سوال:کیا طوافِ کعبہ اور سعی بین الصفا والمروہ کے لیے وضو ضروری ہے؟ اگر ہاں تو جس شخص کا وضو اس دوران ٹوٹ جائے وہ کیا کرے؟ کیاوضو کے بعد طواف یا سعی کو وہ ازسرِنو دہرائے گا یا جتنا کرچکا ہے اس کے آگے مکمل کرے گا؟
جواب:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَیْتِ مَثْلُ الصَّلَاۃِ اِلَّا اَنَّکُمْ تَتَکَلَّمُوْنَ فِیْہِ (ترمذی، کتاب الحج، باب ماجاء فی الکلام فی الطواف، ۹۶۰، دارمی: ۲؍۴۴، ابن خزیمہ: ۲۷۳۹) خانہ کعبہ کے گرد طواف نماز کی طرح ہے۔ سوائے اس کے کہ اس میں بات چیت کی اجازت ہے۔
اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ (بخاری، کتاب الحج، باب الطواف علی الوضوئ:۱۶۴۱،۱۶۴۲، مسلم: ۱۲۳۵)
حجۃ الوداع کے دوران حضرت عائشہؓ کو حیض آگیا۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اب کیا کریں؟ آپؐ نے فرمایا:
اِفْعَلِیْ مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ اَنْ لَّا تَطُوْفِیْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرِیْ (بخاری: ۱۶۵۰، مسلم: ۱۲۱۱) ہروہ کام کرو جو حاجی کرتا ہے۔ بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو، جب تک پاک نہ ہوجائو۔
مذکورہ احادیث کی بنا پر ائمہ وفقہا طواف کے لیے وضو کو ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے حکم کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔ مالکیہ، شوافع اور حنابلہ وضو کو طواف کے لیے شرط قرار دیتے ہیں ، یعنی ان کے نزدیک بغیر وضو کے طواف نہیں ہوگا۔ احناف کے نزدیک طواف کے لیے وضو واجب ہے، یعنی اگر کوئی شخص بغیر وضو کے طواف کرلے تو اس کا طواف تو ہوجائے گا ، لیکن واجب چھوٹ جانے کی وجہ سے یاتو وہ باوضو ہوکر طواف دہرائے گا یا بہ طور کفارہ ایک جانور قربان کرے۔
اگر دورانِ طواف کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے تو احناف اور شوافع کے نزدیک وہ جاکر وضو کرے اور جتنے چکر باقی رہ گئے ہیں انھیں پورا کرلے۔ازسرنو طواف کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام مالکؒ سے اس سلسلے میں دونوں طرح کے اقوال مروی ہیں۔ حنابلہ کے نزدیک اگر اس نے جان بوجھ کر وضو توڑا ہے تو دوبارہ وضو کرکے ازسرنو طواف کرے اور اگر بے اختیار وضو ٹوٹ گیا ہے تو اس سلسلے میں دونوں طرح کے اقوال ہیں۔
کوئی شخص، چاہے حج کرے یا عمرہ، اسے طواف کے ساتھ صفا ومروہ کے درمیان سعی بھی کرنی ہوتی ہے۔ اس لیے علما نے لکھا ہے کہ طواف کے ساتھ سعی بھی باوضو ہوکر کرنا چاہیے، لیکن اوپر مذکور حدیث میں صرف طواف کے ضمن میں پاکی کی صراحت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر طہارت کے سعی کی جاسکتی ہے(دیکھیے: الموسوعۃ الفقہیہ ،کویت: ۲۷؍۱۳۰-۱۳۲)۔ (ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
س : ایک سوال کے جواب میں آپ نے لکھا ہے کہ عام حالات میں حلال جانوروں کو ذبح کرکے ان کا گوشت کھایا جاسکتا ہے اور بہ طور صدقہ اسے تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پھر اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ کسی مناسبت سے ، مثلاً مرض سے شفایابی پر جانور ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔
جانور ذبح کرکے اسے کھانے یا ذبح شدہ جانور کے گوشت کو بطور صدقہ تقسیم کرنے میں کوئی کلام نہیں، البتہ سوال یہ ہے کہ کسی مناسبت سے جانور کو بطور تقرب یا بغرض ثواب ذبح کرنا درست ہے یا نہیں؟ جیسا کہ یہ عام رواج بنتا جارہا ہے کہ کوئی شخص کسی جان لیوا حادثے سے بچ گیا تو اس کے بعد تقرب کی نیت سے وہ جانور ذبح کرتا ہے اور خون بہانے کو کارـثواب سمجھتا ہے اور اسے جان کی حفاظت کا بدلہ قرار دیتا ہے۔
جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ بغرضِ ثواب جانور ذبح کرنا صرف دو موقعوں پر ثابت ہے۔ ایک عید قرباں میں ، دوسرے عقیقہ میں۔ الاّ یہ کہ دیگر اعمال صالحہ کی طرح کوئی شخص جانور ذبح کرنے کی نذر مان لے تو بحیثیت نذر درست ہے ، کیونکہ کسی بھی عمل صالح کو بشکل نذر اپنے ذمے لازم کرنا اور اسے ادا کرنا کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور موقع پر بطور تقرب جانور ذبح کرنا ثابت نہیں ہے اور تعبدی امور میں قیاس درست نہیں۔
ج:حلال جانوروں کا گوشت کھانا اور کھلانا عام حالات میں ، بغیر کسی مناسبت کے، جائز ہے۔ اسی طرح کسی مناسبت سے بھی اس کا جواز ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی مرض سے شفا پاجائے تو بہ طور شکرانہ وہ جانور ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کرسکتا ہے۔ فقہاے کرام نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد فتاویٰ موجود ہیں۔
شیخ محمد صالح المنجد عالم اسلام کے مشہور فقیہ اور مفتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر Islamqa کے نام سے موجود سائٹ پر ان کے فتاویٰ موجود ہیں۔ فتویٰ نمبر۱۰۷۵۴۹ کے مطابق ایک شخص نے یہ سوال کیا تھا: میرا چچازاد ایک حادثے میں زخمی ہوگیا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کے بچنے کی ۵۰فی صد امید ہے۔ ہمیں کسی نے نصیحت کی کہ ایک بکری اللہ کے لیے ذبح کردو، تو کیا ہمارے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا؟
اس کا انھوں نے یہ جواب دیا: ’’اگر اللہ کے لیے ذبح کرنے کے بعد اس گوشت کے کچھ حصے کو فقرا اور مساکین میں تقسیم کرنا مقصود ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: دَاوُوْا مَرْضَاکُمْ بِالصَّدَقَۃِ (اپنے مریضوں کا علاج صدقہ سے کرو)۔ ابودائود نے اسے مراسیل میں ذکر کیا ہے اور طبرانی اور بیہقی وغیرہ نے اسے متعدد صحابہ کرامؓ سے روایت کیا ہے۔ اس کی تمام تر اسانید ضعیف ہیں، جب کہ البانی ؒ نے اسے ترمذی (۷۴۴) میں حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔ آگے انھوں نے دو فتاویٰ بھی نقل کیے ہیں۔
دائمی کمیٹی براے فتویٰ کے علماے کرام سے پوچھا گیا کہ حدیث: دَاوُوْا مَرْضَاکُمْ بِالصَّدَقَۃِ (اپنے مریضوں کا علاج صدقہ سے کرو) کا مطلب سمجھا دیں، جسے بیہقی نے السنن الکبریٰ (۳؍۳۸۲)میں بیان کیا ہے، لیکن اکثر محدثین کرام مریض کا علاج جانور کو ذبح کرنے کے حوالے سے اسے ضعیف قرار دیتے ہیں ، تو کیا مریض سے مصیبت ٹالنے کے لیے ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
اس سوال کا انھوں نے یہ جواب دیا:’’مذکورہ حدیث درست نہیں ہے، لیکن مریض کی جانب سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے اور شفایابی کی اُمید رکھتے ہوئے صدقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ صدقے کی فضیلت میں بہت سے دلائل موجود ہیں اور صدقے سے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور بری موت سے انسان دور ہوجاتا ہے‘‘۔ (فتاویٰ اللجنۃ الملدائمۃ۲۴؍۴۴۱)
شیخ ابن جبرینؒ کہتے ہیں: ’’صدقہ مفید اور سودمند علاج ہے۔ اس کے باعث بیماریوں سے شفا ملتی ہے اور مرض کی شدت میں کمی بھی واقع ہوتی ہے۔ اس بات کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ ’’صدقہ گناہوں کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے‘‘سے ہوتی ہے۔ اسے احمد( ۳؍۳۹۹) نے روایت کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ مرض گناہوں کی وجہ سے سزا کے طور پر لوگوں کو لاحق ہوجاتے ہوں، تو جیسے ہی مریض کے ورثا اس کی جانب سے صدقہ کریں تو اس کے باعث اس کا گناہ دھل جاتا ہے اور بیماری جاتی رہتی ہے، یا پھر صدقہ کرنے کی وجہ سے نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، جس سے دل کو سکون اور راحت حاصل ہوتی ہے اور اس سے مرض کی شدت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔(الفتاویٰ الشرعیۃ فی المسائل الطبیۃ، جلد۲، سوال نمبر۱۵)
آخر میں شیخ المنجد نے لکھا ہے: ’’چنانچہ اللہ کے لیے ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس قربانی کا مقصد مریض کی جانب سے شفا کی امید کرتے ہوئے صدقہ کرنا ہے، جس سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے شفا دے گا‘‘۔
ہندستان کے مشہور فقیہ اور مفتی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے دریافت کیا گیا:اگر کوئی شخص بیمار پڑا تو اس کے گھر والے اس کے اچھے ہونے کے بعد جان کی زکوٰۃ میں بکرا ذبح کرتے ہیں۔ یہ گوشت گھر والے کھاسکتے ہیں یا نہیں؟
انھوں نے جواب دیا: ’’اگر صحت مند ہونے سے پہلے نذر مانی ہو کہ صحت حاصل ہونے پر میں بکرا ذبح کروں گا تو یہ نذر کی قربانی ہے۔ یہ ان لوگوںکو کھلایا جاسکتا ہے جن کو نذر ماننے والا زکوٰۃ دے سکتا ہو۔ اور اگر پہلے سے نذر نہیں مانی تھی، بلکہ صحت مند ہونے کے بعد اظہار مسرت کے لیے قربانی کی تو یہ شکرانہ کی قربانی ہے۔ اس کا گوشت خود بھی کھاسکتا ہے اور دوسرے اہل تعلق کو بھی کھلایا جاسکتا ہے۔ (کتاب الفتاویٰ، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند، ۲۰۰۵ئ، فتویٰ نمبر۱۳۰۶)
پاکستان کی مشہور درس گاہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹائون، کراچی کے مفتی مولانا محمد انعام الحق قاسمی نے لکھا ہے: ’’مریض کی صحت کی نیت سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کوئی جانور ذبح کرنا جائز ہے، البتہ زندہ جانور کا صدقہ کردینا زیادہ بہتر ہے‘‘۔(قربانی کے مسائل کا انسائی کلو پیڈیا، بیت العمار کراچی، ص ۹۶)
خلاصہ یہ کہ کوئی شخص کسی جان لیوا حادثے سے بچ جائے یا کسی موذی مرض سے شفا پاجائے تو اس کے بعد اس کا کسی جانور کا خون بہانے کو کارِ ثواب سمجھنا اور اسے جان کی حفاظت کا بدلہ قرار دینا تو غلط ہے، لیکن بطور شکرانہ زندہ جانور کو صدقہ کرنا یا اسے ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کرنا دونوں صورتیں درست ہیں۔(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
یہ عربی کتاب الثقافۃ الاسلامیۃ کی اُردو ترجمانی ہے۔ ساڑھے آٹھ سوسے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب کو موضوع اور مضامین کے لحاظ سے دوجلدوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی جلد ماقبل نبوت کی عرب تاریخ سے لے کر قرآن، علومِ قرآن اور حدیث و علومِ حدیث کے مباحث سے متعلق ہے۔ دوسری جلد فقہ، علوم و اُصولِ فقہ اور علم کلام و علم تصوف وغیرہ کی بحثوں پر مشتمل ہے۔
جلد اوّل میں عرب اور اسلام کے تاریخی، علمی اور تمدنی پس منظر پر نہایت اختصار سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ بعد ازاں قرآن مجید کے نزول، مضامین قرآن اور اس کے مقاصد، جمع و تدوینِ قرآن، قرآن کا اسلوب و اعجاز، لہجاتِ قرآن، قرآن کا رسم الخط، علمِ قرائ۔ت اور طبقاتِ قرائ، علمِ تجوید، تفسیر اور علمِ تفسیر، طبقات المفسرین اور ۳۶عربی تفاسیر کا اجمالی تعارف اس جامع انداز میں کرایا گیا ہے کہ ان تمام علوم وفنون کی نہ صرف وقعت و حیثیت اور اہمیت و ضرورت نمایاں ہوگئی ہے بلکہ ان کے حُسن و قبح بھی ظاہر ہوگئے ہیں۔ جلد اوّل کا دوسرا اہم مبحث حدیث اور علومِ حدیث ہیں۔ اس علم کے مقاصد و موضوعات اور اُسلوب و فصاحت کے تذکرے سے بات کا آغاز ہوتا ہے، اور پھر اقسام الحدیث، کتابتِ حدیث، جمع و تدوینِ حدیث اور اہم مجموعہ ہاے حدیث، روایت اور رواۃ، ائمہ و کتبِ حدیث کے طبقات، اُصولِ حدیث، صحاحِ ستہ اور اصطلاحاتِ حدیث کے مؤلفین کے تعارف پر اس بحث کا اختتام ہوتا ہے۔
جلد دوم علم الفقہ اور اس کی تدوین و اشاعت کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ علومِ اسلامیہ کے تعارف اور ابتدائی تالیفات، علم الفقہ کے تاریخی ارتقا اور فقہی مذاہب کے وجوہِ اختلاف پر متوازن اور معلومات افزا بحث ہے۔ چاروں ائمہ فقہ کے مسلک، ان کے تلامذہ اور ان کی تالیفات کا تعارف پیش کیا گیا اور اُن کے دائرۂ اثر کو بھی زمینی حدود کے اعتبار سے متعین کیا گیا ہے۔ یہ بحث ابتدائی تاریخ اور عصرِحاضر کے ادوار کا احاطہ کرتی ہے۔ اس جلد کا دوسرا اہم مبحث علم الکلام اور تصوف ہے۔ جلد دوم کا تیسرا ہم مبحث علومِ ادبیہ کا تذکرہ ہے۔ اس میں علم النحو، علم الصرف، علم الاشتقاق، علم البلاغت اور علم الجدل کا تعارف کرایا گیا ہے۔ چوتھا اہم مبحث علمِ تاریخ ہے جس میں تاریخ کے ارتقا میں مسلمانوں کی خدمات اور اسلام میں مبداے تاریخ اور تاریخ کے مشہور مؤلفین کے مباحث شامل ہیں۔ پانچواں اہم مبحث یونانی علوم کی اشاعت و اثرات پر ہے۔ چھٹا مبحث علومِ اسلامیہ کی نشاتِ ثانیہ ہے۔ اس مبحث میں زوالِ علوم و افکار کے بعد بیداری پر مختصر بات کرکے مختلف خطوں سوریا (شام)، تیونس (تونس)، جزائر (الجزائر)، مراکش (مغربِ اقصیٰ)، عراق، حجاز اور یمن کی علمی تاریخ، تنظیموں، کتابوں، علمی و تعلیمی اداروں، شخصیات اور علوم و معارف کے حوالے سے آگاہی دی گئی ہے۔
اسلامی علوم و معارف اور افکار و نظریات کو مصنف نے ’’اسلامی ثقافت‘‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔ ثقافت کی تعریف اور تعین پر نہایت فکر انگیز مقدمہ اربابِ دانش و اہلِ اقتدار کی چشم کشائی کرتا ہے۔ اسلامی ثقافت کیا ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ مصنف کے نزدیک مسلم تہذیب کے افکار وعلوم ہی اس کی ثقافت ہیں۔ اسلامی تاریخ سے یقینا یہی علوم و فنون مسلمانوں کی ثقافت ثابت ہوتے ہیں۔ دین تہذیب کی بنیاد ہوتا ہے اورتہذیب سے ثقافت جنم لیتی ہے۔ لہٰذا رقص و سرود اور گلوکاری و اداکاری کبھی مسلم تہذیب کی ثقافت نہیں رہی اور نہ ہوسکتی ہے۔ یہ کتاب اگرچہ شام کے اندر دمشق اور حلب کے لاکالجوں کے نصاب کے لیے مرتب کی گئی تھی مگر اس کی جامعیت اور مشمولات نے اسے پورے عالمِ اسلام کی ضرورت بنادیا ہے۔ علومِ اسلامیہ و عربیہ کا کوئی طالب علم یا اسکالر اس کتاب سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کے اعلیٰ سطحی نصابِ تعلیم میں اس کتاب کا مطالعہ لازمی قرار دیا جانا چاہیے جس طرح یہ شام کے لاکالجوں میں بطور نصاب شامل ہے۔
اس کتاب کی تصنیف و تالیف میں مصنف نے جس عرق ریزی سے کام لیا ہے لائقِ صدتحسین ہے۔ اُردو ترجمہ مولانا افتخار احمد بلخی نے کیا ہے، مگر سرورق اور اندرونی سرورق پر مترجم کا نام نہیں دیا گیا۔ افسوس ہے کہ موجودہ ایڈیشن میں صفحہ سازی اور پروف خوانی کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ آیندہ اشاعت میں اس خامی کا بھرپور ازالہ کرنا ناشر پر واجب ہے۔ (ارشاد الرحمٰن)
محسن انسانیتؐ کی شخصیت کا سورج، اختتام کائنات تک انسانوں کی راہ نمائی کرتارہے گا۔انسانوں کے بحر برعظیم ہند میں علامہ محمد اقبال وہ نابغۂ روزگار ہیں جو غلام ہندستان میں پیدا توضرور ہوئے مگراپنے افکار کے ذریعے انھوں نے غلامی(سیاسی اورذہنی، یعنی ہر قسم کی غلامی) سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔تخلیق ارض وسماسے لے کران کے اپنے دور تک،اگر انھوں نے کسی ہستی کی عظمت و بالادستی کوبسروچشم قبول کیاتووہ محمد کریمؐ کی ذات ستودہ صفات ہے ؎
ایں ہمہ از لطفِ بے پایانِ تست
فکرِ ما پروردۂ احسانِ تست
(یہ سب آپؐ کے لطفِ بے پایاں کے طفیل ہے، ہماری فکر نے آپؐ کے احسان سے پرورش پائی ہے۔)
اقبال نے (موجودہ دور میں اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر ہونے کے ناتے) قوت ِعشق سے ہر پست کو بالا کرنے اور دہر میں اسم محمدؐ سے اُجالا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے اقبال کی عقیدت اورقلبی وابستگی کو واضح کرنے کے لیے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی زیر نظر کتاب ایک پُراثر تحریر ہے۔ ۷۰صفحات میں ۲۰ عنوانات کے تحت،متعدد واقعات اوردرجنوں اشعار کوتاریخی حوالوں سے اس طرح سمیٹ دیاگیاہے کہ قاری کے دل پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کتاب میں علامہ اقبال کی زندگی، رسول اکرمؐ سے ان کی محبت، سفرِحجاز کے عزم،حج بیت اللہ کی خواہش، روضۂ رسولؐ کی زیارت کے واقعات کو یک جا کر دیا گیا ہے۔ علامہ کی خواہش تھی کہ حیات مستعار کاآخری زمانہ سرزمینِ حجازمیں بسر ہو، وہیں دَم نکلے اور وہیں دفن ہوں۔ علامہ کی اس آرزوکو بھی مؤلّف نے مؤثر اسلوب میں بیان کیاہے۔(محمد ایوب منیر)
سوے حرم دیدۂ دل سے سفرِحجاز اور حرمین شریفین کی زیارت اور دید کا عکس ہے۔ مصنف نے اس مختصر سے سفرنامے میں روح پرور لمحوں کی تصویرکشی کرتے ہوئے ان اہم ترین مسائل کو چھیڑا ہے جن پر عام سفرنگار کم توجہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ علماے کرام کے نقطۂ نظر کے مطابق حدودِ حرم کے اندر وقف کا مسئلہ۔ اس کے علاوہ انھوں نے دکان داروں کے ان حربوں کا ذکر بھی کیا ہے جو دجل و فریب سے زائرین کو لوٹتے ہیں۔
بیانیہ انداز، مبالغے اور تصنع سے مبرا یہ سفرنامہ انسانی سوچ، فکر اور نفسیات کے اس پہلو کا آئینہ دار بھی ہے کہ کوئی انسان بڑی آزمایش سے دوچار ہو تو وہ صدمہ کہاں کہاں اُسے بے تاب کردیتا ہے۔ جواں ہمت انسان بھی کہاں کہاں سہاروں کے خواب دیکھتا ہے اور یقینا ایسے حساس انسان کی دعائوں کی تاثیر زوداثر ہوجاتی ہے۔ بے شک کوئی آزمایش اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں آتی اور گہرے اثرات بھی مرتب کرتی ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)
۲۰۱۴ء کو ’سالِ حالی و شبلی‘ کے طور پر منایا گیا۔ اخبارات و رسائل میں ملّت کے دونوں محسنوں پر بہت کچھ شائع ہوا۔ بعض اداروں نے حالی و شبلی سیمی نار بھی منعقد کیے۔ پاکستان کی نسبت بھارت میں تقریری اور تحریری لوازمہ زیادہ مقدار میں سامنے آیا۔ معارف کے مدیراعلیٰ ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی کی دل چسپی سے دارالمصنّفین نے شبلی پر عالمی سیمی نار منعقد کیا تھا، پھر رسالے کے خاص نمبر کے علاوہ شبلی پر متعدد کتابیں بھی شائع کیں۔ مجلس ترقی ادب لاہور کے مجلّے صحیفہ کا زیرنظر شبلی نمبر اپنے موضوع پر ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقریباً ۵۰ مضامین پر مشتمل اس ضخیم اشاعت میں شبلی کے سوانح، تصانیف، شعری و نثری کاوشوں اور ان کی نقاد، شاعر، سیرت نگار، مؤرخ کی حیثیتوں پر ہمارے معروف اہلِ قلم (سرسیّد احمد خاں سے لے کر راقم الحروف تک) نے لکھا ہے۔
نئے اور پرانے منتخب مضامین کی تدوین، اشعار اور حوالوں کی اصلاح اور اقتباسات کی تصحیح کے ذیل میں ایڈیٹر کی محنت صاف نظر آتی ہے۔ مجلس ادارت (تحسین فراقی اور افضل حق قرشی) نے بھی مضامین کی شکل میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ڈاکٹر تحسین فراقی کا مضمون خصوصیت سے علّامہ شبلی کے ایک ایرانی مداح و مترجم فخرِداعی گیلانی سے متعارف کراتا ہے۔ ہمارے علمی حلقوں میں بہت کم لوگ ان سے واقف ہوں گے۔
قرشی صاحب نے شبلی کی ۱۶ غیر مدّون تحریروں اور تقریروں پر مشتمل ’نوادرِ شبلی‘ پیش کیے ہیں۔ مختصر یہ کہ شبلی پر یہ ایک معلومات افزا اور مستند اشاعت ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
پروفیسر ڈاکٹر عبد الوہاب پاکستان میں شعبۂ تعلیم کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ قریباً ۴۵ سال درس و تدریس ، تعلیمی اداروں کے انتظامی معاملات اور مختلف نوعیت کی ذمہ داریوں پر فائز رہے، جہاں انھیں مختلف اور ہمہ گیر نوعیت کے تجربات اور مشاہدات ہوئے۔ زیر نظر کتاب انھی منفرد تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے، جنھیں مصنف نے بہت خوبی سے قلم بند کیا تاکہ آیندہ آنے والے افراد کو ان تجربات سے استفادے کا موقع ملے۔
کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ (ص ۲۹ تا ۲۲۰) آئی بی اے سے حاصل شدہ مشاہدات سے متعلق ہے جہاں مصنف نے بحیثیت لیکچرار ، ڈین اور بعد ازاں ڈائرکٹر کی حیثیت سے ایک طویل عرصہ گزارا ہے ۔ حصہ اول میں معیارِ تعلیم کی بہتری ، ادارے میں نئے پروگرامات کے اجرا، نظم و ضبط کے اُمور، میرٹ کی بحالی، مالی بدعنوانیوں پر قابو پانا،دبائو کا مقابلہ اور تعلیمی ادارں میں امن و امان کے حوالے سے کیے گئے اقدامات اور نتائج پر گفتگو کی گئی ہے۔
کتاب کا دوسرا حصہ (ص ۲۳۰ تا ۳۷۷) جامعہ کراچی، جہاں مصنف شیخ الجامعہ کی حیثیت سے فائز رہے، کے مشاہدات پر مبنی ہے۔حصہ دوم میں جامعہ کراچی میں کی گئی تعلیمی و انتظامی اصلاحات، ریسرچ کی حالت زار اور جامعہ کے اثاثہ جات کی حفاظت سے متعلق اُمور زیربحث آئے ہیں۔
اس کتاب کا اصل سبق یہ ہے کہ کسی ادارے میں بگاڑ ہو اور سربراہ اصلاحِ احوال کرنا چاہے تو وہ بڑی حد تک کرسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ خود ایسے کردار کا مالک ہو کہ کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے۔ مخالفتوں کا مقابلہ عزم و حوصلے سے کرے، اللہ کی مدد طلب کرتا رہے۔ داخلہ ٹیسٹ میں دو نمبر کم ہونے پر بیٹے کو بھی داخلہ نہ دیا۔ جعلی ڈگریوں کا منظم سلسلہ جاری تھا، اسے توڑنے میں کیا کچھ نہ کرنا پڑا۔ جعلی بل پاس نہ کیے تو قاتلانہ حملہ ہوا۔ پوری کتاب اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ آنکھیں کھولنے والی ہے اس لیے کہ ہم ۱۰، ۲۰، ۳۰ سال پہلے اور وہ بھی تعلیمی اداروں میں اتنے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی توقع نہیں کرتے۔ (عبداللّٰہ فیضی )
زیرتبصرہ کتاب میں تعمیرِمعاشرہ میں خواتین کے کردار کو زیربحث لایاگیا ہے اور معروف مسلم خواتین کے تذکرے کی صورت میں فکروعمل کے لیے راہ نمائی، نمونہ اور مثالی کردار اور ایمان افروز واقعات پیش کیے گئے ہیں، نیز ظلمت سے روشنی کا سفر کرنے والی معروف نومسلم خواتین کا تذکرہ بھی شامل کتاب ہے۔ گویا حضرت حواؑ سے نومسلم ڈاکٹر ماریہ تک، مختلف خواتین کے تذکرے سے اسے سجایا گیا ہے۔
ایک بنیادی چیز جو اس کتاب میں کھٹکتی ہے ، وہ یہ کہ نہ تو ان تحریروں کے مصنّفین کا ذکر کیا گیا ہے اور نہ ان کتب اور مآخذ ہی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ (حمید اللّٰہ خٹک)
یہودی دنیا میں غلبے کے لیے ایک مدت سے سازشوں میں مصروف ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب میں ۱۴مسلم اور غیرمسلم (یہودی و عیسائی) مفکرین کی آرا کو پیش کیا گیا ہے، جن میں یہودیوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
کیرن آرمسٹرانگ نے یہودیوں کی سازشوں کے نتیجے میں مختلف اَدوار میں یہودیوں کی جلاوطنی اور تباہی کا جائزہ لیا ہے۔ یہودی مصنف نارٹن میزونیسکی نے فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فلسطینیوں کی قتل و غارت گری کے علاوہ ان کا معاشی قتلِ عام بھی جاری ہے۔ ان کے لیے روزگار کے مواقع ختم کیے جارہے ہیں اور وہ بدترین حالات میں محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ فلسطینی بستیوں کو قصداً پس ماندہ رکھا جا رہا ہے اور فلسطینی پانی کے لیے کنویں کھودنے تک کے حق سے محروم ہیں۔
رکن امریکی کانگریس پال فنڈلے امریکا میں یہودی اثرو رسوخ کو بے نقاب کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح امریکی پالیسیاں یہودی مفادات کے تحت بنائی جاتی ہیں۔ عالمی نظامِ حکومت کے ایک ایسے منصوبے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جس کے تحت ۲۰۵۰ء تک دنیا کی آبادی کو مختلف حربوں سے گھٹا کر ایک ارب کردیا جائے گا اور پوری دنیا پر کنٹرول حاصل کرلیا جائے گا۔اس کتاب کے مطالعے سے یہودی ذہنیت اور سیاست کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے اور غیرمسلم مفکرین کی تحریریں اس پر صاد ہیں۔ (امجد عباسی)
ماہِ اگست کے ’اشارات‘ میں آپ نے پاکستان کے وجود میں آنے کے عوامل، اسلامیانِ ہند کی حیرت انگیز جدوجہد اور اللہ تعالیٰ کی غیبی امداد کو جس عالمانہ اور حقیقی انداز میں بیان کیا ہے وہ تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ وقت تھا کہ ہندستان کے مسلمان بحیثیت ایک ملّت اپنی حالت بدلنے پر آمادہ تھے۔
یہ مملکت خداداد آج جس انتشار اور پستی کے عالم میں ہے اس سے نکلنے کے لیے آپ نے جو راہ تجویز کی ہے وہ ہے کہ ’’قوم کو خود اپنے معاملات کی اصلاح کے لیے اپنے میں سے اچھے لوگوں کو آگے لانا ہوگا‘‘۔ہمارے ملک میں جمہوری نظام قائم ہی نہ ہوسکا۔ عام انتخابات محض تماشا بن کر رہ گئے ہیں۔ اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے دھرنوں کا حربہ اختیار کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دھرنے اچھے لوگوں کو آگے لاسکیں گے یا کوئی اور ذریعہ اختیار کرنا ہوگا؟
’سیّد قطب شہید: قرآنی دعوت انقلاب کے داعی‘ (جون ۲۰۱۵ئ) کے مطالعے سے اندازہ ہوا کہ سیّدقطب شہید کو تو فراعنہ مصر نے پھانسی دے دی اور اسی طرح دوسرے ہزاروں اخوانیوںکو سرعام شہید کر دیا اور ان سے جیلیں بھر دی گئیں لیکن فراعنہ مصر کی تمام تر سفاکیت اخوان المسلمون کے ہمالیہ سے بلند عزائم کو شکست نہ دے سکی۔ آج بھی وہ ظلم اور سفاکیت کے مقابلے میں آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم فرما دے اور ابتلا اور آزمایشوں سے ان کو نکال دے۔ ہمارے ملک میں قرآن کی انقلابی دعوت کے لیے میدان کھلا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ موقع ہم سے چھین لیا جائے اور پھر اللہ کے ہاں ہمارا مواخذہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے، آمین!
جولائی کا شمارہ نظرنواز ہوا۔ اشارات (بجٹ اور پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنج)سمیت تمام مضامین خوب ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور زورِقلم عطا فرمائے اور ہم سب کو دعوتِ دین، اشاعت اسلام اور غلبۂ اسلام کی توفیق دے، آمین!
بدنصیبو، یہ آنکھ، کان اور دل و دماغ تم کو کیا اس لیے دیے گئے تھے کہ تم ان سے بس وہ کام لو جو حیوانات لیتے ہیں؟ کیا ان کا صرف یہی مصرف ہے کہ تم جانوروں کی طرح جسم اور نفس کے مطالبات پورے کرنے کے ذرائع ہی تلاش کرتے رہو، اور ہروقت اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے کی تدبیریں ہی سوچتے رہا کرو؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ناشکری ہوسکتی ہے کہ تم بنائے تو گئے تھے انسان اور بن کر رہ گئے نرے حیوان؟ جن آنکھوں سے سب کچھ دیکھا جائے مگر حقیقت کی طرف راہ نمائی کرنے والے نشانات ہی نہ دیکھے جائیں، جن کانوں سے سب کچھ سناجائے مگر ایک سبق آموز بات ہی نہ سنی جائے، اور جس دل و دماغ سے سب کچھ سوچا جائے مگر بس یہی نہ سوچا جائے کہ مجھے یہ وجود کیسے ملا ہے، کس لیے ملا ہے اور کیا میری زندگی کی غایت ہے؟ حیف ہے اگروہ پھر ایک بیل کے بجاے ایک انسان کے ڈھانچے میں ہوں!
[المومنون میں] علم کے ذرائع (حواس اور قوتِ فکر) اور اُن کے مصرفِ صحیح سے انسان کی غفلت پر متنبہ کرنے کے بعد اب اُن نشانیوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، جن کا مشاہدہ اگر کھلی آنکھوں سے کیا جائے اور جن کی نشان دہی سے اگر صحیح طور پر استدلال کیا جائے، یا کھلے کانوں سے کسی معقول استدلال کو سنا جائے، تو آدمی حق تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم کرسکتا ہے کہ یہ کارخانۂ ہستی بے خدا، یا بہت سے خدائوں کا ساختہ و پرداختہ نہیں ہے، بلکہ توحید کی اساس پر قائم ہے۔ اور یہ بھی جان سکتا ہے کہ یہ بے مقصد نہیں ہے، نرا کھیل اور محض ایک بے معنی طلسم نہیں ہے، بلکہ ایک مبنی برحکمت نظام ہے جس میں انسان جیسی ذی اختیار مخلوق کا غیر جواب دہ ہونا اور بس یونہی مرکر مٹی ہو جانا ممکن نہیں ہے۔(تفہیم القرآن ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ماہنامہ ترجمان القرآن، جلد۴۵، عدد۱،محرم ۱۳۷۵ھ، ستمبر۱۹۵۵ء ،ص۲۳)
______________