اگست ۲۰۱۴

فہرست مضامین

خواتین عالمی کانفرنس :چند مشاہدات

ڈاکٹر کوثر فردوس | اگست ۲۰۱۴ | احوالِ عالم

اقوام متحدہ کی اکنامک اینڈ سوشل کونسل کے تحت عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے  عالمی سطح پر اُمورسرانجام پاتے ہیں۔ ۱۹۷۵ء میں عورتوں کی پہلی عالمی کانفرنس ہوئی۔ ۱۹۷۹ء میں عورتوں کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کا معاہدہ ’سیڈا‘( CEDAW)ہوا۔ اس پر ۱۲۹سے زائد ممالک نے دستخط کیے۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے مگر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی روشنی میں کام کرنے سے مشروط ہے۔

اس معاہدے کی روشنی میں بیجنگ میں ہونے والی کانفرنس میں بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن طے ہوا، جس کے ۱۳ نکات تھے۔ بعد ازاں آٹھ اہداف کو ’ملینیم ڈیویلپمنٹ گولز‘(MDGs)کے  طور پر طے کر لیا گیا، تاکہ خواتین کی ترقی کی رفتار تیز تر اور جائزہ آسان تر ہو جائے۔  اہداف یہ ہیں:۱-غربت کا خاتمہ، ۲-عالمی سطح پر لڑکیوں کا ابتدائی درجۂ تعلیم میں داخلہ یقینی بنانا، ۳-عورت کی برابری کے تصور کو آگے بڑھانا اور عورت کی ترقی کے لیے کام کرنا ،۴-بچوںکی شرح اموات میں کمی، ۵-مائوں کی شرح اموات میں کمی ، ۶-ایچ آئی وی ایڈز، ملیریا اور دیگر بیماریوں سے حفاظت، ۷-ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنانا، ۸-ترقی کے لیے عالمی برادری میں شراکت (Global Partnership)۔ ان میں سے نکات ۲،۳،۴،۵ اور ۶ عورتوں سے براہِ راست متعلق ہیں ۔ اہم ترین نکتہ تیسرا ہے، یعنی عورت کی برابری اور ترقی کے لیے کام کرنا ۔ آغاز میں جب برابری کا جھنڈا اٹھایا گیا تو نعرہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں ترقی کا تھا۔ اب یہ ہر طرح کی برابری کا ہے۔

’کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن‘ (CSW)عورت کی برابری اور ترقی کے لیے منصوبے بناتا اور ان کا جائزہ لیتا ہے ۔ اس کمیشن کا ۵۸واںاجلاس ۱۰ مارچ تا ۲۱ مارچ ۲۰۱۴ء ، اقوام متحدہ کی کانفرنس بلڈنگ اور نارتھ لان بلڈنگ میں منعقد ہوا۔ اس میں حکومتی مشن براے اقوام متحدہ اور  اقوام متحدہ کی ’سوشل اینڈاکنامک کونسل‘ میں رجسٹرڈ این جی اوز، یعنی ’ایکوساک سٹیٹس‘ کی حامل ہیں ، نے شرکت کی۔ انٹر نیشنل مسلم ویمن یونین بھی اکنامک اینڈ سوشل کونسل میں صلاح کار تنظیم کا اسٹیٹس رکھتی ہے۔ راقمہ اس کی صدر اور ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل (ایشیا ) کی حیثیت سے اجلاس میں شریک ہوئیں۔ یہ اجلاس بنیادی طور پر مشاورتی فورم تھا جس میں گذشتہ سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں حکومتی مشن کے نمایندوں اور این جی اوز نے اپنے اپنے ملک میں اہداف کے حصول کے بارے میں کارکردگی رپورٹ پیش کی اور اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کیا۔ یہ اجلاس ۲۰۱۵ء کے بعد کے ایجنڈے کی تشکیل کے لیے تھا کہ اہداف کے حصول میں رکاوٹوں کو دُور کیا جا سکے، اور ان پر کام کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اجلاس میں ۸۶۰ سول سوسائٹیز سے تعلق رکھنے والے ۶۰۰سے زائد نمایندگان نے شرکت کی۔ ۱۳۵ پروگرام اقوام متحدہ کی ایجنسیز، جب کہ ۳۰۰متوازی پروگرام این جی اوز نے منعقد کیے۔

اجلاس میں شریک حکومتی نمایندگان نے ان نکات پر رپورٹس پیش کیں:

  • ’تعلیم‘کے ذیل میں پرائمری میں لڑکیوں کا داخلہ اور تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو ’جاری رہے‘ اس میں کتنا اضافہ ہوا اور آیندہ کے امکانات کیا ہیں؟ ان میں بیش تر ممالک کی کارکردگی خاصی بہتر ہوئی ۔
  • ’صحت‘ کے عنوان کے تحت زچہ و بچہ کی صحت کے معاملات کا جائزہ پیش ہوا تو معلوم ہوا کہ مثبت طور پر صورت حال میں کچھ پیش رفت ہوئی۔ اسی طرح ماں کی صحت، دیہی علاقوں میں ہیلتھ ورکرز کی تربیت و اضافہ، مانع حمل ادویات کی فراہمی اور محفوظ اسقاطِ حمل کی کیفیت بیان ہوئی۔
  • فیصلہ سازی کے مقام تک رسائی میں ’عورتوں کی سیاسی نمایندگی کی شرح میں اضافے‘  کے لیے کیے گئے اقدامات اور اہم مناصب پر موجود خواتین کے بارے میں حکومتی نمایندوں نے اپنی کارکردگی پیش کی۔
  • عورتوں پر تشدد میں گھریلو اور جاے ملازمت پر قانون سازی کے مراحل کے بارے میں بتایا گیا۔
  • عورتوں کی بہتر معاشی مقام تک رسائی کے ذیل میں اعلیٰ تعلیم کے تمام میدانوں میں عورتوں کے داخلے پر تفصیل سامنے آئی۔ اسی طرح طب اور تعلیم کے علاوہ انجینیرنگ، آئی ٹی اور فضائیہ میں عورتوں کی نمایندگی کا جائزہ لیا گیا۔

کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن (CSW ) کا ۵۸واں سیشن صبح ۱۰ بجے شروع ہو کر شام چھے بجے تک جاری رہتا۔ درمیان میں ایک تا تین بجے کا وقفہ ہوتا۔ ہفتہ و اتوار کی چھٹی ہوتی تھی۔ متوازی پروگرام عموماً دو گھنٹے کے دورانیے کے ہوتے اور صبح ۱۰ بجے سے شروع ہو کر رات ۸بجے تک جاری رہتے۔ ایک وقت میں پانچ پانچ مختلف اجلاس ہوتے۔

 عورت پر تشدد کے ذیل میں اندرون اور بیرونِ ممالک میں عورتوں کی خرید و فروخت پر  کئی سیشن ہوئے، دستاویزی فلمیں دکھائی گئیں اور لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ نوجوان لڑکیوں اور چھوٹی بچیوں کو غریب اور غیر ترقی یافتہ علاقوں سے لا کر گھروں میں سخت مشقت کروانے، ہراساں کرنے ، مارپیٹ اور منفی طور پر پر یشان کرنے کا عمل، کئی حکومتوں اور بااثر افراد کا ان کو سستے مزدور کے طور پر استعمال کرنا، جنگوں میں فاتح فوج کا مفتوح علاقے کی عورت کو ہوس کا نشانہ بنانے جیسے موضوعات زیربحث آئے اور ان پر رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔

اسقاطِ حمل کی حوصلہ افزائی اور ہم جنسیت کی تائید میں نہ صرف لٹریچر تقسیم ہوا، بلکہ مباحث بھی ہوئے جن میں ایک موضوع تھا: ’’ عورتوں کو بچوں کی تعداد کے لیے فیصلے کی آزادی ہونا ضروری ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ساتھ فیملی فورم نے خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کی طرف توجہ دلائی اور مضبوطی کے لیے اقدامات تجویز کیے۔ عورتوں کے حقوق ،کلچر اور شریعہ پر بھی ایک فورم ہوا۔

ایک فورم پر یہ تقریر کی گئی کہ اگر بیوی پر ازدواجی حقوق کی ادایگی کے لیے زبردستی کی جاتی ہے تو وہ قانونی چارہ جوئی کر سکے گی۔سوالات کے وقفے میں راقمہ نے سوال کیا کہ بیوی اس فعل پر شوہر کو جیل بھجوا دے گی۔ شوہر جب جیل سے رہا ہو کر آئے گا تو بیوی کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہوگا؟ جس کے جواب میں مقرر خاتون نے سٹپٹا کر جواب دیا: یہ سوچنا ہمارا کام نہیں ہے۔ عورت کے حقوق اور قانون کے نفاذ نے معاشرے پر مجموعی طور پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں، محققین کو   اس پر بھی اعداد و شمار جمع کرکے حقیقت آشکارا کرنا ہوگی۔

فیملی فورم، کیتھولک کرسچن خواتین کا گروپ ہے جو سب سے زیادہ سرگرمی کے ساتھ  اسقاطِ حمل کو قانونی تحفظ دینے کے خلاف کام کرتا ہے۔ اس کے بنیادی ارکان نے آنسوئوں کے ساتھ اپنے ذاتی تجربات اور ذہنی کرب کی تفصیلات بیان کیں۔

اس نشست کے آخر میں شرکا کے تاثرات اور سوالات کے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راقمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسی ہی ایک عورت کے آنے کا واقعہ بیان کیا جو حد جاری کیے جانے کا اصرار کر رہی تھی کہ اسے دنیا میں اس گناہ کی سزا مل جائے اور آخرت میں رُسوائی سے بچ جائے۔ حضوؐر نے اس سے کہا کہ ابھی تم چلی جائو اور بچے کی پیدایش کے بعد آنا۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد وہ پھر آئی کہ حد جاری کروا دیجیے۔ یہ حد سنگساری تاحد موت تھی جس کے لیے وہ اپنے  آپ کو پیش کر رہی تھی۔ حضوؐر اس کو دوبارہ واپس بھیج دیتے ہیں کہ اس بچے کو دودھ پلائو جب تک کہ یہ خود کھانے پینے کے قابل نہ ہوجائے۔ جب وہ تیسری بار آئی تو اس بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا جو وہ کھا رہا تھا۔ اس مثال سے دیکھیے کہ حضوؐر نے ماں کی ممتا ، اس کی نفسیات کا کتنا لحاظ کیا اور  بچے سے کتنی شفقت کا معاملہ کیا۔

اس گروپ کے ساتھ ہمارا اچھا تعارف ہے۔ سوڈان سے آنے والی ہماری یونین کی ممبران کے ساتھ بھی ان کے روابط ہیں۔ یہ اس اجلاس میں ہر سال پابندی سے شرکت کرتی، اپنے  نقطۂ نظر کو جدید تحقیق اور مؤثر دلائل سے ثابت کرتی ہیں۔ ان کا میگزین بھی باقاعدگی سے نکلتا ہے۔

عورتوں کے حقوق ٗ کلچر اور شریعہ پر بھی ایک فورم ہوا۔ اس میں عورتوں کے حقوق ،شریعت اور ممالک میں رائج کلچر کے حوالے سے لیکچر ہوئے۔ بعد ازاں سوال و جواب کی نشست میں ایک امریکی نژاد پاکستانی خاتون کھڑی ہوکر کہنے لگیں: میرے پاکستان کو شریعت نافذ کرنے والے لوگوں نے تباہ کر دیا ۔ اللہ کرے وہاں کبھی شریعت نافذ نہ ہو ۔ وہ بدامنی کا گہوارہ بن گیا ہے ۔ پاکستان سے آئی ایک دوسری خاتون نے، جن کے بارے میں ملاقات پر معلوم ہوا کہ عیسائی ہیں اور لاہور سے ہیں، ویمن اسٹڈیز پر لیکچر بھی دیتی ہیں، سوال کیا کہ پاکستان میں کئی فرقے اور مسالک ہیں، سُنّی، بریلوی، اہل حدیث، اہل تشیع، تو وہاں کس کی شریعت آئے گی؟ اس پر یہ جواب دیا گیا کہ جہاں تک شریعت اور کون سی شریعت کا تعلق ہے، یہ نہ طالبان کی شریعت ہے، نہ کسی اور گروہ کی شریعت ہے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور ہے جو شریعت کے تابع ہے۔ہم دستورِ پاکستان کے نفاذ اور بالادستی کے لیے کوشاں ہیں کہ یہی ہمارے اتحاد کا امین ہے۔

ان اجلاسوں کے دوران مختلف گروپس کے ساتھ تعارف اور ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنا اور سمجھانا ہوتا رہا۔ ایک دن، لابی میں ایک خاتون نے بڑی گرمجوشی سے پوچھا: کیا تم پاکستانی ہو ؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: میں نے تم پاکستانی عورتوں کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے، اس کا عنوان ہے: پاکستانی عورت تو کہاں ہے ؟ یہ میرا تحقیقی مقالہ ہے جو مَیں نے بلوچستان میں رہ کر ڈیڑھ سال کے عرصے میں مکمل کیا ہے۔ ہم نے کہا: بہت خوب، یہ تو بتائیں آپ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی گئیں ؟ اس نے کہا: نہیں، عورت کو پاکستان میں گھر کی چار دیواری میں بند کر دیا جاتا ہے ۔ ہم نے اپنا تعارف کروایا کہ ہم بھی پاکستانی ہیں۔ مَیں میڈیکل ڈاکٹر ہوں،   فوج میں بھی کام کیا ہے، اور پارلیمنٹ کی ممبر بھی رہی ہوں ، تو وہ کہنے لگیں: یہ تو اِکا دُکا مثالیں ہیں۔ ہم نے پوچھا: ایک ماڈل اسلام کا ہے کہ مرد، عورت کی تمام ضروریات پوری کرنے کا پابند ہے، اور دوسرا ماڈل وہ ہے جس میں عورت اپنے لیے اور اکثر اپنے بچوں کے لیے خود کماتی ہے، ان دونوں میں سے عورت کے لیے کون سا ماڈل اچھا ہے ؟ اس نے کہا: اچھا تو اسلام والا ہے، مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عورت کو گھر سے نکلنے ہی نہ دیا جائے ۔ ہم نے کہا: مقامی رواج، اسلام نہیں ہے ۔ اسلام میں عورت گھر سے باہر جا سکتی ہے ۔ اسلام میں اس کے گھر سے باہر نکلنے کے لیے پردے کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ وہ کاروبار کر سکتی ہے، اور جو کماتی ہے اس کی خود مالک ہے ۔ اس نے حیرت سے کہا: اگر یہ ایسے ہی ہے تو یہ بہترین ہے!

میں اقوام متحدہ کے ایسے سیشن میں تیسری بار (۲۰۰۰ء، ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۴ ء) شریک ہوئی تھی۔ میرا مشاہدہ ہے کہ۲۰۰۰ ء میں عورتوں کی جو حاضری اور جوش و جذبہ براے حصولِ حقوق تھا وہ اس بار قدرے ماند پڑتا ہوا محسوس ہوا۔ حکومتیں خواتین کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں۔  ۲۰۰۰ء کے اجلاس میں مرد غالباً ۱۰ فی صد ہوں گے، جب کہ بعدازاں ان اجلاسوں میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً ۴۰ فی صد ہو گئی ہے ۔ اس کے برعکس عورتوں کی تعداد نسبتاً کم ہوتی جارہی ہے۔

ابتداً جاری ہونے والے اعلامیے میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ۱۵ برس گزر جانے کے باوجود کسی بھی ملک میں عورت کو حقیقی برابری اور صحت و تحفظ کے حوالے سے ترقی حاصل نہیں ہو سکی۔ عالمی ادارے عورت کی برابری اور ترقی کے لیے ، اپنی ترجیحات کے مطابق، گو   سُست رفتاری مگر مستقل مزاجی کے ساتھ اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (ICNA)کی بہنوں کے ساتھ ان پروگراموں میں شرکت کی اہمیت پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔ اس اجلاس میں بھی چند بہنوں نے شرکت کی۔ وہ پُرعزم تھیں کہ منصوبہ بندی کے ساتھ آیندہ اس نوعیت کے اجلاسوں میں اپنا نقطۂ نظر پہنچائیں گی۔

ایک خاتون پادری کے ساتھ تبادلۂ خیال میں انھوں نے کہا کہ چرچ میں لوگوں کا رجوع کم ہوتا جارہا ہے۔ لوگ اللہ سے تعلق کو کافی سمجھتے ہیں۔ انھوں نے ہم جنس زدہ جوڑوں کی حمایت کی جس پر حیرت ہوئی۔ تیونس کی ایک اسکارف پہننے والی خاتون نے یہ بتایا کہ اس کے ملک کی مسلمان نمایندگان نے چرچ میں ایک پروگرام کیا ہے، جس میں انھوں نے اسلام کے قانون وراثت میں مرد اور عورت کے غیر مساوی حصے کو ہدف بنایا۔ یہ بات بھی باعث ِ تشویش تھی۔ دوسری طرف خوش آیند پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں میںچرچ کو خرید کر مساجد، سکول اور کمیونٹی سینٹر بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں محلے کے مسلمان باقاعدگی سے اکٹھے ہوتے ہیں۔

اسی طرح امریکی معاشرے میں بچوں کی والدین سے لا تعلقی و آزادی کی کئی پریشان کن داستانیں سنیں۔ بچے اپنے کمروں میں کسی قسم کی مداخلت پسند نہیں کرتے۔ ایک دین دار گھرانے کی بچی نے والدہ کی معمولی ڈانٹ پر گھر چھوڑ دیا اور بعد میں پتا چلا کہ اس نے اپنی کسی سہیلی کے ساتھ رہایش اختیار کر لی ہے۔ شادی کے لیے رشتہ نہ ملنا اور شادی کے بعد طلاق بہت سے گھروں کی کہانی ہے۔ امریکی انتخابات کے موقعے پر ہم جنسیت کی آزادی ملنی چاہیے یا نہیں کے ۵۸ فی صد اثبات میں جواب کے بعد، ہم جنس پسند دندناتے پھرتے ہیں۔ کوئی اشارتاً بھی کچھ کہہ دے تومعافی مانگے بغیر جان نہیں چھوٹتی۔ عدالتیں بھی ان کے حقِ آزادی کو تسلیم کرتی ہیں۔ یہ مغرب کے معاشرتی انتشار و انحطاط کا کھلا ثبوت ہے۔گھروں میں نبھائو کم ہوا ہے۔خاندانی ٹوٹ پھوٹ کے اس سمندر میں اِکادکا جزیرے بھی ہیں جہاں خاندان کے افراد ماہانہ جمع ہوتے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے باہمی تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا درس بھی ہوتاہے۔ بچوں کی دوستی اور دل چسپی کا دائرہ خاندان ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتیں نکھارتے ہیں۔