اپریل ۲۰۲۱

فہرست مضامین

اقبال ، تعلیم اور استاد

پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق | اپریل ۲۰۲۱ | اقبالیات

 تاریخ میں تعلیم اورنظام تعلیم قوموں کے عروج و زوال کی اہم بنیاد رہا ہے۔ جس قوم نے بھی تعلیم کی اہمیت کو صحیح طریقے سے جانا اور اپنے تشخص اور نسلِ نو کی تربیت کا انتظام کیا وہ دنیا میں سرخرو ہوئی ۔ تعلیم قوموں کے بناؤ اور بگاڑ میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسلام میں تعلیم کی اہمیت

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چنداحادیث سے اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔

حضرت ابوالدرداءؓ سے مروی ہے کہ ’’بے شک میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص علم کے حصول کی راہ میں چلا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چلاتے ہیں اور بے شک ملائکہ اپنے پروں کو علم کے طالب کی خوشنودی کے لیے بچھاتے ہیں۔ اور عالم کے لیے زمین و آسمان کی تمام اشیاء مغفرت کی دعا کرتی ہیں اور مچھلیاں پانی کے پیٹ میں۔ اور بے شک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں کے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔(متفق علیہ)

ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ ’’علم کا حصول ہرمسلمان (مرد اور عورت) پر فرض ہے‘‘۔

یہ بات واضح ہے کہ ہر مسلمان تمام دینی علوم حاصل نہیں کر سکتا لیکن اس حدیث کے مطابق ہم پرچار چیزوں کی تعلیم فرض ہے:

  • اوّل، عقیدے کی درستی: اتنی تعلیم جس کے ذریعے ہم اپنے عقیدے کو درست کر لیں، مثلاً توحید ،رسالت اور آخرت جیسے عقائد کے بارے میں جاننا اور سمجھنا ۔ اس سے کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں چاہے وہ دنیاوی طور پر پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔ ہر عاقل بالغ مرد اور عورت پر یہ فرض ہے۔
  • دوم: اتنے علم کا حصول جس سے ہم اپنی عبادات کو درست طریقے سے ادا کر سکیں، مثلاً نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، زکوۃ ادا کرنا یا حج کرنا۔
  • سوم: لوگوں سے درپیش روز مرّہ کے معاملات کی درست طریقے سے ادائیگی کے بارے میں علم، جس میں ان کے حقوق اور ہمارے فرائض شامل ہیں، مثلاً پڑوسی کےحقوق، والدین کے حقوق ، بچوں کے حقوق وغیرہ۔
  • چہارم: اپنے پیشے سے متعلق دین کا اتنا علم جس سے ہم اپنے پیشہ ورانہ فرائض دین کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ادا کر سکیں اور ہم اپنے پیشے میں دین کے خلاف کوئی کام نہ کریں، مثلاً ایک ڈاکٹر کو طب کی تعلیم سے متعلقہ دین کا اتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے جس سے وہ اپنے پیشے کو دین کے مطابق ادا کر سکے۔

 جنگ بدر میں جنگی قیدیوں کو چند افراد کو علم سکھانے کے بدلےآزاد کیا گیا۔یہ شایدتاریخ میں واحد مثال ہے کہ جنگی قیدیوں کو اس طرح آزاد کیا گیا ہو اور اس سے اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مدینہ میں ایک صحابی ؓ آواز بلند کرتے ہیں کہ لوگو تم سب کدھر ہو وہاں تو (مسجد نبویؐ) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہو رہی ہے۔لوگ بھاگ کر جاتے ہیں تو وہاں تعلیم و تعلّم کا حلقہ دیکھتے ہیں جس کو آپ ؐکی میراث کہا گیا تھا۔

 موجودہ صورتِ حال

بدقسمتی سے موجودہ نظام تعلیم میں پہلی جماعت سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک ، پورے کورس اور دورانیے میں شاذ ہی طالب علم کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اچھا انسان اور مسلمان کیسے بننا ہے؟ تعلیمی نصاب سے اسلام اور اقدار کو تقریباً ختم کردیاگیا ہے۔

 ہم بحیثیت قوم/امت علم کی اہمیت کو شاید ابھی تک نہیں سمجھ سکے اور آج ہم اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ بقول اقبال:

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گناہوں کو معاف

دوسری طرف عالمی قوتیں تعلیم کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہودیوں کی کتاب (جس کی تصدیق ونسٹن چرچل اور ہنری فورڈ نے بھی کی ہے)’دی پروٹوکولز‘ (The Protocols) میں تعلیم کے بارے میں خصوصی طور پر لکھا ہے۔پروٹوکول نمبر ۲ میں درج ہے :

[ترجمہ] غیر یہودی دانش ور ان نظریات سے لیس ہوکربغیر کسی منطقی تصدیق کے ان نظریات کو رُوبہ عمل لانے کی کوشش کریں گے اور ہمارے ماہر گماشتے اپنی کمال عیاری سے ان کی فکر کا رخ اس طرف موڑدیں گے جو ہم نے ان کے لیے پہلے سے مقرر کی ہوئی ہے۔ آپ کو ایک لمحے کے لیے بھی شبہہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ خالی خولی الفاظ ہیں۔

اس کے بعد درج ذیل پیراگراف بھی دیکھئے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ قوموں کے افکار میں تبدیلی کو وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کتنا ضروری سمجھتے ہیں:

 [ترجمہ] ہمارے لیے دوسری قوموں کے خیالات کا تجزیہ کرنا اور ان کے خصائل و کردار کا مطالعہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ سیاسی اور انتظامی امور میں (ہماری) معمولی سی کوتاہی کا احتمال بھی باقی نہ رہے۔

 نظام تعلیم کے بارے میں اقبال کا نظریہ

اقبالؒ کو اس کا مکمل ادراک تھا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو قوم کے بناؤ اور بگاڑ میں سب سے بنیادی کرادر ادا کرتا ہےاور جس کے دُور رس اثرات قوم کے عمومی مزاج اور اور سوچ پر مرتب ہوتے ہیں ۔ اقبالؒ نے فرمایا:

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر

ثاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹّی کا ہے اک ڈھیر

موجودہ نظام تعلیم کابنیادی ہدف نوجوان طبقہ ہے،تاکہ آنے والی نسلوں کی سوچ مغرب ہی کی تہذیبی اور تعلیمی معیارات اور روایات کے مطابق ہو اور اس تعلیمی نظام کے ذریعے ایسے افراد تیار ہوں جو اپنی شناخت کھوکر ان آقاؤں کی غیر موجودگی میں ان کے موجودہ آلۂ کاروں سے بھی بہتر طریقے سےاس ملک کا نظام ان کی مرضی کے مطابق چلائیں۔اس ضمن میں اقبالؒ کہتے ہیں:

اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مُروّت کے خلاف

____

وہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشن
پُرکار وسخن ساز ہے ، نم ناک نہیں ہے

____

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لَا اِلٰہَ اِلَّا  اللہ

اقبال سمجھتے ہیں کہ اس نظام نے پوری نسل کی ذہنی غلامی اور تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ساتھ ہی انسانی عقل کو ’عقلِ کُل‘ کا درجہ دے کر وحی اور روحانی تصورات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔اس میں خودی اور وجدان ناپید ہیں:

وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

____

مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
مردہ لادینی افکار سے افرنگ میں عشق
عقل بے ربطی افکار سے مشرق میں غلام!
پختہ افکار کہاں ڈھوندنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام

وہ اسی لیے مادہ پرست نظام ،جس میں دولت کو سب کچھ سمجھ لیا گیا، کے مقابلے میں ایسی تربیت پر زور دیتے ہیں، جو صرف عقل کی بنیاد پر قائم نہ ہو اور جس میں مادی علوم کے ساتھ ساتھ روحانیت اور وجدانیت بھی پروان چڑھے:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے

ا ور:

دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں ہے

جب ہر چیز کی کسوٹی مادیت بن جاتی ہےتو اس کا نتیجہ نہ صرف انسانی رشتوں کی کمزوری بلکہ کافی حد تک ختم ہونے اور خدا کے وجود سے عملی انکار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

الحاد آج کے نوجون کا ایک بڑا مسئلہ بن چکاہے۔ سائنس کے نام پر ذہنوں میں خدا کے وجود اور ’ضرورت‘ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے گئے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس کے مقابلے میں اسلام زندگی کا جو تصور دیتا ہے اسے مکمل طور پر ہر تعلیمی نظام سے نکال دیا گیا۔آج ہم اس یک طرفہ ’ذہن سازی‘کا نتیجہ الحاد کی صورت میں دیکھ رہے ہیں ۔تعلیم کے ذریعے ذہن کو اس سانچے میں ڈھالنے کے بارے میں اقبال نے فرمایا:

خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم تو سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

اس کے ساتھ ہی ایک اور فتنہ ’آزاد خیالی‘ کےنام پر پھیلایا جارہا ہے، جو ہماری نئی نسل کے ذہنوں کو خصوصی طور پر پراگندہ کر رہا ہے۔ لگتا ہے میڈیا کو تو بس اسی کام پر لگایا گیا ہے کہ وہ اسلام اور پاکستا ن کے بارے میں منفی سوچ پیدا کرے۔ بے مقصد تعلیم اور ’آزادیٔ افکار‘ کے خوش نُما نعروں سے ذہنی تبدیلی کا عمل جاری ہے۔جب معاشرے اور تہذیب سے اسلامی شعائر کا خاتمہ ہوجائے تو مسلمان عملاً اسلام اور رفتہ رفتہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں:

لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید
مشرق میں ہے تقلیدِفرنگی کا بہانہ
آزادیِ افکار سے ہے اُن کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکروتدبّر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادیِ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ!

  ہر قوم اپنے مقاصد اور نظریات کے حصول لیے کام کرتی ہے۔یہ بات تویقینا اہم ہے کہ ہر کوئی دوسروں کی پلاننگ کو سمجھے اوراپنے لائحہ عمل میں اُن کی اچھی باتوں کو لینے اور بری باتوں سے احتراز کا بندوبست کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی اشد ضروری ہے کہ وہ اپنے مقاصد اور اہداف اپنے معیارات ، مفادات اور نظریات کے مطابق ترتیب دے۔صرف دوسروں پر تنقیدسے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔اصل بات توخو د تعمیری اور مثبت کام کرنا ہے۔ بغیر کسی پلاننگ کے اور بلاسوچے سمجھے صرف ڈنڈے سے نظام تبدیل نہیں ہوتا اور نہ یہ تبدیلی دیر پا ہو سکتی ہے۔

 اور انتہائی قابلِ افسوس بات تو یہ ہے کہ مسلمان قوم کے ’پڑھے لکھے‘ (میں جان بوجھ کر ’تعلیم یافتہ‘ کا لفظ استعمال نہیں کر رہا) افراد کو یا تو اس صورتِ حال کی خبر ہی نہیں یا اس کی اہمیت کا احساس نہیں رکھتے۔ اقبالؒ نے اس کا اظہار یوں فرمایا:

وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائے اور ان اہم حقیقتوں کی نشان دہی کرے تو لوگ اس کو نہ صرف غیر سنجیدگی سے لیتے ہیں بلکہ اس کا مذاق اڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ مگر جب ان ہی کے بچےّ ان کی توقعات کے خلاف حرکتیں کرتے ہیں تو پھریہی لوگ نظام اور معاشرے سے گلے شکوے بھی کرتے ہیں کہ ان کےبچے بگڑ رہے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ اس بگاڑ کا ذمہ دار کون ہے؟

یہاں اگر مولانا مودودی رحمہ اللہ کے اسلامیہ کالج میں طلبہ سے خطاب سےموجودہ نظامِ تعلیم کے بارے میں چند اقتباسات کا حوالہ دیا جائے تو بےجا نہ ہوگا تاکہ اندازہ ہو جائے کہ اس وقت (جب نظام تعلیم میں ایسی گمراہ کن تبدیلیاں کم ہی ہوئی تھیں جو آج ہیں)کے مسلمان مفکرین کی رائے ایک ہی تھی۔طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:

 دراصل میں آپ کی اس مادرِ تعلیمی کو اور مخصوص طور پر یہی نہیں بلکہ ایسی تمام مادرانِ تعلیم کو درس گاہ کی بجائے قتل گاہ سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک آپ فی الواقع یہاں قتل کیے جاتے رہے ہیں اور یہ ڈگریاں جو آپ کو ملنے والی ہیں ، یہ دراصل موت کے صداقت نامے (Death Certificates) ہیں جو قاتل کی طرف سے آپ کو اس وقت دیے جا رہے ہیں، جب کہ وہ اپنی حد تک اس بات کااطمینان کر چکا ہے کہ اس نے آپ کی گردن کا تسمہ تک لگا رہنے نہیں دیا ہے....

 یقین جانیے یہ بات میں مبالغہ کی راہ سے نہیں کہہ رہا ہوں،اخباری زبان میں ’ سنسنی‘ پیدا نہیں کرنا چاہتا، فی الواقع اس نظام تعلیم کے متعلق میرا نقطۂ نظر یہی ہے…

ہر قوم کے بچے دراصل اس کے مستقبل کا محضر ہوتے ہیں ۔ قدرت کی طرف سے یہ محضر ایک لوحِ سادہ کی شکل میں آتا ہے اور قوم کو یہ اختیار دیا جاتا ہےکہ وہ خود اس پر اپنے مستقبل کا فیصلہ لکھے۔ ہم وہ دیوالیہ قوم ہیں جو اس محضر پر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود لکھنے کےبجائے اسے دوسروں کے حوالے کر دیتے ہیں کہ وہ اس پرجو چاہیں ثبت کردیں خواہ وہ ہماری موت ہی کافتویٰ کیوں نہ ہو۔ (تعلیمات،ص ۵۳-۵۴،۵۸)

اگر اس وقت حالت یہ تھی تو آج کے حالات کا ہم خود اندازہ کر سکتے ہیں۔ ایسے میں مسلمان مفکرین اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

استاد کے نام اقبال کا پیغام

 حالات کی تبدیلی میں استاد ہی بنیادی کردار ادا کر سکتاہے۔ بحیثیت مسلمان، استادکو نہ صرف اس پوری صورت حال کو اچھی طرح سمجھنا ہے کہ یہ نظامِ تعلیم ہی ہماری بربادی کا اصل سبب ہے، بلکہ اس کی اصلاح کے لیے اسے اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار بھی ادا کرنا ہے ۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری کماحقہٗ پوری کر لے تو دُور رس نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّکُلُّکُمْ مَسْؤُلٍ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ (بخاری، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن، حدیث: ۸۶۷) کا مفہوم ہے کہ ’’ہر ایک اپنے حلقۂ اثرمیں ذمہ دار ہے‘‘۔ ہم گھر میں اپنے بچوں اور سکول یاکالج میں اپنے طلبہ کی صحیح تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ جو کام ہمارے ذمے ہے وہ ہم نے کرنا ہے اور جو کام ہم نہیں کر سکتے اس میں  اپنا وقت ضائع نہیں کرنا۔لیکن جو کام ہم کر سکتے ہیں وہ ہمیں ضرور کرنا ہے کیوں کہ ہمیں جواب اور حساب اسی کا دینا ہو گا۔ البتہ جو لوگ اس کے لیے اجتماعی جدو جہد کر رہے ہیں، حتی الوسع ان کا پشتی بان بھی بننا چاہیے۔

 علم اور فن (Knowledge and Skill) دونوں تعلیم کے اہم ستون ہیں لیکن جب تک تیسرا ستون، یعنی ذہن (attitude) مثبت انداز میں نہیں بدلے گا اور طالب علم کو بحیثیت انسان اور مسلمان اپنے مقام اور ذمہ داری کا صحیح ادراک نہیں ہو گا تب تک وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ نہیں بن سکے گا۔ نظام کے بدلنے کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں اپنے اپنے زیرِ اثر حلقہ میں کام کرنا چاہیے اور اگر ہم شعوری طور پر اس کو ایک قومی اور دینی ذمہ داری تسلیم کر لیں تو پھر ہرادارے اور ماحول میں اپنا کام کر سکتے ہیں اور اللہ سے اجر کے امیدوار بھی بن سکتے ہیں۔

 رویّوں (attitude) کو بدلنے کے لیے ہم مقدور بھر کوشش کرنے پر ہی مکلّف ہیں ۔ نتیجے کا ذمہ اللہ تعالیٰ نےلے رکھا ہے۔ اس نے ہم سے اجر کا وعدہ بھی نتیجہ پر نہیں اخلاص کے ساتھ کوشش کرنے پر کیا ہے ۔ لیکن اگر ہم نے کوشش ہی نہیں کی تو اس کے لیے ہمیں ضرور جواب دینا ہوگا۔ مرد، عورت، جونیئر اور سینئر سب لوگ اپنی اپنی جگہ جواب دہ ٹھیریں گے۔

 استاد کا تو بنیادی کام ہی شاگردوں کی روح کے علاج کی فکر کرنا ہے، یعنی ان کے اخلاق و کردار پر توجّہ دینا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں :

شیخ مکتب ہے اِک عمارت گر
جس کی صنعت ہے روح انسانی

لیکن اگر استاد کو اس ذمہ داری کا احساس ہی نہ ہو تو وہ یہ کام کیسے کرسکتا ہے؟ اس لیے پہلی اہم بات ہی یہ ہے کہ استاد اپنے کام اور مقام کو سمجھ جائے اور اسے اپنی ذمہ داری کا احساس اور ادراک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے آپ کو ’معلم‘ کہا ہے ۔ اس سے بڑھ کر ایک استاد کے لیے فخر کی بات کیا ہو سکتی ہے! استاد ہی تعلیمی نظام میں محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اس نظام کے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر استاد کا اپنا ذہن صاف، تصورات واضح اور تربیت ٹھیک ہو تو وہ ہرحال اور ہر نظام میں اہم ،مثبت اور کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اگر اس کا ذہن پراگندہ، تصورات مبہم اور مقصد غیر واضح ہو تو اچھے سے اچھا نصاب اور تعلیمی نظام بھی سود مند ثابت نہیں ہوگا۔

 استاد کی حالت یہ نہ ہو کہ نام تو مسلمان کا ہو اور مقصد کسی اور کا پورا کر رہا ہو۔اپنی تعلیمی استعداد بڑھانے کے لیے وہ کسی بھی ادارے اور یونی ورسٹی سےتربیت / ٹریننگ حاصل کرسکتا ہے۔ بس بقول اکبر الٰہ آبادی ایک بات ہمیشہ اس کے پیش نظر رہے کہ:

بس ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کی اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

بدقسمتی سے آج اساتذہ کی اکثریت ایسی نہیں ہے۔ غیروں میں رہ کریا ملک کے اندر ان کے قائم کردہ اداروں میں ’ٹریننگ‘ کے نام پر جس رنگ میں وہ رنگ جاتے ہیں، وہ اپنے شاگردوں کو وہی رنگ منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے ہی اساتذہ کے بارے میں اقبالؒ نے کہا تھا:

ترا وجود سراپا تجلّیِ افرنگ
کہ تُو وہاں کے عمارت گروں کی ہےتعمیر
مگریہ پیکر خاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تو ، زرنگار و بے شمشیر!

 آج ہمارا المیہ ہی ’استاد‘ ہے۔اوراسی لیے اقبالؒ گلہ بھی استاد ہی سےکرتے ہوئے فرماتے ہیں:

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

فکرِ معاش ایک ضرورت ہے ۔لیکن کیا معاش ہی سب کچھ ہے؟ اور کیا اسی گرداب میں پھنس کرہم اور بہت کچھ تو نہیں گنوا رہے اور اپنے اصل کام اور مقصد سے غافل تونہیں ہو گئے؟  بدقسمتی سے آج ہم بس فکر معاش میں ہی اُلجھ کر رہ گئے ہیں۔

اسی حالت کو اقبال نے یوں بیان فرمایا:
عصرِ حاضر مَلکُ الموت ہے تیرا ، جس نے
قبض کی رُوح تری دے کے تجھے فکرِ معاش
دل کی آزادی شہنشاہی ، شکمِ سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوںمیں ہے،دل یا شکم!

ہمارا ایمان ہے کہ جو رزق اللہ نے ہمارے لیے مقرر کیا ہے وہ ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا، البتہ اس کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اس کے لیے جدوجہد کرنا فرض ہے۔ استاد کو وقتی فوائد، گریڈ، چاپلوسی، کام چوری اور اسی طرح کی دوسری زنجیروں کو کاٹنا ہوگا کہ جب تک اس کے پاؤںمیں یہ زنجیریں پڑی رہیں گی تب تک وہ ایک اعلیٰ و ارفع مقصد کے طرف دلجمعی سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ رزق حلال کاحصول اگر ہم ضرورت کی حد تک رکھیں تو یہ نہ صرف جائز بلکہ احسن ہے۔

تعلیم اور تربیت دونوں استاد کی ذمہ داری ہے۔جب یہ دونوں موجود ہوں تو نتیجہ علم نافع کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسی ہی تعلیم کو اقبال امت کی زبوں حالی کا علاج سمجھتے ہیں:

مُرشد کی یہ تعلیم تھی اے مسلم شوریدہ سر
لازم ہے رہرو کے لیے دُنیا میں سامانِ سفر
شیدائیِغائب نہ رہ، دیوانۂ  موجود  ہو
غالب ہے اب اقوام پر معبودِ حاضر کا اثر
اس دور میں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا
ہے خون فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
 

ایک مسلمان استاد جہاں کہیں بھی ہو اسے تعلیم و تربیت کا فرض نبھانا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ دل و دماغ آزاد ہوں گے تو ان شاء اللہ پھر حالت یہ ہو گی کہ:

 دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
افلاک منور ہوں تیرے نورِ نظر سے

اور اس لیے اقبال استاد سے درد مندانہ درخواست کرتے ہیں کہ :

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت!
دے ان کو سبق خود شکنَی ، خود نِگری کا
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارُو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظرَی کا

استاد کو نہ صرف اس عیارانہ اور کافرانہ حکمت عملی کے نتیجے میں نظامِ تعلیم میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا مکمل ادراک کرنا ہے بلکہ اس کی اصلاح کے لیے اس کارِ خیر میں اپنا حصّہ بھی ڈالنا ہے۔ انفرادی کوششیں مل کر ہی اجتماعی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ہمیں غیروں کے رنگ میں رنگ کر اس نظام کو تقویت نہیں دینی کہ یہ تو کاروبارِ لات و منات ہی کو زندہ کرنے میں آلۂ کار بننے کے مترادف ہوگا۔ استاد کو نہ صرف اپنی ذاتی تربیّت اور صلاحیت کی فکر کرنی ہے بلکہ بہت سوچ کریہ فیصلہ بھی کرنا ہو گا کہ وہ جو تعلیم اپنے شاگردوں کو دے رہا ہے اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟بقول اقبال:

حریم تیرا ، خودی غیر کی! معاذ اللہ
دوبارہ زندہ نہ کر کاروبارلات و منات

 اپنے اقدار، تہذ یب اور دین کو دوبارہ زندہ کرنے کی جدوجہد ہر فرد کی انفرادی اور بحیثیت مسلمان قوم ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مگر اس کے لیے اَن تھک محنت اور منظم جدوجہد اولیّن شرط ہے۔اقبال سمجھتے ہیں کہ یہ آسان کام نہیں ہے یہ غیروں کی صدیوں کی محنت اور ہماری صدیوں کی غفلت اور ذہنی غلامی کی پیدا کردہ صورت حال کا نتیجہ ہے۔

بدقسمتی سے مسلم دُنیا کے حکمرانوں اور اہلِ دانش مل کر مسلمانوں کے نظام تعلیم کو خراب اور برباد کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

ہمیں بحیثیت مسلمان استاد یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ معلمّی پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہے۔ معلّم کا کام صرف معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ طلبہ کی تربیت اور تزکیہ بھی اس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ اگر ایک طالب علم کو اسلام کے مطابق ’مقصد زندگی‘ کی تعلیم نہ دی جائے اور وہ اپنی تعلیم کو صرف دنیاوی آسایشوں اور حصول دولت کا ذریعہ سمجھنے لگے، تو اُس سےفراغت کے بعد معاشرے میں ایک تعمیری اور مثبت کردار کی توقع عبث ہوگی۔

پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں وسائل کی کمی نہیں بلکہ ایک ایسی مخلص، قابل اور صالح قیادت اور انتظامیہ ( بیوروکریسی) کی کمی ہے جوموجودہ وسائل کاصحیح استعمال کرے اور اس ملک کے عوام کی تقدیر بدل دے۔ایسے افراد اسی نظام تعلیم کی پیداوار ہو سکتے ہیں جس کا مطمح نظر اور مقصد ایسے باکردار اور باصلاحیت افراد تیار کرنا ہو۔

اساتذہ کی اپنی تربیت موجودہ تعلیمی نظام کو قومی اور اسلامی خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کی مشترکہ جدوجہد سے قوم کے نونہال پوری امّت مسلمہ کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔علم کے ذریعے تبدیلی کی جدو جہد ہرمسلمان استاد کا قومی فریضہ اور دینی ذمہ داری ہے۔ اگراسے زندگی میں یہ تبدیلی دیکھنا نصیب ہو گئی تو فبہا، اور اگر ایسا نہ بھی ہوا تو پھر بھی اسے اللہ کے حضور سر خرو ہونے کی قوی امید رکھنی چاہیے۔