اگست ۲۰۱۵

فہرست مضامین

سیّد قطبؒ کی شہادت

سلیم منصور خالد | اگست ۲۰۱۵ | تاریخ و سیر

جنوری اور فروری۱۹۶۶ء میں خصوصی عدالت کی کار روائی میں سیّد قطب اور ان کے رفقا کو زبردستی، اعتراف جرم کرانے کے لیے جبر و تشدد اور اعضا شکنی کا نشانہ بنایا گیا۔ تشدد کے ان واقعات کی تائید ’ایمنسٹی انٹر نیشنل‘ کی رپورٹ میںبھی شائع ہوئی تھی۔ اس تنظیم کو نہ اخوان سے کوئی دل چسپی تھی،اور نہ مصری حکومت سے کوئی دشمنی۔

’’ایمنسٹی انٹر نیشنل بڑے افسوس سے اس امر کا اظہار کرتی ہے:

                ۱-            ایک خصوصی قانون کے تحت مصر کے صدر کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ سیاسی وجوہ کی بنا پر جس شخص کو چاہے، مقدمہ چلائے بغیر گرفتار کر سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ایک خاص عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جس کے جج صدر خود نامزد کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ملزم کی قسمت کا فیصلہ صدر خود کرتا ہے۔

                ۲-            فوجی جیلوں میں ملزموں پر بے تحاشا مظالم توڑے گئے، لیکن عدالت میں ان کا ذکر کرنے سے منع کر دیا گیا۔ اس مقدمے کے مشہور نظر بند سیّد قطب نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا، تو عدالت نے یہ کہہ کر روک دیا: ’’تمام ملزمان جھوٹے ہیں، ان کی کسی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

                ۳-            سیّد قطب اور دوسرے اخوانی نظر بندوں کو اپنی صفائی کے لیے وکیل مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

                ۴-            اس خاص عدالت کے سامنے ملزموں پر تشدد کا سوال ہوا، تو کارروائی بند کمرے میں ہونے لگی۔ اخباری نامہ نگاروں کو بھی اندر آنے کی اجازت نہ مل سکی۔

                ۵-            ایمنسٹی انٹرنیشنل بڑے افسوس سے یہ اعلان کرتی ہے کہ عدالتی کارروائی سے ان مظالم کی تصدیق ہوتی ہے جس کا اظہار نظر بندوں کی طرف سے کیا گیا۔ نیز مصر کے عدالتی نظام کی غیر جانب داری بھی مشکوک معلوم ہوتی ہے۔ یہ کارروائی اس اعتبار سے بھی غیر تسلی بخش ہے کہ سماعت کے وقت ملزم جسمانی اعتبار سے صحت مند نہیں تھے۔ بعض مقدمات میں تو ایک ملزم کو صرف دو منٹ کا وقت دیا گیا۔

یہ تمام حقائق مصری قانونِ انصاف کی غیر جانب داری کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ لازم ہے کہ حکومت ملزموں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور کھلے عام منصفانہ مقدمے کی کارروائی کا موقع دے۔

۹؍اپریل۱۹۶۶ء کو اس ٹربیونل نے صحافیوں کا داخلہ بھی کمرۂ سماعت میں روک دیا۔ کیونکہ سیّد قطب کے حوالے سے تشدد کی خبر دنیا بھر میں پھیل گئی تھی۔ جوں ہی کار روائی شروع ہوئی تو فوجی جج محمد فواد الدجوی غصّے میںسیّد قطب پر برس پڑے: ’’یہ سب جھوٹ ہے‘‘۔ ۱۲؍اپریل کو جب معالم فی الطریق (جادہ و منزل) زیر بحث لائی گئی، تو اس موقعے پر یہی جج مختلف جملے پڑھ کر آگے بڑھے، تو سیّد قطب نے وضاحت کے لیے کھڑے ہو کرجواب دینا چاہا۔ مگرجج نے انھیں بولنے کی اجازت نہ دی اور کہا: ’’ہر بات واضح ہے‘‘۔ دوسری بار سیّد قطب نے جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: ’’کیا میں جواب دے سکتا ہوں؟‘‘ لیکن روزنامہ الاہرام  کے مطابق جج نے بولنے کی اجازت دینے کے بجاے کہا: ’’یہ بات بھی سزا کی مستحق ہے‘‘۔ تیسری بار صفائی پیش کرنے کی کوشش میں سیّد قطب کی زبان سے بس اتنا جملہ ہی نکل پایا تھا کہ: ’’یہ سب میں نے نہیں کہا‘‘ تو جج صاحب انھیں وہیں ٹوک کر، بہتان تراشی اور طنزو استہزا پر مبنی جملوں کے ساتھ حملہ آور ہوگئے۔ سیّد قطب نے چوتھی بار کہا: ’’مجھے اپنی بات تو کہنے کی اجازت دی جائے‘‘، مگرجج نے اس بات کا جواب دینے کے بجاے محمد یوسف ہواش کو طلب کرنے کا آرڈر جاری کر دیا تو سیّدقطب نے پھر کہا: ’’ایک منٹ‘‘ لیکن جج نے بات کرنے سے روک دیا۔ (روزنامہ الاہرام، قاہرہ ۱۱-۱۳؍اپریل۱۹۶۶ئ)

اخوان کے ان اکابرملزموں کی پیروی کرنے والا کوئی وکیل اس نام نہاد عدالت میں موجود نہیں تھا۔ ’فرانسیسی نیشنل بار ایسوسی ایشن‘ کے سابق صدر ولیم تھروپ اور ممتاز قانون دان اے جے ایم ونڈال اور مراکش کے دو سابق وزراے قانون اور متعدد نامور وکلا نے مقدمے کی پیروی کے لیے اجازت چاہی، جسے اس عدالت نے مسترد کر دیا۔ سوڈان سے وکلا رضاکارانہ طور پر قاہرہ پہنچے اور قاہرہ ایسوسی ایشن سے رجسٹریشن حاصل کر کے جونہی عدالت پہنچے، تو انھیں پولیس نے تشدد کرکے عدالت کے احاطے سے بھگا دیا اور فوراً مصر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

سزاے موت پر ردعمل

اسی ’ترقی پسند‘ ،’روشن خیال‘، اور قوم پرست فوجی عدالت نے ۲۲؍اگست ۱۹۶۶ء کو     سیّد قطب، محمدیوسف ہواش اور عبدالفتاح اسماعیل کے لیے سزاے موت کا حکم سنا دیا۔

  •   یہ فیصلہ سنتے ہی سیّدقطب نے بڑے باوقار انداز سے ججوں کو مخاطب کرکے فرمایا:

مجھے پہلے سے اس بات کا علم تھا کہ اس مرتبہ حکومت میرے سر کی طالب ہے۔ مجھے نہ اس پر افسوس ہے اور نہ اپنی موت کا رنج، بلکہ میں خوش ہوں کہ اپنے مقصد کے لیے جان دے رہا ہوں۔ اس بات کا فیصلہ تو آنے والا مؤرخ ہی کرے گا کہ ہم راہ راست پر تھے یا کہ حکومت؟

  •  سیّد مودودی: اسی روز لاہور سے سیّد مودودی نے حسب ذیل بیان جاری فرمایا:

قاہرہ کی تازہ اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں اخوان المسلمون کے خلاف   عدالتی کارروائی کا جو ڈراما ہو رہا تھا، اس کے نتیجے میں عالمِ اسلامی کے نہایت ممتاز مفکر، عالم اور صاحبِ قلم سیّد قطب اور چھے دوسرے اصحاب کے لیے سزاے موت کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور باقی ۲۸؍اشخاص کو طویل قید کی سزائیں دی گئی ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے ۱۹۵۴ء میں صدر ناصر کی حکومت دنیاے اسلام کی ایک نہایت قیمتی شخصیت سید عبدالقادر عودہ کو اپنی سیاسی اغراض پر قربان کر چکی ہے، جن کی کتاب اسلامی قانونِ تعزیرات کو آج تمام اہل علم خراجِ تحسین ادا کر رہے ہیں۔

اب پھر ایک دوسری قیمتی شخصیت کو انھی اغراض کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، جس کی کتاب اسلام میں عدل اجتماعی اور جس کی تفسیر فی ظلال القرآن اسلامی لٹریچر میں ہمیشہ یاد گار رہنے والی چیزیں ہیں۔ درحقیقت یہ ہماری انتہائی بدقسمتی ہے کہ مصر کے حکمران ایسے نازک وقت میں، جب کہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات عرب اور اہلِ عرب کے خلاف روز بروز ترقی پر ہیں، اپنی ساری طاقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صرف کیے جا رہے ہیں۔

اس وقت ضرورت ہے کہ دنیاے اسلام کے ہر گوشے سے ان حکمرانوں پر اس روش سے باز آجانے کے لیے اخلاقی دبائو ڈالا جائے۔ جس عدالتی کارروائی کو انھوں نے اخوان پر یہ ظلم ڈھانے کے لیے بہانہ بنایا ہے، اس کو ایمنسٹی انٹر نیشنل پوری طرح   بے نقاب کر چکی ہے، اور صدر ناصر کے سوا کوئی شخص بھی یہ باور نہ کرے گا کہ اس    نام نہاد عدالت میں فی الواقع یہ مظلوم لوگ مجرم ثابت ہوئے ہیں۔

پھر ۲۶؍اگست کو مولانا مودودی نے مصری صدر کے نام یہ اپیل ارسال کی:’’سیّد قطب دنیاے اسلام کا مشترک سرمایہ ہیں۔ خدارا، اس قیمتی مسلمان کی زندگی کو ختم نہ کیجیے‘‘۔

۲۶؍اگست ہی کو نومسلمہ مریم جمیلہ نے مصری صدر ناصرکے نام برقی خط بھیجا: ’’آپ کے پاکستانی بھائی، سیّد قطب اور دوسرے اخوانی رہنمائوں کو سزاے موت سناے جانے کے فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار اور شدید احتجاج کرتے ہیں۔ خدانخواستہ، آپ کے ہاتھوں ان کی موت دنیاے عرب ہی نہیں بلکہ دنیاے اسلام کے لیے ایک ناقابلِ تلافی علمی اور تہذیبی نقصان ہوگا۔ اگر آپ نے اس سزا پر نظر ثانی نہ کی، تو اللہ تعالیٰ آپ کے اس جرم کو کبھی معاف نہیں کرے گا‘‘۔

پوری دنیا سے سیّدقطب کی رہائی کے لیے اپیلیں شروع ہو گئیں، البتہ پاکستان اور ہندستان میں مضبوط مذہبی تعلیمی روایت رکھنے والے مکتب فکر کے چند حضرات نے ناصر کے اقدامات کی تائید کی۔ یہ ناصر حکومت کی خوش قسمتی تھی کہ اسے دنیابھر کی کمیونسٹ پراپیگنڈا مشینری کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اس غوغا آرائی نے ناصر کو ہیرو بنائے رکھا، حالانکہ وہ اپنی قوم اور مسلمانوں کے لیے دہشت، ظلم، ذلت اور شکست خوردگی کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

آخری ملاقات

سیّد قطب کی سب سے چھوٹی بہن حمیدہ قطب، اپنے بڑے بھائی کی شہادت سے ایک رات پہلے کی رُوداد بیان کرتی ہیں:

۲۸؍اگست۱۹۶۶ء کی رات، جب کہ میں جیل ہی میں تھی، جیلر صفوت نے مجھے طلب کیا اور کہا: ’’یہ دیکھو تمھارے بھائی کی موت کا آرڈر، اسے کل پھانسی دے دی جائے گی۔ حکومت چاہتی ہے کہ تمھارا بھائی سیّد ہماری بات کا جواب ’ہاں‘ میں دے۔ اگر وہ جواب ’ہاں‘ میں نہیں دے گا تو صرف تم اپنا بھائی نہیں ضائع کر دو گی، بلکہ ہم اور مصر بھی اسے کھو دیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اسے پھانسی دی جائے، ہم اسے بچانا چاہتے ہیں۔ اسے سمجھانے اور بچانے میں صرف تم ہماری مدد کر سکتی ہو۔ تم سیّد سے یہ بات لکھوا دو: ’’ہماری تحریک کا تعلق کسی نامعلوم گروپ سے ہے‘‘۔

میں نے کہا: ’’یہ آپ کو بھی معلوم ہے اور مجھے بھی ،اور خود ناصر کو بھی معلوم ہے کہ اخوان کا تعلق کسی ملکی یا غیر ملکی ناپسندیدہ گروپ سے نہیں ہے، تو پھر میں یہ بات کیوں اپنے بھائی سے کہوں؟‘‘

جیلر نے کہا: ’’تم ٹھیک کہتی ہو، ہمیں معلوم ہے کہ تمھارا تعلق کسی ایسے ناپسندیدہ گروہ سے نہیں ہے اور آپ اچھے لوگ ہیں، لیکن سیّد کو بچانے کے لیے ہمیں اس تحریر کی ضرورت ہے‘‘۔

میں نے کہا: ’’اس بات پر بھائی کا جواب مجھے معلوم ہے، لیکن اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان تک یہ بات پہنچا دیتی ہوں‘‘۔

جیلر نے عملے سے کہا: ’’اسے سیّد قطب کے پاس لے چلیں‘‘۔

میں نے جیلر اور عملے کی موجودگی ہی میں بھائی تک پیغام پہنچایا۔

بھائی سیّد نے میرے چہرے کی طرف اس طرح دیکھا کہ گویا پوچھ رہے ہوں: ’’کیا تم بھی یہی چاہتی ہو یا یہ چاہتے ہیں؟‘‘

میں نے اشارے سے ان کو بتایا: ’’یہ چاہتے ہیں‘‘۔

پھر بھائی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’خدا کی قسم! اگر یہ بات سچی ہوتی تو میں لکھ دیتا اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے یہ کہنے اور لکھنے سے نہ روک پاتی، لیکن چونکہ یہ بات ہے ہی سراسر جھوٹ، اس لیے میں کسی صورت میں جھوٹ نہیں بولوں گا‘‘۔

جیلر صفوت نے سیّد بھائی سے کہا: ’’اچھا، تو پھر آپ کی یہی راے ہے؟‘‘

سیّد بھائی نے کہا: ’’ہاں، یہی ہے‘‘۔

جیلر مجھے یہ کہہ کر چلا گیا: ’’اپنے بھائی کے پاس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ لو‘‘۔

اب ہم دونوں بہن بھائی اکیلے تھے، اور یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔ میں نے بھائی کو بتایا کہ: ’’اس نے مجھے طلب کرکے کیا آرڈر دکھائے، اور کیا بات کی، اور میں نے کیا جواب دیا‘‘۔

سیّد بھائی نے ساری بات سننے کے بعد براہ راست مجھ سے پوچھا: ’’کیا تمھیں یہ بات پسند ہے کہ میں وہ بات لکھ دوں جو یہ چاہتے ہیں؟‘‘

میں نے بھائی کو ایمان اور دکھ سے لبریز ایک حرفی جواب دیا: ’’نہیں‘‘۔

پھر سیّد بھائی نے کہا: ’’زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے، یہ لوگ میری زندگی کا فیصلہ نہیں کرسکتے، یہ نہ میری زندگی میں کمی کر سکتے ہیں اور نہ اضافہ، مجھے وہی منظور ہے جو اللہ کو منظور ہے‘‘۔

شھادت کے لمحے

اب یہاں پر مصری جیل خانہ جات پولیس کے دو اہل کار بھائیوں کی یادداشت پیش کی جا رہی ہے، کہ جب وہ ۲۹؍اگست۱۹۶۶ء کے روز سیّد قطب کی پھانسی کے وقت موقعے پر موجود تھے۔ یہ روایت محمد عبدالعزیز المسند نے تحریر کی ہے:

’’جس چیز نے ہماری زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا، وہ یہ مناظر تھے‘‘۔

ہم ہر رات فوجی جیل [قاہرہ] میں بوڑھے اور جوان قیدی وصول کرتے تھے۔ ان کے بارے میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ: ’’یہ یہودیوں کے ساتھی، بڑے خطر ناک اور غدار ہیں، ان سے تمام راز اگلوانے ضروری ہیں، اور یہ کام صرف تشدد ہی سے کیا جا سکتا ہے‘‘۔

ان قیدیوں کو ہم جیل جانے میں کوڑوں اور چھڑیوں سے اتنا مارتے کہ ان کے جسموں کی رنگت تبدیل ہو جاتی۔ یہ کام کرتے وقت ہمیں اس بات کا پورا یقین تھا کہ ہم ایک مقدس قومی   ذمہ داری ادا کررہے ہیں، لیکن دوسری طرف ہم نے ہمیشہ یہ بھی دیکھا کہ وہ ’غدار‘ راتوں میں مسلسل اللہ کو پکارتے تھے اور سختی سے نمازوں کی پابندی کرتے تھے۔

ان میں سے کچھ تو بدترین تشدد اور وحشی کتوں کے جبڑوں میں نوچے جانے کے سبب موت کے گھاٹ اتر گئے، لیکن حیرت ناک منظر یہ تھا کہ وہ پھر بھی مسکراتے اور مسلسل اللہ کا نام لیتے رہے۔ یہ دیکھ کر ہم کبھی کبھار اس شک میں پڑ جاتے کہ ہمیں حکام بالا نے جو بتایا ہے، وہ درست ہے یا نہیں۔ کیونکہ یہ بات ناقابلِ یقین تھی کہ: ’’اتنے پختہ ایمان اوریقین رکھنے والے یہ لوگ ملک کے غدار اور یہودی دشمنوں کے ساتھی ہو سکتے ہیں‘‘۔ میں نے اور میرے بھائی نے فوجی حکام کا یہ رویہ دیکھ کر طے کیا کہ ہم ممکن حد تک ان قیدیوں کو تکلیف پہنچانے سے گریز کریں گے۔

کچھ ہی مدت بعد قید خانے کے اس حصے سے تبدیل کرکے ہماری ڈیوٹی ایک ایسی کوٹھڑی پر لگائی گئی، جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ: ’’اس میں سب سے خطر ناک قیدی اور ان تمام مجرموں کا سرغنہ قید ہے، جس کا نام سیّد قطب ہے‘‘۔ اس قیدی کی کوٹھڑی پرتعینات ہوئے، تو ہم نے دیکھا کہ اب تک اس شخص پر اتنا تشدد کیا جا چکا تھا کہ اس کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا تک مشکل تھا۔

اسی نگرانی کے دوران میں ایک رات اس خطر ناک قیدی کی پھانسی کے احکامات موصول ہوئے، اور احکامات آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد اس شخص کے پاس ایک سرکاری مولوی صاحب کو لایا گیا، جنھوں نے اس قیدی سے کہا: ’’اپنے گناہوں کی توبہ کرلو‘‘۔ جواب میں قیدی نے کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالا، بس ایک گہری نگاہ سے ان مولوی صاحب کا چہرہ دیکھا، اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

اگلی صبح سرکاری احکامات کے مطابق ہم دونوں اس قیدی کے ہاتھ باندھ کر، کوٹھڑی سے باہر ایک بندگاڑی میں لے گئے۔ اس گاڑی میں دو قیدی پہلے سے موجود تھے۔ کچھ ہی لمحوں بعد یہ گاڑی پھانسی گھاٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔ ہمارے پیچھے کچھ مصری فوجی گاڑیاں تھیں، جو قیدیوں کو غالباً فرار ہونے سے باز رکھنے کے لیے ساتھ ساتھ آ رہی تھیں (حالانکہ ہم جیل کی چاردیواری کے اندر ہی تھے)۔ اس فوجی قافلے میں شامل ہر سپاہی نے ذاتی پستول کے ساتھ اپنی اپنی پوزیشن سنبھال رکھی تھی۔

جلّاد ان قیدیوں کو پھانسی دینے کے لیے تیاریاں مکمل کر چکے تھے۔ مخصوص پھانسی گھاٹ کے تختے پر کھڑا کرکے، دوسرے دو ساتھیوں کے ساتھ اس خاص شخص کی آنکھیں کالی پٹیوں سے باندھی اور گردن میں رسا ڈال دیا گیا۔ ایک چاق و چوبند جلّاد، اس شخص اور اس کے دو ساتھیوں کے قدموں تلے تختے کو گرانے کے احکامات کا منتظر تھا۔ اس حکم کے لیے بطور علامت، ایک کالے جھنڈے کو لہرایا جانا تھا۔

ہم صاف لفظوں میں سن رہے تھے کہ وہ تینوں قیدی تختۂ دار پر بلندآواز میں ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے جنت میں ملنے کی خوش خبری کا تبادلہ کر رہے تھے۔ اور بار بار کہہ رہے تھے: اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد[اللہ عظیم ہے اور تمام تعریفیں اس کے لیے ہیں]۔

ان دردناک اور سانس روک دینے والے لمحات میں ہم نے ایک فوجی گاڑی کو بڑی تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھا۔ جوں ہی ہمارے قریب پہنچ کر گاڑی کا دروازہ کھلا، تو اس میں سے ایک اعلیٰ فوجی افسر نمودار ہوا، جس نے بلند آواز میں، جلّاد کو فوراً پیچھے ہٹنے کو کہا۔

وہ افسر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے سیّد کی طرف بڑھا اور اس کی گردن سے رسا ہٹانے اورآنکھوں سے پٹی کھولنے کا حکم دیا۔ پھر کپکپاتی آواز میں سیّد سے یوں مخاطب ہوا: ’’میرے بھائی سیّد، میں تمھارے پاس رحم دل صدر [جمال ناصر]کی طرف سے زندگی کا تحفہ لایا ہوں۔ صرف ایک جملہ تمھیں اور تمھارے دوستوں کو موت سے بچا سکتا ہے‘‘۔

اس نے سیّد کے جواب کا انتظار کیے بغیر ایک کاپی کھولی اور کہا:

’میرے بھائی، تم صرف یہ جملہ لکھ دو، ’میں نے غلطی کی تھی اور میں معافی مانگتا ہوں۔‘

سیّد کے چہرے پر ایک ناقابل بیان مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ افسر کی طرف دیکھا اور  حیران کن طور پر، مطمئن لہجے میں افسر سے مخاطب ہو کر کہا:

’’نہیں، کبھی نہیں۔ میں اس عارضی زندگی کو، ہمیشہ کی زندگی پر ترجیح نہیں دے سکتا‘‘۔

فوجی افسر نے مایوسی بھرے لہجے میں کہا: ’’سیّد، اس کا مطلب صرف موت ہے‘‘۔

سیّد نے جواب دیا: ’’اللہ کے راستے میں موت کو خوش آمدید، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد‘‘۔

یہ جواب سیّد کے عقیدے کی پختگی ظاہر کرتا تھا۔ اس سے زیادہ مکالمے کو جاری رکھنا ناممکن تھا۔ افسر نے جلاد کو پھانسی لگانے کے لیے پکارتے ہوئے اشارا کیا۔ اس آخری لمحے میں ان کی زبانوں سے جو جملہ نکلا، وہ ہم کبھی نہیں بھول سکتے:  لا اِلٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ۔

اورپلک جھپکنے سے پہلے سیّد قطب اور ان کے دونوں ساتھیوں کے جسم، لٹکتے رسّوں پر جھول گئے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

شھادت پر سیّد مودودی کا کرب

[چودھری غلام جیلانی روایت کرتے ہیں]’’ریڈیو پاکستان سے سیّد قطب کی شہادت کی خبر سنتے ہی میں بے چین ہو کر، دکھی دل کے ساتھ مولانا مودودی کے گھر اور جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر۵۔ اے ذیلدار پارک اچھرہ کی طرف چل پڑا۔ راستے میں مولانا گلزار احمد مظاہری بھی ساتھ ہو لیے۔ مولانا نے ہمیں معمول کے خلاف اپنے دفتر میں داخل ہوتے دیکھا: میں اور مولانا گلزار احمد ایک جانب کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ مولانا کے چہرے سے شگفتگی غائب تھی۔

مولانا گلزاراحمد مظاہری نے کہا: ’’مولانا، شہداے اخوان کی تعزیت آپ سے نہ کی جائے تو اور کس سے کی جائے؟‘‘

مجھے یاد آیا، ایک بار مولانا نے شگفتہ انداز میں فرمایا تھا: ’’مجھ میں ایک بہت بڑا عیب ہے، اور وہ یہ کہ میرا چہرہ میری داخلی کیفیت کو ظاہر نہیں ہونے دیتا‘‘… لیکن آج یہ پہلا موقع تھا کہ دل کا حزن اور طبیعت کا ملال مولانا کے چہرے اور آواز سے مترشح تھا۔

مولانا نے فرمایا: ’’اللہ جب کسی کو محبوب رکھتا ہے تو اسے اِسی راہ سے اپنے پاس بلاتا ہے‘‘۔

مجھے یکا یک ایسا محسوس ہوا کہ گویا مولانا کے الفاظ ان کے آنسوئوں میں بھیگ رہے ہیں۔ کمرے میں سناٹا سا طاری تھا۔ پنکھا چل رہا تھا، لیکن روح کی انگیٹھی گویا دہکنے لگی تھی۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا، جیسے مولانا نے آج اپنے پاسبانِ فکر کو رخصت دے دی تھی، اور اب وہاں فقط ایک  بندۂ مومن کا دل تھا، جو اپنے ہمراہی کے غم میں ڈوب رہا تھا۔

قدرے توقف کے بعد مولانا مودودی نے فرمایا:

میرا توکل سے برا حال ہو رہا ہے۔ آج صبح [۲۹؍اگست۱۹۶۶ئ] جب میں ناشتہ کرکے اپنے دفتر میں کام کرنے کے لیے آیا، تو مجھے اچانک ایسا محسوس ہوا گویا مجھ پر depression [افسردگی]سا طاری ہو رہا ہے۔ میں نے اخبار اٹھا کر پڑھنا چاہا، لیکن میرا دماغ، میری نگاہوں کا ساتھ نہ دے رہا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ مجھ پر یہ کیفیت کیوں طاری ہے؟ ذہن منتشر تھا اور کوشش کے باوجود کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے روشنی گل کر دی اور بستر پر لیٹ گیا۔ دوپہر کے قریب اٹھا، تو بھی کیفیت میں وہی اضمحلال رچا ہوا تھا۔ اتنے میں [بیٹے] محمدفاروق نے آکر اطلاع دی کہ ریڈیو سے اعلان ہوا ہے کہ سیّد قطب اور ان کے دو ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ تب میں سمجھا کہ مجھ پر یہ depression کیوں طاری تھا۔ جس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میرا دل اچانک بیٹھ رہا ہے، تو غالباً وہ وہی وقت تھا ، جب سیّد قطب کو تختۂ دار پر لٹکایا جا رہا ہوگا۔

یہاں پہنچ کر مولانا مودودی کی آواز شدتِ جذبات سے بالکل رُندھ گئی۔ ہم خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ مولانا نے اچانک میز پر پڑے کاغذات کی جانب ہاتھ بڑھا دیا، اور ہم سمجھ گئے کہ مولانا اس موضوع پر کچھ زیادہ بول کر اپنے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں کرنا چاہتے اور زندگی کی مہلت کو اسی خالق کی راہ میں صرف کرنے کو مطلوب سمجھتے ہیں‘‘۔

۲۹؍اگست، سہ پہر ریڈیو پر سیّد قطب اور ان کے دوساتھیوں کو پھانسی دیے جانے کی خبر سن کر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اخبارات کو یہ بیان دیا:

آج صدر ناصر نے سیّد قطب اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی دے کر پوری دنیاے اسلام کے دل میں زخم ڈال دیے ہیں ، اور اسلامی تاریخ میں اپنے لیے ایک ایسی جگہ پیدا کر لی ہے، جو کسی کے لیے باعث ِعزت نہیں ہو سکتی۔ مصری حکومت کے سارے پراپیگنڈے کے باوجود آج کوئی شخص بھی یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ العدالۃ الاجتماعیہ فی الاسلام (اسلام اور عدلِ اجتماعی) کا مصنّف واقعی سزاے موت کا مستحق مجرم تھا۔ اس فعل پر دشمنانِ اسلام تو ضرور خوش ہوں گے، مگر کوئی مسلمان اس پر ہرگز خوش نہیں ہو سکتا۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان شہیدوں کی قربانیاں قبول فرمائے، اور مصر کی سرزمین کو زیادہ عرصے تک عدل و انصاف کی نعمت سے محروم نہ رکھے۔

o

یاد رہے، خود سیّد قطب، مولانا مودودی کے علمی و فکری اثاثے کے دل و جان سے قدر دان تھے۔ انھوں نے فی ظلال القرآن میں متعدد مقامات پر اس کا والہانہ اعتراف کیا ہے۔ یہاں پر صرف دو اقتباس دیے جاتے ہیں:

  •  ان قیمتی اور دقیق مباحث کو سمجھنے کے لیے مسلم العظیم سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ان تحریروں کی طرف رجوع کیا جائے، جو سود، اسلام اور جدید معاشی نظاموں کے بارے میں لکھی گئی ہیں۔
  • اسلام میں جہاد کی حقیقت اور دین اسلام کی حقیقت کو بیان کرنے میں ہماری مدد وہ مختصر مگر گراں قدر پمفلٹ کرتا ہے، جس کو ہمارے لیے مسلم العظیم سید ابوالاعلیٰ مودودی، امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مہیا کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے: جہاد فی سبیل اللہ۔ ضروری ہے کہ ہم اس کے چند طویل اقتباسات یہاں نقل کریں، کیونکہ تحریک اسلامی کی تعمیر کے اس اہم اور دور رس نتائج کے حامل موضوع سے وہ قاری نظر نہیں بچا سکتا، جو اس موضوع کو واضح اور صحیح طور پر سمجھنا چاہتا ہو۔

اخوان المسلمون کے رہنمائوں کو جب موت کی سزائیں سنائی گئیں، تو پورا عالم اسلام غم و اندوہ کی تصویر بن کر تھرا اٹھا، یہ اس کا پہلا رد عمل تھا۔ دوسرا رد عمل یہ تھاکہ وہ سراپا احتجاج بن گیا۔ اور  آخر وقت تک میں مصر کے ارباب اختیار کو اس ہولناک گناہ کے ارتکاب سے روکنے کی کوشش کی، مگر مشیت الٰہی کو یہ منظور نہ تھا۔ جن نفوسِ قدسیہ کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے شہادت کی سعادت  لکھ دی تھی، وہ عالم اسلام کے احتجاج کی بنا پر اس سعادت سے کیوں کر محروم کیے جا سکتے تھے؟ اور جن کے لیے عذاب الٰہی کانوشتہ لکھا جا چکا تھا، وہ اس نوشتے کی پاداش سے کیونکر بچ سکتے ہیں۔

سیّد قطب اور ان کے ساتھیوں کے لیے یقینا موت کا ایک دن مقرر تھا۔ ان کی زندگی کے ساغر کے لبریز ہو کر چھلک جانے کی ایک ساعت متعین تھی، اس میں نہ تقدیم ہو سکتی تھی، نہ تاخیر۔ ان خادمان حق نے اپنی زندگیاں دینِ حق کی خدمت میں بسر کی تھیں اور وقت آگیا تھا کہ ان کے حسنِ عمل کو قبولیت حاصل ہو: قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَا کَتَبَ لَنَا(التوبہ۹:۵۱) ’’ان سے کہو، ہمیں ہرگز کوئی(بُرائی یا بھلائی) نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے شہادت لکھ رکھی تھی۔ لہٰذا، بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر عالم آخرت کا سفر اختیار کرنے کے بجاے وہ شہادت کا تاج سر پر رکھے، رحمت کے فرشتوں کے دوشِ سعادت پر سوار ہو کر اپنے پروردگار کے جوارِ رحمت میں چلے گئے۔ اس اعتبار سے سیّد قطب نہایت خوش قسمت تھے۔

سیّد قطب کی شہادت پر اہلِ حق اس لیے غم زدہ نہیں ہوئے تھے کہ وہ موت کی آغوش میں چلے گئے، موت کی آغوش میں تو ہر شخص کو جو پیدا ہوا ہے، جانا ہے۔ افسوس اور غم اس پرہوا کہ اسلام اور عالمِ اسلام ان کی خدمات سے محروم ہوگیا۔ افسوس ان کی موت کا نہیں، افسوس عالم اسلام کی  بے بسی کا ہوا۔ یہ شہیدانِ حق خوش نصیب تھے۔ بدنصیب تو وہ تھے جو اپنے زعم میں یہ سمجھ رہے تھے کہ انھوں نے اپنے اقتدار کی راہ سے چند کانٹوں کو ہٹادیا ہے۔ کیا خوب کہا تھا، آل فرعون کے ایک آدمی نے، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا کہ:

اے میری قوم کے برسراقتدار لوگو، آج تمھیں ملک میں اقتدار حاصل ہے اور تم جو چاہو کر سکتے ہو، مگر یہ تو بتائو کہ خدا کے عذاب سے تمھیں کون بچائے گا، جب کہ وہ آئے گا۔

سیّد قطب اور ان کے رفقا پر تشدد اور ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اور انھیں پھانسی کے پھندوں پر لٹکانے والے ذلت کی زندگی جئے اور ذلت کی موت مرے۔

اس بندۂ مومن کی یہ صدا ہزاروں برس سے مسلسل فضاے بسیط میں گونج رہی ہے۔ یہ صدا ہر اس موقعے پر نشۂ اقتدار میں بدمست ان لوگوں کو جھنجھوڑتی ہے، جو اس چند روزہ زندگی کے مزے کی خاطر خدا کے دین کی طرف بلانے والوں کو اپنی راہ سے ہٹانے کے لیے اپنے اقتدار کی اندھی، بہری اور حیوانی طاقت سے کام لیتے ہیں۔

مغربی پراپیگنڈے کی حقیقت

پروفیسر جان کیلورٹ( شعبہ تاریخ، گیریگٹن یونی ورسٹی، اوماہا، ریاست ہزاسکا) کو سیّدقطب پر تخصّص حاصل ہے۔ وہ ان کے بارے میں مغرب کے منفی پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہیں: ۲۰۱۰ء میں کولمبیا یونی ورسٹی سے شائع شدہ اپنی کتاب Sayyid Qutb and the Origins of Radical Islamism [سیّد قطب اور انقلابی اسلام]میں لکھتے ہیں:

مصر کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والا سادا سا نوجوان سیّدقطب، پہلے پہل ایک سیکولر قوم پرست تھا، مگر مطالعے اور حالات کے معروضی مشاہدے نے اسے تبدیل کردیا۔ جس کے نتیجے میں وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سماجی، معاشی اور سیاسی تبدیلی لانے کے لیے مصلح بن کر سامنے آیا۔ امریکا کے سفر نے سیّدقطب کو مشتعل نہیں کیا، بلکہ ان کے اسلامی سماجی، معاشی اور سیاسی مطالعے کو اور زیادہ دلائل و تقویت فراہم کی۔ درحقیقت سیّدقطب کے انقلابی تصورات کی تشکیل کا بنیادی قصّہ یہ ہے کہ: مغربی سامراجی اور مابعد نوآبادیاتی دھونس کے خلاف جدوجہد نے انھیں ظلم کے خلاف ابھارا، جس میں وہ سامراجیت، اشتراکیت، قوم پرستی اور سرد جنگ کے جبر کو چیلنج کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔

سیّد قطب نے مطالعہ قرآن سے دل بستگی اور ایثار و قربانی کا سبق حاصل کیا۔ تاہم، ان کے انقلابی تصورات کی تشکیل میں دو چیزوں کو بنیادی دخل حاصل ہے: پہلا یہ کہ عصرِ حاضر اوراس کے افکار و نظریات کا وسیع تنقیدی مطالعہ۔ دوسرا یہ کہ آمرِ مطلق ناصر کے ہاتھوں مصر کی جیلوں میں اخوان کے کارکنوں پر ہولناک مظالم۔ اس کے باوجود سیّدقطب کے ہاں ’تصورجاہلیت‘ میں کہیں یہ بات شامل نہیں ہے کہ جاہلیت زدہ یا بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جائے۔ اس لیے سیّدقطب کو نائن الیون یا القاعدہ سے جوڑنا، مغربی دانش وروں اور مقتدر قوتوں کی کم فہمی اور کج روی ہے۔

یاد رہے کہ مصر کے نوبیل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ (۱۹۱۱ئ- ۲۰۰۶ئ) نے برملا اعتراف کیا: ’’مجھے تاریکی اور ظلمت سے نکالنے والی ہستی سیّدقطب ہی تھے‘‘۔ علامہ عبدالعزیز بن باز (۱۹۱۰ئ-۱۹۹۹ئ)کہتے ہیں: ’’سیّدقطب راہ خدا کے داعی تھے۔ جب اللہ نے ان کو سیدھا راستہ دکھایا تو انھوں نے قرآن کریم سے خوب لو لگائی‘‘۔

سیّد قطب شہید کی اخوان المسلمون سے وابستگی سے پہلے کس کو معلوم تھا کہ یہ نوجوان دنیا کی عظیم اسلامی شخصیت ہوگا، اسلام کو اس کے ذریعے روحانی طاقت حاصل ہو گی۔ اسے اصلاح معاشرہ اور اشاعت ِ اسلام کی عظیم تحریک کی رفاقت کی سعادت حاصل ہوگی۔

بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے سیّد قطب ایک جانب اپنی تین بہنوں: نفیسہ قطب، امینہ قطب، حمیدہ قطب اور اکلوتے بھائی محمد قطب کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کی جانب متوجہ  رہے اور باقی وقت ملازمت، صحافت اور قومی جدوجہد میں مصروف رہے۔ ۴۴برس کی عمر میں  اخوان المسلمون سے منسلک ہوئے اور ۴۷برس کی عمر میں دس سال قید بامشقت میں جکڑ دیے گئے۔ ۵۷برس کی عمر میں رہا ہوئے اور ۵۸برس کی عمر میں دوبارہ گرفتار کرلیے گئے۔ اسی دوران ۵۹برس اور ۱۱ ماہ کی عمر میں جامِ شہادت نوش کرکے حیاتِ جاوداں پاگئے۔ ان کٹھن شب وروز میں وہ شادی نہ کر پائے۔ اس دنیا میں ان کی اولاد ان کی ۲۵کتب اور ان سے فیض پانے والے لاکھوں فرزندانِ اسلام ہیں۔

سیّد قطب گندمی رنگ، درمیانی قامت، اکہرے بدن،بڑی بڑی روشن آنکھوں اور  کشادہ پیشانی کے مالک تھے۔ یہاں ان کے بھائی بہنوں کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے:

  • نفیسہ قطب(۱۹۰۴ئ)، سیّد قطب کی بڑی بہن تھیں، ان کے شوہر بکر شافع تھے۔ اولاد میں چار بیٹے: محمد، فتحی، رفعت اور عزمی تھے، جب کہ دو بیٹیاں: فتحیہ اور مدیحہ تھیں۔ نفیسہ سمیت ان کا پورا خاندان اخوان سے منسلک تھا۔ یہ بھی صدر ناصر کی قید میں رہیں۔ ۱۹۶۵ء کے دوران جیل میں سیّدقطب کے سامنے ان کے بھانجے رفعت ابن نفیسہ کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ رفعت بی ایس سی جیالوجی (ارضیات) تھے، جب کہ چھوٹے بھانجے عزمی ابن نفیسہ پر اتنا تشدد کیا گیا کہ ان کا جاں بر ہونا ناممکن دکھائی دیتا تھا۔
  • محمد قطب(۲۲؍اپریل۱۹۱۹ئ، اسیوط، مصر-۴؍اپریل۲۰۱۴ئ، المعلاۃ، مکہ مکرمہ) سیّدقطب سے ۱۳ برس چھوٹے ایک ہی بھائی تھے۔ ۱۹۴۰ء میں قاہرہ یونی ورسٹی سے ایم اے انگریزی کیا۔ پھر تعلیم وتربیت اور نفسیات کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا۔ متعدد بار جیل میں رہے، اوربہت زیادہ تشدد برداشت بھی کیا، بلکہ ایک عرصے تک مشہور رہا کہ شہید کر دیے گئے ہیں۔ ۱۹۷۲ء میں رہا ہوئے۔جلاوطنی کی زندگی کا پورا عرصہ سعودی عرب میںگزارا، جہاں اعلیٰ یونی ورسٹیوں سے منسلک رہے۔ پروفیسر محمد قطب کا یہ قول بہت وسعت رکھتا ہے: ’’صرف سمع و اطاعت پر تربیت دینا ’سپاہی‘ اور ’کارکن‘ تو پیدا کر دے گا، مگر قیادت پیدا نہیں کرے گا‘‘۔ پھریہ کہ: ’’ہمارا سب سے بنیادی اور سب سے بڑا مسئلہ لوگوں پر حکم لگانا نہیں، بلکہ لوگوں کو اسلام کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہے‘‘۔ انھیں ۱۹۸۸ء میں ’شاہ فیصل عالمی ایوارڈ‘ ملا، جب کہ انھوں نے ۳۶علمی کتب تحریر کیں۔
  • دوسری بہن امینہ قطب (۱۹۲۷ئ- ۷؍جنوری۲۰۰۷ئ)، سیّد قطب سے ۲۱ برس چھوٹی تھیں اور ان کے قیام امریکا کے دوران اخوان سے وابستہ ہو چکی تھیں۔ بہت ذہین، ادیبہ، شاعرہ اور افسانہ نگار تھیں۔ ان کی تخلیقات معروف ادبی رسالوں میں شائع ہوتیں۔ افسانوں کے دومجموعے تیارالحیاہ (زندگی کا راستہ) فی الطریق (راستے میں) اور دیوان رسائل الٰی شہید شائع ہوئے۔ زندگی کا ایک حصہ جیل میں گزرا۔ ڈاکٹر محمد کمال سنانیری سے طویل عرصے تک نسبت رہی۔ ۲۰برس کی قید گزارنے والے ڈاکٹر کمال نے پیغام بھیجا: ’’میری رہائی کا کچھ پتا نہیں، آپ نکاح کر لیں‘‘۔ امینہ قطب نے جواب بھیجا: ’’میں انتظار کروں گی‘‘۔ اس طرح جب ڈاکٹر کمال رہا ہوئے تو وہ ۵۰ برس کی تھیں۔ نکاح کے چند برسوں بعد ڈاکٹر کمال دوبارہ گرفتار کرکے شہید کردیے گئے۔
  • تیسری بہن حمیدہ قطب(۱۹۳۷ئ-۱۷؍جولائی۲۰۱۲ئ)، سیّد قطب سے ۳۰ برس چھوٹی تھیں، اور یہ بھی سیّد قطب سے پہلے اخوان سے منسلک ہو چکی تھیں۔ ۱۹۵۴ء میں اخوان پر داروگیر کے زمانے میں، اخوان کے متاثرہ خاندانوں کی دیکھ بھال اور مدد کے لیے متحرک تھیں۔ اسی دوران میں گرفتار ہوئیں، انھیں اخوانی خواتین سے رابطہ کاری پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر ۱۹۶۵ء میں دوبارہ گرفتار کر لی گئیں اور سخت اذیت اور تشدد کے عمل سے گزریں۔ ۱۰ سال قید بامشقت سنائی گئی۔ سیّد قطب کی شہادت ان کی اسی قید کے دوران میں ہوئی، تاہم ۱۹۷۲ء میں رہا ہوئیں تو ان کا نکاح اخوان کے معروف اسکالر اور مصنف ڈاکٹر حمدی مسعود سے ہوا۔

صبحِ نو طلوع ھونے کو ھے!

شہادت سے کچھ عرصہ پہلے سیّد قطب شہید نے عزم و ایمان کے جذبات سے لبریز یہ اشعار کہے تھے:

اے میرے دوست! تو قید و بند میں بھی آزاد ہے،

توسب رکاوٹوں کے باوجود آزاد ہے،

اگر تو اللہ کا دامن مضبوطی سے تھامے ہے،

توپھر بندوں کی چالیں تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں،

اے میرے دوست! تاریکی کے لشکر فنا ہو کر رہیں گے،

اور دنیا میں صبحِ نو طلوع ہو کر رہے گی،

تو اپنی روح کو روشن اور منور ہونے تو دے،

وہ دیکھ! دور سے صبح ہمیں خوش آمدید کہہ رہی ہے،

میرے بھائی! تیرے دل پر فریب کا ایک کمزور اور ناکارہ سا تیر آکر لگا،

یہ تیر تھکے ہوئے بازوئوں نے تیری طرف نشانہ بنا کر پھینکا تھا۔

ان شاء اللہ، یہ [ظالم ]بازو ایک روز کٹ جائیں گے،

لہٰذا، تو صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھ۔

اُس منّوردن کے بعد یہ[ظالم] بازو، شیروں کے مسکن تک نہ پہنچ سکیں گے۔

میرے بھائی! تیری ہتھیلیوں سے خون کے فوارے ابل رہے ہیں،

تیرے ہاتھوں نے ان حقیر زنجیروں کے اندر شل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

تیرے ہاتھوں کی قربانی نے عرشِ اعلیٰ پر قبولیت پائی ہے

یہ ہاتھ، اس مہندی سے گل رنگ ہوں گے،جو کبھی بے رنگ نہ ہو گی۔

میرے ہم دم! آنسو بہاکر میری قبر کو ان سے تر نہ کرنا،

بلکہ میری ہڈیوں سے، تاریک راہوں میں بھٹکنے والوں کے لیے شمع روشن کرنا،

اے میرے دوست! میں معرکۂ حق سے ہرگز نہیں اکتایا،

او رمیں نے ہتھیار ہرگز نہیں ڈالے،

اگرچہ جہالت اور تاریکی کے لشکر مجھے چاروں طرف سے گھیر ہی لیں،

تب بھی مجھے صبحِ روشن کے طلوع ہونے کا پختہ یقین ہے!

اللہ نے ہمیں اپنی دعوت کے لیے منتخب کیا ہے،

ہم اُس کے راستے پر ضرور گام زن رہیں گے۔

ہم میں سے کچھ نے جان دے کر اپنی نذر پوری کر دی،

اور کچھ، اس راہ وفا میں اپنے عہد و پیمان پر قائم ہیں۔

میں بھی اپنے رب اور اس کے دین پر خود کو نچھاور کر دوں گا،

اور یقین و ایمان کے ساتھ اس راہ پہ چلتا رہوں گا،

پھر اِس دنیا میں کامرانی سے بہرہ ور ہوں گا، یا

اللہ کے پاس ابدی حیات سے ہم کنار ہوں گا!