اکتوبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

ماہِ محرم اور ہم

عبدالغفارعزیز | اکتوبر ۲۰۱۶ | عالمِ اسلام

                ماہِ محرم اپنے ساتھ کئی پیغام اور بہت سی یادیں لیے طلوع ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدینہ ہجرت کے سارے مراحل ذہنوں میں تازہ ہوجاتے ہیں۔ یکم محرم کو اس عظیم ہستی کی یادیں دلوں کو تڑپاتی ہیں کہ جن کے قبول اسلام کے لیے خودآپؐ دُعاگو رہتے تھے۔ جن کی کئی آرا کو رب کائنات نے اپنی وحی اور قرآن کریم کی آیات میں بدل دیا۔ ۱۰ محرم نواسۂ رسولؐ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے کہ انھوں نے اور ان کے جاں نثار ساتھیوں نے سر تو کٹوا لیے لیکن اُس اقتدار کی حمایت و تائید نہیں کی جو آپؐ اور خلفاے راشدین کی راہ سے انحراف کرگیا تھا۔ یومِ عاشورا ءحضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملنے کی یاد بھی تازہ کرتا ہے کہ جس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے آپؐ نے ۱۰ محرم کو خود بھی    روزہ رکھا اور اُمت کو بھی ترغیب دیتے ہوئے اسے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ قرار دیا۔

  •  ہجرتِ رسولؐ: تاریخ اسلامی کا یہ اہم ترین واقعہ شہر یثرب کے شہرِ روشن (مدینہ منورہ) میں بدلنے کا آغازہے۔ آپؐ اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے اپنا گھر بار، عزیز و اقارب، حتیٰ کہ خود  بیت اللہ سے دُوری بھی صرف اس ایک عظیم مقصد کی خاطر قبول کرلی کہ اللہ کے حکم کی پیروی کرنا ہے۔

سفر ہجرت کا آغاز ایک ایسے عالم میں ہوا تھا کہ سب قبائل، مکہ کے چنیدہ جنگجو قتل کے ارادے سے آپؐ کے گھر کا گھیراؤ کیے ہوئے تھے۔ خطرہ تھا کہ مکہ سے نکل جانے کے بعد بھی اطمینان سے سفر نہیں کرنے دیا جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ بھاری انعام کی خبر سفر کی ہر منزل پر پیچھا کررہی تھی۔ لیکن اس عالم میں بھی آپؐ نے اور رفیق سفر نے سفر کی وہ بے مثال تیاری کی تھی کہ  اُس دور میں جس کی مثال نہیں ملتی۔تین روز تک مکہ کے جنوب مغرب میں واقع غار ثور میں قیام کیا تاکہ دشمن تھک ہار کرنامراد ہوجائے۔ اس دوران مکہ کی ایک ایک خبر سے آگاہ رہنے کا انتظام بھی کیا اور خوراک پہنچتے رہنے کا بھی۔ نہ صرف یہ بلکہ ان دو کاموں کے لیے آنے والے عبدالرحمن بن ابی بکر اور اسماء بنت ابی بکر الصدیق کے قدموں کے نشان تک مٹا دینے کا انتظام کیا گیا۔ صدیق اکبر کا غلام ان کے پیچھے پیچھے بکریوں کا ریوڑ لے آتا کہ معزز ہستیوں کو تازہ دودھ بھی میسر آجائے اور آنے والوں کے قدموں کے نشان بھی مٹ جائیں۔ سرِراہ مل جانے والے بدوؤں سے گفتگو کرتے ہوئے خصوصی احتیاط برتی کہ بلاضرورت تعارف کسی دشمن تک نہ پہنچ جائے۔ اس دور میں کہ جب کوئی لفظ لکھنے کے لیے کئی جتن کرنا پڑتے تھے، سفر تو کجا حضر میں بھی لکھنے پڑھنے کے لوازمات فراہم کرنا،   جوے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ آپ نے سامان کتابت زاد راہ میں شامل رکھا۔ سراقہ بن مالک نے جب سنا کہ چند کوس سے دو مسافر گزرے ہیں تو فوراً اندازہ لگالیا کہ وہی قریشی سردار ہوسکتے ہیں، جن کی گرفتاری پر سردارانِ مکہ نے بھاری انعام رکھا ہے۔ پیچھا کرنے، زمین میں دھنس جانے، اور قیصر و کسریٰ کے کنگن ملنے کی خوش خبری ملنے پر تقاضا کردیا کہ یہ بشارت مجھے لکھ کر عنایت فرما دیجیے۔ یارِ غارؓ نے اس عالم میں بھی عبارت لکھ کرنبی أمّیؐ کی مہر ثبت کردی۔

سوچنے کی اہم ترین بات یہ ہے کہ رب کائنات اشارہ کرتا تو یہاں بھی کوئی بُراق پلک جھپکنے میں ساری منزلیں طے کروادیتا۔ مگر ارادۂ الٰہی یہ تھا کہ دنیا کو ہر ممکن انسانی اسباب فراہم کرنے کا درس و سلیقہ عطا کیا جائے۔

مکہ میں اہل ایمان کے لیے جینا محال ہوگیا تو آپؐ نے طائف کا رخ کیا، وہاں لہولہان کردیے گئے تو مکہ آنے والے ایک ایک قافلے کے پاس جاکر دعوت پیش کی۔ بالآخر بیعت عقبہ ہوئی، اور پھر چھے خوش نصیب افراد نے یثرب کی قسمت بدل دی۔ دعوت دین اور بندوں کو رب کی طرف بلانے کا یہ فریضہ آپؐ نے اس طور ادا کیا کہ سفر ہجرت کے دوران بھی اس کا اہتمام کیا۔ حضرت بُریدۃ الاسلمیؓ نے اسلام قبول کیا اور اپنے پورے قبیلے کی ہدایت کا ذریعہ بن گئے۔    سفر ہجرت سے اللہ تعالیٰ نے قائد اور کارکنان کے لیے بھی اسوۂ حسنہ کا انتظام کرنا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قائد بھی سفر کی مشقت اور خطرات کی انھی منزلوں سے گزرے کہ جن سے کارکنان اور اُمتی گزررہے تھے۔ سفر ہجرت نے اپنے رب کی نصرت پر  کامل یقین و اعتماد کی اعلیٰ ترین مثال بھی پیش کرنا تھی۔ غار ثور میں دشمن سر پر پہنچ گئے۔ یارِ غارؓ نے سرگوشی کی: ’’یارسولؐ اللہ! ان میں سے کسی کی نگاہ اپنے پاؤں کی طرف پڑگئی تو ہم گرفتار ہوجائیں گے۔ رسولِؐ حق نے کامل وثوق سے فرمایا: مَا ظَنُّکَ بِاثْنَیْنٍ اللہُ ثَالِثُہُمَا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا’’ابوبکر! ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ غم نہ کریں اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ رب کائنات نے اس پورے مکالمے کو بھی نہ صرف قرآن کی وحی بنا دیا، بلکہ تاقیامت یہ اعلان بھی فرمادیا کہ رسولؐ کا ساتھ دے کر اور ان کے راستے پر نہ چل کر خود ہی محروم رہو گے۔ انھیں کوئی گزند نہیں پہنچا سکو گے۔ان کے لیے اللہ کافی ہے۔

ہجرت کی یاد سے شروع ہونے والا نیا سال ہر سال یہ منادی بھی کرتا ہے کہ اے بندگانِ خدا تمھیں ملنے والی مہلتِ زندگی کا ایک سال مزید کم ہو گیا۔ سال گذشتہ میں روپذیر ہر کوتاہی پر استغفار کرتے ہوئے، نئے سال کو بندگی کے نئے عزم سے شروع کیجیے۔ نئے سال کا پورا دفتر خالی ہے، اسے گناہوں سے بچانا ہی اصل کامیابی ہوگی۔ گذشتہ ساری زندگی جو اجر و منزلت اور کامیابیاں حاصل نہیں کرسکے، اب پھر موقع مل رہا ہے اسے غنیمت جانو۔

ارشادِ نبویؐ ہے: پانچ چیزیں، پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو: lبڑھاپے سے پہلے جوانی lبیماری سے پہلے صحت lفقر سے پہلے مال داریl مصروفیت سے پہلے فراغت اور lموت سے پہلے زندگی۔  نہ جانے کب ان نعمتوں میں سے کون سی واپس لے لی جائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دُعاگو رہتے: اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ،’’ اے اللہ آپ کی عطا کردہ نعمتوں کے زوال سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں‘‘۔

  •  شہادتِ عمر فاروقؓ: حضرت عمر بن الخطابؓ جنھیں اللہ نے حق و باطل کا فرق واضح کرنے کا ذریعہ اس طرح بنایا کہ لقب ہی ’الفاروق‘ ہوگیا۔

سیرتِ فاروقؓ بھی سیرتِ رسولؐ کا جزو لازم ہے۔ آپ کے قبول اسلام سے اہل ایمان کو وہ ہیبت و عزت عطا ہوئی کہ اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’ہم نہ تو بیت اللہ کا طواف کرسکتے تھے نہ وہاں جاکر نماز ہی پڑھ سکتے تھے، یہاں تک کہ عمر بن الخطابؓ نے اسلام قبول کرلیا‘‘۔ وہی اہل مکہ جو کسی کے قبول اسلام کی بھنک پڑجانے پر اس پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ دیتے تھے، اُن میں سے ایک ایک کے دروازے پر خود جاکر بتایا: سنو! مَیں مسلمان ہوگیا ہوں۔ یہ صدمہ خیز خبر سن کر بس اتنا کہ کر دروازہ بند کرلیتے ’’نہیں … ایسا نہ کرو‘‘۔ مکہ کے اس تاریخی دن سے لے کر مدینہ میں شہادت کے آخری لمحے تک اس عظیم شخصیت نے اہل اسلام اور اسلامی ریاست کی تعمیر و ترقی کی خاطر ایک سے بڑھ کر ایک سنہری باب رقم کیا۔  ہجری تاریخ کا آغاز بھی آپ ہی کے دورِ امارت میں ہوا۔ ایک بار ایک تحریر آئی جس پر ’شعبان‘ لکھا تھا۔ آپ نے صحابہ کرام کو جمع کرکے مشورہ کیا کہ یہاں ’شعبان‘ سے مراد گذشتہ شعبان ہے یا آیندہ؟ پھر فرمایا کہ ہمیں سالانہ تاریخ، یعنی کیلنڈر کا تعین کرنا چاہیے۔ مختلف تجاویز آئیں۔ حضرت علی بن طالبؓ نے ہجرتِ نبویؐ کا مشورہ دیا۔ آپؐ نے اس کی تحسین کی اور اسی پر سب کا اجماع ہوگیا۔

۱۴۳۸ہجری شروع ہونے پر جائزہ لیں تو جدید سے جدید فلاحی ریاستوں کے بہت سارے اقدام وہ ہیں جو اس عبقری شخصیت نے شروع کیے تھے۔ ان تمام اقدامات کے پیچھے اصل قوت محرکہ بھی اللہ کے عذاب کا خوف اور اس کی جنت کی طلب کے سوا کچھ نہ تھا۔

شام ڈھلے ایک قافلہ مدینہ اُترا تو سربراہ ریاست نے عبدالرحمٰن بن عوف سے کہا کہ اجنبی قافلہ ہے، ان کی دیکھ بھال اور پہرے کی خاطر آج رات ہم ڈیوٹی دیں گے۔ کچھ رات ڈھلے  ایک بچہ شدت سے رونے لگا۔ فاروق اعظمؓ نے قریب جا کر ماں سے مخاطب ہوتے ہوئے پکارا: ’’اللہ سے ڈرو، بچے کا دھیان رکھو، اسے کچھ کھلاؤ پلاؤ‘‘۔ اگلے پہر اسی بچے کی آواز دوبارہ آئی تو پھر جاکر ماں کو متوجہ کیا: ’’کیسی ماں ہو؟ بچے کو چپ نہیں کرواتی؟‘‘ ماں نے افسردہ آواز میں کہا: ’’اس کا دودھ چھڑوایا ہے لیکن یہ کچھ اور کھا پی نہیں رہا‘‘ کتنی عمر ہے بچے کی؟ ابن الخطاب نے دریافت کیا۔ اتنے ماہ، ماں نے بتایا۔ اتنی چھوٹی عمر میں دودھ کیوں چھڑوارہی ہو؟ ماں نے تڑپ کرکہا: کیوں کہ عمر بن الخطاب نے بچوں کا دودھ چھڑوانے پر ہی ان کے لیے وظیفہ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رات گزر گئی۔ فجر کی جماعت کرواتے ہوئے امیر المؤمنین کی تلاوت بار بار ہچکیوں میں ڈوب جاتی تھی۔ نماز پڑھائی اور پھر پکار کر کہا: عمر تو تباہ ہوگیا۔ نہ جانے اس نے کتنے بچے مار ڈالے ہوں گے۔ آیندہ ہر بچے کی پیدایش ہی سے اس کا وظیفہ بیت المال سے جاری ہو جائے گا۔ مائیں اپنے بچوں کو پورا عرصۂ رضاعت دودھ پلایا کریں۔

ایک ایک قافلے اور ایک ایک بچے کی خبرگیری سے لے کر قیصر ، روم اور کسری فارس کے تاج و تخت فتح کرنے تک وہ اپنی مثال آپ تھے۔ ساڑھے دس سالہ دور خلافت میں اسلامی ریاست سب سے مضبوط عالمی قوت بن گئی۔

آخری حج کیا تو بے اختیار یہ دُعا بھی کی کہ پروردگار موت آئے تو شہادت کی موت آئے اور اپنے نبی کے شہر میں مرنا نصیب فرما۔ سننے والوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ شہادت کے لیے تو میدان جہاد کی طرف جانا ہوگا۔ آپ اپنے حبیب کے شہر میں شہید ہونا چاہتے ہیں..؟ ذی الحج کے چند ہی روز باقی تھے کہ محراب نبیؐ میں امامت کرواتے ہوئے امیر المومنین پر ایک مجوسی ابولولوہ فیروز نے دو دھاری خنجر سے حملہ کرتے ہوئے شدید زخمی کردیا۔ ۱۳ مزید نمازی بھی زخمی کردیے جن میں سے سات شہید ہوگئے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے بعد میں قاتل کے بارے میں پوچھا کہ کون تھا؟ جواب سننے پر بے اختیار فرمایا: الحمدللہ کسی مسلمان نے اس جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ شہادت کی دہلیز پر بیٹھے امیر المؤمنین کے یہ چند الفاظ مسلمانوں کے مابین قتل و غارت کی سنگینی واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما دنیا سے رخصت ہوئے تو تینوں کی عمر۶۳ برس تھی۔

  •  عاشوراء: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو ایک روز یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ آج ۱۰محرم الحرام ہے اور آج کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ اور اس کے ظلم سے نجات دی تھی۔ ہم اس دن شکرانے کے طور پر روزہ رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے بھائی موسٰی سے اظہار وفا و محبت کے لیے مَیں تم سے زیادہ حق دار ہوں۔ آپؐ نے بھی روزہ رکھا اور فرمایا کہ زندگی رہی تو یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لیے آیندہ سال اس کے ساتھ ایک اور دن ملا کر روزہ رکھوں گا (آئیے ہم بھی اپنے حبیب کی اس سنت کو زندہ کرتے ہوئے عاشوراء کے دو روزے ضرور رکھیں)۔ سبحان اللہ آپؐ عبادات میں بھی قوم یہود کی مشابہت سے اتنے محتاط و خبردار تھے، لیکن آج ہم اُمتی گناہوں اور اللہ کی نافرمانی میں یہودیوں، ہندوؤں اور تمام باغیانِ رب العالمین کی پیروی کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔
  •  شہادت جگر گوشۂ رسولؐ:یہ المیہ اور سانحہ بھی ہماری تاریخ کا بدنما داغ بننا تھا کہ شخصی اقتدار کی خاطر نواسۂ رسولؐ اور ان کے پورے خانوادے سمیت صحابہ کرامؓ کو شہید کردیا گیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کی شہادت جب بھی یاد آئے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ہر صاحب ِایمان اس پر غمگین ہوتے ہوئے سوچتا ہے کہ نواسۂ رسولؐ کو شہید کرنے والے اپنے نبیؐ کا سامنا کس منہ سے کر پائیں گے! ۱۰ محرم کو نانا اور نواسوں کے مابین شفقت ومحبت کے وہ تمام مناظر بھی نگاہوں میں تازہ ہوجاتے ہیں،جو تمام صحابہ کرامؓ کے لیے راحت ومسرت کا سبب بنا کرتے تھے۔ لیکن یہ بھی ایک دردناک حقیقت ہے کہ ہم تاریخ کے اس تلخ باب سے سبق حاصل کرنے اور مزید ہلاکت وتباہی سے بچنے کے بجاے انھی اختلافات کو مزید ہوا دیتے ہیں کہ جن کا نتیجہ اُمت نبیؐ کی مزید تقسیم اور مزید خوں ریزی ہی میں نکل سکتا ہے۔انتہائی بدقسمتی ہے کہ شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کا پورا باب بھی لایعنی خرافات اور خود ساختہ قصہ گوئی کی نذر کر دیا گیا ہے۔

حضرت امام حسینؓ اور ان سے پہلے حضرت امام حسنؓ نے آخری لمحے تک مسلمانوں کے مابین فتنہ واختلاف ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ خط بھیج بھیج کر بلانے والے اہل کوفہ بھی جب    بے وفائی کا عنوان بن گئے تو آپ نے مدینہ واپس لوٹ جانے سمیت ان کے سامنے وہ تمام ممکنہ صورتیں تجویز کردیں کہ جن کے نتیجے میں قتل وغارت سے بچا جاسکتا تھا۔ لیکن فتنہ جُو عناصر نے   ان میں سے کوئی کوشش کامیاب نہ ہونے دی۔ ان کی اکلوتی شرط یہ تھی کہ نواسۂ رسولؐ اور دیگر  صحابہ کرامؓ آمرانہ اقتدار کی بیعت کرلیں، امام ذی شان نے جسے یکسر مسترد کردیا۔ جامِ شہادت نوش کرلیا لیکن صفحۂ تاریخ پر یہ بھی ثبت کردیا کہ   ؎

قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد

  •  ماہِ     محرم    اور   آج کی دنیا: ملتے جلتے فتنہ جُو سازشی عناصر کی دسیسہ کاریاں آج بھی اُمت مسلمہ کا جسد چھلنی کر رہی ہیں۔ سوے اتفاق سے امت مسلمہ ایک بار پھر ایسے تلخ ترین صدمے جھیل رہی ہے کہ جن کا نتیجہ ابھی سے واضح طور پردکھائی دے رہا ہے۔ سابق صہیونی وزیر دفاع موشے دایان نے ۶۷ء کی جنگ میں عربوں پر حملہ کرنے کی اپنی ساری حکمت عملی ایک صحافی کے سامنے کھول کر رکھ دی۔صحافی نے حیرت سے پوچھا یہ تو کوئی خفیہ راز ہونا چاہیے تھی، آپ شائع کروا رہے ہیں؟ اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا:’’اول تو عرب پڑھتے ہی نہیں ، پڑھ لیں تو سمجھتے نہیں، اور سمجھ ہی لیں تو عمل نہیںکرتے ‘‘۔ قطع نظر اس سے کہ دشمن کا یہ استہزائیہ جملہ اپنے اندر کتنی حقیقت رکھتا ہے ہمیں اس سے سبق لینا چاہیے۔ یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ عالم اسلام کو مزید تقسیم کرنے کا منصوبہ تقریباً ربع صدی سے معلوم ومعروف ہوچکا ہے۔ ۱۹۱۶ء کے معروف عالمی گٹھ جوڑ کے پورے ۱۰۰سال بعد ۲۰۱۶ء میں ایک تازہ نقشہ خطے پر عملاً مسلط کیا جا رہا ہے۔ عالمی قوتیں    اس منصوبے کے مطابق وسیع تر مشرق وسطیٰ، یعنی پاکستان سے ترکی تک اور وسطی ایشیا سے    شمال مغربی افریقہ تک کے ممالک کو مزید ٹکڑیوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔ تقسیم در تقسیم کا یہ ناپاک منصوبہ اسی صورت حقیقت بنایا جا سکتا ہے کہ ایک رب، ایک نبیؐ، ایک قرآن، ایک قبلہ رکھنے والی اُمت کو مذہب ، فرقہ ، نسل ، زبان اور علاقائی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا جائے۔

ذرا صہیونی روزنامے یدیعوت احرونوت میں شائع شدہ سابق صہیونی وزیر داخلہ جدعون ساعد اور جنرل(ر) جابی سیبونی کے مشترکہ مقالے کا شائع شدہ خلاصہ ملاحظہ فرمائیے جو انھوں صہیونی قومی سلامتی کے ریسرچ سنٹر کے لیے تیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ شمالی عراق اور شام میں ایک نئی کرد ریاست، اس کے مغرب میں علوی، جنوب اور مشرق میں دُرزی اور وسطی علاقے میں سُنّی ریاست کا قیام صہیونی ریاست کی اسٹرے ٹیجک ضرورت ہے‘‘۔ ادھر امریکا کے سابق نائب وزیر خارجہ کا ارشاد ہے کہ ’’ یمن کو متعدد چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردینا ہی تنازعے کا سب سے بہتر حل ہے‘‘۔ متعدد اسرائیلی تحقیقی مراکز کی یہ تجاویز اب ایک کھلا راز ہیں کہ گذشتہ صدی کے اوائل میں صہیونی ریاست کے گرد قائم کیے جانے والے ممالک اب تشکیل نو کے محتاج ہیں۔ ان ممالک کو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر قائم باہم متصادم مختصر ریاستوں میں بدلنا ہماری ترجیح اول رہنا چاہیے‘‘۔

معروف عبرانی ویب سائٹ ہیڈبروٹ نے حال ہی میں ’خدشہ‘ یا ’اُمید‘ ظاہر کی ہے کہ عنقریب سعودی عرب اور ایران میں خوف ناک جنگ بھڑکنے والی ہے جس میں ایٹمی ہی نہیں کیمائی اور حیاتیاتی اسلحہ بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی ان امریکی تجزیوں ، مقالوں اور کتابوں                                                                                               کی اشاعت میں تیزی آگئی ہے جن میں بالخصوص سعودی عرب کو تنقید وتشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکا میں قانون سازی ہو رہی ہے کہ نائن الیون میں مرنے والوں کے ورثا اب سعودی عرب سے بحیثیت ریاست تاوان اور خون بہا کا مطالبہ کر سکیں گے۔ امریکی دانش وَر سارہ چیکس (Sarah Chaycs) اور ایلیکس دوول کی مشترکہ ریسرچ کا عنوان ہی ساری حقیقت بیان کررہا ہے: Start Prepairing for the collapse of the Saudi Kingdom' (سعودی مملکت کے خاتمے کی تیاری کر لیجیے)۔ معروف امریکی تھنک ٹینک ’رینڈ کارپوریشن‘ نے US Strategy in the Muslim World After 9/11  (نائن الیون کے بعد عالم اسلام میں امریکی حکمت عملی) کے عنوان سے اپنی سفارشات میں لکھا ہے: ’’امریکا مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو استعمال کرے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق شیعہ سُنّی، جدید و قدیم، اور علاقائی طاقتوں کے نفوذ پر مشتمل جھگڑوں کو بڑھانا اور اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ سفارشات میں ’مدارس کی اصلاح‘ کے نام پر تجویز کیا گیا ہے کہ مغرب اور امریکا کے خلاف پائے جانے والے جذبات پر قابو پانے کے لیے نصاب میں تبدیلی اور مساجد کے سرکاری ائمہ میں اضافہ کرنا ہوگا۔ ۲۰۰۳ء میں بھی یہی امریکی ادارہ اسلامی تحریکات اور روایتی علماے کرام کے مقابلے میں ’روشن خیال‘ اور ’صوفی‘ اسلام عام کرنے کی تجویز دے چکا ہے۔ بعد میں جناب پرویز مشرف سمیت کئی حکمران انھی الفاظ کی جگالی کرتے رہے۔ قرآن کریم بتا تا ہے کہـ:  قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ ج وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ ط ( اٰل  عمرٰن۳:۱۱۸) ’’ان کے دل کا بُغض ان کے منہ سے   نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے‘‘۔

دشمنوں سے کیا شکوہ … ان سے عداوت کے علاوہ اور کس چیز کی توقع کی جا سکتی ہے۔ حالیہ حج کے موقعے پر اعلیٰ ترین شیعہ پیشوا آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے بعد درجنوں شیعہ رہنماؤں کے بیانات دیکھ لیجیے۔ سعودی حکمران خاندان سے لے کر نعوذ باللہ خود حرمِ مکہ کے بارے میں کیا کیا الفاظ اور کارٹون نہیں شائع ہوگئے۔ سعودی عرب کے خلاف انتہائی جذباتی جنگی ترانوں کی بھرمار ہے۔سعودی مفتی اعظم عبد العزیز آل شیخ نے بھی ترت جواب دیتے ہوئے ان سب کو خارج از اسلام قرار دے دیا۔ حج کوٹے کے لیے ایران و سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مذاکرات بوجوہ ناکام ہوگئے۔ اگرچہ ایرانی حجاج کی ایک بڑی تعداد عراقی اور شامی دستاویزات پر حج کے لیے آئی، لیکن براہ راست اور غالب اکثریت کی حج میں عدم شرکت کو بھی طرفین نے ایک دوسرے کے خوب لتے لینے کا ذریعہ بنائے رکھا۔ اس تناؤ اور جھگڑے کا ایک مظہر یہ بھی سامنے آیا کہ عین حج کے دن(۹ ذی الحج) کو کربلا میں شیعہ زائرین کا لاکھوں کا اجتماع منعقد ہوا۔ اپنے معتقدات کے مطابق اس اجتماع پر کوئی اعتراض نہیں کیاجاسکتا لیکن گذشتہ تقریباً تین سال سے ایک پوری تبلیغاتی مہم یہ چلائی جا رہی ہے کہ آخر ہم حج وعمرے کے لیے جاتے ہی کیوں ہیں؟ اس سے سعودی عرب کو معاشی فائدہ ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ ’’زیارِت کربلا کا اجر ۱۰لاکھ حجوں کے اجر سے بھی زیادہ ہے‘‘۔ اس آخری بات پر مشتمل لا تعداد تقاریر کی ویڈیو عام کی جارہی ہیں۔

ادھر شام میں بشار الاسد اور روس مسلسل بم باری کررہے ہیں ۔ انھیں امریکا کی بالواسطہ حمایت حاصل ہے (بدقسمتی سے ایران بھی ان کا بھرپور اور علانیہ ساتھ دے رہا ہے)۔ شام کا شہر ’حلب‘ ماہِ ستمبر میں اس تباہی کا خصوصی نشانہ بنا۔ ۹۰سے زائد شہدا تو صرف ۲۴ستمبر کو ہوگئے    جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں روزافزوں بھارتی درندگی، پاکستان کو ملنے والی مسلسل اور سنگین دھمکیاں، مصر اور بنگلہ دیش میں ہزاروں بے گناہوں کی قید اور پھانسیاں اور مختلف ممالک کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی، پاکستان اور ترکی میں دہشت گردی کی مسلسل کارروائیاں …کیا ہم دشمن کی کسی مزید سازش کے محتاج ہیں؟

نیا ہجری سال، ہجرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد، سیرت فاروق و حسین (رضی اللہ عنہما) اور یومِ عاشور کی اہمیت ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے اس تباہی سے بچ جانے کی دہائیاں دے رہی ہے۔ اگر ہم شہادتِ امام حسینؓ سے یہ روح و جذبہ حاصل کرلیں کہ اقتدار کو سنت ِ نبویؐ اور خلفاے راشدینؓ کی منہج پر واپس لانے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، اگر ہم ریاست مدینہ کے   قیام و دفاع کی سنت نبویؐ و فاروقی کی راہ اپنالیں، تو پھر تمام تر آزمایشوں اور تباہی کے باوجود آج کے فرعونوں پر غلبہ یقینی ہوگا۔

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ  (النور۲۴: ۵۵) تم میں سے ایمان لانے اور عملِ صالح کرنے والوں سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں اقتدار عطا کرے گا۔