دسمبر ۲۰۱۱

فہرست مضامین

کتاب نما

| دسمبر ۲۰۱۱ | کتاب نما

Responsive image Responsive image

رحمۃ للعالمینؐ (جلداوّل)، مؤلف: قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری، تدوین و تہذیب:  مولانا عبدالوکیل علوی، مولانا گل زادہ شیرپائو۔ ناشر:ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون:۳۵۴۳۲۴۷۶-۰۴۲۔ صفحات: ۵۶۰۔ قیمت (مجلد): ۶۵۰ روپے۔

برطانوی عہدِ غلامی میں بعض عیسائی مشنریوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ہرزہ سرائی کی تو جان نثارانِ رسولؐ نے قرطاس و قلم کے ساتھ اس کا دفاع کیا، اس سلسلے میں قاضی محمدسلیمان سلمان منصوری پوری کی کتاب رحمۃ للعالمینؐ ایک معروف و مقبول کتاب ہے۔ ۱۹۱۲ء میں شائع ہونے والی اس کتاب میں سوانح اور واقعات کے ساتھ دوسرے مذاہب کے اعتراضات، صحفِ آسمانی کا موازنہ بالخصوص یہود و نصاریٰ کے دعاوی کا اِبطال، تورات و انجیل اور عیسائی مذہب کے نہایت اہم گوشے خصوصاً مناظرانہ پہلو پیش کیے گئے ہیں۔ عیسائی مستشرقین کے اعتراضات کا مسکت جواب بھی دیا گیا ہے۔ سیرتِ نبویؐ کے واقعات کے ماہ و سال کا تعین کرنے کے ساتھ جامع معلومات کے ساتھ ساتھ غزوات و سرایا اور شہدا کا تفصیلی تذکرہ بھی موجود ہے۔

رحمۃ للعالمینؐ کو کئی اداروں نے شائع کیا ہے مگر ایک مدت گزرنے کے بعد ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ اس عظیم علمی ورثے کو جدید تقاضوں کے پیش نظر ،نظرثانی کے بعد شائع کیا جائے تاکہ موجودہ دور میں بھی اس سے بآسانی استفادہ کیا جاسکے۔ ادارہ معارف اسلامی لاہور نے اس علمی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کتاب کودو جِلدوں میں مرتب و مدّون کیا ہے۔ تدوین کا کام ادارے کے علمی معاون جناب گل زادہ شیرپائو نے انجام دیا ہے۔ اس کی پہلی جِلد زیورِطباعت سے آراستہ ہوکر سامنے آئی ہے۔ اس بات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے کہ تدوین نو کرتے ہوئے کتاب کے متن میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ عبارت میں جہاں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی اسے قلّابین میں درج کردیا گیا ہے۔ کتاب کے ابواب و فصول کی تقسیم نئے سرے سے کی گئی ہے اور حوالہ جات و حواشی کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ احادیث کی تخریج اور تکمیل و تصحیح کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ایک اہم پہلو    یہ ہے کہ کتاب میں متن اور حوالہ جات کی بعض اغلاط کی تصحیح بھی کردی گئی ہے۔ اس طرح سے  ایک اہم علمی ضرورت کو پورا کیا گیا ہے۔ (عمران ظہور غازی)


صحیح بخاری کا مطالعہ اور فتنۂ انکار ِ حدیث (حصہ اول)، تالیف: حافظ ابویحییٰ انور پوری۔ ملنے کا پتا: کتاب سراے، فرسٹ فلور، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ ۹۴۰۱۴۷۴-۰۳۰۰۔ صفحات: ۵۲۸۔ قیمت: درج نہیں۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری (۱۹۴ھ-۲۵۶ھ) کی الجامع الصحیح کو احادیث کی کتب میں صحت ِ روایت کے اعتبار سے بلند مقام حاصل ہے۔ امام بخاری نے اس کتاب میں احادیث کو ایک منفرد انداز میں روایت کیا ہے۔ روایت میں پیش نظر رکھی گئی امام کی شرائط سے  مکمل آگاہی صحیح بخاری کی استنادی حیثیت کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ان شرائط سے عدم واقفیت کی بناپر بعض لوگوں کو بخاری کی بعض روایات پر کئی اشکال پیدا ہوئے۔ چند سال قبل بھارت میں لکھی گئی شبیراحمد ازہر میرٹھی کی صحیح بخاری کا مطالعہ: بخاری کی کچھ کمزور احادیث کی تحقیق وتنقید بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کتاب لاہور سے ۲۰۰۵ء میں دو جِلدوں پر مشتمل یک جا شائع ہوئی۔ اس میں راویوں کے حوالے سے متعدد فنی،  عقلی اور تاریخی اعتراضات اُٹھائے گئے ہیں۔ اس کتاب کے پہلے حصے کا جواب زیرتبصرہ کتاب میں دیا گیا ہے۔ یہ کتاب ۱۸؍احادیث پر اعتراضات کے محاکمے پر مبنی ہے۔ ہرحدیث پر بحث کو الگ الگ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پھر یہ ابواب مزید تین تین فصلوں (حصوں) میں منقسم ہیں۔ پہلی فصل میں فنی اعتراضات، دوسری میں عقلی اعتراضات اور تیسری فصل میں تاریخی اعتراضات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

شبیراحمد ازہر میرٹھی نے بخاری کی بعض روایات، مثلاً تحریکِ شفتین، تحویلِ قبلہ، تکمیلِ دین کے محلِ نزول اور روزِ نزول، سیدنا علیؓ کی فضیلت، مالِ تجارت کو دیکھ کر صحابہ کرامؓ کے خطبۂ جمعہ   چھوڑ کر جانے کا واقعہ، تقسیمِ خمس اور سیدہ عائشہؓ پر بہتان وغیرہ کے حوالے سے اعتراضات اُٹھائے ہیں۔ انھوں نے بعض روایات کو سند کے اعتبار سے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور بعض کو عقلی لحاظ سے، اور بعض کو تاریخی طور پر کمزور بتایا ہے، بلکہ بعض جگہوں پر باطل قرار دیا ہے۔

حافظ ابویحییٰ نور پوری کی کتاب کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شبیراحمد میرٹھی نے اپنے اعتراضات کی جو عمارت تعمیر کی ہے، وہ بہت کمزور ہے اور غیرمحتاط اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ زیرنظر کتاب اگرچہ رجالِ حدیث کی پیچیدہ علمی بحثوں پر مشتمل ہے، تاہم بخاری پر اُٹھائے گئے اعتراضات کا مدلّل جواب ہے۔ یقینا مصنف اس کارنامے پر مبارک بادکے مستحق ہیں۔ (ارشاد الرحمٰن)


سودی مصائب اور ان کا حل، طارق الدیوانی، مترجم: ڈاکٹر منیراحمد۔ ملنے کا پتا: ۱-بی۶، ایجوکیشن ٹائون، وحدت روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۱۷۲۷۸-۰۴۲۔ صفحات:۲۲۴۔ قیمت: ۲۹۵ روپے۔

معیشت وتجارت اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جوں جوں انسان ارتقا کی منزلیں طے کرتا گیا، ویسے ویسے معیشت و تجارت فروغ پاتی گئی۔ انسان اپنے منافع اور دولت میں اضافے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کرتا گیا جن میں بہت سے طریقے انسان کے استحصال پر مبنی تھے۔ اسلامی نظامِ حیات نے جہاں انسان کی معاشرتی اصلاح کا بیڑا اُٹھایا، وہاں انسان کی معاشرتی ضروریات کا بھی خیال رکھا اور انسان کی پیدا کی ہوئی خرابیوں کودُور کیا۔ ان میں سے ایک بڑی خرابی سود ہے۔ مادیت پر مبنی مغربی سوچ اور فکر نے پرانی قارونی فکر کی بنیاد پر معیشت و تجارت کوسود پر استوار کر کے بنی نوع انسان کے لیے بدترین استحصال کا راستہ وَا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ تحریک کی صورت میں اس نظام کے ڈسے ہوئے لوگ سراپااحتجاج ہیں۔

اسی سرمایہ دارانہ نظام کے اہم ترین ملکوں میں سے ایک برطانیہ ہے ، اور مصنف اسی ملک  کے باسی ہیں۔ انھوں نے اس نظام کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد سود کی تباہ کاریوں کا ایک نئے انداز میں جائزہ لیا۔ مصنف نے انٹراپی کے خالص سائنسی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے ،اس کی روشنی میں سود کے مضر اثرات اور قدرتی وسائل پر منفی اثرات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انٹراپی کا طریقہ کسی نظام میں بدنظمی کی مقدار بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ اسی طرح سود انسانی وسائل کے ضیاع اور عالمی ماحول اور خصوصاً عالمی فضائی حرارتی درجے پر منفی اثرات کا حامل ہے۔ ایک باب میں زر کی دھاتی اور کاغذی اقسام کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور تخلیق زر کے طریق کار اور نتائج کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ دور جدید میں کرنسی کا جدید نظام ، اس کو کنٹرول کرنے کے طریقوں کے جائزے کے نتیجے میں ایک بہترین نظام زر کے بارے میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسے دھاتوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ چوتھے باب میں وضاحت کی گئی ہے کہ پیداواری عمل انسانی ضرورت اور انسانی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اس کے مقابلے میں جوا اور سٹہ وغیرہ پیداواری عمل میں اضافے کا سبب نہیں بلکہ ارتکازِ دولت کا باعث ہیں۔

مصنف نے واضح کیا ہے کہ معاشی کارروائی کی بنیاد مکمل طور مادیت پر مبنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کی بنیاد اسلامی بنیادوں پر رکھی جانی چاہیے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے اسلامی طریقوں کو بھی متعارف کروایا گیا ہے۔اسلامی تناظر میں معاہدات (عقود) کی خصوصیات اور شرائط کی وضاحت کی گئی ہے۔ اسلامی بنکاری کے موجودہ نظام کا جائزہ لے کر اسلامی بنکاری کا ماڈل بھی پیش کیا گیا ہے جو نفع و نقصان کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کی موجودگی میں سرکاری زرعی پالیسی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ معاشیات کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے یہ کتاب بہت مفید ہے۔ (میاں محمد اکرم)


ملت اسلامیہ کا فکری جمود ___ مسلمان کیسے عظمت حاصل کرسکتے ہیں؟ ،تالیف: فضل کریم بھٹی۔ ناشر: الفلاح تعلیم سوسائٹی، چک لالہ سکیم۳، راولپنڈی۔ صفحات: ۲۸۴۔ قیمت: ۲۸۰ روپے۔

مصنف مسلمانوں کی اخلاقی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور دینی پستی سے دل گرفتہ ہیں اور انھوں نے زیرنظر کتاب میں اس کے اسباب کی نشان دہی کی ہے اور مسلمانوں کے سامنے نشاتِ ثانیہ کے لیے تجاویز پیش کی ہیں، مثلاً یہ کہ وہ مفاد پرست طبقے اور کرپٹ جاگیرداروں، سیاست دانوں، خاکی اور سویلین بیوروکریسی، اجارہ دار صنعت کاروں اور تاجروں سے اپنی جان چھڑا لیں۔ باشعور اور دیانت دار قیادت کو سامنے لایا جائے اور قومی ترجیحات کا تعین کر کے ایک ملک گیر تحریک اصلاح کا آغاز کیا جائے۔ اپنی نظر کو وسعت دیں اور جامد تقلید سے اپنے آپ کو آزاد کریں، نیز فرقہ واریت، فروعی مسائل، مثلاً تصویر، چہرے کا پردہ وغیرہ میں اُلجھنے کے بجاے دین کی اصولی تعلیمات کو  فروغ دیں۔نظامِ تعلیم میں دین و دنیا کی تفریق ختم کی جائے۔ دینی علوم مدارس کے بجاے     یونی ورسٹیوں میں پڑھائے جائیں اور جدید علوم اور ٹکنالوجی سے استفادہ کیا جائے۔ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن عام کی جائے۔ زکوٰۃ و عشر کا نظام جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ مصنف کے نزدیک اگر قومی شعور کی آبیاری اور خواندگی کو عام کرنا پہلی ترجیح ہو اور نظامِ تعلیم درست کرلیا جائے تو صرف ۳۰برس میں (یعنی ایک نسل بعد) پاکستان ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہوسکتا ہے۔

یہ خواہش بڑی نیک اور اچھی ہے مگر اس کے لیے دینی حکمت عملی کے ساتھ پِتّا مار کر عملی جدوجہد ضروری ہے۔ پاکستانی معاشرے میں ایسے اچھے خیالات اور فکر رکھنے والے حضرات ملک میں جاری ایسی کسی جدوجہد میں شامل ہوکر اس کو دامے درمے سخنے تقویت پہنچائیں، اور اگر وہ پاکستان میں کی جانے والی کسی بھی اجتماعی جدوجہد سے مطمئن نہ ہوں تو خود انفرادی اور اجتماعی جدوجہد کی طرح ڈالیں اور اہلِ ملک کو دعوت دیں۔ صرف اچھی خواہشات اور منصوبہ بندی کا اظہار زیادہ نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا ہے۔ کتاب میں صفحات پر نمبر کے لیے انگریزی ہندسوں کو اختیار کیا گیا ہے، جب کہ ہم اُردو کو قومی زبان قرار دیتے ہیں۔ (شہزادالحسن چشتی)


تفہیم دعوت و دین، محمد سفیرالاسلام۔ ناشر: ادارہ مطبوعاتِ سالار، اقبال مارکیٹ، کمیٹی چوک، راولپنڈی۔ فون: ۵۵۵۱۷۴۲-۰۵۱۔ صفحات: ۲۰۸۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

زیرتبصرہ کتاب دعوتِ دین کا حکیمانہ طریقے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عمدہ تفسیر ہے۔ کتاب مقالہ نگاری کے طرز پر تحریر کی گئی ہے۔ ادع کے حکم اور لتکن منکم امۃ یدعون کے تحت دعوت، اس کی اہمیت اور ضرورت پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے۔ دعوت فی سبیل اللہ اور بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ کے تحت دعوت کے اسلوب، طریق اور دعوت کے مواقع پر عمدگی سے داعی حضرات کی ضرورت کا سامان کیا ہے۔ البتہ درس، لیکچر، خطبہ پر لکھتے ہوئے مصف نے تکرار سے کام لیا ہے، اور مناقشہ کو بھی واضح نہیں کیا۔ اندیشہ ہے اس طرح مباہلہ کے ساتھ ذکر کرنے سے مناظرے کی راہ نہ کھل جائے۔ آخری حصے میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے حکم کو پورا کرنے کے لیے تنظیم کی اہمیت و افادیت اور داعی کے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور احتیاطاً اوصافِ رذیلہ کا تذکرہ کیا ہے تاکہ داعی مثبت اوصاف کو اپنائے اور منفی اوصاف سے نجات حاصل کر کے دعوت کے میدان میں سرخرو ہوسکے۔  (قلبِ بشیر خاور بٹ)


خاموشی پیچھے شور، اخترعباس۔ ناشر: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲ صفحات: ۱۶۰۔ قیمت:۱۲۰ روپے۔

بچوں کے ذوقِ مطالعہ اور ان کے ادب پر ابتدائی دور میں زیادہ کام نہیں ہوا۔ البتہ گذشتہ ربع صدی میں بچوں کے ادب پر نسبتاً توجہ دی گئی جس کے نتیجے میں کہانیوں کی سیکڑوں کتب اور بیسیوں رسالے منظرعام پر آئے ہیں۔ خصوصاً بچے کی زندگی میں کہانی کی اہمیت کا احساس اُجاگر ہوا ہے  اور بچوں کے رسائل میں تنوع اور معیار میں بہتری آئی ہے۔ کہانیوں پر مشتمل زیرنظرکتاب بچوں کے ادب میں خوب صورت اضافہ ہے۔ بنیادی طور پر ان کہانیوں کی مخاطب نئی نسل ہے۔

بچوں کے لیے ادب کی تخلیق اس سے کہیں مشکل ہے جو بڑوں کے لیے لکھا جاتا ہے۔ بچوں کے دلوں کو مسحور کرنا اور ان کے لیے فن سے مسرت کشید کرنا ریاضت طلب ہوتا ہے۔ اخترعباس گوناگوں صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ان کہانیوں میں انھوں نے بڑی ریاضت سے کام لیا ہے۔ وہ بچوں کی نفسیات کا اِدراک رکھتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی فکروشعور کی قوتوں کو بیدار کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے۔ ان کہانیوں میں دیمک، اندر کی چٹخنی، چیک بُک اور دربان جیسی کہانیاں ذہنی بالیدگی کا سبب بھی ہیں اور نئی نسل کے احساسات کی تسکین کا ذریعہ بھی۔ ان سے جہاں دل چسپ پیرایے میں معاشرتی اقدار اور انسانی رویوں سے آگاہی ہوتی ہے وہاں ایسے کرداروں کا تعارف بھی ہوتا ہے جو اعلیٰ قدروں کے علَم بردار بھی ہیں اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کے حامل بھی۔ ان کہانیوں کا اسلوب نوجوانوں کے علاوہ بڑوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور فکری رہنمائی اور تعمیر سیرت و کردار کا ذریعہ بنتا ہے۔(عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)


ہلاکت خیز غلطیاں اور ان کی اصلاح، تالیف: جمیل احمد زینو، ترجمہ: محمد حسن ظاہری۔ ملنے کا پتا: کتاب سراے، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۱۴۴۔ قیمت: ۹۰ روپے۔

فاضل مصنف نے بڑی دردمندی سے عام طور پر پھیلی ایسی کوتاہیوں کی ایک فہرست مرتب کی ہے جن سے غفلت برتی جاتی اور ان کی درجہ بندی کی ہے۔ چند اہم موضوعات یوں ہیں: کفریہ غلطیاں، وہ غلطیاں جو شرکِ اکبر ہیں، اللہ تعالیٰ کے حق میں غلطیاں، عبادات میں، حلال و حرام میں، مسلمانوں کے عمومی احوال میں غلطیاں، غیرمسلموں کے ساتھ معاملات میں غلطیاں وغیرہ۔ ان معاملات کے غلط ہونے کی دلیل قرآن و سنت سے پیش کی گئی ہے اور اس کے مقابلے میں درست موقف کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ مصنف چونکہ عالمِ عرب سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے بعض ایسے معاملات کا ذکر بھی کیا ہے جو ان کے معاشرے کے ساتھ خاص ہیں، مثلاًعربی عصبیت وغیرہ۔ بعض معاملات میں مصنف کے نقطۂ نظر میں شدت دکھائی دیتی ہے، مثلاً یہ عورت کے نام کے ساتھ ’بنتِ فلاں‘  کے بجاے شوہر کا نام لکھنے کو ’غلطیوں‘ میں شمار کرتے ہیں۔ (آسیہ منصوری)

تعارف کتب

  •  توبہ، کامیابی و کامرانی کا راستہ ، مولانا فاروق احمد۔ ناشر: مجلس التحقیق والنشرالاسلامی لاہور۔ ملنے کا پتا: مکتبہ معارف اسلامی، ملتان روڈ، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۸۸۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔ [توبہ کے مختلف پہلوئوں کو قرآن و حدیث سے سہل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ توبہ کے معنی اور قبولیت و عدم قبولیت، قبولیت توبہ کی شرائط،  مغفرت کے لیے ترغیب، ذوقِ عبادت، خشوع و خضوع، جنت اور جہنم کے موازنے کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیا کی دعائیں شامل ہیں۔ قربِ الٰہی اور تزکیۂ تربیت کے لیے مفید کتاب۔]
  •  تاریخ کے بکھرے موتی ، مؤلف: مولانا محمد اصغر کرنالوی۔ ناشر: زم زم پبلشرز، شاہ زیب سینٹر، نزد  مقدس مسجد، اُردو بازار، کراچی۔ فون: ۳۲۷۲۵۶۷۳-۰۲۱۔ صفحات: ۵۲۴۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔ [تاریخ ایک آئینہ ہے جس میں قوموں کے عروج و زوال کا عکس دیکھا جاسکتا ہے، ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے روشن مستقبل کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ زیرنظر کتاب مختلف تاریخی کتب سے سبق آموز واقعات، نصیحتوں اور اقوال وغیرہ کا انتخاب ہے جس کا مقصد تاریخ کے مطالعے کے لیے ترغیب اور کردار سازی و رہنمائی ہے۔]
  •  آواز دوست ، پروفیسر عبدالحمیدڈار۔ ناشر: نشریات، الحمدمارکیٹ، اُردوبازار، لاہور۔ فون: ۴۵۸۹۴۱۹-۰۳۲۱۔ صفحات: ۹۵۔ قیمت: ۷۰ روپے۔ [پروفیسر عبدالحمید ڈار دینی اور تحریکی حلقوں میں ایک معروف شخصیت ہیں۔ زیرنظر کتابچہ ان کی یادداشتوں اور تاثرات پر مشتمل ہے۔ یہ تاثرات و احساسات تحریکی روایات واقدار سے متعلق ہیں اور غوروفکر اور تدبر کا سامان بھی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایسے نکات سامنے آتے ہیں جو بچوں اور بڑوں کے لیے تربیت کا ایک منفرد انداز لیے ہوئے ہیں۔]