اگست ۲۰۱۵

فہرست مضامین

کراچی کا المیہ اور ماحولیات

رفیع الدین ہاشمی | اگست ۲۰۱۵ | شذرات

کسی معاشرے اور ماحول میں رونما ہونے والے واقعات اس معاشرے اوراس ماحول میں سانس لینے والوں پر اثراندازہوتے ہیں۔ اسی طرح کسی خطے یا علاقے کاموسم بھی وہاں کی انسانی طبیعتوں اورانسانی صحت پر اچھا یا برا اثر ڈالتاہے۔ اس کی ایک مثال جون، جولائی میں پڑنے والی کراچی کی قیامت خیز گرمی ہے، جس سے اہل کراچی شدیدطورپرمتاثر ہوئے اور ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افرادموسم کی تاب نہ لاتے ہوئے اللہ کوپیارے ہوگئے۔ اس موسمی شدت کی چند وجوہ ہیں:

۱- گذشتہ برسوں میں کراچی شہراورمتعددآبادیوں میں واقع پارکوں کو ختم کرکے اُن کے پلاٹ بناکر،عمارتیں اورپلازے کھڑے کرلیے گئے۔ پارکوں میں جتنے درخت اورپودے تھے،وہ سب تہِ تیغ ہوئے۔شاہراؤں کے ساتھ واقع سبزقطعات، سڑکوں کی توسیع کی زدمیں موت کے گھاٹ اُتر گئے اورسبزے اوردرختوں سے محروم ہوگئے اور نئے درخت نہیں لگائے گئے۔

۲- کراچی میں موٹرگاڑیوں،بسوںاورٹرالوںکی تعدادتقریباً۲۰لاکھ ہے۔اس میں سالانہ ۲۰ ہزارکے حساب سے اضافہ ہوتاہے۔یہ لاکھوںموٹریں،بسیں اورٹرالے بلکہ موٹرسائیکلیں،اپنے دھوئیں سے ماحول کوآلودہ اورفضا کوزہریلا بنانے میں اہم کرداراداکرتی ہیں۔

۳-مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے نئی نئی بستیاں وجود میںآئیں جن میں ہزارہا مکانات، عمارتیں، فلیٹ تعمیرکیے گئے یامصروف شاہراؤں اورپرانی آبادیوں میںاُونچے کئی کئی منزلہ پلازے تعمیرکیے گئے مگردرخت نہیں لگائے گئے یابہت کم لگائے گئے اوران کی بھی دیکھ بھال نہیں کی گئی۔

۴- ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں دورکرنے اوراسے رواں رکھنے کے لیے ’بالائی پُل‘  (اوورہیڈ) اور زیرزمین راستے(انڈرپاس) بنائے گئے۔ جب سورج حدّت دکھاتاہے،خصوصاً دوپہرکے وقت،تب اینٹ،پتھر،سیمنٹ اور لوہے سے تعمیرشدہ مکانات،پلازے،فلیٹ اور پُل خوب تپ جاتے ہیں، فضا گرم ہوجاتی ہے اور تارکول سے بنی سڑکیں ماحول کو زہریلی گیسوں سے بوجھل اورآلودہ بناتی ہیں۔ درخت اس حدت اور تپش کو کم کرتے ہیں مگر درختوں کا توہم نے پہلے ہی صفایاکرچھوڑاتھا لہٰذا زہریلی گیسوں کو کون جذب کرے اور آکسیجن کون مہیاکرے۔

فضا اور ماحول،اہل کراچی کے لیے ناقابل برداشت ہوگئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں جانیں لقمۂ اجل بن گئیں۔جب کراچی’عروس البلاد‘کہلاتاتھااوریہ بہت پرانی بات نہیں ہے۔ کراچی میں مقیم معروف شاعر ماہرالقادری کراچی کے ماحول اورفضا سے اس قدرخوش تھے کہ انھوں نے ’کراچی نامہ‘ کے عنوان سے کراچی کے لیے ایک قصیدہ مدحیہ لکھا۔اس میں انھوں نے شہرکے حُسن وجمال اورخوب صورتی کا نقشہ کھینچا ہے۔چنداشعار دیکھیے:

کراچی ہے سب بستیوں کی دلھن

یہاں ہر طرف ہے نرالی پھبن

یہاں باغ اور سیرگاہیں بھی ہیں

یہاں چوک اور شاہراہیں بھی ہیں

۵-یہ عروس البلاد صدیوں میں بناتھا۔صدیوں کے ’بناؤ‘کوہم نے چند برسوں میں’ بگاڑ‘ میںبدل کررکھ دیا۔خیال رہے کہ ماحول کو بگاڑنے کی انفرادی کوشش سے اتنی خرابی پیدانہیں ہوتی لیکن جب چاروں طرف بکثرت سیمنٹ اور لوہے کی آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں اور جگہ جگہ اونچے اونچے پُل بنائے جائیں تو پھرفطرت بھی انتقام لیتی ہے۔

پاکستان کے کچھ اور بڑے شہروں(لاہور،اسلام آباد،ملتان،پشاور) میں جس طرح کے منصوبے بنائے گئے ہیں اور کچھ بنائے جارہے ہیں انھیں بروے کار لانے کے لیے ماحول دوست ہزاروں درختوں کو بے دردی کے ساتھ کاٹاگیا۔ لاہور میںنہرکے دونوں کناروں پرسڑکوں کووسیع کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں درخت کاٹے گئے ۔آخرکار ہائی کورٹ کو درخت کاٹنے پرپابندی لگانی پڑی۔ (برسبیل تذکرہ : سڑکوں کو محض چوڑا کرنے سے ٹریفک کا بہاؤ تیز نہیں ہوتا۔ پیرس اور لندن کی بہت سی سڑکیں ہماری سڑکوںکے مقابلے میں بہت کم چوڑی ہیں، مگر وہاں ٹریفک نہیں رُکتی۔ کیوں کہ قواعد کی سختی سے پابندی کرائی جاتی ہے۔یہاں تو خودٹریفک پولیس والے قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہوتے ہیں۔)

کراچی میں درجۂ حرارت شاید ۴۹ درجے تک چلا گیاتھا۔ پنجاب اور سندھ کے دیہاتوں میں بعض اوقات درجۂ حرارت اس سے بھی زیادہ ہوتاہے لیکن وہاں گرمی کی شدت سے بہت کم اموات ہوتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ دیہات کا ماحول آلودہ نہیں ہوتا۔ فضا صاف ستھری اور زہریلی گیسوں سے پاک ہوتی ہے۔چاروں طرف بکثرت سبزہ اور درخت موجود ہوتے ہیں جو رات کوزہریلی گیس جذب کرتے ہیں اور دن بھرآکسیجن چھوڑتے ہیں اور اس طرح ماحول کو صاف بناتے رہتے ہیں۔اس طرح ۲۴ گھنٹے انسانوں کی خدمت میںلگے رہتے ہیں۔

اچھے یا برے ماحول کا اثرانسانی طبیعتوں پر پڑتاہے۔جب دم گھٹے گا،ناک میں دھواں جائے گا، توعین ممکن ہے کسی کے لیے منہ سے کوئی برا لفظ نکل جائے یا بددعانکلے۔ اس کے برعکس اگر فضا خوش گوارہوگی،سبزہ، درخت اور پھول پھلواری نظر آئے گی تو طبیعت میں انبساط پیداہوگا۔ مجھے فضل کریم احمد فضلی کے ناول خون جگر ہونے تک کا ایک نمایاں کردار ذلیل الدّی یاد آرہا ہے، جو ایک غریب شخص تھا مگر بلبل کی آواز سن کر خوش ہوتااور جھوم جھوم جاتا۔ پھردن یارات کے کسی لمحے وہ تصور ہی تصور میں بلبل کی آواز کو یاد کرکے ایک خودساختہ مصرع پڑھا کرتاتھا  ع

بلبل کی چیں چیّ میں آوازِ مرحبا ہے

کائنات میں سب سے اہم چیز کیاہے؟ ’انسان‘ اگر وہی پریشان ہے،مضطرب اور بے چین ہے اور فضائی آلودگیوں کے سبب طرح طرح کے امراض کا شکار ہورہاہے تو پھریہ ترقی، تیزرفتار میٹرو، اُونچے اُونچے پلازے اور دولت کی ریل پیل سب کچھ ہیچ ہے۔ اگر ماحول بہتر نہ بنایا گیاتو بیماریاں بڑھتی جائیں گی۔طرح طرح کے وائرس اور جراثیم انسان کو سکون کاسانس نہیں لینے دیں گے۔

یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ بڑے شہروں کے ماحول کوبہتر بنانے،موجودآلودگیوں کو کم کرنے اور مزید آلودگیوں سے بچانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرنی چاہییں۔جس حد تک ممکن ہو ماحول دشمنانہ اقدامات کو قوت اور طاقت سے روکنا چاہیے (اگر سیاسی پارٹیاں اس مسئلے کا ادراک کرلیں تو ان کا احتجاج مؤثر اور ان کی کوششیں کامیاب ہوسکتی ہیں)۔ اگر قوت نہیں ہے تو زبان ہی سے،تقریروں اور تحریروں کے ذریعے احتجاج فرض ہے کیوں کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔