ مشتمل تھا، وہ پس ماندگی کی نچلی سطح پر تھے، اور اگر اس علاقے میں کوئی قابل ذکر انفراسٹرکچر تھا (مثلاً ریلوے یا نہری نظام) تو وہ یہاں کی عمومی معاشی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ روس کی ممکنہ جارحیت کو روکنے اور جنگ آزادی میں انگریز کا ساتھ دینے والوں کو جاگیروں سے نوازنے اور ان کی زمینوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے تھا۔ چنانچہ، اس قدر پس ماندہ علاقوں پر مبنی ایک علیحدہ اور خودمختار ریاست کا وجود میں آنا اور قائم رہنا بہت سے تجزیہ نگاروں کے نزدیک ایک بڑا محیرالعقول واقعہ رہا ہے۔ کانگریس کے کچھ لیڈروں نے یہ کہہ کر اس مطالبے کی مخالفت ختم کردی کہ چھے ماہ سے زیادہ یہ چل نہیں سکے گا، اور خوار ہو کر واپس آن ملے گا۔ لیکن ان تمام تجزیوں اور پیش گوئیوں کے باوجود، نہ صرف اللہ تعالیٰ نے برصغیر کے مسلمانوں پر اپنی اس نعمت کو قائم رکھا، بلکہ یہ ملک دسمبر ۱۹۷۱ءمیں دو لخت ہونے کے بعد بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
اس مضمون میں ہم نہایت اختصار سے اس سفر کی رُوداد بیان کریں گے: ہم کہاں کھڑے تھے(جس کا مختصر ذکر ہوگیا)، کہاں پہنچ گئے ہیں، اور مستقبل کے کیا امکانات ہیں؟
اس دور میں پاکستان نے زبردست معاشی ترقی حاصل کی اور یہ بھی قریب تھا کہ ہم پس ماندہ ممالک کی فہرست سے نکل کر تیز رفتار ترقی پذیر ممالک کی صف میں شامل ہوجاتے۔ پانچ سالہ منصوبہ بندی کا سلسلہ جاری ہوا اور ایک مضبوط مرکزی حکومت نے سارے معاشی عمل کو قوانین، ضابطوں اور منظوریوں کے زیر اثر رکھا۔
بلاشبہہ اس دور میں پاکستان کی معیشت نے بڑی تیز رفتار ترقی کی، جس کی اوسط شرح ۶فی صد سے زیادہ رہی۔ ملک میں صنعتوں کا جال بچھا، زراعت میں سبز انقلاب آیا، شہروں کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا، غربت میں کمی واقع ہوئی اور تعلیم اور صحت ایسے سماجی شعبوں میں بھی گراںقدر کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی (جی ڈی پی) جس کا اندا زہ ۱۹۴۷ء میں ۲۴ ؍ارب روپے تھا، وہ بڑھ کر ۵۵ ؍ارب ہوگئی، جب کہ فی کس آمدنی ۳۱۱ روپے سے بڑھ کر ۴۵۰ روپے ہوگئی۔
بدقسمتی سے اس دور میں ہم سے کم از کم تین بڑی خطائیں بھی سرزد ہوئیں: lاول، معاشیات میں غیر شعوری طور پر سیاست بھی در آئی lدوم، سماجی انصاف کی ضرورتوں کا ہمیں صحیح ادراک نہیں ہو سکا؛ اور l سوم، ترقی کے لیے جو وسائل درکار تھے، ان کے حصول میں ہم اپنے اہم قومی مفادات کا کما حقہ تحفظ نہ کرسکے۔ ہم یہاں پر تینوں خطاؤں کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں:
اس دور کا خاتمہ مارچ ۱۹۶۹ء میں جنرل ایوب خان کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہوگیا، لیکن اس کے اثرات میں ملک دو لخت بھی ہوگیا۔
اس دور میں معیشت کی تنظیم کا نظریہ یکسر بدل گیا۔ یہ پہلے دور کی غلطیوں اور خطاؤں کا ردعمل تھا۔ تمام بڑی صنعتوں کو اور سارے بنکنگ اور مالیاتی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا۔ نجی شعبے کا معاشی عمل میں کوئی قابل قدر کردار باقی نہ رہا۔ آجر و مزدور کے تعلقات میں زبردست ضد (antagonism) پیدا ہوگئی، اور دوسری جانب زرعی اصلاحات کی وجہ سے عام محنت کش کسانوں اور جاگیرداروں کے درمیان بھی حالات کشیدہ ہوگئے۔ لیکن ان اقدامات سے کسی حد تک معاشرے میں سیاسی حقوق سے آگہی اور ان کے جدوجہد کے راستے بھی کھل گئے۔ گو اس دور میں سرکاری شعبے میں بنیادی صنعتوں کا جال پھیلایا گیا (مثلاً اسٹیل ملز،نیوکلر پاور، بنیادی کیمیکلز اور مصنوعی دھاگا وغیرہ)، لیکن ان کے ثمرات فوری طور پر قومی اور سماجی زندگی میں سامنے نہیں آئے۔ معاشی ترقی کی رفتار جو گذشتہ دور میں حاصل ہوئی تھی، وہ بھی کم ہوکر رہ گئی۔ ۶ فی صد کے مقابلے میں، اس دور میں یہ رفتار ۴ فی صد سے بھی کم سطح پر آرہی۔
اس کے ساتھ ہی حکومت نے ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ (IMF) کے کہنے پر شرح تبادلہ میں یکمشت ۱۰۰ فی صد سے زیادہ اضافہ devaluation)) کردیا، جس کی وجہ سے قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کا سیلاب آگیا، جو عام آدمی کے لیے بہت تکلیف کا باعث بنا۔ یوں باوجود اس دور میں تقسیم آمدنی میں بہتری لانے کی کوششوں کے، غربت میں قابل قدرکمی واقع نہ ہوسکی۔ شرح تبادلہ میں اس بڑی تبدیلی سے درآمدات کو زبردست فائدہ ہوا اور ملک کا بیرونی ادایگیوں کا توازن (Balance of Payments) ۱۹۵۱ءکے بعد دوبارہ منافع میں بدل گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب دسمبر ۱۹۷۱ء میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی حکومت نے اقتدار سنبھالا، تو ملک نہ صرف دولخت ہونے کے صدمات سے نبردآزما تھا، بلکہ سرد جنگ میں بڑی طاقتوں کی قربت اور ان کی امداد سے حاصل کی ہوئی معاشی ترقی سے منسلک گمبھیر مسائل کا بھی سامنا تھا۔ لہٰذا، ایک لحاظ سے شرح تبادلہ میں مناسب اضافہ ضروری تھا، تاکہ درآمدات کو برآمدات پر بے جا ترجیح دینے کا عمل ختم ہو۔ ساتھ اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ اس دور کی غلطیوں کا ازالہ بھی کیا جائے، خصوصاً آمدنی اور دولت کے ارتکاز کو توڑا جائے۔
پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کے انقلابی اقدامات اور سوشلسٹ پالیسیوں کے نتیجے میں مغربی ذرائع سے بیرونی وسائل کی آمد بند ہوگئی۔ لیکن اس کمی کا توڑ کرنے کے لیے بھٹو صاحب نے مسلم ممالک سے تعاون کو زبردست فروغ دیا۔ فروری۱۹۷۴ء میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس نے اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تعاون نے بیرونی وسائل کے حصول میں آسانی پیدا کردی۔ خصوصاً اس دور میں پاکستان کی افرادی قوت کی مشرق وسطیٰ میں درآمد کے راستے کھل گئے اور ان کی بھیجی ہوئی ترسیلات (Remittances) کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
اس دور میں ابتدائی طور پر یہ کوشش کی گئی کہ دوسرے دور کے وہ انقلابی اقدامات، جن سے بڑی حد تک معاشی نظام تتر بتر ہوگیا تھا، اس کی تلافی کی جاسکے۔ اس مقصد کے تحت ’عقیلی کمیٹی‘ بنائی گئی، جس نے بلا کم و کاست تجویز کیا کہ: ’’قومیائے گئے اثاثوں کو اصلی مالکان کو واپس کردیا جائے‘‘ اور کچھ اثاثے واپس بھی کردیے گئے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ بہت جلد حکمرانوں کو احساس ہوگیا، یا پھر احساس دلایا گیا کہ سرکاری شعبے میں اتنی عظیم الشان معاشی طاقت کو نج کاری یا پرانے مالکان کو واپس کرنے کے بجاے، موجودہ نظام کو خوش اسلوبی سے چلایا جائے، تاکہ سیاسی سرپرستی (political patronage) اور ’مثبت‘ سیاسی نتائج کے حصول کے لیے حکومت کے پاس دینے کے لیے ترغیبات موجود ہوں ۔ لہٰذا، جلد ہی ایک نظام وضع کرلیا گیا، جس کے تحت سرکاری کارپوریشنوں میں تعینات مینیجرز کے لیے علیحدہ نام نہاد مینجمنٹ اسکیلز بنادیے گئے اور ان کی کارکردگی کے جانچنے کے لیے پہلے سے موجود ایک ادارے کی تنظیمِ نو کی گئی۔ یوں اس عوامی حکومت کے بنائے ہوئے نظام کو ’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘ کے مصداق فوجی حکومت کی حمایت حاصل ہوگئی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، گو اس کا حجم بہت کم ہوگیا ہے۔
اس دور میں سب سے بڑی تبدیلی اُس وقت رونما ہوئی، جب دسمبر ۱۹۷۹ء میں اشتراکی روسی افواج، افغانستان میں کھلے عام ،پوری قوت سے گھس آئیں۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے اس مداخلت کی مخالفت اور اس کی مزاحمت کا فیصلہ کرلیا۔ یوں ۱۰ سال کا عرصہ اس مزاحمت اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے نبرد آزما ہونے میں صرف ہوگیا۔ اس صورتِ حال میں ایک دفعہ پھر پاکستان اور امریکا کے درمیان قربت پیداہوگئی، لیکن ازاں بعد اس کا بھی خاتمہ ویسے ہی ہوا جیسے کہ ماضی میں ہوا تھا۔ لیکن اب کی بار پاکستان اپنے تحفظ کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔۹۰ کا عشرہ اندونی اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے میں صرف ہوگیا۔ پاکستان نے اس مزاحمت کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور آج تک کررہا ہے۔ افغان مہاجرین کی آمد کے نتیجے میں مناسب نظم و ضبط کی کمی کے باعث اسلحے کی فراوانی اور منشیات کی اسمگلنگ، معاشی بدنظمی، معاشرتی بگاڑ اور امن و امان کی صورتِ حال کی خرابی جیسے مسائل کھڑے کردیے۔
یہ وہ دور ہے، جو اَب بھی جاری ہے۔ ہم نے عرصے کی طوالت کے علی الرغم اس دور کو اس لیے جاری دور کہا ہے کہ اس کی جوہری صفت آج بھی ہماری معاشی تنظیم میں موجود ہے۔ لیکن اس دور میں ایک عرصہ پھر فوجی حکومت کے زیراثر گزرا ہے۔ یہاں ہمیں کسی حد تک فوجی حکومت کے آٹھ برسوں کو الگ سے دیکھنا ہوگا۔ لہٰذا ،ہم اس کو تین ذیلی حصوں میں تقسیم کریں گے:
اس دور کا آغاز ۷جولائی ۱۹۷۷ء کو جنرل محمد ضیاء الحق کی مارشل لا حکومت کے تحت، پیپلزپارٹی کے بنے سیاسی نظام کے ڈرامائی خاتمے کے بعد ہوا۔ اس دور میں مسلسل سیاسی کشیدگی رہی، جس کا ایک بڑا سبب اپریل ۱۹۷۹ء میں ایک مقدمۂ قتل میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا بھی تھا۔ دوسری جانب نسبتاً نوعمر قیادت کی ناتجربہ کاری سے پیدا ہونے والے مسائل تھے۔ اس کے ساتھ دنیا میں تاریخی تبدیلیاں رُونما ہوگئیں۔ سودیت یونین کا دسمبر ۱۹۹۱ء میں خاتمہ ہوگیا، برلن کی دیوار گرگئی، یورپ متحد ہوگیا اور امریکا دنیا میں واحد سوپر پاور بن کر اُبھرا۔
اس کے ساتھ ہی ایک نیا معاشی نظام وجود میں آنے لگا، جس کو ’عالم گیریت‘ سے منسوب کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر نئے نظام میں سرمایہ بغیر روک ٹوک کے ساری دنیا میں گردش کرنے لگا۔ شرح سود کھلی مارکیٹ میں طے ہونے لگی۔ سرکاری سطح پر امداد کی فراہمی کا عمل تیزی سے ختم ہونے لگا۔ دنیا میں نج کاری، آزاد معیشت، حکومتی کنٹرول کا خاتمہ، بیرونی سرمایہ کاری کے لیے منڈیوں کو کھولنا اور تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ساری دنیا کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی عام ہوگئی۔ مزید افتاد یہ آن پڑی کہ افغانستان سے روس کے اخراج کے ساتھ ہی امریکا بھی علاقے سے نکل گیا اور پاکستان کی امداد کا سلسلہ بھی رک گیا۔ علاوہ ازیں امریکی کانگرس کی جانب سے’پریسلر ترمیم‘ کے ذریعے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگانے سے ایک نئے امتیازی دور کا آغاز ہوا، جس میں پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کی معطلی اور CTBT پر دستخط کے مطالبات بھی شامل ہوگئے۔
اس دور میں ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام رہا۔ ۱۰ سال کے عرصے میں اوسطاً ۳۰ ماہ کی مدت پر مشتمل پے در پے چار حکومتیں بنیں، جو ناکام ہوتی رہیں اور بالآخر اکتوبر۱۹۹۹ء میں ملک میں پھر مارشل لا لگا دیا گیا، جو تقریباً ۱۰ سال تک مختلف صورتوں میں سیاسی نظام کی پشت پہ کام کرتا رہا۔ اس دوران معاشی پالیسی کی سمت اور اس کا تسلسل برقرار نہ رہ سکا اور ترقی کی شرح ۴ فی صد سے بھی کم ہوگئی۔ بعض تجزیہ نگار اس عرصے کو ’معاشی ترقی کا گم شدہ عشرہ‘ بھی قرار دیتے ہیں، کیوں کہ اس دور میں معاشی ترقی کا عمل معکوسیت کا شکار ہوگیا۔ افراطِ زر کا دباؤ بڑھ گیا اور ملک کو پہلی دفعہ دیوالیہ ہونے کے خطرات لاحق ہوگئے۔ اس دور کی درج ذیل خصوصیات قابل ذکر ہیں:
(ا) نج کاری کا اجرا؛ (ب) معاشی میدان میں حکومتی منظوریوں اور کنٹرول کی تمام صورتوں کا خاتمہ یا ان میں بڑی کمی اور آسانیاں؛ (ج) نجی شعبے کی بتدریج معاشی عمل میں شمولیت اور بالخصوص ان کے لیے نئے شعبوں، مثلاً بجلی کی پیداوار میں سرکایہ کاری کی اجازت؛ (د) نئے ریگولیٹری اداروں کا قیام (نیپرا اور پی ٹی اے وغیرہ)؛ مرکزی بنک کو خودمختاری دینے کا آغاز؛ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی)کا قیام اور کیپٹیل مارکیٹ کی وسعت شامل ہیں۔
اس عرصے میں بیرونی وسائل کی کمیابی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی، لہٰذا ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ کے پاس حکومت ِ پاکستان کا جانا ناگزیر ہوگیا۔ اس کی پہلی درخواست اور شرائط کی منظوری خود جنرل محمد ضیاء الحق کی بنائی ہوئی عبوری حکومت کے وزیرخزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے اکتوبر۱۹۸۸ء میں دے دی تھی۔ اگرچہ اس پر عمل درآمد بے نظیر حکومت (۹۰-۱۹۸۸ء) نے کیا۔ بعدازاں ۲۰ماہ بعد جب بے نظیر کی حکومت ختم کی گئی تو محمدنوازشریف کی پہلی حکومت (۹۳-۱۹۹۰ء) نے اس پروگرام پر عمل درآمد روک دیا۔ اس کے بعد نواز حکومت نے معاشی میدان میں ایسے فیصلے کیے جو مقبول ضرور تھے، لیکن ان کی معاشی حکمت مشتبہ تھی۔لہٰذا، کچھ ہی عرصے میں معاشی اشاریوں میں عدم توازن پیدا ہونا شروع ہوگیا، خصوصاً بیرونی ادایگیوں کا توازن اور زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے۔ اس فضا میں اپریل ۱۹۹۳ء کے شروع میں ایک درخواست عالمی مالیاتی فنڈکو دی گئی۔
دوسری طرف نوازحکومت، صدر مملکت سے محاذ آرائی میں اُلجھ گئی، جو بالآخر ۱۸؍اپریل ۱۹۹۳ء کو ان کی معزولی کا باعث بن گئی۔ عبوری وزیراعظم (۱۸؍اپریل-۲۶مئی ۱۹۹۳ء) بلخ شیرمزاری کے وزیرخزانہ سردار فاروق لغاری نے ’فنڈ‘ سے ایک نئے پروگرام کے لیے ابتدائی مذاکرات شروع کیے، گو وہ نامکمل رہے، کیوں کہ سپریم کورٹ نے نوازحکومت کو بحال کردیا۔ اس کے بعد بھی صدر اور وزیراعظم کے درمیان کشیدگی نہ صرف جاری رہی بلکہ مزید بگڑ گئی۔ اس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وحیدکاکڑ نے دونوں کو استعفا دینے پر راضی کرلیا اور ۱۹۹۳ء میں نئے انتخابات کا راستہ کھل گیا۔ عبوری حکومت میں وزارتِ عظمیٰ (۱۸جولائی-۱۹؍اکتوبر ۱۹۹۳ء) کے لیے ڈاکٹر معین قریشی صاحب کو درآمد کیا گیا، جن کی حکومت کی عبوری نوعیت کے باوجود ’فنڈ‘ کے ساتھ مذاکرات مکمل کرلیے اور ایک نیا پروگرام شروع کر دیا۔
ابتدا میں بے نظیر کی دوسری حکومت (۱۹۹۳ء-۱۹۹۶ء) نے اس پروگرام کو اپنا لیا، لیکن جلد ان سخت مشکل اصلاحات کو جاری نہ رکھ سکی۔ ایک سال بعد ہی یہ پروگرام معطل ہوگیا۔ دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی تیزی سے بڑھنے لگی اور پنجاب میں مرکز کی اتحادی حکومت کے ساتھ بھی زبردست اختلافات کھڑے ہوگئے۔ ان مسائل نے حکومت کو کمزور کردیا اور آہستہ آہستہ وہ خود اپنے بنائے ہوئے صدر کے ہاتھوں معزولی کا شکار ہوگئی۔ جب حکومت کا خاتمہ ہوا اس وقت نئے وزیرخزانہ نویدقمر کے ساتھ ’فنڈ‘ کے مشن کے مذاکرات نئے پروگرام کے لیے کامیاب ہوگئے تھے، لیکن اس پر عمل کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔
دوسری نواز حکومت (۱۹۹۷ء-۱۹۹۹ء) زبردست عوامی اعتماد کے ساتھ منتخب ہوئی اور اس نے ایک بڑی پارلیمانی حمایت کے ساتھ وہ آئینی ترمیم ختم کردی، جو صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دیتی تھی۔ لیکن اس غیرمعمولی تحفظ کے علی الرغم یہ حکومت جلد ہی عدلیہ اور صدر کے ساتھ غیرضروری مسائل میں اُلجھ کر رہ گئی اور اس حکومت کا خاتمہ ڈرامائی انداز میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی برادر ججوں کے ہاتھوں برطرفی اور صدر فاروق احمد خان لغاری کے استعفا کی شکل میں سامنے آیا۔کچھ عرصے بعد مئی ۱۹۹۸ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی مئی ۱۹۹۸ء ہی میں ایٹمی دھماکے کردیے۔ جس کے جواب میں اُسے مغرب کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقعے پر حکومت نے ایک بڑی غلطی کر کے ملک میں موجود فارن کرنسی اکائونٹس کو غیرضروری طور پر منجمد کردیا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بُری طرح مجروح ہوا۔بعدازاں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے ساتھ بھی طرزِحکمرانی کے معاملے میں اختلافات کھڑے ہوگئے اور بالآخر انھوں نےبھی استعفا دے دیا اور حکومت کو نیا آرمی چیف بنانے کا موقع مل گیا، لیکن ان کا نئے چیف جنرل پرویز مشرف سے بھی نباہ نہ ہوسکا کیونکہ کارگل کی مہم جوئی کے نتیجے میں وزیراعظم نے ان کو برطرف کرنے کی کوشش کی اور فوج نے جوابی قدم اُٹھا کر حکومت کا خاتمہ کردیا۔
اس نئی حکومت نے ابتدا میں اس پروگرام کو شروع کرنے کی کوشش کی جس پر بے نظیر بھٹو حکومت میں اتفاق ہوگیا تھا۔ لیکن جلد ہی یہ پٹڑی سے اُتر گیا اور بعدازاں ایٹمی دھماکوں پر لگنی والی پابندیوں کی وجہ سے ملک کو قرضوں کی خاطر ازسرِنو پیرس اور لندن کلب جانا پڑا، جس کے لیے ’فنڈ‘ کا پروگرام لازمی ضرورت تھی۔ لہٰذا ، معطل شدہ (Rescheduling) ادایگیوں کے لیے شرائط رکھی گئیں۔ یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ حکومت ختم ہوگئی اور اسی پروگرام کو دوبارہ شروع کرنا پڑا۔
یہ ہے وہ دور جب قومیائے گئے اداروں میں بڑے پیمانے پر سیاسی مداخلت شروع ہوگئی اور خصوصاً بنکوں اور مالیاتی اداروں سے سیاسی بنیادوں پر قرضوں کا اجرا شروع ہوگیا۔ ایک طرف سیاسی بنیاد پر دیے گئے قرضوں سے بنکوں کا دیوالیہ نکل گیا، تو دوسری طرف اس ریاستی سرپرستی سے فیض یاب ہونے والے عناصر سیاسی طور پر مضبوط ہوتے چلے گئے۔
یہ دور معاشی اعتبار سے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کا دور ہے۔ ہرچند کہ اس کا آغاز نسبتاً سُست رہا، لیکن نائن الیون کے فوراً بعد بیرونی وسائل کی آمد بڑھ گئی۔ جب تک امریکا کی نظرالتفات قائم رہی (جو مشرف اور صدربش کی دوستی تک موجور رہی) آسانیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔
اس دور کا آغاز ناخوش گوار حالات میں ہوا تھا، جب مئی ۱۹۹۹ء میں کارگل کی جنگ کے بعد وزیراعظم اور آرمی چیف میں اعتماد کا شدید فقدان پیدا ہوگیا تھا اور حالات بتدریج یوں مرتب ہوئے کہ منتخب جمہوری حکومت کو فوج نے ختم کردیا۔ پہلے تین سال تک یہ فوجی حکومت اس انداز میں چلائی گئی، جیسے ایک کارپوریشن کو چلایا جاتا ہے۔ سیاست کا حکومت میں وہ دخل جو سیلابی شکل میں ہماری قومی زندگی میں شامل ہوگیا تھا، اس کے اثرات بہت حد تک ختم ہوگئے۔ معاشی عمل آہستہ آہستہ مستحکم ہوتا گیا۔ اسی دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ترین سطح پر آگئی تھیں، جس کی وجہ سے افراط زر بھی کم ہوگیا۔ سرمایہ کاری میں اضافہ ہونے لگا۔ شرح تبادلہ مستحکم ہوئی اور زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح پر پہنچ گئے۔ جی ڈی پی میں اضافے کی شرح ۶۰ کے عشرے والی رفتار سے بڑھنے لگی۔ اس زمانے میں یوں لگتا تھا کہ ملک تیز رفتار ترقی کرکے شاید دنیا کی اُبھرتی (Emerging) معیشتوں کی صف میں شامل ہوجائے گا۔ تین سال کے بعد ۲۰۰۲ء میں فوجی حکومت نے انتخابات کرا کے ایک کنٹرولڈ جمہوری نظام کی بنیاد رکھی اور مسلم لیگ(ن) کے جبری خلا کو ایک نئی مسلم لیگ (ق) بنا کر پورا کیا گیا جو پیپلز پارٹی کے کچھ اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی اور اس نے اپنی مدت بھی پوری کی۔ لیکن حکومت عملاً فوج ہی کے ہاتھوں میں رہی، کیوں کہ جنرل مشرف نے وعدہ کرنے کے باوجود صدر ہوتے ہوئے وردی نہیں اتاری۔ جوں جوں ۲۰۰۷ء کے انتخابات کا وقت قریب آتا گیا، نئی صف بندیاں ہونے لگی اور امریکا سے تعلقات میں سرد مہری کے آثار بھی نمایاں ہونے لگے۔
پھر جس طرح ماضی کی حکومتوں کو حادثات کا سامنا کرنا پڑا، خود جنرل مشرف حکومت کے خاتمے کا سبب ان کا یہ خوف بنا کہ اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ان کو دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کے خلاف درخواست کو قابل سماعت قرار دے کر فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس سے پیدا ہونے والی بداعتمادی اس حد تک بڑھی کہ جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس سے ایک ملاقات میں استعفا طلب کیا، جس سے انھوں نے انکار کردیا اور صدر نے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج دیا۔ اس کے ساتھ ہی وکلا کی زبردست تحریک شروع ہوگئی اور سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کو مسترد کردیا اور ان کو اپنے عہدے پر بحال کردیا۔ لیکن اس کے باوجود عدلیہ اور جنرل مشرف کے درمیان ٹکرائو جاری رہا اور صدر انتخاب جیتنے کے بعد بھی پے دَر پے مشکلات کا شکار ہوتے رہے اور بالآخر اگست ۲۰۰۸ء میں ان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔
ان واقعات کا آغاز مارچ ۲۰۰۷ء میں ہوا اور ۱۶ ماہ میں یہ واقعات مختلف شکلوں میں ظہور پذیر ہوتے رہے۔ یوں عملاً مارچ ۲۰۰۷ء ہی سے حکومت کی توجہ اہم مملکتی اُمور سے ہٹ گئی اور بڑی محنت سے حاصل کیا ہوا سارا معاشی اور سیاسی استحکام ابتری کا شکار ہوگیا۔ عالمی مالیاتی بحران سر اٹھا رہا تھا، لیکن بٹی ہوئی توجہ اور غفلت نے اصلاحی اقدامات اُٹھانے کا موقع نہیں دیا اور معیشت تیزی سے بحران کی طرف لڑھکنے لگی۔ جب اکتوبر ۲۰۰۸ء میں مالیاتی بحران آیا تو وفاق میں پیپلزپارٹی کی نئی حکومت نے اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ سابق صدرجنرل مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے سر ڈال دیا۔
یہ دور جو اَب بھی جاری ہے جنرل مشرف اور ان کے وضع کردہ نظام کے خاتمے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ۲۰۰۸ء میں برسرِاقتدار آنے والی جمہوری قوتوں نے بلا جھجک اس سارے نظام کو آہستہ آہستہ جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دیا، اس بات سے قطع نظر کہ یہ عمل کس قدر مبنی بر انصاف تھا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ۱۰سال کے بعد ملک پھر اسی بے یقینی کا شکار ہوگیا، جس کے خاتمے کی نوید فوجی حکومت نے دی تھی۔ اس طرح پالیسیوں میں ردوبدل اور ترجیحات کو متعین کرنے کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑا۔ اس سب کا گہرا اثر ملک کی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑا اور باہر کی دنیا بھی یہ سمجھنے لگی کہ: ’’پاکستان جیسے ملک میں کبھی، کچھ بھی ہوسکتا ہے، لہٰذا، ان کے ساتھ کام کرنے میں خطرات زیادہ ہیں، جن کا خیال رکھنا چاہیے اور شاید کام کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے‘‘۔
اس دور کے پہلے حصے میں حکومت پیپلز پارٹی نے بنائی اور اپنی مدت بھی پوری کی، تاہم اس دوران ایک وزیر اعظم کو سپریم کورٹ نے نااہل بھی قرار دے دیا۔ پیپلز پارٹی اپنا صدر بھی لانے میں کامیاب ہوگئی اور آرمی چیف کو توسیع بھی دے دی۔ لیکن یہ دور معاشی ترقی کے میدان میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا، جس کی ایک وجہ تو شدید عالمی مالیاتی بحران تھا، جس کے ساتھ تیل کی عالمی قیمت ۱۵۰ ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور شرح تبادلہ میں بھی بڑا اضافہ ہوگیا۔ دوسرا یہ کہ امریکا نے پاکستان پر زور ڈال کر اسے آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل کرادیا، جس نے شرح سود میں اضافہ کرنے کی سابقہ شرط لگادی، جس کے ساتھ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ یوں وہ معاشی استحکام، جو فوجی حکومت کے دور میں نظر آتا تھا، پھر ختم ہوگیا۔
نئی حکومت چوںکہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ کے بہیمانہ قتل کے بعد وجود میں آئی تھی، لہٰذا اتنے بڑے المیے اور حادثے کے نتیجے میں پارٹی کی قیادت نسبتاً غیر تجربہ کار ہاتھوں میں آگئی۔ بعدا زاں آصف علی زرداری صاحب کے صدر بنتے ہی طاقت کے کئی مراکز وجود میں آگئے اور پالیسی سازی کے لیے جس یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے وہ حاصل نہ رہی، بلکہ اس میں بڑا بگاڑ پیدا ہوگیا۔ ۲۰۱۰ء میں ملک ایک بڑے سیلاب سے دوچار ہوگیا، جس سے جانی اور مالی نقصانات اُٹھانے پڑے۔ ایک اور مسئلہ جس میں حکومت اُلجھی رہی، وہ عدلیہ سے کشیدہ تعلقات تھے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
یہ عرصہ ایک اور لحاظ سے سخت مشکلات کا شکار رہا، جو امریکا سے ہمارے تعلقات سے متعلق ہے۔ نئی حکومت کے ساتھ ہی امریکا میں ری پبلکن حکومت ختم ہوگئی اور بارک اوباما صدر بن گئے۔ گو وہ عراق جنگ کے خلاف تھے، لیکن اس الزام سے بچنے کے لیے کہ ڈیموکریٹک لیڈر دفاع کے معاملے میں نرم رویہ رکھتے ہیں، انھوں نے بغیر کسی مؤثر دلیل کے افغانستان میں امریکا کی جنگ کو ’مبنی برانصاف‘ قرار دیا اور وہاں فوج میں اضافے کی منظوری دے دی۔ لیکن ساتھ ہی اس کے قیام کی مدت بھی متعین کردی، جو ۲۰۱۴ء تک تھی۔ اس وجہ سے امریکا اور اتحادیوں کی فوج کی تعداد ۱۳ہزار تک پہنچ گئی۔
صدرجنرل مشرف کے منظر سے ہٹتے ہی نئی حکومت اور امریکا کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا، جو تجزیہ نگاروں کے نزدیک پاکستاں کے کُلی مفاد میں نہیں تھا۔ پھر کچھ تلخ واقعات بھی اسی پس منظر میں پیش آئے۔ ان میں چار بہت اہمیت کے حامل ہیں: بلیک واٹر سے وابستہ اہل کاروں کی بڑے پیمانے پر پاکستان اور خصوصاً اسلام آباد میں مبینہ آمد؛ اسامہ کی ایبٹ آباد میں مبینہ موجودگی اور اس کو ہلاک کرنے کے لیے امریکا کی یک طرفہ کارروائی ؛ ایک امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے دن دہاڑے لاہور میں دو افراد کو قتل کردیا اور پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔ اس کی رہائی کے مطالبے سے امریکا اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوگئے؛ اور، سب سے بڑا مسئلہ اس وقت کھڑا ہوگیا، جب امریکی فوج نے سلالہ میں پاکستانی چوکی پر حملہ کرکے متعدد پاکستانی فوجیوں کو شہید کردیا۔ ان وجوہ سے حکومت بہت کمزور پڑگئی اور ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ کے ساتھ اس کا پروگرام بھی ناکام ہو کر بند ہوگیا اور معیشت بے شمار مسائل کا شکار ہوگئی، جن میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، ملک کو ایک بار پھر دیوالیہ ہونے کے قریب لے گئی۔ مزید ابتری وزیراعظم کی سپریم کورٹ کے حکم پر نااہلی اور ایک خوفناک گردشی قرضے کی وجہ سے توانائی کے بحران نے پیدا کردی۔
اس عرصے کا دوسرا دور مسلم لیگ (ن) کی مئی ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ۱۴ سال کے بعد دائرے کا سفر اسی جگہ پہنچ گیا، جہاں سے سے آغاز ہوا تھا۔ اپنی پیش رو حکومت کے مقابلے میں یہ حکومت بڑی قیادت اور واضح مینڈیٹ کی حامل تھی اور اس نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت اپنے کام کو شروع کیا، جو بہت جلد ایک نئے آئی ایم ایف پروگرام میں بدل گیا، جو تین برسوں پر محیط تھا۔ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ یہ پروگرام جمہوری حکومت کے دور میں کامیاب ہوگیا اور معیشت میں استحکام واپس آگیا۔ افراطِ زر میں کمی ہوئی، شرح نمو میں رفتہ رفتہ اضافہ ہونے لگا اور سال ۲۰۱۷ء میں اس کی شرح ۵ء۳ فی صد تک پہنچ گئی، زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح پر پہنچ گئے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ CPEC کی شکل میں سرمایہ کاری کے ایک بڑے معاشی و ترقیاتی پروگرام کا سلسلہ شروع ہوا، اور توانائی اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے تعمیروترقی کی جانب گامزن ہوئے۔
تاہم، مسلم لیگ (ن) کی یہ حکومت بھی وقفے وقفے سے حادثات کا شکار ہوتی رہی۔ لیکن تیسرے سال، یعنی ۲۰۱۶ء میں پے دَر پے دو حادثے ایسے پیش آئے، جنھوں نے حکومت کو مفلوج کردیا: ایک ’پانامہ لیکس ‘اور دوسرا ’ڈان لیکس‘۔ ان مسائل کے دوران میں حکومت کی توجہ اہم قومی اُمور سے ایسے ہی ہٹ گئی ہے، جیسی مشرف حکومت اور پیپلز پارٹی کی حکومت کی ہٹ گئی تھی۔ گو معاشی بگاڑ کی وہ صورت نہیں پیدا ہوئی جیساکہ ماضی میں ہوا تھا، لیکن ابتدائی اشارے اسی سمت میں سفر کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ایک بار پھر لگتا ہے کہ ہم اسی مشکل صورتِ حال کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں ہمیں پھر آئی ایم ایف کی مدد کی ضرورت پیش آنے والی ہے۔
تیسرے دور کو ہم نے ’کاروبار اور سیاست کا اختلاط‘ سے منسوب کیا ہے اور اس گفتگو کے اختتام پر ہم اس حوالے سے چند بنیادی گذارشات پیش کریں گے:
اول، اگرچہ صدرجنرل ایوب خان، صدر جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے اَدوار میں سرکاری ملازمین کو فراہم کردہ آئینی تحفظات کو ختم کردیا اور پے در پے تین بڑی قسطوں میں بغیر وجہ بتائے اعلیٰ سرکاری افسروں کو ملازمتوں سے نکال باہر کیا گیا، لیکن اس کے باوجود سول سروس میں کچھ دَم خم باقی تھا۔ بعد کے سیاست دانوں نے سول سروس کو اپنے زیراثر لانے کے لیے پسندیدہ افسروں کے گروہ بنا لیے، جس کے نتیجے میں اُن کی وفاداریاں ریاست کے بجاے حکمرانوں کو منتقل ہوگئیں۔ ان حالات میں بعض مؤثر سول سرونٹ بھی سیاست دانوں کے اس مکروہ مفاداتی عمل کا حصہ بننے لگے۔
دوم، پارلیمانی نظام میں بنیادی طور پر حکومت وزیر اعظم اور کابینہ تک محدود ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں حکومتی اراکین پارلیمنٹ، حکومت سے اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ ان کے اس دباؤ کو کم کرنے کی خاطر ان کے لیے ترقیاتی اسکیموں کا اجرا کیا گیا۔ ان کے علاقوں میں انتظامیہ کے اہم ترین عہدے داروں ( SHO , SSP, DCO) کی تعیناتی ان کی خواہش اور منظوری سے ہونے لگی۔
سوم، سیاست دانوں کی پبلک سیکڑ کی کارپوریشنز اور خاص طور پر بنکوں اور مالیاتی اداروں میں زبردست مداخلت شروع ہوگئی اور ان میں نہ صرف تعیناتیاں سیاسی وابستگی اور سرپرستی کی بنیاد پر ہونے لگیں، بلکہ ان کے کاروبار کے محرکات بھی سیاسی مقاصد کے تابع ہوگئے۔ مثلاً قرضوں کا اجرا اور ان اداروں کے بنے مال کی تقسیم (اسٹیل ملز کی پیداوار کی فروخت یا گیس اور بجلی کی فراہمی)، سب کچھ سیاست کی نذر ہونے لگا۔
آخری بات یہ کہ، کاروبار اور سیاست کا اس بڑے پیمانے پر اختلاط ماضی میں نظر نہیں آتا۔ فوج اور کسی حد تک عدلیہ کو چھوڑ کر (گو ان کے ساتھ بھی طرزِ حکمرانی کے مسائل موجود ہیں اور ان پر تفصیل سے گفتگو بھی ہونی چاہیے)، سیاست، قومی ادارے اور کاروبار مربوط ہوگئے اور عوام دیکھتے رہ گئے۔ حکومت تو عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے وجود میں آتی ہے، لیکن اگر یہ اُن ہاتھوں میں چلی جائے، جن سے عوام کو تحفظ چاہیے تو پھر دادرسی کی کوئی جگہ نہیں رہ جاتی اور مایوسیاں پھیلنے لگتی ہیں اور لوگ تبدیلی کے لیے ایسے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں، جو سیاسی عمل سے باہر ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا مدوجزر کے باوجود پاکستان کی معیشت آگے کی طرف بڑھتی رہی ہے۔ ان حادثات نے ترقی کی رفتار اور پالیسی کی یکسوئی کو تو ضرور متاثر کیا ہے، لیکن اس کی سمت کو نہیں بدلا۔ فی الحقیقت اس میں کمال ہمارے لوگوں کا ہے، جو بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور محنت کے جذبے سے سرشار ہیں۔
پاکستان کی معیشت مقابلتاً اُس وقت سے کہیں مضبوط اور مستحکم ہے، جب یہ ملک وجود میں آیا تھا۔ اس معیشت کا جوہرِ خاص اس کی بے پناہ انعطاف پذیری (resilience)ہے۔ آج ہماری معیشت ان پابندیوں سے آزاد ہے، جو ایک حکومتی کنٹرول میں چلنے والی معیشتوں کا خاصّہ ہوتا ہے۔ نجی شعبے کو ہر طرح کی آزادی ہے، بڑے منصوبوں میں وہ سرمایہ کاری کرسکتے ہیں اور آزاد ریگولیٹری اداروں کے ذریعے ان کے معاملات حکومتی اثرات و مداخلت سے محفوظ ہیں۔ بیرونی تجارت پر کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہے اور نہ زرمبادلہ ہی پر وہ پابندیاں ہیں، جو پانچ عشروں تک ہم پر مسلط رہی ہیں۔
اس مختصر سے جائزے میں قارئین کو یہ اندازہ بھی ہوگیا ہوگا کہ اتنے بڑے حادثات سے گزر کر بھی پاکستان کی معیشت نہ صرف قائم ہے اور ملک کی سلامتی کی ضرورتوں کو پورا کررہی ہے، بلکہ اس کی ترقی کی فطری صلاحیت بھی لامحدود ہے، کیوں کہ یہاں پر حقیقی ترقی کی اصل ضرورت، یعنی انسانی وسائل اور قدرتی وسائل، دونوں موجود ہیں۔ ہمیں جس بات نے ضعف اور صدمہ پہنچایا ہے، وہ رہنماؤں کی کوتاہ نظری اور بے اعتدالی کے ساتھ دُوراندیشی سے تہی دامنی بھی ہے۔ یہ ملک اس قابل ہے کہ اس کا شمار ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کم از کم اس نمبر پر آئے، جو اس کی آبادی کے لحاظ سے اس کا حق بنتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک ضرورت ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات پر غیرمتزلزل ایمان اور مستقل مزاجی سے ایک سیدھی سمت میں سُبک رفتار سفر۔ اگر ہم راستے بدلتے رہے تو اوپر بیان کردہ دائرے کا سفر جاری رہے گا۔
_______________
پاکستانی قوم نے گذشتہ ۷۰ سال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ اس بات کے تعین کے لیے خودپاکستان کی اہمیت کا تعین ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر ہم جان ہی نہیں سکتے کہ ہم نے اپنے سات عشروں کے سفر کے دوران کیا کیا ہے؟
اس اعتبارسے دیکھا جائے تو برصغیر میں دو قومی نظریے کے بانی مجدد الف ثانی تھے لیکن دو قومی نظریہ صرف مجدد الف ثانی اور جہانگیر کی کش مکش میں ظاہر ہوکر نہیں رہ گیا۔اورنگ زیب عالمگیر اور داراشکوہ کی کش مکش بھی اپنی اصل میں دو قومی نظریے کی کش مکش تھی۔ داراشکوہ ہندو ازم سے متاثر تھا اور وہ قرآن مجید اور گیتا کی تعلیمات کو آمیز کرکے ’ایک قومی‘ نظریہ ایجاد کرنا چاہتا تھا۔ یعنی اکبر نے دین الٰہی کی صورت میں جو تجربہ نہایت بھونڈے انداز میں کیا تھا داراشکوہ وہی تجربہ انتہائی دانش ورانہ اور علمی سطح پر کرنے کا خواہش مند تھا۔ اورنگ زیب کو اس ’خطرے‘ کا اندازہ تھا۔ اس لیے کہ وہ دو قومی نظریے کے معنی کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ داراشکوہ اور اورنگ زیب کی کش مکش میں اکابر علما اور صوفیہ اورنگ زیب کے ساتھ تھے۔
یہ بات تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ سرسیّداحمدخان کسی زمانے میں ایک قومی نظریے کے قائل تھے اور ہندوئوں اور مسلمانوں کو ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں کہا کرتے تھے، لیکن ہندی اُردو تنازعے نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور انھوں نے مسلمانوں کو کانگریس میں شامل ہونے سے روکا اور کہا کہ اگر مسلمانوں کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے تو انھیں اپنا پلیٹ فارم تخلیق کرنا چاہیے۔
اقبال بھی اپنے ابتدائی دو رمیں قوم پرست اور وطن پرست تھے اور انھیں خاکِ وطن کا ہرذرہ ’دیوتا‘ نظر آتا تھا اور وہ کہہ رہے تھے ؎
سارے جہاں سے اچھا ہندُستاں ہمارا
ہم بُلبلیں ہیں اس کی ، یہ گُلستاں ہمارا
مگر اقبال کی فکر میں بھی تغیر رونما ہوا اور چند ہی برسوں میں وہ ؎
چین و عرب ہمارا ، ہندُستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
کہتے نظر آئے۔ محمد علی جناح کا معاملہ بھی عیاں ہے۔ وہ کانگریس کے رہنما تھے اور سروجنی نائیڈو انھیں ہندو مسلم اتحاد کی سب سے بڑی علامت قرار دیتی تھیں۔ لیکن مسلمانوں کی تہذیب اور تاریخ کی ’مرکز جُو‘ حرکت ایسی تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے محمد علی جناح ؒقائداعظم بن کر ابھرے اور انھوں نے دو قومی نظریے کی وضاحت پر جتنا زورِ بیان صرف کیا کسی اور نے نہیں کیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو دو قومی نظریہ۱۹۳۰ء یا ۱۹۴۰ء میں سامنے آنے والی حقیقت نہیں تھا، بلکہ اس کی جڑیں ہماری تاریخ میں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
بلاشبہہ مذہبی جماعتوں اور علما کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان ’اسلامی جمہوریہ‘ تو بن گیا مگر ہمارے فوجی اور سول حکمرانوں نے آئین کو اسلام کا قید خانہ بنادیا ہے۔ اسلام کو اس قیدخانے سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ چنانچہ حکومت و ریاست کے بندوبست پر اسلام کا کوئی اثر نہیں۔ ہماری معیشت سود پر کھڑی ہوئی ہے، اور سود جنرل پرویز مشرف ہی کو نہیں میاں نواز شریف کو بھی اتنا عزیز ہے کہ انھوں نے اس کے خاتمے کے لیے دکھاوے کے لیے بھی ایک قدم نہیں اٹھایا۔ہمارا نظام تعلیم صرف اتنا اسلامی ہے کہ اس میں اسلامیات ایک مضمون کے طور پر شامل ہے۔ ہمارے حکمران ہی نہیں ذرائع ابلاغ بھی آئین کی دفعہ ۶۲ اور ۶۳ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک عہد جدید میں منتخب نمایندوں کا امین و صادق ہونا ممکن ہی نہیں۔ غور کیا جائے تو مذاق اڑانے والے دفعہ ۶۲ اور ۶۳ کا مذاق نہیں اڑاتے‘ اسلام کے تصور صداقت و امانت کا مذاق اڑاتے ہیں۔
بدقسمتی سے ۱۹۷۱ء میں ہم پاکستان کی جغرافیائی وحدت کو بھی برقرار نہ رکھ سکے اور ہمارے فوجی اور سول حکمرانوں نے بھارت کو یہ کہنے کا موقع فراہم کیا کہ اس نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کردیا ہے۔ قوم کو دھوکے میں مبتلا کرنے والے کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان بیرونی طاقتوں کی سازش اور بھارت کی مداخلت کے باعث الگ ہوا لیکن اتنے بڑے سانحات بیرونی عوامل سے کہیں زیادہ داخلی عوامل یا داخلی کمزوریوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور ہماری سب سے بڑی داخلی کمزوری یہ تھی کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۱ء تک پاکستان کی تخلیق کے محرک اسلام کو اجتماعی زندگی میں مؤثر یا Functional بنانے کی معمولی سی کوشش بھی نہ کی۔ اگر ہم ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۱ء تک کچھ اور نہیں تو اسلام کے تصور عدل ہی پر عمل کررہے ہوتے تو بیرونی طاقتیں اور بھارت چاہ کر بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے۔
پاکستان اپنے قیام ہی سے اپنے قائدین کے جوش و جذبے اور عزم و ارادوں سے سرشار تھا۔ چنانچہ معاشی و فنی وسائل کی کمی اور نامساعد حالات کے باوجود، چند ہی برسوں میںنہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا اور زندگی کے متعدد شعبوں اور میدانوں میں ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے اس نوزائیدہ مملکت نے متعدد ایسی کامیابیاں بھی حاصل کیں جوتوقع سے بھی بڑھ کر تھیں۔تعلیمی اور علمی میدانوں میںبھی صورت حال مایوس کن نہ تھی۔قیامِ پاکستان کے وقت لاہور میں قائم پنجاب یونی ورسٹی اور بالخصوص اس سے ملحق اورینٹل کالج علوم و ادبیات کی تدریس و مطالعات میں ایک شان دار علمی شہرت و مقام پر فائز تھے۔ اور یہاں کے علمی و تحقیقی منصوبے اور ان کی عالمانہ و محققانہ تصانیف ہرایک کے لیے قابلِ رشک تھیں۔ یہاں کے گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج نے بھی علمی و تعلیمی سرگرمیوں کی ایک شان دار روایت قائم کررکھی تھی۔ان تینوں اداروں سے منسلک اساتذہ و طلبہ نے دل چسپی کے اپنے اپنے شعبوں میں اپنی تخلیقی و تصنیفی سرگرمیوں سے زبان و ادب، تاریخ اور علوم کے دیگر متنوع شعبوں میں قابل قدر خدمات کی ایک مستحکم روایت قائم کردی تھی کہ جو بعد کی نسلوں کے لیے بھی پُرکشش اور قابل تقلید رہی۔ پنجاب یونی ورسٹی لائبریری، پنجاب پبلک لائبریری اور لاہور ریکارڈ آفس کے ذخائر نے معلّمین و محققین کے لیے ممکنہ وسائل فراہم کرنے میں اپنا مفید کردار ادا کیا۔پشاور آرکائیوز بھی اپنی ایک حیثیت کا حامل تھا۔
کراچی کے قومی عجائب گھر کے نادر ذخائراور پھرچند ہی برسوں میں کراچی اور حیدرآباد میں جامعات کے قیام نے ان شہروں اور خصوصا ً کراچی کو ایک علمی و تہذیبی مرکز بنادیا۔جس میں کراچی یونی ورسٹی نے اپنے لائق وقابل سربراہوں اور اساتذہ کی حددرجہ مخلصانہ انتظامی کاوشوں اور جدید سائنسی علوم کے شعبوں کے قیام اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کے سبب بہت جلد ملک کی ممتاز ترین جامعہ کی حیثیت حاصل کرلی۔
’انجمن ترقی اُردو‘ کے وقیع کتب خانے کی دہلی سے کراچی منتقلی نے بھی کراچی میں علمی تحقیقات کو حددرجہ مہمیز دی اور ادبی تحقیقات و مطالعات کا ایک قابلِ رشک آغاز ہوا۔
جامعات کے ساتھ ساتھ ،حکومت نے اپنے قلیل وسائل کے باوجود، علمی ادارے قائم کیے اور نجی کوششوں کی سرپرستی بھی کی۔لاہور میں:’ مجلس ترقی ادب‘؛’ اقبال اکیڈمی‘؛ ’ادارۂ ثقافت اسلامیہ‘؛’مرکزی اُردو بورڈ‘، بعد میں’ اُردو سائنس بورڈ‘؛’ادارۂ تحقیقات پاکستان‘؛’اُردو دائرۂ معارف اسلامیہ‘؛کراچی میں:’انجمن ترقی اُردو‘؛ ’پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی‘؛ ’مسلم ایجوکیشنل کانفرنس‘؛ ’ترقی اُردو بورڈ‘ اب’ اُردو لغت بورڈ‘؛ اسلام آباد میں:’ادارۂ تحقیقات اسلامی‘؛ ’قومی کمیشن براے تحقیق، تاریخ و ثقافت‘؛کچھ عرصے بعد مقتدرہ قومی زبان بھی کراچی سے یہیں منتقل کردیا گیا۔ پھر ہر صوبے میں قائم کردہ علاقائی زبانوں کی اکادمیوں:’ پنجابی ادبی اکادمی‘؛ ’بلوچی اکیڈمی‘؛ ’سندھی ادبی بورڈ‘؛ ’پشتو اکیڈمی‘ ان سب نے اپنے اپنے دائرے میں مفید علمی و مطالعاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوششیں کیں جن میں سے خاص طور پر’ سندھی ادبی بورڈ‘ اور’پنجابی ادبی اکادمی‘ نے زیادہ سرگرمی دکھائی اور کلاسیکی ادب اور تاریخ ا ور تاریخی متون کو ترتیب و تدوین کے بعد شائع کیا۔ پھر ان کی کارکردگی یا تو ماندپڑگئی یا منقطع بھی ہوگئی۔ اداروں کے سربراہوں کے انتخاب و تقرر میں سیاسی فیصلے در آئے تھے، چنانچہ اقربا پروری ، سفارشوں اور جانب داری نے اپنے اثرات قائم کرنے شروع کیے۔ سربراہوں میں اہلیت، خلوص، دیانت داری اور مستعدی کی صفات رفتہ رفتہ عنقاہوگئیں اور اب اکثر اداروں میں بالائی سطح پر کم ہی کہیں اہلیت و مستعدی دیکھی جاسکتی ہے۔
متعدد قابل تحسین ادارے اپنی ابتدا یا ماضی میں اپنی ہی جس مستحسن روایت پر کاربند تھے اور عمدہ علمی و تصنیفی منصوبوں میں سرگرمِ عمل ہونے کے بجاے اپنے سربراہوں کی ذاتی اغراض، خود نمائی یا اقربا پروری میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اُن میں کسی بڑے منصوبے کی تشکیل یا اس میں پیش رفت کا شعور اور صلاحیت موجود نہیں ہے ۔ اگرچہ یہ صورتِ حال اداروں میں سیاست کے عمل دخل کا نتیجہ ہے، مگر خرابی کی ایک اور وجہ قحط الرجال بھی ہے۔ جو اکابر اداروں سے منسلک تھے وہ رفتہ رفتہ اس دنیاسے رخصت ہوتے رہے تو ان کی جگہ لینے والے اہل اور مخلص افراد نا پید تھے۔
آج علمی و تحقیقی اور ادبی اداروں کی بے عملی اور کج روی کے باوجود علمی و تحقیقی سرگرمیاں بھی کہیں مرکوز نظر آتی ہیں، مگر جامعات کے ادارے یا شعبہ جات ایسے کم ہیں جو اپنے طورپر اجتماعی اور گروہی تحقیقی و مطالعاتی منصوبے تشکیل دیں اور مثالی صورت میں انھیں مکمل کریں۔ جامعات میں تحقیقات و مطالعات بالعموم اساتذہ یا منسلک مصنّفین و محققین کی ذاتی دل چسپیوں اور ان کے اپنے ذوق و شوق کے تحت رہنے کی ایک طویل اور دیرینہ روایت رہی ہے اور بہت مستحکم بھی رہی ہے۔ پنجاب یونی ورسٹی کے اورینٹل کالج سے منسلک محققین نے، جن میں بعض عالمی شہرت رکھتے تھے، قیامِ پاکستان سے قبل ہی اپنی اعلیٰ معیار تحقیقات اور مطالعات کے باوصف بہت نمایاںاور نہایت قابلِ قدر خدمات کی ایک درخشاںمثال قائم کی تھی۔ یہاں سے نکلنے والاتحقیقی مجلّہ اورینٹل کالج میگزین، اپنے معیار کے سبب ایک عالمی وقار اور امتیاز کا حامل تھا۔ کچھ برسوں کے بعد یہاں سے مجلہ تحقیق اور دیگر مجلّوںکے کامیاب اجرا نے اس روایت کو مزید فروغ اور استحسان عطا کیا۔ بعض اساتذہ کے تحقیقی مطالعات نے بھی عمدہ علمی و سماجی اور ادبی موضوعات پر لائقِ تحسین مثالیں پیش کیں۔
جامعہ کراچی سے ایسے اکابر محققین اور مصنّفین منسلک رہے ہیں، جن میں سے کچھ نے قیامِ پاکستان اور کراچی میں آباد ہونے سے قبل ہی علمی اور تعلیمی دنیا میں اپنے مؤقر کارناموں کے باوصف شہرت و امتیاز حاصل کیاتھا اور جامعہ کراچی سے منسلک ہوکر اپنے تجربے اور اپنی لیاقت سے اس جامعہ کو ملک کی ممتاز ترین جامعہ کے درجے تک پہنچادیا ۔ پھر اس شہر کو قوم پرستانہ سیاست کی نظر لگ گئی۔ اب جامعہ کراچی کا نظم و نسق اور معیار بھی حسب سابق برقرار نہیں رہا اور مطالعات اور تحقیقات کا معیار بھی مزید زوال پذیر ہے۔اس کا ایک بڑا سبب جامعہ کا شہرکے سیاسی نظام کے تابع ہوجانا یا کردیا جانا ہے۔چنانچہ اساتذہ کے تقرر اور ان کی ترقیوں کا انحصار اب سفارشوں اور سیاسی وابستگیوں پر زیادہ ہوکر رہ گیاہے اور مطالعہ و تحقیق کی جو شرائط اور پابندیاں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان (ایچ ای سی) کی جانب سے جائز طور پر جامعات اور ان کے اساتذہ پر عائد ہیں، یہ جامعہ اور اس کے اساتذہ بڑی حد تک ان سے گریزاں ہیں۔ نتیجتاً جامعہ کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیاں اب زوال پذیر ہیں۔
یہی صورت اب ملک کی دیگر متعدد سرکاری جامعات میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ تقرر اور ترقیوں کے لیے ایچ ای سی کی جانب سے عائد شرائط میں سے عالمی سطح کے معیاری مجلّوں میںتحقیقی مقالات کی اشاعت کے بارے میں غلط بیانیاں عام ہیں اور سطحی اور سرسری مضامین کو تحقیقی مقالہ قرار دینا اور اسے انتظامیہ کی جانب سے تسلیم کرلیاجانا ایسا عمل ہے جس نے اساتذہ میں اہلیت پیدا کرنے کے بجاے انھیں جرم پر آمادہ کرنے کی آزادی دے دی ہے۔
اس ضمن میں خود ہایر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اپنے ہی قواعد و ضوابط کا لحاظ نہ رکھا اور ان پر عمل درآمد کے جائزے کا کوئی مستحکم اور مؤثر نظام تشکیل نہیںدیا کہ بدعنوانیوں اور غلط بیانیوں کی روک تھام ہوسکتی۔بعض اساتذہ کی اپنی کاوشوں کے تحت جو معیاری تحقیقی و مطالعاتی سرگرمیاں ہیں وہ اس صورت حال سے ماورا ہیں لیکن وہ تعداد میں بہت قابلِ اطمینان نہیں۔
جامعات میں مطالعات و تحقیق کی یہ صورتِ حال حد درجے افسوس ناک ہے۔اس میں اساتذہ اور جامعات کے ساتھ خود ایچ ای سی بھی اس کی بڑی ذمے دار ہے کہ اس کے نظام میں اساتذہ کی تحقیقات و مطالعات کو خود جانچنے اور اس کے اپنے فیصلوں کے معیار کو پرکھنے اور ساتھ ہی اس کی اپنی عائد پابندیوں کو نظر انداز کرکے غلط بیانیوں اور دھوکا دہی کے ذمے دار اساتذہ کو سزا دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ جامعات بھی اپنی داخلی علمی بدعنوانیوں کی روک تھام کا کوئی مؤثر نظام نہیں کرسکیں۔
تحقیقات و مطالعات سے قطع نظر سرکاری جامعات کا تعلیمی معیار بھی گذشتہ دہائیوں میں متاثر ہوا ہے۔ معیار کی بہتری کے لیے جو کوششیں خود جامعات اور ان کی سرپرست ایچ ای سی کو کرنی چاہییں تھیں، وہ بھی ہر سطح کے تعلیمی نصاب کی بہتری کے باب میں مجموعی طور پر بے نیاز اور لاپروا ہیں۔ برسوں بلکہ عشروں تک بھی نہ نصابات پر نظر ثانی کی جاتی ہے نہ ان کی تجدید کے بارے میں کوئی عمل ہوتاہے اور نہ نصابات کو قومی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوئی مخلصانہ اور شعوری کوشش ہوتی ہے۔ بالعموم ہمارے سارے ہی قومی اور صوبائی نصابات ازکارِرفتہ، فرسودہ اور طلبہ کے لیے بے فیض ہیں اوروہ ان میں کسی طرح بھی قومی اور اجتماعی سو چ پیدا کرنے کے لائق نہیں۔ایک مقصدی اور تعمیری نصاب کی عدم موجودگی ہمارے اکثر قومی اور سیاسی و سماجی مسائل اور مشکلات کا سبب ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ایک قوم اب تک نہ بن سکے۔
صدرجنرل یحییٰ خاںکے دور میں ائیر مارشل نورخان کی تعلیمی تجاویز، اپنے چند اسقام کے باوجود، ملک میںتعلیمی نظام کی اصلاح وبہتری کاایک فکر انگیز اور مخلصانہ اقدام تھا، لیکن افسوس صد افسوس کہ پھر کبھی اس طرح کی کوئی مخلصانہ اور سنجیدہ و مؤثر کوشش نہ ہوسکی۔
نظامِ تعلیم اورنصاب کی طرح ہم نے جامعات میں اپنے مطالعات اور تحقیقات کو بھی قومی تقاضوں اور عہد حاضر کی معاشرتی اور علمی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے کی جانب بھی کبھی نہیں سوچا۔ سائنسی شعبوں کے تحقیقی موضوعات سے قطع نظر،سماجی علوم اور زبان و ادبیات کے شعبوں میں تحقیق کے لیے بالعموم ایسے موضوعات کی بھرمار رہتی ہے جو سطحی، سرسری اور فرسودہ و از کار رفتہ ہوتے ہیں،جن سے نہ متعلقہ علم کوکوئی فائدہ پہنچتاہے ، نہ ان سے کوئی علمی و تحقیقی خلا پُر ہوتا ہے۔ جامعات میںسندی سطح کے امیدواروں میں اگرموزوں و مفید یا تعمیری موضوعات کے انتخاب کا شعور نہیں تو ان کے نگران اساتذہ بھی اس شعور سے بمشکل ہی کہیں بہرہ مند ہوتے ہیں۔ جامعات میں ایچ ای سی کی ہدایت پر حالیہ کچھ عرصے سے بظاہر ایک ’صیغۂ فروغِ تحقیق ‘ (Research Enhancement Cell)کاقیام عمل میں آیاہے، جس پر تحقیق کے معیار کی بہتری اور اس کے فروغ کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اسے موضوعات کی افادیت کے نقطۂ نظر سے اپناکردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ ہماری قومی بدقسمتی ہے کہ ایشیا کی پانچ سو جامعات میں ہمارے ملک کی کوئی جامعہ بھی کبھی شمار میں نہیں آتی ، عالمی سطح کی جامعات کا تو کیا ذکر!
میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی معیارکی بہتری اور طلبہ میں قومی سوچ کو عام کرنے کے لیے جہاں ایک قومی سطح کی منصوبہ بندی، بمثل نورخان تجاویز، اشد ضروری ہے ،وہیں ایچ ای سی کو ایک فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنے فرائض میںتعلیمی معیار کی بہتری،جامعات میں نظم و نسق کے قیام کی نگرانی، جامعات اوراساتذہ کو اس کے اپنے ہدایت کردہ قواعد و ضوابط کا پابند کرنا اور اساتذہ اور سربراہوں میں اہلیت، فرض شناسی اور دیانت داری کی صفات کے جانچنے اور اس کے اپنے عائدکردہ ضوابط سے انحراف پرمناسب سزا کا اہتمام کرنابھی شامل ہونا چاہیے۔ آج ہمارا تعلیمی معیار بڑی حد تک اساتذہ کی نااہلی،بدعنوانی اور اپنے فرائض سے غفلت کے سبب برباد ہوا ہے۔میں یہ بارہا لکھتا رہاہوں کہ آج ہمارے معاشرے کی تعمیر اور تخریب تین افرادکی کارکردگی پر منحصر ہوتی ہے: ایک استاد، دوسرا صحافی اور تیسرا منصف(جج)،جب کہ صحافی اور منصف بھی استاد ہی بناتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی اداروں اور بالخصوص جامعات میں سیاست کے عمل دخل نے تعلیمی نظم و نسق اور معیار کو بری طرح متاثر کیاہے۔سیاست اور اقربا پروری کے پروردہ نااہل اور بدعنوان اساتذہ نے سارے ماحول کو برباد کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ایچ ای سی کی غفلت اور اپنے بنیادی فرائض میں روورعایت اور بے نیازی کی اس کی حالیہ کیفیت بدعنوان اساتذہ پر کوئی قدغن عائد نہیں کرتی، جس کے سبب تعلیم و تدریس کا معیار پست ہوتاجارہاہے اور تحقیق و مطالعات زوال پذیر ہوگئے ہیں۔اور یہی ایچ ای سی تدریس اور تحقیق کے لیے ایسے رہنما اصول و ضوابط بھی تجویز نہیں کرتی کہ اساتذہ کی تدریسی کارکردگی کا محاسبہ ہوسکے اور تحقیق کامعیار حقیقی معنوں میں بلند ہوسکے۔ اگرچہ ایچ ای سی نے اساتذہ کے لیے لازم کیا ہے کہ وہ تحقیقی مقالات ایچ ای سی کے منظورشدہ مجلّوں میں چھپوائیں، لیکن ایچ ای سی نے کبھی نہیں سوچاکہ وہ اساتذہ کے لیے، ترقی یافتہ ملکوں کی جامعات کی طرح لازم کریں کہ وہ اپنے موضوعات کی دل چسپی کے پیش نظر سال میں ایک یا دو سیمی نار پیش کرنے کا اہتمام کریں، جو ان کی ترقی کے لیے شمار میں آئیں۔
پاکستان اور پاکستانی قوم کا یہ المیہ ہے کہ تعلیم اور تدریس اب اپنا جیسا تیساسابقہ معیار و امتیاز بھی بتدریج کھوتے جارہے ہیں اور یہ دونوں ہی آئے دن زوال پذیر ہیں۔یقیناً ہماری قوم کے نابغہ افراد نے انفرادی طور پران ہی جامعات سے تحصیل علم کے بعد اپنے اپنے شعبوں میں بڑے نام کمائے ہیں، اور عالمی سطح پر بھی ایسے کارنامے انجام دیے ہیںکہ اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کیاہے۔ ایسے اعزازات و عزت کا حصول ہر فرد کا حق ہے، جب کہ اس کی تربیت اور حوصلہ افزائی کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی اور ایک عمومی حوصلہ افزا ماحول پیدا کرنا ہماری جامعات کا کام ہے لیکن آج جامعات میں جو حوصلہ شکن فضا عام نظر آتی ہے اس سے کیا توقعات باندھی جاسکتی ہیں؟
پاکستان میں علمی وادبی تحقیق زوال کاشکار ہے۔ اس زوال کاپاکستان کی سیاسی تاریخ سے گہرا تعلق ہے۔ سیاسی نشیب وفراز(فراز سے نشیب کی طرف سفر)اورحکمرانی کا (گوارا یا بہتر معیار سے پست ہوتا ہوا)معیار، زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح علم وتحقیق اورعلمی وتحقیقی اداروں پر بھی اثر انداز ہواہے۔
قیامِ پاکستان کے اوائل میں نئی یونی ورسٹیوںاورمتعددعلمی اداروں کے قیام کی صورت میں بعض خوش آیند اقدام کیے گئے ،جس کے نتائج حوصلہ افزاتھے(اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض پہلوؤں سے چند اداروں کی کارکردگی مایوس کن تھی)۔
جس طرح ملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں جڑنہیںپکڑسکی اور جمہوریت کے پودے کو بار بارنوچ کر،جڑسے اُکھاڑپھینکاجاتارہا،اسی طرح اداروں میں بھی من پسنداورنااہل افراد کا تقرر کیا جاتا رہا،خصوصاً ۱۹۷۲ء کے بعد کے اَدوار میں تواہلیت اورمیرٹ کوایک طرف ہی نہیں، بالاے طاق رکھ دیاگیا۔ مثال کے طور پر کم و بیش تمام ہی وفاقی تحقیقی و ادبیاتی اداروں کے سربراہان کچھ ایسا تعارف رکھتے ہیں کہ جنھیں تحقیق و تفکر سے کم ہی واسطہ ہے۔اسی طرح بیرون ملک (برطانیہ، جرمنی وغیرہ)پاکستان اوراقبال مسندوں(chairs)پرمیرٹ سے ہٹ کر ایسے من پسند افراد کا تقرر کیا جاتا رہا جواِن مسندوںکے لیے مقررہ ضابطوں اور شرائط ومعیارپرقطعی پورے نہیں اُترتے تھے (یا پھر ایسی متعدد مسانیدِ دانش (chairs) آج تک خالی پڑی ہیں)۔
ایسے سربراہ اور’عالم‘اپنے مربیّوں کی خوش نودی کو مقدم سمجھتے تھے چنانچہ لاہور کے ایک علمی ادارے کے سربراہ نے حاکمِ وقت کے اشارۂ ابرو پرپہلے توملّاپر چاند ماری کی اور کندھا علّامہ اقبال کا استعمال کیا۔پھرانھیں اقبال کی شاعری میں بھی کیڑے نظرآنے لگے۔مغربی تہذیب پراقبال کی تنقیدان کی آنکھوںمیںکانٹے کی طرح کھٹکنے لگی اورانھوں نے بڑے بھد ّے انداز میںاقبال پر بھی تبر ّا کیا۔
اقبال کا ذکرہواتو سمجھ لینا چاہیے کہ تخیل پاکستان، تشکیل پاکستان اور پھر تعمیرپاکستان میں اقبال کے کلام و پیغام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ محض ایک شاعر نہیں بلکہ پاکستان کے وجود کو تقویت عطا کرنے کا ایک زندہ و توانا حوالہ بھی ہیں۔ اس لیے آج ۷۰برس گزرنے کے بعد ہمیں اقبال کے حوالے سے روا رکھے جانے والے طرزِعمل کا توجہ سے جائزہ لینا چاہیے۔
اقبال کے فکرپرتحقیق اوران کے پیغام کی نشرواشاعت کے لیے حکومتی سطح پر لاہورمیںدوادارے قائم ہیں:اقبال اکادمی پاکستان وفاقی حکومت کاادارہ ہے اور بزم اقبال پنجاب کی صوبائی حکومت کا۔ دونوں اداروں نے سیکڑوں کتابیں چھاپی ہیں،مگرفروغِ اقبالیات کے ضمن میں صرف کتابیں چھاپناہی کافی نہیں،اقبال کے فکراورپیغام کی نشرواشاعت کے لیے دوسرے ذرائع اختیار کرناناگزیرہے مگر ایسا کچھ نہیں کیاگیا (البتہ ایک استثنیٰ ہے۔اقبال اکادمی نے خصوصاً محمد سہیل عمرکے زمانۂ نظامت میں، ابلاغِ فکراقبال کے لیے کتابوں کی اشاعت کے علاوہ نشرواشاعت کے جدید برقی ذرائع بھی اختیار کیے،جن میں آڈیو کیسٹ،وڈیوکیسٹ،سی ڈی، نمایشیں، اقبالیات کے مختلف النّوع مقابلوں اورمذاکروں کا انعقاد وغیرہ شامل ہیں)۔تاہم ان اداروں میں بہ حیثیت ِمجموعی تنظیم،ترتیب اورمنصوبہ بندی کی خاصی ضرورت ہے۔
یہ منصوبہ بندی کی کمی ہی تھی، جس کی وجہ سے ، مثلاً اقبال کے صدسالہ جشنِ ولادت تک علامہ اقبال کی کوئی ڈھنگ کی سوانح عمری نہ لکھی جاسکی تھی۔ پچاس کے عشرے میں بزمِ اقبال نے یہ منصوبہ ابتدامیں غلام رسول مہرکے سپرد کیا، پھر ان سے واپس لے کرعبدالمجیدسالک کودے دیا۔ انھوں نے۱۹۵۵ء میں ذکراقبال لکھ دی تو اس پرشدیدتنقید ہوئی۔بعض افراد نے اپنے طورپر سوانح عمریاں لکھیں، مگر اداروں کی سطح پرمزیدکوئی کوشش نہ کی گئی۔اسی لیے ۱۹۷۷ء کی صدسالہ جشن اقبال کمیٹی نے ایک مفصّل اورمعیاری سوانح عمری لکھنے کاکام پہلے سید نذیر نیازی، بعد ازاں ڈاکٹرعبدالسلام خورشید کے ذمے لگایا مگر بات نہیں بنی۔آخر علامہ کے فرزندِارجمندجاویداقبال مرحوم نے زندہ رود لکھ کر اس کمی کوپوراکیا۔
میراتاَثّر یہ ہے(اوراکثرحضرات اس سے اتفاق کریں گے)کہ اقبالیات ہو،غالبیات ہو یا تاریخِ ادب یاادبِ اردو کا کوئی شعبہ،جوچند ایک قابل ِقدرکام ہوئے ،بیش تروہ انفرادی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ اداروں کی کارکردگی بالعموم ناقص رہی ہے،حالاںکہ وسائل،بہ نسبت افراد کے، اداروں کو میسرہوتے ہیں۔
ڈاکٹرعطاء الرحمٰن ہائرایجوکیشن کمیشن کے سربراہ مقرر ہوئے، توعلمی وادبی تحقیق میں تیزی و تیزرفتاری آئی، مگرمعیار،مقدارکاساتھ نہ دے سکا۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے ایما پر پی ایچ ڈی اورایم فل کے وظائف دینے کے مثبت قدم نے، عملاً معیارکونیچے کھینچنے میں حصہ لیا ہے اوراب تو جامعات میںتحقیقی مقالے یوں دھڑادھڑ تصنیف ہورہے ہیں، جس طرح کسی فیکٹری سے خاص وضع قطع کے بُرے بھلے پُرزے تھوک کے حساب سے ڈھل ڈھل کر نکلتے چلے آتے ہیں۔ تحقیق کرانے والے اساتذ ہ کی کمی نہیں مگر محنت کرنے اور کرانے والے اساتذہ بہت کم ہیں۔ آج ایک اخبار نویس نے اپنے بقول’انکشاف‘کیاہے کہ پاکستانی جامعات میں۱۱ہزار پی ایچ ڈی اسکالر (اساتذہ) اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، جب کہ مزید۳۰ہزار اسکالروں کی ضرورت ہے۔ ہائرایجوکیشن کمیشن کی کوشش ہے کہ اگلے سال میں مزید۲۰ہزار اسکالرتیارکیے جائیں (روزنامہ۹۲نیوز،۲۳؍جولائی ۲۰۱۷ء)۔ گویاکمیشن مقداربڑھانے کی فکر میںہے، حالاںکہ ضرورت ان ’خدمات‘ کا معیار بڑھانے کی ہے، جو موجودہ ۱۱ہزار اسکالرانجام دے رہے ہیں۔
بقول رشیدحسن خاں: ’’ہمارے اساتذہ (اسکالر)کو ترقی کے ہجے کرنے سے فرصت نہیں ہے‘‘۔ چمک نے چندھیادیاہے۔ تحقیق کا معیار بلندہوتوکیسے؟ معیار تو بعدکی بات ہے، اب تو پی ایچ ڈی اور ایم فل اسکالر موضوعاتِ تحقیق کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں، کیوں کہ ان کے اساتذہ نے موضوعات کی تلاش بھی شاگردوںکے ذمے ڈال دی ہے(حقیقت یہ ہے کہ موضوعات موجود ہیں، مگر ان پر کام کرانے کے لیے اساتذہ کو خود بھی محنت کرنی پڑتی ہے،دل جمعی سے مطالعہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے وہ ان مشکل موضوعات کے قریب نہیں پھٹکتے)۔
پاکستان کامستقبل تعلیم(تحقیق جس کالازمی جزوہے)کے اچھے معیاراورانصاف کی بلاتاخیر فراہمی پرمنحصر ہے، اور یہی دوچیزیں ہمیں نظرنہیں آتیں۔مگرخوش آیندبات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میںشایدپہلی باراحتساب کاسلسلہ شروع ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوکہ علمی تحقیق خصوصاً جامعات کے تحقیقی مقالوں کا بھی جائزہ لیا جائے(خصوصاً سماجی و ادبیاتی علوم)۔ جامعات کے تحقیقی مقالوں کے پست معیار کاایک سبب ہائرایجوکیشن کمیشن کی غفلت بھی ہے۔ وہ کم ہی اس بات کااہتمام کرتی ہے کہ تحقیقی مقالات کے لیے اس نے جو اصول اورضابطے مقرر کیے ہیں، یہ دیکھے کہ کیا تحقیقی مقالوں میں ان کی پابندی کی جارہی ہے؟ ماضی قریب میںہائرایجوکیشن کمیشن نے ضابطہ جاری کیاتھاکہ مقالہ نگاروں کا زبانی امتحان (viva)کھلے بندوں لیاجائے گا اور مقالہ نگار اپنے مقالے کا کھلا دفاع (open defence)کریںگے۔شعبوںسے کہاگیاتھاکہ وہ اس کے لیے امتحان کاوقت اورتاریخ میڈیاپرنشرکرانے کااہتمام کریں ،عنوان بھی بتایا جائے اورعوام النّاس کو دعوت دی جائے کہ وہ اس موقعے پر زبانی امتحان کا مشاہدہ کریںاور امیدوار سے سوالات کریں۔ اگر مقالہ نگار، تسلی بخش جواب نہ دے سکے تواسے تیاری کاایک اورموقع دے کردوبارہ امتحان لیا جائے۔ افسوس ہے کہ ہماری جامعات میں اِلاّماشاء اللہ ،اس کااہتمام نہیں کیاجاتا۔ شعبے اخبارات میں اطلاع نہیں بھیجتے۔ خانہ پُری کے لیے متعلقہ شعبے میں فقط ایک نوٹس لگا دیا جاتا ہے، بسااوقات اسی روزیاایک آدھ روز پہلے۔ یہ کمیشن کے ضابطے کا مذاق اُڑانے والی بات ہے مگر کمیشن نے مذاق اُڑانے والوں کاشاید ہی کبھی احتساب کیاہو۔ اگر کمیشن غفلت نہ برتے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کھلے بندوں دفاع کے ضابطے پرپابندی سے عمل کیاجارہاہے تواس سے مقالات کامعیاربہتر ہوگا۔
بہرحال، اُمیدرکھنی چاہیے کہ حالات بہترہوں گے۔ ہمیںایک لمبافاصلہ طے کرنا ہے، تب کہیں جاکرقیام پاکستان کے مقاصد پایۂ تکمیل کوپہنچیں گے۔
پاکستان بنتے وقت اس میں صرف ایک (پنجاب)یونی ورسٹی تھی اوراب سرکاری و نجی کم وبیش ۱۸۳یونی ورسٹیاں ہیں۔اس نوعیت کے کئی پیمانےہیں، جن کے مطابق ہم نے بہت ترقی کی ہے۔ تاہم دوسرے معیارات کے مطابق صورت حال مایوس کن ہے۔
سائنس ایک ایسا میدان ہے جس میں انسانوں کی مجموعی دانش نے حصہ ادا کیا ہے۔ خود ہم نے ہرایک سےسائنس سیکھی اور ہر ایک کے ساتھ کام کیا چاہے وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم۔ پاکستان میں اس سفر کا بیان ڈاکٹر رفیع محمد چودھری سے شروع کر سکتے ہیں، جنھوں نے کیمبرج (انگلینڈ) میں نوبل انعام یافتہ ردر فورڈسے ڈاکٹریٹ کی۔ پاکستان بننے کے بعد برطانیہ چھوڑ کر یہاں آئےاوربرطانیہ کی مدد سے گورنمنٹ کالج لاہور میں ہائی ٹینشن لیبارٹری بنائی۔ یہیں سے شروع ہونے والے سفر کے تحت آخر کا رپاکستان نے ایٹم بم بنایا۔ ان ابتدائی برسوں میں پاکستانی سائنس دان حکومت پاکستان سے زیادہ یورپ کی مدد لیتے رہے۔ساٹھ کے عشرے سے حکومت پاکستان نے مدد کرنا شروع کی، مگر اس طرح پاکستان میں سائنسی تحقیق زیادہ ترحکومتی اداروں میں ہونے لگی، جب کہ دنیا میں زیادہ تحقیق یونی ورسٹیوں میں ہی ہوتی ہے۔
ہمارے مخصوص جغرافیائی حالات کے سبب ہماری سائنس کا آخر کارسب سے بڑا مقصد ایٹم بم اور میزائل پروگرام بنا۔ ایٹم بم بنانے کے اعلان کے بعد حکومتی اداروں نے یونی ورسٹیوں سے تعاون بڑھایا۔قائد اعظم یونی ورسٹی اسلام آباد کا اس ضمن میں کلیدی کردار رہا، اور نیشنل سنٹرفار فزکس کی تعمیر ایک اہم سنگ ِ میل ثابت ہوا۔ اس میں بیرونِ ملک پاکستانی سائنس دانوں اور انجینیروں کا بھی تعاون حاصل رہا۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو۱۹۷۹ء میں نوبل پرائز ملا اور انھوں نے ۱۹۶۴ء میں اٹلی میں ’عبدالسلام مرکز براے تھیوریٹیکل فزکس‘ قائم کیا، جس میں تربیت حاصل کرنے والے پاکستانی سائنس دانوں نے پاکستان میں سائنس کی ترقی میں بڑا حصہ ادا کیا۔ –پاکستان میں موجود سائنسی ادارے بھی خاصی حد تک یورپی، امریکی اور اب چینی اور جاپانی اداروں کی مدد سے ہی کام کرتے ہیں۔
بیرونِ پاکستان سے اعلیٰ مہارت حاصل کرنے اور وطنِ عزیز کی خدمت کے لیے پوری زندگی تج دینے والی ایک روشن ترین مثال ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں، جنھوں نے ایٹمی پروگرام کی تعمیروتکمیل میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ –کیمسٹری میں اس طرح کا ایک اہم ادارہ ’حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری‘، کراچی ہے، جہاں سے معروف سائنس دان ڈاکٹر عطاءالرحمان نے جنرل مشرف کے دورِحکومت میں سائنس کو بہت ترقی دی۔یاد رہے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں زراعت، میڈیکل اور بیالوجی کے ادارے بھی ہیں۔
حکومت نے اپنے اداروں کے علاوہ یونی ورسٹیوں کی بھی مالی امداد کی۔یہ بھی ایک اچھا اقدام ہے۔ دراصل ہر طرح کے سائنسی علوم کی تدریس و تربیت حکومتی اداروں میں نہیں ہوتی۔ ۱۹۴۷ء سے ۲۰۰۲ء تک یونی ورسٹیوں کی یہ امداد یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ذریعےملتی رہی۔ ۲۰۰۲ء کے بعد اسے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کر دیا گیا، اور ۲۰۰۸ءتک ڈاکٹر عطاءالرحمان کی قیادت کے دوران میں پاکستان میں تحقیق کی سہولیات کئی گنازیادہ ہوئیں اور نتیجے میں پاکستان میں، تحقیق ۴سے ۱۰گنا تک زیادہ ہوئی اور یہ ترقی آج بھی جاری ہے۔
موجودہ صورتِ حال کو دیکھا جائے اور حقیقی قومی تقاضے پیش نظر ہوں تو سائنس میں ترقی کی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔دوسرے یہ کہ اس ’ترقی‘ کےمطلب اور مفہوم پرکچھ اختلاف بھی موجود ہے ۔اس ترقی میں کہیں اعداد وشمار کی شعبدہ بازی بھی شامل ہوسکتی ہے اور ایسا کیا بھی جارہا ہے ۔ یونی ورسٹیاں کئی بار وہ حرکتیں بھی کرتی ہیں، جو میڈیاکے چینل اپنی رینکنگ یا ریٹنگ میں اضافے کے لیے کرتے ہیں۔ سائنس کے بہت سے اساتذہ نے اپنےتحقیقی مقالات کی تعداد بڑھانے کے ایسے گُر سیکھ لیے ہیں، کہ جن پر جتنا سوچا جائے، انسان اتنا ہی ندامت میں ڈوبتا چلاجاتا ہے۔تاہم، تحقیق میں سارا اضافہ کھوکھلا نہیں ہے۔
–اگلا سوال یہ ہے کہ: ’’تحقیق کی اس ترقی سے کیا پاکستان کے عوام کی حالت اچھی ہو جائے گی؟‘‘ اس کا کوئی سادہ جواب ’نہیں‘ ہے۔ تحقیق ویسے بھی اپنے عوام کی بہتری کے لیے کم اور زیادہ اس (اکثرغیر ملکی) رسالے کے لیے کی جاتی ہے، جو اسے شائع کرسکتاہے۔اس لیے عملاً سب سے زیادہ تحقیق، ترقی یافتہ ملکوں کے سائنس دانوں کے پراجیکٹس پر ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی بہت سے ملکوں نے اسی تحقیق سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی ہے۔ پاکستان نے بہرحال امتیازی ترقی نہیں کی، سواے انفارمیشن ٹکنالوجی کے، جس میں ہم کچھ بنانے بھی لگ گئے ہیں۔ ورنہ زیادہ تر تو ہم خام مال ہی برآمد کرتے ہیں۔
–تحقیق کے رُخ کو قومی ضروریات کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر غیر ملکی سائنس دانوں کے پراجیکٹس پر کام کے نتیجے میں زیادہ اہم چیز وہ صلاحیت اور مہارت ہے، جو ہمارے سائنس دانوں میں قومی ضروریات پورا کرنے میں مددگار ہو۔ ہمارے ہاں ایسی منصوبہ سازی کسی حد تک فوج کرتی ہے۔ اس کے برعکس –عام معاشرہ زیادہ تر اس جاگیر دارانہ مزاج میں جکڑا ہوا ہے کہ کسی قسم کی ترقی ہو یا نہ ہو۔ مقام و مرتبے کا رُعب داب برقرار رہنا چاہیے۔ جدید دور میں ترقی کے لیے سرمایہ دارانہ مقابلے کی فضا عام طور پر بہتر ثابت ہوئی ہے کہ جس نے منڈی پر حاوی ہونے کے لیے سائنس اور ٹکنالوجی کی سرپرستی کرکے ناقابلِ تصور سرمایہ سمیٹا، اور انسانوں کے لیے سہولتیں بھی مہیا کیں۔ ہمارے ہاںصنعت نہ ہونے کے برابر ہے، اور ا س کے ذمہ دار سائنس دان نہیں ہیں۔دراصل حکومت اور صنعت کار کومسائل سائنسی اور عقلی انداز سے حل کرنے کے بجاے بنے بنائے حل اور مشینیں باہر سے منگانا ہی آ سان لگتا ہے۔
اصل کمی اس سوچ اور ہمت کی ہے کہ ہم خود بھی سائنسی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔ عموماً مسلم معاشرے سائنس کو اپنا سمجھتے ہی نہیں۔ٹکنالوجی کی اہمیت ہم سب مانتے ہیں، مگر اس کی بنیاد جس سائنس پر ہے، اس کے بارے میں ہمارا ذہن واضح نہیں۔ ہم دوسروں کی پیدا کردہ سائنس سے فائد ہ تو اٹھانا چاہتے ہیں، مگر خود سائنسی طور پر سوچنا نہیں چاہتے۔اس نفسیاتی کیفیت کا ہماری تعلیم پر اثر یہ پڑا ہے کہ ہم باہر سے آئے نتائج یاد کرنے (رٹنے) میں مصروف رہتے ہیں، مگر ان کااپنی لیبارٹری یا زندگی میں استعمال نہیں کرسکتےیا نہیں سوچتے۔ اگر ہم خود سائنسی انداز سے نہیں سوچیں گے تو اپنے مسائل کیسے حل کریں گے؟
اسی طرح ہم سائنسی طریقے کے بھی خلاف چل پڑتے ہیں، خصوصاً سوشل سائنسز (معاشیات، سیاسیات، سماجیات وغیرہ) میں۔ اس میں قصور سار ا ہما را نہیں۔ ردعمل پیدا کرنے کے لیے سائنس اور عقل (Reason)کانام لے کر ہمارے عقائد تک پر بلاوجہ حملے کیے گئے۔ ردعمل کی نفسیات سے مسلمان امت نے جتنے فائدے اٹھانے تھے اٹھالیے، –لیکن جب یہ نفسیات، سائنس اور عقل پسندی کو مغربی کہتے ہوئے ان سے بے زاری پیدا کرتی ہے، تو اس سے ہمارا نقصان بھی ہوتا ہے۔
سائنسی ترقی میں ہم ان پاکستانیوں پر بہت انحصار کررہے ہیں، جنھیں سائنس کے مطالعہ و تحقیق سے کوئی بے زاری نہیں ہے،لیکن یہ لوگ بہت کم ہیں۔عوام اور سیاست دان اپنے مسائل سائنس اور عقل کے بجاے جذبات سے ہی حل کرنا چاہتے اوران کو ہربار یہی نظر آتا ہے کہ جذبات سے کام بن جائے گا، مگر وقت گزرنے کے بعد پتا چلتاہے کہ سائنس اور ترقی کا کام محض جذباتی نعروں سے ممکن نہیں۔ خود صحافت اور ابلاغِ عامہ کے میدان پر نظر دوڑائیں تو پاکستانی معاشرے میں شاید ہی کچھ صحافی سائنسی سوچ رکھتے ہوں۔
چاہیے یہ کہ ہم سائنس کو مغربی یا غیرمغربی سمجھنے کے بجاے ایک اعلیٰ انسانی کاوش اور صلاحیت سمجھیں جو غیرمسلم کی طرح ہمارے اندر بھی ہے۔ پھر اسلام نے ہمیں اس صلاحیت کے استعمال کی ترغیب دی ہے۔ ۷۰برس گزرنے کے بعد ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ماضی میں ہمارے ہاں یہ سوچ کیوں پیدا نہ ہوسکی اور آیندہ اس سفر کو کس طرح طے کرنا ہے؟