مئی ۲۰۱۹

فہرست مضامین

ایمان اور احتساب

ڈاکٹر بشری تسنیم | مئی ۲۰۱۹ | گوشہ رمضان

مقبول روزے کی شرط ایمان اور احتساب ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنا احتساب اور اِصلاح کیسے ہو؟ احتساب دراصل اپنے مومنانہ معیار کو بلند کرنے کی طرف متوجہ ہونا ہے۔
ہم بُری بھلی زندگی تو گزارتے ہیں مگر اس بات پر دھیان نہیں دیتے کہ کمی کہاں ہے؟خطا کیا ہے؟گناہ کیا ہیں ؟ اور ان میں ہمارا نفس کتنا آلودہ ہے؟ نیکی کے تھیلے میں کتنے سوراخ ہیں ؟ وہ سب کچھ نظروں سے اوجھل رہتا ہے جن سے نیکی کا معیار ناقص ہو جاتا ہے۔
 ہم صغیرہ و کبیرہ، ظاہر ی و باطنی،جانے اَن جانے، کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی مانگتے تو ہیں اور آپس میں ’ کہا سنا معاف کرنا‘ بھی عادتاً دُہرا لیتے ہیں، لیکن اس جملے کی روح سے بے گانہ رہتے ہیں۔ کوئی ندامت کا جذبہ اس جملے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ نہ دل کی دنیا میں شرمندگی کا جوار بھاٹا اٹھتا ہے، اور جواب دہی کے خوف کی برکھا تو کیا برسنی ہے، آنکھوں میں نمی تک نہیں آتی۔ اور دوسرا تضاد یہ ہے کہ لوگوں کے بڑے بڑے گناہوں پہ ہماری نظر رہتی ہے، مگر اپنے گناہ اور نافرمانیاں معمولی لگتی ہیں۔
فکر کرنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ کیا ہم حقوق اللہ،حقوق العباد کی ادایگی میں معیار کا بھی خیال رکھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نیکی کے معاملے میں کم تر معیار پہ راضی ہونے کی عادت میں مبتلا ہیں اور دنیا کی خواہشات کے لیے معیار اعلیٰ ترین ہے؟ نیکی میں اپنے سے کم معیار کے لوگوں میں میل جول رکھنے کی وجہ سے اپنی معمولی نیکیاں اور کم تر عبادتیں بھی بہت اعلیٰ لگتی ہیں، اور اپنے متقی ہو جانے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں :

فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ۝۰ۭ ہُوَاَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۝۳۲ۧ ( النجم۵۳:۳۲) پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے؟

میزان اسی لیے تو رکھی جائے گی کہ دنیا کی چاہت کے پلڑے میں وزن زیادہ ہے یا آخرت کی چاہت میں ؟ دل کی سچی اور کھری چاہت اور نیت پر ہی اعمال کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تلقین کی:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۝۰ۚ وَاتَّقُوا اللہَ ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۱۸(الحشر۵۹:۱۸)، اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو ، اور ہرشخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقینا تمھارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

اور اگر مومن اس معیار کا جائزہ لینے سے غافل ہوتا ہے تو نتیجتاً یہ معاملہ سامنے آتا ہے:

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللہَ فَاَنْسٰـىہُمْ اَنْفُسَہُمْ ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۝۱۹ (الحشر۵۹:۱۹) ، اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انھیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ:

لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ۝۰ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ۝۲۰ (الحشر۵۹:۲۰)، دوزخ میں جانے والے اور جنّت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے، جنّت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔

اہل جنت میں شامل ہونے کے لیے آج اور ابھی اپنا بے لاگ احتساب کرنا ہوگا اور کل کے لیے نیکیاں جمع کرنی ہوں گی اور نیکی کا معیار بھی بلند رکھنا ہوگا تاکہ انبیاؑ کی رفاقت نصیب ہو۔
محاسبہ یا احتساب، بہتر سے بہترین کا سفر ہے اور اس سفر کی منزل جنت ہے۔ ایمان بڑھتا ہے تو احتساب کی طلب بھی بڑھتی جاتی ہے اور جب احتساب کی لگن زندگی کی لذت بن جاتی ہے تو ایمان میں اضافہ ہوتا رہتاہے۔ گویا ایمان و احتساب لازم و ملزوم ہیں۔ ایمان کا پیمانہ وہی ہوگا ،جو احتساب کا ہوگا۔

احتساب اور تزکیۂ  نفس

احتساب خوب سے خوب تر کی تلاش ہے۔ نصب العین کے حصول کی بھرپور کوشش کرتےہوئے جو کمی، کوتاہی ہوجائے اس کا بر وقت تدارک کرنا احتساب ہے۔ جو غلطی ہوجائے اس کو آگے بڑھنے سے پہلے درست کر لینا احتساب ہے، تاکہ جب مالک کے سامنے کام کی رپورٹ پیش کرنے حاضر ہوں تو مالک خوش ہو جائے۔ اس کو قرآنی زبان میں ’تزکیۂ نفس‘ کہتے ہیں اور  تمام انبیا ؑ ـ بھی نفوس کے تزکیہ کے لیے مبعوث فرمائے گئے۔
ہمارا ایمان ہے کہ رب کائنات کے حضور پیشی کسی بھی لمحے متوقع ہے اور اس کی نگاہوں سے کسی بھی لمحے ہم اور ہمارے اعمال اوجھل نہیں ہو سکتے۔ اس ربّ کی عظمت کا احساس، اس کی ذات کی پہچان، اس کی رحمت کا عرفان جس قدر دل میں جاگزیں ہوگا، اسی قدر مومن:  وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ج (الحشر۵۹:۱۸، ہرنفس یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے) کی حقیقت سے واقف ہوگا۔ اور اس پر ہر لمحے جواب دہی کا خوف غالب رہے گا۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔
ایمان کا پہلا محاسبہ یہ ہے کہ توحید کا عرفان ہو۔ ’اللہ ایک ہے‘،یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اس کی ذات پہ ایمان بالغیب کے تقاضے ہر شق اور ہر شرط کے ساتھ پورا کرناہی اس کو ’ایک ماننا ہے‘۔ شرکِ خفی اور شرکِ جلی کا علم درست اور مکمل ہونا چاہیے۔ شرک تو کسی صورت معاف نہیں ہوگا۔ جب افکار و اقوال میں، اعمال و معاملات میں اللہ رب العزت کی ذات سے تعلق رکھنے کا دعویٰ بھی ہو اور شک و تذبذب بھی موجود ہو،’ دنیا کیا کہے گی‘کا خو ف بھی ہو،روزی کے حصول میں کامیاب ہونے کے لیے ’مروجہ دنیاوی اصول‘ بھی سہارا لگتا ہو، مشکل کشا اللہ کی ذات کو کہنے کے باوجود، ’دست گیری‘ کے لیے غیروں کے در پہ حاضری بھی ہو، توسوچنے کی بات یہ ہے کہ ایمان کی یہ کون سی شکل ہے؟ شرک کم ہو یا زیادہ، یہ ہے وہ زہر جو توحید کو خالص نہیں رہنے دیتا۔ جس طرح زم زم سے بھرے تالاب میں شراب یا پیشاب کا ایک قطرہ بھی مل جائے وہ زم زم نہیں رہتا۔ اسی طرح شرک کا شائبہ بھی توحید کو خالص نہیں رہنے دیتا۔
ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً ۝۰۠ (البقرہ ۲:۲۰۸)’’تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو‘‘ اور الدِّيْنُ الْخَالِصُ  (الزمر ۳۹:۳)کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایمان وہی قابل قبول ہے، جو خالص ہو اور ہمہ پہلو مکمل ہو۔ ہم اپنے اقدامات سے ،ذاتی پسند و ناپسند کے معیار سے، خاندان و برادری کے اصولوں کو جانچ سکتے ہیں کہ ہم ایک اللہ کے کتنے فرماں بردار ہیں؟ اس ایک اللہ کے سامنے اپنے ہر عمل کی جواب دہی کا کتنا خوف رکھتےہیں؟
ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم خود اپنے محاسب بنیں اور سوچیں کہ کل اپنے ربّ کے حضور پیش ہوکر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا حساب دینے کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ج  (الحشر۵۹:۱۸)’’ہرنفس یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے  کیا سامان کیا ہے‘‘ کی تلقین سراسر ہمیں بہتر سے بہترین کی طرف راغب کرنا ہے۔ اس دن جب ذرہ برابر نیکی اور بدی سامنے لائی جائے گی اور کسی پہ ظلم نہ کیا جائے گا۔جب حکم ہوگا:
اِقْرَاْ كِتٰبَكَ۝۰ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا۝۱۴ۭ  ( بنی اسرائیل ۱۷:۱۴) پڑھ اپنا نامۂ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔
اس دن کی شرمندگی کو ذہن میں رکھنا بھی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی ذات کو ایک اور حاضر و ناظر ماننا ہے۔ دنیا کے انسانوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لیے جھوٹ بولنا، دراصل اللہ کی ذات کو بھلا دینا ہے۔ جو دنیا کی خاطر اللہ کو بھلا دیتا ہے تو پھر اللہ بھی اسے بھلا دیتا ہے، اور اللہ کا کسی کو   بھلا دینا یہ ہے کہ اس سے اپنی حالت بہتر کرنے کا احساس چھین لیا جائے اور اس کے لیے ہدایت کے راستے بند ہو جائیں۔

قرآن سے حقیقی تعلق

رمضان المبارک قرآن کا مہینہ ہے۔ اس میں اپنا تعلق قرآن پاک سے جوڑنے کے لیے سب سے پہلے اپنی اب تک کی غفلت کی معافی طلب کی جائے۔ قرآن پاک کے ساتھ دل کا رشتہ بنانے کے لیے اللہ کے حضور دعا کی جائے کہ وہ ہمارے دلوں کے قفل کھول دے۔ ہمارے لیے وسائل مہیا کرے اور اس کی تعلیم آسان فرمائے۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک آیت سیکھنے کا عمل شروع کیا جائے۔ راستہ منتخب کر لیا جائے تو راہیں آسان ہو جاتی ہیں ۔ اس لیے کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝۱۷ (القمر ۵۴:۱۷) ’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟‘‘
اپنے گھر، کالونی، ادارے،دفتر، بازار، غرض ہر مقام پہ کوئی وقت’ قرآنی وقت‘ بھی    مقرر ہونا چاہیے۔ اس وقت کے دوران روزانہ ایک آیت یا ایک موضوع پہ فہم قرآن کا سلسلہ ہو۔ قرآنی ما حول بنایا جائے۔ اپنی اولاد کو قرآن کے سایے میں پرورش کرنے کی شروع دن سے کوشش کی جائے۔ اس کی عظمت، اہمیت اور ضرورت کو دنیاوی تعلیم سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ ہماری نجات صرف حاملِ قرآن ہونے میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ عاملِ قرآن ہونے میں ہے۔
آئیےاللہ رب العزت کے حضور دل کی گہرائیوں سے التجا کریں کہ وہ قرآن کو ہماری آنکھوں کا نور،دل کی بہار ،قبر کی وحشتوں کا ساتھی اور دستورِزندگی بنا دے۔ ہمیں ایسا مومن بنا دے جوچلتا پھرتا قرآن کا مظہر ہو۔ اُمت مسلمہ اللہ کی رسی کو تھام لے اور عروج اس کا مقدر ہو جائے۔ آمین!
رمضان المبارک میں مغفرت اور جنت کی بشارت اُن روزے داروں کے لیے ہے، جنھوں نے ’ایمان اور احتساب‘ کے ساتھ روزے رکھے۔ ایمان جتنا مضبوط اور خالص ہوگا مومن کے باطنی شعور میں اللہ رب العالمين کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس بھی اسی قدر زندہ رہے گا۔ اور جس کو رب کے سامنے جواب دہی کا خیال رہتا ہو وہ اپنا محاسبہ کرنے سے غافل نہیں ہو سکتا۔ محاسبہ کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ رب العزت کی نظر میں کیا پسندیدہ ہے اور کیا ناپسندیدہ۔ اس کے لیے قرآن مجید کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔
اللہ ربّ العرش نے قرآن پاک اور اپنے نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے ہر چیز کی وضاحت کر دی ہے۔ وہ سب سوال اور ان کے جواب بتا دیے ہیں، جو بندوں سے پوچھے جائیں گے۔ قرآن مجید میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ حقوق اللہ کے بارے میں ہمارا کیا رویہ ہے؟ ایمانیات اور عبادات میں کہاں کہاں جھول ہے؟ اس پر ہمیںسوچنا اور غوروفکر کرنا ہے۔ بندے پہ کوشش کرنا اور خالص نیت رکھنا واجب ہے۔

شکرگزاری کا تقاضا

ایمان لانے کا تقاضا شکر کرنا ہے اور یہی اللہ کا حق ہے۔ جو شکر گزار ہوگا، لازماً وہ ایمان کی دولت سے مالا مال بھی ہوپائے گا۔گویا ایمان اور شکر گزاری ایک دوسرے کا جزو ہیں۔ شیطان کو اسی بات کا بہت اچھی طرح ادراک ہے۔ اسی لیے اس نے رب العزت کی بارگاہ میں یہ اظہار کر دیا تھا کہ ’تو ان میں سے کم لوگوں کو ہی شکر گزار پائے گا‘ اور خود رب العالمین نےفرمایا: وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ۝۱۳ (السبا۳۴:۱۳)’’میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں‘‘۔ شکرگزار وہ خاص بندے ہیں جو اللہ رب العرش الکريم کی نظروں میں خاص مقام رکھتے ہیں، جب کہ خاص مقام تک وہی پہنچ پاتا ہے، جو خاص خوبیوں کا مالک ہو۔ اپنے آقا کی مہربانیوں کو پہچانتا ہو،تسلیم کرتا ہو، شکرگزار ہو،اور شکرگزار ہونے کا ثبوت فرماں بردار ی کی صورت میں دیتا ہو۔ شکرگزار بندہ ہی شیطان کے پھیلائے ہوئے جال کو بروقت پہچان لیتا ہے اور اس سے بچ نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو باور کرایا کہ’میرے بندوں پہ تیرا کوئی زور نہیں چل سکے گا‘۔
اب اپنے ایمان کا احتساب ہمیں خود کرنا ہے کہ ہم شیطان کے قول: وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَہُمْ شٰكِرِيْنَ  (الاعراف ۷:۱۷، اور تُو اُن میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا)کو سچ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں، یا اپنے رب کے قول: وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ۝۱۳ (السبا ۳۴:۱۳، میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں) پر پورا اُترنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان بندوں میں شامل ہوکر کامیاب ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے شیطان کو باور کرایا کہ ’’میرے بندوں پہ تیرا کوئی زور نہیں چل سکے گا‘‘۔ ہم اپنے محاسب خود ہی ہو سکتے ہیں کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ  اللہ ہم سے ’میرا بندہ‘کہہ کر مخاطب ہو؟ اور اپنی خاص رحمت کی چھتری تلے ہمیں پناہ عطا کر دے۔
رب العالمین کی طرف سے ’میرا بندہ‘ والی پیار بھری پکار سننے کے لیے ہمیں اس کا شکر گزار بندہ بننا ہوگا۔ہر نافرمانی، دراصل ناشکری کا مظہر ہے اور ہر ناشکری کا فطری نتیجہ نافرمانی ہے۔اس لیے نافرمانی سے بچنے کی شعوری کوشش کرنا ہوگی۔اللہ کے بندوں کا ہر وقت گلہ شکوہ کرنے والے بھی  اللہ کے شکرگزار نہیں ہوسکتے۔ جو بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔ اپنے متعلقین کے ساتھ ہر وقت گلے شکوے کرنے سے نہ خود کو خوش اور مطمئن رکھا جا سکتا ہے۔
دنیاوی لحاظ سے اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھنا ہوگا اور تقویٰ کے لحاظ سے اپنے سے بہتر لوگوں میں رہنا ہوگا۔اللہ رب العزت کی عطاکردہ نعمتوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہوگا۔ اور یاد رکھنا ہوگا کہ نعمتوں کا غلط استعمال بھی ناشکر گزاری ہی ہوتا ہے، اور ایسے لوگ اللہ کے پسندیدہ نہیں ہوتے۔
قرآن پاک میںمتعدد مقام پہ ایسی بستیوں اور افراد کا ذکر ہے، جنھوں نے ناشکر گزاری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی خوش حالی کو بد حالی میں بدل دیا:

وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۝۷(ابراہیم ۱۴:۷) اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔

اے اللہ، ہمیں اپنے بندوں کا بھی شکر گزار رہنا سکھا دے اور ہمیں ان قلیل خاص شکر گزار بندوں میں شامل فرمالے، جو تیرے خاص بندے ہیں اور جن پہ شیطان کا زور نہیں چل سکتا۔آمین !

صبرواستقامت

صبر کے مختلف پہلو ہیں: اپنے نفس کو نیکی پہ مائل کرنا، اس پہ اسقامت دکھانا ،نیکی کو اعلیٰ معیار پہ لانے کی سعی کرنا، سب صبر کے مختلف مظاہر ہیں۔عمل صالح کرنے کے لیے قدم بڑھانے کے دوران ، اپنے نفسِ امارہ کو سر کشی سے روکنا بھی صبر کا متقاضی ہے۔ نیکی کرنے کے لیے نفس پہ جبر کرنا پڑتا ہے تو برائی چھوڑنے کے لیے بھی نفس پہ ضبط کرنا پڑتا ہے۔دونوں صورتوں میں صابر بنے بغیر چارہ نہیں ہے۔
بندوں کو اللہ تعالیٰ نے مسابقت کے جس میدان میں اتارا ہے وہ: فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ (البقرہ ۲:۱۴۸،پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو) ہے۔ اس میں سرعت سے آگے بڑھنے کی تلقین ہے۔ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۝۰ۭ(الملک ۶۷:۲، تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے) کے معیار پہ پورا اُترنا، صبر و استقامت کا متقاضی ہے۔
بندوں میں حقوق و فرائض کی مساویانہ تقسیم سے دنیا میں معاشرتی امن وسکون کا توازن برقرار رہتا ہے، اور اس توازن کو بر قرار رکھنا سب انسانوں کی ذمہ داری ہے۔ عدم توازن اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب حقوق لینا مقصدِ زندگی بن جائے اور فرائض سے پہلو تہی کی جائے۔ 
اسلامی معاشرے میں بندوں کی ایمانی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنا حق لینے سے زیادہ فرض نبھانے میں دل چسپی رکھتے ہیں،یعنی وسعتِ قلبی، مومن کی شان ہے۔ تنگیِ نفس ہر رشتے کی چاشنی چاٹ جاتی ہے۔ اسلامی معاشرے کی جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے :

وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ كَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ۝۰ۭۣ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۹ۚ (الحشر۵۹:۹) اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچالیے گئے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

رمضان کے دوران خصوصاً طاق راتوں میں اپنے نفس کا جائزہ لیا جائے کہ حقوق و فرائض کے معاملے میں ہم اپنے نفس کو کہاں پاتے ہیں؟ تنگیِ نفس نے کتنی کا میابیوں کو ناکامیوں میں بدل دیا ہے؟ طمع ولالچ نے دل کو کتنا ویران کر رکھا ہے؟ رشتوں کی مٹھاس تنگ دلی کے سبب کس قدر کڑواہٹ میں بدل گئی ہے؟ ضد، ہٹ دھرمی اور انا کی تسکین کے لیے کتنے جنجال پال رکھے ہیں؟ حسد،غیظ و غضب کی آندھی نے محبتوں کے کتنے چراغ گل کر دیے ہیں؟ دوسروں پہ بہتان، الزام لگا کر کتنے دل توڑنے کا گناہ سرزد ہوا ہے؟ اپنے ’نفس امارہ‘ کو ’نفس مطمئنہ‘ بنانے کے لیےاپنے قصوروں کا اعتراف کرنا ،بندوں سے معافی مانگنا ضروری ہے تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہمیں معاف فرمائے۔

خطا اور نسیان

 انسان کی فطری کمزوری ہے کہ وہ خطا کا پتلا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ خطایا بھول چوک کی بازپُرس نہیں ہوگی۔ خطا وہ عمل ہے جو نیت اور ارادے کے بغیر اتفاقاً ہوجائے، جیسے چلتے چلتے کسی کے پاؤں پہ پاؤں آجائے یا ٹھوکر لگ جائے،ہاتھ سے کوئی چیز چھوٹ کر ٹوٹ جائے، کچھ رقم وغیرہ گننے میں غلطی ہو جائے۔ اس میں ایک اور چیز ہوتی ہے ’اشتباہ‘، یعنی کسی کام یا چیز میں شبہہ ہو جائے، جیسے ایک جیسی چیزوں میں سے کسی کی چیز اپنی سمجھ کر اٹھالی، وغیرہ۔
دوسرا معاملہ ’نسیان‘ ہے، یعنی بھول جانا، نماز پڑھتے ہوئے کچھ عمل بھول جانا یا شبہہ ہونا۔ بھول کر روزے میں کچھ کھا لینا، کسی کام کا یاد سے محو ہوجانا، ذہن سے نکل جانا ، یا بھول جانا، وغیرہ۔ نسیان اور خطا یا اشتباہ کی بنیاد پہ کوئی بھی عمل قابل گرفت نہیں ہوتا۔ ان کے لیے بھی دعا سکھائی گئی ہے:

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ج  (البقرہ۲:۲۸۶) اے ہمارے ربّ،  ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں، ان پر گرفت نہ کر۔

لوگوں کو تکلیف ان جانے میں پہنچنے پہ ان سے معذرت کرنا ضروری ہے اور عذر قبول کرنا بھی اخلاق حسنہ ہے۔ 
دل میں آنے والے منفی خیالات بھی قابل گرفت نہیں، اِلّا یہ کہ زبان سے اظہار ہو یا عمل میں لے آیا جائے۔
انسانوں کے بے شمار نا پسندیدہ عمل اللہ تعالیٰ اپنی رحمت ِواسعہ کی نسبت سے معاف کرتا رہتا ہے۔ اگر اللہ ہر ناپسندیدہ عمل پہ گرفت کرتا تو کوئی جاندار زندہ رہنے کا حق دار نہ ہوتا۔ یہ اللہ کا بندوں پہ کرم ہے کہ وہ: وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ(المائدہ ۵:۱۵)، یعنی بہت سی باتوں سے درگزر کرجانے کا معاملہ کرتا ہے۔ 
نسیان،خطا یا دل کے خیالات پہ انسان ضمیر میں خلش محسوس کرتا ہے، مگر ویسی شدید خلش محسوس نہیں کرتا جو گناہ سرزد ہونے پہ ہوتی ہے۔گناہ وہی ہے جس کے ظاہر ہوجا نے پہ انسان کو رسوائی کا ڈر ہو۔اور جسے ہم معاشرے سے ، والدین، بہن بھائیوں سے چھپاتے ہیں۔ میاں یا بیوی ایک دوسرے سے اپنے غیر اخلاقی کام چھپائیں تو وہ حق تلفی کے ساتھ گناہ ہے۔ انسان کتنا نادان ہے! اپنے جیسے لوگوں سے چھپاتا ہے اور وہ جو علیم بذات الصدور ہے اس کے سامنے حاضر ہونے اور حساب دینے سے نہیں ڈرتا۔وہ جو ذرہ برابر نیکی اور برائی کو سامنے لے آئے گا۔
بعض اوقات ’نسیان‘ کے پیچھے اللہ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے، اور کبھی شیطانی اثرات ہوتے ہیں۔ خطا اور نسیان کے بعد جو قابلِ مواخذہ اعمال ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود پامال کرنے والے اعمال ہیں۔ ان میں کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی تقسیم خود قرآن نے کی ہے ۔مثال کے طور پر قرآن میں بیان ہوتا ہے: ’’جن بڑے بڑے گناہ کے کاموں سے تمھیں منع کیا گیا ہے اگر تم ان سے بچتے رہے تو ہم تمھاری (چھوٹی موٹی) برائیوں کو تم سے (تمھارے حساب سے) محو کردیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے‘‘(النساء۴: ۳۱)۔ ایک اور مقام پر کبیرہ گناہوں کا ذکر آتا ہے:’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انھیں غصہ آئے تو معاف کردیتے ہیں‘‘(الشوریٰ ۴۲:۳۷)۔ان آیاتِ مبارکہ سے یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی تفریق موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہیں تو چھوٹی موٹی کوتاہیوں کو اللہ معاف کردیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں میں فرق کیا ہے اور کس گناہ کو کبیرہ اور کسے چھوٹا سمجھا جائے؟یہ ایک مشکل سوال ہے اور اس پر مختلف علما کی مختلف راے ہے۔ کچھ علما گناہوں میں اس تفریق کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر گناہ اللہ کی معصیت اور نافرمانی ہے اور    یہ نافرمانی چونکہ ایک عظیم ہستی کے حکم کی ہے، اس لیے ہر گناہ، کبیرہ گناہ ہی ہے۔ اصول کے اعتبار سے یہ بات درست ہے لیکن عملی طور پر صحیح نہیں۔ اس کی دلیل خود قرآن کی اُوپر بیان کردہ آیات ہیں۔
 یہی اصول اس حدیث میں بھی بیان ہوا ہے۔ حضرت سعید بن عاص سےمروی ہے کہ مسلمان فرض صلوٰۃ کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع وخضوع سے صلوٰۃ ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لیے کفّارہ ہو جائے گی، بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا( مسلم،جلد اول،حدیث :۵۴۳)۔اس کا مطلب ہے صغیرہ گناہ وہ ہیں، جو یا تو اللہ تعالیٰ خود ہی معاف کردیتا ہے یا پھر وہ عام نیکیوں سے مٹ جاتے ہیں ۔لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ایک گناہ اگر چھوٹا ہے لیکن اس پر اصرار کیا جارہا ہے یا اس کے کرنے کی نیت اللہ سے بغاوت یا دین کا مذاق اڑانا ہے، تو وہ کبیرہ گناہ میں بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص بار بار کسی نامحرم کو دیکھ کر لذت حاصل کررہا ہے اور وہ گناہ کو چھوڑنے کی کوئی کوشش نہیں کررہا، تو یہ عمل گناہ کبیرہ میں بدل جاتا ہے: رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ۝۱۹۳ۚ (اٰل عمرٰن۳:۱۹۳) ’’اے ہمارے آقا، جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو بُرائیاں ہم میں ہیں انھیں دُور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر‘‘۔ 
رمضان المبارک کی ساعتیں ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ایمان اور احتساب کے ساتھ وقت گزاریں اور شب قدر کی تلاش کریں اور جو مسنون اور قرآنی دعائیں ہیں ان کو دل کی گہرائیوں سے کریں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کی بد بختی کی نشان دہی کی ہے، جو رمضان المبارک کو پائے اور اللہ رب العالمين سے اپنے گناہوں کی بخشش نہ کروا سکے۔اسی بدبختی اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی ناراضی سے بچنے کے لیے ہر مسلمان کو بھر پور محنت اور کوشش پوری لگن کے ساتھ کرنی چاہیے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَـنِّیْ ، خدایا! تو بہت ہی زیادہ معاف فرمانے والا ہے کیوں کہ معاف کرنا تجھے پسند ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے۔