اگست ۲۰۱۴

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| اگست ۲۰۱۴ | رسائل و مسائل

سوال:اقامت ِدین کے لیے مسجد کو زکوٰۃ ؟

’رسائل و مسائل‘ میں ’اقامت ِ دین کے لیے مسجد کو زکوٰۃ دینا‘ (جولائی ۲۰۱۴ء) عنوان کے تحت جواب مبہم ہے۔

  1.  مسجد تو اقامت ِ نماز اور اجتماعات دروسِ حدیث و قرآن ہی کے لیے ہوتی ہے۔ کیا نماز کا قیام اقامت ِ دین میں شامل نہیں؟
  2. اقامت ِ دین اور فی سبیل اللہ میں کیا فرق ہے؟ اگر اقامت ِ دین کے لیے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے تو اس کے وہ کون سے اُمور ہیں جو فی سبیل اللہ کی مد میں نہیں آتے؟
  3.  مسجد کے کن اخراجات میں زکوٰۃ استعمال کی جاسکتی ہے؟

جواب:

  1. اقامت ِ دین کے دو معنی ہیں: ایک معنی کے لحاظ سے وہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے وہ زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ اقامت ِ دین کا ایک معنی ٰدین کے احکام پر عمل کرنا ہے۔ اس لحاظ سے جو نیکی بھی انسان کرے وہ اقامت ِ دین ہے۔ مسجد بنانا، نماز پڑھنا اور نماز کا قیام، روزہ رکھنا، ہسپتال بنانا، بیماروں کی بیمارپُرسی کرنا، جنازہ پڑھنا، جنازہ گاہ بنانا، ماں با پ کی خدمت کرنا، قرابت داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنا، بیوی بچوں کے کھانے پینے، لباس اور دیگر ضروریات کا بہتر انتظام کرنا، یہ سب کام اقامت ِ دین کے تحت آتے ہیں۔ اسی طرح اگر عدالتیں شریعت کے مطابق فیصلے کریں، زانی کو کوڑے لگائیں، چور کا ہاتھ کاٹیں، ڈاکو کو سزا دیں وغیرہ ، یہ تمام کام بھی اقامت ِ دین ہیں۔
  2. اقامت ِ دین کے دوسرے معنی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نظام کو دوسرے نظاموں پر غالب کرنے کے لیے دعوت و تبلیغ اور تلوار اور نیزے کے ذریعے جدوجہد کرنا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے اقامت ِ دین زکوٰۃ کا مصرف ہے جسے قرآنِ پاک میں ’فی سبیل اللہ‘ کہا گیا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے فی سبیل اللہ میں صرف دینی تعلیم و تبلیغ، دینی مدارس، دین کے لیے اشاعت اور دینی لٹریچر اور جہاد و قتال اس کا مصداق اور زکوٰۃ کا مصرف ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ وہ ہرخیر کے کام کو زکوٰۃ کا مصرف قرار دیتے ہیں لیکن یہ غلط ہے۔ اگر ہرخیر کا کام زکوٰۃ کا مصرف ہوتا تو پھر آٹھ مصارف کو الگ الگ بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ سیدھے سادے الفاظ میں کہہ دیا جاتا کہ نیکی کے کاموں میں زکوٰۃ و صدقات خرچ کریں لیکن ایسا نہیں کہا گیا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ فی سبیل اللہ اپنے ایک مخصوص معنی کے لحاظ سے زکوٰۃ کا مصرف ہے۔
  3. درسِ قرآن اور درسِ حدیث، دعوت دین اور اشاعت دین کا ذریعہ ہیں، لہٰذا یہ زکوٰۃ کا مصرف ہیں۔ لیکن مسجد کی تعمیر، مسجد کی ضروریات، امام مسجد اور خادم مسجد کی تنخواہ زکوٰۃ سے نہیں دی جاسکتی۔ وہ دیگر عطیات سے جمع کر کے دی جائے۔ (مولانا عبدالمالک)

سوال : ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنی کا منافع

میں ایک ایسی کمپنی سے وابستہ ہوا ہوں جو کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں کام کررہی ہے۔ یہ کمپنی مختلف اشیا فروخت کرتی ہے۔ مجھے ۳۵ہزارروپے کی خریداری کرنا ہے۔ اس خریداری پر میں ۳ سٹار (Three Star) بن جائوں گا۔ اس کے بعد مزید تین افراد کو خریدار بنائوں گا۔ وہ افراد جیسے جیسے مزید افراد کو ممبر بناتے جائیں گے میرا گریڈ بڑھتا جائے گا۔ یوں مجھے بھی منافع ملتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے ۳سٹار، ۴سٹار وغیرہ افراد کو بھی حصہ ملے گا۔ دیا گیا منافع فی صد کے حساب سے مقرر ہوتا ہے، جیسے سیونگ اکائونٹ پر فی صد منافع ملتا ہے۔ اس طرح کا منافع سود ہے یا نہیں؟ نیز یہ منافع حلال ہے یا حرام؟

جواب :

مذکورہ بالا کمپنی کے علاوہ بھی کئی کمپنیاں اس طرح کا کاروبار کرتی ہیں اور اپنی اشیا (products) کو فروخت کرتی ہیں۔ بعض کمپنیوں کی فروخت کنندہ اشیا میں ایسی اشیا بھی شامل ہوتی ہیں کہ جن کی خریدار کو ضرورت نہیں ہوتی۔ کمپنی سے وابستہ ہونے والا شخص محض مستقبل کے منافع کے لالچ میں یہ خریداری کرتا چلا جاتا ہے، جو کہ سراسر فضول خرچی اور تعیش کے زمرے میں آتا ہے، جب کہ شریعت بلاضرورت اشیا کی خرید اور استعمال کو منع کرتی ہے۔ نیز بلاضرورت اشیا کی خریدو استعمال کو اسراف اور تبذیر قرار دیتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَّ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ج اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَo (الاعراف ۷:۳۱) ’’اور کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ اس طرح کے کاروبار میں پہلی قباحت تو اسراف اور تبذیر کا پایا جانا ہے۔

اس معاملے میں دوسری قباحت خود لالچ کو اختیار کرنا اور دوسروں کو لالچ میں مبتلا کرنا ہے، یعنی اس کے نتیجے میں آپ کو منافع ملے گا۔ تیسری قباحت یہ ہے کہ آپ کس چیز کا کاروبار کر رہے ہیں؟ آپ نے تو کوئی سرمایہ کاری نہیں کی، نہ شراکت اور نہ مضاربت، اور نہ یہ اُجرت (اجارہ اشخاص) ہی کا معاملہ ہے، تو منافع کس چیز کا؟ چوتھی قباحت اس معاملے میں یہ ہے کہ نئے ممبر بنانے میں جو محنت اور جدوجہد دوسرے اشخاص نے کی ہے اس میں آپ کا حق کہاں سے آگیا؟ پانچویں قباحت یہ کہ سیونگ اکائونٹ میں تو ایک شخص اپنی رقم بچت کی صورت میں رکھ کر اس پر سود حاصل کرتا ہے (جو کہ حرام ہے)، جب کہ یہاں تو رقم بھی جمع نہیں کروائی گئی اور آپ ایک مخصوص رقم (final profit) لینے لگ گئے۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بناپر یہ معاملہ شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے اور مسلمانوں کو اس سے اپنا دامن بچانا چاہیے، واللّٰہ اعلم بالصواب۔(ڈاکٹر میاں محمد اکرم)

___________________________________________________________________

تصحیح: ۱-مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور ۔ فون: ۳۷۲۳۷۵۰۰- ۳۷۳۱۰۵۳۰-۰۴۲ 

 ۲-ماہنامہ سوچنے کی باتیں، لاہور۔ مدیر: انوار احمد، درست فون: ۳۷۱۵۸۷۵۲-۰۴۲