فروری ۲۰۱۴

فہرست مضامین

کلام نبویؐ کی کرنیں

مولانا عبدالمالک | فروری ۲۰۱۴ | فہم الحدیث

حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وفد یمن کی طرف بھیجنا طے فرمایا اور اس پر انھی لوگوں میں ایک شخص کو امیر مقرر فرمایا، جو ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ وہ وفد چند دن تک ٹھیرگیا، اپنی منزل یمن کی طرف روانہ نہ ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفد کے ایک آدمی سے ملاقات ہوگئی تو آپؐ نے اس کا نام لے کر فرمایا: اے فلاں! تمھیں کیا ہوا تم گئے نہیں؟  تو اس نے جواب میں عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہمارے امیر کے پائوں میں تکلیف ہوگئی ہے۔ تب نبی کریمؐ امیر کے پاس آئے اور اس پر بسم اللّٰہ، باللّٰہ وبقدرتہ من شر ما اَجِدُ فِیْھَا  (اللہ کے نام اللہ کی مدد سے اور اس کی قدرت کے وسیلے سے مَیں دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ !اس کے پائوں میں جو تکلیف ہے اسے دُور فرما دے) پڑھ کر دم کیا۔ سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔

ایک بزرگ شخص نے کہا: یارسولؐ اللہ! آپؐ نے اس نوجوان کو ہمارے لیے امیر بنادیا ہے حالانکہ یہ ہم سب سے چھوٹا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے پاس قرآن پاک ہے۔ (یعنی قرآن پاک کے علم نے اسے امارت کے قابل بنا دیا ہے)۔ اس شخص نے کہا: یارسولؐ اللہ! اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میں رات کے وقت سویا رہ جائوں گا اور اُٹھ نہ سکوں گا تو میں بھی قرآن پاک زیادہ سیکھ لیتا اور یاد کرلیتا(اس نے سوچا کہ حافظ قرآن کے لیے ضروری ہے کہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھے اور اسے رات کو اُٹھنے کی عادت نہ تھی۔ اس لیے اس نے بقدرِ ضرورت قرآن پاک کی سورتیں یاد کی تھیں۔ اس سے زیادہ اس لیے یاد نہ کیا کہ رات کو اُٹھنا پڑے گا جو اس کے لیے مشکل تھا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن پاک سیکھو۔ قرآن پاک اس مشکیزے کی طرح ہے جس میں خوشبو بھری ہوئی ہو تو اس کی خوشبو پھیل جاتی ہے، جب کہ وہ کھلا ہو۔ اسی طرح قرآن پاک جب تم پڑھو گے اور وہ تمھارے سینے میں محفوظ ہوگا تو اس کی خوشبو پھیل جائے گی۔ (طبرانی)

آپؐ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک جب بھی پڑھو گے دن کو یا رات کو ، اس کی خوشبو پھیلے گی، لوگوں پر اس کا اچھا اثر ہوگا، اردگرد کے علاقے کو اس کی برکت اور فیض ملے گا۔ رات کو اُٹھ کر پڑھ سکو تو فبہا ورنہ دن کو پڑھ لیا کرو، دن میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ قرآنِ پاک کی برکت سے  آدمی کو جو عظمت اور دینی فہم وفراست ملتی ہے وہ اسے قیادت کے منصب تک پہنچا دیتی ہے۔اسلامی قیادت میں تو اس بات کو لازمی دیکھا جائے گا کہ کون ہے جس کے پاس قرآن پاک کا علم زیادہ ہے اور اس پر عمل میں وہ آگے ہے۔ علمِ قرآن و سنت اور اس پر عمل آدمی کو اسلامی قیادت کے قابل بنادیتا ہے۔ آج قیادت کے اس معیار کو نظرانداز کردیاگیا ہے جس کے نتیجے میں ایسے حکمران مسلمانوں کی قیادت کر رہے ہیں جو قرآن وسنت کے علم اور عمل سے محروم ہیں اور یہی چیز ان مصائب اور مشکلات کا سبب ہے جس سے اُمت مسلمہ دوچار ہے۔ اُمت کو اپنے مقام پر کھڑا کرنے اور اسے مصائب و مشکلات سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس اصول کو قیادت کے انتخاب میں معیار بنادیا جائے۔ عوام کو اس اصول کے مطابق قیادت منتخب کرنے کی تعلیم و تربیت دی جائے۔

٭

حضرت خولہ بنت قیسؓ جو حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ کی بیوی ہیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے بنی ساعدہ کے آدمی کی ایک وسق (۵ من تقریباً) کھجوریں تھیں۔ وہ وصولی کے لیے آگیا، تو رسولؐ اللہ نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ اسے اتنی کھجوریں دے دیں جتنی اس سے لی گئی تھیں۔ اس انصاری نے اسے اسی طرح کی عمدہ کھجوریں دینے کے بجاے اسے گھٹیا قسم کی کھجوریں پیش کیں تو اس نے ان کو رد کردیا۔ انصاری نے کہا: تم رسولؐ اللہ کی کھجوریں واپس کرتے ہو! اس نے جواب دیا: رسولؐ اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ عدل فرمائیں۔ رسولؐ اللہ نے سنا تو آپؐ کی آنکھوں میں آنسوآگئے اور فرمایا: اس شخص نے سچ کہا ہے، مجھ سے زیادہ عدل کرنے کا کون حق دار ہے۔ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو پاکیزگی کے مرتبے پر فائز نہیں فرماتا جس میں کمزور آدمی طاقت ور سے اپنا حق وصول نہ کرسکے اور طاقت ور کے دبائو میں بھی نہ آئے۔ پھر حضرت خولہؓ سے فرمایا: اس شخص کو گن کر اس کی عمدہ کھجوریں ادا کردو ۔ جو قرض خواہ اپنے مقروض سے اس حال میں واپس جائے کہ اس سے راضی ہو تو اس کے لیے زمین کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں دعائیں کرتی ہیں، اور جو آدمی قرض کی ادایگی کرسکتا ہو لیکن ٹال مٹول سے کام لے تو اللہ تعالیٰ ہردن اور رات کو    اس کے کھاتے میں گناہ لکھ دیتا ہے ۔ (طبرانی)

قرض جتنا لیا جائے اور جس نوعیت کا لیا جائے اتنا ہی اور اسی نوعیت کا واپس کرنا ہوتا ہے۔ قرض پر اضافہ سود ہے اور سود لینے اور دینے والے اور اس کے لین دین میں تعاون کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت برستی ہے۔ اس کے مقابلے میں قرضِ حسن کو صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ  کو بھی قرضِ حسن قرار دیا گیا اور اس پر ۷۰۰ گنا اور اس سے بھی زیادہ ثواب رکھا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل و انصاف میں جو نمونے پیش کیے ہیں آج اُمت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ انھیں عملی جامہ پہنائے۔ بنکاری میں سودی نظام کو ختم کردے ۔ بنک جو قرضے جاری کرے جتنے دے اتنے ہی واپس لے اور اگرمنافع لینا چاہے تو شرکت اور مضاربت کے اصول پر تجارت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ بیع کے ذریعے کاروبار کرکے اپنے لیے رزقِ حلال کا انتظام کرے اور رزق حرام سے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو بچائے۔

٭

حضرت انس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ حسین، سب سے زیادہ سخی اور سب سے بڑھ کر بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ کے لوگوں نے ایک طرف سے کوئی آواز سنی اور خوف زدہ ہوگئے کہ کہیں دشمن نے حملہ تو نہیں کر دیا۔ چنانچہ لوگ باہر نکلے جس طرف سے آواز آئی، اس طرف کا رُخ کیا تو سامنے سے رسولؐ اللہ کو حضرت ابوطلحہؓ کے گھوڑے پر سوار آتے ہوئے دیکھا۔ فرمایا: کوئی خطرے کی بات نہیں ہے اور گھوڑے کے متعلق فرمایا: میں نے اسے سمندر کی رفتار والا پایا۔(بخاری، مسلم)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں آپؐ کی بہادری کی بے شمار مثالیں ہیں۔ یہ بھی ان مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام آدمی کی سی زندگی بسر کی اور کسی بھی وقت رعیت کی خبرگیری سے غافل نہ رہے۔آج جسے اقتدار مل جاتا ہے رعیت کے حالات سے لاتعلق ہو جاتا ہے۔ نہ عام آدمی کی اس تک رسائی ہوتی ہے۔ خلافت ِ راشدہ کا دورِ حکومت خلافت علیٰ منہاج النبوۃ (نبوت کے طریقے پر حکومت) کہلاتا ہے۔ آج خلافت راشدہ کے دور کو واپس لانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا اسلام کو عملاً قائم دیکھ کر اسلام سے متاثر ہو اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوجائے۔

٭

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں بیمار ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ بھی ساتھ تھے۔ دونوں پیدل چل کر پہنچے تو مجھے بے ہوش پایا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جو پانی آپؐ کے اعضاے مبارکہ سے گرا وہ مجھ پر ڈالا تو مجھے ہوش آگیا۔ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں اپنے مال کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کروں؟ میں اپنے مال کا کیا فیصلہ کروں؟ آپؐ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کے بارے میں آیت نازل ہوگئی۔(بخاری)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیات بے شمار تھیں۔ راتوں کو اُٹھ کر عبادت کرنا، دن کو تعلیم و تربیت اور گھر میں ہوں تو گھروالوں کے ساتھ تعاون کرنا۔ اس کے باوجود اپنے ساتھیوں کے حالات اور ان کی دیکھ بھال سے بھی لاتعلق نہیں رہتے تھے۔ بیماروں کی بیمارپُرسی فرماتے۔ فوت ہونے والوں کے جنازے ادا فرماتے، تنگ دستوں کی ضروریات کا انتظام فرماتے۔ حضرت جابرؓ کی بیمارپُرسی بھی کی اور ان پر اپنے وضو کا مبارک پانی ڈال کر علاج بھی کردیا۔ حضرت جابرؓ نے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے آیت ِ میراث کے ذریعے حکم نازل فرما دیا۔ کیسا مبارک دور تھا! صحابہ کرامؓ سوال فرماتے تو آسمان سے ان کے سوالوں کے جواب اُترتے اور پھر وہ اُن کو ٹھیک طرح سے عملی جامہ پہناتے۔ آج بھی ہم  رب تعالیٰ سے اپنا تعلق استوار کرسکتے ہیں۔ قرآن و سنت پر عمل کریں اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ قرآن و سنت کے جس حکم پر بھی عمل ہو وہ قربِ الٰہی کا ذریعہ اور دعا کی قبولیت کا وسیلہ ہے۔ اس وسیلے کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

٭

حضرت عمرو بن میمون اودیؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اپنے بیٹوں کو یہ دعا ایسے اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے، اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ وہ دعا یہ ہے:  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ’’اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔(بخاری، کتاب الجہاد)

اس دعا کو ہم خود بھی یاد کرکے پڑھیں، اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیں، اس طرح کی حدیثوں کے ساتھ ہمارا رویہ یہ نہ ہونا چاہیے کہ سن کر رہ جائیں بلکہ اس پر اِسی وقت سے عمل شروع کردیں۔