مئی ۲۰۲۲

فہرست مضامین

نبی کریمؐ سے محبت کے عملی تقاضے

علّامہ محمداقبال | مئی ۲۰۲۲ | اسوہ حسنہ

زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسانوں کی طبائع ، اُن کے افکار اور اُن کے نقطہ ہائے نگاہ بھی زمانے کے ساتھ ہی بدلتے رہتے ہیں، لہٰذا تیوہاروں کے منانے کے طریقے اور مراسم بھی ہمیشہ متغیر ہوتےرہتے ہیں، اور اُن سے استفادے کے طریق بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیےکہ ہم بھی اپنے مقدس دنوں کے مراسم پر غور کریں، اورجو تبدیلیاں افکارکے تغیرات سے ہونی لازم ہیں، اُن کو مدِنظر رکھیں۔

مِن جملہ اُن مقدس ایام کے، جو مسلمانوں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں، ایک میلاد النبیؐ کا دن بھی ہے۔ میرے نزدیک، انسانوں کی دماغی اور قلبی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ اُن کے عقیدے کی رُو سے زندگی کا جو نمونہ بہترین ہو، وہ ہروقت اُن کے سامنے رہے۔

چنانچہ مسلمانوں کے لیے اسی وجہ سے ضروری ہے کہ وہ اسوئہ رسولؐ کو مدِنظر رکھیں، تاکہ جذبۂ تقلید اور جذبۂ عمل قائم رہے۔یہ جذبات قائم رکھنے کے تین طریقے ہیں:

پہلا طریق تو درُود و صلوٰۃ ہے، جو مسلمانوں کی زندگی کا جزوِلاینفک ہوچکا ہے۔ وہ ہروقت درُود پڑھنے کے موقعے نکالتے ہیں۔

عرب کے متعلق میں نے سنا ہے کہ اگر کہیں بازار میں دو آدمی لڑپڑتے ہیں، تو تیسرا بآوازِ بلند اللّٰھُمَّ صَلِّ علٰی سیّدنا محمدٍ وبارک وسلم پڑھ دیتا ہے تو لڑائی فوراً رُک جاتی ہے اور متخاصمین ایک دوسرے پر ہاتھ اُٹھانے سے فوراً باز آجاتے ہیں۔ یہ درُود کا اثر ہے، اور لازم ہے کہ جس پر درُود پڑھا جائے، اُس کی یاد قلوب کے اندر اپنا اثر پیدا کرے۔

پہلا طریق انفرادی ہے اور دوسرا اجتماعی___ یعنی مسلمان کثیرتعداد میں جمع ہوں، اور ایک شخص جو حضور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات سے پوری طرح باخبر ہو، آپؐ کے سوانح زندگی بیان کرے، تاکہ آپؐ کی تقلید کا ذوق شوق مسلمانوں کے قلوب میں پیدا ہو۔  اس طریق پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہم سب آج یہاں جمع ہوئے ہیں۔

تیسرا طریق اگرچہ مشکل ہے، لیکن بہرحال اُس کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ وہ طریقہ ہے کہ یادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کثرت سے اور ایسے انداز میں کی جائے، کہ انسانی قلب، نبوت کے مختلف پہلوئوں کا خود مظہر ہوجائے، یعنی آج سے تیرہ سو سال پہلے کی جو کیفیت حضور سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ مقدس سے ہویدا تھی، وہ آج، ہمارے قلوب کے اندر پیدا ہوجائے۔

حضرت مولانا رومؒ [۱۲۰۷ء-۱۲۷۳ء]فرماتے ہیں:

آدمی دید است، باقی پوست است
دید آں باشد کہ دید دوست است

یہ جوہرِ انسانی کا کمال ہے کہ اسے دوست کے سوا اور کسی چیز کی دید سے مطلب نہ رہے۔ یہ طریقہ بہت مشکل ہے۔ کتابوںکو پڑھنے یا میری تقریر سننے سے نہیں آئے گا۔ اس کے لیے کچھ مدت نیکوںاور بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ کر روحانی اَنوار حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ میسر نہ ہو تو پھر ہمارے لیے یہی طریقہ غنیمت ہے، جس پر ہم آج عمل پیرا ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس طریق پر عمل کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟

پچاس سال سے شور برپا ہے کہ ’مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے‘، لیکن جہاں تک میں نے غور کیا ہے، تعلیم سے زیادہ اس قوم کی تربیت ضروری ہے اور ملّی اعتبارسے یہ تربیت علما کے ہاتھ میں ہے۔ اسلام ایک خالص تعلیمی تحریک ہے۔ صدرِ اسلام میں اسکول نہ تھے، کالج نہ تھے، یونی ورسٹیاں نہ تھیں، لیکن تعلیم و تربیت اس کی ہرچیز میں ہے۔

 خطبۂ جمعہ، خطبۂ عید، حج، وعظ، غرض تعلیم و تربیت ِ عوام کے لیے بے شمار مواقع اسلام نے بہم پہنچائے ہیں، لیکن افسوس کہ علما کی تعلیم کا کوئی صحیح نظام قائم نہیں رہا، اور اگر کوئی رہا بھی تو اس کا طریقِ عمل ایسا رہا کہ دین کی حقیقی روح نکل گئی۔ جھگڑے پیدا ہوگئے اور علما کے درمیان، جنھیں پیغمبرؐاسلام کی جانشینی کا فرض ادا کرنا تھا، سر پھٹوّل ہونے لگی۔ مصر، عرب،ایران، افغانستان ابھی تہذیب و تمدن میں ہم سے پیچھے ہیں۔لیکن وہاں علما ایک دوسرے کا سر نہیں پھوڑتے۔ وجہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک نے اخلاق کے اس معیارِ اعلیٰ کو پالیا ہے، جس کی تکمیل کے لیے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے، اور ہم ابھی اس معیار سے بہت دُور ہیں۔

دُنیا میں نبوت کا سب سے بڑا کام تکمیلِ اخلاق ہے۔ چنانچہ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بَعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاِخْلَاق[ترمذی:۱۴۲۵]یعنی ’میں نہایت اعلیٰ اخلاق کے اتمام کے لیے بھیجا گیا ہوں‘۔ اس لیے علما کا فرض ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہمارے سامنے پیش کریں، تاکہ ہماری زندگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوئہ حسنہ کی تقلید سے خوش گوار ہوجائے، اور اِتباعِ سنتؐ زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں تک جاری و ساری ہوجائے۔

حضرت بایزید بسطامیؒ [۸۰۴ء-۸۷۴ء]کے لیے خربوزہ لایا گیا، تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا، اور کہا کہ ’’مجھے معلوم نہیں، رسولؐ اللہ نے اس کو کس طرح کھایا ہے، مبادا میں ترکِ سنت کا مرتکب ہوجائوں‘‘:

کامل بسطام در تقلید فرد
اجتناب از خوردن خربوزہ کرد

افسوس کہ ہم میں بعض چھوٹی چھوٹی باتیں بھی موجود نہیں، جن سے ہماری زندگی خوش گوار ہوجائے اور ہم اخلاق کی فضا میں زندگی بسر کرکے ایک دوسرے کے لیے باعث ِ رحمت ہوجائیں۔ اگلے زمانے میں مسلمانوں میں اِتباعِ سنّتؐ سے ایک اخلاقی ذوق اور مَلکہ پیدا ہوجاتا تھا، اور وہ ہرچیز کے متعلق خود ہی اندازہ کرلیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کارویّہ اس چیز کے بارے میں کیا ہوگا۔

حضرتِ مولانا رومؒ بازار جارہے تھے۔ اُنھیں بچوں سے بہت محبت تھی۔ کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ اُن سب نے مولاناؒ کو سلام کیا اور مولانا ایک ایک کا سلام، الگ الگ قبول کرنے میں دیر تک کھڑے رہے۔

ایک بچہ کہیں دُور کھیل رہا تھا۔اُس نے وہیں سے پکار کر کہا کہ ’’حضرت، ابھی جایئے گا نہیں، میرا سلام لیتے جایئے‘‘ تو مولانا نے بچّے کی خاطر توقف فرمایا اور اُس کاسلام لے کر گئے۔

کسی نے پوچھا: ’’حضرت آپ نے بچّے کے لیے اس قدر توقف کیا‘‘۔

آپ نے فرمایا کہ ’’اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کا واقعہ پیش آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی یونہی کرتے‘‘۔

گویا ان بزرگوں میں تقلید ِ رسولؐ اور اِتباعِ سنت سے ایک خاص اخلاقی ذوق پیدا ہوگیا تھا۔ اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں۔علما کو چاہیے کہ ان کو ہمارے سامنے پیش کریں۔ قرآن اور حدیث کے غوامض [رُموز، بعض مشکل مسائل]بتانا بھی ضروری ہے، لیکن عوام کے دماغ ابھی ان مطالب ِ عالیہ کے متحمل نہیں۔ اُنھیں فی الحال صرف اخلاقِ نبویؐ کی تعلیم دی جانی چاہیے۔