اکتوبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

کتاب نما

| اکتوبر ۲۰۱۴ | کتاب نما

محمد الرسولؐ اللہ ،مستشرقین کے خیالات کا تجزیہ  ،محمد اکرام طاہر۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۲۴۷۶-۰۴۲۔ صفحات: ۴۶۲۔ قیمت: ۳۶۵ روپے۔

شرارِ بولہبی ازل سے چراغِ مصطفوی سے ستیزہ کار رہا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مستشرقین نے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوئوں پر طرح طرح کے اعتراضات کیے۔ محبانِ رسولؐ نے ہر دور میں ایسے دریدہ دہنوں کو دندان شکن جواب دیا۔اللہ غریق رحمت کرے سرسیّداحمد خاں، سیّد امیرعلی اور مولانا مودودی و دیگر رحمہم اللہ کو، جنھوں نے منطقی انداز سے اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا اور اسلام اور رسولؐ مخالفوں کے اعتراضات کے جوابات دیے۔

زیرنظر کتاب میں فلسفہ و منطق اور علم الکلام کے ذریعے پروفیسر محمد اکرام طاہر نے حیاتِ رسولؐ پر مستشرقین کے اعتراضات کا تجزیہ کر کے ان کے جوابات دیے ہیں، مثلاً: اس اعتراض کا کہ اسلام میں عورت کو مرد کی نسبت آدھا حصہ کیوں ملتا ہے؟ جواب دیتے ہوئے مصنف نے کہا کہ وہ   آدھا باپ کے گھر سے لے جاتی ہے۔ پھر خاوند کی جایداد میں بھی اس کا آٹھواں حصہ ہے۔ چنانچہ بعض صورتوں میں وہ مرد سے زیادہ حصہ وصول کرتی ہے۔

مستشرقین اسلام کے نظامِ زکوٰۃ و عشر، جزیہ، خمس، فَے، قرضِ حسنہ اور سود کی ممانعت پر اعتراضات کرتے ہیں۔ ان کے جوابات دیتے ہوئے عربوں کی معاشی حالت، قبل از اسلام اور بعد از اسلام کا تجزیہ و موازنہ کر کے بتایا گیا ہے کہ اسلام کا معاشی نظام دنیا کا بہترین نظام ہے۔

مصنف نے رسولؐ اللہ کی قانونی، ریاستی اور سیاسی اصلاحات او ر انصاف کی بلاتفریق فراہمی اور تعزیراتِ اسلام جیسے موضوعات پر مدلل گفتگو کر کے ثابت کیا ہے کہ عالمِ انسانیت کے لیے اسلام ہی واحد راہِ عمل اور راہِ نجات ہے۔ اسی طرح اسلام میں عورت کے مقام و مرتبے کا دوسرے معاشروں سے تقابل کر کے بتایا ہے۔ اسلام نے عورت کی جو عزت افزائی کی ہے اس کی مثال ماقبل اسلام یا بعد کسی معاشرے میں نہیں ملتی۔

بعض مستشرقین معتدل مزاج دکھائی دیتے ہیں جیسے: منٹگمری ڈبلیوواٹ، مائیکل ایچ ہارٹ اور برناڈلیوس وغیرہ مگر ان کے ہاں بھی کچھ مغالطے ہیں۔ ان کے مغالطوں کا جائزہ لے کر مناسب جوابات دیے گئے ہیں۔

مجموعی طور پر کتاب اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرتی نظر آتی ہے اور حیاتِ رسولؐ پر اُٹھائے جانے والے اعتراضات کے مدلل اور منطقی جوابات دیتی ہے۔(قاسم محمود احمد)


سیرتِ نبویؐ کے دریچوں سے، ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی۔ ناشر: مکتبہ قاسم العلوم، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۲۴۰۔ قیمت:۳۰۰ روپے۔

زیرتبصرہ کتاب مصنف کے سیرت النبیؐ پر لکھے گئے ۱۳ مقالات کا ایک انتخاب ہے۔    ان ۱۳ مقالات سیرتِ النبیؐ کے متعدد پہلوئوں پر تحقیقی انداز میں اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ یہ مقالات رسولِ اکرمؐ کی گھریلو زندگی، آپؐ  کے زہد و قناعت، آپؐ  کے تبسم، مناسکِ حج میں   آپؐ  کی اصلاحات، حلف الفضول میں آپؐ  کی شرکت، صلح حدیبیہ، عصرِحاضر کے محروم و مظلوم طبقات کے مسائل میں آپؐ  کا اسوئہ حسنہ، سیرت نگاری میں معجزات کا مقام اور سیرت نگاری کی تاریخ پر نہایت جامعیت کے ساتھ تاریخی ریکارڈ کھنگالا گیا ہے اور ان عنوانات پر قرآن و حدیث اور تاریخ و سیر کی کتب کے حوالوں سے حقیقت تک رسائی کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک مقالہ    ابن نفیس کے الرسالۃ الکاملیۃ فی السیرۃ النبویۃ کے تعارف و تجزیے پر مشتمل ہے۔ آخری چودھویں باب میں سیرت النبیؐ پر لکھی گئی ۱۱ ؍مطبوعات پر تحقیقی و تنقیدی تبصرے سپردِ قلم کیے گئے ہیں۔

یہ کتاب حدیث اور تاریخ کے گہرے مطالعے کے نتیجے میں سیرت النبیؐ کے بعض گوشوں کو واضح کرتی ہے۔ مصنف نے کتب ِ سیرت کے قدیم و جدید ذخیرے کو تحقیقی اور تنقیدی نقطۂ نظر    سے مطالعہ کر کے مفید، قابلِ عمل اور عصرِحاضر کے مسائل کی تحلیل کے لائق حاصل مطالعہ پیش کیا ہے ۔ (ظفرحجازی)


سرکارِ مدینہؐ اور آپؐ کے خلفاے راشدینؓ، چراغ حسن حسرت۔ طٰہٰ پبلی کیشنز، ۱۹-ملک جلال الدین (وقف) بلڈنگ چوک اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۴۴۷۰۵۰۹-۰۳۳۳۔ صفحات: ۲۳۲۔ قیمت ۲۵۰ روپے۔

چراغ حسن حسرت بڑے پائے کے صحافی، ادیب اور شاعر تھے۔ ان کی عمر کوچۂ صحافت میں بسر ہوئی۔ انھوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے شخصیات پر سادہ زبان اور آسان اسلوب میں بہت سی کتابیں بھی لکھیں، کہانیاں بھی تحریر کی ہیں۔

زیرنظر کتاب کا موضوع سیرت النبیؐ اور سیرتِ خلفاے راشدینؓ ہے۔ ابتدا میں   سرزمینِ عرب کے جغرافیے، موسم، فضا اور عربوں کے مزاج، زبان اور شعرگوئی کا بیان ہے۔     پھر ضمنی عنوانات (ہمارے نبیؐ، بچپن، جوانی، بی بی خدیجہؓ، ایک جھگڑے کا فیصلہ، نبوت وغیرہ) کے تحت آپؐ کے مختصر حالات، قریش کی مخالفت، مسلمانوں پر ظلم و ستم، ہجرت اور غزوات کا ذکر کرتے ہوئے اس تذکرے کو آں حضوؐر کی وفات پر مکمل کیا ہے۔چاروں خلفاے راشدین اور ان کے عہدِخلافت کے نمایاں واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حالات و واقعات نئے نہیں ہیں لیکن چراغ حسن حسرت کے اسلوب کی تازگی اور شگفتگی کی وجہ سے قاری کتاب کو دل چسپی کے ساتھ پڑھتا چلا جاتا ہے۔

ناشر نے مصنف کے نام کے ساتھ ’مولانا‘ کا سابقہ لگایا ہے، حالانکہ کلین شیوڈ حسرت، مولانا تھے نہ اپنی تصانیف پر یہ لفظ لکھتے تھے، نہ خود کو مولانا سمجھتے تھے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


بے نظیربھٹو…قاتل بچ نکلا، ہیرالڈ میونوز۔ترجمہ: یاسرجواد۔ ناشر: نگارشات، ۲۴-مزنگ روڈ،  لاہور۔ فون: ۳۷۳۲۲۸۹۲-۰۴۲۔صفحات (بڑی تقطیع): ۱۸۵۔ قیمت: ۵۹۰ روپے۔

تاریخِ پاکستان کے بڑے سانحات پر رپورٹیں تیار ہوئیں اور کتابیں بھی لکھی گئیں۔ اسی ضمن میں محترمہ بے نظیربھٹو کے قتل پر ایک کتابGetting Away wtih Murder شائع ہوئی ہے۔ ہیرالڈومیونوز جو اقوام متحدہ میں اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ انکوائری کمیشن کے سربراہ ہیں، وہ اس کے مصنف ہیں۔ موصوف جنوری ۲۰۱۰ء میں اقوام متحدہ کی طرف سے بے نظیر قتل کیس کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ مقررہوئے۔ انھوں نے کتاب کے پیش لفظ میں لکھا: ’’یہ کتاب سال بھر طویل انکوائری کے دوران ملنے والے پس پردہ شواہدوتجربات پر مبنی ہے۔      یہ کتاب بے نظیربھٹوکے قتل اور ان کے متعلق میرا ذاتی نقطۂ نظر ہے اور اقوام متحدہ یا تفتیشی کمیشن کے دیگر ارکان کے خیالات کا لازمی طور پر عکاس نہیں‘‘۔

آٹھ ابواب، مابعدتحقیق، حاصل بحث اور آخر میںحوالوں پر مشتمل کتاب میں بے نظیر کے عروج کی کہانی بھی ہے اور پاکستان میں سیاسی قتل کی تاریخ بھی۔ ’لبرل‘ اور ’اسلامسٹوں‘ کی کش مکش بھی ہے اور پاک امریکاتعلقات، وفا وبے وفائی کے قصے بھی۔ مشرف اور پاکستانی طالبان کے تذکرے بھی ہیں،آئی ایس آئی، سی آئی اے تعلقات کے اُتار چڑھائو بھی۔ اس کتاب میںجہاں تفتیش اورتحقیق کا دعویٰ پایا جاتاہے وہاں تاریخ سے بے خبری ،  اسلام سے تعصب نمایاں ہے۔

’عدم استحکام کی ابتدائی تاریخ‘  کے عنوان سے لیاقت علی خان سے بے نظیر بھٹو کی موت تک کی کہانی بیان کرتے ہوئے زمانی لحاظ سے انتہائی فاصلے پرواقع واقعات کو بڑی مہارت کے ساتھ جوڑا گیاہے: ’’۲۹سالہ افغانی سید اکبر نامی قاتل خوست کے افغانستان کے سردارکا بیٹا تھا۔    اکبر ایبٹ آبادمیں رہتا تھا۔ وہی شہرجہاں کئی عشرے بعد اسامہ بن لادن کے خلاف حتمی کارروائی ہوئی‘‘۔ ’’جس پارک میں وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل ہوا‘ … وہی جگہ جہاں پر ۶۰ برس بعد  بے نظیربھٹوکو قتل کیاگیا۔جس ڈاکٹر نے لیاقت علی خان کا معائنہ کیاتھا،  آج اُن کے بیٹے ڈاکٹرمصدق نے ۶۰برس بعد اپنے باپ کی طرح بے نظیربھٹوکی زندگی بحال کرنے کی کوشش کی‘‘۔’’ ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اس شہرمیں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کیاگیاتھا اور یہیں پر ذوالفقارعلی بھٹوکی بیٹی بے نظیر کو قتل ہوناتھا‘‘۔(ص۳۴)

حیرت ہوتی ہے کہ ایک بین الاقوامی ادارے سے وابستہ تحقیق و تفتیش کے علم بردارمصنف نے بعض باتیں بڑی’آسانی‘ سے بغیر تحقیق کے بلکہ تعصب کی بنیاد پر لکھ دیں، مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’مودودی، بانیِ پاکستان محمدعلی جناح کو کافر سمجھتا تھا اور اس نے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو بھی کافر قراردیا‘‘ (ص۳۷)۔ تاریخ کی تھوڑی سی واقفیت رکھنے والاکوئی بھی شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا تھا کہ مولانا مودودی نے کبھی کسی شخص کو کافر قراردیاہو۔ قائداعظم تو دُور کی بات ہے وہ توان لوگوں کے معاملے کو بھی اللہ پر چھوڑ دیتے تھے جنھوں نے خود مولانا مودودی پر کُفر کے فتوے لگائے تھے۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کو بھی مولانا مودودی نے کبھی کافر قرار نہیں دیا۔ اسی طرح ریمنڈ ڈیوس کے بلاوجہ تذکرے میںبھی مصنف نے لکھا ہے کہ’’ریمنڈ ڈیوس نے ڈاکا زنی کی کوشش کرنے والے دوآدمیوں کو مار ڈالا‘‘(ص ۱۴۸) جو خلافِ واقع ہے۔

پانچویں باب’پاکستانی معاملات میں امریکی سنجیدگی‘ کے زیر عنوان کچھ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جن کے مطالعے سے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جائیں گے۔ مثلاً جنرل ایوب خان نے ستمبر۱۹۵۳ء میں واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ افسرسے کہا:’’ اگر آپ چاہیں توہماری فوج آپ کی فوج بن سکتی ہے‘‘ ۔بے نظیر کے پہلے دوراقتدار کے بارے میں مصنف رقم طراز ہیں کہ ’’بے نظیر امریکی مشیروں میں گھِر گئیں‘‘(ص ۷۱)۔ پھر: ’’۱۹۹۵ء کے اوائل میں رمزی یوسف کی گرفتاری اور امریکا کے حوالے کرنے کی وجہ سے بے نظیر بھٹوکواپریل ۱۹۹۵ء کے اپنے دورۂ واشنگٹن کے دوران ایک مرتبہ پھر میڈیا اور سیاسی اشرافیہ کی جانب سے پذیرائی ملی۔ اسی طرح جون ۱۹۹۷ء میں نواز شریف نے ایمل کاسی کو پکڑنے کے پاک امریکا مشترکہ آپریشن کی اجازت دی اور: ’’حوالگی کے قواعدوضوابط پورے کیے بغیر کاسی کو امریکا بھیجوادیاگیا‘‘ (ص۷۴)۔بے نظیربھٹو کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کہ وہ پاکستان آمدسے پہلے ۱۵؍اگست ۲۰۰۷ء کونیویارک کونسل براے فارن ریلیشنز کے ایک غیرمعمولی اجلاس میں شریک ہوئیں۔ بے نظیر نے اس اجلاس میں پاکستان جانے اور عسکریت پسندوں اور انتہاپسند قوتوں سے دودوہاتھ کرنے کا عزم ظاہرکیا۔ مصنف لکھتاہے: ’’مشرف نہیں چاہتاتھا کہ بے نظیر انتخابات سے پہلے پاکستان آجائیں، لیکن وہ انتخابی مہم کے لیے اپنی آمدضروری سمجھ رہی تھیں‘‘۔

۲۷دسمبر۲۰۰۷ء کو بے نظیر بھٹو لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد پارک سے باہرایک حملے میںجان کی بازی ہارگئیں۔ پیپلزپارٹی نے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کا فیصلہ کیا۔ جنوری ۲۰۰۸ء کے اوائل میں آصف علی زرداری نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا: ’’میں اقوام متحدہ سے درخواست کرتاہوں کہ میری بیوی کے قتل کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کی غرض سے مفصل تفتیش شروع کریں‘‘۔ جب وہ ۶ستمبرکو صدربنے تویہ مطالبہ ایک ریاست کی طرف سے سرکاری درخواست بن گئی۔ لیکن اقوام متحدہ کے کمیشن کو ایسے شواہد نہ مل سکے جنھیں وہ دوٹوک طور پرقتل سے منسلک کرسکتے‘‘(ص۱۲۷)۔آخر میں مصنف نے لکھا ہے کہ’’شایدہمیں قطعی طور پر کبھی معلوم نہیں ہوسکے گا کہ بے نظیربھٹو کوکس نے قتل کیا؟ قتل کی منصوبہ سازی کے پیچھے کون تھا؟‘‘ (حمیداللّٰہ خٹک)


اشاریہ ماہنا مہ تعمیر افکار، مرتبہ : سیّدمحمد عثمان۔ ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، اے۴/۱۷، ناظم آبادنمبر۴، کراچی۔ فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰-۰۲۱۔ خصوصی شمارہ ۳۵۰۔صفحات: ۲۴۶۔ قیمت:درج نہیں۔

اسلامی افکار کا ترجمان علمی و ادبی اور تحقیقی مجلہ ماہنامہ تعمیرافکار ۱۴برس سے باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔ اس عرصے میں اس نے بعض علما (پروفیسر سید محمد سلیم ، علامہ محمد طاسین،  مولانا سید زوار حسین شاہ، مفتی غلام قادر، مولانا محمد اسماعیل آزاد) اور بعض موضوعات (سیرت النبیؐ، قرآن حکیم مطالعہ سیرت اور عصرحاضر) پر خاص اشاعتیں پیش کی ہیں۔ علمی رجحان کا حامل، یہ ایک صاف ستھرا دینی رسالہ ہے۔ ادارے نے ۱۳برس میں شائع ہونے والے ۱۳۳ شماروں کا ایک جامع اشاریہ تیار کیا ہے۔ پہلا حصہ بہ لحاظ مصنفین و مقالہ نگار ، دوسرا حصہ بہ لحاظ مضامین و عنوانات، تیسرا حصہ بہ لحاظ موضوعات، چوتھا حصہ رسالے میں مطبوعہ حمدونعت و منقبت اور پانچواں حصہ تبصرۂ کتب کے حوالوں پر مشتمل ہے۔ تبصرۂ کتب کے بھی دو حصے ہیں بہ لحاظِ مؤلف کتاب اور بہ لحاظ عنوانِ کتاب۔

اشاریہ عمدگی سے مرتب کیا گیا ہے اور تحقیق کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کے لیے افادیت کا حامل ہے، البتہ بہت سے دوسرے اشاریوں کی طرح ایک خامی اس میں بھی موجود ہے۔ ہرحوالے کے ساتھ شمارے کے ماہ و سال کی نشان دہی تو کی گئی ہے اور صفحہ نمبر بھی درج ہے، یہ مضمون کے آغاز کا صفحہ نمبر ہے، مگر پتا نہیں چلتا کہ مضمون ختم کس صفحے پر ہوتا ہے ۔ (رفیع الدین ہاشمی)


افکارِ شگفتہ (چند علمی و فکری مباحث) ، ڈاکٹر محمد شکیل اوج۔ ناشر: فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز جامعہ کراچی۔ صفحات: ۲۸۸۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔

کتاب میں مصنف نے اپنے ۲۴مقالات میں مختلف موضوعات پر تنقیدی اور تحقیقی نقطۂ نظر سے اپنی منفرد آرا پیش کی ہیں۔ زیرنظر کتاب میں ’اعضا کی پیوند کاری‘ ،’کیا عصرِحاضر میں خلافت راشدہ کا قیام ممکن ہے؟‘، ’سیاسی، مذہبی اور روحانی ملوکیتیں‘، ’اظہار راے کی آزادی کا قرآنی تصور‘ ، ’رویت ہلال میں سائنسی علوم کا کردار‘، ’خُلع میں قاضی کا اختیار‘، ’ہمسایے کے حقوق‘، ’اتحادِ اُمت کی راہ میں رکاوٹیں‘ اور بعض دوسرے عنوانات کے تحت فکرانگیز بحث کی ہے۔ ان کے خیال میں خلفاے راشدین کے عہد کے بعد عمر بن عبدالعزیز نے ملوکیت کے ماحول میں جب خلافت علی منہاج نبوت قائم کر کے دکھا دی تو بعد کے اَدوار میں اس کا قیام کیوں کر ناممکن ہے۔ اسی طرح ان کے خیال میں آج فلکیات کے سائنسی مشاہدات کے یقینی نتائج کو علماے کرام کے عینی مشاہدے سے ملاکر فیصلہ کن راے قائم کرنے میں کیا ہرج ہے۔

فاضل مصنف نے جن عنوانات پر اپنی راے ظاہر کی ہے، ان سے مختلف راے رکھنے والے مکاتب ِ فکر بھی موجود ہیں۔ فاضل محقق نے اپنی آرا کو پیش کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ سطور لکھی جارہی تھیں کہ خبر ملی، انھیں ۱۸ستمبر کو کراچی میں بعض لوگوں نے شہید کردیا۔ پروفیسر شکیل صاحب، جامعہ کراچی میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ تھے۔(ظفرحجازی)


بچوں سے قرآن کی باتیں، سیّد نظرزیدی۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۲۴۷۶-۰۴۲۔ صفحات: ۱۰۵۔ قیمت: ۱۶۵ روپے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی گزارنے اور رہنمائی کے لیے قرآنِ پاک عطا کیا۔ یہ انسانیت کی فلاح اور ہمیشگی والیِ زندگی کی رہنمائی کے لیے اُترا ہے۔ اگر یہ ہرعمر کے لوگوں کے لیے ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معاشرے کی بنیادی اکائی ’گھر‘ اور اس کے ایک اہم عنصر ’بچوں‘ سے قرآن مخاطب نہ ہو۔

سیّد نظرزیدیؒ نے اس کاوش میں بچوں کے لیے جابجا پھیلے ہوئے انمول موتیوں کو سمیٹ کر عام فہم انداز میں وہ تمام بنیادی باتوں کو یک جا کر دیا ہے جو آج کل کی زبان میں کردار سازی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ اسلوبِ بیان ایسا ہے کہ اگر بچہ خود مطالعہ کرکے مستفید ہونا چاہے تو ہوسکتا ہے۔ انداز عام فہم، جگہ جگہ عام مثالوں اور حکایات سے بات کو واضح کرنا اور پھر ہر موضوع کے آخر میں سوالات (مشق) کہ اہم باتیں ذہن نشین ہوسکیں۔ گویا فی زمانہ اخلاقی اقدار، دینی تعلیم، عادات و اَطوار، معاملات اور کردار سازی کے جتنے عنوانات ممکن ہوسکتے ہیں، سب لے لیے گئے ہیں۔ اس سے قبل نظرزیدی مرحوم کی یہ کتاب قرآن کی باتیں کے نام سے دو حصوں میں شائع ہوئی تھی۔ اب اسے نئے نام کے ساتھ یک جا شائع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس خوب صورت اور مفید پیش کش پر مصنف اور ناشر کو اجر عطافرمائے۔(علیم پراچہ)


تعارف کتب

  • تنبیہات ، ابوزبیر۔ ناشر: اذانِ سحر پبلی کیشنز، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۵۶۶۷-۰۴۲۔ صفحات:۲۹۲۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔[مصنف نے قرآن و حدیث کے احکامات بالخصوص جن میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے، کم و بیش ڈیڑھ سو موضوعات کے تحت بیان کیا ہے۔ نیز ان کو مسلمانوں کی حالت ِ زار اور مسائل پر منطبق کرتے ہوئے رہنمائی بھی دی ہے۔ ہرموضوع دو صفحات پر مشتمل ہے۔ ایک مختصر اور مفید تذکیر۔ ]
  • داعیاتِ دین اور عصری تقاضے ،شگفتہ عمر۔ ناشر: مکتبہ راحت الاسلام، مکان نمبر ۲۶، گلی نمبر ۴۸، سیکٹر ۴؍۸-ایف، اسلام آباد۔ فون: ۵۷۳۰۷۲۴-۰۳۳۴۔ صفحات: ۳۲۔ قیمت: ۶۰ روپے۔[فریضۂ دعوتِ دین کی اہمیت و تقاضے مرد و خواتین کے لیے یکساں ہیں۔ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس میدان میں    سرگرمِ عمل ہیں۔ اس کتابچے میں داعیاتِ دین کی ذمہ داریاں، دعوت کے مختلف دائرۂ کار اور خواتین سے متعلق اہم مباحث کو عصری تقاضوں کی روشنی میں زیربحث لایا گیا ہے۔ نیز داعیاتِ دین کے لیے ضروری ذاتی اوصاف بھی بیان کیے گئے ہیں۔]