اکتوبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| اکتوبر ۲۰۱۴ | رسائل و مسائل

سوال : شوت اور اضطرار

  1. حالت ِ اضطرارکیا ہے؟ کیا اضطرار کے بھی حالات اور ماحول کے لحاظ سے مختلف درجات ہیں؟
  2. موجودہ حالات اور موجودہ ماحول میں کیا مسلمانوں کے لیے کسی صورت میں بھی رشوت جائز ہوسکتی ہے؟
  3. اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رشوت کی ایک جامع تعریف بھی بیان کردیجیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس قسم کے معاملات رشوت کی تعریف میں آتے ہیں۔

جواب :

  1. اضطرار یہ ہے کہ آدمی کو شریعت کی مقرر کی ہوئی حدود سے کسی حد پر قائم رہنے میں ناقابلِ برداشت نقصان یا تکلیف لاحق ہو۔ اس معاملہ میں آدمی اور آدمی کی قوتِ برداشت کے درمیان بھی فرق ہے اور حالات اور ماحول کے لحاظ سے بھی بہت کچھ فرق ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس امر کا فیصلہ کرنا کہ کون شخص کس وقت کن حالات میں مضطر ہے، خود اس شخص کا کام ہے جو اس حالت میں مبتلا ہو۔ اسے خود ہی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے یہ راے قائم کرنی چاہیے کہ آیا وہ واقعی اس درجہ مجبور ہوگیا ہے کہ خدا کی کوئی حد توڑے؟
  2. موجودہ حالات ہوں یا کسی اور قسم کے حالات، رشوت لینا تو بہرحال حرام ہے، البتہ رشوت دینا صرف اس صورت میں بربناے اضطرار جائز ہوسکتا ہے، جب کہ کسی شخص کو کسی ظالم سے اپنا جائز حق حاصل نہ ہو رہا ہو اور اس حق کو چھوڑ دینا اس کو ناقابلِ برداشت نقصان پہنچاتا ہو اور اُوپر کوئی بااختیار حاکم بھی ایسا نہ ہو جس سے شکایت کرکے اپنا حق وصول کرنا ممکن ہو۔
  3. رشوت کی تعریف یہ ہے کہ ’’جو شخص کسی خدمت کا معاوضہ پاتا ہو وہ اسی خدمت کے سلسلے میں ان لوگوں سے کسی نوعیت کا فائدہ حاصل کرے جن کے لیے یا جن کے ساتھ اس خدمت سے تعلق رکھنے والے معاملات انجام دینے کے لیے وہ مامور ہو قطع نظر اس سے کہ وہ لوگ برضاو رغبت اسے وہ فائدہ پہنچائیں یا مجبوراً۔ جو عہدے دار یا سرکاری ملازمین تحفے تحائف کو اس تعریف سے خارج ٹھیرانے کی کوشش کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ ہروہ تحفہ ناجائز ہے جو کسی شخص کو ہرگز نہ ملتا اگر وہ اس منصب پر نہ ہوتا۔ البتہ جو تحفے آدمی کو خالص شخصی روابط کی بنا پر ملیں، خواہ وہ اس منصب پر ہو یا نہ ہو، وہ بلاشبہہ جائز ہیں۔ (سید ابوالاعلیٰ مودودی، رسائل و مسائل ، دوم، ص ۱۷۹-۱۸۰)

سوال : توبہ اور کفارہ

میں نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جہاں اُٹھنے بیٹھنے کے آداب سے لے کر زندگی کے بڑے مسائل تک ہربات میں شریعت کی پابندی ہوتی رہی ہے اور میں اب کالج میں تعلیم پارہا ہوں۔ ماحول کی اس اچانک تبدیلی سے میں عجیب کش مکش میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ بعض غیراسلامی حرکات مجھ سے سرزد ہوگئی ہیں۔ جب کبھی ایسی کوئی حرکت ہوئی، ضمیر نے ملامت کی اور اللہ سے عفو کا طالب ہوا، مگر پھر بُرے اثرات ڈالنے والوں کے اصرار اور شیطانی غلبے سے اسی حرکت کا مرتکب ہوگیا۔ اس طرح بار بار توبہ کرکے اسے توڑچکا ہوں۔ اب اگرچہ اپنی حد تک میں نے اپنی اصلاح کرلی ہے اور بظاہر توقع نہیں کہ میں پھر اس گناہ میں مبتلا ہوں گا، لیکن یہ خیال بار بار ستاتا ہے کہ کیا میرے وہ گناہ معاف ہوجائیں گے جو میں نے توبہ توڑ توڑ کر کیے ہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ توبہ توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟ اور یہ کہ توبہ شکنی کا علاج کیا ہے؟

جواب :

گناہ کا علاج توبہ و اصلاح ہے۔ توبہ کر کے آدمی خواہ کتنی ہی بار توڑ دے، اسے پھر توبہ کرنی چاہیے اور نئے سرے سے اصلاح کی کوشش شروع کردینی چاہیے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی کسی پہاڑی راستے پر چلتے ہوئے بار بار پھسل جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے اپنی  منزلِ مقصود پر پہنچنے کی صورت یہی ہے کہ وہ خواہ کتنی ہی بار پھسلے، ہر بار اسے گر کر پھر اُٹھنے اور چڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جو شخص پھسل کر نہ اُٹھے اور ہمت ہار کر وہیں پڑارہ جائے جہاں وہ گرگیا ہے وہ کبھی منزلِ مقصود پر نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح اخلاقی بلندی پر چڑھنے والا بھی اگر ہرلغزش پر سنبھل جائے اور راہِ راست پر ثابت قدم رہنے کی کوشش جاری رکھے، تو اللہ تعالیٰ اس کی لغزشوں پر گرفت نہ فرمائے گا اور اس کو فائز المرام ہونے سے محروم نہ رکھے گا۔ البتہ گناہ کر کے جو لوگ   گناہ گاری کے مقام پر پڑے ہی رہ جائیں وہ ضرور بُرا انجام دیکھیں گے۔

آپ کے قلب میں اپنی لغزشوں پر ندامت و شرمساری کا احساس تو ضرور رہنا چاہیے، اور عمربھر اپنے رب سے معافی بھی ضرور مانگتے رہنا چاہیے، لیکن یہ شرمساری کبھی آپ کو اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ کرنے پائے۔ کیونکہ اس طرح کی مایوسی اللہ تعالیٰ سے بدگمانی ہے، اور اس میں یہ بھی خطرہ ہے کہ جب آدمی کو سزا سے بچنے کی اُمیدنہ رہے گی تو شیطان اسے دھوکا دے کر بآسانی گناہوں کے چکر میں پھانس دے گا۔

توبہ کو مضبوط بنانے اور توبہ شکنی سے بچنے کے لیے ایک کارگر نسخہ یہ ہے کہ آدمی نفل نماز، نفل روزے اور صدقات نافلہ سے مدد لے۔ یہ چیزیں گناہوں کا کفارہ بھی بنتی ہیں، اللہ کی رحمت کو انسان کی طرف متوجہ بھی کرتی ہیں، اور انسان کے نفس کو اتنا طاقت ور بھی بنادیتی ہیں کہ وہ بُرے میلانات کا زیادہ اچھی طرح مقابلہ کرسکتا ہے۔

اگر توبہ کے ساتھ آدمی نے قسم بھی کھائی ہو اور پھر اسے توڑ دیا ہو تو اس کا کفارہ واجب ہے، یعنی ۱۰ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا، اور اس کی استطاعت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنا۔ (ایضاً، ص ۳۰۲-۳۰۴)


سوال : خیانت اور ازالے کی صورت

اگر کوئی شخص اپنے سرکاری یا نجی ادارۂ معاش میں وقت کی پابندی نہ کرتا ہو، مقررہ وقت شروع ہوجانے کے بعد تاخیر سے آتا ہو اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی چلاجاتا ہو۔ کئی کئی روز حاضر ہی نہ ہوتا ہو اور پھر جب آتا ہو تو گذشتہ دنوں کی بھی حاضری لگا دیتا ہو۔ دفتری اوقات ذاتی کاموں پر صرف کرتا ہو۔ بسااوقات شہر سے باہر بغیر رخصت لیے جاتا ہو اور بعد میں ان ایام کی حاضری بھی لگادیتا ہو اور ان اوقات یا ایام میں کام نہ کرکے بھی مشاہرہ لیتا ہو تو کیا وہ خیانت کا مرتکب نہیں ہوتا؟

جواب : 

ایک آدمی سرکاری یا نجی ادارے میں ملازم ہو تو جو وقت کام کے لیے مقرر ہے وہ پورا وقت اس کام کے لیے دینا ضروری ہے اور مشاہرے کے لیے جو ضابطہ ہے اس کے مطابق مشاہرہ وصول کرنا ضروری ہے۔ اگر وقت کی کمی سے ضابطے کے مطابق مشاہرہ کٹتا ہو تو مشاہرہ کٹوا کر باقی رقم بطور مشاہرہ لی جائے۔ اسی طرح جس دن غیرحاضری ہو اس دن کی حاضری لگانا بھی خیانت اور جھوٹ ہے، اور جھوٹ کے بارے میں ہر ایک کو معلوم ہے کہ گناہِ کبیرہ ہے۔ اسی طرح ملازمت کے اوقات میں نجی کام کرنا بھی جائز نہیں ہے بلکہ خیانت اور جھوٹ ہے ۔ غرضیکہ آدمی صرف وہ کام کرسکتا ہے جس کا ادارے کو پتا چلے تو ادارے کے نزدیک وہ کام جائز اور معیوب اور قابلِ اعتراض نہ ہو۔

مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر معارف القرآن میں فرماتے ہیں: ’’ایمان والوں کا ’پانچواں وصف‘ امانت کا حق ادا کرنا۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَo (المعارج ۷۰:۳۲)۔ لفظ امانت کے لغوی معنی ہر اس چیز کو شامل ہیں جس کی ذمہ داری کسی شخص نے اُٹھائی ہو اور اس پر اعتماد و بھروسا کیا گیا ہو۔ اس کی قسمیں چونکہ بے شمار ہیں اسی لیے باوجود مصدر ہونے کے اس کو بصیغہ جمع لایا گیا ہے تاکہ امانت کی سب قسموں کو شامل ہوجائے خواہ وہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ حقوق اللہ سے متعلق امانات تمام شرعی فرائض و واجبات کا ادا کرنا اور تمام محرمات و مکروہات سے پرہیز کرنا ہے، اور حقوق العباد سے متعلق امانات میں مالی امانت کا داخل ہونا تو معروف ہے کہ کسی شخص کے پاس اپنا کوئی مال امانت کے طور پر رکھ دیا ہو،   یہ اس کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت اس کے واپس کرنے تک اس کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ کسی نے کوئی راز کی بات کسی سے کہی وہ بھی اس کی امانت ہے۔ بغیر اذنِ شرعی کے کسی کا راز ظاہر کرنا امانت میں خیانت ہے۔

مزدور ملازم کو جو کام سپرد کیا گیا اس کے لیے جتنا وقت خرچ کرنا باہم طے ہوگیا اس کو اسی کام میں لگانا امانت ہے۔ کام کی چوری یا وقت کی چوری خیانت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امانت کی حفاظت اور اس کا حق ادا کرنا بڑا جامع لفظ ہے۔ سب مذکورہ تفصیلات اس میں داخل ہیں‘‘ (سورئہ مومنون، آیت ۸)۔

کوئی شخص وہ کچھ کرتا ہو جو آپ نے لکھا ہے، وہ امانت کی شرائط پر پورا نہیں اُترتا۔ البتہ اگر ادارہ جس میں یہ صاحب کام کرتے ہوں اس کی اپنی مِلک ہو تو پھر اسے اختیار ہے کہ ادارے سے مشاہرہ لے یا نہ لے ، تھوڑا لے یا زیادہ لے۔ ادارے کے نگران یا مالک نے جو اپنے لیے طے کیا ہو اس پر عمل درآمد کرسکتا ہے۔ اگر ادارہ سرکاری ہے یا نجی یا کسی دوسرے کا، تو پھر ضروری ہوگا کہ ضابطے کے مطابق عمل شروع کرے، اور سابقہ طرزِعمل سے توبہ کرے اور ادارے سے جو ناجائز مفاد اُٹھایا ہو اسے ادارے کو واپس کرے۔ (مولانا عبدالمالک)


سوال : حج کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنا

ایک شخص ہر سال حج کرنے کا عادی ہے اور اس سے اس کا مقصد چیزیں خریدنا اور انھیں منافع پر بیچنا ہوتا ہے۔ کیا اس کا حج مقبول ہے؟

جواب :

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو حج کی اجازت دیتے ہوئے اس کی حکمت یہ بیان فرمائی  کہ: وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ o لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ (الحج ۲۲:۲۷-۲۸) ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمھارے پاس ہر دُوردراز مقام سے پیدل اُونٹوں پر سوار آجائیں تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں‘‘۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ    اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ط (البقرہ ۲:۱۹۸) ’’اور اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جائو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔

حج کرنے والا مختلف قسم کے دینی و دنیاوی منافع کا مشاہدہ کرتا ہے اور حج کے موسم میں تجارت اور حلال کمائی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔اس آیت کے سبب نزول کے متعلق امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت ابن عباسؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’لوگ حج کے پہلے دنوں میں عرفہ اور میدانِ عرفہ کے قریب ذی المجاز کے مقام پر خریدوفروخت کرتے تھے درآں حالیکہ وہ احرام میں ہوتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لہٰذا حج کے موسم میں حلال کمانے میں کوئی مضائقہ نہیں، یعنی اس سے نہ حج فاسد ہوتا اور   نہ اس کا ثواب ہی ضائع ہوتا ہے۔

لہٰذا جو لوگ حج کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی لین دین بھی کرتے ہیں ان کے حج درست ہیں اورفاسد نہیں ہوتے۔ ان پر دوبارہ حج کرنا لازم نہیں آتا ہے، ان کا فریضہ بھی ادا ہوجاتا ہے۔ جہاں تک ثواب کا تعلق ہے تو بظاہر تو یہی ہے کہ اللہ انھیں اس سے محروم نہیں کرے گا لیکن اس کے باوجود اس حدیث کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ: ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہرشخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی‘‘۔  چنانچہ اگرسفر حج کے لیے تھا اور وہاں پہنچ کر تجارت بھی کرلی تو حج کا ثواب زیادہ ہوگا، اور اگر سفر تجارت کے لیے تھا اور وہاں پہنچ کر حج بھی کرلیا تو حج کا ثواب کم ہوگا۔ جب ایک نیک کام میں نیتیں زیادہ ہوجائیں تو ممکن ہے کہ ثواب اس نیت سے وابستہ ہو جو سب سے زیادہ قوی ہو۔ باقی ہر چیز سے پہلے اور بعد سارے اختیارات اللہ کے پاس ہیں۔ وہ پاک ہے، سینوں کے راز تک جاننے والا ہے۔(شیخ سعد الدسوقی، ترجمہ: حاجی محمد)