اکتوبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

تقلید اور اِتباع

| اکتوبر ۲۰۱۶ | ۶۰ سال پہلے

سوال: کتاب جائزہ میں یہ عبارت آپ کی جانب منسوب ہے: ’’میرے نزدیک صاحب ِ علم آدمی کے لیے تقلید ناجائز اور گناہ بلکہ اس سے بھی کوئی شدید تر چیز ہے‘‘۔ اب غور کیجیے کہ، مثلاً حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی ؒ، حضرت امام غزالیؒ ، حضرت مجدد الف ثانیؒ، حضرت شاہ ولی اللہؒ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سب مقلدین ہیں، تو کیا آپ کے نزدیک یہ حضرات صاحب ِ علم نہ تھے؟

جواب: جو فقرہ نقل کیا گیا ہے، وہ میرا ہی ہے، لیکن ایک فقرہ جو میری کسی عبارت سے کسی بحث کے سلسلے میں نقل کر دیا گیا ہو، وہ مسئلۂ تقلید کے بارے میں میرے مسلک کی پوری ترجمانی کے لیے کافی نہیں ہے۔ آ پ جیسے ذی علم بزرگ سے یہ بات پوشیدہ نہ ہونی چاہیے کہ کسی شخص کا مسلک اس طرح کے فقروں سے اخذ کرنا درست نہیں ہے، خصوصاً، جب کہ وہ شخص اپنے مسلک کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں دوسرے مقامات پر بیان کرچکا ہو۔ اگر اس طرح سے دوسروں کی عبارتوں میں میرا   ایک ایک فقرہ دیکھ کر مجھ سے سوالات کیے جانے لگیں تو میری ساری عمر جواب دہی میں صرف ہوجائے۔

آپ نے چونکہ زحمت اُٹھا کر سوال فرمایا ہے، اس لیے مختصر جواب حاضر ہے:

میں ’تقلید‘ اور ’اِتباع‘ میں فرق کرتا ہوں۔ اگرچہ آج کل علما’ تقلید‘ کو مجرد پیروی کے معنی میں بولنے لگے ہیں، مگر قدیم زمانے کے علما ’تقلید‘ اور ’اتباع‘ میں فرق کیا کرتے تھے۔ ’تقلید‘ کے معنی ہیں دلائل سے قطع نظر کرتے ہوئے کسی شخص کے قول و فعل کی پیروی کرنا، اور ’اتباع‘ سے مراد ہے کسی شخص کے طریقے کو بربناے دلیل پسند کر کے اس کی پیروی کرنا۔

پہلی چیز ’عامی‘ کے لیے ہے اور دوسری ’عالم‘ کے لیے۔ ’عالم‘ کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی امام کی پیروی کی قسم کھالے اور اگر کسی مسئلے میں اس امام کے مسلک کو اپنے علم کی حد تک کتاب و سنت سے اوفق اور اقرب نہ پائے، تب بھی اس کی پیروی کرتا رہے.....

آ پ نے جن بزرگوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں سے اکثر کی کتابوں میں مَیں نے یہی بات پائی ہے کہ وہ جس امام کی پیروی بھی کرتے ہیں، دلائلِ شرعیہ کی بناپر مطمئن ہوکر کرتے ہیں اور اپنے     اس اتباع کے حق میں دلائل پیش فرماتے ہیں۔ باقی بزرگ جو کسی خاص مسلک کی پیروی کرتے ہیں، مَیں ان کے متعلق بھی یہی حُسنِ ظن رکھتا ہوں کہ وہ بھی اِسی طرز کا اتباع کرتے ہوں گے۔ (سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۴۷، عدد۱، محرم ۱۳۷۶ھ،اکتوبر ۱۹۵۶ء، ص ۱۳۷-۱۳۸)